Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-086

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 12 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم حم عسق کذلك یوحی الیک والی الذین من قبلک الله العزیز الحکیم له ما فی السماوات وما فی الارض وهو العلی العظیم تکاد السماوات یتفطرن من فوقهن والملائکة یسبحون بحمد ربهم ویستغفرون لمن فی الارض الا ان الله هو الغفور الرحیم آج سورہ شوری کی ابتدا ہوگی اور اس سورت کے اندر مسلمانوں کی یہ خصوصیت ذکر کی گئی ہے کہ وہ ہر کام آپس کے مشورے سے کرتے ہیں اور مشورے کے لیے عربی میں شوریٰ کا لفظ استعمال ہوتا ہے تو چونکہ اس کا آگے ذکر ہے سورت میں اس لیے اس کو سورۃ الشوریٰ کہتے ہیں بھئی اور یہ حوامیم کے حوامیم میں سے تیسری سورت ہے بھئی حوامیم میں سے یہ تیسری سورت ہے وہ سورتیں جن کی ابتدا حامیم سے ہو رہی ہے حامیم عین سین قاف یہ حروف مقطعات میں سے ہیں اور اس کا معنی اللہ اور اس کے رسول ہی جانتے ہیں ان کو حروف مقطعات کیوں کہتے ہیں میں وجہ پہلے بیان کر چکا مقطع کاٹے گئے جدا کیے گئے چونکہ یہ حروف بھی ایک دوسرے سے جدا جدا کر کے پڑھے جاتے ہیں حا میم عین سین قاف ہر ایک کو جدا جدا پڑھا جاتا ہے اس لیے ان کو حروف مقطعات کہا جاتا ہے کذلك یوحی الیک اور اسی طرح وحی بھیجتا ہے آپ کی طرف والی الذین من قبلک اور ان کی طرف جو آپ سے پہلے ہوئے الله العزیز الحکیم وہ اللہ جو زبردست ہے حکمت والے ہیں لفظ اللہ یہ فاعل ہے یوحی کے لیے وحی بھیجتے ہیں کون بھیجتے ہیں اللہ العزیز الحکیم یہ صفات ہیں بھئی کذلك یوحی الیک اسی طرح آپ کی طرف اور آپ کی طرف اور وہ جو آپ سے پہلے ہوئے ہیں یعنی وہ انبیاء جو آپ سے پہلے گزرے ہیں ان کی طرف اللہ وہی بھیجتے ہیں جو زبردست ہیں حکمت والے ہیں له ما فی السماوات وما فی الارض اسی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں وهو العلی العظیم اور وہ اور وہ سب سے بلند سب سے بڑے ہیں اور وہ اللہ سب سے بلند سب سے بڑا ہے تکاد السماوات یتفطرن من فوقهن تکاد قریب ہے السماوات یتفطرن کہ آسمان پھٹ جائیں من فوقهن اوپر کی طرف سے آسمان پھٹ جائیں اوپر سے تکاد السماوات یتفطرن من فوقهن قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں اوپر سے والملائکة یسبحون بحمد ربهم ویستغفرون لمن فی الارض اور فرشتے وہ تسبیح بیان کرتے ہیں ساتھ آپ کے پروردگار کی حمد کے وہ تسبیح بیان کرتے ہیں ساتھ آپ کے ساتھ اپنے پروردگار کی حمد فرشتے اپنے پروردگار کی تسبیح بیان کرتے ہیں حمد کے ساتھ یعنی تسبیح اور حمد بیان کرتے ہیں تسبیح اور حمد بیان کرتے ہیں والملائکة یسبحون بحمد ربهم اور ملائکہ جو ہیں وہ تسبیح بیان کرتے ہیں ساتھ اپنے پروردگار کی حمد کے ویستغفرون لمن فی الارض اور مغفرت طلب کرتے ہیں لمن ان کے لیے فی الارض جو زمین میں ہیں یعنی زمین والوں کے لیے ویستغفرون لمن فی الارض اور وہ مغفرت طلب کرتے ہیں زمین والوں کے لیے یا یہ ترجمہ کر لیں ویستغفرون لمن فی الارض اور وہ مغفرت طلب کرتے ہیں اہل زمین کے لیے الا ان الله هو الغفور الرحیم الا حرف تنبیہ ہے اور دوسرے کو متنبہ کرنے کے لیے متوجہ کرنے کے لیے اور تو چنانچہ بعض ہمارے علماء اس کا ترجمہ خبردار سے کرتے ہیں خبردار بعض ترجمہ اس کا آگاہ رہو آگاہ رہو بعض اس کا ترجمہ پھر کرتے ہیں یاد رکھو موقع محل کے مطابق بھئی تو جہاں جو آپ کو مناسب لگے موقع محل کے مطابق خبردار آگاہ رہو یاد رکھو وغیرہ ان الفاظ کے ساتھ ترجمہ آپ کر سکتے ہیں موقع محل کے مطابق بھئی بس اتنا یاد رکھیں یہ حرف تنبیہ ہے دوسرے کو متوجہ کرنے کے لیے الا ان الله هو الغفور الرحیم آگاہ رہو بے شک اللہ بے شک اللہ وہ مغفرت کرنے والے رحم کرنے والے ہیں آگاہ رہو بے شک اللہ بہت مغفرت کرنے والے نہایت رحم کرنے والے ہیں تکاد السماوات یتفطرن من فوقهن قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں اوپر سے کس وجہ سے پھٹ پڑیں بعض مفسرین حضرات فرماتے ہیں کہ فرشتوں کے بوجھ کی وجہ سے کس کی وجہ سے فرشتوں کے بوجھ کی وجہ سے احادیث میں آتا ہے کہ آسمان پر چار انگلی کے برابر جگہ بھی نہیں ہے جو خالی ہو جہاں پر کوئی اہ فرشتہ سجدے میں نہ پڑا ہوا ہو تو اتنا فرشتوں کا ازدحام ہے اتنا ہجوم ہے اتنی کثرت سے فرشتے ہیں کہ آسمان بھی ان کے بوجھ سے قریب ہے کہ پھٹ پڑے اوپر سے اوپر کی طرف سے معنی سمجھ میں آیا بھئی یا آسمان پھٹ پڑے اللہ کی عظمت جلال اور کبریائی کی وجہ سے یہ جو فرشتے اللہ کے ذکر ہر وقت ذکر کرتے ہیں اس ذکر کی تاثیر سے جس میں اللہ کی عظمت اور جلال کا بیان ہوتا ہے اور تو اس ذکر کی تاثیر سے قریب ہیں کہ آسمان پھٹ پڑیں تیسرا قول یہ کہ یہ جو مشرکین اللہ کی شان میں اتنی گستاخی کرتے ہیں کہ انہوں نے اللہ کے بیٹے قرار دیے دیے بعض کہتے ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں بعض کہتے ہیں حضرت عزیر علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں اور اسی طرح بعض کہتے ہیں یہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں یہ اللہ کی شان میں اتنی بڑی گستاخی ہے اتنی بڑی گستاخی ہے کہ قریب ہے کہ اس کی وجہ سے آسمان پھٹ پڑیں اگر اللہ کی رحمت نے ان کو نہ تھام رکھا ہو معنی سمجھ میں آگیا بھئی تو پہلا قول کیا فرشتوں کی کثرت کی وجہ سے دوسرا ان کے ذکر کی جو تاثیر ہے اور تیسرا قول جو یہ اللہ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں اس حد تک گستاخی کرتے ہیں کہ جسے بیان نہیں کیا جا سکتا والذین اتخذوا من دونه اولیاء اور وہ لوگ جنہوں نے پکڑ رکھے ہیں یعنی بنا رکھے ہیں من دونه اس اللہ کے علاوہ اولیاء کارساز اور وہ لوگ جنہوں نے بنا رکھے ہیں اللہ کے علاوہ اور کارساز کارساز کام بنانے والے کام بنانے والے اور وہ لوگ جنہوں نے بنا رکھے ہیں اس اللہ کے علاوہ اور کارساز الله حفیظ علیهم اللہ نگران ہے ان پر اللہ ان پر نگران نگراں ہیں یعنی اللہ ان پر نگرانی کیے ہوئے ہیں اللہ کو خوب معلوم ہیں کون کون ہیں جو اللہ کے علاوہ اور کارساز بنائے ہوئے ہیں حاجت روا مشکل کشا صرف اللہ کی ذات ہے یہ پیر فقیر یہ جن کے جن سے لوگ مرادیں مانگتے ہیں یہ بھی سب اسی کے اندر آگئے کہ یہ اللہ کے علاوہ انہوں نے اوروں کو کارساز بنا رکھا ہے بھئی تو پیروں فقیروں سے مانگنے والے اور ان کو حاجر حاجت روا اور مشکل کشا ماننے والے سب اسی میں آگئے اللہ فرماتے ہیں الله حفیظ علیهم اللہ ان پر نگرانی رکھے ہوئے ہے اللہ ان پر نگرانی رکھے ہوئے ہے حاجت روا اور مشکل کشا اور کام بنانے والی ذات صرف اللہ تعالی کی ہے وما انت علیهم بوکیل اور آپ ان پر ذمہ دار نہیں ہیں آپ ان پر ذمہ دار نہیں ہیں یا یوں ترجمہ کریں آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں والذین اتخذوا من دونه اولیاء الله حفیظ علیهم اور وہ لوگ جنہوں نے بنا رکھے ہیں اللہ کے علاوہ اور کارساز اللہ ان پر نگرانی رکھے ہوئے ہیں وما انت علیهم بوکیل اور آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں وکذلك اوحینا الیک قرانا عربیا اور اسی طرح وحی کیا ہم نے آپ کی طرف قران عربی لتنذر ام القری تاکہ آپ خبردار کریں ام القری کو یعنی ام القری والوں کو ای اهل ام القری ام القری مکہ مکرمہ کو کہا گیا بھئی ام القری قرٰی جمع ہے قریۃ کی قریا بستی کو کہتے ہیں ام القرا بستیوں کی ماں بستیوں کی اصل تمام بستیوں کی اصل اور مراد کیا ہے کون سی بستی مراد ہے مکہ مکرمہ مراد ہے چنانچہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مکہ مکرمہ ابتدا میں مکہ مکرمہ ہی سے زمین کے پھیلانے کی ابتدا کی گئی یہ جو ساری زمین پھیلائی گئی اس کی ابتدا کہاں سے کی گئی مکہ مکرمہ سے اور یہیں پر اللہ کی پہلی عبادت گاہ بنائی گئی بھئی لتنذر ام القری تاکہ آپ خبردار کریں مرکزی بعضوں نے ترجمہ پھر اس کا کیا میں نے بتلا دیا ام القری کا کیا معنی تمام بستیوں کی اصل تمام بستیوں کی ماں تو بعضوں نے پھر ترجمہ اس کا کیا مرکزی بستی کیا ترجمہ کیا مرکزی بستی بعضوں نے ترجمہ پھر کیا بڑا گاؤں ارد گرد چھوٹی بستیاں ہیں یہ بڑا مرکزی مرکزی بستی ہے جہاں سال میں حج کے موقع پر سارے لوگ جمع ہوتے ہیں بھئی وکذلك اوحینا الیک قرانا عربیا اور اسی طرح وحی کیا ہم نے آپ کی طرف عربی قران تاکہ آپ خبردار کریں مرکزی بستی والوں کو ومن حولھا اور جو اس کے ارد گرد ہیں اور جو اس مرکزی بستی کے ارد گرد والے ہیں ان کو وتندر یوم الجمع لا ریب فیه اور اب کہ آپ خبردار کریں یوم الجمع جمع کرنے کے دن سے جمع کرنے کے دن سے یا یوں یہ جمع ہونے کے دن سے لا ریب فیه جس میں کوئی شک نہیں وکذلك اوحینا الیک قرانا عربیا اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف وحی کیا عربی قران لتنذر ام القری ومن حولھا تاکہ آپ خبردار کریں ام القری والوں کو اور اس کے ارد گرد رہنے والوں کو وتندر یوم الجمع لا ریب فیه اور آپ خبردار کریں جمع ہونے کے دن سے جس میں کوئی شک نہیں ہے فریق فی الجنة وفریق فی السعیر ایک فریق ایک گروہ جنت میں ہوگا اور ایک گروہ فی السعیر آگ میں ہوگا ایک گروہ جنت میں ہوگا اور ایک گروہ فی السعیر آگ میں ہوگا آگ میں ہوگا۔ دعا کرو اللہ ہم سب کو بغیر حساب کتاب کے جنت نصیب فرمائے بھئی۔ ولو شاء اللہ لجعلھم امۃ واحدۃ اور اگر اللہ چاہتے تو البتہ بنا دیتے ان لوگوں کو امۃ واحدۃ ایک جماعت، ایک امت۔ اگر اللہ چاہتے تو ساروں کو ایک جماعت بنا دیتے یعنی سب ہی کو مسلمان بنا دیتے بھئی زبردستی۔ ولٰکن یدخل من یشاء فی رحمتہ لیکن اللہ داخل فرماتے ہیں، جس کو چاہتے ہیں فی رحمتہ اپنی رحمت میں۔ اللہ جس کو چاہتے ہیں، اپنی رحمت میں داخل فرماتے ہیں۔ والظالمون ما لھم من ولی ولا نصیر اور ظلم کرنے والے جو ہیں، مالھم نہیں ہے، نہیں ہوگا ان کے لیے من ولی کوئی دوست، ولا نصیر اور نہ کوئی مددگار۔ نصیر، مددگار۔ والظالمون ما لھم من ولی ولا نصیر اور ظلم کرنے والوں کے لیے نہیں ہوگا کوئی دوست اور نہ کوئی مددگار۔ اللہ فرما رہے ہیں، اگر اللہ چاہتے تو سب کو ایک ہی جماعت بنا دیتے زبردستی یعنی سب کو مسلمان ہی بنا دیتے، لیکن یہ اللہ کی حکمت کے خلاف ہے۔ اللہ نے انسان کو اختیار دے دیا کہ دو راستے ہیں، ایک نیکی کا راستہ ہے، ایک دینِ حق کا راستہ ہے، اور دوسری طرف گمراہی ہے اور شیطان کا راستہ ہے، جس راستے کو بھی چاہو اپنی مرضی سے اختیار کر لو۔ ہر ایک کو اختیار دے دیا۔ ولو شاء اللہ لجعلھم امۃ واحدۃ اور اگر اللہ چاہتے تو بنا دیتے ان لوگوں اس لوگوں کو ایک جماعت ولٰکن یدخل من یشاء فی رحمتہ لیکن اللہ داخل فرماتے ہیں، جس کو چاہتے ہیں اپنی رحمت میں والظالمون ما لھم من ولی ولا نصیر اور ظلم کرنے والے نہیں ہوگا ان کا کوئی دوست اور نہ کوئی مددگار۔ ام اتخذو من دونہ اولیاء کیا انہوں نے پکڑ، کیا انہوں نے بنا رکھے ہیں اس اللہ کے علاوہ کارساز؟ ام اتخذو من دونہ اولیاء کیا بنا رکھے ہیں ان لوگوں نے من دونہ اس اللہ کے علاوہ اولیاء اور کارساز؟ فاللہ ھو ولی وھو یحیی الموتی پس اللہ ہی کارساز ہے، اللہ ہی کام بنانے والا ہے، اور کوئی چیز کام بنانے والی نہیں ہے۔ وھو یحیی الموتی اور وہ، وہی مردوں کو وہ ہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے، وہی مردوں کو زندہ کرے گا۔ وھو علی کل شیء قدیر اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وھو یحیی الموتی وہی مردوں کو زندہ کرے گا، وھو علی کل شیء قدیر اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وما اختلفتم فیہ من شیء فحکمہ الہ اللہ وما اور وہ جو اختلفتم فیہ کہ اختلاف کرو تم اس میں، اور وہ جس میں کہ تم اختلاف کرو من شیء کوئی بھی چیز۔ یعنی کسی بھی چیز میں جو تم اختلاف کرو فحکمہ الہ اللہ تو اس کا حکم، اس کا فیصلہ اللہ ہی کی طرف ہے، اللہ ہی کے سپرد ہے، اللہ ہی کے حوالے ہے۔ فحکمہ الہ اللہ تو اس کا فیصلہ اللہ ہی کے حوالے ہے۔ وما واما اختلفتم فیہ اور وہ جس میں کہ تم اختلاف کرو من شیء یہ بیان ہے ما کا۔ کس کا بیان ہے؟ ما کا۔ کوئی بھی چیز۔ کوئی بھی چیز۔ تو معنی کیا ہوا؟ کہ کسی بھی چیز میں تم جو اختلاف کرتے ہو، اختلاف کرتے ہو یا اختلاف کرو، تو فحکمہ الہ اللہ تو اس کا فیصلہ اللہ کی، اللہ ہی کے حوالے ہے۔ ذالکم اللہ ربی یہی اللہ ربی میرا پروردگار ہے۔ علیہ توکلت اسی پر میں بھروسہ کرتا ہوں، والیہ انیب اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی۔ ذالکم اللہ ربی یہی اللہ میرا پروردگار ہے۔ علیہ توکلت اسی پر میں بھروسہ کرتا ہوں، یا اسی پر میں بھروسہ رکھتا ہوں، یا اسی پر میں توکل کرتا ہوں جو بھی ترجمہ آپ کر لیں بھئی۔ اسی پر میں توکل کرتا ہوں، والیہ انیب اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ فاطر السماوات والارض پیدا کرنے والا اسمانوں کا اور زمین کا، جعل لکم من انفسکم ازواجا بنا دیے تمہارے لیے من انفسکم تمہارے نفسوں ہی سے ازواجا جوڑے، تمہارے لیے تمہارے نفسوں ہی سے اس نے جوڑے بنا دیے، تمہارے نفسوں سے ہی یعنی تمہاری ہی جنس میں سے، تمہارے نفسوں میں سے کیا معنی؟ تمہاری ہی جنس میں سے تمہارے لیے اس نے جوڑے بنا دیے۔ یعنی مرد کے لیے عورت، عورت کے لیے مرد بھئی اسی کی جنس سے جوڑا بنا دیا۔ ومن الانعام ازواجا اور مویشیوں میں سے بھی جوڑے بنا دیے، نر اور مادہ۔ یزرعکم فیہ زرع یزرع کے معنی ہوتے ہیں تعداد بڑھانا، اضافہ کرنا۔ یزرعکم وہ تمہیں بڑھاتا ہے، تمہیں پھیلاتا ہے فیہ اس میں۔ وہ تمہیں پھیلاتا ہے اس میں۔ فیہ کی ہا ضمیر راجع ہے، یہ جو جعل سے جعل سمجھ میں آیا بھئی مصدر بھئی۔ یہ جو جوڑوں کا بنانا ہے، اس میں کیا کرتا ہے؟ اس میں اللہ تمہاری تعداد بڑھاتا ہے یعنی اس کے لیے تمہاری نسل چلاتا ہے۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ جوڑوں کے جو اللہ نے یہ جو جوڑے بنائے، اس میں، یہ جوڑے بنانے میں، اللہ تمہاری نسل چلاتے ہیں۔ فاطر السماوات والارض پیدا کرنے والا اسمانوں کا اور زمین کا، جعل لکم من انفسکم ازواجا اس نے بنا دیے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس میں سے جوڑے ومن الانعام ازواجا اور مویشیوں میں سے جوڑے، یزرعکم فیہ وہ تمہیں پھیلاتا ہے اس، اس طرح وہ تمہیں پھیلاتا ہے اس میں یعنی اس طرح اس بنا جوڑے بنانے میں، یعنی اس کے ذریعے تمہاری نسل، یز سمجھ میں آیا بھئی؟ اس میں، باضوں نے مفسرین نے لکھا یہ فی بمعنی با کے ہے، یزرعکم بہ اور با ہے سببیہ، یزرعکم تمہیں بڑھاتا ہے بہ اس کے ذریعے اس۔ جوڑے بنانے کے ذریعے تمہیں بڑھاتا ہے تو یہ آسان ترجمہ ذرا اور واضح ہو جائے گا آپ کے لیے، تو اس طرح آپ یاد رکھیں بھئی۔ یزرعکم فیہ وہ تمہاری نسل چلاتا ہے اس کے ذریعے، لیس کممثلھہ شیء نہیں ہے اس کے مثل کوئی چیز۔ اس اللہ کے مثل کوئی چیز نہیں ہے۔ وھو السمیع البصیر اور وہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ لیس کممثلھہ شیء اللہ کے مثل کوئی چیز نہیں ہے۔ مفسرین حضرات لکھتے ہیں کہ لیس کممثلھہ یہاں کاف جارہ جو ہے، یہ زائد ہے۔ کاف جارہ زائد ہے۔ اس لیے کیونکہ اس کو اگر زائد نہ مانا جائے تو کاف کے معنی بھی مثل کے ہوتے ہیں۔ زید کل اسد، زید شیر کے مثل ہے، زید شیر جیسا ہے، تو کاف کا کیا معنی ہوتا ہے؟ مثل۔ تو اگر کاف کو زائد نہ مانا جائے تو کس طرح ہوگا؟ لیس مثل مثلھہ، اللہ کے مثل کا مثل نہیں ہے۔ تو اس سے تو یہ ثابت ہوگا کہ اللہ کا مثل ہے، لیکن آگے اس مثل کا کوئی مثل نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں اگئی بھئی، تو یہ فرماتے ہیں کہ یہ کاف جارہ زائد ہے۔ ای لیس مثلہ شیء اللہ کے مثل کوئی چیز نہیں۔ جبکہ علماء محققین فرماتے ہیں کہ کاف جارہ کو زائد بنانے کی ضرورت نہیں۔ بھئی اس پر تو پھر اعتراض ہوتا ہے کہ لیس مثل مثلھہ، لیس مثل مثلھہ، اللہ کے مثل کا مثل نہیں ہے، تو وہ جواب دیتے ہیں کہ یہ یہاں اللہ کے مثل ہی کی نفی کی جا رہی ہے، لیکن کنایہ کے انداز میں۔ کس انداز میں؟ کنایہ۔ ایک ہے صراحتاً ایک بات کرنا، ایک ہے کنایے کے ساتھ بات کرنا بھئی کنایے میں۔ مثلاً میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں، زید کا قد لمبا ہے۔ زید کا قد لمبا ہے۔ تو ایک تو یہ صریح لفظ میں کہہ دیتا ہوں، زید کا قد لمبا ہے، اور ایک اسی کو میں کنایے کے انداز میں کہتا ہوں کہ زید کی قمیض لمبی ہے، یا زید لمبی قمیض والا ہے، اس سے بھی آپ سمجھ گئے کہ زید کیا ہے؟ لمبے قد والا ہے، کیونکہ جب قمیض تبھی لمبی ہوگی جب قد لمبا ہوگا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور تو ایک ہے کنایے کے انداز میں کلام کرنا، ایک ہے صراحتاً کرنا، اور ضابطہ ہے بھئی کہ الکنایۃ ابلغ من الصریح کنایہ ابلغ ہے کس کے مقابلے میں؟ صریح کے مقابلے میں۔ یعنی افضل ہے، یہاں ابلغ کس معنا میں ہے؟ افضل۔ کنایہ افضل ہے صریح کے مقابلے میں، افضل ہے۔ بھئی کیوں؟ یہ کنایہ یہ بات آپ آگے کتابوں میں بار بار آئے گی، یہیں پر اچھی طرح سمجھ لیں کہ کنایہ صریح سے افضل کیوں ہے؟ وجہ یہ کہ کنایے میں کہ صریح کہا جائے تو اس میں صرف ایک دعویٰ ہوتا ہے۔ صریح میں کیا ہوتا ہے؟ دعویٰ، جبکہ کنایے میں دعوے کے ساتھ ساتھ دلیل بھی ہوتی ہے۔ صریح میں تو صرف دعویٰ ہوگا، زید لمبے قد والا ہے، کوئی دلیل ساتھ نہیں۔ لیکن کنایے میں دلیل ساتھ ہوتی ہے۔ میں نے کہ زید لمبی قمیض والا ہے، اور کہنا مقصد کیا تھا کہنا دراصل بتلانا کیا چاہتا ہوں؟ لمبے قد والا ہے، اور ساتھ دلیل بھی آ گئی کہ اس کی قمیض لمبی ہے۔ قمیض تبھی لمبی ہوگی جب کیا ہو قد لمبا ہو، تو دلیل ساتھ آ گئی، اسی لیے اب کہتے ہیں الکنایۃ ابلغ من الصریح بھئی۔ تو یہاں پر بھی کہتے ہیں کہ یہ کلام کنائے کے رنگ میں ہے، مقصد وہی ہے کہ اللہ کا مثل نہیں۔ کہنا یہی ہے، لیکن کس رنگ میں کہا گیا؟ کنائے کے انداز میں کہا گیا، چنانچہ کیا کہا گیا؟ اللہ کے مثل کا مثل نہیں۔ اللہ کے مثل کا اور کہنا کیا ہے؟ اللہ کا مثل نہیں۔ تو یہ کنایہ کس طرح ہے؟ بھئی کنایہ اس طرح، مثلاً میں کہتا ہوں آپ سے، زید کا بھئی نہیں ہے۔ یہ ہے صریح، اور ایک میں آپ سے کنائے کے رنگ میں کہتا ہوں زید کے بھئی کا بھئی نہیں ہے۔ زید کے، اللہ کے مثل کا مثل نہیں ہے، اسی کو سمجھا رہا ہوں بھئی، زید کے بھئی کا بھئی نہیں ہے۔ یہ کنائے کے رنگ میں کہا جا رہا ہے کہ زید کا بھئی نہیں۔ کنایہ کس طرح؟ بھئی دیکھیے، بھئی یہ ہے زید بھئی، یہ ہے فرض کریں اس کا بھئی ہے اگر ہوتا، یہ کیا ہوتا اس کا بھئی؟ میں اگر یہ، یہ زید ہے، یہ اس کا بھئی ہے، اگر یہ زید کا بھئی ہوتا، تو اس بھئی کا بھی کوئی بھئی ہوتا یا نہ ہوتا؟ کون ہوتا؟ زید خود ہی اس کا بھئی ہوتا، تو جب کہہ دیا زید کے بھئی کا بھئی نہیں ہے، تو معلوم ہوا زید کا بھئی نہیں۔ کیونکہ اگر زید کا بھئی ہوتا تو اس کا بھئی بھی خود زید ہی ہوتا بھئی، تو یہاں پر بھی کہا گیا اللہ کے مثل کا مثل نہیں ہے۔ کیونکہ اگر اللہ کا مثل ہوتا تو اس کے مثل کا مثل خود اللہ تعالیٰ ہوتے، تو جب کہہ دیا اللہ کے مثل کا مثل نہیں ہے تو پتا لگ گیا کہ اللہ کا مثل نہیں۔ اور دلیل ساتھ آ گئی، دلیل آ گئی ساتھ یہی تو دلیل ہے کہ اللہ کے مثل کا مثل نہیں۔ معلوم ہوا اللہ کا بھی مثل نہیں۔ کیونکہ اگر اللہ کا مثل ہوتا تو اللہ کے مثل کا مثل خود اللہ تعالی ہوتے بھئی، چنانچہ اس لیے تو یہ کنائے کے انداز میں کہا گیا ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ لیس کممثلھہ شیء اللہ کے مثل کوئی چیز نہیں ہے۔ وھو السمیع البصیر اور وہ سب کچھ سننے والا ہے، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ اللہ سنتا بھی ہے، اللہ دیکھتا بھی ہے، لیکن مخلوق کے دیکھنے کی طرح نہیں، مخلوق کے سننے کی طرح نہیں بھئی۔ تمام صفاتِ کمالیہ اللہ کے لیے ثابت ہیں۔ لیکن ان کی کیفیت کیا ہے؟ ہمیں اس کا علم نہیں، کیونکہ اللہ کا کوئی مثل ہی نہیں۔ اللہ کا کوئی مثل ہی نہیں ہے، کوئی ایسی وہ اب مخلوق کی مثل ہے ہی نہیں کہ ہم جس سے اندازہ لگا سکیں اس کیفیت کا بھئی۔ چلیے بس بھئی ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
88 approved lectures · 81 of 88