Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-099

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 12 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 6
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ بالله من الشیطان الرجیم. بسم الله الرحمن الرحیم. انا فتحنا لک فتحا مبینا، لیغفر لک الله ما تقدم من ذنبک وما تاخر و یتم نعمته علیک و یهدیک صراطا مستقیما، وینصرک الله نصرا عزیزا. آج ہم سورہ فتح شروع کریں گے بھئی اور اس میں صلح حدیبیہ کا ذکر آ رہا ہے، جسے قرآن نے فتح مبین قرار دیا بھئی۔ صلح حدیبیہ کا واقعہ سن چھ ہجری میں پیش آیا بھئی، سن چھ ہجری میں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب دیکھا کہ آپ صحابہ کے ہمراہ آپ نے عمرہ ادا کیا اور پھر کچھ نے بال منڈوائے اور کچھ نے بال چھوٹے کروائے یعنی بعض نے حلق کروایا اور بعض نے قصر کیا بھئی۔ حضور علیہ السلام نے صحابہ کے سامنے بھی یہ خواب ذکر کیا بھئی۔ صحابہ تو پہلے ہی مشتاق تھے بیت اللہ کی زیارت کے لیے اور پھر ان کے کہنے کی وجہ سے اور حضور علیہ السلام کا اپنا بھی ارادہ بن گیا، چنانچہ آپ صحابہ کرام کو لے کر عمرے کے لیے روانہ ہوئے، عمرے کے لیے ذوقادہ چھ ہجری میں بھئی، چھ ہجری ذوقادہ میں۔ اس موقع پر ڈیڑھ ہزار صحابہ آپ کے ہمراہ تھے بھئی، ڈیڑھ ہزار صحابہ۔ حضور علیہ السلام صحابہ کو لے کر چلے جبکہ منافقین ساتھ نہ گئے بھئی، جو کہ ظاہر تو اسلام کا دعوی کرتے تھے۔ انہوں نے سوچا کہ مکہ والے جو ہیں ان کے ساتھ مسلمانوں کی تین جنگیں ہو چکی ہیں، غزوہ بدر بھی، غزوہ احد بھی اور اس کے بعد غزوہ خندق بھی جس میں وہ بہت بڑی تعداد میں آئے تھے بھئی اور پھر اللہ نے ان کو ذلیل و رسوا واپس لوٹا دیا۔ تو انہوں نے سوچا کہ مش اب وہ مشرکین مکہ وہ کہاں مسلمانوں کو جانے دیں گے عمرہ کرنے کے لیے، یقینا لڑائی ہوگی اور ان کی طاقت کے سامنے مسلمانوں کی کیا حیثیت ہے تو کوئی ایک بھی زندہ نہیں بچے گا تو اور تو وہ چنانچہ یہ اس طرح کے برے برے گمان مسلمانوں کے بارے میں کیے اور سوچا کہ ہم کیوں اپنے آپ کو خطرے میں ڈالیں، کیوں اپنی جان کو داؤ پر لگائیں، چنانچہ وہ ساتھ گئے ہی نہیں۔ ادھر حضور علیہ السلام جب صحابہ کو لے کر چل پڑے، مکہ کے قریب پہنچے تھے کہ ادھر مکہ والوں کو اطلاع ملی کہ حضور علیہ السلام صحابہ کے ہمراہ عمرے کے لیے آ رہے ہیں۔ تو وہ ایک بڑی جماعت لے کر جنگ کے ارادے سے نکلے بھئی۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ ابھی اسلام نہیں لائے تھے تو ان کی کمان کے اندر وہ جنگ کے لیے نکلے، حضور علیہ السلام کو جب علم ہوا تو آپ نے تھوڑا سا راستہ بدل لیا اور مکہ کے بالکل قریب ایک حدیبیہ مقام تھا، حدیبیہ بھئی، مکہ سے کوئی چھ میل کے فاصلے پر وہاں پر آپ نے پڑاؤ ڈال لیا۔ اور مشرکین مکہ کے پاس ان سے بات چیت کے لیے آدمی روانہ فرماتے کہ ہم یہاں صرف عمرہ کرنے آئے ہیں، لڑنے نہیں آئے لیکن وہ کہاں برداشت کر سکتے تھے کہ ہمارے سخت ترین دشمن جن کے ساتھ ہماری تین جنگیں ہوئی ہیں، وہ یہاں اطمینان سے آئیں اور عمرہ کر کے چلے جائیں، عمرہ کر کے چلے جائیں۔ حالانکہ مشرکین مکہ عمرے اور حج وغیرہ سے سخت ترین دشمنوں کو بھی نہیں روکتے تھے لیکن یہاں ان کے تعصب کی انتہا دیکھیے کہ مسلمانوں کو عمرہ ادا نہیں کرنے دے رہے تو حضور علیہ السلام نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کو ان کی طرف بات چیت کے لیے بھیجا۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کی واپسی میں تاخیر ہو گئی کچھ بھئی اور ادھر یہ بات مشہور ہو گئی کہ مشرکین مکہ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کو شہید کر دیا ہے، شہید کر دیا ہے۔ آپ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے بدلہ لینے کا اعلان کیا تو حضور علیہ السلام نے وہاں پر تمام صحابہ سے موت پر بیعت لی کہ جان دے دیں گے لیکن لڑائی سے ہم نہیں بھاگیں گے۔ تمام صحابہ نے حضور علیہ السلام کے ہاتھ پر موت کی بیعت کی اور آخر میں حضور علیہ السلام نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف سے ایک ہا اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر رکھتے ہوئے فرمایا کہ یہ عثمان کی طرف سے ہے، یہ عثمان کی طرف سے بیعت ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ یہ ان کی طرف سے بیعت ہے۔ ادھر مشرکین مکہ کو پتہ چلا کہ مسلمان تو اب جان کی بازی لگانے کے لیے تیار ہو گئے ہیں تو انہوں نے معاہدے کی بات چیت شروع کر دی بھئی۔ اور سہیل بن عمرو کو معاہدہ کرنے کے لیے بھیجا تو انہوں نے معاہدے کے لیے آدمی بھیجا، حضور علیہ السلام تو یہاں لڑنے کے ارادے سے آئے ہی نہیں تھے، معاہدے کے لیے چنانچہ آپ تیار ہو گئے بھئی۔ اور معاہدے کے اندر انہوں نے پھر جو شرطیں جو جو شرطیں پیش کرتے رہے، حضور علیہ السلام ان کو قبول فرماتے رہے۔ ان میں ایک شرط یہ تھی کہ مسلمان اس سال عمرہ نہیں کریں گے، ایک سال بعد آئیں گے، اگلے سال آئیں گے اور تلوار کے علاوہ اور کوئی ہتھیار ان کے پاس نہیں ہوگا اور پھر عمرہ ادا کریں گے۔ حضور علیہ السلام نے ان کی اس شرط کو بھی قبول فرما لیا۔ مسلمانوں پر یہ شرط بڑی بھاری تھی کہ اتنی دور سے آئے ہیں، قربانی کے جانور بھی لائے ہیں اور یہاں ان کو حرم کے اندر جانے کی اجازت بھی نہ ملے اور یہیں پر ان کو قربانی کے جانور ذبح کرنے پڑیں اور یہیں پر حلال ہونا پڑے تو ان کے لیے یہ شرط بڑی بھاری تھی بھئی۔ اور یہ بھی شرط بیچ میں طے ہوئی کہ دس سال تک دونوں فریقوں کے درمیان کوئی جنگ نہیں ہوگی، دس سال کے لیے جنگ بندی کا بھی معاہدہ ہوا۔ اور اس میں ایک شرط یہ بھی رکھی انہوں نے کہ ہم میں سے یعنی مشرکین انہوں نے کہا ہم یعنی مشرکین مکہ میں سے اگر کوئی شخص بھاگ کر مسلمانوں کے پاس جائے گا تو مسلمان پابند ہوں گے کہ اس کو واپس کریں اور مسلمانوں میں سے اگر کوئی بھاگ کر ہمارے پاس آیا تو ہم اس کو واپس نہیں کریں گے۔ واپس نہیں کریں گے۔ حضور علیہ السلام نے اس شرط کو بھی قبول فرما لیا، اس شرط کو بھی۔ اس موقع پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ جیسے جلیل القدر صحابی بھی، وہ بھی فرمانے لگے کہ یا رسول اللہ! کیا آپ اللہ کے رسول نہیں ہیں؟ اس طرح کی شرطیں آپ ان کی تسلیم کر رہے ہیں۔ حضور علیہ السلام فرمانے لگے: "بے شک میں اللہ کا رسول ہوں۔" تو چنانچہ حضور علیہ السلام نے ان تمام شرطوں کو منظور کر لیا جو بظاہر مسلمانوں کے خلاف دکھائی دے رہی تھیں۔ چنانچہ اسی دوران ایک بڑا دردناک واقعہ بھی پیش آیا کہ حضرت ابو جندل رضی اللہ تعالی عنہ جو مکہ کے رہنے والے تھے اور اسلام لا چکے تھے، ان کو ان کے والد نے قید کر رکھا تھا، مدینہ نہیں جانے دے رہے تھے۔ بیڑیوں وغیرہ کے اندر باندھا ہوا تھا، ان کو پتہ چلا کہ مسلمان مکہ کے قریب آئے ہوئے ہیں تو کسی طرح یہ بھاگ کر پہنچ گئے بھئی، اسی طرح بیڑیاں ہاتھوں پاؤں میں موجود ہیں، بیڑیاں موجود ہیں۔ ان کے والد جو تھے وہی معاہدہ لکھنے والوں میں شامل تھے مشرکین کی طرف سے تو انہوں نے کہا کہ اس کو ہمیں واپس کیا جائے، یہ ہمارے حوالے کریں۔ اب وہ اتنی مشکل سے بھاگ کر پہنچے تھے، جان بچا کر آئے تھے لیکن حضور علیہ السلام نے معاہدے کی پابندی کرتے ہوئے ان کو واپس کر دیا بھئی، واپس کر دیا۔ تو معاہدے کے بعد ایک مرتبہ ایک اور مسلمان صحابی حضرت ابو بصیر رضی اللہ تعالی عنہ، وہ بھی مسلمان ہو کر بھاگ کر آ گئے، مشرکین ان کو لینے آ گئے کہ ان کو ہمارے حوالے کر دیں، حضور علیہ السلام نے ان کو بھی حوالے کر دیا اور پھر یہ وہاں سے بھاگ گئے اور انہوں نے شام کی طرف جو قریش کے قافلے جاتے تھے، وہاں راستے میں ایک جگہ کو اپنا مسکن بنا لیا۔ جو جو مسلمان ہوتا جاتا تھا، وہ بھاگ کر ان کے پاس پہنچ جاتے کیونکہ جانتے تھے کہ اگر ہم مدینہ گئے تو حضور علیہ السلام نے تو معاہدہ کر رکھا ہے، ہمیں واپس کر دیں گے۔ چنانچہ یہاں انہوں نے چھاپہ مار کارروائیاں شروع کر دیں، جو قافلہ گزرتا ان کا، اس پر حملہ کرتے، چھین لیتے ان سے سارا مال بھئی، یہاں تک کہ ان کے قافلوں کی آمد و رفت بند ہو گئی، وہ خود ہی اتنے تنگ آ گئے بالاخر آ کر خود ہی کہا کہ معاہدے کی یہ شق جو ہے، اس کو ختم فرما دیں۔ ہاں جو بھی آپ کے پاس آئے، وہ آپ واپس نہ کریں اور یہ ابو بصیر اور اس کے ساتھیوں کو آپ منع فرما دیں کہ انہوں نے ہمارے تمام قافلوں کا راستہ بند کر دیا ہے، ہم کھانے پینے کی چیزوں کے محتاج ہو گئے ہیں، کوئی چیز ہی نہیں آنے دیتے تو یہ شق پھر انہوں نے خود ہی ختم کروا دی بھئی۔ تو چنانچہ یہ معاہدہ لکھا گیا اور حضور علیہ السلام صحابہ کے ساتھ واپس آ گئے۔ واپسی میں یہ سورت، یہ آیتیں نازل ہوئیں بھئی: "انا فتحنا لک فتحا مبینا۔" قرآن نے اس صلح کو فتح مبین قرار دیا۔ مسلمان صحابہ پوچھنے لگے: "یا رسول اللہ! یہ فتح مبین ہے؟" حضور علیہ السلام فرمانے لگے: "ہاں یہ فتح مبین ہے۔" یہ فتح مبین ہے۔ کیونکہ حضور علیہ السلام کی نگاہیں وہ چیزیں دیکھ رہی تھیں جو عام مسلمانوں کی نگاہوں سے اوجھل تھیں۔ آپ اللہ کے حکم کے پابند تھے اور آپ جانتے تھے کہ انہی انہی میں بہتری ہے، چنانچہ اس معاہدے کا جس میں دس سال کی جنگ بندی شامل تھی بھئی، سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اس سے پہلے مشرکین مکہ کے پاس آمد و رفت بالکل بند تھی، بھئی، زبردست دشمنی تھی۔ اب جب معاہدہ ہوا تو کھل کر ملنے جلنے کا موقع آ ملا، بھئی۔ وہ لوگ، جو جن میں سے بعض کو اسلام سے دلچسپی تھی، مسلمانوں کی حالت اور ان کی باتیں سننے کا ان کو موقع ملا۔ اور چنانچہ صرف دو ڈھائی سال کے عرصے میں اتنی کثرت سے لوگ مسلمان ہوئے، اتنی کثرت سے کہ یہ چھ ہجری کا واقعہ ہے، اور آٹھ ہجری میں جب حضور علیہ السلام فتح مکہ کے لیے مسلمانوں کا لشکر لے کر چلے، تو آپ کے ساتھ دس ہزار صحابہ کی جماعت تھی، بھئی۔ اس صلح کا کتنا عظیم فائدہ، بھئی، جو بظاہر مسلمانوں کو تمام شرطیں اپنے خلاف دکھائی دے رہی تھیں۔ خلاف دکھائی دے رہی تھیں۔ اور اس معاہدے کے اندر، بھئی، اس معاہدے کے موقع پر قبیلہ خزاعہ والے مسلمانوں کی امان میں تھے۔ اور قبیلہ بنی بکر والے قریش کی امان میں تھے۔ قبیلہ خزاعہ اور بنی بکر والوں کی بعد میں آپس میں جنگ ہوئی۔ اور تو قریش نے بنی بکر والوں کی درپردہ بھرپور مدد کی، بھئی، بھرپور مدد کی۔ حالانکہ معاہدہ تھا کہ کسی کی مدد کسی کے خلاف جنگ نہیں کرنی، بھئی۔ تو یہ قبیلہ خزاعہ والے تو مسلمانوں کی امان میں تھے، ان کی اور بنی بکر کی جنگ تھی، لیکن قریش نے بھرپور ساتھ دیا بنی بکر کا۔ حضور علیہ السلام کو علم ہوا، تو آپ نے معاہدہ توڑنے کا اعلان کیا کہ قریش نے خود ہی کیا کیا ہے؟ معاہدہ توڑ ڈالا ہے، اب ہمارے اور ان کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہے، ان کو بھی اطلاع دی۔ اور پھر دس ہزار کا لشکر لے کر آپ نے مکہ مکرمہ کو فتح فرما لیا بغیر کسی جنگ کے، بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ تو یہ صلح حدیبیہ کا واقعہ جو ہے، اس کا ذکر آ رہا ہے۔ یہ سن چھ ہجری میں ذوالقعدہ میں پیش آیا، اور پھر مسلمانوں نے اگلے سال سات ہجری میں ذوالقعدہ کے مہینے میں پھر جا کر عمرہ ادا کیا، بھئی، عمرہ ادا کیا۔ تو اس صلح حدیبیہ کو قرآن نے فتح مبین قرار دیا، اسی کا ذکر ہے اس صورت میں، دیکھیے، بھئی۔ انا فتحنا لك فتحا مبینا، بیشک ہم نے آپ کو فتح دی فتحا مبینا، کھلی فتح۔ تو با محاورہ ترجمہ، انا فتحنا لك فتحا مبینا، بیشک ہم نے آپ کو کھلی فتح دی، ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تأخر، تاکہ معاف کر دے اللہ آپ کے وہ جو مقدم ہوئے ہیں، یعنی جو پہلے ہو چکے گناہ، وما تأخر، اور جو مؤخر ہیں، جو بعد میں ہوں گے۔ یعنی اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف فرما دیے۔ بیشک ہم نے آپ کو کھلی فتح دی تاکہ اللہ آپ کے اگلے پچھلے گناہوں کو، اگلی پچھلی خطاؤں کو معاف کر دے۔ سوال پیدا ہوتا ہے، حضور علیہ السلام تو صغیرہ اور کبیرہ ہر قسم کے گناہوں سے پاک ہیں، پھر یہ گناہ سے کیا مراد ہے؟ جواب اگرچہ پیچھے گزر چکا ہے، پھر بیان کر دیتا ہوں۔ کہ یہاں وہ جو بعض اوقات حضور علیہ السلام سے خلاف اولی کام ہو جاتا۔ خلاف اولی۔ جو گناہ نہیں تھا۔ صرف خلاف اولی تھا، لیکن حضور علیہ السلام کا مقام اتنا اونچا ہے کہ آپ کے مقام کی نسبت کرتے ہوئے یہ بھی کس طرح معلوم ہوتے ہیں؟ گناہ کی طرح معلوم ہوتے ہیں، بھئی۔ تو وہ خلاف اولی کام مراد ہیں۔ مثلاً جیسے غزوہ بدر کے بعد آپ نے قیدیوں کو قتل کرنے کے بجائے ان سے فدیہ لینا قبول کیا۔ یا جیسے کبھی نماز میں آپ سے سہو ہو گیا، بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ یعنی دوسرے لفظوں میں یوں کہیے جو بات پہلے بیان ہو چکی کہ اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کو حسنات الأبرار سيئات المقربين کہا جاتا ہے، بھئی۔ ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تأخر، تاکہ معاف کر دے اللہ آپ کی اگلی پچھلی خطاؤں کو، ويتم نعمته عليك، اور تاکہ پوری کر دے اللہ اپنی نعمت کو آپ پر، ويهديك صراطا مستقيما، اور تاکہ رہنمائی کرے اللہ آپ کی سیدھے راستے کی طرف، یعنی اس پر ثابت قدمی دے۔ وينصرك الله نصرا عزيزا، اور تاکہ مدد کرے اللہ آپ کی نصرا عزيزا، زبردست مدد۔ تاکہ اللہ آپ کی زبردست مدد کرے۔ يا وينصرك الله نصرا عزيزا، اللہ آپ کی مدد کرے نصرا عزيزا، ایسی مدد جس میں عزت ہی عزت ہو، جو عزت والی ہو۔ والذي أنزل السكينة في قلوب المؤمنين وہی ذات ہے جس نے اتارا تسکین کو في قلوب المؤمنين، مومنوں کے دلوں میں۔ وہی ذات ہے جس نے مومنوں کے دلوں میں تسکین نازل فرمائی، مومنوں کے دلوں میں اطمینان نازل فرمایا، بھئی۔ समझ में आया، بھئی؟ مومنوں کے دلوں میں اطمینان نازل فرمایا، بھئی۔ دیکھیے، ساری شرطیں بظاہر مسلمانوں کے خلاف تھیں، بھئی۔ لیکن اللہ نے مسلمانوں کے دلوں میں اطمینان نازل فرمایا اور انہوں نے بلا چوں و چرا کے حضور علیہ السلام کی بات کو تسلیم فرما لیا، بھئی۔ والذي أنزل السكينة في قلوب المؤمنين، وہی ذات ہے جس نے اتارا اطمینان کو مومنین کے دلوں میں، ليزدادوا إيمانا مع إيمانهم، تاکہ بڑھ جائیں وہ ایمان کے اعتبار سے مع إيمانهم، ساتھ اپنے ایمان کے۔ تاکہ وہ بڑھ جائیں، بئاعتبار ایمان کے مع إيمانهم، ساتھ اپنے ایمان کے، یعنی تاکہ ان کا ایمان بڑھ جائے، بھئی۔ ان کے اپنے ایمان کے ساتھ ان کا ایمان بڑھ جائے، بھئی۔ ليزدادوا إيمانا مع إيمانهم، تاکہ بڑھ جائے اور ایمان، ساتھ ان کے اپنے ایمان کے۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا، بھئی؟ تاکہ ان کے اپنے ایمان کے ساتھ اور ایمان بڑھ جائے۔ ولله جنود السماوات والأرض، اور اللہ ہی کے لیے لشکر ہیں آسمانوں کے اور زمین کے۔ جنود جمع ہے جند کی، لشکر لشکر کو کہتے ہیں۔ اور اللہ ہی کے لیے لشکر ہیں آسمانوں کے اور زمین کے۔ وكان الله عليما حكيما، اور اللہ تعالی سب کچھ جاننے والے ہیں، حکمت والے ہیں۔ ليدخل المؤمنين والمؤمنات جنات تجري من تحتها الأنهار، تاکہ داخل کرے اللہ مومن مردوں کو اور مومن عورتوں کو ایسے باغات میں تجري من تحتها الأنهار، کہ بہتی ہیں ان کے نیچے سے نہریں، خالدين فيها رہیں گے اس میں ہمیشہ۔ ويكفر عنهم سيئاتهم، اور تاکہ اللہ مٹا دے، دور کرے ان سے سيئاتهم، ان کی برائیاں، تاکہ اللہ ان سے ان کی برائیاں، ان کے گناہ دور فرما دیں۔ ليدخل تاکہ اللہ داخل فرما دیں مومن مردوں کو اور مومن عورتوں کو۔ یہ لام جارہ ہے۔ یہ کس سے متعلق ہے، بھئی؟ تو بعض مفسرین حضرات نے یہاں پر عبارت کلام کو محذوف مانا، بھئی۔ اور وہ کیا؟ أمر الله بالجهاد، اللہ نے جہاد کا حکم دیا، ليدخل المؤمنين والمؤمنات جنات۔ تو یہ کس سے متعلق ہے؟ امر بالجہاد سے، بھئی، امر بالجہاد، بھئی تو یہ امر سے متعلق ہے۔ اور بعض مفسرین حضرات نے لکھا کہ یہ ليدخل یہ فتحنا سے متعلق ہے، انا فتحنا۔ انا فتحنا اس پر اشکال ہوتا ہے۔ کہ ایک فعل کے ایک جیسے دو صلے نہیں آ سکتے، میں پہلے بیان کر چکا ہوں فعل کے ساتھ جو حرف جر آئے، اس کو اس فعل کا صلہ کہتے ہیں۔ تو اس فتحنا کے ساتھ تو آگے ليغفر لك الله، یہ لام جارہ اسی سے متعلق ہے، بھئی۔ فتحنا سے تو ایک آگے بھی کیا ہے؟ ليدخل، وہ بھی لام جارہ ہے۔ تو ایک فعل کے ایک جیسے دو صلے نہیں آتے، بھئی۔ ایک جیسے دو صلے نہیں آتے۔ تو جواب دیا انہوں نے، مفسرین حضرات جواب دیتے ہیں کہ یہ جو فتحنا کے ساتھ ليغفر ملا، جب یہ اس کے ساتھ جڑا، تو فتحنا مطلق تھا۔ کیا تھا؟ مطلق۔ اور یہ جب جار مجرور فعل کے ساتھ جڑ گئے، تو وہ مقید بن گیا، کیا بن گیا؟ یہ قید ہوتی ہے جتنی فعل کے ساتھ فعل کے ساتھ یہ جو مفعول وغیرہ، حال، تمیز، جار مجرور جتنے یہ آتے ہیں، یہ فعل کے لیے قید ہوا کرتے ہیں، بھئی۔ کیا ہوا کرتے ہیں؟ قید۔ میں کہتا ہوں جاءني زيد راكبا، آیا میرے پاس زید سوار ہو کر۔ دیکھو، یہ آنا مقید ہے سوار ہونے کے ساتھ، مطلقا وہ نہیں آیا میرے پاس، کس طور پر آیا ہے؟ تو دیکھو، مجيء کے لیے یہ راكبا حال جو ہے، کیا واقع ہو رہا ہے؟ قید ہے۔ ضربت زیدا، میں نے زید کی پٹائی کی، دیکھو، یہ زیدا قید ہے، معلوم ہوا کسی اور کی پٹائی نہیں کی میں نے، کس کی کی ہے؟ زید کی کی ہے، اس پر ضرب واقع ہوئی ہے، بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اسی طرح جار مجرور، یہ بھی قید ہوتے ہیں۔ ضربت بالعصا، میں نے لاٹھی سے پٹائی کی، دیکھو یہ ضرب مطلق نہیں ہے، بلکہ کس کے ساتھ ہے؟ لاٹھی کے ساتھ، یہ اس کے لیے قید ہے، بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ تو یہاں پر بھی کہتے ہیں یہ جو ليغفر ملا فتحنا کے ساتھ، تو یہ فتحنا مطلق تھا، کیا تھا؟ مطلق تھا۔ اور جب ليغفر مل گیا، تو یہ کیا بن گیا؟ مقید بن گیا۔ اب اب وہ ليدخل بھی اس کے ساتھ جڑا لیکن یہ مطلق کے ساتھ جڑا یا مقید کے ساتھ جڑا؟ مقید ہو چکا ہے نا ليغفر کے ساتھ، تو یہ ليدخل ملا مقید فتحنا کے کے ساتھ تو دونوں میں فرق آ گیا، پہلا کس کے ساتھ ملا تھا؟ مطلق فعل سے یہ ملا ہے مقید فعل کے ساتھ ملا ہے۔ و يكفر عنهم سيئاتهم اور تاکہ اللہ دور کر دے ان سے ان کی برائیاں، و کان ذلك عند اللہ فوزا عظيما اور یہ اللہ کے نزدیک عظیم کامیابی ہے۔ دیکھا یہ عظیم کامیابی ہے بھئی یہ جنت نے کہ اللہ داخل فرما دے کسی کو تو یہ عظیم کامیابی ہے۔ و يعذب المنافقين والمنافقات بھئی یہ جتنے یہ فعل آ رہے ہیں منسوب ہیں بھئی، یہ اسی لام کے تحت ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ يدخل پر ہی عطف ہے یکفر کا اور اسی پر عطف ہے يعذب کا بھئی، پیچھے بھی اسی طرح تھا بھئی، سورۃ سمجھ میں آگئی جو جہاں لام کے آنے کے بعد آگے فعل جو منسوب ہیں وہ اسی کے تحت ہیں بھئی۔ و يعذب المنافقين والمنافقات اور تاکہ اللہ عذاب دے منافق مردوں کو اور منافق عورتوں کو، والمشركين والمشريكات اور مشرک مردوں کو اور مشرک عورتوں کو، الظانين باللہ ظن السوء وہ جو مشرکین مرد اور عورتیں اور وہ منافق مرد اور عورتیں الظانين باللہ ظن السوء جو گمان کرنے والے ہیں اللہ کے ساتھ برے گمان، جو اللہ کے بارے میں برے گمان کرنے والے ہیں۔ تو یہ منافقین کیا کر رہے تھے؟ وہ مسلمانوں کے بارے میں اور حضور علیہ السلام کے بارے میں برے برے گمان کر رہے تھے کہ یہ گئے ہیں بچ کر ایک بھی نہیں آئے گا، وہ کہاں چھوڑیں گے ان کو اتنے سخت دشمن ہیں جن سے کئی جنگیں ہو چکی ہیں، ہم کیوں اپنے آپ کو خطرے میں ڈالیں، اپنی جان کو داؤ پر لگائیں اور ان کے ساتھ چلیں۔ تو یہ جو ہیں الظانين باللہ ظن السوء جو وہ گمان جو گمان کرنے والے تھے اللہ کے بارے میں برے گمان علیہم دائرة السوء ان پر پڑے دائرة السوء دائرہ دائرسو اردو میں بھی آپ استعمال کرتے ہیں۔ اور سو برائی بھئی۔ ان پر ہی ہو پڑے گا دائرة السوء برائی کا چکر۔ انہی پر کیا پڑے گا؟ برائی کا چکر، برائی کا پھیر انہی پر پڑے گا۔ یا تو یہ خبر ہے یا یہ بد دعا کے معنی میں ہے۔ خبر کا ترجمہ میں نے کر دیا انہی پر برائی کا چکر پڑے گا۔ اللہ فرما رہے ہیں، انہی پر برائی کا چکر پڑے گا۔ اور اگر بد دعا ہو، ان پر برائی کا چکر پڑے، ان پر برائی کا چکر پڑے، سمجھ میں آیا تو برائی کے چکر سے کیا مراد ہے؟ مصیبت، تکلیف، بھئی، حادثہ، یہ تو کیا کر رہے تھے مسلمانوں کے بارے میں گمان کر رہے تھے کہ یہ کیا ہو جائیں گے، ختم ہو جائیں گے، مشرکین ان کو چھوڑیں گے نہیں، ایک کو بھی بچ کر نہیں آنے دیں گے۔ اللہ فرما رہے ہیں، برائی کا چکر ان پر پڑے گا۔ یا بد دعا ہے، ان پر برائی کا چکر پڑے، جو مسلمانوں کے بارے میں گمان کر رہے ہیں برے برے۔ تو دائرة السوء سے کیا مراد ہے؟ تکلیف اور مصیبت، اور اس کو برائی کا چکر کہا گیا کیونکہ تکلیف، وہ تکلیف اور مصیبت بھی جو انسان کا پوری طرح احاطہ کر لے بھئی، پوری طرح گھیر لے اس کو، تو یہ بھی تکلیف بھی اسی طرح گھیر لیتی ہے پورے طور پر انسان کو تو اس کو دائرة السوء کہا گیا، و غضب اللہ علیہم اور اللہ ان پر غضب ناک ہوئے، و لعنهم اور ان پر لعنت فرمائی اللہ نے، و أعد لہم جھننما اور اللہ نے تیار کی ہے ان کے لیے جہنم، و ساءت مصیرا اور وہ برا ہی ٹھکانہ ہے۔ جہنم بڑا ہی برا ٹھکانہ ہے۔ و يعذب المنافقين والمنافقات والمشركين والمشريكات الظانين باللہ ظن السوء اور تاکہ اللہ عذاب دے منافق مردوں کو اور منافق عورتوں کو اور مشرک مردوں کو اور مشرک عورتوں کو، الظانين باللہ ظن السوء جو گمان کرنے والے ہیں اللہ کے بارے میں ظن السوء برے گمان، علیہم دائرة السوء ان پر برائی کا چکر پڑے، و غضب اللہ علیہم و لعنہم و أعد لہم جھننما اور اللہ ان پر ناراض ہوئے اور ان کو اپنی رحمت سے دور کیا اور تیار کی ان کے تیار کی ہے ان کے لیے جہنم، و ساءت مصیرا اور وہ بڑا برا ٹھکانہ ہے، یعنی جہنم۔ و للہ جنود السماوات والأرض اور اللہ ہی کے لیے ہیں لشکر آسمانوں اور زمین کے، و کان اللہ عزيزا حكيما اور اللہ زبردست ہیں، حکمت والے ہیں۔ انا ارسلناك شاہدا ومبشرا ونذیرا بے شک ہم نے آپ کو بھیجا ہے گواہ اور خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر، ہم نے آپ کو گواہ بنا کر اور خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ گواہ کہ حضور علیہ السلام قیامت میں اپنی امت کے بارے میں گواہی دیں گے اور اسی طرح دیگر انبیاء کے حق میں گواہی دیں گے۔ انا ارسلناك شاہدا ومبشرا ونذیرا بے شک ہم نے آپ کو گواہ اور خوشخبری دینے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر بھیجا، لتؤمنوا باللہ ورسوله تاکہ تم ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر، وتعزروہ اور اس کی مدد کرو۔ آذر یعذر تعزیر کا کیا معنی ہے؟ مدد کرنے کے، قوت دینے کے، وتعزروہ اور تاکہ تم ان کو قوت دو، ان کی مدد کرو۔ وتوقروہ اور ان کی تعظیم کرو۔ لتؤمنوا باللہ ورسوله وتعزروہ وتوقروہ تو تعزروہ کی ہاء ضمیر جو ہے وہ یا تو راجع ہے اللہ کی طرف، اسی طرح توقروہ کے آخر میں جو ہاء ضمیر ہے یہ بھی اللہ کو راجع ہے۔ تاکہ تم ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے اور اس کے رسول پر اور اللہ کی مدد کرو اور اللہ کی تعظیم کرو۔ اللہ کی مدد کا کیا معنی؟ یعنی اللہ کے دین اور اللہ کے پیغمبر کی مدد کرو۔ یا پھر یہ ضمیر راجع ہے رسول کو بھئی، کہ تم اللہ کے رسول کی مدد کرو اور ان کی تعظیم کرو۔ وتسبحوه بکرۃ واسیلا اور تم پاکی بیان کرو اللہ کی صبح اور شام کو۔ ان الذین يبايعونك إنما يبايعون اللہ یقیناً وہ لوگ جو آپ کی بیعت کر رہے ہیں، وہ اللہ سے بیعت کر رہے ہیں۔ وہ لوگ جو اے پیغمبر! جو لوگ آپ کی بیعت کر رہے ہیں، وہ اللہ ہی کی بیعت کر رہے ہیں۔ کیونکہ پیغمبر کی اطاعت دراصل اللہ ہی کی اطاعت ہے بھئی، پیغمبر کے حکم پر چلنا اللہ ہی کے حکم پر چلنا ہے۔ ان الذین يبايعونك إنما يبايعون اللہ یقیناً وہ لوگ جو آپ کی بیعت کر رہے ہیں وہ اللہ ہی کی بیعت کر رہے ہیں، يد اللہ فوق أیدیهم اللہ کا ہاتھ ہے ان کے ہاتھوں پر۔ فمن نكث فإنما ينكث علی نفسه پس جو کوئی عہد کو توڑے، نکث کے معنے عہد کو توڑنا، بیعت کو توڑنا۔ فمن نكث پس جو کوئی بیعت کو توڑے یا یہ ترجمہ کر لیں، فمن نكث جو کوئی عہد کو توڑے، فإنما ينكث علی نفسه تو وہ عہد کو اب توڑتا ہے اپنے ہی نفس پر یعنی اس کا وبال اسی پر پڑے گا۔ پس جو کوئی عہد کو توڑے فإنما ينكث علی نفسه تو وہ عہد کو اپنے نفس پر ہی توڑتا ہے، و من أوفی بما عاهد علیہ اللہ اور جس نے پورا کیا، و من أوفی اور جس نے پورا کیا بما عاهد اس چیز کو، جس کا اس نے عہد کیا ہے، جس چیز کا بما عاهد علیہ اللہ جس کا اس نے اللہ سے عہد کیا ہے، جس چیز پر اس نے اللہ سے و من أوف ترجے پر نظر رکھیں بھئی، و من أوفی اور جس نے پورا کیا بما عاهد علیہ اللہ اس چیز کو جس پر اس نے عہد کیا ہے اللہ سے بھئی۔ جس نے پورا کیا اس چیز کو جس پر اس نے اللہ سے عہد کیا ہے، فسیؤتیہ اجرا عظیما پس عن قریب اللہ عطا کریں گے اس کو اجر عظیم، اللہ اس کو عظیم اجر عطا کریں گے۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ بھئی دیکھیے یہاں پر آیا بما عاهد علیہ اللہ علیہ اللہ ضمیر آئی علی کے بعد، اور علی کے بعد یہاں ضمیر آئے تو اس پر کسرہ پڑھتے ہیں، علیہ اللہ ہونا چاہیے تھا، لیکن اس قران میں کیا ہے علیہ اللہ اس کی کیا وجہ ہے؟ تو یاد رکھیے بھئی۔ عجیب نکتہ بھئی، عجیب نکتہ مولانا کہ یہ جو ہاء ضمیر ہے، یاد رکھیے یہ دراصل اسی ہوا سے بنی ہے، کس سے بنی ہے؟ ہوا بھی غائب کی ضمیر ہے نا اور یہ بھی غائب، تو یہ ہاء ضمیر اسی ہوا سے بنی ہے، ہوا سے۔ اور اس کے آخر سے واء گر گیا تو ہا رہ گئی صرف، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور ہوا کے اندر ہا پر کیا تھا؟ ضمہ تھا، تو اسی ضمہ کو یہاں برقرار رکھا گیا۔ اسی ضمہ کو ہوا میں ہا پر کیا تھا؟ ضمہ تھا تو وہی ضمہ برقرار رکھا گیا۔ کیوں برقرار رکھا گیا؟ باقی جگہ تو علیہ علیہ پڑھتے ہیں، وجہ یہ کہ یہ بات ہو رہی ہے عہد کی، بات ہو رہی ہے وعدے کی، اور وعدہ جیسا کیا جائے، اس کو ویسا ہی برقرار رکھنا چاہیے۔ وعدہ وعدہ جیسا کیا جائے اس کو اسی طرح برقرار رکھنا چاہیے، چنانچہ چونکہ یہ وعدے کی بات تھی تو یہ ضمیر جیسی تھی اس کو اسی طرح برقرار رکھا گیا۔ نکتہ سمجھ میں آیا بھئی؟ بڑا باریک نکتہ، عجیب نکتہ مولانا، کہ چونکہ یہ بات ہو رہی ہے وعدے کی، عہد کی، اور عہد کو عہد کہتے کس کو ہیں؟ اس میں کیا کیا جاتا ہے؟ جیسا کیا جائے اس کو اسی طرح رکھا جاتا ہے، تو لہذا اس موقع پر جو ضمیر بھی آئی، تو جیسی اصل میں تھی اسی طرح اس کو برقرار رکھا گیا۔ و من أوفی بما عاهد علیہ اللہ اور جس نے پورا کیا اس چیز کو جس پر اس نے کیا ہے اللہ سے فصيوتيہ اجرا عظيما فسن قريب دينگے اس کو اللہ عظيما اجر۔ سيقول لک المخلفون من الاعراب عن قريب کہينگے اے پيغمبر آپ سے المخلفون من الاعراب۔ مخلف پیچھے چھوڑے گئے مخلف اس ميں مفعول کا صيغہ ہے بھئی خلفہ سے۔ سيقول لک المخلفونا اے پيغمبر عن قريب آپ سے کہينگے المخلفونا جو پيچھے چھوڑے گئے يعني جو پيچھے رہ گئے تھے من الاعرابی ديہاتيوں ميں سے۔ اعرابی کہتے ہيں ديہاتی کو اور جمع اس کی کہ آخر سے يا کو ختم کر ديا جاتا ہے۔ اعرابيّن يہ کيا ہے مفرد اور الاعراب يہ کيا ہے جمع جیسے اعرابيّن يہ ہے مفرد اور عرب يہ کيا ہے جمع۔ سيقول لک سيقول لک المخلفونا من الاعرابی۔ يہ نبي کريم صلی اللہ عليہ وسلم واپس تشريف لا رہے ہيں بھئی صلح حدیبيہ سے۔ منافقين تو ساتھ گئے ہی نہيں تو اب يہ ان کا ذکر آيا کہ عن قريب يہ جو ديہاتی تھے يہ جو منافق تھے يہ ديہات کے رہنے والے يہ آپ کے پاس آئيں گے اور معذرتيں کريں گے کہ ہميں اپنے گھر والوں ميں ہماری ہم مشغول تھے بال بچوں ميں اور اپنے کاموں کے اندر مشغول تھے اپنے مالوں کے اندر مشغول تھے۔ اے پيغمبر يہ آپ کے پاس عذر کرتے ہوئے آئيں گے حالانکہ ان کے دلوں ميں اپنے اس فعل پر ذرا بھی ندامت نہيں صرف زبان سے دکھاوے کے طور پر آئيں گے۔ دلوں ميں تو ان کا خيال ہے ہم نے کوئی غلط کام کيا ہی نہيں ہے تو کتنی خطرناک جگہ تھی اور جب مسلمان آئے وہ خود وہ بھی حيران ہوئے کہ يہ کیسے صحيح سلامت واپس آ گئے تو اب اپنی صفائی پيش کرنے کے ليے اور دکھاوے کے طور پر آئيں گے اور معذرتيں کريں گے۔ اور آگے پھر ديکھیے غزوہ خيبر کی طرف بھی اشارہ ہوگا اور اللہ فرمائيں گے کہ عن قريب تم لوگوں کو بڑی غنيمتیں ملنے والی ہيں بڑی غنيمتيں۔ ليکن اس غزوہ کے موقع پر صرف وہی صحابہ جائيں گے جو صلح حدیبيہ ميں شریک تھے۔ اس موقع پر يہ يہ جو اس صلح حدیبيہ ميں نہيں گئے تھے يہ منافقين اس وقت کہينگے کہ ہم بھی جانا چاہتے ہيں۔ کیونکہ غزوہ خيبر جو وہ جہاں يہود جا کر آباد ہوئے تھے وہ بڑا سر سبز و شاداب علاقہ تھا اور يہود کے پاس مال و دولت بھی بہت زیادہ تو ان کو بھی پتہ تھا کہ يہود جو ہیں وہ مسلمانوں کی ٹکر کے ہیں ہی نہيں يہ مسلمان ان پر حملہ کرنے جا رہے ہيں تو فتح ہی فتح ملنی ہے اور مال تو بے انتہا وہاں ہاتھ آئے گا بھئی بے انتہا مال ہاتھ آئے گا۔ چنانچہ اس موقع پر اللہ فرما رہے ہیں کہ يہ آئيں گے اور کہينگے ہم بھی تمہارے ساتھ جانا چاہتے ہيں ليکن یاد رکھو صرف کن کو جانے کی اجازت ہے؟ جو صلح حدیبيہ میں گئے تھے صرف ان کو جانے کی اجازت ہے اور یہ اس وقت باتیں بھی کریں گے یہ بھی کہیں گے کہ تم کیوں نہیں ہمیں جانے دے رہے اپنے ساتھ۔ تم لوگ ہم سے جلتے ہو کہ ہمیں مال نہ مل جائے اس لیے ہمیں ساتھ نہیں لے کر جا رہے۔ اللہ آگے آئے گا اللہ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کو بہت کم سمجھ ہے بہت تھوڑی بہت ان کو سمجھ ہے اور یہ اللہ کی بات کو بدلنا چاہتے ہیں۔ اللہ نے تو حکم دیا ہے ان کو لے کر نہیں جانا یہ کیا چاہتے ہیں اللہ کے حکم کو اللہ کی بات کو بدل دیں بھئی۔ حالانکہ ایسا نہیں ہو سکتا اللہ کی باتوں میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔ دیکھیے تو یہ پہلے ہی بتایا جا رہا ہے بھئی ابھی سے بتلایا جا رہا ہے غزوہ خيبر کی فتح کی بھی خبر ابھی سے دی جا رہی ہے آگے ذکر آ رہا ہے۔ سيقول لک المخلفون من الاعرابی عن قريب کہیں گے آپ سے پیچھے رہ جانے والے دیہاتیوں میں سے شغلنا اموالنا و اہلنا کہ مشغول کر دیا تھا ہمیں ہمارے مالوں نے اور ہمارے گھر والوں نے۔ فاستغفر لنا پس اے پیغمبر آپ ہمارے لیے مغفرت طلب کیجیے کون آکر کہیں گے اللہ فرما رہے ہیں؟ یہ دیہات کی جو پیچھے رہ گئے تھے یہ آکر کہیں گے کہ آپ اللہ سے ہمارے لیے مغفرت طلب کیجیے ہمیں ہمارے مالوں اور گھر والوں نے مشغول کر دیا تھا۔ يقولون بالسنتهم وہ کہیں گے اپنی زبانوں سے ما وہ چیز ليس فی قلوبهم جو ان کے دلوں میں نہیں دلوں میں تو ان کے ندامت ہے ہی نہیں بھئی۔ دلوں میں تو وہ صرف دکھاوے کے طور پر کہیں گے۔ يقولون بالسنتهم ما ليس فی قلوبهم کہیں گے وہ اپنی زبانوں سے وہ جو ان کے دلوں میں نہیں ہے نہیں ہے۔ قل فمن يملك لكم من اللہ شیئا آپ کہہ دیجیے آپ جب وہ کہیں تو آپ کہہ دیجیے فمن يملك لكم من اللہ شیئا پس کون ہے جو مالک ہو تمہارے لیے من اللہ اللہ کے مقابلے میں شیئا کسی بھی چیز کا؟ कौन है जो अल्लाह के मुकाबले में तुम्हारे लिए किसी भी चीज़ का मालिक हो यानी किसी भी चीज़ का इख्तियार रखे अल्लाह के मुकाबले में तुम्हारे लिए तुम्हारे बारे में कोई किसी चीज़ का इख्तियार नहीं रखता। إن أرادا بكم ضرا اگر وہ اللہ ارادہ کرے تمہیں تکلیف دینے کا أو أرادا بكم نفعا یا ارادہ کرے تمہیں نفع دینے کا۔ اے پیغمبر وہ آئیں گے آپ ان سے کہہ دیجیے کہ اللہ کے مقابلے میں تمہارے بارے میں کوئی اختیار نہیں رکھتا اگر اللہ تمہیں تکلیف دینے کا ارادہ کرے یا اللہ تمہیں نفع دینے کا ارادہ کرے تو کسی کو کوئی اختیار نہیں ہے۔ اگر اللہ تمہیں نقصان دینا چاہتے ہیں تو کسی کو کوئی اختیار نہیں ہے وہ تمہیں نقصان سے بچا نہیں سکتا۔ اگر اللہ تمہیں نفع دینا چاہیں تو کوئی اللہ کو روک کوئی اللہ کو روک نہیں سکتا۔ تم تو کہتے ہو کہ ہم ہمیں کس نے روک دیا تھا؟ ہمارے گھر والوں میں ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں تھا ہمارے مالوں نے روک لیا تھا ان کا خیال رکھنے والا کوئی نہیں تھا کہ ہم جائیں گے تو یہ چیزیں ساری مال ہمارا برباد ہو جائے گا۔ ہمارا مال کیا ہو جائے گا؟ تمہارا تو یہ خیال تھا ہم جائیں گے تو ہمارا مال برباد ہو جائے گا۔ تو اے پیغمبر آپ ان سے کہہ دو اگر اللہ تمہیں کوئی نقصان دینا چاہیں تو کوئی روک نہیں سکتا اور کوئی نفع دینا چاہے تو کوئی اس کو کوئی روک نہیں سکتا۔ یعنی تمہارے یہ ارادے تمہارے یہ بہانے یہ ویسے بہانے ہی ہیں۔ اگر تم کہتے ہو ہم مالوں کی وجہ سے روکے ہیں۔ اگر اللہ نقصان دینا چاہتا تو تم یہاں روک کر بھی اس کو نقصان کو نہیں روک سکتے تھے۔ بلکہ کان اللہ بما تعملون خبيرا بلکہ اللہ جو کچھ تم عمل کرتے ہو اس سے باخبر ہیں۔ بلکہ ظننم ان لن ينقلب الرسول والمؤمنون إلى أهليہم ابدا بلکہ تم نے یہ گمان کیا کہ ان لن ينقلب الرسول والمؤمنون کہ ہرگز نہیں لوٹیں گے ہرگز نہیں پلٹیں گے رسول اور مومنین إلی أهليہم اپنے گھر والوں کی طرف۔ تمہارا تو یہ خیال تھا کہ مومنین اور پیغمبر جو ہیں وہ واپس اپنے گھر والوں کے پاس آئیں گے ہی نہیں مشرکین ان کو وہیں ختم کر دیں گے۔ ابدا ہمیشہ کے لیے یعنی کبھی بھی پیغمبر اور مومنین واپس لوٹ کر نہیں آئیں گے تمہارا یہ خیال تھا۔ وزين ذلک فی قلوبکم اور مزین کر دیا گیا یہ تمہارے دلوں میں۔ وزنتم ظن السو اور گمان کیے تم نے برے برے وكنتم قوما بورا۔ بورا جمع ہے بائر کی۔ بورو جمع ہے کس کی؟ بائر کی۔ بائر۔ اور بائر کا معنی ہلاک ہونے والا۔ بار يبور بورا کا معنی ہوتا ہے ہلاک ہونا اسی سے اسم فاعل ہے بائر ہلاک ہونے والا اسی بائر کی جمع ہے بورو۔ وكنتم قوما بورا۔ اور تم ہلاک ہونے والی قوم ہو۔ تم ہلاک ہونے والے ہو۔ بلکہ ظننم ان لن ينقلب الرسول والمؤمنون إلی أهليہم ابدا و زين ذلک فی قلوبکم و ظنتم ظن السو وكنتم قوما بورا۔ بلکہ تم نے یہ گمان کیا کہ ہرگز نہیں لوٹے گا رپ پیغمبر اور مومنین اپنے گھر والوں کی طرف کبھی بھی و زين اور مزین کر دیا گیا یہ تمہارے دلوں میں اور تم نے برے برے گمان کیے وكنتم قوما بورا اور تم ہلاک ہونے والے لوگ ہو۔ تم ہلاک ہونے والے ہو۔ ومن لم يؤمن باللہ ورسولہ فإن اعتدنا للكافرين سعير۔ اور جو ایمان نہیں لاتا اللہ پر اور اس کے پیغمبر پر پس بے شک ہم نے تیار کر رکھا ہے کفر کرنے والوں کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ۔ بے شک ہم نے تیار کر رکھی ہے کفر کرنے والوں کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ۔ يا یہ ترجمہ کر لیں فإن اعتدنا للكافرين سعير بے شک ہم نے تیار کر رکھی ہے انکار کرنے والوں کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ۔ وللہ ملك السموات والارض اور اللہ ہی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں کی اور زمین کی يغفر لمن يشاء ويعذب من يشاء۔ وہ بخش دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور عذاب دیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔ یا وہ بخش دے گا جس کو چاہے گا اور عذاب دے گا جس کو چاہے گا وکان اللہ غفورا رحيما اور اللہ بخشنے والے ہیں رحم کرنے والے ہیں۔ سيقول المخلفون عن قريب کہیں گے پیچھے رہ جانے والے اذا انطلقتم إلی مغانما جب تم چلو گے غنیمتوں کی طرف۔ غنیمت وہ مال جو کفار سے چھینا جائے بھئی۔ اس کو کیا کہتے ہیں غنیمت لڑائی میں جو مال ہاتھ آئے بھئی۔ تو دیکھیے اب یہ فتح خیبر کا ذکر آ رہا ہے۔ سيقول المخلفون اذا انطلقتم إلی مغانم عن قريب کہیں گے پیچھے رہ جانے والے جب تم چلو گے غنیمتوں کی طرف۔ جب تم چلو گے غنیمتوں کی طرف لتاخدوها تاکہ تم ان کو لے لو تاکہ تم ان کو حاصل کر لو۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی عن قريب پیچھے رہ جانے والے آپ سے کہیں گے جب آپ لوگ غنیمتیں حاصل کرنے کے لیے چلیں گے۔ کیا کہیں گے؟ زرونا کہ تم ہمیں چھوڑو نتبعکم ہم تمہاری پیروی کریں۔ تم ہمیں چھوڑو کہ ہم کیا کریں؟ تمہاری پیروی کریں۔ یا با محاورہ یوں ترجمہ کریں زرونا نتبعکم کہ آپ ہمیں اجازت دیجیے ہم بھی آپ کی پیروی کریں۔ ہمیں کیا زرونا آپ ہمیں اجازت دیجیے نتبعکم ہم آپ کی پیروی کریں۔ يريدون۔ کہ ان يبدلوا كلام الله وہ چاہتے ہیں کہ بدل ڈالیں اللہ کے کلام کو, اللہ کی بات کو۔ وہ کیا چاہتے ہیں کہ اللہ کی بات کو بدل ڈالیں۔ قل لن تتبعونا کذلك قال اللہ من قبل قل لن تتبعونا آپ کہہ دیجیے کہ تم ہرگز ہماری پیروی نہیں کر سکتے۔ تم ہماری ہرگز پیروی نہیں، ہمارے پیچھے نہیں آ سکتے۔ كذلك اسی طرح قال اللہ من قبل اللہ نے فرمایا پہلے سے ہی۔ اس موقع پر ان کو کہہ دینا کہ تم ہمارے پیروی ہرگز نہیں کرو گے، كذلك قال اللہ من قبل اسی طرح اللہ نے فرمایا تھا اس سے پہلے جو اللہ اب بتلا رہے ہیں بھئی۔ فسیقولون پس عنقریب وہ کہیں گے بل تحسدوننا بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو۔ بلکہ تم ہم سے کیا کرتے ہو؟ حسد کرتے ہو۔ تم ہم سے جلتے ہو کہ ہمیں مال نہ ہاتھ آ جائے کہیں ہمارے۔ بل كانوا لا یفقہون الا قلیلا اللہ فرماتے ہیں بل كانوا بلکہ یہ لوگ جو ہیں لا یفقہون یہ سمجھتے نہیں ہیں الا قلیلا مگر تھوڑا سا ہی۔ ان کو بڑی تھوڑی سمجھ ہے ان لوگوں کو۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ اسی طرح اللہ نے اس سے پہلے فرمایا کہ اللہ نے ہمیں پہلے ہی بتلا دیا تھا کہ ان لوگوں کو ساتھ نہیں لے کر جانا۔ صرف کون کون جائیں گے اس موقع پر؟ جو صلح حدیبیہ میں شریک تھے۔ بھئی دیکھیے یہاں پر آیا۔ یریدون ان يبدلوا كلام الله وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کی بات کو بدل ڈالیں۔ کون سی بات؟ کون سی بات کو بدل ڈالیں؟ کہ صرف وہی لوگ جائیں گے جن کو جو صلح حدیبیہ میں شریک تھے۔ اور یہ بات قرآن میں تو کہیں بھی نہیں ذکر۔ قرآن میں تو کہیں بھی یہ ذکر نہیں۔ اور روایات میں موجود ہے۔ تو یہاں آیا کہ وہ بدل ڈالیں اللہ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے کلام کو، اللہ کی بات کو بدل ڈالیں اور اللہ کی وہ بات تو قرآن میں نہیں ثابت ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کے علاوہ بھی وحی نازل ہوتی تھی بھئی۔ جو اللہ نے بات فرمائی وہ قرآن میں تو نہیں، معلوم ہوا قرآن کے علاوہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی۔ یہ جواب ہے منکرین حدیث کو جو حدیث کا انکار کرتے ہیں بھئی۔ یہ یہ ایک نیا فتنہ ہے جو زیادہ پرانا نہیں اور یہ حدیث کا انکار کرتے ہیں، یہ کہتے ہیں قرآن سے وحی صرف قرآن ہے اور یہ کافی ہے۔ تو دیکھیے یہ دلیل ہے بھئی، اس کو بھی دلیل کے طور پر یاد رکھیے گا بھئی۔ قل للمخلفین من الاعراب اے پیغمبر! آپ کہہ دیجیے پیچھے رہ جانے والے دیہاتیوں سے ستدعون الی قوم اولی باس شدید کہ عنقریب تم بلائے جاؤ گے الی قوم اولی باس ایک ایسی قوم کی طرف اولی باس شدید جو سخت جنگ والی ہوگی۔ اولی باس شدید جو سخت جنگ والی ہوگی۔ بھئی اولو جمع ہے ذو کی ذو مال کا کیا معنی ہوتا ہے؟ مال والا تو ذو مفرد کے لیے آتا ہے اسی کی جمع اولو ہے من غیر لفظہ بھئی۔ اسی کی جمع اولو ہے لیکن لفظ اور ہیں بھئی اس میں ذال اور واؤ تھا ادھر اولو اولو ہے اور باس جنگ کو کہتے ہیں بھئی۔ اولی باس کیا معنی ہوگا اولی باس کا؟ جنگ والے۔ اولی باس شدید سخت جنگ والے۔ کہ اے پیغمبر! آپ کہہ دیجیے پیچھے رہ جانے والے دیہاتیوں سے ان کو آپ کہہ دیجیے ستدعون الی قوم اولی باس شدید کہ عنقریب تم بلائے جاؤ گے ایک ایسی قوم کی طرف جو سخت جنگ کرنے والی ہوگی توقاتلونہم او یسلمون تم ان سے قتال کرتے رہو گے، تم ان سے لڑائی کرتے رہو گے او یسلمون یا وہ مسلمان ہو جائیں گے، وہ فرمانبردار ہو جائیں گے۔ فإن تطیعوا پس اگر تم اطاعت کرو گے بات کو مانو گے يؤتکم اللہ اجراً حسنا تو اللہ تمہیں اچھا اجر دیں گے۔ وإن تتولوا اور اگر تم اعراض کرو گے، اگر تم اپنے رخ پھیر لو گے کما تولیتم من قبل جیسے کہ تم نے اس سے پہلے رخ پھیرے کہاں پر پہلے رخ پھیرے؟ صلح حدیبیہ میں۔ تو اگر تم رخ پھیر لو گے جیسے تم نے پہلے رخ پھیرے يعذبکم عذاباً علیما تو اللہ تم کو دردناک عذاب دیں گے۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ اللہ فرما رہے ہیں یہ جو پیچھے رہ جانے والے دیہاتی تھے ان سے کہہ دیجیے کہ عنقریب تم پکارے جاؤ گے، تم بلائے جاؤ گے ایک ایسی قوم کی طرف جو سخت جنگ کرنے والی ہوگی۔ سخت جنگ والی ہوگی۔ یہ کون سی قوم تھی؟ مختلف اقوال ہیں مفسرین حضرات رحمہم اللہ کے۔ بعض فرماتے ہیں اس سے بنو حنیفہ مراد ہیں۔ کون مراد ہیں؟ بنو حنیفہ جو مسیلمہ کذاب کی قوم تھی۔ یہ بڑے سخت جنگ جو تھے بھئی۔ مسیلمہ کذاب جس نے حضور علیہ السلام کے زمانے میں نبوت کا جھوٹا دعوی کیا تھا بھئی، جھوٹا دعوی کیا تھا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جھوٹا دعوی کیا تھا۔ اور یہ اس کو حضور علیہ السلام کی باتیں پہنچتیں تو یہ بھی اسی طرح کرنے کی کوشش کرتا تھا بھئی۔ اور کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک عورت اس کے پاس اپنا بچہ لے کر آئی کہ آپ ہمارے پیغمبر ہیں۔ مسیلمہ کذاب کے پاس کہ آپ ہمارے پیغمبر ہیں یہ بچے جو تھا اس کے سر پر کوئی تکلیف تھی یا کچھ تو آپ اس کو جو ہے آپ اس پر ہاتھ پھیر دیں تاکہ اللہ اس کو شفا دے دیں۔ سر پر کوئی تکلیف تھی یا بالوں میں کوئی مسئلہ تھا یا کچھ کہتے ہیں اس نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ اس کے اوپر حضور علیہ السلام کی خبر ملتی تھی کہ اس طرح ان کے پاس لوگ بیمار وغیرہ لاتے ہیں حضور علیہ السلام کے لیے دعا فرماتے ہیں یا کسی کو ہاتھ لگا دیتے ہیں تو اللہ ان کی تکلیف دور فرما دیتے ہیں۔ تو اس نے بھی اس بچے کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ کہتے ہیں وہ بچے کے بال ہی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئے بھئی۔ ایک کنواں تھا کنویں کے اندر پانی بڑا تھوڑا تھا۔ حضور علیہ السلام کے واقعات میں آپ پڑھیں گے کہ بعض اوقات پانی یا کوئی چیز کم ہوئی، حضور علیہ السلام اس میں لعاب ڈال دیا، حضور علیہ السلام نے اور اس پانی کو اللہ نے بڑھا دیا بہت زیادہ بھئی۔ بڑھا دیا۔ تو چنانچہ مسیلمہ کذاب کو بھی کہا ایک کنواں تھا اس میں پانی تھوڑا تھا۔ تو اس کو بھی یہ خبر ملی ہوگی، وہ بھی اس کنویں کے پاس اس کو بلایا قوم والوں نے یہ گیا اس نے اس میں اپنا لعاب ڈالا۔ کہتے ہیں وہ کنواں ہی خشک ہو گیا بھئی۔ جو تھوڑا پانی تھا وہ بھی ختم ہوا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو بس جو حالات تھے کتنی واضح اللہ نشانیاں بھی دکھا رہے تھے لیکن بس تعصب تھا کہ ہمارا آدمی ہے؟ جی تو وہ بنو حنیفہ جو قوم تھی مسیلمہ کذاب کی وہ مراد ہے بھئی جن سے مسلمانوں کی جنگ ہوئی بڑی سخت۔ بعضوں نے کہا کہ قبیلہ ہوازین اور ثقیف والے لوگ مراد ہیں جن سے غزوہ حنین میں مسلمانوں کی جنگ ہوئی بھئی۔ جن کے ساتھ غزوہ حنین پیش آیا۔ بعضوں نے کہا کہ وہ مرتدین مراد ہیں جنہوں نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت میں زکوۃ دینے سے انکار کر دیا تھا اور صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے ان سے جہاد کیا، لڑائی کی۔ اور بعضوں نے کہا کہ اس سے مراد روم والے ہیں، ان سے جو لڑائی ہوئی حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں۔ اور بعضوں نے کہا اس سے مراد فارس والے ہیں جن سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں جنگیں ہوئیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو بس یوں سمجھیں آگے والی یہ یہ کوئی خاص تعیین نہیں ہے بس آگے جو سخت جنگیں آنے والی تھیں جن قوموں کے ساتھ ان کی طرف اشارہ کر دیا قرآن نے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو پھر کہتے ہیں یہ جو دیہات والے تھے اور ان میں سے پھر بعض کو اللہ نے توبہ کی توفیق نصیب فرما دی بھئی۔ قل للمخلفین من الاعراب ستدعون الی قوم اولی باس شدید آپ اے پیغمبر! آپ کہہ دیجیے پیچھے رہ جانے والے دیہاتیوں سے کہ تم تم عنقریب پکارے جاؤ گے، بلائے جاؤ گے ایک ایسی قوم کی طرف جو سخت جنگ والی ہوگی توقاتلونہم تم ان سے جہاد کرتے رہو گے او یسلمون یا وہ مسلمان ہو جائیں گے فإن تطیعوا يؤتکم اللہ اجراً حسنا پس اگر تم اطاعت کرو گے تو اللہ تم کو اچھا اجر دے گا وإن تتولوا اور اگر تم روگردانی کرو گے کما تولیتم من قبل جیسے کہ تم نے روگردانی کی تھی اس سے پہلے يعذبکم عذاباً علیما تو اللہ تمہیں دردناک عذاب دیں گے۔ ليس على الأعمى حرج ولا على الأعرج حرج ولا على المرضى حرج اب قرآن میں یہ ذکر آ رہا ہے کہ یہ جو معذور لوگ ہیں یہ اگر جہاد پر نہ جائیں نہ جائیں تو ان پر کوئی حرج نہیں، ان پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ ليس على الأعمى حرج نہیں ہے اندھے پر کوئی گناہ ولا على الأعرج حرج اور نہیں ہے لنگڑے پر کوئی گناہ ولا على المرضى حرج اور نہ بیمار پر کوئی گناہ ہے من يطع اللہ ورسوله جو کوئی اطاعت کرے گا اللہ کی اور اس کے رسول کی يدخلہ جنات تو داخل کرے فرمائیں گے اللہ اس اس کو ایسے باغات میں تجري من تحتها الأنهار کہ بہتی ہوں گی اس کے نیچے سے نہریں ومن يتولا اور جو کوئی روگردانی کرے گا، جو کوئی رخ پھیرے گا يعذبه عذاباً علیما اللہ اس کو دردناک عذاب دیں گے۔ ليس على الأعمى حرج ولا على الأعرج حرج ولا على المرضى حرج نہ تو اندھے پر کوئی گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی گناہ ہے اور نہ مریض پر کوئی گناہ ہے اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کا کہنا مانے گا تو اللہ اس کو ایسے باغات میں داخل فرمائیں گے جس کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی اور جو کوئی اس کے جو کوئی روگردانی کرے گا اللہ اس کو دردناک عذاب دیں گے۔ چلیے بس بھئی۔ هذا هو المرام و اللہ اعلم بحقيقة الكلام
131 approved lectures · 99 of 131