Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-129

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 12 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 6
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ بالله من الشيطان الرجيم، بسم الله الرحمن الرحيم. يا ايها المدثر قم فانذر و ربك فكبر و ثيابك فطهر و الرجز فاجهر و لا تمنن تستكثر و لربك فاصبر. جی آج ہم سورۃ مدثر پڑھیں گے۔ یہ سورت بھی ابتدائے اسلام کے زمانے میں نازل ہوئی، جس طرح گزشتہ سورت سورۃ مزمل جو ہے، بالکل ابتدائی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملنے کے ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی تھی۔ اور مدثر کا بھی وہی معنی ہے جو مزمل کا ہے۔ مزمل کا کیا معنی تھا؟ چادر میں لپٹنے والے، یہی معنی ہے مدثر کا بھی۔ يا ايها المدثر، اے چادر میں لپٹنے والے! اور جیسے مزمل اصل میں تھا متزمل، باب تفاعل تھا۔ اسی طرح مدثر بھی اصل میں متدثر بھئی باب تفاعل ہے، پھر تا کو دال کرکے دال میں ادغام کیا گیا۔ يا ايها المدثر، اے چادر میں لپٹنے والے! قم فانذر، اٹھو فانذر، پھر ڈراؤ، پھر خبردار کرو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت کا حکم دیا جا رہا ہے۔ قم، اٹھو، کھڑے ہو جاؤ۔ فانذر، پھر ڈراؤ، پھر خبردار کرو۔ و ربك فكبر، اور اپنے رب کی تعظیم بیان کرو۔ يا ايها المدثر قم فانذر و ربك فكبر، اے چادر میں لپٹنے والے! اٹھو، پھر خبردار کرو و ربك فكبر اور اپنے پروردگار کی عظمت بیان کرو۔ و ثيابك فطهر، اور اپنے کپڑے پاک رکھو۔ و ثيابك فطهر، اور اپنے کپڑے پاک رکھو۔ تو آگے شرعی احکام نازل ہونے والے ہیں نماز وغیرہ اور چیزوں کے، اور ان کے لیے کپڑوں کا پاک ہونا ضروری ہے، تو آپ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ جس طرح پہلے اپنے کپڑے اور بدن کو پاک رکھتے تھے، آئندہ بھی کیا کیجیے اپنے کپڑے اور بدن کو پاک رکھیے اور اسی طرح دیگر مومنین کو بھی حکم۔ اور بعضوں نے کہا ثیاب سے، قلب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قلب مبارک ہے کہ اپنے دل کو صاف رکھیے۔ کیا کیجیے؟ اپنے دل کو صاف رکھیے، یعنی کسی قسم کا کسی قسم کا کے ٹیڑھے عقیدے کو اس میں جگہ نہ دیجیے۔ و الرجز فاجہر، رجز کہتے ہیں گندگی کو، اور مراد بت ہیں بھئی، بت۔ و الرجز فاجہر، اور گندگی کو چھوڑ دیجیے، یعنی بتوں کو چھوڑ دیجیے، جیسے پہلے اب تک آپ نے بتوں کو چھوڑ رکھا تھا، آئندہ بھی ان بتوں سے دور رہیے۔ و الرجز فاجہر، اور بتوں سے دور رہیے۔ ولا تمنن تستكثر، اور احسان نہ کیجیے۔ منن احسان کو کہتے ہیں بھئی۔ ولا تمنن، اور آپ احسان نہ کیجیے۔ تستكثر، زیادہ وصول کرنے کے لیے۔ بعض لوگ کسی کے ساتھ نیکی کرتے ہیں، کوئی چیز تحفے میں دی، کوئی نیکی کی، تو مقصد یہ ہوتا ہے کہ آج اس کو میں دس کی چیز دے رہا ہوں، کل دس کی چیز دوں گا تو یقینا یہ مجھے بدلے میں پچاس کی چیز دے گا۔ تو یہ ہے زیادہ وصول کرنا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا جا رہا ہے ولا تمنن تستكثر، اور احسان نہ کیجیے، تستكثر زیادہ بدلہ پانے کے لیے، زیادہ وصول کرنے کے لیے۔ و لربك فاصبر، اور اپنے رب کے لیے صبر کیجیے۔ اور اپنے رب کے لیے صبر کیجیے، اس کے حکموں کا انتظار کیجیے۔ یہ لوگ جو بھی آپ کو تکلیف دیں، آپ اس پر صبر کیجیے۔ فإذا نقر، پس جب پھونکا جائے گا في الناقور، صور کے اندر۔ فإذا نقر في الناقور، پس جب پھونکا جائے گا صور کے اندر، یہ نفخہ ثانیہ مراد ہے۔ نفخہ اولی، جس پر تمام جاندار ختم ہو جائیں گے اور نفخہ ثانیہ، جس میں تمام جاندار قیامت میں زندہ ہوں گے۔ فإذا نقر في الناقور، پس جب پھونکا جائے گا صور میں، فذلك يومئذ يوم عسير، پس وہ دن جو ہے، يوم عسير، سخت دن ہوگا، مشکل دن ہوگا، على الكافرين، کافروں پر۔ پس وہ دن مشکل دن ہوگا، علی الکافرین، کافروں پر۔ فذلك يومئذ يوم عسير، پس وہ اس دن مشکل دن ہوگا، على الكافرين، کافروں پر، علی الکاف، علی الکافرین، غیر یسیر، وہ مشکل دن ہوگا علی الکافرین، غیر یسیر، کافروں پر آسان نہیں ہوگا۔ فذلك يومئذ يوم عسير، پس وہ اس دن مشکل دن ہوگا، علی الکافرین، غیر یسیر، کافروں پر آسان نہیں ہوگا۔ ذرني ومن خلقت وحیدا، ذرنی، چھوڑ دو مجھے، ومن خلقت وحیدا، اور وہ جس کو میں نے پیدا کیا، وحیدا، اکیلا۔ اے پیغمبر، چھوڑ دو مجھے اور وہ جس کو میں نے اکیلا پیدا کیا. اس سے مراد کہتے ہیں حضرت، اس سے ذرنی یعنی اے پیغمبر، یہ جو آپ کو تکالیف دیتے ہیں، ذرني ومن خلقت وحیدا، اے پیغمبر آپ مجھے چھوڑ دیجیے و من خلقت وحیدا، اور اس شخص کو، جس کو میں نے پیدا کیا، وحیدا، اکیلا، جس کو میں نے اکیلا. اس سے مراد ولید ابن مغیرہ ہے بھئی۔ یہ بڑا مالدار شخص تھا، اور بڑا مالدار اور اکلوتا تھا، اکلوتا۔ تو اللہ فرما رہے ہیں کہ مجھے چھوڑ دو، اور جس کو میں نے اکیلا پیدا کیا، یعنی میں خود اس سے نبٹ لوں گا۔ و جعلت له مالا ممدودا، یہ بڑا مالدار آدمی تھا، اور بڑی اہمیت تھی اس کی، مشرکین مکہ کے اندر، اہم اہم فیصلوں کے اندر وہ سارے قریش مکہ بھی اس کی طرف رجوع کرتے تھے، بڑا مالدار تھا، دس بیٹے تھے اس کے، بعض روایتوں میں آتا ہے تیرہ بیٹے تھے، اور اتنا زیادہ مال و دولت، غلام، باندیاں، نوکر چاکر، تو بیٹے بھی ہر وقت اس کے ساتھ رہتے، کسی کام کے لیے تو ملازم، غلام اتنے تھے، ضرورت ہی نہیں تھی جانے کی، تو جہاں بھی یہ مجلس میں ہوتا، اس کے بیٹے ساتھ ہوتے، پوری مجلس پر اس کی ہیبت چھائی ہوتی، اور اور تو یہ اہم آدمیوں میں سے تھا، اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت دی، تنہائی کے اندر۔ یہ اس نے قرآن کی آیتیں سنیں، اس پر بڑا اثر ہوا، اور اس نے کہا کہ میں غور کروں گا ان کے بارے میں۔ یہ اس نے تسلیم کر لیا کہ یہ انسانی کلام نہیں ہے، یہ شاعری بھی نہیں ہے۔ ادھر قریش مکہ کو پتہ چلا کہ ولید ابن مغیرہ جو ہے، وہ اسلام کی طرف مائل ہو گیا ہے، تو وہ بڑے پریشان ہوئے، سارے جمع ہوئے، اور مل کر اس کے پاس گئے، اور وہاں پر اب سارے قوم والے جمع ہو کر آئے ہیں، اس سے کہنے لگے کہ ہم نے سنا ہے تو اسلام کی طرف راغب ہوا ہے، تم آیات کے بارے میں، تم نے کہا ہے، میں غور کر کے بتاؤں گا، کیا ہے یہ؟ تو اب وہ جو پہلے اسلام کی طرف مائل تھا، اب ان لوگوں کی باتیں وغیرہ سن کر پھر متنفر ہوا، اور اب وہ اس مجلس کے اندر، اس نے کیا کیا کیا؟ وہ اللہ تعالی بیان فرمانے لگے ہیں، بیان فرمانے لگے۔ قریش نے اس سے کہا کہ یہ شاعری ہے، یہ قرآن جو ہے، یہ شاعری ہے۔ ولید کہنے لگا، میں خود بہت بڑا شاعر ہوں، یہ شاعری نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، یہ کاہنوں کا کلام ہے۔ ولید نے کہا، میں نے کاہنوں کا کلام بھی بڑا سنا ہے، یہ ان کی طرح بھی نہیں ہے۔ پھر کہنے لگے، اچھا بتاؤ، پھر یہ کیا چیز ہے؟ تو کہتے ہیں، یہ غور کرنے لگا، پھر لوگوں کو دکھانے کے لیے منہ بنایا، اور مڑا، پلٹا، اور تکبرانہ انداز اختیار کیا، اور پھر اس کے بعد کہنے لگا، یہ تو جادو ہے۔ پہلے تسلیم کر چکا تھا، یہ جادو نہیں ہے، یہ انسانی کلام نہیں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کہہ چکا تھا، اب لوگوں کو دکھانے کے لیے اس نے یہ بات کہی۔ دیکھیے، یہ سارا ذکر آ رہا ہے آگے، ذرنی ومن خلقت وحیدا، اے، مجھے چھوڑ دیجیے اور وہ جس کو میں نے اکیلا پیدا کیا، و جعلت له مالا ممدودا، اور میں نے اس کے لیے بنایا مالا ممدودا، ایسا مال ممدودا، جو پھیلا ہوا تھا، یعنی خوب لمبا چوڑا مال دیا اس کو میں نے خوب زیادہ۔ و جعلت له مالا ممدودا، اور اس کو میں نے پھیلا ہوا مال دیا، و بنين شهودا، اور ایسے بیٹے شہودا، شہود جمع شاہد کی، جو حاضر ہوتے تھے۔ یہ بھی اللہ کی بڑی نعمت ہے بھئی، اولاد ہو، اور اس کی آنکھوں کے سامنے رہے بھئی۔ کتنے ہی لوگ آپ سنتے ہیں، اولاد دور ہوتی ہے، کوئی کہاں مصروف، کوئی کہاں مصروف، تو اللہ اپنے انعامات گنوا رہے ہیں کہ میں نے اس کو بڑا پھیلا ہوا مال دیا، خوب لمبا چوڑا مال دیا، و بنین شہودا، اور ایسے بیٹے دیے جو اس کے سامنے، آنکھوں کے سامنے حاضر رہتے ہیں۔ و مہدت لہ تمہییدا، اور میں نے تیاری کی اس کے لیے، تیاری کرنا، یعنی اس کو خوب، ہر چیز اس کو مہیا مہیا کی میں نے، اس کو ہر چیز اس کو نصیب کی۔ و مہدت له تمهیدا، اور اس کے لیے میں نے خوب تیاری کی، یا یوں کہیں، اور اس کو سب کچھ میں نے مہیا کیا، ثم یطمع ان یزیدا، پھر یہ ہوس کرتا ہے ان یزیدا، کہ میں بڑھا دوں اس کے لیے، اتنا مال، اتنا کچھ دیا ہے، پھر بھی اس کا لالچ نہیں ختم ہوا، کیا چاہتا ہے کہ اللہ اس کے مال کو اور بڑھا دیں۔ ثم یطمع ان یزیدا، پھر یہ ہوس کرتا ہے، لالچ کرتا ہے، ان یزیدا، کہ میں بڑھا دوں، کلا، ہرگز نہیں۔ کلا، ہرگز نہیں۔ یاد رکھیے، یہ کلا تین معنی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ کبھی یہ رد کے طور پر، ڈانٹ کے طور پر، جیسے میں نے ابھی معنی کیا، ہرگز نہیں۔ آپ سے کوئی کہتا ہے، ضرب زید، زید کی پٹائی کرو، آپ کہتے ہیں، ہرگز نہیں۔ تو یہ رد ہے، ڈانٹ کے طور پر، انکار کے طور پر۔ اور ایک کلا بمعنی حقا کے آتا ہے، اور یہ وہی معنی ادا کرتا ہے جو انا ادا کرتا ہے۔ انا جیسے یقین کے لیے آتا ہے، کلام میں تاکید پیدا کرتا ہے، اسی طرح کلا بھی کیا کرتا ہے؟ یقین کے فائدہ دیتا ہے کلام کے اندر۔ اور کبھی کلا بمعنی الا کے آتا ہے، الا، حرف تنبیہ ہے، خبردار کرنے کے لیے، تو اس کا ترجمہ خبردار، وغیرہ سے کیا جاتا ہے، بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو تین قسم، کلا تین قسم کے معنی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ حرف رد کے طور پر بھی، اور یہ تحقیق کلام کے لیے بھی آتا ہے، اور تنبیہ کے لیے بھی آتا ہے۔ یہاں پر یہ ارادہ کے طور پر ہے کلا یہ لالچ کرتا ہے کہ میں اس کے ماں پھر بھی یہ لالچ کرتا ہے کہ میں اس کے اس کے لیے بڑھا دوں کلا ہرگز نہیں یعنی ایسا نہیں ہو سکتا انہو کان لایاتنا عنیدا یقینا یہ ہماری آیتوں کا مخالف ہے عنیدا عناد سے ہے دشمن ہماری آیتوں کا دشمن ہے ہماری آیتوں کا مخالف ہے سارہ حقہ صعود صعود کہتے ہیں چڑھائی کو بھئی اور ار حقہ یر حقہ کے معنی ہوتے ہیں کسی کو کسی کام پر لگانا کسی کو کسی کام کا مکلف بنا دینا اس پر مجبور کرنا اللہ فرما رہے ہیں سارہ حقہ صعود میں اس کو چڑھائی چڑھنے پر چڑھائی پر لگا دوں گا یعنی یہ چڑھائی پر چڑھے گا چڑھائی چڑھنے پر میں اس کو یعنی یوں ترجمہ کریں سارہ حقہ صعود عنقریب میں اس کو چڑھائی پر چڑھواؤں گا عنقریب میں اس کو چڑھائی پر چڑھواؤں گا تو صعود کا کیا معنی چڑھائی اور بعضوں نے کہا صعود جہنم میں ایک پہاڑ کا نام ہے پہاڑ کا نام ہے اور وہ بھی ایک عذاب کی صورت ہوگی کہ جہنمی اس پر چڑھیں گے ان کو چڑھایا جائے گا بڑی مشقت اور تکلیف میں اس پر چڑھیں گے اور پھر اوپر سے ان کو گرایا جائے گا اور پھر چڑھایا جائے گا اور پھر گرایا جائے گا اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے جہنم سے بھئی سارہ حقہ صعود عنقریب میں اس کو چڑھائی پر چڑھواؤں گا انہو فکر وقدرا یقینا اس نے غور کیا وقدرا اور پھر اور طے کیا اس نے غور کیا اور طے قریش نے کہا نا یہ شاعری ہے کہتے ہیں نہیں شاعری نہیں ہے قریش نے کہا یہ کہانت ہے اس نے کہا یہ کہانت بھی نہیں ہے تو کہنے لگے بتاؤ کیا ہے تو اب وہ مجلس وہ اس نے سب کے سامنے غور کرنے لگا جیسے میں سوچ رہا ہوں کہ کیا نام دوں اس کو اور صرف قوم کو قوم کو ان کی خوشی کے لیے اس نے یہ بات کی حالانکہ پہلے تسلیم کر چکا تھا کہ یہ انسانی کلام نہیں ہے تو وہ ذکر ہو رہا ہے تو قدر کا معنی طے کرنا کسی بات کو ٹھہر لینا کوئی فیصلہ کر دینا انہو فکر وقدرا اس نے سوچا وقدرا اور طے کر دیا کیا طے کیا اس نے کہ یہ یہ کلام جادو ہے اور یہ شخص جادوگر ہے انہو فکر اس نے غور کیا وقدرا اور طے کر دیا فقتل کیف قدر پس یہ مارا جائے یہ غارت ہو کیف قدر اس نے کیسا طے کیا قتل یہ بد دعا ہے کلام عرب میں استعمال ہوتی ہے کہ فلاں برباد ہو غارت ہو ہلاک ہو فقتل کیف قدر پس یہ برباد ہو کیسا اس نے کیا کیسا طے کر دیا کیا طے کر دیا ثم قتل کیف قدر پھر یہ برباد ہو یہ ہلاک ہو کیف قدر اس نے کیسے طے کیا طے کر دیا ثم نظرا پھر اس نے نظر ڈالی پھر اس نے مجلس کے اندر وہ جو اس نے انداز اپنایا تھا بھئی غور کیا پھر کہا اور سارے جو بیٹھے ہوئے تھے ان پر اس نے نظر دوڑائی کہ کون کون بیٹھے ہیں سارے لوگ مشرکین بیٹھے ہوئے ہیں تو ان کو خوش کرنے کے لیے ثم نظرا پھر اس نے نظر ڈالی پھر اس نے نگاہ کی ثم عبسا پھر اس نے منہ بنایا عبسا کا معنی ہوتا ہے تیوری چڑھانا ماتھے پر بل ڈالنا یعنی منہ بنانا ثم عبسا پھر اس نے تیوری چڑھائی و بصرہ بصر کا بھی یہی معنی منہ بنانا بھئی تو پھر بعضوں نے یہ ترجمہ کیا ثم عبسا وبصرہ پھر اس نے منہ بنایا اور زیادہ منہ بنایا پھر اس نے منہ بنایا اور زیادہ منہ بنایا یا بعضوں نے یوں ترجمہ کیا ثم عبسا وبصرہ پھر اس نے تیوری چڑھائی وبصرہ اور منہ بنایا ثم ادبر منہ بنایا بھئی جیسے اس کلام کو اس نے بڑا ناپسند کیا حالانکہ پہلے خود ہی اس کو اس نے تسلیم کیا ثم ادبر پھر اس نے پشت پھیری مسجد میں تھا نا سب کے سامنے کھڑا ہوا تھا تو وہ پشت پھیر کر جیسے غور کر ثم ادبر پھر اس نے پشت پھیری واستکبرا اور تکبر کیا یعنی تکبر کا اظہار کیا متکبرانہ انداز اپنایا فقال پھر کہا ان ہذا الا سحر یؤثر نہیں ہے یہ مگر ایسا جادو یؤثر جو چلا آتا ہے أثر کس کو کہتے ہیں؟ جو نشانات کوئی پیچھے شخص چھوڑ جائے ان کو کیا کہتے ہیں؟ اثر تو یہ بھی یؤثر اسی سے ہے جو پیچھے چھوڑا گیا ہے (یعنی چلا آتا ہے) فقال ان ہذا الا سحر یؤثر اس نے کہا نہیں ہے مگر یہ ایسا جادو جو چلا آتا ہے ان ہذا الا قول البشر نہیں ہے یہ مگر بشر کا قول یہ تو ان اور الا کے ساتھ ترجمہ کیا فقال ان ہذا الا سحر یؤثر تو با محاورہ کیا ترجمہ کریں گے؟ جی ہاں یہ تو چلا آنے والا جادو ہی ہے ان ہذا الا قول البشر اس کا کیا ترجمہ کریں گے؟ یہ تو انسانی کلام ہی ہے فصلیہ سقر اب آگے اللہ فرما رہے ہیں فصلیہ سقر عنقریب میں اس کو داخل کروں گا سقر میں جہنم میں سقر نام ہے جہنم کا اصل یسلی کے معنی داخل کرنا فصلیہ سقر عنقریب میں اس کو داخل کروں گا جہنم میں وما ادراک ما سقر اور آپ کو کیا خبر کہ جہنم کیا ہے لا تبقی ولا تذر نہ تو وہ باقی چھوڑتی ہے لا تبقی نہ تو وہ باقی رہنے دیتی ہے ولا تذر اور نہ چھوڑتی ہے نہ باقی رہنے دیتی ہے اور نہ چھوڑتی ہے دیکھو کلام کی فصاحت و بلاغت کا انداز لگائیے دیکھیے لا تبقی ولا تذر نہ تو باقی رہنے دیتی ہے جہنم کی اگ ایسی ہے کچھ بھی نہیں چھوڑتی ختم کر دیتی ہے اور پھر ختم ہو کر شاید جان چھوٹ جائے اللہ فرما رہے ہیں ایسا بھی نہیں ولا تذر پھر چھوڑتی بھی پھر دوبارہ اس کو بنا دیا جاتا ہے اور پھر دوبارہ پھر وہی عمل شروع ہو جاتا ہے اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے بھئی لا تبقی ولا تذر نہ وہ باقی رہنے دیتی ہے ولا تذر اور نہ چھوڑتی ہے لواحۃ للبشر جھلسا دینے والی ہے للبشر کھال کو جھلسا دینے والی ہے کھال کو جلا دینے والی ہے کھال کو تو بشر کا کیا معنی کیا؟ کھال کے یا بشر کا معنی آدمی ہی کے کر لیں لواحۃ للبشر جلا دینے والی ہے آدمی کو وہ آگ کیسی ہے آدمی کو جلا دینے والی ہے علیہا تسع عشر اس پر انیس مقرر ہیں اس پر انیس کارکن ہیں اس پر انیس کارندے ہیں یا اس پر انیس افراد ہیں یاد رکھیے جہنم کے جو بڑے بڑے افسر فرشتے ہیں وہ انیس ہیں بھئی انیس انیس انواع انیس اقسام کے عذاب ہیں بڑے بڑے ہر ایک پر ایک فرشتہ مقرر ہے اور پھر ان میں سب سے بڑا جو افسر ان پر ذمہ دار ہیں سب سے بڑے ان کا نام مالک ہے بھئی تو یہ انیس عذاب ہیں تو انیس فرشتے اللہ نے مقرر فرمائے ہیں علیہا تسع عشر اس پر انیس فرشتے ہیں مشرکین مکہ نے جب یہ سنا کہ جہنم ہے اور اس طرح عذاب ہوگا اور اس پر انیس افراد مقرر ہیں تو مذاق اڑانے لگے کہ یہ کیا انیس کا کیا مطلب ہے آپ کہتے ہو سب اس میں جلیں گے اور انیس تو ہم اتنے سارے ہیں ہم ان کو سنبھال لیں گے بات کہنے لگے ایک ایک کو اگر ہم دس دس بھی سنبھال لیں تو کوئی زیادہ تھوڑے سے افراد ہی سب کو ان کو سنبھال لیں گے ایک پہلوان تھا وہ کہنے لگا انیس میں سے سترہ کو تو میں اکیلا ہی سنبھال لوں گا دو کو تم سارے مل کر سنبھال لینا سمجھ میں آیا پتہ نہیں کیا کیا مذاق اڑایا ہوگا یہ تو ہم ارام سے اچھے لفظوں میں بیان کرتے ہیں انہوں نے کس طرح تزیح آمیز رویہ اپنایا ہوگا جیسے ان کی عادت تھی بھئی تو آگے اللہ اسی کا اب جواب دینے لگیں اللہ وما جعلنا اصحاب النار الا ملائکۃ اور نہیں بنائے ہم نے جہنم کے کارندے الا ملائکۃ مگر فرشتے تم سوچ رہے ہو کہ اللہ جواب میں فرما رہے ہیں کہ تم سوچ رہے ہو انیس کو تم سنبھال لو گے بھئی وہ انسان نہیں ہیں وہ فرشتے ہیں ہم نے اللہ فرما رہے ہیں جہنم کے جو کارندے ہیں وہ کیا بنائے ہیں فرشتے فرشتے ہی بنائے ہیں وما جعلنا اصحاب النار الا ملائکۃ اور ہم نے جہنم کے کارندے فرشتے ہی مقرر کیے ہیں وما جعلنا عدتہم الا فتنت للذین کفروا اور نہیں بنائے ہم نے ان کی تعداد جو ہے عدتہم ان کی اور نہیں بنایا ہم نے ان کی تعداد کو الا فتنتہ مگر آزمائش للذین کفروا ان لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر کیا ہم نے یہ جو انیس تعداد مقرر کی ہے کس لیے مقرر کی ہے تاکہ کفر کرنے والوں کے لیے یہ آزمائش کا باعث ہو دیکھا ان کے سامنے انیس کا عدد آیا تو مذاق اڑانے لگے سارے بھئی تو ان کے لیے اللہ نے آزمائش بنایا اور آگے اہل کتاب وغیرہ جو ہیں ان کو تاکہ ان کا یقین بڑھ جائے معلوم ہوا ان کی کتابوں میں کہیں پہلے سے ذکر تھا کہ جہنم کے بڑے ذمہ دار فرشتے کتنے ہیں انیس ہیں بھئی یہ معلوم ہوا اہل کتاب کی کتابوں میں کہیں ذکر تھا آگے دیکھیے ذکر آ رہا ہے لیست دیکھیے ہم نے نہیں بنایا ان کی تعداد کو مگر آزمائش ان لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر کیا لیستقین الذین اوتوا الکتاب تاکہ یقین کریں وہ لوگ جن کو کتاب دی گئی ویزداد الذین آمنوا ایمانا اور تاکہ بڑھ جائیں وہ لوگ جو ایمان لائے وہ بہ اعتبار ایمان کے (یعنی وہ ایمان کہتے ہیں ایمان والے ایمان کے اعتبار سے بڑھ جائیں یعنی ان کا ایمان بڑھ جائے) ولا یَرتاب الذین اوتوا الکتاب والمؤمنون اور تاکہ شک نہ کریں وہ لوگ جن کو کتاب دی گئی اور وہ جو ایمان والے ہیں ہم نے انیس تعداد مقرر کی ہے کافروں کی آزمائش کے لیے اور تاکہ اہل ایمان کا ایمان اور بڑھ جائے اور تاکہ شک نہ کریں اہل کتاب اور اہل ایمان ولیقول الذین اور تاکہ کہیں وہ لوگ فی قلوبہم مرض جن کے دلوں میں مرض ہے (یعنی مرض نفاق ہے) یا شک ہے والکافرون اور کافر کہیں ماذا اراد اللہ بہذا مثلا تاکہ کہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے اور کافر کہیں ماذا اراد اللہ بہذا مثلا اللہ نے کیا ارادہ کیا ہے اس مثال کے ذریعے؟ اللہ نے یہ جو ذکر فرمایا کہ انیس اس پر مقرر ہیں اس مثال کے ذریعے اللہ نے کیا ارادہ کیا ہے؟ یعنی ان کے لیے یہ آزمائش ہے کذلک یضل اللہ من یشاء ویہد‌ی من یشاء اور اسی طرح اللہ گمراہ کرتے ہیں جس کو چاہتے ہیں اور ہدایت دیتے ہیں جس کو چاہتے ہیں وما یعلم جنود ربک الا ہو اور نہیں جانتا آپ کے رب کے لشکروں کو سوائے اسی کے آپ کے رب کے لشکروں کو آپ کے رب کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا وما ہی الا ذکر للبشر اور نہیں ہے یہ جہنم حیطہ سقر کو راج جہنم کو راج وما ہیہ اور نہیں ہے یہ جہنم الا ذکر للبشر مگر انسان کے لیے نصیحت۔ کلا تحقیق وما ہیہ الا ذکر للبشر کلا اور نہیں ہے جہنم مگر نصیحت آدمیوں کے لیے کلا یقینا کلا یقینا کلا والقمر والقمر قسم ہے چاند کی ولیل اذ ادبر اور رات کی اذ ادبر جب وہ پشت پھیر لے اور رات کی جب وہ پشت پھیر لے یعنی جب گزرنے لگے صبح ہونے لگے والصبح اذا اسفر اور صبح کی قسم ہے اذا اسفرا جب وہ روشن ہو جائے۔ اسفرا کے کیا معنی ہوتے ہیں روشن جب صبح کی روشنی پھیلنے لگے قسم ہے چاند کی اور رات کی جب ادبرا جب وہ پلٹ جائے یعنی جب گزرنے لگے صبح ہونے لگے والصبح اذا اسفر اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے انھا لا احد الکبر انھا ہا ضمیر پھر وہی صخر کو راجح انھا یہ جہنم جو ہے لا احد الکبر البتہ بڑی چیزوں میں سے ایک ہے۔ اس قیامت کے اندر بڑی بڑی چیزیں جو ہیں اللہ کی جو بڑی بڑی نشانیاں ہیں ان نشانیوں میں سے ایک نشانی جہنم ہے۔ انھا لا احد الکبر یہ البتہ بڑی چیزوں میں سے ایک چیز ہے نظیر للبشر خبردار کرنے والی ہے آدمی کو ڈرانے والی ہے آدمی کو لمن شاء منکم ان یتقدم او یتاخر جو چاہے تم میں سے ان یتقدم کہ وہ آگے بڑھے او یتاخر یا پیچھے ہٹے یہ خبردار کرنے والی ہے آدمیوں کو جو چاہے تم میں سے وہ آگے بڑھے اور جو چاہے پیچھے ہٹے آگے بڑھے یعنی جنت اور ایمان کی طرف اور پیچھے ہٹے یعنی کفر کی طرف ہی رہے۔ کل نفس بما کسبت رہینہ ہر نفس جو ہے ہر جان جو ہے بما کسبت جو کچھ اس نے کمایا رہینہ اس پر اس کے بدلے گروی ہے۔ ہر نفس یوں ترجمہ کیجیے ہر نفس ہر جان جو ہے رہینہ گروی ہے۔ ہر جان رہینہ بمانے رہعون کہ بھئی کوئی چیز آپ کسی سے قرض لیتے ہیں تو اپنی کوئی چیز اس کے پاس گروی رکھواتے ہیں آپ قرض واپس دیں گے تو اپنی چیز واپس لیں گے اسی طرح اللہ فرما رہے ہیں ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے گروی رکھا ہوا ہے اچھا عمل کرے گا اللہ لا کر پیش کرے اپنے آپ کی جان کو چھڑوا لے اور اگر اچھے عمل نہیں لے کر آئے گا تو اس کو جان کو جہنم کے عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا صورت سمجھ میں آ گئی بھئی یہ معنی ہے کل نفس بما کسبت رہینہ ہر نفس جو ہے وہ گروی ہے اپنے اعمال کے بدلے الا اصحاب الیمین مگر دائیں طرف والے فی جنات وہ باغات میں ہوں گے یتسآلون عن المجرمين باہم ایک دوسرے سے پوچھیں گے باب تفاعل ہے جانبیں سے فعل چاہتا ہے یتسآلون باہم ایک دوسرے سے پوچھیں گے عن المجرمين مجرموں کے بارے میں کہ ہمارے کچھ ساتھی ہوتے تھے دنیا میں تو ہمارے ساتھ تھے جنت میں نظر نہیں آرہے ان کا کیا بنا وہ بڑے جرم کیا کرتے تھے وہ پوچھیں گے ہاں بلکہ باہم نہیں مجرموں سے پوچھیں گے بھئی یتسآلون وہ پوچھیں گے عن المجرمين مجرموں سے ما سلککم فی سقر کس چیز نے تم کو داخل کیا فی سقر جہنم میں تمہیں کیوں جہنم میں ڈالا گیا جنتی پوچھیں گے نیچے جہنم میں جلنے والوں سے قالوا لم نک من المصلین وہ کہیں گے لم نکو اصل میں کیا تھا لم نکن نون گر گیا اور اس سے پہلے کیا تھا نکونو نکو کانا ییکونو سے مت جم متکلم کا صیغہ پھر و تو لم کی وجہ سے گر گیا لم نکن اور پھر کبھی کبھار کیا کیا جاتا ہے نون کو بھی تخفیفا گرا دیا جاتا ہے قالوا لم نک من المصلین وہ کہیں گے ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہ تھے ہم نمازیں نہیں پڑھتے تھے جہنمی کہیں گے ولم نک نطعم المسکین اور ہم مسکینوں کو کھانا نہیں کھلانے تھے وکنا نخوض مع الخائضین اور ہم باتیں بنایا کرتے تھے مع الخائضین باتیں بنانے والوں کے ساتھ ہم باتوں میں مشغول ہوتے تھے باتوں میں مشغول ہونے والوں کے ساتھ یعنی جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مشورے کرتے باتیں کرتے ہنسی مذاق اڑایا کرتے تھے ہم بھی ان کے ساتھ شامل ہو کر باتوں میں مشغول ہوا کرتے اور اسلام اور مسلمانوں کا اور پیغمبر کا اور قرآن کا مذاق اڑایا کرتے تھے وکنا نخوض مع الخائضین اور ہم باتوں میں مشغول ہوا کرتے مع الخائضین باتوں میں مشغول ہونے والوں کے ساتھ وکنا نکذب بیوم الدین اور ہم جھٹلایا کرتے تھے روز جزا کو بدلے کے دن کو حتی اتانال یقین یہاں تک کہ ہمارے پاس یقینی بات آ گئی ہم روز جزا کو جھٹلاتے تھے یہاں تک کہ ہمارے پاس یقینی بات آ گئی یاد رکھیے الیقین سے مراد ہے موت الیقین سے کیا مراد ہے موت موت کا آنا یقینی کوئی شخص اس سے بچ نہیں سکتا حتی اتانال یقین یہاں تک کہ موت آ گئی ہم قیامت کو جھٹلاتے تھے یہاں تک کہ موت آ گئی اور موت کے بعد پھر ہم نے دیکھا کہ جو کچھ ہمیں کہا جاتا تھا وہ سچ ہے فما تنفعھم شفاعۃ الشافعین اب آگے اللہ فرما رہے ہیں کہ نہیں نفع دے گا ان کو شفاعۃ الشافعین سفارش کرنے والوں کی سفارش سفارش کرنے والوں کی سفارش ان کو کوئی نفع نہیں دے گی ان کے لیے کوئی سفارش قبول نہیں کی جائے گی فما لہم عن التذکرۃ معرضین فما لہم پس ان کو کیا ہوا عن التذکرۃ نصیحت سے معرضین یہ اعراض کرتے ہیں اللہ فرما رہے ہیں ان کو کیا ہوا یہ نصیحت سے کیوں اعراض کرتے ہیں فما لہم پس ان کو کیا ہوا عن التذکرۃ معرضین کہ یہ نصیحت سے اعراض کرتے ہیں نصیحت سے منہ موڑتے ہیں کانہم حمر مستنفرۃ گویا کہ یہ وحشی گدھے ہیں حمر جمع ہے حمار کی مستنفرۃ وحشی یا مستنفرۃ بدکے ہوئے کانہم حمر مستنفرۃ گویا کہ یہ بدکے ہوئے گدھے ہیں گویا کہ یہ بدکے ہوئے گدھے ہیں فرت من قسورۃ بھاگے ہیں من قسورۃ شیر سے قسورہ کسے کہتے ہیں شیر جیسے جنگ جیسے گدھے شیر کو دیکھ لیں اور ڈر کر خوف زدہ ہو کر بدک کر بھاگ جاتے ہیں تو اسی طرح یہ لوگ بھی اسی طرح بدکے ہوئے ہیں اور اسلام سے اور قرآن سے اور دعوت حق سے یہ اس طرح بھاگتے ہیں جیسے بدکے ہوئے گدھے شیر سے بھاگتے ہیں کانہم حمر مستنفرۃ فرت من قسورۃ گویا کہ یہ بدکے ہوئے گدھے ہیں جو بھاگے ہیں من قسورۃ شیر سے بل یرید کل امرء منہم ان یؤتصحفا صحفامنشرۃ بلکہ چاہتا ہے کل امرء منہم ان میں سے ہر شخص ان یؤتا کہ یہ کہ اس کو دیا جائے صحفامنشرۃ کھلے ہوئے صحیفے ہر شخص ان میں سے کیا چاہتا ہے پیغمبر پر ہم قرآن نازل کر رہے ہیں لیکن یہ اس پر مطمئن نہیں ہے یہ چاہتا ہے ان میں سے ہر ایک چاہتا ہے کہ اس پر الگ الگ صحیفے اتارے جائیں ہر ایک کیا چاہتا ہے اس پر الگ الگ صحیفے اتارے جائیں پھر ان کو یقین آئے گا ویسے یقین نہیں آئے گا آگے اللہ فرمائیں گے ہرگز نہیں ایسا نہیں ہو سکتا کسی الگ الگ ہر ایک پر صحیفے نازل نہیں کیے جا سکتے یہ قرآن ہی نصیحت کے لیے کافی ہے یہ ایک ہی کتاب نصیحت کے لیے کافی ہے جو نصیحت قبول کرنا چاہتا ہے کرے جو نہیں کرنا چاہتا نہ کرے بل یرید کل امرء منہم بلکہ چاہتا ہے ہر شخص ان میں سے ان یؤتا کہ اس کو دیے جائیں صحفامنشرۃ کھلے ہوئے صحیفے کھلے ہوئے ورق کلا ہرگز نہیں یعنی ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا بل لایخافون الاخرۃ بلکہ یہ ڈرتے نہیں ہیں آخرت سے کلا ہرگز نہیں انہ تذکرۃ یہ قرآن جو ہے تذکرۃ نصیحت ہے یہ اکیلا قرآن ہی کیا ہے یہ نصیحت ہے فمن شاء ذکرہ پس جو چاہے وہ نصیحت قبول کرے وما یذکرون الا ان یشاء اللہ اور نصیحت نہیں قبول کر سکتے الا ان یشاء اللہ مگر یہ کہ اللہ چاہے یعنی اللہ کے چاہے بغیر تو یہ نصیحت قبول کر ہی نہیں سکتے ہو اہل التقوی واہل المغفرۃ وہ اہل ہے تقوی کا یعنی کہ اس سے ڈرا جائے اللہ اس بات کے اہل ہیں اس بات کے لائق ہیں کہ اس سے ڈرا جائے واہل المغفرۃ اور اللہ اس بات کے اہل ہیں کہ ان سے کہ وہ بخشش فرمائیں اللہ کیا فرمائیں بخشش یعنی اللہ ہی ڈرنے کے لائق ہیں اور اللہ ہی بخشنے کے لائق ہیں بھئی اللہ ہی بخشنے والے ہیں اللہ ہی سے ڈرنا چاہیے معنی سمجھ میں آگیا بھئی بسم اللہ الرحمن الرحیم لا اقسم بیوم القیامۃ ولا اقسم بالنفس اللوامۃ یہ سورہ قیامہ ہے اور یہ بات میں پہلے بیان کر چکا کہ کبھی کبھار کلام عرب میں اقسم سے پہلے لا کا حرف بڑھایا جاتا ہے اور مقصد ہے کیا ہے ایک قسم کی نفی نہیں مراد ہوتی بلکہ کلام میں تاکید پیدا ہوتی ہے نیز کلام کے اندر حسن پیدا ہوتا ہے اور نیز بلاغت کے اعتبار سے اس بات کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ جس بات کی قسم اٹھائی جا رہی ہے یعنی جو جواب قسم ہے وہ اتنا واضح ہے اتنا واضح ہے کہ اس پر قسم کھانے کی ضرورت نہیں قسم تو اٹھائی جا رہی ہے لیکن ضرورت نہیں تھی قسم اٹھانے کی اتنی واضح بات ہے لا اقسم بیوم القیامۃ تو کیا ترجمہ کریں گے میں قسم اٹھاتا ہوں قیامت کے دن کی ولا اقسم بالنفس اللوامۃ اور میں قسم اٹھاتا ہوں ملامت کرنے والی جان کی ملامت کرنے والے نفس کی میں قسم اٹھاتا ہوں قیامت کے دن کی اور میں قسم اٹھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی جواب قسم محذف ہے لتبعدسن تم البتہ ضرور دوبارہ زندہ کیے جاؤ گے تم لوگ انکار کرتے ہو کہ دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا لیکن میں قیامت کے دن کی قسم اٹھاتا ہوں اور نفس لوامہ کی قسم اٹھاتا ہوں تم دوبارہ ضرور زندہ کیے جاؤ گے قیامت کے دن نفس لوامہ یاد رکھیے قرآن میں تین قسم کے نفس ذکر ہوئے ہیں ایک نفس لوامہ ہے ایک نفس عمارہ ہے ایک نفس مطمئنہ ہے نفس عمارہ نفس لوامہ اور نفس مطمئنہ نفس جو ہے انسان کے اندر اس کیفیت کا نام ہے جس سے تمام خواہشات اور ارادے پیدا ہوتے ہیں نفس کیا ہے انسان کے اندر اس کیفیت کا نام ہے جس میں ہر قسم کے ارادے اور خواہشات پیدا ہوتے ہیں اب یہ ارادے اور خواہشات اچھے بھی ہو سکتے ہیں برے بھی ہو سکتے ہیں تو اصل میں ہے اگر نفس جو ہے وہ برائی کی طرف مائل ہو گناہ پر تیار کرنے والا ہو گناہ حکم دینے والا ہو نہ انسان کہ یہ کر لو وہ کر لو گناہ ہی گناہ پر تیار کرتا ہے اس کو کہتے ہیں نفس امارہ۔ امر سے ہے امر حکم دینے والا امارہ حکم تو یہ برائی کا حکم دینے والا جو نفس ہے اس کو کیا کہتے ہیں نفس امارہ۔ اور اگر نفس ایسا ہے کہ کبھی تو انسان گناہ کر لیتا ہے لیکن گناہ کے بعد پھر اس کا نفس اس سے ملامت بھی کرتا ہے کہ کہ کیوں تم نے یہ گناہ کیا۔ تو اس کو نفس ملامت کرتا ہے تو یہ ہے نفس لوامہ۔ ملامت کرنے والا۔ یہ کون سا نفس ہے؟ نفس لوامہ۔ اور اگر نفس اللہ کے راستے میں مشقت برداشت کر کے اس کیفیت تک پہنچ چکا ہے کہ اب وہ نیکیاں ہی کرتا ہے نیکیوں پر ہی مطمئن رہتا ہے گناہ گناہ کرتا ہی نہیں یا کرتا بھی ہے تو بہت قلیل کوئی تو اس کو کہتے ہیں نفس مطمئنہ بھئی جو نیکیوں پر کیا ہے مطمئن ہے۔ نفس کتنی قسم کے تین؟ نفس امارہ جو برائی کا حکم دینے والا ہے۔ نفس لوامہ جس میں برائی بھی کرتا ہے لیکن پھر نفس اس کو کیا کرتا ہے برائی پر ملامت کرتا ہے۔ اور ایک نفس مطمئنہ جس میں نیکی پر انسان مطمئن رہتا ہے نیکی کی طرف ہی مائل ہوتا ہے وہ۔ ایحسب الإنسان أن لن جمع عظامہ کیا گمان کرتا ہے کیا خیال کرتا ہے انسان أن لن جمع عظامہ کیا کہ ہرگز ہم جمع نہیں کریں گے اس کی ہڈیوں کو عظام جمع ہے عظم ان کی ہڈیوں کو کہتے ہیں کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہیں کریں گے یعنی جب انسان مر جائے گا۔ صرف ہڈیاں ہی رہ گئیں تو کیا انسان کا یہ خیال ہے ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہیں کریں گے؟ بلا کیوں نہیں قادرین علی أن نسوی بنانہ بلکہ ہم قادر ہیں اس بات پر أن نسوی کہ ہم برابر کر دیں بنانہ اس کے پوروں کو۔ ہم کیا کر دیں اس کے یہ انگلیوں کے پوریں بھئی ایک انگلی کے اندر تین پوریں ہیں تو یہ اللہ فرما رہے ہیں اگر ہم چاہیں ہم قادر ہیں اس بات پر أن نسوی بنانہ کہ ہم اس کے پوروں کو ایک ایک پور کو ہم درست کر دیں ٹھیک بنا دیں اسی طرح جیسے پہلے تھے۔ معنی یہ ہے کہ جسم میں بڑی ہڈیاں بھی ہیں چھوٹی ہڈیاں بھی ہیں اب پوروں کی ہڈیاں تو چھوٹی چھوٹی ہیں تو اللہ فرما رہے ہیں بڑی ہڈیاں تو چھوڑو چھوٹی چھوٹی جو ہڈیاں ہیں ان کو بھی کیا کر دیں گے ہم پوری طرح برابر کر دیں گے اور انسان کو اسی طرح بنا دیں گے ہم اس بات پر قادر ہیں یہ بات ہمارے لیے مشکل نہیں۔ اور جدید زمانے کے اعتبار سے ایک نیا فائدہ بتلاؤں اپ کو بھئی۔ بھئی آپ جانتے ہیں کہ کہیں پر کوئی جرم وغیرہ ہو تحقیق کے لیے وہ وہاں پر انگلیوں کے نشانات اٹھاتے ہیں وہاں سے فنگر پرنٹس جن کو کہتے ہیں بھئی۔ اور آپ جانتے ہیں ہرش یہ انگلی کو اگر آپ غور سے دیکھیں اس پر لکیریں لگی ہوئی ہیں اور پوری دنیا کے اندر کوئی بھی دو افراد ایسے نہیں جن کی انگلیوں کے نشانات ایک جیسے ہوں حتی کہ جڑواں بھئی جن کی شکل و صورت چال ڈھال سب کچھ ایک جیسی ہوتی ہے ان کی بھی انگلیوں کے نشانات الگ الگ ہوتے ہیں۔ ایک تو اللہ کے اس عظیم خزانے کا اندازہ لگائیے اربوں کھربوں انسان اور ہر انسان کی کئی انگلیاں اور ہر ایک کے نشانات الگ الگ کتنا وسیع خزانہ ہے جو ختم ہونے میں نہیں آ رہا بھئی۔ اور تو علماء لکھتے ہیں کہ اس میں اشارہ ہے انگلیوں کے پوروں کی طرف بھی۔ انگلیوں کے کہ یہ پور دیکھو یہ کسی انسان کے کسی سے نہیں ملتے اور یہ کتنی باریک چیز ہے جس کو یاد رکھنا یا خیال رکھنا کتنا مشکل کام ہے لیکن تم کیا سمجھتے ہو ہم انسان کو دوبارہ نہیں بنائیں گے انسان تو چھوڑو ہم ان کے پوروں کو یعنی انگلیوں کے نشانات کو بھی بہ عینہ اسی طرح بنا دیں گے جس طرح انسان کو بنائیں گے بھئی تو اس میں اشارہ ہے کس کی طرف انگلیوں کے ان نشانات کی طرف اشارہ ہے پوروں پر وہ نشانات جو ہیں۔ بلکہ کیوں نہیں قادرین علی أن نسوی بنانہ بلکہ قادر ہیں ہم اس بات پر کہ ہم بنا دیں برابر کر دیں بنانہ اس کے پوروں کو بل یرید الإنسان لیفجر أمامہ بلکہ چاہتا ہے انسان کہ وہ فسق و فجور کرے أمامہ اپنے آگے بلکہ انسان کیا چاہتا ہے کہ اپنے آگے کیا کرے فسق و فجور کرے یعنی گناہ کرتا رہے أمامہ اپنے آگے اپنے آگے سے مراد یہ اپنے سے آگے کی زندگی میں یہ لوگ دعوت کیوں نہیں قبول کرتے توحید پر کیوں نہیں آتے اسی لیے کہ اگر دعوت قبول کر لیں گے تو پھر ان کو اپنے فسق و فجور سے رکنا پڑے گا اور یہ کیا چاہتے ہیں فسق و فجور کا راستہ کھلا رہے آگے ہم زندگی میں جیسے اب تک گناہ ڈھٹائی کے ساتھ کرتے رہیں ائندہ زندگی میں بھی اسی طرح کرتے رہیں اس لیے وہ اسلام قبول نہیں کرتے۔ یہ معنی ہے بل یرید الإنسان لیفجر أمامہ بلکہ چاہتا ہے انسان کہ وہ گناہ کرے أمامہ اپنے آگے یعنی اپنی آگے کی زندگی میں بھی یسأل أیان یوم القیامۃ پوچھتے ہیں أیان یوم القیامۃ کب ہوگا قیامت کا دن أیان کے ذریعے بھی سوال ہوتا ہے اور آپ نے نحو میں پڑھا ہے کہ ایان کے ذریعے کسی معمولی چیز کا سوال نہیں کیا جاتا بلکہ کوئی بڑی چیز ہو اس کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو قیامت بھی عظیم چیز ہے بھئی۔ یسأل وہ پوچھتے ہیں أیان یوم القیامۃ کب ہوگا قیامت کا دن فإذا برق البصر پس جس وقت چندھیا جائے نگاہ برق کا کیا معنی نگاہ کا چندھیا جانا حیرت زدہ رہ جانا آنکھوں کا کھلے کے کھلے رہ جانا۔ بھئی تیز روشنی ہو اس میں جیسے آنکھیں چندھیا جاتی ہیں کھل ہی نہیں جاتی ایک دم تو اسی طرح قیامت کے دن بھی سورج جب سر پر ہوگا اور نیس حیرت اور دہشت کی وجہ سے کہ ان کا تو گمان تھا قیامت ہوگی نہیں تو وہ ان کی آنکھیں چندھیا جائیں گی یا یوں ترجمہ کر لیں آنکھیں کھلے کی کھلے رہ جائیں گی جو بھی آپ ترجمہ کر لیں۔ فإذا برق البصر جس وقت نگاہ چندھیا جائے گی وخسف القمر اور چاند کو گرہن لگ جائے گا یعنی بے نور ہو جائے گا جب گرہن لگتا ہے تو روشنی کیا ہو جاتی ہے کم تو مراد ہے بے نور ہونا وخسف القمر اور چاند بے نور ہو جائے گا وجمع الشمس والقمر اور چاند اور سورج کو جمع سورج اور چاند کو جمع کر دیا جائے گا دونوں کو ملا دیا جائے گا یعنی بے نور ہونے میں جیسے سورج چاند بے نور ہوگا اسی طرح سورج بھی بے نور یا دونوں کو اکٹھا کر دیا ملا دیا جائے گا۔ یقول الإنسان یومئذ أین المفر کہے گا انسان اس دن أین المفر کہاں ہے بھاگنے کی جگہ انسان اس دن کیا کہے گا کہاں ہے بھاگنے کی جگہ یا بعضوں نے کہا کہ یہ ظرف نہیں ہے بلکہ یہ مصدر ہے تو پھر ترجمہ یہ ہوگا کہے گا انسان اس دن أین المفر کہاں بھاگنا ہے یعنی کس طرف کو بھاگنا کلا ہرگز نہیں اللہ فرما رہے ہیں کلا ہرگز نہیں لا وزر وزر کہتے ہیں جائے پناہ کو کوئی پناہ کی جگہ نہیں۔ انسان اس دن کہے گا کدھر بھاگوں کہاں بھاگ کر اپنی جان بچاؤں اللہ جواب میں کیا فرما رہے ہیں ہرگز نہیں کوئی پناہ کی جگہ نہیں کہیں بھاگنے کی جگہ نہیں۔ کلا لا وزر ہرگز نہیں ہرگز نہیں لا وزر نہیں ہے کوئی پناہ إلی ربک یومئذ المستقر آپ کے رب کی طرف ہی اس دن المستقر قرار کی جگہ ہوگی ٹھہرنا ہوگا یعنی اسی کی طرف جا ٹھہرنا ہوگا۔ ینبأ الإنسان یومئذ بما قدم وأخر خبر دی جائے گی انسان کو اس دن جو کچھ اس نے آگے بھیجا واخر اور جو پیچھے چھوڑا اس دن انسان کو سب کچھ بتلا دیا جائے گا جو اس نے آگے بھیجا تھا یعنی نامہ اعمال میں تھا واخر اور جو پیچھے چھڑایا یعنی جو نیکیاں اس کو کرنی چاہیے تھیں اور وہ نہیں کر کے آیا وہ سب کچھ انسان کو بتلا دیا جائے گا جو ایمان لانا چاہیے تھا وہ ایمان نہیں لایا تو قدم کا کیا معنی جو کام انہوں نے کیے جس کو وہ نامہ اعمال میں وہ پائیں گے اور آخر کا کیا معنی جو پیچھے چھوڑ دیے جو نیکیاں اور جو ایمان لانا چاہیے تھا اور جس کو وہ چھوڑ ائے نہیں ایمان نہیں لائے۔ ینبأ الإنسان یومئذ بما قدم وأخر بتلایا جائے گا انسان کو اس دن جو کچھ اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا بل الإنسان علی نفسہ بصیرۃ بلکہ انسان اپنی جان پر اپنی ذات پر بصیرۃ واقف ہوگا دیکھنے والا ہوگا وہ اپنی انسان اپنی ذات سے خوب واقف ہوگا کہ میں نے کیا عمل کیے اور کیا عمل نہیں کیے لیکن ان سب کو نامہ اعمال کے اندر بھی وہ پائے گا بھئی۔ بل الإنسان علی نفسہ بصیرۃ بلکہ اپنی انسان اپنی ذات پر بصیرۃ واقف ہوگا ولو القا معاذیر معاذیر جمع ہے معذرت کی اگرچہ وہ لا ڈالے معاذیر معذرتیں بہانے اگرچہ وہ بہانے لائے گا بہانے پیش کرے بہانے پیش کرے گا لیکن اسے اپنا پتہ ہوگا اسے پتہ ہوگا میں نے یہ سب کچھ کیا ہے اگرچہ بعد میں کیا کرے گا بہانے پیش کرے گا لیکن بہرحال اپنی ذات سے وہ خوب واقف ہوگا کہ یہ کیا تو تھا میں نے یہ سارا کچھ۔ لا تحرک بہ لسانک لتعجل بہ جی لا تحرک بہ اے پیغمبر لا تحرک بہ آپ حرکت نہ دیجیے بہ ابی هذا القرآن ہذا ضمیر کس کو راجع قران آپ اس قرآن کے ساتھ حرکت نہ دیجیے لسانک اپنی زبان کو لتعجل بہ تاکہ اس میں جلدی کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی آتی تھی تو حضرت جبرائیل امین علیہ السلام وہ آپ کے سامنے قران کی آیات کی تلاوت فرماتے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی ساتھ ساتھ پڑھنے کی کوشش کرتے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی ساتھ ساتھ ہی ابھی وہ پڑھتے جا رہے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ساتھ ساتھ یا زبان سے یا دل سے بس ساتھ ساتھ پڑھتے رہتے کہ اپ کو فکر ہوتی تھی کہیں ایسا نہ ہو یہ چلے جائیں اور بعد میں وحی مجھے پوری طرح یاد نہ رہے تو بے انتہا فکر کی وجہ سے اور آپ ان کے ساتھ ساتھ پڑھنے کی کوشش کرتے اور اس کی وجہ سے بڑی مشقت میں پڑ جاتے تھے بھئی ساتھ ساتھ سن بھی رہا ہوں انسان اور ساتھ ساتھ ہی ساتھ ساتھ ہی بول بھی رہا ہو یاد بھی کر رہا ہو تو کتنا مشکل کام ہے بھئی تو اس پر اللہ کی طرف سے اپ کو فرمایا جا رہا ہے لا تحرک بہ لسانک لتعجل بہ اے پیغمبر آپ حرکت نہ دیجیے اپنی زبان کو اس قرآن کے ساتھ تاکہ اس میں جلدی کریں إن علینا جمعہ وقرانا آپ فکر نہ کریں إن علینا جمعہ یقینا ہمارے پر ہم پر ہے اس قرآن کا جمع کر دینا ہم پر ہے اس قرآن کا جمع کر دینا یعنی آپ کے سینہ مبارک میں آپ کے سینہ مبارک میں قرآن کو جمع کر دینا یہ ہماری ذمہ داری ہے آپ کو اس کے بارے میں فکر کرنے آپ یہ فکر نہ کریں کہ بھول جاؤں گا یہ ہماری ذمہ داری ہے آپ کے سینے میں قرآن کو محفوظ کریں گے کوئی لفظ آپ سے رہے گا نہیں إن علینا جمعہ وقرانا یقینا ہم پر ہی ہے اس کا جمع کر دینا کس کا جمع کرنا قران کا اور کہاں پر آپ کے سینے میں تو ہم پر ہے اس کا جمع کر دینا وقرانہ اور اس کا پڑھوانا اس کا جمع کرنا اور اس کا آپ سے پڑھوانا یہ ہماری ذمہ داری ہے قرآن مصدر ہے پڑھنے کے معنی میں۔ فإذا قرأناه پس جب ہم اس کو پڑھیں اللہ فرما رہے ہیں فإذا قرأناه جب ہم اس قرآن کو پڑھیں یعنی فرشتے کی زبان سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تو حضرت جبرائیل امین وحی لے کر آتے تھے تو اللہ کیا فرما رہے ہیں جب ہم پڑھیں مراد کیا ہے فرشتے جب ہم یعنی ہم فرشتے کی زبان سے پڑھیں فرشتے کے ذریعے پلوائیں فإذا قرأناه پس جب ہم اس کو فرشتے کی زبان سے پڑھیں فتبع قرانا تو آپ اس کے ثم انہ علينا بيانہ پھر ہمارے اوپر ہے اس قران کو بیان کرنا۔ صرف قران کو آپ کے سینے میں محفوظ کرنا ہی ہماری ذمہ داری نہیں آپ کے سینے میں بھی محفوظ کریں گے اور آپ کے ذریعے اس کی وضاحت لوگوں کے سامنے بیان کروانا یہ بھی ہماری ذمہ داری ہے آپ اس کی فکر نہ کریں ہم اس کے تمام معنی اور مفاہیم آپ کے دل میں آپ کی زبان پر جاری کر دیں گے۔ ثم انہ علينا بيانہ پھر ہمارے اوپر ہے اس کی وضاحت کرنا کلا بل تحبون العاجلہ۔ کلا یہ میں نے تین معنی بیان کر دیے تو یہاں تنبیہ کے لیے کر لیں یا یا یقینا کے معنی میں کر لیں کلا بل تحبون العاجلہ خبردار بلکہ تم محبت کرتے ہو العاجلہ عاجلہ سے مراد دنیا ہے جلدی والی چیز جلدی کیا ہے سامنے ہمارے دنیا ہے آخرت ابھی بعد میں آئے گی۔ کلا بل تحبون العاجلہ یقینا بلکہ تم محبت کرتے ہو جلدی والی یعنی دنیا سے یوں ترجمہ کریں تم محبت کرتے ہو دنیا سے۔ یا خبردار اس کا ترجمہ کر لیں کلا کا خبردار بلکہ تم محبت کرتے ہو دنیا سے وتذرون الآخرہ اور چھوڑتے ہو آخرت کو آخرت کی فکر ہی نہیں کرتے وجوہ یومئذ ناضرۃ بہت سے چہرے یومئذ اس دن ناضرۃ تر و تازہ ہوں گے یعنی شاداب ہوں گے بہت سے چہرے قیامت کے دن شاداب ہوں گے الی ربھا ناضرۃ اپنے پروردگار کی طرف دیکھنے والے ہوں گے بہت سے چہرے اس دن مومنین کے چہرے کیا ہوں گے شاداب ہوں گے اپنے پروردگار کی طرف دیکھ رہے ہوں گے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین نے پوچھا یا رسول اللہ کیا ہم اللہ کو دیکھیں گے کیا واقعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے ہاں جس طرح چودھویں رات میں تم چاند کو دیکھتے ہو اس کے دیکھنے میں کوئی شک و شبہ نہیں اسی طرح قیامت کے دن بھی اللہ کو دیکھو گے اور اسی طرح جنت کے اندر بھی اللہ کی زیارت ہوگی۔ وجوہ یومئذ ناضرۃ بہت سے چہرے اس دن شاداب ہوں گے الی ربھا ناضرۃ اپنے پروردگار کی طرف دیکھنے والے ہوں گے اپنے پروردگار کو دیکھ رہے ہوں گے ووجوہ یومئذ باسرۃ اور بہت سے چہرے اس دن باسرۃ بگڑے ہوئے ہوں گے عبس و بسر پیچھے آیا تھا یا نہیں بھئی اسی سے ہے یہ ووجوہ یومئذ باسرۃ اور بہت سے چہرے اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے تظن ان یفعل بہا فاقرۃ وہ گمان کریں گے کہ کیا جائے گا ان کے ساتھ فاقرۃ کمر توڑنے والا معاملہ۔ وہ خیال کریں گے وہ سمجھ جائیں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ معاملہ کیا جائے گا یہ کفار مشرکین وغیرہ۔ فاقرۃ فقرۃ سے ہے فقرۃ یاد رکھیے یہ کمر کے اندر کمر کی ہڈی کے جو مہریں ہیں ایک ایک مہرہ کو فقرۃ کہتے ہیں کیا کہتے ہیں فقرۃ تو اسی سے کلام کے اندر بھی آپ پڑھتے ہیں فقرے یہ چھوٹے چھوٹے کلام کے حصے مسج و مقفہ ان کو بھی فقرے کہا جاتا ہے جیسے مہرہ مہرہ کے ساتھ جڑا ہوتا ہے اسی طرح وہ کلام کے حصے بھی ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں تو فقرۃ اسی سے ہے کیا کمر توڑنا توڑنا کمر توڑنے والا معاملہ تظن گمان کریں گے وہ چہرے وہ جو بگڑے ہوئے ہوں گے وہ گمان کریں گے وہ خیال کریں گے ان یفعل بہا کہ کیا جائے گا ان کے ساتھ فاقرۃ کمر توڑنے والا معاملہ کلا اذا بلغست تراقی کلا یقینا اذا بلغست ترا یا خبردار اذا بلغست تراقی جب پہنچ جائے روح بھئی التراقی حلق تک جب روح کہاں پہنچ جائے حلق تراقی جمع ہے ترقوت کی ترقوت کی اور ترقوت جو ہے ہنسلی کی ہڈی کو کہتے ہیں ترقوت کسے کہتے ہیں ہنسلی کی ہڈی ہنسلی بھئی یہ حلق حلق کے گلے کا جو آخری حصہ ہے یہاں ایک گڑھا سا پڑا ہوگا آپ کے بھئی یہ اس کے دونوں طرف جو ہڈیاں ہیں جو کندھے کی طرف جا رہی ہیں یہ ہیں ہنسلی کی ہڈی ایک ایک دائیں طرف ہے ایک بائیں طرف ان کو ترقوت کہتے ہیں کیا کہتے ہیں تو یہ ہنسلی کی ہڈی اللہ فرما رہے ہیں اذا بلغست تراقی جب روح پہنچ جائے التراقی جان جب پہنچ جائے التراقی ہنسلی کی ہڈیوں تک یعنی حلق تک پہنچ جائے یعنی انسان جب موت کے قریب پہنچ جائے جب موت بالکل سامنے دکھائی دینے لگے تو ہنسلی کی ہڈیوں سے مراد کیا ہے حلق ہے گلا مراد ہے اذا با کلا اذا بلغست تراقی خبردار یقینا جس وقت پہنچ جائے روح حلق تک وقیل اور کہا جائے من کون ہے راق دم کرنے والا راق راق رقیۃ سے ہے رقیہ کہتے ہیں تعویذ کو دم وغیرہ تو کون ہے راق دم کرنے والا جھاڑ پھونک کرنے والا۔ بھئی دیکھیے انسان جو ہے مریض کوئی بیمار ہوتا ہے اس کے علاج کے لیے بھرپور کوششیں کرتا ہے لیکن جب کوئی علاج کارگر نہیں ہوتا دکھائی دینے لگتا ہے کہ اب مریض موت کے منہ میں پہنچنے لگا ہے اور اس وقت پھر کچھ نہیں نظر آتا تو کہتے ہیں کوئی دم کرنے والا ہی مل جائے شاید اس کے دم سے ہی فائدہ ہو جائے دعاؤں وغیرہ کا تو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا یعنی بالکل اخری وقت مراد ہے۔ تو کہا جاتا ہے من راق کہ کون ہے دم کوئی ہے دم کرنے والا وظن اور وہ بھی گمان کر لیتا ہے مرنے والا بھی گمان کر لیتا ہے انھ الفراق کہ یہ جدائی ہے اب کیا ہونے لگا ہوں میں اپنے عزیزوں رشتہ داروں دوستوں سے اس دنیا سے میں جدا ہونے والا ہوں ولتف الساق بالساق اور لپٹ جاتی ہے پنڈلی کے ساتھ پنڈلی پنڈلی کے ساتھ پنڈلی لپٹ جاتی ہے کیا معنی بھئی موت کی شدت مراد ہے۔ موت کی شدت میں جب روح نکلنے لگتی ہے بڑی ہی تکلیف کا عالم ہوتا ہے تو تکلیف کی شدت سے ایک پنڈلی دوسری پنڈلی کے ساتھ جو رگڑ کھاتی ہے اور مل جاتی ہے وہ مراد ہے۔ یا مراد یہ ہے کہ پنڈلی سے پنڈلی مل جاتی ہے یعنی اب وہ پنڈ روح تو نکل رہی ہے اب پنڈلی وغیرہ کو وہ حرکت بھی نہیں دے سکتی تو جیسے تھی اسی طرح ملی ہوئی پڑی رہ جاتی ہیں یا بعضوں نے کہا کہ ساق عربی زبان میں مصیبت کو بھی کہتے ہیں تو یہاں معنی یہ ہے کہ مل جاتی ہے ایک مصیبت کے ساتھ دوسری مصیبت ایک مصیبت تو یہ کہ دنیا سے جدا ہو رہا ہے دوست بھئی بہن رشتہ دار سب کو چھوڑ کر جا رہا ہے اور دوسری مصیبت یہ کہ آگے آخرت میں بھی تکلیف اور عذاب کا سامنا کر رہا ہے بھئی۔ ایمان تو لایا نہیں اور اب سامنے کیا آرہی ہیں فرشتے وغیرہ نظر آنے لگے اور آگے بھی مصیبت آرہی ہے تو ایک مصیبت جدائی کی مصیبت کے ساتھ آگے آخرت کے عذاب کی مصیبت مل جاتی ہے معنی سمجھ میں آیا بھئی۔ اور بعضوں نے اور ترجمہ کیا بھئی وقیل من راق میں نے راق بتلایا کس سے ہے رقیہ سے رقیہ رقیہ کسے کہتے ہیں تعویذ وغیرہ تو اس وقت وہ کہتے ہیں ہے کوئی تعویذ والا کوئی دم کرنے والا ہے بعضوں نے کہا نہیں یہ رقیہ سے نہیں ہے یہ رقہ سے ہے۔ اور اس کے معنی ہیں اوپر چڑھنے کے اس کے کیا معنی ہیں اوپر چڑھنے کے۔ اسی سے مرقات بھی ہے مرقات بھی کس کو کہتے ہیں سیڑھی کو کہتے ہیں اوپر چڑھنے کا آلہ تو بعضوں نے کہا کہ یہ جو کہا راق اس سے اس کا معنی کون ہے اوپر چڑھنے والا یعنی اوپر لے جانے والا مراد ہے کہ جس وقت فرشتے آتے ہیں وہ روح قبض کرنے کے لیے وہ فرشتے آپس میں پوچھتے ہیں بات کرتے ہیں کہ نیکی نیک وہ نیک راہ پر روح لے جانے والے فرشتے بھی آجاتے ہیں اور وہ فاسق و فاجر اور گنہگاروں کی روح لے جانے والے فرشتے بھی آجاتے ہیں تو ان میں آپس میں بات ہوتی ہے کہ اس کی روح کون لے کر جائے گا من راق کون ہے اس کے اوپر لے جانے والا روح کو نیک نیک ہے اللہ نے کیا فیصلہ فرمایا کیا حکم دیا کیا بتلایا گیا ہے کون لے کر جائے گا۔ وزن انھ الفراق اور وہ مرنے والا بھی یہ گمان کر لیتا ہے کہ یہ جدائی ہے ولتف الساق بالساق اور لپٹ جاتی ہے پنڈلی کے ساتھ پنڈلی الی ربک یومئذ المساق آپ کے رب کی طرف اس دن المساق لوٹنا ہے آپ کے رب کی طرف اس دن لوٹنا ہے فلا صدق ولا صلی ولكن كذب وتولى نہ تو اس نے تصدیق کی یعنی نہ تو ایمان لایا۔ نہ تو اس نے تصدیق کی ولا صلی اور نہ نماز پڑھی ولكن كذب لیکن جھٹلایا وتولى اور پشت پھیری یعنی ایمان سے۔ ثم ذہب الہی اہلھ یتمتا پھر گیا اپنے گھر والوں کی طرف یتمتا اکڑتا ہوا اکڑ دکھاتا ہوا نہ تو اس نے تصدیق کی نہ نماز پڑھی اور بلکہ لیکن جھٹلایا اور تولا اور پشت پھیر پیلٹ گیا ایمان وغیرہ سے ثم ذہب پھر بھی اتنا گناہ کرکے اکڑ دکھاتا ہوا اپنے گھر والوں کے پاس گیا اکڑتا ہوا کہ جیسے بڑا کمال کرکے آ رہا ہے دعوت و توحید کو چھوڑ کر تو آگے اللہ فرما رہے ہیں اولی لک فاولی اولی ہلاکت ہے تیرے لیے فاولی پھر ہلاکت ثم اولی لک فاولی پھر ہلاکت ہے تیرے لیے پھر ہلاکت۔ أيحسب الإنسان أن يترك سدا کیا خیال کرتا ہے انسان کہ اس کو چھوڑ دیا جائے گا سدا ویسے ہی بیکار ہی یعنی کوئی حساب نہیں ہوگا ویسے ہی اس کو چھوڑ دیا جائے گا ايحسب الإنسان کیا خیال کرتا ہے انسان ان يترك سدا کہ اسے چھوڑ دیا جائے گا ویسے ہی بیکار ہی ألم يك نطفة من مني يمنى کیا نہیں تھا یہ ایک نطفہ منی کا یمنا جسے ٹپکایا گیا۔ یہ کتنی اکڑ دکھاتا تھا کتنا تکبر دکھاتا تھا کیا یہ اپنی اس حقیقت کو بھول گیا تھا کہ یہ ایک منی کا قطرہ ہی تو تھا جسے ٹپکایا گیا تھا اور اب یہ اتنے تکبر کرتا ہے ألم يك نطفة من مني يمنى کیا نہیں تھا یہ منی کا ایک قطرہ جس کو ٹپکایا گیا تھا ثم كان علقة پھر وہ وہ جو قطرہ تھا کیا بن گیا علقتا کیا بن گیا لو تھڑا گوشت کا ٹکڑا پھر وہ علقہ بن گیا گوشت کا لو تھڑا بن گیا رحم کے اندر خلقہ پھر اس کو اللہ نے پیدا کیا بنایا صوا پھر اس کو برابر کیا یعنی عذاب وغیرہ بنائے فجعل منہ الزوجین الذکر والأنثی پھر بنائے اسی سے اسی منی سے اللہ نے بنا دیے الزوجین یا وہ اسی سے الزوجین تو قسمیں بنا دیں الذکر والأنثی مذکر اور اسی ایک ہی قطرے سے اللہ مذکر بھی بنا دیتے ہیں اور اسی سے مونث بھی کیا۔ ألیس ذلک بقادر على أن يحيي الموتا کیا نہیں ہے قادر وہ اس بات پر کہ وہ زندہ کر دے مردوں کو کیا وہ اللہ جس نے ایک نطفے سے ایک انسان کو پیدا کیا اسی میں مذکر بھی بنا دیے اسی میں مونث بھی بنا دیے تو کیا وہ اس بات پر قادر نہیں ہے کہ وہ مردوں کو زندہ کر دے۔ چلیے بس بھئی ہذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقت الکلام۔
131 approved lectures · 129 of 131