Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-036

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 09 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 16
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ. بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ. الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي الْآخِرَةِ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ. يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا وَهُوَ الرَّحِيمُ الْغَفُورُ. آج ہم سورۃ سبا شروع کریں گے۔ سبا یہ ایک قوم کا نام تھا اور اسی کی نسبت سے جس علاقے میں وہ رہتی تھی وہ بھی سبا کہلاتا تھا اور اس سورت کے اندر ان کا ذکر آگے آ رہا ہے، اس لیے یہ سورت، سورۃ سبا کہلاتی ہے بھئی۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں الَّذِي وہ ذات کہ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ کہ اسی کے لیے ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں وَلَهُ الْحَمْدُ فِي الْآخِرَةِ اور اسی کے لیے حمد ہے آخرت میں، اسی کے لیے تعریف ہے آخرت میں وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ اور وہ حکمت والے ہیں، وہ حکمت والے باخبر ہیں۔ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ، وہ حکمت والے باخبر ہیں۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں الَّذِي وہ اللہ جو کہ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ کہ اسی کے لیے ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی اس کے مالک ہیں، اللہ ہی ان کے پیدا کرنے والے ہیں۔ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي الْآخِرَةِ، اور اللہ ہی کے لیے تعریف ہے آخرت میں، آخرت میں۔ دنیا کے اندر بھئی حمد تو ہے تمام تعریفیں تو اللہ ہی کے لیے ہیں، دنیا میں تو پھر بھی دوسروں کی بھی تعریف کر دی جاتی ہے اگرچہ کسی کے اندر جو کمال ہوتا ہے اس کمال کو رکھنے والے اس میں اس میں پیدا کرنے والے اس کمال کو وہ اللہ ہی کی ذات ہے۔ لیکن آخرت کے اندر تو سب خود دیکھ لیں گے، ہر چیز کا مشاہدہ ہو جائے گا، تو آخرت میں تو تعریف صرف کس کی ہوگی؟ اللہ ہی کی ہوگی بھئی۔ يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْأَرْضِ، يَعْلَمُ وہ جانتا ہے مَا اس چیز کو يَلِجُ فِي الْأَرْضِ جو داخل ہوتی ہے زمین میں وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا اور اس چیز کو جو نکلتی ہے اس زمین سے۔ وہ جانتا ہے اس چیز کو جو زمین میں داخل ہوتی ہے اور اس چیز کو جو زمین سے نکلتی ہے وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا اور اس چیز کو يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ جو اترتی ہے آسمان سے وَمَا اور اس چیز کو يَعْرُجُ فِيهَا جو چڑھتی ہے اس آسمان میں، یعنی آسمان کی طرف جو چیز بلند ہوتی ہے، آسمان کی طرف جو چیز چڑھتی ہے۔ وَهُوَ الرَّحِيمُ الْغَفُورُ، اور وہ رحم کرنے والے مغفرت کرنے والے ہیں۔ يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْأَرْضِ، اللہ جانتے ہیں وہ چیز وہ سب کچھ جو زمین میں داخل ہوتی ہے۔ بھئی کیا چیز زمین میں داخل ہوتی ہے؟ یعنی جو بھی چیز زمین میں داخل ہوتی ہے، یعنی بارش کا پانی، بیج، جو کیڑے مکوڑے حشرات وغیرہ اور اسی طرح دفینے اور خزانے وغیرہ، یعنی جو کچھ زمین میں داخل، اور اسی طرح بھئی مردے کو جب دفن کیا جاتا ہے تو جو بھی چیز زمین میں داخل ہونے والی ہے اس سب کو اللہ تعالی جاننے والے ہیں۔ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا، اور وہ چیز جو زمین سے نکلتی ہے وہ سب کچھ اللہ ان سب کو جاننے والے ہیں۔ کیا چیز زمین سے نکلتی ہے؟ ہاں جو بھی چیز نکلتی ہے زمین سے عام ہے سب اس میں آ گئے، پودے ہیں، فصلیں ہیں، نباتات اور اسی طرح چشمے وغیرہ ہیں جو کچھ نکلتا ہے وہ سب اللہ اس کو جانتے ہیں۔ وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ، اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے، کیا چیز آسمان سے اترتی ہے؟ بارش اترتی ہے اور بارش اترتی ہے اور اسی طرح فرشتے اترتے ہیں وغیرہ، جو بھی چیز اترتی ہے آسمان سے اللہ اس کو جانتے ہیں۔ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا، اور جو بھی چیز آسمان کی طرف چڑھتی ہے اور بلند ہوتی ہے اسے بھی اللہ جانتے ہیں، فرشتے ہیں وہ اوپر کی طرف جاتے ہیں، اسی طرح روح بھئی مومنین کی اور اسی طرح نیک اعمال جو ہیں اوپر کی طرف چڑھتے ہیں، تو یہ سب اللہ ان سب کو جانتے ہیں۔ وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا، اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا لَا تَأْتِينَا السَّاعَةُ کہ نہیں آئے گی ہم پر قیامت۔ قُلْ، اے پیغمبر آپ فرما دیجیے بَلَى، کیوں نہیں! وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا انہوں نے کہا ہم پر قیامت نہیں آئے گی، اے پیغمبر آپ فرما دیجیے کیوں نہیں، وَرَبِّي قسم ہے میرے پروردگار کی لَتَأْتِيَنَّكُمْ، البتہ وہ ضرور تم پر آئے گی، وہ قیامت تم پر ضرور آئے گی عَالِمِ الْغَيْبِ، وہ جو علم غیب کا جاننے والا ہے۔ یہ عالم، بھئی دیکھیے وَرَبِّي، یہ واؤ قسمیہ ہے بھئی، واؤ جارہ قسمیہ۔ تو واؤ جارہ قسمیہ ہے، یہ جر دیتا ہے جس پر داخل ہو، قسم کے لیے آتا ہے۔ اور تو رب، رَبِّي یہ کیا ہے؟ مجرور ہے، رب کیا ہے؟ مجرور، کیونکہ واؤ حرف جر اس پر داخل ہوا بھئی۔ جی، اور یہ موصوف ہے بھئی موصوف، اور عَالِمِ الْغَيْبِ اس کی صفت ہے، تو اس لیے عَالِمِ الْغَيْبِ بھی مجرور ہے کیونکہ موصوف صفت کا اعراب ایک ہوا کرتا ہے۔ اس کے مطابق؟ رَبِّي کو؟ بھئی جو اسم بھی یاء کی طرف مضاف ہو اس کا اعراب تینوں حالتوں میں تقدیری ہوتا ہے، تو رب مج، یہاں پر مجرور ہے لیکن کون سا مجرور؟ تقدیرًا مجرور ہے۔ اور آگے صفت عَالِمِ الْغَيْبِ وہ لفظًا مجرور ہے، تو مجرور دونوں ہیں البتہ اس میں فرق ہو سکتا ہے ایک لفظًا ہو دوسرا تقدیرًا ہو یا ایک لفظًا ہو دوسرا محلاً ہو وغیرہ، لیکن مجرور ہوں گے۔ وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا، کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا لَا تَأْتِينَا السَّاعَةُ کہ نہیں آئے گی ہم پر قیامت قُلْ بَلَى، اے پیغمبر آپ فرما دیجیے بَلَى کیوں نہیں وَرَبِّي، جی اب صفت کو ساتھ ملا دیجیے، قسم ہے میرے پروردگار کی جو علم غیب جاننے والا ہے لَتَأْتِيَنَّكُمْ، البتہ تم پر ضرور قیامت آئے گی لَا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ، عزب، یعزب کے معنی غائب ہونا، چھپنا۔ لَا يَعْزُبُ عَنْهُ، نہیں چھپی ہوئی اس سے، نہیں چھپی ہوئی اس سے، نہیں پوشیدہ اس سے مِثْقَالُ ذَرَّةٍ، ذرے کے برابر بھی، یعنی ذرے کے برابر بھی کوئی چیز اس سے نہیں چھپی ہوئی، لَا يَعْزُبُ عَنْهُ نہیں چھپی ہوئی اس سے مِثْقَالُ ذَرَّةٍ ذرہ بھر بھی فِي السَّمَاوَاتِ آسمانوں میں وَلَا فِي الْأَرْضِ اور نہ زمین میں، آسمانوں اور زمین میں کوئی ذرہ بھر چیز بھی نہیں ہے جو اس سے چھپی ہوئی ہو۔ وَلَا أَصْغَرُ مِنْ ذَلِكَ اور نہ اس سے کوئی چھوٹی چیز وَلَا أَكْبَرُ اور نہ اس سے بڑی چیز إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ مگر کس میں ہے؟ کتاب مبین میں، واضح کتاب کے اندر ہے بھئی۔ تو ذرے سے کوئی چیز چھوٹی ہے یا بڑی ہے سب کچھ کس کے اندر درج کر دیا ہے اللہ تعالی نے؟ کتاب مبین کے اندر بھئی، واضح کتاب، مراد لوح محفوظ ہے بھئی، لوح محفوظ۔ وَلَا أَصْغَرُ مِنْ ذَلِكَ اور نہ اس سے کوئی چھوٹی چیز ہے وَلَا أَكْبَرُ اور نہ اس سے کوئی بڑی چیز ہے، یعنی نہ اس ذرے سے اس ذرے سے نہ کوئی چھوٹی چیز ہے نہ اس سے بڑی چیز ہے إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ مگر وہ کس میں درج ہے؟ کتاب مبین واضح کتاب یعنی لوح محفوظ میں درج ہے۔ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آمَنُوا تاکہ بدلہ دے اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ اور نیک عمل کیے، لِيَجْزِيَ اس کا تعلق لَتَأْتِيَنَّكُمْ سے ہے۔ قیامت ضرور آئے گی، کیوں آئے گی؟ اس لیے تاکہ بدلہ دے اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے، أُولَئِكَ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ، وہ لوگ ہیں کہ ان کے لیے مغفرت ہے وَرِزْقٌ كَرِيمٌ اور عزت والا رزق ہے، جنت میں عزت والا رزق دیا جائے گا مومنین کو۔ أُولَئِكَ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ، ان لوگوں کے لیے مغفرت ہے یعنی ان مومنین کے لیے جو ایمان لائے ہیں اور نیک عمل کیے ہیں، ان کے لیے مغفرت ہے وَرِزْقٌ كَرِيمٌ اور عزت والا رزق ہے۔ وَالَّذِينَ سَعَوْا فِي آيَاتِنَا اور وہ لوگ جنہوں نے کوشش کی ہماری آیتوں میں مُعَاجِزِينَ اس حال میں کہ وہ عاجز کرنے والے تھے، یہ حال ہے سَعَوْا میں جو جمع کی ضمیر ہے بھئی۔ یہ جو واؤ ہے یہ جمع مذکر غائب کی ضمیر، اسی سے یہ حال ہے۔ اور وہ لوگ جنہوں نے کوشش کی فِي آيَاتِنَا ہماری آیتوں میں مُعَاجِزِينَ اس حال میں کہ وہ ان کو آیتوں کو عاجز کرنے والے تھے، یعنی آیتوں کے جی با محاورہ ترجمہ یہ ہوگا، اور وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیتوں کے عاجز کرنے میں کوشش کی، آیتوں کو عاجز کرنے کے لیے کوشش کی۔ تو أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِنْ رِجْزٍ أَلِيمٌ، تو ان کے لیے عذاب ہے سختی کا، عَذَابٌ مِنْ رِجْزٍ یعنی برا عذاب ہے، بہت سخت عذاب ہے ان کے لیے۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ ان کے لیے برا عذاب یا بہت سخت عذاب ہے ان کے لیے، أَلِيمٌ دردناک۔ دیکھیے رِجْزٍ مجرور ہے، أَلِيمٌ مرفوع ہے، یاد رکھیے یہ أَلِيمٌ یہ صفت ہے عَذَابٌ کی اور عَذَابٌ مرفوع تھا تو أَلِيمٌ بھی مرفوع ہے۔ تو أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِنْ رِجْزٍ أَلِيمٌ، تو ان کے لیے سختی کا دردناک عذاب ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیتوں کے عاجز کرنے کے لیے کوشش کی ان کے لیے عَذَابٌ مِنْ رِجْزٍ أَلِيمٌ، سختی کا دردناک عذاب ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو ترجموں میں یہاں دو طرح کے ترجمے آپ کو ملیں گے اردو میں، بعضوں نے سختی کا عذاب کیا اس کا ترجمہ، میں نے معنی بتلا دیا بہت سخت عذاب ہوگا مراد یہ ہے۔ اور بعض ترجموں میں آپ کو اس کا معنی ملے گا بلا کا عذاب، کیا ترجمہ ملے گا؟ بلا کا عذاب۔ بھئی جب کوئی کسی چیز میں بہت زیادہ ہو تو اس کے لیے بلا کا لفظ لاتے ہیں، آپ بھی اردو میں استعمال کرتے ہیں وہ بلا کا ذہین ہے، کہتے ہیں یا نہیں کہتے؟ جی تو یہ، وہ بلا کا ذہین ہے یا اسی طرح اور کیا مثال بنا لیں؟ کوئی کسی فن میں مہارت رکھتا ہو تو کہتے ہیں وہ اس فن میں بلا کی مہارت رکھتا ہے۔ جی تو مراد زیادتی بتلانا ہے بھئی، تو أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِنْ رِجْزٍ أَلِيمٌ، تو ان کے لیے سختی کا دردناک عذاب ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیتوں کے عاجز کرنے میں کوشش کی یعنی ان کو ان کے ابطال کے لیے اور قول اور فعل کے ذریعے لوگوں کو اس سے روکنے کے لیے اور ہماری آیتوں کو ہرانے کے لیے کوششیں کی، پوری کوشش صرف کر دی کہ لوگوں کو اس سے روک لیں اور لوگوں کو بتلائیں، لوگوں کو بتلاتے کہ بھئی یہ صحیح نہیں ہے یہ درست نہیں ہے یا یہ مذہب صحیح نہیں ہے، یہ جو باتیں پیغمبر بتلاتے ہیں یہ صحیح نہیں ہیں، پوری کوشش خرچ کی تو اللہ فرما رہے ہیں ان کے لیے سختی کا دردناک عذاب ہے۔ وَيَرَى الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ اور سمجھتے ہیں وہ لوگ، يَرَى کا کیا ترجمہ کرنا ہے؟ سمجھتے ہیں۔ بھئی يَرَى رؤیت، رؤیت آپ جانتے ہیں دو قسم پر ہے۔ ایک رؤیت رؤیت بصری ہے آنکھوں سے دیکھنا، آنکھوں سے دیکھنا، رَأَيْتُ زَيْدًا کیا ترجمہ کریں گے؟ میں نے زید کو دیکھا یعنی آنکھوں سے دیکھا، تو یہ ایک مفعول چاہتا ہے۔ اور ایک ہے رؤیت قلبی، رؤیت قلبی اور وہ دو مفعول چاہتا ہے، رَأَيْتُ زَيْدًا عَالِمًا کیا ترجمہ کریں گے؟ میں نے زید کو عالم سمجھا یعنی میں نے یقین کیا کہ زید عالم ہے، میں نے یقین کیا کہ زید عالم ہے یا یوں کہیں میں نے زید کو عالم پایا، تو یہاں آنکھوں سے دیکھنا مراد نہیں ہے بلکہ رؤیت قلبی دل سے دیکھنا یعنی دل سے مجھے میں نے اس کو ایسا پایا زید، کس کو پایا؟ زید کو اور کیا پایا؟ عالم، تو دیکھو رَأَيْتُ زَيْدًا عَالِمًا دو مفعول چاہتا ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو یہاں یہ رؤیت قلبی مراد ہے۔ وَيَرَى الَّذِينَ، اور تو اس کا کیا ترجمہ کیا میں نے؟ سمجھتے ہیں، اور سمجھتے ہیں وہ لوگ أُوتُوا الْعِلْمَ جن کو علم دیا گیا وہ سمجھتے ہیں، یہ الَّذِينَ مفعول اول ہے بھئی اور آگے الْحَقَّ آ رہا ہے وہ بھی منصوب، یہ مفعول ثانی ہے، اور الَّذِي یہ مفعول اول اور الْحَقَّ کیا ہے؟ مفعول ثانی ہے بھئی، مفعول ثانی۔ اور درمیان میں یہ جو حق سے پہلے هُوَ آیا یہ فصل ہے، یہ کیا ہے؟ فصل ہے بھئی۔ تو یہ صورت ضمیر کی ہے لیکن یہ فصل ہے بھئی، ضمیر نہیں ہے۔ فصل جانتے ہو یا نہیں جانتے بھئی؟ بھئی جب مبتدا تو ہوتا ہی معرفہ ہے اس کے ساتھ خبر بھی معرفہ آ جائے تو پھر بعض اوقات موصوف صفت کا شبہ ہوتا وہ موصوف صفت کا شبہ ہوتا ہے تو فرق کرنے کے لیے درمیان میں کیا لے آتے ہیں؟ فصل لے آتے ہیں۔ تو اس فصل کے ذریعے پتہ چل جاتا ہے کہ یہ آپس میں موصوف صفت نہیں ہیں بلکہ مبتدا اور خبر ہیں۔ تو یہاں پر بھی یہ جو مفعول اول اور مفعول ثانی ہیں یہ دراصل مبتدا اور خبر کے درجے میں ہوتے ہیں۔ دیکھیے رَأَيْتُ زَيْدًا عَالِمًا، ذرا رَأَيْتُ کو ختم کریں، زَيْدٌ عَالِمٌ تھا اصل میں، زید عالم ہے۔ زَيْدٌ عَالِمٌ، پھر اس پر رؤیت داخل ہوئی تو اس نے مبتدا اور خبر دونوں کو اپنا مفعول بنا لیا، رَأَيْتُ زَيْدًا عَالِمًا، میں نے زید کو عالم پایا۔ تو چونکہ یہ مبتدا خبر کے درجے میں ہے اس لیے ان میں هُوَ فصل آ گئی بھئی، اور دونوں معرفہ ہیں، الَّذِي بھی معرفہ، الْحَقَّ بھی معرفہ۔ وَيَرَى الَّذِينَ، اور سمجھتے ہیں وہ لوگ جن کو علم دیا گیا الَّذِي أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ، وہ چیز جو نازل کی گئی ہے آپ پر آپ کے پروردگار کی طرف سے هُوَ الْحَقَّ، کیا سمجھتے ہیں اسے؟ حق سمجھتے ہیں۔ یعنی قرآن مراد ہے، قرآن۔ اور سمجھتے ہیں وہ لوگ جن کو علم دیا گیا ہے کہ وہ قرآن جو آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے آپ کے پروردگار کی طرف سے وہ حق ہے وَيَهْدِي إِلَى صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ، سمجھتے ہیں کہ وہ حق ہے اور وہ ہدایت دیتا ہے إِلَى صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ، زبردست قابل لائق حمد کے راستے کی طرف، کہ یہ قرآن کیا ہے وہ سمجھتے ہیں یہ حق ہے اور یہ قرآن ہدایت دیتا ہے، رہنمائی کرتا ہے کس کی طرف؟ زبردست اور لائق حمد، یعنی اللہ تعالی جو ہیں، زبردست اور لائق حمد کے راستے کی طرف، یعنی اللہ کے راستے کی طرف یہ رہنمائی کرتا ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا؟ اور سمجھتے ہیں وہ لوگ جن کو علم، یعنی اہل کتاب بھئی چاہے وہ مسلمانوں میں سے ہوں یا دوسرے اہل کتاب ہوں، تو وہ سمجھتے ہیں کہ یہ حق ہے۔ اور یہ ایک ترجمہ بھئی، دوسرا ترجمہ: بعض مفسرین لکھتے ہیں کہ اس کا عطف ہے، یہ يَرَى جو ہے اس کا عطف ہے لِيَجْزِيَ پر، کس پر عطف ہے؟ لِيَجْزِيَ پر۔ تو جیسے لِيَجْزِيَ لام کے تحت ہے لِيَجْزِيَ، تو يَرَى بھی لام کے تحت ہوا، أَيْ لِيَرَى۔ قیامت آئے گی بھئی اوپر کیا ترجمہ تھا؟ قیامت آئے گی تاکہ اللہ بدلہ دے ان لوگوں کو اور قیامت آئے گی لِيَرَى الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ، تاکہ دیکھ لیں وہ لوگ جن کو علم دیا گیا ہے۔ فرق سمجھ میں آیا ترجمے میں؟ تاکہ دیکھ لیں وہ لوگ جن کو علم دیا گیا ہے کہ وہ جو آپ کی طرف نازل کیا گیا آپ کے پروردگار کی طرف سے وہ حق ہے اور وہ ہدایت دینے والا ہے سیدھے راستے کی طرف، اللہ کے راستے کی طرف۔ تو وہ لوگ جن کو علم دیا گیا بھئی، جن کو علم دیا گیا۔ چاہے وہ مسلمانوں میں سے ہے اور چاہے اہل کتاب جیسے بھئی عبداللہ ابن سلام رضی اللہ تعالی عنہ بھئی، یہ بہت بڑے یہودی عالم تھے اہل کتاب میں سے اور پھر یہ اسلام لے آئے، مسلمان ہو گئے، جلیل القدر صحابی ہیں بھئی۔ تو وہ بھی وہ یہ سب ان کے اندر داخل ہیں، تو ترجمہ کیا ہوا؟ تاکہ دیکھ لیں وہ لوگ جن کو علم دیا گیا ہے۔ بھئی ان کو یقین تو پہلے ہی تھا جن کو علم دیا گیا، جن کو علم دیا گیا یہ مسلمان اور وہ جو اہل کتاب میں سے جو مسلمان ہو گئے ان کو قیامت کا یقین ہے یا نہیں سب کو؟ سب کو قیامت کا یقین ہے۔ تو قیامت کا یقین تو ان کو ہے لیکن تاکہ پھر اس کا مشاہدہ بھی کر لیں اور ان کو عین الیقین حاصل ہو جائے بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ تاکہ اس کا باقاعدہ مشاہدہ بھی کر لیں گے خود آنکھ، قیامت ضرور آنی ہے تاکہ یہ آنکھوں سے بھی مشاہدہ کر لیں کہ وہ جو جس راستے کی طرف قرآن رہنمائی کر رہا تھا اور یہ جو قرآن نازل کیا گیا ہے یہ سب حق ہیں اور صحیح بات بتلانے والے ہیں۔ وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا، اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلَى رَجُلٍ، کیا ہم تمہاری دلالت کریں؟ کیا ہم تمہاری رہنمائی کریں عَلَى رَجُلٍ ایک ایسے آدمی پر يُنَبِّئُكُمْ جو تمہیں خبر دیتا ہے؟ کفار بھئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم دعوت دیتے تھے، توحید کی طرف بلاتے تھے اور بتلاتے تھے کہ قیامت قائم ہوگی جب تم بالکل مٹی میں ریزہ ریزہ ہو جاؤ گے لیکن قیامت کے دن اللہ پھر تمہیں اٹھا لیں گے، اٹھا لیں گے۔ تو کفار بطور مذاق کے یا اوروں سے کہتے تھے کہ بھئی کیا ہم تمہیں ایک ایسا آدمی نہ بتائیں؟ يُنَبِّئُكُمْ، جو تمہیں خبر دیتا ہے إِذَا مُزِّقْتُمْ، جب تم ریزہ ریزہ کر دیے جاؤ گے كُلَّ مُمَزَّقٍ، بالکل ریزہ ریزہ، إِنَّكُمْ لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ، یقیناً تم البتہ نئی پیدائش میں ہو گے، نئے جنم میں آؤ گے، یعنی دوبارہ تم کو پیدا کیا جائے گا۔ تو کفار آپس میں ایک دوسرے سے کہتے بطور مذاق کے اور استہزا کے طور پر کہ بھئی میں تمہیں ایک ایسا آدمی نہ بتاؤں؟ جو اس طرح کی باتیں کرتا ہے، جو کیا کہتا ہے؟ جو تمہیں کیا بتلاتا ہے؟ کہ جب تم بالکل ریزہ ریزہ ہو جاؤ گے پھر دوبارہ تم پیدا کیے جاؤ گے، دیکھو کتنی عجیب بات کرتا ہے، جب بالکل ریزہ ریزہ ہو جائیں گے ہم تو پھر ہمیں کیسے پیدا کیا جا سکتا ہے؟ پھر کیسے بنیں گے بھئی؟ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو کہتے ہیں وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا، اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلَى رَجُلٍ، کیا ہم تمہاری رہنمائی نہ کریں ایسے آدمی پر يُنَبِّئُكُمْ، جو خبر دیتا ہے تمہیں إِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ، کہ جب تم بالکل ریزہ ریزہ کر دیے جاؤ گے إِنَّكُمْ لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ، تو یقیناً تم البتہ نئے جنم میں آؤ گے۔ أَفْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَمْ بِهِ جِنَّةٌ، أَفْتَرَى افترا کے معنی ہوتے ہیں جھوٹ باندھنے کے، جھوٹ باندھنے کے۔ تو أَفْتَرَى، یہ اصل میں تھا أَاِفْتَرَى، کیا تھا؟ باب افتعال ہے نا، باب افتعال کا پہلا صیغہ کیا ہوگا؟ ہمزہ مکسور ہوگا، اِفْتَعَلَ، اِفْتَعَلَ۔ تو شروع یہاں فاء سے پہلے ایک اور ہمزہ تھا اِفْتَرَى، جو اس فعل کا ہمزہ تھا، اور یہ جو اس وقت ہمزہ ہے یہ ہمزہ استفہام ہے سوال کے لیے۔ اور ہمزہ استفہام کے بعد کیا تھا؟ ہمزہ وصل تھا جو فعل کا ہمزہ تھا، ہمزہ وصلی۔ اور پھر ہمزہ وصل کیوں شروع میں لاتے ہیں؟ کیونکہ یہ فاء ساکن تھی اور ساکن سے تو ابتداء ہو نہیں سکتی عربی میں، تو پھر شروع میں کیا لے آتے ہیں؟ ہمزہ وصل۔ تو یہاں پر اس سے ہمزہ وصل تھا، لیکن جب اس سے پہلے ہمزہ استفہام آ گیا تو اب ہمزہ وصل کی ضرورت نہ رہی، تو وہ گرا دیا گیا بھئی۔ أَفْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا، کیا اس نے جھوٹ تو سوال ہمزہ استفہام کے لیے، کیا جھوٹ باندھا أَفْتَرَى عَلَى اللَّهِ، کیا باندھا ہے اللہ پر اس نے كَذِبًا، جھوٹ أَمْ بِهِ جِنَّةٌ، یا اسے جنون ہے؟ ترجمہ آ رہا ہے سمجھ میں بھئی؟ أَفْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا، کیا باندھا ہے اللہ پر اس نے جھوٹ أَمْ بِهِ جِنَّةٌ، یا اسے جنون ہے؟ یعنی یا تو اس شخص نے کیا کیا ہے؟ اللہ پر جھوٹ باندھا ہے یا اس کو جنون ہے، یعنی یا تو اس نے قصداً یہ جھوٹ بولا ہے یا اس کو جنون ہے، بغیر قصد کے اس نے یہ جھوٹ بولا ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا؟ أَفْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَمْ بِهِ جِنَّةٌ، کیا اس نے باندھا ہے اللہ پر جھوٹ یا اس کو جنون ہے؟ بَلِ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ، بلکہ اب آگے اللہ فرما رہے ہیں بلکہ وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے آخرت پر فِي الْعَذَابِ، عذاب میں ہوں گے وَالضَّلَالِ الْبَعِيدِ، اور دور کی گمراہی میں ہیں۔ بلکہ وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے آخرت پر فِي الْعَذَابِ، وہ کس میں ہوں گے؟ عذاب میں، کب؟ آخرت میں۔ وَالضَّلَالِ الْبَعِيدِ، اور دور کی گمراہی میں ہیں، کہاں پر؟ اس دنیا میں بھئی، اس دنیا میں۔ آخرت میں عذاب میں ہوں گے اور اس دنیا میں وہ دور کی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ یا عذاب سے اخروی عذاب نہ لیں تو پھر عذاب کے عذاب میں ہیں یعنی دنیا کے اندر بھئی، دنیا کے اندر عذاب میں ہیں، مصیبت میں ہیں، آفت میں پڑے ہوئے ہیں بھئی۔ کیا ترجمہ کر لیں؟ آفت میں۔ بلکہ وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے فِي الْعَذَابِ آفت میں ہیں وَالضَّلَالِ الْبَعِيدِ اور دور کی گمراہی میں ہیں۔ تو عذاب کا کیا ترجمہ کر لیں؟ آفت میں ہیں۔ اس سے بڑھ کر اور کیا آفت ہوگی کہ انسان پیغمبر کو جو کہ سیدھے راستے کی طرف دعوت دے رہے ہیں اس کی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور پھر اس سے بھی بڑھ کر پیغمبر ہی کو مجنون کہنا شروع کر دے، اس سے بڑھ کر اور آفت میں کون ہوگا بھئی؟ أَفَلَمْ يَرَوْا، کیا پس انہوں نے دیکھا نہیں إِلَى مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ، اس چیز کی طرف جو ان کے سامنے ہے إِلَى مَا، اس چیز کی طرف بَيْنَ أَيْدِيهِمْ، جو ان کے سامنے ہے بھئی، بَيْنَ أَيْدِيهِمْ ان کے دو ہاتھوں کے درمیان ہے، مراد ہے سامنے بھئی، کیا مراد ہے؟ تو سامنے کے لیے بَيْنَ أَيْدِيهِمْ کا لفظ آتا ہے عربی میں۔ کیا ان لوگوں نے دیکھا نہیں اس چیز کی طرف جو ان کے سامنے ہے وَمَا خَلْفَهُمْ، اور جو ان کے پیچھے ہے مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، یہ بیان آ گیا بھئی، کیا چیز جو ان کے سامنے اور پیچھے ہے؟ یعنی کہ آسمان اور زمین۔ یعنی کہ آسمان اور زمین، کیا ان لوگوں نے زمین اور آسمان کو نہیں دیکھا جو ان کے آگے اور پیچھے ہر طرف ہیں بھئی؟ زمین بھی ہر طرف ان کے پھیلی ہوئی ہے، آسمان بھی ان کے آگے پیچھے ہر طرف پھیلا ہوا ہے۔ یہ آگے اور پیچھے ہونا یہ اضافی چیز ہے، نسبت والی ہے نسبت۔ دیکھیے اس وقت میرے آپ لوگ میرے سامنے ہیں، یہ جو مشرقی سمت ہے اس وقت یہ میرے سامنے ہے اور مغرب کیا ہے میرے پیچھے ہے۔ اور آپ کے لیے مشرق آپ کے پیچھے ہے اور مغرب آپ کے سامنے ہے۔ دائیں طرف والوں کے لیے شمال کیا ہے؟ سامنے اور جنوب ان کے پیچھے ہے، اور بائیں طرف والوں کے لیے اس کا عکس ہے، تو یہ آگے پیچھے ہونا اضافی چیز ہے، تو مراد یہ ہے ہر طرف زمین اور آسمان پھیلے ہوئے ہیں، ان کے ہر طرف کیا ہیں؟ زمین اور آسمان ہیں۔ أَفَلَمْ يَرَوْا إِلَى مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ، کیا پس دیکھا نہیں ان لوگوں نے اس چیز کی طرف جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے یعنی کہ آسمان اور زمین مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، إِنْ نَشَأْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْأَرْضَ، اگر چاہیں تو ہم ان کو دھنسا دیں زمین میں۔ خسف، یخسف کے معنی دھنسانا، إِنْ نَشَأْ، اگر ہم چاہیں نَخْسِفْ، ہم دھنسا دیں بِهِمْ، ان کو الْأَرْضَ، زمین میں أَوْ نُسْقِطْ، یا گرائیں ہم عَلَيْهِمْ، ان پر كِسَفًا، ٹکڑے، كِسَفًا جمع ہے كِسْفَةٌ کی، كِسْفَةٌ ٹکڑے کو کہتے ہیں، یا گرا دیں ہم ان پر ٹکڑے مِنَ السَّمَاءِ، آسمان سے۔ بھئی کیا یہ لوگ یہ قیامت کا انکار کرتے ہیں، یہ ہمارے پیغمبر کی دعوت کو جھٹلاتے ہیں، پیغمبر ہی کو العیاذ باللہ مجنون کہنے لگے ہیں یہ لوگ، کیا یہ لوگ اپنے آگے پیچھے نہیں دیکھتے آسمان نے اور زمین نے ان کو ہر طرف سے گھیرا ہوا ہے، اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں اور چاہیں تو ان پر آسمان سے ٹکڑے گرا دیں؟ تو بھاگ کر یہ کہاں جا سکتے ہیں، پھر یہ اس طرح کی باتیں کیوں کرتے ہیں، باز کیوں نہیں آتے؟ أَفَلَمْ يَرَوْا إِلَى مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ اس چیز کی طرف جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے آسمان اور زمین میں سے إِنْ نَشَأْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْأَرْضَ، اگر چاہیں تو ہم ان کو زمین میں دھنسا دیں أَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ كِسَفًا مِنَ السَّمَاءِ، یا گرائیں ان پر آسمان سے ٹکڑے إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً، یقیناً اس کے اندر البتہ نشانی ہے لِكُلِّ عَبْدٍ مُنِيبٍ، ہر اس ہر ایسے بندے کے لیے جو رجوع کرنے والا ہے۔ اس میں البتہ کیا ہے؟ نشانی ہے ہر ایسے بندے کے لیے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہے، اللہ کی طرف توجہ کرنے والا ہے۔ لَآيَةً، یہ منصوب ہے کیونکہ یہ اِنَّ کی اِنَّ کا اسم ہے۔ اِنَّ، اور فِي ذَلِكَ، یہ اِنَّ کی خبر مقدم ہے۔ یاد رکھیے اِنَّ، کَانَ وغیرہ کے بعد جار مجرور آ جائیں تو یہ اس کے خبر تو بن سکتے ہیں ان کا اسم نہیں بن سکتے بھئی۔ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِكُلِّ عَبْدٍ مُنِيبٍ، یقیناً اس کے اندر البتہ نشانی ہے ہر اس بندے کے لیے جو رجوع کرنے والا ہے۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔
129 approved lectures · 36 of 129