أعوذ بالله من الشيطان الرجيم. بسم الله الرحمن الرحيم. ولقد آتينا داود منا فضلا يا جبال أوبي معه والطير وألنا له الحديد أن اعمل سابقات وقدر في السرد واعملوا صالحا إني بما تعملون بصير.
ولسليمان الريح غدوها شهر وروحها شهر وأسلنا له عين القطر ومن الجن من يعمل بين يديه بإذنه ربه ومن يزغ منهم عن أمرنا نذقه من عذاب السعير.
ولقد آتينا، اور البتہ تحقیق ہم نے عطا کیا داؤد، داؤد علیہ السلام کو، من نا اپنی طرف سے، فضلا فضل فضیلت۔
اور البتہ تحقیق ہم نے عطا کیا داؤد علیہ السلام کو اپنی طرف سے فضیلت عطا کی۔ یعنی بڑائی عطا کی۔ بڑائی، اسی طرح فضیلت معنی کر لیں اس کا۔ اور تحقیق البتہ ہم نے عطا کی داؤد علیہ السلام کو اپنی طرف سے فضیلت۔
فضیلت اللہ نے ان کو عطا کی بھئی۔ نبوت بخشی۔ فضیلت یعنی بڑائی، بزرگی دی اوروں پر۔ کتاب دی ہم نے، نبوت دی۔ اور اسی طرح یہ آگے کچھ خاص انعامات جو اللہ نے کیے، آگے ذکر فرما رہے ہیں۔
یا جبال أوبي معه والطير. یا جبال، اے پہاڑوں! أوبي بي تم دہرائو۔ اؤوب یؤوب تاویب کے معنی ہیں دہرانا۔ أوبي بي معه تم دہرائو ان کے ساتھ، یعنی تسبیح کو دہرائو ان کے ساتھ۔
حضرت داؤد علیہ السلام جو ہیں، ان کو اللہ نے بڑی خوبصورت آواز دی تھی، اور وہ جب تسبیح وغیرہ بیان کرتے تھے، تو پہاڑ بھی ان کے ساتھ اللہ کی تسبیح بیان کرتے، پرندے بھی ان کے ساتھ تسبیح بیان کیا کرتے تھے۔
تو اللہ فرما رہے ہیں کہ ہم نے حکم دیا تھا پہاڑوں کو اور پرندوں کو۔ یا جبال، اے پاہ، اے پہاڑوں! أوبي بي معه، تم دہرائو ان کے ساتھ، یعنی تسبیح کو ان کے ساتھ دہرائو بھئی۔
والطير، اور اے پرندو! والطير کا عطف جبال پر ہے بھئی۔ طير کا عطف کس پر ہے؟ جبال پر۔
اور جبال منادہ ہے، مبنی علی الضم۔ مبنی علی الضم۔ مبنی علی الضم۔
اور آپ نے نحم میں پڑھا ہے کہ یا جو ہے یہ قائم مقام ہے کس کے؟ أدعو کے، أدعو کے۔ میں پکارتا ہوں۔
اور یہ جو منادہ ہوتا ہے، یہ ہے تو مبنی علی الضم لیکن دراصل یہ مفعول ہے بھئی۔ دراصل یہ کیا ہے؟ مفعول ہے۔ مفعول۔
تو محلا یہ منسوب ہے بھئی۔ مبنی علی الضم ہے نا، مبنی ہے ضمے پر، اور مبنی کا اعراب کیسے بتایا جاتا ہے؟ محلا تو محل کے اعتبار سے یہ منسوب ہے۔ مثلاً آپ کہتے ہیں یا زیدو! یہ دراصل کیا ہے؟ أدعو زیداً، میں زید کو پکارتا ہوں، میں زید کو پکار رہا ہوں۔
یا میں زید کو بلا رہا ہوں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو یہاں بھی یہ محلا منسوب ہے، تو طير کا اس پر عطف ہے محل کے اعتبار سے، اس کے محل پر عطف ہے، اور محل کے اعتبار سے یہ منسوب تھا، تو طير بھی کیا آیا؟ منسوب آیا بھئی۔
تو حضرت داؤد علیہ السلام کو اللہ نے بڑی ہی خوبصورت آواز دی تھی بھئی، مشہور ہے آج تک بھئی لحن داؤدی بھئی۔ لحن داؤدی۔
چنانچہ یہ نکل جاتے جنگل کی طرف، اور وہاں پھر تسبیح وغیرہ اللہ کی پاکی بیان کرتے تھے اپنی خوبصورت آواز میں، تو ان کے ساتھ ساتھ پہاڑ بھی اللہ کی تسبیح بیان کرتے اور پرندے بھی۔
یا جبال، اے پہاڑوں! أوبي بي معه، تم دہرائو ان کے ساتھ، یعنی تم ان کے ساتھ تسبیح دہرائو، والطير اور اے پرندو! وألنا له الحديد.
حديد کہتے ہیں لوہے کو۔
والنا ہم نے نرم کیا بھئی، آلانا یولین کے معنی ہیں نرم کرنا۔ وألنا له الحديد اور نرم کر دیا تھا ہم نے ان کے لیے لوہے کو۔
أن اعمل سابقات یہ کہ بناؤ سابقات پوری زرہیں، سابقات جمع ہے سابقہ کی، اور سابقہ کہتے ہیں پوری زرہ بھئی، مکمل زرہ، کشادہ زرہ جو ہو، مکمل زرہ ہو بھئی۔
یعنی جو پورے بدن کو ڈھانپ لے بھئی، یہ نہیں کہ نامکمل ہو، بدن کا کچھ حصہ تو اس میں چھپے اور کچھ نہ چھپے۔ ایسا نہیں، بلکہ مکمل زرہ ہو اسے کیا کہا جاتا ہے؟ سابقہ کہا جاتا ہے۔
اصل میں تو یہ صفت تھی۔ درع سابقہ، درع کہتے ہیں زرہ کو، اور سابقہ کا معنی پوری۔ تو کیا ترجمہ ہوا درع سابقہ؟ پوری زرہ، مکمل زرہ بھئی، کشادہ زرہ۔ زرہ جانتے ہیں یا نہیں بھئی؟ وہ جنگی لباس بھئی جو جنگوں میں پہنا جاتا تھا، وہ لوہے کی قمیض وغیرہ اور پھر جس سے تلوار وغیرہ اثر نہیں کرتی تھی بھئی، حفاظت کے لیے، تلوار وغیرہ اور تیروں اور نیزوں سے بچنے کے لیے وہ جنگی لباس پہنا جاتا تھا، تو اسے زرہ کہتے ہیں۔
دیکھا ہے یا نہیں بھئی؟ عجائب گھر میں تو دیکھی ہوگی بھئی۔
تو ہم نے، اللہ فرما رہے ہیں ہم نے ان پر یہ احسان بھی کیا کہ ان کے لیے کیا کیا تھا؟ لوہے کو نرم کر دیا تھا، أن اعمل یہ کہ بناؤ سابقات پوری زرہیں، تو یہ سابقات جمع ہے سابقہ کی، اور میں نے بتلایا یہ دراصل صفت تھی۔ درع سابقہ، درع کہتے ہیں زرہ کو، اور سابقہ، مکمل، پوری ہو جو، کشادہ ہو۔
پوری زرہ، مکمل زرہ، پھر یہ جو صفت تھی اسی کا کو استعمال یہ استعمال ہونے لگی زرہ کے لیے بھی بھئی، تو زرہ ہی کو کیا کہنے لگے؟ کشادہ زرہ ہو، جو پوری زرہ ہو، اسے کیا کہنے لگے؟ سابقہ کہنے لگے۔
أن اعمل سابقات یہ کہ بنائیں آپ سابقات، پوری زرہیں، وقدر في السرد، اور اندازہ رکھیے في السرد بنے میں، زرہ کے بنانے میں۔ سرد کہتے ہیں زرہ کا بنانا، زرہ کو بننا۔
اس کی کڑیوں کو آپس میں جوڑنا۔ بھئی زرہ آپ نے دیکھی ہے کہ وہ چھوٹے چھوٹے لوہے کے حلقے ہوتے ہیں، جنہیں آپس میں جوڑا گیا ہوتا ہے۔
تو اللہ فرما رہے ہیں کہ ہم نے ان کے لیے لوہے کو نرم کر دیا تھا، یہ کہ بنائیں، وہ، کیا بنائیں؟ سابقات ان پوری زرہیں، وقدر في السرد اور اندازہ رکھیے في السرد ان کے بنے میں، یا یوں کہیں کڑیوں کے جوڑنے میں۔
زرہ کا بننا وہی ہے نا، کڑیوں کو جوڑنا ہے آپس میں اس کے، اور اندازہ رکھیے کڑیوں کے جوڑنے میں۔
کیا معنی اندازہ رکھیے؟ بھئی معنی یہ ہے کہ ہم نے ان کے لیے لوہے کو نرم کر دیا تھا، حضرت داؤد علیہ السلام جو تھے کہتے ہیں ان کو اللہ نے بادشاہت بھی دی تھی، اور انہی کے بیٹے ہیں حضرت سلیمان علیہ السلام کہ جنہیں پھر وہ عظیم بادشاہت اللہ نے نصیب فرمائی جو ان کے بعد کسی اور کو نہیں ملی، جنات بھی ان کے مسخر تھے، ہوا بھی ان کے لیے مسخر تھی، پرندے وغیرہ بھی ان کے لیے مسخر تھے بھئی۔
تو حضرت داؤد علیہ السلام کو بھی اللہ نے بادشاہت نصیب فرمائی تھی، آپ راتوں کو بھیس بدل کر نکلا کرتے تھے لوگوں کے احوال معلوم کرنے کے لیے۔
اور لوگوں سے پوچھتے بھی تھے کہ تمہارا بادشاہ کس قسم کا ہے؟
رات ہوتی اپنے آپ کو چھپایا ہوتا، کسی کو یہ تو پتہ نہیں ہوتا تھا یہ خود بادشاہ یہی ہیں، تو اس طرح حالات معلوم کرتے تھے، تو اسی طرح ایک رات نکلے ہوئے تھے، تو اللہ نے ایک فرشتے کو انسانی شکل میں بھیج دیا۔
تو فرشتے سے ملے، یہ انہوں نے دیکھا یہ کوئی انسان ہے تو پوچھا بھئی تمہارا بادشاہ کس قسم کا ہے؟ اور بھی باتیں پوچھی ہوں گی، کہ کوئی تکلیف تو نہیں، کوئی پریشانی تو نہیں، لوگوں کے لیے کوئی مسئلہ تو نہیں، اور یہ بھی پوچھا کہ تمہارا بادشاہ کس قسم کا ہے؟ وہ کہنے لگا بادشاہ تو ہمارا بڑا اچھا ہے، لیکن اگر ایک بات نہ ہوتی۔
پریشان ہو گئے، پتہ نہیں کیا بات ہوئی؟ پوچھا کیا بات؟ کہتے ہیں یہ کہ وہ بیت المال سے لے کر کھاتے ہیں۔
اگر وہ بیت المال سے نہ کھاتے خود اپنے ہاتھ سے کما کر کھاتے تو پھر بڑا اچھا ہونا تھا۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے پھر آئے تو اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ مجھے کوئی ایسی چیز سکھ دیجیے کہ میں خود اپنے ہاتھ سے عمل کر کے کمایا کروں اپنے گھر والوں کو بھی کھلایا کروں، چنانچہ اللہ نے آپ کے لیے لوہے کو نرم فرما دیا۔
لوہا اس طرح ان کے لیے ان کے ہاتھ میں نرم ہوتا تھا جس طرح موم بھئی، یا گوندھا ہوا آٹا جس طرح نرم ہوتا ہے، جس طرف اس کو چاہیں موڑ لیں، جس طرح کی شکل چاہیں دے دیں، تو وہ ان کے ہاتھ میں لوہا اس طرح نرم ہو جایا کرتا تھا بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ حالانکہ لوہے کو تو کوئی شکل دینے کے لیے بھئی بھٹی میں اسے خوب گرم کرنا پڑتا ہے اور پھر اس کو کوٹنا پڑتا ہے، بڑا مشکل کام ہوتا ہے، لیکن ان کے لیے اللہ نے اس طرح کر دیا تھا جیسے ایک نرم سی چیز ہو، تو وہ، اور پھر وہ اس سے زرہ بنا کر فروخت کیا کرتے تھے بھئی، زرہیں بناتے تھے۔
تو یہی اللہ فرما رہے ہیں، وألن، زرہ فروخت کرتے اور اس سے جو پیسے حاصل ہوتے، وہ اپنے اوپر کچھ خرچ کرتے اور گھر والوں پر اور باقی فقراء وغیرہ اور مساکین پر خرچ کرتے تھے۔
وألنا له الحديد، اور نرم کر دیا تھا ہم نے ان کے لیے لوہے کو، أن اعمل سابقات، یہ کہ بنائیں آپ سابقات، پوری زرہیں، وقدر في السرد، اور اندازہ رکھیں، آپ اندازہ رکھیں في السرد ان کے، کڑیوں کے جوڑنے میں۔
یعنی اس طرح نہ جوڑیے کہ کوئی کڑی بڑی ہے تو کوئی چھوٹی ہے، کوئی پتلی ہے، کوئی موٹی ہے، بلکہ متناسب طریقے سے ساری برابر کڑیاں ہونی چاہیے، جس حد تک ہو سکیں، ان میں تناسب ہونا چاہیے۔
وقدر في السرد، اور اندازہ رکھیے ان کے پر، ان کے بننے میں کڑیوں کے جوڑنے میں۔
واعلموا صالحا، اور عمل کیجیے نیک۔
یعنی اے آل داؤد! کیا واعملوا صالحا، تم لوگ نیک عمل کرو۔
إني بما تعملون بصير، یقیناً جو تم عمل کرتے ہو، میں اسے دیکھنے والا ہوں۔
إني یقیناً میں، جو تم عمل کرتے ہو، بصير اسے دیکھنے والا ہوں۔
تو یہ بما تعملون کا تعلق بصير سے ہے بھئی، بصير سے۔
جار مجرور ہمیشہ کسی سے متعلق ہوتے ہیں، یہ کس سے متعلق ہیں یہاں پر؟ بصير سے، اور تو لہذا اس کو ذرا مؤخر کریں، پھر آپ ترجمہ بہترین آپ کو سمجھ میں آئے گا، کس طرح ہو جائے گا؟ إني بصير بما تعملون، تو ترجمہ، یقیناً میں دیکھنے والا ہوں، جو کچھ تم عمل کرتے ہو۔
ولسليمان الريح، اور، ای، سخرنا، اور ہم نے مسخر کر دیا تھا، فعل محذوف ہے یہاں پر۔
اور ہم نے مسخر کر دیا تھا سلیمان علیہ السلام کے لیے الريح ہوا کو۔
ہوا ان کے حکم کے تابع تھی، اور ہم نے سلیمان علیہ السلام کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا تھا، غدوها شهر وروحها شهر۔
غدوها، ان کا، اس کا، ہا ضمیر راجع ہے ریح کو بھئی۔
اس ہوا کا، اس ہوا کی، صبح کی منزل، شهر، وہ ایک ماہ تھی، یعنی ایک ماہ کی مسافت تھی۔
ہوا ان کے لیے مسخر تھی بھئی، اور ان کے تخت کو ہوا بلند کر دیتی، جہاں یہ چاہتے وہاں پہنچا دیتی، اور اس کی رفتار اتنی تھی کہ جیسے اللہ ذکر فرما رہے ہیں، غدوها شهر، اس کی صبح کی منزل ایک ماہ کی مسافت تھی، شهر، أي مسيرۃ شهر۔
تو غدو سے پہلے بھی مضاف نکالا، بعض کہتے ہیں مضاف نکالنے کی ضرورت نہیں، اور بعض علماء مضاف نکالتے ہیں، کس طرح؟ أي سير غدوها۔
اس ہوا کی صبح کی سیر، صبح کا چلنا، اس ہوا کا صبح کے وقت غدو، صبح کا وقت۔ صبح کے وقت کا چلنا، شهر، أي مسيرۃ شهر۔
کتنی مسافت تھی؟ ایک ماہ کی مسافت تھی، یعنی صبح کے وقت میں یعنی صبح سے لے کر زوال تک کے وقت کے اندر ہوا کی رفتار اتنی تھی کہ وہ ایک ماہ کی جو مسافت ہوتی تھی، اس کو اتنے وقت میں وہ طے کر لیتی تھی۔
وہ مسافت جسے ایک تیز سوار ایک مہینے میں طے کرتا تھا، اس کو یہ ہوا صبح سے لے کر دوپہر کے وقت تک اتنے وقت میں ہوا اس کو طے کر لیتی تھی، اتنی رفتار تھی۔
وروحها،
شہر ائی سیر رواحیھا اور اس کے شام کے وقت کی سیر جو تھی شام کے وقت کا چلنا جو تھا شہر ائی مسیرہ شہرین کتنا تھا؟ ایک ماہ کی مسافت تھی۔ تو یعنی صبح سے لے کر زوال تک اتنے میں وقت میں ہوا ایک ماہ کی مسافت طے کر لیتی تھی اور زوال سے لے کر غروب افتاب تک کے وقت کے اندر بھی ہوا ایک ماہ کی مسافت طے کر لیتی تھی اتنی رفتار تھی بھئی۔معنی سب کو سمجھ میں اگیا۔
ولسلیمان الریح اور ہم نے مسخر کر دیا تھا سلیمان علیہ السلام کے لیے ہوا کو تو میں نے کیا بتلایا سیر غدوھا بعض کہتے ہیں سیر کا لفظ یہ مبتدا کے اندر مضاف نکالنے کی ضرورت ہی نہیں ہے بھئی اس کا اپنا ہی معنی یہ اتا ہے صبح کے وقت کا چلنا اس کو کیا کہتے ہیں غدو کہتے ہیں بھئی بعض کہتے ہیں اور شام کے وقت کے چلنے کو کیا کہتے ہیں رواح کہتے ہیں تو سیر کا لفظ یہاں نکالنے کی ضرورت ہی نہیں ہاں البتہ شہر سے پہلے مسیرہ کا لفظ مضاف نکالیں گے مسیرہ شہرین
غدوھا شہر ان کے صبح کے وقت کی جو منزل تھی وہ ایک ماہ کی مسافت تھی اور ان کے شام اور ان کی اور اس ہوا کی شام کی منزل جو ہے ایک ماہ کی مسافت تھی ترجمہ سمجھ میں اگیا اچھی طرح صبح کی منزل اس ہوا کی ایک ماہ کی مسافت تھی اور شام کی منزل اس ہوا کی ایک ماہ کی مسافت تھی واسلنا لہ اور بہا دیا ہم نے لہو ان کے لیے یعنی سلیمان علیہ السلام کے لیے عین القطر عین کہتے ہیں چشمے کو قطر کہتے ہیں پگھلے ہوئے توبے کو قطروئن کسے کہتے ہیں پگھلے ہوئے توبے کو تو اصل یسیلو کے معنی بہانے کے ہیں اور بہا دیا تھا ہم نے یعنی جاری کر دیا تھا ہم نے سلیمان علیہ السلام کے لیے پگھلے ہوئے توبے کا چشمہ۔پگھلے ہوئے توبے کا چشمہ بھئی تانبا ویسے تو کان زمین میں کان کھود کر نکالا جاتا ہے لیکن حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے اللہ نے باقاعدہ زمین سے تانبے کا ایک چشمہ جاری فرما دیا جس طرح پانی کا چشمہ ہوتا ہے اور اس سے پانی پھوٹتا رہتا ہے اس طرح تانبے کا ایک چشمہ پگھلے ہوئے تانبے کا ایک چشمہ جاری فرما دیا جس سے تانبا نکلا کرتا تھا اور اس سے پھر وہ مختلف چیزیں بناتے تھے جی اگے جیسے ذکر بھی آ رہا ہے
واسلنا لہ عین القطر اور بہا دیا ہم نے ان کے لیے پگھلے ہوئے توبے کا چشمہ ومن الجن اور جنات میں سے بھی بعض جو ہیں من یعمل بین یدیہ بعض وہ تھے جو عمل کرتے تھے ان کے سامنے باذن ربہ ان کے پروردگار کے حکم سے یعنی اللہ کے حکم سے اور بعض جنات بھی تھے جو وہ عمل کیا کرتے تھے ان کے سامنے ان کے پروردگار کے حکم سے جنات کو بھی اللہ نے ان کے تابع کر دیا تھا جنات بھی ان کی خدمت میں اسی طرح مصروف رہتے تھے جس طرح کوئی ایک عام خادم ہوا کرتا ہے بھئی تو ان کی خدمت کرتے وہ جو جو حکم دیتے تھے وہ سرانجام دیتے تھے۔
تو کہتے ہیں ومن الجن من یعمل بین یدیہ باذن ربہ اور بعض جنات بھی وہ جو کہ عمل کیا کرتے تھے ان کے سامنے ان کے پروردگار کے حکم سے ومن الجن اور جنوں میں سے یعنی بعض جنات ومن الجن بھئی میں نے دیکھیے ادھر میں نے میرے سامنے بہت سے درہم پڑے تھے میں نے اپ سے کہا میں نے ان درہموں میں سے اٹھا لیے کیا معنی سارے اٹھائے یا بعض اٹھائے؟ بعض اٹھائے تو یہاں بھی من آیا تو بعض والا ترجمہ کریں ومن الجن اور جنوں میں سے بھی بعض من وہ تھے یعمل بین یدیہ جو عمل کیا کرتے تھے ان کے سامنے باذن ربہ ان کے رب کے حکم سے
تو یوں ترجمہ با محاورہ یوں ہو جائے گا اور بعض جنات بھی عمل کیا کرتے تھے ان کے سامنے یعنی ان کی خدمت کیا کرتے تھے کام کیا کرتے تھے ان کے سامنے باذن ربہ ان کے رب کے یعنی حضرت سلیمان علیہ السلام کے رب کے حکم سے و من یزغ منہم اور جو کوئی ہٹتا تھا ان میں سے عن امرنا ہمارے حکم سے و من یزغ اور جو کوئی ان میں سے ہٹتا تھا یعنی چھوڑ دیتا تھا ان جنات میں سے عن امرنا ہمارے حکم سے یعنی ان جنات میں سے جو بھی ہمارے حکم سے ہٹتا تھا یعنی ہمارے حکم عدولی کرتا تھا ہمارے حکم پر عمل نہیں کرتا تھا و من یزغ منہم عن امرنا اور جو کوئی ان جنات میں سے ہٹتا تھا ہمارے حکم سے نزقہ من عذاب السعیر تو چکھاتے ہم اس کو اگ کا عذاب ہم اس کو اگ کا عذاب چکھاتے تھے۔
ہم اس کو اگ کا عذاب چکھاتے تھے۔
تو چنانچہ کہتے ہیں بعض مفسرین لکھتے ہیں کہ اس سے دنیا ہی کا عذاب مراد ہے اور ایک فرشتہ اللہ نے مقرر کر دیا تھا حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے جس کے ہاتھ میں اگ کا کوڑا ہوتا تھا اگ کا کوڑا تو جو کوئی جنات ان کے حکم پر عمل نہیں کرتا تھا حکم عدولی کرتا تھا تو اسے وہ اگ کے کوڑا فرشتے کی فرشتہ مارتا تھا تو یہ اگ کا عذاب اسے سخت تکلیف والا
تو اللہ اسی کا ذکر فرما رہے ہیں۔ تو عذاب سعید سے کہاں کا عذاب مراد ہے؟ دنیا ہی کا اور بعضوں نے کہا نہیں عذاب سعید سے مراد اخرت کا عذاب ہے بھئی۔ تو اگر دنیا کا عذاب مراد لیں تو پھر ترجمہ یوں ہوگا بھئی ومن یزغ منہم عن امرنا اور جو کوئی ہٹتا تھا ان میں سے ہمارے حکم سے نزقہ تو چکھاتے تھے ہم اس کو من عذاب السعیر اگ کے عذاب میں سے ہم اس کو چکھاتے تھے اور اگر اخرت کا عذاب مراد ہو تو پھر ترجمہ یہ ہوگا نزقہ من عذاب السعیر چکھائیں گے ہم اس کو اگ کے عذاب میں سے جو ہمارے حکم سے ہمارے حکم عدولی کرتا تھا ہم اسے اخرت میں اگ کا عذاب چکھائیں گے۔ اچھا بھئی اپ کیا پوچھ رہے ہیں جن بھی اگ کے بنے ہوئے ہیں تو ان کو اگ سے کیا تکلیف ہوگی؟
بھئی اگ سے بنے ہو سکتا ہے اور بھی اجزاء ہوں اور اگ سے بننے کے بعد اب وہ خود اگ تو نہیں رہے بھئی۔ اگ سے بنے تو ہیں لیکن اگ تو اب نہیں تو لہذا اگ ان کو تکلیف دے گی بھئی۔ جیسے اس کی یہ بعض کتابوں میں بھی ذکر ہے کہ ایک بزرگ کے پاس ایک شخص ایا اور کہنے لگا وہ اس نے دو تین باتیں پوچھیں ان میں سے ایک بات یہ تھی ایک بات یہ تھی کہ
جن جو ہے وہ بھی اگ سے بنے ہیں تو جہنم میں جب ڈالے جائیں گے جہنم وہ بھی اگ ہی ہے تو انہیں اس سے کیسے تکلیف ہوگی؟ تو ان بزرگ نے مٹی کا ایک ڈھیلا اٹھایا بڑا سا اور زور سے اس ادمی کے سر پہ مارا بھئی۔
تو وہ تکلیف کی وجہ سے چیخنے لگا تو کہنے لگے بھئی چیختے کیوں ہو تم بھی مٹی سے بنے ہو میں نے ماری بھی تمہیں مٹی ہے بھئی تو دیکھو انسان مٹی سے بنا ہے لیکن مٹی سے اسے تکلیف ہوئی تو جن اگر اگ سے بنا ہے تو اگ سے اس کے جلنے میں کیا شبہ ہو سکتا ہے۔
اور بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ جن جو ہیں وہ ان کے اکثر اجزاء وہ اگ اکثر جز ان کا اگ ہے سارا جز ا سارے ہی وہ اگ سے نہیں بنے بلکہ اس میں اکثر جز کیا ہے؟ اگ ہے اور بھی چیزیں ہیں بھئی۔
یعملون لہ ما یشاء من محاریب یعملون لہ بناتے تھے ان کے لیے ما یشاء وہ جو وہ چاہتے تھے جو حضرت سلیمان علیہ السلام چاہتے تھے جنات وہ ان کے لیے بناتے تھے۔
یعملون لہ بناتے تھے ان سلیمان علیہ السلام کے لیے ما یشاء وہ جو چاہتے تھے من محاریبا یعنی کہ محل محاریب کا معنی محل یا قلعے قلعہ بھئی جو حفاظت کے لیے مضبوط گھر بنایا جائے تو اسے
قلعہ کہتے ہیں بھئی تو محاریب جمع ہے محراب کی محراب کی تو وہ حضرت سلیمان علیہ السلام جو چاہتے تھے جنات ان کے لیے وہ بناتے تھے من محاریبا کس میں سے قلعوں میں سے یا محلوں میں سے یا اور بڑی بڑی عمارتوں میں سے سب اس میں داخل ہو گئے بھئی تو محاریب جمع ہے محراب کی
اور محراب یاد رکھیے اصل میں محراب اس کا مادہ ہے حرب حرب اور حرب اپ جانتے ہیں جنگ کو کہتے ہیں عربی میں تو جو بڑا جنگجو ہوتا تھا اس کو محراب کہا جاتا تھا تو یہ اسم فاعل ہے دراصل بھئی
سمجھ میں اگئی بات بھئی یہ اس میں اعلی کا صیغہ نہیں ہے یہ اسم فاعل ہے بھئی تو جو بڑا جنگجو ہو اس کو محراب کہا جاتا تھا
پھر جو قلعہ ہوتا اور محل تھا اس کا اس کو بھی محراب کہنے لگے کیونکہ وہ اس محل اور قلعے کی حفاظت کے لیے لوگوں سے لڑتا ہے بھئی
جو جنگجو ہوگا لڑنے والا ہوگا وہ اپنے محل اور قلعے کی حفاظت کے لیے کیا کرے گا دوسروں سے لڑے گا بھئی تو لہذا اس محل اور قلعے کو بھی کیا کہنے لگے محراب کہنے لگے بھئی
تو اصل میں یہ وہ جو بڑا جنگجو ہوتا اس کو کہا جاتا تھا
سمجھ میں ایا اسی طرح یہ مسجد کے اندر بھی محراب جو اگلا حصہ جہاں امام کھڑا ہوتا ہے اسے بھی محراب کہتے ہیں بھئی اور یاد رکھیے یہ ابتداء اسلام میں یوں محراب مسجد میں نہیں ہوتی تھی بھئی
چنانچہ اسی لیے فقہاء لکھتے ہیں کہ یہ حصہ مسجد سے باہر ہے بھئی
لہذا امام کو اندر کھڑا ہونا چاہیے محراب کے اندر کھڑا ہونا مکروہ ہے بھئی امامت کروا رہا ہے تو کہاں کھڑا ہو؟ ہاں محراب میں کھڑا ہوگا محراب تو خارج ہے مسجد سے تو
ذرا پیچھے کھڑا ہو اور پھر باقی سجدہ وغیرہ بے شک اس حصے میں چلا جائے لیکن کھڑے ہونے کی جگہ پیچھے ہونی چاہیے بھئی مسجد کے اندر ہو۔
تو بناتے تھے حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے وہ جنات جو حضرت سلیمان علیہ السلام چاہتے تھے من محاریبا محلوں میں سے و تمثیلا تمثیل جمع ہے تمثال کی تمثال
تمثال کہتے ہیں مجسمے کو مجسمے کو محل بناتے تھے عمارتیں بناتے تھے و تمثیلا اور مجسمے بناتے تھے ان کے لیے
ہماری شریعت میں مجسمے وغیرہ زندہ چیزوں کے یہ حرام ہیں ان کی شریعت میں جائز ہوں گے بھئی
سمجھ میں آیا بھئی ان کی شریعت میں جائز ہوں گے تو ان کے لیے وہ مجسمے بناتے تھے زندہ چیزوں کے بھئی یعنی انبیاء کے ملائکہ کے فرشتوں کے
اور اسی طرح جو نیک لوگ ہوتے تھے ان کے مجسمے بناتے تھے تاکہ ان کو دیکھ کر ان کی یاد ائے اور عبادت میں اور ذوق اور شوق پیدا ہو بھئی
تو یہ زندہ چیزوں کے ذی روح چیزوں کے مجسمے ہوتے تھے بعض کہتے ہیں کہ نہیں زندہ ذی روح چیزوں کے مجسمے نہیں ہوتے تھے بلکہ بے جان چیزیں جو ہیں ان کے مجسمے ہوتے تھے یہ ارد گرد جیسے پہاڑ کی صورت ہے درختوں کی صورت ہے وغیرہ اور اس طرح کی تو
جاندار چیزوں کے مجسمے نہیں ہوتے تھے۔
تمثیل کا معنی سمجھ میں اگیا بھئی؟
وجفان
جفان جمع ہے جفنۃ کی اور جفنۃ کہتے ہیں
یہ آپ لغت میں دیکھیں گے تو اس کا معنی آپ کو پیالے کا ملے گا بھئی پیالے کا۔
اور خاص طور پر جفنۃ یہ وہ بڑے پیالے کو کہتے ہیں بھئی بڑے پیالے کو بلکہ اردو میں اس کو پیالہ نہ کہیں تھال کہیں بھئی تھال۔
تھال
سمجھ میں آیا بھئی تو ان کے لیے وہ تھال بناتے تھے۔
تو اس کا ترجمہ کیا کریں تھال کے کریں کیونکہ جفنۃ وہ پیالہ اس سے جو چھوٹا پیالہ ہوتا ہے اس سے کہتے ہیں 10 ادمی کھانا کھاتے تھے سیر ہو جاتے تھے
تو اس میں معلوم ہوا کم از کم 15 20 آدمی تو مل کر کھاتے ہوں گے اور 15 20 آدمی جس سے کھاتے ہیں اسے پیالہ تو اردو میں نہیں کہتے بلکہ کیا کہیں گے تھال ہی کہیں گے بھئی۔
अच्छा तो जफान इस जफ़नۃ کی جمع ہے۔
کالجواوی
جواب جمع ہے جابیہ کی
جابیہ کی اور جابیہ کہتے ہیں بھئی پانی کا جو حوض ہوتا ہے پانی کا تالاب
تو وہ جنات بناتے تھے ان کے لیے محل بھی وتماسیلا اور مجسمے بھی وجفان كالجوابی اور ایسے بڑے برتن كالجوابی جو کس کی طرح ہوتے تھے تالاب کی طرح بڑے ہوتے تھے بھئی، حوض کی طرح بڑے ہوتے تھے۔ وجفان كالجوابی اور بڑے پیالے كالجوابی حوض کی طرح۔ وخدور راسيات
خدور جمع ہے قدر ان کی اور قدر ہانڈی کو کہتے ہیں جس میں کھانا پکایا جاتا ہے۔
جی اور یہاں مراد بڑی ہانڈیاں ہیں اور بڑی ہانڈی بڑی ہو اس کو پھر کیا کہتے ہیں بھئی اردو میں؟ دیگ کہتے ہیں بھئی دیگ بھئی۔
جی تو خدور راسيات، راسيات جمع ہے راسيۃ کی۔
یعنی ایسی ہانڈیاں ہوتی جو اپنی جگہ پر جمی رہتی، گڑی رہتی تھیں۔ اتنی بڑی بڑی ہوتی تھیں کہ ان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا بہت مشکل ہوتا تھا وہ اپنی جگہ پر ہی رہتی تھیں چولہوں پر ہی لگی ہوئی ہیں اسی طرح گڑی ہوئی ہیں بھئی۔ تو خدور راسيات اپنی جگہ پر جمی رہنے والی دیگیں، اپنی جگہ پر جمی رہنے والی دیگیں۔
سمجھ میں آیا یہ بڑے بڑے برتن ہوتے تھے وجفان كالجوابی، بڑے بڑے تھال جیسے کہ بڑے حوض ہوتے ہیں اور اس میں پھر لشکر ہوتا تو سارے مل کر سینکڑوں لوگ مل کر اس ایک ایک برتن میں سے کھایا کرتے تھے۔
وہ تانبے کا چشمہ، پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ اللہ نے بہا دیا تھا تو یہ اس سے بڑے بڑے برتن اسی طرح یہ جو اس پگھلے ہوئے تانبے سے پھر یہ بڑے بڑے برتن وغیرہ یہ چیزیں جنات ان کے لیے بناتے تھے۔
یعمل دوبارہ دیکھیے ترجمہ بھئی یعملون لہ ما يشاءو بناتے تھے وہ جنات حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے ما يشاءو جو حضرت سلیمان علیہ السلام چاہتے من محاریبا محلوں میں سے و تمثیلا اور مجسم مجسموں میں سے۔ جی تو یہ مجسمے ہوتے تانبے کے، شیشے کے، پیتل کے اور چیزوں کے اس طرح مختلف قسم کے ان کے لیے وہ بناتے تھے۔ وجفان كالجوابی اور پیالے ہوتے تھے حوض اور پیالے حوض کی طرح وخدور راسيات اور جمی رہنے والی ہاں دیگیں اعملوا ال داؤد شكرا اعملوا تم عمل کرو ال داؤدا ایا ال داؤدا یہاں یہ حرف ندا یہاں محذوف ہے۔
اور یاد رکھیے حرف ندا میں سے صرف یا کو حذف کرنا جائز ہے باقی کسی کو حذف کرنا جائز نہیں۔ حروف ندا آپ نے پانچ پڑھے ہیں لیکن اس میں سے حذف کرنا صرف کس کو جائز ہے؟ یا کو۔
تو اے اعملوا یا ال داؤدا شكرا عمل کرو اے آل داؤد شکرا بطور شکر کے وقلل من عبادی الشکور اور بہت تھوڑے ہیں من عبادی میرے بندوں میں سے الشکور شکر گزار۔ اللہ فرما رہے ہیں اور بہت تھوڑے ہیں میرے بندوں میں سے شکر گزار یعنی میرے شکر گزار بندے بہت تھوڑے ہیں۔
میرے شکر گزار بندے صحیح طریقے پر پوری طرح شکر گزار بندے بہت تھوڑے ہیں میرے دعا کرو اللہ ہمیں بھی اپنے شکر گزار بندوں میں سے بنا دے۔
فلما قضينا عليه الموت پس جب ہم نے فیصلہ کر دیا ان پر موت کا یعنی حضرت سلیمان علیہ السلام پر فلما قضينا عليه الموت پس جب ہم نے فیصلہ کر دیا علیہ ان پر الموت موت کا ما دلہم علی موتیہ تو رہنمائی نہیں کی ان کی موت پر الا دابۃ الارض مگر گھن کے کیڑے نے الا دابۃ الارض مگر گھن کے کیڑے نے۔
گھن کا کیڑا دیمک مراد ہے دیمک بھئی۔
دیمک جو لکڑی کو کھا جاتی ہے، کھوکھلا کر دیتی ہے، اسے ختم کر دیتی ہے اور عربی میں اسے عرضۃ کہتے ہیں۔
عرضۃ ہمزہ ہے شروع میں پھر را ہے پھر ضاد اور گول تا عرضۃ۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے اللہ نے جنات مسخر کر رکھے تھے۔
اور آپ ان جنات کے ذریعے بیت المقدس کی تجدید کروا رہے تھے، نئے اس کی مکمل نئے سرے سے تعمیر کروا رہے تھے۔
تو آپ کو اللہ کی طرف سے خبر دے دی گئی کہ آپ کی موت کا وقت قریب آ گیا ہے۔
تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے نقشہ تیار کروا کر جنوں کے حوالے کیا کہ یہ اس طرح تم نے یہ ساری عمارت تعمیر کرنی ہے۔
اور پھر خود اپنے لیے شیشے کا ایک کمرہ تیار کروایا۔
اور پھر اس کمرے کے اندر داخل ہوئے اور اپنی لاٹھی کا سہارا لے کر کھڑے ہو گئے بھئی۔
لاٹھی کا سہارا لے کر عبادت میں کھڑے ہو گئے بھئی اور کہتے ہیں کہ بعض کہ لاٹھی کو انہوں نے اپنی ٹھوڑی کے نیچے رکھ لیا بھئی۔
تو چنانچہ اسی حالت میں ان کی روح قبض کر لی گئی بھئی۔
تو روح قبض کرنے کے بعد بھی ان کا جسم اس لاٹھی کے سہارے اسی طرح کھڑا تھا۔
اور جنات جو تھے وہ کام میں لگے ہوئے تھے وہ آتے دیکھتے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام عبادت میں مصروف ہیں بھئی عبادت میں انہیں تو علم نہیں تھا کہ ان کی روح قبض ہو چکی ہے۔
اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی عادت تھی کہ وہ مہینوں تک خلوت میں رہ کر عبادت کیا کرتے تھے۔
مہینوں تک خلوت میں رہ کے تنہائی میں رہ کر عبادت کیا کرتے تھے تو چنانچہ بڑے عرصے تک یہ اسی طرح رہا حضرت سلیمان علیہ السلام کا جسم مبارک اسی طرح لاٹھی کے سہارے کھڑا تھا اور جنات سمجھ رہے تھے یہ شاید زندہ ہیں اسی طرح عمارت کی تعمیر میں لگے رہے، لگے رہے، لگے رہے بھئی۔
یہاں تک کہ مکمل کر لی بھئی۔
اور ادھر یہ جو لاٹھی تھی اس میں
اس کو اللہ نے اس میں دیمک پیدا فرما دی وہ دیمک اس کو کھانے لگی۔
آہستہ آہستہ آہستہ جب ختم ہو کافی حصہ کھا لیا اور وہ لاٹھی اندر سے کھوکھلی ہو گئی تو پھر وہ گری حضرت سلیمان علیہ السلام کا جسم بھی گرا اور پھر جنات کو پتہ چلا کہ ان کا تو انتقال ہو چکا ہے۔
ان کا انتقال۔
تو لکھتے بعض نے لکھا ہے کہ ان کے انتقال کو تقریبا ایک سال گزر چکا تھا تب ان جنات کو پتہ لگا بھئی۔
بعضوں نے تین سال لکھا بھئی۔
تین سال تک وہ اسی طرح رہے۔
اور کہتے ہیں بعضوں نے انہوں نے پھر اندازہ ایک سال کا اندازہ اس طرح لگایا کہ اس کے دیمک کو اس لکڑی پر چھوڑا۔
اور دیکھا کہ ایک دن رات میں یہ کتنا کھاتی ہے لکڑی کو۔
تو جب ایک دن رات میں جتنا کھایا اس کی پیمائش کی اور حساب لگایا تو اس حساب کے مطابق بھی ایک سال پورا بنتا تھا۔ ایک سال پورا بنتا تھا۔
لیکن بہرحال ایک سال اگر پورا بنتا ہے تو پھر تو یقیناً اس سے زیادہ مدت ہوئی ہوگی کیونکہ دیمک ہر وقت تو کھانے میں نہیں مصروف رہتی کسی وقت لکڑی کو کھا رہی ہے کسی وقت نہیں کھا رہی پھر کھائے گی پھر کچھ رک جائے گی تو اس طرح معلوم ہوا اس سے زیادہ ہی مدت ہوگی۔
فلما قضينا عليه الموت جب ہم نے فیصلہ کر دیا سلیمان علیہ السلام پر موت کا ما دلہم علی موتیہ تو رہنمائی نہ کی ان کی الا موتیہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی موت پر الا دابۃ الارض مگر گھن کے کیڑے نے تاكل من ساعته کھاتا رہا ان کی لاط عصا کو، ان کی لاٹھی کو من سا عصا بھئی لاٹھی۔
تاكل تو رہنمائی نہ کی ان کی موت پر الا دابۃ الارض مگر گھن کے کیڑے نے تاكل من ساعته کھاتا رہا ان کی لاٹھی کو فلما خر جب وہ گرے تبينت الجن تو یہ ظاہر ہوئی یہ بات جنوں پر جنوں کو یہ پتہ لگا قالوا کانوا یعلمون الغیب کہ اگر وہ جانتے ہوتے علم غیب
جنات کہا کرتے تھے ہم علم غیب جانتے ہیں بھئی۔
جنات کیا کہتے تھے ہم علم غیب جانتے ہیں کوئی بھی بات پیش آنے والی ہو ہمیں پہلے سے ہی پتہ چل جاتا ہے اور
یہ دعویٰ کرتے تھے تو جب وہ گرے تو جنوں پر یہ حقیقت ظاہر ہوئی کہ اگر وہ جانتے ہوتے غیب کو ما لبسو تو وہ نہ رہتے نہ ٹھہرتے فی العذاب المہین اہانت والے عذاب میں ذلت والے عذاب میں۔
بھئی اپنی مرضی کے خلاف کسی کے حکم پر کام میں لگے رہنا یہ بھی تو ذلت ہے بہت بڑی بھئی۔
تو وہ اپنی مرضی کے خلاف حضرت سلیمان علیہ السلام کا حکم ہوتا تھا اور وہ ان کے حکم کی خلاف ورزی کر نہیں سکتے تھے تو
بہر حال مجبورا لگے رہتے تھے جنات اور شیاطین
اور پھر ان کی وفات کے بعد بھی عرصے تک وہ اس عمارت کی تعمیر میں اور اس کو مکمل کرنے میں لگے رہے تو پھر جب وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی لاٹھی کو وہ دیمک کھا گئی اور ان کا جسم مبارک نیچے گرا پھر انہیں پتہ چلا کہ ان کے تو عرصہ ہوا انتقال ہو چکا ہے تو اب ان پر یہ حقیقت ظاہر ہوئی کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو پھر
اس طرح ان کی وفات کے بعد ذلت والے عذاب میں
میں
ذلت والے عذاب میں نہ رہتے بھئی۔
موت ہو گئی ان کی اور ان کو پتہ ہی نہیں چلا اتنے عرصے تک لگے ہوئے ہیں اسی طرح خدمت میں۔
معنی سمجھ میں آیا بھئی؟
تو اس پر اشکال ہوتا ہے
کہ جنات ہی کی بات ہو رہی ہے جنات کو پتہ چلا کہ وہ علم غیب نہیں جانتے۔
جنات کو پتہ چلا
بھئی اگر وہ علم غیب نہیں جانتے تھے یہ بات تو پھر ان کو پہلے سے ہی پتہ ہوگی کہ وہ علم غیب نہیں جانتے ویسے ہی لوگوں کے سامنے دعویٰ کرتے ہیں۔
تو پھر کیا معنی کہ جنوں پر یہ حقیقت ظاہر ہوئی کہ وہ علم غیب نہیں جانتے؟
تو مراد یہ ہے بھئی ان جنات کے جو بڑے ہوں گے وہ دعویٰ کرتے ہوں گے کہ ہم کیا کرتے ہیں علم غیب جانتے ہیں اور عام جنات کو بھی یہ یقین تھا کہ ہمارے بڑے کیا ہیں وہ علم غیب جانتے ہیں لیکن جب کسی کو بھی پتہ نہیں ہے اور ایک سال سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے ان کا انتقال ہو چکا ہے اور یہ اسی طرح اب تعمیر وغیرہ کے کام میں دن رات لگے ہوئے ہیں تو اب یہ جو عام جنات تھے ان پر بھی یہ حقیقت ظاہر ہو گئی کہ ہمارے بڑے جو ہیں جنات وہ بھی علم غیب نہیں جانتے وہ ویسے ہی باتیں کرتے ہیں تو لوگوں پر بھی یہ عام لوگ بھی یہ سمجھتے تھے کہ جنات علم غیب جانتے ہیں تو عام لوگوں پر بھی
یہ حقیقت واضح ہو گئی اور جو کمزور جنات تھے ان پر بھی یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ یہ جو جنات ہیں یہ جو بڑے ہیں ان کے یہ علم غیب نہیں جانتے ویسے ہی باتیں کرتے ہیں اگر علم غیب جانتے ہوتے تو حضرت سلیمان علیہ السلام کی موت کا تو ان کو پتہ چل جاتا تو یہ
لیکن اس کا بھی انہیں پتہ نہ لگ سکا بھئی اور اسی طرح یہ خدمت میں بڑے لمبے عرصے تک مصروف رہے۔
ترجمہ سمجھ میں آگیا؟
جی ایک دفعہ اور آخری آیت دیکھ لیجیے فلما قضينا عليه الموت جب ہم نے فیصلہ کر دیا سلیمان علیہ السلام پر موت کا ما دلہم علی موتیہ تو رہنمائی نہ کی ان کی
علی موتیہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی موت پر الا دابۃ الارض مگر گھن کے کیڑے نے تاكل من ساعته کھاتا رہا ان کی لاٹھی کو فلما خر جب وہ گرے تبينت الجن تو یہ حقیقت کہ یہ ظاہر ہوا جنوں پر
کہ اگر وہ جانتے ہوتے غیب کو
اگر وہ جانتے ہوتے پوشیدہ چیزوں کو ما لبسو تو وہ نہ ٹھہرے رہتے فی العذاب المہین ذلت والے عذاب میں۔
چلیے بس بھئی ھذا ہو المران واللہ اعلم بحقیقتہ الکلام