اعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم
وما اصابكم من مصيبة فبما كسبت ايديكم ويعفو عن كثير وما انتم بمعجزين في الارض وما لكم من دون الله من ولي ولا نصير
وما اصابكم من مصيبة اور وہ جو تمہیں پہنچے من مصيبة کوئی مصیبت فبما كسبت ايديكم تو بوجہ اس کے جو کمایا تمہارے ہاتھوں نے اور یعنی جو تمہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو یہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے ہے یعنی تمہارے اپنے اعمال کی وجہ سے ہے ويعفو عن كثير اور وہ معاف کر دیتا ہے بہت سے یعنی بہت سے گناہ کو معاف کر دیتا ہے اللہ فرما رہے ہیں تمہیں کوئی مصیبت جو پہنچتی ہے تو یہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی کا نتیجہ ہوتا ہے یعنی تمہارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے
سورت سمجھ میں آگئی بھئی اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے
جس طرح کوئی خراب غذا کھانے سے بدن پر اثر پڑتا ہے اور انسان بیمار ہو جاتا ہے بلکہ اسی طرح غذا میں احتیاط نہ کرنے کی وجہ سے بعض اوقات ہلاک ہو جاتا ہے تو اسی طرح روحانی اور باطنی سلسلہ بھی ہے کہ جب انسان جو ہے برے اعمال کرتا ہے تو اور ان اعمال کی وجہ سے اس پر تکالیف آتی ہیں بھئی یہ اس کے اپنے اعمال بد کا نتیجہ ہوتا ہے
یہ ہماری اور آپ کی بات ہے بھئی جبکہ اس کے مقابلے میں وہ جو گناہوں سے معصوم و محفوظ ہیں یعنی انبیاء اور رسل وغیرہ وہ یاد رکھیے ان پر بھی تکالیف آتی ہیں لیکن وہ ان کے گناہوں کی وجہ سے نہیں کیونکہ انبیاء اور رسل تو کیا ہیں ہر قسم کے صغیرہ اور گناہ کبیرہ گناہوں سے معصوم ہیں محفوظ ہیں وہاں جو تکالیف آتی ہیں وہ رفع درجات کے لیے آتی ہیں
تاکہ ان کی وجہ سے جب تکلیف آئے گی تو اس کی وجہ سے اللہ ان کے درجات بلند فرماتے ہیں بھئی
وما اصابكم من مصيبة فبما كسبت ايديكم ويعفو عن كثير اور جو تمہیں پہنچتی ہے کوئی مصیبت تو وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے ہے ويعفو عن كثير اور بہت سو کو تو وہ معاف کر دیتا ہے یعنی بہت سے گناہوں کو تو وہ معاف کر دیتا ہے وما انتم بمعجزين في الارض اور نہیں ہو تم عاجز کر دینے والے زمین میں
تم عاجز کرنے والے نہیں ہو یعنی اللہ کو تم اللہ کو زمین میں عاجز کرنے والے نہیں ہو کہ وہ تمہیں تمہارے اعمال کی وجہ سے تمہاری گرفت نہ فرما سکیں ایسا نہیں ہے
وما انتم بمعجزين في الارض اور تم نہیں ہو عاجز کرنے والے یعنی اللہ کو فی الارض زمین میں وما لكم من دون الله من ولي ولا نصير اور نہیں ہے تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی کارساز اور نہ مددگار اللہ کے علاوہ تمہارا کوئی مددگار اور کارساز نہیں ہے
ولی کارساز بھئی کام بنانے والا نصیر مددگار
ومن آياته الجوار في البحر كالأعلام اور اس کی نشانیوں میں سے ہے الجوار جواری جمع ہے جاریة کی بھئی
تو جواری جمع ہے جاریة کی کشتی بھئی کشتی کو کہتے ہیں
اور اس کی نشانیوں میں سے ہے الجوار في البحر سمندروں میں کشتیاں بھئی سمندروں میں چلنے والی کشتیاں كالأعلام کس کی طرح
پہاڑوں کی طرح اعلام جمع ہے علم کی
علم کی یعنی کہ پہاڑ بھئی
ومن آياته الجوار في البحر كالأعلام اور اس کی نشانیوں میں سے ہیں کشتیاں سمندر میں پہاڑوں کی طرح سمندر کی سطح پر بڑے بڑے بادبانی جہاز پہاڑ کی طرح بلند دکھائی دیتے ہیں بھئی پہاڑ کی طرح
ومن آياته الجوار في البحر كالأعلام اور اس کی نشانیوں میں سے کشتیاں ہیں سمندر میں کل اعلام پہاڑوں کی طرح
إن يشأ يسكن الريح فيظللن رواكد على ظهره ان يشا اگر وہ چاہے يسكن الريح تو ساكن کر دے ہوا کو ٹھہرا دے ہوا کو روک دے ہوا کو فظللن
پس وہ ہو جائیں
يظللن بمقنے يصرنا کے ہے یصر صارہ کے معنی میں ہے ظلا افعال ناقصہ میں سے ہے اور اس کا معنی ہے مثلاً آپ کہتے ہیں ظلا زید کاتباً
یعنی زید نے کاتب ہونے کی حالت میں دن گزارا
زید نے کاتب ہونے کی حالت میں دن گزارا
لیکن یہاں پر یہ صارہ کے معنی میں ہے ظلا کس معنی میں ہے صارہ
فظللن پس وہ ہو جائیں رواكد
رواکد جمع ہے راکدۃ کی رکی ہوئی ٹھہری ہوئی
على ظهره ای علی ظهر البحر سمندر کی پشت پر یعنی سمندر کی سطح پر
اللہ فرما رہے ہیں ان يشا يسكن الريح اگر وہ اللہ چاہے تو ہوا کو ٹھہرا دے فظللن رواكد على ظهره تو وہ کشتیاں سمندر کی سطح پر ٹھہری رہ جائیں بھئی
وہ بڑی بڑی بادبانی کشتیاں بڑے بڑے بادبانی جہاز بھئی ہوا چلتی ہے تو بادبان لگے ہوتے ہیں اور اس کی مدد سے پھر کشتی ہوا کے رخ میں چلتی ہے
دیکھیے اللہ کا عجیب نظام ہے بھئی
سمندر کے اندر انسان کو ہوا کی سخت ضرورت تھی تو سمندر کے سطح پر ہر وقت بڑی تیز ہوائیں چلتی رہتی ہیں بھئی
چنانچہ جو ساحلی علاقے بھی ہوتے ہیں وہاں بھی مثلاً کراچی وغیرہ آپ کو جانے کا موقع ملے تو آپ دیکھیں گے بڑی تیز ہوا چلتی رہتی ہے وہاں بھئی
اور اس ہوا کی مدد سے پھر وہ جہاز سفر کرتے ہیں بھئی
سفر کرتے ہیں
تو پہلے سفر کا یہی طریقہ تھا بڑا یہ بادبانی کشتیاں بھئی
اور یہ کس کے ذریعے چلتی ہیں ہوا کے ذریعے ہوا ان کو لے کر چلتی ہے بھئی ہوا
اب اگرچہ مشینیں آگئیں اب مشینری جہاز آگئے اور لیکن پھر بھی ان کے چلنے میں بھی ہوا کا بڑا دخل ہوتا ہے بھئی سمجھ میں آیا بھئی ہوا اگر مخالف ہو تو اس میں بھی رکاوٹ پیش آتی ہے بھئی
تو اللہ فرما رہے ہیں ان يشا يسكن الريح اگر وہ چاہے تو ہوا کو روک دے فظللن رواكد على ظهره تو وہ کشتیاں ٹھہری رہ جائیں سمندر کی سطح پر إن في ذلك لآيات لكل صبار شكور بے شک اس کے اندر البتہ نشانیاں ہیں ہر صبر کرنے والے شکر شکر کرنے والے کے لیے
ہر صبر کرنے والے شکر کرنے والے کے لیے
أو يوبقهن اس کا عطف اسی پر ہے يسكن الريح پر
يسكن پر اس کا عطف ہے اور اگر چاہے يوبقهن تو ان کو کیا کر دے ہلاک کر دے
أو بقا يوبق کے معنی ہیں ہلاک کرنا اور اگر چاہے تو ان کشتیوں کو ہنہ ضمیر کس کو راجے
ان جواری کو بھئی اور اگر چاہے تو ان کشتیوں کو ہلاک کر دے
یعنی ان کشتی والوں کو ہلاک کر دے
ان کشتی والوں کو ہلاک کر دے بھئی ای يوبق اھلہنہ ان کشتی والوں کو ہلاک کر دے بما كسبوا بوجہ اس کے جو انہوں نے کمایا
یعنی ان کے جو اعمال ہیں ان کی وجہ سے ان کشتی والوں کو کیا کر دے ہلاک کر دے ويعفو عن كثير
اور معاف کر دے بہت سوں کو
اور معاف کر دے بہت سوں کو يعفو کا عطف بھی يوبق پر ہے بھئی
اور وہ مجزوم بھئی وہ مجزوم تو يعفو بھی مجزوم آخر سے و گر گیا بھئی
یا وہ چاہے تو يوبقهن بما كسبو ان کشتی والوں کو ہلاک کر دے ان کی کمائیوں کی وجہ سے ويعفو عن كثير اور چاہے تو معاف کر دے بہت سوں کو یعنی اگر ان کو ہلاک کر دے اگر یہ ہلاکت کا فیصلہ بھی اللہ کر دے تو اللہ کی ذات اتنی درگزر کرنے والی ہے اس وقت بھی ان میں سے بہت سوں کو اللہ معاف کر دیں بھئی ان کو ہلاک نہ کریں
ترجمہ سمجھ میں آگیا بھئی
أو يوبقهن بما كسبو ويعفو عن كثير یا ہلاک کر دے ان کو ان کی کمائیوں کی وجہ سے ويعفو عن كشيرين اور درگزر کر دے معاف کر دے بہت سوں سے ويعلم الذين يجادلون في آيتنا اور تاکہ جان لیں وہ لوگ جو جھگڑ جو جھگڑتے ہیں ہماری آیتوں میں
ما لهم من محيص کہ نہیں ہے ان کے لیے کوئی بھاگنے کی جگہ
محیص بھئی اس میں ظرف ہے
حاص یحیص کے معنی ہیں فرار ہونا بھاگنا
تو محیص بھاگنے کی جگہ جاۓ فرار بھئی ويعلم الذين يجادلون في آيتنا اور تاکہ جان لیں وہ لوگ جو جھگڑے نکالتے ہیں جادل یجادلو کا کیا معنی کیا جھگڑتے ہیں جھگڑے نکالتے ہیں
اور تاکہ جان لیں وہ لوگ جو جھگڑے نکالتے ہیں ہماری آیتوں میں ما لهم من محیص کہ نہیں ہے ان کے لیے کوئی جاۓ فرار
ويعلم الذين ويعلم بھئی یہ نصب کہاں سے آئی
یاد رکھیے یاد رکھیے
یہ ويعلم یہ عطف ہے
عطف ہے تعلیل محذوف پر
کس پر عطف ہے تعلیل علت بیان کرنا وجہ بیان کرنا تو تو یہاں محذوف ہے کلام کس طرح لينتقم منهم تاکہ اللہ ان سے انتقام لے لے
اور چاہے تو ان کو ہلاک کر دے کیوں ہلاک کر دے لينتقم منهم تاکہ ان سے انتقام لے لے
اور اسی پر عطف ہے يعلم کا بھی
اي ليعلم الذين اور تاکہ جان لیں وہ لوگ جو جھگڑے نکالتے ہیں ہماری آیتوں میں
بات سمجھ میں آگئی بھئی
تنتقم پر عطف ہے بھئی تو یہ يعلم بھی اس لام کے تحت آیا بھئی ليعنتقم پر جو لام داخل ہے اسی کے تحت آیا بھئی ويعلم الذين يجادلون في آيتنا اور تاکہ جان لیں وہ لوگ جو جھگڑتے ہیں ہماری آیتوں میں ما لهم من محيص نہیں ہے ان کے لیے کوئی بھاگنے کی جگہ فما أوتيتم من شيء فمتاع الحياة الدنيا پس وہ جو دی گئی ہے تمہیں کوئی چیز فمتاع الحياة الدنيا تو وہ نفع ہے دنیاوی زندگی کا
اللہ فرما رہے ہیں جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے تو یہ تو دنیاوی زندگی زندگی کا ہی نفع ہے چند روزہ نفع ہے بھئی وما عند الله خير وابقى اور وہ جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر ہے وابقى اور زیادہ باقی رہنے والا ہے یعنی زیادہ پائیدار ہے للذِينَ ان لوگوں کے لیے آمنو جو ایمان لائے وعلا ربهم يتوکلون اور جو اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتے ہیں
فما أوتيتم من شيء فمتاع الحياة الدنيا وما عند الله خير وابقى للذين آمنوا وعلى ربهم يتوکلون پس جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے یہ دنیاوی زندگی کا نفع ہے اور وہ جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر ہے اور زیادہ پائیدار ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اور جو اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتے ہیں
والذين يجتنبون کبائر الاسم والفواحش اور وہ لوگ جو يجتنبون جو بچتے ہیں پرہیز کرتے ہیں
اور وہ لوگ جو بچتے ہیں کبائر الاسم بڑے گناہوں سے
اسم کس کو کہتے ہیں گناہ کو اور وہ لوگ جو بچتے ہیں بڑے گناہوں سے والفواحشا اور بے حیائیوں سے
وہ لوگ جو بچتے ہیں بڑے گناہوں سے اور فواحش سے
بڑے گناہ بھئی وہ گناہ جن کے بارے میں وعید آئی ہو بھئی
اللہ کی طرف سے اللہ کے رسول کی طرف سے کوئی دھمکی آئی ہو بھئی کہ یہ کیا تو یہ یہ سزا ملے گی
سورت سمجھ میں آگئی بھئی جس کے بارے میں کوئی وعید آئی ہو یا
جس کے بارے میں حد نازل ہوئی ہو بھئی
جس کے بارے میں حد نازل ہوئی ہو بھئی بھئی یاد رکھیے سزائیں دو قسم پر ہیں کچھ سزائیں وہ ہیں جو اللہ کی طرف سے مقرر ہیں کوئی ان میں رد و بدل نہیں کر سکتا اور ان کو حدود کہا جاتا ہے
اور کچھ سزائیں وہ قاضی اپنی مرضی سے دیتا ہے ان کو تعزیر کہا جاتا ہے تعزیر
تو حدود وہ اللہ کی طرف سے مقررہ سزائیں ہیں جیسے زنا کی حد ہے غیر شادی شدہ ہوں تو سو کوڑے شادی شدہ ہوں تو رجم ہے
تہمت کسی پر زنا کی لگائی تو حد قذف ہے بھئی اسی طرح چوری کی تو اس پر چوری کی حد ہے کسی نے ثابت ہو گئی چوری تو دیاں ہاتھ کاٹا جائے گا
اور اسی طرح ڈاکو کے بارے میں سزا ہے کہ اس کا ایک ہاتھ پاؤں کاٹ دیا جائے تو یہ حدود ہیں بھئی
تو وہ لوگ جو بچتے ہیں کبائر الاسم بڑے گناہوں سے والفواحشا اور بے حیائیوں سے وإذا ما غضبوهيم يغفرون اور جس وقت وہ غصہ ہوتے ہیں یعنی جس وقت ان کو غصہ آئے ہم یغفرون تو وہ معاف کر دیتے ہیں
بھئی والذین
یہ جو آیت شروع ہوئی والذین يجتنبون اس والذین کا عطف اسی للذین پر جو پیچھے الذین آیا
اور وہ جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر ہے اور زیادہ پائیدار ہے ان لوگوں کے لیے آگے صفات بیان ہو رہی ہیں کن لوگوں کے لیے ہے وہ
بہتر ہے اور زیادہ پائیدار ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اور اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتے ہیں اور وہ جو بچتے ہیں بڑے گناہوں سے اور بے حیائیوں سے و اور جس جب انہیں غصہ آتا ہے هم یغفرون وہ معاف کر دیتے ہیں والذين استجابوا لربهم اور وہ لوگ جو
قبول کرتے ہیں استجابہ کا کیا معنی میں نے ذکر کیا تھا قبول کرنے کے لیے تو یہ وہ لوگ جو قبول کرتے ہیں
ربھم، اے حکم ربھم، امر ربھم، اپنے رب کے حکم کو، اپنے رب کے حکموں کو قبول کرتے ہیں، مانتے ہیں، و اقام الصلاۃ اور نماز قائم کرتے ہیں۔
یا، یہ ماضی کے صیغے ہیں، اسی کے مطابق ترجمہ کر لیجیے، والذین استجابو لربھم اور وہ لوگ جنہوں نے اپنے رب کے حکموں کو مانا، و اقام الصلاۃ اور نماز قائم کی، و امرھم شوریٰ بینھم اور ان کا معاملہ، امرھم ان کا معاملہ، شوریٰ بینھم آپس میں مشورہ ہوتا ہے۔
ان کے کام جو ہیں، وہ آپس میں مشورہ یعنی آپس کے مشورے سے ہوتے ہیں۔ ان کا معاملہ کیا ہے؟ شوریٰ بینھم، آپس کا مشورہ۔ یا ان کے کام، جو ہیں، امرھم، ان کے، ان کا معاملہ جو ہے، ذو شوریٰ بینھم، مشورے والا ہوتا ہے۔
بینھم، آپس میں۔ یعنی ان کے کام آپس کے مشورے سے ہوتے ہیں۔ ان کے کام آپس کے مشورے سے ہوتے ہیں۔ تو کہتے ہیں، و امرھم شوریٰ بینھم اور ان کا کام آپس کے مشورے سے ہوتا ہے۔ یاد رکھیے، مشورہ کسی اہم کام کے سلسلے میں کیا جاتا ہے۔
مسلمانوں کا طریقہ یہی ہے بھئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی طریقہ بتلایا، قرآن یہی طریقہ بتلاتا ہے بھئی، کہ مسلمانوں کے کام کس طرح ہونے چاہئیں؟ آپس کے مشورے سے ہونے چاہئیں بھئی۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم، آپ بھی کیا فرماتے تھے؟ صحابہ سے مشورہ کیا کرتے تھے بھئی۔
تو کہ یہ طریقہ سکھایا، ساری امت کو کیا کیا کرو؟ مشورہ، اہم معاملہ ہو تو آپس میں مشورہ کیا کرو بھئی۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی صحابہ سے مشورہ فرمایا کرتے تھے، اہم امور میں۔ اگرچہ آپ کے پاس وحی بھی آ سکتی تھی ہر مسئلے کے اندر، لیکن آپ کو پابند بنایا گیا تھا کس چیز کا؟
آپ مشورہ کرتے تھے صحابہ سے بھئی۔ ہاں! وحی آجاتی، پھر وحی کے آنے کے بعد تو مشورے کی حاجت نہیں، ہاں! اس سے پہلے کیا ہے؟ کوئی معاملہ پیش آئے تو اس کا مشورہ کر لینے۔ اور مشورہ، یاد رکھیے، کسی اہم اور بڑے کام کے سلسلے میں ہوگا۔ ہر کام کے سلسلے میں مشورہ نہیں، ورنہ تو پھر زندگی گزارنا مشکل ہو جائے۔
اور یاد رکھیے، مشورہ بھی ان چیزوں کے اندر ہوگا، جن کے بارے میں قرآن و حدیث میں حکم موجود نہ ہو۔ جہاں قرآن اور حدیث میں واضح حکم موجود ہے، پھر وہاں مشورے کی ضرورت نہیں۔ جو قرآن و حدیث کا حکم ہے، بعینہٖ اس پر اسی طریقے سے عمل کیا جائے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟
و امرھم شوریٰ بینھم اور ان کا کام آپس کا مشورہ ہوتا ہے۔ و مما رزقنھم ینفقون اور اس میں سے، رزقنھم، جو ہم نے ان کو رزق دیا، ینفقون، وہ خرچ کرتے ہیں۔ اور وہ جو ہم نے ان کو رزق دیا ہے، اس میں سے یہ لوگ خرچ کرتے ہیں۔ والذین اذا اصابھم البغی ھم ينتصرون۔
اللہ فرما رہے ہیں، جو اللہ کے پاس ہے، وہ بہتر ہے اور زیادہ پائیدار ہے، ان لوگوں کے لیے۔ کن لوگوں کے لیے؟ وہ صفات بیان ہو رہی ہیں، مومنین کی بھئی، کن لوگوں کے لیے؟ والذین اذا اصابھم البغی اور وہ لوگ، جب ان کو پہنچتا ہے، کوئی ظلم بھئی۔ بغیون، ظلم بھئی، سرکشی۔
و والذین اذا اصابھم البغی اور وہ لوگ جب جن کو جب کوئی ظلم پہنچتا ہے، یعنی جب ان پر کوئی ظلم کرتا ہے، ھم ينتصرون تو وہ بدلہ لیتے ہیں۔ انتصر ينتصر کے معنے ہیں بدلہ لینے کے بھئی۔ اور وہ لوگ جب ان پر کوئی ظلم کیا جاتا ہے، ھم ينتصرون تو وہ بدلہ لیتے ہیں، بدلہ۔
بھئی اوپر آیا، و اذا ما غضبوا ھم یغفرون اور جب ان کو غصہ آتا ہے، ھم یغفرون تو وہ معاف کر دیتے ہیں۔ یہاں آیا، و اذا اصابھم البغی اور جب ان پر کوئی ظلم ہوتا ہے، ھم ينتصرون تو وہ بدلہ لیتے ہیں۔ تو بظاہر تعارض معلوم ہو رہا ہے۔
لیکن تعارض نہیں بھئی، محل الگ الگ ہے۔ محل الگ الگ ہے۔ بھئی، بعض اوقات، جس نے ظلم اور زیادتی کی ہے، وہ اپنے ظلم اور زیادتی کو تسلیم کر لیتا ہے، اس پر ندامت کا اظہار کرتا ہے، تو ایسے موقع پر معاف کر دینا چاہیے بھئی۔ تو وہ ایسے مومنین بھی ایسے موقع پر کیا کر دیتے ہیں؟ معاف کر دیتے ہیں۔
اور ایک شخص ہے، جو بلاوجہ ہی دوسرے پر چڑھا چلا جا رہا ہے، اور اس پر ظلم کرتا ہے، تکبر کرتا ہے، غلطی کو تسلیم کرتا ہی نہیں ہے، یا اسی طرح، بعض اوقات کسی کے ظلم کا جواب نہ دیا جائے، بدلہ نہ دیا جائے، تو اس کے فساد کے اور بڑھنے کا امکان ہوتا ہے، کہ یہ تو پھر باز نہیں آئے گا، اگر ہم نے اس وقت بدلہ نہ لیا، تو یہ تو پھر اور زیادتیاں کرتا چلا جائے گا، یہ نہیں کہ اس کو احساس ہو جائے گا اور یہ رک جائے گا۔
تو پھر ایسے موقع پر، جب کوئی ظلم و جو تکبر کرتے ہوئے بلاوجہ کسی پر ظلم کر رہا ہے، یا ظلم اس کا جواب نہ دیا جائے، تو پھر اس کے ظلم اور زیادتی کے اور بڑھنے ہی کا امکان ہے، تو ایسے موقع پر بدلہ لینا ہی بہتر ہے بھئی، تا کہ وہ فساد وہ ابھی سے ختم ہو جائے بھئی۔
صورت سمجھ میں آگئی تو دونوں کا محل الگ الگ ہے۔ یا اسی طرح بھئی، مسلمان کوئی غلطی کرے، تو اس کو معاف کر دیتے ہیں۔ اور کافر کوئی غلطی کرے، زیادتی کرے، تو اس کا کیا کرتے ہیں؟ اس سے بدلہ لیتے ہیں۔
صورت سمجھ میں آگئی، معلوم ہوا بعض جگہوں پر معاف کرنا بہتر ہے، ہر جگہ نہیں بھئی، بعض جگہ معاف کرنا بہتر ہے، اور بعض جگہ معاف کر دینے کی صورت میں اور نقصان ہونے کا امکان ہوتا ہے، تو وہاں بدلہ لینا بہتر ہے بھئی۔ لیکن بدلہ بھی یاد رکھیے، اتنا ہی ہو، جتنا اس نے زیادتی کی تھی۔ اس سے بڑھ کر نہ ہو۔
जितनी उसने زیادتی کی تھی، بدلہ بھی کتنا ہونا چاہیے؟ اسی کے برابر ہونا چاہیے، اس سے زیادہ نہیں بھئی۔ والذین اذا اصابھم البغی ھم ينتصرون اور وہ لوگ جب ان کو ان پر کوئی ظلم ہوتا ہے، ھم ينتصرون، وہ بدلہ لیتے ہیں، تو وہ بدلہ لیتے ہیں۔ و جزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا۔
اور برائی کا بدلہ برائی ہے اسی کے مثل۔ برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے بھئی، اسی جیسی برائی ہے۔ یعنی جس نے کسی کے ساتھ جتنی زیادتی کی ہے، اس کے ساتھ بھی اس سے بھی اتنا ہی بدلہ لیا جائے بھئی۔ جیسا میں نے ابھی بیان کیا۔
بھئی برائی، جس نے پہلے زیادتی کی، وہ تو ہے برائی۔ بعد میں جو اس کے مثل بدلہ لے رہا ہے، وہ تو برائی نہیں۔ لیکن اس کو بھی سیئہ کہا گیا، سیئہ کا، سیئہ کا اس پر اطلاق کیا گیا۔ یاد رکھیے، یہ صنعت مشاکلہ ہے۔ یہ کیا ہے؟
صنعت مشاکلہ۔ صنعت مشاکلہ اس کو کہتے ہیں کہ ایک معنی کو کسی ایسے لفظ کے ذریعے ذکر کر دیا جائے، جو اس کے پڑوس میں واقع ہو رہا تھا۔ بھئی، یہ جزا کا ذکر سیئہ کے بعد آرہا تھا، برائی کا بدلہ آگے برائی ذکر کیا گیا، حالانکہ وہ تو بدلہ ہے، وہ تو برائی نہیں ہے، لیکن اس کے پڑوس میں سیئہ کا لفظ آیا تھا، لہٰذا اس جزائے سیئہ کو بھی کس سے ذکر کر دیا گیا؟ سیئہ سے۔
تو پڑوس میں واقع ہونے والے لفظ کی وجہ سے اس معنی کو بھی اسی لفظ کے ساتھ ادا کر دیا جائے، اس کو کہتے ہیں صنعت مشاکلہ۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ و جزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا اور برائی کا بدلہ اسی کے مثل برائی ہے۔ فمن عفا و اصلح فاجرہ علی اللہ۔
پس جس نے معاف کیا اور اصلاح سے کام لیا، تو اس کا اجر اللہ پر ہے۔ اس حالت میں بھی بھئی، جب کوئی ظلم اور زیادتی کرے، اللہ فرماتے ہیں، جو معاف کر دے اور اصلاح سے کام لے، بہتری والی بات کرے، فاجرہ علی اللہ، تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے، اللہ پر ہے۔ اللہ اس کو اس کا اجر دیں گے، عظیم اجر دیں گے بھئی۔
معنی سمجھ میں آیا، فمن عفا، جس پس جس نے معاف کیا۔ و اصلح، اور اصلاح سے کام لیا۔ اصلاح سے کام لیا۔ (یعنی صلح کی)۔ (یعنی صلح کی)۔ فمن عفا و اصلح، جس نے معاف کیا اور صلح کی، فاجرہ علی اللہ، تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔ انہ لا يححب الظالمین۔
بے شک وہ پسند نہیں کرتا ظلم کرنے والوں کو۔ و لمن انتصر بعد ظلمہ فاولئک ما علیھم من سبیل۔ و لمن انتصر اور البتہ وہ انتصر، جس نے بدلہ لیا۔ اور وہ جس نے بدلہ لیا، بعد ظلمہ، بعد ظلمہ، کس کے بعد؟ اپنے اوپر ظلم کے بعد۔ اپنے ظلم کے بعد یہ معنی نہ کرنا کہ اس نے ظلم کیا ہے، اس پر کیا کیا گیا ہے؟
ظلم کیا گیا ہے، تو یہ فاعل کی طرف ظلم کی اضافت نہیں ہے، مفعول کی طرف اضافت ہو رہی ہے یہ۔ و لمن انتصر اور وہ جس نے بدلہ لیا، بعد ظلمہ، بعد اپنے اوپر ظلم ہونے کے، فاولئک، تو یہ لوگ جو ہیں، ما علیھم من سبیل، نہیں ہیں ان پر کوئی راہ۔ ان پر کوئی راہ نہیں، یعنی ان پر کوئی مواخذہ نہیں، ان پر کوئی الزام نہیں۔
جس شخص پر ظلم کیا گیا ہو، اور وہ پھر اسی کے برابر بدلہ لے لے، تو اللہ فرما رہے ہیں، ان پر کوئی الزام نہیں ہے، ان کا مواخذہ نہیں کیا جائے گا بھئی۔ و لمن انتصر بعد ظلمہ فاولئک ما علیھم من سبیل اور جس نے بدلہ لیا اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد، فاولئک ما علیھم من سبیل، تو ان لوگوں پر کوئی الزام نہیں ہے۔ انما السبیل علی الذین یظلمون الناس و یبغون فی الارض بغیر الحق۔
الزام تو انہی لوگوں پر ہے۔ یہ حصر والا معنی کہاں سے آیا بھئی؟ انما شاباش۔ انما السبیل علی الذین، الزام تو انہی لوگوں پر ہے، یظلمون الناس جو ظلم کرتے ہیں لوگوں پر، و یبغون فی الارض، اور سرکشی کرتے ہیں زمین میں، بغیر الحق، ناحق طور پر۔
الزام انہی لوگوں پر ہیں جو ظلم کرتے ہیں لوگوں پر اور سرکشی کرتے ہیں زمین میں ناحق۔ اولئک لھم عذاب الیم۔ انہی لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے۔ و لمن صبر و غفر ان ذلک لمن عزم الامور۔
اور البتہ جس نے صبر کیا اور معاف کیا، تو بے شک ذالک لمن عزم الامور۔ یہ البتہ عزم کہتے ہیں پختہ ارادے کو۔ امور، کام، بھئی کام۔ ان ذالک لمن عزم الامور، بے شک یہ البتہ ہمت کے کاموں میں سے ہے۔ ہمت والے کاموں میں سے۔
جو صبر کر لے بھئی، بدلہ نہ لے، بدلہ لینے پر قادر ہے، اور پھر اس کے بعد اس کے ساتھ زیادتی بھی کی گئی، وہ بدلہ لینے پر قادر ہے، لیکن پھر بھی بدلہ نہیں لیتا، صبر کرتا ہے اور معاف کر دیتا ہے اللہ کے لیے، تو اللہ فرماتے ہیں، ان ذالک لمن عزم الامور، یہ البتہ ہمت والے کاموں میں سے ہے، ہمت کے کاموں میں سے ہے۔
و من یضلل اللہ فما لہ من ولی من بعدہ۔ و من یضلل اللہ، اور جس کو اللہ گمراہ کر دیں، فما لہ، تو نہیں ہے اس کے لیے من ولی، کوئی کارساز، من بعدہ، اس اللہ کے بعد بھئی۔ یعنی اس اللہ کے گمراہ کر دینے کے بعد اس کے لیے کوئی کارساز نہیں ہے، جب اللہ اس کو کسی کو گمراہ کر دیں۔
و من یضلل اللہ فما لہ من ولی من بعدہ اور جس کو اللہ گمراہ کر دیں تو اس کا کوئی کارساز نہیں ہے اس اللہ کے بعد۔ و تری الظالمین لما رأوا العذاب یقولون ھل الی مرد من سبیل۔ اور آپ دیکھیں گے ظالموں کو، لما رأوا العذاب، جب وہ دیکھیں گے عذاب کو، یقولون، تو کہیں گے، ھل الی مرد من سبیل۔ مرد، لوٹنا، لوٹنا۔
ھل الی مرد من سبیل، کیا لوٹنے کی کوئی راہ ہے؟ کیا لوٹنے کا کوئی راستہ ہے؟ کیا واپسی کی کوئی صورت ہے؟ و تری الظالمین لما رأوا العذاب یقولون ھل الی مرد من سبیل اور آپ دیکھیں گے ظالموں کو جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو کہیں گے کیا واپسی کی، واپسی کا کوئی راستہ ہے۔ و تراھم یعرضون علیھا۔ اور آپ دیکھیں گے یہ ان کو، و تراھم، آپ ان کو دیکھیں گے، یعرضونا، وہ پیش کیے جائیں گے، علیھا، ای علی النار، کس پر؟
اگ پر۔ وہ ظالم جو ہیں پیش کیے جائیں گے آگ پر، اگ کے سامنے لائے جائیں گے۔ اور آپ دیکھیں گے کہ وہ ظالم اگ کے سامنے لائے جائیں گے، تو ھا ضمیر کس کو راجح کی میں نے بھئی؟ النار، اگ کو۔
اس پر آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ ہاں اگ کا تو پیچھے ذکر ہی نہیں ہے، تو جواب یہ کہ پیچھے عذاب کا تو ذکر آیا بھئی، اور عذاب کے ذریعے کس پر دلالت ہو گئی؟ آگ پر دلالت ہو گئی۔ کون سا اس کے کون سا عذاب جس کو وہ دیکھیں گے؟
اگ کا عذاب جس کو دیکھیں گے، تو وہ کہیں گے کیا واپسی کی کوئی صورت ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی، تو نار پر یا عذاب کا لفظ دلالت کر رہا ہے۔ و تراھم یعرضون علیھا، اور آپ دیکھیں گے ان کو کہ وہ سامنے لائے جائیں گے، علیھا، اس اگ پر، خاشعین۔ جھکے ہوئے ہوں گے۔
خشوع کس عاجزی کو نا؟ خاشعین، کہ وہ جھکے ہوئے ہوں گے۔ من الذل، ذلت کی وجہ سے۔ ینظرون، دیکھ رہے ہوں گے۔ من طرف خفی۔ طرف کہتے ہیں نگاہ کو۔ خفی، پوشیدہ۔ دیکھ رہے ہوں گے پوشیدہ نگاہ سے، یعنی چوری نظروں سے۔ دیکھ رہے ہوں گے، چوری نظروں سے، چوری نگاہوں سے دیکھ رہے ہوں گے۔ جیسے مجرم ہوتا ہے بھئی۔
مجرم، شرمندگی کی وجہ سے، اور اس کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوتی ہیں، اور وہ چوری چوری نظروں سے دیکھتا ہے چیزوں کی طرف بھئی۔ و تراھم یعرضون علیھا خاشعین من الذل ینظرون من طرف خفی۔ اور آپ دیکھیں گے ان کو کہ ان کو سامنے لایا جائے گا، اگ کے، جھکے ہوئے ہوں گے، وہ ذلت کی وجہ سے۔ ینظرون من طرف خفی، دیکھ رہے ہوں گے چوری نگاہوں سے۔ و قاف
الذین آمنوا اور کہیں گے وہ لوگ جو ایمان لائے ان الخاسرین الذین خسروا انفسهم و اهلهم یوم القیامه کہ بیشک خسارہ خسارے والے تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے خسارے میں ڈالا انفسهم اپنی جانوں کو و اهلهم اور اپنے گھر والوں کو یوم القیامتی قیامت کے دن بھئی جنہوں نے آج قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالا۔
ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ وقال الذین آمنوا اور کہیں گے وہ لوگ جو ایمان لائے ان الخاسرین الذین خسروا انفسهم و اهلهم یوم القیامه کہ بیشک خسارہ اٹھانے والے نقصان اٹھانے والے تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے نقصان میں ڈالا اپنے نفسوں کو بھی اور اپنے گھر والوں کو بھی قیامت کے دن۔
ألا إن الظالمین في عذاب مقیم
آگاہ رہو بیشک ظالم فی عذاب مقیم وہ عذاب میں ہوں گے مقیم دائمی ہمیشہ کے۔
وہ ایسے عذاب میں ہوں گے مقیم جو رہنے باقی رہنے ہمیشہ رہنے والا ہوگا.
ألا إن الظالمین في عذاب مقیم آگاہ رہو بیشک ظلم کرنے والے دائمی عذاب میں ہوں گے۔
وما كان لهم من اولياء ينصرونهم من دون الله اور نہیں ہوں گے ان کے لئے کوئی مددگار جو ان کی مدد کریں اللہ کے علاوہ۔
ومن یضلل الله فما له من سبيل اور جس کو اللہ گمراہ کر دے تو نہیں ہے اس کے لیے کوئی راستہ۔
استجیبو لربکم من قبل ان یاتی یوم لا مرد له من الله استجیبو لربکم
کیا معنی؟ قبول کرو لربکم
اي لأمر ربکم تم قبول کرو تم مان لو اپنے پروردگار کی بات کو من قبل اس سے پہلے ان یاتی یوم کہ آجائے وہ دن لا مرد لہ کہ نہیں ہے اس کا لوٹنا من اللہ اللہ کی طرف سے۔
استجیبو لربکم من قبل ان یاتی یوم لا مرد لہ من اللہ تم اپنے پروردگار کا حکم مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آجائے کہ جس کے لیے واپسی نہیں ہے اللہ کی طرف سے۔
ما لكم من ملجأ يومئذ وما لكم من نكير
ما لكم من ملجئ نہیں ہوگا تمہارے نہیں ہوگی تمہارے لیے کوئی پناہ کی جگہ یومئذ اس دن۔
نہیں ہوگی تمہارے لیے کوئی پناہ کی جگہ ملجأ پناہ کی جگہ پناہ گاہ بھئی.
نہیں ہوگی تمہارے لیے کوئی پناہ کی جگہ یومئذ اس دن وما لكم من نكير
نکیر بمانی انکار کے ہے بھئی
مستر ہے کس معنی میں ہے؟
انکار کے معنی میں ہے وما لكم من نكير اور نہیں ہوگا تمہارے لیے انکار کرنا یعنی تم انکار نہ کر سکو گے۔
یعنی تم مکر نہ سکو گے۔
اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ ما لكم من ملجأ يومئذ نہیں کہ تمہارے لیے اس دن کوئی پناہ کی جگہ نہیں ہوگی وما لكم من نكیر اور نہ تم مکر سکو گے ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور نہ تم مکر سکو گے۔
اس پر اشکال آپ کے ذہن میں آئے گا کہ قرآن میں جگہ جگہ ذکر آتا ہے کہ وہ اپنے سارے جرموں کا انکار کریں گے مکر جائیں گے ہم نے کچھ کیا ہی نہیں شرک وغیرہ تو ہم نے کیا ہی نہیں تو پھر یہ کیسے نفی کی گئی کہ وہ انکار نہیں کریں گے کوئی مکر نہ سکے گا تو جواب یہ کہ بھئی چونکہ ان کا انکار ان کو کوئی فائدہ ہی نہیں دے گا تو وہ انکار بھی لا انکار کی طرح ہوا گویا ہے ہی نہیں بھئی صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟
وما لكم من نكير اور نہیں ہے ہوگا تمہارے لیے مکر جانا یعنی تم مکر نہ سکو گے۔
نکیر کا ایک معنی میں نے کیا کیا؟
انکار کے انکار
ما لكم من ملجأ يومئذ وما لكم من نكير
نہ تو تمہارے لیے کوئی پناہ کی جگہ ہوگی اس دن اور نہ تم انکار کر سکو گے۔
یہ ایک معنی ہوا بھئی۔
دوسرا معنی نکیر بمانی منکر کے بھئی
پہلا معنی نکیر بمانی انکار کے دوسرا معنی نکیر بمانی منکر کے انکار کرنے والا۔
اور نہیں ہوں گے تمہارے لیے کوئی انکار کرنے والے یعنی روک ٹوک کرنے والے۔
تمہارے لیے کوئی نہ اس دن تمہارے لیے کوئی پناہ کی جگہ ہوگی اور نہ کوئی تمہارے لیے انکار کرنے والا ہوگا یعنی اللہ سے روک ٹوک کرنے والا۔
کوئی تمہارے لیے اللہ سے روک ٹوک کرنے والا نہیں ہوگا کہ ان کو یہ سزا کیوں دی گئی کہ ان کو یہ سزا کیوں دی گئی یا ان کو یہ سزا نہیں ملنی چاہیے وغیرہ تو کوئی روک ٹوک کرنے والا نہیں ہوگا۔
یہ یوں ترجمہ کر لیں اور نہیں ہوگا تمہارے لیے کوئی پوچھ گچھ کرنے والا یعنی اللہ سے۔
معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ تو ایک معنی کیا ہوا وما لكم من نكير اور تمہارے لیے تم انکار نہ کر سکو گے دوسرا معنی کہ تمہارے لیے کوئی روک ٹوک کرنے والا پوچھ گچھ کرنے والا نہیں ہوگا اللہ سے۔
فإن أعرضوا فما أرسلناك عليهم حفيظا حفیظ نگہبان بھئی نگران۔
فإن أعرضوا پس اگر وہ لوگ اعراض کریں منہ موڑیں آپ کی دعوت قبول نہ کریں فإن أعرضوا پس اگر وہ اعراض کریں فما أرسلناك عليهم حفيظا تو ہم نے نہیں بھیجا آپ کو ان پر نگران بنا کر ہم نے آپ کو ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجا اگر وہ منہ موڑتے ہیں تو آپ اس کی پرواہ نہ کیجیے آپ اس کے ذمہ دار نہیں آپ کا کام صرف دعوت پہنچا دینا ہے آپ ان پر کوئی ذمہ دار اور نگران نہیں ہیں۔
فإن أعرضوا پس اگر وہ منہ موڑیں فما أرسلناك عليهم حفيظا تو ہم نے آپ کو ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجا ان عليك الا البلاغ ان نفی کے لئے ہے ان عليك اي ما عليك الا البلاغ نہیں ہے اپ پر الا البلاغ مگر پہنچا دینا اے پیغمبر آپ کے ذمے صرف کیا ہے دین کو دعوت کو ان تک پہنچا دینا ہے بس۔
ان عليك الا البلاغ آپ پر صرف پہنچا دینا ہی ہے وإنا إذا أذقنا الإنسان منا رحمة فرح بها اور بیشک ہم جب چکھا دیں انسان کو منا اپنی طرف سے رحمت فرح بها تو وہ خوش ہو جاتا ہے۔
وإن تصبهم سيئة وبما قدمت أيديهم اور اگر اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے بما قدمت أيديهم بوجہ اپنے ہاتھوں کے
بوجہ اس کے جو آگے بھیجا اس کے ہاتھوں نے
بما بوجہ اس چیز کے قدمت أيديهم جس کو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا فإن الإنسان كفور تو بس بیشک انسان ناشکرا ہو جاتا ہے انسان ناشکرا بن جاتا ہے بڑا ناشکرا بھئی کفور مبالغے کا صیغہ آیا۔
وإن تصبهم سيئة اور اگر پہنچے ان کو کوئی تکلیف بما قدمت أيديهم اپنے ہاتھوں کے عمل کی وجہ سے کی وجہ سے
فإن الإنسان كفور پس بیشک انسان بڑا ناشکرا ہو جاتا ہے للہ ملك السماوات والأرض اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی يخلق ما يشاء پیدا کرتا ہے وہ جو چاہتا ہے يهب لمن يشاء إناثا وہب یھب کے معنی ہوتے ہیں عطا کرنے کے یہب لمن يشاء إناثا عطا کرتا ہے وہ جس کو چاہتا ہے اناثا لڑکیاں ويہب لمن يشاء الذكور جس کو چاہتا ہے اناث مؤنث عطا کرتا ہے یعنی لڑکیاں یعنی بیٹیاں عطا کرتا ہے۔
یہب لمن يشاء اناثا وہ عطا کرتا ہے جس کو چاہتا ہے لڑکیاں ويہب لمن يشاء الذكورا اور عطا کرتا ہے جس کو چاہتا ہے لڑکے ويہب لمن يشاء الذكور اور جس کو چاہتا ہے لڑکے عطا کرتا ہے یہی یہ ترجمہ کر لیں جس کو چاہتا ہے بیٹے عطا کرتا ہے او یزوجهم
زوج یزوج ملا دینا او یزوجهم یا ان کے لیے ملا دیتا ہے ذكرانا واناثا لڑکے اور لڑکیاں
ويجعل من يشاء عقیما اور بنا دیتا ہے جس کو چاہتا ہے بانجھ یعنی جس کو چاہتا ہے بانجھ بنا دیتا ہے بے اولاد بنا دیتا ہے إنه عليم قدیر بیشک وہ سب کچھ جاننے والا ہر چیز پر قادر ہے۔
اللہ فرما رہے ہیں اللہ ہی کے لیے ہے زمین اور آسمان کی بادشاہی وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے کسی کو وہ صرف بیٹیاں دیتا ہے کسی کو صرف وہ بیٹے دے دیتا ہے کسی کو بیٹے اور بیٹیاں دونوں دے دیتا ہے اور کسی کو وہ بانجھ بنا دیتا ہے بے اولاد رکھتا ہے وہ سب کچھ جاننے والا ہے ہر چیز پر قادر ہے وہ اپنی حکمت کے مطابق جو جس کے لیے ہو ہونا چاہیے اسی طرح اولاد دیتا ہے کسی کو صرف بیٹیاں دے دیتا ہے کسی کو صرف بیٹے دے دیتا ہے کسی کو بیٹے اور بیٹیاں دونوں دے دیتا ہے اور کسی کو سرے سے کوئی اولاد ہی نہیں دیتا۔
وما كان لبشر اور نہیں ہے کسی بشر کے لیے أن يكلمه الله یہ کہ اللہ اس سے کلام فرمائیں اللہ اس سے ہم کلام ہوں نہیں ہے کسی بشر کے لیے یعنی کسی بشر کی طاقت نہیں ہے کہ اللہ اس سے کلام فرمائیں کسی بشر کی کسی انسان کی طاقت نہیں ہے کہ اللہ اس سے ہم کلام ہوں الا وحيا مگر وحی کے ذریعے او من وراء حجاب یا کسی یا پردے کے پیچھے سے حجاب پردہ ورا پیچھے او من وراء حجاب یا پردے کے پیچھے سے او يرسل رسولا یا بھیج دیں کسی پیغام لانے والے کو فيوحي بإذنه ما يشاء پس وہ پہنچا دے وہ وحی کر دے وہ جو پیغام لانے والا ہے بإذنه اس کی اجازت سے کس کی اجازت سے؟ اللہ کی اجازت سے ما يشاء جو وہ چاہے یعنی جو اللہ چاہے۔
معنی سمجھ میں آیا بھئی او يرسل رسولا یا وہ بھیج دے کسی پیغام لانے والے کو فيوحي پس وہ پیغام لانے والا پہنچا دے وحی کر دے بإذنه اس اللہ کی اجازت سے ما يشاء جو اللہ چاہے۔
إنه علي حكيم بیشک وہ عالی شان حکمت والی حکمت والے ہیں إنه علي حكيم بیشک وہ عالی شان سب سے بلند حکیم سب سے زیادہ حکمت والے ہیں۔
اللہ فرما رہے ہیں وما كان لبشر أن يكلمه الله کسی بشر کی یہ طاقت نہیں ہے کہ اللہ اس سے ہم کلام ہوں یاد رکھیے یہ جو ہمیں ہمارا جودت عنصری جو ہے اور یہ جو ہمارے قوا ہیں ان میں اس کا تحمل ہی نہیں ہے کہ اللہ براہ راست آمنے سامنے ہو کر کلام فرمائیں۔
یہ اس کا تحمل کر ہی نہیں سکتا یہ ہمارا جسد عنصری اور ہمارے یہ قوا بھئی ہاں یا تو اللہ کلام فرماتے ہیں بشر سے وحی کے ذریعے یا کسی پردے کے پیچھے سے یا کسی پیغام لانے والے کو یعنی کسی فرشتے کو بھیجتے ہیں تو تین صورتیں یہاں ذکر ہوئیں بھئی تین صورتیں ایک کو کیا کہا وحی اور ایک کیا کہ اللہ کسی پردے کے پیچھے سے کلام فرمائیں جیسا کہ حضرت موسی علیہ السلام سے کلام فرمایا تھا کوہ طور پر یا جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کلام فرمایا معراج میں اس طریقہ پر پردے کے پیچھے سے کیونکہ یہ جسد عنصری یہ طاقت ہی نہیں رکھتا یہ طاقت ہی نہیں رکھتا بھئی کہ اللہ کی زیارت کر سکے۔
اس میں اتنی طاقت ہی نہیں ہے سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ فانی بدن ہے فنا ہو جانے والا ہے یہ آنکھیں فنا ہو جانے والی ہیں ان میں اتنی طاقت ہی نہیں کہ اللہ کا دیدار ان کے ذریعے ممکن ہو سکے ہاں آخرت میں جب اللہ پیدا فرمائیں گے تو ابدی بدن اب ابدی بدن دیا جائے گا ہمیشہ ہمیشہ رہنے والا بدن دیا جائے گا اور پھر اس اللہ کی زیارت اور اللہ کی رویت اس کے ذریعے ہو سکے گی چنانچہ روایات میں آتا ہے جنتی جنت کے اندر اپنے اپنے مشغلوں میں مشغول ہوں گے تو اچانک اللہ تعالی تجلی فرمائیں گے بھئی اور سارے جنتی اللہ کی رویت میں مشغول ہو جائیں گے اور اس رویت کی اتنی لذت ہوگی اتنی لذت ہوگی کہ ساری جنت کی نعمتوں کو بھلا دیں گے اور اسی میں مگن ہو جائیں گے اور پھر کچھ دیر بعد پھر اللہ پردہ فرما لیں گے بھئی۔
समझ में आया भाई؟ हां इस वक्त जो हमारा जिस्म है और जिस दंरसी है इसमें ताकत ही नहीं है कि दीदार इलाही कर सके भाई तो चुनांचे अल्लाह कलाम फरमाते हैं फिर या तो पर्दे के पीछे से जैसे मैंने जिक्र किया हजरत मूसा अलैहिस्सलाम के साथ कोह तौर पर या जैसे कि नबी करीम सल्लल्लाहु अलेही वसल्लम के साथ कलाम फरमाया
یا وحی کے ذریعے ایک طریقہ کیا ذکر ہوا؟ وحی کے ذریعے
وحی کے ذریعے یاد رکھیے وحی کہتے ہیں خفیہ پیغام کو اور اشارہ سریعہ تیز اشارہ بھئی تیزی سے جو اشارہ کیا جائے اس کو کیا کہتے ہیں وحی کہتے ہیں خفیہ پیغام اور اشارہ سریعہ
اور اس سے غالباً وہ کیفیت مراد ہے وہ صورت مراد ہے جس میں فرشتہ وحی لے کر آتا ہے یعنی حضرت جبرئیل امین وحی لے کر آتے اور لیکن وہ آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتے تھے بھئی آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتے تھے ہاں صرف قلب کے ذریعے ان کا ادراک ہوتا اور ان کی آواز کا ادراک ہوتا تھا صرف کس کے ذریعے؟ قلب کے ذریعے صرف ان کا ادراک ہوتا تھا چلیے بھئی اپ کے استاد آ گئے باقی سبق انشاءاللہ کل کریں گے بھئی هذا هو المرام واللہ اعلم بحقيقة الكلام