اعوذ بالله من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم
سبح للہ ما فی السماوات وما فی الارض و هو العزیز الحکیم
یا ایہا الذین امنوا لما تقولون ما لا تفعلون
کبر مقتا عند اللہ ان تقولوا ما لا تفعلون
یہ سورہ صف ہے
اور اس صورت کے اندر
یہ بات آ رہی ہے
کہ اللہ تعالی ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں
جو اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں
صفیں بنا کر
جس طرح کہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوتی ہے
کہ اللہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو اس کے راستے میں صف بنا کر لڑتے ہیں جس طرح سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوتی ہے
تو یہ صف کا ذکر آ رہا ہے اس لیے اس سورت کو سورۃ صف کہا جاتا ہے بھئی
سبح للہ ما فی السماوات وما فی الارض
تسبیح بیان کرتی ہے اللہ کی جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں
و هو العزیز الحکیم
اور وہ زبردست ہے حکمت والے ہیں
یہ کئی مرتبہ ذکر ہو چکا
کہ کائنات کی جتنی چیزیں ہیں
وہ اللہ کے ذکر میں مصروف ہیں بھئی
بزبان حال یا بزبان قال بھئی جن کو ہم سمجھتے نہیں
یا ایہا الذین امنوا لما تقولون ما لا تفعلون
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو
لما تقولون
تم کیوں کہتے ہو
ما لا تفعلون
جو تم کرتے نہیں ہو
اے ایمان والو تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو
کبر مقتا عند اللہ ان تقولوا ما لا تفعلون
بڑی ہے
مقتا
باعتبار
نفرت کے
بڑی ہے باعتبار نفرت کے عند اللہ اللہ کے نزدیک
ان تقولوا یہ کہ تم کہو
وہ چیز
ما لا تفعلون جو تم کرتے نہیں ہو
یعنی اللہ کے نزدیک
کبر مقتا
بڑی ہے نفرت کے اعتبار سے اللہ کے نزدیک یعنی یہ بات اللہ کے نزدیک بڑی نفرت والی ہے
یہ بات اللہ کے نزدیک بڑی نفرت والی ہے ان تقولوا ما لا تفعلون
تو کہ تم وہ بات کہو جو تم کرتے نہیں ہو
معنی سمجھ میں آ گیا بھئی
یا ایہا الذین امنوا لما تقولون ما لا تفعلون
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو
کبر مقتا عند اللہ ان تقولوا ما لا تفعلون
اللہ کے نزدیک یہ بات بڑی نفرت والی ہے کہ تم وہ کہو جو تم کرتے نہیں
بھئی یہ
کچھ مسلمان
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں
کچھ صحابہ
کھڑے ہو کر باتیں کر رہے تھے
تو یہ بات انہوں نے کی کہ ہمیں اگر پتہ چل جائے
کہ اللہ کو کیا چیز پسند ہے
تو ہم اس میں اور زیادہ اس کو کریں
اور پورا زور اس میں لگا دیں بھئی
اپنی جان کی بازی تک اس میں لگا دیں اگر ہمیں یہ پتہ لگ جائے کہ اللہ تعالی کو کیا چیز پسند ہے
تو اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں بھئی
اور اس میں کہا گیا
اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو لما تقولون ما لا تفعلون
کہ تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں
یعنی ان مومنین نے جو بات کی تھی ان صحابہ نے جو بات کی تھی
اس میں ایک دعوے کی سی صورت بن گئی تھی
دعوے کا سا انداز تھا تو اس سے منع کر دیا گیا
کہ کوئی بات اگر تمہارے دل میں ہو تو
جس کے مستقبل میں کرنے کا ارادہ ہو تو اس انداز میں نہ کرو کہ دعوے کا انداز بن جائے بھئی
اور پھر بعد میں تمہیں بتلایا جائے کہ اللہ کو یہ چیز پسند ہے
تو
تمہارے لیے بعضوں کے لیے وہ کیا بن جائے
مشکل بن جائے بھئی
تو دعوے کے رنگ میں نہ کہو
ہاں اگر انسان کا ارادہ ہو کسی کام کے مستقبل میں کرنے کا
تو عاجزی کے انداز میں اس ارادے کو ظاہر کرنے میں کوئی حرج نہیں
عاجزی کے ارادے
تو دیکھو وہ کیا بات کر رہے تھے کہ اگر ہمیں پتہ لگ جائے اللہ کو کیا پسند ہے تو اس میں
ہم سر دھڑ کی بازی لگا دیں گے اس کے اندر
ایک دعوے والی صورت بن گئی تھی تو اس پر فوراً اللہ کی طرف سے
یہ آیات نازل ہوئیں
کہ اے ایمان والو
دعوے کیوں کرتے ہو
اس دعوے کرنا اس طرح ٹھیک نہیں بلکہ کس انداز میں بات کرنی چاہیے
کسی کام کا ارادہ ہو تو عاجزی کے انداز میں دعوے کے انداز میں نہیں
کیونکہ اگر کوئی ایسا حکم نازل کر دیا جائے تم دعویٰ کر رہے ہو
اور کوئی ایسا حکم نازل کر دیا جائے
اگرچہ بہت سے کر بھی لیں تم میں سے لیکن کچھ کے لیے کیا بن جائے
مشکل میں وہ نہ پڑ جائیں بھئی تو اس طرح
بات کرنا ٹھیک نہیں
یا ایہا الذین امنوا لما تقولون ما لا تفعلون
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں
کبر مقتا عند اللہ ان تقولوا ما لا تفعلون
یہ بات بڑی نفرت والی ہے اللہ کے نزدیک کہ تم وہ بات کہو جو تم کرتے نہیں
پھر انہوں نے یہ کہا تھا
کہ ہمیں پتہ لگ جائے کہ اللہ کو کیا چیز پسند ہے
تو اس میں سر دھڑ کی بازی لگا دیں
تو آگے اللہ نے بتلایا کہ اللہ کو کیا پسند ہے
ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفا
یقینا اللہ محبت کرتے ہیں ان لوگوں سے یقاتلون فی سبیلہ جو لڑتے ہیں اللہ کے راستے میں صفا
صفیں بنا کر
کانہم بنیان مرصوص
گویا کہ وہ بنیان عمارت ہیں
بنیان کا کیا معنی
عمارت بھئی
بنا یبنی کے معنی تعمیر کرنے کے اسی سے یہ بنیان ہے بھئی
تعمیر کی گئی
یعنی عمارت
مرصوص
سیسہ پلائی ہوئی
مرصوص کا کیا معنی
سیسہ پلائی ہوئی
کانہم بنیان مرصوص گویا کہ وہ سیسہ پلائی ہوئی عمارت ہیں
سیسہ پلائی ہوئی
یعنی بڑی مضبوطی سے بنائی گئی جوڑی گئی
یعنی اینٹ کے ساتھ اینٹ بڑی مضبوطی سے جڑی ہوئی ہو تو یہ ہے مرصوص بھئی
یہ ہے سیسہ پلائی ہوئی بھئی
سمجھ میں آیا ایک اینٹوں کو جوڑ کر بنایا گیا لیکن اچھے طریقے سے ان کو آپس میں نہیں جوڑا گیا
وہ عمارت مضبوط نہیں ہوگی لیکن اگر اینٹ کے ساتھ اینٹ اچھے طریقے سے جوڑی گئی ہوگی تو وہ عمارت بڑی مضبوط ہوگی
ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفا کانہم بنیان مرصوص
یقینا اللہ محبت کرتے ہیں اللہ پسند کرتے ہیں انہوں نے کہا تھا نا اللہ کو کیا پسند ہے وہ بتلایا جا رہا ہے
یقینا اللہ پسند کرتے ہیں ان لوگوں کو جو لڑتے ہیں اللہ کے راستے میں صف بنا کر کانہم بنیان مرصوص
مرصوص
گویا کہ وہ سیسہ پلائی ہوئی عمارت ہیں
و اذ قال موسی لقومه یا قومی لما تؤذوننی وقد تعلمون انی رسول اللہ الیکم
اور جب کہا
و اذ قال
اور جب کہا موسی علیہ السلام نے
لقومہ اپنی قوم سے
یا قومی
یہ ظرف ہے اس کے لیے عامل چاہیے
عامل کیا ہے یہاں پر اذکر
واذکر اذ قال موسی اور یاد کیجیے وہ وقت جب کہا موسی علیہ السلام نے لقومہ اپنی قوم سے
یا قومی
یہ میم کا کسرہ کیا بتلا رہا ہے
یہاں پر یا حذف ہوئی ہے
یا قومی اے میری قوم
لما تؤذوننی
تم کیوں مجھے اذیت دیتے ہو
تم کیوں مجھے تکلیف دیتے ہو
وقد تعلمون اور تحقیق کہ تم جانتے ہو انی رسول اللہ الیکم
کہ بے شک میں اللہ کا رسول ہوں تمہاری طرف
فلما زاغو
پس جب وہ ٹیڑھے ہوئے
زاغا کے معنی ٹیڑھے ہونے کے
فلما زاغو پس جب وہ ٹیڑھے ہوئے
ازاغ اللہ قلوبہم تو ٹیڑھے کر دیے اللہ نے ان کے دل
بنی اسرائیل والے حضرت موسی علیہ السلام کو تکالیف دیتے رہتے تھے
تو
حضرت موسی علیہ السلام ان سے فرما رہے ہیں اے میری قوم تم مجھے کیوں تکلیف دیتے ہو
سمجھ میں آیا بھئی
کہ کیوں تکلیف کبھی وہ بچھڑے کو بنا کر اس کی پوجا شروع کر دی کبھی تورات کا حکم آیا تو کہنے لگے
اللہ کے احکام آئے تو کہنے لگے ہمارے اپنے آدمی جب تک اپنے کانوں سے نہیں سن لیں گے کہ اللہ نے حکم دیے ہیں اس وقت تک ہم اس پر عمل نہیں کریں گے اور اس طرح کے
اور پھر جب جہاد کا حکم آیا کہ عمالقہ قوم کے ساتھ لڑنا ہے تو کہنے لگے حضرت موسی علیہ السلام سے کہ آپ اور آپ کا خدا جا کر لڑیں ہم یہیں بیٹھے ہیں
تو
اس طرح کی
قدم قدم پر وہ اذیتیں دیتے تھے
تو حضرت موسی علیہ السلام فرما رہے ہیں اپنی قوم سے
یا قومی اے میری قوم
لما تؤذوننی تم کیوں مجھے تکلیف دیتے ہو
وقد تعلمون انی رسول اللہ الیکم
حالانکہ تم جانتے ہو
کہ بے شک میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں
فلما زاغو
پس جب وہ ٹیڑھے ہوئے
وہ بنی اسرائیل والے
وہ ٹیڑھے ہوئے
وہ موسی علیہ السلام کی قوم والے
وہ جب ٹیڑھے ہوئے
ازاغ اللہ قلوبہم تو ٹیڑھے کر دیے اللہ نے ان کے دل
یعنی اللہ نے بھی ان کے دل ٹیڑھے کر دیے
یعنی کہ پھر ان میں قبول حق کی گنجائش ہی نہ رہی بھئی
حق قبول کرنے کی استعدادی ان میں نہ رہی بھئی
جب وہ خود ٹیڑھا راستہ اختیار کر رہے تھے تو اللہ نے بھی ان کے دل ٹیڑھے کر دیے کہ ان میں پھر قبولیت حق کی استعدادی نہ رہی
واللہ لا یہدی القوم الفاسقین
اور اللہ ہدایت نہیں دیتے نافرمان لوگوں کو
و اذ قال عیسی ابن مریم یا بنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم
اور جب کہا عیسی ابن مریم نے
علیہ الصلوۃ والسلام
حضرت عیسی ابن مریم علیہ السلام نے جب کہا
یا بنی اسرائیل
اے بنی اسرائیل
انی رسول اللہ الیکم
یقینا میں اللہ کا رسول ہوں تمہاری طرف
مصداقا لما بین یدی من التوراتی
اس حال میں
کہ میں تصدیق کرنے والا ہوں
اس حال میں کہ میں
تصدیق کرنے والا ہوں
لما بین یدی
اس چیز کی بین یدی جو میرے سامنے ہے یعنی جو مجھ سے پہلے ہے
میں تصدیق کرنے والا ہوں اس کی جو مجھ سے
پہلے ہے
من التوراتی
یعنی کہ تورات
یہ بیان ہے ما بین یدی کا
میں تصدیق کرنے والا ہوں اس چیز کی یعنی اس کتاب کی جو مجھ سے پہلے ہے
وہ کون سی کتاب ہے
تورات
یعنی
تو یوں ترجمہ کیجیے
مصداقا لما بین یدی من التوراتی میں تصدیق کرنے والا ہوں اپنے سے پہلی کتاب تورات کی
ومبشرا برسول
اور میں خوشخبری دینے والا ہوں ایک پیغمبر کی
یاتی من بعدی
جو آئے گا میرے بعد
ایک پیغمبر جو میرے بعد آئے گا
اسمہ احمد
اس کا نام احمد ہے
اس کا نام
احمد ہے
تو حضرت
عیسی علیہ السلام جو ہیں
انہوں نے
اپنی قوم والوں کو
اپنے اوپر ایمان لانے والوں کو بتلا دیا تھا
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے بارے میں
ویسے تو تمام انبیاء ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خبر دیتے رہے ہیں
لیکن چونکہ حضرت عیسی علیہ السلام آخری پیغمبر ہیں
حضور علیہ السلام سے پہلے بھئی، اس کے بعد پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد کون تشریف لائے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم۔ تو حضور تو وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کی طرف آخری پیغمبر جو بھیجے گئے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تھے، جس کے بعد پھر صرف حضور علیہ السلام تشریف لائے، ان کے بعد اور نہ ان سے درمیان میں کوئی پیغمبر نہیں آئے بھئی۔
تو خاص طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بڑے واضح لفظوں میں حضور علیہ السلام کی آمد کا بتلایا بھئی۔ عیسائیوں نے اور یہودیوں نے تورات اور انجیل کے اندر حد سے بڑھ کر تحریفات کر دیں بھئی، حد سے بڑھ کر تبدیلیاں کر دیں، لیکن آج بھی جو تورات اور انجیل کے نسخے ہیں ان کے اندر ایسے الفاظ موجود ہیں جن کا صریح اور واضح مصداق حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی بنتے ہیں بھئی۔
سمجھ میں آیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی بنتے ہیں بھئی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خبر دے رہے ہیں کہ میرے بعد ایک شخص آئے گا، ایک پیغمبر آئے گا، اور تو واضح لفظوں میں۔ یہاں تک کہ یہ جیسے قرآن میں آیا کہ میں خوشخبری دینے والا ہوں ایک پیغمبر کی جو میرے بعد آئے گا، اس کا نام احمد ہوگا، احمد۔
احمد کا کیا معنی؟ زیادہ تعریف کرنے والا یا زیادہ تعریف کیا گیا۔ احمد اس میں تفضیل کا صیغہ ہے نا۔ احمد افعل وزن ہے، اور اس میں تفضیل اس میں تفضیل عموماً اس میں فاعل سے آتا ہے۔
جیسے اعدل کیا معنی؟ زیادہ عادل، اضرب کیا معنی؟ زیادہ ضارب، تو اسی طرح احمد زیادہ حامد، زیادہ حمد کرنے والا بھئی۔ اور کبھی کبھار اس میں تفضیل اس میں مفعول سے بھی آتا ہے اگرچہ وہ قلیل ہے۔
جیسے اشہر بامعنے مشہور بھئی، زیادہ مشہور، اشہر بامعنے زیادہ مشہور۔ تو یہ احمد کے اندر دونوں احتمال آ گئے، زیادہ تعریف کرنے والا یا زیادہ تعریف کیا گیا بھئی۔ اور ابھی تک جو انجیل اور تورات کے نسخے تھے، ان میں ایک لفظ ملتا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں میرے بعد فارقلیط آئے گا، کون آئے گا؟
میرے بعد فارقلیط آئے گا، اور فارقلیط کا بھی یہی معنی ہے جو احمد کا معنی ہے، تو ابھی تک وہ لفظ موجود ہیں، اگرچہ انہوں نے اس میں بڑی تبدیلیاں کر دیں، اب یہ قریب کے زمانے میں آ کر انہوں نے دیکھا کہ یہ تو مسلمان حضور صلی اللہ علیہ وسلم مراد لے رہے ہیں تو انہوں نے اس لفظ ہی کو بدل دیا۔
عجیب قوم ہے، انسان حیران ہوتا ہے بھئی۔ انسان حیران ہوتا ہے، تحریف کا سلسلہ ابھی تک ان کا جاری ہے، چل رہا ہے، اور جیسا میں نے پہلے بھی بتلایا تھا کہ ان کے بڑے بڑے دانشور اور بڑے بڑے پوپال پادری ان کے اکٹھے ہوئے کہ تورات میں اتنے اختلافات ہیں، انجیل کے اندر جگہ جگہ، ایک جگہ ایک بات کسی طرح ہوتی ہے، دوسری جگہ دوسری طرح ہوتی ہے۔
ایک جگہ دس ہزار کا ذکر آ رہا ہے مثلاً، دوسری جگہ اسی بات کے بارے میں آتا ہے، پندرہ ہزار کا ذکر آ جاتا ہے، کہیں پر آ رہا ہے کہ وہ پانچ آدمی تھے مثلاً، دوسری جگہ اسی بات کے بارے میں آتا ہے کہ وہ نو آدمی تھے یا کچھ تھے، بس مثال دے رہا ہوں ویسے، تو صریح اختلافات ہیں، ایک ہی چیز جگہ جگہ مختلف طور پر بالکل بیان ہوتی ہے بھئی، تو چنانچہ وہ اکٹھے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ یہ اختلافات کسی طرح ختم کیے جائیں، چنانچہ اکٹھے ہو کر انہوں نے ایک کہتے ہیں سب سے قابل اعتماد نسخہ ہم بنا رہے ہیں۔
سب سے قابل اعتماد نسخہ کیا بنایا؟ اور تبدیلیاں کر دیں کہ ان اختلافات کو کسی طرح ختم کر دیں، یہ اور تبدیلیوں کے ساتھ زیادہ تصحیح شدہ نسخہ ان کا آ گیا بھئی، اندازہ لگائیے، اور پھر بھی اختلافات کم ہونے کے بجائے اور بڑھ جاتے ہیں بھئی، کم نہیں ہوئے، ایک طرف ختم ہوتے ہیں، پتہ ہی نہیں چلتا کہ دوسری جگہ تو تبدیلی آ گئی اس کی وجہ سے بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وہ فارقلیط کا لفظ ہی انہوں نے بدل دیا اور یہ بالکل قریب کے عرصے میں ہی انہوں نے بدلا ہے، زیادہ نہیں ہوا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو انہوں نے اس کو بدل دیا، اور پھر وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر دس ہزار صحابہ کے ہمراہ آپ تشریف لائے بھئی، مکہ کو فتح کیا، اس کا ذکر بھی آتا ہے تورات انجیل میں واضح لفظوں میں کہ اس طرح کے کچھ الفاظ ہیں وہاں پر، کہ وہ خداوند دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ فاران کی فاران کی چوٹیوں پر نمودار ہوا۔
فاران وہی مکہ کی پہاڑیاں بھئی۔ دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ یعنی دس ہزار پاک صفت لوگ یعنی صحابہ کے ہمراہ وہ فاران کی چوٹی پر طلوع ہوا، اس طرح کے بڑے واضح الفاظ اب بھی ملتے ہیں۔ اور میں نے یہ بھی بتایا تھا کہ ایک انجیل کا نسخہ جو بعد میں ملا، جسے ابھی آج سے تقریباً ڈیڑھ سو، ڈیڑھ سو سال شاید یا دو سو سال اس سے زیادہ عرصہ نہیں ہوا، برناباس کی انجیل بھئی۔
اور وہ خود اس کی تلاش میں تھے، کتابوں میں اس کا ذکر ملتا تھا لیکن نسخہ نہیں مل رہا تھا پوری دنیا کے اندر، وہ تلاش کرتے کرتے ایک پادری کو ملا اور اپنے ہی کسی بادشاہ کے محل کے اندر، غالباً آسٹریلیا یا آسٹریا، شاید آسٹریا ہوگا، اس ملک کے اندر ان کے اپنے ہی بادشاہ کا محل تھا، پرانا، بہت پرانا، اسی کے اندر وہ وہ جو پادری تھا، وہ کئی سال، ہا سال تک اس کی تلاش میں پھرتا رہا، پھر وہاں ایک بادشاہ کے محل کے اندر وہ ایک تہہ خانہ ملا بھئی تلاش کرتے کرتے جو اس کی لائبریری تھی اس محل کی، اس لائبریری کے اندر گئے اور پھر باقاعدہ حکومتی اجازت کے ساتھ، حکومتی اہلکاروں کی موجودگی میں وہ وہاں اترے اور پھر وہاں ان کو وہ نسخہ ملا اور پھر وہ نسخہ دیکھ کر وہ پادری مسلمان ہو گیا، کیونکہ اس نسخے کے اندر واضح لفظوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جگہ جگہ نام آتا ہے، جگہ جگہ نام آتا ہے بھئی، کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آنے والے ہیں، اور اس طرح بالکل واضح اور اس کے اندر واضح توحید کی طرف دعوت ہے، اور وہ جنہوں نے لکھا جو حضرت، انہوں نے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جو حواری تھے جنہوں نے یہ لکھی برناباس، انہوں نے وہ یہ برناباس ان کی طرف نسبت ہے نا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواری تھے ان کی انجیل، انہوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ یہ ہمارے دین کو فلاں آدمی ہے وہ بڑا بگاڑ رہا ہے، اور توحید کے خلاف تثلیث وغیرہ کا عقیدہ لوگوں میں پھیلا رہا ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اس طرح نہیں کہا تھا، وہ توحید لے کر آئے تھے اور اس طرح، تو، ااا واضح لفظوں میں، اور برناباس کی انجیل کے نسخے آج کل بھی عام مل جاتے ہیں، تو اگر صرف یہ دیکھنے کے لیے کہ کس طرح وہ واضح لفظوں میں حضور علیہ السلام کی بشارت دیتے ہیں، دیکھا جا سکتا ہے اس کے اندر واضح، لیکن پادری کیا کہتے ہیں؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، یہ مسلمانوں نے انجیل ہمارے محل میں چھپا دی تھی، عجیب بات بھئی! آپ ہی کے پادری نے، آپ ہی میں پلے بڑھے ہوئے اور آپ کے دین کو سیکھے ہوئے اور بلکہ دین کے عالم نے اس کو سالہا سال کتنے ملکوں میں گھومنے کے بعد بالآخر ایک جگہ اس کو یہ نسخہ ملا اور پھر اس کو دیکھ کر پڑھ کر وہ مسلمان بھی ہو گیا، اور اب آپ مسلمانوں پر الزام لگاتے ہو کہ انہوں نے اپنی طرف سے داخل کیا، تو صرف تعصب اور ضد ہے اور کوئی چیز نہیں بھئی۔
ان کے ساتھ جب بھی مناظرے ہوتے ہیں مسلمانوں کے بھئی، مسلمان ہمیشہ غالب آتے ہیں، یہ خود اقرار کرتے ہیں، کوئی زیادہ ہی ضدی ہو تو الگ بات ہے، ورنہ یہ بھرے مناظرے کے اندر اقرار کرتے ہیں کہ ہماری کتاب میں واقعی بہت سی ایسی باتیں جو ہماری سمجھ سے بالاتر ہیں، ہماری عقل میں نہیں آتی، سمجھ میں نہیں آتی، لیکن بس ہمیں یقین ہے ہماری کتاب پر حق ہے بھئی۔
تو یہ کہہ کر وہ بات ختم کرتے ہیں، بہت مناظروں کے اندر اس طرح بھئی، آج کل زمانہ حال میں بھی اسی طرح ہوتا ہے، قریب قریب کے بالکل مناظرے بھی آپ دیکھیں وہ یہی کہتے ہیں کہ بہت سی باتیں ہیں جو ہماری عقل میں نہیں آتی، ہمارے ذہن اس کو قبول نہیں کرتا، ہم اس کی، ہم ان کا کوئی جواب نہیں دے سکتے ان چیزوں کا ہمارے پاس ہے ہی نہیں جواب، کیا جواب دیں وہ خود اقرار کرتے ہیں ان کے بڑے بڑے پادری، لیکن پھر بھی اس پر جے رہتے ہیں بھئی، تو بس ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے، جس کو اللہ ہدایت دے دیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ دین کو چھوڑنا کوئی آسان کام نہیں ہے بھئی، الحمدللہ ثم الحمدللہ، اللہ نے ہمیں یہ دین دیا، سمجھ، کوئی کسی دین پہ وہ کب چھوڑتا ہے اپنے دین کو بھئی؟ تو یہ اللہ نے الحمدللہ ہمیں دین دیا اور پھر دین کے اندر ہمیں اہل حق میں سے پیدا کیا، کتنی بڑی نعمت! کتنی بڑی نعمت! پھر اہل حق کے اندر دینی رجحان رکھنے والوں میں سے بنایا ہمیں اللہ نے، پھر دینی رجحان والوں میں سے بھی اللہ نے ہمیں یہ کتاب و سنت کا علم نصیب فرمایا، اس کا شوق پیدا فرمایا، اور پھر اس کے لیے اللہ نے، ایں، وقت نصیب فرمایا، ہر قسم کے موانع کو دور فرمایا، ہر قسم کے اسباب نصیب فرمائے، توفیق نصیب فرمائی، تو یہ اللہ کے اتنے انعامات ہیں، یہی انعامات اگر انسان سوچے تو ہر وقت اللہ کے سامنے سربسجدہ رہے، کتنے، کتنا بڑا اللہ نے مجھ پر فضل فرمایا، میری آخرت سنور گئی ان چیزوں کی وجہ سے، کم از کم جتنے بھی گناہ ہوں، کسی نہ کسی وقت تو مغفرت ہو جائے گی بھئی، ویسے تو اللہ ہم سب کو بغیر حساب کتاب کے اللہ ہمیں جنت الفردوس نصیب فرمائے بھئی۔ آمین۔ حساب کتاب جس کا ہو گیا، بس سمجھو، شروع ہوا، بس سمجھو وہ پھنس گیا بھئی۔
تو یہ ذکر آیا تھا بھئی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی جو انہوں نے بشارت دی تھی، وإذ قال عیسی ابن مریم اور جب کہا عیسیٰ ابن مریم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یا بنی اسرائیل، اے بنی اسرائیل، انی رسول اللہ الیکم، یقیناً میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں، مصدقاً لما بین یدی من التورات، تصدیق کرنے والا ہوں اس چیز کی جو مجھ سے آگے تورات ہے، جو مجھ سے پہلے تورات ہے، اس کی تصدیق کرنے والا ہوں، و مبشراً برسول یاتی من بعد اسمہ احمد، اور خوشخبری دینے والا ہوں ایک پیغمبر کی جو میرے بعد آئے گا، جس کا نام احمد ہے۔
فلما جاءہم بالبینات قالوا ہذا سحر مبین، پس جب وہ آئے ان کے پاس بالبینات واضح دلائل لے کر، قالوا ہذا سحر مبین، تو کہا، تو کہا انہوں نے یہ کھلا جادو ہے۔
پس جب وہ آئے ان کے پاس، یا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ضمیر راجع، یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ضمیر راجع۔ یہ جو پیچھے رسول کا ذکر آیا، یعنی حضور علیہ السلام تو وہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے پاس کیا لے کر آئے؟ بالبینات، کھلی نشانیاں، واضح نشانیاں، واضح دلیلیں، یا یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب ان لوگوں کے پاس واضح نشانیاں، واضح آیتیں لے کر آئے تو انہوں نے کہا ہذا سحر مبین کہ یہ کھلا جادو ہے۔
ومن اظلم ممن افتری علی اللہ الکذب
اور کون زیادہ ظالم ہوگا ممن من اس شخص سے افترا علی اللہ الکذب جس نے گھڑا اللہ پر جھوٹ وہو یدعا الی الاسلام اس حال میں کہ اس کو بلایا جاتا ہے اسلام کی طرف۔
ومن اظلم اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہوگا ممن افترا علی اللہ الکذب جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا۔
افترا کے معنی جھوٹ گھڑنا، جھوٹ بنانا، جھوٹ باندھ لینا، جس نے اللہ کے اوپر جھوٹ باندھا یعنی اللہ کے بارے میں جھوٹ بولا۔
وہو یدعا الی الاسلام اس حال میں کہ اس کو بلایا جاتا ہے اسلام کی طرف۔
واللہ لا یہدی القوم الظالمین اور اللہ ہدایت نہیں دیتے ظلم کرنے والی قوم کو۔
اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہوگا جس نے اللہ پر جھوٹ گھڑ لیا، اللہ کے بارے میں جھوٹ باندھ لیا۔
بھئی ایک تو یہ جھوٹ اللہ کی طرف انہوں نے اولاد کی نسبت کی، یہ عیسائیوں وغیرہ نے، یہ بنی اسرائیل والوں نے۔
اور پھر تورات کے اندر، انجیل کے اندر اتنی تحریفات کیں اور نسبت کس کی طرف کر دی؟ باتیں اپنی طرف سے ملاتے تھے اور نسبت کس کی طرف کرتے تھے؟ اللہ کی طرف کرتے تھے۔
ومن اظلم ممن افترا علی اللہ الکذب وہو یدعا الی الاسلام اور اس اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہوگا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا، اللہ پر جھوٹ باندھا حالانکہ اس کو اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے۔
واللہ لا یہدی القوم الظالمین اور اللہ ہدایت نہیں دیتے ظالم قوم کو۔
اور یہودیوں میں عجیب بھئی یہودی جو سخت تعصب ترین لوگ ہیں اس زمین کے۔
ان کے نزدیک یہ اللہ کے لاڈلے ہیں، یہی جنت میں جائیں گے اور کوئی جنت میں نہیں جائے گا۔
اور کوئی شخص یہودی نہیں بن سکتا سوائے ان کی جو نسل چلی آ رہی ہے، وہ یہودی ہیں بس۔
کسی اور دین والا کہے میں یہودی بننا چاہتا ہوں، نہیں بھئی۔
یہودی وہ نہیں بن سکتا، اس مذہب میں نہیں داخل ہو سکتا۔
وہ وہی بنو اسرائیل، وہی نسل ہے اور ان کے نزدیک تو سارا اصل دارومدار نسب پر ہے بھئی۔
اور ان کے نزدیک نسب چلتا بھی ماں کی طرف سے ہے بھئی، کس کی طرف سے؟ ماں کی طرف سے چلتا ہے بھئی۔
اور کوئی دوسرے مذہب والا ان کے مذہب میں داخل نہیں ہو سکتا کیونکہ دارومدار وہ نسل پر ہے، وہ تو جو بھی آئے گا وہ دوسری نسل کا ہوگا، وہ کہتے ہیں نہیں، یہ نسل والا ہو، ہماری نسل والا ہم ہیں اللہ کے لاڈلے بھئی۔
جو مرضی کرتے رہیں، دنیا کے اندر اس وقت جتنا فساد آپ کو نظر آئے گا تقریبا تقریبا ہر ایک کے پیچھے کہیں نہ کہیں یہودی سازش ہوا کرتی ہے بھئی۔
ہر چیز میں سازش، ہر چیز میں سازش بھئی۔
عجیب لوگ ہیں بھئی، دیکھئے آگے آگے مزید ان کا ذکر آ رہا ہے۔
یریدون لیطفئوا نور اللہ بافواھھم واللہ متم نورہ ولو کرہ الکافرون۔
یریدون یہ لوگ چاہتے ہیں لیطفئوا۔
اطفاء یطفئ، اطفاء یطفئ کے معنی ہوتے ہیں بجھانے کے بھئی، چراغ وغیرہ روشنی بجھانا بھئی۔
یریدون لیطفئوا نور اللہ یہ چاہتے ہیں کہ بجھا دیں اللہ کے نور کو بافواھھم اپنے منہ سے۔
افواہ جمع ہے فم کی بھئی، فم کی۔
تو یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو بجھا دیں اپنے منہ سے یعنی اپنے منہ سے پھونکیں مار کر اللہ کے نور کو بجھا دیں۔
واللہ متم نورہ اور اللہ پورا کرنے والا ہے نورہ اپنے نور کو ولو کرہ الکافرون اگرچہ ناپسند کریں کفر کرنے والے۔
اللہ اپنے نور کو پورا کرنے والا ہے، تام کرنے والا ہے اگرچہ کافر ناپسند کریں۔
والذی ارسل رسولہ بالھدی وہی ذات ہے جس نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت کے ساتھ۔
ودین الحق اور دین حق کے ساتھ۔
لیظہرہ علی الدین کلھ تاکہ اس کو دین کو غالب کرے علی الدین کلھ تمام دینوں پر۔
وہی ذات ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت کے ساتھ بھیجا، ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ وہ اس دین حق کو غالب کرے علی الدین کلھ ہر دین پر۔
ولو کرہ المشرکون اگرچہ ناپسند کریں مشرک، اگرچہ ناگوار ہوں کن کو؟ مشرکوں کو۔
اگرچہ ناگوار ہو مشرکوں کو۔
تو اللہ نے اپنے رسول کو بھیجا ہدایت اور دین حق دے کر یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو، دین حق دے کر بھیجا تاکہ اللہ اس دین کو غالب کر دے تمام دینوں پر اگرچہ مشرکوں کو یہ بات ناپسند ہی کیوں نہ ہو۔
تو یہ دین جو ہے یاد رکھیے، یہ دین اسلام دلائل۔
دلائل کے میدان میں تو ہمیشہ یہی دین غالب ہے بھئی۔
جو دلائل اس کے پاس ہیں، حق، دین حق ہے تو یقینی بات ہے اس کے دلائل بھی اسی طرح ہیں تو جب ایک بات حق ہو، برحق ہو تو اس کے دلائل یقینی طور پر بڑے قوی ہوتے ہیں جبکہ سب باقی مذاہب باطل ہیں تو ان کے پاس کوئی دلیل بھی نہیں ہے۔
باطل کے پاس کیا دلیل جو جھوٹی چیز ہے، اس کی کیا دلیل ہو سکتی ہے؟ تو دلائل کے میدان میں تو ہمیشہ دین اسلام غالب ہے بھئی۔
آج بھی آپ دیکھ لیں مسلمانوں کے غیر مسلموں کے ساتھ مناظرے ہوتے ہیں، دلائل کے میدان میں ہمیشہ مسلمان غالب ہیں۔
ہاں البتہ ویسے دنیاوی اعتبار سے غالب ہونے کے لیے شرائط ہیں بھئی۔
وہ شرائط پوری ہوں تو یہ دین ہر حال میں غالب ہی رہے گا۔
جیسے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں، صحابہ کے زمانے میں اور اس کے بعد سینکڑوں برس تک یہ دین دنیا بھر میں غالب رہا بھئی۔
آج مسلمانوں میں وہ شرائط نہیں پائی جا رہی، وہ ایمان نہ رہا، وہ عمل نہ رہا تو اب یہ ہے کہ مسلمان جو ہیں مغلوب ہو گئے اور لیکن پھر انشاءاللہ یہ مسلمان غالب ہوں گے اور حضرت عیسی علیہ السلام جب آئیں گے پھر تو اس کے بعد اور کوئی دین رہ ہی نہیں گئی، صرف دین اسلام ہی رہ جائے گا اور وہی غالب ہو جائے گا سب پر بھئی۔
یہ معنی ہے والذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلھ ولو کرہ المشرکون۔
وہی ذات ہے، وہی اللہ ہے جس نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ تاکہ اس دین کو غالب کرے تمام دینوں پر اگرچہ مشرکوں کو ناگوار ہو۔
یا ایھا الذین آمنوا ھل ادلکم علی تجارۃ تنجیکم من عذاب الیم۔
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! ھل ادلکم کیا میں تمہاری رہنمائی کروں؟ کیا میں تمہیں بتلاؤں؟ اللہ فرما رہے ہیں۔
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! ھل ادلکم کیا میں تمہیں بتلاؤں؟ کیا میں تمہاری رہنمائی کروں؟ علی تجارۃ ایک ایسی تجارت پر تنجیکم من عذاب الیم جو تمہیں نجات دے گی دردناک عذاب سے۔
تومنون باللہ یہ ہے وہ تجارت بھئی۔
تومنون باللہ یہ کہ تم ایمان لاؤ اللہ پر۔
تومنون باللہ یہ کہ تم ایمان لاؤ اللہ پر یہ ہے تو خبر بمقابلہ انشاء کے ہے۔
کس کے معنی میں ہے؟ انشاء کے معنی میں ہے۔
یہ کہ تم ایمان لاتے ہو نہیں، یہ ترجمہ نہیں۔
کیا ترجمہ کرنا ہے؟ یہ کہ تم ایمان لاؤ اللہ پر ورسولہ اور اس کے رسول پر وتجاهدون فی سبیل اللہ باموالکم وانفسکم اور یہ کہ تم جہاد کرو اللہ کے راستے میں اپنے اموال کے ساتھ وانفسکم اور اپنی جانوں کے ساتھ۔
ذالکم خیر لکم ان کنتم تعلمون یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔
معنی سمجھ میں آ گیا بھئی۔
یا ایھا الذین آمنوا ھل ادلکم علی تجارۃ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! کیا میں تمہیں بتلاؤں ایک ایسی تجارت جو تمہیں نجات دے گی دردناک عذاب سے؟ یہ کہ تم ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور جہاد کرو اللہ کے راستے میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے۔
یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو، یغفر لکم ذنوبکم ویدخلکم جنات تجری من تحتھا الانہار۔
وہ اللہ بخش دے گا تمہارے گناہوں کو۔
یعنی اگر اس طرح کرو گے تو اللہ تمہارے گناہوں کو بخش دے گا ویدخلکم جنات اور داخل کرے گا تمہیں ایسے باغات میں تجری من تحتھا الانہار کہ بہتی ہوں گی اس کے نیچے سے نہریں ومساکن طیبۃ اور داخل کرے گا تمہیں مساکن طیبۃ پاکیزہ رہنے کی جگہوں میں۔
مساکن رہنے کی جگہ، مسکن کی جمع۔
طیبہ پاکیزہ۔
تو اور تمہیں داخل کرے گا پاکیزہ رہن, رہنے کی جگہوں میں فی جنات عدن۔
رہنے کے باغوں میں۔
عدن رہنے کے، جنات عدن رہنے کے باغات بھئی۔
ذالک الفوز العظیم۔
یہی عظیم کامیابی ہے۔
جنت میں داخل ہو جانا اور وہاں جگہ مل جانا، اللہ فرما رہے ہیں یہی عظیم کامیابی ہے۔
یغفر لکم بخش دیں گے اللہ تمہارے گناہوں کو اور داخل کریں گے تمہیں ایسے باغات میں جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی اور پاکیزہ رہنے کی جگہوں میں فی جنات عدن۔
رہنے کے باغات میں، مساکن طیبۃ پاکیزہ مکانات بھئی۔
یوں ترجمہ کر رہے ہیں تاکہ بامحاورہ۔
اور پاکیزہ مکانوں میں رہنے کی جنتوں میں ذالک الفوز العظیم یہی عظیم کامیابی ہے۔
واخر تحبونھا۔
اور ایک اور چیز تحبونھا جسے تم پسند کرتے ہو۔
اللہ یہ بھی دیں گے تمہیں اور ایک اور چیز بھی دیں گے تمہیں تحبونھا جسے تم پسند کرتے ہو بھئی۔
وہ کیا چیز ہے؟ نصر من اللہ اللہ کی طرف سے مدد وفتح قریب اور قریبی فتح۔
اور ویسی تو جنت سب سے عظیم کامیابی، لیکن دنیا کے اندر یہ چیزیں بھی مومن کو بڑی محبوب ہیں کہ اس کے ساتھ اللہ کی مدد ہو بھئی، اللہ اس کی مدد فرمائیں اور قریبی فتح اس کو حاصل ہو بھئی۔
واخر تحبونھا اور ایک اور، ایک اور چیز بھی دیں گے تحبونھا جسے تم پسند کرتے ہو نصر من اللہ وفتح قریب اللہ کی طرف سے مدد اور قریبی فتح۔
وبشر المومنین اور خوشخبری سنا دیجیے مومنین کو۔
اور خوشخبری یہ، خوشخبری سنا دیجیے مومنین کو کہ اگر تم یہ چیزیں کرو گے تو یہ چیزیں تمہیں ملیں گی بھئی اور ساتھ ساتھ اللہ کی مدد بھی آئے گی اور قریبی فتح بھی حاصل ہوگی، یہ خوشخبری سنا دیجیے مومنین کو۔
یا ایھا الذین آمنوا کونوا انصار اللہ۔
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو کونوا تم ہو جاؤ انصار اللہ اللہ کے مددگار۔
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کے مددگار بن جاؤ کما قال عیسی ابن مریم للحواریین۔
جیسے کہ کہا عیسی ابن مریم علیہ الصلوۃ والسلام نے للحواریین حواریوں سے۔
جیسے کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے حواریوں سے کہا۔
حضرت عیسی علیہ السلام کے پر جو ایمان لے آئے، ان کے جو ساتھی تھے ان کو حواری کہا جا
جاتاہے جیسے حضور علیہ السلام پر جو ایمان لائے اور آپ کے مددگار بنے وہ صحابہ کہلاتے ہیں بھئی۔ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جو ساتھی تھے وہ کیا کہلاتے ہیں؟ حواری کہلاتے ہیں۔
جب کہا عیسیٰ ابن مریم نے للحواریین حواریوں سے من انصاری الی اللہ کون ہیں میرے مددگار الی اللہ اللہ کی طرف؟ اللہ کی طرف یعنی اللہ کے دین کی طرف کون میرے مددگار ہیں؟ قال الحواریون نحن انصار اللہ تو حواری کہا حواریوں نے نحن انصار اللہ ہم اللہ کے مددگار ہیں فامن طائفہ من بنی اسرائیل پس ایمان لے کر آیا ایک گروہ بنی اسرائیل میں سے وکفر طائفہ اور انکار کیا ایک گروہ نے کفر کیا ایک گروہ نے۔
فایدنا الذین امنوا علی عدوہم پس مدد کی ہم نے ان لوگوں کی جو ایمان لائے تھے علی عدوہم ان کے دشمنوں کے خلاف۔ علی کس لیے آتا ہے؟ ضرر کے لیے آتا ہے، ہم نے مدد کی ان لوگوں کی جو ایمان لائے تھے علی عدوہم ان کے دشمنوں کے خلاف فاصبحوا ظاہرین پس وہ غالب ہو گئے۔ پس وہ مومنین غالب ہو گئے۔
یا ایھا الذین امنوا کونوا انصار اللہ کما قال عیسی ابن مریم للحواریین من انصاری الی اللہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کے مددگار ہو جاؤ کہ جیسے کہ کہا عیسی ابن مریم نے حواریوں سے کہ کون ہیں میرے مددگار اللہ کے لیے اللہ کی طرف؟ قال الحواریون نحن انصار اللہ تو کہا کہا الحواریون کہا حواریوں نے نحن انصار اللہ ہم اللہ کے مددگار ہیں یعنی اس کے دین کے مددگار ہیں۔ فامن طائفہ من بنی اسرائیل پس ایمان لے آیا ایک گروہ طائفہ گروہ ایک گروہ ایمان لے آیا من بنی اسرائیل بنی اسرائیل میں سے وکفر الطائفہ اور انکار کیا ایک گروہ نے یا کفر کیا ایک گروہ نے۔
فایدنا الذین امنوا علی عدوہم پس ہم نے مدد کی ان لوگوں کی جو ایمان لائے تھے علی عدوہم ان کے دشمنوں کے خلاف فاصبحوا ظاہرین تو یہ ایمان والے غالب ہو گئے۔
تو اس ایت میں کیا کہا جا رہا ہے؟ اے ایمان والو! اللہ کے مددگار ہو جاؤ یعنی اللہ کے دین کے مددگار ہو جاؤ، اللہ کے دین کے مددگار بن جاؤ۔ اور پھر جس طرح صحابہ نے اللہ کے دین کی مدد کی اور اپنی زندگیاں اسی کے اندر لگا دیں یہاں تک کہ ایک گروہ کا تو نام ہی انصار پڑ گیا۔
ایک گروہ کا نام ہی کیا پڑ گیا؟ انصار مدینہ منورہ کے رہنے والے انہوں نے اللہ کے دین کی کتنی مدد کی، مہاجرین کو جگہ دی اور اتنی مدد کی کہ ان کا نام ہی انصار پڑ گیا بھئی۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم یسبح للہ ما فی السماوات وما فی الارض الملک القدوس العزیز الحکیم.
یہ سورۃ جمعہ ہے اور اس صورت کے اندر چونکہ جمعہ کا ذکر آ رہا ہے تو اس کا اس کا حکم بیان ہو رہا ہے اس لیے یہ سورۃ جمعہ کہلاتی ہے۔ یسبح للہ ما فی السماوات وما فی الارض تسبیح بیان کرتی ہے اللہ کی جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں الملک وہ اللہ جو بادشاہ ہے القدوس جو پاک ہے العزیز جو زبردست ہے الحکیم جو حکمت والے ہیں۔
هو الذي بعث في الأميين رسولا منهم وہی ذات ہے جس نے بھیجا باسا بھیجا اٹھایا ان میں هو الذي بعث فی الأميين وہی ذات ہے جس نے بھیجا یا جس نے یوں ترجمہ کر لیں جس نے اٹھایا فی الأميين امی ان پڑھو کے اندر بھئی کن کے اندر؟ امی ان پڑھ بھئی ان پڑھ نا خواندہ وہی ذات ہے جس نے اٹھایا ان پڑھو میں یا یوں ترجمہ کر لیں جس نے اٹھایا نا خواندہ لوگوں میں رسولا ایک رسول منہم جو انہی میں سے تھا.
وہی ذات ہے جس نے بھیجا ایک رسول ان پڑھو میں نا خواندہ لوگوں میں۔ یہ عرب یہ مشرکین مکہ والے مشرکین مکہ وغیرہ یہ سارے بھئی ان پڑھ تھے پڑھے لکھے ان میں چند گنتی کے ہی افراد تھے بھئی، چند گنتی کے الفاظ چند گنتی کے افراد بھئی۔ هو الذي بعث في الأميين رسولا منهم وہی ذات ہے جس نے بھیجا نا خواندہ لوگوں میں ایک پیغمبر منہم جو انہی میں سے تھا.
ایسا پیغمبر جو انہی میں سے تھا یتلو علیہم ایاته جو پڑھتا ہے ان پر اللہ کی آیتیں جو ان پر جو انہیں اللہ کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے ویزکیہم اور ان کو پاکیزہ کرتا ہے۔
حضور علیہ السلام کیا فرماتے ہیں ان کو پاکیزہ فرماتے ہیں یعنی برے اخلاق برے افعال اور برے عقائد سے ان کو پاکیزہ فرماتے ہیں۔ ویزکیہم اور انہیں پاکیزہ کرتا ہے ویعلمہم الکتاب والحکمہ اور سکھاتا ہے ان کو یا یوں ترجمہ کر لیں اور تعلیم دیتا ہے ان کو الکتاب والحکمہ کتاب اور حکمت کی دانائی کی۔
وإن كانوا من قبل لفي ضلال مبين اگرچہ وہ اس سے پہلے اگرچہ وہ اس سے پہلے لفی ضلال مبین کھلی گمراہی میں تھے.
هو الذي بعث في الأميين رسولا منهم يتلو عليهم آياته ويزكيهم ويعلمهم الكتاب والحكمة وہی ذات ہے جس نے بھیجا نا خواندہ لوگوں میں ایک پیغمبر انہی میں سے جو پڑھتا ہے ان پر اللہ کی آیتیں اور ان کو پاکیزہ کرتا ہے اور ان کو سکھاتا ہے کتاب اور حکمت.
وإن كانوا من قبل لفي ضلال مبين جبکہ وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے.
واخرین منہم لما یلحق بہم اور کس میں بھیجا؟ کچھ اور لوگوں میں باسا فی الامین اللہ نے ناخواندہ لوگوں میں بھیجا پیغمبر کو واخرین اور دوسرے لوگوں میں منہم انہی میں سے لما یلحق بہم جو ابھی ان سے ملے نہیں۔
اللہ نے ناخواندہ لوگوں میں پیغمبر کو بھیجا اور دوسرے لوگوں کو دوسرے لوگوں میں انہی میں سے لما یلحق بہم جو ابھی ان سے ملے نہیں جو ابھی ان کے ساتھ ملے نہیں۔
یعنی جو بعد میں انے والے مومنین ہیں تا قیامت بھئی.
تا قیامت جو انے والے لوگ ہیں بھئی قیامت تک انے والے جو لوگ ہیں اللہ نے ناخواندہ لوگوں کی طرف اور قیامت تک جتنے انے والے لوگ ہیں جو ابھی ان کے ساتھ ملے نہیں کیونکہ وہ ابھی دنیا میں ائے ہی نہیں پیدا ہی نہیں ہوئے ان کی طرف اللہ نے ایک پیغمبر کو بھیجا، معنی سمجھ میں اگیا بھئی؟ تو اخرین کا عطف کس پر ہے؟ امیون پر بھئی۔ هو الذي بعث في الأميين واخرین وہی ذات ہے جس نے بھیجا ا نا خواندہ لوگوں میں رسول کو واخرین اور بھیجا دوسروں میں منہم ان میں سے لما یلحق بہم جو ابھی ان سے ملے نہیں یعنی چمت تک انے والے سب لوگ مراد ہیں۔
وهو العزیز الحکیم اور وہ اللہ زبردست ہیں حکمت والے ہیں ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء یہ اللہ کا فضل ہے یوتیہ وہ اللہ یہ عطا فرماتے ہیں من یشاء جس کو چاہتے ہیں واللہ ذو الفضل العظیم اور اللہ بڑے فضل والے ہیں۔
العظیم صفت ہے کس کی؟ الفضل کی اور اللہ بڑے فضل والے ہیں۔
مثل الذین حملوا التوراۃ ثم لم یحملوہا كمثل الحمار يحمل اسفارا مثل الذین حملوا التوراۃ مثال ان لوگوں کی حملوا التوراۃ جن پر لادی گئی تورات جن حملو جن سے اٹھوائی گئی اب تورات بھئی تورات اٹھوائی گئی یعنی جن پر تورات لادی گئی ترجمہ سمجھ میں آرہا ہے بھئی؟ مثال ان لوگوں کی حملوا التوراۃ جن سے اٹھوائی گئی تورات ثم لم یحملوہا پھر انہوں نے اس تورات کو نہ اٹھایا ان لوگوں کی مثال کما مثل الحمار کس کی طرح ہے؟ گدھے کی طرح ہے گدھے جیسی ہے يمل اسفارا کہ جس نے اٹھائے ہوئے ہوں اسفارا بہت سی کتابیں بھئی اسفار جمع ہے سفر ان کی کتاب کو کہتے ہیں بھئی کتاب يمل اسفارا جس نے بہت سی کتابیں اٹھائی ہوں اللہ فرما رہے ہیں مثل الذین حملوا التوراۃ ثم لم یحملوہا كمثل الحمار يحمل اسفارا مثال ان لوگوں کی جن پر تورات لادی گئی پھر انہوں نے اس کو نہ اٹھایا اس گدھے جیسی ہے جس نے کتابیں اٹھائی ہوئی بہت سی کتابیں اٹھائی ہوں.
ان کی مثال اس گدھے جیسی ہے جس نے بہت سی کتابیں اٹھائی ہوں.
مثال ان لوگوں کی جن پر جن سے تورات اٹھوائی گئی جن پر تورات لادی گئی یعنی جن پر تورات کے جنہیں تورات کے احکام پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا معنی سمجھ میں ارہا ہے بھئی؟ جنہیں تورات کے احکام پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا یہ ذمہ داری ان پر ڈالی گئی کہ تمہیں کیا کرنا ہوگا تورات کے احکام پر عمل کرنا ہوگا یعنی بنی اسرائیل والے۔
ثم لم یحملوہا پھر انہوں نے اس تورات کو نہیں اٹھایا یعنی اس کے احکام پر عمل نہیں کیا کما مثل الحمار ان کی مثال گدھے اس گدھے کی طرح ہے يمل اسفارا اس حال میں کہ اس گدھے نے بہت سی کتابیں اٹھائی ہوں بھئی گدھے پر جتنی بھی کتابیں لاد دی جائیں اس سے کوئی گدھا عالم تو نہیں بنے گا سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس کے ذہن میں تو وہی سبز گھاس ہی رہے گی اور کسی چیز کی طرف اس کی توجہ نہیں ہوگی تو جیسے یہ گدھے پر کتابیں لادی ہوئی ہوں اسے ان کتابوں کا اس علم کا ذرہ بھر فائدہ نہیں ہوتا اسی طرح ان لوگوں کی بھی مثال ہے کہ ان کو اگرچہ علم دیا گیا تورات دی گئی لیکن یہ اس گدھے ہی کی طرح ہے جس کے پاس کتابیں ہیں علم اس کے پاس علم کا سبب موجود ہے لیکن وہ اس سے نفع نہیں اٹھاتا تو ان کے پاس بھی تورات موجود ہے لیکن یہ لوگ اس سے نفع نہیں اٹھاتے۔
تو گدھا اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا ان کتابوں سے اور گدھا اگر اس پر فخر کرے غرور کرے تکبر کرے کہ یہ دیکھو کتنی کتابیں میں نے اٹھائی ہوئی ہیں علم علم ہے میرے پاس تو یہ تو اور بھی حماقت ہوگی بڑھ کر بھئی اور بھی اس سے بڑھ کر حماقت کی بات ہوگی کہ اس سے کوئی فائدہ بھی نہیں اٹھا سکتا اور پھر بھی تکبر میں مبتلا ہے ان لوگوں کی بھی ایسی ہی مثال ہے کہ یہ اس علم سے فائدہ بھی نہیں اٹھا سکتے اور تکبر کے اندر بھی مبتلا ہیں کہتے ہیں جنت میں صرف کون جائیں گے؟ یہود ہی جائیں گے وہ اللہ کے لاڈلے ہیں بھئی بات سمجھ میں آ گئی بھئی۔
مثل الذین حملوا التوراۃ ثم لم یحملوہا مثال ان لوگوں کی جن پر تورات لادی گئی پھر انہوں نے اس تورات کو نہ اٹھایا ان کی مثال اس گدھے جیسی ہے يمل اسفارا جس نے بہت سی کتابیں اٹھائی ہوں.
بدلکم مثلاً القوم الذین کذبوا بایات اللہ۔ کتنی بری مثال ہے اس قوم کی جنہوں نے جھٹلایا اللہ کی آیتوں کو۔ واللہ لا یہدی القوم الظالمین اور اللہ ہدایت نہیں دیتے ظالم لوگوں کو۔
قل یا ایہا الذین ہادو اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے اے وہ لوگو جو یہودی ہوئے۔ یا ایہا الذین ہادو اے وہ لوگو جو یہودی ہوئے۔
قل یا ایہا الذین ہادو اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے اے وہ لوگوں جو یہودی ہوئے۔ ان زعمتم اگر تمہارا یہ گمان ہے انکم اولیاء للہ کہ تم اللہ کے اللہ کے دوست ہو۔ اولیاء للہ کہ تم اللہ کے دوست ہو من دون الناس لوگوں کے علاوہ یعنی اور لوگوں کے علاوہ تم ہو اللہ کے دوست بھئی۔
بت میں نے بتلایا بھئی یہ کیا کہتے تھے ہم ہی اللہ کے لاڈلے ہیں ہم جنت میں جائیں گے اور کوئی بھی نہیں جائے گا۔ تو اے پیغمبر آپ ان سے کہہ دیجیے کہ اے یہودیو! اگر تم ہی اللہ کے دوست ہو، اللہ کے لاڈلے ہو، لوگوں کے علاوہ اور کوئی نہیں لوگوں میں سے فتمنا والموتا تو تم تمغنا کرو موت کی۔ تو تم کیا کرو؟
اگر تم سچے ہو، تم کہتے ہو ہم اللہ کے لاڈلے ہیں تو اس کا تو یہ مطلب ہے اور اور تم کہتے ہو تمہیں جنت میں تم جنت میں جاؤ گے اور کوئی نہیں جائے گا۔ تو پھر تم ذرا تمغنا کرو موت کی بھئی۔
کیونکہ موت کی تمغنا میں پھر کیا حرج ہے؟ دنیا سے جاؤ گے تو کس کے پاس جاؤ گے؟ اللہ کے پاس۔ تو اور جنت میں جاؤ گے۔ تو پھر موت کی تمغنا کرنے میں کیا حرج ہے؟ موت کی تمغنا کر لو۔ اگر تمہارے تم اس دعوے میں سچے ہو تو۔
فتمنا والموتا پس تم تمغنا کرو موت کی ان کنتم صادقین اگر تم سچے ہو۔
کتنا آسان حل بتلایا گیا۔
کتنا آسان۔ یہودیو! تم کہتے ہو ہم ہم اللہ کے محبوب لوگ ہیں۔ تو موت کی تمغنا کر لو۔ موت کی اگر سچے ہو موت کی تمغنا کر کے دکھاؤ۔ کتنی آسان سی بات تھی۔ یہ بات بڑی آسانی سے پوری ہو سکتی تھی کہ کوئی یہودی آ کر بھرے مجمے میں سب کے سامنے کہہ دیتا: "میں موت کی تمغنا کرتا ہوں۔" بس زبان سے دو لفظ ہی کہنے تھے نا: "میں موت کی تمغنا کرتا ہوں۔"
لیکن کسی کو اتنی بھی جرات نہیں ہوئی کہ سامنے آ کر کہہ دے کہ میں موت کی تمغنا کرتا ہوں، کیونکہ ان کو یقین تھا یہ پیغمبر سچا ہے۔ اگر ہم نے جا کر یہ کہہ دیا میں موت کی تمغنا کرتا ہوں، اسی وقت ہم پر موت آ جائے گی۔ بھئی۔
بات سمجھ میں آئی بھئی؟ ایک نے بھی جا کر تمغنا نہیں کی، صرف زبان سے بھی نہیں کہا بھئی۔
قل یا ایہا الذین ہادو اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے۔ یا ایہا الذین ہادو اے وہ لوگو جو یہودی ہوئے۔ ان زعمتم اگر تمہارا یہ گمان ہے انکم اولیاء للہ کہ تم مددگار ہو کہ تم دوست ہو اللہ کے من دون الناس نہ اور لوگوں کے علاوہ فتمنا والموتا پس تم تمغنا کرو موت کی ان کنتم صادقین اگر تم سچے ہو ولا یتمناہ ابدا اور یہ ہرگز اور یہ تمغنا نہیں کریں گے اس کی کبھی بھی یہ کبھی بھی اس موت کی تمغنا نہیں کریں گے بما قدمت ایدیہ بہ وجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے یعنی جو اعمال انہوں نے آگے بھیج رکھے ہیں، یہ کبھی بھی موت کی تمغنا نہیں کریں گے۔ واللہ علیم بالظالمین اور اللہ جاننے والے ہیں ظالموں کو۔
قل ان الموت الذی تفرون منه اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے یقیناً وہ موت الذی تفرون منه جس سے تم لوگ بھاگتے ہو۔ یقیناً ان الموت الذی تفرون منه یقیناً وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو فإنہ ملاکم پس یقیناً وہ موت تم سے ملاقات کرے گی۔
وہ موت تم سے یعنی تمہیں آ کر رہے گی وہ موت۔ ثم تردون الی عالم الغیب والشہادۃ پھر تم لوٹائے جاؤ گے الی عالم الغیب والشہادتی غیب اور شہادت کو جاننے والے کی طرح پوشیدہ اور حاضر کو جاننے والے کی طرح تم لوٹائے جاؤ گے۔ فینبئکم بما کنتم تعملون پس وہ تمہیں خبر دے گا جو کچھ تم عمل کیا کرتے تھے۔
یا ایہا الذین آمنوا اذا نودی للصلاۃ من یوم الجمعۃ فاسعوا الی ذکر اللہ وذروا البیع اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اذا نودی للصلاۃ جب ندا دی جائے نماز کے لیے جب پکارا جائے نماز کے لیے من یوم الجمعۃ جمعہ کے دن۔ جب جمعہ کے دن نماز کے لیے پکارا جائے یعنی جب جمعہ کی اذان دی جائے۔
کیا مراد ہے؟ ندا سے اذان مراد ہے، اذان بھئی۔ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اذا نودی للصلاۃ جب جمعہ کے لیے اذان دی جائے من یوم الجمعۃ جمعہ کے دن بھئی۔ جب نماز کے لیے پکارا جائے جمعہ کے دن یعنی جب اذان دی جائے نماز کے لیے جمعہ کے دن فاسعوا الی ذکر اللہ تو دوڑو اللہ کے ذکر کی طرف۔ تو دوڑو اللہ کے ذکر کی طرف۔
وذروا البیع اور چھوڑ دو خرید و فروخت کو۔
وذروا البیع وزرای یذر کے کیا معنی ہوتے ہیں؟ چھوڑ دینے کے۔ وذروا البیع اور چھوڑ دو خرید و فروخت کو۔ ذالکم خیر لکم ان کنتم تعلمون یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔
چنانچہ علماء فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن جب اذان ہو جائے تو اس کے بعد جمعہ کی تیاری کے علاوہ اور کسی کام میں مشغول ہونا یہ درست نہیں بھئی۔
یہ اس سے منع آ گئی بھئی، تو یہ حرام ہے کہ اس کے علاوہ جمعہ کی تیاری جمعہ کی اذان کے بعد جمعہ کی تیاری کے علاوہ کسی اور کام میں انسان مشغول ہو۔
معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ اور یاد رکھیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ جمعہ کی صرف ایک اذان تھی۔ یہ جو خطبے کے وقت دی جاتی ہے، جب امام منبر پر بیٹھ جاتا ہے اور جو اذان دی جاتی ہے بھئی، یہ دوسری والی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں صرف یہ ایک اذان تھی۔
پھر اس کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں انہوں نے اس دوسری اذان کا اضافہ فرمایا اور تمام صحابہ کی موجودگی میں اور تمام صحابہ نے اس کو قبول کیا تو اس پر صحابہ کا اجماع ہو گیا، کیا ہو گیا؟ صحابہ کا اجماع ہو گیا۔ تو یہ دوسری اذان جو ہے صحابہ کے اجماع سے ثابت ہے بھئی۔ صحابہ کے اجماع سے۔
لیکن اس کا بھی وہی حکم ہے جو دوسری اذان کا تھا، دوسری اذان کے بعد جمعہ کی تیاری کے علاوہ اور کاموں میں مشغول ہونا جائز نہیں، تو اس پہلی اذان کا بھی وہی حکم ہے، اس کے بعد بھی کسی قسم کے دنیاوی امور میں مشغول ہونا جائز نہیں ہے جمعہ کی تیاری کو چھوڑ کر بھئی۔
یا ایہا الذین آمنوا اذا نودی للصلاۃ من یوم الجمعۃ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو جب ندا دی جائے نماز کے لیے جمعہ کے دن فاسعوا الی ذکر اللہ تو دوڑو اللہ کے ذکر کی طرف وذروا البیع اور چھوڑ دو خرید و فروخت کو ذالکم خیر لکم ان کنتم تعلمون یہ بہتر ہے تمہارے لیے اگر تم جانتے ہو فاذا قضیت الصلاۃ فانتشروا فی الارض پس جب ادا کر دی جائے نماز فاذا قضیت الصلاۃ جب ادا کر دی جائے نماز یعنی جب جمعہ کی نماز ہو جائے فانتشروا فی الارض پس تم پھیل جاؤ زمین کے اندر وابتغوا من فضل اللہ اور تلاش کرو اللہ کے فضل میں سے۔ تلاش کرو اللہ کے فضل میں سے۔ جب نماز ادا کر دی جائے تو پھیل جاؤ زمین کے اندر اور اللہ کا فضل تلاش کرو یعنی روزی تلاش کرو، تجارت وغیرہ جو کرنا چاہتے ہو کرو، اللہ کی روزی تلاش کرو۔
یہ اس لیے کہا کیونکہ یہ جو یہود تھے ان کا ذکر ابھی چل رہا تھا یہ یوم السبت یعنی ہفتے کے دن ان کے نزدیک جیسے ہمارے ہاں جمعہ کا دن ہے ان کے ہاں کون سا دن بابرکت شمار ہوتا ہے؟ ہفتے کے دن ان کے ہاں بابرکت شمار ہوتا ہے اور اس دن وہ ہر قسم کی تجارت وغیرہ اس کو بند رکھتے ہیں بھئی۔
تو اللہ فرما رہے ہیں نہیں تم لوگوں کے لیے اس طرح نہیں کہ جس طرح وہ تھے اور ہفتے والے دن کوئی کام کرتے ہی نہیں ہیں، تم جب نماز ادا کر چکو تو اس کے بعد کیا کر سکتے ہو؟ اللہ کی روزی کو تلاش کر سکتے ہو۔
ف اذا قضیت الصلاۃ فانتشروا فی الارض پس جب نماز ادا کر دی جائے تو پھیل جاؤ زمین کے اندر وابتغوا من فضل اللہ اور تلاش کرو اللہ کے فضل میں سے واذکروا اللہ کثیرا اور یاد کرو اللہ کو کثرت سے لعلکم تفلحون تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔
واذا رأوا تجارۃ أو لہوا انفضوا الیها اور جب انہوں نے دیکھی تجارت ایک تجارت اور لہوا یا تماشا انفضوا الیها تو وہ بکھر گئے اس کی طرف۔ انفضوا الیها وہ اس کی طرف بکھر گئے وترکوہ قائما اور چھوڑ دیا آپ کو اے پیغمبر قائما کھڑے ہوئے ہی۔
قل ما عند اللہ خیر من اللہو ومن التجارہ اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے وہ جو اللہ کے پاس ہے جو وہ بہتر ہے من اللہو تماشے سے ومن التجارہ اور تجارت سے واللہ خیر الرزقین اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والے ہیں۔
ابتداء میں روایات میں آتا ہے کہ خطبہ جمعہ کے بعد ہوا کرتا تھا، نماز کے بعد۔
خطبہ نماز کے بعد ہوا کرتا تھا۔ تو ایک مرتبہ ایسے ہی موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز کے بعد صحابہ سے خطاب فرما رہے ہیں، وعظ فرما رہے ہیں تو اسی وقت کوئی قافلہ آیا بھئی، قافلہ آیا مدینے کے باہر۔
اور جب قافلہ آتا تھا تو وہ ڈھول وغیرہ اور نقارے وغیرہ بجا کر اس کا اعلان ہوتا تھا بھئی، وہ قافلے والے بجانا شروع کر دیتے جب سامان تجارت ان کے پاس ہوتا تھا، تاکہ جو تاجر وغیرہ جنہوں نے لینا ہے آ کر چیزیں لے جائیں بھئی۔
تو اس وقت مدینہ منورہ کے اندر کھانا پینے کی چیزوں کی بڑی کمی تھی بھئی۔ تو جب قافلہ آیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم تقریب فرما رہے ہیں، جمعہ کی نماز ہو چکی ہے، قافلے کے وہ ڈھول وغیرہ بجنا شروع ہوئے، ان کے نقارے جو تھے وہ بجنا شروع ہوئے تو صحابہ کی بڑی تعداد جو ہے وہ اس کی طرف فورا چلے گئے بھئی۔ انہوں نے سوچا پتہ نہیں تھا کہ خطبہ سننا بھی ضروری ہے اور یہ سوچا کہ جیسے عام حضور علیہ السلام کا وعظ ہوتا ہے، اسی طرح یہ وعظ ہے۔
اور نیز اس وقت میں نے بتلایا کھانے پینے کی چیزوں کی بھی کمی تھی تو یہ پتہ نہیں تھا کہ اس اس طرح جانا، اس یہ خطبہ سننا ضروری ہے، چنانچہ وہ چلے گئے صحابہ۔ چند صحابہ صرف حضور علیہ السلام کے پاس رہ گئے، جن میں خلفائے راشدین بھی شامل تھے۔
تو اس موقع پر پھر یہ آیت نازل ہوئی کہ واذا رأوا تجارۃ کہ جب دیکھی انہوں نے ایک تجارت اور لہون یا ایک تماشا وہ جو باجے وہ جو ڈھول وغیرہ بج رہے تھے نقارے اور جب دیکھی انہوں نے ایک تجارت اور لہون یا ایک تماشا انفضوا الیھا تو وہ بکھر گئے اس کی طرف وترکوہ قائما اور چھوڑ دیا آپ کو کھڑے ہوئے ہی اور چھوڑ دیا آپ کو کھڑے ہوئے ہی۔
قل ما عند اللہ خیر من اللہی ومن التجارہ آپ کہہ دیجیے وہ جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر ہے تماشے سے اور تجارت سے واللہ خیر الرزقین اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والے ہیں۔
اس لیے بس پیہا ہوا المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔