Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-083

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 12 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم ویوم یحشر اعداء اللہ الی النار فہم یوزعون حتی اذا ما جاؤھا شھد علیھم سمعھم وابصارھم وجلودھم بما کانوا یعملون ویوم یحشر اور جس دن کہ جمع کیے جائیں گے حشر کے معنی جمع کرنے کے بھئی۔ ویوم یحشر یوم منصوب ہے، ظرف ہے، اس کے لیے عامل چاہیے تو عامل اذکر ہے بھئی اذکر۔ اور یاد کیجیے وہ دن جس دن جمع کیے جائیں گے۔ ویوم یحشر اعداء اللہ الی النار اور جس دن کے جمع کیے جائیں گے اللہ کے دشمن الی النار آگ کی طرف فہم یوزعون پس وہ روکے جائیں گے پس وہ فہم یوزعون پس وہ روکے جائیں گے۔ جی تو بعض مفسرین حضرات نے اس کا معنی روکنے کے کیے ہیں وضع یضع کے معنی روکنے کے ہوتے ہیں اسی سے مجہول آیا یوزعون۔ فہم یوزعون پس وہ روکے جائیں گے۔ اور جس دن اللہ کے دشمن جمع کیے جائیں گے آگ کی طرف پس وہ روکے جائیں گے ان کے آگے والوں کو روکا جائے گا یہاں تک کہ پیچھے والے جو ان کے پیچھے آ رہے ہیں اور کفار اور مشرکین وہ بھی آ کر ان کے ساتھ مل جائیں بھئی، سارے تاکہ اکٹھے ہو جائیں بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ ان کو روکا جائے گا تاکہ پیچھے والے بھی ان کے ساتھ آ کر مل جائیں۔ یہ ایک معنی یوزعون کا۔ بعض نے یوزعون کا معنی یہاں جدا جدا کرنے کے کیے ہیں بھئی۔ اوجاع یوزع کے معنی ہوتے ہیں تقسیم کرنا بھئی تقسیم کرنا، جدا جدا کرنا۔ فہم یوزعون پس وہ جدا جدا کیے جائیں گے یعنی یوں کہیں پس ان کی جماعتیں بنائی جائیں گی، ان کی ٹولیاں بنائی جائیں گی۔ مختلف قسم کے جرم والے ہوں گے تو ایک قسم والوں کی ٹولیاں اور جماعتیں بنا دی جائیں گی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ ویوم یحشر اعداء اللہ الی النار فہم یوزعون اور جس دن کہ جمع کیا جائے گا اللہ کے دشمنوں کو آگ کی طرف فہم یوزعون پس ان کی جماعتیں بنائی جائیں گی۔ حتی اذا ما جاؤھا یہاں تک کہ جب وہ آ جائیں گے اس کے پاس یعنی اس آگ کے پاس ھا ضمیر کس کو راجع ہے؟ نار کو بھئی۔ یہاں تک کہ جب وہ اس آگ کے پاس یعنی جہنم کے پاس آ جائیں گے۔ شھد علیھم سمعھم وابصارھم وجلودھم بما کانوا یعملون شھد علیھم ان پر گواہی دیں گے سمعھم ان کے کان وابصارھم اور ان کی آنکھیں وجلودھم اور ان کی کھالیں، ان کے چمڑے، ان کی کھالیں بما کانوا یعملون وہ اس چیز کی جو وہ عمل کیا کرتے تھے۔ ان کے کان، ان کی آنکھیں اور ان کے اور ان کی کھالیں جو ہیں وہ جو عمل کیا کرتے تھے اس پر ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ شھد لہ کا معنی ہوتا ہے کسی کے حق میں گواہی دینا۔ جب اس کا صلہ لام آئے، لام نفع کے لیے آتا ہے، تو شھد لہ کسی کے حق میں گواہی دینا۔ اور جب اس کا صلہ علی آئے تو علی ضرر کے لیے ہے شھد علیھم ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ حتی اذا ما جاؤھا یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس آ جائیں گے شھد علیھم سمعھم وابصارھم وجلودھم تو گواہی دیں گے ان کے خلاف ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں بما کانوا یعملون جو وہ کیا کرتے تھے۔ ان اعمال کی جو وہ کیا کرتے تھے۔ وقالوا لجلودھم لما شھدتم علینا اور وہ کہیں گے اپنی کھالوں سے لما شھدتم علینا تم نے کیوں ہمارے خلاف گواہی دی؟ لما شھدتم علینا تم نے کیوں ہمارے خلاف گواہی دی؟ قالوا تو وہ کہیں گے انطقنا اللہ الذی انطق کل شیء وھو خلقکم اول مرۃ والیہ ترجعون قالوا تو وہ کہیں گے انطقنا اللہ ہمیں بلوایا اللہ نے، ہمیں گویائی دی اللہ نے۔ انطق نطق سے ہے بھئی۔ نطق کے معنی بولنے کے ہوتے ہیں۔ قالوا وہ کہیں گے انطقنا اللہ اب ہمیں اللہ نے بلوایا۔ یہ بلوایا بولنے سے ہے بولنے سے، بلانے سے نہیں بھئی۔ ہمیں اللہ نے بلوایا یعنی ہمیں اللہ نے گویائی دی یا یوں کہیں ہمیں اللہ نے بولنے کی طاقت دی۔ الذی انطق کل شیء وہ اللہ جس نے گویائی دی ہر چیز کو وھو خلقکم اول مرۃ اور اسی نے پیدا کیا تم کو پہلی مرتبہ والیہ ترجعون اور اسی کی طرف تم لوٹائے جا رہے ہو۔ والیہ ترجعون اور اسی کی طرف تم لوٹائے جا رہے ہو۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ اب دیکھیے بعض مفسرین حضرات لکھتے ہیں کہ ولیہ ترجعون تک یہ سارا انہی کا کلام چل رہا ہے، وہ ان کے وہ جو اعضاء جواب میں کہیں گے بھئی، یہ انہی کی بات ہے وہی کہہ رہے ہیں یہ ساری بات کہ ہمیں اللہ نے بولنے کی طاقت دی، وہ اللہ جس نے بولنے کی طاقت دی ہے ہر چیز کو، یہاں یوں کہیں ہمیں گویائی دی ہے اس اللہ نے جس نے گویائی عطا فرمائی ہے ہر چیز کو وھو خلقکم اول مرۃ اور اسی نے پیدا کیا تم کو پہلی مرتبہ والیہ ترجعون اور اسی کی طرف تم لوٹائے جا رہے ہو۔ تو بعض مفسرین حضرات کیا فرماتے ہیں؟ یہ سارا انہی کا کلام ہے۔ جبکہ بعض نے لکھا کہ کل شیء یہاں پر آ کر ان کی بات ختم ہو گئی، آگے وھو خلقکم اول مرۃ والیہ ترجعون یہ اللہ کا کلام ہے۔ یہ کیا ہے؟ یہ اللہ کا کلام ہے۔ اللہ فرما رہے ہیں وھو خلقکم اول مرۃ اور اسی نے پیدا کیا تم کو پہلی مرتبہ والیہ ترجعون اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ اگر ان کا کلام رکھیں تو پھر الیہ ترجعون کا میں نے کیا معنی کیا؟ لوٹائے جا رہے ہو۔ یہ حشر میں کلام کریں گے نا میدان حشر میں تو اسی حال کا صیغہ بنائیں اس وقت کا۔ اسی وقت تم لوٹائے جا رہے ہو اور اگر یہ اللہ کا کلام ہو تو یہ دنیا والوں کو خطاب کر کے کہا جا رہا ہے اور ترجمہ پھر کیا ہوگا؟ اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ وما کنتم تستترون وما کنتم اور نہیں تھے تم تستترون کہ چھپ سکتے۔ نہیں تھے تم کہ چھپ سکتے یا نہیں تھے تم کہ چھپ جاتے ان يشھد علیکم اس بات سے کہ گواہی دیں تمہارے خلاف سمعکم تمہارے کان ولا ابصارکم اور تمہاری آنکھیں ولا جلودکم اور تمہاری کھالیں اور تمہاری کھالیں۔ وما کنتم تستترون اور تم اس بات سے تو چھپ ہی نہیں سکتے تھے کہ ان يشھد علیکم سمعکم یہ کہ گواہی دیں تمہارے خلاف تمہارے تمہارے کان ولا ابصارکم اور نہ تمہاری آنکھیں ولا جلودکم اور نہ تمہاری کھالیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہ اور چیزوں سے اس سے تو تم گناہ کرتے ہوئے چھپ جاتے تھے اور سوچتے تھے کہ ہمیں کوئی نہیں دیکھ رہا، کسی کو پتہ ہی نہیں ہمارے اس گناہ کا، لیکن یہ نہیں جانتے کہ اللہ دیکھنے والے ہیں اور تمہارے یہی اعضاء تمہارے خلاف گواہی دینے والے ہیں اور ان سے تو تم اگر چھپنا چاہتے بھی، چھپ کر بھی جرم کرنا چاہتے تو یہ ممکن ہی نہیں تھا، ان سے تو تم چھپ ہی نہیں سکتے تھے۔ ولاکن ظننتم لیکن تم نے گمان کیا ان اللہ لا یعلم کثیرم مما تعملون کہ اللہ تعالی نہیں جانتے کثیرا بہت سا مما تعملون وہ جو تم کرتے ہو۔ بہت سے وہ اعمال جو تم کرتے ہو تمہارا تم نے تمہارا یہ گمان تھا کہ بےشک اللہ نہیں جانتے بہت سے تمہارے اعمال کو۔ اللہ تمہارے بہت سے اعمال کو جانتے ہی نہیں، تمہارا یہ گمان تھا۔ وما کنتم تستترون ان يشھد علیکم سمعکم ولا ابصارکم ولا جلودکم اور اس بات سے تو تم چھپ ہی نہیں سکتے تھے کہ گواہی دیں تمہارے خلاف تمہارے کان ولا ابصارکم اور نہ تمہاری آنکھیں ولا جلودکم اور نہ تمہاری کھالیں ولاکن ظننتم لیکن تم نے یہ گمان کیا کہ ان اللہ لا یعلم کثیرم مما تعملون کہ اللہ نہیں جانتے تمہارے بہت سے اعمال کو۔ وذلك ظنكم الذي ظننتم بربكم ارداكم اور یہ تمہارا وہ گمان جو تم کرتے تھے اپنے پروردگار کے بارے میں ارداكم اس نے تمہیں تباہ کیا۔ اس نے تمہیں برباد کیا۔ فاصبحتم من الخاسرین پس ہو گئے تم من الخاسرین خسارہ اٹھانے والوں میں سے، نقصان اٹھانے والوں میں سے۔ وذلك ظنكم الذي ظننتم بربكم ارداكم ترکیب یاد رکھیے بھئی۔ وذلك یہ مبتدا ہے بھئی۔ ظنكم یہ اس سے بدل ہے بھئی بدل۔ یہ اس کی خبر نہیں ہے بلکہ یہ اس سے بدل ہے۔ الذي یہ صفت ہے اس بدل ظنكم کی بھئی۔ اور ارداكم یہ خبر ہے بھئی۔ اس نے ذلك ارداكم اس نے تمہیں تباہ کیا۔ کس نے؟ یہ جو تم گمان کرتے تھے اپنے پروردگار کے بارے میں کہ اس کو تو ہمارے اعمال کا پتہ ہی نہیں ہے، کوئی بھی ہمیں اس وقت دیکھنے والا نہیں ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ وذلك ظنكم الذي ظننتم بربكم ارداكم اور یہ تمہارا وہ گمان جو تم کرتے تھے اپنے پروردگار کے بارے میں اسی نے تم کو تباہ کیا، اسی نے تم کو ہلاک کیا، ارد ا یوردی کے معنی ہلاک کرنے، تباہ کرنا، برباد کرنا۔ ارداكم اسی نے تم کو تباہ کیا فاصبحتم من الخاسرین پس ہو گئے تم نقصان اٹھانے والوں میں سے۔ فان يصبروا فالنار مثوى لهم پس اگر یہ صبر بھی کریں فان يصبروا فالنار مثوى لهم تو آگ ہی ان کا ٹھکانہ ہے۔ مثوى ٹھکانہ بھئی۔ فان يصبروا پس اگر یہ صبر کریں فان يصبروا فالنار مثوى لهم تو بھی آگ ان کا ٹھکانہ ہے، تب بھی آگ ان کا ٹھکانہ ہے۔ وان يستعتبوا فما هم من المعتبين وان يستعتبوا استعتب سين طلب کے لیے ہے۔ اور یہ عتبی سے ہے عتبہ۔ عتبہ کے معنی رضامندی، خشنودی۔ عتبہ کے کیا معنی؟ رضامندی اور خشنودی۔ تو استعتب کا کیا معنی ہوا؟ رضامندی کو طلب کرنا، رضامندی کو چاہنا، خشنودی کو چاہنا اور مراد ہے اللہ کی خشنودی، اللہ کی رضامندی۔ وان يستعتبوا اور اگر یہ خشنودی کو طلب کریں، رضامندی کو طلب کریں، کس کی رضامندی؟ اللہ کی۔ فما هم من المعتبين پس نہیں ہیں یہ ان میں سے جن کی خشنودی یا منانے کو قبول کیا جائے۔ جن کے منانے کو قبول کیا جائے بھئی۔ معتبین۔ اعتب یعتب کے معنی ہوتے ہیں دوسرے کی ناراضگی کو دور کرنا۔ دوسرے کی ناراضگی اور خفگی کو دور کرنا۔ (یعنی اس کو راضی کر لینا، یعنی اس کو راضی کر لینا) فما هم من المعتبين پس نہیں ہیں یہ ان میں سے جو معتبین ہیں، جن کے راضی کرنے کو قبول کر لیا جائے، جن کے منانے کو قبول کر لیا جائے بھئی، کہ ان سے راضی ہو جائے۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ فان يصبروا فالنار مثوى لهم پس اگر یہ صبر کریں تو تب بھی آگ ان کا ٹھکانہ ہے وان يستعتبوا اور اگر یہ رضامندی چاہیں تو بھی فما هم من المعتبين یہ نہیں ہیں ان میں سے کہ ان کے راضی کرنے کو قبول کیا جائے۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا؟ یا اور دوسرا ترجمہ اور واضح کر لیں بھئی۔ وان يستعتبوا اور اگر یہ معذرت کرنا چاہیں تو فما هم من المعتبين تو نہیں ہیں یہ ان میں سے جن کی معذرت کو قبول کیا جائے۔ اگر یہ معذرت کرنا چاہیں تو بھی یہ ان میں سے نہیں ہیں جن کی معذرت کو قبول کیا جائے اور ان سے راضی ہوا جائے۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ فان يصبروا فالنار مثوى لهم پس اگر یہ صبر کریں تب بھی آگ ان کا ٹھکانہ ہے وان يستعتبوا فما هم من المعتبين اور اگر یہ معذرت کریں تو بھی یہ نہیں ہیں ان میں سے کہ جن کی معذرت قبول کی جائے۔ وقیضنا لہم قرناء قینزا کے معنی مقرر کرنے کے۔ مقرر کرنا۔ وقیضنا لہم قرناء اور مقرر کر دیے ہم نے ان کے لیے قرناءا۔ قرناءا جمع ہے قرین کی۔ قرین کہتے ہیں ساتھی بھئی، ساتھ رہنے والا۔ اللہ فرما رہے ہیں وقیضنا لہم قرنا اور ہم نے مقرر کر دیے تھے ان کے ساتھ ان کے ساتھی۔ ہم نے ان کے ساتھ کچھ ساتھ رہنے والے مقرر کر دیے تھے۔ وقیضنا لہم قرنا اور ہم نے مقرر کر دیے تھے ان کے ساتھ کچھ ساتھی، ان کے ساتھ کچھ ساتھی مقرر کر دیے تھے۔ مراد شیاطین ہیں بھئی۔ کیا مراد ہیں؟ شیاطین مراد ہیں کہ دنیا میں ہم نے ان کے ساتھ کچھ ساتھی مقرر کر دیے تھے یعنی شیاطین جو ان کو ان کے برے اعمال خوشنما کر کے دکھاتے تھے۔ اور یہ جو ان کے ساتھ یاد رکھیے جو شیاطین مقرر کیے گئے، یہ بھی ان کے اپنے اعمال کا نتیجہ تھا بھئی۔ کس کا نتیجہ تھا؟ اپنے اعمال کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے خود ہی برے راستے کو اختیار کیا، برے راستے پر چلے توحید کا انکار کیا تو اللہ نے بھی ان کے ساتھ شیاطین مقرر فرما دیے جو ان کو ہر غلط بات مزین کر کے، خوشنما کر کے دکھاتے تھے۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ وقیضنا لہم قرنا اور ہم نے مقرر کر دیے ان کے ساتھ کچھ ساتھی فزینوا لہم پس انہوں نے مزین کیا، خوشنما بنایا ان کے لیے ما بین یدیہم وہ جو ان کے سامنے تھا وما خلفہم اور وہ جو ان کے پیچھے تھا۔ انہوں نے ان کے سامنے کے اعمال اور پیچھے کے اعمال ان کو ان کے لیے خوشنما بنایا، خوشنما کر کے دکھایا۔ فزینولہم پس انہوں نے مزین کیا ان کے لیے ما بین ایدیم وما خلفہم وہ عمل جو ان کے سامنے تھے اور جو پیچھے سامنے تھے یعنی جو ابھی کرنے والے تھے جن کا ان کا ارادہ تھا۔ وما خلفہم اور جو پیچھے کیے جو کر دیے ماضی میں بھئی وہ ان کو ان کے سارے عمل جو کر چکے تھے یا جو کرنے والے تھے وہ سب کیا کیے وہ مزین کر کے ان کو دکھاتے، خوشنما بنا کر۔ پس فزینولہم ما بین ایدیم پس انہوں نے مزین کیا ان کے لیے ان کے آگے کے جو عمل تھے اور ان کے پیچھے کے جو عمل تھے۔ وحق علیہم القول فی امم قد خلت من قبلھم من الجن والانس وحق علیہم القول اور ثابت ہو گئی ان پر وہ بات ثابت ہو گئی ان پر وہ بات وہ جو اللہ نے فرمایا تھا لاملئن جھننم من الجنۃ والناس اجمعین۔ وحق علیہم القول اور ثابت ہو گیا ان پر وہ قول فی امم جماعتوں میں سے قد خلت من قبلھم جو گزری ان سے پہلے من الجن والانس جن اور انسانوں میں سے۔ وحق علیہم القول اور برحق ہو گیا ان پر وہ قول فی امم امم جمع ہے امت کی جماعتوں میں سے قد خلت من قبلھم جو گزری ان سے پہلے من الجن والانس جنات اور انسانوں میں سے۔ اللہ فرما رہے ہیں کہ ہم نے ان کے ساتھ رہنے والے کچھ مقرر کر دیے جنہوں نے ان کے لیے ان کے آگے کے اور پیچھے کے عمل مزین کر کے دکھائے اور ان پر وہ قول وہ ہماری وہ بات ثابت ہو گئی ان جماعتوں میں سے امم ان جماعتوں میں سے، ان امتوں میں سے جو اس سے پہلے گزر چکی تھیں انسان اور جنات میں سے۔ یعنی انسانوں اور جنات میں سے جو امتیں پہلے گزر چکی تھیں اور ان پر یہ بات ثابت ہو چکی تھی لاملئن جھننم من الجنۃ والناس اجمعین۔ وہ جماعتیں انسان اور جنات میں سے جو پہلے گزر چکے اور ان پر یہ بات ثابت ہو چکی انہی میں سے ان پر بھی یہ بات وہ ثابت ہو گئی بھئی جو بات ان پر ثابت ہوئی تھی وہ ان پر بھی ثابت ہو گئی. وحق علیہم القول فی امم قد خلت من قبلھم من الجن والانس اور ثابت ہو گئی ان پر وہ بات امت جماعتوں میں سے جو گزر چکی تھیں ان سے پہلے جن اور انس میں سے. ان جماعتوں میں سے ان پر بھی بات ثابت ہو گئی جو اس سے پہلے گزر چکی تھیں جن و انس میں سے. انھم کانو خاسرین یقینا وہ نقصان اٹھانے والے تھے. وقال الذین کفروا لا تسمعوا لھذا القرآن اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا لا تسمعوا لھذا القرآن کہ نہ سنو تم اس قرآن کو. قرآن کی تاثیر بہت زیادہ تھی بھئی تو کفار اور مشرکین نے آپس میں کیا مشورہ کیا کہ جو قرآن سنتا ہے وہ تو ہمیں چھوڑ کر ان مومنین ہی کے ساتھ جا ملتا ہے تو آپس میں مشورہ کیا کہ قرآن اگر جس وقت یہ پیغمبر قرآن سنائے تو سنو ہی نہ اس کو. وقال الذین کفروا لا تسمعوا لھذا القرآن اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا کہ نہ سنو اس قرآن کو والغ فیہ اور اس میں شور مچاؤ. والغ فیہ اور اس میں شور مچاؤ، غل مچاؤ. لغا یلغو کے معنی ہوتے ہیں بیہودہ کلام کرنا، بیکار بات کرنا تو اس میں بیکار باتیں کرو یعنی خوب شور مچاؤ. لعلکم تغلبون تاکہ تم غالب رہو تاکہ تم غالب رہو یا شاید کہ تم غالب رہو. اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا لا تسمعوا لھذا القرآن کہ اس قرآن کو نہ سنو والغ فیہ اور اس میں شور مچاؤ. باظن بھئی لغا یلغو کا کیا معنی ہوتے ہیں بیہودہ کلام کرنا چنانچہ اسی لیے بعض نے ترجمہ کیا والغ فیہ اور اس میں بک بک کرو. لعلکم تغلبون شاید کہ تم غالب رہو. فلنذیقن الذین کفروا عذابا شدیدا پس البتہ ہم ضرور چکھائیں گے ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا عذابا شدیدا سخت عذاب ولنجزینھم اور البتہ ہم ضرور بدلہ دیں گے اسوا الذی کانوا یعملون وہ بدترین عمل جو وہ کیا کرتے تھے اور البتہ ہم ضرور بدلہ دیں گے اسوا الذی کانوا یعملون وہ بدترین عمل جو وہ کیا کرتے تھے. وہ برے سے برے عمل جو کرتے تھے ہم ان کا بدلہ ہم ان کا بدلہ ان سب کا بدلہ ضرور بالضرور دیں گے. معنی سمجھ میں آیا بھئی ذالک جزاء اعداء اللہ النار یہ بدلہ ہے اللہ کے دشمنوں کا النار یعنی کہ آگ النار یہ بدل ہے یہ بدل ہے جزا سے بھئی یہ کس سے بدل ہے جزا سے ذالک جزاء اعداء اللہ یہ بدلہ ہے اللہ کے دشمنوں کا یعنی کہ آگ لھم فیھا دار الخلد ان کے لیے اس آگ میں دار الخلد ہمیشگی کا گھر ہے ہمیشہ رہنے کا گھر ہے لھم فیھا دار الخلد ان کے لیے اس آگ میں ہمیشہ رہنے کا گھر ہے یعنی اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے جزاء بما کانوا بایاتنا یصدون جزاء بطور بدلہ کے جو وہ ہماری آیات کا انکار کرتے تھے. جزاء بطور بدلہ کے یہ مفعول مطلق ہے فعل محذوف کے لیے بھئی یجزو نا جزاء یجزو نا جزاء. تو ان کو بدلہ دیا جائے گا وہ جو ہماری آیات کا انکار کرتے تھے. وقال الذین کفروا ربنا ارنا اللذین أضلانا من الجن والانس نجعلھما تحت اقدامنا لیکونا من الاسفلین اور کہیں گے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ربنا اے ہمارے پروردگار ارنا ارنا ہمیں آپ دکھائیے. ارا یوری دکھانا، دکھانا. وہ کہیں گے ارنا امر ہے امر. وقال الذین کفروا اور کہیں گے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ربنا اے ہمارے پروردگار ارنا اللذین آپ ہمیں دکھائیے وہ دو آپ ہمیں دکھا دیجیے وہ دو أضلانا جن دونوں نے ہمیں گمراہ کیا أضللا تثنیہ کا صیغہ ہے بھئی کہ اے اللہ آپ ہمیں دکھائیے وہ دو جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا من الجن والانس جن اور انس میں سے جن اور انسانوں میں سے. تو یہ من الجن والانس یہ بیان ہے اللذین کا. اے اللہ آپ ہمیں دکھائیے وہ دو، وہ دو کون یعنی جنات اور انسان، جن اور انسان جنہوں نے جن دونوں نے ہمیں گمراہ کیا. جنات سے تو وہی شیاطین مراد ہیں جو ان کے اعمال انہیں خوشنما کر کے دکھاتے تھے اور انسانوں سے مراد وہ انسان جو انہیں برے برے مشورے دیتے اور برے راستے پر ان کے وہ ساتھی جو ان کو چلاتے تھے برے راستے پر بھئی. تو یہ من الجن والانس کس کا بیان ہے اللذین اللذین تثنیہ ہے بھئی تو اس کو اسی کی جگہ پر لے آئیں بھئی با محاورہ ترجمہ کرنے کے لیے اللذین کی جگہ کیا لے آئیں جن اور انس دیکھیے ترجمہ اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں وہ دو جن و انس دکھا دیجیے أضلانا جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا ہمیں وہ جن اور انسان دکھائیے وہ دو جن اور انسان دکھائیے جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا. نجعلھما تحت اقدامنا نجعلھما نجعل یہ مجزوم کیوں ہے بھئی فعل مضارع. یہ فعل مضارع مجزوم کیوں ہے؟ شاباش یہ جواب امر ہے ارنا امر آیا تھا پیچھے اور میں نے بتلایا تھا چھ چیزوں کے بعد اگر فعل مضارع آئے تو وہ مجزوم ہوگا بشرطیکہ اس فعل مضارع پر فا یا واو داخل نہ ہو اور اگر فا یا واو داخل ہو تو وہ منسوب ہوگا اور وہاں ان مقدر ہوگا. نجعلھما تحت اقدامنا ہم تاکہ ہم کر دیں ان کو تحت اقدامنا اپنے پاؤں تلے اپنے قدموں تلے لیکونا تاکہ وہ دونوں ہو جائیں من الاسفلین نیچے والوں میں سے. اے اللہ ہمیں وہ دو جن اور انسان دکھائیے جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تاکہ ہم ان کو اپنے قدموں تلے کر دیں. یعنی اپنوں اپنے پاؤں تلے روند ڈالیں اپنے پاؤں تلے ان کو روند ڈالیں لیکونا من الاسفلین تاکہ وہ دو ہو جائیں من الاسفلین نیچے والوں میں سے. یعنی ذلیلوں میں سے ذلت والوں میں سے. نجعلھما تحت اقدامنا تاکہ ہم ان کو روند ڈالیں اپنے قدموں تلے لیکونا من الاسفلین تاکہ وہ ہو جائیں ذلیلوں میں سے ذلت والوں میں سے. ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا یقینا وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے ثم استقاموا پھر ثابت قدم رہے تتنزّل علیھم الملائکۃ ان پر نازل ہوتے ہیں فرشتے. اللہ تخافو کہ تم خوف نہ کرو تم ڈرو مت ولا تحزنوا اور تم غم نہ کرو تم غمگین نہ ہو وابشرو بالجنّۃ اور تم خوش اور تم خوشخبری قبول کرو بالجنّۃ اس جنت کی. التی کنتم توعدون جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا. اللہ فرما رہے ہیں وہ لوگ جنہوں نے کہا ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر اس پر ثابت قدم رہے ان پر فرشتے اترتے ہیں یعنی موت کے وقت کس وقت. موت کے وقت فرشتے ان پر اترتے ہیں اور ان کو تسلی دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ڈرو مت اور غم نہ کرو اور اس جنت کی خوشخبری قبول کرو جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا تمہیں اب گھبرانے کی ضرورت نہیں دنیا کے غم اور تکلیفیں اور پریشانیاں رہ گئیں آگے اب خوشیاں ہی خوشیاں ہیں جو کبھی بھی ختم ہونے والی نہیں ہیں. معنی سمجھ میں آگیا. ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا بے شک وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے ثم استقاموا پھر ثابت قدم رہے تتنزّل علیھم الملائکۃ ان پر نازل ہوتے ہیں فرشتے اللہ تخافو یہ کہ تم تم ڈرو مت ولا تحزنوا اور غمگین نہ ہو وابشرو بالجنّۃ اور تم خوشخبری قبول کرو اس جنت کی التی کنتم توعدون جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا. نحن اولیائکم فی الحیاد دنیا وفی الآخرة ہم تمہارے دوست ہیں دنیاوی زندگی میں اور اخروی اور آخرت میں. ہم تمہارے دوست تھے دنیاوی زندگی میں وفی الآخرتی اور آخرت میں بھی آخرت میں بھی ہوں گے. ہم تمہارے رفیق تھے یوں کر لیں ترجمہ نحن اولیائکم ہم تمہارے رفیق ہیں فی الحیاۃ دنیا وفی الآخرۃ دنیاوی زندگی میں اور آخرت میں دنیاوی زندگی میں بھی ہم تمہارے رفیق تھے اور آخرت میں بھی ہم تمہارے رفیق ہوں گے دنیا میں بھی ہم تمہارے ساتھ ہوتے تھے تمہاری حفاظت کرتے تھے اور نیکی کی کی طرف تمہیں متوجہ کرتے تھے اور آخرت میں بھی ہم تمہارے ساتھ ہیں ولکم فیھا ما تشتہی أنفسکم اور تمہارے لیے ہوگا فیھا اس جنت میں ما تشتہی أنفسکم جو چاہیں گے تمہارے نفس تمہارے لیے جنت میں وہ ہے جس کو تمہارے نفس چاہتے ہیں یا تمہارے لیے جنت میں وہ ہوگا جس کو تمہارے نفس چاہیں گے جو بھی تمہارے نفس خواہش کریں گے وہ سب کچھ تمہیں جنت میں ملے گا. ولکم فیھا ما تشتہی أنفسکم اور تمہارے لیے اس جنت میں ما وہ ہوگا تشتہی أنفسکم جو تمہارے نفس چاہیں گے اشتہا کا معنی چاہنے کے ولکم فیھا اور تمہارے لیے اس جنت میں وہ ہوگا ما تدعون جو تم مانگو گے. اور تمہارے لیے اس جنت میں وہ ہوگا جو تم مانگو گے یعنی اس جنت میں جو تمہارے جی چاہیں گے اور جو کچھ تم طلب کرو گے وہ سب کچھ تمہیں ملے گا وہ سب کچھ تمہیں ملے گا. سمجھ میں آیا بھئی والد صاحب رحمہ اللہ ترمذی شریف جب پڑھایا کرتے. تو طلبہ سے کہتے تھے کہ مولانا ہم تمہیں یہاں بھی ترمذی پڑھا رہے ہیں ہم تمہیں جنت میں بھی ترمذی پڑھائیں گے. یہ ان کا عام جملہ اکثر طلبہ سے بطور خوش طبعی کے یہ ہمیشہ فرماتے بھئی. کہ ہم تمہیں یہاں بھی ترمذی پڑھا رہے ہیں اور انشاءاللہ جنت میں بھی ہم آپ کو ترمذی پڑھائیں گے. اور پھر بعض اوقات یہ دلیل ذکر کرتے کہ اللہ فرماتے ہیں جو تمہارے جی چاہیں گے اور جس چیز کو مانگو گے وہ تمہیں ملے گا تو ہم اللہ سے دعا کریں گے کہ اے اللہ اسی طرح اولیاء کی جماعت نصیب فرما کہ اسی طرح سے اور دنیا کی طرح میں ان کو پیغمبر کا کلام سناؤں. تو ہم پڑھائیں گے اور آپ پڑھیں گے بھئی جنت میں انشاءاللہ. نزلا من غفور الرحیم بطور مہمان نوازی کے. نزلا یہ حال ہے ما تدعون سے. نزلا بطور مہمان نوازی کے من غفور الرحیم بہت بخشنے والے نہایت رحم کرنے والے کی طرف سے. بطور مہمان نوازی کے یہ یوں کہیں یہ مہمان نوازی ہوگی بخشنے والے رحم کرنے والے کی طرف سے. معنی سمجھ میں آگیا بھئی یہ مہمان نوازی ہوگی بخشنے والے رحم کرنے والے کی طرف سے اور اگر لفظی ترجمہ کرنا چاہتے ہیں ولکم فیھا ما تدعون نزلا من غفور الرحیم اور تمہارے لیے اس جنت میں وہ ہوگا جو تم مانگو گے بطور مہمان نوازی کے بخشنے والے رحم کرنے والے کے. بھئی دنیا کے اندر کسی کے پاس کوئی مہمان آتا ہے تو اس کی بہتر سے بہتر خدمت کی کوشش کرتا ہے اور اچھی سے اچھی چیز اس کو دیتا ہے کہ اس کو ذرہ بھر بھی تکلیف نہ پہنچے بھئی جتنے جس کے پاس اسباب ہوتے ہیں وہ اسی قدر اس کا زیادہ خیال رکھتا ہے. اور یہاں پر اللہ فرما رہے ہیں یہ جنت ہماری طرف سے بطور مہمان نوازی کے ہے اندازہ لگائیے جب یہ جب خالق ارض و سما جو ہیں وہ مہمیزبان ہوں اور آپ سب مہمان ہوں تو کس قدر نعمتوں کی بارش ہوگی وہاں پر آپ تصور نہیں کر سکتے بھئی تصور نہیں کر سکتے. اور دنیا کے اندر مہمان بھئی چند دن رہے تو میزبان تنگ آ جاتے ہیں عموما بھئی. لیکن وہ ارحم الراحمین کی طرف سے مہمان نوازی ہوگی کہ وہاں پر اول دن سے لے کر ابد الاباد تک اسی طرح اکرام ہوتا رہے گا ہمیشہ ہمیشہ پھر اس کے بعد اس میں کوئی کمی یا اختتام نہیں بھئی. چلیے بس بھئی ھادفل مرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام.
88 approved lectures · 79 of 88