Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-107

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 12 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 6
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
أعوذ بالله من الشيطان الرجيم. بسم الله الرحمن الرحيم. أفرأيت الذي تولى وأعطى قليلا وأكدى. أعنده علم الغيب فهو يرى. أم لم ينبأ بما في صحف موسى وإبراهيم الذي وفى. ألا تزر وازرة وزر أخرى. وأن ليس للإنسان إلا ما سعى. أفرأيت الذي تولى کیا پس دیکھا ہے آپ نے اس شخص کو تولى جو پلٹ گیا، جو مڑ گیا جس نے پشت پھیر لی. أفرأيت الذي تولى کیا پس آپ نے دیکھا ہے اس شخص کو جو پلٹ گیا وأعطى قليلا وأكدى اور عطا کیا تھوڑا سا وأكدى اور روک لیا. تھوڑا سا دیا وأكدى اور روک دیا، بند کر دیا. أعنده علم الغيب فهو يرى کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے فھو يرى پس وہ دیکھتا ہے. بھئی یہ آیات نازل ہوئیں ولید بن مغیرہ کے بارے میں. ولید بن مغیرہ بڑا مالدار شخص تھا مکہ کے اندر اور اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت سنی. اس پہ اثر ہوا اور یہ کچھ اسلام کی طرف مائل ہوا. یہ اسلام کی طرف مائل ہوا. اس کے ساتھیوں کو پتہ چلا کہ یہ تو اسلام کی طرف مائل ہے تو ایک ساتھی اس کا اس سے کہنے لگا کہ بھئی تم کیوں اسلام کی طرف مائل ہو؟ اس نے بتلایا کہ بھئی آخرت میں بڑی سخت سزائیں ہیں جو شخص اسلام قبول نہیں کرے گا اور اسی راستے پر رہے گا، ضد کرے گا تو اس کا آخرت میں بڑا برا انجام ہے. تو وہ دوست کہنے لگا کہ تم مجھے اتنا اتنا مال دے دو اور تمہاری ساری آخرت میں اول تو آخرت آنی نہیں، اگر آ گئی تو ساری تمہارے جرم میں اپنے ذمے لے لوں گا. تمہارے سارے جرم کیا کروں گا میں؟ اپنے ذمے لے لوں گا. تو چنانچہ اس طرح ان کو پھر اسلام سے واپس موڑ دیا اور یہ تیار ہو گئے ٹھیک ہے، اور پھر کچھ مال بھی دیا کہتے ہیں بھئی جتنا طے ہوا تھا اس میں سے کچھ مال دیا اور پھر بعد میں کچھ عرصے کے بعد جب اس نے باقی مال کا مطالبہ کیا تو یہ اس سے انکاری ہو گیا، دینے سے انکار کر دیا، بند کر دیا مال دینا. تو اسی کی اسی کا ذکر اللہ فرما رہے ہیں أفرأيت الذي تولى کیا آپ نے دیکھا ہے اس شخص کو جس نے جو پلٹ گیا، جو مڑ گیا وأعطى قليلا وأكدى اور تھوڑا سا دیا وأكدى اور روک لیا، بند کر دیا. یعنی تھوڑا سا مال دیا اور پھر اس کو بند کر دیا، روک دیا. أعنده علم الغيب فهو يرى کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے فھو يرى تو وہ دیکھتا ہے. کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ دیکھتا ہے کہ آخرت میں کس طرح دوسرا اس کی جگہ جرم قبول کر لے گا اور اس کی جان چھوٹ جائے گی. أم لم ينبأ بما في صحف موسى وإبراهيم یا کیا اس کو خبر نہیں دی گئی, نبأ کے معنی خبر دینے کے. أم لم ينبأ یا کیا اس کو خبر نہیں دی گئی بما اس چیز کی في صحف موسى وإبراهيم جو موسی علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کے صحیفوں میں تھی. کیا ان کو خبر نہیں دی کیا اس کو خبر نہیں دی گئی اس بات کی جو حضرت موسی علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کے صحیفوں میں تھی. وإبراهيم الذي وفى وہ ابراہیم الذي وفى جنہوں نے پورا کیا. جنہوں نے کیا کیا؟ پورا کیا یعنی اللہ کے احکامات پر عمل پوری طرح کیا بھئی. یعنی اللہ کے احکام پر چلنے کا جو عہد کیا تھا اس کو پوری طرح نبھایا انہوں نے. اور کیا خبر تھی جو صحیفہ موسی اور ابراہیم میں تھی وہ آگے آ رہی ہے ألا تزر وازرة وزر أخرى یہ کہ بوجھ نہیں اٹھائے گا کوئی بوجھ اٹھانے والا وزر أخرى کسی دوسرے کا بوجھ. اس کا یہ ساتھی اس کو کہتا ہے کہ تیرے سارے جرائم، سارے گناہ میں اپنے سر لوں گا، تم پر کوئی تکلیف نہیں آنے دوں گا کیا اس نے موسی علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام وہ ابراہیم علیہ السلام جنہوں نے جنہوں نے وفاداری کی کیا ان کے صحیفوں کی یہ بات اس کو نہیں پہنچی کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، ہر شخص کو اپنے اپنے بوجھ اٹھانا ہوں گے، وہاں ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایک کے بوجھ اٹھا کر دوسرے کے سر پر ڈال دیے جائیں. أعنده علم الغيب فهو يرى کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے تو وہ دیکھتا ہے أم لم ينبأ بما في صحف موسى وإبراهيم الذي وفى کیا اس کو خبر نہیں دی گئی اس کی جو موسی علیہ السلام اور اس ابراہیم علیہ السلام کے صحیفوں میں ہے الذي وفى جس نے وفاداری کی، جس نے پورا کیا, یعنی پورے طور پر احکام پر چلے. وإبراهيم الذي وفى اور ان ابراہیم کے صحیفوں میں جو پورے تور جنہوں نے پورا کیا یعنی احکام پر چلے ألا تزر وازرة وزر أخرى یہ کہ نہیں اٹھائے گا بوجھ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ وأن ليس للإنسان إلا ما سعى اور یہ کہ نہیں ہے انسان کے لیے مگر وہ جو اس نے کوشش کی. کیا اس کو یہ بات نہیں پہنچی جو ان صحیفوں میں تھی کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور یہ کہ انسان کے لیے اپنی کوشش ہی ہے, جو اس نے کمائی کی ہے، جو کوشش کی ہے وہی ہے اس کے لیے بھئی، وہی ہے بھئی. معنی سمجھ میں آگیا بھئی وأن ليس للإنسان إلا ما سعى کہ نہیں ہے انسان کے لیے الا ما سعى مگر وہ جو اس نے کوشش کی. با محاورہ کیا ترجمہ ہوگا؟ ہاں انسان کے لیے اپنی کوشش ہی ہے، اپنی کمائی ہی ہے. اس پر اشکال پہلے بھی ایک مرتبہ ذکر کر چکا میں بھئی کہ ہم دوز کسی کسی شخص کا انتقال ہو چکا اگر آپ کوئی صدقہ و خیرات کرتے ہیں یا کوئی اور اسی طرح نیکی کرتے ہیں اور اس کا یا قرآن وغیرہ پڑھتے ہیں تو اس کا ثواب اس کو بخشتے ہیں تو آپ نے کیا پڑھا ہے کہ ثواب پہنچتا ہے اسے؟ تو اشکال ہوتا ہے کہ یہ تو آپ کی کوشش ہے جو اس کو پہنچ رہی ہے, حالانکہ قرآن تو کیا کہتا ہے انسان کے لیے صرف اپنی کمائی ہے. جواب پہلے بیان ہو چکا کہ یہ بھی اسی کی کمائی ہے، یہ بھی دراصل کیا ہے؟ اسی کی کمائی ہے، آپ کے ساتھ اگر آپ اس کی اولاد ہیں تو دیکھو اس نے آپ کی تربیت کی، نیک راستے پر چلایا تو یہ آپ کی نیکی بھی دراصل اسی کی کمائی ہے، یا آپ اس کے شاگرد ہیں تو یہ اس نے آپ کو علم سکھایا یہ بھی دراصل اسی کی کمائی ہے، یا آپ کے ساتھ اس کا تعلق تھا دنیا میں آپ کے ساتھ وہ اچھے طریقے سے پیش آیا جبھی آپ کا تعلق ہوا تو اس کے ساتھ اور آپ نے اس کو ثواب بخشا تو یہ بھی دراصل کیا ہے؟ اسی کی کمائی ہے یا اس نے دنیا میں آپ کے ساتھ کوئی نیکی کی تھی جس کی وجہ سے آپ اس کو ثواب بخش رہے ہیں تو یہ بھی دراصل کیا ہے؟ اسی کی کمائی ہے، اسی کے عمل کا نتیجہ ہے بھئی. وان ليس للإنسان الا ما سعى اور یہ کہ نہیں ہے انسان کے لیے مگر وہ جو اس نے کوشش کی وأن سعيه سوف يرى اور یہ کہ اس کی کوشش جو ہے سوف يرى عنقریب دکھائی جائے گی. اس کی یہ کوشش، اس کی کمائی عنقریب دکھائی جائے گی. عنقریب اس کی یہ کوشش کیا ہے؟ دکھائی جائے گی. ثم يجزاه الجزاء الأوفى پھر اس کو جزا دی جائے گی الجزاء الأوفى پوری پوری جزا. فھر اس کو پوری جزا، پورا بدلہ دیا جائے گا وأن إلى ربك المنتهى اور یہ کہ آپ کے پروردگار کی طرف ہی انتہا ہے یعنی اسی تک، انہی تک پہنچنا ہے, تمام چیزیں لوٹ کر ادھر ہی پہنچیں گی بھئی. وأن إلى ربك المنتهى اور یہ کہ آپ کے پروردگار کی طرف ہی پہنچنا ہے وأنه هو أضحك وأبكى اور یہ کہ وہی ہے جو أضحك ہنساتا ہے وأبكى اور رلاتا ہے. وہی ذات ہے جو ہنساتی ہے وأبكى اور رلاتی ہے وأنه هو أمات وأحيا اور وہی ہے جو موت دیتا ہے وأحيا اور زندگی دیتا ہے وأنه خلق الزوجين الذكر والأنثى اور یہ کہ وہی ہے جس نے پیدا کیا دو قسموں کو یعنی کہ مذکر اور مؤنث. وہی ہے أنہ خلق الزوجين جس نے پیدا کیا دو قسموں کو زوج کے کیا معنی؟ قسم دو قسموں کو الذكر والأنثى یعنی کہ مذکر اور مؤنث من نطفة إذا تمنى نطفے سے إذا تمنى جب وہ ٹپکایا جاتا ہے. رحم مادر میں جب وہ نطفہ ٹپکایا جاتا ہے اسی سے اللہ پیدا کرتے ہیں، نطفہ ایک ہی ہے، اسی سے کبھی مذکر کو پیدا کر دیتے ہیں اللہ اور کبھی مؤنث کو پیدا کر دیتے ہیں. وأنه خلق الزوجين الذكر والأنثى من نطفة إذا تمنى اور یہ کہ اسی نے پیدا کیا دو قسموں یعنی مذکر اور مؤنث کو اس نطفے سے إذا تمنى جب اس کو نطفے سے إذا تمنى جب اس کو ٹپکایا جاتا ہے وأن عليه النشأة الأخرى اور یہ کہ اسی پر دوسری مرتبہ کا پیدا کرنا ہے. نشأة دوسری پیدائش نشأة الأخرى دوسری پیدائش بھئی. وأن عليه النشأة الأخرى اور یہ کہ اسی پر دوسری مرتبہ پیدا کرنا ہے وأنه هو أغنى وأقنى اور یہ کہ وہی ہے جو مالدار بناتا ہے مالدار کرتا ہے وأقنى اور خزانے والا بناتا ہے. وأنه هو أغنى وأقنى یہ کہ وہی ہے أغنى جو غنی بناتا ہے، مالدار بناتا ہے وأقنى اور خزانے والا بناتا ہے. ایک معنی اس کا یہ۔ یا أقنى کے معنی فقیر محتاج کرنے کے بھی ہیں وأن لهو أغنى وأقنى اور یہ کہ وہی مالدار بناتا ہے اور محتاج بناتا ہے، فقیر بناتا ہے. معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ دونوں معنی بھئی. وأنہ هو رب الشعرا اور یہ کہ وہی ہے شعرا ستارے کا رب. یہ کہ وہی ہے شعرا ستارے کا رب. شعرا ایک ستارہ ہے آسمان میں، عرب والے مشرکین عرب اس کی بھی عبادت کیا کرتے تھے اور اس سے بڑا ڈرتے تھے کہ اس کا بڑا اثر ہے ہماری اس زندگی کے اندر اور چنانچہ وہ اس کی عبادت کرتے تھے. اللہ فرما رہے ہیں وأنہ هو رب الشعرا کہ وہ اللہ جو ہے وہی ہے شعرا کا بھی پروردگار ہے. وأنه أهلك عادا الأولى اور یہ کہ اسی نے اسی نے أهلك عادا الأولى ہلاک کیا پہلی عاد کو وہی اللہ ہے جس نے پہلی عاد کو ہلاک کیا یعنی معاد کو ہلاک کیا۔ قدیم عاد کو ہلاک کیا۔ عاد اولیٰ۔ عاد اولیٰ کہا گیا قدیم عاد اس لیے کیونکہ یہ جو ثمود ہیں ان کو عاد ثانی کہا جاتا ہے کیا کہا جاتا ہے؟ عاد ثانی۔ وانہ اھلک عادن الاٰ ولی اور یہ کہ اسی نے ہلاک کیا عاد اولیٰ کو پہلی قوم عاد کو و ثمود فما ابقیٰ اور قوم ثمود کو فما ابقیٰ پس باقی نہیں چھوڑا۔ اسی نے ہلاک کیا قدیم عاد کو بھی اور قوم ثمود کو بھی فما ابقیٰ پس باقی نہیں چھوڑا یعنی کسی کو باقی نہیں چھوڑا۔ و قوم نوح من قبل اور قوم نوح کو بھی اس سے پہلے یعنی قوم نوح کو بھی ان سے پہلے اسی نے ہلاک کیا۔ انھم کانوا ھم اظلم و اطغی یقیناً یہ جو تھے یہ سب سے بڑے ظالم سب سے زیادہ ظالم اور سب سے زیادہ سرکش تھے۔ انھم کانوا بیشک یہ سب سے زیادہ ظالم اور سب سے زیادہ سرکش تھے۔ بھئی دیکھیے کان آیا یہ اظلم اور اطغیٰ منصوب ہیں بھئی یہ کان کی خبر ہیں۔ کان کا اسم کیا ہے؟ یہ جو کان کے ساتھ واؤ ضمیر ملی ہوئی ہے کانُو یہ واؤ کیا ہے؟ کان کا اسم اور اظلم اور اطغیٰ یہ کیا ہیں؟ یہ کان کی خبر اور کان کی خبر منصوب ہوتی ہے۔ یہ جو درمیان میں ھم آیا یہ فصل ہے بھئی فصل یا ضمیر فصل۔ یہ کس لیے آتی ہے؟ آپ نے پڑھا ہے جب خبر بھی معرفہ آ جائے مبتدا تو تھا ہی معرفہ خبر بھی معرفہ آ گئی تو وہاں شبہ پڑ سکتا ہے یہ شاید موصوف صفت ہیں تو درمیان میں فصل لے آتے ہیں۔ اسی طرح اس اگر خبر اسم تفضیل بمن ہو کس کے ساتھ؟ من کے ساتھ تو اس صورت میں بھی یہ فصل لے کر آتے ہیں۔ تو یہاں اظلم اور اطغیٰ اسم تفضیل ہیں اور من کے ساتھ ہیں من مقدر ہے بھئی۔ کانُوھم اظلما من کل و اطغیٰ من کل بھئی سورج سمجھ میں آ گئی بھئی کہ یہ سب سے زیادہ ظالم اور سب سے زیادہ سرکش تھے۔ والمتفقۃ اھوا معتفکہ الٹی ہوئی بھئی اعتفکا کے معنے الٹنا بھئی۔ الٹنا تو معتفکہ الٹی ہوئی پلٹی ہوئی پلٹی ہوئی معنی سمجھ میں آ گیا بھئی۔ اھوا اھوا کے معنے گرانے کے ہوا یھوی کے معنے گرنے کے شروع صورت میں آیا والنجم اذا ھوا اس کے معنے گرنے کے اور اھوا باب افعال اسی سے آیا اس کے معنے گرانے کے اور بالمحتفکۃ اور الٹی ہوئی جو بستیاں تھیں مراد کیا ہیں؟ الٹی ہوئی بستی اور الٹی ہوئی جو بستیاں تھیں اھوا ان کو گرا دیا ان کو دے مارا بھئی الٹی ہوئی بستیوں کو دے مارا۔ یعنی ان بستیوں کو پہلے الٹا دیا گیا اور پھر اٹھا کر زمین پر مار دیا گیا بھئی۔ والنحتفکۃ اھوا اور الٹی ہوئی بستیوں کو دے مارا اس الٹی ہوئی بستیوں کو اس نے دے مارا فغشاھا ما غشا پس ڈھانپ لیا اس الٹی ہوئی بستیوں کو ما غشا اس چیز نے جس نے ان کو ڈھانپ لیا۔ پس ڈھانپ لیا اس کو ان الٹی ہوئی بستیوں کو کس چیز نے؟ ما غشا جس نے کہ ان کو ڈھانپ لیا۔ میں نے بتلایا ابہام کے اندر تفخیم اور تفخیم ہوتی ہے بھئی۔ ایک چیز کو واضح بیان کر دیا جائے اس کی وہ عظمت اور وہ ہیبت دلوں کے اندر نہیں رہتی۔ تو یہاں پر اس چیز کی ہیبت بتلانے کے لیے مبہم کلام کیا گیا بھئی تو یہ بلاغت کا نقطہ ہے بھئی ابہام کی وجہ سے بھی چیز کی ہیبت بڑھ جاتی ہے بھئی۔ تو اللہ فرما رہے ہیں ان کو ڈھانپ لیا جس چیز نے کہ ڈھانپ لیا ان کو۔ اور میں نے بتایا یہ آپ بھی استعمال کرتے ہیں اس طرح بھئی جب کسی چیز کی ہیبت یا عظمت کسی کو بتلانی ہو تو وہاں آپ کلام کو ذرا مبہم رکھتے ہیں کیونکہ پورا بتا دیں گے تو پھر وہ ہیبت نہیں رہے گی وہ عظمت نہیں رہے گی اس کے دل میں۔ تو یہاں ہیبت بتلانے کے لیے اس کو مبہم بائکہا گیا پس ڈھانپ لیا ان کو ما غشا جس نے کہ ان کو ڈھانپ لیا اور وہ کس چیز نے ڈھانپا تھا؟ پتھروں کی بارش نے۔ پہلے اس بستی کو الٹایا گیا پھر الٹا کر زمین پر مار دیا گیا اور پھر اس کے بعد ان پر پتھروں کی بارش ہوئی بھئی۔ اور اس سے کون سی بستی مراد ہے؟ والمتفقہ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم جو تھی ان کی بستی بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی والمتفقۃ یہ مفعول ہے اھوا کے لیے بھئی۔ دے مارا کس کو دے مارا؟ والمتفقۃ الٹی ہوئی بستی کو۔ الٹی ہوئی بستی کو دے مارا۔ فغشاھا ما غشا پس ڈھانپ لیا اس بستی کو ما اس چیز نے کہ جس نے کہ ڈھانپ لیا فبای آلاۤء ربک تتمارا۔ آلاۤء نعمتیں بھئی نعمتیں فبای آلاۤء ربک پس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتیں تتمارا اس میں جھگڑو گے اس میں شک کرو گے۔ پس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں میں جھگڑو گے کون کون سی نعمتوں میں شک کرو گے۔ یہاں تک ترجمہ سمجھ میں آگیا بھئی۔ فبای آلاۤء ربک تتمارا پس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں میں شک کرو گے۔ مریۃ سے ہے یہ مریۃ سے بھئی شک کرنے کے۔ فبای آلاۤء ربک تتمارا پس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں میں شک کرو گے۔ سوال۔ یہاں تو گمراہوں کا ذکر چل رہا ہے اور ان پر اللہ کا جو عذاب نازل ہوا ان کو تباہ و برباد کر دیا گیا اس کا ذکر آیا۔ اور آگے پھر اس کا کیا ربط ہے تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں میں شک کرو گے۔ جواب بھئی، بھئی ظالموں، جابروں اور گمراہوں کو ہلاک کر دینا کیا یہ نعمت نہیں ہے بھئی؟ ظالموں اور جابروں کو اور ظلم کرنے والوں کو ہلاک کر دینا یہ بھی تو انعام ہے اللہ کی نعمت ہے بھئی۔ فبای آلاۤء رب تو تتمارا کا کیا معنی کرنا ہے؟ شک کرنے کے بھئی۔ فبای آلاۤء ربک تتمارا پس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں میں شک کرو گے۔ ھٰذا نذیر من النذر الاٰولیٰ یہ ایک ڈرانے والا ہے من النذر الاٰولی نذر جمع ہے نذیر کی ڈرانے والا خبردار کرنے والا۔ الاٰولی پچھلے جو پہلے تھے یہ پیغمبر جو ہے یہ بھی ایک ڈرانے والا ہے من النذر الاٰولی پہلے ڈرانے والوں میں سے۔ جیسے اور پیغمبر گزرے ہیں اسی طرح یہ بھی پیغمبر ہیں۔ فھاذا نذیر من النذر الاٰولی یہ ڈرانے والا ہے پہلے ڈرانے والوں میں سے۔ ازفت الاٰذفۃ قریب آ گئی قریب آنے والی۔ ازفہ کے معنے قریب آنے کے۔ اٰذفہ قریب آنے والی یعنی قیامت مراد ہے کیا مراد ہے؟ قیامت۔ ازفت الاٰذفۃ قریب آ گئی قریب آنے والی۔ لیس لھا من دون اللہ کاشفہ نہیں ہے اس کے لیے اللہ کے علاوہ کوئی کاشفۃ کوئی ٹالنے والا اس کو دور کرنے والا۔ قریب آنے والی قیامت قریب آ گئی نہیں ہے اس قیامت کو اس قریب آنے والی کو اللہ کے علاوہ کوئی کاشفۃ کوئی دور کرنے والا۔ اللہ کے علاوہ اور اس کو کوئی ٹالنے والا نہیں اللہ کے علاوہ اس کو کوئی اور نہیں ٹال سکتا اللہ ہی ٹال سکتے ہیں اور کوئی نہیں اور اللہ ٹالیں گے نہیں بھئی معنی سمجھ میں آگیا بھئی۔ لیس لھا من دون اللہ کاشفہ نہیں ہے اس کو اللہ کے علاوہ کوئی ٹالنے والا افمن ھٰذا الحدیث تعجبون کیا پس اس کلام سے تم تعجب کرتے ہو۔ یعنی کیا اس قرآن سے یہ جو کلام ہے اس سے تم تعجب کرتے ہو وتضحکون ولا تبکون اور تم ہستے ہو اور روتے نہیں۔ تم ہستے ہو اور روتے نہیں۔ یہ کلام یہ تو سخت سے سخت دل کو موم کر دیتا ہے۔ اور اور تم اس کو سن کر ہستے ہو اور اس کا مذاق اڑاتے ہو تمہارے دل پتھروں کی طرح سخت ہو چکے ہیں۔ افمن ھٰذا الحدیث تعجبون پس کیا اس کلام سے تم تعجب کرتے ہو وتضحکون ولا تبکون اور ہستے ہو اور روتے نہیں وانتم سامدون اور تم غفلت میں ہو۔ سامد کسے کہتے ہیں؟ غفلت میں پڑا ہوا۔ وانتم سامدون اور تم غفلت میں پڑے ہوئے ہو فاسجدوا للہ واعبدوا پس تم سجدہ کرو اللہ کے لیے واعبدوا اور عبادت کرو اسی کی عبادت کرو۔ پس تم اللہ کے لیے سجدہ کرو اور اس کی عبادت کرو۔ معنا سمجھ میں آگیا بھئی تو یہ آیت سجدہ ہم نے تلاوت کر لی سبق کے بعد سجدہ کر لیجیے گا بھئی۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ اقتربت الساعة وانشق القمر وان یروا اٰیتین یعرضوا ویقولوا سحر مستمر وکذبوا واتبعوا اھواءھم وکل امر مستقر۔ سورہ قمر بھئی۔ اقتربت الساعة قیامت قریب آگئی۔ اقتربت الساعة قیامت قریب آگئی وانشق القمر اور چاند پھٹ گیا۔ انشقہ کے معنے پھٹنا دو ٹکڑے ہونا۔ اقتربت الساعة وانشق القمر قریب آگ گئی قیامت اور چاند پھٹ گیا یا یوں ترجمہ کر لیں وانشق القمر اور چاند کے دو ٹکڑے ہو گئے۔ یہ چاند کا پھٹنا چاند کا دو ٹکڑے ہونا یہ علامات قیامت میں سے ہے بھئی۔ یہ کس میں سے ہے؟ علامات قیامت میں سے۔ جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آنا علامات قیامت میں سے ہے کہ آخری پیغمبر آ گیا اب معلوم ہوا قیامت بہت قریب آ چکی ہے بھئی قیامت بہت قریب۔ اور اس کو قیامت کے وقت کو اللہ نے مخفی رکھا قیامت کا علم سوائے اللہ کے اور کسی کو بھی نہیں ہے کسی کو بھی نہیں ہے۔ اور کیونکہ اگر اس کا وقت لوگوں کو بتا دیا جاتا تو لوگ غفلت میں پڑ جاتے کہ ابھی تو بڑا وقت پڑا ہے تو اس کو اللہ نے مخفی رکھا بھئی۔ تو البتہ اس کی نشانیاں بیان کر دی گئیں۔ تو ایک نشانی اس کی کیا بیان کی گئی؟ آخری پیغمبر ایک نشانی کیا بیان کی گئی؟ کہ چاند کا پھٹنا بھئی۔ تو اللہ فرما رہے ہیں قیامت قریب آ گئی وانشق القمر اور چاند پھٹ گیا۔ روایات میں آتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منا میں تھے اور یہ مشرکین کا مجمع تھا جمع ہوں گی کسی وجہ سے رات کا وقت تھا حضور علیہ السلام ان کو دعوت دینے کے لیے تشریف لے گئے بھئی۔ تو، انتاوت وغیرہ دی انہوں نے کہا کہ ہمیں کوئی نشانی دکھاؤ، کوئی معجزہ دکھاؤ تاکہ ہمیں یقین آئے کہ تم اللہ کے پیغمبر ہو۔ حضور علیہ السلام فرمانے لگے کہ نشانیاں تو اللہ کے قبضے میں ہیں لیکن کیا اگر میں کوئی نشانی دکھا دوں تو ایمان لے آؤ گے؟ انہوں نے کہا ہاں ہم ایمان لے آئیں گے۔ پوچھا کیا نشانی چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا اگر یہ جو چاند... مختلف کسی نے کچھ کہا کسی نے کچھ، تو بعضوں نے پھر کہا کہ یہ چاند کے دو ٹکڑے کر دیں تو ہم ایمان لے آئیں گے۔ باقیوں نے بھی تائید کر دی، ہاں یہ چاند کے دو ٹکڑے کر دیں، چودھویں رات کا چاند تھا، کہ چاند کے آپ دو ٹکڑے کر دیں تو ہم ایمان لے آئیں گے۔ چنانچہ کہتے ہیں حضور علیہ السلام نے انگلی سے اشارہ فرمایا اور چاند کے دو ٹکڑے ہو گئے، ایک مشرق کی طرف چلا گیا، ایک مغرب کی طرف الگ الگ ہو گئے، دور چلے گئے ایک دوسرے سے دونوں ٹکڑے، کہ ایک پہاڑ کے ایک طرف تھا تو دوسرا پہاڑ کے دوسری طرف تھا بھئی۔ تو پھر کچھ دیر تک یہ الگ رہے ٹکڑے اور اس کے بعد پھر مل گئے بھئی۔ بہت سی احادیث کے اندر اس واقعے کا ذکر آتا ہے بھئی، بخاری وغیرہ کی روایات میں۔ پھر جب مل گئے، حضور علیہ السلام نے اب پھر کہا کہ تم نے کہا تھا ہم ایمان لے آئیں گے۔ کہنے لگے بھئی محمد! تم تو بہت بڑے جادوگر بن گئے ہو۔ پھر مکر گئے وہیں پر بھئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ، کہ کیا میں نے کبھی آج تک تم سے کبھی جھوٹ بولا ہے؟ کہنے لگے نہیں۔ فرمانے لگے حضور علیہ السلام کیا میں نے کسی سے کوئی سیکھا ہے جادو وغیرہ؟ وہ کہنے لگے نہیں۔ تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے، پھر کس طرح میں اس ذات پر جھوٹ باندھ سکتا ہوں جو سب سے بڑی ذات ہے، جو سب کی خالق ہے، جب میں نے انسانوں کے بارے میں کبھی جھوٹ نہیں بولا، لیکن وہ لوگ جو ہیں ان کی عقل پر اسی طرح پردے پڑے ہوئے تھے اور ہنسی مذاق میں پڑ گئے بھئی۔ تو یہ چاند کے معجزہ، اس کو معجزہ شق قمر کہتے ہیں، معجزہ شق قمر۔ اور تو یہ باقاعدہ روایات میں، بہت سے روایات میں اس کا ذکر آتا ہے۔ اس پر بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں بھئی، جو منکرین ہیں، کہ ایسا نہیں ہوا، اگر ایسا ہوتا تو پرانی تاریخیں جو ہیں، تاریخ لکھنے والے ہیں، ان میں سے کوئی اس کو ضرور ذکر کرتا۔ تو جواب یہ بھئی کہ بھئی یہ رات کا وقت تھا اور مکہ مکرمہ اور اس کے قرب و جوار میں تو رات کا وقت ہے، بعض جگہ تو دن کا وقت ہوگا بھئی۔ بعض جگہ کیا ہے؟ بعض جگہ دن کا وقت ہوگا تو ان کو تو اس لیے پتہ نہیں چلا۔ اور جہاں رات تھی، وہاں بھی رات کی کہیں آدھی رات ہوگی، کہیں صبح فجر کے قریب کا وقت ہوگا، مختلف علاقے تو لوگ سوئے ہوں گے اور کہیں کچھ جاگ رہے ہوں تو ان کی کون دیکھنے والا ہوتا ہے آسمان کی طرف بھئی؟ سورہ سمجھ میں آگئی بھئی؟ ہاں، البتہ ایک پرانی تاریخ یہ ہندوستان کی قدیم تاریخ، تاریخ فرشتہ نام ہے جس کا، اس میں اس کا ذکر بھی ہے اور اس میں اس میں ہندوستان کے مالی بار جو ہے، وہاں کا ایک راجہ تھا بھئی، راجہ۔ ان کے بارے میں آتا ہے، انہوں نے باقاعدہ اس کا مشاہدہ کیا، ہندوستان اور عرب کا تو صرف دو گھنٹے کا فرق ہے، وہاں مثلاً عشاء کا وقت ہو تو یہاں مغرب ہوتی ہے۔ تو تو انہوں نے رات کو یہ جمع تھے، انہوں نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے ہوئے دیکھے بھئی۔ اب ادھر ادھر پتہ کیا، یہ کیا ہوا، کیوں ہوا، کچھ پتہ نہ چلا، البتہ انہوں نے اس کو لکھ کر رکھ لیا بھئی۔ یہ ابتدائی نبوت کے زمانہ یعنی مکی زندگی میں یہ واقعہ پیش آیا تھا بھئی۔ اور تو انہوں نے لکھ لیا بھئی اس کو۔ بعد میں کہتے ہیں، 94 ہجری کے اندر مسلمان تاجر وہاں پہنچے بھئی، ہندوستان تو وہاں پھر کوئی یہی بحث ہوئی یا کسی نے ذکر کیا ہوگا انہی میں سے کہ ہمارے بڑوں نے لکھا تھا فلاں تاریخ کو، فلاں رات کو، سارا کچھ لکھ لیا تھا، چاند کے دو ٹکڑے ہوئے تھے، آج تک پتہ نہیں چل سکا۔ تو کہیں سے یہ بات ان عربوں تک بھی پہنچ گئی، تو انہوں نے کہا ہم اس کی وجہ بتاتے ہیں، وجہ اس کی یہ کہ اللہ نے آخری پیغمبر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا اور انہوں نے پھر مشرکین مکہ کی فرمائش پر، ان کے طلب کرنے پر، یہ معجزہ دکھلایا، چاند کے دو ٹکڑے ہوئے، تو چنانچہ کہتے ہیں وہ لوگ پھر مسلمان ہو گئے، وہ راجہ وغیرہ ان کی اولاد بھئی۔ سمجھ میں آگیا بھئی؟ تو یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔ اقتربت الساعة وانشق القمر، قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا، وإن يروا آية، اور اگر یہ دیکھیں کوئی نشانی، یعرضوا تو اعراض کریں، اگر یہ کوئی نشانی دیکھتے ہیں، دیکھتے ہیں تو اعراض کرتے ہیں، ویقولو، اور کہتے ہیں، سحر مستمر، کہ یہ تو جادو ہے، مستمر، استمرار کے ساتھ، جس میں دوام ہے، یعنی جو چلا آتا ہے، پہلے سے اسی طرح ہوتا چلا آیا ہے۔ تو یہ کس قسم کا جادو ہے؟ جو استمرار، استمرار جانتے ہو یا نہیں بھئی؟ جس میں دوام ہوتا ہے بھئی، استمرار دوام بھئی۔ آپ کوئی بھی فعل سرانجام دیتے ہیں باقاعدگی سے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ استمرار کے ساتھ یہ کام کر رہے ہیں بھئی، استمرار۔ بار بار کرنا ایک چیز کا، تو یہ کہتے ہیں، ویقولو اور کہیں، سحر مستمر، کہ یہ تو کیا ہے؟ جادو ہے مستمر، یعنی جو چلا آتا ہے، مستمر ہے جو چلا آتا ہے۔ وإن يروا آية يعرضوا ويقولوا سحر مستمر، اور اگر یہ دیکھتے ہیں کوئی نشانی تو اعراض کرتے ہیں، منہ موڑتے ہیں، ویقولو اور کہتے ہیں، سحر مستمر، کہ یہ جادو ہے جو پہلے سے چلا آتا ہے۔ وکذبوا واتبعوا أهواءهم، اور انہوں نے جھٹلایا، واتبعوا أهواءهم، اور پیروی کی انہوں نے أهواءهم، اپنی خواہشوں کی، وكل أمر مستقر، اور ہر معاملہ، وكل أمر، ہر معاملہ، ہر بات جو ہے، مستقر، قرار پکڑنے والی ہے۔ ہر معاملہ قرار پکڑنے والا ہے یعنی ہر بات انجام تک پہنچنے والی ہے، ہر بات کا ایک انجام ہونا ہے، سمجھ میں آیا؟ ہر بات کا ایک انجام ہونا ہے، ہر ایک کو اس کے کیے کا بدلہ ملے گا، جنتی جنت میں جائیں گے اور جہنمی جہنم میں جائیں گے، تو ہر بات قرار پکڑنے والی ہے، یعنی ہر بات انجام تک پہنچنے والی ہے، معنی سمجھ میں آگیا؟ ہر بات کو انجام تک پہنچنا ہے۔ وكل أمر مستقر، اور ہر بات کو انجام تک پہنچنا ہے، ولقد جاءهم من الإنبا ما فيه مستجر، اور تحقیق آچکی ان کے پاس من الإنبا خبروں میں سے تحقیق ان کے پاس آ چکی من الإنبا خبروں میں سے، ما، وہ خبریں، فیہ مستجر، جس کے اندر ڈانت ہے۔ إز درجرا کے معنی ڈانٹنے کے ہوتے ہیں، یہ دال، تا سے بدل کر آیا ہے، باب استعقال ہے، باب استعقال میں آپ نے پڑھا، اگر فا کلمے کی جگہ زا آجائے، تو اس کی تا کو کس سے بدلنا جائز؟ دال سے، دال سے بدلنا جائز بھئی۔ تو یہ دال، تا سے بدل کر آیا ہے۔ اور مستجر، ڈانٹ، ڈانٹنا بھئی، مصدر میمی ہے، یا یہ اس میں ظرف کا صیغہ ہے۔ ولقد جاءهم من الإنبا ما فيه مستجر، اور تحقیق ان کے پاس آ چکی ہیں خبروں میں سے وہ خبریں فیہ مستجر، جن میں ڈانٹ ہے، تو اس لیے زجر سے ہے، زجر سے، مستجر، زجر اس کا مادہ ہے بھئی، جن کے اندر ڈانٹ ہے۔ اللہ فرما رہے ہیں ان کے پاس بہت سی ایسی خبریں پہنچ چکی ہیں جن میں ڈانٹ ہے، یعنی عبرت کا سامان ہے۔ یہ خود بھی جب سفر کرتے ہیں شام کی طرف تو ان بستیوں کے کھنڈرات دیکھتے ہیں اور بھی کتاب، آسمانی کتابوں کے ذریعے بہت سے واقعات یہ سن چکے ہیں اور بہت سے واقعات ہم نے ان کے سامنے بیان کر دیے۔ ولقد جاءهم من الإنبا ما فيه مستجر، اور تحقیق ان کے پاس بہت سی ایسی خبریں پہنچ چکی ہیں جن میں ڈانٹ ہے، یعنی جن میں عبرت ہے، حکمت بالغتہ، حکمت بالغتہ، یہ حکمت ہے، بالغتہ، پہنچنے والی، یعنی انتہا تک پہنچنے والی۔ حکمت بالغتہ، یہ انتہا تک پہنچی ہوئی حکمت ہے یہ قرآن بھئی۔ یہ قرآن کیا ہے؟ انتہا تک پہنچی ہوئی حکمت ہے یا یہ معنی کر لیں: حکمت بالغتہ، یہ حکمت ہے پوری، کامل، یہ کامل درجے کی حکمت ہے۔ بالغتہ، بالغتہ کا کیا معنی؟ پہنچنے والی، پہنچنے والی یا کہاں تک کمال تک، یعنی پوری پوری حکمت ہے یہ، پوری، مکمل۔ حکمت بالغتہ، یہ پوری حکمت ہے، فما تغنی النذر، اغنا یغنی کے کیا معنی ہوتے ہیں؟ کفایت کرنا، کام آنا۔ النذر، جمع ہے نذیر کی، ابھی گزرا پہلے بھی یہ لفظ بھئی، ھذا نذیر من النذر الأولی، نذیر، جمع ہے نذیر، یاد رکھیے نذیر ایک مصدر بھی آتا ہے، جس کے معنی ڈرانے کے اور ایک نذیر جمع ہے نذیر کی، تو نذیر کا معنی ہوا ڈرانے والے، تو نذیر کا ایک معنی کیا؟ ڈرانا، مصدر ہو تو اور اگر نذیر کی جمع ہو تو ڈرانے والے۔ فما تغنی النذر، پس کچھ کام نہیں آتا النذر، ڈرانا، ڈرانا کوئی فائدہ نہیں دیتا یا ڈرانے والے کوئی فائدہ نہیں دیتے، ان کے پاس ہر طرح کی خبریں پہنچ چکی ہیں، یہ اس کامل درجے کی حکمت، یعنی قرآن بھی آگیا لیکن ان کو کوئی چیز فائدہ نہیں دیتی، نہ ان کے ڈرانا کام آتا ہے، اور نہ ڈرانے والے ان کے کام آتے ہیں۔ فتول عنهم، پس آپ ان سے رخ پھیر لیجئے، آپ ان کی پروا نہ کیجیے، فتول عنهم کے بعد آپ دیکھ رہے ہیں یہ چھوٹی سی میم ڈلی ہوئی ہے، میں نے آپ سے پہلے بھی آپ کو بتلایا تھا کہ یہ میم جہاں ہے خوب خیال رکھنا ہے، یہاں پر وقف ضروری ہے بھئی، وقف ضروری ہے ورنہ معنی کچھ کا کچھ ہو جائے بھئی۔ حکمت بالغتہ فما تغنی النذر، یہ پوری کامل حکمت ہے، پس کچھ کام نہیں آتے ڈرانے والے، یعنی ان کو کچھ کا فائدہ نہیں دیتے ڈرانے والے، فتول عنهم، پس آپ ان سے رخ پھیر لیجئے، يوم يدع الداعي إلى شيء نكر، يوم يدع الداعي، جس دن بلائے گا، پکارے گا پکارنے والا، يوم يدع، جس دن پکارے گا، الداعي، پکارنے والا، إلى شيء نكر، ایک ایسی چیز کی طرف نکر، یوم یدعو الداعی الی شئی نکر، جس دن پکارے گا پکارنے والا ایک ناگوار چیز کی طرف۔ نکر کا کیا معنی کیا میں نے؟ ناگوار۔ دوسرا معنی نکر، انجان بھئی نامانوس، جس سے انسان مانوس نہ ہو بھئی۔ انجان بھئی۔ یوم یدعو الداعی الی شئی نکر، جس دن پکارے گا پکارنے والا ایک نامانوس چیز کی طرف۔ بھئی قیامت نامانوس ہے، پہلے تو کبھی دیکھا ہی نہیں ہوگا، پہلی مرتبہ دیکھیں گے بھئی۔ تو جس دن پکارے گا پکارنے والا ایک نامانوس چیز کی طرف یا حساب کتاب کی طرف وہ بلائے گا بھئی۔ یہ نامانوس ہے بھئی۔ خشعا ابصارهم، خشع جمع ہے خاشع کی، خاشع، خاشع کہتے ہیں نظریں جھکانے والا، خشوع کرنے والا۔ خشعا ابصارهم، وہ نظریں جھکائے ہوئے ہوں گے۔ وہ وہ کیا ہوں گے؟ نظریں جھکائے ہوں گے۔ یخرجون من الاجداث، نکل رہے ہوں گے قبروں سے، اجداث جمع ہے جدس کی، جدس قبر کو کہتے ہیں۔ خشعا ابصارهم، خشعا، وہ جھکانے والے ہوں گے ابصارهم اپنی نظروں کو، یخرجون من الاجداث نکل رہے ہوں گے قبروں سے، کانهم جراد منتشر، گویا کہ وہ ٹڈیاں ہیں پھیلی ہوئی۔ جرادة کس کو کہتے ہیں؟ ٹڈی کو بھئی، ٹڈی۔ کانهم جراد منتشر جیسے کہ وہ ٹڈیاں ہوں پھیلی ہوئی، بکھری ہوئی بڑی رفتار سے بھئی قبروں سے حضرت اسرافیل علیہ السلام دوسری مرتبہ صور پھونکیں گے اور تمام لوگ بڑی برق رفتاری سے قبروں سے نکل کر میدان حشر کی طرف پہنچیں گے بھئی دوڑتے ہوئے۔ تو یوں منظر جیسے ٹڈیاں بکھری ہوئی ہوں، تیزی سے چل رہی ہوں بھئی۔ خشعا ابصارهم یخرجون من الاجداث کانهم جراد منتشر، جھکائے ہوئے ہوں گے اپنی نظروں کو، نکلیں گے قبروں سے گویا کہ وہ ٹڈیاں ہیں پھیلی ہوئی، مهتعین الی الداعی، دوڑ رہے ہوں گے بلانے والے کی طرف، پکارنے والے کی طرف دوڑ رہے ہوں گے۔ اهتعاء کے معنی ہوتے ہیں تیزی سے چلنا، تیزی سے دوڑنا۔ مهتعین الی الداعی، تیزی سے دوڑ رہے ہوں گے الی الداعی، پکارنے والے کی طرف۔ یقول الکافرون هذا یوم عسر، کہیں گے کافر لوگ هذا یوم عسر، یہ تو بڑا سخت دن ہے۔ عسر، سخت دن ہے۔ یقول الکافرون هذا یوم عسر، کہیں گے کافر، یہ سخت دن ہے۔ معلوم ہوا مومنوں کے لیے یہ دن سخت نہیں ہوگا بھئی۔ اللہ فرما رہے ہیں کافر یوں کہیں گے، هذا یوم عسر، کہ یہ سخت دن ہے، کذبت قبلهم قوم نوح فکذبوا عبدنا۔ قرآن والا نا قرآن کا لطف معنی آتا ہو، یہ صورتوں کا معنی سمجھ میں جب آ جائے، پھر اس کے بعد اس صورت کو ذرا روانی سے پڑھیں بھئی۔ اس کا عجیب ہی انسان پر اثر پڑتا ہے بھئی۔ اور جب ایک مرتبہ معنی آ جائے، پھر تو سوچنا بھی نہیں پڑتا، آپ پڑھتے چلے جا رہے ہوں گے، ذہن ساتھ ساتھ ترجمہ کرتا چلا جا رہا ہوگا بھئی۔ تو پھر عجیب ہی ایک لطف اور پھر جس وقت یہ قیامت وغیرہ کے ہولناک مناظر کا بیان ہوتا ہے، تو انسان پر ایک عجیب ہی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ کذبت قبلهم قوم نوح فکذبوا عبدنا، جھٹلایا ان سے پہلے قوم نوح نے، فکذبوا عبدنا، پس جھٹلایا انہوں نے ہمارے بندے کو۔ ان سے پہلے ان مشرکین مکہ یہ جو انکار کر رہے ہیں، پیغمبر آپ کی دعوت کو قبول نہیں کرتے، ان سے پہلے قوم نوح بھی جھٹلا چکی ہے۔ فکذبوا عبدنا، پس انہوں نے جھٹلایا ہمارے بندے کو، یعنی کن کو؟ حضرت نوح علیہ السلام کو۔ وقالوا اور کہا انہوں نے مجنون، کہ یہ تو مجنون ہیں، پاگل ہیں۔ وازدجر، اور ڈانٹا گیا، وازدجرا، اور ڈانٹا گیا، یعنی حضرت نوح علیہ السلام کو ڈانٹا گیا۔ ان کی قوم والے انہوں نے ان کو ڈانٹا، یعنی دھمکیاں وغیرہ دیں بھئی کہ آپ دعوت چھوڑ دیں، نہیں تو ہم آپ کو قتل کر دیں گے، سنسار کر دیں گے۔ کذبت قبلهم قوم نوح فکذبوا عبدنا، جھٹلایا ان سے پہلے قوم نوح نے، پس جھٹلایا انہوں نے ہمارے بندے، یعنی نوح علیہ السلام کو، وقالوا اور کہا انہوں نے مجنون، کہ یہ مجنون ہیں، یہ دیوانے ہیں، وازدجرا اور ان کو دھمکی دی گئی۔ فدعا ربه، پس پکارا انہوں نے اپنے پروردگار کو، یعنی حضرت نوح علیہ السلام نے۔ انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا اور یہ کہا، انی مغلوب، کہ میں مغلوب ہوں۔ یعنی میں اے اللہ، میں بے بس ہو چکا ہوں۔ میں بے بس۔ فدعا ربه انی مغلوب، پس پکارا انہوں نے اپنے پروردگار کو، انی مغلوب، کہ میں بے بس ہو چکا ہوں۔ فانتصر، پس آپ بدلہ لیجیے۔ اے اللہ آپ ان سے بدلہ ساڑھے نو سو سال دعوت دیتے رہے، ذرا سوچیے تو سہی، یہ کتنا زمانہ ہے، کتنا طویل زمانہ بھئی۔ فتحنا ابواب السماء، فانتصر کا معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ انتصر اقل لفظ پہلے کئی دفعہ آ چکا ہے۔ اس کا کیا معنی ہے؟ بدلہ لیں۔ فانتصر، پس آپ بدلہ لیجیے۔ فتحنا ابواب السماء بماء منهمر، پس ہم نے کھول دیے آسمان کے دروازے، بماء منهمر۔ انہمرا کے معنی ہیں خوب برسنے والا۔ پس ہم نے کھول دیے آسمان کے دروازے بماء منهمر، خوب برسنے والے پانی کے ساتھ۔ خوب برسنے والے پن۔ ہم نے آسمانوں کے دروازے کھول دیے خوب برسنے والے پانی کے ساتھ۔ وفجرنا الارض عیونا، اور بہا دیا ہم نے زمین کو۔ فجر یفجر تفجیر کا کیا معنی؟ بہا دینا۔ وفجرنا الارض، اور ہم نے زمین کو بہا دیا عیونا، با اعتبار چشموں کے۔ یہ تمیز ہے، یاد رکھیے، عیونا کیا واقع ہو رہی ہے؟ یہ عین ان کی جمع چشمے کو کہتے ہیں عیون، تو یہ تمیز ہے۔ اور یاد رکھیے کہ یہ تمیز جو ہے، کبھی کبھار محول عن الفاعل ہوتی ہے۔ تو پھر یہ فاعل کے درجے میں ہوتی ہے۔ کبھی یہ (یعنی اصل میں یہ فاعل تھی اور پھر بنا کیا بنا دیا گیا؟) تمیز بنا دیا گیا۔ کبھی تمیز محول عن المفعول ہوتی ہے۔ یعنی اصل میں یہ مفعول تھا، پھر اس کو کیا بنا دیا گیا؟ تمیز۔ تو بہرحال جو تمیز محول عن الفاعل ہو وہ فاعل کے درجے میں ہوتی ہے۔ جو تمیز محول عن المفعول ہو وہ کس کے درجے میں ہوتی ہے؟ مفعول کے درجے میں ہوتی ہے۔ تو یہ عیونا کیا ہے؟ محول عن المفعول ہے، یہ مفعول کے درجے میں ہے۔ گویا یوں ہے اصل کلام: وفجرنا عیون الارض، وفجرنا عیون، ہم نے زمین کے چشمے بہا دیے، جاری کر دیے بھئی۔ فجر کے معنی جاری کرنے کے، بہا دینے کے۔ وفجرنا الارض عیونا، تو با محاورہ آسان یوں ترجمہ کر لیں: وفجرنا الارض عیونا، اور ہم نے زمین سے چشمے جاری کر دیے، فالتقى الماء على أمر قد قدر، پس مل گیا پانی علی امر، ایک ایسی امر پر، ایک ایسے معاملے پر قد قدر، جس کا فیصلہ ہو چکا تھا، جو طے کر، طے کیا جا چکا تھا۔ قد قدر، جو کہ ایک ایسی بات جو طے کی جا چکی تھی، یعنی ان ان کو غرق کرنے کا اور ان پر عذاب کا جو فیصلہ ہو چکا تھا، اس کے لیے پانی مل گیا. ایک پانی اترا آسمان سے، ایک پانی ابلا زمین سے نکلا بھئی۔ تو یہ دونوں پانی مل گئے، اس بات کے لیے، جس کو طے کر چکے تھے اللہ تعالی اور وہ کیا تھی کہ ان سب کو غرق کرنا ہے۔ معنی اچھی طرح سمجھ میں آ گیا بھئی۔ وفجرنا الارض عیونا فالتقى الماء على أمر قد قدر، اور جاری کر دیا ہم نے زمین سے چشموں کو، پس پانی مل گیا، یعنی دونوں کا پانی مل گیا چشموں کا بھی اور آسمان کا بھی۔ فالتقى الماء، پس وہ سارا پانی مل گیا علی امر، ایک ایسے امر پر، ایک ایسی بات پر، قد قدر، جو طے ہو چکی تھی، وحملناه على ذات ألواح ودسر، اور ہم نے ان کو سوار کیا، یعنی نوح علیہ السلام کو، ان کو بچا لیا بھئی۔ وحملناه، اور ہم نے ان کو سوار کیا علی ذات ألواح، تختوں والی چیز پر۔ ودسر، دسر جمع ہے دسار کی، اور یہ کیل کو کہتے ہیں، کیل، یعنی یہ میخ جو ہے، میخ۔ دسار کی جمع دسر، جیسے کتاب کی جمع کتب، بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ تو ہم نے ان کو، یعنی نوح علیہ السلام کو سوار کیا علی ذات ألواح ودسر، تختوں والی اور میخوں والی، یعنی کشتی پر۔ کشتی کس سے بنتی ہے؟ لکڑی کے تختے ہوتے ہیں اور ان کو کس کے ذریعے جوڑا جاتا ہے؟ میخوں کے ذریعے۔ تو ہم وحملناه على ذات ألواح ودسر، اور ہم نے ان کو سوار کیا تختوں اور میخوں والی کشتی پر، تجری بأعيننا، جو چل رہی تھی بأعيننا، ہماری نگاہوں میں، یعنی ہماری نگرانی میں۔ تجری بأعيننا، جو چل رہی تھی ہماری نگاہوں میں، جزاء لمن كان كفر، بطور بدلہ کے، لیمن، اس شخص کے، کان كفر، جس کے انکار کیا گیا تھا۔ اس شخص کے بدلے کے طور پر جس کا انکار کیا گیا تھا۔ یہ ان کو ہم نے کیوں غرق کیا؟ ان کو غرق کیا حضرت نوح علیہ السلام کو تو بچا لیا اور ان کی قوم کو ہم نے غرق کیا، کیوں غرق کیا؟ جزاء، بطور بدلے کے، لیمن، اس شخص کے لیے، کان كفر، جن کا انکار، انہوں نے حضرت نوح علیہ السلام کا انکار کیا تھا، تو اس انکار کرنے والے شخص کے لیے ہم نے ان کو کیا کر دیا؟ اس وجہ سے ہم نے بطور بدلے کے ان کو غرق کر دیا۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا بھئی۔ جزاء لمن كان كفر، بطور بدلہ کے، اس شخص کے لیے جس کا انکار کیا گیا تھا، کس کا انکار کیا گیا تھا؟ حضرت نوح علیہ السلام کا۔ ولقد تركناها آية فهل من مدكر، اور تحقیق ہم نے چھوڑ دیا، ہا، ہا ضمیر راجع ہے یہ ذات ألواح ودسر کو، وہ تختوں اور میخوں والی، یعنی وہ کشتی جو ہے، اس کو ہم نے چھوڑ دیا، یعنی باقی رکھا۔ آية، بطور نشانی کے، فهل من مدكر، پس کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی۔ اللہ فرما رہے ہیں، ہم نے اس کشتی کو باقی رہنے دیا۔ پس کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟ کہتے ہیں وہ کشتی جو ہے، جودی پہاڑ پر جا کر رکی بھئی بعد میں۔ جودی پہاڑ، یہ ترکیہ عراق کی طرف کوئی پہاڑ ہے، اس پر یہ کشتی رکی۔ اور پھر بڑے عرصے تک یہ کشتی وہاں پر موجود رہی، لوگ اس کو دیکھتے رہے، دیکھتے تھے بھئی۔ تو اللہ فرماتے ہیں، ہم نے اس کو بطور عبرت کے، چھوڑ دیا بھئی، باقی رکھا۔ اور بڑے عرصے تک رہی یہاں تک کہ کہتے ہیں اس امت کے یعنی امت محمدیہ میں سے بھی بعض لوگوں نے اس کا مشاہدہ کیا بھئی۔ ہزاروں برس تک وہ کشتی وہاں رہی بھئی۔ ولقد ترکناھا آیۃ فھل من مدکر، مدکر بھئی اس کا مادہ کیا ہے؟ ذکر، ذال ذکر اس کا مادہ ہے ذکر۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور پھر آپ نے پڑھا ہے کہ باب افتعال میں اگر فا کلمے کی جگہ ذال آ جائے تو تا کو کس سے بدلتے ہیں؟ ذال سے۔ پھر ذال سے بدلنے کے بعد چاہے اسی طرح رکھیں، ذال کو ذال پڑھیں، دال کو دال، یا دونوں کو ذال کر دیں یا دونوں کو دال کر دیں یہ بھی جائز ہے۔ معلوم ہوا مذکر، ہاں۔ جی۔ مذکر یہ بھی درست ہے یہ صیغہ بھی۔ اور مدکر بھی صحیح اور مذکر بھی صحیح۔ سمجھ میں آیا؟ عربی زبان کے اعتبار سے بتلا رہا ہوں۔ ہاں قرآن میں تو مدکر ہی آیا ہے۔ ولقد ترکناھا آیۃ فھل من مدکر پس کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا۔ فکیف کان عذابی ونذر پس کیسا تھا میرا عذاب ونذر، اے نذوری، را کا کسرہ کیا بتلا رہا ہے یہاں پر؟ یا حذف ہوئی۔ اللہ فرما رہے ہیں پس کیسا تھا میرا عذاب ونذر اور میرا ڈرانا۔ فکیف کان عذابی ونذر پس کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈرانا۔ ولقد یسرنا القرآن للذکر فھل من مدکر اور تحقیق ہم نے آسان کر دیا قرآن کو للذکر نصیحت حاصل کرنے کے لیے فھل من مدکر پس کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا، پس کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا قبول کرنے والا؟ اللہ فرما رہے ہیں ہم نے قرآن کو نصیحت کرنے کے لیے آسان کر دیا، کتنا آسان کر دیا بھئی، کتنا آسان کر دیا، کوئی اس کی باتوں میں پیچیدگی نہیں۔ اور اتنا آسان، اتنا آسان کہ دنیا کی کوئی کتاب اتنی آسان نہیں۔ چھ سات سال کے بچے کے سینے میں پورا قرآن محفوظ ہو جاتا ہے اور وہ حافظ القرآن پورے قرآن کا حافظ ہوتا ہے، پورا قرآن اس کے سینے میں محفوظ ہوتا ہے۔ یہ قرآن کا کمال ہے، قرآن کا معجزہ ہے بھئی۔ تو یہ بہت آسان ہے بھئی۔ قرآن کیا ہے؟ بہت آسان۔ لیکن اگر گہرائی میں جایا جائے تو اتنی گہرائی، اتنی گہرائی کہ انسانوں نے ہزاروں، لاکھوں لوگوں نے اپنی عمریں گزار دیں، لیکن اس کی گہرائی تک کو نہیں پہنچ سکے بھئی۔ لا تنقضی عجائبہ، اس کے عجائب بات کبھی ختم نہیں ہوں گے، جو مفسر آتا ہے نئے نئے نکات بیان کرتا ہے، نئی نئی باتیں بیان کرتا ہے تو قرآن کے عجائب بات تا قیامت ختم نہیں ہو سکتے۔ اور ختم ہو بھی کیسے بھئی! یہ اس ذات کا کلام ہے جو ذات سب سے عظیم ہے، جو سب کچھ پیدا کرنے والی ہے۔ ولقد یسرنا القرآن للذکر فھل من مدکر اور ہم نے آسان کر دیا قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے، پس کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا۔ کذبت عاد فکیف کان عذابی ونذر جھٹلایا قوم عاد نے، پس کیسا تھا میرا عذاب ونذر، یہاں بھی یا حذف اور میرا، میرا ڈرانا۔ انا ارسلنا علیہم ریحا صرصرا فی یوم نحس مستمر، تو یقیناً ہم نے بھیجی ان پر ریحا صرصرا۔ ریح سرصر کہتے ہیں وہ آندھی جس کی بہت زیادہ آواز ہو بھئی، بہت شور والی۔ پس ہم نے بھیجی ان پر ایک، یا تو ترجمہ یوں کر لیں بھئی ریحا صرصرا ایک سخت آندھی بھیجی یا خوب آواز والی آندھی بھیجی۔ بازوں نے پھر اس کا یہ ترجمہ کیا، ہم نے ان پر سناٹے والی آندھی بھیجی بھئی۔ یعنی کیا مراد ہے؟ سناٹے والی سے، شور والی مراد ہے، خوب شور والی بھئی۔ تو ہم نے ان پر ایک خوب سخت، سخت آواز والی آندھی بھیجی۔ فی یوم نحس، ایک منحوس دن میں مستمر یعنی دائمی، دائمی۔ ایک دائمی منحوس دن میں، یعنی جو ان کے لیے دائمی طور پر کیا تھا؟ یہ دن میں نے بتلایا، بھئی دن وغیرہ منحوس نہیں ہوتے، لیکن یہاں پر دن کو منحوس کہا گیا کس اعتبار سے؟ ان کے اعتبار سے منحوس ثابت ہوا کہ ان پر وہ اللہ کا عذاب آیا بھئی۔ تو شور والی ہوا ان پر بھیجی۔ فی یوم نحس مستمر ایک دائمی نحوسوت والے دن میں۔ تنزع الناس، نزع کے معنے اکھاڑنے کے۔ تنزع الناس، وہ آندھی لوگوں کو اکھاڑ دیتی تھی، یعنی زمین سے اٹھا کر زمین پر مارتی تھی بھئی۔ تنزع الناس، وہ لوگوں کو اکھاڑ لیتی تھی وہ آندھی۔ کأنھم أعجاز نخل منقعر۔ أعجاز جمع ہے عجز کی۔ جڑوں کو کہتے ہیں، اسی طرح تنے کو بھی بھئی مراد تنے ہیں یہاں۔ نخل کہتے ہیں کھجور کا درخت۔ منقعر، اکھڑے ہوئے، اکھڑے ہوئے، کأنھم أعجاز نخل منقعر، گویا کہ وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں۔ گویا کہ وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں۔ قوم عاد والے بڑے مضبوط لوگ تھے، بڑے لمبے لمبے قد تھے، اور میں نے بتلایا تھا ان طاقت کا یہ عالم تھا، کھجور کا درخت کتنا مضبوط اور کتنا اونچا ہوتا ہے، ان میں سے جو مضبوط آدمی ہوتا، وہ کھجور کے درخت کے گرد بازو گھما کر اسے پکڑ لیتا، اور زور لگاتا تو اس کو جڑ سے ہی اکھاڑ دیا کرتا تھا بھئی، اتنے طاقتور لوگ تھے یہ بھئی، اور لمبے لمبے قد بھئی۔ تو لیکن جب وہ آندھی آئی بھئی، ایسی خوفناک آندھی، اور اتنے شور والی، کہ اتنے مضبوط لوگ جو تھے، ان کو بھی زمین سے اٹھا اٹھا کر وہ زمین پر پٹخ دیتی تھی وہ آندھی بھئی، اور پھر جب وہ ختم ہوئی بھئی، سات سات راتیں اور آٹھ دن تک مسلسل یہ آندھی ان پر چلتی رہی بھئی۔ سات دن اور آٹھ رات سات راتیں اور آٹھ دن تک مسلسل یہ آندھی ان پر چلتی رہی۔ اور پھر جب تھمی تو یہ سارے اس طرح زمین پر گرے ہوئے پڑے تھے۔ لمبے لمبے قد تھے، تو یوں معلوم ہوتا تھا کھجوروں کے تنے گرے ہوئے پڑے ہیں بھئی۔ تو ہم نے ان پر ایک تیز، ایک سخت ہوا آواز والی آندھی بھیجی، ایک ایسے ایک دائمی منحوس دن کے اندر۔ تنزع الناس کأنھم أعجاز نخل منقعر، جو لوگوں کو اکھاڑ دیتی تھی، گویا کہ وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں۔ فکیف کان عذابی ونذر، پس کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈرانا۔ ولقد یسرنا القرآن للذکر فھل من مدکر، ہر ایک کا واقعہ ذکر کرنے کے بعد اللہ فرما رہے ہیں، کیسا تھا میرا عذاب اور میری پکڑ۔ اور کیا ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کر دیا، کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا۔ ولقد یسرنا القرآن للذکر فھل من مدکر، اور ہم نے آسان کر دیا ہے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے، فھل من مدکر، پس کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا۔ کذبت ثمود بالنذر، جھٹلایا قوم ثمود نے بالنذر، ڈرانے والوں کو۔ نذر جمع ہے کس کی؟ نذیر کی۔ جھٹلایا قوم ثمود نے بالنذر، ڈرانے والوں کو، یعنی پیغمبروں کو۔ سوال پیدا ہوتا ہے قوم ثمود نے تو ایک پیغمبر کو جھٹلایا تھا، اور یہاں تو کیا آیا؟ انہوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا بھئی سب پیغمبروں کو۔ جواب یہ کہ ایک پیغمبر کو جھٹلانا سب کو جھٹلانا ہے، کیونکہ دعوت سب کی ایک ہی ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ کذبت ثمود بالنذر، جھٹلایا قوم ثمود نے ڈرانے والوں کو، یعنی پیغمبروں کو۔ فقالوا أبشرا منا واحدا نتبعہ، پس کہا انہوں نے، کیا ایک آدمی، منّا ہم ہی میں سے، واحدا تنہا، نتبعہ کیا ہم اس کی پیروی کریں؟ ایک اکیلا ہم ہی میں سے ہم جیسا ایک آدمی ہے، کیا ہم اس کی پیروی کریں گے؟ إن اذاً لفي ضلال وسعر۔ یقیناً ہم تب تو البتہ گمراہی اور جنون میں ہوں گے۔ سعر، جنون بھئی۔ جنون بھئی، دیوانہ پن۔ اگر ہم ایسا کریں تب تو ہم کس میں ہوں گے؟ بڑی گمراہی اور جنون میں ہوں گے۔ ایک ہم ہی جیسا ایک آدمی ہے، اکیلا ہے کوئی اس کا ساتھ دینے والا بھی نہیں، مال بھی اس کے پاس نہیں ہے، تو ہم ہی اس کے راستے پر چلیں، تو یہ تو بڑی گمراہی اور پاگل پن والی بات ہوگی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ فقالو، پس کہا انہوں نے ابشراً منا واحدا نتبعہ، کہ کیا ایک مرد ہم ہی میں سے تنہا جو ہے ہم اس کی پیروی کریں، إن اذاً لفي ضلال وسعر، بے شک ہم تب تو البتہ گمراہی اور جنون میں ہوں گے۔ ابشاراً منا واحدا۔ بشراً موصوف، منّا صفت اول، واحدا صفت ثانی۔ آپ کو شاید میں نے بتلایا ہو ضابطہ، نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ فعل اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت۔ اور موصوف صفت کا ترجمہ کیسے کرتے ہیں؟ موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی کا۔ اسی طرح نکرہ کے بعد اگر جار مجرور آ جائیں، اور وہ کسی سے متعلق نہ ہو رہے ہوں، تو پھر وہ اسی نکرہ کے لیے کیا بن جاتے ہیں؟ صفت۔ ہاں، ان کا متعلق اس کا نکالنا پڑے گا محذوف۔ ابشاراً ثابتًا منّا۔ ابشاراً ثابتًا منّا۔ تو یہ ثابتًا سے متعلق ہو کر صفت بنے گی بشر کی، اور بشر منسوب تھا اس لیے ثابتًا بھی میں نے منسوب نکالا بھئی۔ اور واحدا یہ صفت ثانی ہے۔ تو کہنے لگے فقالوا أبشراً منا واحدا، کیا ایک ایسا آدمی جو ہم ہی میں سے ہے، تنہا ہے، نتبعہ کیا ہم اس کی پیروی کریں؟ اب بھئی یہ ابشاراً اس کو نصب کس نے دیا؟ یاد رکھیے، یہ ما أضمر عاملہ علی شريطة تفسير کی قبیل سے ہے۔ نحم میں آپ نے پڑھا ہوگا کہ بعض اوقات جو اسم کے بعد ایک فعل یا شبہ فعل ہوتا ہے، اور وہ فعل یا شبہ فعل اس اسم میں عمل نہیں کر سکتا، کیونکہ وہ اسی کی ضمیر میں مشغول ہوتا ہے۔ تو چنانچہ اس کے لیے پھر عامل مقدر نکالا جاتا ہے۔ تو یہ کیا ہے؟ ما أضمر عاملہ علی شريطة التفسیر۔ یعنی ابشاراً، ابشاراً سے پہلے نتبع محذوف ہے۔ أنتبع بشراً منا واحدا۔ اور یہ بعد والا نتبع، یہ نہیں نصب دے سکتا ابشاراً کو، اس لیے کیونکہ یہ تو ایک مفعول چاہتا تھا اور وہ اس کے ساتھ ہا ضمیر نتبعہ ہا ضمیر اس کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، لہذا یہ اس کو نصب نہیں دے سکتا تو اس کے لیے نتبع الگ محذوف نکالنا پڑے گا بھئی۔ چلیے بس بھئی ہذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقة الکلام۔
131 approved lectures · 107 of 131