اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم لقد رضی اللہ عن المؤمنین اذ یبایعونک تحت الشجرة فعلم ما فی قلوبہم فانزل السکینۃ علیہم و اثابہم فتحاً قریبہ و مغانم کثیرۃ یأخذونہا و کان اللہ عزیزا حکیما
بھئی گزشتہ سبق میں سورۃ الفتح ہم نے شروع کی تھی اور میں نے بتلایا تھا کہ یہ سورت سورہ صلح حدیبیہ کے موقع پر نازل ہوئی اور صلح حدیبیہ کو اللہ تعالی نے فتح مبین قرار دیا مسلمانوں کے لیے تو یہ اسی کا ذکر چل رہا ہے
آگے اللہ فرماتے ہیں لقد رضی اللہ عن المؤمنین کہ تحقیق البتہ راضی ہوئے اللہ مومنین سے یا یوں ترجمہ کر لیں یقیناً اللہ خوش ہوئے مومنوں سے یقیناً اللہ تعالی لقد رضی اللہ عن المؤمنین یہ لام بھی تاکید کے لیے قد بھی تاکید کے لیے تو یقیناً یقیناً اللہ خوش ہوئے مومنین سے اذ یبایعونک تحت الشجرہ جب وہ بیعت کر رہے تھے آپ کی تحت الشجرہ اس درخت کے نیچے الشجرہ بھئی الف لام آیا متعین درخت مراد ہے جس یہ جس کے نیچے بیٹھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ سے موت کی بیعت لی تھی موت کی بیعت بھئی
میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کو بات چیت کرنے کے لیے قریش مکہ کی طرف مکہ بھیجا بھئی مکہ بھیجا اور پھر یہ افواہ مشہور ہو گئی کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کو قتل کر دیا گیا ہے
تو آپ نے ان کے بدلہ لینے آپ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے بدلہ لینے کا اعلان کیا کیونکہ ایلچی اور قاصد جو ہوتا تھا قاصد کو تو کوئی بھی نہیں قتل کرتا تھا بھئی سمجھ میں آیا بھئی تو اور تو آپ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان کیا اور تمام مسلمانوں سے جو آپ کے ہمراہ تھے موت کی موت پر بیعت لی کہ لڑائی کے میدان سے کوئی بھی نہیں بھاگے گا
تو یہ اسی کا ذکر ہے بھئی اور یہ درخت جو تھا یہ کیکر کا درخت تھا جس کے نیچے بیٹھ کر آپ نے بیعت لی بھئی کیکر کا درخت اسی کو بوبول بھی کہتے ہیں بھئی کیکر کے درخت کو لقد رضی اللہ عن المؤمنین اذ یبایعونک تحت الشجرہ یقیناً اللہ خوش ہوئے مومنین سے جس وقت وہ آپ کی بیعت کر رہے تھے اس درخت کے نیچے فعلم ما فی قلوبہم پس اللہ جانتے تھے وہ جو ان مومنین کے دلوں میں تھا فانزل السکینۃ علیہم تو اللہ نے ان پر اطمینان نازل فرمایا و اثابہم فتحاً قریبہ اور بدلہ دیا ان کو ایک قریبی فتح و اثابہم ان کو بدلہ دیا ان کو انعام دیا و اثابہم فتحاً قریبہ اور انعام میں دی ایک قریبی فتح
فعلم ما فی قلوبہم پس اللہ کو معلوم تھا وہ جو ان مومنین کے دلوں میں تھا یعنی مومنین کے دلوں میں جو اخلاص تھا جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا جذبہ تھا اس کو اللہ جانتے تھے فانزل السکینۃ علیہم تو اللہ نے ان پر اطمینان نازل فرمایا معنی سمجھ میں آیا بھئی ان کے دلوں میں کیا تھا؟ جو اخلاص تھا جو حسن نیت تھی جو اطاعت کا جذبہ تھا جو اسلام پر ثابت قدمی تھی تو وہ اللہ کو معلوم تھی یا بعض علماء نے اور معنی بیان کیا بھئی اور وہ کہتے ہیں کہ اللہ کو معلوم تھا وہ جو مومنین کے دلوں میں ہے وہ جو مومنین کے دلوں میں بے چینی اور اضطراب تھا بھئی
میں نے ذکر کیا تھا کہ انہوں نے بڑی سخت شرائط پیش کی تھیں اور ان کی ہر بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مانتے چلے گئے بھئی تو مسلمان مسلمانوں میں اس کی وجہ سے بڑی بے چینی تھی کہ ان کی انہوں نے کس طرح کی شرائط لگائی ہیں اور تو تو مسلمانوں کے دلوں میں اس کی وجہ سے بڑی بے چینی تھی انہوں نے بڑی عجیب عجیب شرائط لگائی تھیں کہ ہماری طرف سے جو چلا جائے گا مسلمان اس کو واپس کریں گے اور جو مسلمانوں کی طرف سے آئے گا ہم اسے واپس نہیں کریں گے اور اس سال عمرہ کرنے بھی نہیں دینا ویسے ہی جاؤ گے اس سال یہاں سے اور اگلے سال آ کر پھر عمرہ کرو گے اور اسلحہ ساتھ نہیں لاؤ گے تین دن سے زیادہ مکہ میں نہیں رہو گے بس تین دن کے لیے آؤ گے اور پھر فورا چلے جاؤ گے اور اس طرح کی شرائط تھیں جس کی وجہ سے مسلمانوں کو بڑی تکلیف ہوئی ان کی ان شرائط سے تو اس کا ذکر اللہ فرما رہے ہیں فعلم ما فی قلوبہم اللہ جانتے تھے جو ان مومنین کے دلوں میں اضطراب تھا فانزل السکینۃ علیہم تو اللہ نے ان پر اطمینان نازل کیا مومنین پر بھئی اور انہوں نے بلا چو چراں کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ کی اطاعت کی بھئی معنی سمجھ میں آیا بھئی و اثابہم فتحاً قریبہ اور انعام میں دے دیو ان کو ایک قریبی فتح و مغانم کثیرۃ یأخذونہا اور بہت سی غنیمتیں جس کو وہ لیں گے و مغانم کثیرۃ یأخذونہا اور بہت سی غنیمتیں یأخذونہا جن کو وہ مومن لیں گے جن کو وہ حاصل کریں گے ھا ضمیر مغانم کو راجع ہے جن غنیمتوں کو وہ مومنین حاصل کریں گے لیں گے بھئی
یہ آگے جو فتح خیبر کے موقع پر جو اس غزوے سے جو اس صلح حدیبیہ سے واپسی کے صرف ڈیڑھ دو ماہ کے بعد غزوہ خیبر پیش آیا اور جس میں مسلمانوں کو بے انتہا مال ہاتھ آیا اور مسلمان آسودہ حال ہو گئے بھئی و مغانم کثیرۃ یأخذونہا تو یہ مغانم کا عطف فتحاً قریبًا پر ہے اللہ نے ان کو انعام میں دیے قریبی فتح اور بہت سی غنیمتیں یأخذونہا جن کو وہ لے لیں گے جن کو وہ حاصل کریں گے وکان اللہ عزیزا حکیما اور اللہ زبردست ہیں حکمت والے ہیں وعلیکم اللہ مغانم کثیرۃ تأخذونہا وعدہ کیا ہے اللہ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا تأخذونہا جن کو تم لوگے تأخذونہا ھا ضمیر کس کو راجع؟ مغانم کو راجع سمجھ میں آیا بھئی پیچھے صیغہ تھا یأخذونہا جن کو مومنین لیں گے یہاں اب خطاب آ گیا کثیرۃ تأخذونہا جن کو اے مومنین تم لوگے تو یہ التفات ہوا غیبت سے غیبت سے خطاب کی طرف التفات ہوا غیبت سے خطاب کی طرف التفات یاد ہے یا بھول گئے بھئی کلام کے تین طریقے ہیں غیبت، تکلم، خطاب ایک طریقے سے دوسرے طریقے کی طرف انتقال یہ کیا کہلاتا ہے التفات اور اس سے کلام میں حسن پیدا ہوتا ہے کیونکہ اگر ایک ہی انداز میں کلام چلتا رہے تو سننے والا کے لیے اس میں اتنی لذت نہیں رہے گی لیکن جب انداز بدلا جاتا ہے تو اس سے دوسرے اس کلام میں حسن پیدا ہو جاتا ہے اس کی توجہ اس کی طرف بڑھ جاتی ہے جیسے خطیب حضرات بھی کیا کرتے ہیں بھئی ایک ہی انداز میں بات نہیں چلاتے کبھی ایک طرف انداز اختیار کرتے ہیں کبھی دوسرا انداز اختیار کرتے ہیں تو اپنی اپنی فصاحت کے مطابق بھئی وعلیکم اللہ مغانم کثیرۃ تأخذونہا اللہ نے وعدہ کیا ہے تم سے بہت سی غنیمتوں کا جن کو تم حاصل کرو گے فعجل لکم هذه پس جلدی دے دی تم کو یہ والی اللہ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کیا ہے آگے چل کر بہت سی غنیمتیں مسلمانوں کو ملنے والی تھیں خصوصاً خلفائے راشدین کے زمانہ میں پھر جا کر فارس اور روم جو اس زمانے کی سپر پاور تھیں ان کی بھی ساری غنیمتیں اور مال جو تھا وہ مدینہ پہنچا بھئی اور اتنا مال اتنا مال کہتے ہیں کہ مدینہ کے اندر جو تھے ان کے قیمتی پتھر وغیرہ اور جواہرات وغیرہ وہ کنکریوں اور پتھروں کی طرح سستے ملتے تھے بھئی اتنی کثرت سے آئے ان کی غنیمتیں بھئی وہاں سے
وعدکم اللہ مغانم کثیرۃ تأخذونہا فعجل لکم هذه اللہ نے وعدہ کیا ہے تم سے بہت سی غنیمتوں کا جنہیں تم حاصل کرو گے فعجل لکم هذه پس جلدی دے دی تم کو یہ ولی یہ خیبر والی وکف أیدی الناس عنکم اور روک دیے لوگوں کے ہاتھ تم سے اور روک دیے لوگوں کے ہاتھ تم سے یعنی وہ تمہیں کوئی تکلیف نہ پہنچا سکے اس سے کیا مراد ہے بھئی؟ بعضوں نے کہا یہ جو قریبی مکہ کو روک دیا وہ لڑائی نہ کر سکے ان کو ہمت نہ دی اللہ نے لڑائی کرنے کی اور وہ صلح پر مجبور ہو گئے بھئی ان پر اللہ نے رعب طاری فرما دیا اور انہوں نے صلح کر لی بھئی بعضوں نے کہا کہ ادھر پیچھے یہود نے ارادہ کیا تھا کہ مسلمان تو گئے ہوئے ہیں مکہ کی طرف ہم پیچھے ان کے جو ہے صرف بچے اور عورتیں باقی ہیں تو ہم ان پر حملہ کریں اور ان کے تو سارا کچھ لوٹ لیں قتل کر دیں ان کو تو اس کا ذکر وہ مراد ہیں کہ ان کو اللہ نے روک دیا
بعضوں نے کہا کہ جس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح خیبر کے لیے چلے غزوہ خیبر کی طرف جب روانہ ہوئے غزوہ خیبر کے لیے تو پیچھے دو قبیلے تھے بنو غطفان اور بنو اسد انہوں نے ارادہ کیا کہ مسلمان تو سارے گئے ہوئے ہیں خیبر کی طرف ہم مدینہ پر حملہ کرتے ہیں اور سارا کچھ ان کا لوٹ لیتے ہیں ان کی عورتوں اور بچوں کو قتل کر دیتے ہیں یا غلام باندھیاں بنا لیتے ہیں کوئی ہے تو موجود تو ہوگا نہیں سارے تو خیبر کی طرف گئے ہوئے ہیں لیکن پھر انہی میں سے کوئی کہنے لگا کہ بھئی محمد تو بڑے ذہین آدمی ہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے وہ گئے ہوں اور مدینہ بالکل ہی خالی چھوڑ دیا ہو یقیناً انہوں نے پیچھے چھپا کر کوئی مدد کا بندوبست رکھا ہو گا یہ نہ ہو کہیں جاؤ تو الٹا نقصان میں ہی پڑ جاؤ چنانچہ ان کو اللہ نے اس طرح روک دیا بھئی
معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ معنی ہے وکف کف کے معنی روکنے کے وکف أیدی الناس عنکم اور روکے لوگوں کے ہاتھ تم سے ولتكون آیۃ للمؤمنین ولتكون اور تاکہ یہ نشانی ہو جائے مومنین کے لیے یہ جو جلدی غنیمتیں تمہیں دیں اللہ نے یہ تاکہ کیا ہو جائے مومنین کے لیے نشانی ہو جائے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہیں لتکونا یہ علت بیان کی جا رہی ہے تاکہ یہ جلدی اللہ نے جو غنیمتیں دیں یہ مومنین کے لیے نشا توجہ ہے بھئی مومنین کے لیے کیا ہو جائے؟ نشانی اللہ نے جلدی غنیمتیں دیں تاکہ مومنین کے لیے نشانی ہو جائے اس سے پہلے واؤ آیا اور واؤ آتا ہے عطف کے لیے بھئی اس کا عطف کس پر ہے پھر؟ ما قبل میں تو کوئی علت بیان نہیں ہوئی یہ تو پہلی علت بیان ہو رہی ہے اللہ نے یہ جلدی دی ولتکونا تو یاد رکھیے یہاں کلام کچھ محذوف ہے عبارت محذوف بھئی اور وہ کیا لتشکرہ لتشکرہ اللہ نے تمہیں یہ یہ غنیمتیں جلدی دیں یہ والی یہ خیبر والی اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک لیے لتشکرہ تاکہ تم اللہ کا شکر ادا کرو ولتكون آیۃ للمؤمنین اور تاکہ یہ مومنین کے لیے ایک نشانی ہو جائے ویہدیکم صراط مستقیمہ یہ یہدیہ کا عطف تکونا پر ہے یہ بھی لام کے تحت ہے ویہدیکم صراط مستقیمہ اور تاکہ تمہیں چلائے اللہ سیدھے راستے پر وأخر لم تقدروا علیہ اور ایک اور دوسری بھی ای مغانم أخرا بھئی یہاں موصوف محذوف ہے أخرا سے پہلے موصوف محذوف اور دوسری غنیمتیں بھی اور دوسری غنیمتیں بھی لم تقدروا علیہ جن پر تم ابھی قاد جن پر تم قادر نہیں ہوئے یعنی ابھی تک جس پر تم قادر نہیں ہوئے قد أحاط اللہ بہا تحقیق اللہ نے ان کا احاطہ کیا ہوا ہے ہا ضمیر غنیمتوں کو راجع ہے بھئی اور تو اور غنیمتیں بھی لم تقدروا علیہ جن پر تم قادر نہیں ہوئے یعنی جو ابھی تمہارے قابو میں نہیں ہیں قد أحاط اللہ بہا تحقیق اللہ نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے وہ اللہ کے قابو میں ہیں بھئی تو یہ غنیمت جلدی دے دی اور غنیمتیں جن پر ابھی تم قادر نہیں ہوئے بھئی جو آگے چل کر ملنے والی تھیں بھئی سمجھ میں آیا بھئی؟ روم اور فارس وغیرہ کی جی وکان اللہ علی کل شيء قدیرًا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہیں ولو قاتلکم الذین کفروا لوّلو الادبار اللہ فرما رہے ہیں کہ اللہ نے ان کے ہاتھوں کو تم سے روک دیا اور انہوں نے تم سے صلح کر لی ولو قاتلکم الذین کفروا اور اگر لڑائی کرتے تم سے یہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تو یہ نہیں کہ یہ بڑے زور آور تھے اور یہ غالب آ جاتے بلکہ اگر لڑائی بھی ہوتی تو یہ پشت پھیر کر بھاگتے ان کو عبرت ناک شکست ہوتی ولو قاتلکم الذین کفروا اور اگر لڑائی کرتے تم سے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا لوّلو الادبار تو البتہ وہ پھیرتے پشتیں وہ پھیر لیتے پشتیں یعنی پشت پھیر کر
لیتے، هلا واللّٰہ الادبار تو پوچھتے پوچھتے پھیر لیتے، ثم لا یجدون ولیاً ولا نصیراً، پھر نہ پاتے وہ ولیاً کوئی دوست ولا نصیراً اور نہ کوئی مددگار۔
سنت اللّٰہ التی قد خلت من قبل، سنت اللّٰہ کیا ترکیب ہوگی یہاں پر؟ سن اللّٰہ سنتًا، سن اللّٰہ سنتًا یہ مفعول مطلق ہے بھئی! اور پھر فعل کو حذف کردیا گیا اور فاعل کی طرف اس مفعول مطلق کی اضافت کردی گئی۔ سنت اللّٰہ التی قد خلت من قبل، اللّٰہ کا طریقہ ہے جو گزر چکا ہے پہلے، جو پہلے سے چلا آرہا ہے، اللّٰہ کا طریقہ ہے، قد خلت من قبل جو پہلے بھی گزر چکا ہے یعنی پہلے سے ہی چلا آرہا ہے اللّٰہ کا طریقہ ہے۔ کیا طریقہ ہے اللّٰہ کا؟ کہ جب بھی حق اور باطل کا معرکہ ہوتا ہے تو اللّٰہ حق کو فتح نصیب فرماتے ہیں۔ اگرچہ کہیں جُزوی طور پر کہیں حق مغلوب بھی ہو جائے لیکن بالاخر فتح کس کی ہوتی ہے؟ حق ہی کی ہوتی ہے اور باطل کو دم دبا کر بھاگنا پڑتا ہے۔
سنت اللّٰہ التی قد خلت من قبل، اللّٰہ کا طریقہ ہے جو پہلے سے چلا آتا ہے، ولن تجد لسنت اللّٰہ تبدیلا اور آپ ہرگز نہیں پائیں گے اللّٰہ کے طریقے میں کوئی تبدیلی۔
وہو الذی كف أیدیهم عنكم وأیدیکم عنهم ببطن مكة، اور یہ وہو الذی اور وہ اللّٰہ وہی اللّٰہ ہی وہ وہو الذی اور وہ اللّٰہ وہی ذات ہے وہو الذی وہ ضمیر اللّٰہ کو راجح، اللّٰہ ہی وہ ذات ہے، كف أیدیهم عنكم کہ جس نے روک دیے أیدیهم ان کے ہاتھوں کو یعنی مشرکین مکہ کے ہاتھوں کو روک دیا عنكم تم سے، وأیدیکم عنهم اور تمہارے ہاتھوں کو عنهم ان سے، ببطن مكة مکہ کے بیچ میں۔
اللّٰہ ہی وہ ذات ہیں جنہوں نے مشرکین مکہ کے ہاتھوں کو اے مسلمانوں تم سے روک دیا اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روک دیا ببطن مکہ مکہ کے بیچ میں۔
بھئی! حدیبیہ میں نے بتلایا کہ صرف مکہ سے صرف چھ میل کے فاصلے پر ہے یہ مقام بھئی۔ تو مکہ کے یعنی بالکل قریب بس یوں سمجھو گویا مکہ کے بیچ میں ہی اللّٰہ نے کیا کیا؟ تمہارے اور ان کے ہاتھوں کو ایک دوسرے سے روک لیا۔ بھئی! معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ کہ مکہ کے بالکل قریب میں بس یوں سمجھو گویا مکہ کے اتنا قریب یوں سمجھو گویا مکہ کے بیچ میں ہی ببطن مکہ مکہ کے بیچ میں۔
من بعد، بعد اس کے ان أظفركم عليهم، تمہیں فتح یاب کر دیا تھا ان پر۔
بعد اس کے کہ تمہیں کامیابی دے دی تھی علیہم ان پر۔ معنی سمجھ میں آرہا ہے بھئی!
اللّٰہ ہی وہ ذات ہے جس نے روک دیے ان کے ان کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے ببطن مکہ مکہ کے بیچ میں من بعد ان أظفرکم علیہم، بعد اس کے کہ اللّٰہ نے تمہیں ان پر کامیابی دے دی تھی، ان پر فتح دے دی تھی، وكان اللّٰہ بما تعملون بصیرا اور اللّٰہ جو کچھ تم کرتے ہو اس کو دیکھ رہے ہیں۔
بھئی! یہ مشرکین مکہ جو تھے جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم صحابہ کو لے کر پہنچے اور انہوں نے ادھر وہ میں نے جیسے ذکر کیا تھا حضرت خالد بن ولید رضی اللّٰہ تعالی عنہ وہ ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ وہ مقابلے کے لیے تیار ہو کر نکلے، حضور علیہ السلام کو علم ہوا، راستے میں تھے آپ، آپ نے تھوڑا سا اپنا راستہ بدل لیا کہ ان سے سامنا نہ ہو کیونکہ آپ لڑنے تو آئے نہیں تھے، آپ تو صرف عمرہ ادا کرنے آئے تھے۔ چنانچہ بالکل مکہ کے قریب حدیبیہ کے مقام پر جاکر آپ نے پڑاؤ ڈال دیا۔
اب ان مشرکین کی طرف سے مختلف لوگ آتے بھئی، بات چیت کرتے کہ اجازت نہیں آپ لوگوں کو آنے کی، اگر آئے تو لڑائی ہوگی وغیرہ، اس طرح کے پیغامات بھئی۔ تو صحابہ نے حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو مشورہ دیا کہ یا رسول اللّٰہ! ان کے آدمی آرہے ہیں، آپ بھی کوئی پیغام رساں کسی کو بھیجیں جو ان کے سرداروں سے جاکر بات کریں۔
چنانچہ بھئی! روایات میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے پھر حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالی عنہ سے کہا کہ آپ میری طرف سے پیغام رساں بن کر جائیں اور ان سے جاکر بات کریں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالی عنہ بھئی ان کی بڑی جلالی طبیعت تھی بھئی۔ ان کا واقعہ تو انسان سنتا ہے حیران رہ جاتا ہے کہ کیسے کتنا جلال تھا ان کا بھئی، کتنا جلال تھا۔ جیسے واقعہ میں نے ذکر کیا تھا کہ ایک مرتبہ ایک یہودی اور ایک منافق کے اندر کسی بات پہ جھگڑا آیا، حضور علیہ السلام کے پاس آئے، یہودی بھی آیا کیونکہ وہ بھی جانتا تھا کہ یہ شخص جو ہے یہ کبھی بھی غلط بات نہیں کرتا، ہمیشہ حق بات ہی ان کی طرف سے ملتی ہے۔ ہمیں چنانچہ وہ بھی راضی ہوگیا، ٹھیک ہے حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہی فیصلہ کر دیتے ہیں۔ یہودی حق پر تھا، منافق غلط تھا۔ منافق کا خیال تھا کہ حضور علیہ السلام، میں تو چونکہ ظاہر میں مسلمان ہوں لہذا میرے حق میں فیصلہ کریں گے چاہے میں غلط ہی کیوں نہ ہوں۔ حضور علیہ السلام نے دونوں کی بات سننے کے بعد یہودی کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ تو منافق کو تو بڑی تکلیف ہوئی، اس کے تو خیال میں تھا میرا ساتھ دیں گے، باہر نکلے وہاں سے حضور علیہ السلام کے پاس سے تو یہودی سے کہنے لگا کہ بھئی! میں تو اس فیصلے پر نہیں راضی، چلو عمر کے پاس چلتے ہیں۔
جانتا تھا کہ عمر رضی اللّٰہ تعالی عنہ تو کفار کے سخت ترین دشمن ہیں بھئی، تو وہ تو یقیناً میرے حق میں فیصلہ کریں گے۔ چنانچہ گئے بھئی اور پھر حضرت عمر رضی اللّٰہ تعالی عنہ کے گھر پہنچے، آپ کو بلوایا، آپ تشریف لائے، تو پوچھا کیا بات ہے؟ تو انہوں نے یہودی نے کہا کہ ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس گئے تھے، ہمارا جھگڑا ہے یہ یہ مسئلہ ہے، حضور علیہ السلام نے اس میرے حق میں فیصلہ کر دیا لیکن اب یہ اصرار کر رہا ہے کہ آپ سے فیصلہ کروائیں گے، آپ کے پاس مجھے لے کر آیا۔
حضرت عمر رضی اللّٰہ تعالی عنہ مجھے منافق کی طرف مڑے، پوچھا ہاں بھئی کیا واقعی ایسی بات ہے؟ حضور علیہ السلام نے فیصلہ کیا تھا اور تم میرے پاس اب آئے ہو؟ وہ تو بڑا خوش ہوا کہ ہاں یہ تو شاید خوش ہوگئے ہیں اس بات سے۔ کہنے لگا ہاں ہاں حضرت میں نے تو کہا آپ سے فیصلہ کروائیں گے اس لیے ان کو آپ کے پاس لے آیا۔ حضرت عمر رضی اللّٰہ تعالی عنہ فرمانے لگے اچھا ٹھہریں، میں بھی فیصلہ کرتا ہوں، میں گھر سے آؤں اندر چل، تشریف لے گئے، واپس آئے، تلوار ہاتھ میں اٹھائی ہوئی ہے، آئے اور آتے ہی ایک زوردار وار کیا اور منافق کی گردن اس کے تن سے جدا کر دی اور پھر عظیم جُم تاریخ جملہ ارشاد فرمایا کہ محمد کے فیصلے کے بعد جو عمر کا فیصلہ طلب کرے تو عمر یہ فیصلہ کیا کرتا ہے۔
تو یہ آپ کا جلال تھا بھئی دیکھیے۔ تو حضرت عمر رضی اللّٰہ تعالی عنہ کو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ جاؤ تم جاکر میری طرف سے سفیر بن کر جاؤ اور ان کے ساتھ بات کرو کہ ہم لڑنے نہیں آئے، ہم عمرہ کرنے آئے ہیں، عمرے سے تو تم اپنے دشمنوں کو بھی نہیں روکتے، ہم عمرہ کرنے آئے ہیں تو ہم عمرہ کرکے واپس چلے جائیں گے۔
حضرت عمر رضی اللّٰہ تعالی عنہ فرمانے لگے یا رسول اللّٰہ! آپ کا حکم سر آنکھوں پر، میں ضرور جاؤں لیکن آپ تو جانتے ہیں، میری طبیعت بڑی جلالی ہے، کہیں ایسا نہ ہو، وہ تو اس وقت غصے میں سخت باتیں کریں گے، کہیں ایسا نہ ہو کہ میں ان کی کسی بات کو برداشت نہ کر سکوں اور جلال میں آ جاؤں اور یہ نہ ہو کہیں اور بات خراب نہ ہو جائے۔ تو حضور علیہ السلام نے فرمایا ٹھیک ہے، پھر آپ نے حضرت عثمان غنی رضی اللّٰہ تعالی عنہ کو بھیجا بھئی۔
حضرت عثمان غنی رضی اللّٰہ اور باقاعدہ بتلایا فلاں فلاں سے جاکر ملو، فلاں فلاں سے جاکر ملو اور ان سے بات کرو۔ حضرت عثمان غنی رضی اللّٰہ تعالی عنہ کہتے ہیں گئے بھئی اور ان کے سرداروں سے بات چیت شروع کر دی۔ تو ان کے دل میں بھی کچھ نرمی پیدا ہوگئی کہ ہاں واقعی یہ لوگ تو عمرہ کرنے آئے ہیں اور ہم تو بیت اللہ کے محافظ ہیں، ہم کیسے کسی کو بیت اللہ سے روکیں، کیوں روکیں؟ تو ان کے دل اس بات کی طرف مائل ہوگئے کہ اجازت دے دیں۔
ادھر جو نوجوان طبقہ تھا کہتے ہیں ان کو بڑا غصہ کہ یہ تو ہمارے بڑے اب ان کو اجازت دینے والے ہیں اور ان ان کے ساتھ تو ہماری جنگیں ہوئی ہیں، انہوں نے ہمارے رشتہ داروں کو قتل کیا ہے، فلاں کو ہمارے سرداروں کو قتل کیا ہے۔ چنانچہ کہتے ہیں انہوں نے پھر حضرت عثمان غنی رضی اللّٰہ تعالی عنہ کو پکڑا اور بیت اللہ میں لے جاکر قید کر دیا، بند کر دیا اور یہ بات مشہور کر دی کہ ان کو ہم نے قتل کر دیا ہے۔
یہ افواہ ادھر حضور علیہ السلام کے پاس بھی پہنچی اور پھر آپ نے اس وقت بیعت لی تمام صحابہ سے کہ عثمان کے قتل کا بدلہ لیں گے ہم ان سے۔
اور ادھر انہی مشرکین کا ایک گروہ جو تھا وہ حضور علیہ السلام کے قتل کے ارادے سے پہاڑیوں کے پیچھے سے آیا کہ موقع ملے تو حضور علیہ السلام کو قتل کر دیں اور انہوں نے بعض جگہ مسلمانوں سے چھڑچھاڑ بھی کی کچھ اور ایک دو مسلمانوں کو انہوں نے شہید بھی کر دیا لیکن مسلمانوں نے ان سب ان کو پکڑ لیا بھئی، بعض روایات میں آتا ہے ساٹھ سے، بعض میں آتا ہے اسی افراد جن کو مسلمانوں نے سب کو گرفتار کر لیا اور حضور علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا حضور علیہ السلام کی۔ حضور علیہ السلام نے ان سب کو معاف فرما دیا، چھوڑ دیا بھئی، چھوڑ دیا، چھوڑ دیا تو یہ اسی کا ذکر آ رہا ہے بھئی کہ بعد اس کے کہ اللّٰہ نے تمہیں ان پر فتح یاب کر دیا تھا، ان پر کامیابی دے دی تھی، ان سب کو تم نے پکڑ لیا تھا، پھر اللّٰہ نے دیکھو کتنا وہ ایک دو مسلمانوں کو بھی شہید کر چکے تھے، پھر بھی اللّٰہ نے تمہارے ہاتھوں کو ان سے روک دیا، حضور علیہ السلام نے ان کو معاف فرما دیا۔
اگر تم ان کو قتل کرتے تو بدلے میں وہ حضرت عثمان غنی رضی اللّٰہ تعالی عنہ کو ضرور قتل کر دیتے اور پھر ضرور آپس میں لڑائی ہو جاتی تو اللّٰہ نے تمہارے ہاتھوں کو بھی ان سے روک لیا، ان کے ہاتھوں کو بھی تم سے روک لیا۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟
وہو الذی اللّٰہ ہی وہ ذات ہے كف أیدیهم عنكم جس نے روک لیا تمہارے ہاتھوں کو ان سے وایدی وہو اللّٰہ ہی وہ ذات ہے كف أیدیهم جس نے روک لیا ان کے ہاتھوں کو عنكم تم سے وایدیکم عنہم اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے ببطن مكة مکہ کے بیچ میں من بعد ان أظفرکم علیہم بعد اس کے کہ اللّٰہ نے فتح یاب کر دیا تھا تمہیں ان پر وكان اللّٰہ بما تعملون بصیرا اور اللّٰہ جو کچھ تم عمل کرتے ہو اس کو دیکھ رہے ہیں۔
هم الذين كفروا وصدوكم عن المسجد الحرام وہی وہ لوگ ہیں، یہی وہ لوگ ہیں، هم الذين یہی وہ لوگ ہیں كفروا جنہوں نے کفر کیا وصدوكم عن المسجد الحرام اور روکا تمہیں مسجد الحرام سے والهدى، ھدی جو ہے قربانی کا وہ جاناور جسے حرم میں قربانی کے لیے بھیجا جائے، لے جایا جائے اس کو ھدی کہتے ہیں۔
وہ جاناور جسے حرم میں قربانی کے لیے لے جایا جائے یا بھیجا جائے اسے کیا کہتے ہیں؟ ھدی۔
جنہوں نے تمہیں بھی مس تمہیں روکا مسجد الحرام سے والهدى اور کس کو روکا؟ قربانی کے جانور کو معکوفاً معکوف عکف سے ہے، اس میں مفعول عکف کے معنی کسی جگہ ٹھہرنا، قیام کرنا۔ ٹھہرنا اور قیام کرنا، اسی سے اعتراف بھی ہے، جس میں دیکھو انسان مسجد میں قیام کرتا رہتا ہے عبادت کے لیے۔
تو عکف کے کیا معنی ہیں؟ ٹھہرنا اور قیام کرنا اور اسی طرح اس کے معنی روکنے کے بھی ہیں، روکنے کے بھی ہیں۔ تو معکوفاً کا کیا معنی؟ روکی ہوئی، یہ اس میں مفعول یا اس کا کیا معنی کر لیں؟ ٹھہری ہوئی، ٹھہری ہوئی، قربانی کے جانور انہوں نے روک لیے تھے، مکہ نہیں آنے دے رہے تھے جہاں ان کو قربان کیا جاتا تھا تو وہ اپنی جگہ پر حدیبیہ میں ہی ٹھہرے ہوئے تھے بھئی۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟
والهدى معکوفاً اور قربانی کے جانور کو بھی انہوں نے روکا معکوفاً اس حال میں کہ وہ ٹھہرے ہوئے تھے۔ اس حال میں کہ وہ ٹھہرے یا اس حال میں کہ وہ روکے گئے تھے، اس حال میں کہ وہ ٹھہرائے گئے تھے یا اس حال میں کہ وہ روکے گئے تھے، جو بھی ترجمہ کر لیں، وہ روکے گئے تھے أن يبلغ محله کہ وہ پہنچیں اپنی جگہ پر۔
یہ کہ وہ قربانی حدی جو ہے کہا تک کہاں پہنچے محله اپنی جگہ پر (یعنی حرم میں) جہاں پر ان کو قربان کیا جاتا ہے، اس سے ان کو روکا ہوا تھا۔
معنی سمجھ میں آگیا؟ هم الذين كفروا وصدوكم عن المسجد الحرام والهدى معکوفاً أن يبلغ محله یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور روکا تمہیں مسجد الحرام سے اور قربانی کے جانور کو جو روکی ہوئی گئی تھی اور قربانی کے جانور کو جو روکی گئی تھی یا قربانی کے جانور جو ٹھہرائی گئی تھی أن يبلغ محله یہ کہ وہ پہنچے اپنی جگہ کو۔
ولولا رجال مؤمنون ونساء مؤمنات لم تعلموهم بھئی! مکہ یہ مسلمان 6 ہجری میں آئے بھئی، یہ صلح حدیبیہ کا موقع ہے اور 6 ہجری ہے اور اس دوران تین جنگیں ہو چکی ہیں مشرکین کے ساتھ تو آمد و رفت بالکل بند تھی۔ اس 6 سال کے عرصے میں کوئی رابطہ نہیں تھا، تو اس دوران یہاں کچھ لوگ چھپ چھپ کر مسلمان ہو گئے۔
مکہ میں کچھ لوگ چھپ چھپ کر مسلمان ہو گئے تھے تو اللّٰہ ان کا ذکر فرما رہے ہیں کہ یہ مکہ کے اندر کچھ مومن مرد اور عورتیں ہیں، تمہیں ان کا علم نہیں کہ وہ ایمان لا چکے ہیں، اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم ان کو بھی کچل ڈالو گے، تو ان کی وجہ سے پھر تمہیں تکلیف پہنچتی کہ تم نے کس کو قتل کیا ہے؟ مومنین کو قتل کیا ہے، تو اس وجہ سے اللّٰہ نے جنگ نہیں ہونے دی
کیونکہ مکہ میں کچھ مومنین مرد اور عورتیں موجود تھیں ۔ اگر اللہ فرماتے اگر وہ نہ ہوتے مکہ میں ، تو ہم پھر تمہارے ہاتھوں ان کفار کو زبردست عذاب چکھاتے بھئی ۔
फिर ہم جنگ کرواتے تمہاری ان سے لیکن اب اگر جنگ ہو تو وہ بیچارے تو مکہ میں ہیں، مومن ہیں، تمہیں ان کا علم نہیں تو کہیں اس لڑائی اور جنگ میں ، لڑائی اور جنگ میں ان کو بھی نقصان پہنچنے کا خطرہ تھا اس لیے اللہ نے جنگ نہ ہونے دی۔
جی تو یہ وہ ذکر فرما رہے ہیں اللہ : ولو لا رجال مومنون ونساء اور اگر نہ ہوتے مومن مرد ونساء مومنات اور مومنہ عورتیں لم تعلموہم کہ تم نہیں جانتے ان کو یعنی ان کے ایمان کو تم نہیں جانتے ان تطءوہم یہ کہ تم ان کو کچل ڈالو گے ۔
وطء کے معنی ہوتے ہیں قدموں تلے کسی کو روندنا ۔ کچل ڈالنا ، پیس ڈالنا ۔ ان تطءوہم یہ کہ تم ان کو کچل ڈالو گے ، یوں ترجمہ کر لیں یہ کہ تم ان کو پیس ڈالو گے ۔ فصيبكم منهم معرۃ تو پھر پہنچتی تمہیں منہم ان کی وجہ سے معرۃ معرۃ کہتے ہیں تکلیف کو ۔
معرۃ کا معنی ہے تکلیف ، اذیت ۔ فصيبكم منہم معرۃ پس پہنچتی تم کو ان کی وجہ سے تکلیف بغير علم بغیر علم کے یعنی بے خبری میں تمہیں ان کی وجہ سے تکلیف پہنچتی بے خبری میں یعنی تمہیں خبر نہیں تھی تم ان کو کچل ڈالتے۔
ولو لا رجال مومنون ونساء مومنات لم تعلموہم اور اگر نہ ہوتے کچھ مومن مرد اور کچھ مومنہ عورتیں لم تعلموہم جن کو تم نہیں جانتے ان تطءوہم یہ کہ تم ان کو پیس ڈالو گے فصيبكم منہم معرۃ بغير علم تو پہنچتی تم ، پہنچتی تمہیں ان کی وجہ سے تکلیف بے خبری میں۔
ليدخل اللہ في رحمتہ من يشاء تاکہ اللہ داخل کرے اپنی رحمت میں جس کو چاہے ۔
بھئی اوپر ایا لولا ۔ اگر مومن مرد اور عورتیں کچھ نہ ہوتے ۔ جواب لولا محذوف ہے ۔
جواب لولا کہ اگر یہ نہ ہوتے تو اللہ تمہیں جنگ کی اجازت دے دیتے ۔
جنگ کی اجازت لازن لكم تو البتہ اللہ تمہیں اجازت دے دیتے ۔
ليدخل اللہ في رحمتہ من يشاء تاکہ اللہ داخل کرے اپنی رحمت میں جس کو چاہے ، تاکہ اللہ اپنی رحمت میں داخل کرے جس کو چاہے بھئی ۔
سمجھ میں ایا تاکہ یہ لوگ جو مومنین ہیں ان کو بھی ، ان کی بھی اللہ نے حفاظت فرمائی اور بھی جس کو اللہ چاہے اپنی رحمت میں داخل کرے یعنی ان کے بعد جن کی قسمت میں ایمان ہے تاکہ وہ بھی ایمان لے ائیں بھئی جو ابھی تو مسلمان نہیں ہوئے لیکن ان کے لیے ایمان مقدر ہے جو آگے چل کر دو سال کے عرصے میں پھر وہ ایمان لے ائیں سارے بھئی صلح کے بعد۔
ليدخل اللہ في رحمتہ من يشاء تاکہ اللہ داخل فرمائے اپنی رحمت میں جس کو چاہیں لو تزیلو زیلا کا کے معنی جدا ہونے کے، منتشر ہونے کے ۔ لو تزیلو اگر وہ مومن مرد اور عورتیں جدا ہو جاتے ۔
اگر وہ جدا ہو جاتے لعذبنا الذين كفرو منہم تو البتہ ہم عذاب دیتے ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا ان میں سے عذابا اليما دردناک عذاب ۔ اگر وہ مومن مرد اور عورتیں ان کے اندر گھل مل کر نہ رہ رہے ہوتے ، ان سے الگ ہو جاتے ، جدا ہو جاتے تو پھر ہم ان کو دردناک عذاب دیتے ۔
اذ جعل الذين كفرو في قلوبہم الحميت جس وقت رکھی ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا تھا فی قلوبہم اپنے دلوں میں الحميت حمیت کہتے ہیں غیرت کو بھئی ، ضد کو ۔
جس وقت ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا تھا اپنے دلوں میں غیرت رکھی اور غیرت بھی کون سی ؟ حميت الجاہليتي جاہلیت والی غیرت ۔ یا حمیت ضد کے معنوں میں کر لیں ۔ جنہوں نے اپنے دلوں میں ضد رکھی حميت الجاہليتي جاہلیت والی ضد ۔
تو یہ حمیت ثانی جو ہے یہ حمیت اول سے بدل ہے بھئی ، بدل اور مبدل منہ کا اعراب ایک ہوا کرتا ہے ۔
جس وقت رکھی ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا تھا اپنے دلوں کے اندر غیرت جاہلیت والی غیرت فانزل اللہ دیکھا انہوں نے بھئی جاہلیت والی غیرت تھی ان کے دلوں میں ، جاہلیت والی ضد تھی ۔ چنانچہ جب معاہدہ لکھا جا رہا تھا حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ لکھو اوپر بھئی بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ انہوں نے کہا یہ ہم نہیں جانتے ، بسم اللہ نہیں لکھیں گے ، جیسے پہلے ہوتا تھا اسی طرح لکھیں گے اور اوپر لکھیں بسمک اللہم ۔
جیسے ہم کرتے تھے پہلے اسی طرح لکھیں گے ۔ کیا لکھیں اوپر ؟ بسمک اللہم ۔ بڑی بحث وغیرہ پھر حضور علیہ السلام فرمانے لگے اچھا بھئی بسمک اللہم لکھ دو۔
پھر اس کے بعد جب آخر میں لکھ لیا تو یا تو جب وہ لکھ رہے تھے حضور علیہ السلام نے فرمایا لکھو اب ہذا ما قاضا علیہ محمد محمد رسول اللہ ۔ یہ وہ ہے جس پر فیصلہ کیا ہے محمد رسول اللہ نے ۔ کہنے لگے محمد رسول اللہ نہیں لکھیں گے ، اسی میں تو ہمارا اور آپ کا اختلاف ہے ، ہم تو رسول نہیں لکھیں گے ، محمد ابن عبداللہ لکھیں گے۔
تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ لکھ رہے تھے تو حضور نے فرمایا اچھا بھئی چلو بھئی علی یہ رسول اللہ یہ ختم کر دو اور محمد ابن عبداللہ لکھ دو ۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ عرض کرنے لگے یا رسول اللہ یہ مجھ سے تو نہیں ہو سکے گا کہ میں آپ کے نام سے رسول اللہ کا لفظ ختم کر دوں ۔ تو حضور علیہ السلام نے پھر خود اپنے ہاتھ سے وہ معاہدہ لے کر اس کو ختم کر دیا اور محمد ابن عبداللہ لکھا بھئی ۔
تو انہوں نے دیکھو جاہلیت والی ساری ضد تھیں ان کی اور اسی طرح شروط جو انہوں نے رکھوائیں کہ اس سال نہیں ہم عمرہ کرو گے اگلے سال آؤ گے اور کہ ہم میں سے کوئی جائے گا تو واپس کرو گے ۔ تو یہ ساری ان کی طرف سے باتیں جو ہوئیں بھئی ۔
اذ جعل الذين كفرو في قلوبہم الحميت حميت الجاہليۃ جس وقت رکھی ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا اپنے دلوں کے اندر جاہلیت والی غیرت ، جاہلیت والی ضد فانزل اللہ سكينتہ علي رسولہ تو اللہ نے نازل فرمایا اطمین اللہ نے نازل فرمایا سکينتہ اپنے اطمینان کو ۔
یعنی اپنی طرف سے اطمینان کو ۔ اللہ نے اپنی طرف سے اطمینان کو نازل فرمایا علی رسولہ اپنے پیغمبر پر وعلین مومنین اور مومنین پر والزمہم كلمۃ التقوی اور ان کے ساتھ لازم کر دیا تقوی والی بات کو ۔ تقوی والی بات ان کے ساتھ لازم کر دی ۔
یا یوں ترجمہ کر لیں والزمہم كلمۃ التقوی اور ثابت رکھا ان مومنین کو كلمۃ التقوی تقوی والی بات پر ۔ ان مومنین کو تقوی والی بات پر باقی رکھا۔
تقوی والی بات کیا ؟ یہ کہ ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی جائے ۔ کتنی کڑی شروط تھیں والا نہ تصور تو کریں ۔
اور آپ کے پاس طاقت بھی ہے ، پھر اس موقع پر دشمن کی باتیں مان لی جائیں بھئی ، طاقت نہ ہو پھر تو الگ بات ہے ، پھر تو کوئی صورت بنتی بھی ہے ۔ طاقت بھی ہے ، ڈیڑھ ہزار صحابہ ہیں بھئی ، ڈیڑھ ہزار صحابہ ؟ بھئی 313 صحابہ تھے اور ان کے ہزار جنگجوؤں کا ، بڑے بڑے جنگجوؤں کا زبردست مقابلہ کر کے ان کو عبرت ناک شکست دی تھی ۔
احد کے اندر بھئی ، احد کے اندر اسی طرح لڑائی ہوئی اور وہاں پر یہ بڑی قوت کے ساتھ آئے تھے مشرکین ۔ غزوہ خندق کے اندر تو سارے عرب کو اکٹھا کر کے لے آئے تھے ۔
تو اس وقت تو مسلمان ان کے پاس کچھ تھا بھی نہیں اتنا ، اور اس تو اس وقت تو اب مسلمان سارے تیار ہیں ، موت کی بیعت کر چکے ہیں ۔ پھر اس موقع پر ان کی اس طرح کی شروط مان لینا ، یہ یقینا ان کے لیے بڑی تکلیف کا باعث بن رہا تھا ، لیکن اللہ نے ان کے دلوں میں اطمینان نازل فرما دیا بھئی ۔ اور ان کو ان کو تقوی والی بات پر ثابت رکھا ، یعنی کہ ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی جائے۔
بعضوں نے کہا کلمۃ التقوی سے مراد لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے ۔ کیونکہ یہی سبب ہے تقوی کا ۔ یہی کلمہ کہاں تک لے جانے والا ہے ؟ تقوی تک تو یہ کلمہ تقوی ہے بھئی ۔
والزمہم كلمۃ التقوی اور ثابت رکھا ان کو یعنی مومنین کو تقوی کی بات پر وکانو احق بہا واہلہا ۔
اللہ تصور کیجیے وہاں دیکھیے تو صحیح بھئی ۔ صحابہ کے بارے میں اللہ کیا فرما رہے ہیں ۔ وکانو احق بہا واہلہا اور وہ لوگ اس تقوی والی کلمہ تقوی کے احق بہا زیادہ لائق تھے واہلہا اور اس کے اہل تھے ۔
صحابہ اور دیکھیے بھئی پیچھے اللہ نے ذکر فرمایا رضی اللہ اللہ ان سے راضی ہو چکا ۔ اللہ ان سے اسی وجہ سے اس بیعت کو بیعت رضوان کہا جاتا ہے بھئی ۔ کیا کہا جاتا ہے ؟ بیعت رضوان کہا جاتا ہے کہ اس پر اللہ نے اپنی رضا کا اعلان فرمایا ۔
لقد رضي اللہ تحقیق اللہ راضی ہو چکا راضی ہو چکا ۔
اور تو دنیا میں کسی کے حال کا پتہ نہیں ، جتنی بھی نیکیاں کر لیں ، پتہ نہیں نجات ہوگی یا نجات نہیں ہوگی ۔ ان کے بارے میں تو اللہ نے صراحتا فرما دیا رضی اللہ اللہ ان سے راضی ہو چکے ہیں ۔
راضی ہو چکے ہیں ۔ یعنی یہ کچھ بھی کر لیں اب یہ جنتی ہی جنتی ہیں ۔ اللہ ان سے راضی ہو چکے ہیں بھئی ۔ کتنی بڑی بشارت ہے بھئی ! کتنی بڑی بشارت ہے ۔
سمجھ میں ایا تو یہ ساتھ بیچ میں جگہ جگہ صحابہ کی صفات بیان ہو رہی ہیں ۔ الحمدللہ ثم الحمدللہ کہ اللہ نے ہمیں صحابہ کی محبت نصیب فرمائی ہے بھئی صحابہ کی محبت ۔
وکانو احق بہا ہا ضمیر جو ہے یہ راجع ہے کلمۃ التقوی کو ، واہلہا کی ہا ضمیر بھی راجع ہے کلمہ تقوی کو ۔ وکانو احق بہا اور یہ مومنین جو ہیں یہ کلمہ تقوی کے زیادہ لائق تھے واہلہا اور اس کلمہ تقوی کے اہل تھے ۔
وكان اللہ بكل شي عليما اور اللہ ہر چیز کو جاننے والے ہیں ۔
لقد صدق اللہ رسولہ الرؤيا بالحق ۔
بھئی صلح حدیبیہ جب یہ عمرے کے سفر پر حضور علیہ السلام تشریف لے گئے ۔ میں نے بتلایا تھا کہ حضور علیہ السلام نے پہلے خواب دیکھا ۔ خواب میں دیکھا کہ آپ اور صحابہ کے ہمراہ آپ نے عمرہ ادا کیا ہے ۔ بڑے اطمینان سے اور پھر کچھ لوگ کیا کر رہے ہیں ؟ قصر کروا رہے ہیں ۔ اور کچھ لوگ بال منڈوا رہے ہیں اور کچھ قصر کر رہے ہیں یعنی بال چھوٹے کروا رہے ہیں ۔ تو یہ خواب صحابہ کے سامنے بھی ذکر کیا ۔ صحابہ کو تو پہلے ہی بڑا اشتیاق تھا ، بڑا عرصہ گزر چکا تھا ، حرم نہیں گئے تھے ۔ اور پھر حضور علیہ السلام کا بھی ارادہ بن گیا جانے کا تو حضور علیہ السلام تشریف لے گئے اور پھر وہاں پر وہ واقعہ پیش آیا اور بغیر عمرے ہی کے مسلمانوں کو واپس آنا پڑا ۔ واپس آنا پڑا ۔
تو اس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ بھی عرض کرنے لگے یا رسول اللہ آپ نے تو فرمایا تھا کہ میں نے خواب دیکھا ، ہم اطمینان سے عمرہ ہم کر رہے ہیں اور پھر بال منڈوا رہے ہیں ، بال چھوٹے کروا رہے ہیں ۔
حیران سوال کے انداز میں بات پوچھی کہ آپ نے تو خواب یہ دیکھا تھا ، اور پیغمبر کا خواب تو وحی ہوا کرتا ہے بھئی ۔ تو انہوں نے یہ سوال کیا بھئی ۔
تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے کیا میں نے یہ کہا تھا کہ اسی سال ؟ فرمایا نہیں یا رسول اللہ آپ نے یہ تو نہیں فرمایا کہ اسی سال ۔ تو حضور نے فرمایا ہم ضرور عمرہ کریں گے اور اطمینان اور امن کے ساتھ کریں گے ۔ اور تم پھر کوئی حلق کروا رہا ہوگا اور کوئی قصر کروا رہا ہوگا ۔ چنانچہ پھر اگلے ہی سال سب نے دیکھا کہ صلح ہو چکی ہے ، مسلمانوں نے بڑے اطمینان سے عمرہ کر رہے ہیں اور حلق کروا رہے ہیں ، قصر کروا رہے ہیں ۔ تو خواب اللہ نے پورا فرمایا ۔
اور جب مسلمان تو دیکھیے ، یہاں خواب دیکھا تھا تو اس کے بارے میں بھی اللہ فرما رہے ہیں کہ وہ خواب جو دیکھا تھا ، وہ اللہ نے آپ کو برحق دکھایا تھا ۔ وہ امر واقعہ ہے ، ایسا ہوگا ۔
ایسا ہوگا ۔ اس کا اللہ ذکر فرما رہے ہیں ۔
لقد صدق اللہ رسولہ الرؤيا بالحق تحقیق اللہ نے سچا دکھلایا اپنے رسول کو الرؤیا خواب ۔
رؤیا خواب ۔ تحقیق اللہ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھلایا بالحق برحق ۔ یعنی ٹھیک ٹھیک ۔ یعنی جو واقعہ کے مطابق تھا ۔ جو واقعہ کے مطابق تھا ۔
لقد صدق اللہ رسولہ الرؤيا بالحق تحقیق اللہ نے سچا دکھلایا اپنے پیغمبر کو خواب ۔ یا یوں ترجمہ کریں ۔ تحقیق اللہ نے سچ ، سچا خواب دکھلایا اپنے رسول کو بالحق ٹھیک ٹھیک ۔ یعنی جو بالحق کا معنی سمجھ میں آیا بھئی ، جو برحق تھا یعنی واقعہ کے مطابق تھا ۔
چنانچہ جب اس سفر سے واپس آئے بھئی تو منافقین ساتھ بھی نہیں گئے تھے ، پھر انہوں نے باتیں بھی شروع کر دیں کہ آپ تو کہتے تھے کہ حضور علیہ السلام فرما رہے ہیں کہ ہم امن اور امن و امان سے ہم نے عمرہ کیا اور اور حلق و قصر کروایا ۔ تو اس طرح انہوں نے باتیں مشہور کیں بھئی ۔ تو اسی پر اللہ یہ فرما رہے ہیں تاکہ مومنین کے ذہن میں بھی کوئی بات آئے ۔ سوال پیدا ہو ، جس کا جواب تو حضور علیہ السلام نے بھی ذکر کر دیا ، اللہ بھی فرما رہے ہیں کہ وہ سچا خواب ہم نے دکھایا تھا اور ایسا ہی ہوگا ۔
لا تادخلون المسجد الحرام ان شاء الله آمنين البتہ تم ضرور داخل ہو گے مسجد الحرام میں ان شاء اللہ اگر اللہ نے چاہا آمنین۔
اما اس حال میں کہ تم امان والے ہوگے امن میں ہو گے بھئی۔ اس حال میں کہ تم امن۔
محلقین رؤوسکم و مقصرین۔ حلق کہتے ہیں استرے سے سر کے بال منڈوانا اور قصر کہتے ہیں کینچی وغیرہ سے بالوں کو کترنا، چھوٹا کرنا۔
محلقین رؤوسکم اس حال میں کہ تم اپنے سروں کا حلق کروانے والے ہوگے اپنے سر منڈوانے والے ہوگے و مقصرین اور اپنے بالوں کو چھوٹے کرنے والے ہوگے، کتروانے والے ہوگے۔
لا تخافون بے خوف ہوگے تم۔ تمہیں کسی قسم کا خوف نہیں ہوگا۔
لادخلون لادخلون المسجد الحرام ان شاء اللہ آمنین محلقین رؤوسکم و مقصرین لا تخافون البتہ تم ضرور داخل ہوگے مسجد الحرام میں ان شاء اللہ تعالی۔
امان کے ساتھ امان کے ساتھ سروں کو اپنے سروں کو حلق کرواتے ہوئے اور اپنے بالوں کو کترواتے ہوئے لا تخافون تمہیں خوف نہیں ہوگا۔
تمہیں کوئی ڈر نہیں ہوگا۔
معنی سمجھ میں آگیا بھئی، یہاں آیا ان شاء اللہ۔ ان شاء اللہ۔
تو یہ۔
اگر اللہ نے چاہا یاد رہے کہ یہ ان شاء اللہ ان شاء اللہ جیسے شک کے لیے استعمال ہوتا ہے آپ کسی بات میں کیا کہتے ہیں؟ ان شاء اللہ اگر اللہ نے چاہا تو یہ ہوگا بھئی شک کے لیے۔
اسی طرح یہ کبھی یقین کے لیے بھی آتا ہے آپ کا جب کوئی پکا ارادہ ہو تو اس وقت بھی آپ کہتے ہیں یا نہیں ان شاء اللہ تو وہاں مقصد کیا ہوتا ہے؟ یقین کے لیے آپ لے کر آتے ہیں کہ ان شاء اللہ میں ایسا ضرور کروں گا بھئی ان شاء اللہ صورت سمجھ میں آگئی بھئی تو کبھی یہ شک کے لیے استعمال ہوتا ہے اگر اللہ نے چاہا تو ایسا ہوگا اور کبھی یقین کے لیے استعمال ہوتا ہے تو یہاں پر یقین کے لیے ہے بھئی یقین کے لیے۔
یقین کے لیے۔
اور نیز۔
یہاں پر مومنوں کو تعلیم دینا مقصد ہے کہ آگے کی جب کوئی بات کرو تو ان شاء اللہ کہہ لیا کرو ساتھ۔
بات سمجھ میں آگئی بھئی؟
اور بعض علماء نے لکھا کہ یہاں بھی ان شاء اللہ شک ہی کے لیے ہے۔
شک ہی کے لیے ہے۔
لیکن مومنین کے اعتبار سے بعض اوقات اللہ ایک بات کی یقینی خبر دے دیتے ہیں اور بعض اوقات ایک واقع نے ہونا تو یقینی طور پر ہے لیکن اس کی اللہ یقینی خبر نہیں دیتے کسی مصلحت کی بنا پر۔
کسی مصلحت تو یہاں پر بھی ان شاء اللہ اسی لیے لے کر آئے کہ اللہ مومنین کو کسی مصلحت کی بنا پر یقینی خبر نہیں دے رہے بھئی اگرچہ ہونا تو تھا یقینی طور پر لیکن اس وقت مومنین کو بتلانا خلاف مصلحت ہے بھئی تو اس لیے اللہ نے ان شاء اللہ ذکر فرمایا۔
صورت سمجھ میں آگئی کہ اگلے سال اگر اللہ نے چاہا تم امان کے ساتھ بالوں کا قصر اور حلق کرواتے ہوئے داخل ہوگے بغیر کسی خوف کے۔
فعلم ما لم تعلموا پس اللہ نے جانا پس اللہ جانتے تھے ما لم تعلموا جو تم نہیں جانتے تھے۔
فعلم ما لم تعلموا پس اللہ جانتے تھے وہ جو تم نہیں جانتے تھے فجعل من دون ذلک فتحا قریبا۔
پس کر دی اس کے علاوہ بھی۔
پس کر دی۔
اس کے علاوہ بھی ایک قریبی فتح کر دی فتح دے دی۔
فجعل من دون ذلک ذلک کے لیے اشارہ ہے یہ جو تم مسجد الحرام امن و امان کے ساتھ جاؤ گے۔
یہ تو اللہ نے تمہارے لیے مقدر کر دیا ہے۔
اس کے علاوہ بھی اللہ نے تمہیں ایک قریبی فتح دے دی۔
कौन सी فتح؟
وہی فتح خیبر جو اس واقعے کے ڈیڑھ دو ماہ کے بعد پیش آیا بھئی۔
یہ واقعہ صلح حدیبیہ ہوئی ذی قعدہ کے اندر بھئی چھ ہجری میں ذی قعدہ میں اور آگے ذی الحجہ کا مہینہ اور محرم سن سات ہجری کا جو محرم اسی میں غزوہ خیبر کا واقعہ پھر پیش آیا بھئی۔
فعلم ما لم تعلموا فجعل من دون ذلک فتحا قریبا پس اللہ جانتے تھے وہ جو تم نہیں جانتے تھے فجعل من دون ذلک فتحا قریبا تو اللہ نے اس کے علاوہ ایک اور قریبی فتح بھی کر دی۔
هو الذي ارسل رسوله بالهدى ودین الحق اللہ ہی وہ ذات ہیں جنہوں نے بھیجا اپنے پیغمبر کو بالھدی ہدایت کے ساتھ ودین الحق اور سچے دین کے ساتھ لیظهره علی الدین کله تاکہ اس کو غالب کر دے سارے دینوں پر لیظهره تاکہ اس کو غالب کر دے اس سچے دین کو علی الدین کله سارے دینوں پر و کفا بالله شہیدا اور اللہ کافی ہیں بہ اعتبار گواہ کے۔
اللہ بہ اعتبار گواہ کے کافی ہیں جب اللہ فرما رہے ہیں کہ اللہ اس دین کو غالب کر دیں گے تمام دینوں پر تو یقیناً یہ تمام دینوں پر غالب ہوگا اور پھر جس کا مشاہدہ تمام دنیا نے کیا کہ خلفائے راشدین کے زمانے کے اندر اسلام نے تمام مذاہب عالم پر حکومت کی بھئی مذاہب عالم پر۔
دنیا کی سب سے بڑی سلطنت وجود میں آئی بھئی۔
اور۔
سب سے بڑی سلطنت بھئی جس کے۔
جس کی ہیبت کا یہ عالم تھا کہ کہ مخالفین۔
جو بڑی حکومت بھی کوئی ہوتی ایک خط لکھا جاتا تھا کہ ایسا کر دو ورنہ ہم تمہاری اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے وہ بلا چون و چرا اس حکم کو مان لیتے تھے بھئی۔
ایسی عظیم حکومت بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟
عجیب عجیب واقعات بھئی ہمارے۔
تاریخ میں انسان حیران ہوتا ہے سن کر۔
انسان حیران ہوتا ہے کس طرح ایک ایک مومن ایک ایک فرد کا اپنے خیال رکھا جاتا تھا کہتے ہیں ایک شخص نے وہ قیدی مسلمان کوئی تاجر تھا اور۔
وہ روم وغیرہ کے علاقے میں تھا وہاں کے گورنر نے اس کو قید کر دیا۔
اس نے کسی طرح کسی آدمی کو کوئی مال وغیرہ کا کہا کہ میں تمہیں مال دوں گا یا کچھ۔
تم میرا یہ پیغام پہنچا دو خلیفہ تک۔
وہ شخص اس نے پیغام پہنچا دیا۔
خلیفہ کو پیغام ملا اس نے اسی وقت بادشاہ کو ان کے خط لکھا۔
بادشاہ کو۔
غالباً معتصم باللہ یا کون خلیفہ تھا لیکن تو خیر اس کا نام میرے ذہن میں نہیں تو وہ اس نے خط لکھا مشہور واقعہ ہے بھئی۔
اور۔
یہ ان کے بادشاہ کو قید گورنر نے کیا تھا نیچے چھوٹے آدمی نے بھئی اوپر بادشاہ جو تھا ان کا پورے ملک کا بڑا اس کو خط لکھا کہ تمہارے فلاں شخص نے ہمارے ایک مسلمان بھئی کو قید کر رکھا ہے میرا خط پہنچتے ہی فورا اس کو بڑی عزت اور اکرام کے ساتھ ہماری طرف روانہ کر دو۔
ورنہ یاد رکھو اگر تم نے ہماری بات نہ مانی تو میں ایک ایسا لشکر لے کر تمہارے اوپر حملہ آور ہوں گا کہ جس کا پہلا دستہ اگر تمہارے محل میں ہوگا تو آخری دستہ ہمارے دارالحکومت کے اندر ہوگا۔
اس بادشاہ کو جیسے ہی یہ خط ملا اس نے فوراً اس گورنر کو طلب کیا اور۔
سخت باز پرس کی اور کہا اس قیدی کو پیش کرو اور پھر اس قیدی کو بڑی عزت اور اکرام سے اور بہت زیادہ تحفے تحائف دے کر روانہ کیا مسلمانوں کی مملکت کی طرف بھئی۔
اور جیسے آپ جانتے ہیں بھئی جیسے برصغیر میں اسلام پہنچا یہاں بھی ایک عورت جو تھی اس نے پیغام بھجوایا تھا جس کو۔
ڈاکوؤں وغیرہ نے اور۔
وہاں کے ہندو حکم فوجیوں نے تکلیف تکلیف دی تھی اس نے خط بھیجا خلیفۃ المسلمین کو بغداد بھئی۔
خط پہنچتے ہی فورا وہاں سے ایک مسلمان عورت کے لیے پورے اسلامی عظیم لشکر حرکت میں آیا اور محمد بن قاسم بھئی وہ لشکر کی کمان کرتے ہوئے سندھ پہنچے اور پھر پوری حکومت جو تھی وہاں راجہ داہر تھا ہندوؤں کا راجہ اس کے اینٹ سے اینٹ بجا دی بھئی۔
اور محمد بن قاسم کتنے عمر تھی جانتے ہو جب آیا تھا وہاں؟
جی۔
بڑا کم عمر تھا بھئی سولہ سترہ سال یا اتنی عمر تھی اندازہ لگاؤ بھئی سولہ سترہ سال۔
سولہ سترہ سال کمانڈر ان چیف بن کر آ رہے ہیں یہ مسلمانوں کی جنگی تیاریوں کا عالم ہوتا تھا مولانا۔
ایک ایک بچہ ابتدا سے ہی مجاہد ہوا کرتا تھا تلوار، تیر اندازی، گھڑ سواری ہر چیز کا ماہر ہوا کرتا تھا بھئی۔
جی تو یہ اللہ اس دین کو تمام دنیا پر غالب کریں گے اور اس کا میں نے بتلایا ایک مشاہدہ دنیا اس ابتدائے اسلام کے زمانے میں کر چکی ہے اور ایک مرتبہ پھر مشاہدہ ہوگا آخر زمانے میں جب حضرت عیسی علیہ السلام تشریف لائیں گے اور کوئی کافر باقی نہ رہے گا تمام دنیا کے اندر صرف اسلام ہی اسلام ہوگا۔
هو الذي قلع قلع ہو الذي ارسل رسوله بالهدى ودین الحق لیظهره علی الدین کلہ وہی ذات ہے جس نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت کے ساتھ اور سچے دین کے ساتھ تاکہ غالب کر دے اس سچے دین کو سارے دینوں پر و کفا بالله شہیدا اور اللہ کافی ہیں بہ اعتبار گواہ کے۔
کفا باللہ کی ترکیب میں کئی مرتبہ بیان کر چکا ہوں یہ با جارا زائدہ ہے اور لفظ اللہ مجرور لفظاً ہے لیکن مرفوع ہے محلاً یہ فاعل ہے کس کے لیے؟ کفا کے لیے۔
محمد رسول اللہ۔
محمد اللہ کے رسول ہیں۔
محمد اللہ کے رسول ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک محمد قرآن میں چار جگہ آیا ہے بھئی۔
ایک جگہ پر آپ کا نام احمد آیا ہے باقی جہاں بھی آپ کا ذکر آیا ہے آپ کی صفات کے ساتھ ذکر کیا گیا آپ کو بھئی۔
بات سمجھ میں آئی بھئی؟ اور یہاں پر محمد رسول اللہ آیا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو مولانا شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ ان مشرکین مکہ نے عہد نامے سے رسول اللہ کے لفظ کو حضور کے نام سے جدا کر دیا تھا قرآن نے ہمیشہ کے لیے ساتھ پھر ملا دیا کہ یہ صفت آپ کی ہے اور۔
اسی وجہ سے یہاں محمد رسول اللہ آیا بھئی۔ محمد یہ مبتدا ہے اور رسول اللہ خبر ہے۔ محمد رسول اللہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ والذین معه اشداء علی الكفار رحماء بینہم اور وہ لوگ جو ان کے ساتھ ہیں یعنی وہ لوگ جو محمد کے ساتھ ہیں اشداء علی الکفار سخت ہیں کافروں پر رحماء بینہم رحم دل ہیں آپس میں۔
وہ لوگ جو محمد کے ساتھ ہیں یعنی صحابہ اشداء علی الکفار وہ کفار پر سخت ہیں رحماء بینہم اور آپس میں رحم دل ہیں کفار کے معاملے میں بہت سختی کرتے ہیں وہ اور آپس میں مومنین کے درمیان معاملات ہوں تو حد درجے رحم کرنے والے ہیں ہر درجے یہاں ایک نقطہ جو میرے ذہن میں آتا ہے ہمیشہ بھئی۔
آج۔
ہم دیکھتے ہیں مسلمان آپس میں رحم دل نہیں آپس میں بھئی۔
رحم دل نہیں۔
تو۔
شاید اس کی وجہ یہ ہے جیسے قرآن میں آیا۔
کہ پہلے اشداء آیا اشداء علی الکفار رحماء بینہم۔
کفار پر سختی والی صفت کو پہلے ذکر فرمایا اور آپس کے رحم کو بعد میں ذکر فرمایا۔
معلوم ہوا کفر پر سختی کفر کی نفرت جتنی دل میں آئے گی تو آپس میں اتنا رحم بڑھے گا بھئی تو ہمارے آپس میں وہ رحم دلی نہ ہونے کی وجہ یہ۔
شاید یہ وجہ ہے میں نے بتایا یہ میرے ذہن میں آتا ہے باقی آپ کو پسند آئے تو لے لیں شاید اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ہمارے دل میں کفر کی وہ نفرت نہیں جو ہونی چاہیے بھئی۔
ہمارے دل میں کفر کی وہ نفرت نہیں جو ہونی چاہیے اگر وہ نفرت ہمارے دل میں آجائے تو ہماری آپس کی محبت بھی اسی قدر بڑھ جائے بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟
جی یہ میرے دل میں ایک نقطہ آتا ہے ہمیشہ اس مقام پر میں نے سوچا آپ کے سامنے بھی بیان کر دوں اگر آپ کو پسند آئے تو لے لیں۔
والذین معه اشداء علی الکفار رحماء بینہم اور وہ لوگ جو ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت ہیں آپس میں رحم دل ہیں تراہم رکعا سجدا۔
رکع جمع ہے راکع کی سجدن جمع ہے ساجد کی تراہم آپ دے اے مخاطب آپ دیکھیں گے ان کو رکعا رکوع کرتے ہوئے سجدا سجدہ کرتے ہوئے آپ دیکھیں گے کبھی وہ رکوع کر رہے ہیں اور کبھی سجدہ کر رہے ہیں یبتغون فضلا من اللہ و رضوانا تلاش کرتے ہیں فضل فضل کو من اللہ اللہ کی طرف سے و رضوانا اور رضامندی کو یعنی اللہ کی رضا کو یبتغون فضلا من اللہ و رضوانا اللہ کے فضل اور اس کی رضامندی کو تلاش کرتے ہیں۔
سیماہم سیما کا کیا معنی میں نے بیان کیا تھا؟ علامت نشانی سیماہم ان کی علامت جو ہے ان کی نشانی جو ہے ان مومنین کی فی وجوہہم ان کے چہروں میں ہے من اثر السجود سجدوں کے اثر سے سجدوں کے اثر سے ان کے چہروں کی کے کہ کی پہچان ہوتی ہے اس کی نشانی ہے بھئی۔
سمجھ میں آیا؟ کبھی رکوع میں ہے کبھی سجدوں میں ہیں تو ان کے چہروں پر ایک خاص نورانیت آپ کو اے مخاطب دکھائی دے گی۔
ان صحابہ کے چہروں پر
خاص نورانیت آپ کو دکھائی دے گی کہ ان ان رکوع اور سجدوں کی وجہ سے اور بالخصوص نماز تہجد کی وجہ سے ان کے چہروں پر خاص قسم کا نور ہے جس سے وہ سب لوگوں میں نمایاں طور پر پہچانے جاتے ہیں۔
سیماہم فی سی دیکھیے ترجمہ اب بامحاورہ کس طرح کریں گے سیماہم فی وجوہھم من اثر السجود ان کی نشانی سجدوں کے اثر سے ان کے چہروں میں ہے ان کی پہچان ان کے سجدوں کے اثر سے ان کے چہروں میں ہے
ذالک مثلھم فی التورات یہ ان کی ان کی صفت ہے تورات میں یہ ان کی صفت ہے تورات میں تورات میں ان کی یہ نشانی بیان کی گئی
سمجھ میں آیا بھئی علماء نے عبارت نقل کیں کہ تورات کے اندر بھی مسلمانوں کی یہ نشانیاں ذکر ہیں ذالک مثلھم فی التورات یہ ان کی مثل کس معنی میں صفت کے معنی میں یہ ان کی صفت ہے یہ ان کا وصف ہے تورات کس میں تورات میں
ومثلھم فی الانجيل اور یہ ان کی صفت ہے انجیل کے اندر جی و مثل اچھا بھئی ذالک مثلھم فی التورات ذالک ہے مبتدا مثلھم فی التورات یہ ہے خبر یہ ان کے یہ ان کا وصف ہے تورات میں و مثلھم فی الانجيل یہ جو مثلھم ہے اس کو اور بھی ترکیبیں ہیں آسان ترکیب یہ جو مثلھم ہے اس کو بنائیے مبتدا اور كزرع یہ آگے ساری اس کی خبر ہے تورات میں تو ان کی یہ مثل صفت بیان ہوئی کہ وہ کیا ہیں کفار پر سخت ہیں آپس میں رحم کرنے والے ہیں رکوع سجدے کرنے والے ہیں اللہ کے فضل کو تلاش کرتے ہیں اور ان کے چہروں پر ان کے سجدوں کے اثر سے نمایاں نورانیت دکھائی دیتی ہے یہ ان کے تورات میں وصف ہے اور انجیل میں ان کی ان کا کیا وصف ہے كزرع اخر شطأه یہ آگے سارا یہ خبر ہے بھئی اس کی
سمجھ میں آئی بات بھئی
و مثلھم فی الانجيل اور ان کا وصف انجیل میں یہ ہے كزرع جیسے کھیتی ہو اخر شطأه جس نے نکالی اپنی کونپل شطأه اپنی کونپل
بھئی درخت پر کوئی جو نیا پتا نکلتا ہے کسی شاخ پر اس کو کیا کہتے ہیں اس کو کونپل کہتے ہیں نیا پتا
اس کو شطاون کہتے ہیں عربی میں کیا کہتے ہیں شطاون
یا اسی طرح وہ جب فصل کا بیج ڈالا گیا فصل کا بیج جب اس کو زمین میں ڈال دیا گیا تو پھر اس بیج میں سے سب سے پہلے جو باریک سا وہ کونپل سے نکلتی ہے وہ بھی شطاون ہے بھئی تو وہ مراد ہے یہاں پر بھئی یہاں پر وہ مراد ہے
كزرع اخر شطأه جیسے کہ کھیتی نکالا اس نے اپنی نکالی اس نے اپنی کونپل فازره
پھر اس کو قوی کیا فازره پھر اس کو آزرہ کے معنی مدد دینے کے قوت دینے کے فازره پھر اس کو قوت دی
پھر اس کو مضبوط کیا
كزرع اخر شطأه جیسے کہ کھیتی جیسے کہ کھیتی جس نے اپنی کونپل نکالی فازره پس اس کو مضبوط کیا فاستغلظ
پس وہ موٹی ہوئی فاستغلظ پس وہ کونپل پھر موٹی ہوئی فاستوی علی ساقیہی
پھر سیدھی کھڑی ہوئی علی ساقیہی سوق جمع ہے ساق کی ساق اور ساق کہتے ہیں درخت کے تنے کو ساق کسے کہتے ہیں تنے بھئی جس پر پھر آگے شاخیں اور پتے لگے ہوتے ہیں تو تنے کو ساق کہتے ہیں اور یہاں فصل کا ذکر ہے تو یہاں تو تنا نہیں ساق کیا ہے اس کی فصل کی وہ جو اس کی باریک سی ڈنڈی سی ہے باریک سی نلی سی جو ہے فصل کی سمجھ میں آئی بات بھئی
فاستوی علی ساقیہی پھر وہ سیدھی کھڑی ہو گئی اپنے اپنی ڈنڈی پر یا اپنی نلی پر
يعجب الزراعا
بھلی لگتی ہے الزراعا کسانوں کو
بھلی لگتی ہے کس کو زراع کاشت کرنے والے کسان کسانوں کو بھلی لگتی ہے کاشت کرنے والوں کو بھلی لگتی ہے
ليغيظ بھم الكفارا تاکہ غصہ دلائے ان کے ذریعے اللہ کافروں کو تاکہ اللہ غصہ دلائے ان کے ذریعے کافروں کو
معنی سمجھ میں آیا بھئی اور مومنین کی مثال جو ہے انجیل کے اندر وہ یہ ہے كزرع اخر شطأه جیسے کھیتی جس نے اپنی کونپل نکالی فازره پس اس کو مضبوط کیا فاستغلظ پس موٹی ہوئی فاستوی علی ساقیہی پھر سیدھی کھڑی ہو گئی اپنی ڈنڈی پر يعجب الزراعا خوش معلوم ہوتی ہے کاشتکاروں کو کسانوں کو خوش کرتی ہے کاشتکاروں کو یعنی ان کو بھلی لگتی ہے ليغيظ بھم الكفارا تاکہ ان کے ذریعے غصہ دلائے اللہ کافروں کو مومن مسلمانوں کی یہ مثال ہے بھئی انجیل میں
مسلمانوں کی مثال یہ ہے جیسے کھیتی ہو پہلے کیا ہو پہلے کونپل نکلی ایک بھئی سب سے پہلے مسلمان ہوئے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ ایک کونپل نکلی
پھر اس کے بعد اور کونپلیں نمودار ہوئیں پھر اس کے بعد وہ وہ مضبوط ہوئیں تھوڑی سی قوت آئی ان میں
پھر وہ موٹی ہو گئی بھئی اور قوت آ گئی
پھر وہ اپنی ڈنڈی پر کھڑی ہو گئی یعنی پوری قوت پکڑ لی اس نے
اور ایسی فصل تیار ہوئی جو کاشت کرنے والوں کو بھلی لگتی ہے
خاص طور پر کاشت کرنے والوں کا ذکر کیا کیونکہ یہ کاشت انہی کا کام ہے تو جو کھیتی کاشت کرنے والوں کو اچھی لگ رہی ہے کاشت کرنے والوں کو تو ہر عیب وغیرہ کا پتہ ہوتا ہے فصل کے تو جب ان کو اچھی لگ رہی ہے تو باقیوں کو بدترین اولی اچھی لگے گی تو یہ فصل تیار ہوئی اللہ نے یہ فصل تیار کر دی کیوں تیار کی
یہ جی یہ مس نہیں یہ جو مثال ذکر کی انجیل میں اللہ نے ان کی یہ مثال ذکر کی ہے تو یہ جو مثال ذکر کی اللہ نے کیوں ليغيظ بھم الكفارا تاکہ اس کے ذریعے کفار کو غصہ دلائیں بھئی یہ مومنین کی تو یہ حالت ہے یہ تو اللہ فصل تیار کر رہے ہیں اور تم ان کا مقابلہ کبھی نہیں کر سکتے
وعد الله الذين آمنوا وعملوا الصالحات وعد فرمایا ہے اللہ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور اچھے عمل کیے مین ھم ان میں سے مغفرت و اجرا عظیما کیا وعدہ فرمایا ہے مغفرت کا اور اجر عظیم کا
وعد الله الذين آمنوا وعملوا الصالحات من ھم مغفرت و اجرا عظیما اللہ نے وعدہ فرمایا ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں اور وہ جنہوں نے عمل اچھے عمل کیے ان میں سے ان کے لیے کیا وعدہ فرمایا مغفرت و اجرا عظیما مغفرت اور اجر عظیم کا
تو یہ جو اوپر آیا ان کی یہ مثال ہے تورات میں تورات میں اب بھی ایسے الفاظ ملتے ہیں جو بالکل انہی الفاظ کے قریب قریب ہیں بھئی پتہ لگتا ہے انہوں نے ہر چیز میں تبدیلی کر دی لیکن پھر بھی وہ لفظ ملتے ہیں بھئی جو ان جیسے ہیں
اسی طرح انجیل کے اندر بھی اس جیسے لفظ ملتے ہیں جو اللہ نے مثال بیان فرمائی بھئی
سمجھ میں آیا بھئی اور پھر انجیل میں تو یہاں تک ذکر ہے بڑے واضح لفظوں میں بھئی کہ
پھر وہ دس ہزار کے دس ہزار کے نیک صفت لوگوں کے ساتھ کوہ فاران پر تشریف لائے عبارت ان کی پوری ذہن اس کی میرے ذہن میں نہیں لیکن اسی طرح ہے کہ فاران کوہ فاران پر وہ نمودار ہوا وہ پیغمبر دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ
دس ہزار پاک صفت لوگوں کے ساتھ جو ہے پیغمبر کوہ فاران پر ظاہر ہوا اور اس میں اشارہ فتح مکہ کی طرف بھئی دس ہزار صحابہ کو لے کر آپ فتح مکہ کے موقع پر تشریف لائے تھے
اور ان پہاڑوں پر فاران جو ہے وہ پہاڑ جس پر غار حرا واقع ہے بھئی اس کا نام ہے اور تو یہ ان پہاڑ کے بیچ میں سے حضور علیہ السلام تشریف لائے دس ہزار صحابہ کو لے کر
انجیل یاد رکھیے تو یہ دس ہزار کا ذکر ہے
لیکن یہ انجیل میں تبدیلیاں کرتے رہتے ہیں اب بھی تبدیلی کا سلسلہ جاری ہے بھئی
اتنے اختلافات ہیں ان کے آپس میں بیچ میں عبارتوں کی تبدیلیاں جو کیں اب انسانی کلام ہو تو اس میں تو ضرور تعارض واقع ہوتا ہی ہے بھئی ایک جگہ کوئی بات کی ہے دوسری جگہ دوسری بات کر دی
تو اتنے تعارض ہیں کہ وہ خود پریشان ہیں کہ کیا کریں ان تعارضوں کا حل کیا نکالیں چنانچے کمیٹیاں بناتے ہیں بھئی بڑے بڑے پادری اکٹھے ہوتے ہیں بھئی یہ تعارض ختم کرو کسی طرح ان کے وہ پھر اور تبدیلیاں کرتے ہیں
عجیب ایک صورتحال ہے اور تبدیلیاں کرتے ہیں تاکہ ایک دوسرے کے مطابق ہو جائیں
لیکن بیس ختم کرتے ہیں پانچ دس اور نئے نکل آتے ہیں بھئی سمجھ میں آیا بھئی تو یہ ان کے پرانے نسخوں میں دس ہزار کا لفظ تھا بھئی دس ہزار انہوں نے کہا یہ دس ہزار تو مسلمان اپنی دلیل بنا رہے ہیں
دس ہزار کو بدلو اس کو لاکھوں میں لے گئے بھئی
عجیب لوگ ہیں بھئی بہرحال دعا کرو اللہ سب کو ہدایت دے اللہ ہم سب کو ان کی ہدایت کا ذریعہ بنائے بھئی
سمجھ میں آیا اللہ تو قادر ہیں اللہ کسی کو سبب بنا دیتے ہیں تو اللہ ہمیں بھی ان کی ہدایت کا سبب بنائے اللہ ہمیں بھی کامل ہدایت نصیب فرمائے اور ہمیں ان کی ہدایت کا بھی ذریعہ بنائے بھئی
ایک انجیل ہے البتہ انجیل برناباس کہتے ہیں اس کو انجیل برناباس
یہ آج سے کوئی سو ڈیڑھ سو یا ڈیڑھ سو یا دو سو سال کے لگ بھگ یہ دریافت ہوئی بھئی
کتابوں میں اس کا ذکر تو ملتا تھا ان کی انجیلیں چار ہیں بھئی تین یا چار ہیں غالبا مشہور
اور انجیل برناباس کا ذکر کتابوں میں ملتا تھا لیکن موجود نہیں تھی دنیا کے اندر بھئی
تو انہوں نے بھی بڑی تلاش کی ان کو بھی نہیں ملی ختم سینکڑوں سال سے ختم تھی بالکل اس کا وجود ہی نہیں تھا
اور برناباس جو تھے یہ حضرت عیسی علیہ السلام کے حواری تھے انہوں نے لکھی تھی
تو ایک پادری آج سے کوئی ڈیڑھ دو سو سال پہلے کا اس نے اس کی تحقیق میں سالہا سال لگا دیے اس نے کہا میں اس کو ضرور تلاش کروں گا
بڑے بڑے جو شاہی کتب خانے تھے قدیم سے قدیم وہ ان کی تلاش میں گیا بھئی
بادشاہوں کے محل میں ادھر ادھر جہاں وہ تلاش کر سکتا تھا لگا رہا لگا رہا لگا رہا یہاں تک کہ پھر غالباً شاید آسٹریلیا یا کس جگہ یا آسٹریا
کوئی ملک تھا وہاں کے بادشاہ جو تھا اس کے محل اس کی وہ تلاشی لیتا رہا
اور کرتے کرتے بالآخر اس کو اپنے ہی بادشاہوں کے محل میں ایک تہہ خانے مل گیا جہاں پر کتب خانہ تھا بھئی ان کا
دبہ بڑا تھا بند پڑا تھا
چنانچہ جب تہہ خانے کا پتہ لگا اس نے باقاعدہ حکومت کو بتلایا اور پھر حکومت والے آئے اور پھر اس کو کھولا گیا اور وہ پادری بھی اندر اترا اور اندر بڑی کتابیں موجود تھیں اور انہی کے اندر ان کو پھر انجیل برناباس کا نسخہ ملا
انجیل برناباس کا نسخہ پھر انہوں نے جب اس کو پڑھا
پڑھا تو وہ پادری مسلمان ہو گیا
اس کے اندر صراحتاً ذکر اب بھی اس کے اس کے نسخے اب تو عام ملتے ہیں بھئی بازار سے آپ کو مل جائیں گے جگہ جگہ محمد کا لفظ آ رہا ہے محمد کو میں بھیجوں گا محمد آئے گا محمد کو اخری پیغمبر ہوں گے سارا تفصیل
اور برناباس اس میں لکھتا ہے
یہ جو دین عیسوی کو ابتدا میں ہی خراب کیا یہ بھی یہودیوں نے خراب کیا تھا یہودی پہلے کے تھے وہ حضرت عیسی علیہ السلام کو نہیں مانتے تھے تو کچھ لوگ تو حضرت عیسی علیہ السلام پر ایمان لے آئے تھے بھئی
تو انہوں نے کہا کہ اگر ہم ان کے ساتھ لڑائی کریں گے تو ختم تو بہت مشکل ہے اب ہم ان کو کریں یوں کرتے ہیں انہی کے اندر بیچ میں گھس جاتے ہیں ان کے عقیدے خراب کرتے ہیں چنانچہ ایک یہودی تھا پولس نام تھا وہ بظاہر عیسائی بن گیا
اور بڑا پیر بن گیا ان کا بھئی بڑا پیر بن گیا اور اس نے پھر یہ تثلیث کا کہ خدا ایک نہیں تین ہیں حضرت عیسی علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں وغیرہ اس طرح کی باتیں اس نے پھیلانا شروع کر دیں بھئی
اور تو چنانچہ یہ برناباس کے اندر جو ہے وہ ان یہودیوں پر بھی بڑے غم و غصے کا اظہار کرتے ہیں وہ حضرت عیسی علیہ السلام کے جو حواری ہیں کہ انہوں نے دین کو خراب کر دیا ہے دین کو بدل دیا ہے بالکل واضح لفظوں میں ساری باتیں انہوں نے اس کے اندر لکھی ہوئی ہیں
تو وہ پادری پھر مسلمان ہو گیا بھئی مسلمان ہو گیا
اور ہدایت اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے انہی کے مقصد محل سے ملی انہی کے خانوں سے ملی انہی کی کتابوں میں برناباس کا ذکر بھی ملتا تھا
انہی کے آدمی نے تلاش کی انہی کے حکومت والوں نے آ کر نکالی لیکن انہوں نے پھر کیا کہہ دیا
بھئی یہ تو مسلمانوں نے ہمارے ادھر لا کر چھپا کر رکھی تھی
آج بھی اس کو تو آج بھی اس کے نسخے مل جاتے ہیں عام مل جاتے ہیں بھئی
چلیے بس بھئی حال احوال مرام اللہ اعلم بحقیقت الکلام