أعوذ بالله من الشیطان الرجیم، بسم الله الرحمن الرحیم۔
أفمن شرح الله صدره للإسلام فهو على نور من ربه، فويل للقاسية قلوبهم من ذكر الله، أولئك في ضلال مبين۔
أفمن شرح الله صدره للإسلام؟ پس کیا وہ شخص کہ کھول دیا ہو اللہ نے اس کے سینے کو اسلام کے لیے؟ فھو علی نور من ربہ، پس ہو وہ نور پر من ربہ اپنے پروردگار کی طرف سے۔
افمن شرح، کیا پس وہ شخص کہ کھول دیا ہو اللہ نے اس کے سینے کو اسلام کے لیے، پس ہو وہ اپنے پروردگار کی طرف سے نور پر؟ اور یہاں خبر محذوف ہے بھئی۔ کمن قست قلوبھم، آگے آ رہا ہے فويل للقاسية قلوبهم۔
اسے معلوم ہوئی اس کی خبر کیا ہے؟ کیا وہ شخص جس کے سینے کو اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا ہو، اس شخص کی طرح ہے جن کے ان لوگوں کی طرح جن کے دل سخت ہوں بھئی؟ یقینا یہ دونوں برابر نہیں ہیں بھئی۔
أفمن شرح الله صدره للإسلام؟ پس کیا وہ شخص کہ کھول دے اللہ اس کے سینے کو اسلام کے لیے؟ فھو علی نور من ربہ، پس وہ نور پر ہو اپنے پروردگار کی طرف سے۔ تو کیا یہ شخص جس کے سینے کو اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا، اسے دین حق میں کسی قسم کا شک اور شبہ نہیں ہے، کسی چیز میں معمولی سا بھی اس کے دل میں شک نہیں، اور یہ اپنے پروردگار کی طرف سے ایک نور پر ہے، کیا اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جن کے دلوں کو اللہ سخت فرما دیں، جن پر کوئی بات ہی اثر نہیں کرتی؟
أفمن شرح الله صدره للإسلام؟ پس کیا وہ شخص کہ کھول دیا ہو اللہ نے اس کے سینے کو اسلام کے لیے؟ فھو علی نور من ربہ، پس ہو وہ نور پر اپنے پروردگار کی طرف سے۔ فويل، پس ہلاکت ہے للقاسية قلوبهم، ان لوگوں کے لیے کہ سخت ہیں ان کے دل۔
قسا یفسی کے معنی سخت ہونا بھئی۔ فويل، پس ہلاکت ہے للقاسية قلوبهم، ان لوگوں کے لیے کہ سخت ہیں ان کے دل من ذکر اللہ، اللہ کے ذکر سے، اللہ کی یاد سے۔ اولئك في ضلال مبين، یہ لوگ واضح گمراہی میں ہیں۔
اللہ نزل احسن الحديث۔ حدیث کے معنی ہوتے ہیں بات کے بھئی، بات، بات، کلام بھئی، کلام۔
اللہ نزل احسن الحديث، اللہ وہ ذات ہے جس نے نازل فرمائی۔ یا رحمك الله۔ اللہ وہ ذات ہے جس نے نازل فرمائی احسن الحديث، بہترین بات، یعنی بہترین کلام۔ اللہ وہ ذات ہے جس نے نازل فرمایا بہترین کلام، کتاباً، ایک کتاب ہے، متشابهاً، ایسی کتاب متشابهاً، جو ملتی جلتی ہے بھئی۔
بھئی ایک متشابہ کا وہ معنی جو آپ اصول الشاشی میں پڑھ چکے ہوں گے کہ جس کا معنی ہی معلوم نہ ہو بھئی، وہ مراد نہیں ہے یہاں، متشابہ کا معنی ایک دوسرے جیسے، ایک دوسرے سے ملتی جلتی۔
تو کتاب اللہ کے اندر بھی بھئی آیتیں ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں، ایک مضمون جو ایک جگہ بیان ہوتا ہے وہی دوسری جگہ بھی بیان ہوتا ہے یا بعض آیتیں ملتی جلتی ہیں، یہاں تک کہ ایک آیت میں اگر تفصیل نہیں تو دوسری جگہ اس کی تفصیل مل جاتی ہے بھئی، تو ملتی جلتی ہیں بھئی، ایک دوسرے جیسی ہیں۔
مثانياً، ثنا یثنی سے ہے بھئی۔ ثنا یثنی کے معنی ہوتے ہیں لوٹانے کے۔ مثانياً یعنی دہرائی ہوئی، جس کو دہرایا جاتا ہے، جس کو کیا کیا جاتا ہے؟ دہرایا جاتا ہے، بار بار پڑھا جاتا ہے بھئی، دنیا بھر میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب قرآن حکیم ہے۔
اللہ نزل احسن الحديث، اللہ وہ ذات ہے جس نے نازل فرمایا احسن الحديث، بہترین کلام کو کتاباً متشابهاً مثانياً، ایک ایسی کتاب کہ جو ملتی جس کی آیتیں ملتی جلتی ہیں، مثانياً دہرائی جاتی ہے۔
تقشعر منه جلود الذين يخشون ربهم۔
اقشعر یقشعر کے معنی ہوتے ہیں بدن پر بال کھڑے ہونا بھئی، کپکپی طاری ہونا۔
بھئی آپ نے اگر دہلی کو دیکھا ہو کبھی خوف کی حالت میں تو اس کے بدن کے بال کھڑے ہو جاتے ہیں بھئی۔ دیکھا ہے یعنی کبھی بھئی؟ تو یہی انسان پر بھی جب خوف کی سخت حالت آتی ہے تو اسی طرح اس کے بدن کے بال کھڑے ہو جاتے ہیں اور خوف سے، اسے کہتے ہیں بھئی رونگٹے کھڑے ہونا، رونگٹے کھڑے ہونا۔
تو جو بھی آپ ترجمہ کریں، رونگٹے کھڑے ہونا یا بدل کے بدن کے بال کھڑے ہونا یا کپکپی طاری ہونا، تقشعر منه جلود الذين يخشون ربهم، بال کھڑے ہو جاتے ہیں اس سے، جلود الذين ان کی کھال پر جو کہ ڈرتے ہیں، یخشون ربهم، جو ڈرتے ہیں اپنے پروردگار سے، یا کپکپی طاری ہو جاتی ہے اس سے، اس سے کپکپی طاری ہو جاتی ہے اس میں جب جہنم کے احوال ذکر ہوتے ہیں، جہنمیوں کے اور جہنم کے، تو کپکپی طاری ہو جاتی ہے اس سے، جلود الذين ان کی کھال پر یعنی بدن پر بھئی۔ یعنی کھال پر یعنی بدن پر بھئی۔
تو جز بول کر کل مراد ہے بھئی، کبھی کبھار جز بول کر کیا مراد ہوتا ہے؟ کل، تو یہاں بھی ذکر کھال ہے اور مراد بدن ہے۔ تو اگر بال کھڑے ہونے کا ترجمہ کریں تو بال کھڑے ہو جاتے ہیں ان کی کھال پر بھئی، یہ ترجمہ کر لیں اور اگر کپکپی کا معنی کرنا چاہتے ہیں تو کپکپی طاری ہو جاتی ہے ان پر، ان کے بدنوں پر بھئی، کپکپی طاری ہو جاتی ہے ان کے بدنوں پر، الذين يخشون ربهم، جو ڈرتے ہیں اپنے پروردگار سے۔
ثم تلين جلوبهم وقلوبهم إلى ذكر الله۔
لانہ یلین کے معنی ہوتے ہیں نرم ہونے کے۔ ثم تلين جلوبهم، پھر ان کی کھال نرم ہو جاتی ہے و قلوبهم، اور ان کے دل إلی ذکر اللہ، اللہ کے ذکر کی طرف، اللہ کی یاد کی طرف۔
چنانچہ قرآن کا یہ طریقہ ہے بھئی، جہاں جہنمیوں کا ذکر آتا ہے، اس کے ساتھ مومنین اور ان کے اچھے انجام کا بھی ذکر کر دیا جاتا ہے، اسی طرح جہاں جہنم کا ذکر آتا ہے، اس کے ساتھ جنت کا بھی ذکر کر دیا جاتا ہے تاکہ جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں اور جو ان باتوں کو سن کر کانپ اٹھتے ہیں، ان پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے، کہیں ایسا نہ ہو وہ ان باتوں کو برداشت ہی نہ کر پائیں تو فوراً ہی اس کے ساتھ جنت کا ذکر کر دیا جاتا ہے بھئی۔
ثم تلين جلوبهم وقلوبهم إلى ذكر الله، پھر نرم ہو جاتی ہیں ان کی کھالیں یا وہی ترجمہ کر لیں بھئی، جلود کا پہلے کیا ترجمہ کیا؟ بدن بھئی، بدن مراد۔ پھر نرم ہو جاتے ہیں ان کے بدن اور ان کے دل إلی ذکر اللہ، اللہ کی یاد کی طرف۔
ذلك هدى الله يهدي به من يشاء، یہ اللہ کی ہدایت ہے، ہدایت راستہ دکھاتے ہیں اس کے ذریعے جس کو چاہتے ہیں۔
یہ اللہ کی ہدایت ہے، ہدایت دیتے ہیں اس کے ذریعے جس کو چاہتے ہیں۔ ومن يضلل الله فما له منهاط، اور جس کو اللہ گمراہ کر دیں تو نہیں ہے اس کو کوئی راستہ دکھانے والا، تو اس کے لیے کوئی راستہ دکھانے والا نہیں۔ ومن يضلل الله فما له منهاط، اور جسے اللہ گمراہ کر دیں تو اسے کوئی راستہ دکھانے والا نہیں ہے، اور اللہ اسی کو گمراہ کرتے ہیں جو گمراہ کو چاہتا ہے۔
أفمن يتقي بوجهه سوء العذاب يوم القيامة؟ پس کیا وہ شخص جو بچتا ہے بوجهه، اپنے چہرے کے ذریعے سوء العذاب، برے عذاب سے یوم القیامۃ، قیامت کے دن؟
خبر محذوف ہے بھئی۔ كمن آمن، کیا وہ ایمان والے کی طرح ہو سکتا ہے؟ کیا وہ شخص جو بچتا ہے اپنے چہرے کے ذریعے برے عذاب سے قیامت کے دن، کیا وہ ایمان والے کی طرح ہو سکتا ہے؟ یقینا یہ دونوں برابر نہیں ہیں۔
بھئی دیکھیے، جہنمیوں کو جہنم میں ڈالا جائے گا، ہاتھ ان کے بندھے ہوئے ہیں ہاتھ پاؤں، اور آگ کے شعلوں کے اندر گریں گے، آگ کے شعلے ہوں گے ہر طرف سے، تو وہ گویا اپنے چہرے کے ذریعے ہی آگ کو روکیں گے بھئی، کیا کریں گے؟ چہرے کے ذریعے آگ کو روکیں گے۔
أفمن يتقي بوجهه سوء العذاب يوم القيامة؟ پس کیا وہ شخص جو بچتا ہے اپنے چہرے کے ذریعے سوء العذاب، برے عذاب سے یوم القیامۃ، قیامت کے دن، كمن آمن به؟ کیا اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو ایمان لے کر آیا؟
تو انسان جو ہے، انسان پر کوئی تکلیف آتی ہے تو وہ اپنے ہاتھ اور پاؤں کے ذریعے اسے روکنے کی کوشش کرتا ہے، اپنے چہرے کو بچاتا ہے بھئی، چہرے کو بچاتا ہے، اور وہاں پر تو کوئی صورت اور نہیں ہوگی تو اپنے چہرے کے ذریعے ہی اس کو روکیں گے بھئی۔
وقيل للظالمين ذوقوا ما كنتم تكسبون۔ اور کہا جائے گا ظالموں سے، چکھو تم ما كنتم تكسبون، وہ جو تم کماتے تھے۔
جو تم کماتے تھے، جو عمل کیا کرتے تھے، اسی کا مزہ چکھو۔
کذب الذين من قبلهم، جھٹلایا ان لوگوں نے بھی جو ان سے پہلے تھے، فأتهم العذاب من حيث لا يشعرون، پس آیا ان پر عذاب من حيث، ایسی جگہ سے لا یشعرون، جس کا انہیں شعور بھی نہیں تھا، جس کا انہیں احساس بھی نہیں تھا، شعور احساس کو کہتے ہیں بھئی، گمان۔ جس کا انہیں گمان بھی نہیں تھا بھئی۔
کذب الذين من قبلهم، جھٹلایا ان لوگوں نے، جھٹلایا ان لوگوں نے من قبلهم، جو ان سے پہلے تھے، اللہ فرما رہے ہیں یہ مکہ والے یہ ایمان نہیں لاتے، یہ عرب ایمان نہیں لاتے، اس سے پہلے بھی بہت سے لوگوں نے جھٹلایا انبیاء کو، فأتهم العذاب، پس آیا ان پر عذاب من حيث لا يشعرون، ایسی جگہ سے کہ جس کا ان کو خیال بھی نہ تھا، جس کی ان کو خبر بھی نہ تھی۔
فأذاقهم الله الخزي في الحياة الدنيا، خزي يقولون: رسوائی کو، ذلت کو۔
فأذاقهم الله الخزي، پس اللہ نے ان کو رسوائی چکھائی، ذلت چکھائی فی الحياة الدنيا دنیاوی زندگی میں۔
والعذاب الآخرة اکبر اور البتہ آخرت کا عذاب تو بہت بڑا ہے۔
فأذاقهم الله الخزي في الحياة الدنيا، پس چکھائے، چکھائی اللہ نے ذلت ان کو دنیاوی زندگی میں والعذاب الآخرة اکبر اور البتہ آخرت کا عذاب تو بہت بڑا ہے۔
یعنی دنیا میں بھی اللہ نے ان کو ذلیل کر دیا اور آخرت کا عذاب وہ تو ابھی باقی ہے، وہ تو بہت بڑا ہے۔
لو كانوا یعلمون، اگر یہ جانتے ہوتے، اگر یہ جانتے۔
یہ یہ ترجمہ کر رہے ہیں لو كانوا یعلمون، کاش کہ یہ جانتے۔
ولقد ضربنا للناس في هذا القرآن من كل مثل، اور تحقیق البتہ بیان کی ہے ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں من كل مثل ہر طرح کی مثالیں۔
اور تحقیق ہم نے بیان کی ہے لوگوں کے لیے اس قرآن میں من كل مثل ہر طرح کی مثالیں لعلهم يتذكرون تاکہ یہ نصیحت حاصل کریں۔
تاکہ یہ نصیحت قبول کریں۔
قرآنا عربيا، اس حال میں کہ یہ ایسا قرآن ہے جو عربی ہے یعنی عربی زبان میں ہے۔
غير ذي عوج، عوج کہتے ہیں کجی کو، کجی، ٹیڑھا پن۔
غير ذي عوج، جس میں ٹیڑھا پن نہیں ہے۔
لعلهم يتقون، تاکہ یہ ڈر جائیں، تاکہ یہ ڈریں۔
ولقد ضربنا للناس في هذا القرآن من كل مثل، اور تحقیق البتہ ہم نے بیان کیا ہے لوگوں کے لیے اس قرآن میں من كل مثل ہر قسم کی مثالیں اس میں سے لعلهم يتذكرون تاکہ یہ نصیحت قبول کریں قرآنا عربيا غير ذي عوج اس حال میں کہ یہ ایسا قرآن ہے جو عربی ہے، بغیر کجی کے ہے، بغیر ٹیڑ کے ہے یا بغیر ٹیڑھے پن کے ہے لعلهم يتقون تاکہ یہ ڈریں۔
قرآن کی باتیں بڑی سیدھی سیدھی ہیں، ان میں کسی قسم کا، کسی قسم کی کجی اور ٹیڑھا پن نہیں کہ جسے سمجھنا دشوار ہو بھئی۔
ضرب اللہ مثلاً، بیان کیا اللہ نے، بیان کی اللہ نے ایک مثال، رجلاً فیه شرکاء متشاكسون، ایک مرد کہ اس میں کئی شریک ہیں متشاكسون، ضدی۔
تشاکشا کے معانی ہوتے ہیں باہم ایک دوسرے سے مخالفت کرنا، باہم ایک دوسرے کی مخالفت کرنا، ضد کرنا ایک دوسرے سے۔
ضرب اللہ مثلاً رجلاً فیه شرکاء متشاكسون، بیان کی اللہ نے ایک مثال، ایک مرد کے اس میں کئی شریک ہیں ضدی وراجلاً سلماً لرجل اور ایک مرد ہے سلماً پورا لرجل ایک مرد کے لیے۔
هل يستويان مثلاً، کیا برابر ہیں دونوں مثلاً باعتبار حال کے۔
کیا دونوں باعتبار حال کے برابر ہیں؟
تو جیسے بھئی ایک غلام ہے، اس کے کئی مالک ہیں بھئی، مشترکہ غلام ہے کئی آدمیوں کے درمیان اور وہ اس کے جو مالک ہیں، وہ بھی آپس میں بڑے ضدی قسم کے لوگ ہیں۔
تو یہ غلام ہمیشہ تکلیف اور پریشانی ہی میں رہے گا، ایک مالک ایک بات کرتا ہے تو دوسرا عین اس وقت دوسرے کام کا کہتا ہے، تیسرا تیسرے کام کا کہتا ہے، تو ہر وقت تکلیف اور مصیبت میں ہی رہے گا کہ کیا کروں، کس کی بات مانوں اور کس کی نہ مانوں، کس طرح چلوں۔
جبکہ اس کے مقابلے میں ایک غلام جو پورا کا پورا ایک ہی شخص کا ہو، ایک ہی اس کا مالک ہو، اس کے لیے کوئی تکلیف نہیں۔
تو اللہ مثال بیان فرما رہے ہیں کہ یہی حال ہے مومن کا، اس وہ صرف ایک ہی اللہ کی طرف متوجہ ہے، ایک ہی معبود کو مانتا ہے اور اس کے بتلائے ہوئے راستے پر اس کو خوش رکھنے کے لیے ایک ہی سیدھے راستے پر آسانی سے عمل کرتا چلا جاتا ہے۔
جبکہ اس کے مقابلے میں جس نے کئی معبود بنا رکھے ہیں تو وہ ہر وقت تکلیف ہی میں رہتا ہے بھئی۔
معنا سمجھ میں آ گیا بھئی۔
ضرب اللہ مثلاً رجلاً فیه شرکاء متشاكسون، بیان کی اللہ نے ایک مثال، ایک مرد کی اس میں شریک ہیں کئی ضدی وراجلاً تو اس میں کئی شریک ہیں متشاكسون ضدی باہم مخالفت کرنے والے وراجلاً سلماً لرجل اور ایک مرد پورا کا پورا لرجل ایک مرد کے لیے۔
هل يستويان مثلاً کیا یہ دونوں برابر ہیں مثلاً باعتبار حالت کے کیا ان دونوں کا حال برابر ہے؟
الحمد لله، تمام تعریفیں اللہ کے لیے۔
تمام تعریفیں اللہ کے لیے کہ کتنی صاف اور کتنی واضح مثالوں کے ذریعے اللہ سمجھاتے ہیں لیکن وہ لوگ جن کی آنکھوں پر تعصب کے اور ضد کے پردے پڑے ہوئے ہوں انہیں کچھ سمجھ میں نہیں آتا بھئی۔
الحمد لله، تمام تعریفیں اللہ کے لیے، اللہ کے لیے ہیں بل أكثرهم لا يعلمون، بلکہ ان میں سے اکثر نہیں جانتے إنك میت وإنهم میتون، بے شک آپ مرنے والے ہیں وإنهم میتون اور بے شک یہ بھی مرنے والے ہیں۔
بے شک آپ بھی مرنے والے ہیں، آپ پر بھی موت آئے گی اور یہ بھی مرنے والے ہیں، ان پر بھی موت آئے گی۔
إن تو یہ ترجمہ بھئی کریں إنك میت وإنهم میتون، بے شک آپ کو بھی آپ کو بھی مرنا ہے وإنهم میتون اور ان کو بھی مرنا ہے ثم إنكم يوم القيامة عند ربكم تختصمون، پھر بے شک تم قیامت کے دن اپنے پروردگار کے پاس تختصمون جھگڑو گے۔
اپنے پروردگار کے پاس جھگڑو گے۔
یعنی مشرکین جو ہیں، کفار وہ اس وقت انکار کریں گے کہ اے اللہ! ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا ہی نہیں آیا، کوئی ہمارے پاس سمجھانے والا ہی نہیں آیا اور پھر جو ہیں ان کے خلاف گواہیاں، فرشتے بھی فرشتے بھی گواہ کے طور پر آئیں گے اور اسی طرح ان کے اپنے بدن بھی ان کے خلاف گواہیاں دیں گے اور اسی طرح جو تمام جھگڑے ہوں گے، اللہ اس دن ان کے درمیان فیصلہ فرمائیں گے۔
ثم إنكم يوم القيامة عند ربكم تختصمون، پھر بے شک تم قیامت کے دن اپنے پروردگار کے پاس جھگڑو گے۔
فمن أظلم ممن كذب على الله وكذب بالصدق إذ جاءه، فمن أظلم، پس کون زیادہ ظالم ہوگا ممن اس شخص سے کذب علی اللہ جس نے جھوٹ باندھا اللہ پر، جھوٹ بولا اللہ پر وكذب بالصدق اور جھٹلایا بالصدق سچی بات کو إذ جاءه جب وہ اس کے پاس آ گئی، جب وہ اس کے پاس پہنچی۔
اللہ فرما رہے ہیں پس کون زیادہ ظالم ہوگا اس شخص سے جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور سچی بات کی (یعنی سچے دین کو، سچی بات کی تکذیب کی، سچے دین کو جھٹلایا) إذ جاءه جب وہ اس کے پاس پہنچا۔
أليس في جهنم مثوى للكافرين، کیا نہیں ہے جہنم میں ٹھکانہ کافروں کے لیے۔
مثوا ٹھکانہ بھئی۔
أليس في جهنم مثوى للكافرين، کیا نہیں ہے جہنم میں ٹھکانہ کافروں کا؟
فمن أظلم ممن كذب على الله وكذب بالصدق إذ جاءه، پس کون زیادہ ظالم ہوگا اس شخص سے جس نے جھوٹ باندھا اللہ پر اور جھٹلایا سچ کو جب وہ اس کے پاس آ گیا، جس نے جھوٹ باندھا اللہ پر بھئی! یہ اللہ کی ذات پر جھوٹ باندھتے ہیں۔
کہتے ہیں فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔
یہ اللہ کے ساتھ اور معبود بناتے ہیں، کہتے ہیں حضرت عیسی علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں۔
تو اس طرح کے جھوٹ اللہ کی ذات پر باندھتے ہیں اور جب ان کے پاس سچا دین آیا تو اس کو انہوں نے جھٹلا دیا تو اللہ فرماتے ہیں اس سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھتے اور جھٹلائے سچ کو جب وہ اس کے پاس آ جائے۔
أليس في جهنم مثوى للكافرين، کیا نہیں ہے جہنم میں ٹھکانہ کافروں کا؟
والذي جاء بالصدق وصدق به أولئك هم المتقون، اور وہ جو لے کر آیا سچ کو والذی جاء بالصدق اور وہ جو سچ لایا وصدق به، اور اس کی تصدیق کی۔
وہ جو سچ لایا اور وہ جس نے سچ کی تصدیق کی أولئك هم المتقون، یہی متقی ہیں۔
یہی پرہیزگار ہیں۔
والذی جاء بالصدق، بھئی! جو سیدھے راستے پر ہیں، جو اللہ کے بتلائے ہوئے راستے پر ہیں، وہ سچی بات ہی لے کر آتے ہیں اور اس کی تصدیق کرتے ہیں بھئی۔
سچی بات ہی لے کر آتے ہیں اور اس کی تصدیق کرتے ہیں (یعنی اس کو سچا مانتے ہیں)، یہی لوگ پرہیزگار ہیں۔
تو اس صورت میں سچ لانے والے اور سچ ماننے والے دونوں مومنین ہوئے، کون ہوئے؟
مومنین، اہل ایمان۔
سچی بات ہی لاتے ہیں اور اس کو سچ مانتے ہیں بھئی، دوسروں کے پاس بھی سچی بات لاتے ہیں اور خود بھی اسے سچ مانتے ہیں۔
اور دوسرا معنی کر لیں اگر، والذی جاء بالصدق، اور وہ شخص جو سچ لے کر آیا (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم) وصدق به، اور اس کو وہ لوگ جنہوں نے اس کو سچ مانا (یعنی مومنین بھئی) مومنین۔
أولئك هم المتقون، یہی کیا ہیں؟ متقی ہیں، ڈرنے والے ہیں۔
لهم ما يشاءون عند ربهم، ان کے لیے جو یہ چاہیں گے ان کے پروردگار کے پاس ہوگا۔
جنت میں جنتی جو چاہے گا اس کو وہی ملے گا بھئی۔
لهم ما يشاءون عند ربهم، ان کے لیے جو یہ چاہیں گے ان کے پروردگار کے پاس ہوگا۔
ذلك جزاء المحسنين، یہ بدلہ ہے نیکی کرنے والوں کا۔
ليکفر الله عنهم أسوا الذي عملوا، تاکہ مٹا دیں اللہ ان سے اسوا الذي عملوا، برے عمل جو انہوں نے کیے بھئی۔
ليکفر الله عنهم أسوا الذي عملوا، تاکہ مٹا دیں، ختم کر دیں اللہ ان سے اسوا الذي عملوا، وہ برے عمل جو انہوں نے کیے ويجزيهم اور تاکہ اللہ ان کو بدلہ دے، بھئی نیکی کرنے والوں کا ذکر ہو رہا ہے، اللہ کیا فرماتے ہیں تاکہ اللہ ان سے جو برے عمل انہوں نے کیے ان کو مٹا دیں ويجزيهم أجرهم اور بدلہ دے اللہ ان کو أجرهم، ان کا اجر باحسن الذي كانوا يعملون، ان اچھے اعمال کا جو وہ کرتے تھے۔
ان اچھے اعمال کا جو وہ کرتے تھے۔
تاکہ اللہ ان کو بدلہ دے ان اچھے اعمال کا جو یہ کرتے تھے۔
بھئی! یہاں پر آیا أسواء، أسواء اس میں تفضیل ہے۔
لیکن یہ أسواء اس وقت سيء کے معنا میں ہے، اس میں تفضیل والا معنا نہیں بھئی، سيء برے عمل بھئی۔
ورنہ أسواء کا
کیا مانا ہوگا زیادہ برا زیادہ برا۔ اور
آگے احسن آیا۔ احسن بمعنی یہاں حسن کے ہے بھئی حسن کے معنی میں ہے اس میں تفضیل بھئی کس معنی میں ہے؟ حسن۔
اس لیے کیونکہ اگر اس میں تفضیل کو اپنے معنی پر ہی رکھیں تو معنی یہ ہوگا تاکہ اللہ مٹا دیں ان سے ان کے وہ جو بدترین عمل کرتے تھے۔
جو سب سے برا عمل یہ کرتے تھے اس کو برے عمل جو انہوں نے کیا اس کو کیا کر دیں ان سے؟ مٹا دیں۔
تو برے عمل نہیں اللہ تمام برے عمل جو سب سے برا ہے کیا معنی صرف اس کو ختم کیا جائے گا؟ باقی برے عمل ختم نہیں کریں گے؟ نہیں بھئی تمام برے عمل کیا فرما دیں گے مومنین کے اللہ تعالی ختم فرما دیں گے۔
تو یہاں یہ کس معنی میں ہوا؟
اسوہ اس میں تفضیل سیئ کے معنی میں ہے بھئی۔
اور اسی طرح سے تاکہ بدلہ دے اللہ ان کو اگر احسن اپنے معنی میں ہو تو سب سے بہترین جو وہ عمل کرتے تھے اللہ اس کا بدلہ دے تو کیا جو بہترین نہیں تھے عمل لیکن اچھے تھے کیا ان کا بدلہ نہیں ملے گا وہاں؟ نہیں بھئی بدلہ تو سب کا ملے گا اسی لیے یہاں میں نے کہا اسوہ اس میں تفضیل سیئ کے معنی میں اور احسن کس معنی میں ہے؟ حسن کے معنی میں۔
حسن کو احسن کے ساتھ ذکر کیا گیا اور سیئ کو اسوہ اس میں تفضیل کے ساتھ جو ذکر کیا گیا شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ جو بڑے درجے والے ہوتے ہیں ان کی معمولی برائی بھی بڑی شمار ہوتی ہے اور ان کی چھوٹی نیکی بھی بڑی شمار ہوتی ہے اس لیے اس میں تفضیل کے صیغے شاید استعمال کیے گئے بھئی۔
ذلک جزاء المحسنين یہ بدلہ ہے نیکی کرنے والوں کا۔
ليكفر اللہ عنہم اسوا الذی عملوا تاکہ مٹا دے اللہ ان سے ان کے وہ برے عمل جو انہوں نے کیے ويجزیہم اجرہم اور جزا دے ان کو اجر ان کا باحسان الذی کانوا يعملون ان اچھے کاموں کا جو وہ عمل کرتے تھے وہ اچھے کام جو وہ کیا کرتے تھے تاکہ ان بدلے میں ان کا اجر دے اللہ ان کو
ليكفر اللہ عنہم اسوا الذی عملوا تاکہ مٹا دے اللہ ان سے وہ برے عمل جو انہوں نے کیے ويجزیہم اجرہم اور بدلہ دے اللہ ان کو ان کا اجر باحسان الذی کانوا يعملون اس اچھے کام کا جو وہ کیا کرتے تھے۔
أليس اللہ بكاف عبدہ کیا اللہ کافی نہیں ہے اپنے بندے کے لیے؟
وإليس اللہ بكاف عبدہ کیا اللہ کافی نہیں ہے اپنے بندے کے لیے؟ ويخوفنك بالذین من دونہ اور وہ ڈراتے ہیں آپ کو ان سے جو اس اللہ کے علاوہ ہیں
ويخوفنك اور اے پیغمبر وہ آپ کو ڈراتے ہیں بالذین ان بتوں سے ان معبودوں سے من دونہ جو اللہ کے علاوہ ہیں۔
بھئی مشرکین جیسے عادت ہوا کرتی ہے وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈراتے تھے کہ بھئی دیکھو ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہنا چھوڑ دو ان کے خلاف کوئی بات نہ کرو ورنہ ایسی مصیبت آئے گی کہ بعد میں پچھتاؤ گے بھئی۔ تو وہ ڈراتے تھے۔
تو اللہ فرما رہے ہیں أليس اللہ بكاف عبدہ کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے؟ ويخوفنك بالذین من دونہ اور وہ ڈراتے ہیں آپ کو ان سے جو اللہ ان معبودوں سے جو اللہ کے علاوہ ہیں
ومن يضلل اللہ فما لہ من ہاد اور جس کو اللہ گمراہ کر دے تو نہیں ہے اس کو کوئی ہدایت دینے والا
ومن يہدی اللہ فما لہ من مضل اور جس کو اللہ ہدایت دے دیں تو نہیں ہے اس کو کوئی گمراہ کرنے والا۔ جسے اللہ ہدایت دے دیں اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا۔
أليس اللہ بعزيز ذي انتقام کیا نہیں ہے اللہ زبردست ذنتقام بدلہ لینے والے انتقام لینے والے
أليس اللہ بعزيز ذنتقام کیا اللہ نہیں ہے زبردست انتقام لینے والے
ولئن سألتہم من خلق السموات والأرض ليقولن اللہ اور اگر آپ ان سے پوچھیں کس نے پیدا کیا اسمانوں کو اور زمین کو ليقولن اللہ تو البتہ وہ ضرور کہیں گے اللہ نے۔
دیکھا مشرکین بھی مانتے تھے بھئی یہ سارا کچھ کہ سب کچھ پیدا کرنے والے اللہ تعالی ہیں۔
سب کو رزق دینے والے اللہ ہیں۔
لیکن بس بتوں کی عبادت کرتے تھے اور کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کر دیں گے بھئی۔
قل أفرأيتم ما تدعون من دون اللہ قل أفرأيتم اے پیغمبر آپ فرما دیجیے أفرأيتم بھئی یہ پہلے بھی آ چکا ہے اس طرح کا لفظ کیا معنی کریں گے؟
أفرأيتم تم مجھے بتلا تو صحیح
قل اے پیغمبر آپ فرما دیجیے أفرأيتم تم مجھے بتلا تو صحیح ما تدعون من دون اللہ وہ جن کو تم پکارتے ہو اللہ کے علاوہ یعنی اور معبود جو ہیں ان اردنی اللہ بضر ان ارد اگر اللہ ارادہ کریں
اردنیا یا متکلم کی ہے ان اردنی اللہ اگر اللہ میرے ساتھ ارادہ فرمائیں بضر کسی تکلیف کا یعنی اگر اللہ مجھے کوئی تکلیف دینا چاہیں ہن کات کشاف ضرہ تو کیا یہ جو باقی معبود جن کو تم پکارتے ہو اللہ کے علاوہ کیا یہ کاشفا ضرہ کشف کا معنی کھولنا دور کرنا ہن كاشف ضرہ کیا یہ اس اللہ کی دی ہوئی تکلیف کو دور کر سکتے ہیں؟
اے پیغمبر آپ ان سے کہیے کہ تم مجھے بتلا تو صحیح جن کو تم اللہ کے علاوہ پکارتے ہو اگر اللہ مجھے کوئی تکلیف دینے کا ارادہ کریں ہن کاشفا ضرہ تو کیا یہ اللہ کی تکلیف اللہ کی دی ہوئی تکلیف کو دور کر سکتے ہیں؟
أو اردنی برحمۃ یا اللہ ارادہ فرمائیں میرے ساتھ کسی رحمت کا ہن ہن ممسكات رحمتہ تو کیا یہ جو معبود ہیں تمہارے کیا ممسكات رحمتہ امسک يمسك کے معنی روکنے کے کیا یہ اس کی رحمت کو روک سکتے ہیں؟
یا اللہ مجھ پر کوئی رحمت فرمانا چاہیں تو کیا یہ اس اللہ کی رحمت کو روک سکتے ہیں؟
قل حسبی اللہ آپ فرما دیجیے میرے لیے اللہ کافی ہے
قل حسبی اللہ آپ فرما دیجیے حسبی اللہ اللہ میرے لیے کافی ہے
عليہ يتوكل المتوکلون اسی پر بھروسہ رکھتے ہیں بھروسہ رکھنے والے
توکل کا کیا معنی؟ بھروسہ رکھنا بھئی بھروسہ کرنا
عليہ يتوكل اسی پر بھروسہ رکھتے ہیں المتوکلون بھروسہ رکھنے والے
ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟
دوبارہ دیکھیے اس آیت کا ترجمہ
ولئن سألتہم من خلق السموات والأرض ليقولن اللہ اور اے اگر آپ پوچھیں ان سے کہ کس نے پیدا کیا اسمانوں کو اور زمین کو ليقولن اللہ تو البتہ وہ ضرور کہیں گے اللہ نے قل أفرأيتم ما تدعون من دون اللہ اے اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے کہ تم مجھے بتلا تو صحیح وہ جن معبود جن کو تم پکارتے ہو اللہ کو چھوڑ کر
ان اردنی اللہ بضر کیا اگر اللہ ارادہ فرمائیں میرے ساتھ کسی تکلیف کا اللہ اگر مجھے کوئی تکلیف دینے کا ارادہ فرمائیں ہن کاشفا ضرہ تو کیا یہ اس اللہ کی دی ہوئی تکلیف کو دور کر سکتے ہیں؟
أو اردنی برحمۃ یا اللہ میرے ساتھ مجھ پر کسی رحمت کا ارادہ فرمائیں کسی فضل کا ارادہ فرمائیں ہن ممسكات رحمتہ تو کیا یہ اللہ کے فضل کو روک سکتے ہیں؟
قل حسبی اللہ اے پیغمبر آپ فرما دیجیے میرے لیے اللہ کافی ہے عليہ يتوكل المتوکلون اسی پر بھروسہ رکھتے ہیں بھروسہ رکھنے والے
قل يا قوم اعملوا على مكانتكم اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے يا قوم اصل میں کیا تھا يا قوم اے میری قوم اعملوا على مكانتكم تم عمل کرو اپنی جگہ پر انی عامل بٖشک میں بھی عمل کرنے والا ہوں
اے پیغمبر آپ فرما دیجیے اے میری قوم تم عمل کرو اپنی جگہ پر
میں بھی عمل کرنے والا ہوں فسوف تعلمون پس عنقریب تم جان لو گے۔
عنقریب تم جانیں بس جلدی تم جان لو گے
تو کیا ترجمہ کیا میں نے قل يا قوم اعملوا على مكانتكم اے میری قوم تم عمل کرو اپنی جگہ پر یا یہ معنی کر لیں اعملوا على مكانتكم تم عمل کرو اپنے طریقے پر اپنی جگہ پر کیا مراد ہے اپنے طریقے پر بھئی
قل يا قوم اے پیغمبر آپ فرما دیجیے اے میری قوم اعملوا على مكانتكم تم عمل کرو اپنے طریقے پر انی عامل میں بھی عمل کرنے والا ہوں فسوف تعلمون پس جلدی تم جان لو گے
من يأتيه عذاب يخزيہ ويحل عليہ عذاب مقیم
من يأتيه کس پر آتا ہے عذاب ایسا عذاب يخزيہ جو اسے ذلیل کر دے ويحل عليہ اور کس پر نازل ہوتا ہے عذاب مقیم عذاب مقیم رہنے والا
باقی رہنے والا
یعنی دائمی دائمی اور کس پر نازل ہوتا ہے دائمی عذاب
فسوف تعلمون اب بس عنقریب تم جان لو گے من يأتيه عذاب يخزيہ کس پر آتا ہے رسوا کر دینے والا کس پر آتا ہے ایسا عذاب يخزيہ جو اسے رسوا کر دے ويحل عليہ عذاب مقیم اور کس پر نازل ہوتا ہے عذاب مقیم دائمی عذاب
إنا أنزلنا عليك الكتاب للناس بالحق بے شک ہم نے نازل کیا آپ پر کتاب کو لوگوں کے لیے بالحق
برحق
بے شک ہم نے آپ پر لوگوں کے لیے کتاب کو نازل کیا برحق یعنی ٹھیک ٹھیک حکمت کے ساتھ
بے شک ہم نے نازل کیا آپ پر کتاب کو لوگوں کے لیے حق کے ساتھ
فمن اہتدى فلنفسہ پس جو کوئی ہدایت پر آتا ہے تو اپنے ہی نفس کے لیے
لام نفع کے لیے آتا ہے بھئی یعنی اس کا نفع اسی کو ہوگا جو ہدایت کو قبول کرتا ہے اہتدى کے ماں کیا معنی ہدایت کو قبول کرنا ہدایت پر آنا
ومن ضل اور جو گمراہ ہوتا ہے فانہما يضل عليہا تو وہ اپنے ہی نفس پر گمراہ ہوتا ہے
على ضرر کے لیے آتا ہے یعنی اس کا وبال اسی پر پڑے گا اس کا وبال
إنا أنزلنا عليك الكتاب للناس بالحق بے شک ہم نے آپ پر نازل کیے کتاب کو لوگوں کے لیے حق کے ساتھ فمن اہتدى فلنفسہ پس جو کوئی ہدایت پر آتا ہے تو وہ اپنے ہی فائدے کے لیے ومن ضل فانہما يضل عليہا اور جو کوئی گمراہ ہوتا ہے تو وہ گمراہ ہوتا ہے اپنے ہی اپنے ہی نفس کے خلاف بھئی اپنے ہی اب فانما يضل عليہا تو وہ گمراہ ہوتا ہے اپنے ہی نقصان کو
अपने ही نقصان کو
وما أنت عليهم بوكيل اور نہیں ہے اے پیغمبر آپ ان پر ذمہ دار
اے پیغمبر آپ ان پر ذمہ دار نہیں ہیں
آپ کا کام صرف پیغام کو پہنچانا ہے دعوت کو پہنچانا ہے دین کو پہنچانا ہے باقی کون راہ حق کو قبول کرتا ہے اور اس پر آتا ہے اور کون نہیں آتا آپ اس کے ذمہ دار نہیں ہیں ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں جس کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں گمراہ کرتے ہیں آپ کا کام صرف پہنچانا ہے
وما أنت عليهم بوكيل اور آپ ان پر ذمہ دار نہیں ہیں
چلیے بس بھئی ھذا ہو المرام واللہ أعلم بحقيقۃ الكلام