اعوذ بالله من الشيطان الرجيم
بسم الله الرحمن الرحيم
یا ایها الذین آمنوا لا تتخذوا عدوی و عدوکم اولیاء تلقون اليهم بالممودة وقد کفروا بما جاءکم من الحق يخرجون الرسول و اياکم ان تؤمنوا بالله ربکم ان کنتم خرجتم جهادا فی سبیلی و ابتغاء مرضاتی تسرون اليهم بالممودة و انا اعلم بما اخفيتم وما اعلنتم ومن يفعله منکم فقد ضل سواء السبیل
یہ سورہ ممتحنہ ہے بھئی آپ پڑھ چکے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر جو معاہدہ ہوا اس معاہدے کے اندر مشرکین مکہ نے ایک شرط یہ لکھوائی تھی کہ ہم میں سے اگر کوئی یعنی انہوں نے اپنا کہا کہ مشرکین مکہ میں سے کوئی شخص اگر مسلمان ہو کر مدینہ منورہ چلا جائے تو مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس کو واپس کریں اور مسلمانوں میں سے کوئی اگر آجائے ہماری طرف تو ہم اس کو واپس نہیں کریں گے
تو اس صورت میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ اگر کوئی عورت آئے وہاں سے مسلمان ہو کر تو اس کے اس کا امتحان لے لیا کریں اس کی آزمائش کر لیا کریں کہ وہ مومنہ ہے یا نہیں امتحان اور جائزے کے ذریعے معلوم کر لیں اور جب وہ معلوم ہو کہ وہ مومنہ ہے تو اس کو واپس نہ کیا جائے ان مشرکین کے حوالے نہ کیا جائے
ان مشرکین کے حوالے نہ کیا جائے تو کیونکہ نہ یہ عورتیں ان کے لیے حلال ہیں نہ وہ ان عورتوں کے لیے حلال ہیں تو ان کو واپس نہ کیا جائے
چونکہ اس صورت میں ان کے اس امتحان کا ذکر آیا اسی لیے اس صورت کو سورہ ممتحنہ کہتے ہیں ممتحنہ کا کیا معنی؟ امتحان لینے والی آزمائش کرنے والی اس میں چونکہ ان کے اس امتحان کا ذکر ہے تو اس صورت کو بھی سورہ ممتحنہ کہتے ہیں
تو اللہ نے حکم دے دیا کہ ان عورتوں کو واپس نہ کرو
تفصیل مسئلہ کی ابھی سے سن لیں صلح حدیبیہ کے موقع پر مسلمانوں اور مشرکین مکہ کے درمیان معاہدہ ہوا انہوں نے اپنی طرف سے انتہائی سخت شرطیں رکھیں حتی کہ یہ ایک شرط جو میں نے ابھی ذکر کی اتنی سخت شرط جو سراسر بظاہر مسلمانوں کے خلاف دکھائی دیتی تھی
کہ مشرکین میں سے کوئی جائے تو مسلمان واپس کریں گے ہر حال میں اسے اور مسلمانوں میں سے کوئی آئے تو وہ اس کو واپس نہیں کریں گے بھئی کتنی کڑی شرط بالکل ظاہری طور پر ان کے حق میں جس کی وجہ سے صحابہ بھی بڑے پریشان کہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیوں ان کی اتنی کڑی شرط کو تسلیم فرما رہے ہیں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ جیسے جلیل القدر صحابی بھی اس موقع پر یہ سوال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ یا رسول اللہ آپ کس طرح ان کی یہ شرط تسلیم کر رہے ہیں
کیا ہم حق پر نہیں ہیں کیا آپ اللہ کے پیغمبر نہیں ہیں لیکن پھر اللہ نے دکھلایا کہ ان سب شرطوں کے اندر مسلمانوں ہی کا نفع تھا بھئی تو اور اس میں یہ شرط بھی طے ہوئی کہ دس سال تک یہ صلح نامہ ہے معاہدہ ہے دس سال کے لیے
کہ اور اس میں ایک یہ بھی شرط کہ یہ مسلمان اور یہ مشرکین نہ ایک دوسرے کے خلاف بھی کسی کی مدد نہیں کریں گے بھئی ایک دوسرے کے خلاف بھی کوئی لڑنے آتا ہے تو اس کی مدد نہیں کریں گے تو چنانچہ دو قبیلے تھے بھئی ایک بنو بکر اور ایک بنو خزاعہ بنو بکر والے جو تھے وہ مشرکین مکہ کے حلیف تھے اور بنو خزاعہ والے مسلمانوں کے حلیف تھے
تو معاہدے کے بعد دو سال کے لگ بھگ دو سال کے بعد مشرکین مکہ نے بنو بکر کی مدد کی بھئی بنو بکر ان کا حلیف قبیلہ تھا اور بنو خزاعہ مسلمانوں کا حلیف قبیلہ تھا اور ان دونوں کے درمیان جنگ تھی لڑائی تھی دشمنی تھی بھئی تو بنو بکر والوں نے بنو خزاعہ والوں پر حملہ کیا اور ان کے بہت سے آدمیوں کو مار دیا اور زخمی کیا اور مشرکین مکہ نے خفیہ طور پر بنو بکر والوں کی بھرپور مدد کی بھئی آدمیوں کے ذریعے بھی اسلحے کے ذریعے بھی مالی طور پر بھی بھرپور مدد کی ان کی اور یہ سراسر معاہدے کے خلاف تھا
تو بنو خزاعہ والے پھر بعد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے کہ اس طرح انہوں نے حملہ کیا ہے اور ہمارے بہت سے آدمیوں کو مار ڈالا اور ہمارے پاس ٹھوس ثبوت موجود ہیں کہ جس اس میں مشرکین مکہ ان کے ساتھ تھے ان کے معاون تھے اسلحہ وغیرہ دینے میں ہر چیز میں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وفد روانہ فرمایا کہ مشرکین مکہ کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ تم نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے یا تو کہو یہ معاہدہ اب باقی نہیں رہا
یا پھر جو ہمارے حلیفوں کا نقصان ہوا ہے ان کے آدمی مارے گئے ہیں ان کی دیت ادا کرو مسلمان گئے ان کے پاس ان سے بات کی کہ معاہدہ یا تو باقی نہیں تو انہوں نے بھی مشرکین مکہ نے کہہ دیا ہاں کوئی معاہدہ نہیں ہے ہمارے تمہارے درمیان چنانچہ وہ واپس آگئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا کہ وہ اس طرح کہہ رہے ہیں تو ادھر مشرکین مکہ نے کچھ لوگوں نے یہ تو کہہ دیا کرنے تو وہ اب معاہدے وغیرہ کی تو وہ کوئی پابندی نہیں کر رہے تھے لیکن پھر بھی کہا کہ ہمیں ظاہر اس طرح نہیں کہنا چاہیے تھا کہ معاہدہ نہیں ہے کریں گے تو ہم اپنی مرضی لیکن یوں کہنا نہیں چاہیے تھا تو اب آدمی کسی کو تیار کرے جائے جا کر ان سے معاہدے کی تجدید کرے چنانچہ حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہ جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے اور سردار لوگوں میں سے تھے مکہ کے بڑے رئیس تھے اور ہوشیار ان کو بھیجا کہ آپ جا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کریں اور وہ آئے اور آکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی کہ ہمارا اور آپ کا وہ معاہدہ جو ہے وہ ہمارے کچھ نوجوانوں نے جوش میں آکر کہہ دیا کوئی معاہدہ نہیں ہے میں اس معاہدے کی تجدید کے لیے آیا ہوں معاہدہ ہمارے اور آپ کے درمیان اسی طرح ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ اگر معاہدہ اسی طرح ہے تو پھر ان لوگوں کی دیت ادا کرو ہمارے لوگوں کی دیت ادا کرو جو ہمارے حلیف قبیلے کا نقصان کیا ہے تم لوگوں نے لیکن وہ دیت ادا کرنے پر آمادہ نہیں ہوا بس یہی بار بار کہتا رہا کہ بس معاہدہ ہمارے اور تمہارے درمیان باقی ہے اور میں اسی کی تجدید کے لیے آیا ہوں صرف اسی کام کے لیے میں وہاں سے آیا ہوں بس معاہدہ ہمارے تمہارے درمیان باقی ہے اسی طرح باتیں کچھ کرتا رہا اور پھر چلا گیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ جب انہوں نے ذرا بھی پرواہ نہیں کی تو ہمیں بھی کوئی پرواہ کوئی معاہدہ ہمارے اور ان کے درمیان نہیں ہے
تو چنانچہ پھر آپ نے خفیہ طور پر مکہ پر حملہ کرنے کی تیاری شروع کر دی بھئی کہ ان کو خبر نہ ہو اور ہم خاموشی سے ان کے سروں پر جا پہنچیں آپ نے تیاری شروع کر دی
اسی دوران بھئی آپ نے تیاری شروع کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں مکہ پر حملے کی بھرپور تیاری ہو رہی ہے اسی دوران مکہ سے ایک گانا بجانے والی عورت سارہ نام کی سارہ نام تھا گانا بجانے والی تھی وہ مدینہ آئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا مسلمان ہو کر آئی ہو کہنے لگی نہیں میں مسلمان ہو کر نہیں آئی لیکن مکہ مکرمہ جو ہے وہاں پر وہ عیش و عشرت کی محفلیں اب باقی نہیں رہیں غزوہ بدر کے اندر ان کے سارے بڑے بڑے مارے جا چکے اب وہاں پر وہ عیش و عشرت کا حال نہیں رہا ہماری نوبت فاقوں تک پہنچ گئی ہے گانے بجانے کی وہ محفلیں اتنی نہیں ہوتیں تو میں صرف یہ پیسوں کی تلاش میں ہی آئی ہوں کھانے پینے کی تلاش میں کہ کہیں سے مجھے کوئی چیز مل جائے
تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی مدد فرمائی اوروں کو بھی اس کی مدد کا کہا اور پھر وہ عورت یہاں سے روانہ ہوئی جب وہ روانہ ہونے لگی تو ایک صحابی تھے حضرت حاطب ابن بلتعہ حاطب ط کے ساتھ ہے بھئی حاطب ابن ابی بلتعہ بلتعہ میں تا دو نقطوں والی ہے عین اور ہا بھئی بلتعہ حضرت حاطب ابن ابی بلتعہ یہ یمن کے رہنے والے تھے اور مکہ مکرمہ میں آ کر آباد ہو گئے تھے کہاں کے رہنے والے تھے؟ یمن کے اور کہاں آ کر آباد ہوئے؟ مکہ مکرمہ میں اور پھر یہ تو وہاں سے مدینہ منورہ آ گئے لیکن ان کے بیوی بچے وہیں پر تھے
ان کو اپنے بیوی بچوں کی فکر تھی کہ کہیں مشرکین ان کو نقصان نہ پہنچائیں کیونکہ یہ تو اکیلے تھے ان کے بیوی بچے وہاں پر باقی تو جو بھی ہجرت کر کے آئے تھے ان کا پورا پورا قبیلہ پیچھے موجود تھا ان کو اپنے رشتہ داروں اور بیوی بچوں کی فکر نہیں تھی کہ ہمارے بیوی بچوں کا ہمارا قبیلہ حفاظت کرے گا بھئی میں نے بتلایا اس وقت قومی غیرت بہت بڑی چیز ہوتی تھی بھئی کوئی دوسری قوم والا ایک قوم والے کو نقصان نہیں پہنچا سکتا تھا کیونکہ پھر قومی جنگیں شروع ہو جاتی تھیں کہ ہمارے آدمی کو کس طرح تمہارے آدمی نے نقصان پہنچایا اگر کوئی بات تھی تو ہمیں آکر بتاتے ہم اس سے خود نپٹ لیتے لیکن کسی کو اجازت نہیں کہ ہماری قوم کے آدمی کو کوئی دوسری قوم والا ہاتھ لگائے تو ان کی قوم وہاں پر نہیں تھی ان کو فکر تھی جبکہ باقی صحابہ کی تو قوموں والے وہیں پر تھے ان کو فکر اتنی نہیں تو انہوں نے جب سارہ واپس جانے لگی اس کو ایک خط لکھ کر دیا مشرکین مکہ کے نام کہ اس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم تم پر خفیہ حملے کی تیاری میں مصروف ہیں مقصد کیا تھا یہ خط لکھنے کا؟ مقصد یہ تھا کہ وہ جانتے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے پیغمبر برحق ہیں ہر حال میں جیسا اللہ نے فیصلہ فرما دیا ہے اسی طرح ہوگا چاہے ان کو خبر مل بھی جائے پھر بھی مکہ نے فتح ہونا ہے مسلمانوں کے ہاتھوں تو فتح ہوگا ہی اللہ کا وعدہ ضرور پورا ہوگا اس میں تو کوئی شک و شبہ ہی نہیں ہے ہاں صرف یہ ہے کہ میں خط لکھ کر ذرا ان پہ احسان کر دوں گا کہ دیکھو میں نے تمہیں اطلاع دے دی خفیہ طور پر تو میرے اس احسان کی وجہ سے وہ پھر میرے بیوی بچوں کو نقصان نہیں پہنچائیں گے ان کا خیال رکھیں گے بھئی تو مقصد صرف ان کا یہ تھا اگرچہ پھر بھی بات ٹھیک نہیں تھی اس طرح ان کو اطلاع دینا حضور علیہ السلام کے ارادے کے بغیر درست نہ تھا بھئی تو یہ خط دیکھ کر انہوں نے سارہ کو بھیج دیا کہ میں تمہیں اتنے پیسے دوں گا میرا یہ خط پہنچا دینا ان مشرکین مکہ کو یہ عورت جو ہے یہ یہاں سے نکلی مدینہ منورہ سے کچھ فاصلہ طے کر چکی تھی تو ادھر اللہ نے وحی کے ذریعے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا کہ فلاں عورت اس طرح کا خط لے کر جا رہی ہے اور فلاں مقام پر ملے گی فلاں مقام بھی بتلا دیا گیا کہ فلاں مقام پر ملے گی
چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً صحابہ کو دوڑایا اس کے پیچھے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ حضرت مرثد رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ حضرت مقداد رضی اللہ تعالی عنہ یہ تین چار چار صحابہ کو ان کے پیچھے بھیجا کہ فلاں مقام روضہ روضہ تو خاخ جگہ کا نام آتا ہے روایات میں کہ روضہ تو خاخ مقام پر جو ہے وہ عورت تمہیں ملے گی چنانچہ تیزی سے بڑی تیزی سے سفر طے کرتے ہوئے پہنچے اور اس مقام پر وہ عورت انہیں ملی بھئی
اب انہوں نے کہا کہ تمہارے تم خط لے کر جا رہی ہو وہ خط ہمارے حوالے کر دو تو قسمیں کھانے لگی کہ میرے پاس کوئی خط نہیں ہے تو تم تلاشی لے لو انہوں نے اس کے سارے سامان کی تلاشی لی اور اونٹ کا جو کجاوہ وغیرہ اس میں ہر چیز میں تلاشی لے لی خط کہیں نہیں مل رہا تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ فرمانے لگے کہ خط ہمارے حوالے کر دو ہمیں پتہ ہے خط تمہارے پاس ضرور ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتلایا ہے خط تمہارے پاس ضرور ہے ہمارے ہاتھ خط ہمارے حوالے کر دو نہیں تو ہم تمہارے سارے کپڑے اتار لیں گے ہمیں خط چاہیے ہر حال میں تو وہ عورت اس پر پھر اس نے بتا دیا اور سر کے بالوں میں اس نے وہ خط چھپا رکھا تھا وہ خط اس نے نکال کر دیا صحابہ وہ خط لے کر واپس پہنچے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ خط دیا خط کو کھولا گیا تو نیچے
میں خط کے اندر جو تھا، حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کا نام تھا۔ صحابہ یہ دیکھ کر چونک اٹھے کہ یہ کیسے، یہ تو ہمارے ساتھ ہیں، یہ انہوں نے کس طرح کا خط لکھا۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ اتنے جلال میں آئے کہ فرمانے لگے، یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیجیے میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ اور ایک ان کا غلام بھی تھا، وہ بھی جو تنگ ہوگا ان سے، کہ کہنے لگا ہاں یہ تو ہے ہی دوزخی۔
تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو طلب کیا اور پوچھا کہ کیا بات ہے؟ تو کہنے لگے یا رسول اللہ! نہ تو میں مرتد ہوا ہوں، نہ میں منافق ہوں، صرف اتنی بات ہے میں نے صرف اس مقصد کے لیے خط لکھا تھا۔
میں جانتا تھا اللہ نے جو وعدہ فرمایا ہے، وہ تو ہر حال میں پورا ہو کر رہے گا، کچھ بھی ہو جائے۔ صرف میں ان پر ایک احسان کرنا چاہتا تھا تاکہ میری بیوی بچوں کا خیال رکھیں۔
تو حضور علیہ السلام نے ان کی اس بات کی کہ ان کے ایمان کی تائید فرمائی کہ یہ واقعی مومن ہی ہیں دل سے، اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمانے لگے کہ تم نے کہا کہ میں ان کی گردن اڑاتا ہوں، جانتے نہیں یہ بدری صحابی ہیں۔
یا کون سے ہیں؟ بدری صحابی ہیں، بدر میں شرکت کر چکے ہیں اور ان کے بارے میں تو اللہ فرما چکے ہیں کہ اعملوا ما شئتم قد غفرنا لکم کہ تم جو بھی کرو، میں تمہیں معاف کر چکا ہوں، مغفرت کر چکا ہوں تمہاری۔
اور غلام کی طرف متوجہ ہوئے کہ تم نے کہا یہ دوزخی ہیں، یہ کبھی بھی دوزخ کے اندر نہیں جائیں گے۔ تو اس موقع پر یہ آیتیں نازل ہوئیں بھئی۔
یہ اس موقع پر اور بتلایا گیا کہ مسلمانوں کو مومنین سے کسی قسم، مسلمانوں کو مشرکین سے کسی قسم کی امید نہیں رکھنی چاہیے، سب کچھ کرنے والی اللہ کی ذات ہے۔ ان کے ساتھ مسلمانوں کو خصوصی محبت والا تعلق قائم نہیں کرنا چاہیے، بالخصوص وہ لوگ جنہوں نے مسلمانوں اور رسول کی اتنی مخالفت کی، صرف ایک اللہ پر ایمان لانے کی وجہ سے اتنی مخالفت کی کہ ان کو ان کے وطن سے ہی بے وطن ہونے پر مجبور کر دیا۔
بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ تفصیل یہ تفصیلی واقعہ میں نے بیان کر دیا، اسی کا ذکر آئے گا آگے آیتوں کے اندر۔
اور نیز یہ بھی آئے گا جیسے میں نے ذکر کیا، اس کو سورہ ممتحنہ کیوں کہتے ہیں، کہ اس میں حکم دیا گیا کہ جو عورتیں مشرکین میں سے مسلمان ہو کر آئیں تو ان کا جائزہ لیا جائے، اگر وہ مسلمان ہوں، مومنہ ہوں تو پھر واپس نہ کی جائیں۔
چنانچہ ایک عورت وہاں سے مسلمان ہو کر آئی، تو وہ لینے پہنچ گئے۔
کہ ہمارا اور آپ کے درمیان معاہدہ ہے، یہ عورت مسلمان ہو کر آئی ہے، اسے ہمارے حوالے کیا جائے۔ مرد تو کئی مسلمان ہو کر آئے آپ پڑھ چکے، اور وہ سب حضور علیہ السلام واپس فرما دیتے تھے۔
اب جب یہ عورت آئی، تو وہ واپس لینے پہنچ گئے۔ ادھر اللہ کی طرف سے حکم آ گیا کہ عورتیں واپس نہ کی جائیں۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب وہ آئے فرمانے لگے لاؤ بھئی وہ معاہدہ کدھر ہے جو ہمارے اور تمہارے درمیان ہوا تھا۔ ہم یہ عورت واپس نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کیسے نہیں کریں گے، ہمارے اور آپ کے درمیان معاہدہ ہو چکا ہے باقاعدہ، کہ جو بھی شخص وہاں سے آئے گا آپ کو واپس کرنا پڑے گا۔ معاہدے کی آپ کو پورا کرنا پڑے گا معاہدہ۔
حضور علیہ السلام فرمانے لگے لاؤ بھئی وہ معاہدہ لے کر آؤ۔ معاہدہ لے کر آیا، لے کر آئے تو فرمایا ہاں دیکھو پڑھو اس کو کیا لکھا ہے اس کے اندر۔ معاہدے کے اندر دیکھا، تو لکھا تھا کہ ہم میں سے کوئی مرد، رجل کا لفظ، رجل یا رجال کا لفظ تھا۔
کوئی رجل اگر کوئی مومن ہو کر وہاں سے ادھر آیا تو یہ واپس کریں گے، اور تمہاری طرف سے آیا تو ہم واپس نہیں کریں گے۔ حضور علیہ السلام فرمانے لگے دیکھو کیا لفظ لکھا ہے یہاں پر۔
یہ تو رجل کا لفظ لکھا ہے، اس کا اطلاق یہ امرأة ہے بھئی، اس پر تو اس کا اطلاق ہی نہیں ہوتا۔ چنانچہ وہ بڑے شرمندہ ہو کر وہاں سے واپس گئے۔
اور تو یہ اس بات کا بھی اس صورت کے اندر ذکر آئے گا۔ اور اسی وجہ سے یہ امتحان کے ذکر کی وجہ سے صورت کو سورہ ممتحنہ کہا جاتا ہے بھئی۔ جی، اب دیکھیے بھئی۔
یا ایہا الذین آمنوا، اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو۔ لا تتخذوا، تم نہ پکڑو، عدوی و عدوکم، میرے دشمن کو اور اپنے دشمن کو۔
اے ایمان والو! تم میرے دشمن اور اپنے دشمن کو نہ پکڑو، کیا نہ پکڑو؟ اولیاء، دوست۔ یعنی ان کو دوست نہ بناؤ، دوست نہ پکڑو، کیا معنی؟ دوست نہ بناؤ۔ یا ایہا الذین آمنوا لا تتخذوا عدوی و عدوکم اولیاء، اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو تم میرے دشمن اور اپنے دشمن کو دوست نہ بناؤ۔ تللقون الیہم بالمودۃ، تللقون الیہم، تم پیغام بھیجتے ہو، ان کی کہ تم پیغام بھیجو ان کی طرح بالمودۃ، محبت سے۔
القا یلقی کے کئی معنی آتے ہیں، ایک معنی القا الیہ کے پیغام بھیجنے کے آتے ہیں بھئی، تو یہاں وہ معنی مراد ہے۔ تللقون الیہم، تم پیغام بھیجتے ہو، تم پیغام بھیجو ان کی طرح بالمودۃ، یا یوں ترجمہ حاضر کا، تم پیغام بھیجتے ہو ان کی طرح بالمودۃ، محبت کے ساتھ، یعنی محبت کے پیغام بھیجتے ہو۔ وقد کفروا، اور تحقیق وہ انکار کر چکے بما جاءکم، اس چیز کا، جاءکم جو تمہارے پاس آئی من الحق، یعنی کہ دین حق۔
تم ان کی طرح محبت کے پیغام بھیجتے ہو اور تحقیق وہ تو انکار کر چکے اس چیز کا جو تمہارے پاس آئی تھی، یعنی کہ دین حق۔ یخرجون الرسول وایاکم، وہ نکالتے ہیں رسول کو اور تمہیں۔ ان تؤمنوا باللہ ربکم، ای لان تؤمنوا اس وجہ سے کہ تم ایمان لے آئے اللہ پر، ربکم جو تمہارا پروردگار ہے۔
وہ رسول کو اور تمہیں نکالتے ہیں صرف اس وجہ سے کہ تم اللہ پر جو تمہارا پروردگار ہے، اس پر ایمان لے کر آئے ہو۔ ان کنتم خرجتم جہادا فی سبیلی وابتغاء مرضاتی، ان کنتم خرجتم، اگر تم نکلے ہو اے مومنو! جہادا فی سبیلی، جہاد کرتے ہوئے فی سبیلی میرے راستے میں، وابتغاء مرضاتی، اور تلاش کرتے ہوئے مرضاتی میری رضامندی۔
اور تلاش کرتے ہوئے ان کنتم خرجتم جہادا فی سبیلی وابتغاء مرضاتی، اگر تم نکلے ہو میرے راستے میں جہاد کرتے ہوئے اور میری رضامندی چاہتے ہوئے۔
یہ ہے شرط۔ ما قبل میں تھی جزا۔ یہ ہے شرط۔ اگر تم میرے راستے میں جہاد کرتے ہوئے اور میری رضا چاہتے ہوئے نکلے ہو، میری رضا کی تلاش میں نکلے ہو۔ تو لا تتخذوا عدوی و عدوکم اولیاء، تو میرے اور اپنے دشمن کو دوست نہ بناؤ بھئی۔ شرط جزا سمجھ میں آ گئی بھئی۔
سرون الیہم بالمودۃ، تم خفیہ طور پر پیغام بھیجتے ہو ان کی طرف بالمودۃ، محبت کے۔ تم خفیہ طور پر ان کی طرف محبت کے پیغام بھیجتے ہو۔ یہ ترجمہ کر لیں بھئی۔ کیونکہ کیونکہ یہ آیتیں کس موقع پر نازل ہوئیں جب انہوں نے خفیہ طور پر پیغام بھیجا تھا۔ یا ویسے سرون الیہم بالمودۃ، تم چھپاتے ہو ان کی طرف بالمودۃ، محبت کو۔
سر کس کو کہتے ہیں؟ راز کو بھئی۔ اصر یسر کے معنی چھپانا، تو سرون الیہم، تم چھپاتے ہو الیہم، ان کی طرف بالمودۃ، محبت کو۔ وانا اعلم بما اخفیتم وما اعلنتمم، اور میں خوب جانتا ہوں جو کچھ تم چھپ، جو کچھ تم نے چھپایا وما اعلنتمم، اور جس کا تم نے اعلان کیا، یعنی جو تم نے ظاہر کیا۔ ومن یفعلہ منکم، اور جو کوئی اس کرے گا اس کو تم سے، فقد ضل سواء السبیل، پس تحقیق وہ گمراہ ہوا وہ سیدھے راستے سے۔
فقد ضل سواء السبیل، پس تحقیق وہ سیدھے راستے سے گمراہ ہوا۔ جی، ترجمہ سمجھ میں آ گیا بھئی آیت کا؟ یا ایہا الذین آمنوا لا تتخذوا عدوی و عدوکم اولیاء، اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو نہ بناؤ تم میرے دشمن اور اپنے دشمن کو دوست، تللقون الیہم بالمودۃ، تم پیغام بھیجتے ہو ان کو، ان کو محبت کے، وقد کفروا بما جاءکم من الحق، اور تحقیق وہ انکار کر چکے اس چیز کا جو تمہارے پاس آیا، یعنی کہ دین حق۔
وقد کفروا بما جاءکم من الحق، یہ من الحق یہ بیان ہے ما جاءکا، وہ جو تمہارے پاس آیا، کیا چیز آئی تمہارے پاس؟ من الحق، یعنی کہ دین حق۔ جی، بمحاورہ ترجمہ یوں کر لیں، وقد کفروا بما جاءکم من الحق، اور تحقیق وہ انکار کر چکے اس چی، وہ جو تمہارے پاس دین حق آیا، یخرجون الرسول وایاکم، نکالتے ہیں پیغمبر کو اور تمہیں، ان تؤمنوا باللہ ربکم، اس وجہ سے کہ تم ایمان لائے اللہ پر جو تمہارا رب ہے، ان کنتم خرجتم جہادا فی سبیلی وابتغاء مرضاتی، اگر تم نکلے ہو جہاد کرتے ہوئے میرے راستے میں وابتغاء مرضاتی، اور میری رضا چاہتے ہوئے۔
اور میری رضا چاہتے، میری خشنودی چاہتے ہوئے، تو سرون الیہم بالمودۃ، تم چھپاتے ہو ان کی طرف محبت کو، وانا اعلم بما اخفیتم وما اعلنتمم، اور میں خوب جانتا ہوں جو کچھ تم نے چھپایا اور جو تم نے ظاہر کیا، ومن یفعلہ منکم اور جو کوئی یہ کرے گا تم میں سے فقد ضل سواء السبیل، پس تحقیق وہ گمراہ ہوا سیدھے راستے سے، ووددو، اور وہ پسند کریں۔
لو تکفرون، کہ تم بھی کافر ہو جاؤ، ووددو، اور یہ پسند کریں، تمنا کریں، لو تکفرون، کہ تم بھی کافر ہو، اگر تم ان کے ہاتھ آ جاؤ، تو یہ تمہارے دشمن ہو جائیں، تمہاری طرف اپنی زبانیں اور ہاتھ برائی کے ساتھ بڑھائیں، اور تمنا کریں کہ تم بھی تم بھی کافر ہو جاؤ، کافر بن جاؤ۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی۔
ان یقفوکم یکون لکم اعداء، اگر وہ پا لیں تم کو، ثقیف یقفوق کے معنی ہوتے ہیں پا لینا۔ قابو پا یا قابو پا لینا۔
ثقیف یقفوق کا معنی کسی پر قابو پا لینا ہے، یا کوئی چیز پا لینا یا اس پر قابو پا لینا۔ ان یقفوکم، اگر وہ تم پر قابو پا لیں، اگر تم ان کے ہاتھ میں آ جاؤ، تم ان کی طرف محبت کے پیغام بھیجتے ہو ان مشرکین کی طرف، اور یہ اس طرح کے لوگ ہیں، ان یقفوکم، اگر یہ تم پر قابو پا لیں، یا یہ ترجمہ کر لیں، یا یہ ترجمہ کر لیں، اگر تم ان کے ہاتھ آ جاؤ، یکون لکم اعداء، تو وہ تمہارے دشمن ہوں گے، ويبسطوا الیکم، بسط یبسطو کے معنی پھیلانے، بڑھانے کے، ويبسطوا الیکم، اور بڑھائیں گے تمہاری طرف، ایدیہم، اپنے ہاتھوں کو، والسنستہم، اور اپنی زبانوں کو، بالسوء، برائی کے ساتھ۔
اگر تم ان کے ہاتھ آ جاؤ تو وہ تمہارے دشمن ہو جائیں اور بڑھانے لگیں تمہاری طرف اپنے ہاتھوں کو اور زبانوں کو برائی کے ساتھ۔ یعنی تم پر دست درازی اور زبان درازی کرنے لگیں بھئی۔ زبان سے بھی تکلیف دینے لگیں اور ہاتھوں سے بھی تکلیف دینے لگیں۔ ووددو، اور وہ پسند کریں، لو تکفرون، کہ تم بھی کافر ہو جاؤ، ووددو، اور یہ پسند کریں، تمنا کریں، لو تکفرون، کہ تم بھی کافر ہو، اگر تم ان کے ہاتھ آ جاؤ، تو یہ تمہارے دشمن ہو جائیں، تمہاری طرف اپنی زبانیں اور ہاتھ برائی کے ساتھ بڑھائیں، اور تمنا کریں کہ تم بھی تم بھی کافر ہو جاؤ، کافر بن جاؤ۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی۔
ان یقفوکم یکون لکم اعداء ویبسطوا الیکم ایدیہم والسنستہم بالسوء ووددو لو تکفرون، اگر وہ، اگر تم ان کے ہاتھ آ جاؤ تو وہ تمہارے دشمن ہو جائیں اور پھر بڑھائیں تمہاری طرف اپنے ہاتھوں اور زبانوں کو برائی کے ساتھ، ووددو لو تکفرون، اور یہ پسند کرنے لگیں کہ تم بھی کافر ہو، لن تنفعکم ارحامکم ولا اولادکم، ہرگز نفع نہیں دے سکتا تم کو، ارحامکم تمہارے رشتہ دار، ولا اولادکم، اور نہ تمہاری اولاد۔ ہرگز نفع نہیں دیں گے تمہیں تمہارے رشتہ دار، ولا اولادکم، اور نہ تمہاری اولاد، یوم القیامۃ، قیامت کے دن۔
انہوں نے اپنے رشتہ دار بیوی اور بچوں کے لیے ہی خط لکھا تھا، تو اللہ فرما رہے ہیں کہ یہ بیوی بچے، یہ رشتہ دار قیامت کے دن تمہارے کسی کام نہیں آئیں گے۔
لن تنفعکم ارحامکم ولا اولادکم یوم القیامہ، ہرگز نفع نہیں دیں گے تمہارے رشتہ دار اور نہ تمہاری اولاد قیامت کے دن، یفصل بینکم، وہ اللہ فیصلہ کرے گا تمہارے درمیان۔ واللہ بما تعملون بصیر، اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو بصیر اسے دیکھ رہا ہے۔ قد کان لکم اسوۃ حسنۃ فی ابراہیم والذین معہ، تحقیق تمہارے لیے اسوۃ حسنۃ، عمدہ نمونہ ہے۔ تمہارے لیے عمدہ نمونہ ہے، فی ابراہیم، ابراہیم علیہ السلام میں، والذین معہ، اور وہ جو ان کے ساتھ تھے۔
اے مومنو! تمہیں کس کی پیروی کرنی چاہیے؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور جو ان کے ساتھ تھے (یعنی جو ان پر ایمان لے کر آئے تھے)، تمہارے لیے ان کی ذات میں عمدہ نمونہ ہے، تمہیں ان کے راستے پر चलना چاہیے۔
اذ قالوا لقومہم، جس وقت کہا انہوں نے اپنی قوم سے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان پر ایمان لانے والوں نے اپنی قوم والوں سے کہا۔ انا برآء منکم، کہ بے شک ہم بیزار ہیں تم سے۔ انہوں نے اپنے قوم والوں سے کیا کہا؟ کہ بے شک
ہم بیزار ہیں تم سے
یا یہ ماننا کر لیں ہمارا تمہارے ساتھ کوئی واسطہ نہیں
ہمارا تمہارے ساتھ کوئی واسطہ نہیں کوئی تعلق نہیں
ومما اور اس چیز سے
تععبدون من دون اللہ کہ جس کی تم عبادت کرتے ہو اللہ کے علاوہ
اللہ کو چھوڑ کر
ہم بیزار ہیں تم سے بھی و مما تعبدون من دون اللہ اور وہ جن کی تم عبادت کرتے ہو اللہ کو چھوڑ کر ان سے بھی ہم بیزار ہیں
ہم ہمارا تم سے اور ان سے کوئی تعلق نہیں کوئی واسطہ نہیں
کفرنا بکم ہم تمہارا انکار کرتے ہیں
ہم تمہارا انکار کرتے ہیں یعنی تمہارے اس طریقے کا انکار کرتے ہیں یہ جو کفر کے راستے پر اور شرک کے راستے پر تم چلتے ہو ہم اس کا انکار کرتے ہیں
کفرنا بکم ہم تمہارا انکار کرتے ہیں
و بدا بیننا وبینکم العداوۃ والبغضاء ابدا
اور بدا یبدو کے معنی ہوتے ہیں ظاہر ہونے کے
و بدا بیننا وبینکم العداوۃ اور ظاہر ہوگئی ہمارے اور تمہارے درمیان العداوۃ دشمنی و البغضاء اور بغض
ہمارے اور تمہارے درمیان دشمنی اور بغض ظاہر ہو چکا ہے یعنی دشمنی اور بغض پیدا ہو چکا
معنا سمجھ میں آیا بھئی
و بدا بیننا وبینکم العداوۃ والبغضاء ابدا اور پیدا ہو چکا ہمارے اور تمہارے درمیان دشمنی اور بغض ابدا ہمیشہ کے لیے
حتی تؤمن بالله وحدہ یہاں تک کہ تم ایمان لے آؤ اکیلے اللہ پر
الا قول ابراہیم مگر ابراہیم علیہ السلام کا ایک قول
مگر ابراہیم علیہ السلام کا ایک قول لابیہ اپنے والد سے جو انہوں نے کہا
کیا کہا استغفر لک میں البتہ ضرور مغفرت طلب کروں گا آپ کے لیے
میں آپ کے بارے میں اللہ سے مغفرت طلب کروں گا
و ما املک لک من اللہ من شء اور میں مالک نہیں ہوں لک آپ کے لیے من اللہ اللہ سے من شء کسی چیز کا
میں اللہ سے آپ کے بارے میں کسی چیز کا مالک نہیں ہوں یعنی مجھے کچھ اختیار نہیں ہے کسی چیز میں بھی
اللہ کے سامنے
ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی اللہ کے سامنے میں آپ کے بارے میں کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا ہاں مغفرت میں طلب کروں گا آپ کے لیے کہ اللہ آپ کی مغفرت فرما دیں
والد مشرک تھے نا ایمان نہیں لا رہے تھے ان کو دعوت دیتے رہے اور پھر تو پھر ان سے یہ کہا کہ میں آپ کے لیے مغفرت طلب کروں گا
تو الا قول ابراہیم لابیہ مگر ابراہیم علیہ السلام کا ایک قول جو انہوں نے اپنے والد سے کہا لاستغفرن لک و ما املک لک من اللہ من شء البتہ میں ضرور مغفرت طلب کروں گا آپ کے لیے و ما املک لک اور میں کچھ اختیار نہیں رکھتا آپ کے بارے میں من اللہ اللہ کے سامنے من شء کسی چیز کا
اللہ کے سامنے میں آپ کے بارے میں کوئی اختیار نہیں رکھتا
الا قول ابراہیم
پیچھے آیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان پر
جو ایمان لے کر آئے اے مومنو وہ تمہارے لیے عمدہ نمونہ ہیں ان کی پیروی کرو
ہاں ابراہیم علیہ السلام کا یہ قول ہے یہ بات ہے اس میں ان کی پیروی نہ کرو بھئی
اس میں ان کی پیروی نہ کرو بھئی یہ نہیں یہ قول نمونہ نہیں ہے باقی ان کے ان کی ساری زندگی تمہارے لیے عمدہ نمونہ ہے
حضرت ابراہیم علیہ السلام
نے اپنے والد کے لیے مغفرت طلب کی اللہ تعالی سے ان سے وعدہ کیا کہ میں آپ کے لیے مغفرت کروں گا
لیکن پھر بعد میں اللہ نے جب آپ کو بتلا دیا
کہ ان کے نصیب میں ایمان نہیں
ان کے نصیب میں ایمان نہیں یہ ایمان نہیں لانے والے
اور یہ اللہ کے دشمنوں میں سے ہیں یہ کبھی ایمان لے کر نہیں آئیں گے تو
پھر آپ نے ان کے بارے میں دعا کرنا چھوڑ دیا بھئی
ان کے بارے میں استغفار کرنا آپ کو منع کر دیا گیا کہ یہ اس یہ ایمان لانے والوں میں سے نہیں ہے یہ کبھی بھی ایمان نہیں لائے گا کفر پر ہی اس کی موت آئے گی تو آپ کو منع کر دیا گیا آپ نے پھر ان کے بارے میں دعا کرنا چھوڑ دی بھئی
اس سے معلوم ہوا
کہ
جہاں ایمان کی توقع نہ ہو وہاں استغفار کی گنجائش نہیں
یعنی جس کا کفر پر ہی انتقال ہو چکا
کسی کافر کے بارے میں استغفار کی گنجائش نہیں ہے بھئی
ربنا علیک توکلنا و الیک انبا اے ہمارے پروردگار علیک توکلنا آپ پر ہم نے بھروسہ کیا یہ آپ پر ہم بھروسہ کرتے ہیں و الیک انبا
اور آپ کی طرف
یہ ماضی کے صیغے ہیں ماضی کے کر لیں بھئی
تو موقع محل کے مطابق بھئی آپ جان چکے کہ مضارع کبھی کس معنی میں آ جاتا ہے قرآن کے اندر
ماضی کے معنی میں وہاں نکات ہوتے ہیں مختلف نکات کہ ماضی کو مضارع سے کیوں تعبیر کیا گیا ہے یا مضارع کو ماضی سے کیوں تعبیر کیا گیا جیسے ایک نقطہ میں بیان کر چکا ہوں کہ بہت سی چیزیں جو قرآن مستقبل میں آنے والی ہیں لیکن قرآن ان کو ماضی کے صیغے سے تعبیر کرتا ہے
پھر علماء غور کرتے ہیں یہ کیا وجہ ہے قرآن ماضی کے صیغے سے کیوں تعبیر کرتا ہے
غور کیا تو پتہ چلا کہ چونکہ اس چیز کا وقوع نہایت یقینی ہے اس نے ہر حال میں ہونا ہے اللہ جب اطلاع دینے والے ہیں اللہ کا علم بڑا کامل
تو جب اس کا ہونا یقینی تو ماضی کے صیغے کے ساتھ ذکر کر دیا گیا کیونکہ ماضی میں جو چیز ہوتی ہے اس میں بھی کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہوتا جو ہو چکی ہو بھئی
ربنا علیک توکلنا اے ہمارے پروردگار علیک توکلنا ہم نے آپ ہی پر بھروسہ کیا ہے و الیک انبا اور آپ ہی کی طرف ہم نے رجوع کیا ہے و الیک المصیر اور ہم آپ آپ اور آپ ہی کی طرف لوٹنا ہے
یہی یہ ترجمہ کر لیں ربنا علیک توکلنا اے ہمارے پروردگار ہم آپ پر بھروسہ کرتے ہیں و الیک انبا اور آپ کی طرف رجوع کرتے ہیں و الیک المصیر اور آپ ہی کی طرف لوٹنا ہے
قد كانت لكم اسوۃ حسنۃ فی ابراھیم والذین معه تحقیق تمہارے لیے عمدہ نمونہ ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اور ان لوگوں میں جو ان کے ساتھ تھے
اذ قالوا لقومهم جس وقت کہا انہوں نے اپنی قوم سے انا برءؤا منکم و مما تعبدون
کہ بے شک ہم بیزار ہیں تم سے اور ان چیزوں سے جن کی تم عبادت کرتے ہو من دون اللہ اللہ کے
علاوہ
کفرنا بکم ہم تمہارے انکار کرتے ہم نے تمہارا انکار کیا ہاں یا ہم تمہارا انکار کرتے ہیں و بدا بیننا وبینکم العداوۃ والبغضاء ابدا اور ظاہر ہو گیا پیدا ہو گیا تمہارے درمیان اور ہمارے درمیان
العداوۃ والبغضاء دشمنی اور بغض ابدا ہمیشہ کے لیے
حتی تؤمنوا باللہ وحدہ یہاں تک کہ تم ایمان لے آؤ اکیلے اللہ پر
الا قول ابراہیم لابیہ مگر ابراہیم علیہ السلام کا ایک قول اپنے والد سے لا استغفرن لک کہ میں البتہ ضرور مغفرت تلم طلب کروں گا آپ کے لیے و ما املک لک من اللہ من شء اور میں آپ کے لیے کوئی اختیار نہیں رکھتا اللہ کے سامنے
من شء کسی بھی چیز کا
میں اللہ کے سامنے آپ کے بارے میں کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا
ربنا علیک توکلنا و الیک انبا و الیک المصیر اے ہمارے پروردگار ہم آپ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں اور آپ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور آپ ہی کی طرف لوٹنا ہے
ربنا لا تجعلنا فتنت للذین کفروا اے ہمارے پروردگار آپ ہمیں نہ بنائیے فتنتن آزمائش
آپ ہمیں نہ بنائیے آزمائش نہ بنائیے للذین کفروا ان لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر کیا
اے اللہ ہمیں آپ ان لوگوں کے لیے آزمائش نہ بنائیے جنہوں نے کفر کیا
یعنی ہمیں کفار کے لیے تختہ مشق نہ بنا اے اللہ ہمیں کفار کے لیے تختہ مشق نہ بنا
کیا معنی اے اللہ ہمیں آزمائش نہ بنائیے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر کیا یاد رکھیے
یعنی ہماری ایسی حالت اے اللہ نہ کیجیے کہ کفار جو ہمارے بھی دشمن ہیں اور اسلام کے بھی دشمن ہیں
وہ ہماری حالت دیکھ کر خوشیاں منانے لگیں
اے اللہ ہماری ایسی حالت نہ کیجیے کہ کفار ہمیں اور ہماری حالت دیکھ کر خوشیاں منانے لگیں ہمارا مذاق اڑانے لگیں ہم سے استہزا کرنے لگیں اور ہماری حالت کے ذریعے اپنی حقانیت پر استدلال کرنے لگیں کہ دیکھو تمہارا اتنا برا حال ہے اتنا خراب حال ہے معلوم ہوا ہم ہی حق پر ہیں تم جو نیا دین لے کر آئے ہو یہ حق پر نہیں ہو بھئی معنی سمجھ میں آگیا تو یہ معنی ہے کہ ہمیں آزمائش نہ بنا یعنی ہماری ایسا حال نہ کر اے اللہ کہ وہ کفار جو ہمارے اور اسلام کے دشمن ہیں ہمیں دیکھ کر خوشیاں منانے لگیں اور ہمارا مذاق اور استہزا کرنے لگیں
اور ہماری حالت دیکھ کر اپنی حقانیت پر اپنے حق پر
اپنے حق پر ہونے کا
استدلال کرنے لگیں بطور دلیل کے ذکر کرنے لگیں پیش کرنے لگیں بھئی بات سمجھ میں آگئی بھئی
ربنا لا تجعلنا فتنت للذین کفروا اے ہمارے پروردگار آپ ہمیں آزمائش نہ بنائیے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر کیا و اغفر لنا ربنا اور ہماری مغفرت فرما دیجیے اے ہمارے پروردگار انک انت العزیز الحکیم
بے شک آپ زبردست ہیں حکمت والے ہیں
لقد كان لكم فیہم اسوۃ حسنۃ لمن کان یرجو اللہ والیوم الآخر تحقیق تمہارے لیے ان میں وہ جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے
ان پر ایمان لانے والے ہیں ان میں اسوۃ حسنۃ اچھا عمدہ نمونہ ہے لمن کان اس شخص کے لیے
کان یرجو اللہ والیوم الآخر جو اللہ کی جو امید رکھتا ہے
جو امید کرتا ہے اللہ کی اور آخرت کے دن کی جو اللہ کی امید کرتا ہے یعنی اللہ سے کی ملاقات کی امید کرتا ہے
لقد كان لكم فیہم اسوۃ حسنۃ تحقیق تمہارے لیے اے مومنو فیہم ان میں کن میں
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے جو پیروکار تھے ان میں تمہارے لیے اسوۃ حسنۃ عمدہ نمونہ ہے
لمن کان یرجو وہ شخص جو امید رکھتا ہے یعنی اس شخص کے لیے جو امید رکھتا ہے اللہ کی اور آخرت کے دن کی
اس شخص کی جو
تمہارے لیے
عمدہ نمونہ ہے
اور یہ لمن اسی سے بدل ہے بھئی
تمہارے لیے یعنی تم میں سے جو اللہ اور
اللہ کی اور قیامت کے دن کی امید رکھتا ہے
و من یتول فان اللہ هو الغنی الحمید اور جو کوئی پھر گیا پلٹ گیا فان اللہ هو الغنی الحمید تو پس یقینا اللہ وہ بے نیاز ہے الحمید قابل تعریف ہے
لائق حمد ہے
و من یتول اور جو کوئی پھر گیا پلٹ گیا فان اللہ هو الغنی الحمید پس یقینا اللہ وہ بے نیاز ہے لائق حمد ہے
عسی اللہ ان يجعل بینکم وبین الذین عادیتم منهم مودۃ
عسی اللہ امید ہے
کہ اللہ جو ہیں ان یجعل بینکم وہ کر دیں تمہارے درمیان وبین الذین عادیتم اور ان لوگوں کے درمیان عادیتم کہ
جن کہ تم دشمن ہوئے ہو منھم ان میں سے
ان میں سے جن کے تم دشمن ہوئے ہو یعنی جن سے تم دشمنی کرتے ہو تو امید ہے کہ اللہ کر دے
کیا کر دے تمہارے اور ان کے درمیان مودت محبت بھئی اللہ کیا ڈال دے تمہارے اور ان کے درمیان
محبت محبت ڈال دے
واللہ قدیر اور اللہ قادر ہیں واللہ غفور الرحیم اور اللہ مغفرت فرمانے والے رحم کرنے والے ہیں
اللہ فرما رہے ہیں بھئی کہ وہ لوگ جن سے تم دشمنی رکھتے ہو اس وقت امید ہے
اللہ آگے تمہارے اور ان کے درمیان محبت ڈال دیں
کچھ بعید نہیں کہ اللہ تمہارے اور ان کے درمیان محبت ڈال دیں معنی سمجھ میں آرہا ہے
کن کے درمیان اے مومنو تمہارے درمیان اور جن کے تم دشمن ہو جن سے تم دشمنی رکھتے ہو اور پھر سب نے اس کو دیکھا بھئی
فتح مکہ کے بعد ان میں سے تقریبا سارے ہی مومن ہو گئے اور وہ جو ایک دوسرے کے جانی دشمن تھے وہ ایک دوسرے کے گہرے مخلص ساتھی بن گئے بھئی
بات سمجھ میں آئی بھئی
یہ معنی ہے عسی اللہ امید ہے کہ اللہ ان یجعل بینکم وبین الذین عادیتم منهم مودۃ کہ کر دے اللہ کیا کر دے آخر میں آ رہا ہے مودت محبت محبت ڈال دیں
عسی اللہ ان يجعل بینکم وبین الذین عادیتم منهم مودہ
امید ہے یا جی
امید ہے کہ اللہ ڈال دیں تمہارے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان عادیتم منھم کہ دشمن ہوئے ہو تم ان کے ان کے مودۃ محبت اللہ ان میں اور تم میں کیا ڈال دیں محبت
ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی
یا یوں با محاورہ یوں ترجمہ کر لیں بھئی عسی اللہ ان يجعل بینکم وبین الذین عادیتم منهم مودہ کچھ بعید نہیں کہ اللہ تمہارے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان جن کی جن کی تم دشمن جن سے تم دشمنی کرتے ہو ان کے درمیان اللہ محبت ڈال دیں
اللہ قادیر اور اللہ قادر ہیں واللہ غفور الرحیم اور اللہ مغفرت فرمانے والے رحم کرنے والے ہیں۔ لا ینھا کم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین۔
تو پیچھے مشرکوں سے دوستی کرنے سے منع کیا گیا تھا بھئی۔ آگے اللہ فرما رہے ہیں کہ مشرکوں سے
دوستی سے روکنے کا یہ معنی نہیں کہ تم ہر ایک سے بالکل قطع تعلق کر دو۔ ہاں یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے تمہیں وطن سے بے وطن کیا، تمہارے ساتھ جنگیں کیں، تمہارے دشمن تھے، ان کے ساتھ محبت والا تعلق نہ رکھو۔
باقی وہ کفار جو جنہوں نے تمہیں کوئی نقصان نہیں دیا، نہ تو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں، نہ اس میں کسی قسم کا تعارض کرتے ہیں، تو ان کے ساتھ اگر تم نیکی اور احسان کرو تو کوئی حرج نہیں۔ اللہ اس سے منع نہیں فرماتے۔ یہ تو مومن کی شان ہی یہ ہے کہ وہ ہر ایک کے ساتھ کیا کرتا ہے؟ احسان کرتا ہے، نیکی کرتا ہے، انصاف کرتا ہے۔
چنانچہ مکہ کے اندر بھی بہت سے لوگ ایسے تھے جنہوں نے کبھی مسلمانوں کو تکلیف نہیں دی بھئی۔ اگرچہ خود ایمان نہیں لائے لیکن مسلمانوں کو بھی کبھی تنگ نہیں کیا، تکلیف نہیں دی، اللہ ان کے بارے میں فرما رہے ہیں کہ چاہے وہ لوگ ہوں یا اور بھی جو ہوں جنہوں نے جب تکلیف نہیں دی، تنگ نہیں کیا تو ان سے ساتھ احسان اور نیکی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ ان سے اللہ منع نہیں فرماتے۔
لا ینھا کم اللہ نہیں روکتے تم کو اللہ عن الذین ان لوگوں سے لم یقاتلوکم فی الدین کہ جنہوں نے لڑائی نہیں کی تم سے فی الدین دین میں، و لم یخرجوکم من دیارکم اور نہیں نکالا تم کو تمہارے گھروں سے، ان تبروہم یہ کہ تم نیکی کرو ان کے ساتھ۔
و تقسطو الیھم اور انصاف کرو ان کے ساتھ۔
اللہ تمہیں نہیں روکتے۔ کس بات سے نہیں روکتے؟
یہ کہ تم ان کے ساتھ نیکی کرو و تقسطو الیھم اور ان کے ساتھ انصاف کرو۔
ان اللہ یحب المقسطین یقیناً اللہ پسند کرتے ہیں انصاف کرنے والوں کو۔
لا ینھا کم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین اللہ نہیں روکتے تمہیں ان لوگوں سے جنہوں نے لڑائی نہیں کی تم سے دین کے معاملے میں و لم یخرجوکم من دیارکم اور جنہوں نے نہیں نکالا تم کو تمہارے گھروں سے، اللہ ان سے تمہیں نہیں روکتے کہ ان تبروہم و تقسطو الیھم یہ کہ تم ان کے ساتھ نیکی کرو و تقسطو الیھم اور ان کے ساتھ انصاف کرو۔
ان اللہ یحب المقسطین یقیناً اللہ پسند کرتے ہیں انصاف کرنے والوں کو۔
انما ینھا کم اللہ عن الذین قاتلوکم فی الدین اللہ تو تم کو روکتے ہیں انہی لوگوں سے قاتلوکم فی الدین جنہوں نے کیا کیا ہے تمہارے ساتھ؟ دخل کیا ہے، لڑائی کی ہے دین کے معاملے میں، و اخرجوکم من دیارکم اور نکالا ہے تم کو تمہارے گھروں سے، و ظاھرو علی اخراجکم اور انہوں نے مدد کی ہے، ظاھرو انہوں نے وہ جنہوں نے مدد کی ہے علی اخراجکم تمہارے نکالنے پر۔
اللہ ان سے روکتے ہیں جنہوں نے تمہارے ساتھ لڑائی کی ہے اور تمہیں نکالا ہے اور تمہارے نکالنے میں جنہوں نے مدد کی ہے ان تولاوھم کہ یہ کہ تم ان سے دوستی کرو۔ اللہ تمہیں روکتے ہیں اس بات سے ان تولاوھم کہ تم ان سے دوستی کرو۔
سمجھ میں ترجمہ سمجھ میں آگیا بھئی۔
تو دیکھیے توولا جو ہے جگہ جگہ آ رہا ہے۔ توولا کے معنی پلٹنے کے بھی ہیں اور توولا کے معنی دوستی کرنے کے بھی ہیں بھئی تو آپ نے خیال رکھنا ہے ہر جگہ پر بھئی کہ کون سا ترجمہ کہاں ہوگا۔
و من یتولاہم اور جو کوئی ان سے دوستی کرے گا فاوئلئک ھم الظالمون تو وہی لوگ ظالم ہیں۔
اللہ روکتے ہیں تمہیں ان لوگوں سے جنہوں نے تمہارے ساتھ لڑائی کی کہ تم ان سے دوستی کرو و من یتولاہم اور جو کوئی ان سے دوستی کرے گا فاوئلئک ھم الظالمون تو وہی لوگ ظلم کرنے والے ہیں۔
دیکھیے و من یتولاہم اوپر بھی آیا تھا، و من یتولا فان اللہ ھو الغنی الحمید بھئی۔ تو وہاں توولا کے معنی پلٹنے کے اور یہاں توولا کے معنی دوستی کرنے کے۔
انما ینھا کم اللہ عن الذین قاتلوکم فی الدین اللہ تمہیں روکتے ہیں انہی لوگوں سے جنہوں نے لڑائی کی تم سے دین کے معاملے میں و اخرجوکم من دیارکم اور نکالا تم کو تمہارے گھروں سے و ظاھرو علی اخراجکم اور مدد کی تمہارے نکالنے پر، تو اللہ ان سے تمہیں روکتے ہیں ان تولاوھم کہ تم ان سے دوست اللہ اس بات سے تمہیں روکتے ہیں کہ تم ان کے ساتھ دوستی کرو۔
و من یتولاہم فاوئلئک ھم الظالمون اور جو کوئی ان سے دوستی کرے گا تو وہی لوگ ہیں ظلم کرنے والے۔ یا ایھا الذین آمنوا اذا جاء کم المؤمنات مهاجرات اے ایمان والو! جب تمہارے پاس مومنہ عورتیں آئیں مہاجرات اس حال میں کہ وہ ہجرت کرنے والی ہوں۔
اے ایمان والو! جب تمہارے پاس مومنہ عورتیں ہجرت کر کے آئیں فامتحنوھن تو ان کا امتحان لے لیا کرو، ان کی آزمائش کر لیا کرو۔
ان کا جائزہ لے لیا کرو کہ یہ ایمان لے کر آئی ہیں یا اسلام لے کر آئی ہیں، مسلمان ہیں یا ویسے ہی آئی ہیں وہاں سے۔
فامتحنوھن تو ان کی آزمائش کر لیا کرو۔ اللہ اعلم بئیمانھن اللہ خوب جانتے ہیں ان کے ایمان کو۔
اللہ کو تو ان کے ایمان کی خبر ہے، جو بھی ہے آئی ہے کہ وہ ایمان کی وجہ سے آئی ہے یا ویسے آئی ہے لیکن تم کیا کیا کرو؟
تم ان کا امتحان لے لیا کرو، یہ تمہارے علم کے لیے ہے، اللہ کو ہر چیز کا علم ہے۔
فان علمتموھن مومنات پس اگر تم جانو ان کو مومنہ فلا ترجعوھن الی الکفار تو نہ لوٹاؤ ان کو کافروں کی طرف۔ لا ھن حل لھن نہ تو یہ عورتیں، ھن ضمیر مؤنث کی، لا ھن نہ تو یہ عورتیں حل لھن ان کے لیے، ان کافروں کے لیے حلال ہیں و لا ھم اور نہ وہ مشرکین جو ہیں یحلون لھن وہ ان عورتوں کے لیے حلال۔ نہ یہ عورتیں ان کے لیے حلال ہیں اور نہ وہ مشرکین ان کے ان کے لیے حلال ہیں تو ان کو واپس نہ کرو۔
و آتوھم ما انفقو اور دے دو ان کو وہ جو انہوں نے خرچ کیا۔
اور دے دو ان کو جو انہوں نے خرچ کیا۔
بھئی دیکھیے اللہ فرما رہے ہیں اگر مشرکین میں سے کوئی عورت مسلمان ہو کر مکہ والوں میں سے مدینہ آ جائے تو اس عورت کا جائزہ لے لو اگر وہ مومنہ معلوم ہو تمہیں تو اس کو واپس نہ کرو۔
اور ان عورتوں سے کوئی مومنہ آگے آ رہا ہے، اگر کوئی مومنہ نکاح کرنا چاہے تو نکاح بھی کر سکتا ہے۔
کوئی مومنہ نکاح کرنا چاہے تو کیا کر سکتا ہے؟ عدت کے بعد نکاح بھی کر سکتا ہے۔
لیکن ایک تو یہ کہ یہ وہاں پر جس شخص کی بیوی تھی کافر کی، جب وہاں سے مسلمان ہو کر مدینہ آ گئی تو ان کا وہ نکاح ٹوٹ گیا۔ اس مشرک سے کیا ہوا؟ اس کا نکاح ٹوٹ گیا۔ دار الگ ہوا بھئی، وہ دارالحرب میں ہے تو یہ دارالاسلام میں آ چکی، تو دار الگ ہو گیا، ایمان اس کا ایمان ہے، وہ کافر ہے تو نکاح ٹوٹ گیا۔
اب عدت کے بعد تم ان سے نکاح کرنا چاہتے ہو تو نکاح کر سکتے ہو۔
لیکن کیا کرنا پڑے گا؟ ایک تو ان کے وہ جو خاوند تھے مشرک، ان کے ساتھ ان کا پہلے نکاح تھا اور انہوں نے ان پر خرچ کیا یعنی ان کو مہر دیا تھا۔ کیا کیا تھا؟ مہر دیا تھا تو انہوں نے وہ جو مہر دیا تھا، وہ مہر دینا پڑے گا ان کو۔
کیا کرنا پڑے گا؟ ان پچھلے خاوندوں کو ان کا مہر لوٹانا پڑے گا اور نیز اس عورت سے نکاح کر رہے ہو تو اس کو اس کا پھر مہر دینا پڑے گا۔
اس نے جو مہر دیا تھا وہ بھی اس کو دینا پڑے گا اور اس کے ساتھ اب نکاح کر رہے ہو تو اس کا مہر بھی اس کو دینا پڑے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی۔
اور اسی طرح اگر تم میں سے کوئی ابھی تک بہت سے مسلمانوں کے عقد میں مشرک موجود تھیں۔ آگے حکم آ رہا ہے کہ اب آج کے بعد کسی مومنہ کو کافرہ عورت کو نکاح میں رکھنے کی اجازت نہیں۔
آگے حکم آ رہا ہے بھئی، ابھی تک کیا تھیں؟ بہت سی مشرک عورتیں بھی مومنین کے نکاحوں میں تھیں۔
تو تم میں سے تمہاری بیویوں میں سے کوئی اگر چلی جائے وہاں پر تو تمہارے جو ذمے تھا وہی ان کے بھی ذمے ہے۔
یعنی تم نے جو کچھ خرچ کیا تھا ان پر جو بطور مہر کے دیا تھا جو ادھر کافر ان سے نکاح کرنا چاہتا ہے اسے کیا کرنا پڑے گا؟ وہ مہر تمہیں واپس لوٹانا پڑے گا جس شخص کی بیوی تھی اسی کے حوالے کرنا پڑے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
دیکھیے بھئی۔ ولا جناح علیکم یہ و آتوھما انفقو اور دے دو ان کو ما انفقو وہ جو انہوں نے خرچ کیا، و لا جناح علیکم اور کوئی حرج نہیں ہے تم پر اے مومنو! ان تنکحوھن اذا اتیتموھن اجورھن یہ کہ تم نکاح کر لو ان سے اذا اتیتموھن جب تم دے دو ان کو اجورھن ان کے مہر، ان کے اجر یعنی ان کے مہر جب تم ان کو دے دو تو کوئی حرج نہیں تم ان سے کہ تم ان سے نکاح کر لو۔
و لا تمسکو بعصم الکوافر و لا تمسکو اور نہ تھامو تم، نہ تھام کے رکھو تم، عصیملکا بعصم الکوافر عصی جمع ہے عصمت کی۔
اور عصمت کہتے ہیں، اس عصمت کا ایک معنی وہ جو میاں بیوی کے درمیان پیمانِ نکاح ہوا ہے بھئی، وہ جو عقد نکاح ہوا ہے بھئی۔
اور الکوافر جمع ہے کافرہ تن کی۔ اے مومنو! و لا تمسکو تم نہ تھام کے رکھو بعصم الکوافر کافرہ عورتوں کی اس عصمتوں کو۔
یعنی ان کے ساتھ نکاح کو برقرار نہ رکھو۔
نکاح کو باقی نہ رکھو۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ و لا تمسکو بعصم الکوافر اور تم تھام کر نہ رکھو۔ کیا تھام کر نہ رکھو؟ بعصم الکوافر کافرہ عورتوں کی عصمتیں، یعنی ان پر قبضہ نہ کیے رکھو بھئی۔ کافر عورتوں کی عصمتوں پر قبضہ نہ کیے رکھو و اسألوا اور چاہیے کہ چاہیے کہ تم مانگ لو۔
چاہیے کہ تم مانگ لو۔ ما انفقتم وہ جو تم نے خرچ کیا۔
و لیسألوا اور چاہیے کہ وہ مانگ لیں ما انفقو جو انہوں نے خرچ کیا۔
یعنی تم میں سے تمہیں اب مشرکہ عورتوں کو نکاح میں رکھنے کی گنجائش نہیں۔ لا و لا تمسکو بعصم الکوافر کافرہ عورتوں کی اسم عصمتیں عصمتیں جو ہیں ان پر قبضہ نہ کیے رکھو، ان کو اپنے قبضے میں نہ رکھو۔
یوں ترجمہ کر لیں۔ و لا تمسکو بعصم الکوافر کافرہ عورتوں کی عصمتوں کو اپنے قبضے میں نہ رکھو و اسألوا اور یہاں وہی بات ذکر ہو رہی ہے جو میں نے ابھی آپ کو سمجھائی۔
اے مومنو! تمہاری تم اب مشرکہ عورتوں کو نکاح میں نہیں رکھ سکتے تو جو تمہارے ہاتھ سے نکل کر چلی جائیں تو تم کیا کر لو؟ تم نے جو خرچ کیا تھا وہ ان کافر ان کے نئے خاوندوں سے مانگ لو۔ واسألوا ما انفقتم تم مانگ لو وہ جو تم نے ان پر خرچ کیا تھا جو مہر دیا تھا۔
و لیسألوا ما انفقو اور ان کو بھی چاہیے کہ وہ مانگ لیں جو انہوں نے خرچ کیا تھا یعنی ان کی جو عورت مسلمان ہو کر یہاں آ گئی ہے۔
ذالک حکم اللہ یہ اللہ کا حکم ہے، یحکم بینکم اللہ فیصلہ فرماتے ہیں تمہارے درمیان، واللہ علیم حکیم اور اللہ جاننے والے ہیں، حکمت والے ہیں۔
معنی سمجھ میں آ گیا اچھی طرح بھئی؟
یا ایھا الذین آمنوا اذا جاء کم المؤمنات مهاجرات اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو جب تمہارے پاس مومنہ عورتیں ہجرت کر کے آ جائیں فامتحنوھن پس تم ان کی ان کا امتحان لے لیا کرو، ان کی آزمائش کر لیا کرو، اللہ اعلم بئیمانھن اللہ خوب جاننے والے ہیں ان کے ایمان کو، فان علمتموھن مومنات پس اگر تم ان کو مومنہ پاؤ، مومنہ جان لو فلا ترجعوھن الی الکفار تو تم نہ لوٹاؤ ان کو کافروں کی طرف، لا ھن حل لھن نہ تو یہ عورتیں حلال ہیں ان مشرکوں کے لیے اور نہ وہ مشرک حلال ہیں ان عورتوں کے لیے، و آتوھم ما انفقو اور دے دو تم ان ان کو جو انہوں نے خرچ کیا، و لا جناح علیکم اور کوئی حرج نہیں ہے تم پر ان تنکحوھن یہ کہ تم ان سے نکاح کر لو اذا اتیتموھن اجورھن جب تم ان عورتوں کو ان کے مہر دے دو، و لا تمسکو بعصم الکوافر اور تم کافرہ عورتوں کی عصمتیں اپنے قبضے میں نہ رکھو و اسألوا ما انفقتم اور چاہیے کہ تم مانگ لو جو تم نے ان پر خرچ کیا، و لیسألوا ما انفقو اور چاہیے کہ وہ مانگ لیں جو انہوں نے خرچ کیا، ذالک حکم اللہ یہ اللہ کا حکم ہے یحکم بینکم اللہ فیصلہ فرماتے ہیں تمہارے درمیان، واللہ علیم حکیم اور اللہ جاننے والے ہیں حکمت والے ہیں۔
و ان فاتکم شیء من ازواجکم الی الکفار اور اگر رہ جائے کوئی چیز من ازواجکم تمہاری بیویوں میں سے الی الکفار کفار کی طرف۔
اگر رہ جائے کوئی چیز من ازواجکم تمہاری بیویوں میں سے، یعنی اگر تمہاری بیویوں میں سے کوئی کفار کی طرف چلی جائے،
کوئی بیوی رہ جائے، فوت ہو جانے کا کیا معنی ہوتا ہے؟ رہ جانا، ہاتھ سے نکل جانا، اگر تمہارے ہاتھ سے نکل جائے کوئی تمہاری بیویوں میں سے الکفار، کس کی طرف؟ کفار کی طرف۔
بھئی دیکھیے، یہ پہلی آیت میں جو حکم دیا گیا، اس پر مومنین تو تیار ہو گئے کہ ٹھیک ہے، ہم ان عورتوں میں سے کسی سے نکاح کریں گے، تو اس عورت کو جو مشک خاوند نے اس کو جو مہر وغیرہ خرچ کیا تھا، وہ ہم اس کو دے دیں گے۔
لیکن کفار کے سلسلے میں انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا، بھئی! مومنین نے ان عورتوں کو چھوڑ دیا جو مشرکہ تھیں، کفار نے ان سے نکاح کر لیا، مومنین نے ان سے مطالبہ کیا کہ بھئی! اب ضابطے کے مطابق تم کیا کرو؟ ہم جو اس عورت کو، جو مہر ہم نے دیا تھا کسی زمانے میں، اب وہ مہر ہمیں، ہمارے، انہوں نے انکار کر دیا، تو اس پر پھر یہ آگے نیا حکم آیا، پچھلا، یہ نیا حکم آگے بھئی۔
کیا، نیا حکم یہ بھئی، کہ مسلمان کی بیوی گئی اور مشرک نے وہ مہر واپس نہیں کیا جو مسلمان خاوند نے اس کو دیا تھا، تو اللہ فرما رہے ہیں، پھر یوں کرو، کہ وہاں سے جو عورت، توجہ سے سنو بھئی، وہاں سے جو عورت مومنہ ہو کر آئی، یہاں جو مومن اس سے نکاح کرنا چاہتا ہے، اسے کیا کرنا پڑے گا؟
اس کافر خاوند جو تھا، اس کا مہر دینا پڑے گا یا نہیں اسے؟ دیکھ، اور وہ تو دے نہیں رہے، لہذا اب وہ مہر ان کو نہ دو۔
ہاں ادھر جو مسلمان جو ہیں، جن کی بیویاں چلی گئی ہیں، انہوں نے کافروں سے وصول کرنا تھا یا نہیں؟ جی! اور کافر تو نہیں دے رہے، تو تم ان کو دے دو یہ۔
سورۃ سمجھ میں آ گئی؟ کہ نہیں آئی؟ بھئی، دو مسلمان ہیں، ایک وہ ہے جو ایک عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے، جو ایمان لے کر آئی ہے، اور ایک مسلمان وہ ہے جس کی بیوی چلی گئی بھئی، مشرکہ تھیں۔ سورۃ سمجھ میں آ گئی؟
اب یہ جو مسلمان ہے، جو نکاح کرنا چاہتا ہے، اس نے کس کو دینا ہے مال؟ اس مشرک کو دینا ہے، اور وہ جو دوسرا مسلمان ہے، جس کی بیوی چلی گئی، اس نے مال دینا ہے یا وصول کرنا ہے؟ اور وہ دے تو نہیں رہے، تو اس نے کافروں سے وصول کرنا ہے، اور یہ پہلے نے کافروں کو دینا ہے، تو اب یہ کافروں کو نہ دے، بلکہ کس کو دے دے؟ اس دوسرے مسلمان کو دے دے، جس نے کافروں سے وصول کرنا تھا بھئی۔ سورۃ سمجھ میں آ گئی بھئی۔
وإن فاتكم شيء من أزوجكم إلى الكفار اور اگر رہ جائے تمہاری بیویوں میں سے کوئی الکفار، کفار کی طرف، فعاقبتم پس تمہاری باری آ جائے، عاقبہ کا معنی ہوتے ہیں، ایک کے پیچھے دوسرے کا آنا، ایک کے بعد دوسرے کا آنا، عقب سے ہے نا پیچھے سے، تو عاقبتم کیا معنی؟ تمہارے باری آ جائے یعنی کیونکہ باری بھی ایک کے بعد ایک آتی ہے، فعاقبتم پس تمہاری باری آئے، فآتوا الذین، تو تم دے دو ان کو ذہبت ازواجهم، جن کی بیویاں چلی گئیں، مثل ما انفقوا اسی کے جیسا، جو انہوں نے خرچ کیا تھا۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ فآتوا تم دے دو، دینے والا کون؟ مسلمان جو نکاح کرنا چاہتا ہے، جو نکاح، الذین دے دو ان کو، کن کو دے دیں؟ وہی دوسرے بھی مسلمان ہی ہیں، الذین ذہبت ازواجهم، جن کی بیویاں چلی گئی ہیں، مثل ما انفقوا اسی کے مثل، اسی جیسا، جو انہوں نے خرچ کیا تھا، یعنی اتنا ہی ان کو دے دیں، واتقوا اللہ، اور اللہ سے ڈرتے رہو، الذین انتم به مومنون، وہ اللہ جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔
وإن فاتكم شيء من أزوجكم إلى الكفار اور اگر نکل جائے کوئی تمہاری بیویوں میں سے الکفار، اگر نکل جائے تمہارے ہاتھ سے کوئی تمہاری بیویوں میں سے الکفار، کفار کی طرف، فعاقبتم پس تمہاری باری آئے، فآتوا الذین ذہبت ازواجهم مثل ما انفقوا، پس تم دے دو ان مومنوں کو کہ جن کی بیویاں چلی گئی ہیں، مثل ما انفقوا اسی کے مثل، اسی جیسا، جو انہوں نے خرچ کیا تھا، یعنی اسی کے برابر، اسی کے، برابر دے دو جو انہوں نے خرچ کیا تھا۔
واتقوا اللہ، اور اللہ سے ڈرتے رہو، الذین انتم به، واتقواللہ الذین انتم به مومنون، اور اس اللہ سے ڈرو، جس نے تو، جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔
يا أيها النبي إذا جاءك المؤمنات يبايعنك على، على أن لا يشركنا بالله شيئا اے پیغمبر! جب آئیں آپ کے پاس مومنہ عورتیں يبايعنك، کہ آپ کی بیعت کرتی ہوں، آپ کی بیعت کرنا چاہتی ہیں، اگر آپ کے پاس کون آئے؟ مومنہ عورتیں آئیں، يبايعنك، کہ وہ آپ کی، بیعت کرنا چاہتی، بیعت کرتی ہیں، علی اس بات پر، اللہ لا يشركنا بالله شيئا، اس بات پر کہ وہ شریک نہیں بنائیں گی اللہ کا کسی بھی چیز کو، ولا يسرقنا، اور نہ چوری کریں گی، ولا يزنین، اور نہ زنا کریں گی، ولا يقتلنا أولادهن، اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی۔
نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی، جیسے بھئی! پہلے مشرکین عرب کیا کرتے تھے؟ بیٹی پیدا ہوتی تو زندہ ہوتے، پیدا ہوتے ہی اس کو زمین میں زندہ گاڑ دیا کرتے تھے، یا جیسے بعض صرف فقر و فاق، بعض تو یہ عیب کی عار کی وجہ سے، کیا کرتے تھے؟ قتل کرتے تھے، اور بعض کس لیے قتل کر دیتے تھے؟ فقر و فاقے کی وجہ سے کہ ہمیں کھانے کو نہیں ملتا، تو ان کو کہاں سے اولاد کو کھلائیں گے، اس سے قتل کر دیتے تھے۔
تو اللہ فرما رہے ہیں کہ اے پیغمبر! جو عورتیں آپ کے پاس آئیں، کہ وہ آپ کی بیعت کرنا چاہتی ہیں، اس بات پر کہ وہ اللہ کا شریک نہیں ٹھہرائیں گی کسی چیز کو، اور چوری نہیں کریں گی، اور زنا نہیں کریں گی، ولا يقتلنا أولادهن، اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی۔ ولا يأتين ببحتان يفترينه بين أيديهن وأرجلهن، اور نہ یہ کہ وہ لے کر آئیں گی ببحتان، کوئی ایسا بہتان، يفترينه، جس کو انہوں نے گھڑ لیا ہو، افترا کے معنی کیا ہوتے ہیں؟ گھڑ لینا۔ ببحتان، کوئی ایسا بہتان، کوئی ایسا الزام، يفترينه، جس کو انہوں نے گھڑ لیا ہو، بين أيديهن وأرجلهن، اپنے ہاتھوں اور اپنے پاؤں کے بیچ میں۔
جس کو انہوں نے گھڑ لیا ہو اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے بیچ میں، پاؤں کے درمیان، ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان میں گھڑ لیا ہو، کیا معنی؟
یا تو ایک معنی اس کا یہ ہو سکتا ہے۔
بیعت کرنا چاہتی ہیں، بھئی دیکھیے، کس بات پر؟ کہ وہ اللہ کا شریک نہیں ٹھہرائیں گی، چوری نہیں کریں گی، زنا نہیں کریں گی، اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی، اور نہ کوئی ایسا بہتان باندھیں گی، جو انہوں نے، جس کو انہوں نے اپنے ہاتھوں پاؤں کے درمیان گھڑ لیا ہو۔
بھئی! ایسا بہتان جس کو انہوں نے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان گھڑ لیا ہو، اس سے کیا معنی؟ اس کا یہ بھی معنی ہو سکتا ہے، یعنی جانتے بوجھتے کسی پر بہتان نہیں باندھیں گی۔
اب جس کو انہوں نے اپنے ہاتھوں پاؤں سے گھڑ لیا ہو، یعنی جانتے بوجھتے ہوئے بہتان باندھا ہو، یعنی کسی پر کوئی الزام لگا دیا، یا کوئی دعویٰ کر دیا، یا کسی پر کے بارے میں جھوٹی گواہی دے دی، وغیرہ بھئی۔
سورۃ سمجھ میں آ گئی؟ یعنی، تو اب ہاتھوں پاؤں کے درمیان گھڑنے کا کیا معنی؟ کہ جانتے بوجھتے اپنی طرف سے جھوٹی بات بنا لی، یہ جھوٹا دعویٰ بھی ہو سکتا ہے، جھوٹی گواہی بھی ہو سکتی ہے، کوئی بھی چیز، ہر چیز اس میں آ گئی۔
یا یہ معنی، جس کو انہوں نے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان گھڑ لیا ہو۔
مشرک عورتیں کیا کرتی تھیں؟ بعض اوقات ان کی اولاد وغیرہ نہیں ہوتی تھی یا کچھ، وہ دوسروں کا بچہ لے کر کہتی تھیں یہ میرے خاوند کی اولاد ہے۔
بچہ کیا کیا؟ چھپا کر کسی اور کا لے کر اور کیا کہہ دیتیں؟ یہ میری اولاد ہے، میرے خاوند سے ہوئی ہے، تو اپنے خاوند کی طرف نسبت کر دیا کرتی تھیں، جو حالانکہ وہ ان کے خاوند کی اولاد نہیں ہوتی تھی۔
تو یہ یا یہ معنی، کہ بیوی کسی سے زنا کرے، اور اس زنا سے اولاد پیدا ہو، اور اس کو بھی علم ہے کہ یہ میرے خاوند کی اولاد نہیں، لیکن وہ نسبت کس کی طرف کر دیتی ہے؟ کہ یہ میرے خاوند کی اولاد ہے، تو یہ بھی ایسا بہتان ہے، جو انہوں نے، جس کو انہوں نے اپنے سامنے ہی گھڑ لیا ہے۔ تو یہ سب صورتیں اس میں آ گئی بھئی۔
ولا يعصينك في معروف، اور یہ کہ وہ نافرمانی نہیں کریں گی، لا يعصينك، نافرمانی نہیں کریں گی آپ کی فی معروف، نیکی کے اندر، فبايعهن، تو اے پیغمبر! آپ ان کی بیعت، ان کو بیعت کر لیجئے، واستغفر لهن اللہ، اور مغفرت طلب کیجیے ان کے لیے اللہ سے، إن الله غفور رحیم، یقیناً اللہ مغفرت فرمانے والے رحم کرنے والے ہیں۔
يا أيها النبي إذا جاءك المؤمنات يبايعنك على، على أن لا يشركنا بالله شيئا، اے پیغمبر! جب آئیں آپ کے پاس مومنہ عورتیں، آپ کی بیعت کرنے کے لیے، کہ، جب آپ کے پاس مومنہ عورتیں آئیں، يبايعنك، کہ یہ کہ وہ آپ کو، آپ کی بیعت کرتی ہیں، علی اس بات پر، اللہ لا يشركنا بالله شيئا، یہ کہ وہ شریک نہیں بنائیں گی اللہ کا کسی چیز کو، ولا يسرقنا، اور نہ چوری کریں گی، ولا يزنین، اور نہ زنا کریں گی، ولا يقتلنا أولادهن، اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی، ولا يأتين ببحتان يفترينه بين أيديهن وأرجلهن، اور یہ کہ نہ وہ کوئی ایسا بہتان لے کر آئیں گی، جس کو گھڑ لیا ہو انہوں نے، اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان، ولا يعصينك في معروف، اور اس، یہ کہ وہ نافرمانی نہیں کریں گی، آپ کی نیکی کے کام نیکی میں، فبايعهن، تو اس طرح کی عورتوں کو اے پیغمبر! فبايعهن، ان کی آپ بیعت کر، ان کو بیعت کر لیا کیجیے، واستغفر لهن اللہ، اور مغفرت طلب کیجیے ان کے لیے اللہ سے، إن الله غفور رحیم، یقیناً اللہ مغفرت فرمانے والے رحم فرم، رحم کرنے والے ہیں۔
حضور علیہ السلام کو، حضور علیہ السلام عورتوں کو بھی بیعت فرماتے، لیکن کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ مبارک نے کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا بھئی۔
یا تو آپ زبانی ہی بیعت لے لیتے، یا ایک پیالے کے اندر، بڑے پیالے کے اندر جس میں ایک طرف حضور علیہ السلام ہاتھ ڈال دیتے، دوسری طرف عورتیں پیالے کے، میں، وہ برتن میں، بڑا برتن ہوتا، اس میں پانی میں ہاتھ ڈال دیتی اور آپ بیعت لیتے، یا ایک بڑی چادر ہوتی جس کے ایک کنارے کو حضور علیہ السلام پکڑ لیتے اور دوسری طرف وہ عورتیں پکڑ لیتی اور اس طرح آپ ان سے بیعت لیتے تھے بھئی۔
سمجھ میں آیا روایات میں آتا ہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ کبھی حضور علیہ السلام کے دست مبارک نے کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا بھئی، تو بیعت اس طرح ہوتی تھی بھئی۔
يا أيها الذين آمنوا، اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! لا تتولو قوما غضب الله عليهم، تم دوست نہ بناؤ ایسے لوگوں کو، غضب اللہ علیہم، کہ اللہ غصہ ہوا ہے ان پر، قد يئس من الآخرۃ، تحقیق وہ ناامید ہو چکے ہیں آخرت سے، كما يئس الكفار من أصحاب القبور، جیسے کہ ناامید ہو چکے ہیں کافر من اصحاب القبور، قبر والوں سے۔
اے لوگو! آخر میں، سورت کے آخر میں پھر وہی بات جس کے ابتدا میں ذکر تھا کہ اے مومنو! تم کافروں کو اپنا دوست نہ بناؤ۔
وہ آخرت سے مایوس ہو چکے ہیں، جیسے کہ کفار قبر والوں سے مایوس ہیں۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟
وہ لوگ، اب بھئی وہ تو کہتے ہیں دوبارہ زندگی ہے ہی نہیں، تو گویا اسی طرح ہے، جیسے وہ آخرت سے مایوس ہو چکے ہیں، جہاں کوئی احتمال ہی نہیں ان کے نزدیک۔
اور جیسے یہ کفار مایوس ہو چکے ہیں قبر والوں سے، یہ آخرت سے اسی طرح مایوس ہیں، جس طرح کس سے مایوس ہیں؟
بھئی جو شخص مر جائے، کافر کا کیا خیال ہے؟ دوبارہ کوئی زندگی ہے؟ دوبارہ زندگی ہے ہی نہیں، ختم ہو گیا، قبر میں چلا گیا، بس کبھی واپسی کی کوئی صورت ہی نہیں، تو جیسے یہ کفار قبر والوں سے مایوس ہیں، کہ وہ کبھی واپس نہیں آ سکتے، اسی طرح یہ، آخرت سے بھی مایوس ہیں، کہ آخرت کبھی نہیں آ سکتی، کیونکہ ان کا یہ اعتقاد ہے دوبارہ زندگی، زندہ ہو ہی نہیں سکتا۔
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی! تو ان کا یہ عقیدہ اسی طرح ہے، جیسے کوئی انسان کسی چیز سے مایوس ہو جائے اور ذہن سے اس کا خیال بھی نکل جائے کہ یہ کبھی ہو ہی نہیں سکتا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟
یہ ایک ترجمہ بھئی۔
دوسرا ترجمہ:
كما يئس الكفار من أصحاب القبور
پہلا کیا ترجمہ کیا میں نے بھئی؟ جیسے کفار مایوس ہو چکے من اصحاب القبور، کن سے مایوس ہو چکے؟ قبر والوں سے، کہ قبروں والے کبھی بھی دوبارہ واپس نہیں آ سکتے۔ دوسرا ترجمہ:
بعضوں نے کہا یہ من اصحاب القبور، یہ، یہ بیان ہے کفار کا۔
یہ کس کا بیان ہے؟
من اصحاب، توجہ سے سنو بھئی! من اصحاب القبور، یہ کس کا بیان ہے؟ کفار کا بیان ہے، كما يئس الكفار، جیسے کہ کفار ناامید ہو چکے، یعنی کہ قبروں والے۔
پہلے کیا ترجمہ تھا؟ قبر والوں سے۔ اب کیا ترجمہ؟ یعنی کہ قبر والے، یعنی وہ جو قبر والے کافر جیسے مایوس ہو چکے ہیں، اسی طرح یہ دنیا کے اندر جو کافر ہیں، یہ بھی آخرت سے مایوس ہو چکے، جو کافر کفر کی حالت میں مر گیا اور قبر میں پہنچ گیا، جیسے وہ اب آخرت میں خیر سے بالکل مایوس ہو چکا، اس نے قبر میں جاتے ہی سب کچھ دیکھ لیا کہ برحق ہے، اور اس کو یہ بھی پتہ چل گیا کہ میں تو ایمان لے کر نہیں آیا، اب لہذا اس عذاب سے میری خلاصی کی کوئی صورت، تو جیسے وہ قبر والے کافر، آخرت کی خیر سے کیا ہو چکے؟ مایوس ہو چکے، اسی طرح یہ دنیا والے کافر بھی جو ہیں، آخرت سے مایوس ہو چکے۔
معنی سمجھ میں آیا؟ فرق سمجھ میں آ گیا دونوں کا بھئی۔
يا أيها الذين آمنوا لا تتولو قوما غضب الله عليهم، اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو، تم دوست نہ بناؤ ایسے لوگوں کو، کہ اللہ غضب ناک ہوا ہے ان پر، قد يئس من الآخرۃ، تحقیق ناامید ہو چکے ہیں آخرت سے، كما يئس الكفار من أصحاب القبور، جیسے کہ ناامید ہو چکے ہیں کو، کافر قبر والوں سے۔
چلیے بس! بھئی, ہذا هو المرام، والله اعلم بحقيقة الكلام۔