Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-092

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 12 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم وَنَادَوْا يَا مَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ قَالَ إِنَّكُم مَّاكِثُونَ لَقَد جِّئْنَاكُم بِالْحَقِّ وَلَكِنَّ أَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كَارِهُونَ أَمْ أَبْرَمُوا أَمْرًا فَإِنَّا مُبْرِمُونَ وَنَادَوْا يَا مَالِكُ اور وہ پکاریں گے اے مالک! لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ چاہیے کہ موت دے دے ہمیں تمہارا پروردگار۔ بھئی وہ مجرموں کا ذکر چل رہا ہے جو جہنم میں جنہیں عذاب دیا جا رہا ہوگا۔ وہ جہنم کا جہنم کے فرشتوں پر جو بڑے فرشتے جو مقرر ہیں جو بڑے نگران ہیں ان کا نام مالک ہے بھئی۔ جہنم کے فرشتے جو ہیں ان میں جو بڑے ہیں ان میں سب سے بڑے سب پر جو مقرر ہیں تو ان کا نام کیا ہے؟ مالک ہے بھئی۔ تو وہ جہنمی جو ہیں وہ پکاریں گے مالک کو ندا دیں گے۔ وَنَادَوْا يَا مَالِكُ اور وہ پکاریں گے اے مالک! لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ چاہیے کہ موت دے دے ہمیں تمہارا پروردگار۔ قَضَى عَلَيْهِ کا معنی ہوتا ہے کسی کو قتل کرنا بھئی، موت دے دینا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ضَرَبَهُ فَقَضَى عَلَيْهِ اس نے اس کو مارا پس اس کو مار ڈالا، مار ڈالا۔ تو یہاں بھی قَضَى لِيَقْضِ عَلَيْنَا چاہیے کہ ہم پر ہمیں ہمیں موت دے دے، ہم پر موت طاری کر دے رَبُّكَ آپ کا پروردگار۔ تو وہ وَنَادَوْا يَا مَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ وہ پکاریں گے اے مالک! چاہیے کہ ہم پر موت طاری کر دے، ہمیں موت دے دے رَبُّكَ آپ کا پروردگار، قَالَ إِنَّكُم مَّاكِثُونَ وہ کہے گا بے شک تم کو رہنا ہے، بے شک تم کو رہنا ہے۔ مَكَثَ يَمْكُثُ کے معنی ہوتے ہیں رہنے کے بھئی۔ یعنی تم کو ہمیشہ یہاں اسی حالت میں رہنا ہے۔ کہتے ہیں یہ جواب بھی وہ ایک ہزار سال بعد دے گا۔ ایک ہزار سال تک وہ پکارتے رہیں گے کہ اے مالک! اپنے پروردگار سے کہو ہمیں موت دے دے۔ اتنا سخت عذاب اتنی تکلیف میں مبتلا ہوں گے کہ موت کی تمنا کریں گے اور مالک سے درخواست کریں گے کہ تم اپنے رب سے دعا کرو ہمیں موت دے دے تو وہ ایک ہزار سال بعد یہ جواب دے گا کہ تم کو ہمیشہ یہیں رہنا ہے۔ قَالَ إِنَّكُم مَّاكِثُونَ تو وہ کہے گا بے شک تم کو ہمیشہ رہنا ہے، لَقَد جِّئْنَاكُم بِالْحَقِّ تحقیق ہم لائے تھے تمہارے پاس حق۔ ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے تھے، وَلَكِنَّ أَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كَارِهُونَ لیکن تم میں سے اکثر جو ہیں وہ حق کو ناپسند کرنے والے ہیں۔ ہم تمہارے پاس حق یعنی دین حق لے کر آئے تھے لیکن تم میں سے اکثر حق کو ناپسند کرنے والے ہیں۔ كَرِهَ يَكْرَهُ کے معنی ناپسند کرنا. لَقَد جِّئْنَاكُم بِالْحَقِّ وَلَكِنَّ أَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كَارِهُونَ بے شک تحقیق البتہ تحقیق البتہ ہم لے کر آئے تھے تمہارے پاس حق لیکن تم میں سے اکثر حق کو ناپسند کرنے والے ہیں. أَمْ أَبْرَمُوا أَمْرًا فَإِنَّا مُبْرِمُونَ۔ أَبْرَمَ يُبْرِمُ کے معنی ہوتے ہیں کوئی قطعی فیصلہ کر لینا. أَبْرَمَ يُبْرِمُ کے کیا معنی ہیں؟ قطعی فیصلہ کر لینا. أَمْ أَبْرَمُوا أَمْرًا کیا ان لوگوں نے کوئی بات کوئی بات طے کر لی ہے، کوئی فیصلہ کر لیا ہے؟ قطعی فیصلہ أَبْرَمَ کا کیا معنی؟ قطعی فیصلہ کر لینا، کوئی بات طے کر لینا. فیصلہ کر لینا، کوئی بات طے کر لینا. اللہ فرما رہے ہیں أَمْ أَبْرَمُوا أَمْرًا کیا انہوں نے کوئی امر، کوئی بات طے کر لی ہے، فَإِنَّا مُبْرِمُونَ پس بے شک ہم بھی طے کرنے والے ہیں۔ کیا انہوں نے کوئی بات مقرر کر لی ہے تو ہم بھی مبا کوئی بات مقرر کرنے والے ہیں؟ بھی! مشرکین مکہ ہر وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سازشیں کیا کرتے تھے۔ تو یہ بھی کسی ایسے ہی موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں جب انہوں نے کوئی سازش کی۔ مثلاً ایک سازش انہوں نے حضور علیہ السلام کے قتل کی بھی کی تھی جس کے بعد حضور علیہ السلام ہجرت فرما گئے مدینہ منورہ کی طرف کہ اس زمانے میں قومی غیرت بہت بڑی چیز تھی بھئی۔ حضور علیہ السلام دعوت دیتے تھے لیکن کوئی ان پر دوسرے قبیلے والا خوف کی وجہ سے ہاتھ نہیں ڈالتا تھا کہ اگر ہم نے کچھ ان کو کہا تو ان کے قبیلے والے ہمیں نہیں چھوڑیں گے۔ ہر قبیلے والے کہتے تھے بھئی اگر ہماری کسی آدمی سے دوسرے کو شکایت ہے ہمیں آ کر کہے ہم اپنے آدمی سے خود نپٹیں گے، کسی دوسرے کو اجازت نہیں ہے کہ ہمارے کسی آدمی کو ہاتھ لگائے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور تو یہ قومی غیرت ان میں بہت زیادہ تھی تو چنانچہ انہوں نے مشورہ کیا بھئی کہ اگر کوئی ایک کسی قبیلے کا آدمی گیا اور وہ اس نے حضور علیہ السلام کو قتل کیا تو اس کے قبیلے والے حضور علیہ السلام کے قبیلے والے ضرور ان سے جنگ کریں گے۔ لہذا میٹنگ ہوئی بھئی، باقاعدہ میٹنگ بھئی اور اس میں تو اس میں باقاعدہ کہتے ہیں ابلیس بھی انسانی شکل میں شریک ہوا بھئی ایک سردار اور پھر یہ میٹنگ کی کہ یوں کرتے ہیں ہر قبیلے سے ایک ایک آدمی چن لیتے ہیں۔ سارے مل کر جائیں اور ان کو قتل کریں۔ اس طرح کسی ایک قبیلے پر ان کا قتل کا الزام نہیں آئے گا، سب پہ آئے گا اور ان کی قوم ساروں سے تو نہیں لڑ سکتی، ایک آدھ ہوگا تو اس سے تو لڑ لیتی۔ چنانچہ سارے قبیلوں سے ایک ایک شخص چن کر بھیج دیا انہوں نے، حضور علیہ السلام ایک مکان کے اندر آرام فرما رہے تھے، سو رہے تھے، رات کے وقت ان کے آدمی آئے اور پورے مکان کے اردگرد کھڑے ہو گئے تلواریں لے کر کہ نکلیں گے جیسے ہی حضور علیہ السلام تو قتل کر دیں گے۔ تو اللہ تعالی نے ان پر اونگھ طاری کر دی بھئی، ان سب پر نیند طاری کر دی بھئی۔ اور حضور علیہ السلام کو خبر کر دی گئی، حضور علیہ السلام نکلے اور ان سب پر اونگھ طاری تھی، نیند میں تھے اور آپ نے زمین سے کچھ مٹی اٹھائی اور ساروں کے سروں پر تھوڑی تھوڑی ڈال کر پھر آپ تشریف لے گئے بھئی، تشریف لے گئے۔ اس طرح اللہ نے ان کی سازش کو ناکام بنایا اور حضور علیہ السلام پھر تشریف لے گئے اور پھر غار ثور میں تین دن رہے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ اور پھر وہاں سے مدینہ منورہ ہجرت فرما گئے۔ یا اسی طرح انہوں نے اور بھی سازشیں کی، ایک مرتبہ میٹنگ کی کہ بھئی یہ شخص جو ہے اس کا دین پھیلتا جا رہا ہے یہ ہم سب کی کوتاہیوں کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے۔ اگر ہم نے اس معاملے کو صحیح طریقے پر لیا ہوتا، اس کی طرف توجہ کی ہوتی تو یہ کبھی اس کی دعوت اس طرح نہ پھیلتی۔ لہذا آج کے بعد خبردار اب سب نے اس طرف توجہ رکھنی ہے، جس قبیلے کا بھی کوئی شخص مسلمان ہو اسی قبیلے والے اس کو مار مار کر پھر واپس اپنے دین پر لے آئیں گے۔ اور باہر سے کوئی آدمی آئے تو اس کو جس سے بھی وہ ملے وہ فورا اس کو بتائے کہ بھئی دیکھو یہاں ایک آدمی ہے بڑا جادوگر قسم کا ہے، جو اس کی بات ایک دفعہ سن لیتا ہے وہ اسی کا ہو جاتا ہے تو تم دیکھو نئے آئے ہو، ہم تمہیں ابھی سے خبردار کر رہے ہیں، خبردار اس کی کوئی بات سننا ہی نہ۔ بڑے بڑے مشورے ہوتے ہوں گے بھئی، یہ تو میں نے مختصر بیان کر دیا، پتہ نہیں کیا کیا مشورے کرتے ہوں گے وہ تو یہ بھی ایک موقع پر انہوں نے مشورہ کیا، طے کیا، تو کسی ایسے ہی موقع پر اللہ نے پھر یہ آیات اس موقع پر نازل ہوئیں کہ أَمْ أَبْرَمُوا أَمْرًا فَإِنَّا مُبْرِمُونَ اگر انہوں نے کوئی فیصلہ کر لیا ہے تو ہم بھی فیصلہ کرنے والے ہیں۔ ہم بھی فیصلہ کرنے والے ہیں، یعنی انہوں نے اگر کوئی تبات طے کر لی ہے، کوئی فیصلہ کر لیا ہے، پیغمبر کے خلاف سازش کر لی ہے تو ہم بھی کوئی بات طے کرنے والے ہیں یعنی یہ کہ ان کی سازشیں اور انہی پر الٹا دیں گے، ان کو ذلیل و رسوا کر دیں گے، ان کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ أَمْ أَبْرَمُوا أَمْرًا فَإِنَّا مُبْرِمُونَ کیا انہوں نے کوئی بات طے کر لی ہے تو پس بے شک ہم بھی طے کرنے والے ہیں، أَمْ يَحْسَبُونَ أَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَاهُمْ کیا یہ گمان کرتے ہیں أَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ کہ ہم ان کی پوشیدہ بات نہیں سنتے وَنَجْوَاهُمْ اور ان کی سرگوشی؟ سر کہتے ہیں راز کو بھئی، راز۔ پوشیدہ بات، خفیہ بات۔ نجوا کہتے ہیں سرگوشی کو بھئی، سرگوشی۔ سرگوشی، آہستہ آواز میں جو دوسرے سے بات کی جاتی ہے یا اس کے کان میں آہستہ آواز میں، یہ ہے سرگوشی بھئی۔ اللہ فرماتے ہیں أَمْ يَحْسَبُونَ کیا یہ لوگ یہ گمان کرتے ہیں أَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ کہ ہم ان کی پوشیدہ بات نہیں سنتے وَنَجْوَاهُمْ اور ان کی سرگوشی؟ کیا یہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ان کی پوشیدہ باتیں اور ان کی سرگوشیاں نہیں سنتے؟ بَلٰی کیوں نہیں وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُونَ ہمارے بھیجے ہوئے ان کے پاس لکھتے رہتے ہیں۔ یہ تو سمجھتے ہیں ہم ان کی سرگوشیاں اور خفیہ باتیں نہیں سنتے لیکن ہمارے بھیجے ہوئے یعنی فرشتے مراد کراما کاتبین ہیں بھئی وہ ان کے پاس ان کی باتیں ایک ایک بات لکھتے رہتے ہیں۔ بَلٰی کیوں نہیں وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُونَ ہمارے بھیجے ہوئے ان کے پاس لکھتے ہیں، قُلْ إِنْ كَانَ لِلرَّحْمَنِ وَلَدٌ اے پیغمبر! آپ کہہ دیجیے إِنْ كَانَ لِلرَّحْمَنِ وَلَدٌ کہ اگر رحمان کی کوئی اولاد ہو، إِنْ كَانَ لِلرَّحْمَنِ وَلَدٌ اگر رحمان کی یعنی اللہ کی کوئی اولاد ہو، فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ تو میں سب سے پہلے عبادت کرنے والا ہوں یعنی اس کی، میں یہ عیسائی جو ہیں حضرت عیسی علیہ السلام کو اللہ کی اولاد بتاتے ہیں، حضرت عیسی اور یہودی جو ہیں حضرت عزیر علیہ السلام کو اللہ کی اولاد بتاتے ہیں، یہ مشرکین مکہ فرشتوں کو اللہ کی اولاد بتاتے ہیں۔ اے پیغمبر! آپ ان سے کہہ دیجیے کہ اللہ کی کوئی اولاد نہیں، اگر اللہ کی کوئی اولاد ہوتی بالفرض والمحال ان سے کیا کہہ دیجیے کہ اگر بالفرض والمحال اللہ کی کوئی اولاد ہوتی تو میں سب سے پہلے میں اس کی عبادت کرتا کیونکہ میں اللہ کی سب سے بڑھ کر عبادت کرنے والا ہوں۔ معنی سمجھ میں اگیا بھئی؟ قل اے پیغمبر! آپ فرما دیجیے إِنْ كَانَ لِلرَّحْمَنِ وَلَدٌ کہ اگر رحمان کے کوئی اولاد ہو فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ تو میں سب سے پہلے عبادت کرنے والا ہوں اس کی۔ یہ ایک معنی میں نے کیا بھئی۔ ان کو شرطیہ بنایا، اگر رحمان کے کوئی اولاد ہوئی۔ ان کو کیا کیا بنایا؟ شرطیہ اور یہی راجح تفسیر ہے جو میں نے ذکر کر دی۔ بعض نے، بعض مفسرین کرام رحمہم اللہ نے ان کو نافیہ بنایا، نفی کے لیے، نفی کے لیے۔ تو معنی کیا ہوا؟ اے پیغمبر! آپ کہہ دیجیے إِنْ كَانَ لِلرَّحْمَنِ وَلَدٌ رحمان کے کوئی اولاد نہیں۔ اللہ کی کوئی اولاد نہیں۔ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ أَيْ فَأَنَا أَوَّلُ الْجَاحِدِينَ میں سب سے پہلے انکار کرنے والا ہوں۔ اللہ کی کوئی اولاد نہیں، میں سب سے پہلے انکار کرنے والا ہوں اللہ کی اولاد کا۔ تو اس صورت میں عابد بمعنی جاہِد کے ہوا بھئی، جاہِد کے۔ عَبَدَ يَعْبُدُ ہو تو اس کے معنی ہوتے ہیں عبادت کرنے کے بھئی عبادت کرنے کے اور انہوں نے جاہد کے معنی میں لیا تو انکار کرنے والے کے معنی میں تو پھر باب ہوگا عَبَدَ يَعْبُدُ، عَبَدَ باب کے بدلنے سے بھی معنی بدل جاتا ہے بھئی۔ لیکن راجح پہلا ہی معنی ہے بھئی۔ قُلْ إِنْ كَانَ لِلرَّحْمَنِ وَلَدٌ اے پیغمبر! آپ کہہ دیجیے اگر رحمان کی کوئی اولاد ہو فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ تو میں سب سے پہلے عبادت کرنے والا ہوں، سُبْحَانَ رَبِّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ پاک ہے آسمانوں اور زمین کا پروردگار رَبِّ الْعَرْشِ جو عرش کا رب ہے عَمَّا يَصِفُونَ اس چیز سے جو وہ صفت بیان کرتے ہیں۔ سُبْحَانَ زمین اور آسمان کا پروردگار، عرش کا پروردگار پاک ہے عَمَّا يَصِفُونَ اس چیز سے یَصِفُونَ جو وہ صفت بیان کرتے ہیں، جو وصف بیان کرتے ہیں۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو رَبِّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ کا کیا معنی کیا میں نے؟ زمین اور آسمانوں کا پروردگار۔ آپ چاہیں تو یہ ترجمہ کر لیں زمین زمین اور آسمانوں کا مالک۔ رَبِّ الْعَرْشِ کا کیا معنی کر لیں؟ عرش کا مالک۔ تو پاک ہے زمین و آسمانوں کا مالک جو کہ عرش کا مالک ہے عَمَّا يَصِفُونَ اس چیز سے جو وہ بیان کرتے ہیں، وہ کیا بیان کرتے ہیں؟ وہ رحمان کے لیے اولاد ثابت کرتے ہیں، رحمان ان چیزوں سے پاک ہے بھئی۔ فَذَرْهُمْ امر ہے بھئی ذر، فَذَرْهُمْ پس آپ ان کو چھوڑ دیجیے يَخُوضُوا خَاضَ يَخُوضُ کے معنی ہوتے ہیں باتوں میں مشغول ہونا۔ خَاضَ يَخُوضُ باتوں میں مشغول ہونا، يَلْعَبُوا لَعِبَ يَلْعَبُ کے معنی ہیں کھیلنا بھئی، ہنسی کھیل کرنا بھئی۔ فَذَرْهُمْ پس اے پیغمبر! آپ ان کو چھوڑ دیجیے يَخُوضُوا کہ باتوں میں مشغول رہیں یعنی باتوں میں ڈوبے رہیں وَيَلْعَبُوا اور ہنسی کھیل کرتے رہیں حَتَّى يُلَاقُوا یہاں تک کہ یہ ملاقات کر لیں يَوْمَهُمُ الَّذِي يُوعَدُونَ اپنے اس دن سے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے یہاں تک کہ ملاقات کر لیں اپنے اس دن سے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ فَذَرْهُمْ يَخُوضُوا وَيَلْعَبُوا بھئی ذر تو امر آیا، يَخُوضُ یہ نون کیوں گرا آخر سے؟ يَلْعَبُوا نون کیوں گرا بھئی يَخُوضُونَ يَلْعَبُونَ جی؟ یہ جواب امر، شاباش۔ میں نے بتایا تھا امر کے بعد فعل مضارع آ جائے چھ چیزوں کے بعد تو فا اور واو اگر اس فعل مضارع سے پہلے ہو تو وہاں ان مقدر ہوگا اور اگر فا اور واو نہ ہو تو وہ مجزوم ہوں گے۔ مجزوم ہوں گے بھئی۔ فَذَرْهُمْ يَخُوضُوا وَيَلْعَبُوا حَتَّى يُلَاقُوا يَوْمَهُمُ الَّذِي يُوعَدُونَ پس اے پیغمبر! آپ ان کو چھوڑ دیجیے تاکہ یہ باتوں میں ڈوبے رہیں اور ہنسی کھیل کرتے رہیں یہاں تک کہ یہ ملاقات کر لیں اپنے اس دن سے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے، وَهُوَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ إِلَٰهٌ اور وہی ذات ہے آسمانوں میں معبود وَفِي الْأَرْضِ إِلَٰهٌ اور زمین میں معبود وَهُوَ الْحَكِيمُ الْعَلِيمُ اور وہ ذات حکمت والی ہے، سب کچھ جاننے والی ہے۔ وَهُوَ الَّذِي اور وہی ہے جو آسمانوں میں معبود ہے اور زمین میں معبود ہے وَهُوَ الْحَكِيمُ الْعَلِيمُ اور وہ حکمت والا ہے، سب کچھ جاننے والا ہے، وَتَبَارَكَ الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَتَبَارَكَ الَّذِي اور بڑی بابرکت ہے وہ بڑا بابرکت ہے وہ لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ جس کے لیے بادشاہارت ہے جس کے لیے بادشاہت ہے آسمانوں اور زمین کی وَمَا بَيْنَهُمَا اور وہ جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، آسمانوں اور زمین کے درمیان ہے۔ وَعِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ اور اسی کے پاس قیامت کا علم ہے وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے، وَتَبَارَكَ تبارک الذي له ملك السماوات والارض وما بينهما۔ بڑا بابرکت ہے وہ جس کے لیے بادشاہی ہے آسمان اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے۔ وعنده علم الساعۃ۔ اور اسی کے پاس قیامت کا علم ہے۔ اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ ولا يملك الذين يدعون من دونه الشفاعة۔ اور مالک نہیں ہیں۔ ولا یملک اور مالک نہیں ہیں۔ الذین وہ۔ مراد جو بت وغیرہ جن کی یہ عبادت کرتے ہیں بھئی۔ الذین سے کیا مراد ہیں؟۔ وہ بت وغیرہ جن کی وہ عبادت کرتے ہیں۔ یہ بتوں وغیرہ کی عبادت کرتے تھے۔ اللہ کو خالق اور رازق تو مانتے تھے۔ کہ سب کچھ پیدا کرنے والے اللہ، ہر چیز کو رزق دینے والے اللہ، اس قسم کی تمام باتوں کا وہ اقرار کرتے تھے لیکن بتوں وغیرہ کی عبادت کیوں کرتے تھے؟۔ کہتے تھے یہ اللہ کے ہاں ہماری سفارش کریں گے۔ کیا کریں گے؟۔ اللہ کے ہاں ہماری سفارش کریں گے بھئی۔ جیسے اہل بدعت سے پوچھا جاتا ہے بھئی مزاروں پر جا کر سجدہ کرتے ہیں۔ کہتے ہیں یہ اللہ کے نیک بندے ہیں، اللہ کے ہاں ہماری سفارش کریں گے۔ وہی ادلہ جو مشرکین مکہ کے ہوتے تھے بھئی۔ ولا یملک الذین یدعون من دونہ الشفاعۃ۔ اور مالک نہیں ہیں وہ جن کو یہ پکارتے ہیں اس اللہ کے علاوہ من دونہ ای من دون اللہ۔ جن کو وہ پکارتے ہیں اللہ کے علاوہ وہ مالک نہیں ہیں الشفاعۃ سفارش کے۔ الا من شهد بالحق۔ مگر وہ جو گواہی دے حق کی۔ وہ جو گواہی دے حق کی۔ یعنی دین حق کی، یعنی توحید کی۔ وھم یعلمون۔ اس حال میں کہ وہ جانتے ہوں بھئی۔ بلکہ یعلمون بمعنی یقین کے یہاں پر بھئی۔ علم کبھی یقین کے معنی میں آتا ہے بھئی یہاں علم کس معنی میں ہے؟۔ یقین۔ وھم یعلمون اس حال میں کہ ان کو یقین ہو۔ اس حال میں کہ ان کو یقین ہو۔ الا من شهد بالحق۔ مگر وہ جو گواہی دے حق کی۔ یعنی توحید کی۔ کس چیز کی؟۔ توحید کی۔ گواہی دے توحید کو مان لے وھم یعلمون اس حال میں کہ ان کو یقین ہو۔ زبان سے بھی گواہی دیں بھئی۔ توحید کو تسلیم کریں اور دل میں بھی یقین ہو ان کو بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی۔ اللہ فرما رہے ہیں ولا یملک الذین یدعون من دونہ الشفاعۃ اور مالک نہیں ہیں وہ جن کو یہ پکارتے ہیں اللہ کے علاوہ سفارش کے۔ جن کو یہ اللہ کے علاوہ پکارتے ہیں وہ بت وغیرہ وہ سفارش کے مالک نہیں ہیں وہ اللہ کے ہاں سفارش نہیں کر سکتے۔ وہاں تو صرف سفارش وہی کر سکے گا جس کو اجازت ہوگی اور صرف اسی کے بارے میں کر سکے گا جس کے بارے میں اجازت ہوگی۔ تو یہ جن کو یہ پکارتے ہیں اللہ کے علاوہ وہ مالک نہیں ہیں سفارش کے الا من شهد بالحق مگر وہ جو گواہی دے حق بات کی یعنی توحید کی وھم یعلمون اس حال میں کہ ان کو یقین ہو۔ ولئن سالتهم من خلقهم ليقولن الله۔ اور اگر آپ ان سے پوچھیں، اے پیغمبر اگر آپ ان مشرکین مکہ سے پوچھیں من خلقهم ان کو کس نے پیدا کیا؟۔ ليقولن الله تو البتہ وہ ضرور کہیں گے اللہ نے۔ فانا یوپفون۔ پس کہاں سے یہ پھیرے جاتے ہیں؟۔ یا کہاں یہ پلٹائے جاتے ہیں؟۔ کہاں یہ پلٹائے جاتے ہیں یا کہاں سے یہ پلٹائے جاتے ہیں؟۔ وقيله۔ وقيله۔ قیل بمعنی قول کے بھئی مصدر ہے۔ قیل بمعنی قول کے مصدر ہے۔ اور یہ ہاں ضمیر راجع ہے رسول کو بھئی۔ رسول کو یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو۔ اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہاں پر تو رسول کا ذکر نہیں ہے بھئی۔ یہاں پر تو رسول کا لفظ کہیں پیچھے نہیں آیا۔ جواب یہ کہ ولئن سالتهم۔ اگر آپ ان سے پوچھیں۔ یہاں سے مفہوم ہو گیا۔ کہ کون مفہوم ہوئے؟۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھئی یہاں سے۔ اگر آپ ان سے پوچھیں یعنی اے پیغمبر۔ وقيله۔ اور پیغمبر کا قول۔ پیغمبر کا قول۔ یہ مجرور کیوں ہے قيله؟۔ یاد رکھیے یہ قیل کا عطف ہے۔ الساعة پر۔ الساعة پر۔ وعنده علم الساعة۔ اور اسی اللہ کے پاس ہے قیامت کا علم۔ اور وعلم قيله اور پیغمبر کے قول کا علم۔ پیغمبر کے قول کا علم۔ یعنی پیغمبر کے قول کا اللہ کو علم ہے۔ کیا قول؟۔ یہ قول بھئی۔ یا ربی۔ اے میرے پروردگار!۔ ان ھؤلاء قوم لا یؤمنون۔ بے شک یہ ایسے لوگ ہیں جو ایمان نہیں لاتے۔ اللہ کو اپنے پیغمبر کی بات کا علم ہے جو وہ کہتے ہیں کہ اے میرے پروردگار!۔ بے شک یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ معنی سمجھ میں آ گیا۔ قیل کا عطف کس پر ہے؟۔ الساعة پر۔ تو یہ جو پیغمبر۔ درد بھری التجاے کرتے ہیں۔ اور مخلصانہ۔ مخلصانہ اور درد بھری التجاے کرتے ہیں اللہ کے دربار میں کہ اے اللہ یہ ایسے لوگ ہیں جو ایمان نہیں لاتے، میں نے تو پوری، میں تو پوری کوشش کر رہا ہوں لیکن یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو اللہ کو پیغمبر کی یہ باتیں معلوم ہیں۔ اللہ کو پیغمبر کی یہ باتیں یہ مخلصانہ اور درد بھری التجاے اللہ کو معلوم ہیں۔ یہ تو ایک ترکیب بھئی۔ دوسری ترکیب بھئی وقيله۔ وقيله۔ کہ یہ واؤ قسمیہ جار رہا ہے بھئی۔ واؤ قسمیہ جار رہا ہے۔ وقيله۔ اور قسم ہے پیغمبر کے قول کی۔ وقيله اور قسم ہے۔ پیغمبر کے قول کی یا ربی اے پروردگار!۔ بے شک یہ ایسے لوگ ہیں لا یؤمنون جو ایمان نہیں لاتے۔ فصفح عنهم۔ پس آپ اعراض کیجیے ان سے، درگزر کیجیے ان سے۔ فصفح عنهم پس آپ ان سے اعراض کیجیے یعنی ان سے رخ پھیر لیجیے۔ فصفح عنهم پس آپ ان سے رخ پھیر لیجیے وقول سلام اور سلام کہہ دیجیے۔ پس آپ ان سے رخ پھیر لیجیے اور کہہ دیجیے سلام ہے تم پر۔ سلام اے پیغمبر آپ کیا کیجیے؟۔ ان لوگوں سے رخ پھیر لیجیے اور کیا کہہ دیں ان کو؟۔ کہ سلام ہے تم پر۔ یہ یہ السلام علیکم مراد نہیں ہے۔ مراد یہ ہے کہ ان سے قطع تعلق کر لیں۔ ان سے کیا کر لیں؟۔ قطع تعلق کر لیں کہیں بس سلام ہے تم پر، تم اپنا کام کرو میں اپنا کام کرتا ہوں۔ فصفح عنهم پس آپ ان سے رخ پھیر لیجیے وقول سلام اور کہہ دیجیے کہ سلام ہے فسوف تعلمون پس عنقریب یہ جان لیں گے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ حٰمٰ۔ والکتاب المبین۔ انا انزلناه فی لیلۃ مبارکۃ انا كنا منذرین۔ فيها يفرق كل أمر حكيم۔ امرا من عندنا انا كنا مرسلين۔ رحمۃ من ربک انه هو السمیع العلیم۔ یہ سورت جو ہے سورہ دخان ہے۔ سورہ دخان۔ اس سورت کے اندر دخان کا ذکر آئے گا، دخان دھوئین کو کہتے ہیں۔ عربی زبان میں دخان کا کیا معنی؟۔ دھواں۔ تو اس سورت میں دخان کا ذکر آ رہا ہے تو اس وجہ سے اس سورت کو سورہ دخان کہا جاتا ہے۔ حٰمٰ۔ جی یہ حروف مقطعات میں سے ہے اس کا معنی اللہ اور اس کے رسول ہی جانتے ہیں۔ والکتاب المبین۔ قسم ہے کتاب مبین کی، واضح کتاب کی۔ قسم ہے۔ اس واضح کتاب کی۔ یا قسم ہے اس۔ بیان کرنے والی کتاب کی۔ انا انزلناه فی لیلۃ مبارکۃ۔ بے شک ہم نے اس کو نازل کیا بابرکت رات میں۔ بے شک ہم نے اس کو۔ بے شک ہم نے اس کو بابرکت رات میں نازل کیا۔ مراد اس سے لیلۃ القدر ہے بھئی لیلۃ القدر۔ یہ۔ قرآن لیلۃ القدر میں لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا۔ یہ یہ قرآن لیلۃ القدر میں لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا اور پھر وہاں سے۔ تیئیس سال کے عرصے میں تھوڑا تھوڑا کر کے حضور علیہ السلام پر نازل ہوتا رہا بھئی۔ تو ہم نے اس کو لیلۃ القدر میں نازل کیا بھئی کیا مراد ہے؟۔ لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر۔ اور اس کی قر دنیا کے اندر بھی حضور علیہ السلام بھی پر بھی حضور علیہ السلام پر بھی اس کے نزول کا آغاز لیلۃ القدر میں ہوا بھئی۔ حضور علیہ السلام پر وحی کی ابتدا بھی کس میں ہوئی؟۔ لیلۃ القدر میں بھئی۔ انا انزلناه فی لیلۃ مبارکۃ بے شک ہم نے نازل کیا اس قر اس کتاب کو مبارک رات میں۔ انا كنا منذرين۔ بے شک ہم۔ خبردار کرنے والے تھے۔ انا كنا منذرين۔ انزل ينزل انذار کا کیا معنی؟۔ ڈرانا، خبردار کرنا۔ انا كنا منذرين بے شک ہم خبردار کرنے والے تھے۔ ہم نے اس قرآن کو بابرکت رات کے اندر نازل کیا کیوں نازل کیا؟۔ کیونکہ ہم اہل دنیا کو خبردار کرنا چاہتے تھے بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟۔ انا انزلناه فی لیلۃ مبارکۃ انا كنا منذرين بے شک ہم نے نازل کیا اس کو بابرکت رات میں انا كنا منذرين بے شک ہم خبردار کرنے والے تھے۔ فيها يفرق كل أمر حكيم۔ فيها۔ ہاں ضمیر راجع ہے لیلۃ لیلۃ مبارکہ کو بھئی۔ فيها اس۔ رات میں یفرق۔۔ فرق یفرق کے معنی جدا کرنے کے بھئی۔ جدا کری فیہا یفرق اس رات میں جدا کیا جاتا ہے یعنی فیصلہ کیا جاتا ہے۔ کیا کیا جاتا ہے؟۔ فیصلہ کیا جاتا ہے۔ اس رات میں فیصلہ کیا جاتا ہے کل امر حکیم ہر حکمت والی بات کا۔ اس رات میں یعنی لیلۃ القدر میں فیصلہ کیا جاتا ہے ہر حکمت والے معاملے کا، ہر حکمت والی بات کا۔ امرا من عندنا ہماری طرف سے حکم ہو کر۔ ہماری طرف سے امرا حکم ہو کر من عندنا ہماری طرف سے۔ یہ امرا یاد رکھیے یہ مفعول مطلق ہے مفعول مطلق۔ اور یہ یفرق کے معنی میں ہے مفعول مطلق کس کو کہتے ہیں؟۔ وہ مصدر جو ما قبل فعل کے معنی میں ہو۔ ضربت ضربا۔ اور اس میں آپ نے پڑھا ہے کہ۔ وہی صیغہ ہونا ضروری نہیں وہی باب ہونا بھی ضروری نہیں اور لفظوں سے بھی آ سکتا ہے ہاں معنی ایک ہونا چاہیے تو فیہا یفرق كل أمر حكيم امرا من عندنا اس رات میں فیصلہ کیا جاتا ہے ہر حکمت والے معاملے کا ہماری طرف سے حکم ہو کر۔ ہماری طرف سے بطور حکم کے۔ فیصلہ کیا جاتا ہے۔ بھئی یہاں پر آیا۔ کہ اس رات میں ہر حکمت حکمت والے معاملے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ معنی یہ ہے۔ یعنی اس رات میں سال بھر میں۔ جو جو فیصلے ہوتے ہیں اللہ کی طرف سے وہ فرشتوں کے حوالے کیے جاتے ہیں۔ سال بھر کے اندر جو جو واقعات پیش آنے ہیں مثلا کسی کی پیدائش ہو گئی، کسی کا انتقال ہوگا، کسی کو عروج دیا جائے گا، کسی کو زوال دیا جائے گا تو سارے اہم واقعات جو ہیں ضروری واقعات وہ اس رات میں فرشتوں کے حوالے کیے جاتے ہیں بھئی سال بھر کے۔ کس رات میں؟۔ لیلۃ القدر میں۔ بعض روایتوں میں آیا ہے کہ یہ بات یہ جو فرشتوں کے سپرد معاملات کیے جاتے ہیں وہ شب برات میں کیے جاتے ہیں۔ یعنی شعبان کی پندرہویں رات۔ بعض روایتوں میں کیا آیا ہے؟۔ شب شب برات میں یہ فیصلے حوالے کیے جاتے ہیں فرشتوں کے اور شب برات یعنی شعبان کی پندرہویں رات۔ تو۔ اور یہاں کیا آیا؟۔ اس لیلۃ القدر میں حوالے کیے جاتے ہیں۔ تو۔ پوری حقیقت تو اللہ ہی جانتے ہیں۔ یوں تطبیق دی جا سکتی ہے دونوں کو۔ کہ شاید۔ ان امور کو فرشتوں کے حوالے کرنے کا سلسلہ۔ شب برات سے شروع ہوتا ہو اور انتہا کہاں پر ہوتی ہو؟۔ شب قدر میں انتہا ہوتی ہو۔ یا بعض امور ہو سکتا ہے وہ شب برات میں حوالے کیے جاتے ہوں اور بعض۔ شب قدر کے اندر فرشتوں کے حوالے کیے جاتے ہوں۔ فيها يفرق كل أمر حكيم امرا من عندنا اس رات میں فیصلہ کیا جاتا ہے ہر حکمت والے معاملے کا حکم ہو کر ہماری طرف سے۔ ہماری طرف سے بطور حکم کے۔ انا كنا مرسلين۔ بے شک ہم۔ بھیجنے والے تھے۔ بے شک ہم۔ بھیجنے والے تھے۔ اس رات کو ہم نے لیلۃ القدر کے اندر ہم نے قرآن کو لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا۔ کیوں نازل کیا؟۔ کیونکہ ہم اہل دنیا کو خبردار کرنے والے تھے۔ اور کیوں نازل کیا؟۔ کیونکہ ہم اپنے آخری پیغمبر کو بھیجنے والے تھے۔ انا كنا مرسلين بے شک ہم۔ بھیجنے والے تھے۔ معنی سمجھ میں آگیا۔ رحمۃ من ربک۔ بوجہ رحمت کے من ربک آپ کے پروردگار سے۔ رحمۃ۔ یہ مفعول لہ ہے بھئی۔ بے شک ہم پیغمبر بھیجنے والے تھے یا۔ انا انزلناه ہم نے اس قرآن کو نازل کیا اس کتاب کو۔ کیوں نازل کیا؟۔ رحمۃ من ربک۔ بوجہ۔ رحمت کے رحمت کے لیے من ربک آپ کے پروردگار کی طرف سے۔ مفعول لہ کس کو کہتے ہیں؟۔ جو ماقبل فعل کی علت بیان کرتا ہے ضربتوہ تأدیبا میں نے اس کی پٹائی کی ادب سکھانے کے لیے۔ تو رحمۃ من ربک ہم نے اس کتاب کو نازل کیا رحمۃ من ربک آپ کے پروردگار کی طرف سے رحمت کرنے کے لیے۔ رحمۃ من ربک بطور رحمت کے آپ کے پروردگار کی طرف سے انہو السميع العليم بیشک وہ سب کچھ سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے۔ رب السماوات والارض جو کہ رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا وما بينهما اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے یعنی آسمان اور زمین کے جو کچھ جو کچھ ان کے درمیان ہیں إن کنتم موقنين اگر تم یقین رکھتے ہو، اگر تم کو یقین ہو، اگر تم یقین کرنے والے ہو إن کنتم موقنين اگر تم یقین کرنے والے ہو یعنی اگر تم ایمان لانے والے ہو اگر تم ایمان لانے والے ہو۔ یعنی اللہ ہی زمین اور آسمان کا رب ہے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کا رب ہے إن کنتم موقنين اگر تم ایمان لانے والے ہو، ایمان رکھتے ہو۔ لا إله إلا هو نہیں ہے کوئی معبود سوائے اس کے يحيي ويميت وہ زندگی دیتا ہے ويميت اور موت دیتا ہے ربكم ورب آبائکم الأولین تمہارا پروردگار ہے ورب آبائکم الأولین اور تمہارے پہلے باپ دادوں کا پروردگار ہے۔ لا إله إلا هو يحيي ويميت ربكم ورب آبائکم الأولین اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے وہی زندگی دیتا ہے اور موت دیتا ہے تمہارا اور تمہارے پہلے باپ دادوں کا پروردگار ہے۔ بل هم في شك يلعبون بلکہ یہ لوگ في شك شک میں ہیں يلعبون کھیل رہے ہیں۔ بلکہ یہ لوگ شک میں ہیں يلعبون ہنسی کھیل کر رہے ہیں یہ لوگ شک میں ہیں اور ہنسی کھیل کر رہے ہیں، ہنسی کھیل میں لگے ہوئے ہیں، پیغمبر دعوت دے رہے ہیں لیکن ان کو پروا ہی نہیں ہے۔ بل هم في شك يلعبون بلکہ یہ لوگ شک میں ہیں يلعبون کھیل کر رہے ہیں، فارتقی پس آپ انتظار کیجیے! ارتقبی ارتقبو کے معنی انتظار کرنا۔ فارتقی پس آپ انتظار کیجیے! يوما تأتي السماء بدخان مبین أتا یا آتی بھئی اس کا معنی ہوتا ہے آنا۔ اور اس کے ساتھ با آگئی آگے بھئی بدخان تو کیا معنی کریں گے؟ لانا۔ فارتقی پس اے پیغمبر آپ انتظار کیجیے! يوما تأتي السماء بدخان مبین جس دن کے لے آئے گا آسمان ظاہر دھواں آسمان کیا لے آئے گا؟ دھواں لے آئے گا، ظاہر دھواں بھئی۔ جس دن آسمان ظاہر دھواں لے آئے گا، واضح دھواں لے آئے گا اس دھوئیں سے کیا مراد ہے بھئی؟ اے پیغمبر آپ انتظار کیجیے اس دن کا جس دن آسمان دھواں لے آئے گا ظاہری طور پر، واضح طور پر۔ یاد رکھیے دو تفسیریں ہیں۔ ایک تفسیر ہے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کی۔ وہ فرماتے ہیں اس سے مراد وہ دھواں ہے جو علامات قیامت میں سے ہے اور قیامت کے قریب ظاہر ہوگا۔ یاد رکھیے قیامت کی بڑی علامتوں میں سے ایک علامت یہ دھواں ہے بھئی، قیامت کے قریب کہتے ہیں آسمان سے ایک دھواں فضا میں ہر طرف چھا جائے گا اور اس دھوئیں کی وجہ سے جو اہل ایمان ہوں گے ان کو معمولی سا اثر پہنچے گا اور زکام وغیرہ کی طرح کیفیت ہو جائے گی ان کی بھئی۔ زکام وغیرہ ان کو ہوگا، بس معمولی سا اثر۔ جبکہ جو کفار ہوں گے ان کے لیے یہ عذاب کی صورت ہوگی اور وہ اس کی تکلیف اور شدت کی وجہ سے بے ہوش ہو جائیں گے بھئی، اتنی تکلیف ہوگی ان کو اس کی وجہ سے۔ تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ اس دھوئیں سے مراد وہ قیامت کی نشانی جو ذکر کی گئی ہے وہ دھواں مراد ہے۔ جبکہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی دوسری تفسیر ہے بھئی۔ وہ فرماتے ہیں اس سے مراد وہ مکہ والوں کا قحط ہے بھئی۔ روایات میں آتا ہے کہ مکہ والوں کے ظلم و ستم سے تنگ آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے بددعا فرمائی۔ چنانچہ ان پر قحط آیا بھئی، بڑا سخت قحط آیا۔ سات سال تک قحط کی کیفیت رہی، سات سال تک بھئی۔ حتی کہ مردار اور چمڑے کھانے تک اور ہڈیاں کھانے تک وہ مجبور ہوگئے بھئی، اس حد تک بھئی، کھانے کی کوئی چیز ملتی ہی نہیں تھی کسی کو بھئی۔ سات سال تک بھئی، بارش وغیرہ سب کچھ بند بھئی۔ تو وہ جو قحط آیا تھا وہ مراد ہے کہ اور قحط کے اندر بھئی جب انسان شدید بھوک اور پیاس کی تکلیف میں ہو اور بارش بھی نہ ہو رہی ہو تو اس کی نظر چیزوں پر جمتی نہیں، جس طرف بھی نظر کرتا ہے دھواں دھواں سا اس کو معلوم ہوتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وہ دھواں مراد ہے کہ وہ جس طرف بھی نظر کرتے تھے تو دھواں ہی سی دھوئیں کی طرح کیفیت ان کو دکھائی دیتی تھی، شدید بھوک اور پیاس کی وجہ سے اور نیز جو بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے فضا میں ہر طرف گرد پھیلی ہوئی تھی۔ فارتقی يوما تأتي السماء بدخان مبین پس اے پیغمبر آپ انتظار کیجیے اس دن کا جس دن آسمان واضح دھواں لے آئے گا يغشى الناس بھئی نکرہ کے بعد فعل آئے عموماً اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت۔ تو دخان مبین دخان کے بعد مبین ایک صفت آئی يغشناس دوسری صفت آئی، یہ کس کی صفت ہے يغشناس دخان کی؟ جس دن آسمان لے آئے گا ایسا ظاہر دھواں يغشناس جو لوگوں کو ڈھانپ لے گا۔ غشی یغشا کے معنی ڈھانپ لینا، جو لوگوں کو ڈھانپ لے گا۔ هذا عذاب ألیم یہ ہے دردناک عذاب۔ ربنا اکشف عنا العذاب إنا مؤمنون ربنا اے ہمارے پروردگار! اکشف عنا کھول دیجیے ہم سے عذاب کو، دور کر دیجیے ہم سے عذاب کو إنا مؤمنون بیشک ہم ایمان لے آئیں گے۔ بیشک ہم ایمان لے آئیں گے۔ پھر مشرکین سخت تکلیف میں مبتلا ہوئے تو پھر انہوں نے حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہ کو جو ابھی ایمان نہیں لائے تھے، ان کو حضور علیہ السلام کی خدمت میں بھیجا کہ آپ جا کر ان سے دعا کی درخواست کیجیے۔ چنانچہ وہ آئے اور حضور علیہ السلام سے دعا کی درخواست کی کہ آپ کی قوم ہلاک ہو رہی ہے، مر رہے ہیں بھوک اور پیاس کی وجہ سے، آپ دعا فرمائیے کہ اللہ بارش نازل فرمائے اور ہمیں خوراک نصیب فرمائے اور اس قحط سالی کو اللہ دور فرما دیں تو ہم لوگ ایمان لے آئیں گے۔ ربنا اکشف عنا العذاب إنا مؤمنون اے ہمارے رب! دور کر دیجیے ہم سے عذاب کو بیشک ہم ایمان لے آئیں گے۔ آگے اللہ فرما رہے ہیں أنا لهم الذکرا کہاں سے ہو ان کے لیے الذکرا نصیحت؟ ان کے لیے نصیحت کہاں سے ہو؟ یعنی یہ کہاں سے نصیحت حاصل کریں؟ وقد جاءهم رسول مبین یہ جملہ حالیہ ہے بھئی۔ جملہ حالیہ ہے، ہم ضمیر سے حال واقع ہو رہا ہے۔ اس حال میں کہ تحقیق آ چکا ان کے پاس رسول مبین واضح بیان کرنے والا پیغمبر۔ ان کے پاس واضح بیان کرنے والا پیغمبر آ چکا ثم تولوا عنه پھر انہوں نے اس سے پشت پھیر لی۔ ثم تولوا عنه پھر انہوں نے اس پیغمبر سے پشت پھیر لی وقالوا اور کہا معلم مجنون معلم سکھانے والا معلم، جس کو سکھایا گیا ہو۔ انہوں نے پیغمبر سے رخ پھیر لیا وقالوا معلمون کہ یہ تو سکھایا ہوا ہے مجنون دیوانہ ہے۔ اللہ فرما رہے ہیں أنا لهم الذکرا وقد جاءهم رسول مبین کہاں سے ان کو نصیحت حاصل ہو اس حال میں کہ ان کے پاس واضح بیان کرنے والا پیغمبر آیا پھر انہوں نے اس سے رخ پھیر لیا اور کہا کہ یہ سکھایا ہوا دیوانہ ہے۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ کہ یہ جو قرآن ہمیں سناتے ہیں اور یہ ان کو سکھائی ہیں کسی اور نے سکھائی ہیں تو یہ معلم ہیں سکھائے ہوئے ہیں۔ إنا كاشف العذاب قليلا بیشک ہم کھول کھولنے والے ہیں، دور کرنے والے ہیں عذاب کو قلیلا ای زمانا قلیلا کچھ زمانے کے لیے۔ اللہ فرما رہے ہیں إنا كاشف العذاب قليلا بیشک ہم تھوڑے زمانے کے لیے، تھوڑے عرصے کے لیے عذاب کو دور کر دیتے ہیں إنكم عائدون بیشک تم لوٹ لوطو گے۔ عاد یعود کے کیا معنی ہوتے ہیں؟ لوٹنے کے إنكم عائدون تم لوٹو گے یعنی اپنی سابقہ حالت کی طرف۔ اپنی تم پھر اپنی سابقہ حالت کی طرف لوٹو گے ابھی تو کہہ رہے ہو کہ اللہ ہم سے یہ تکلیف دور کر دے تو ہم ایمان لے آئیں گے لیکن جب ہم تکلیف اب ہم دور کر دیتے ہیں کچھ عرصے کے لیے لیکن ہمیں پتہ ہے تم پھر اپنی سابقہ حالت کی طرف لوٹو گے۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ إنكم عائدون تم پھر لوٹو گے، بیشک تم لوٹو گے۔ یا با محاورہ ترجمہ یوں کر لیں إنكم عائدون بیشک تم پھر وہی کرو گے۔ بیشک پھر تم پھر وہی کرو گے۔ إنا كاشف العذاب قليلا قليلاً إنكم عائدون بیشک ہم دور کر دیتے ہیں عذاب کو تھوڑے عرصے کے لیے تم پھر وہی کرو گے يوما نبطش البطشة الكبرى بطش یبطش کے معنی ہوتے ہیں پکڑنے کے، يوما نبطش جس دن ہم پکڑیں گے البطشة الكبرى بڑا پکڑنا، سخت پکڑنا۔ يوما نبطش البطشة الكبرى جس دن ہم سخت پکڑ کریں گے۔ يوما نبطش البطشة الكبرى کیا معنی؟ جس دن ہم سخت پکڑ کریں گے إنا منتقمون بیشک ہم بدلہ لیں گے، بیشک ہم انتقام لیں گے۔ اللہ فرما رہے ہیں کہ ابھی تو ہم تھوڑے عرصے کے لیے ان سے عذاب کو ہٹا دیتے ہیں اور ہمیں پتہ ہے یہ پھر وہی کریں گے لیکن ایک دن آنے والا ہے جس دن ہم سخت پکڑ کریں گے اور اس دن ہم ان سے انتقام اور بدلہ لیں گے۔ يوما نبطش البطشة الكبرى جس دن ہم سخت پکڑ کریں گے إنا منتقمون بیشک ہم بدلہ لیں گے۔ ولقد فتنا قبلهم قوم فرعون وجاءهم رسول كريم اور تحقیق ہم نے آزمایا، فتنا یقتنو کے معنی آزمانے کے، ولقد فتنا اور تحقیق ہم نے آزمایا قبلہم ان سے پہلے قوم فرعون فرعون کی قوم کو وجاءهم رسول كريم اور آیا ان کے پاس ایک معزز پیغمبر رسول كريم ایک معزز پیغمبر، کریم کا کیا معنی؟ معزز۔ ولقد فتنا قبلهم قوم فرعون وجاءهم رسول كريم اور تحقیق آزمایا ہم نے تحقیق ہم نے آزمایا ان سے پہلے فرعون کی قوم کو اور ان کے پاس ایک معزز رسول آیا یعنی حضرت موسی علیہ السلام۔ أن أدو إلي عباد الله أن أدو إلي یہ کہ ادا کرو یعنی حوالے کرو۔ ادا کرو تم لوگ ادا کرو یعنی کہ حوالے کرو إلي میرے عباد اللہ اللہ کے بندوں کو۔ انہوں نے آکر فرعون اور اس کی قوم سے کیا فرمایا حضرت موسی علیہ السلام نے؟ کہ اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو۔ اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو۔ بھئی بنی اسرائیل تھی نا، بنی اسرائیل قوم حضرت موسی علیہ السلام کی اور یہ فرعونیوں نے ان کو غلام بنا رکھا تھا بھئی، وہ ان کے محکوم تھے بنی اسرائیل والے تو حضرت موسی علیہ السلام ان سے کیا فرمانے لگے؟ فرعون اور اس کی قوم سے کہ یہ جو اللہ کے بندے ہیں یعنی بنی اسرائیل والے ان کو میرے حوالے کر دو۔ ان کو میرے حوالے کر دو۔ أن أدو إلي عباد الله یہ کہ حوالے کرو میرے اللہ کے بندوں کو إني لكم رسول أمين بیشک میں تمہارے لیے رسول أمين امانت دار پیغمبر ہوں بیشک میں تمہارے لیے امانت دار پیغمبر ہوں۔ وأن لا تعلو على الله اور یہ کہ چڑھائی نہ کرو عل اللہ اللہ کے مقابلے پر۔ وأن لا تعلو اور یہ کہ چڑھائی نہ کرو، یعلو کے معنی بلند ہونا، چڑھائی کرنا۔ یعنی سرکشی نہ کرو، کیا معنی؟ سرکشی۔ وأن لا تعلو على الله اور سرکشی نہ کرو عل اللہ اللہ پر یعنی اللہ کے مقابلے پر۔ إني آتیکم بسلطان مبین بیشک میں لاتا ہوں تمہارے پاس سلطان مبین واضح دلیل۔ بیشک میں تمہارے پاس واضح دلیل لاتا ہوں۔ معنی سمجھ میں آرہا ہے بھئی؟ بیشک میں تمہارے پاس واضح دلیل لاتا ہوں وانی عذبت بربی وربکم ان ترجومون اور بیشک میں نے پناہ پکڑی ہے اپنے پروردگار کی اور تمہارے پروردگار کی ان ترجومونی یہاں یا محذوف ہے بھئی۔ ورنہ یہ نون نہ ہوتا ان ترجومو ان کیا کر دیتا ہے فعل مضارع کے آخر سے نون کو گرا دیتا ہے تو یہ نون وہ یا کی وجہ سے لایا گیا بھئی۔ بیشک میں نے پناہ پکڑی ہے اپنے پروردگار اور تمہارے پروردگار کی ان ترجومون کہ یہ کہ تم مجھے سنگسار کرو، تم مجھے رجم کرو۔ رجم کا کیا معنی ہوتا ہے؟ سنگسار کرنا۔ حضرت موسی علیہ السلام کے خلاف وہ فرعون وغیرہ نے قتل کی دھمکیاں وغیرہ دی ہوں گی بھئی تو حضرت موسی علیہ السلام جواب میں کیا فرمانے لگے؟ کہ میں نے اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ پکڑ لی ہے اس بات سے کہ تم مجھے سنگسار کرو یعنی قتل کرو۔ قتل کرو یعنی تم مجھے قتل نہیں کر سکتے میں نے اللہ کی پناہ پکڑ پکڑ لی ہے۔ وإني عذبت بربی وربکم ان ترجومون اور بیشک میں نے پناہ پکڑی ہے اپنے پروردگار اور تمہارے پروردگار کی کہ تم مجھے رجم کرو۔ وإن لم تؤمنوا لي فاعتزلون اور اگر تم ایمان نہیں لاتے مجھ پر فاعتزلونی یہاں پر بھی یا محذوف ہے۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ فاعتزلو امر ہے نا امر کے آخر میں تو نون نہیں آتا تو یہ نون کس لیے لایا گیا؟ وہ یا کی وجہ سے لے کر آتے ہیں بھئی نون نون وقایہ بھئی۔ وإن لم تؤمنوا لي فاعتزلون پس اگر تم ایمان نہیں لاتے مجھ پر فاعتزلونی اعتزل کے معنی ہوتے ہیں جدا ہونے کے، الگ ہونے کے فاعتزلونی پس تم مجھ سے جدا رہو، الگ رہو اگر تم ایمان نہیں لاتے تو پھر مجھ سے الگ رہو جدا رہو یعنی میرے راستے میں رکاوٹیں نہ کھڑی کرو۔ مجھے دعوت دینے دو اگر خود ایمان نہیں لاتے تو دوسروں تک تو توحید کی دعوت پہنچانے دو۔ وإن لم تؤمنوا لي فاعتزلون اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ رہو فدعا ربه پس انہوں نے پکارا اپنے پروردگار کو یعنی حضرت موسی علیہ السلام نے فدعا ربه پس پکارا انہوں نے اپنے پروردگار کو ان ھؤلاء قوم مجرمون کہ بیشک یہ مجرم لوگ ہیں۔ فدعا ربه انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا یا یوں ترجمہ کر لیں فدعا ربه انہوں نے دعا کی اپنے پروردگار سے ان ھؤلاء قوم مجرمون کہ یہ مجرم لوگ ہیں۔ چلیے بس بھئی ہذا هو المرام واللہ اعلم بحقیقت الكلام۔
129 approved lectures · 92 of 129