أَعُوذُ بِٱللَّهِ مِنَ ٱلَّشَيْطَانِ ٱلرَّجِيمِ بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللَّهُ يَتَوَفَّىٰ الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا ۖ فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَىٰ عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَىٰ إِلَىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ
اللَّهُ يتوفى الأنفس. توفى يتوفى کے معنی ہوتے ہیں پورا لے لینا کسی چیز کو بھئی۔
أنفس، جانیں، نفس کی جمع ہے۔
اللَّهُ يتوفى الأنفس. اللَّهُ پوری لے لیتے ہیں جانیں یعنی قبض کر لیتے ہیں روحیں بھئی۔ اللَّهُ روحیں قبض فرما لیتے ہیں حین موتها اس کی موت کے وقت۔ جب کسی جان کی موت کا وقت آتا ہے تو اللَّهُ اس کو قبض فرما لیتے ہیں۔
والَّتِي لم تموت اور وہ بھی جس پر ابھی موت نہیں آئی فی منامها منام نیند کو بھئی نیند کو کہتے ہیں۔
والَّتِي لم تموت اور وہ جس پر جس کی موت ابھی نہیں، جس پر موت نہیں آئی فی منامها اس کی نیند میں۔ اللَّهُ قبض فرما لیتے ہیں روحوں کو ان کی موت کے وقت اور وہ روحیں جن پر موت نہیں آئی فی منامها ان کی نیند میں۔
اللَّهُ ان موت کے وقت بھی روحوں کو قبض فرما لیتے ہیں اور وہ جن پر جن کی ابھی موت نہیں آئی، موت کا وقت نہیں آیا ان کو بھی اللَّهُ قبض فرما لیتے ہیں نیند میں بھئی کس میں؟ نیند میں
تو یہ والَّتِي اس کا عطف ہے أنفس پر بھئی۔ اللَّهُ قبض فرما لیتے ہیں روحوں کو اور وہ جن پر موت نہیں آئی فی منامها ان کو بھی کس وقت قبض فرما لیتے ہیں؟ نیند کے وقت ان کو بھی قبض فرما لیتے ہیں۔
فيمسك التي قضى عليها الموت پس اللَّهُ روک لیتے ہیں ان روحوں کو جن پر فیصلہ فرما دے فرما چکے ہوں موت کا۔ جس پر اللَّهُ موت کا فیصلہ فرما چکے ہوں ان کو روک لیتے ہیں ویرسل الأخرى اور باقیوں کو بھیج دیتے ہیں إلى أجل مسمى ایک مقررہ مدت تک بھئی ایک معین مدت تک کے لیے بھئی ان کو بھیج دیتے ہیں یعنی جب تک ان کی زندگی باقی ہوتی ہے اس وقت تک کے لیے ان کو بھیج دیتے ہیں۔
إن في ذلك لآيات لقوم يتفکرون بیشک اس کے اندر نشانیاں ہیں ایسی قوم کے لیے ایسے لوگوں کے لیے يتفکرون جو غور و فکر کرتے ہیں۔ جو غور و فکر کرتے ہیں۔
بھئی موت کے وقت بھی اللَّهُ روح قبض فرما لیتے ہیں اور نیند میں بھی اللَّهُ روح قبض فرما لیتے ہیں اور پھر جو نیند میں روحیں قبض فرمائیں ان میں سے جن پر موت کا فیصلہ ہو چکا ہو ان کو روک لیا جاتا ہے ان کو واپس نہیں بھیجا جاتا اور باقیوں کو ایک معین مدت تک کے لیے پھر بھیج دیا جاتا ہے یعنی جب تک ان کی زندگی اللَّهُ نے مقرر فرمائی ہو۔
تو موت میں بھی اللَّهُ روح کو قبض فرما لیتے ہیں اور پھر آپ بھی دیکھ دیکھتے بھی ہیں سنتے بھی ہیں کہ بعض افراد جو ہیں سوئے اور پھر نیند ہی میں پتہ ہی نہیں چلا ان کا انتقال بھی ہو گیا، صبح گھر والے جگاتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس کا تو انتقال ہو چکا ہے بھئی۔
تو موت کے وقت بھی اللَّهُ روحوں کو قبض فرماتے ہیں اور نیند میں بھی روح کو قبض فرماتے ہیں بھئی۔ تو یہ نیند بھی موت کے مشابہ ہے بھئی، موت کے مشابہ بھئی۔
چنانچہ اسی لیے وہ حدیث نیند کی کیا دعا ہے بھئی؟ اللّهم باسمك أموت وأحيا دیکھو، اسی لیے کیونکہ یہ نیند جو ہے یہ موت کے مشابہ ہے، موت جیسی ہے بھئی۔
یاد رکھیے علماء لکھتے ہیں کہ جب موت کا وقت آتا ہے تو روح بدن سے نکل جاتی ہے اور اس کا تعلق جسم سے ظاہری اور باطنی ہر اعتبار سے ختم ہو جاتا ہے۔
ظاہری اور باطنی ہر اعتبار سے اس کا بدن سے تعلق ختم ہو جاتا ہے منقطع ہو جاتا ہے تعلق اور نیند کے اندر بھی روح بدن سے نکلتی ہے لیکن ظاہری طور پر اس کا تعلق ختم ہوتا ہے باطنی طور پر اس کا تعلق پھر بھی بدن سے ہوتا ہے۔
بدن سے نکل گئی لیکن باطنی تعلق پھر بھی بدن سے ہوتا ہے بھئی۔
جس طرح آفتاب دیکھو بھئی، سورج جو ہے کتنا دور ہوتا ہے زمین سے، کتنا دور ہے لیکن اس کی شعاعیں زمین پر پڑتی ہیں اسی طرح نیند میں روح بدن سے نکل تو جاتی ہے لیکن اس کی شعاعیں اسی طرح بدن پر پڑ رہی ہوتی ہیں یعنی اس کا باطنی تعلق اسی طرح باقی ہوتا ہے بھئی باطنی تعلق۔
اور تو بدن ظاہر سے اس کا تعلق ختم ہو جاتا ہے یہی وجہ ہے کوئی شخص سویا ہو، آپ کوئی اس کے پاس آ رہا ہے، جا رہا ہے، کچھ کر رہا ہے اسے کچھ علم نہیں ہوتا لیکن باطنی تعلق اس کا روح کا اس سے قائم ہوتا ہے بھئی۔
چنانچہ اسی طرح دل حرکت کر رہا ہوتا ہے، نبض چل رہی ہوتی ہے، جسم کے اعضاء اپنا اپنا کام اپنی جگہ پر سر انجام دے رہے ہوتے ہیں اور اس کو ذرا سی آہٹ ہوتی ہے تو ایک لمحے سے بھی پہلے روح واپس پہنچ جاتی ہے اور وہ فورا حرکت میں آ جاتا ہے کہ یہ کیا ہوا، کس چیز کی آہٹ تھی بھئی۔
تو بات سمجھ میں آگئی، واضح ہو گئی بھئی! تو موت کے وقت بھی اللَّهُ روحوں کو قبض فرماتے ہیں اور نیند میں بھی قبض فرماتے ہیں لیکن نیند میں باطنی تعلق برقرار ہوتا ہے اور روح روح البتہ نکل گئی بھئی اور پھر جس پر موت کا وقت آ چکا ہوتا ہے اس کی روح کو روک لیا جاتا ہے اسے پھر واپس بدن کی طرف بھیجا ہی نہیں جاتا اس کا تعلق ختم کر دیا جاتا ہے اور جبکہ جس کا وقت ابھی باقی ہوتا ہے اس کی روح کو پھر چھوڑ دیا جاتا ہے پھر بھیج دیا جاتا ہے بھئی۔ معنی واضح ہو گیا بھئی!
اللَّهُ يتوفى الأنفس حين موتها اللَّهُ جو ہیں اللَّهُ قبض فرما لیتے ہیں روحوں کو جان یا یوں ترجمہ کر لیں جانوں کو اللَّهُ قبض فرما لیتے ہیں جانوں کو حين موتها ان کی موت کے وقت والَّتِي لم تموت اور ان کو جو جن پر موت نہیں آئی في منامها ان کی نیند میں ان کو بھی اللَّهُ قبض فرما لیتے ہیں فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَىٰ عَلَيْهَا الْمَوْتَ پس روک لیتے ہیں اللَّهُ اس کو جس پر فیصلہ فرما چکے ہوں موت کا ويرسل الأخرى إِلَىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى اور بھیج دیتا ہے دوسروں کو ایک وقت مقررہ تک دوسری جانوں کو ایک وقت مقررہ تک بھیج دیتا ہے إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ بیشک اس کے اندر البتہ نشانیاں ہیں ایسے لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں۔
أم اتخذوا من دون اللَّهُ شفعاء کیا پکڑ رکھے ہیں، بنا رکھے ہیں انہوں نے اللَّهُ کے علاوہ اور سفارش کرنے والے؟ کیا انہوں نے اللَّهُ کو چھوڑ کر اور سفارش کرنے والے پکڑ رکھے ہیں؟ یعنی کیا انہوں نے اللَّهُ کی اجازت کے بغیر اور سفارشی پکڑ رکھے ہیں؟
قل أولاو كانوا لا يملكون شيئا ولا يعقلون قل اے پیغمبر آپ فرما دیجیے اولاو كانوا کیا اگرچہ وہ لا يملكون شيئا کسی بھی چیز کے مالک نہ ہوں یعنی کسی بھی چیز کا اختیار نہ رکھتے ہوں ولا يعقلون اور نہ سمجھتے ہوں بھئی۔
بھئی یہ مشرکین کیا کرتے کہتے تھے یہ کہ ہم بتوں کی عبادت اس لیے کرتے ہیں تاکہ یہ اللَّهُ کے پاس ہماری سفارش کریں بھئی۔ کیا کہتے تھے؟ کہ اللَّهُ کے پاس ہماری سفارش کریں تو اللَّهُ فرما رہے ہیں کیا انہوں نے اللَّهُ کے علاوہ یعنی اللَّهُ کی اجازت کے بغیر اور سفارشی بنا رکھے ہیں؟
اللَّهُ کے ہاں تو سفارش صرف اسی کو کرنے کی اجازت ہوگی جسے اللَّهُ اجازت دیں گے اور صرف اسی کے بارے میں سفارش کر سکے گا جس کے بارے میں اجازت ہو بھی، ہر ایک کے بارے میں سفارش بھی نہیں کر سکے گا بلکہ صرف کس کے بارے میں؟ صرف وہ سفارش کر سکے گا جسے اجازت ملے گی اور صرف اس کے بارے میں کر سکے گا جس کے بارے میں اجازت ہوگی بھئی اجازت ہوگی۔
تو اللَّهُ فرماتے ہیں أم اتخذوا من دون اللَّهُ شفعاء کیا انہوں نے بنا رکھے ہیں اللَّهُ کے علاوہ اور سفارش کرنے والے یعنی یعنی اللَّهُ کی اجازت کے بغیر کیا انہوں نے اللَّهُ کی اجازت کے بغیر اور سفارش کرنے والے بنا رکھے ہیں؟ اے پیغمبر آپ فرما دیجیے کیا اگرچہ وہ ذرا بھی اختیار نہ رکھتے ہوں اور نہ سمجھتے ہوں کہ کیا اگرچہ وہ ذرا بھی اختیار نہ رکھتے ہوں اور نہ عقل رکھتے ہوں کیا پھر بھی اس کو یہ سفارشی بناتے ہیں بھئی؟
یہ بت جو ہیں ان کو تو ذرا بھی اختیار نہیں، کسی چیز کے یہ مالک نہیں ہیں اور نہ ان میں سمجھ ہے، بے جان چیزیں ہیں کیا پھر بھی ان کو یہ سفارشی بنائیں گے؟ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟
أم اتخذوا من دون اللَّهُ شفعاء کیا انہوں نے بنا رکھے ہیں اللَّهُ کو چھوڑ کر اور شریع اور سفارش کرنے والے قل اولاو كانوا لا يملكون شيئا ولا يعقلون آپ کہہ دیجیے کیا اگرچہ وہ کیا اگرچہ وہ اختیار نہ لایملکون شیئا کسی چیز کے مالک نہ ہوں یعنی کچھ بھی اختیار نہ رکھتے ہوں کیا اگرچہ وہ کچھ بھی اختیار نہ رکھتے ہوں ولا يعقلون اور نہ سمجھ رکھتے ہوں کیا پھر بھی یہ ان کو اپنا سفارشی مانیں گے بنائیں گے؟
قل للَّهُ الشفاعة جميعا آپ کہہ دیجیے اللَّهُ ہی کے لیے ہے سفارش ساری کی ساری یعنی ساری سفارش اللَّهُ ہی کے اختیار میں ہے قل للَّهُ الشفاعة جميعا اے آپ کہہ دیجیے اللَّهُ ہی کے اختیار میں ہے سفارش ساری کی ساری لہ ملك السموات والارض اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی ثم إليه ترجعون پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤगे۔
وإذا ذكر اللَّهُ وحده اشمأزت قلوب الذين لا يؤمنون بالآخرة اور جب ذکر کیا جائے اکیلے اللَّهُ کا اشمأزت اشمأزت کا معنی ہے دل کا منقبض ہونا دل کا منقبض بھئی یعنی دل کا گھٹ جانا نفرت کرنا بھئی دل کا گھٹ جانا، دل کا نفرت کرنا، دل کا بیزار ہو جانا بھئی۔
وإذا ذكر اللَّهُ وحده اور جب ذکر کیا جاتا ہے اکیلے اللَّهُ کو اشمأزت قلوب الذين تو بیزار ہو جاتے ہیں دل ان لوگوں کے لا يؤمنون بالآخرة جو ایمان نہیں رکھتے آخرت پر۔
وإذا ذكر الذين من دونه إذا هم يستبشرون اور جب ذکر کیا جاتا ہے ان کو جو اللَّهُ کے علاوہ ہیں اذا هم يستبشرون تو وہ خوش ہو جاتے ہیں۔ تو وہ خوش ہو جاتے ہیں۔
ان مشرکین کا یہ حال ہے کہ ان کے سامنے جب صرف اللَّهُ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل نفرت کرنے لگتے ہیں، ان کے دل بیزار ہو جاتے ہیں اور جب اللَّهُ کے علاوہ اور معبودوں کا ذکر کیا جاتا ہے تو یہ خوش ہو جاتے ہیں خوشی سے کھل اٹھتے ہیں یہ۔
معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟
وإذا ذكر اللَّهُ وحده اور جب ذکر کیا جاتا ہے ایک اللَّهُ کو اشمأزت قلوب الذين لا يؤمنون بالآخرة تو بیزار ہو جاتے ہیں یا نفرت کرنے لگتے ہیں دل ان لوگوں کے جو ایمان نہیں رکھتے آخرت پر وإذا ذكر الذين من دونه إذا هم يستبشرون اور جب ذکر کیا جاتا ہے ان کو جو اللَّهُ کے علاوہ ہیں تو وہ خوش ہو جاتے ہیں۔
آج بہت سے مسلمانوں کی بھی یہی حالت ہے بھئی، صرف ایک اکیلے اللَّهُ کا ذکر کیا جائے اور اس کی قدرتوں اور قدرتوں کو اور رحمتوں کو ذکر کیا جائے تو انہیں وہ خوشی نہیں ہوتی لیکن اس کے بجائے اگر اس کے ساتھ کسی پیر فقیر وغیرہ کا ذکر کر دیا جائے تو خوشی سے ان کے دل کھل اٹھتے ہیں بھئی۔
اور بالخصوص اگر کوئی شخص صرف اللَّهُ کی توحید کو بیان کر رہا ہو، پیر فقیر وغیرہ کے ذکر کو چھوڑ کر خالص توحید کو بیان کر رہا ہو تو کہتے ہیں یہ تو اولیاء کے منکر ہیں، اولیاء کو مانتے ہی نہیں بھئی۔
سمجھ میں آیا تو دیکھیے قرآن بتلاتا ہے بھئی کہ اللَّهُ کے ہاں سفارش کرنے کی ہر ایک کو اجازت نہیں ہوگی جس طرح مشرکین مکہ جو ہیں وہ بتوں کی عبادت کرتے تھے کہتے تھے یہ ہم عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں تاکہ یہ ہمیں اللَّهُ کے قریب کر دیں تو یہ آج کے بہت سے مسلمان بھی اسی طرح پیروں فقیروں کے ساتھ اسی طرح تعلق رکھتے ہیں اور یہ ہمیں کیا کریں گے اللَّهُ کے قریب کریں گے بھئی قریب کریں گے۔
حالانکہ وہاں پر سفارش کی ہر ایک کو اجازت نہیں ہوگی۔ سفارش صرف وہی کر سکے گا جسے اجازت ہوگی اور صرف اسی کے بارے میں کر سکے گا جس کے بارے میں اجازت دے دی جائے گی بھئی۔
قل اللّهم فاطر السموات والارض قل آپ کہہ دیجیے اللّهم اللّهم بمعنی یا اللَّهُ کے ہے قل آپ کہہ دیجیے اللّهم اے اللَّهُ فاطر السموات والارض اے زمین اور اس زمین اور آسمانوں کو پیدا کرنے والے عالم الغیب والشہادتی جاننے والے پوشیدہ اور ظاہر کو انت تحکم بین عبادك عبادك آپ فیصلہ فرمائیں گے اپنے بندوں کے بیچ فیما اس بات کے اندر کانوا فیہ یختلفون جس میں وہ اختلاف کرتے تھے جس میں وہ لوگ
اختلاف کرتے تھے۔
قل اللّٰہُمَّ فاطرَ السماواتِ والارضِ، آپ کہہ دیجیے اے اللہ! اے زمین اور آسمان کو بنانے والے، پیدا کرنے والے، غیب اور شہادت کو پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والے آپ فیصلہ کریں گے اپنے بندوں کے درمیان فیما اس چیز کے اندر کانُو فیہ یختلفون، جس میں وہ اختلاف کرتے تھے۔
ولَو انَّ للذین ظلموا ما فی الارضِ جمیعاً، اور اگر ہو ان لوگوں کے لیے جنہوں نے ظلم کیا، ما وہ چیز فی الارضِ جو زمین میں ہے، جمیعاً ساری کی ساری، وہ لوگ، اگر، وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا، اگر ان کے لیے وہ سارا کچھ ہو جو زمین میں ہے (یعنی وہ تمام خزانے ان کے پاس ہوں) ومثلہ معہ، اور اسی کے برابر اس کے ساتھ اور ہوں۔
وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا، اگر ان کے پاس زمین بھر کے خزانے ہوں اور اسی کے برابر اور بھی ہوں (یعنی دگنے ہوں)، لَفْتَدَوبہ، افتداء کا معنی ہوتا ہے فدیہ دینا۔
لَفْتَدَوبہ، تو البتہ وہ فدیے میں، دے دیں بہ، اس کو، لَفْتَدَوبہ، وہ کیا کریں اس کو؟ فدیے میں دے دیں مِنْ سُوءِ العذابِ، برے عذاب سے (یعنی برے عذاب سے بچنے کے لیے) یومَ القیامۃِ، قیامت کے دن۔
وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا، اگر ان کے پاس زمین بھر کے خزانے ہوں اور اسی کے برابر اور بھی خزانے ہوں، وہ تو قیامت کے دن برے عذاب سے بچنے کے لیے وہ سارا کچھ فدیے میں دے دیں، اتنا ہولناک عذاب ہوگا بھئی۔
معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟
ولَو انَّ للذین ظلموا، اور اگر ان لوگوں کے لیے جنہوں نے ظلم کیا، ما فی الارضِ جمیعاً، وہ سارا کچھ ہو جو زمین میں ہے، ومثلہ معہ، اور اسی کے مثل، اسی کے برابر، اس کے ساتھ اور ہو، لَفْتَدَوبہ، تو البتہ وہ فدیے میں دے دیں اس کو، مِنْ سُوءِ العذابِ، برے عذاب سے چھوٹنے کے لیے، یومَ القیامۃِ، قیامت کے دن۔
وبَدَا لھم مِّنَ اللّٰہِ، اور ظاہر ہوگا ان کے لیے مِنْ اللّٰہی اللہ کی طرف سے، ما وہ چیز لم یکونوا یحتسبون، کہ نہیں تھے وہ اس کا خیال کرتے۔
جس کا، جس کا انہیں خیال بھی نہیں تھا اللہ کی طرف سے انہیں اس بات کا سامنا کرنا پڑے گا بھئی۔
ان چیزوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دنیا کے اندر تو وہ اپنے عیش و آرام اور اپنی سرکشی کے اندر مصروف تھے، تو آخرت میں انہیں اللہ کی طرف سے جس چیز کا سامنا کرنا پڑے گا اور جس عذاب کا وہ ان کے خیال میں بھی نہ ہوگا بھئی۔
وبَدَا کے معنی ہوتے ہیں ظاہر ہونے کے، وبَدَا لھم، اور ظاہر ہوگا ان کے لیے مِنْ اللّٰہی اللہ کی طرف سے، اللہ کی طرف سے ان کے لیے ظاہر ہوگا، یعنی اللہ کی طرف سے ان کو سامنا کرنا پڑے گا، ما لم یکونوا یحتسبون، وہ جس کے، ان کو، جس کو ان کو خیال بھی نہ تھا، ان کے خیال میں بھی نہ تھا کہ اس طرح ہوگا بھئی، وہ تو سرکشی کرتے تھے اور کہتے تھے آخرت ہوگی نہیں، یہ دنیا ہی سارا کچھ ہے۔
وبَدَا لھم سیّئاتُ ما کسبوا، اور ظاہر ہوں گی ان کے لیے سیّئاتُ، برائیاں، ما کسبوا، جو انہوں نے کمایا۔
انہوں نے کمایا (یعنی جو انہوں نے عمل کیے)، اور ان کے لیے ظاہر ہوگی ان کے عملوں کی برائی۔
سیّئاتُ ما کسبو، ان کے عملوں کی برائی بھئی۔
سیّئاتُ مضاف ہے نا۔
ما کسبو، وہ جو انہوں نے کمایا، جو عمل کیے، ان کی برائی ان کے سامنے ظاہر ہوگی۔
وبَدَا لھم سیّئاتُ ما کسبو، اور ظاہر ہوگی ان کے لیے ان کے، ان کی کمائی کی برائی، وحاق بھم ما کانوا بہ یستھزئون۔
حاقا کے معنی گھیر لینا، احاطہ کر لینا، وحاق بھم، اور ان کو گھیر لے گا ما وہ چیز، کانوا بہ یستھزئون، جس کے وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔
بھئی دنیا کے اندر وہ مذاق اڑاتے تھے کہ آخرت کیسے ہو سکتی ہے، ایک شخص مر جائے، مٹی میں مل جائے، پھر کیسے زندہ ہو سکتا ہے؟ پھر کیسے ان کو زندہ کیا جائے گا؟ کیسے ان کو عذاب دیا جائے گا؟ تو اس پر وہ خوب ہنسی مذاق کرتے تھے، اس عذاب کا مذاق اڑاتے تھے۔
اللہ فرماتے ہیں، وہ عذاب ان کو قیامت کے دن گھیر لے گا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔
وحاق بھم ما کانوا بہ یستھزئون، اور گھیر لے گا ان کو وہ، جس کو وہ، جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے، فإذا مسَّ الانسانَ ضُرٌّ دعانا، پس جب چھوتی ہے انسان کو کوئی تکلیف، دعانا، تو وہ ہمیں پکارتا ہے۔
فإذا مسَّ الانسانَ ضُرٌّ دعانا، جب پہنچتی ہے انسان کو کوئی تکلیف، دعانا، تو وہ ہمیں پکارتا ہے۔
جب تکلیف آتی ہے، پھر اس وقت وہ اپنے سارے دوسرے معبودوں کو بھلا بیٹھتا ہے، پھر صرف اللہ ہی کو پکارتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے صرف اللہ ہی اس تکلیف کو دور کر سکتے ہیں۔
فإذا جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے، تو وہ ہمیں پکارتا ہے، ثمَّ اذا خَوَّلْنٰہُ نعمۃً منّا، خَوَّلَ کا لفظ پہلے بھی گزرا، کیا معنی بھئی؟
عطا کرنا۔
کیا معنی؟ عطا کرنا۔
ثمَّ اذا خَوَّلْنٰہُ نعمۃً منّا، پھر جب ہم عطا کر دیتے ہیں اس کو نعمۃً، نعمت، منّا، اپنی طرف سے۔
تکلیف اس پر آتی ہے وہ ہمیں پکارتا ہے، پھر جب ہم اس کو کیا کرتے ہیں؟ اپنی طرف سے نعمت عطا فرما دیتے ہیں۔
قال انَّما اوتیتُہُ، کہ یہ تو مجھے دی گئی ہے علی علمٍ، علم پر۔
یہ تو مجھے دی گئی ہے علی علمٍ، کس پر؟
علم پر۔
ہاں، یہ معنی سمجھ لینا بھئی، یہاں دو تین ترجمے ہوں گے بھئی۔
انَّما اوتیتُہُ علی علمٍ، یہ تو مجھے دی گئی ہے علی علمٍ، علم پر۔
یعنی مجھے پہلے ہی سے یہ معلوم تھا کہ یہ مجھے ملے گی۔
یہ مجھے پہلے سے علم تھا کہ یہ مجھے ملے گی۔
کیونکہ مجھ میں اس کی، میں میں ہی اس کا اہل تھا، میرے اندر اس کی قابلیت تھی، میرے اندر اس کی، میں اس کا اہل تھا، میرے اندر اس کی قابلیت تھی، مجھے پہلے ہی معلوم تھا کہ یہ مجھے ملے گی۔
اللہ اس پر فضل فرماتے ہیں، اس کی تکلیف کو دور کرتے ہیں، اس پر اس کو نعمت عطا فرماتے ہیں، وہ کیا کہتا ہے جب نعمت مل جاتی ہے کہ یہ تو مجھے ملی ہے علم پر، یعنی پہلے ہی معلوم تھی، کیونکہ میں ہی اس کا اہل تھا، میرے اندر ہی اس کی صلاحیت تھی، میرے اندر ہی اس کی لیاقت تھی، مجھے ہی ملنی چاہیے تھی بھئی، مجھے ہی ملنی چاہیے تھی۔
معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟
تو کیا ترجمہ ہوگا؟ قال انَّما اوتیتُہُ علی علمٍ، تو وہ کہता ہے کہ مجھ کو یہ دی گئی ہے علی علمٍ، میرے علم پر۔
یعنی یہ مجھے پہلے ہی معلوم تھا کہ یہ مجھے ملنی ہے، کیونکہ میں ہی اس کا مستحق تھا، میرے اندر ہی اس کی صلاحیت تھی۔
ہاں، یہ ترجمہ کر لیں بھئی۔
قال انَّما اوتیتُہُ علی علمٍ، کہ یہ تو مجھے دی گئی ہے علی علمٍ، یہ بات تو معلوم ہی تھی۔
یہ بات تو، یہ چیز مجھے دی گئی ہے، یہ بات تو معلوم ہی تھی۔
یعنی سب کو پتہ تھا کہ میں ہی اس کا مستحق ہوں، مجھے ہی ملنی ہے۔
معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟
کیا ترجمہ کیا؟ انَّما اوتیتُہُ علی علمٍ، یہ چیز تو مجھے دی گئی ہے علی علمٍ، یہ بات تو معلوم ہی تھی، کیونکہ میں ہی اس کا مستحق تھا، میرے اندر ہی اس کی قابلیت تھی، مجھے ہی ملنی چاہیے تھی اور مجھے ہی ملی ہے۔
دوسرا ترجمہ، انَّما اوتیتُہُ علی علمٍ، یہ چیز مجھے دی گئی ہے علی علمٍ، علم پر، یعنی میرے علم پر، یعنی میری تدبیر اور ہنر پر، میری تدبیر اور میرے یہ چیز مجھے دی گئی ہے علی علمٍ علم پر، یعنی میرے علم پر یہ دی گئی ہے مجھے، میرے ہنر اور میری تدبیر پر دی گئی ہے، کیونکہ میرے پاس ہی اس کا ہنر تھا، میں ہی اس کی تدبیر جانتا تھا، اس کو کس طرح حاصل کرنا ہے، اوروں کو اس کی تدبیر ہی معلوم نہیں تھی، مجھے تدبیر معلوم تھی، تو چنانچہ مجھے میری تدبیر پر یہ چیز دی گئی ہے۔
معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟
قال انَّما اوتیتُہُ علی علمٍ، کہ یہ چیز تو مجھے دی گئی ہے علی علمٍ، میری اپنے ہنر پر، میری اپنی تدبیر پر۔
پہلا ترجمہ کیا کیا؟ قال انَّما اوتیتُہُ علی علمٍ، یہ چیز مجھے دی گئی ہے علی علمٍ، یہ بات تو معلوم تھی، سب کو پتہ تھا۔
یہ دوسرا ترجمہ قال انَّما اوتیتُہُ علی علمٍ، یہ چیز مجھے دی گئی ہے تدبیر پر، یہ چیز مجھے دی گئی ہے (یعنی میری تدبیر پر، میرے ہنر پر)، کیونکہ مجھے ہی علم تھا کہ کس طرح اس کو حاصل کیا جاتا ہے۔
بل ہی فتنةٌ، بلکہ یہ آزمائش ہے، یہ آزمائش ہے، اللہ فرما رہے ہیں، بل ہی فتنةٌ، بلکہ یہ آزمائش ہے۔
ہی ضمیر کس کو راجح ہے بھئی؟
جی؟ یہ نعمت جو ہم نے اس کو دی، یہ آزمائش ہے اس کے لیے، یا اس کی یہ جو بات ہے، یہ اس کے لیے آزمائش ہے بھئی۔
آخرت میں جا کر پتہ چلے گا یہ کس طرح کہتا تھا کہ یہ اس کے علم پر اس کو ملی ہے، یا ہم نے اپنے فضل سے اس کو عطا کی تھی، پھر یہ اس طرح کی باتیں کرتا ہے۔
فإذا مسَّ الانسانَ ضُرٌّ دعانا، پھر جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے دعانا، تو وہ ہمیں پکارता ہے، ثمَّ اذا خَوَّلْنٰہُ نعمۃً منّا، پھر جب ہم اس کو نعمت اپنی طرف سے عطا فرما دیتے ہیں، قال انَّما اوتیتُہُ علی علمٍ، کہ مجھے تو یہ دی گئی ہے میری تدبیر پر، بل ہی فتنةٌ، بلکہ یہ آزمائش ہے، ولکنَّ اکثرہم لا یعلمون، لیکن اکثر ان میں سے وہ نہیں جانتے۔
قد قالھا الذین من قبلہم، تحقیق کہی تھی یہ بات بل ہی، تو ہی ضمیر پیچھے کس کو راجح کی بھئی؟ یا نعمت کو یا یہ جو بات اس نے کی (یعنی یہ مقولةٌ جو ہے یا یہ کلمةٌ بھئی، یہ بات جو اس نے کی)۔
قد قالھا، تحقیق کہی تھی یہ بات الذین من قبلہم، ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے۔
یہ بات کہی تھی ان لوگوں نے بھی جو ان سے پہلے گزرے تھے، ان مکہ والوں سے، فما اغناھم، تو کچھ کام نہ آیا ان کی طرف سے، ما کانوا یکسبون۔
فما اغناھم، تو کچھ کفایت نہ کی ان کی طرف سے، ما کس چیز نے کفایت نہ کی؟ ما کانوا یکسبون، جو یہ کماتے تھے، جو یہ کما جو عمل کرتے تھے، اس، وہ، ان کے، اس نے ان کی طرف سے کچھ کفایت نہ کی (یعنی ان کے کچھ کام نہ آیا)، کچھ کام نہ آیا۔
قد قالھا الذین من قبلہم تحقیق یہ بات کی تھی ان لوگوں نے بھی جو ان سے پہلے تھے، فما اغناھم ما کانوا یکسبون، پس کچھ کام نہ آیا ان کے، وہ جو یہ کمائی کرتے تھے، فاصابھم سیّئاتُ ما کسبو، پس پہنچی ان کو برائی اس کی جو یہ کما، ان کی جو یہ عمل کرتے تھے، جو یہ کماتے تھے۔
فاصابھم، پہنچی ان کو سیّئاتُ ما کسبو، سیّئاتِ مضاف ہے ما کسبو کی طرف، وہ جو یہ انہوں نے کمایا، اس کی برائی، اس کی، پہنچی ان کو اس کی برائی جو یہ عمل کرتے تھے، جو یہ کماتے تھے۔
یعنی آ پڑی ان پر، ان پر آ پڑی اس چیز کی، جو یہ عمل کرتے تھے، اس کی برائی ان پر آ پڑی۔
والذین ظلموا من ھؤلاءِ، اور وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا ان میں سے، بھئی اللہ فرما رہے ہیں اس سے یہ بات ان سے پچھلے لوگوں نے بھی کی تھی، تو ان کے عمل ان کے کچھ کام نہ آئے۔
اور ان کے عملوں کی برائی ان پر آ پڑی بھئی، ان پر ان کو پہنچی، یعنی ان پر آ پڑی۔
اور وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا من ھؤلاءِ، ان میں سے، یعنی ان مکہ والوں میں سے، والذین ظلموا من ھؤلاءِ اور وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا ان میں سے، سیصیبھم سیّئاتُ ما کسبو، تو ان کو بھی پہنچے گی برائی اس کی جو انہوں نے کمائی۔
جو انہوں نے کمایا جو عمل کیا ہے، ان کو بھی اس کی برائی پہنچے گی، وما ھم بمعجزین، اور نہیں ہیں وہ عاجز کرنے والے، یعنی وہ اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہیں، اللہ کو ہرا نہیں سکتے، وہ اللہ کی گرفت میں ہیں۔
والذین ظلموا من ھؤلاءِ اور وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا ان میں سے سیصیبھم سیّئاتُ ما کسبو، ان کو بھی پہنچے گی ان کی کمائی کی برائی، وما ھم بمعجزین، اور نہیں ہیں وہ عاجز کرنے والے (یعنی اللہ کو)۔
اولم یعلموا، کیا یہ نہیں جانتے انَّ اللہ یبسطُ الرزقَ لمن یشاءُ، کہ بے شک، کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ وہ کشادہ کرتے ہیں رزق کو لمن یشاءُ، جس کے لیے وہ چاہتے ہیں، ویقدرُ، اور تنگ کرتے ہیں۔
جس کے لیے اللہ چاہتے ہیں رزق کو کشادہ کرتے ہیں اور جس کے لیے چاہتے ہیں تنگ کرتے ہیں، قدر یقدرُ کے لفظی معنی تنگ کرنے کے نہیں ہیں، قدر یقدرُ کا معنی ہے اندازے سے ماپ کر دینا، اندازے سے دینا، تو بعض کو اللہ وسیع رزق دیتے ہیں، بعض کو معاف کر اندازے سے، بقدِرِ ضرورت جس سے وہ زندہ رہ سکیں بس۔
اسی سے، ان، رزق کو اللہ تنگ کر دیتے ہیں، تو یہ مرادی معنی ہوا بھئی۔
اولم یعلموا انَّ اللہ یبسطُ الرزقَ لمن یشاءُ ویقدرُ، کہ اللہ رزق کو کشادہ کرتے ہیں، وسیع کرتے ہیں، جس کے لیے چاہتے ہیں اور تنگ کرتے ہیں، یعنی جس کے لیے وہ چاہتے ہیں، اس کے لیے تنگ کرتے ہیں۔
انَّ فی ذلک لآیاتٍ لقومٍ یؤمنون، بے شک اس کے اندر البتہ نشانیاں ہیں ایسے لوگوں کے لیے یؤمنون، جو ایمان والے ہیں۔
جو ایمان لانے والے ہیں۔
چلیے بس بھئی، ھذا ھو المرام، واللّٰہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔