اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
الم تر الی الذین نفقوا یقولون لإخوانہم الذین کفروا من أہل الکتاب لئن أخرجتم لنخرجن معكم ولا نطيع فيكم أحدا أبدا وإن قتلتم لننصرنكم والله يشہد إنہم لكاذبون۔
الم تر الی الذین نفقوا کیا آپ نے دیکھا ہے ان لوگوں کو نافقو جو منافق ہوئے یقولون لإخوانہم الذین کفروا وہ کہتے ہیں اپنے ان بھائیوں سے جنہوں نے کفر کیا من أہل الکتاب اہل کتاب میں سے لئن أخرجتم کہ اگر تم نکالے گئے لنخرجن معكم تو البتہ ہم ضرور نکلیں گے تمہارے ساتھ ولا نطيع فيكم أحدا أبدا اور ہم اطاعت نہیں کریں گے تمہارے معاملے میں أحدا کسی کی بھی أبدا کبھی بھی۔
ہم تمہارے معاملے میں کسی کی بھی کبھی بھی اطاعت نہیں کریں گے یعنی کسی کا کہنا نہ مانیں گے تمہارے معاملے میں۔
وإن قتلتم اور اگر تم سے لڑائی کی گئی لنننصرنكم تو البتہ ہم ضرور تمہاری مدد کریں گے واللہ يشہد إنہم لكاذبون اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یقینا وہ البتہ جھوٹے ہیں۔
بھئی گزشتہ سبق کے سبق میں آپ نے پڑھا کہ بنو نضیر والے جو تھے قبیلہ بنو نضیر جو تھا یہود کا ان کو حضور علیہ السلام نے پیغام بھیجا کہ اتنی مدت کے اندر اندر یہاں سے چلے جاؤ ورنہ جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ۔
مدت گزر گئی وہ وہاں سے نہیں گئے۔ کیونکہ ایک تو اپنے قلوں پر اعتماد تھا دوسرا ادھر جو منافقین تھے وہ بھی ان کو پیغام بھجوا رہے تھے درپردہ کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ اگر تمہیں نکالا گیا تو ہم بھی تمہارے ساتھ ہی جائیں گے اور اگر لڑائی ہوئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے بے فکر ہو کر یہیں پر رہو۔
چنانچہ وہ وہیں پر اس وقت تک پھر رہے۔ تو اب یہ یہود کے ذکر کے بعد اب وہ منافقین کا ذکر آیا۔
اللہ فرما رہے ہیں الم تر الی الذین نفقوا کیا آپ نے دیکھا ہے ان کی طرف جو منافق ہوئے یقولون وہ کہتے ہیں لإخوانہم الذین کفروا من أہل الکتاب وہ کہتے ہیں اپنے ان بھائیوں سے جنہوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے لئن أخرجتم لنخرجن معكم اگر تم نکالے گئے تو البتہ ہم ضرور تمہارے ساتھ نکلیں گے ولا نطيع فيكم أحدا أبدا اور ہم کہنا نہیں مانیں گے تمہارے معاملے میں کسی کا کبھی بھی وإن قتلتم لنننصرنكم اور اگر تم سے لڑائی کی گئی تو البتہ ہم ضرور تمہاری مدد کریں گے واللہ يشہد إنہم لكاذبون اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یقینا وہ البتہ جھوٹے ہیں۔
لئن أخرجوا لا يخرجون معہم اگر وہ نکالے گئے تو یہ نہیں نکلیں گے ان کے ساتھ۔
اگر وہ نکالے گئے یہود نکالے گئے تو یہ منافق ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے اور پھر دیکھا سب نے کہ یہود کو نکالا گیا اور منافق ان کے ساتھ نہیں نکلے۔
لئن أخرجوا لا يخرجون معہم اگر وہ یہود نکالے جائیں تو یہ منافق نہ نکلیں ان کے ساتھ ولئن قتلوا لا ينصرونہم اور اگر ان سے لڑائی کی جائے تو یہ ان کی مدد نہ کریں گے ولئن نصرونہم ليوڵن الأدبار اور اگر ان کی مدد کریں گے ليوڵن الأدبار تو پھیر لیں گے پشتیں تو کیا کر لیں گے اگر ان کی مدد کی بھی لڑائی میں آ بھی گئے تو پشت پھیر کر بھاگیں گے بھئی۔
معنی سمجھ میں آرہا ہے بھئی آسان ترجمہ ہے۔
ولئن نصرونہم ليوڵن الأدبار اور اگر یہ مدد کریں گے ان کی ليوڵن الأدبار تو پشتیں تو پھیر لیں گے پشتیں یا بامحاورہ یہ ترجمہ کر لیں ليوڵن الأدبار تو پشتیں پھیر کر بھاگیں گے۔
ثم لا ينصرون پھر ان کی مدد نہیں کی جائے گی پھر ان منافقین کی مدد نہیں کی جائے گی۔
لأنتم أشہد رہبتا في صدورہم من اللہ رہبہ رہبۃ کہتے ہیں خوف کو بھئی خوف ڈر۔
اللہ فرما رہے ہیں مومنین سے لأنتم البتہ تم أشہد رہبتا زیادہ سخت ہو بہ اعتبار خوف کے في صدورہم ان منافقین کے سینوں میں ان کے دلوں میں من اللہ اللہ سے۔
اللہ کے مقابلے میں تمہارا خوف ان کے دلوں میں زیادہ ہے۔
ترجمہ سمجھ میں آرہا ہے بھئی؟
لأنتم أشہد رہبتا اے مومنین تم زیادہ سخت ہو بہ اعتبار خوف کے في صدورہم ان کے دلوں میں ان کے سینوں میں یعنی ان کے دلوں میں من اللہ اللہ کے مقابلے میں یعنی اللہ کے مقابلے میں تمہارا زیادہ خوف ہے ان کے دلوں میں۔
یہ لوگ اللہ سے اتنا نہیں ڈرتے جتنا تم سے ڈرتے ہیں۔
اگر اللہ سے ڈرتے تو کبھی اس طرح کے کام نہ کرتے اللہ تو دکھائی نہیں دیتے مومنین تو ان کو دکھائی دیتے ہیں تو ان کا خوف ان کے دلوں میں بہت زیادہ ہے۔
معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟
جی بامحاورہ یوں ترجمہ کر لیجیے بھئی لأنتم أشہد رہبتا في صدورہم من اللہ البتہ ان کے دلوں میں اللہ سے زیادہ تمہاری دہشت ہے۔
البته ان کے دلوں میں اللہ سے زیادہ تمہاری دہشت ہے ذالک بأنہم قوم لا يفقهون یہ اس وجہ سے کہ یہ کیسے لوگ ہیں لا يفقهون جو سمجھتے نہیں ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے۔
ذالک بأنہم قوم لا يفقهون یہ اس وجہ سے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے۔
مومنین کی دہشت اللہ سے بھی بڑھ کر ہے ان کے دلوں میں یہ اس وجہ سے کہ یہ سمجھ نہیں رکھتے بھئی اصل خوف تو کس کا ہونا چاہیے؟ اللہ کا ہونا چاہیے اللہ کا خوف ان کے دلوں میں نہیں ہے۔
لا يقاتلونکم جميعا لا يقاتلونکم نہیں لڑ سکتے تم سے جميعا یہ سب بھئی اکٹھے ہو کر مل کر۔
لا يقاتلونکم جميعا یہ منافق نہیں لڑ سکتے تم سے جميعا اکٹھے ہو کر إلا في قر محصنة قر جمع ہے قریۃ کی بستیاں محصنة حفاظت والی قلعے والی حصن کس کو کہتے ہیں قلعے کو محصنة قلعے والی یعنی حفاظت والی محفوظ بھئی۔
إلا في قر محصنة مگر حفاظت والی بستیوں میں أو من وراء جدر یا دیواروں کے پیچھے سے یا دیواروں کے پیچھے سے۔
اللہ فرما رہے ہیں یہ ایسے بزدل لوگ ہیں لا يقاتلونکم جميعا یہ تم سے لڑ نہیں سکتے اکٹھے ہو کر إلا في قر محصنة مگر حفاظت والی بستیوں میں أو من وراء جدر یا دیواروں کے پیچھے سے۔
یعنی دیواروں کے پیچھے سے چھپ کر لڑ سکتے ہیں سامنے آ کر کبھی بھی نہیں لڑ سکتے باسہم بينهم شدید باس لڑائی کو کہتے ہیں باسہم ان کی لڑائی جو ہے بينہم آپس میں شدید سخت ہے۔
ان کی آپس کی لڑائی بڑی سخت ہے تحسبہم جميعا تم گمان کرتے ہو ان کو جميعا اکٹھے تم گمان کرتے ہو کہ یہ سب اکٹھے ہیں وقلوبہم شتتا اور ان کے دل متفرق ہیں۔
ان کے دل متفرق ہیں شتتا جمع ہے شتیت کی شتیت بھئی۔
مختلف بھئی۔
شتیت کا کیا معنی مختلف متفرق۔
تحسبہم جميعا وقلوبہم شتتا آپ گمان کرتے ہیں کہ یہ اکٹھے ہیں وقلوبہم شتتا اور ان کے دل متفرق ہیں ان کے دل بکھرے ہوئے ہیں۔
یعنی ان میں ان میں آپس میں وہ محبت اور تعلق نہیں ہے جو مومنین کے دلوں میں اللہ نے ڈال رکھا ہے۔
اور ان کے آپس کے اختلافات بہت سخت ہیں۔
ان کے باسہم بينہم شدید ان کی آپس کی ان کی آپس کی لڑائی بہت سخت ہے یعنی ان کے آپس کے اختلافات بہت سخت ہیں۔
آپ تو ان کو اکٹھا سمجھتے ہیں بظاہر تو یہ اکٹھے دکھائی دیتے ہیں لیکن ان سب کے دل الگ الگ ہیں بھئی۔
ذالک بأنہم قوم لا يعقلون یہ اس وجہ سے کہ یہ ایسی قوم ہیں لا يعقلون جو عقل نہیں رکھتے۔
لا يقاتلونکم جميعا نہیں لڑ سکتے یہ تم سے اکٹھے ہو کر إلا في قر محصنة مگر حفاظت والی بستیوں میں أو من وراء جدر یا دیواروں کے پیچھے سے باسہم بينہم شدید ان کی لڑائی آپس میں سخت ہے تحسبہم جميعا وقلوبہم شتتا تم گمان کرتے ہو ان کو اکٹھے اور ان کے دل بکھرے ہیں ذالک بأنہم قوم لا يعقلون یہ اس وجہ سے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو عقل نہیں رکھتے۔
کمثل الذين من قبلہم قريبا ذابوا وبال أمرہم جیسے کہ کمثل یہ کاف جارہ زايد ہے بھئی یعنی صلہ ہے کیا ہے صلہ ہے کیونکہ کاف کا بھی کیا معنی ہوتا ہے مثل۔
کمثل تو مثل کا لفظ خود بھی آیا اور کاف بھی آیا تو کاف زايد ہے بھئی کمثل الذين من قبلہم قريبا ذابوا وبال أمرہم جیسے کہ مثال ان لوگوں کی من قبلہم ان سے پہلے قريبا نزدیک ہی ذابوا وابل أمرہم چکھا انہوں نے وابل أمرہم اپنے معاملے کا وبال۔
اپنے معاملے کا وبال۔
جیسے کہ مثال ان لوگوں کی جنہوں نے ترجمے پہ نظر رکھیے بھئی۔
جیسے کہ مثال ان لوگوں کی ذابوا وابل أمرہم جنہوں نے اپنے معاملے کا وبال چکھا من قبلہم ان سے پہلے قريبا نزدیک ہی۔
نزدیک تھی بھئی۔
ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟
تو اللہ فرما رہے ہیں کہ جیسے کہ وہ لوگ جنہوں نے اس ان سے پہلے قریب ہی اپنے معاملے کا وبال چکھا۔
اس سے کون مراد ہیں؟
بعضوں نے کہا اہل بدر مراد ہیں کہ اہل بدر کی مثال ان لوگوں کے سامنے تھی جو ان سے کچھ پہلے ہی جنہوں نے اپنے معاملے کا وبال چکھا تھا ان کے بڑے بڑے سردار مارے گئے اور اتنے ہی گرفتار کیے گئے بھئی۔
لیکن دیگر مفسرین تو بعض نے یہ باقاعدہ بدر ذکر کیا لیکن دیگر مفسرین فرماتے ہیں کہ اس سے مراد بنو قینقاع کی طرف اشارہ ہے۔
کس کی طرف اشارہ ہے؟ بنو قینقاع کی طرف اشارہ ہے کہ ان کو بھی یہ بنو قینقاع کو بھی بنو نضیر سے کچھ عرصہ پہلے ہی یہاں سے جلاوطن کیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدہ توڑنے کی وجہ سے انہوں نے حضور علیہ السلام سے کی مخالفت کی تھی ان کی دشمنی ٹھان لی تھی تو پھر ان کو یہاں سے جلاوطن ہونا پڑا تو ان کی مثال ان لوگوں کے سامنے ہے۔
کمثل الذين من قبلہم قريبا ذابوا وبال أمرہم جیسے کہ مثال ان لوگوں کی ان سے پہلے قریب ہی چکھا انہوں نے اپنے معاملے کا وبال ولہم عذاب أليم اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
کمثل الشیطان إذ قال للإنسان جیسے کہ شیطان جب کہا اس نے جب وہ کہتا ہے انسان سے اکفر کافر ہو جا۔
کمثل الشیطان جیسے کہ شیطان إذ قال للإنسان جب وہ کہتا ہے انسان سے اکفر کافر ہو جا فلما كفر جب وہ کافر ہو جاتا ہے قال إني بريء منك کہ بے شک میں بیزار ہوں تجھ سے میں بری ہوں تجھ سے یعنی میرا تجھ سے کوئی واسطہ نہیں۔
معنی سمجھ میں آیا بھئی کہ بے شک میں بیزار ہوں تجھ سے میں بری ہوں تجھ سے یا یہ ترجمہ کر لیں میرا تجھ سے کوئی واسطہ نہیں إني أخاف اللہ رب العالمين بے شک مجھے خوف ہے اللہ کا جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
شیطان پہلے تو کیا کرتا ہے؟ لوگوں کو لوگوں کو بہکاتا ہے کہ کافر ہو جاؤ کفر کی طرف دعوت دیتا ہے اور جب لوگ کفر پر آ جاتے ہیں تو اس کے بعد پھر کہتے ان سے الگ ہو جاتا ہے اور کہتا ہے مجھے اللہ کا خوف ہے تو ان کا پیچھے رہنا بھی اسی طرح ہے ان منافقین نے کیا کیا تھا؟
یہودیوں کو بہکایا اور ان کو شہ دی کہ تم ڈٹے رہو ہم تمہاری مدد کو آرہے ہیں فکر نہ کرنا ڈرنا نہیں اور جب مسلمان ان پر حملہ آور ہوئے تو پھر منافق الگ ہی رہے اور اسی طرح رہے جیسے شیطان کہتا ہے کہ میرا تم سے کوئی واسطہ نہیں بھئی۔
کمثل الشیطان جیسے کہ شیطان إذ قال للإنسان جب وہ کہتا ہے انسان سے اکفر کافر ہو جا فلما كفر پس جب
تو کافر ہو جاتا ہے قال انی بری منک تو وہ کہتا ہے کہ بے شک میں تجھ سے میرا تجھ سے کوئی واسطہ نہیں انی اخاف اللہ رب العالمین بے شک مجھے خوف ہے اللہ کا جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ فکان عاقبتہما انھما فی النار خالدین فیھا پس ان دونوں کا انجام جو ہے یہ دونوں جو ہیں اگ میں ہوں گے خالدین فیھا ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ ان دونوں کا انجام بھئی۔
یہ دونوں کس میں ہوں گے؟ بہکانے والے بھی اور جن کو بہکایا گیا یہ دونوں جہ- جہ- اگ میں ہوں گے ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ وذلک جزا الظالمین اور یہی جزا ہے ظلم کرنے والوں کی۔
یا ایھا الذین امنوا اتقوا اللہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو۔ ولتنظر نفس ما قدمت لغد اور چاہیے کہ دیکھے ولتنظر اور چاہیے کہ دیکھے نفسون کوئی بھی نفس۔ کوئی نفس ما قدمت لغدین کیا اس نے آگے بھیجا ہے کل کے لیے؟ غد کس کو کہتے ہیں؟ کل کو آنے والا کل بھئی۔ ولتنظر نفس ما قدمت لغد اور چاہیے کہ دیکھے کوئی جان۔
کہ اس نے کیا بھیجا ہے کل کے لیے؟ یعنی اس نے کیا تیاری کی ہے آخرت کی آگے کی طرف کیا اعمال اس نے بھیجے ہیں۔
واتقوا اللہ اور اللہ سے ڈرو ان اللہ خبیر بما تعملون یقینا اللہ باخبر ہیں اس سے جو تم عمل کرتے ہو۔
جی ترجمہ دیکھیے بھئی یا ایھا الذین امنوا اتقوا اللہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو۔ ولتنظر نفس ما قدمت لغد اور چاہیے کہ دیکھے ہر نفس کے اور اور چاہیے کہ دیکھے ہر نفس جو اس نے بھیجا ہے کل کے لیے۔ واتقوا اللہ اور اللہ سے ڈرو۔
ان اللہ خبیر بما تعملون یقینا اللہ باخبر ہیں جو تم عمل کرتے ہو۔ ولا تکونوا كالذین نسوا اللہ اور نہ ہو جاؤ ان لوگوں کی طرح نسوا اللہ جنہوں نے بھلا دیا اللہ کو۔ فانساھم پس اللہ نے ان کو بھلا دیا انفسھم ان کی جانیں۔ اللہ نے انہیں ان کی جانیں بھلا دیں وہ لوگ جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا اللہ نے ان کی جانیں ان سے بھلا دیں۔ اللہ کو جنہوں نے بھلا دیا یعنی جو اللہ کے احکام کی پرواہ نہیں کرتے، اللہ سے نہیں ڈرتے تو گویا انہوں نے اللہ کو بھلا دیا۔ اور جس نے اللہ کو بھلا دیا اللہ نے ان سے اپنی جانوں کو بھلوا دیا۔ کیا معنی اپنی جانوں کو بھلا دیا؟۔
یعنی وہ غور ہی نہیں کرتے کہ کن چیزوں میں ہم پڑے ہوئے ہیں جو ہماری تباہی اور بربادی کی طرف ہمیں لے کر جا رہی ہیں۔ وہ تو گویا اپنے نفسوں کو وہ بھولے بیٹھے ہیں بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟۔ کہ ان کو ان کے دلوں سے خوف ختم ہے کہ ہم کیا عمل کر رہے ہیں اس کا ہمیں کیا نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔
ولا تکونوا كالذین نسوا اللہ اور نہ ہو جاؤ ان لوگوں کی طرح جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا فانساھم انفسھم پس پس اللہ نے بھلا دیا ان کو اللہ نے بھلا دیں ان سے ان کی جانیں اولئک ھم الفاسقون یہی لوگ نافرمان ہیں۔ لا یستوی اصحاب النار و اصحاب الجنة برابر نہیں ہو سکتے دوزخ والے اور جنت والے۔ اصحاب الجنة ھم الفائزون جنت والے ہی کامیاب ہیں۔ جنت ہی جنت والے ہی کامیاب ہیں کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔ لو انزلنا ھذا القرآن علی جبل اگر ہم نازل کرتے اس قرآن کو علی جبل کسی پہاڑ پر لرايتہ تو البتہ آپ اس کو دیکھتے خاشعا۔
دبا ہوا ہے جھکا جا رہا ہے متصدعا۔ پھٹا پڑتا ہے پھٹا جا رہا ہے ٹکڑے ٹکڑے ہو رہا ہے من خشية اللہ اللہ کے خوف سے اللہ کے ڈر سے۔
اللہ فرما رہے ہیں کہ یہ قرآن یہ اتنی عظیم کتاب ہے۔ انسانوں پر تو اس کا اثر نہیں ہوتا وہ اس کی پرواہ نہیں کرتے صرف ضد میں آکر ورنہ یہ اتنی عظیم کتاب ہے کہ اگر ہم اس کو پہاڑ جیسی عظیم چیز پر بھی اتارتے۔ اور وہ اس کو سمجھتا تو وہ اس کلام کی عظمت کی وجہ سے جھک جاتا اور پھٹ پڑتا ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا بھئی معنی سمجھ میں آ گیا بھئی۔
لو انزلنا ھذا القرآن علی جبل لرايتہ خاشعا متصدعا من خشية اللہ اگر ہم اتارتے اس قرآن کو کسی پہاڑ پر تو البتہ آپ دیکھتے کہ وہ جھکا جا رہا ہے پھٹا پڑتا ہے من خشية اللہ اللہ کے خوف سے۔
جھکا جا رہا ہے متصدعا پھٹا جا رہا ہے یا ٹکڑے ہو رہا ہے۔
من خشية اللہ اللہ کے خوف سے وتلك الامثال نضربھا للناس لعلھم يتفکرون اور یہ مثالیں ہیں ہم بیان کرتے ہیں ان کو نضربھا ہم ان کو بیان کرتے ہیں۔ وتلك الامثال نضربھا للناس اور یہ مثالیں کہ بیان کرتے ہیں ہم ان کو لوگوں کے لیے لعلھم يتفکرون تاکہ وہ غور و فکر کریں۔
واللہ الذی لا الہ الا ھو پہلے تو کلام کی عظمت بیان ہوئی کہ یہ اتنا عظیم کلام ہے اگر پہاڑ پر بھی اترتا تو پہاڑ بھی اس کے عظمت کی وجہ سے پھٹ پڑتا۔
اب متکلم کی عظمت کا بیان ہے بھئی واللہ الذی لا الہ الا ھو۔
وہ وہ اللہ وہی ہے کہ اس کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
واللہ الذی وہ اللہ الذی لا الہ الا ھو کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
وہی اللہ ہے ترجمہ بھئی دیکھیے واللہ الذی وہی اللہ ہے الذی لا الہ الا ھو جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
عالم الغیب والشھادۃ جاننے والا ہے پوشیدہ کو والشھادۃ اور حاضر کو۔ وہ جاننے والا ہے پوشیدہ اور حاضر کو۔ ھو الرحمن الرحیم وہ۔
نہایت مہربان ہے رحم کرنے والا ہے ہو اللہ الذی لا الہ الا ھو وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں الملک جو بادشاہ ہے القدوس جو پاک ہے السلام۔
سالم ہے ہر عیب سے السلام سالم ہے ہر عیب سے یا بازو نے یہ ترجمہ کیا السلام السلام سلامتی دینے والا ہے۔
القدوس کا کیا معنی؟ بہت پاک۔ السلام سلامتی والا ہر عیب سے المومن امن دینے والا۔ المھیمن پناہ میں لینے والا یا نگہبان۔
المھیمن کا کیا معنی؟ پناہ میں لینے والا یا کیا معنی؟ نگہبان یعنی حفاظت کرنے والا العزیز زبردست الجبار۔
جبر کرنے والا یا یہ ترجمہ کر لیں الجبارو ہر خرابی کو دور کرنے والا جبر کا کیا معنی ہوتا ہے خرابی کو دور۔ الجبار خرابی کو دور کرنے والا المتکبر۔
صاحب عظمت عظمت والا بڑی عظمت والا المتکبر بڑی عظمت والا۔
سبحان اللہ عما يشركون پاک ہے اللہ عما اس چیز سے يشركون جو وہ شرک کرتے ہیں۔ جس سے اسے اللہ کا شریک بناتے ہیں۔
ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی۔
واللہ الذی لا الہ الا ھو وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں عالم الغیب والشھادۃ جاننے والا ہے پوشیدہ کو یا یوں ترجمہ کریں عالم الغیب والشھادۃ جاننے والا ہے چھپے ہوئے کو والشھادۃ اور حاضر کو ھو الرحمن الرحیم وہ نہایت رحم کرنے والا ہے۔
و هو الرحمن الرحيمو وہ نہایت مہربان ہے نہایت رحم کرنے والا ہے۔
بعضوں نے یہ ترجمہ کیا و الرحمن الرحيمو وہ مہربان ہے الرحمن بہت مہربان ہے۔
واللہ الذی لا الہ الا ھو وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں الملک جو بادشاہ ہے القدوس جو پاک ہے السلام۔
سالم ہے ہر عیب سے یا دوسرا معنی سلامتی دینے والا ہے المومن امن دینے والا ہے المھیمن پناہ میں لینے والا ہے یا دوسرا معنی نگہبان ہے العزیز زبردست ہے الجبارو۔
جبر کرنے والا یا کیا معنی کر لیں۔
خرابی کو دور کرنے والا ہر خرابی کو دور کرنے والا المتکبر عظمت والا بڑی عظمت والا سبحان اللہ عما يشركون پاک ہے اللہ اس شرک سے جو لوگ کرتے ہیں۔ واللہ الخالق الباری المصور لہ الاسماء الحسنی۔
وہی اللہ ہے الخالق پیدا کرنے والا الباری ٹھیک ٹھیک بنانے والا۔
خالق پیدا کرنے والا الباری ٹھیک ٹھیک بنانے والا المصور صورت بنانے والا۔ لہ الاسماء الحسنی اسی کے لیے ہیں الاسماء الحسنی اچھے اچھے نام۔ لہ الاسماء الحسنی اس کے اچھے اچھے نام ہیں۔
يسبح لہ ما في السماوات والارض تسبح بیان کرتی ہے اس کے لیے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں وھو العزیز الحکم۔
اور وہ اور وہ زبردست ہے حکمت والا ہے۔ وھو العزیز الحکيم وہ زبردست ہے حکمت والا ہے۔
واللہ الخالق الباری المصور لہ الاسماء الحسنی وہ اللہ پیدا کرنے والا ہے ٹھیک ٹھیک بنانے والا ہے صورت بنانے والا ہے لہ الاسماء الحسنی اس کے اچھے اچھے نام ہیں يسبح لہ ما في السماوات والارض تسبح بیان کرتے ہیں اسی کی جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں وھو العزیز الحکيم و اور وہ زبردست ہے حکمت والا ہے۔
یاد رکھیے یہ جو آخری تین آیتیں ہیں۔
آخری تین آیتیں بھئی۔
و اللہ الذی لا الہ الا ھو عالم الغیب والشھادۃ و الرحمن الرحیم۔
احادیث میں ان کی بڑی فضیلت آئی ہے ان تین آیتوں کی بھئی بڑی فضیلت آئی ہے۔
روایات میں آتا ہے کہ جو شخص تین مرتبہ یوں کہے اعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم۔
اعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم اعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم اور اس کے بعد پھر یہ تین آیتیں پڑھ لے۔
اگر صبح کے وقت پڑھ لے تو شام تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں۔
اور شام کو پڑھ لے تو صبح تک اس کے لیے ستر ہزار فرشتے دعا کرتے رہتے ہیں اور اس دن جس دن پڑا ہے اس دن یا اس رات اس کی موت آجائے تو اسے شہید کا درجہ ملتا ہے بھئی شہید کا درجہ۔
کتنی عظمت فضیلت ہے اندازہ لگائیے بھئی مختصر سی تین آ اعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم تین دفعہ پڑھا جائے اور پھر یہ تین آیتیں پڑھ لی جائیں تو ستر ہزار فرشتے صبح سے شام تک اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں اور اس دن اگر اس کو کی موت آجائے تو شہادت جتنا عظیم مقام و مرتبہ اسے ملتا ہے شہید کے ہر مسلمان کی اس اس مقام کو حاصل کرنے کی تمنا کرتا ہے اور کتنا آسان طریقہ اس کا بتلا دیا گیا کہ اگر یہ آیتیں اور یہ دعا اس طریقے سے پڑھو گے تو اگر اس دن موت آگئی تو شہادت کا مرتبہ ملے گا بھئی۔
تو آپ سب بھی پڑھ لیجیے بھئی۔
اعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم اعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم اعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم واللہ الذی لا الہ الا ھو عالم الغیب والشھادۃ و الرحمن الرحیم واللہ الذی لا الہ الا ھو الملک القدوس السلام المومن المھیمن العزیز الجبار المتکبر سبحان اللہ عما يشركون واللہ الخالق الباری المصور لہ الاسماء الحسنی يسبح لہ ما في السماوات والارض وھو العزیز الحکيم۔ صدق اللہ العظیم۔
سمجھ میں آیا بھئی یہ کتنی عظیم فضیلت بیان ہوئی ان کو اپنا معمول بنائیں ہمیشہ کے لیے اپنا معمول بنائیں بھئی بہت بڑی فضیلت ہے بہت بڑی بھئی۔
چلیے بس بھئی ھذا واللہ اعلم بحقیقت الکلام۔