Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-122

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 12 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم تبارک الذی بیدہ الملک وھو علی کل شیء قدیر الذی خلق الموت والحیاۃ لیبلوکم ایکم احسن عملا وھو العزیز الغفور الذی خلق سبع سماوات طباقا ما تراہ فی خلق الرحمان من تفاوت فارجع البصر ھل ترا من فطور آج ہم سورہ ملک پڑھیں گے۔ تبارک الذی بیدہ الملک، بڑی بابکت ہے وہ ذات جس کے قبضے میں بادشاہی ہے، وھو علی کل شیء قدیر اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ بیدہ جس کے قبضے میں ہے، الملک بادشاہی۔ بڑی بابکت ہے وہ ذات جس کے قبضے میں بادشاہی ہے وھو علی کل شیء قدیر اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ الذی خلق الموت والحیاۃ وہ ذات جس نے پیدا کیا موت کو اور زندگی کو، لیبلوکم تاکہ وہ تمہیں آزمائے۔ لیبلوکم تاکہ وہ تمہیں آزمائے، تمہاری آزمائش کرے، ایکم کہ تم میں سے کون احسن بہتر ہے عملاً باعتبار عمل کے کہ تم میں سے کون اچھا عمل کرنے والا ہے، وھو العزیز الغفور اور وہ زبردست ہے، مغفرت کرنے والا ہے، بخشنے والا ہے۔ الذی خلق سبع سماوات طباقا وہ ذات جس نے پیدا کیا سات آسمانوں کو، طباقا تہ بہ تہ۔ طباق جمع ہے طبق کی، اور طبق جو ہے وہ تہ کو کہتے ہیں بھئی۔ تو وہ جس نے پیدا کیا سات آسمانوں کو تہ بہ تہ اور یا یوں کہیں سات آسمانوں کو اوپر نیچے، سات آسمانوں کو اوپر نیچے تہ بنی ہیں سات اور ہر آپس میں جڑے نہیں ہوئے، ہر آسمان دوسرے آسمان سے الگ ہے، درمیان میں بہت فاصلہ ہے جیسے کہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک 500 سال کی مسافت ہے بھئی۔ الذی خلق الذی خلق سبع سماوات طباقا وہ ذات جس نے پیدا کیا سات آسمانوں کو اوپر تلے، ما تراہ فی خلق الرحمان من تفاوت، تفاوت کہتے ہیں فرق کو بھئی۔ ما ترا نہیں دیکھے گا تو فی خلق الرحمان رحمان کی پیدائش میں من تفاوت کوئی فرق۔ تو رحمان کی پیدائش میں کوئی فرق نہیں پائے گا، کوئی فرق نہیں دیکھے گا۔ فرق سے مراد ہے خلل اور کمی۔ اللہ نے جو بھی چیز پیدا کی نہایت خوب پیدا کی، کسی میں کسی قسم کی کمی نہیں اور ایک بہترین متوازن نظام جس میں کوئی بھی چیز بیکار نہیں ہے۔ تو اللہ فرما رہے ہیں ما تراہ فی خلق الرحمان من تفاوت، تو نہیں دیکھے گا رحمان کی پیدائش میں من تفاوت کوئی فرق یعنی کوئی خلل۔ فارجع البصر پس لوٹا لے نگاہ کو، یعنی پھر نظر ڈال کر دیکھ لے۔ فارجع البصر پس پھر نگاہ ڈال لے، ھل ترا من فطور کیا دکھائی دیتا ہے تجھے من فطور کوئی شگاف۔ ھل ترا من فطور کیا تجھے کوئی شگاف دکھائی دیتا ہے؟ فارجع البصر ھل ترا من فطور، پھر نگاہ ڈال کر پھر نگاہ ڈال لے، کیا دکھائی دیتا ہے تجھے کوئی شگاف، ثم رجع البصر، پھر نگاہ ڈال لے، کرتین۔ کرہ کہتے ہیں پلٹنا بھئی، پلٹ کر پلٹنا۔ اسی سے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی حیدر کرار کہتے ہیں، حیدر کرار۔ ان کا کوئی جنگ کا خاص طریقہ تھا، پلٹ پلٹ کر حملے کرتے تھے بھئی، کوئی خاص لڑائی کا طریقہ تھا تو وہ حیدر کرار کہلاتے ہیں بھئی۔ تو کرہ کرہ تن کا معنی کیا ہوتا ہے؟ پلٹنا۔ تو ایک مرتبہ پلٹنے میں کتنا ہو گیا؟ مثلاً میرے پاس زید آیا، پھر پلٹ کر آیا میں کہتا ہوں، زید پھر پلٹ کر آیا تو دو مرتبہ، ایک کرہ تن میں کتنے آ گئے؟ دو مرتبہ۔ اور یہ ہے تثنیہ کررتین، تو گویا دو دو مرتبہ، لغوی ترجمہ کیا ہوا؟ ثم رجع البصر کررتین، پھر نگاہ ڈال لے، پھر نگاہ لوٹا لے کررتین دو دو مرتبہ۔ مراد کثرت ہے بھئی، مراد کیا ہے؟ کثرت کہ بار بار نگاہ ڈال کر دیکھ لو، ینقلب الیک البصر، پلٹ آئے گی تیری طرح نگاہ خاسی ان، ذلیل ہو کر وھو حسیر اس حال میں کہ وہ تھکی ہوئی ہوگی۔ تو بار بار اللہ کی تخلیق میں، اللہ کی مخلوقات میں نظر ڈال کر دیکھ، تجھے کسی قسم کا کوئی خلل نہیں ملے گا۔ تو بار بار نظر ڈال، تیری نگاہ تیری طرف ذلیل ہو کر، تھک ہار کر لوٹ آئے گی۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ ینقلب الیک البصر، پلٹ آئے گی تیری طرف نگاہ خاسی ان، ذلیل ہو کر نا مراد ہو کر، وھو حسیر اور وہ تھکی ہوئی ہوگی۔ الذی خلق سبع سماوات طباقا، وہ ذات جس نے پیدا کیا سات آسمانوں کو اوپر نیچے، ما تراہ فی خلق الرحمان من تفاوت، نہیں پائے نہیں دیکھے گا تو رحمان کی پیدائش میں کوئی خلل۔ تفاوت کا لفظی معنی کیا ہے؟ فرق، مراد کیا ہے؟ خلل۔ نہیں دیکھے گا تو رحمان کی پیدائش میں کوئی خلل، فارجع البصر ھل ترا من فطور، پھر لوٹا لے نگاہ کو، کیا دکھائی دیتا ہے تجھے کوئی شگاف، ثم رجع البصر کررتین، پھر نگاہ لوٹا لے دو دو مرتبہ، یہ تو لغوی ترجمہ ہوا، مراد کیا ہے؟ پھر لوٹ، پھر بار بار نگاہ ڈال لے، پھر کثرت بیان کرنا مقصد ہے۔ سمجھ میں آیا، عربی میں تثنیہ یہ بآعقاد کثرت بیان کرنے کے لئے، تثنیہ کے استعمال کیا جاتا ہے۔ ثم رجع البصر کررتین، سمجھ میں آیا بھئی! کثرت بیان کرنے کے لیے، جیسے لبیک بھئی، لبیک، لبیک کی ترکیب آپ پڑھیں گے، اصل میں ہے الب لکا البابین، الب لکا البابین مفعول مطلق آیا اور تثنیہ آیا تو تثنیہ جب مفعول مطلق آئے تو اس سے مراد جو ہے کثرت مقصد ہوتا ہے تو لبیک کا معنی میں بار بار حاضر ہوں۔ لبیک کا کیا معنی ہے؟ میں بار بار حاضر ہوں، کثرت سے حاضر ہوں، ہر وقت حاضر ہوں تو یہاں پر بھی یہ کثرت بیان کرنے کے لیے بھئی۔ ثم رجع البصر کررتین، پھر تو نگاہ ڈال لے بار بار، ینقلب الیک البصر خاسئاً وھو حسیر، پلٹ آئے گی تیری طرف نگاہ تھک ہار کر، پلٹ آئے گی تیری طرف نگاہ، نا مراد ہو کر اور تھک ہار کر، نا مراد ہو کر اور تھک ہار کر تیری طرف لوٹ آئے گی تیری نگاہ۔ ولقد زیننا السماء الدنیا بمصابیح، اور تحقیق ہم نے سجا دیا قریب والے آسمانوں کو چراغوں سے۔ الدنیا کیا معنی؟ قریب والا، دنیا کو بھی دنیا کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ یہ قریب ہے، اس کے مقابلے میں آخرت بعید ہے۔ سمجھ میں آیا؟ اور تو تحقیق ہم نے سجا دیا دنیا کے آسمان کو یا یہ ترجمہ کر لیں، ہم نے سجا دیا آسمان دنیا کو چراغوں سے، یا یہ ترجمہ کر لیں، ہم نے سجا دیا قریب والے آسمان کو چراغوں سے۔ وجعلناھا رجوما للشیاطین، اور ہم نے بنایا ان چراغوں کو رجوما للشیاطین، شیطانوں کو مارنے کا ذریعہ۔ رجوم جمع ہے رجم کی، اور رجم آپ جانتے ہیں پتھر مارنا، سنگسار کرنا تو رجوم اسی رجم کی جمع ہے تو ہم نے بنایا ان چراغوں کو رجوما للشیاطین، شیطانوں کو مارنے کا ذریعہ، شیطانوں پر پتھر مارنے کا ذریعہ۔ یہ بات پہلے بیان ہو چکی کہ ستارے یہ جو اجرام فلکی ہیں، ان سے جس طرح آسمان کی زینت کا کام لیا گیا ہے، اسی طرح ان سے شیطانوں کو مارنے کا کام بھی لیا جاتا ہے، جب کوئی شیاطین میں سے اوپر جاتا ہے فرشتوں کی باتیں سننے کے لیے۔ وجعلناھا رجوما للشیاطین، اور ہم نے ان کو بنایا شیطانوں کو مارنے کا ذریعہ، وعتدنا لہم عذاب السعیر، اور تیار کر رکھا ہے ہم نے ان کے لیے دوزخ کا عذاب۔ ہم نے ان کے لیے دوزخ کا عذاب تیار کر رکھا ہے، بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب ان کے لیے ہم نے تیار کر رکھا ہے یعنی یہاں پر بھی بات سننے جاتے ہیں تو ان پر شعلے آگ کے پھینکے جاتے ہیں، برسائے جاتے ہیں اور اللہ فرما رہے ہیں آخرت میں بھی ہم ان شیاطین کے لیے دوزخ کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ ولللذین کفروا بربہم عذاب جہنم، اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اپنے پروردگار کا، ان کے لیے عذاب جہنم، ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے، وبئس المصیر، اور وہ بڑا برا ٹھکانہ ہے۔ اذا القوا فیہا سمعوا لہا شہیقا وھی تفور، اذا القوا فیہا جب وہ اس میں ڈالے جائیں گے، جب وہ اس میں پھینکے جائیں گے، سمعوا لہا تو سنیں گے اس کی، اس کے لیے شہیقا، شہیق بھئی۔ شہیق کہتے ہیں بھانک آواز کو بھئی، اسی طرح گدھا گدھے کی آواز پر اگر آپ نے غور کیا ہو، یہ ایک مرتبہ بلند آواز جب یہ سانس باہر کو نکالتا ہے، آواز نکالتے ہوئے، وہ اونچی آواز ہوتی ہے، پھر اس کے بعد وہ سانس اندر کو کھینچتے ہوئے آواز نکالتا ہے، وہ ہلکی آواز ہوتی ہے، تو وہ جو اونچی آواز ہے، اس کو زفیر کہتے ہیں سانس باہر کو نکالتے ہوئے اور وہ جو ہلکی آواز ہے سانس اندر کو کھینچتے ہوئے تو وہ ہے شہیق بھئی۔ وہ کیا ہے؟ وہ جو گھٹی ہوئی آواز ہے، سانس اندر کو لے جاتے ہوئے اس کو بھی شہیق کہا جاتا ہے اور میں نے بتلایا شہیق بھانک آواز کو بھی کہتے ہیں، تو یہاں بھانک آواز ہے۔ اذا القوا فیہا، جب اس میں ڈالے جائیں گے، پھینکے جائیں گے سمعوا لہا شہیق، تو سنیں گے اس کی بھانک آواز وھی تفور، اس حال میں کہ وہ جوش مارتی ہوگی۔ فار القدر کہتے ہیں ہانڈی کا ابلنا، ہانڈی کا جوش مارنا، تو وھی تفور، اور وہ جہنم جوش مار رہی ہوگی۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی! تکاد تمیز من الغیظ، تکاد قریب ہے، تمیز پھٹ جائے، تمیز کا معنی جدا ہونا بھئی۔ جی، تا، تو یہ تمیزو تھا، دو تا مفتوح جمع ہوں تو ایک کو گرانا جائز ہے بھئی، تکاد تمیز من الغیظ، قریب ہے کہ وہ جہنم پھٹ پڑے من الغیظ غضب کی وجہ سے، غصے کی وجہ سے وہ پھٹ پڑے۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی! اذا القوا فیہا سمعوا لہا شہیقاوھی تفور، جب اس میں پھینکا جائے گا تو سنیں گے اس کی بھانک آواز وھی تفور، اور وہ جوش مار رہی ہوگی، تکاد تمیز من الغیظ، قریب ہے کہ وہ پھٹ پڑے غصے سے۔ آگ کی آواز بھئی، آگ ذرا تیز ہو تو اس کی بڑی خوفناک آواز ہوتی ہے بھئی۔ آپ نے عام آگ کو بھی چولہے وغیرہ کو بھی تیز کریں تو اس کی بھی اچھی خاصی آواز ہوتی ہے اس آگ کی، اور بڑی آگ اگر آپ نے دیکھی ہو، اس کا تو اچھا خاصا شور ہوتا ہے بھئی۔ اور آگے اللہ فرما رہے ہیں وھی تفور، وہ جوش مار رہی ہوگی آگ بھئی، اللہ کیا، اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے جہنم سے۔ آپ نے کبھی پانی سیلاب کے پانی کو جوش میں دیکھا ہے بھئی۔ انسان اس کو دیکھ کر ڈر جاتا ہے بھئی۔ سیلاب کا پانی جب جوش کے ساتھ، رفتار کے ساتھ، یا پہاڑی علاقوں میں آپ نے کوئی دریا دیکھا ہو بھئی۔ پہاڑی علاقوں میں اگر آپ نے کوئی دریا دیکھا ہو اور رفتار سے بہنے والا اور اس کا پانی اتنی رفتار سے اچھلتا ہوا جا رہا ہوتا ہے کہ انسان قریب سے دیکھے تو ڈر جاتا ہے اس کو دیکھ کر۔ تو پانی اس کو دیکھ کر، اس کو جوش میں دیکھ کر انسان ڈر جاتا ہے۔ تو آگ جو جوش میں ہو اس کی کیا حالت ہوگی، انسان اس کا تصور نہیں کر سکتا بھئی۔ تو اللہ فرماتے ہیں: اذا القوا فیہا سمعوا لھا شہیقا و ھي تفور جب اس میں پھینکا جائے گا تو وہ سنیں گے اس کی بھانک آواز کو اور وہ جوش مار رہی ہوگی۔ تکاد تمیز من الغیض قریب ہے کہ وہ پھٹ پڑے غضب کی وجہ سے۔ کلما القی فیھا فوج جب بھی پھینکا جائے گا اس میں کسی گروہ کو، جب بھی کسی گروہ کو، کسی جماعت کو اس میں پھینکا جائے گا، سال لھم خزنتھا تو پوچھے گا ان سے، پوچھیں گے ان سے جہنم کے محافظ۔ خزنہ جمع ہے خازن کی۔ خازن محافظ کو کہتے ہیں۔ جب بھی پھینکا جائے گا جہنم کے اندر کسی جماعت کو سال لھم خزنتھا تو پوچھیں گے ان سے جہنم کے محافظ۔ الم یأتکم نذیر کیا نہیں آیا تھا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا، یعنی کیا تمہارے پاس کوئی پیغمبر نہیں آئے تھے جو تم جہنم میں آ رہے ہو؟ تمہیں جہنم میں ڈالا گیا؟ قالو وہ کہیں گے: بلا کیوں نہیں! قد جاانا نذیر تحقیق آیا ہمارے پاس خبردار کرنے والا، فکذبنا پس ہم نے اس کو جھٹلایا، وقلنہ پس ہم نے جھٹلایا و قلنہ اور کہا ما نزل اللہ من شئی کہ نہیں نازل کی اللہ نے کوئی چیز۔ ہم نے، ہمارے پاس آئے تھے پیغمبر لیکن ہم نے کیا کیا؟ جھٹلایا اور کہا کہ اللہ نے کوئی چیز نازل نہیں کی، تم یہ اپنی طرف سے باتیں بنا رہے ہو۔ ان انتم الا فی ضلال کبیر نہیں ہو تم مگر بڑی گمراہی میں۔ ان پیغمبروں کو ہم نے کیا کہا کہ نہیں ہو تم مگر بڑی یعنی تم بڑی گمراہی میں ہی ہو۔ وقالوا اور وہ کہیں گے وہ جہنم، مزید یہ بھی کہیں گے: لو کنا نسمع او نعقل ما کنا فی اصحاب السعیر۔ لو کنا نسمع اگر ہم سنتے ہوتے او نعقل یا عقل رکھتے، ما کنا فی اصحاب السعیر تو ہم نہ ہوتے جہنم والوں میں سے۔ فرشتے ان سے کہیں گے: کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والے نہیں آئے تھے دنیا میں، کوئی پیغمبر نہیں آئے تھے؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں آئے تھے پیغمبر لیکن ہم نے ان کو جھٹلایا اور ان سے کہا کہ اللہ نے کوئی چیز نہیں نازل کی اور اے پیغمبر و تم واضح گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔ اور نیز جہنم اور مزید کہیں گے: لو کنا نسمع او نعقل ما کنا فی اصحاب السعیر اگر ہم دنیا میں سنتے ہوتے اور عقل رکھتے تو اگر ہم دنیا میں سنتے اور عقل رکھتے، ما کنا فی اصحاب السعیر تو ہم دوزخیوں میں سے نہ ہوتے۔ فاعترفوا بذنبھم پس وہ اعتراف کر لیں گے اپنے گناہ کا، فصحق لصحاب السعیر پس لعنت ہو جہنم والوں کے لیے۔ پس لعنت ہو جہنم والوں پر۔ فصحق لصحاب السعیر۔ سحیق یسحق سحقاً کے معنی جو ہیں دور ہونے کے ہیں۔ کیا معنی ہے اس کا؟ دور ہونا۔ اور یہ جو یہاں ذکر ہوا فصحق لصحاب السعیر یہ بطور بددعا کے کلام عرب میں اس طرح استعمال ہوتا ہے، مثلاً، مثلاً، کسی کو بددعا دیتے ہوئے دوسرا شخص دوسرے سے مثلاً کہتا "سحق لک" تم پر لعنت ہو بھئی۔ تو یہ مفعول مطلق ہے اور اس کے فعل کو حذف کرنا واجب ہے، جیسے آپ نے پڑھا بھئی شکران، حمداً، وغیرہ بھئی، تو ان کے فعل کو حذف کرنا واجب ہوتا ہے، اسی طرح اس کا بھی بھئی۔ فصحق لصحاب السعیر پس لعنت ہو جہنم والوں پر۔ ان الذین یخشون ربہم بالغیب لھم مغفرۃ و اجر کبیر۔ جہنم یوں کے بعد اب مومنین کا ذکر آ گیا۔ ان الذین یخشون ربہم یقیناً وہ لوگ جو ڈرتے ہیں اپنے پروردگار سے بالغیب بن دیکھے ہی لھم مغفرۃ ان کے لیے مغفرت ہے و اجر کبیر اور بڑا اجر ہے۔ جو اللہ کو دیکھے بغیر ہی اللہ سے ڈرتے ہیں، اس کی عبادت کرتے ہیں، اس کے راستے پر چلتے ہیں، ان کے لیے بخشش ہے اور بڑا اجر ہے۔ و اسروا قولکم او جہروا بہ اور تم چھپاؤ اپنی بات کو او جہروا بہ یا اونچی کرو وہ بات، تم اپنی بات کو چھپاؤ یا اس کو اونچا کرو، اونچی آواز سے کرو، یا انھم علیم بذات الصدور یقیناً وہ جاننے والا ہے دلوں کی بات کو۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ و اسروا قولکم اور تم چھپاؤ اپنی بات کو او جہروا بہ یا بلند آواز سے کرو، انھم علیم بذات الصدور، یقیناً وہ جاننے والا ہے دلوں کی باتوں کو۔ ألا یعلم من خلق، ألا یعلم کیا نہیں جانے گا من خلق جس نے پیدا کیا، بھلا جس نے پیدا کیا وہ بھی نہیں جانے گا؟ وہ اللطیف الخبیر اور وہ باریک بین ہے، باخبر ہے۔ وھو اللطیف اور وہ باریک بین ہے بھئی۔ باریک بین، باریک دیکھنے والا۔ الخبیر باخبر ہے، وہ تو ہر چیز کو جانتا ہے، ہر چیز کی اس کو خبر ہے، ہر چیز کو وہ دیکھنے والا ہے۔ ألا یعلم من خلق معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ کیا نہیں کیا وہ ذات جس نے پیدا کیا وہ بھی نہیں جانے گا ان باتوں کو؟ ألا یعلم من خلق، بھلا کیا نہیں جانے گا وہ جس نے پیدا کیا، وھو اللطیف الخبیر اور وہ باریک بین ہے، باخبر ہے۔ ہو الذی جعل لکم الارض ذلولا وہی ذات ہے جس نے بنایا تمہارے لیے زمین کو ذلولاً۔ مسخر کیا جس نے تمہارے لیے زمین کو مسخر کیا۔ یا ذلول کے معنی پست کیا جس نے تمہارے لیے زمین کو پست کیا۔ یا یہ بعضوں نے یہ ترجمہ کیا جس نے تمہارے لیے زمین کو نرم بنایا۔ بعضوں نے یہ ترجمہ کیا جس نے تمہارے لیے زمین کو فرش بنایا۔ تو ذلول کا اصل معنی ہے پست بھئی۔ پست، نیچی۔ هو الذی جعل لکم الارض ذلولا وہ ذات جس نے بنایا تمہارے لیے زمین کو فرش، یا یہ ترجمہ کر لیں ہو الذی جعل لکم الارض ذلولا اور وہ ذات جس نے بنایا تمہارے لیے زمین کو نرم، یعنی نرم سہولت والی بنایا، آرام سے تم اس میں چلتے پھرتے ہو، گھومتے ہو۔ هو الذی جعل لکم الارض ذلولا وہ ذات جس نے بنایا تمہارے لیے زمین کو نرم، فمشو فی مناکبھا پس چلو تم اس کے کندھوں میں۔ مناکب جمع ہے منکب کی۔ منکب کہتے ہیں کندھے کو۔ مراد جوانی ہے، اطراف بھئی۔ زمین کی اطراف میں، جانبوں میں چلو۔ جیسے کندھے انسان کے ایک دائیں جانب، ایک بائیں جانب ہے، تو یہاں بھی مراد کیا ہے؟ زمین کی جانبیں اور اطراف مراد ہیں، زمین کے اطراف میں جانبوں میں چلو پھرو، جدھر کو چاہتے ہو چلو پھرو۔ مشرق کی طرف، مغرب کی طرف، جس طرف چاہو چل پھر سکتے ہو۔ فمشو فی مناکبھا پس چلو اس کے کندھوں میں وکلوا من رزقہ اور کھاؤ اس کے رزق میں سے، اس اللہ کے رزق میں سے کھاؤ، والیہ النشور اور اسی کی طرف دوبارہ اٹھنا ہے، دوبارہ زندہ ہونا ہے۔ هو الذی جعل لکم الارض ذلولا فمشو فی مناکبھا وکلوا من رزقہ والیہ النشور وہی ذات ہے جس نے بنایا تمہارے لیے زمین کو فرش۔ فمشو پس چلو تم فی مناکبھا اس کے کندھوں میں وکلوا من رزقہ اور کھاؤ اس اللہ کے رزق میں سے والیہ النشور اور اسی کی طرف جی اٹھنا ہے۔ أامنتم من فی السماء ان یخسف بکم الارض کیا تم بے خوف ہو گئے، کیا تم امن میں ہو گئے، یعنی کیا تم بے خوف ہو گئے۔ أامنتم کیا تم بے خوف ہو گئے من فی السماء اس ذات سے جو آسمان میں ہے، ان یخسف بکم الارض کہ وہ یہ کہ وہ دھنسا دے تم کو زمین میں۔ خسف یخسف کے معنی دھنسا دینے کے۔ کیا تم بے خوف ہو گئے اس ذات سے جو آسمان میں ہے کہ وہ دھنسا دے تم کو زمین میں؟ فإذا ھي تمور، پس یکایک یہ تمور، وہ لرزنے لگے۔ وہ تمکو زمین میں دھنسا دے، پس تبھی وہ زمین لرزنے لگے، ہلنے لگے۔ مار یامورو کے معنی ہوتے ہیں حرکت کرنے کے بھئی۔ حرکت کرنے کے۔ فإذا ھي تمور، کہ یہ کہ وہ تمہیں دھنسا دے زمین میں تو فورا وہ لرزنے لگے، کانپنے لگے، جس سے انسان اور اس کے اندر دھنستا چلا جائے۔ أامنتم من فی السم کیا تم بے خوف ہو گئے اس ذات سے جو آسمان میں ہے، یہ کہ وہ تم کو دھنسا دے زمین میں تبھی وہ لرزنے لگے۔ أم امنتم من فی السماء کیا تم بے خوف ہو گئے اس ذات سے جو آسمان میں ہے ان یرسل علیکم حاصبا یہ کہ وہ بھیج دے تم پر حاصبا پتھروں والی آندھی۔ وہ تیز ہوا جو پتھر اڑائے، سنگریزے اڑائے بھئی۔ یا اسی طرح حاصب پتھروں کی بارش کو بھی کہتے ہیں بھئی۔ کیا تم بے خوف ہو گئے اس ذات سے جو آسمان میں ہے کہ یہ کہ وہ بھیجے تم پر پتھروں کی بارش۔ فستعلمون کیف نذیر، پس عنقریب تم جان لو گے کیف نذیر۔ اے کیف نذیری، یہاں را کا کسرہ بتلا رہا ہے، یا متکلم محذوف ہے۔ اور یہاں یہ جو نذیر آیا، یہ نذیر مصدر ہے بمعنی انذار کے۔ پس عنقریب تم جان لو گے کیف نذیری کیسا تھا میرا ڈرانا۔ کیسا تھا میرا فستعلمون کیف نذیر پس عنقریب تم جان لو گے کیسا تھا میرا ڈرانا ولقد کذب الذین من قبلھم اور تحقیق البتہ جھٹلایا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، ان مشرکین سے جو پہلے لوگ تھے انہوں نے بھی جھٹلایا، فكيف کان نكیر، پس کیسا تھا میرا عذاب۔ نکیر را کا کسرہ کیا بتلا رہا ہے کہ یہاں پر یا حذف ہوئی ہے، فكيف کان نکیری، پس کیسا تھا میرا عذاب، پس کیسی تھی میری سخت سزا۔ نکیر کہتے ہیں عذاب کو، سخت سزا کو۔ اللہ فرما رہے ہیں ان لوگوں سے پہلے انہوں نے بھی جھٹلایا تھا، تو دیکھ لو کیسی تھی میری سزا، میں نے کس قسم کی سزا اور عذاب دیا ان کو۔ أولم یروا الی الطیر فوقھم کیا نہیں دیکھا انہوں نے الی الطیر پرندوں کی طرف فوقھم ان کے اوپر۔ کیا انہوں نے اپنے اوپر پرندوں کی طرف نہیں دیکھا؟ صافّات پر پھیلا اس حال میں کہ وہ پر پھیلائے ہوئے ہوتے ہیں، ویقبضنا اور پر بند کرتے ہیں۔ پرندے کیا انہوں نے اوپر ہوا میں اڑتے ہوئے پرندوں میں غور نہیں کیا، کہ وہ کبھی پر پھیلائے ہوئے ہوتے ہیں اور کبھی پر سمیٹ رہے ہوتے ہیں۔ ما یمسکھنہ الا الرحمن، نہیں تھامے ہوئے ان کو سوائے رحمان کے، نہیں تھامے ہوئے ان کو مگر رحمان۔ یعنی ان کو رحمان تھامے ہوئے ہے، رحمان کے علاوہ اور کون ان کو تھام سکتا ہے؟ تو کیا اس سے ان کو عقل نہیں آئی ان اڑتے ہوئے پرندوں کو دیکھ کر، کہ یقیناً کوئی ذات موجود ہے جو اس سارے نظام کو چلا رہی ہے، اور اس کی مرضی کے بغیر کوئی چیز اس کائنات میں حرکت نہیں کر سکتی۔ أولم یروا الی الطیر فوقھم صافّات ویقبضن کیا نہیں دیکھا انہوں نے اپنے اوپر پرندوں کی طرف پر پھیلائے ہوئے اور پر سمیٹتے ہوئے، صافّات پر پھیلائے ہوئے ویقبضن اور پر سمیٹتے ہوئے، یا پر جھپکتے ہوئے، جو بھی آپ ترجمہ کر لیں۔ پر کھلے ہوئے ان کو صافّات کے ساتھ ذکر کیا گیا بھئی۔ صافّات کیا معنی کیا میں نے؟ پر کھولے ہوئے، وجہ صافّ صف سے ہے، صف۔ تو پرندہ جب پر کھولے گا، تو اس کے پر پر چھوٹے چھوٹے پر لگے ہوتے ہیں بھئی جس پر بال ہیں، تو وہ ان کی صفیں بن جائیں گی بھئی۔ اس کی کیا بن جاتی ہیں؟ جب وہ اپنے پروں کو کھولیں گے سیدھا کریں گے تو وہ جو چھوٹے چھوٹے پر سارے اس کے بازو پر لگے ہیں ان کی صفیں بن جاتی ہیں۔ تو اس لیے اس کو صافات سے ذکر کیا جاتا ہے۔ اولم یروا الی الطیر فوقہم صافات و یقبضن کیا نہیں دیکھا انہوں نے اپنے اوپر پرندوں کی طرف پر کھولے ہوئے اور پر سمیٹتے ہوئے ما یمسکہن الا الرحمن نہیں ان کو تھامے ہوئے مگر رحمن انہ بکل شیء بصیر یقینا وہ ہر چیز کو دیکھنے والا ہے امن ھذا الذی امن ہذا امن ھذا بھلا کیا یہ ہے امن ھذا بھلا کیا یہ ہے ترجمہ سمجھ میں ارہا ہے بھئی۔ من مبت من ہے مبتدا اور ہذا ہے اس کی خبر اور حمزہ استفہام کے لیے ہے۔ کیا یا یوں کہیں یوں کرے ترجمہ بھلا کون ہے یہ امن ھذا بھلا کون ہے یہ صورت ترجمہ سمجھ میں اگیا بھئی۔ اب یہ کی بجائے وہ اردو کے مطابق کیا ترجمہ کر لیں؟ وہ پھر بات اردو میں واضح ہو جائے گا۔ بھلا کون ہے وہ الذی ھو جندکم جو کہ تمہارے لیے لشکر ہو جند کسے کہتے ہیں لشکر بھلا کون ہے وہ جو تمہارے لیے ایسا لشکر ہو ینصرکم جو تمہاری مدد کرے من دون الرحمن رحمان کے علاوہ رحمان کے علاوہ ترجمہ سمجھ میں ارہا ہے بھئی۔ امن ھذا الذی ھو جندکم ینصرکم من دون الرحمن بھلا رحمان کو چھوڑ کر وہ کون ہے جو تمہارے لیے لشکر بن کر تمہاری مدد کرے جو تمہارا لشکر ہو کر تمہاری مدد کرے بامحاورہ ترجمہ سمجھ میں ارہا ہے بھئی۔ من دون الرحمن اس کو شروع میں لے ائیں بھلا رحمان کو چھوڑ کر وہ کون ہے ھو جندکم کہ وہ تمہارا لشکر بنے ینصرکم تمہاری مدد کرے بھلا رحمان کو چھوڑ کر وہ کون ہے جو تمہارا لشکر بنے تمہاری مدد کرے یا تمہارا یوں کر لیں تمہارا لشکر بن کر تمہاری مدد کرے ان الکافرون الا فی غرور ان نفی کے لیے ہے بمانہ ما کے ان الکافرون نہیں ہیں انکار کرنے والے الا فی غرور مگر دھوکے میں یا نہیں ہے کفر کرنے والے مگر دھوکے میں یعنی کفر کرنے والے تو دھوکے ہی میں ہیں۔ امن ھذا الذی یرزقکم بھلا کون ہے وہ جو تمہیں رزق دے ان امسکہ رزقہ اگر وہ رحمان اپنے رزق کو روک لے بھلا کون ہے جو تمہیں رزق دے اگر وہ رحمان اپنے رزق کو روک لے بل لجو فی عتو و نفور لج کے معنی کسی بات پر اڑنا ضد کرنا اس پر جم جانا بل لجو بلکہ یہ اڑے ہوئے ہیں فی عتو عتو کہتے ہیں عتا یعتو عتو کے معنی سرکشی کے بھئی سرکش ہونا بلکہ یہ اڑے ہوئے ہیں سرکشی میں و نفور اور نفرت میں بلکہ یہ سرکشی اور نفرت پر جمے ہوئے ہیں اور کوئی بات نہیں حق بالکل واضح ہے بلکہ یہ اڑے ہوئے ہیں سرکشی میں اور نفرت میں افمن یمشی مکبا علی وجهه اھدی امن یمشی سویا علی صراط مستقیم افمن یمشی پس کیا وہ جو چلتا ہو مکبا اوندھے منہ مکب اوندا الٹا افمن یمشی وہ جو چل رہا ہو مکبا اوندا علی وجهه اپنے چہرے کے بل اھدا کیا وہ زیادہ ہدایت پر ہے امن یمشی سویا یا وہ جو چل رہا ہو سویا سیدھا سیدھا علی صراط مستقیم سیدھے راستے پر ایک شخص ہے سیدھا سیدھا چل رہا ہے سیدھے راستے پر ہموار راستے پر اور ایک شخص ہے جو الٹا اپنے چہرے کے بل چل رہا ہے کون منزل تک پہنچنے والا ہے کون زیادہ ہدایت پر ہے یہ بات کتنی واضح ہے کتنی واضح ہے لیکن یہ ضد میں پڑے ہوئے ہیں تو یہ اسی طرح ہے جیسے اوندھے منہ کوئی شخص چل رہا ہو افمن یمشی مکبا علی وجهه اھدا بھلا وہ شخص جو چل رہا ہو اوندھا اپنے چہرے پر وہ زیادہ ہدایت پر ہے امن یمشی سویا علی صراط مستقیم یا وہ جو چل رہا ہو سیدھا علی صراط مستقیم سیدھے راستے پر قل ھو الذی انشا کم وجعل لکم السموع والابصار والافئدہ اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے ھو الذی وہی ہے انشا کم جس نے تمہیں پیدا کیا وجعل لکم السموع والابصار والافئدہ اور بنائے تمہارے کان والابصار اور انکھیں والافئدہ اور دل قلیلا ما تشکرون بہوت تھوڑا تم شکر ادا کرتے ہو قلیلا ما تشکرون بہوت تھوڑا تم شکر ادا کرتے ہو قل ھو الذی ذرأکم فی الارض ذرأ کے معنی بکھیرنے کے پھیلانے کے قل اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے ھو الذی ذرأکم فی الارض وہی ذات ہے وہی ذات ہے جس نے تم کو پھیلایا زمین میں و الیہ تحشرون اور اسی کی طرف تم جمع کیے جاؤ گے و یقولون ماتا ھذا الوعد ان کنتم صادقین اور وہ کہتے ہیں کہ کب ہوگا یہ وعدہ اگر تم سچے ہو مشرکین مذاق اڑاتے ہیں پیغمبر سے کہتے ہیں مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ تم ہمیں اللہ کے عذاب سے ڈراتے ہو تم ہمیں قیامت کے دن سے ڈراتے ہو تو کب ہوگا یہ وعدہ اگر تم سچے ہو جلدی لے کے کیوں نہیں آتے جلدی کر کے کیوں نہیں دیتے اس طرح قل اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے انما العلم عند اللہ کہ علم تو اللہ ہی کے پاس ہے قیमत کب ائے گی یہ علم تو یہ علم تو اللہ ہی کے پاس ہے و انما انا نذیر مبین میں تو صاف صاف ڈرانے والا ہی ہوں فلما راوہ زلفتا پس جب دیکھیں گے وہ اس عذاب کو فلما راوہ پس جب وہ دیکھو گے اس عذاب کو یہاں ضمیر یہ وعدے کو پس جب دیکھیں گے اس وعدے کو اور مراد کیا ہے وہی عذاب ہی پس جب وہ اس وعدے کو دیکھیں گے زلفتا قریب ہی زلفہ مصدر ہے بھئی قریب کے معنی میں پس جب وہ اس عذاب کو دیکھیں گے زلفتا قریب ا چکا سیت وجوہ الذین سیت برے ہو جائیں گے بگڑ جائیں گے ساع یسو سے سیت مجہول کا صیغہ سیت بگڑ جائیں گے وجوہ الذین کفروا چہرے ان لوگوں کے جنہوں نے کفر کیا وقیل اور ان سے کہا جائے گا ھذا الذی کنتم بہ تدعون یہ ہے وہ چیز جس کو تم مانگتے تھے یہ ہے وہ عذاب جس کو تم مانگتے تھے فلما راوہ زلفتا سیت وجوہ الذین کفروا وقیل ھذا الذی کنتم بہ تدعون پس جب وہ اس عذاب کو قریب ہی دیکھیں گے تو بگڑ جائیں گے چہرے ان لوگوں کے جنہوں نے کفر کیا اور ان سے کہا جائے گا یہ ہے وہ جس کو تم مانگتے تھے قل ارایتکم ان اھلکنی اللہ اے پیغمبر آپ فرما دیجیے ارایتکم کیا ترجمہ کریں گے ہاں تم ارایتکم تم بتلا تو سہی ان اھلکنی اللہ اگر ہلاک کر دے مجھ کو اللہ و من معی اور ان کو بھی جو میرے ساتھ ہیں یعنی مومنین کو بھی اور رحمنا یا ہم پر رحم فرما دے فمن یجیر الکافرین تو کون پناہ دے گا کون بچائے گا کافروں کو من عذاب الیم دردناک عذاب سے اے پیغمبر آپ ان سے کہہ دیجیے کہ تم مجھے بتلا تو سہی اگر اللہ مجھے اور میرے ساتھ جو مومنین ہیں ان کو ہلاک کر دیں اور رحمنا یا ہم پر رحم فرمائیں تو کون بچائے گا کافروں کو دردناک عذاب سے بہت سے کفار اس انتظار میں تھے کہ یہ شخص اس کی دعوت ویسی ہی ہے اور تھوڑا بہت اگر کچھ لوگ اس کے ساتھ بھی ہیں تو جب یہ دنیا سے جائے گا تو سارا کچھ ختم ہو جائے گا تو اللہ فرما رہے ہیں اے پیغمبر آپ ان سے کہہ دیجیے کہ تم میری ہلاکت کے انتظار میں ہو اگر میں اور میرے ساتھ جتنے مومنین ہیں ان کو اگر اللہ ہلاک کر دے جیسا کہ تمہارا خیال ہے تمہارا کیا گمان ہے کہ ہمیں اللہ کیا کر دیں گے ہلاک کریں گے کیونکہ یہ جھوٹے ہیں تم ہمیں جھوٹا سمجھتے ہو تو اگر تمہارے گمان کے مطابق اللہ مجھے اور مومنین کو ہلاک بھی کر دیں یا ہمارے گ اعتقاد کے مطابق اللہ ہم پر رحم فرمائے اور ہم دنیا سے چلے جائیں چاہے جس طرح بھی ہو چاہے اللہ ہمیں ہلاک کرے چاہے رحم فرمائے اس سے یہ بتلاؤ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کفار پر جو دردناک عذاب آنے والا ہے کون ان کو اس عذاب سے بچائے گا معنی سمجھ میں اگیا بھئی قل اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے ارایتکم کہ تم مجھے بتلا تو سہی اگر اللہ مجھے ہلاک کر دیں اور ان کو بھی جو میرے ساتھ ہیں اور رحمنا یا ہم پر رحم فرما دے فمن یجیر الکافرین تو چاہے ہمیں ہلاک کرے یہاں پر رحم فرمائے فمن یجیر الکافرین من عذاب الیم تو کون پناہ دے گا کافروں کو دردناک عذاب سے قل ھو الرحمن امننا بہ اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے کہ وہ رحمان ہے امننا بہ جس پر ہم ایمان لائے ہیں و علیہ توکلنا اور اسی پر ہم بھروسہ کرتے ہیں فستعلمون من ھو فی ضلال مبین پس عنقریب تم جان لو گے کہ کون ہے وہ کھلی گمراہی میں عنقریب تم جان لو گے کون کھلی گمراہی میں ہے ہم یا تم قل ارایتکم اے پیغمبر کہہ دیجیے ارایتکم کہ تم مجھے بتلا تو سہی ان اصبح ماؤکم غورا اگر ہو جائے تمہارا پانی غورا گہرائی میں اگر تمہارا پانی گہرائی میں چلا جائے گہرائی میں اتر جائے فمن یاتیکم بماء معين پس کون لے کر ائے گا تمہارے پاس بماء معين صاف و شفاف پانی تمہارے پاس صاف و شفاف پانی لے کر ائے گا معین کا معنی صاف و شفاف اسی طرح معین کہتے ہیں جاری پانی کو بھی تو پھر یہ ترجمہ فمن یاتیکم بماء معين تو کون تمہارے پاس لے کر ائے گا جاری پانی یعنی بہتا ہوا پانی معنی سمجھ میں اگیا بھئی غور کا معنی ماء غورا پانی کا گہرائی میں چلے جانا بھئی گہرائی میں مختلف علاقوں میں کنویں کھودے جاتے ہیں پانی کہیں پچاس فٹ گہرائی میں ملے گا کہیں سو فٹ گہرائی پر پانی نکل ائے گا اللہ فرما رہے ہیں کہ ان سے اے پیغمبر کہہ دیجیے اگر اللہ تمہارا پانی گہرائی میں لے جائے جیسا کہ گرمیوں میں ہوتا ہے پانی گہرائی میں ذرا چلا جاتا ہے اور بعض اوقات تو زیادہ ہی گہرائی میں چلا جائے تو کنویں وغیرہ خشک ہو جاتے ہیں اور انسان انسانی زندگی کی بقا مشکل بن جاتی ہے پانی بالکل اگر ختم ہو جائے پھر تو باقی نہیں رہتے ختم ہو جاتے ہیں بھئی تو اللہ فرما رہے ہیں اگر اللہ تمہارے پانی کو گہرائی میں لے جائیں پھر کون تمہارے پانی کو تمہارے لیے صاف و شفاف اور جاری پانی کو کون لے کر ائے گا کیا ان دلائل کے اندر وہ غور نہیں کرتے اس سے ان کو ہدایت کا راستہ واضح نہیں دکھائی دیتا قل ارایتکم کہہ دیجیے اے پیغمبر ارایتکم تم مجھے بتلا تو سہی ان اصبح ماؤکم غورا اگر ہو جائے تمہارا پانی خشک بعضوں نے پھر اس کا ترجمہ خشک کیا بھئی معنی میں نے بتا دیے گہرائی میں جانا بھئی پانی کا تو غور ہے مصدر بھئی یہ بمعنے غائر کے ہوگا بھئی کیونکہ مصدر کا حمل ذات پر ویسے صحیح نہیں بھئی تو یہ غور بمعنے غائر کے قل اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے ارایتکم کہ تم مجھے بتلا تو سہی ان اصبح ماؤکم غورا اگر تمہارا پانی خشک ہو جائے یہ ترجمہ کر لیں یا یوں کر لیں اگر تمہارا پانی گہرائی میں اتر جائے فمن یاتیکم بماء معين پس کون تمہارے پاس بہتا ہوا پانی لے کر ائے گا یا یوں ترجمہ کریں کون تمہارے پاس صاف و شفاف پانی لے کر ائے گا چلیے بس بھئی ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقت الکلام
129 approved lectures · 122 of 129