Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-128

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 12 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ بالله من الشيطان الرجيم. بسم الله الرحمن الرحيم. يا ايها المزمل. قم الليل الا قليلا نصفه او انقص منه قليلا. او زد عليه ورتل القرآن ترتيلا. انا سنلقي عليك قولا ثقيلا. ان ناشئة الليل هي اشد وطا واقوم قيلا. یہ سورہ مزمل ہے۔ مزمل کے معنی ہیں چادر لپیٹنے والا۔ چادر لپیٹنے والا۔ اور یہ سورت اور اسی طرح آگے سورہ مدثر بھی آ رہی ہے۔ یہ بالکل ابتدائی اسلام کے زمانے میں یہ سورتیں نازل ہوئیں۔ اور ابتدا میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی تو وحی کے خوف اور دہشت کی وجہ سے آپ کو سردی لگنے لگ پڑی۔ پہلی مرتبہ وحی نازل ہوئی، آپ گھبرا گئے اور سردی لگنے لگی۔ گھر تشریف لائے تو گھر والوں سے کہنے لگے، زملونی، زملونی، مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے چادر اوڑھا دو۔ تو چنانچہ پھر اسی طرح اللہ کی طرف سے اسی پر آپ کو محبت بھرے انداز میں خطاب کیا گیا، یا ایها المزمل، اے چادر لپیٹنے والے، اے چادر میں لپٹنے والے، اے چادر میں لپٹنے والے، یا ایک کپڑے میں لپٹنے والے۔ تو یا ایها المزمل کیوں کہا گیا؟ وجہ سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم وہ ابتدائی وحی کے خوف اور دہشت کی وجہ سے آپ کو سردی لگنے لگ پڑی اور گھر آ کر فرمانے لگے، زملونی، زملونی، مجھے کپڑا اڑا دو، مجھے چادر اڑا دو۔ یا بعض روایات میں آتا ہے کہ کفار جو ہیں، مشرکین مکہ انہوں نے آپس میں میٹنگ کی کہ اس شخص کو کیا نام دیا جائے؟ اس کو شاعر کہا جائے؟ اس کو کاہن کہا جائے؟ یا اس کو دیوانہ کہا جائے؟ یا اس کو جادوگر کہا جائے؟ تو میٹنگ ہوئی اور بلاآخر رائے یہ ہوئی کہ ساحر یعنی جادوگر کا لفظ ان کے ذرا زیادہ قریب ہے، وہ ان کو کہنا چاہیے کیونکہ ان کی بات جادو کی طرح دلوں پر اثر کرتی ہے اور بھئی کو بھئی سے جدا کر دیتی ہے، جو کوئی ایمان لے آتا ہے، پھر اپنے نہ بھئی کی پروا کرتا ہے نہ اپنے والدین کی پروا کرتا ہے۔ تو انہوں نے آپ کو ساحر کا لقب تجویز کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس بات کی خبر ہوئی تو آپ بڑے غم زدہ ہوئے اور آپ چادر لپیٹ لیا آپ نے، جیسے غمگین آدمی ہوتا ہے نا، وہ چادر وغیرہ جو ہو تو لپیٹ لیتا ہے، غم زدہ ہو جاتا ہے۔ تو اس پر آپ کو یا ایها المزمل کے ساتھ خطاب کیا گیا بھئی۔ مزمل اصل میں ہے متزمل۔ باب تفاعل ہے۔ پھر تا کو بھی زا کر کے زا میں ادغام کیا گیا۔ یا ایها المزمل، اے چادر میں لپٹنے والے، قم اللیل، رات کو قیام کیا کرو، الا قليلا، مگر تھوڑی رات۔ رات کو قیام کیا کرو اور رات کو کھڑے رہو، الا قليلا، مگر تھوڑی سی رات۔ یعنی تھوڑی سی رات چھوڑ کر باقی رات کھڑے رہو۔ یہ ابتدائے اسلام کا زمانہ ہے، ابتدائے وحی کی ابتدا کا زمانہ ہے۔ اور اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اور صحابہ کرام رضوان الله تعالی علیہم اجمعین جو تھے جو تھوڑے سے ہی ایمان لائے تھے، ان کو حکم دیا جا رہا ہے نماز تہجد کا۔ اور تو اس وقت تہجد فرض تھا کہ کوئی نصف رات قیام کر لے، قران پڑھے نصف رات آدھی رات یا کوئی نصف سے زیادہ کر دے، دو تہائی رات تک۔ تین حصے کرکے اس میں سے کتنے حصے؟ دو حصے یا نصف سے کچھ کم کر دے یعنی ایک تہائی تک۔ تو اتنا فرض تھا ان جو جتنا بھی چاہیں، وہ اتنا رات کو قیام کریں بھئی۔ تو یہ اسی کا وہی حکم بیان ہو رہا ہے۔ یا ایها المزمل، اے چادر میں لپٹنے والے، قم اللیل، رات کو کھڑے رہو، الا قليلا، مگر تھوڑی سی رات، نصفہ، آدھی رات۔ رات کو قیام کرو کچھ رات چھوڑ کر، کتنی رات قیام کرو، نصفہ، آدھی رات، او ان منھ قليلا، یا اس میں سے اس نصف میں سے کچھ کم کر دو۔ یعنی تیسرا حصہ، او زد عليه، یا اس پر کچھ بڑھا دو، زیادہ کر دو یعنی دو تہائی، نصف سے کچھ زیادہ کر دیا یعنی دو تہائی بھئی۔ ورتل القرآن ترتيلا۔ اور رتلا کے معنی ہوتے ہیں ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا، صاف صاف پڑھنا۔ ورتل القرآن ترتيلا، اور ٹھہر ٹھہر کر قرآن پڑھو یا یوں ترجمہ کر لیں، صاف صاف قرآن پڑھو۔ ٹھہر ٹھہر کر پڑھتا ہے تو الفاظ خوب صاف صاف ادا ہوتے ہیں اور اس سے بات ایک تو خوب واضح ہوتی ہے، غور و فکر میں مدد ملتی ہے اور اس کی وجہ سے دل پر بھی بڑا اثر ہوتا ہے۔ نصفہ، نصف رات، او ان منھ قليلا، یا اس نصف میں سے کچھ کم کر دیجیے، او زد عليه، یا اس نصف پر کچھ بڑھا دیجیے۔ ورتل القرآن ترتيلا، اور قرآن ٹھہر ٹھہر کر پڑھیے۔ انا سنلقي عليك قولا ثقيلا، یقیناً البتہ عن قریب ہم ڈالنے والے ہیں آپ پر بھاری کلام کو، بھاری بات کو۔ ہم آپ پر وزنی کلام کو ڈالنے والے ہیں یعنی نازل کرنے والے ہیں۔ میں نے بتلایا یہ ابتدائی اسلام کا زمانہ ہے، ابھی قرآن تھوڑا سا ہی نازل ہوا ہے، اکثر حصہ بعد میں نازل ہوا بھئی سارا تقریباً۔ تو وہ اسی کا ذکر آ رہا ہے۔ اللہ فرما رہے ہیں ہم عن قریب کیا کرنے لگے ہیں آپ پر؟ ایک بھاری کلام کو ڈالنے والے ہیں یعنی قرآن بھئی۔ بھاری کلام ہے؟ یہ قرآن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر 23 سال کے عرصے میں تقریبا تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہوا بھئی۔ اور یہ اتنا ثقیل کلام، اتنا وزنی کلام کہ روایات میں آتا ہے کہ شدید سردی کے اندر بھی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی تو آپ پسینہ پسینہ ہو جاتے تھے۔ اور اس وحی کا اتنا بوجھ ہوتا تھا، اتنا وزن ہوتا تھا کہ اگر کسی سواری پر آپ بیٹھے ہوتے اور وحی شروع ہو جاتی تو جانور کے لیے کھڑا رہنا ہی مشکل ہو جاتا، وہ بیٹھ جایا کرتا تھا، کھڑا ہی نہیں رہ سکتا تھا، اتنا بوجھ ہوتا تھا۔ اور ایک مرتبہ روایات میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ران مبارک حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ کی ران مبارک پر تھی۔ یہ ساتھ ساتھ کہیں بیٹھ ساتھ بیٹھے ہوں گے تو حضور علیہ السلام کا پاؤں مبارک جو ران تھی، ان کی ران پر تھی۔ اسی دوران وحی نازل ہونا شروع ہو گئی۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ اتنا وزن تھا، اتنا وزن تھا کہ مجھے لگ رہا تھا کہ بس میری اب ران پھٹ جائے گی، ٹوٹ جائے گی، ختم ہو جائے گی، بچے گی نہیں۔ اتنا وزن تھا اور اسی طرح پورا قرآن حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔ تو یہ بڑا بھاری کلام ہے بھئی۔ یا معنی یہ کہ اس کے اندر جو ذمہ داریاں ہیں جو آگے پیغمبر آپ پر بڑی بھاری ذمہ داریاں آنے والی ہیں، وہ مراد ہیں بھئی۔ انا سنلقي عليك قولا ثقيلا، یقیناً البتہ ہم آپ پر ڈالنے والے ہیں قولا ثقیلا، بھاری بات کو۔ ان ناشئة الليل هي اشد وطا واقوم قيلا، یقیناً ناشئة الليل، رات کا اٹھنا، ناشئة الليل، رات کا اٹھنا۔ تو یہ ناشئہ مصدر ہے، یاد رکھیے۔ یقیناً رات کا اٹھنا جو ہے، هي اشد وطا، یہ بہت شدید ہے وطا کے اعتبار سے، روندنے کے اعتبار سے، کچلنے کے اعتبار سے۔ وطی یطی وطا کے معنی ہوتے ہیں روندنے کے، کسی چیز کو کچلنا، روندنا۔ تو یہ رات کا اٹھنا بڑا سخت ہے روندنے کے اعتبار سے، کچلنے کے اعتبار سے، واقوم قيلا، اور بڑا سیدھا ہے قول کے اعتبار سے۔ بڑا سیدھا ہے بات کرنے کے اعتبار سے۔ رات کا اٹھنا بڑا سخت ہے کچلنے کے اعتبار سے (یعنی نفس کو کچلنے کے اعتبار سے) اور کہنے کے اعتبار سے سیدھا ہے یعنی بڑی سیدھی بات نکلتی ہے۔ رات کا وقت بھئی ویسے سکون کا وقت، نہ کوئی شور، نہ آہٹ وغیرہ، کچھ بھی نہیں۔ پرسکون رات ہوتی ہے اور اس وقت انسان کی طبیعت آرام کو چاہتی ہے تو انسان جب اپنی نیند کو، اپنے آرام کو ترک کرکے اللہ کی بارگاہ میں کھڑا ہوگا اور قرآن پڑھے گا، تہجد پڑھے گا، اللہ کی طرف متوجہ ہوگا، اللہ کا ذکر کرے گا تو اس سے نفس خوب اچھی طرح کچلا جائے گا۔ نفس تو کیا ہے؟ انسان کو برائی کی طرف لے جانے والا ہے تو یہ جو رات کا اٹھنا ہے، یہ نفس کو خوب اچھی طرح کچلنے والا ہے، نفس کو دبانے والا ہے بھئی۔ اس سے یوں کہیں نفس کی خوب اصلاح ہوتی ہے۔ نفس کی خوب اصلاح۔ واقوم قيلا، اور یہ بڑا رات کا اٹھنا خوب سیدھا ہے کہنے کے اعتبار سے، اس وقت جو بات کہی جائے، سیدھی دل پر اثر کرتی ہے، یعنی اس وقت اس وقت چونکہ نہ شور ہوتا ہے، نہ کسی قسم کی کوئی انسانوں کا شور، نہ جانوروں کا شور، پرسکون وقت ہوتا ہے تو لہذا جو بات بھی ہو، اللہ کی بارگاہ میں جو بات بھی ہو، دعا کی جائے وغیرہ، وہ سیدھی دل سے نکلتی ہے بھئی۔ تو وطا کا ایک معنی میں نے کیا کیا؟ کچلنا، روندنا۔ یقیناً رات کا اٹھنا جو ہے، یہ سخت ہے اعتبار کچلنے کے۔ تو ترجمہ یوں کیجیے، ان ناشئة الليل هي اشد وطا، یقیناً رات کا اٹھنا جو ہے، یقیناً رات کا اٹھنا، یہ سخت کچلنے والا ہے، واقوم قيلا، اور بات سیدھی نکلتی ہے۔ اور بات سیدھی نکلتی ہے۔ تو وطا کا ایک معنی میں نے کیا کیا؟ کچلنے کے، روندنے کے۔ بعضوں نے کہا کہ یہ وطا مواطات سے ہے۔ کس سے ہے؟ مواطات اور مواطات کہتے ہیں موافقت کو تو اس وقت رات کے وقت دل اور زبان میں موافقت ہوتی ہے۔ دل اور زبان میں، یعنی زبان سے جو بات نکلتی ہے، سیدھی دل پر اثر کرتی ہے۔ ان لک في النهار سبحا طويلا، یقیناً آپ کے لیے دن میں سبحا طویلا، لمبی مشغولیت ہوتی ہے۔ سبحا مشغولیت۔ یعنی دن میں تو آپ کو اور بھی مشغولیاں ہوتی ہیں، رات کو کیا کیا کیجیے؟ قیام کیا کیجیے اور پورے طور پر اللہ کی طرف متوجه ہو کر قرآن پڑھا کیجیے۔ ان لک في النهار سبحا طويلا، بے شک آپ کی دن میں لمبی مشغولیاں ہوتی ہیں، واذكر اسم ربک وتبتل اليه، تو دن میں انسان کی بڑی مشغولیاں ہوتی ہیں، رات کا وقت ذرا سکون والا ہے تو اس وقت حکم دیا گیا۔ واذكر اسم ربک وتبتل اليه تبتیلا، واذكر اسم ربک، اور اپنے رب کے نام کا ذکر کیجیے۔ وتبتل اليه، اور کٹ جائیے اس کی طرف تبتیلا، کٹ جانا۔ اور اللہ کی طرف کٹ جائیے یعنی باقی سب سے کٹ کر اللہ کی طرف متوجہ ہو جائیے، اللہ کی طرف یکسو ہو جائیے۔ تو ترجمہ کر لیجیے یکسو ہونے کا، ویسے تبتل کا کیا معنی؟ کٹ جانا، متوجہ ہونا۔ وتبتل اليه تبتیلا، اور اللہ کی طرف یکسو ہو جائیے۔ یعنی جو بھی معاملات ہوں، اوروں کے ساتھ تعلق، مشغولیاں اپنی جگہ لیکن دل ہر وقت آپ کا کس کے ساتھ جڑا ہونا چاہیے؟ اللہ کے ساتھ جڑا ہونا چاہیے، اللہ کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔ رب المشرق والمغرب، رب ہے وہ مشرق کا اور مغرب کا۔ لا اله الا هو، نہیں ہے اس کے سوا کوئی معبود۔ فتخذه وکیلا، پس اسی کو کارساز بنا لیجیے۔ پس اسی کو کیا کر لیجیے؟ کارساز تو ہے ہی اللہ، آپ بھی اس کو اللہ ہی کو کارساز قرار دیجیے، کسی اور کو کارساز قرار نہ دیجیے۔ فتخذه وکیلا، پس اسی کو کارساز بنا لیجیے۔ واصبر علی ما یقولون، اور آپ صبر کیجیے علی ما یقولون، اس بات پر جو وہ کہتے ہیں۔ وہ جو آپ کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں، ان کے کہنے پر آپ کیا کیجیے؟ صبر کیجیے بھئی، ابتدائے اسلام کا زمانہ ہے، ابھی جہاد کا حکم نہیں آیا تو اس وقت آپ کو یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ ان کے جو تکلیفیں اور اذیتیں ہیں، ان پر آپ صبر کیجیے۔ واجرهم حجرا جمیلا، اور ان سے اور ان کو چھوڑ دیجیے، ان سے جدا ہو جائیے۔ حجرا جمیلا، اچھے طریقے سے چھوڑنا۔ ان کو چھوڑ دیجیے اچھے طریقے سے چھوڑنا، یعنی ان کے بد اخلاقی کا جواب اسی طریقے سے نہ دیجیے بلکہ صبر کیجیے۔ اور اچھے طریقے سے چھوڑ دیجیے یعنی ان کی برائیوں کا جواب انھی کے انداز میں نہ دیجیے، یہ معنی نہیں چھوڑنے کا کہ اب آپ ان کو دعوت ہی نہ دیں بلکہ ان کی ان باتوں کی پروا نہ کیجیے، دعوت دیتے رہیے۔ واجرهم حجرا جمیلا، اور ان کو اچھے طریقے سے چھوڑ دیجیے۔ وذرني والمکذبین، اور چھوڑ دیجیے مجھے اور جھٹلانے والوں کو۔ اللہ فرماتے ہیں، مجھے اور جھٹلانے والوں کو چھوڑ دو، ان کو میرے سپرد کر دو، میں خود ان کو دیکھ لوں گا۔ وذرني والمکذبین، اور چھوڑ دیجیے مجھے اور جھٹلانے والوں کو۔ اول النعمتی، اول النعمتی، وہ جو نعمتوں والے ہیں۔ جھٹلانے والے کون ہیں؟ جو نعمتوں والے ہیں، ناز و نام کے اندر جن کی زندگی گزر رہی ہے، نعمتوں کے اندر، مالدار لوگ ہیں۔ تو اللہ فرما رہے ہیں، مجھے اور جھٹلانے والوں کو چھوڑ دو، جو نعمتوں والے ہیں، ومهلهم تمهیلا، اور ان کو مہلت دیجیے، مہلت دینا۔ ان کو کیا کیجیے؟ کچھ مہلت دیجیے، یعنی ان برائی کا جواب برائی سے نہ دیں، ان کے لیے بددعا وغیرہ نہ کیجیے، بس ان کو مہلت دیجیے، موت تک، موت کے بعد بالاخر انہوں نے ہمارے پاس ہی لوٹ کر آنا ہے، پھر ہم ان کو دیکھ لیں گے۔ ان لدینا انکالا وجحیما، یقیناً ہمارے پاس بیڑیاں ہیں اور جہنم ہے۔ ہمارے پاس بیڑیاں ہیں اور جہنم ہے۔ انکال جمع ہے نکل کی اور نکل بیڑی کو کہتے ہیں۔ یقیناً ہمارے پاس بیڑیاں ہیں اور جہنم، بیڑیاں ہیں، ہم ان کو پھر جب ہمارے پاس آئیں گے، ان کو بیڑیوں میں جکڑ دیا جائے گا، جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔ ان لدینا انکالا وجحیما، یقیناً ہمارے پاس بیڑیاں ہیں اور جہنم ہے۔ وطعاما ذا غصة، اور ایسا کھانا ہے ذا غصة جو گلے میں اٹک جانے والا ہے۔ غصہ گلے میں اٹکنا۔ ذا غصت گلے میں اٹکنے والا اور طعامذا غصت اور ہمارے پاس ایسا کھانا ہے جو گلے میں اٹک جانے والا ہے ایسا کھانا کہ جو نہ تو نگلا جائے اور نہ اگلا جائے۔ وعذابا الیما اور دردناک عذاب ہے۔ یوم ترجف الارض والجبال جس دن کہ لرزنے لگے گی زمین اور پہاڑ۔ رجف کہتے ہیں حرکت کرنا زور زور سے لرزنا کانپنا۔ یوم ترجف الارض والجبال جس دن کہ لرزنے لگے گی، کانپنے لگے گی زمین اور پہاڑ۔ وكانت الجبال کسیبا مهیلا اور پہاڑ ایسے پہاڑ ہوں گے۔ کسیب کسیب کہتے ہیں ریت کا ٹیلہ بھئی۔ ریت کا ٹیلہ۔ مہیل مہیل کہتے ہیں پھسلنے والا۔ پھیلنے والا بھئی۔ بھئی ریت کا ٹیلہ ہو، نرم ہو، اس پر انسان پاؤں جمائے رکھے تو پاؤں اس پر جمتا نہیں ہے بھئی۔ سمجھ میں پاؤں اس پر جمتا نہیں ہے۔ تو وہ ریت ریت کا نرم پھسلنے والا ٹیلہ بھئی۔ وكانت الجبال کسیبا مہیلا اور پہاڑ پھسلتے ریت کے ٹیلے ہوں گے۔ پہاڑ کیا ہوں گے؟ پھسلتی ریت کے ٹیلے ہوں گے۔ پھسلتے ریت کے ٹیلے ہوں گے۔ معنی تو سمجھ گئے آج کل تو پہاڑ مضبوط ہیں بھئی۔ انسان دیکھتا ہے بڑے سخت پہاڑ، لیکن اس وقت اس طرح ہو جائیں گے جیسے ریت کے ٹیلے نرم نرم بھئی۔ انا ارسلنا الیکم رسولا یقینا ہم نے بھیجا تمہاری طرف ایک رسول شاہدا علیکم۔ جو گواہ ہے تم پر۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخرت میں اپنی امت کے بارے میں گواہی دیں گے کہ انہوں نے آپ کی دعوت قبول کی قبول کی اور انہوں نے آپ کی دعوت قبول نہیں کی۔ بیشک ہم نے تمہارے پاس ایک پیغمبر بھیجا ہے شاہدا علیکم جو تم پر گواہ ہے کما ارسلنا الی فرعون رسولا جیسے کہ ہم نے بھیجا تھا فرعون کی طرف ایک پیغمبر۔ فعصى فرعون الرسول پس نافرمانی کی تھی فرعون نے اس پیغمبر کی۔ فاخذناه اخذا وبیلا پس پکڑا ہم نے اس کو سخت پکڑ۔ اخذا وبیل وبیل کا معنی سخت۔ ہم نے اس کو سختی سے پکڑا فكيف تتقون پس تم کیسے بچو گے؟ ان کفرتم اگر تم کفر کرو گے۔ فكيف تتقون پس تم کیسے بچو گے ان کفرتم اگر تم کفر کرو گے یوم يجعل الولدان شیبا وہ دن جو کہ بنا دے گا بچوں کو بوڑھا۔ یوم يجعل الولدان ولد بچے بھئی۔ ولد کی جمع اور شیبا اشیب کی جمع ہے بوڑھے کو کہتے ہیں۔ یوم يجعل الولدان شیبا وہ دن جو کہ بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔ بچوں کو کیا کر دے گا؟ بوڑھا کر دے گا۔ یا تو اپنی لمبا ہونے کے اعتبار سے اتنا لمبا دن ہوگا ختم ہونے میں ہی نہیں آئے گا بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔ یا اپنی شدت کی وجہ سے کس کی وجہ سے؟ شدت اور سختی کی وجہ سے کیونکہ شدت اور تکلیف کی وجہ سے ہر انسان غمگین ہوگا اور غم انسان کو بڑی جلدی بوڑھا کر دیتا ہے۔ معنی سمجھ میں آرہا ہے بھئی۔ بھئی قیامت کے دن کوئی بچے ہوں گے ہی نہیں۔ اور پھر وہ بوڑھے بھی نہیں ہوں گے۔ یہ صرف اس دن کے لمبا ہونے کو اور اس کی شدت اور اس کی ہولناکی کو نہایت نہایت پرتاثیر اور فصیح و بلیغ انداز میں بیان کیا جا رہا ہے۔ کہ وہ دن کیا کرنے والا ہوگا؟ بچوں کو بوڑھا۔ اتنا خوفناک دن ہوگا، اتنا لمبا دن ہوگا۔ فكيف تتقون ان كفرتم یوم يجعل الولدان شیبا پس تم کیسے بچو گے اگر تم انکار، اگر تم کفر کرو گے اس دن سے۔ پس تم کیسے بچو گے؟ کس چیز سے بچو گے؟ یوم یہ مفعول آ رہا ہے تتقون کے لیے۔ پس تم کیسے بچو گے اس دن سے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔ تم اس دن سے کیسے بچو گے ان کفرتم اگر تم کیا کرو گے؟ تو اگر تم کفر کرو گے تو اس دن سے کیسے بچو گے؟ السماء منفطر بہ۔ السماء منفطر بہ۔ آسمان پھٹنے والا ہوگا۔ انفطر کے معنی پھٹ جانا۔ آسمان پھٹ جانے والا ہوگا بہ اس دن سے۔ اس دن کی شدت کی وجہ سے آسمان بھی پھٹ جائے گا۔ كان وعده مفعولا اس اللہ کا وعدہ ہو کر رہے گا۔ اس اللہ کا وعدہ كان وعده مفعولا اس اللہ کا وعدہ اس کا وعدہ ہو کر رہے گا۔ یا اس دن کا وعدہ یا اس دن کا جو وعدہ کیا گیا مفعولا وہ ہو کر رہے گا۔ ان ھذہ تذکرة یقینا یہ جو ہے یہ نصیحت ہے۔ ان ھذہ یہ جو آیتیں ہیں یہ نصیحت ہیں۔ فمن شاء اتخذ الی ربه سبیلا پس جو کوئی چاہے وہ بنا پکڑے اپنے رب کی طرف راستہ۔ ان ربک یعلم انک تقوم أدنى من ثلثي الليل بھئی یہ جو شروع میں حکم بیان ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین پر ثلث رات یا نصف رات یا دو ثلث کا جاگنا فرض کر دیا گیا۔ یہ حکم ایک سال تک رہا۔ ایک سال تک۔ ایک سال کے بعد پھر یہ فرضیت ختم کر دی گئی اور یہ آیت نازل ہوئی جو اس وقت یہ ہم بیسویں آیت پڑھنے لگے ہیں یہ ایک سال کے بعد یہ حصہ نازل ہوا بھئی۔ پورا سمجھ میں آگیا بھئی یہ حکم نازل ہوا۔ ان ربک یعلم یقینا آپ کا رب جانتا ہے انک تقوم أدنى من ثلثي الليل کہ آپ اٹھتے ہیں۔ آپ آپ قیام کرتے ہیں أدنى من ثلثي الليل دو تہائی رات کے سے کم یا اس کے قریب بھئی۔ دو تہائی رات سے کم کیا کرتے ہیں آپ؟ یعنی دو تہائی کے قریب مراد ہے۔ دو تہائی رات کے اور ادنى دنون سے ہے قریب۔ تو آپ دو تہائی رات اس کے قریب جو ہیں اس دو تہائی رات کے قریب جو ہیں آپ قیام کرتے ہیں و نصفہ اور کتنا قیام کرتے ہیں؟ نصف رات قیام کرتے ہیں و ثلثه اور کتنا قیام کرتے ہیں؟ ایک تہائی رات قیام کرتے ہیں۔ بھئی آج کل تو گھڑیاں ہیں اللہ کی اتنی ہی طرح طرح کی نعمتیں، کتنی سہولتیں آ گئیں۔ اس زمانے میں تو گھڑی تھی نہیں اور اللہ کی طرف سے حکم آیا کہ نصف رات قیام کرنا ہے یا ایک تہائی کرنا ہے یا دو تہائی کرنا ہے۔ تو اب مسلمان ان کے پاس وقت کا اندازہ لگانے والی کوئی چیز تو تھی نہیں، لہذا حد درجے وہ احتیاط کرتے تھے کہ کچھ کہیں کم نہ ہو جائے، زیادہ ہو جائے تو کوئی حرج نہیں۔ چنانچہ اتنی مشقت کرتے تھے مومنین کیوں، کھڑے کھڑے قیام کرتے کرتے ان کے پاؤں سوج جاتے تھے۔ بعض صحابہ تو ساری ساری رات سوتے ہی نہیں تھے کہ پتہ نہیں کہیں ایسا نہ ہو میں سمجھوں کچھ حصہ نصف رات ہو گئی ہے یا نصف ہوئی نہ ہو ابھی، تو لہذا وہ ساری رات قیام کرتے تھے تو ایک سال کے بعد پھر یہ حکم نازل ہوا اور وہ فرضیت ختم کر دی گئی۔ ان ربک یعلم انک تقوم أدنى أدنى کا معنی قریب کے کریں بھئی قریب کے۔ دنون سے ہے قریب ہونے کے۔ یقینا آپ کا رب جو ہے وہ جانتا ہے انک تقوم کہ آپ قیام کرتے ہیں أدنى من ثلثي الليل دو تہائی رات کے قریب و نصفہ اور نصف رات و ثلثه اور کتنا قیام کرتے ہیں؟ کبھی آپ دو تہائی کے قریب کرتے ہیں، کبھی آپ نصف رات قیام کرتے ہیں اور کبھی ایک تہائی رات قیام کرتے ہیں۔ و طائفة من الذين معك اور گروہ ان لوگوں کا جو آپ کے ساتھ ہیں۔ ان لوگوں کا گروہ جو آپ کے ساتھ ہیں وہ بھی اور آپ بھی کبھی کیا کرتے ہیں؟ دو تہائی رات، کبھی نصف رات اور کبھی ایک تہائی رات قیام کرتے ہیں۔ واللہ يقدر الليل والننهار اور اللہ جو ہے وہ اندازہ کرتا ہے رات کا اور دن کا۔ دن اور رات کا صحیح اندازہ تو اللہ ہی کو علم ہے کہ کب اس وقت ثلث رات ہو گئی، کب نصف رات ہو گئی تم اس کا حساب تو کر نہیں سکتے۔ واللہ يقدر الليل والننهار اور اللہ اندازہ کرتا ہے رات کا اور دن کا۔ علم اللہ نے اللہ کو معلوم ہے ان تحصوه کہ تم اس کو تم اس کا حساب نہیں کر سکتے۔ تم اس رات کے نصف ہونے کا یا ثلث ہونے وغیرہ کا حساب علم اللہ نے جان لیا۔ یہاں پھر وہی اعتراض بھئی، کیا اللہ کو پہلے علم نہیں تھا؟ بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے جواب کئی پہلے کئی جگہ گزر چکا کہ اللہ تعالی کے سامنے ہر چیز موجود، حاضر۔ زمانہ ہمارے لیے ہے کوئی چیز پہلے معلوم نہیں تھی بعد میں معلوم ہو، اب اللہ کے لیے تمام چیزیں، اللہ کا علم بڑا کامل، سب چیزیں اللہ کے سامنے، تمام زمانے اللہ کے سامنے۔ لیکن اللہ جو ہیں کبھی کلام فرماتے ہیں اپنے علم کو کے اعتبار سے تو مستقبل کی بات کو بھی کس سے ذکر کرتے ہیں؟ ماضی کی بات سے کہ اللہ کو معلوم ہے سب کچھ۔ اور کبھی انسانوں کے انداز میں اللہ کلام فرماتے ہیں তো وہ یہ بھی اسی انداز میں ہیں۔ علم اللہ نے جان لیا ان تحصوه کہ تم اس کو حساب نہیں کر سکتے فتاب علیکم تو اللہ نے تم پر معافی فرما دی۔ فاقرءوا ما تیسر من القرآن پس پڑھو تم ما تیسر من القرآن وہ جو آسان ہو قرآن میں سے۔ یعنی جتنا آسانی سے پڑھ سکو۔ علم ان سييكون منكم مرضا اللہ نے جان لیا کہ تم میں سے عنقریب کچھ جو ہیں مرضا مریض کی جمع ہے، تم میں سے کچھ لوگ بیمار ہوں گے وآخرون یضربون فی الأرض اور دوسرے جو ہیں یضربون فی الأرض وہ زمین میں چلیں پھریں گے یعنی سفر کریں گے۔ یبتغون من فضل اللہ تلاش کریں گے اللہ کے فضل کو یعنی روزی وغیرہ کو۔ وآخرون یقاتلون فی سبيل اللہ اور کچھ دوسرے لوگ ہوں گے وہ لڑائی کریں گے، جہاد کریں گے اللہ کے راستے میں فاقرءوا ما تیسر من پس پڑھو تم ما تیسر منہ جتنا آسان ہو قرآن میں سے۔ وأقيموا الصلاة و آتو الزکاة اور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو وأقرضو اللہ قرضا حسنا اور قرض دو اللہ کو اچھا قرض۔ یعنی اخلاص سے دو۔ وما تقدموا لأنفسكم من خير اور وہ جو تم آگے بھیجو اپنے نفسوں کے لیے من خیر کوئی نیکی تجدوه عند الله تم وہ اس کو پاؤ گے اللہ کے پاس ھو خیرا یہ ہوا کیا ہے؟ یہ فصل ہے یاد رکھیے بھئی۔ کہ وہ چیز جس کو آگے بھیجو تم اپنے نفسوں کے لیے۔ تم اس کو پاؤ گے تجدوه تجدوه ها ضمیر یہ مفعول اول۔ اور خیرا کیا ہے؟ مفعول ثانی۔ تم اس چیز کو پاؤ گے اللہ کے پاس بہتر و اعظم اور بڑی اجراً با اعتبار اجر کے۔ یعنی تم اس چیز کو اللہ کے پاس بہتر اور بڑے اجر والی پاؤ گے۔ واستغفر اللہ اور اللہ سے مغفرت مانگو ان اللہ غفور الرحیم یقینا اللہ بڑا بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔ اللہ فرما رہے ہیں کہ اللہ نے جان لیا کہ تم رات کا حساب نہیں رکھ سکتے۔ اب اللہ نے تم پر معافی فرما دی فتاب علیکم اللہ نے تم پر معافی فرما دی پس سب پڑھو جو آسانی سے ہو جو آسان ہو قرآن میں سے یعنی جتنا آسانی سے پڑھ سکو اتنا پڑھ لیا کرو۔ اللہ جان لیا کہ تم میں سے کچھ لوگ مریض ہوں گے، کچھ زمین میں سفر کریں گے، کچھ لڑائی کریں جہاد کریں گے اللہ کے راستے میں جو آگے آنے والے مومنین تھے جو آگے کیا کریں گے آگے چل کر جہاد کریں گے، کچھ بیمار ہوں گے، کچھ تجارت وغیرہ کاروبار کے لیے ان کو مختلف سفر کرنے ہوں گے یا علم کی تحصیل کے لیے مختلف سفر کرنے ہوں گے تو پھر اگر یہ حکم اسی طرح رہے رات کو جاگنا پڑے اور دن میں سفر یا جہاد وغیرہ ہو تو پھر بڑی مشکل میں لوگ پڑ جائیں گے اس لیے اللہ نے تم پر معافی فرما دی، اب جتنا آسانی سے ہو وہ پڑھ لیا کرو تو تہجد کی فرضیت جو ہے وہ منسوخ کر دی گئی، اب فرض نہ رہا ہاں البتہ اب مستحب اب بھی ہے بھئی، مستحب ہے اور بڑی فضیلت والی چیز ہے بھئی۔ یہ آخری آیت کا ترجمہ دوبارہ دیکھ لیجیے۔ ان ربک یعلم یقینا آپ کا رب جانتا ہے کہ آپ کھڑے رہتے ہیں دو تہائی رات کے قریب یا نصف رات یا ایک تہائی رات کے قریب اور گروہ ان لوگوں کا بھی جو آپ کے ساتھ ہیں، اللہ اندازہ کرتا ہے رات کا اور دن کا، اللہ نے جان لیا کہ تم اس کا حساب نہیں کر سکتے تو اس نے توبہ، رجوع، رجوع کیا تم پر اس نے معافی فرمائی تم پر، پس پڑھو تم جو آسان ہو قرآن میں سے، جان لیا اللہ نے کہ تم میں سے بعض جو ہیں وہ مریض ہوں گے اور کچھ دوسرے جو ہیں وہ سفر کریں گے زمین میں، تلاش کریں گے اللہ کی روزی کو، اللہ کے فضل کو یعنی روزی کو، وآخرون اور کچھ دوسرے ہوں گے جو لڑائی کریں گے اللہ کے راستے میں، پس پڑھو جو آسان ہو قرآن میں سے اور نماز قائم کرو اور زکوۃ دو، وأقرضو اللہ قرضا حسنا اور قرض دو اللہ کو اچھا قرض۔ وأقیموا الصلواة واتوا الزکوة اور نماز قائم کرو اور زکوۃ دو۔ یہاں نماز کا ذکر آیا اور زکوۃ کا ذکر آیا اور میں نے بتلایا یہ ابتدائے اسلام کے زمانے میں یہ سورت نازل ہوئی، تو اس صلاۃ اور زکوۃ سے کیا مراد ہے؟ بعض علماء نے لکھا کہ صلاۃ سے پانچ نمازیں مراد ہیں اور زکوۃ سے یہ جو زکوۃ اس کے مقرر ہے باقاعدہ چالیسواں حصہ جو دیتے ہیں، یہ مراد ہے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ اس پانچ نمازوں کا حکم تو بعد میں نازل ہوا اور اسی طرح زکوۃ کا حکم بھی بڑی بعد میں آیا، مدینہ میں آیا، تو یہ اس وقت تو تھا ہی نہیں۔ تو جواب دیتے ہیں کہ یہ سورت کا آخری حصہ مدنی ہے، یہ نازل بھی کہاں پر ہوا ہے؟ مدینہ منورہ میں، تو اس صلاۃ سے پانچ نمازیں اور زکوۃ سے کیا مراد ہے؟ وہ جو حصوں والی زکوۃ مقرر ہے جو ہم اب ادا کرتے ہیں۔ جبکہ بعضوں نے کہا کہ نہیں یہ نماز، پانچ نمازیں اور زکوۃ نہیں مراد، بلکہ نماز تو جیسے ابھی گزرا یہ تہجد وغیرہ اور اس طرح پانچ نمازیں بہرحال نہیں تھیں اور زکوۃ کہتے ہیں زکوۃ سے بھی یہ زکوۃ مراد نہیں ہے، زکوۃ فرض تھی پہلے، لیکن کوئی متعین نہیں تھی، بعد میں متعین کر دی گئی اتنا دینے, اس وقت متعین نہیں تھی، کچھ بھی اللہ کے راستے میں دیتے رہیں بس اس کا حکم تھا بھئی۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی۔ وأقرضو اللہ قرضا حسنا اور اللہ کو قرض دو اچھے طریقے سے اور اللہ کو اچھا قرض تو یعنی اچھے اخلاص کے ساتھ۔ وما تقدموا لأنفسكم من خير اور وہ جو آگے بھیجو تم اپنے نفسوں کے لیے من خیر نیکی میں سے تجدوه عند اللہ ہو خیرا و أعظما اجرا تم پاؤ گے اس کو اللہ کے پاس کہ وہ بہتر ہے اور بڑے اجر والی ہے واستغفر اللہ اور اللہ سے مغفرت طلب کرو, ان اللہ غفور الرحیم یقینا اللہ بخشنے والے ہیں، رحم کرنے والے ہیں۔ چلیے بس یہ حاد اول مرام واللہ اعلم بحقیقتہ الکلام
88 approved lectures · 87 of 88