أعوذ بالله من الشيطان الرجيم، بسم الله الرحمن الرحيم. والنجم إذا هوى، ما ضل صاحبكم وما غوى، وما ينطق عن الهوى، إن هو إلا وحي يوحى، علمه شديد القوى، ذو مرّ فاستوى، وهو بالأفق الأعلى.
آج ہم سورۂ نجم پڑھیں گے۔ میں نے پہلے ذکر کیا تھا کہ یہ جو آگے سورتیں آرہی ہیں، ان میں سے اکثر مکی ہیں۔ مکی وہ سورت جو ہجرت سے پہلے نازل ہوئی ہو، اور مدنی وہ سورتیں جو ہجرت کے بعد نازل ہوئیں۔ اور یہ سورۂ نجم جو ہے، یہ مکی زندگی میں بھی ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملنے کے ابتدائی زمانے میں یہ سورت نازل ہوئی.
اور روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہ پہلی سورت ہے، یہ وہ سورت ہے جسے پہلی مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھرے مجمع کے سامنے اس کو پڑھا، جس میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ مشرکین بھی موجود تھے بھئی.
اور اس سورت کے پڑھنے پر ایک ایسی کیفیت اور اللہ کی ایسی ہیبت اور عظمت چھا گئی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان تو سجدے میں گرے ہی، ساتھ ساتھ جتنے مشرکین تھے، وہ سارے بھی سجدے میں گر پڑے بھئی.
صرف ایک مشرک تھا جس نے سجدہ نہیں کیا، اور زمین سے کچھ مٹی اٹھا کر اپنے ماتھے پر لگا لی کہ میرے لیے تو یہی کافی ہے، اور وہ امیہ بن خلف تھا بھئی.
جس کا پھر جو پھر کفر کی حالت میں ہی مارا گیا بھئی.
والنجم إذا هوى. واؤ قسمیہ جارہا ہے، قسم ہے ستارے کی، إذا هوى جب وہ گرے.
ہوا یحوی کے معنی گرنے کے ہیں، مراد ہے غروب ہونا، ڈوبنا۔ قسم ہے ستارے کی جب وہ غروب ہو، یا یوں ترجمہ کرلیں، قسم ہے ستارے کی جب وہ ڈوبے.
اب اس النجم سے کیا مراد ہے؟ بعض مفسرین لکھتے ہیں ہر ستارہ اس سے مراد ہے۔ نجم کسے کہتے ہیں عربی میں؟ ستارے کو.
اور اسی نجم پر جب الف لام آجائے، تو اس کے ذریعے پھر ستاروں کا ایک خاص مجموعہ مراد ہوتا ہے، جسے اردو میں ثریا کہتے ہیں۔ اسی طرح اس کا دوسرا نام پروین ہے بھئی.
یہ ستاروں، چھوٹے چھوٹے ستاروں کا ایک مجموعہ ہے بھئی۔ یہاں تو آپ کو دکھائی نہیں دے گا، کیونکہ یہاں پر تو بڑے بڑے ستارے بھی روشنی شہر کی روشنی کی وجہ سے رات کو دکھائی نہیں دیتے.
ہاں جہاں پر روشنی وغیرہ نیچے نہ ہو، کوئی ایسا علاقہ جہاں بجلی نہ ہو، وہاں پر آپ کو، یا بجلی ہو تو کم ہو، وہاں آپ کو دکھائی دیں گے بھئی.
تو یہ ستاروں کا مجموعہ ہے، بہت سے ستارے اکٹھے ہیں بھئی.
اور عام نظر والے شخص کو اس میں سات ستارے دکھائی دیتے ہیں بھئی، سات ستارے۔ اس کے ذریعے عرب جو ہے نظر کی تیزی کا امتحان لیتے تھے کہ دیکھیں کس کی نظر کتنی ہے.
کتنی تیز ہے۔ بڑے باریک ستارے ہیں، بہت دور ہیں یہ ستارے تو بڑے باریک دکھائی دیتے ہیں، تو عام آدمی کو سات ستارے دکھائی دیتے، جس کی نظر تیز ہوتی، اس کو نو ستارے دکھائی دیتے تھے بھئی، نو ستارے.
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو روایات میں آتا ہے غالباً اس میں گیارہ یا تیرہ ستارے دکھائی دیتے تھے، اب روایت پوری میرے ذہن میں نہیں، البتہ غالباً والد صاحب کی کتاب فلکیات جدیدہ کے اندر جو ہے درج ہے، تو گیارہ یا تیرہ، تیز نظر والے عام آدمی کو بھی نو دکھائی دیتے تھے، حضور علیہ السلام کو گیارہ دکھائی دیتے تھے یا شاید تیرہ تھے بھئی.
تو یہ وہ ستاروں کا مجموعہ، اس کو النجم کہتے ہیں عربی میں، تو بعضوں نے کہا النجم ثریا کو کہتے ہیں، یہ اور وہی مراد ہیں، بعضوں نے کہا نہیں خاص ثریا یہاں مراد نہیں بلکہ سب ستارے جو ہیں وہ اس میں مراد ہیں بھئی.
والنجم إذا هوى، قسم ہے ستارے کی جب وہ غروب ہو.
قرآن کا کمال یہ ہے، قرآن کے اعجازات کبھی ختم نہیں ہوں گے، جوں جوں زمانہ گزرتا ہے، قرآن کے نئے نئے اعجاز، نئی نئی باتیں جو اس کے اندر درج ہیں، جو جنہیں آج تک جن کی جو پہلے اور معنی بعض جگہ ہوتا تھا، تو جوں جوں زمانہ گزرتا ہے، سائنس ایسی باتیں بتلاتی ہے، پتہ لگ دیکھتے ہیں ہم قرآن میں غور کرتے ہیں تو اس کی طرف واضح اشارہ موجود ہوتا ہے.
العط قرآن کا چونکہ یہ مقصد نہیں، تو وہ ایسے الفاظ لے کر آتا ہے قرآن جو اس زمانے والوں کو بھی اجنبی نہ لگیں.
قرآن میں اگر سائنسی باتیں ذکر صریح الفاظ میں ہوجاتیں تو وہ لوگ کیا سمجھتے کہ یہ کیا چیزیں ہیں؟ تو قرآن ایسے الفاظ لاتا ہے کہ اس زمانے والوں کو بھی معنی میں مشکل پیش نہ آئے، اور بعد والے بھی جب آئیں اور نئی چیزیں دریافت ہوں، دیکھیں تو قرآن کے اندر اس کا ذکر ان کو مل جائے.
چنانچہ آج کل ایک نیا نظریہ جو چل رہا ہے، کہتے ہیں یہ جو ستارہ ہے، ستارہ یہ آگ کا گولا ہوتا ہے بھئی، آگ ہی آگ، جیسے سورج بھی ایک ستارہ ہے دراصل، اور اس یہ چونکہ زمین کے ذرا قریب ہے، اس لیے یہ ہمیں بڑا دکھائی دیتا ہے اور اس کی روشنی دیکھو، یہ ہم سے کروڑوں میل کے فاصلے پر ہے، کتنی روشنی اور اس کی کتنی حرارت ہوتی ہے کہ دوپہر کے وقت دھوپ میں نکلنا تکلیف کا باعث بن جاتا ہے.
تو یہ جو ستارے ہیں، کہتے ہیں ان کی ایک عمر ہوتی ہے، سائنسی نظریہ بیان کر رہا ہوں بھئی.
ایک وقت آتا ہے کہ اس ستارے کی طاقت یا اس کی جو انرجی ہے وہ ختم ہو جاتی ہے، اور ستارہ سکڑ جاتا ہے.
مثلاً یوں سمجھیں، پہلے یہ پوری مسجد جتنا تھا، مثال کے طور پر، ورنہ تو ستارے جو ہیں، لاکھوں زمینوں کے برابر بڑے بڑے ہوئے ہیں بھئی، تو مثلاً یہ فرض کرو اگر یہ، یہ پوری مسجد جتنا تھا، ایک دم سکڑ جاتا ہے تیزی سے، اور سکڑ کر یوں سمجھیں مسجد کے درمیان میں سوئی کی نوک جتنا ایک ذرہ ہو، اتنا بن جائے گا.
سوئی کی نوک جتنا، ایک پوری مسجد ہے، آٹھ دس کنال میں ہو، اور پھر سکڑ کر کتنا بن جائے؟ سوئی کی نوک جتنا، تو اس میں مادہ جو ہے کتنا اکٹھا ہو جائے گا؟ دب جائے گا نا سب کچھ، دب جائے، تو پھر اس کا وزن بھی بڑا جو، مطلب، اور اس کو آج کل وہ بلیک ہول کے نام سے یاد کر ذکر کیا جاتا ہے بھئی، بلیک ہول.
یہ ستارہ سکڑ جاتا ہے، روشنی ختم ہو جاتی ہے اس کی، پھر چمک باقی نہیں رہتی، سیاہ بند ہو جاتا ہے، بالکل سیاہ، اور سکڑ کر بالکل چھوٹا سا ہو گیا، اور پھر اس کا وزن اتنا بڑھ جاتا ہے، کہتے ہیں اگر کوئی یہ سائنسدان ابھی تک تحقیق میں لگے ہوئے ہیں، کبھی بعض اوقات آتا ہے کہ سائنسدانوں نے دریافت کر لیا، بہرحال ابھی تک پوری حقیقت اس کی واضح نہیں ہوئی، اور کہتے ہیں اس کا اتنا وزن ہوتا ہے پھر اتنا وزن کہ اس بلیک ہول سے اگر ایک سوئی جتنا مادہ لے آئیں نا زمین پر، تو دنیا کی بڑی سے بڑی کرین بھی اس کو نہیں اٹھا سکے گی، اس کا اتنا زیادہ وزن ہوگا بھئی، کیونکہ وہ سکڑ گیا ہے، بہت زیادہ سکڑ گیا ہے، چیز بڑی ہے اور سکڑ کر چھوٹی ہو گئی بھئی.
تو اور پھر یہ, ابھی تک پوری تحقیق تو نہیں ہو سکی، کیونکہ یہ پھر سیاہ ہو جاتا ہے، بالکل سیاہ، روشنی ختم ہو گئی، پھر دکھائی نہیں دیتا، اور اس کی کشش پھر اتنی بڑھ جاتی ہے کہ یہ آس پاس کی چیزوں کو کھینچ کر اپنے اندر ختم کر دیتا ہے، ان کو بھی اپنے اندر لپیٹتا چلا جاتا ہے.
تو شاید، شاید والنجم إذا هوا میں اس کی طرف اشارہ ہو بھئی.
قسم ہے ستارے کی جب وہ گر جائے بھئی، قسم ہے ستارے کی جب وہ گر جائے بھئی.
والنجم إذا هوى، لیکن بہرحال یہ ضابطہ یاد رکھیے، سائنسی ایجادات کو بعينہ قرآن پر منطبق کیا جائے اور کہا جائے یہی معنی ہے قرآن کا، یہ درست نہیں ہے بھئی.
علماء لکھتے ہیں یہ صحیح نہیں، کیونکہ سائنسی نظریات بدلتے رہتے ہیں، اگر آپ کہیں یہی معنی ہے اس کا، اور کچھ عرصے بعد وہ نظریہ بدل جائے، نہیں جی یہ تو ایسا نہیں ہے، تو کیا اس کا تو مطلب ہے العياذ بالله پھر جس نے یہ کہا تھا کہ یہی معنی ہے، تو اس کا تو مطلب ہے پھر قرآن غلط ثابت ہوگیا، حالانکہ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا، تو قطعی نہیں ہم یہ ہاں یہ ہے، اس میں اشارہ ہو سکتا ہے ان چیزوں کی طرف بھی، اگر وہ قطعی ہے، وہ قطعی طور پر یہ نظریہ ثابت ہو جائے.
والنجم إذا هوى، قسم ہے ستارے کی جب غروب ہو جائے.
ما ضل صاحبكم وما غوى، نہ تو تمہارا ما ضل، نہیں بھٹکا صاحبکم تمہارا ساتھی.
صاحبکم سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں بھئی.
مشرکین مکہ کو خطاب ہو رہا ہے بھئی، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہی کے ساتھ رہے، انہی کے ساتھ زندگی گزاری، تو قرآن فرماتا ہے، ما ضل صاحبکم کہ بھٹکا نہیں تمہارا ساتھی، وما غوى، اور نہ راہ راست سے ہٹا ہے.
وما غوى، اور نہ راہ راست سے ہٹا.
ضلالت، یہ بھی گمراہ ہونا، اور غی کا معنی بھی گمراہ ہونا، لیکن دونوں میں فرق یہ ہے کہ ضلالت اس گمراہگی کو کہتے ہیں جس میں انسان کو علم نہیں ہوتا، بےخبری میں غلط راستے پر چل پڑے بھئی۔ لا علمی میں غلط، حق کو چھوڑ کر غلط راستے پر چل پڑے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ ضلالت گمراہ ہونا.
اور غی کے معنی ہیں، ایک شخص کو حق کا پتہ ہے، یہ سیدھا راستہ ہے، پھر اس کو چھوڑ کر غلط راستے پر چل پڑے تو یہ کیا ہے؟ یہ غی ہے بھئی.
سورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اور.
تو معنی کیا ہوا؟ ضلالت میں دیدہ دانستہ، نہیں بلکہ یوں کہیں، نادانستہ غلط راستے پر چلنا، اور غوایت میں دانستہ غلط راستے پر چلنا، تو قرآن کہتا ہے ما ضل صاحبكم وما غوى، کہ یہ جو تمہارے ساتھی ہیں محمد، نہ تو یہ نا دانستہ غلط راستے پر چلے ہیں، اور نہ دانستہ طور پر غلط راستے پر چلے ہیں، بلکہ یہ ٹھیک راستے پر ہیں، یہ ٹھیک راستے پر ہیں.
معنی سمجھ میں آیا بھئی؟.
تو ایک یا تو یہ ترجمہ کر لیں، یہ نہ تو نادانستہ طور پر راہ سے ہٹے ہیں، اور نہ دانستہ اور نہ ہی دانستہ طور پر راستے سے، راہ راست سے ہٹے ہیں.
یہ ترجمہ کر لیں، سمجھ میں آ رہا ہے ترجمہ بھئی؟ کہ پیغمبر، یہ جو تمہارے ساتھی ہیں، نہ تو نادانستہ طور پر راستے سے ہٹے ہیں اور نہ ہی دانستہ طور پر راستے سے، راہ راست سے ہٹے ہیں.
یا یہ ترجمہ کر لیں، ما ضل صاحبكم وما غوى، نہ تو تمہارا ساتھی.
بھٹکا ہے راستے سے اور ماغوا اور نہ غلط راستے پر چلے ہیں۔
ربط کیا ہے بھئی؟ قسم ہے ستارے کی جب وہ گرے، اور آگے جواب قسم کیا آیا کہ نہ تو یہ پیغمبر، نہ تو راہ راست سے ہٹے ہیں اور نہ ہی راہ راست کو انہوں نے چھوڑا ہے۔ ربط یہ کہ جس طرح ایک ستارہ ہے جو آنکھ سے نظر آنے والا، اس کو جس طرح اللہ نے کام پر لگایا ہے اور یہ اپنے راستے پر چل رہا ہے، اس راستے سے ادھر ادھر نہیں ہوتا، اسی جگہ سے طلوع ہوتا ہے اور اسی جگہ پر غروب ہوتا ہے جیسے اللہ نے مقرر فرمایا ہے بھئی۔ اسی طرح یہ پیغمبر جو ہیں، یہ بھی ٹھیک اسی راستے پر چل رہے ہیں جس کا ان کو اللہ نے حکم دیا ہے، یہ اس سے ذرا بھی دائیں بائیں نہیں ہوئے بھئی، دائیں بائیں تو جس طرح یہ ستارہ، یہ جس طرح ٹھیک راستے پر چل رہا ہے، اسی طرح یہ آفتابِ نبوت بھئی، یہ آفتابِ نبوت بھی اسی طرح ٹھیک ٹھیک اپنے راستے پر چل رہا ہے۔
تو یہ جو تم لوگ الزام لگاتے ہو ان پر طرح طرح کے، یہ محض تمہاری بنائی ہوئی باتیں ہیں، یہ پیغمبر اپنے ٹھیک راستے پر ہی ہے۔ وما ينطق عن الهوى اور نہیں یہ بولتے عن الهوى اپنی خواہشِ نفس سے۔ میں نے بتایا تھا ہوا خواہشِ نفس کو کہتے ہیں اور یہ اچھی محمود بھی ہو سکتی ہے، مذموم بھی ہو سکتی ہے، اچھی بھی ہو سکتی ہے، بری بھی، لیکن عموماً یہ استعمال کس میں ہوتا ہے؟ بری میں ہی استعمال ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں وما ينطق عن الهوى یہ اپنی خواہشِ نفس سے کلام نہیں کرتے۔ نطق کہتے ہیں کلام کرنا۔ وما ينطق عن الهوى اور یہ کلام نہیں کرتے عن الهوى اپنی خواہشِ نفس سے۔ ان هو إلا وحي يوحى ان نفی کے لیے ہے بھئی، نہیں ہے یہ، إلا مگر وحی ایسی وحی يوحى جو بھیجی جاتی ہے۔
یہ تو جو بھی کلام کرتے ہیں یہ ایسی وحی ہے جو بھیجی جاتی ہے۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ وما ينطق عن الهوى ان هو إلا وحي يوحى اور یہ کلام نہیں کرتے، یہ بولتے نہیں ہیں اپنی خواہشِ نفس سے، یہ تو وحی ہی ہے بھیجی ہوئی، یہ تو وحی ہی ہے بھیجی ہوئی کہ ان پیغمبر کے افعال کو تو چھوڑو، افعال تو ان کے ہیں ہی درست، حتی کہ ان کے جو یہ جو باتیں کرتے ہیں، جو بولتے ہیں، یہ بھی وحی ہے، یہ اپنی خواہشِ نفس سے کوئی کلام نہیں کرتے بھئی۔
چنانچہ روایات میں آتا ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ فرماتے تھے، میں اس کو لکھ لیا کرتا تھا یاد کرنے کے لیے۔ تو بعض صحابہ کو پتہ چلا تو انہوں نے مجھے منع کیا کہ بھئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی انسان ہیں، تو کبھی غصے کی حالت میں ہوں گے، کوئی بات کر دی تو تم تو سارا کچھ جا کر لکھ لیتے ہو تو میں رک گیا لکھنے سے اور پھر حضور علیہ السلام کے سامنے یہ بات ذکر کی تو حضور علیہ السلام نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، اس زبان پر سے چاہے جس حالت میں بھی میں ہوں، حق ہی نکلتا ہے، نا حق بات کوئی نہیں نکلتی۔ یعنی لکھ سکتے ہو، سب کچھ لکھ سکتے ہو۔
وما ينطق عن الهوى ان هو إلا وحي يوحى اور نہیں وہ بولتے اپنی خواہشِ نفس سے، ان هو إلا وحي يوحى نہیں ہے وہ مگر ایک وحی يوحى جو بھیجی جاتی ہے۔ تو پیغمبر کا ہر کلام وحی ہے۔ جیسے یہ قرآن وحی، اسی طرح آپ کی حدیث بھی کیا ہے؟ وحی۔ ہاں فرق یہ ہے، یہ قرآن وحی متلو ہے، اس کی تلاوت کی جاتی ہے، نماز کے اندر اس کی تلاوت فرض ہے، اور حدیث کیا ہے؟ وحی غیر متلو ہے، یعنی اس کی نماز وغیرہ میں اس کی تلاوت فرض نہیں ہے بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ متلو کا کیا معنی؟ تلاوت کی جاتی ہے۔ اصول الشاشی میں پڑھا یا نہیں بھئی؟ وحی متلو اور غیر متلو بھئی۔ جی؟ وحی متلو اور جس کی تلاوت کی جاتی ہے، غیر متلو جس کی تلاوت نہیں کی جاتی۔ لیکن جب آپ دورہ حدیث کریں گے، تو وہاں آپ سنیں گے طلباء سے کہ آج میں تلاوت کروں گا، دوسرا کہتا ہے میں تلاوت کروں گا، سبق میں استاد کے سامنے جو عبارت پڑھنی ہوتی ہے حدیث کی، اس کو وہ تلاوت ہی کہتے ہیں۔ حدیث کے پڑھنے کو بھی کیا کہتے ہیں؟ تلاوت ہی کہتے ہیں۔ تو آپ کے ذہن میں یہ اشکال آئے گا (یرحمک اللہ) کہ یہ تو ہم نے تو پڑھا تھا قرآن ہے متلو جس کی تلاوت کی جاتی ہے، اور حدیث تو کیا ہے غیر متلو جس کی تلاوت نہیں، لیکن یہاں تو طلباء سب کے لیے تلاوت کا لفظ استعمال کر رہے ہیں۔ جواب یہ کہ یہ متلو اور غیر متلو سے یہ مطلب نہیں ہے کہ جس کے لیے تلاوت کا لفظ استعمال ہوتا ہے، حدیث کے لیے تلاوت کا لفظ استعمال نہیں ہوتا۔ متلو کا معنی ہے جس کی تلاوت کی جاتی ہے یعنی نماز میں، کس میں؟ نماز میں جس کی تلاوت فرض ہے، اور حدیث کی تلاوت نماز میں فرض نہیں تو وہ غیر متلو ہے۔ ویسے دونوں کے پڑھنے پر تلاوت کا لفظ بولا جاتا ہے بھئی۔
علمہ شدید القوی علمہ ہذا ضمیر راجع ہے اس صاحبکم کو، تمہارے اس ساتھی کو سکھایا ہے شدید القوی، سخت قوتوں والوں نے، سخت قوتوں والے نے شدید القوی قوا جمع ہے قوت ان کی بھئی، قوتیں۔ شدید القوی، شدید قوتوں والا، سخت قوتوں والا ذو مرۃ، مرہ بھی قوت کو کہتے ہیں بھئی، ذو مرہ کا کیا معنی ہوا؟ قوت والا، زوراور بھئی، طاقت والا۔
اور یہ شدید القوی اور ذو مرہ یہ اس سے مراد ہیں حضرت جبرئیل علیہ السلام بھئی۔ اللہ فرما رہے ہیں علمہ شدید القوی ذو مرۃ کہ اس تمہارے ساتھی کو یعنی اس پیغمبر کو سکھلایا ہے، کس نے سکھایا ہے؟ شدید القوی سخت قوتوں والے ذو مرۃ طاقتور نے، سخت قوتوں والے طاقتور نے، زوراور نے سکھایا ہے یعنی وہ ان کے پاس وحی لے کر آتے ہیں جبرئیل علیہ السلام۔
فاستوى استوا کے معنی میں نے بیان کیے پہلے بھی بھئی، اس کے معنی بیٹھنے کے ہیں بھئی۔ استوا فاستوى پس وہ سیدھا بیٹھا فاستوى پس وہ سیدھا بیٹھا مراد حضرت جبرئیل علیہ السلام ہیں۔
وهو بالأفق الأعلى اور وہ اوپر والے کنارے کے پاس تھا۔ افق کہتے ہیں آسمان کا کنارہ بھئی، جیسے ایک کنارہ ہے جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے، ایک کنارہ ہے جہاں سورج غروب تو یہ آسمان کے کنارے اور افق اعلی اوپر والا کنارہ، مراد اس سے مشرق ہے بھئی، کیا مراد ہے؟ مشرق مراد ہے۔
تو کہتے ہیں فاستوى پس وہ سیدھا بیٹھا وهو بالأفق الأعلى اور وہ اوپر والے کنارے کے پاس تھا۔ ثم دنا، دنا یڈنو کے معنی قریب ہونے کے، اسی سے یہ دنیا بھی ہے بھئی، دنیا، دنیا کو بھی دنیا کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ یہ آخرت کے مقابلے میں قریب ہے۔
ثم دنا، پھر وہ قریب ہوا فتدلی، تدلی کے معنی بھی قریب ہونے کے، ثم دنا فتدلی، پھر وہ قریب ہوا، فتدلی، پھر اور قریب ہوا۔ پھر وہ قریب ہوا، پھر اور قریب ہوا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرئیل امین کی اس کو اصل صورت میں دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا تو اللہ نے ان کو دکھلایا بھئی ان کی اصل صورت میں۔ کہتے ہیں آپ غار حرا میں تھے اور وہاں یہ میں نے بتلایا ابتدائی نبوت کا زمانہ ہے، تو حضرت جبرئیل علیہ السلام اپنی اصل صورت میں ظاہر ہوئے، آپ ایک کرسی پر تشریف فرما تھے بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ فاستوى پس وہ سیدھا بیٹھا یعنی کس پر تشریف فرما تھے؟ کرسی پر تشریف فرما تھے اور حدیث میں آتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نے انہیں ان کی اصل شکل میں دیکھا اور ان کے چھ سو پر تھے بھئی حضرت جبرئیل علیہ السلام کے اور جن سے جواہرات اور موتی وغیرہ گر رہے تھے۔
تو اسی کا ذکر ہے یہاں پر بھئی، حضور علیہ السلام نے دو مرتبہ حضرت جبرئیل علیہ السلام کو ان کی اصل شکل میں دیکھا، ایک یہ ہے اور ایک آگے چند آیات کے بعد پھر اس کا ذکر آرہا ہے دوسری مرتبہ بھئی۔
اور بڑی قوت والے ہیں حضرت جبرئیل علیہ السلام بھئی، کتنی قوت ہے اندازہ لگائیے، قوم لوط کے بستیوں کو کس طرح انہوں نے پروں پر اٹھایا اور اٹھا کر زمین پر پٹخ دیا بھئی۔
تو بڑی قوت اللہ نے ان کو دی ہے، یہ تو اس کا ادنا سا نمو نہ، تو اصل قوت کتنی ہوگی، دنیا تو وہ تو ساری دنیا کے بھی چاہیں تو ایک لمحے کے اندر ختم کر دیں لیکن یہ بطور مثال کے میں نے ذکر کیا۔
اللہ جب فرما رہے ہیں کہ ہم نے اس کو سخت قوتیں دی ہیں تو اس کی کتنی قوت ہوگی اندازہ لگائیے بھئی۔
علمہ شدید القوی ذو مرۃ سکھایا ہے اس کو سخت قوتوں والے طاقتور نے فاستوى پس وہ سیدھا بیٹھا وهو بالأفق الأعلى اور وہ اوپر والے کنارے کے پاس تھا، کہتے ہیں حضرت جبرئیل علیہ السلام کو دیکھا کرسی پر بیٹھے ہوئے اور اتنا بڑا وجود تھا ان کا کہ پورے افق کو ہر طرف سے انہوں نے بھر دیا تھا بھئی، پورا آسمان کو بھرا ہوا تھا انہوں نے۔
ثم دنا پھر وہ قریب ہوئے، پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام حضور علیہ السلام کے قریب ہوئے فتدلی تو اور قریب ہوئے فکان قاب قوسین او أدنى پس وہ دو کمانوں کی مقدار یا اس سے بھی قریب تھے، دو کمانوں کی مقدار یا اس سے بھی قریب تھے۔ قاب، قاب کہتے ہیں مقدار کو، مقدار۔ قوسین، تثنیہ ہے بھئی، قوس کسے کہتے ہیں؟ کمان کو، ایک تیر ہے، ایک کمان بھئی، جس کے ذریعے اس کو پھینکا جاتا ہے، اس کمان کو عربی میں کیا کہتے ہیں؟ قوس۔ تو اسی سے تثنیہ قوسین دو کمانہ، دو کمانوں کی مقدار، قاب قوسین دو کمانوں کی مقدار۔ او أدنى، یا اس سے بھی قریب۔
معنہ پر نظر ہے بھئی، فکان وہ قریب ہوئے پھر اور قریب ہوئے فکان قاب قوسین أو أدنى پس وہ دو کمانوں کی مقدار یا اس سے بھی قریب تھے۔
یاد رکھیے یہ او شک کے لیے نہیں ہے کہ دو کمانوں کی مقدار تھے یا اس سے کچھ قریب تھے، یہ معنی نہیں۔ او شک کے لیے نہیں۔ اللہ کا علم بڑا کامل، اللہ کو ہر چیز کا علم، شک تو اس کو ہوگا جس کا علم نہ ہو بھئی، تو یہ شک کے لیے نہیں۔ بلکہ یہ تاکید اور مبالغے کے طور پر اس طرح کلام کیا جاتا ہے کہ یعنی جو اتنے قریب آگئے کہ دو کمان یا اس سے بھی قریب تھے، یعنی اس سے زیادہ تو قطعا نہیں تھے، انتہائی نزدیک قرب کو بیان کرنے کے لیے کلام عرب میں اس طرح یہ محاورہ ہے، کلام عرب میں اس طرح کلام کیا جاتا ہے۔
آپ مثلاً اردو میں بھی کہتے ہیں دوسرے سے کہ بھئی کہ میں اس کے پانچ فٹ یا اس سے بھی زیادہ قریب تھا، کیا مطلب ہوتا ہے؟ باقاعدہ فاصلہ بتلانا مقصد ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہوتا ہے میں اس کے بہت قریب تھا، کم از کم اس سے زیادہ تو قطعا نہیں تھا، پانچ فٹ سے زیادہ تو قطعا نہیں تھا بھئی، صورت سمجھ تو یہاں بھی اسی طرح ہے، یہ تاکید اور مبالغے کے لیے ہے کہ اس سے زیادہ بعید نہیں تھے، اس سے قریب ہی تھے۔
فکان قاب قوسین أو أدنى پس وہ دو کمانوں کی مقدار یہ اس سے بھی قریب تھے فاوحی الی عبدہ ما اوحی پس وحی کی اللہ نے الی عبدہ اپنے بندے کی طرف ما اوحی جو اللہ نے وحی کی عبدہ سے کون مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
فاوحی الی عبدہ ما اوحی پس اللہ نے وحی بھیجی اپنے بندے کی طرف جو وحی بھیجی یعنی جو اللہ کو وحی بھیجنی تھی وہ اللہ نے اپنے بندے کی طرف وحی بھیج دی
ما کذب الفؤاد ما راٰی نہیں جھوٹ بولا الفؤاد دل نے فؤاد کس کو کہتے ہیں دل کو اور الف لام آیا الفؤاد کوئی مخصوص دل مراد ہے اور وہ کس کا دل مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا
ما کذب الفؤاد ما راٰی نہیں جھوٹ بولا ان کے دل نے ما راٰی اس چیز میں جس کو اس نے دیکھا بھئی بعض اوقات ایک چیز ہوتی نہیں انسان سمجھتا کچھ اور ہے بعد میں نکلتی کچھ اور ہے اللہ فرما رہے ہیں نہیں ایسا یہاں ایسا بھی نہیں تھا کہ پیغمبر کی آنکھیں کچھ دیکھ رہی ہوں اور ہوں کچھ اور دل کچھ سمجھ رہا ہو اور حقیقت کچھ اور بلکہ جو ان کے دل نے سمجھا ان کے دل نے بھی ان کو بتایا کہ یہ جبریل ہیں اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں تو دل نے جو سمجھا تھا
وہ غلط نہیں سمجھا وہی سمجھا جو تھا بھئی بات حقیقت بھی یہی تھی جو دل نے سمجھا بھئی
تو ما کذب الفؤاد کا لفظی ترجمہ میں نے کیا دل نے جھوٹ نہیں بولا کس چیز میں ما راٰی وہ چیز جس کو اس نے دیکھا یعنی جس کو آنکھوں نے دیکھا دل نے اس میں جھوٹ نہیں بولا یعنی دل نے اس کو غلط نہیں سمجھا دل نے اس کو اس دل نے بھی تائید کی کہ یہی چیز اس میں
ما کذب الفؤاد ما راٰی جھوٹ نہیں بولا اس دل نے ما راٰی اس چیز میں جو اس نے دیکھا بھئی جس کو اس نے دیکھا یعنی دل نے جھوٹ نہیں بولا یعنی غلطی نہیں کی بھئی یعنی ما کذب الفؤاد ما راٰی پیغمبر کے دل نے غلطی نہیں کی اس چیز میں جو اس نے دیکھی یعنی جو انہوں نے دیکھا وہ واقعی اسی طرح تھا واقعی اسی طرح تھا بھئی دل نے اس کے دیکھنے میں کوئی غلطی نہیں کی
یعنی انہوں نے فرشتے کو دیکھا اپنی اصلی حالت میں اور وہ وہی فرشتے ہی تھے اس کے دیکھنے میں کوئی غلطی نہیں کی دل نے وہ واقعی جبریل ہی کو دیکھا ان کی اصل حالت میں
أفتمارونه على ما راٰی کیا پس تم جھگڑتے ہو ان سے علی ما راٰی اس چیز پر جس کو انہوں نے دیکھا کیا مشرکین مکہ کیا تم پیغمبر سے جھگڑتے ہو اس بات پر جس کو جو انہوں نے دیکھا پیغمبر بیان کرتے ہیں میں نے اس طرح فرشتے کو دیکھا اتنا بڑا فرشتہ تھا تم جھگڑتے ہو ان کے ساتھ تو یہ جو کچھ انہوں نے دیکھا اور جس کی اور اس کی ان کے دل نے بھی تائید کی وہ برحق تھا تم اس کے بارے میں بلاوجہ جھگڑتے ہو أفتمارونه على ما راٰی پس کیا تم جھگڑتے ہو اس سے اس پر جو اس نے دیکھا یہاں تک معنی سمجھ میں آگیا بھئی
ولقد راه نزلة أخرى نزلة ای مرة بھئی اور تحقیق دیکھا اس فرشتے کو نزلة اخرى ای مرة اخرى ایک اور مرتبہ بھی
ولقد راه نزلة أخرى نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فرشتے کو ایک مرتبہ اور بھی دیکھا
ولقد راه نزلة أخرى اور تحقیق دیکھا اس پیغمبر نے یہ راٰی کے اندر ہوا ضمیر راجع ہے صاحبكم کو
یا وہی مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں عبده کے ضمن میں بھی یہ بھی حضور علیہ السلام مراد ہیں بھئی تو اس کی طرف راجع کردیں ولقد راه نزلة أخرى اور دیکھا پیغمبر نے اس فرشتے کو نزلة اخرى ایک اور مرتبہ عند سدرة المنتهٰی سدرة المنتہی کے پاس کس کے پاس سدرۃ المنتہی کے پاس
سدرة المنتهٰی جو ہے یہ ساتویں آسمان پر ایک بیری کا درخت ہے بھئی بیری کا ایک درخت ہے
دنیا کی بیری کے درختوں پر اس کو قیاس نہ کرنا یہ صرف نام کی مشابہت ہے بھئی حقیقت اللہ ہی جانتے ہیں جیسے جنت کی چیزیں بتلانے کے لیے دنیا کی چیزوں کے ساتھ مثال بیان کی جاتی ہے کہ جنت میں درخت ہیں جنت میں نہریں ہیں جنت کے اندر محل ہیں لیکن دنیا کی چیزوں کے ساتھ اس کی جو ہے ادنی ادنی جو ہے اس کی مماثلت بھی نہیں وہ اور ہی چیز بس سمجھانے کے لیے ہے تو اسی طرح ساتویں آسمان پر ایک بیری کا درخت ہے بھئی جو حد ہے مولانا حد نیچے والے اس سے اوپر نہیں جاسکتے نیچے والے جو فرشتے ہیں اور اوپر والوں کو اس سے نیچے آنے کی اجازت نہیں جو اوپر عرش کی طرف جو فرشتے ہیں ان کو نیچے آنے کی اجازت نہیں بھئی
سمجھ میں آیا بھئی یہ وہ مقام ہے جب حضور علیہ السلام معراج پر تشریف لے گئے تو حضرت جبریل علیہ السلام بھی یہاں جا کر رک گئے کہ یہ میری حد ہے میں اس سے اس سے مجھے آگے جانے کی اجازت نہیں ہے تو یہ وہ سدرۃ المنتہی تو حضور علیہ السلام نے دوسری مرتبہ ان کو دیکھا لیلۃ المعراج میں سدرۃ المنتہی کے پاس حضرت جبریل علیہ السلام کو ان کی اصل شکل میں تو اللہ فرما رہے ہیں ولقد راه نزلة اخرى اور آپ تمہارے ساتھی نے اس فرشتے کو دیکھا ایک مرتبہ اور بھی عند سدرة المنتهٰی سدرۃ المنتہی کے پاس
عندها جنت الماوی اس سدرۃ المنتہی کے پاس جنت الماوی ہے بھئی کیا ہے جنت الماوی یا تو یہ کوئی خاص جنت ہے جس کا نام ہی کیا ہے جنت الماوی بھئی یا الماوی کے معنی ہیں ٹھکانے کے تو الماوی کی طرف جو جنت کی اضافت کی گئی رہنے کی جنت بھئی تو چونکہ جنت بھی مومنین کے رہنے کی جگہ ہے ان کا ٹھکانہ ہے اس لیے اس جنت کو کیا کہہ دیا گیا جنت الماوی یعنی عام جنت ہر جنت جنت الماوی ہے
عندها جنت الماوی اس سدرۃ المنتہی کے پاس جو ہے جنت الماوی ہے رہنے کی جنت ہے اذ یغشی السدرة ما یغشی جس وقت کہ ڈھانپ رہا تھا بیری کے اس درخت کو ما یغشی وہ چیز جو اسے ڈھانپ رہی تھی جس وقت کہ سدرۃ المنتہی کو ڈھانپ رہی تھی وہ چیز جو اس کو ڈھانپ رہی تھی بھئی
یاد رکھیے ایک چیز جب انسان اس کو پورا دیکھ لے اس پر واضح ہو جائے اس کو سمجھ لے جانتا ہو اس کو تو اس کی وہ ہیبت یا اس کی وہ ہیبت اور عظمت دل میں نہیں رہتی جو علم سے پہلے تھی بھئی چیز جتنی ظاہر ہوگی اس کی عظمت اور ہیبت دل میں کم ہوگی اور جتنی مخفی ہوگی اتنی اس کی عظمت اور ہیبت دل پر زیادہ ہوگی بھئی بات سمجھ میں آئی بھئی
اور چنانچہ یہاں پر اللہ نے اس کو مبہم رکھا بھئی ہیبت اور عظمت کے لیے کہ جتنی جتنا چیز مبہم ہوتی ہے اتنی اس کی عظمت اور ہیبت ہوتی ہے تو اللہ نے بھی بیان نہیں فرمایا کہ کیا چیز ڈھانپ رہی تھی سدرۃ المنتہی کو بھئی
समझ में आया भाई जो इस યغشی السدرة ما یغشی جب کہ ڈھانپ رہی تھی سدرۃ المنتہی کو وہ چیز جو ڈھانپ رہی تھی آپ بھی اسی طرح کرتے ہیں بھئی کسی چیز کی عظمت اور ہیبت کا بتلانا مقصود ہو تو آپ اس کو مبہم رکھتے ہیں بھئی اپنے ساتھیوں کو آ کر بتاتے ہیں آج تو ایک عجیب معاملہ ہوا وہ پوچھتے ہیں کیا ہوا کہتے ہیں بس نا ہی پوچھو تو بہتر ہے کیا ہوا بھئی اتنا عجیب معاملہ بھئی بیان کے قابل ہی نہیں ہے اب دیکھو بڑا ان پر اثر پڑے گا لیکن جب آپ بیان کر دیں گے پھر وہ اثر باقی نہیں رہے گا بھئی جتنی بھی ہیبت والی اور عظمت والی چیز کو جی سمجھ میں آیا تو آپ بھی کرتے ہیں نہیں کرتے اس طرح اگرچہ ان نکات کی طرف توجہ با اوقات نہیں ہوتی لیکن یہ بلاغت کے ضابطے ہیں عام کلام کے اندر اسی طرح ہوتا ہے جب کسی چیز کی دوسرے پر اثر ڈالنا ہو تو انسان اس کو مبہم رکھتا ہے تو یہاں پر بھی ابہام اسی وجہ سے کہ جس وقت ڈھانپ رہی تھی بیری کو وہ چیز جو اس کو ڈھانپ رہی تھی احادیث میں آتا ہے بھئی
کہ اس وقت سدرۃ المنتہی جو ہے اس جب وہاں پر حضور علیہ السلام تشریف لے گئے اس کا منظر دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا اتنا حسن و جمال تھا اتنا حسن و جمال کہ بیان نہیں ہو سکتا کہتے ہیں سونے رنگ کے پروانے سونے رنگ کے چمکدار پروانے جو تھے اس پوری بیری پر چھائے ہوئے تھے بھئی پوری بیری پر جس کی شاخیں اور وغیرہ جو ہیں وہ یاقوت موتی زبرجد وغیرہ کی تھیں بھئی تو کتنا حسین و جمال منظر ہوگا جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا تو وہ سنہرے پروانے چمکدار وہ پورے بیری پر چھائے ہوئے تھے اور بیری کا اپنا حسن و جمال تو ایک عجیب کیفیت تھی بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ فرشتے تھے سارے بھئی یہ جو پروانے تھے جو حضور علیہ السلام کی آمد کا سن کر آپ کی زیارت کے لیے وہاں جمع ہوئے تھے بھئی اور سنہرے پروانوں کی صورت میں تھے سنہرے پروانے تو مراد وہ پروانے ہیں جنہوں نے اس بیری کو کیا کیا ہوا تھا ڈھانپ رکھا تھا یا مراد اللہ کی جو خاص انوارات اور تجلیات ہیں جو اس وقت وہاں پر پڑ رہی تھیں بھئی اذ یغشی السدرة ما یغشی جب ڈھانپ لیا جب ڈھانپ رہا تھا بیری کو جب ڈھانپ رہی تھی بیری کو ما یغشی وہ چیز جو ڈھانپ رہی تھی ما زاغ البصر وما طغی نہ تو نگاہ ٹیڑھی ہوئی زاغ البصر نگاہ کا ٹیڑھا ہونا وما طغی طغی حد سے بڑھنا نہ تو نگاہ ٹیڑھی ہوئی اور نہ حد سے بڑھی نہ تو نگاہ ٹیڑھی ہوئی اور نہ حد سے بڑھی بھئی ایک آدمی آپ کے سامنے کھڑا ہو آپ اس کو ٹھیک طور پر تبھی دیکھ سکیں گے جب اسی پر نظر جما کر اسے دیکھیں اور اگر دائیں بائیں آپ کی نظر پڑے گی تو اس پر تو صحیح طرح نہیں جمے گی آپ کو دکھائی نہیں دے گا یا اس دائیں بائیں تو آپ کی نظر نہیں مڑی ہاں اس سے ایک اور پیچھے دور چیز تھی اس پر نظر اس طرف چلی گئی تو بھی آپ کو صحیح طرح یہ آدمی دکھائی نہیں دے گا بھئی تو زاغہ کے مراد کیا ہوا ٹیڑھی ہونے کی یعنی ادھر ادھر مائل بھی نہیں ہوئی نظر حضور علیہ السلام کی اور جو
درخت وہ بیری کا درخت تھا اس سے آگے بھی تجاوز نہیں کی بھئی کہ اس سے دور والی چیز کی طرف دیکھنے لگیں تو یہ معنی ہے کہ ما زاغ البصر وما طغی نہ تو نظر نگاہ ٹیڑھی ہوئی یا یوں کہیں نہ تو نگاہ پھسلی وما طغی اور نہ حد سے بڑھی یعنی خوب نظر جما کر اچھی طرح دیکھا بھئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
ما زاغ البصر وما طاغت نگاہ پھسلی اور نہ حد سے بڑھی اور نیز بادشاہوں کے دربار میں
جس چیز کو دکھلانا منظور ہو
اس کو چھوڑ کر دوسرے کی طرف چیزوں کی طرف دیکھنا اور جس چیز کا نہ دکھلانا منظور ہو اس کی طرف نظر کرنا یہ دونوں باتیں پسندیدہ نہیں اور چنانچہ حضور علیہ السلام کی نگاہ بھی جس چیز کا دکھلانا مقصود تھا اسی پر جمی نہ تو دوسری چیزوں کی طرف پھسلی اور نہ اس کو چھوڑ کر دور کی چیزوں کی طرف حد سے بڑی اور چیزوں کی طرف گئی
لقد راى من آيات ربه الكبرى الکبری صفت ہے آیات کی تحقیق دیکھا انہوں نے اس انہوں نے من آیات ربه الکبری اپنے پروردگار کی بڑی نشانیوں میں سے پیغمبر نے اپنے پروردگار کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے کچھ دیکھیں بھئی وہاں پرلقد راى من آیات ربه الکبری تحقیق دیکھیں حضور علیہ السلام نے اپنے پروردگار کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے بعض بھئی من کیا ہے من تبئیزیہ ہے بعض نشانیاں
تحقیق پیغمبر نے اپنے پروردگار کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے بعض نشانیاں دیکھیں
افرايت اللات والعزى کیا تم نے دیکھا ہے لات اور عزّی کو ومناة الثالثة الأخرى اور تیسرا منات جو کہ پچھلا ہے
لات عزّی اور منات یہ وہ تین بت اور معبود معبودان باطلہ جو اہل عرب میں جن کی بڑی شہرت تھی اور بڑی ہیبت تھی ان کے ان عربوں کے دلوں کے اندر بھئی۔ لات، عزّیٰ اور منات بھئی۔ یہ تین بت تھے بھئی
جن کی عبادت کرتے تھے
اور ان کے دلوں میں ان کی بڑی ہیبت تھی
لات یہ تو ایک شخص گزرا تھا
جس کی
جو حاجیوں کی خدمت کیا کرتا تھا تو بعد والوں نے اسی کا بت بنا لیا اور پھر رفتہ رفتہ اس کی عبادت شروع کر دی
اور عزّی کہتے ہیں یہ ایک درخت تھا بھئی
اور بعض روایت سے پتہ چلتا ہے یہ کوئی جنّی تھی بھئی جنّیا بھئ جنّیا
اور اس کی تو بڑی ہیبت تھی پورے عرب میں اور منات یہ بت تھا اس کی بعض کے نزدیک بڑی ہیبت تھی اور لیکن اس کا درجہ ان دو سے کم تھا لات اور عزّی سے کیا تھا اس کا درجہ کم تھا اس ان کو بڑا سمجھتے تھے اس کو لیکن تھی اس کی بھی شہرت تو ان تین کی بڑی شہرت تھی تو ان کا اللہ نے ذکر فرمایا
اور چونکہ منات کا درجہ کم تھا اسی لیے اس کی صفت الثالثة الأخرى لائی گئی بھئی
کہ جو پیچھے ہیں ان باقیوں سے پیچھے ہے تیسرے درجے میں ہے
افرايت اللات والعزى کیا تم نے دیکھا ہے لات عزّی اور لات اور عزّی کو ومناة الثالثة الأخرى اور تیسرے منات کو جو کہ پچھلا ہے یعنی جو ان سے درجے میں پیچھے ہے بھئی
بھئی اس بارے میں آگے تفاسیر میں پڑھیں گے آپ
کہ
یہ جب آیتیں حضور علیہ السلام تلاوت فرما رہے تھے
بعض روا بعض تفاسیر میں یہ بات آتی ہے
کہ جب آپ یہ آیات پڑھ رہے تھے
تو یہ جب اس جگہ پر پہنچے افرايت اللات والعزى ومناة الثالثة الأخرى
تو شیطان نے بھی اس موقع پر حضور علیہ السلام جیسی آواز بنائی
اور اس نے بھی چند لفظ بڑھا دیے
اور وہ کیا لفظ تھے
تلک الغرانیق العلی ان شفاعتهن لترتجى
اور یہ ان کے بتوں کا ذکر تھا اور اس میں ان کی یہ سفارش وغیرہ کا بھی ذکر تھا عرب کیا کہتے تھے کہ یہ اللہ کے ہاں ہماری سفارش کرتے ہیں تو اللہ ہمارے کام بنا دیتے ہیں
تو چنانچہ اسی وجہ سے پھر وہ سارے بھی چونکہ ان کے بتوں کا بھی ذکر آ گیا تھا اور ان کی تعریف بھی ہو گئی کہ ان شفاعت کی تو کیا کی جاتی ہے امید کی جاتی ہے
تلک الغرانیق العلی ان شفاعتهن لترتجى ان کی شفاعت کی امید تو ان کے بتوں کی بھی تعریف آ گئی تھی اسی لیے جب مسلمان سجدے میں گرے تو یہ بھی سجدے میں گر گئے
یہ بھی سجدے میں اور یہ کس نے الفاظ کہے تھے شیطان نے کس انداز میں کہے تھے حضور علیہ السلام کی آواز بنا کر بھئی
آواز بنا کر
لیکن علمائے محققین لکھتے ہیں
کہ یہ درست نہیں بھئی
شیطان حضور علیہ السلام کی نہ صورت بنا سکتا ہے نہ آواز اپنا سکتا ہے
اگر ایسا ہو جائے پھر تو ساری وحی ہی مشکوک ہو جائے کہ کہاں پتہ نہیں شیطان نے حضور علیہ السلام کی صورت یا آواز بنا کر کہہ دیا ہو بھئی
بات سمجھ میں آ گئی بھئی تو بس یہ مختصر میں نے کہا اشارہ آپ کو کر دوں کہ یہاں آگے چل کر یہ تفسیر بھی آپ کو بعض جگہ ملے گی بھئی
افرايت اللات والعزى ومناة الثالثة الأخرى کیا تم نے دیکھا ہے لات عزّی اور اور منات جو تیسرا پچھلا ہے
یعنی ان کو دیکھو ان کی کوئی حقیقت نہیں یہ ان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور اللہ کی قدرت اور عظمت کو یہ لوگ سمجھتے نہیں ہیں
الکم الذکر وله الأنثى کیا تمہارے لیے تو بیٹے ہوں وله الأنثى اور اس کے لیے بیٹیاں ہوں
ذکر مرد بھئی انثی عورت مراد بیٹے اور بیٹیاں ہیں الکم الذکر کیا تمہارے لیے تو مرد ہوں یعنی بیٹے ہوں وله الأنثى اور اس کے لیے مؤنث یعنی بیٹیاں ہوں
تلک اذا قسمة ضيزا پھر تو یہ
قسمة ضيزا
ضیضا بھئی ظالمانہ
غیر منصفانہ یہ صفت ہے قسمة کی
قسمت کی
اللہ فرما رہے ہیں کہ تم اپنے لیے تو بیٹے پسند کرتے ہو اور اللہ کے لیے بیٹیاں
تلک اذا قسمة ضيزا پھر تو یہ بڑی ظالمانہ تقسیم ہے کیسی تقسیم کرتے ہو اپنے لیے بیٹے اور خالق کے لیے بیٹیاں اول تو خالق کی اولاد ہی کوئی نہیں اور اگر تم
پھر تم ثابت بھی کرتے ہو تو کس کو ثابت کرتے ہو جو کمزور اور ضعیف ہے اس کو ثابت کرتے ہو خالق کے لیے
تلک اذا پھر تو یہ قسمة ضيزا ایسی تقسیم ہے جو بڑی ظالمانہ ہے
إن هي إلا أسماء سميتموها أنتم وآباؤكم نہیں ہیں یہ
إلا أسماء مگر ایسے نام سميتموها جو تم نے رکھ لیے ہیں سمي سمّی تسمیہ کا کیا معنی ہے نام رکھنا
اور یہ صفت ہے اسماء کی
نہیں ہیں یہ جو تم نے رکھے ہیں
یہ جو لات عزّی منات وغیرہ یہ کوئی چیز نہیں ہے
یہ کوئی معبود نہیں کوئی چیز نہیں یہ صرف نام ہیں جو تم لوگوں نے رکھ دیے ہیں
یا تم یہ جو فرشتوں کو کیا کہتے ہو
اسی طرح یہ ان بتوں کو بھی اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے بھئی یہ لات عزّی اور منات ان کو بھی اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے اور اس طرح فرشتوں کو بھی اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے
تو اللہ فرما رہے ہیں یہ نام ہی ہیں جو تم نے رکھے ہیں
یہ صرف کیا ہیں ان کی حقیقت کچھ نہیں یا فرشتوں کو تم بیٹیاں کہتے ہو بھئی فرشتوں کا مذکر مؤنث ہونے سے کیا تعلق وہ تو مخلوق ہی الگ ہے تو یہ صرف تمہارے کہنے کی باتیں ہی ہیں یہی لات عزّی اور منات جو تم نے نام رکھے ہیں اپنے معبود بنائے ہیں یہ صرف تمہارے کہنے کی باتیں ہیں ان کی حقیقت کچھ بھی نہیں ہے
إن هي إلا أسماء سميتموها أنتم وآباؤكم نہیں ہیں یہ مگر ایسے نام جو تم نے رکھے ہیں وآباؤكم اور تمہارے تمہارے باپ دادا نے ما أنزل الله بها من سلطان نہیں نازل کی اللہ نے اس پر کوئی دلیل
ما أنزل الله بها اللہ نے ان پر من سلطان کوئی دلیل نازل نہیں کی
إن يتبعون إلا الظن یہ ان نفی کے لیے ہے ان يتبعون نہیں پیروی کرتے یہ لوگ الا ظن مگر کس کی گمان کی یہ اپنے گمان اور کہ تیر اندازوں کے تیر چلاتے ہیں
تو إن يتبعون إلا الظن یہ پیروی نہیں کرتے مگر گمان کی وما اور اس چیز کی ما کا عطف ظن پر ہے گمان کی پیروی کرتے ہیں اور اس چیز کی تہوى النفوس جس کی نفس خواہش کرتے ہیں
جس کی ان کے نفس کیا کرتے ہیں خواہش یعنی یہ اپنے گمان اور اپنی خواہشات نفس ہی کی پیروی کرتے ہیں اور کسی چیز کی نہیں یہ ان کے نفس نے ان کو چیزیں اچھی کر کے دکھا دیں تو انہوں نے ان کی عبادت شروع کر دی بھئی
إن يتبعون إلا الظن وما تهوى النفوس یہ پیروی نہیں کرتے مگر اپنے مگر گمان کی اور جس کی نفس خواہش کرتے ہیں یعنی خواہشات نفسانی کی
بمحاورہ ترجمہ کیا ہوگا بھئی یہ تو ان اور الا کے ساتھ تھا بمحاورہ کیا ہوگا
ہاں یہ لوگ تو اپنے گمان اور خواہشات نفسانی ہی کی پیروی کرتے ہیں
ولقد جاءهم من ربهم الهدى اور تحقیق آ چکی ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے ہدایت
أم للإنسان ما تمنى کیا انسان کے لیے ہے ما تمنى وہ جو تمنا کرے کیا انسان کے لیے وہ سب ہے جس کی وہ تمنا کرے یعنی کیا اس کو اپنی تمنا کی ہر چیز مل جاتی ہے حالانکہ ایسا تو نہیں تو اللہ فرما رہے ہیں یہ بھی ان کی تمنائیں ہی ہیں ان کی یہ تمنائیں ہی ہیں کہ یہ بت کیا کرتے ہیں اللہ کے پاس ان کی سفارش کرتے ہیں ایسی کوئی بات نہیں نہ یہ سفارش کرتے ہیں نہ کریں گے
أم للإنسان ما تمنى کیا انسان کے لیے وہ سب ہے جس کی وہ تمنا کرے یعنی کیا انسان کو وہ سب ملتا ہے جس کی وہ تمنا کرتا ہے فالله الآخرة والأولى اللہ ہی کے لیے آخرت بھی ہے اور اولی یعنی دنیا بھی ہے آخرت اور دنیا اللہ ہی کے اختیار میں ہے
فالله الآخرة والأولى اللہ ہی کے اختیار میں ہے الآخرة آخرت یعنی دار آخرت والولى اور دار الاولی یعنی دنیا
وكم من ملك في السماوات اور کتنے ہی ہے فرشتے آسمانوں میں لا تغنی شفاعتهم شيئا کہ کام نہیں آتی ان کی سفارش کچھ بھی جن کی سفارش کچھ بھی کام نہیں آئے گی أغنى يغنی کا کیا معنی کفایت کرنا لا تغنی کچھ کفایت نہیں کرتی شفاعتهم ان کی سفارش شيئا کچھ بھی اور کہ اللہ فرما رہے ہیں کہ یہ تو بتوں کی باتیں کرتے ہیں کہ یہ سفارش کریں گے اللہ کے مقرب فرشتے جو ہیں وہ بھی یہ ایسے نہیں ہیں کہ ان کی سفارش کچھ کام دے جائے ہاں ان کی سفارش صرف اسی وقت کام دے سکتی ہے جب اس کی اجازت اللہ دے دیں اور اسی کے حق میں کام دے سکتی ہے جس کے لیے اللہ اجازت دیں بھئی
وكم من ملك في السماوات لا تغنی شفاعتهم شيئا اور بہت سے ہیں فرشتے آسمان میں کسی کے کہ کام نہیں آتی ان کی سفارش کچھ بھی إلا من بعد أن يأذن الله مگر بعد اس کے کہ جب اللہ اجازت دے دے جب اللہ اس کی اجازت دے دے پھر کام آتی ہے اور کس کے لیے لمن يشاء ويرضى جس کے لیے اللہ چاہیں ويرضا اور پسند کریں
ان پر ان فرشتوں کی سفارش تبھی کام آئے گی جب اللہ اس کی اجازت دیں اور جس کے لیے اجازت دیں اور پسند کرے اسی کے کام آ سکتی ہے اور کسی کے نہیں
إلا من بعد أن يأذن الله لمن يشاء ويرضى مگر بعد اس کے کہ جب اللہ اجازت دے دے لمن يشاء ويرضا جس کے لیے اللہ چاہیں اور پسند کریں
إن الذين لا يؤمنون بالآخرة ليسمون الملائكة تسمية الأنثى یقیناً وہ لوگ جو
ایمان نہیں رکھتے آخرت پر، البتہ وہ نام رکھتے ہیں فرشتوں کے تسمیۃ الانثی، عورتوں والے نام.
بے شک وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، وہ فرشتوں کے کس طرح کے نام رکھتے ہیں؟ عورتوں والے مؤنثوں والے نام رکھتے ہیں، یعنی ان کو عورتیں قرار دیتے ہیں۔ وما لہم بہ من علم اور نہیں ہے ان کو اس کا من علم کچھ علم.
ان کو اس کا کچھ علم نہیں ہے، بس اپنے اندازوں سے کیا کرتے ہیں؟ جو چیز نفس دکھا دیتا ہے، اس راستے پر چلنا شروع کر دیتے ہیں۔ فرشتوں کو نفسِ مؤنث دکھایا، یہ بھی اسی راستے پر چل پڑے، ان کو مؤنث قرار دے دیا، ان کے مؤنث نام رکھ دیے۔ اللہ فرما رہے ہیں: وما لہم بہ من علم ان کو اس کی کوئی اس کا کوئی علم نہیں ہے۔ ان یتبعون الا الظنہ، یہ لوگ پیروی نہیں کرتے مگر گمان کی ہی.
اور یقیناً گمان جو ہے لا یغنی من الحق شیئا اور یقیناً گمان جو ہے وہ حق میں حق میں شیئاً کچھ بھی، حق کے حق معاملے میں، امر واقع کے اندر گمان کچھ بھی کام نہیں آتا بھئی.
گمان یعنی کوئی فائدہ نہیں دیتا.
امر واقع اور حق کے اندر گمان کوئی فائدہ نہیں دیتا.
اور یقیناً گمان لا یغنی من الحق شیئا، اور گمان یقیناً گمان جو ہے، وہ حق میں یعنی امر واقعی کے اندر، جو حق ہو، اس میں کوئی کچھ کام نہیں، کوئی فائدہ نہیں دیتا.
فأعرض عمن تولى، پس اے پیغمبر! آپ اعراض کیجیے، رخ پھیر لیجیے.
عمن تولى، اس شخص سے تولى جس نے جس نے پشت پھیر لی، جو پلٹ گیا، جو مڑ گیا، فأعرض! اے پیغمبر! جو مڑ گیا، ہماری دعوت سے، ہمارے ذکر سے جو مڑ گیا، آپ بھی اس سے اعراض کر لیجیے، آپ بھی اس سے رخ پھیر لیجیے۔ آپ کو اس کے بارے میں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں، آپ کا کام پہنچانا تھا، پہنچا دیا.
اب اس نے اگر رخ پھیر لیا ہے اور پلٹ گیا ہے، ہمارے ذکر کو، ہماری باتوں کو نہیں سنتا، تو آپ اس کی پروا نہ کیجیے، آپ بھی اس سے رخ پھیر لیجیے۔ فأعرض عمن تولى عن ذکرنا، پس اے پیغمبر! آپ رخ پھیر لیجیے عمن تولى اس شخص سے جو مڑ گیا ہے، عن ذکرنا ہمارے ذکر سے، ولم یرد، اور وہ ارادہ نہیں کرتا، وہ چاہتا نہیں ہے.
الا الحیاۃ الدنیا، مگر دنیاوی، وہ صرف دنیاوی زندگی ہی چاہتا ہے، آپ بھی اس کو چھوڑ دیجیے، اس سے رخ پھیر لیجیے۔ ذلک مبلغھم من العلم، یہ ان کی پہنچ ہے، مبلغ پہنچنے کی جگہ بھئی، یعنی یہ ان کی پہنچ ہے من العلم علم سے، یعنی یہی ان کے علم کی پہنچ ہی یہاں تک ہے.
یہی ان کے علم کی رسائی ہی یہاں تک ہے، معنی سمجھ میں آرہا ہے بھئی؟
ذلک مبلغ، یہ صرف دنیا چاہتے ہیں، ان کے علم کی رسائی ہی اتنی ہے، یہ آخرت کو تسلیم ہی نہیں کرتے.
ذلک مبلغھم من العلم، یہ ان کے علم، یہی ان کے علم کی رسائی ہے، ان ربک ہو اعلم بمن ضل عن سبیلہ، یقیناً آپ کا پروردگار وہ خوب جانتا ہے بمن، اس شخص کو، ضل عن سبیلہ جو اس کے راستے سے گمراہ ہوا.
بے شک آپ کا پروردگار خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آپ کے رب کے راستے سے گمراہ ہوا، وہو اعلم بمن اہتدى، اور وہ خوب جانتا ہے اس شخص کو، اہتدى جو راہِ راست پر ہے، سیدھے راستے پر ہے.
وللہ ما فی السماوات وما فی الارض، اور اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں، لیجزی الذین اساؤا، تاکہ وہ بدلہ دے ان لوگوں کو، اساؤا جنہوں نے برائی کی، بما عملو، بدلے میں اس کے جو انہوں نے عمل کیے.
اس کے بدلے میں جو عمل جو انہوں نے عمل کیے.
ترجمے پر نظر ہے بھئی؟ لیجزی الذین اساؤا بما عملوا، بما با کس لیے ہے؟
مقابلے کے لیے، بدلے کے لیے بھئی، لیجزی الذین اساؤا بما عملوا، تاکہ اللہ بدلہ دے ان لوگوں کو جنہوں نے برائی کی.
کس چیز کا بدلہ دے اللہ؟ بما عملوا، جو انہوں نے برائی کی، تو ان کی برائی کے، بس جو جن لوگوں نے برائی کی، ان کی برائی کے بدلے میں اللہ ان کو جزا دے، ان کو جزا دے.
ویجزی الذین احسنو، اور تاکہ اللہ بدلہ دے ان لوگوں کو جنہوں نے نیکی کی، جنہوں جو نیکی کرنے والے تھے.
تاکہ اللہ بدلہ دے ان وہ جو نیکی کرنے والے تھے، ان کو بدلہ دے، کس چیز کا بدلہ دے؟ بالحسنى، جو انہوں نے نیکیاں کیں.
جو انہوں نے نیکیاں کیں، اس نیکی کا اللہ بدلہ دے بھئی.
لیجزی الذین اساؤا بما عملوا ویجزی الذین احسنوا بالحسنى، تاکہ اللہ جزا دے برائی کرنے والوں کو بما عملوا ان کے برے ان کے اعمال کے بدلے میں، ویجزی الذین احسنوا اور تاکہ اللہ بدلہ دے، تاکہ اللہ جزا دے نیکی کرنے والوں کو بالحسنى ان کی اچھائی کے بدلے میں، ان کی اچھائی کے بدلے میں اللہ ان کو جزا دے، اور پیچھے تھا جنہوں نے برائی کی ان کے اعمال کے بدلے میں اللہ ان کو جزا دے.
بالحسنى کا کیا ترجمہ میں نے کیا؟ اچھائی کے بدلے میں، اچھائی کے.
اور بما عملوا کا کیا ترجمہ کیا؟ جو عمل کیا ان کے بدلے میں.
تاکہ اللہ بدلہ دے، الذین اساؤا برائی کرنے والوں کو، اللہ بدلہ دے برائی کرنے والوں کو بما عملوا ان کے اعمال کے بدلے میں، ویجزی الذین احسنوا اور تاکہ اور جزا دے اللہ نیکی کرنے والوں کو بالحسنى ان کی نیکیوں کے بدلے میں.
الذین یجتننبون کبائر الاثم والفواحش، وہ لوگ جو بچتے ہیں بڑے گناہوں سے، کبائر الاثم، وہ بڑے گناہوں سے، والفواحشا اور بے حیائیوں سے، الا اللمم.
مگر تھوڑی سی آلودگی، یا تھوڑے سے گناہ، لمم جو ہے، لمم، لمم کے معنی ہیں تھوڑا سا.
لمم کا کیا معنی؟ تھوڑا سا.
یعنی صغیرہ گناہ مراد ہیں، کیا مراد ہیں؟ صغیرہ گناہ.
وہ لوگ جو بچتے ہیں بڑے گناہوں سے اور بے حیائیوں سے، الا اللمما، مگر صغیرہ گناہوں سے.
وہ لوگ جنہوں نے اچھے عمل کیے، ان کو ان کی اچھائی کا بدلہ دے، یہ وہ لوگ جو کیا، یہ وہ لوگ ہیں جو کیا کرتے ہیں؟ بڑے گناہوں سے بچتے ہیں، بے حیائیوں سے بچتے ہیں، ہاں، صغیرہ گناہ کچھ تھوڑے بہت ان سے ہو جاتے ہیں، اور ان کو اللہ اپنی رحمت سے معاف فرما دیں گے.
ہاں کبیرہ گناہ توبہ کر لے تو کبیرہ بھی معاف ہو گیا، اور صغیرہ تو مطلب ہے کہ اللہ ویسے ہی معاف کر دیں گے اگر انسان کبیرہ سے اور فواحش سے بچتا رہے.
ان ربک واسع المغفرہ، بے شک آپ کا پروردگار وسیع مغفرت والا ہے.
ھو اعلم بکم اذ انشاكم من الارض، ھو اعلم بکم، وہ تمہیں خوب جانتا ہے، اذ انشاكم، جب اس نے تم کو پیدا کیا، انشا انشاء کے معنی ہوتے ہیں پیدا کرنے کے، ھو اعلم، وہ تمہیں، اعلم بکم، وہ تمہیں خوب جانتا ہے، اذ انشاكم من الارض، جب اس نے تم کو پیدا کیا زمین سے، یعنی پہلی مرتبہ جو حضرت آدم علیہ السلام کو زمین سے، مٹی سے بنایا گیا.
واذ انتم اجنۃ، اور جس وقت کہ تم بچے ہو، فی بطون امہاتکم، اپنی ماؤں کے پیٹوں میں.
جس وقت تم کیا ہو، اپنی ماؤں کے پیٹوں میں بچے ہو، اس وقت بھی تم کو خوب جانتا ہے، اللہ نے جب تم کو مٹی سے بنایا تھا، اس وقت بھی خوب جانتے تھے تمہیں، اور جب تم ماؤں کے پیٹ میں بچے کی صورت میں ہوتے ہو، اس وقت بھی اللہ تمہیں خوب جانتے ہیں.
اجنۃ جمع ہے جنین کی، جنین.
ماں کے پیٹ میں جو بچہ ہے، اس کو جنین کہتے ہیں.
جنین.
اور دیکھیے جنین میں ایک جیم ہے، دو نون ہیں.
ایک جیم اور دو نون، یعنی جنن مادہ اس کے اندر آ رہا ہے، اور یاد رکھیے یہ جنن مادہ جہاں بھی آئے گا کلام عرب میں، وہاں چھپنے کے معنی ہوں گے.
کون سے معنی ہوں گے؟ چھپنے کے معنی ہوں گے، جیسے یہ جنین جو ہے، ماں کے پیٹ میں ہے تو ہماری آنکھوں سے چھپا ہوا ہے، جنت ہے بھئی، اس میں بھی یہی مادہ ہے تو دیکھو جنت بھی ہماری آنکھوں سے چھپی ہوئی ہے، جن، جن بھی ایک مخلوق ہے، وہ بھی ہماری نظروں سے چھپے ہوئے ہیں بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی، تو جہاں یہ مادہ آئے گا، وہاں چھپنے کا معنی ہوگا، جیسے قمر، قمر، قاف میم را، یہاں، یہ مادہ جہاں بھی آئے گا، وہاں بڑھنے کا معنی پایا جائے گا، قمر چاند کو کہتے ہیں، قمر، اس کو قمر کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ یہ بڑھتا چلا جاتا ہے آہستہ آہستہ بھئی، بڑا ہوتا چلا جاتا ہے.
یہ اسی طرح قمر کا مادہ جہاں آئے گا، وہاں بڑھنے کا معنی ہوگا، جوئے کو قمار کہتے ہیں عربی میں، کیوں قمار کہتے ہیں؟ کیونکہ اس میں بھی مال ایک دم بڑھ جاتا ہے، یہ کیا ہی اسی مقصد کے لیے جاتا ہے بھئی.
تو اللہ فرما رہے ہیں، ہو اعلم بکم اذ انشاكم اذ انشاكم من الارض، اور اللہ خوب تمہیں جانتے ہیں، جب تم کو پیدا کیا زمین سے، واذ انتم اجنۃ فی بطون امہاتکم، اور جس وقت تم بچے ہو، ہوتے ہو، اپنی ماؤں کے پیٹوں میں، فلا تزکو انفسکم، پس تم، فلا تم تزکیہ نہ کرو اپنے نفسوں کا، یعنی اپنی جانوں کو پاک نہ ٹھہراؤ، پاک نہ بتلاؤ.
اپنے نفسوں کو پاکیزہ نہ بتلاؤ.
اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ فلا تزکو انفسکم، تم اپنے نفسوں کو پاکیزہ نہ بتلاؤ، پاکیزہ نہ ٹھہراؤ.
بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے بھئی، جگہ جگہ اپنی خوبیاں ذکر کرتے ہیں، اپنی صفات ذکر کرتے ہیں، بھئی.
اللہ نے منع فرمایا، اپنی پاکیزگی، اپنے آپ کو پاکیزہ نہ ٹھہراؤ، پاکیزہ نہ بتلاؤ لوگوں کو.
ھو اعلم بمن استخى، اللہ خوب جاننے والا ہے اس کو جو وہ ڈرنے، جو ڈرتا ہے بھئی.
جو اللہ سے ڈرا، جس نے تقوی اختیار کیا، اللہ اس کو خوب جاننے والا ہے، تم خود اپنے منہ اپنے آپ کو متقی نہ بتلاؤ بھئی.
سمجھ میں آیا؟ بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے بھئی، موقع بموقع اپنی تعریف کرتے چلے جاتے ہیں.
بات کوئی چل رہی ہوگی، چلتے چلتے، کہ کل بس وہ ایسا ہوا، کہ تہجد پڑھ کے میری طبیعت خراب ہو گئی، ابھی تک ٹھیک نہیں۔ بھئی، مطلقا کہہ دیں میری طبیعت کل سے خراب ہے، جان کر تاکہ دوسرے پہ اثر پڑے کہ میں تہجد گزار ہوں.
بعض ذکر کریں گے جی، ہمارے گھر میں شرعی پردہ ہوتا ہے.
اول تو یہ اصطلاح ہی ناپسندیدہ ہے، کیا معنی، باقیوں کا غیر شرعی پردہ ہے؟
ہمارے ساتھی عالم ہیں، بڑے مدرس ہیں، بڑے متقی انسان ہیں، بھئی.
تو میں نے ان سے ایک مرتبہ بات کی، میں نے کہا یہ ایک نئی اصطلاح شروع ہوئی ہے، شرعی پردہ، آج تک تو پردہ پردہ سنتے تھے، اب یہ چند سال ہوئے ہیں، شرعی پردہ آ گیا ہے لفظ.
میں نے کہا آپ کے گھر کیا شرعی پردہ ہوتا ہے؟ کہتے ہیں نہیں نہیں، ہمارے ہاں تو غیر شرعی پردہ ہی ہوتا ہے.
معلوم ہو باقی غیر شرعی ہیں، یہ ایک شرعی ہے بھئی، مجھے یہ اصطلاح پسند نہیں والا نا.
سمجھ میں آیا بھئی؟
چلو ٹھیک ہے، عمل کریں اس پر، لیکن یہ جو کرنے والے ہیں نا، یہ ہر جگہ پہ ذکر کرتے ہیں، ہمارے ہمارے ہاں جی شرعی پردہ ہوتا ہے.
بھئی کیوں اپنی تعریف کر رہے ہو؟ اللہ جانتے ہیں ہوتا ہے یا نہیں ہوتا، ہمیں کیوں بتلا رہے ہو گھر کے اندر کی باتیں؟
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ اپنے منہ اپنی تعریف کرنا، ہاں کہیں اصلاح کا مقصد ہو وہاں انسان بیان کرے، لیکن عموماً آپ دیکھیں گے یہ اصلاح کا مقصد نہیں ہوتا، صرف اپنے نفس کو بڑا بتلانا ہوتا ہے، ایسے مواقع پر بھئی.
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اللہ فرما رہے ہیں، فلا تزکو انفسکم، تم اپنے نفسوں کو پاکیزہ نہ بتلاؤ، ہو اعلم بمن استخى، اللہ خوب جاننے والا ہے اس کو، جو اللہ سے ڈرا ہے، اس تقوی جس نے اختیار کیا ہے، بھئی۔ چلیے بس یہی تھا وہ المرام، واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام.