Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-013

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 09 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 14
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الم۔ غلبت الروم فی ادنى الارض وهم من بعد غلبهم سیغلبون۔ فی بضع سنین۔ لله الامر من قبل ومن بعد ویومئذ يفرح المؤمنون۔ جی سورہ روم آج ہم شروع کریں گے۔ الم۔ اس کا معنی اللہ اور اس کے رسول ہی جانتے ہیں بھئی۔ غلبت الروم، مغلوب ہوئے روم والے۔ مغلوب ہوئے روم والے فی ادنى الارض، بہت قریبی زمین میں۔ وهم من بعد غلبهم، اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد سیغلبون، عنقریب غالب ہوں گے۔ سین قریب کے لیے آتا ہے بھئی مضارع قریب، قریب مستقبل قریب کے لیے۔ سیغلبون، عنقریب غالب ہوں گے فی بضع سنین، چند سالوں میں۔ لله الامر من قبل ومن بعد، اللہ ہی کے لیے حکم ہے اس سے پہلے بھی ومن بعد اور اس کے بعد بھی۔ اللہ ہی کے لیے امر ہے، یعنی اللہ ہی کے ہاتھ میں ہر کام ہے اس سے پہلے بھی اور اس کے بعد بھی۔ ویومئذ يفرح المؤمنون، اور اس روز خوش ہوں گے مومنین بنصر الله، اللہ کی مدد کے ساتھ۔ ينصر من يشاء، اللہ مدد فرماتے ہیں جس کی چاہتے ہیں۔ وهو العزيز الرحيم، اور وہ زبردست اور نہایت مہربان ہیں۔ بائی یاد رکھیے کہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں روم اور کسریٰ یہ دو بہت بڑی سلطنتیں تھیں۔ یوں سمجھیے یہ اس زمانے کی سپر پاورز تھیں بھئی، جیسے آج کل امریکہ ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یعنی دنیاوی اعتبار سے کوئی ملک ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا بھئی۔ جیسے اب تو صرف امریکہ ہے، کچھ عرصہ پہلے روس اور امریکہ دونوں تھے۔ پھر روس جب اس نے مسلمانوں کے ساتھ ٹکر لی، افغانستان پر حملہ آور ہوا، تو اللہ تعالیٰ نے اس کی طاقت ختم فرما دی، اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہوئے۔ اگرچہ ابھی اب بھی بہت بڑی حکومت ہے، لیکن بہرحال وہ پہلے والے جیسی حالت اس کی اب باقی نہیں رہی بھئی۔ تو اس زمانے کے اندر روم اور کسریٰ بہت بڑی طاقتیں تھیں، بڑے طاقتور ملک تھے اور بہت بڑے بڑے علاقے تھے جو ان کی سلطنت میں داخل تھے، بڑی سلطنتیں۔ اور یہ جو فارس والے تھے، یہ آتش پرست تھے، آگ کی عبادت کیا کرتے تھے۔ تو یہ مشرکینِ مکہ کے قریب ہوئے، مشرکینِ مکہ ان کو اپنا قریبی سمجھتے تھے کہ جس طرح ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں، بتوں کو سجدے کرتے ہیں، اسی طرح یہ بھی آگ کو سجدہ کرتے ہیں۔ جبکہ روم والے جو تھے وہ عیسائی تھے، اہل کتاب تھے اور اہل کتاب مسلمانوں کے نسبتاً قریب تھے کہ جس طرح مسلمان ایک آسمانی دین کو مانتے ہیں اور کتاب رکھتے ہیں، اللہ کی طرف سے کتاب آئی ہے، اسی طرح روم والے جو تھے وہ بھی آسمانی دین پر یعنی آسمانی دین والے تھے اور اہل کتاب تھے بھئی۔ تو ان کے روم والوں اور فارس والوں کے درمیان جنگیں ہوتی رہتی تھیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بعد پانچویں سال میں روم والوں اور کسریٰ والوں کے درمیان ایک بہت بڑی جنگ ہوئی۔ اور اس جنگ کے اندر روم والے جو اہل کتاب تھے ان کو شکست ہوئی۔ ان کی سلطنت کے بہت سے حصوں پر کسریٰ، فارس والے جو تھے اور فارس والوں نے قبضہ کر لیا۔ بہت بڑے حصے پر، یہاں تک کہ قریب ان کا جو دارالحکومت تھا وہ بھی خطرے میں پڑ گیا بھئی۔ عیسائیوں کی ایک بڑی مقدس صلیب تھی جس کا وہ بڑا احترام کرتے تھے، اس کو بھی وہ فارس والے نکال کر لے گئے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو اس پر کفارِ مکہ، مشرکینِ مکہ نے بڑی خوشیاں منائیں بھئی۔ بڑی خوشیاں منائیں کہ روم والوں کو شکست ہو گئی اور مسلمانوں سے باقاعدہ کہنے لگے کہ دیکھو فارس والے جو تھے وہ ہمارے بھئی اور روم والے تمہارے بھئی۔ اور جس طرح ہمارے بھائیوں یعنی فارس والوں نے روم والوں کو عبرتناک شکست دی ہے اور ان کی، ان کی مملکت کا بڑا حصہ چھین لیا اور ان کو تباہ و برباد کر دیا، اسی طرح اگر ہمارے اور تمہارے درمیان جنگ ہوئی تو ہم بھی تمہیں اسی طرح ختم کر دیں گے، مٹا ڈالیں گے۔ تو چونکہ روم والے اہل کتاب تھے اس لیے طبعاً مسلمانوں کو بھی یہی تمنا تھی کہ وہ جیتیں۔ جب ان کی شکست ہو گئی تو مسلمانوں کو طبعی طور پر بڑا غم ہوا۔ اور پھر مشرکین کے یہ طعنے بھی اس طرح کے کہ ہم تمہیں ختم کر دیں گے، مسلمان بڑے آزردہ اور رنجیدہ تھے اس بات پر، تو اس وقت یہ آیتیں نازل ہوئیں بھئی۔ اللہ تعالیٰ کیا فرماتے ہیں؟ غلبت الروم، روم والے مغلوب ہو گئے۔ یعنی ان کو شکست دی گئی۔ تو شکست دی گئی روم والوں کو فی ادنى الارض۔ ادنیٰ، اس میں تفصیل ہے، بہت قریبی بھئی۔ فی ادنى الارض، بہت قریبی زمین میں، سب سے قریبی زمین کے اندر بھئی۔ یعنی یہ جو جہاں پر ان کو شکست ہوئی تھی، یہ عرب کے ساتھ ہی علاقہ تھا قریب ہی جہاں پر ان کے شکست ہوئی بھئی۔ اذرعات اور بصریٰ کہتے ہیں بھئی۔ اذرعات، الف، ذال، را، عین، الف اور تا دو نقطوں والی بھئی، اذرعات۔ اور بصریٰ، با، ص، را اور یا، یا بھئی۔ با، ص، را، یا، بصریٰ۔ اذرعات اور بصریٰ کے مقام پر جو ہے ان کی سب سے بڑی لڑائی ہوئی بھئی۔ جگہ جگہ لڑائیاں ہوتی تھیں تو اس مقام پر ان کی سب سے بڑی لڑائی ہوئی، بڑے بہت بڑے بڑے لشکر یہاں ان کے ٹکرائے اور پھر یہاں پر وہ روم والوں کو عبرتناک شکست ہوئی بھئی۔ تو اللہ فرما رہے ہیں غلبت الروم، روم والے مغلوب ہوئے فی ادنى الارض، بہت قریب کی زمین، بہت قریب کی زمین میں۔ میں نے بتلایا یہ مقام جہاں شکست ہوئی عرب کے نسبتاً کیا تھا؟ عرب کے قریب تھا بھئی بڑا۔ وهم من بعد غلبهم، اور وہ اپنے مغلوب ہو جانے کے بعد سیغلبون، عنقریب غالب ہوں گے فی بضع سنین، چند سالوں کے اندر بھئی، چند سالوں کے اندر۔ بھئی دیکھیے، روم کو اتنی زبردست شکست ہوئی تھی کہ ان کی سلطنت کا میں نے بتلایا بہت بڑا حصہ جو ہے کس کے قبضے میں چلا گیا تھا؟ فارس والوں کے، اور ان کی طاقت تقریباً ختم ہو گئی۔ طاقت ختم ہو گئی اور ان کا دارالحکومت بھی خطرے میں پڑ گیا تھا، قریب تھا کہ فارس والے اس پر بھی قبضہ کر لیتے بھئی۔ تو اتنی عبرتناک شکست ہونے کے بعد اب بظاہر کوئی صورت ان کے سر اٹھانے یا پھر اپنی مملکت کو اسی طرح پورے مملکت کو اپنے قابو میں کرنے کی کوئی، دنیاوی اعتبار سے قریب میں کوئی ایسی صورت دکھائی نہیں دیتی تھی۔ فوج ساری تقریباً تباہ ہو چکی بھئی، بہت کم باقی۔ تو عین اس موقع پر اللہ کی طرف سے یہ اعلان ہوتا ہے کہ روم والے مغلوب تو ہو گئے لیکن عنقریب یہ دوبارہ غالب آئیں گے فی بضع سنین، چند سالوں کے اندر بھئی، چند سالوں کے اندر۔ بضع کا اطلاق یاد رکھیے عربی زبان میں تین سے لے کر نو تک ہوتا ہے۔ بعض نے کہا تین سے لے کر دس تک بھئی۔ تو بضع کا اطلاق عربی میں کتنے سالوں پر ہوتا ہے؟ تین سے لے کر، بضع کا اطلاق تین سے لے کر نو تک ہوتا ہے۔ فی بضع سنین، چند سالوں میں یعنی تین سے نو سال کے اندر بھئی۔ اور تین صرف یہ زیادہ سے زیادہ نو سال پر اطلاق ہوا اور نو سال میں ایسی کوئی صورت بظاہر ممکن دکھائی دے ہی نہیں رہی تھی کہ دوبارہ اتنی بڑی سلطنت کا انتظام کیا جائے اور پھر اتنی بڑی ملک پر کے ساتھ لڑائی کی جائے اور ان کو شکست دی جائے، لیکن قرآن نے اعلان فرما دیا بھئی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیات نازل ہوئیں اور بتلا دیا مسلمانوں کو۔ چنانچہ اب مشرکینِ مکہ اس طرح کی باتیں کرنے لگے۔ ابی بن خلف جو تھا، یہ بڑا سردار تھا مکے میں، اس نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی طرح بات کی اور طعنہ وغیرہ دیا۔ حضرت ابوبکر یہ آیتیں نازل ہو چکی تھیں، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے کہ عنقریب روم والے پھر کیا ہوں گے؟ غالب آ جائیں گے، ہمارے اللہ نے ہمیں بتلا دیا ہے۔ اور شرط ٹھہرا لی اس کے ساتھ۔ کہ آؤ شرط لگا لیتے ہیں۔ اگر تین سال کے اندر روم والے پھر غالب آ گئے تو تم مجھے 10 اونٹنیاں دو گے، 10 اونٹ دو گے۔ اور اگر روم والے غالب نہ آئے تین سال میں تو میں تمہیں 10 اونٹ دوں گا بھئی۔ تو 10 10 اونٹوں کی شرط لگ گئی بھئی۔ اس زمانے میں یاد رکھیے، میں نے بتایا اسلام جو ہے تدریجاً اس کے احکام نازل ہوتے رہے ہیں 23 سال کے عرصے کے اندر اور یہ ابھی ابتدائے اسلام کا زمانہ تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو صرف پانچ سال ہوئے تھے، تو ابھی شرط لگانا حرام نہیں ہوا تھا بھئی۔ تو یہ شرط لگا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی آئے اور بتلایا کہ اس طرح میری ابی بن خلف جو ہے اس کے ساتھ شرط لگی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بھئی تین سال کی شرط تم نے کیسے لگا لی؟ اللہ تعالیٰ نے بضع کا لفظ فرمایا ہے قرآن میں اور بضع کا اطلاق تین سے نو تک ہوتا ہے۔ تو جاؤ تم اور سال بھی بڑھا دو اور اونٹ بھی بڑھا دو بھئی۔ چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ گئے اور پھر نو سال کی مدت طے کی کہ نو سال میں روم والے کیا ہوں گے؟ پھر غالب آئیں گے، اور اونٹنیاں 10 سے بڑھا کر 100 کر دیں بھئی۔ چنانچہ کہ 100 100 اونٹنیوں کی شرط، اونٹوں کی شرط لگ گئی بھئی۔ اور پھر، پھر چنانچہ نو سال، ٹھیک نویں سال بھئی، بعضوں نے سات سال لکھا ہے سات سال کے بعد، اور تو بعضوں نے نو سال۔ ٹھیک نو سال کے بعد۔ عین جس دن اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بدر کی فتح نصیب فرمائی، عین اسی دن مسلمانوں، اسی دن جو ہے روم والوں نے فارس والوں کو شکست دے دی بھئی۔ تو یہ قرآن کا ایک معجزہ کہ وہ خبر جو پہلے دے دی گئی تھی اب عین ہی اسی کے مطابق روم والوں نے، جس کی بظاہر دنیاوی اعتبار سے کوئی صورت دکھائی ہی نہیں دیتی تھی کسی بھی درجے کے اندر، کسی عام شخص سے کوئی لڑائی نہیں لڑنا، سپر پاور کے ساتھ ٹکر لینا اور پھر اس کو شکست دینا۔ تو نو، اور نو سال بڑی محدود مدت ہے جس میں اتنی طاقت یکجا نہیں کی جا سکتی۔ تو اللہ نے پھر ان کو روم والوں کو کیا کیا؟ غالب، تو جس دن مسلمانوں کو بدر کے دن فتح ہوئی، اسی دن ان کو یہ اطلاع بھی ملی کہ روم والوں نے فارس والوں کو شکست دے دی ہے، تو ان کو دوہری خوشی ہوئی بھئی۔ اسی کا ذکر اللہ فرما رہے ہیں بھئی۔ بائی ادنیٰ کے میں نے دو معنی آپ کو بتلائے۔ ایک سب سے قریبی زمین بھئی، قریبی زمین جو عرب کے قریب تھی جہاں پر ان لوگوں کو شکست ہوئی، وہ عرب کے قریب تھی۔ اور ادنیٰ کا دوسرا معنیٰ سب سے پست زمین کے اندر، سب سے گہری زمین کے اندر ان کو، سب سے گہری زمین بھئی۔ تو یہاں پر یاد رکھیے بھئی، ادنیٰ یہ اسمِ تفصیل ہے بھئی، اسمِ تفصیل۔ اور اس کا مادہ یا تو د ن و، دنو سے ہے بھئی۔ دنا یدنو کے معنیٰ ہوتے ہیں قریب ہونے کے۔ یا اس کا مادہ د ن ی ہے بھئی، دنی۔ اور دنی کے معنیٰ ہوتے ہیں پست ہونے کے، نیچا ہونے کے، دنی۔ اور اسی سے، اسی سے دنیا بھی ہے مولانا، دنیا۔ تو دنیا بھی یا تو دنو سے ہے یا دنی سے۔ اور دنو سے ہو تو معنیٰ کیا تھا دنو کا؟ قریب ہونا۔ تو دنیا کو بھی دنیا اس لیے کہتے ہیں کہ یہ آخرت کے مقابلے میں قریب ہے بھئی، سامنے ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور آخرت دور ہے بھئی۔ اور یا دنیا اگر دنی سے ہو تو دنیا کو دنیا اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہ بھی بڑی پست ہے اور حقیر چیز ہے، گھٹیا چیز ہے۔ اصل کیا ہے؟ آخرت ہے بھئی، اصل آخرت کی زندگی ہے بھئی۔ تو اسی سے دنیا کا لفظ ہے بھئی۔ تو یہاں پر بھی یہ ادنیٰ اسمِ تفصیل آیا بھئی اور اس کا معنیٰ کیا کیا مفسرین نے؟ قریبی زمین میں، قریبی۔ تو قریبی زمین، جب اس کا مادہ کیا ہو؟ د ن و، دنو سے ہو۔ اور دوسرا معنیٰ میں نے کیا بیان کیا؟ دوسرا مادہ اس کا ہے دنی سے، د، ن اور یا، پست ہونے کے۔ تو ادنیٰ کے کیا معنیٰ ہوں گے؟ سب سے پست بھئی۔ ادنى الارض، سب سے پست زمین کے اندر بھئی۔ تو یہ قرآن کا اعجاز ہے کہ ایک بات جس کی طرف اس نے، جس کی طرف قرآن نے 1400 سال قبل اشارہ کر دیا، واضح لفظوں کے اندر، آج 1400 سال بعد سائنس وغیرہ اس قابل ہوئیں کہ وہ اس حقیقت کو دریافت کریں جس کی طرف قرآن نے 1400 سال پہلے ہی اشارہ کر دیا تھا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ سائنس میں نے بتایا سائنسدانوں نے تحقیقات کیں اور دیکھا کہ یہ جو بحرِ میت کے کنارے اور اس کے ساتھ کا علاقہ ہے، یہ دنیا کا سب سے گہرا علاقہ ہے بھئی، سب سے پست ہے، سب سے۔ اور گہرائی کا اندازہ کس کے لیے کیا جاتا ہے؟ سطحِ سمندر کے ساتھ بھئی، کہ سطحِ سمندر کے برابر ہے یا اس سے کتنا اونچا ہے۔ تو اتنا پست علاقہ پوری دنیا کے اندر اور کوئی نہیں، اور اس کی طرف قرآن نے واضح لفظوں میں اشارہ کر دیا فی ادنى الارض، سب سے پست زمین میں، سب سے گہری زمین میں۔ تو اس آیت کے اندر قرآنِ عظیم الشان نے پیشنگوئی کی کہ یہی روم والے جو اس وقت تقریباً بالکل ختم ہو چکے ہیں، صرف چند سالوں کے اندر دوبارہ فارس جیسی سپر پاور کو شکست دے دیں گے۔ چنانچہ قرآن کی یہ پیشنگوئی حرف بحرف پوری ہوئی اور پھر صرف سات سال بعد بعض کہتے ہیں، اور بعض کہتے ہیں کہ نو سال بھئی۔ نویں سال روم والوں نے فارس والوں کو شکست دی اور اپنے کھوئے ہوئے علاقے کو دوبارہ ان سے حاصل کر لیا بھئی۔ چنانچہ جب قرآن کی یہ پیشنگوئی پوری ہو گئی، لوگوں نے دیکھ لیا کہ قرآن نے آج سے کئی سال پہلے جو بات بتلائی تھی آج وہ حرف بحرف پوری ہو گئی ہے، تو اس موقع پر بہت سے لوگ مسلمان ہو گئے یہ دیکھ کر بھئی۔ اور نیز اس آیت کے اندر آپ کو جیسے کہ میں نے بتلایا فی ادنى الارض، اس کا معنیٰ مفسرین جو ہیں سب سے قریبی زمین کے کرتے رہے ہیں۔ لیکن آج سائنسی تحقیقات کے ذریعے یہ پتہ چلا کہ وہ جہاں پر روم والوں کو سب سے بڑی شکست ہوئی تھی، وہ سب سے پست ترین جگہ ہے دنیا کی، سب سے گہری جگہ ہے۔ اور یہ اب جب سائنسی آلات نے ترقی کی تو آج معلوم ہوا۔ تو وہ بات جو قرآن نے 1400 سال پہلے کہی تھی، آج سائنس کے ذریعے اس بات کا علم ہوا بھئی۔ لا تنقضی عجائبه، قرآن کے عجائب کبھی ختم نہیں ہوں گے۔ جوں جوں وقت گزرتا جاتا ہے اس کا نئے سے نیا اعجاز سامنے آتا ہے بھئی، نئے سے نیا۔ غلبت الروم، مغلوب ہوئے روم والے فی ادنى الارض، بہت ہی قریبی زمین میں۔ وهم من بعد غلبهم سیغلبون، اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب ہوں گے فی بضع سنین، چند سالوں کے اندر۔ لله الامر من قبل ومن بعد، اللہ ہی کے لیے ہے ہر کام، یعنی اللہ ہی کے ہاتھ میں، اللہ ہی کے قبضے میں ہے ہر معاملہ، اس سے پہلے بھی اور اس کے بعد بھی۔ ویومئذ يفرح المؤمنون، اور اس دن مومن خوش ہوں گے۔ وہ دیکھو، ایک اور بات آ گئی، ویومئذ يفرح المؤمنون، اور اس دن مومن خوش ہوں گے، فتحِ بدر کی وجہ سے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اس دن مومن خوش ہوں گے بنصر الله، اللہ کی مدد کے ساتھ۔ اس میں اللہ کی مدد آئی تھی بھئی غزوہ بدر کے اندر بھئی۔ تو کتنا واضح اعلان کیا جا رہا ہے، بدر کی، تو ویومئذ يفرح المؤمنون، اور اس دن خوش ہوں گے مومن اللہ کی مدد سے۔ ينصر من يشاء، اللہ مدد فرماتے ہیں جس کی چاہتے ہیں۔ وهو العزيز الرحيم، اور وہ زبردست اور نہایت مہربان ہیں، نہایت رحم کرنے والے ہیں۔ یہ ادنى الارض کا کیا معنیٰ کیا میں نے بھئی؟ بہت قریب کی زمین، بہت قریب کی زمین۔ یعنی یہ عرب کے قریب زمین تھی، قریب تھی وہ جگہ، اس کے ساتھ ہی تھی جہاں پر روم والوں کو شکست ہوئی اور فارس والوں کو فتح ہوئی بھئی۔ یہ تو ایک تفسیر مولانا۔ آج کل ایک اور نکتہ جو جدید، بھئی جتنی سائنس ترقی کر رہی ہے، اسی قدر قرآن کا اعجاز اور قرآن کا معجزہ ہونا ظاہر ہو رہا ہے۔ اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بھئی نئی نئی چیزیں ایسی معلوم ہوتی ہیں جو غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ قرآن میں اس کو اللہ نے بہت پہلے ذکر کر دیا تھا۔ چنانچہ علماء، آج کل بھئی سائنس کا دور ہے، کمپیوٹر وغیرہ کے خوب ترقی ہو چکی ہے، خلائی سیارچے بھیجے جاتے ہیں، پوری زمین کے نقشے بن چکے ہیں، سارا کچھ ہو چکا۔ تو اب بعض علماء نے تحقیق کی اور بتلایا کہ بھئی ادنى الارض کا ترجمہ: سب سے پست زمین، سب سے گہری زمین۔ کیا ترجمہ ہے؟ سب سے گہری زمین میں بھئی۔ چنانچہ خلائی سیارچوں وغیرہ سے حاصل ہونے والی تصاویر اور اس کے لیے میں نے بتایا پوری دنیا کے نقشے بن چکے ہیں، تفصیلات سامنے آ چکی ہیں۔ اور یہ بھی چند سالوں کی بات ہے، اس سے پہلے اتنی زمین کے بارے میں تفصیلات کا علم کسی کو نہیں تھا بھئی، کسی کو اتنا علم نہیں تھا۔ اب جو نقشے وغیرہ بنے اور ساری تفصیلات سامنے آئیں تو دیکھا گیا کہ وہ جگہ جہاں پر روم والوں اور فارس والوں کی آخری عظیم لڑائی ہوئی تھی بھئی، جس میں روم والوں کو شکست ہوئی تھی بھئی، وہ اس جگہ پر ہوئی ہے جو بحرِ میت جو ہے اس کے ساتھ ہے بھئی، بحرِ میت۔ اور یہ زمین کا سب سے پست حصہ ہے بھئی، سب سے گہرا حصہ ہے بھئی، سب سے گہرا حصہ۔ جیسے آپ بھئی دیکھتے ہیں، سنتے ہیں، پہاڑی علاقوں میں جائیں تو وہاں پر لکھا ہوتا ہے کہ یہ مقام اتنے فٹ اونچا ہے، یہ مقام اتنے فٹ اونچا ہے بھئی۔ جتنی اونچائی بڑھتی ہے اسی قدر اس میں ٹھنڈ بھی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ تو یہ جو اونچائی ماپی جاتی ہے یہ سطحِ سمندر سے ماپی جاتی ہے۔ سمندر کی جو سطح ہے، تو یہ خشکی کے اندر ساحل تو بالکل سمندر کے برابر ہوا، آگے جوں جوں خشکی کی طرف جائیں بھئی، بلندی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ سمجھ میں آیا؟ بلندی بڑھتی چلی جاتی ہے اور پھر خصوصاً یہ جو پہاڑی علاقے ہیں، ان کی بلندی تو ہزاروں فٹ بلند ہوتے ہیں یہ سطحِ سمندر سے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جوں جوں خشکی کے اندر آتے جائیں، بلندی بڑھتی چلی جاتی ہے، اگرچہ آپ کو محسوس بھی نہ ہو لیکن بلندی سطحِ سمندر سے بڑھتی جاتی ہے اور اس کا پتہ پھر وہ مختلف آلات وغیرہ کے ذریعے لگاتے ہیں سائنسدان بھئی، جس کا پہلے علم نہیں تھا، پہلے یہ آلات نہیں تھے۔ جی، تو یہ لاہور بھی اونچا ہوگا سمندر سے، کافی زیادہ اونچا ہوگا۔ لیکن پھر پہاڑی علاقے وہ ہزاروں فٹ کی بھی بلندی آ جاتی ہے اور پھر وہاں ٹھنڈ بھی جتنی بلندی بڑھ جائے ٹھنڈ بھی اتنی زیادہ ہوتی ہے۔ چنانچہ آپ یہ مری وغیرہ اور نتھیا گلی وغیرہ کی طرف جائیں تو وہاں لکھا ہوتا ہے انہوں نے کہ یہ سطحِ سمندر سے اتنے ہزار فٹ اونچی ہے یہ جگہ بھئی، اور یہ اتنی اونچی جگہ ہے۔ تو یہاں بھی جب اب حساب لگایا گیا، دیکھا گیا، تو بھئی زمین تو عموماً اونچی ہوتی ہے سطحِ سمندر سے، لیکن وہ جو علاقہ ہے بحرِ میت کا جس کے کنارے پر یہ لڑائی ہوئی تھی، وہ سطحِ سمندر سے 400 میٹر نیچے ہے بھئی، 400 میٹر بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ 400 میٹر، تو یہ سطحِ سمندر سے نیچے ہے بھئی۔ اور اس کا پتہ آج کل کے سائنسی آلات کے ذریعے ہوا، پوری دنیا کے اندر اس سے گہری سطحِ ارض نہیں ہے، زمین کی کوئی سطح اس سے گہری نہیں ہے۔ ہاں، سو زمین میں غار بنا لیں نیچے کی طرف، بھئی وہ سطحِ زمین تو نہ ہوئی نا، وہ تو غار، سمجھ میں آیا؟ تو وہ مراد نہیں ہے، سطحِ زمین خود پورا علاقہ ہی نیچے گہرائی کے اندر واقع ہو، تو یہ سب سے گہرا علاقہ ہے۔ تو اس سے قرآن کے ایک اور مستقبل کے، جو قرآن کا اعجاز کا پتہ چلا کہ اس زمانے میں تو کوئی صورت ہی نہیں تھی کسی کو پتہ چلتا کون سی زمین گہری ہے، کون سی اونچی ہے، لیکن قرآن نے 1400 سال پہلے ہی بتلا دیا: "فی ادنى الارض"، ادنیٰ اسمِ تفصیل ہے بھئی، اس میں تفصیل ہے، اور تو سب سے پست زمین کے اندر بھئی، تو یہ جدید تحقیق ہے مولانا۔ لیکن یاد رکھیے ہمیشہ ایک بات بھئی، بعض چیزیں قطعی پتہ لگ جاتی ہیں تحقیق سے، بعض صرف نظریات ہوتے ہیں کہ یہ شاید اس طرح ہوگا، اس طرح۔ تو بہرحال، جدید تحقیق سے قرآن کے اعجاز کا پتہ تو چلتا ہے، لیکن اس کو عینِ معیار یہ نہیں بنانا چاہیے کہ بالکل یہ بات ہی اسی طرح ہے، قرآن یہی بتلا رہا ہے۔ یہاں یہ معنیٰ ایک سمجھ میں آیا، کیونکہ اگر آپ یہی کہتے ہیں بھئی قرآن یہ بتلا رہا ہے، تو پھر تو خدا نخواستہ اگر کبھی وہ تحقیق غلط ثابت ہو جائے تو کیا معنیٰ پھر لیں گے؟ قرآن غلط ثابت ہو گیا؟ نہیں بھئی، آپ معلوم ہوا آپ نے جو ترجمہ، مفہوم سمجھا تھا وہ معنیٰ صحیح نہیں بھئی۔ لیکن بہرحال، یہ تو تقریباً قطعی صورت جیسی ہی بن گئی ہے، کیونکہ اب سائنسی آلات سے یہ باقاعدہ علم ہو چکا ہے، تو گویا قرآن کی ایک اور بات جو اس نے 1400 سال پہلے بتلائی تھی، اس کو آج سائنس نے بالآخر تسلیم کر لیا بھئی، سب سے پست زمین۔ تو بہرحال، ترجمہ آپ وہی رکھیں، لیکن یہ نکتہ بھی ذہن میں رکھیں بھئی۔ تو الم، غلبت الروم فی ادنى الارض، مغلوب ہوئے روم والے بہت قریبی زمین کے اندر، اور اگر یہ تفسیر، معنیٰ ہو تو پھر سب سے پست زمین کے اندر، سب سے گہری زمین کے اندر۔ وهم من بعد غلبهم سیغلبون، اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب ہوں گے فی بضع سنین، چند سالوں کے اندر۔ لله الامر من قبل ومن بعد، اللہ ہی کے لیے حکم ہے اس سے پہلے بھی اور اس کے بعد بھی۔ چنانچہ جب شکست ہو گئی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پھر ان کے، تو پھر ان کے وارثوں سے، ابی بن خلف جو ہے اس کے وارثوں سے پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ 100 اونٹ وصول کیے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر حکم دیا کہ ان کو صدقہ کر دو، غریب مسلمانوں وغیرہ میں تقسیم کر دو بھئی۔ ویومئذ يفرح المؤمنون، اور اس روز خوش ہوں گے مومنین۔ کس وجہ سے خوش ہوں گے؟ غزوہ بدر کی فتح کی وجہ سے، تو یہ بھی خوشی ان کو مل جائے گی۔ تو اس روز خوش ہوں گے مومن بنصر الله، اللہ کی مدد سے۔ ينصر من يشاء، اللہ مدد فرماتے ہیں جس کی چاہتے ہیں۔ وهو العزيز الرحيم، اور وہ زبردست ہیں اور نہایت رحم کرنے والے ہیں۔ وعد الله، یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ یہ مفعولِ مطلق ہے مولانا، مفعولِ مطلق۔ مفعولِ مطلق کسے کہتے ہیں؟ وہ مصدر جو ماقبل فعل کے معنیٰ میں ہو۔ تو ماقبل اگرچہ وعد کا لفظ صراحتاً تو نہیں آیا، لیکن مفہوم ہو رہا ہے، اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ "سیغلبون"، عنقریب کیا ہوں گے یہ لوگ؟ غالب ہوں گے۔ اور اسی طرح اس روز مومن خوش ہوں گے، تو یہ معلوم ہوا کہ گویا کہ اللہ کی طرف سے وعدہ آ چکا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وہ، تو گویا کہ یوں کہا گیا: "وعد الله وعداً"، کیا کہا گیا؟ "وعد الله وعداً"، اللہ نے وعدہ فرما لیا ہے۔ وعد الله، یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ لا يخلف الله وعده، اللہ خلاف نہیں فرماتے اپنے وعدے کے۔ ولكن اکثر الناس لا يعلمون، لیکن اکثر لوگ وہ نہیں جانتے۔ يعلمون ظاهراً من الحياة الدنيا، وہ جانتے ہیں ظاہر کو ہی دنیاوی زندگی میں سے۔ دنیاوی زندگی کے صرف ظاہر کو لوگ، اکثر لوگ جانتے ہیں کہ دنیا کے اندر بھئی، زیادہ سے زیادہ انسان مال و دولت اکٹھی کرے اور یہاں پر کھائے پیے اور لذتیں حاصل کرے، صرف اتنا ہی جانتے ہیں۔ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ یہ دنیاوی زندگی انسان کو ویسے ہی نہیں دی گئی، اس دنیاوی زندگی کی تہہ میں ایک اور زندگی موجود ہے اور انسان کو پھر جہاں جا کر اپنے تمام اعمال کا جوابدہ ہونا پڑے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو صرف یہ دنیاوی زندگی، اس کی زیب و زینت کو، اس کے کھانے پینے اور اس کی لذتوں ہی کو جانتے ہیں، اخروی زندگی سے یہ بالکل غافل ہیں۔ يعلمون ظاهراً من الحياة الدنيا، وہ لوگ جانتے ہیں ظاہر کو دنیاوی زندگی میں سے۔ وهم عن الآخرة هم غافلون، اور وہ آخرت سے غافل ہیں۔ یہ "ہم" جو دوبارہ آیا، یہ اسی "ہم" اول کی تاکید ہے بھئی۔ آپ نے پڑھا ہے کبھی کبھار کیا کرتے ہیں عربی میں؟ پہلے لفظ کی تاکید لائی جاتی ہے، مثلاً میں نے کہا "جاءنی زیدٌ زیدٌ"، یہ "زیدٌ" ثانی کیا ہے؟ پہلے کی تاکید ہے بھئی، تاکید ہے۔ سمجھ میں آیا؟ اگر میں اکیلا مثلاً میں کہتا "جاءنی زیدٌ"، میرے پاس کون آیا؟ زید آیا۔ یا اس سے بہتر مثال "جاءنی امیر المؤمنین"، میرے پاس حضرت امیر المؤمنین تشریف لائے۔ آپ کے ذہن میں خیال آئے گا کہ شاید امیر المؤمنین نہیں آئے ہوں گے، لیکن اپنے کسی سیکرٹری کو بھیج دیا، اور امیر المؤمنین کا سیکرٹری آنا بھی بہت بڑی بات ہے، تو جب وہ آ گیا گویا کہ امیر المؤمنین خود ہی آ گئے، یوں سمجھا۔ تو اس لیے مخاطب نے کیا کہا ہے؟ "جاءنی" تو مخاطب، وہ متکلم نے کیا کہا؟ "جاءنی امیر المؤمنین"۔ تو دیکھو، "جاءنی امیر المؤمنین" کہنے سے آپ کے ذہن میں شبہ آ سکتا ہے کہ امیر المؤمنین خود نہیں آئے بلکہ اپنے کسی خاص آدمی کو بھیجا ہے۔ میں اس کے ساتھ ایک اور امیر المؤمنین ملا کر کہتا ہوں "جاءنی امیر المؤمنین امیر المؤمنین"، تو دیکھو اس امیر المؤمنین ثانی جو ہے، یہ اول کی تاکید ہے اور یہ کیا فائدہ دیتا ہے؟ یہ مجاز کا احتمال ختم کر دیتا ہے۔ یعنی یہ جو میں نے آنے کی نسبت امیر المؤمنین کی طرف کی، اس سے مجازاً نہ سمجھنا کہ وہ خود نہیں آئے ان کا کوئی آدمی آیا ہے، بلکہ وہ خود ہی آئے ہیں۔ اگلے امیر المؤمنین نے اسی امیر المؤمنین کو کیا کر دیا؟ پکا کر دیا کہ وہی آئے ہیں، یہ آنے کی نسبت امیر المؤمنین کی طرف مجازاً نہیں ہے بلکہ حقیقتاً ہے، آنا انہی کے لیے ہے، کسی اور کے لیے نہیں ہے بھئی۔ تو یہاں پر بھی "ہم" ثانی جو لایا گیا، یہ پہلے کی تاکید ہے اور اس نے فائدہ، ایک تو مجاز کے احتمال کو ختم کر دیا اور شمول کا فائدہ دیا کہ یہ جو اکثر لوگ جو ہیں، یہ جو کیا ہیں؟ آخرت سے غافل ہیں بھئی۔ اولم يتفكروا، کیا انہوں نے غور و فکر نہیں کیا؟ فی انفسهم، اپنے جی میں، اپنے نفسوں میں، یعنی اپنے دلوں میں۔ کیا انہوں نے دل میں یہ سوچا نہیں؟ کیا دل میں انہوں نے یہ غور و فکر نہیں کیا؟ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ اچھا بھئی، اولم يتفكروا فی انفسهم، کیا انہوں نے غور و فکر نہیں کیا اپنے دلوں میں کہ یہ بات کہ ما خلق الله السماوات والارض، کہ اللہ تعالیٰ نے پیدا نہیں فرمایا آسمانوں کو اور زمین کو، وما بينهما، اور وہ جو ان دونوں کے درمیان ہے، الا بالحق، مگر حق کے ساتھ، یعنی حکمت کے ساتھ۔ کیا ان لوگوں نے اپنے دلوں میں یہ نہیں سوچا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو حکمت ہی کے ساتھ پیدا فرمایا ہے بھئی؟ اللہ تعالیٰ نے حکمت ہی کے ساتھ، واجل مسمى، اور ایک وقتِ مقررہ تک بھئی، یعنی قیامت تک کے لیے۔ اور ایک وقتِ مقررہ، الا بالحق واجل مسمى، مگر حکمت کے ساتھ اور ایک مقررہ وقت تک، مقررہ وقت کے لیے۔ وان كثيرا من الناس بلقاء ربهم لكافرون، اور بے شک بہت سے لوگوں میں سے وہ اپنے پروردگار کی ملاقات کا البتہ انکار کرنے والے ہیں۔ اولم يسيروا فی الارض، کیا وہ لوگ چلے پھرے نہیں زمین میں؟ سیر کا معنیٰ چلنا، گھومنا، چکر لگانا۔ اولم يسيروا فی الارض، کیا وہ لوگ چلے پھرے نہیں زمین میں؟ فينظروا، پس وہ دیکھتے، كيف كان عاقبة الذين من قبلهم، کیسا تھا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے ہوئے؟ جو ان سے پہلے قومیں گزری ہیں ان کا کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں دیکھتے ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جو ان سے پہلے گزرے ہیں؟ کس طرح انہوں نے ہماری نافرمانیاں کیں اور پھر کس طرح ہم نے ان کو تباہ و برباد کر دیا اور ان کے کھنڈر، ان کے ان کھنڈرات کو اور نشانات کو یہ لوگ آج بھی دیکھ سکتے ہیں۔ كانوا اشد منهم قوة، وہ لوگ جو تھے وہ زیادہ شدید تھے ان کے مقابلے میں قوةً، باعتہار قوت کے۔ وہ لوگ ان وہ، كانوا اشد منهم، وہ لوگ زیادہ شدید تھے ان لوگوں سے قوةً، باعتہار قوت کے۔ یعنی وہ لوگ ان سے زیادہ قوت والے تھے۔ واثاروا الارض، اور انہوں نے زمین کو پلٹ دیا، الٹ دیا۔ واثاروا الارض، انہوں نے زمین کو الٹ دیا۔ بھئی، اثار کے اصل معنیٰ ہوتے ہیں زمین کو الٹنے کے۔ اور اسی سے اثار یثیر کے معنیٰ زمین میں ہل چلانے کے بھی آتے ہیں۔ تو ہل چلا کر بھی کیا کیا جاتا ہے؟ زمین کو پھاڑ دیا جاتا ہے، الٹ دیا جاتا ہے بھئی، اندر والا حصہ ظاہر ہو جاتا ہے۔ تو جی، واثاروا الارض، تو ترجمہ کیا کر لیں؟ واثاروا الارض، زمین کو انہوں نے، زمین کو انہوں نے جوتا۔ زمین کو انہوں نے جوتا یا، یا زمین کو انہوں نے کھیتی باڑی کے لیے تیار کیا۔ تو وہ ان سے زیادہ شدید تھے باعتہار قوت کے، واثاروا الارض، اور انہوں نے زمین کو، زمین کو پھاڑا یا انہوں نے زمین کو جوتا۔ وعمروها، اور انہوں نے زمین کو آباد کیا اکثر مما عمروها، اس سے زیادہ جو انہوں نے آباد کیا ہے۔ ان لوگوں نے زمین کو اس سے زیادہ آباد کیا جتنا ان لوگوں نے آباد کیا ہے۔ تو انہوں نے زمین کو الٹ دیا بھئی، یعنی اس کے اندر بھئی اس کو وہ فصلوں، کھیتی باڑی، فصلوں کے لیے تیار کیا، اس میں فصلیں اگائیں، اس کے اندر انہوں نے باغات لگائے، اس کو کھود کر اس کے اندر سے انہوں نے چشمے نکالے اور اس کے اندر کھود کر کانیں بنائیں جن سے مختلف قسم کی معدنیات اور جواہرات وغیرہ وہ حاصل کرتے تھے۔ تو وہ لوگ ان سے زیادہ قوت والے تھے، اتنی قوت والے تھے جیسے قومِ عاد و ثمود وغیرہ کہ حتیٰ کہ کہتے ہیں ان کے اندر ایسے لوگ بھی ہوتے تھے کہ وہ کھجور کا درخت وغیرہ لگائے تو اس کو پکڑ کر جڑ سے نکال دیا کرتے تھے بھئی، اتنے طاقتور لوگ تھے۔ تو ان کو اللہ نے بڑی قوت دی تھی، انہوں نے زمین کو زیادہ کھیتی باڑی کے لیے تیار کیا، اس سے زیادہ آباد کیا جتنا ان لوگوں نے آباد کیا ہے۔ یہ اہل مکہ یا مشرکینِ مکہ ان کے سامنے کیا چیز ہیں؟ ان کی عمریں بھی بہت لمبی لمبی ہوتی تھیں، ان کی عمریں بھی تھوڑی سی ہیں۔ انہوں نے زمین کو بہت زیادہ کھیتی باڑی اور باغات وغیرہ کے لیے تیار کیا، جبکہ ان کے ہاں، تو یہ تو مکہ میں ہیں جہاں پر کھیتی باڑی ہوتی ہی نہیں ہے بھئی، وادی غیر ذی زرع ہے جہاں پر کھیتی باڑی ہوتی ہی نہیں ہے۔ تو انہوں نے زمین کو کہاں اتنا آباد کیا، بلکہ یہ تو لوگ خود مکہ کے اندر جو ہے ارد گرد زمین کو چھوڑ کر مکہ میں آئے، کیونکہ مکہ کو اللہ نے امن والی جگہ بنایا ہے، ارد گرد ان کو خوف ہے کہ کوئی ہمیں قتل نہ کر دے یا کوئی ہمیں لوٹ نہ لے۔ تو یہ ان کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے، اور ان لوگوں کو جب ہم نے ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے تباہ و برباد کیا تو یہ ان کے مقابلے میں کیا حیثیت رکھتے ہیں۔ تو کہتے ہیں كانوا اشد منهم قوة واثاروا الارض، اور وہ لوگ زیادہ شدید تھے ان سے باعتہار قوت کے، واثاروا الارض، اور انہوں نے زمین کو جوتا وعمروها، اور زمین کو آباد کیا اکثر مما عمروها، اس سے زیادہ جو انہوں نے آباد کیا زمین کو۔ وجاءتهم رسلهم بالبينات، اور آئے ان کے پاس ان کے رسول واضح نشانیاں لے کر۔ یعنی بالآيات البينات، اور آئے ان کے پاس ان کے رسول واضح نشانیاں لے کر۔ فما كان الله ليظلمهم، پس نہیں تھے اللہ کے ظلم کرتے ان پر ولكن كانوا انفسهم يظلمون، لیکن وہ خود تھے اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے۔ ثم كان عاقبة الذين اساؤا السواى، پھر تھا انجام ان لوگوں کا، پھر ہوا انجام ان لوگوں کا الذين اساؤا، جنہوں نے برائی کی۔ السواى، برا انجام بھئی، برا۔ السواى، یہ اسمِ تفصیل بھئی، اسوء کی مؤنث ہے۔ بھئی جیسے اضرب، اسمِ تفصیل کی مؤنث کیا آئے گی؟ ضربیٰ۔ اضرب کی ضربیٰ، احسن کی حسنیٰ، اسی طرح اسوء اسمِ تفصیل جو ہے اس کی مؤنث کیا آئی؟ سوایٰ بھئی۔ تو بہت، بہت برا انجام۔ تو وہ لوگ، ثم كان عاقبة الذين اساؤا، پھر انجام جو تھا ان لوگوں کا جنہوں نے برائی کی تھی، السواى، سب سے برا انجام ہوا، ان کا سب سے برا انجام ہوا بھئی۔ تو دیکھیے، السواى، یہ کانَ کا اسمِ مؤخر ہے۔ اور عاقبت جو آیا لفظ، یہ کانَ کی خبرِ مقدم ہے۔ اور آپ نے پڑھا ہے کانَ کا اسم مرفوع ہوتا ہے اور خبر منصوب بھئی۔ تو کوئی آپ سے یہ نہ پوچھے: "ثم كان عاقبةَ"، یہ منصوب کیوں ہے؟ تو آپ کیا جواب دیں گے؟ یہ کانَ کی خبرِ مقدم ہے، اور السواى کیا ہے کانَ کا اسمِ مؤخر ہے، تو وہ مرفوع ہے بھئی، مرفوع۔ ثم كان عاقبة الذين اساؤا، پھر انجام ہوا ان لوگوں کا جنہوں نے برائی کی تھی السواى، بہت برا ان كذبوا، یعنی بان كذبوا، یہاں با محذوف بھئی، با سببیہ۔ اس وجہ سے، اس سبب سے کہ ان كذبوا بآيات الله، کہ انہوں نے جھٹلایا اللہ کی نشانیوں کو وكانوا بها يستهزئون، اور وہ تھے ان نشانی، اور وہ ان نشانیوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ استہزاء کرتے تھے، مذاق اڑاتے تھے۔ تو ان لوگوں جنہوں نے برائی کی تھی ان کا بہت برا انجام ہوا اس وجہ سے کہ انہوں نے جھٹلایا اللہ کی نشانیوں کو اور وہ ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ اچھی طرح؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام، والله اعلم بحقيقة الكلام۔ کوئی بات سمجھ میں نہ آئی ہو بھئی۔ کدھر؟ ما خلق الله، کیا انہوں نے غور و فکر نہیں کیا اپنے دلوں میں؟ اپنے دلوں میں یہ بات سوچھی نہیں؟ کہ ما خلق الله السماوات والارض، کہ نہیں پیدا کیا اللہ تعالیٰ، یہ ما نافیہ ہے، نہیں پیدا کیا اللہ نے آسمانوں اور زمین کو، وما بينهما، اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، زمین اور آسمان کے درمیان ہے الا بالحق، مگر حکمت کے ساتھ واجل مسمى، اور ایک وقتِ مقررہ تک کے لیے۔ اجل: وقت، مسمى: مقررہ۔ اور کوئی بات بھئی؟ سمجھ میں آ گیا سارا سبق بھئی؟ چلیے بھئی۔
131 approved lectures · 13 of 131