Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-109

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 12 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 3
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
أعوذ بالله من الشیطان الرجیم. بسم الله الرحمن الرحیم. الرحمن علّم القرآن. خلق الإنسان علّمه البیان. الشمس والقمر بحسبان. والنجم والشجر يسجدان. آج ہم سورہ الرحمن شروع کریں گے۔ سورہ الرحمن قرآن کی واحد سورت ہے جس میں انسان کے ساتھ ساتھ جنات کو بھی براہ راست خطاب کیا گیا ہے بھئی۔ الرحمن علّم القرآن۔ رحمان نے تعلیم دی قرآن کی۔ یا الرحمن علّم القرآن رحمان نے سکھایا قرآن۔ خلق الإنسان پیدا کیا انسان کو، اس نے پیدا کیا انسان کو علّمه البیان اور اس کو علّمه البیان اس اس نے سکھایا انسان کو بیان کرنا۔ بیان کرنا یعنی بات کرنا۔ علّمه البیان اس نے سکھایا انسان کو البیانہ، بات کرنا۔ یہ بات کرنا اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے بھئی۔ انسان جو ہے جو دل کی بات ہوتی ہے، جو دل کی کیفیت ہوتی ہے، وہ دوسروں کو بتلا سکتا ہے، سمجھا سکتا ہے بھئی۔ الرحمن علّم القرآن، رحمان نے قرآن سکھایا۔ سورہ نجم میں آیا تھا علّمه شدید القویٰ کہ سخت قوت والے نے سکھایا ہے قرآن۔ اور یہاں پر وضاحت کر دی اللہ تعالی نے، وضاحت فرما دی کہ جبرئیل صرف واسطہ ہیں، اصل میں سکھانے والے کون ہیں؟ ہم سکھانے والے ہیں، جبرئیل صرف درمیان میں ایک واسطہ ہیں۔ تو الرحمن علّم القرآن، رحمان نے قرآن سکھایا۔ خلق الإنسان، انسان کو پیدا کیا اس نے۔ دیکھیے، تعلیم قرآن کو خلق انسان پر مقدم ذکر کیا گیا بھئی۔ تعلیم قرآن کو خلق انسان پر مقدم ذکر کیا گیا۔ اس میں اشارہ کر دیا گیا اس بات کی طرف کہ انسان کی پیدائش اور تخلیق سے جو مقصد ہے، وہ تعلیم قرآن ہے، کہ وہ قرآن سیکھے، اللہ کے بتلائے ہوئے راستے پر چلے۔ اور مقصد چیز پر مقدم ہوتا ہے۔ آپ بھی کوئی کام کرنے لگتے ہیں، پہلے کوئی مقصد ہوتا ہے آپ کے دل میں، مقصد پہلے ہوتا ہے کام بعد میں کرتے ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ کوئی بھی آپ کرنے لگیں، اس کی کوئی غرض ہوگی، کوئی مقصد ہوگا آپ کے دل میں اور پھر آپ وہ کام کریں گے۔ تو یہاں بتلا دیا، اشارہ کر دیا گیا کہ انسان کی پیدائش سے مقصد کیا ہے؟ تعلیم قرآن، اسے قرآن کا سکھانا کہ وہ اللہ کے بتلائے ہوئے راستے پر چلے، اللہ کی عبادت کرے۔ علّمه البیان، اس نے سکھایا انسان کو بات کرنا۔ الشمس والقمر بحسبان، سورج اور چاند ایک حساب سے ہیں۔ سورج اور چاند ایک حساب سے ہیں، یعنی ایک حساب سے چل رہے ہیں۔ تو یہاں یا تو مضاف مبتدا میں محذوف مان لیں۔ کس طرح ہے؟ ای جری الشمس والقمر بحسبان سورج اور چاند کا چلنا ایک حساب سے ہے۔ یا خبر کی طرف نکال لیں۔ خبر فعل بھئی۔ الشمس والقمر يجریان بحسبان وہ چل رہے ہیں ایک حساب سے۔ سورج اور چاند ایک حساب سے چل رہے ہیں۔ والنجم والشجر يسجدان، اور بیلیں اور درخت يسجدان سجدہ کر رہے ہیں۔ نجم بھئی، ایک تو نجم ستارے کو کہتے ہیں۔ بعضوں نے اس کا معنی ستارے ہی کی کیے کہ ستارے اور درخت سجدہ کر رہے ہیں۔ ستارے اور درخت سجدہ کر رہے ہیں۔ اور زیادہ مفسرین اسی بات کی طرف گئے کہ نجم، یاد رکھیے یہ بیل کو بھی کہتے ہیں۔ ایک درخت اور پودا وہ ہے جس کا تنا ہوتا ہے۔ زمین سے اوپر وہ کھڑا ہوگا اور ایک پودا وہ ہے جو زمین پر پھیلا ہوتا ہے، اس کا تنا نہیں ہوتا جسے بیل کہتے ہیں۔ تو اس کو عربی میں نجم کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ نجم۔ تو کہتے ہیں والنجم والشجر اور بیلیں اور درخت يسجدان سجدہ کر رہے ہیں۔ تو اللہ فرما رہے ہیں الشمس والقمر بحسبان سورج اور چاند ایک حساب سے چل رہے ہیں اور بیلیں اور درخت سجدہ کر رہے ہیں۔ یعنی جس طرح آسمانی چیزیں، وہ اللہ کے حکم کے تابع ہیں اور جس طرح اللہ نے مقرر کیا، اس راستے پر چل رہے ہیں، وہی کام کر رہے ہیں۔ جیسے سورج اور چاند ہیں آسمانی چیزیں، اور یہ ان کا طلوع و غروب ہونا اپنے وقت پر، سورج کا ایک ہی طرح رہتا ہے ہمیشہ، جبکہ چاند گھٹتا بڑھتا ہے وغیرہ، ان کے ذریعے جو جو کام اللہ نے ذمے میں لگائے ہیں، وہ یہ کام سرانجام دے رہے ہیں۔ اسی طرح جو زمین کی چیزیں ہیں یعنی بیلیں، درخت وغیرہ، یہ بھی کیا کر رہے ہیں؟ اللہ کی فرمانبرداری میں لگے ہوئے ہیں، جو اللہ نے حکم دیا ہے، اسی کو سرانجام دے رہے ہیں بھئی۔ السماء رفعها ووضع الميزان، اور آسمان کو بلند کیا اس نے اور رکھی اس نے ترازو۔ اس نے آسمان کو بلند کیا اور اس نے ترازو رکھی۔ السماء رفعها والسماء یہ منصوب ہے۔ یہ ما اءمر عامله علی شریعة التفسیر کے قبیل سے ہے۔ اس کے بعد ایک فعل آ رہا ہے رفع جو اسی کی ضمیر یعنی ہا ضمیر کس کو راجع ہے سما کو، اسی کی ضمیر میں مشغول ہے، وہ سما کو نصب نہیں دے سکتا تو سما سے پہلے ایک اور رفع محذوف ہے اور یہ جو رفعہا والا رفع ہے یہ اس فعل محذوف کی کیا کر رہا ہے؟ تفسیر کر رہا ہے۔ السماء رفعها اور آسمان کو اس نے بلند کیا ووضع الميزان اور ترازو رکھی۔ بعضوں نے کہا ترازو سے یہی ظاہری ترازو ہے، اس کو اللہ نے نازل کیا۔ اور بعض کہتے ہیں ترازو سے مراد عدل و انصاف ہے۔ اللہ نے عدل و انصاف کو نازل کیا کہ تاکہ اس دنیا کا نظام صحیح طور پر چل سکے، ہر معاملے میں عدل و انصاف بھئی۔ ألا تطغوا فی الميزان، یہ کہ زیادتی نہ کرو۔ ألا تطغوا یہ کہ زیادتی نہ کرو فی الميزان ترازو میں یعنی تولنے میں۔ وأقيموا الوزن بالقسط، اور قائم کرو وزن کو بالقسط انصاف کے ساتھ۔ یعنی انصاف کے ساتھ وزن کیا کرو۔ وأقيموا الوزن بالقسط اور انصاف کے ساتھ وزن کیا کرو۔ ولا تخسر الميزان، اور کم نہ کیا کرو ترازو کو یعنی تولنے میں کمی نہ کرو، ترازو میں کمی نہ کرو یعنی تولنے میں کمی نہ کرو۔ یعنی جتنا تول ہو پورا پورا تولو، اس میں کمی بیشی نہ کرو۔ والارض وضعها للأنام، اور زمین جو ہے اس کو رکھا للأنام مخلوق کے لیے۔ والارض وضعها للأنام اور زمین کو اس نے رکھا مخلوق کے لیے۔ انام مخلوق بھئی۔ فيها فاكهة والنخل ذات الأكمام، اس زمین میں فاكهة پھل ہیں والنخل اور کھجور کے درخت ہیں ذات الأكمام۔ أکام، جو پھل کا غلاف ہوتا ہے۔ أکام بھئی، کمن کی جمع ہے، پھل کا غلاف بھئی، یہ لفظ پہلے بھی گزر چکا ہے۔ ذات الأكمام، غلافوں والی یعنی جن کے پھلوں پر کیا ہوتا ہے؟ غلاف ہوتا ہے۔ فيها فاكهة والنخل ذات الأكمام، اس زمین میں میوے ہیں اور کھجور کے درخت ہیں ذات الأکام، جو جن کے پھلوں پر غلاف ہے، پھلوں کے غلاف والی کھجوریں اس میں ہیں، کھجور کے درخت ہیں۔ یوں ترجمہ کیجیے فيها فاكهة والنخل ذات الأكمام، اور اس زمین میں پھل ہیں اور ایسے کھجور کے درخت ہیں جن کے پھل غلافوں والے ہیں، یا جو غلافوں والے پھلوں والی ہیں۔ وہ درخت کیا ہیں کھجور کے؟ پھلوں کے غلاف والے ہیں۔ کھجور کے درخت پھلوں کے غلاف والے ہیں۔ والحب، اور دانے ہیں ذوالعصف، عصف بھس بھئی، بھس۔ یہ فصل کٹ جاتی ہے تو دانے الگ کر دیے جاتے ہیں اور باقی جو بچ گیا وہ بھس، اسے عصفن کہتے ہیں۔ والحب ذوالعصف، اور بھس والے دانے۔ اس زمین میں پھل ہیں اور کھجوریں ہیں غلافوں والی والحب ذوالعصف اور بھس والے دانے ہیں۔ بھس والے دانے ہیں، یعنی اس کے دانے جس دیکھو انسانوں کے کام آتے ہیں، تو بھس کس کے کام آتا ہے؟ جانوروں کے کام آتا ہے۔ والريحان، اور ریحان اور خوشبودار پودے یا خوشبودار پھول۔ ریحان کہتے ہیں ہر خوشبودار پھول یا پودے کو بھئی۔ اور بعضوں نے کہا ریحان سے یہ خاص پودا مراد ہے جس کا نام ریحان ہے، جسے اردو میں آپ نیاز بو کہتے ہیں بھئی۔ نیاز بو کا پودا۔ جس کے پتے خوشبودار ہوتے ہیں بھئی۔ دیکھا ہوا ہے نا دیکھا آپ لوگوں نے بھئی۔ خوشبودار پتوں والا ایک پودا ہے بڑی خوشبو ہوتی ہے اس کے پتوں کی لوگ لگاتے ہیں گھروں کے اندر بھئی۔ فيها فاكهة والنخل ذات الأكمام والحب ذوالعصف والريحان، اس زمین میں پھل ہیں اور کھجور کے درخت ہیں غلافوں والے اور دانے ہیں بھس والے اور ریحان اور خوشبودار پودے ہیں۔ فبأي آلاء ربكما تكذبان، پس کون کون سی نعمتیں اپنے پروردگار کی توکل ذبان تم دونوں جھٹلاؤ گے۔ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتیں جھٹلاؤ گے۔ تم دونوں مراد ہیں جن و انس بھئی، جن اور انس۔ فبای آل جی تو یہاں انسان کا تو ذکر پیچھے آیا تھا آپ کہیں گے جن کا تو پیچھے ذکر نہیں آیا تو کیسے وہ آ گئے؟ بھئی، پیچھے ذکر آیا تھا للأنام بھئی، انام مخلوق اور مخلوق کے اندر جنات بھی شامل بھئی وہ بھی داخل۔ تو ان کا بھی ذکر پیچھے ہو چکا۔ فبأي آلاء ربكما تكذبان، آلاء نعمتیں بھئی۔ آلاء جمع ہے الن کی، ہمزہ لام یا۔ الن کس طرح لکھتے ہیں؟ ہمزہ لام اور یا۔ لام پر تنوین لکھ دیں بھئی الن یہ نعمت کو کہتے ہیں۔ اس کی جمع آلاء ہے آلاء۔ فبأي آلاء ربكما تكذبان، تو تكذبان دیکھو تثنیہ کا صیغہ ہے۔ تم دونوں جھٹلاؤ گے۔ فبأي آلاء ربكما تكذبان، پس تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتیں جھٹلاؤ گے۔ خلق الإنسان من صلصال كالفخار، اس نے پیدا کیا انسان کو من صلصال، بجتی مٹی سے، بجنے والی مٹی سے، كالفخار، جیسے کہ ٹھیکری۔ جیسے کہ ٹھیکری۔ صلصال کہتے ہیں بجنے والی مٹی۔ کیا معنی بجنے والی؟ بھئی مٹی جب وہ خشک ہو جائے۔ مٹی سے پانی ملا کر کوئی چیز بنا لی جائے اور پھر وہ خشک ہو جائے، خوب خشک ہو جائے، سخت ہو جائے، تو اس کو اگر کسی چیز سے ماریں تو اس میں سے آواز آتی ہے، سخت ہو جاتی ہے۔ تو یہ مراد ہے۔ صلصال بھئی۔ تو یہ اس کو صلصال کہتے ہیں بجنے والی مٹی، جسے کسی چیز سے مارا جائے تو آواز آتی ہے، جیسے سخت چیز ہو۔ اور فخار کہتے ہیں ٹھیکری کو بھئی، یہ جو مٹکے وغیرہ بنائے جاتے ہیں، پھر ان کو کیا کیا جاتا ہے؟ آگ میں پکایا جاتا ہے، تو وہ مٹی سخت ہو جاتی ہے، ٹھیکری بن جاتی ہے، تو وہ فخار ہے بھئی ٹھیکری۔ خلق الإنسان من صلصال كالفخار، اس نے پیدا کیا انسان کو ٹھیکری جیسی بجنے والی مٹی سے۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ اس نے پیدا کیا انسان کو ٹھیکری جیسی بجنے والی مٹی سے۔ تو جیسے وہ ٹھیکری جو ہے اس کی آواز ہوتی ہے، کسی چیز سے مارا جائے اس کی آواز آتی ہے، اسی طرح یہ مٹی۔ وخلق الجان من مارج من نار اور پیدا کیا جنوں کو اس نے من مارج من نار۔ مارج کہتے ہیں شعلے کو، شعلہ۔ آگ کا شعلہ بھئی۔ تو اس شعلے کو مارج کہتے ہیں۔ وخلق الجان من مارج من نار اور اس نے پیدا کیا جنوں کو آگ کے شعلے سے۔ فبأي آلاء ربکما تکذبان پس تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ رب المشرقین و رب المغربین وہ رب ہے دونوں مشرقوں کا اور رب ہے دونوں مغربوں کا۔ دونوں مشرقیں بھئی۔ گرمیوں میں سورج اور جگہ سے طلوع ہوتا ہے، سردیوں میں اور جگہ سے بھئی۔ میں نے بتلایا تھا کہ سورج کے طلوع کی جگہ ہر روز تھوڑی تھوڑی بدلتی ہے۔ تو سردیوں اور گرمیوں کے مشرق الگ الگ بھئی کافی فرق ہیں ان کے اندر اور اسی طرح مغرب بھی سردیوں اور گرمیوں کا الگ الگ، تو دو مشرق ہو گئے اور دو مغرب۔ رب المشرقین و رب المغربین وہ رب ہے دونوں مشرقوں کا اور دونوں مغربوں کا رب ہے۔ فبأي آلاء ربکما تکذبان پس تم اپنے پروردگار پس تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ مرج البحرین یلتقیان۔ مرج کے معنی ہوتے ہیں ملانے کے۔ مرج البحرین ملا دیا دو سمندروں کو یلتقیانی کہ ملے ہوئے ہیں دونوں۔ مرج البحرین دو سمندروں کو دو دریاؤں کو ملا دیا یلتقیانی کہ وہ ملے ہوئے ہیں۔ یا یلتقیانی کہ وہ مل رہے ہیں۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا بھئی۔ دو دریاؤں کو ملایا کہ وہ دونوں ملے ہوئے ہیں۔ یعنی بظاہر ملے ہوئے ہیں۔ صورتًا۔ بھئی دیکھیے اگر آپ نے کہیں مشاہدہ کیا ہو دو دریاؤں کے ملنے کا۔ دو دریاؤں کے ملنے کا۔ تو آپ دیکھیں گے کہ بہت دور تک ان کے پانی الگ الگ واضح نظر آتے ہیں۔ آپس میں مکس نہیں ہوتے، ملتے نہیں ہیں۔ اگرچہ اکٹھے ہو گئے لیکن واضح طور پر چلتا ہوا پانی بتلا رہا ہوتا ہے اپنے رنگ سے ایک کا رنگ اور ہوگا، دوسرے کا رنگ اور، اور میلوں تک وہ اسی طرح چلتے چلے جاتے ہیں۔ ملتے نہیں ہیں آپس میں، مکس نہیں ہوتے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی۔ کبھی دیکھا ایسا یا نہیں دیکھا بھئی؟ جی؟ ہاں یہ اگر اٹک کی طرف آپ گئے ہوں وہاں پر بھی اسی طرح ہے، دو پانی آکر ملتے ہیں اور بڑی دور تک وہ اسی طرح چلے جاتے ہیں الگ الگ دونوں کا رنگ ہی الگ الگ۔ تو اللہ فرما رہے ہیں کہ وہ اللہ کی ذات ہے جس نے دو دریاؤں کو یا دو سمندروں کو ملایا یلتقیانی جو مل رہے ہیں، جو ملے ہوئے ہیں، یعنی بظاہر تو دیکھو بالکل ملے ہوئے ہیں لیکن وہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ملتے نہیں، الگ الگ واضح نظر آتے ہیں۔ اسی طرح جہاں دریا سمندر میں جا کر گرتا ہے بھئی، سمندر میں جا کر گرتا ہے، وہاں پر بھی ایک بہت بڑا حصہ ہوتا ہے جس میں دریا کا پانی ہوگا، سمندر اور دریا کے درمیان یوں لگتا ہے ایک آڑ ہے، ایک پردہ ہے، دونوں پانی مل نہیں رہے۔ ایک حصہ میٹھے پانی کا ہے تو ایک حصہ کس کا ہے؟ نمکین سمندری پانی کا بھئی۔ اسی طرح دنیا میں بعض جگہیں ایسی ہیں جہاں پر اب سائنس نے اب ترقی کی تو اور زیادہ ان چیزوں کا پتہ لگا۔ جہاں دو سمندر ملتے ہیں بھئی، دو سمندر۔ دونوں نمکین ہیں حالانکہ، لیکن وہاں پر بھی ان کے درمیان یوں لگتا ہے ایک آڑ اور پردہ ہے۔ دونوں کے پانی آپس میں مکس نہیں ہوتے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ حتی کہ ایک طرف کی مچھلیاں بھی دوسری طرف کو نہیں جاتیں۔ اگر کوئی جائے بھی فورا واپس آ جاتی ہے، تھوڑا سا معمولی سا کوئی چلی بھی جائے فورا واپس آ جاتی ہے، اس طرف والی مچھلیاں ادھر کو ہی رہتی ہیں اور ادھر والی ادھر کو، تو یہ اللہ کی قدرتیں ہیں بھئی۔ حالانکہ پانی ہے، دونوں طرف ایک جیسی چیز ہے، مل جانا چاہیے لیکن ملتے نہیں ہیں بھئی۔ تو اسی کو اللہ بیان فرما رہے ہیں، تو یہ دنیا میں جگہ جگہ اب تو بہت جگہ پر اس کا مشاہدہ ہو چکا ہے بھئی۔ مرج البحرین یلتقیانی ملا اس نے ملا دیے دو دریا یلتقیانی کہ وہ مل رہے ہیں۔ بینہما برزخ لا یبغیان۔ ان دونوں کے درمیان ایک آڑ ہے۔ برزخ کہتے ہیں آڑ کو، پردے کو۔ ان دونوں کے درمیان ایک آڑ ہے ایک پردہ ہے، لا یبغیان کہ اس سے وہ تجاوز نہیں کرتے۔ دونوں اس سے تجاوز نہیں کرتے۔ ہر ایک اپنی اپنی حد میں رہتا ہے، یہ اللہ کی قدرت ہے۔ مرج البحرین یلتقیانی بینہما برزخ لا یبغیان ملا دیے اس نے دو دریا کے جو کہ بظاہر مل رہے ہیں، ان کے درمیان ایک آڑ ہے کہ اس سے وہ تجاو دونوں تجاوز نہیں کرتے۔ فبأي آلاء ربکما تکذبان پس تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ یخرج منہما اللؤلؤ والمرجان نکلتے ہیں ان دونوں سے موتی۔ والمرجان۔ اور مونگے۔ نکلتے ہیں ان دونوں سے موتی اور مونگے۔ مونگے جانتے ہو کہ نہیں بھئی؟ جی؟ بھئی وہ پتھر سے سفید وہ سیپی سی ہوتی ہے ایک، جی؟ جی؟ ہاں تو وہ سیپیاں جو ہیں وہ بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ بعضوں نے یہ معنی کیا بھئی، مونگے۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ وہ چھوٹے چھوٹے بھئی ہوتے ہیں اور ان سے ہار وغیرہ بھی بناتے ہیں بھئی بچے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وہ اور وہ ہیں مرجان، یہ بعضوں نے کہا۔ زیادہ مفسرین اس بات کی طرف گئے کہ لؤلؤ اور مرجان یہ دونوں موتی ہیں بھئی۔ لؤلؤ چھوٹے موتی اور مرجان بڑے موتی بھئی۔ لؤلؤ چھوٹے موتی اور مرجان بڑے موتی۔ بعضوں نے برعکس کیا۔ لؤلؤ بڑے بڑے موتی اور مرجان چھوٹے موتی۔ یخرج منہما اللؤلؤ والمرجان نکلتے ہیں ان دونوں سے بڑے چھوٹے موتی اور بڑے موتی، یا یہ ترجمہ کر لیں یا یہ والا، یخرج منہما اللؤلؤ والمرجان نکلتے ہیں ان دونوں سے موتی اور مونگے، فبأي آلاء ربکما تکذبان پس تم دونوں، کون دونوں بھئی؟ جن اور انس۔ پس تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ ولہ الجوار المنشآت فی البحر كالأعلام جواری کشتیوں بھئی جہاز بحری جہاز جو ہیں۔ المنشآت بلند بھئی۔ منشآت بلند۔ اعلام جمع ہے علم کی، پہاڑ بھئی پہاڑ۔ ولہ الجوار المنشآت فی البحر كالأعلام اور اسی کے لیے ہیں کشتیاں، یا یوں کہیں اسی کے لیے ہیں جہاز المنشآت فی البحر جو سمندر میں اونچے ہیں بھئی، اونچے کھڑے ہیں، كالأعلام جیسے کہ پہاڑ ہوتے ہیں۔ ولہ الجوار المنشآت فی البحر كالأعلام اور اسی کے لیے سمندر میں اونچی کشتیاں ہیں جیسے کہ پہاڑ، فبأي آلاء ربکما تکذبان پس تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ كل من عليها فان کل ہر۔ کل من ہر ایک علَیھا جو اس زمین پر ہے۔ ہا ضمیر کس کو راجع ہے؟ ارض کو۔ كل من عليها ہر ایک جو اس زمین پر ہے فان وہ فنا ہونے والا ہے۔ جو کوئی بھی اس زمین پر ہے فنا ہونے والا ہے، ختم ہونے والا ہے۔ چاہے وہ انسان ہوں، چاہے جنات ہوں، چاہے حیوانات ہوں، چاہے پرندے ہوں، سب کیا ہیں؟ فنا ہونے والے ہیں۔ کل من عليها فان جو کوئی اس زمین پر ہے وہ فنا ہونے والا ہے، ختم ہونے والا ہے۔ ويبقى وجه ربک ذو الجلال والإكرام اور باقی رہے گی وجہ ربک آپ کے رب کا چہرہ یعنی آپ کے رب کی ذات بھئی۔ وجہ بول کر کیا مراد ہے؟ ذات۔ ويبقى وجه ربک اور باقی رہے گی آپ کے پروردگار کی ذات ذو الجلال جو عظمت والا ہے۔ جلال کہتے ہیں عظمت اور بزرگی کو۔ جو عظمت والا ہے والاکرام اور اکرام کرنے والا ہے، عزت دینے والا ہے، احسان کرنے والا ہے، جو بھی آپ ترجمہ کر لیں۔ ذو الاکرام کا کیا معنی ہوا؟ اکرام کرنے والا، عزت دینے والا، احسان کرنے والا۔ ويبقى وجه ربک ذو الجلال والإكرام اور باقی رہے گی آپ کے پروردگار کی ذات جو عظمت والی ہے اور عزت دینے والی ہے۔ یا ذو الجلال والا کرام جو عظمت والی ہے اور احسان کرنے والی ہے۔ فبأي آلاء ربکما تکذبان پس تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ یسألہ من فی السماوات والأرض یسألہ اسی سے سوال کرتے ہیں، اسی سے مانگتے ہیں من فی السماوات والأرض جو کوئی آسمان میں اور زمین میں۔ زمین اور آسمان میں جو کوئی بھی ہے، سب اسی اللہ ہی سے مانگتے ہیں، اسی سے سوال کرتے ہیں۔ یسألہ من فی السماوات والأرض اسی سے مانگتے ہیں جو کوئی آسمانوں میں اور زمین میں ہیں، كل يوم هو في شأن ہر روز وہ ایک شان ہر روز وہ ایک شان میں ہوتا ہے۔ کل يوم هو في شأن ہر روز وہ ایک کام میں ہوتا ہے۔ ہر روز وہ ایک کام میں ہوتا ہے۔ یا یوں کریں ترجمہ، ہر روز اس کا کوئی کام ہوتا ہے۔ ہر روز اس کا کوئی ایک کوئی کوئی کام ہوتا ہے۔ یعنی ہر روز وہ اپنے کام میں ہوتا ہے۔ किस काम میں؟ بھئی کسی کو اللہ عزت دے رہے ہیں تو کسی کو ذلت دے رہے ہیں۔ ہر روز کسی کو موت دے رہے ہیں تو کسی کو زندگی دے رہے ہیں۔ کسی کو مالدار بنا رہے ہیں تو کسی کو مفلس بنا رہے ہیں۔ کسی کو تخت دے رہے ہیں تو کسی کو تختے پر پہنچا رہے ہیں۔ کسی کو ہدایت کی طرف لا رہے ہیں تو کسی کو گمراہی کی طرف جانے دے رہے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو ہر روز اللہ ایک کام میں ہوتا ہے۔ یہ لفظی ترجمہ۔ मुझे यह ترجمہ زیادہ پسند ہے بھئی، بات وہی مفہوم میں نے واضح کر دیا۔ مفہوم سمجھ میں آ گیا بھئی؟ كل يوم هو في شأن ہر روز اس کی ایک شان ہوتی ہے۔ ہر روز اللہ کی ایک شان ہوتی ہے، کسی کو موت دے رہے ہیں تو کسی کو زندگی دے رہے ہیں، کسی کو عزت دے رہے ہیں تو کسی کو ذلت دے رہے ہیں۔ کسی کو ہدایت دے رہے ہیں تو کسی کو گمراہی کی طرف جانے دے رہے ہیں۔ كل يوم هو في شأن ہر روز اس کی ایک شان ہوتی ہے، فبأي آلاء ربکما تکذبان پس تم اپنے تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ سنفرغ لكم أيها الثقلان۔ أيها الف کے ساتھ ہوتا ہے یہ قرآن کا رسم الخط ہے دیکھیے بغیر الف کے بھئی۔ سنفرغ عنقریب ہم فارغ ہوتے ہیں لكم تمہارے لیے۔ عنقریب ہم فارغ ہو جائیں گے تمہارے لیے أيها الثقلان اے دو بوجھ۔ ثقلان تثنیہ ہے بھئی، دو بوجھ، دو وزن، مراد جن اور انس ہیں بھئی، جن اور انس۔ دو بوجھ بھئی۔ تو ثقلان سے کون مراد ہیں؟ جن اور انس مراد ہیں۔ کیونکہ یہی دونوں مکلف ہیں۔ وزن تو جانوروں کا زیادہ ہے بھئی، لیکن مکلف یہی دونوں ہیں، تو یہ مراد ہیں، تو ان پر یہ بوجھ ڈالا گیا ہے اعمال کا بھئی۔ سنفرغ لكم أيها الثقلان عنقریب ہم فارغ ہو جائیں گے تمہارے لیے اے جن و انس کے دو گروہوں۔ اے جن و انس کے دو گروہوں، عنقریب ہم تمہارے لیے فارغ ہو جائیں گے۔ پر اشکال ہوتا ہے کیا؟ اللہ اس وقت فارغ نہیں؟ اور یہ تو عیب ہے جو اللہ کی ذات کے مناسب نہیں بھئی کہ فارغ نہ ہو ایک کام کو سر انجام نہ دے سکے انسان دوسرے کام میں مشغول ہو یہ تو کیا ہے عیب ہے اور اللہ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے ہر عیب سے۔ تو جواب یہ کہ معنی یہ ہے کہ ہم متوجہ ہوں گے۔ ہم کیا عنقریب ہم تمہارے حساب کتاب کی طرف متوجہ ہوں گے۔ حساب کتاب کا ہم نے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے اس سے پہلے ہم اس کو سر انجام نہیں دیں گے اور جب وقت آئے گا تو پھر تم دونوں کا حساب کتاب ہوگا ہم اس کی طرف متوجہ ہوں گے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ وہ معنی نہ کرنا کہ مصروف ہیں اس لیے وقت نہیں بلکہ کون سا معنی؟ کہ توجہ ابھی ہم ابھی ہم اس کی طرف متوجہ نہیں کیونکہ اس کا ہم نے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے کرن چاہیں تو ہم سب کا حساب یہیں کر لیں لیکن ہم نے کیا کیا ہے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے اور وہ آخرت کا قیامت کا دن ہے۔ یہ ایک معنی۔ تو سنفرغکم کا کیا معنی کیا؟ ہم متوجہ ہوں گے عنقریب۔ ارادہ کریں گے ہم ابھی ہم نے ارادہ نہیں کیا۔ بعض علماء نے لکھا کہ سنفرغکم ایہا الثقلان یہ بطور دھمکی کے ہے۔ آپ بھی اپنے کلام میں اس کو استعمال کرتے ہیں اردو کے اندر بھی بھئی۔ کہ مصروفیت نہیں ہوتی پھر بھی کسی کو دھمکی دیتے ہیں کہ میں ذرا فارغ ہو جاؤں پھر تم سے نپٹتا ہوں۔ یعنی کچھ دیر صبر کر لو پھر میں کیا کرتا ہوں تم سے نپٹتا ہوں یہ آپ بھی استعمال کرتے ہیں تو یہ دھمکی ہے گویا اللہ کی طرف سے کہ جو راہ راست پر نہ آیا تو تیار رہے سخت حساب کے لیے۔ سنفرغکم ایہا الثقلان عنقریب ہم متوجہ ہوں گے تمہاری طرف اے جن و انس کے دو گروہ فبای آلا ربکما تكذبان پس تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ یا معشر الجن والانس اے جن و انس کے گروہوں۔ اے جن و انس کے معشر گروہ۔ یا معشر الجن والانس اے جن اور انس کے گروہ۔ ان استطعتم اگر تم استطاعت رکھتے ہو قدرت رکھتے ہو ان تنفذو من اقطار السماوات والارض یہ کہ تم نکل جاؤ۔ نفضل ینفذ کے معنی نکل جانا۔ اگر تم میں یہ قدرت ہے کہ تم نکل جاؤ من اقطار السماوات والارض اقطار جمع ہے قطرس کی اقطار کس کی جمع قطر کی۔ اور یہ کنارے کو کہتے ہیں۔ اگر تم میں یہ قدرت ہے کہ تم نکل سکو اس زمین اور اس آسمانوں کے کناروں سے فانفذو تو نکل جاؤ۔ لا تنفذون الا بسلطان نہیں نکل سکتے تم الا بسلطان مگر دلیل کے ساتھ یا مگر غلبے کے ساتھ سلطان کے معنی دلیل کے بھی اور سلطان کے معنی غلبے اور زور کے بھی بھئی۔ لا تنفذون الا بسلطان تم نہیں نکل سکتے مگر زور کے ساتھ ہی یا تم نہیں نکل سکتے مگر غلبے کے ساتھ ہی۔ یعنی تم غلبے کے ساتھ ہی نکل سکتے ہو۔ اللہ فرما رہا ہے اے انسان اور جنات کے گروہ اگر تم میں قدرت ہے کہ زمین اور آسمان کے کناروں سے نکل سکتے ہو تو نکلو اور تم غلبے کے بغیر تو نکل سکتے ہی نہیں اور غلبہ تو تم میں ہے نہیں غلبہ تو تم میں معلوم ہوا تم نکل بھی نہیں سکتے نکلنا ہی ممکن نہیں ہے تمہارا نکلو گے کدھر جاؤ گے کیسے نکلو گے تم یہاں سے۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو یہ فانفذو امر آیا۔ امر آیا اور آپ نے اصول شاشی میں پڑھا ہے کہ امر وجوب کے لیے آتا ہے لیکن امر یہ تو اصل معنی ہے امر کئی معنی کے لیے آتا ہے بھئی ان میں سے ایک معنی ہے تعاجیز دوسرے کو عاجز کرنا۔ دوسرے کو تو یہ امر تعاجیز کے لیے ہے کہ تم نکل سکتے ہو تو نکلو اور یہ تو محال ہے تم کبھی نکل ہی نہیں سکتے۔ سمجھ میں آیا بھئی نکلنے کے لیے غلبہ چاہیے زور چاہیے اور اللہ سے بڑھ کر قوت اور قدرت کس کے پاس ہے؟ یا معشر الجن والانس ان استطعتم ان تنفذو من اقطار السماوات والارض فانفذو اے جن و انس کے گروہ اگر تم قدرت رکھتے ہو کہ نکل جاؤ زمین اور آسمان کے کناروں سے تو نکل جاؤ لا تنفذون الا بسلطان اور تم نکل نہیں سکتے مگر غلبے سے فبای آلا ربکما تكذبان پس تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ یورسلو علیکما شوازم من نار و نحاس فلا تنتصران۔ یورسلو علیکما بھیجا جائے گا تم دونوں پر شوازم شوازم کہتے ہیں آگ کا خالص شعلہ جس کے اندر دھوئیں کی آمیزش نہ ہو۔ شوازم کسے کہتے ہیں؟ وہ خالص شعلہ جس کے اندر دھوئیں کی آمیزش نہ ہو۔ اور نحاس نحاس کہتے ہیں خالص دھواں جس کے اندر اگ کی شعلے کی آمیزش نہ ہو بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ شوازم خالص شعلہ نحاس خالص دھواں۔ يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِّن نَّارٍ وَنُحَاسٌ فَلَا تنتصران بھیجا جائے گا تم دونوں پر شواظ من نار آگ کے آگ کے شعلے ونحاس اور دھواں فلا تنتصران انتصر کا کیا معنی؟ بدلہ لینا فلا تنتصرانی پس تم دونوں بدلہ نہ لے سکو گے۔ تو یورسلو علیکما شواظ من نار ونحاس فلا تنتصران بھیجا جائے گا تم دونوں پر با محاورہ ترجمہ یوں کر لیں چھوڑا جائے گا تم پر چھوڑے جائیں گے تم پر اگ کے شعلے اور دھواں پس تم بدلہ نہ لے سکو گے۔ یہ ایک معنی۔ بعضوں نے نحاس کا معنی تانبے کے کیے بھئی نحاس تانبے کو بھی کہتے ہیں کہ ان پر بھیجا جائے گا یعنی چھوڑا جائے گا اگ کے شعلے کو بھی اور پگھلا ہوا تانبا بھی ان پر ڈالا جائے گا بھئی فلا تنتصران پس تم دونوں بدلہ نہ لے سکو گے۔ فبای آلا ربکما تكذبان پس تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ سوال پیچھے کس کا ذکر آیا؟ عذاب کا ذکر آیا آگے اللہ فرما رہے ہیں تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔ پیچھے کس کا ذکر آیا؟ عذاب کا اور اللہ فرما رہے ہیں تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔ اعتراض سمجھ میں آیا بھئی؟ جواب یہ کہ اس عذاب کے بارے میں ابھی سے دنیا ہی میں بتا دینا نعمت ہے یا نہیں ہے بھئی کہ ابھی سے ہے عذاب ہے آگے اگر ہمارے نعمتوں کا انکار کرو گے ہمارے راستے پر نہیں چلو گے تو پھر یہ عذاب ملے گا بھئی۔ سورت سمجھ میں آگئی تو دنیا میں اس کا بتلا دینا یہ بہت بڑی نعمت ہے بہت بڑی نعمت ہے بھئی۔ تو یاد رکھیے اس سورت کے اندر اکتیس مرتبہ اللہ فرماتے ہیں فبای آلا ربکما تكذبان اے جن و انس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے اور ان جن جن کے بعد جن آیتوں کے بعد یہ آیتیں آ رہی ہیں ان میں سے کوئی تو اسی وقت نعمت ہے دنیا ہی میں کیا ہے؟ نعمت ہے وہ کشتیاں نعمت ہیں وہ موتی وغیرہ نعمت کچھ تو اب ہی یعنی دنیا ہی میں نعمت ہیں اور کچھ کا بتلا دینا نعمت ہے بھئی۔ خلاصہ سمجھ میں آیا بھئی؟ اکتیس مرتبہ یہ آتا ہے اور وہ کس قسم کے ہیں؟ کچھ دنیا ہی میں اس وقت نعمت ہیں اور کچھ بعد میں آئیں گے لیکن ابھی ان کا بتلا دینا کیا ہے؟ نعمت ہے۔ فإذا انشققت السماء فكانت وردة كدهان پس جس وقت پھٹ جائے گا آسمان۔ انشقاق کے معنی پھٹنے کے فإذا انشققت السماء پس جس وقت آسمان پھٹ جائے گا فكانت وردة تو وہ سرخ ہو جائے گا وردہ سرخ بھئی۔ كدهان دہان کے دو معنی ہیں بھئی۔ بعضوں نے کہا دہان وہ تیل کی تل چھٹ بھئی۔ پہلے بھی بیان کر چکا ہوں تیل کسی برتن میں ڈالا جائے تو اس کی تہ میں جو اس کا گند وغیرہ ہے وہ تہ میں بیٹھ جاتا ہے یہ ہے تیل کی تل چھٹ بھئی۔ اور دہان کا معنی بعضوں نے بیان کیا سرخ چمڑا بھئی۔ سرخ چمڑا۔ فإذا انشققت السماء فكانت وردة كدهان پس جس وقت آسمان پھٹ جائے گا تو وہ اس ایسی اسی طرح سرخ ہو جائے گا جس طرح تیل کی تل چھٹ۔ ایک ترجمہ دوسرا ترجمہ پس جس وقت آسمان پھٹ جائے گا تو وہ اسی طرح سرخ ہوگا جس طرح سرخ چمڑا۔ سرخ چمڑے کی طرح ہوگا اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگا بھئی۔ فبای آلا ربکما تكذبان پس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ فيومئذ لا يسال عن ذنب عن ذنب به انس ولا جان پس اس دن نہیں پوچھو گی نہیں پوچھا جائے گا عن ذنب به اس کے گناہ کے بارے میں انس ولا جان انسان سے اور نہ جن سے اس دن نہ کسی انسان اور نہ کسی جن سے اس کے گناہ کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اس دن قیامت کے دن کسی انسان سے اس کے گناہ کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا اور اسی طرح کسی جن سے اس کے گناہ کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا۔ اس پر آپ کے ذہنوں میں اشکال آئے گا کہ دوسری جگہوں پر تو آیا کہ اس دن پوچھا جائے گا مجرموں سے ان کے جرائم کے بارے میں گناہوں کے بارے میں تو جواب یہ کہ یہاں مراد یہ ہے کہ یہ جو پوچھا جائے گا وہ اس وجہ سے نہیں کہ اللہ کو علم نہیں ہے اللہ کو تو علم سب ہر چیز کا ہے صرف ان پر حجت قائم کرنے کے لیے ان سے پوچھو گی ان ان پر حجت تو یہ جو کہا گیا نہیں پوچھا جائے گا کسی انس اور جن سے اس کے گناہ کے بارے میں یعنی اس کے علم کے لیے نہیں پوچھا جائے گا بھئی معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ ڈانٹ کے طور پر پوچھا جائے گا ویسے نہیں پوچھا جائے گا یا محل الگ الگ ہے بھئی قیامت کے مختلف احوال بعض احوال ایسے ہیں بعض اوقات ایسے ہوں گے جس وقت پوچھ گچھ ہوگی اور بعض اوقات ایسے ہوں گے جس میں پوچھ گچھ نہیں ہوگی۔ سمجھ میں آیا تو یہ وہاں جو گناہوں کا پوچھنا ہوگا وہ گناہوں کو ثابت کرنے کے لیے نہیں ہوگا ہر چیز اللہ کے علم میں ہے ہاں صرف ان پر ان کو بھی دکھانے کے لیے کہ یہ دیکھو سب کچھ ہم نے لکھ رکھا ہے اس اعتبار سے پوچھا جائے گا تو جواب سمجھ میں آگیا بھئی؟ فيومئذ لا يسال فيومئذ لا يسأل عن ذنب به انس ولا جان پس اس دن نہیں پوچھا جائے گا کسی انسان سے اس کے گناہ کے بارے میں اور نہ جن سے فبای آلا ربکما تكذبان پس تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ يعرف المجرمون بسماهم سيما کا کیا معنی بتلایا تھا میں نے؟ نشانی اور علامت۔ يعرف المجرمون پہچانے جائیں گے مجرم بسماهم اپنی نشانی سے فيوخذ پس وہ پکڑے جائیں گے بالنواصی نواصی جمع ہے ناصیتون کی یہ پیشانی کے ساتھ سر کے اگلے حصے اگلا حصہ جو ہے اور یہ جو بال ہیں ان کو کیا کہتے ہیں؟ اس کو ناصیہ کہتے ہیں۔ تو ان کو یہ پیشانی کے بالوں سے پکڑا جائے گا والاقدام اور قدموں سے یعنی پاؤں سے پکڑا جائے گا۔ يعرف المجرمون بسماهم پہچانا جائے گا مجرموں کو ان کی علامت سے ہی مجرموں کے چہرے سیاہ ہوں گے ان کی انکھیں ان کی انکھیں نیلی ہوں گی بھئی جرم کی وجہ سے اور جبکہ مومنین کے چہرے جو ہیں انوارات کی وجہ سے چمک رہے ہوں گے۔ يعرف المجرمون بسماهم پہچانے جائیں گے مجرم اپنی نشانی سے فيوخذ بالنواصی والاقدام پس وہ پکڑے جائیں گے پیشانی کے بالوں اور قدموں سے۔ بھئی یہ پیشانی کے بال اور قدموں سے کیوں پکڑا جائے گا ان کو؟ وجہ یہ ہے کہ گناہ کے لیے وہ قدموں سے چل کر جاتے تھے اس وجہ سے قدموں سے پکڑا جائے گا اور یہ پیشانی کے بالوں سے کیوں پکڑا جائے گا وجہ اس کی یہ بھئی۔ کہ یہ سائنس نے اب تحقیق کی تو پتہ چلا کہ یہ جو انسان کا دماغ ہے اس کا جو اگلا حصہ ہے یعنی جو ناصیہ کے نیچے والا حصہ ہے جب انسان کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو ارادہ اس حصے میں بنتا ہے۔ جب انسان کیا کرتا ہے؟ کسی کام کا ارادہ کرتا ہے ذہن میں تو یہ ارادہ اس دماغ کے اگلے حصے میں بنتا ہے، جو یہ پیشانی کے بالوں کے نیچے ہے۔ اور اسی کے ذریعے جب وہ مجرم لوگ ہیں، تو تمام گناہوں کا ارادہ وہ یہیں سے اس کے ان کے دماغ کے اسی حصے میں پیدا ہوتا ہے، ہر جرم کا ارادہ، ہر ظلم کا ارادہ یہیں پیدا ہوتا ہے، تو ادھر ہی سے ان کو پکڑا جائے گا بھئی پیشانی کے بالوں سے اور قدموں سے۔ فبأي آلاء ربكما تكذبان، پس تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ هذه جهنم التي يكذب بها المجرمون، یہ ہے وہ جہنم التي يكذب بها المجرمون، جس کو جھٹلایا کرتے تھے مجرم لوگ۔ ان کو کہا جائے گا هذه جهنم جہنم التي يكذب بها المجرمون، یہی ہے وہ جنت جس کو جھٹلایا کرتے تھے مجرم لوگ۔ يطوفون بينها وبين حميم ان، چکر لگائیں گے بینہا اس جہنم کے درمیان وبين حميم ان، حمیم کہتے ہیں گرم پانی کو، آن، آنن خوب گرم بھئی۔ ان یعنی انین کا معنی خوب گرم کرنا۔ تو آنن خوب گرم بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ خوب گرم، یہ اس میں فاعل ہے آنین، یا آخر سے گر گئی اجتماع ساکنین کی وجہ سے۔ اجتماع سمجھ میں آئی بات کہ نہیں آئی؟ آنیون تھا نا آنیون، یہاں تو مجرور ہے آنیین، تو بہرحال آنیون ہو یا آنیین ہو بات ایک ہی ہے، آنیون تھا، آخر میں تنوین تھی اور تنوین کس چیز کا نام ہے؟ نون ساکن کا نام ہے اور اس سے ماقبل میں یا پر ضمہ تھا، حالت رفی میں ضمہ ہوگا، حالت جری میں کسرہ اور یا پر ضمہ بھی ثقیل اور کسرہ بھی ثقیل، تو ضمہ اور کسرے کو گرا دیا تو یا بھی ساکن ہوئی، آگے نون تنوین بھی ساکن تھا، تو اجتماع ساکنین علی غیر حدہ آیا، تو اول یا کو گرا دیا، تو کیا بن گیا؟ آنن۔ حالت نصبی میں نہیں گرے گی یعنی نہیں گرے گی، کیونکہ یا پر فتحہ نہیں ثقیل، فتحہ نہیں ثقیل، تو اس صورت میں آنیّن کہیں گے۔ يطوفون بينها وبين حميم ان، چکر لگائیں گے وہ اس جہنم کے درمیان اور خوب گرم کھولتے ہوئے پانی کے، حمیم گرم پانی، آن خوب گرم، کھولتا ہوا بھئی۔ يطوفون وہ چکر لگائیں گے بینہا اس جہنم کے درمیان وبين حميم ان، اور خوب کھولتے ہوئے پانی کے درمیان اور یوں، وبين حميم ان، اور کھولتے ہوئے پانی کے درمیان، فبأي آلاء ربكما تكذبان، پس تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ ولمن خاف مقام ربی جنتان. لیجیے بھئی اب پھر آپ حضرات کا ذکر آگیا بھئی، قرآن کا طریقہ جہاں جہنم کا ذکر آتا ہے، پھر ساتھ ساتھ جنت کا بھی ذکر کر دیا جاتا ہے۔ ولمن خاف مقام ربی جنتان، اور اس شخص کے لیے جو ڈرا مقام ربی، مقام یاد رکھیے یہ مصدر ہے بھئی۔ یہاں پر کیا ہے؟ مصدر ہے، مقام ربی، اس کے رب کا کھڑا ہونا، نہیں یہ ترجمہ نہیں۔ رب کے سامنے کھڑے ہونا، ترجمہ کرنا ہے؟ ہاں اور وہ شخص جو ڈرا، کس چیز سے ڈرا؟ مقام ربی، اپنے پروردگار اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے، کہ مجھے کھڑا ہونا ہے قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے ہر چیز کا جواب دینا ہے، حساب دینا ہے، جو شخص اس بات سے ڈرا اور اس نے گناہوں کو چھوڑ کر سیدھے راستے کو اختیار کیا، تو جنتان، اس کے لیے کیا ہیں؟ دو باغ ہیں، دو باغ ہیں، دو جنتیں ہیں۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی، ولمن خاف مقام ربی جنتان، اور وہ شخص جو اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا، اس کے لیے دو باغ ہیں. فبأي آلاء ربكما تكذبان، پس تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ ذواتا افنان، افنان جمع ہے فنن کی، فنن، اور فنن کہتے ہیں شاخ کو، شاخ کو، ذواتا افنان، کیا معنی ہوا؟ شاخوں والے. ذواتا افنان، شاخوں، اللہ فرما رہے ہیں جو کوئی اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اس کے لیے دو باغ ایسے باغ ہیں، ذواتا افنانی، جو شاخوں والے ہیں، یعنی وہاں کہ درخت خوب شاخوں والے ہیں، خوب پھلوں سے بھری ہوئی شاخیں ہیں ان کی. ذواتا افنانی، شاخوں والے ہیں، وہ باغ کیا ہیں؟ شاخوں والے ہیں. تو یاد رکھیے ایک تو یہ دو باغوں کا ذکر آرہا ہے، ایک آگے چل کر پھر دو باغوں کا ذکر آئے گا، ومن دونہما جنتان اور ان کے علاوہ بھی دو باغ ہیں. دو باغ ہیں. علماء لکھتے ہیں کہ یہ جو اول کے دو باغ ہیں، یہ مقربین کے لیے ہیں بھئی، کن کے لیے ہیں؟ مقربین کے، جو اللہ سے خاص قرب جن کو حاصل تھا، جن کی نیکیاں بہت زیادہ تھیں، یہ ان مقربین کے لیے یہ جنت ہے. اور وہ جو من دونہما جنتان کا ذکر آرہا ہے، وہ عام مومنین کے لیے ہیں. تو معلوم ہوا یہ والی جنت افضل، یہ والے دو باغ اعلیٰ ہیں، ان دو باغوں سے جن کا ذکر بعد میں آرہا ہے، بعضوں نے کہا نہیں، وہ بعد والے اعلیٰ ہیں اور یہ ان سے کم ہیں، یہ پہلے والے. صورت سمجھ میں آگ گئی بھئی؟ تو اللہ فرما رہے ہیں اور وہ شخص جو ڈرا اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے، اس کے لیے دو باغ ہیں، دو باغ ہیں یاد رکھیے بھئی، ایک باغ میں سارا کچھ سونے کا، ایک باغ میں سارا کچھ چاندی کا، سارے برتن، محل وغیرہ سارے چاندی کے، ایک میں سارا کچھ سونے کا. اور اللہ فرما رہے ہیں اس کے لیے دو باغ ہیں، جس طرح مالدار آدمی ایک گھر یہاں بناتا ہے، ایک گھر کسی دوسری اچھی جگہ بناتا ہے، جب دل چاہتا ہے یہاں رہتا ہے، جب دل چاہتا ہے وہاں چلا جاتا ہے، اسی طرح آپ کے بھی دو محل ہوں گے، دو جنتیں ہوں گی، کبھی دل چاہے گا تو یہاں رہیں گے، کبھی دل چاہے گا تو اس دوسرے میں جا کر رہیں گے، اللہ ہم سب کو جنت الفردوس نصیب فرماۓ بھئی. تو کہتے ہیں یہ جنت الفردوس ہے، جس کا پہلے ذکر آیا بھئی. فبأي آلاء ربكما تكذبان، پس تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتیں کو جھٹلاؤ گے؟ فیهما عینان تجریان، ان دونوں میں، ان دونوں باغوں میں، عینانی، دو چشمے ہیں، تجریان، جو بہہ رہے ہیں. ان دونوں باغوں میں دو چشمے ہیں جو بہہ رہے ہیں، فبأي آلاء ربكما تكذبان، پس تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ فیهما من كل فاكهة زوجان، ان دونوں باغوں میں ہر قسم کے جو پھل ہیں، زوجانی، دو دو قسم کے ہیں. ہر پھل جو ہے، کتنی کتنی قسم کا ہوگا؟ دو دو قسم کا ہوگا بھئی، کس کیفیت کا ہوگا، اللہ ہی جانتے ہیں بھئی، لیکن ہر پھل کی دو دو قسمیں ہوں گی. بعضوں نے کہا کہ کچھ پھل جیسے یہ تر پھل، یہ جو تازہ پھل ہم کھاتے ہیں، کچھ جو خشک پھل ہیں، اخروٹ، بادام وغیرہ، تو اس طرح فرق ہوگا، بعضوں نے کہا کچھ میٹھے ہوں گے تو کچھ کڑوے ہوں گے، لیکن وہ کڑوا بھی ایسا نہیں جو برا لگے. یعنی کچھ الگ ذائقہ ہوگا، یوں کہیں کڑوے نہ کہیں بلکہ ذائقہ الگ ہوگا، تو فیهما من كل فاكهة زوجان، ان دونوں باغوں میں ہر قسم کے میوے دو دو قسم کے ہوں گے، فبأي آلاء ربكما تكذبان، پس تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ متکئين على فرش بطائنها من استبرق. وہ تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے علی فرش، ایسے بچھونوں پر، ایسے فرش، بچھونا، نیچے جس چیز کو بچھایا جائے جس پر انسان بیٹھے، ایسے بچھونوں پر بطائنها، بطائن جمع ہے بطانۃ کی، اور بطانۃ کہتے ہیں استر کو، استر. بھئی گدا وغیرہ، رضائی وغیرہ اس میں آپ دیکھتے ہیں ایک نیچے والا کپڑا ہوتا ہے، ایک اس کے اوپر کپڑا ہوتا ہے، تو جو نیچے والا کپڑا ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ استر. تو اللہ فرما رہے ہیں وہ تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے علی فرش، ایسے بچھونوں پر بطائنها من استبرق، جن کے استر جو ہیں، استبرق یعنی موٹے ریشم کے ہوں گے. جن کے استر نیچے والا کپڑا کیا ہوگا؟ موٹے ریشم کا ہوگا، حالانکہ نیچے والا کپڑا تو عام ہوتا ہے، اوپر والا کپڑا اعلیٰ ہوتا ہے، تو جب نیچے والا کپڑا موٹے ریشم کا ہے، تو اوپر والے کا خود ہی اندازہ لگا لیں، وہ کس کیفیت اور کتنا اعلیٰ ہوگا. متکئين على فرش بطائنها من استبرق، وہ تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے ایسے بچھونوں پر جن کے استر موٹے ریشم کے ہوں گے، وجنى الجنتين دان، جنا، پھل کو کہتے ہیں، پھل. وجنى الجنتين، ان دونوں باغوں کا پھل، ان دونوں جنتوں کا پھل، دانی، قریب ہوگا، جھک رہا ہوگا. دنا یدنو دنوان، اس کے کیا معنی ہوتے ہیں؟ قریب ہونے کے، تو ان دونوں باغوں کا پھل جو ہے دانی، قریب ہوگا یعنی جھک رہا ہوگا. مفسرین حضرات لکھتے ہیں کہ پھل اس طرح قریب ہوگا کہ اگر کوئی لیٹا ہوا ہے، تو وہ بھی آسانی سے توڑ لے گا، اسے بیٹھنے کی ضرورت نہیں۔ اور جو بیٹھا ہوا ہے، اس کا بھی ہاتھ پہنچ جائے گا، اسے کھڑے ہونے کی ضرورت نہیں۔ اور جو کھڑا ہوا ہے، اس کا بھی ہاتھ پہنچ جائے گا، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جس حال میں بھی ہوگا آسانی ہی آسانی، کہتے ہیں جب جنت کے پھل شاخ کی طرف انسان ہاتھ بڑھائے گا، وہ شاخ خود بخود جھک کر اس کے قریب آجائے گی بھئی. سمجھ میں آیا، جھک کر قریب آجائے گی. وجنى الجنتين دان، اور ان دونوں باغوں کا پھل قریب ہوگا، فبأي آلاء ربكما تكذبان، پس تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ فیهن قاصرات الطرف لم يطمثهن انس قبلهم ولا جان. فيهنا، ان میں، قاصرات الطرف، نیچی نگاہ والی، نیچی نگاہ والی ہوں گی، یعنی حوریں، نیچی نگاہ والی حوریں ہوں گی. طرف نگاہ کو کہتے ہیں، قاصرات، جھکانے والی، نگاہ جھکانے والی حوریں ہوں گی. ایسی نگاہ جھکانے والی حوریں ہوں گی، لم يطمثهن، قما یطمس کے معنی ہوتے ہیں صحبت کرنا، لم يطمثهن، ان سے صحبت نہیں کی ہوگی، انس، کسی انسان نے قبلہم، ان سے پہلے ولا جان، اور نہ کسی جن نے. اس میں ایسی نگاہ جھکانے والی حوریں ہوں گی جنہیں چھوا نہیں ہوگا اس سے پہلے نہ کسی انسان نے اور نہ کسی جن نے بھئی، معنی سمجھ میں آگیا بھئی. فبأي آلاء ربكما تكذبان، پس تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ كأنهن الياقوت والمرجان، گویا کہ وہ حوریں جو ہیں یاقوت اور مرجان ہیں، یاقوت، ایک قیمتی سرخ پتھر ہے، مرجان، ابھی بیان ہوا بڑا موتی یا یا چھوٹا موتی. كأنهن الياقوت، گویا کہ وہ یاقوت ہیں، یعنی صفائی کے اندر. کس کے اندر؟ صفائی کے اندر، ورنہ تو یاقوت سرخ رنگ کا ہوتا ہے، رنگ نہیں مراد بلکہ صفائی اور حسن و جمال مراد ہے، والمرجان، اور موتیوں کی طرح ہوں گی سفید رنگ ہونے میں، رنگ کے اعتبار سے. تو یاقوت کی طرح ہوں گی صفا، صفائی کے اعتبار سے، پاکیزگی کے اعتبار سے اور مرجان موتیوں کی طرح ہوں گی رنگ کے اعتبار سے سفیدی میں، كأنهن الياقوت والمرجان، گویا کہ وہ یاقوت اور مرجان ہیں، فبأي آلاء ربكما تكذبان، پس تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ هل جزاء الإحسان إلا الإحسان. هل آیا اور الا کے اس کے بعد آیا، میں نے بتلایا تھا الا کے ساتھ هل آئے، تو کس معنی میں ہوتا ہے؟ نفی کے لیے ہوتا ہے، کس کے لیے؟ یہاں حل نفی کے معنی میں ہے نہیں۔ ہے جزاء الاحسانی اچھائی کا بدلہ الا الاحسانو مگر اچھائی ہی یعنی اچھائی کا بدلہ اچھائی ہی ہے۔ اللہ کیا فرما رہے ہیں اچھائی کا بدلہ اچھائی ہی ہے ان جنتیوں نے دنیا میں اچھائی کی تھی تو ہم نے اخرت میں ان کو اچھا بدلہ دیا۔ فبای آلاء ربکما تکذبان پس تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے ومن دونہما جننتان اور ان دونوں کے علاوہ بھی دو باغ ہیں۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی کیا ترجمہ میں نے کیا ومن دونہما جننتان اور ان دو جنتوں کے جو جن کا پیچھے ذکر ہوا ان کے علاوہ بھی دو باغ ہیں یہ ایک ترجمہ۔ اور دوسرا ترجمہ جو بعض حضرات نے کیا جس کے مطابق جنہوں نے کہا تھا پہلی جنت مقربین کے لیے ہے اور دوسری جنت کس کے لیے ہے؟ عام مومنین کے لیے اس کے مطابق ترجمہ یوں ہوگا ومن دونہما جننتان اور ان سے کم درجے کے بھی دو باغ ہیں ومن دونہما ان دونوں باغوں سے جن کا اوپر ذکر ہوا ان سے کم درجے کے دو باغ ہیں۔ فرض سمجھ میں آیا دونوں ترجموں کا پہلا کیا ترجمہ ان دونوں کے علاوہ بھی دو باغ ہیں اور دوسرا ترجمہ ان دونوں سے کم درجے کے دو باغ ہیں بھئی سمجھ میں آیا بھئی اور عربی اعتبار سے دونوں کا احتمال ہے دونوں کے اس کے لیے اس قسم کا کلام عرب میں استعمال ہوتا ہے دونوں معنی کے لیے۔ ومن دونہما جننتان اور ان دونوں کے علاوہ دو باغ ہیں فبای آلاء ربکما تکذبان پس تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے مدہامتان مدہامتان گہرے سبز ہوں گے سیاہی مائل سبز ہوں گے بھئی مدہامتان یہ دہمۃ سے ہے دہمۃ کہتے ہیں سیاہی کو کس کو کہتے ہیں؟ سیاہی کو تو لیکن یہاں سیاہی نہیں گہرا سبز رنگ مراد ہے آپ نے بھی مشاہدہ کیا ہوگا کہ جہاں پر درخت اور پودے خوب گہرے سبز ہوں تو ان میں کچھ سیاہی سیاہی معلوم ہوتی ہے اور وہ آنکھوں کو بڑی بھلی محسوس ہوتی ہے بھئی۔ گہرا سبز رنگ پودوں کا سیاہی جو خوب گھنے پودے ہوں اور گہرا سبز ہو تو کس طرح معلوم ہوتا ہے کچھ سیاہی کی جانب وہ مائل معلوم ہوتا ہے تو وہ گہرا سبز مراد ہے جو سیاہی کی طرف مائل ہو اور جو بڑا ہی حسین معلوم ہوتا ہے۔ مدہامتان گہرے سبز ہوں گے فبای آلاء ربکما تکذبان تو یعنی وہ دو جنتیں جو ہیں کثرت سبزہ کی وجہ سے گہرے سیاہ یعنی سیاہی کی طرف مائل معلوم ہو رہے ہوں گے وہ دونوں باغ فبای آلاء ربکما تکذبان پس تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے فیہما عینان نضاختان بھئی پچھلے دو باغوں کا ذکر آیا تھا عام مفسرین فرماتے ہیں کہ پہلے جو ذکر ہوئے وہ مقربین کی جنتیں ہیں یعنی جنت الفردوس ہے اور یہ بعد والے باغ جو ہیں یہ عام مومنین کے ہیں بازوں نے کہا نہیں یہ دو باغ الگ وہ دو باغ الگ ہیں اور باز پھر اس میں انہوں نے کہا پہلے والے اعلی جیسے ابھی بیان ہوا بازوں نے کہا یہ بعد والے اعلی ہیں بھئی۔ پہلے والے میں کیا ایا تھا ذواتا افنان خوب شاخوں والے ہیں وہ اور یہاں کیا ایا مدہامتان کہ وہ گہرے سبز ہیں تو یہ کہتے ہیں دیکھو یہ بہتر ہے بھئی۔ وہاں کیا ایا تھا فیہما عینان تجریان وہاں دو چشمے بہہ رہے ہیں یہاں ایا فیہما عینان نضاختان ان دونوں میں دو ایسے چشمے ہیں نضاختان جو ابل رہے ہیں فوارے کی طرح ابل رہے ہیں خوب جوش سے پانی نکل رہا ہو تو یہ ہے نضاخہ بھئی۔ تو فیہما عینان نضاختان کہتے ہیں دیکھو یہ اعلی ہے کہ دو چشمے ابل رہے ہیں فوارے کی طرح کتنے حسین معلوم ہوں گے۔ فبای آلاء ربکما تکذبان پس تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے فیہما فاکہہۃ فاکہہۃ ونخل ورمان اور ان دو باغوں میں پھل ہوں گے اور کھجوروں کے درخت ہوں گے ورمان اور انار ہوں گے کیا ہوں گے؟ انار ہوں گے پھلوں میں خاص طور پر کھجور اور انار کو ذکر کیا کیونکہ عرب کو یہ بڑے پسند تھے بھئی۔ اور کہتے ہیں اسی سے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ استدلال کرتے ہیں کہ کھجور اور انار یہ فاکہہ میں داخل نہیں آپ اصول الشاشی میں پڑھ چکے ہوں گے کھجور اور انار فاکہہ میں داخل نہیں۔ کیونکہ ان کا عطف ہے فاکہہ پر اور معطوف معطوف جو ہے وہ معطوف علیہ سے غیر ہوا کرتا ہے معلوم ہوا یہ فاکہہ میں داخل نہیں پڑھا یعنی اصول الشاشی میں ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ میں فاکہہ نہیں کھاؤں گا تو کیا کھانے سے حانث ہوگا اور کیا کھانے سے حانث نہیں؟ تو اس میں پھل ہوں گے بھئی۔ وہاں پیچھے پچھلی جنت میں کیا ایا تھا کہ ان میں ہر قسم کے پھل دو دو ہوں گے اور یہاں پر اللہ کیا فرما رہے ہیں پھل بھی ہوں گے کھجوریں بھی ہوں گی اور انار بھی ہوں گے فبای آلاء ربکما تکذبان پس تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے فیھن خیرات حسان ان میں ان باغن باغوں میں خیرات حسان خیرات خوب سیرت حسان خوبصورت یعنی حور ہوں گی۔ خوبصورت اور خوب سیرت اور خوبصورت حوریں ہوں گی۔ خیرات جمع ہے خیرۃ کی کس کی جمع ہے؟ خیرۃ کی اور خیرۃ کے معنی ہیں جو جو سیرت کے اعتبار سے اچھی ہو اخلاق و عادات کے اعتبار سے جو اچھی ہو تو بازوں نے کہا یہ خیرۃ کی جمع ہے اور بازوں نے کہا یہ خیرۃ کی جمع ہے کس کی جمع ہے؟ خیرۃ کے جمع ہو تو خیرۃ کہتے ہیں جو خوبصورت ہو ظاہری حسن و جمال اور خیرۃ کی جمع ہو تو خیرۃ کا کیا معنی؟ جو سیرت میں اور اخلاق و عادات کے اعتبار سے اچھی ہو جی اور حسان جمع ہے حسناء کی حسن کی مونث آتی ہے حسناء حسن خوبصورت اور حسناء اسی سے مونث ہے اور اسی دونوں کی جمع کیا آتی ہے حسان حسان تو حسان میں اگئی ظاہری خوبصورتی خیرات میں اگئی باطنی خوبصورتی بھئی۔ فیھن خیرات حسان ان میں اچھی سیرت اور اچھی صورت والی حوریں ہوں گی فبای آلاء ربکما تکذبان پس تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے حور مقصورات فی الخیام ایسی حوریں مقصورات جو روکی گئی ہوں گی بند کی گئی ہوں گی یا محفوظ کی گئی ہوں گی فی الخیام خیموں میں ایسی حوریں ہوں گی جو خیموں میں محفوظ کی گئی ہوں گی خیموں میں روکی گئی ہوں گی۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی حور مقصورات فی الخیام ایسی حوریں ہوں گی مقصورات فی الخیام جو جو خیموں میں محفوظ کی گئی ہیں سمجھ میں آیا ایسی حوریں ہوں گی جو خیموں میں محفوظ ہیں اور خیمے یہ دنیا کے خیمے نہ سمجھنا بھئی یہ صرف لفظی مشابہت ہے جو جنت کی کسی چیز کو دنیا کی کسی چیز کے نام کے ساتھ ذکر کر دیا جائے آپ کا خیمہ تو دو چار گز کا ہوتا ہے کپڑے کا بنا ہوتا ہے آندی آتی ہے بارش آتی ہے تو رہنے کے قابل نہیں رہتا بڑا مصیبت بن جاتی ہے یہ جنت کے خیموں کا ذکر ہو رہا ہے حدیث میں آتا ہے جنت کے خیمے ایک ہی موتی کا بنا ہوگا اور چوڑائی ساٹھ میل اس کی چوڑائی ہوگی تیس میل تک اس کی اونچائی ہوگی ستر اس کے دروازے ہوں گے اور باقی کیا حسن اور کیا جمال ہوگا وہ اللہ ہی جانتے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی اللہ کی قدرت بڑی وسیع بڑی وسیع بھئی کیا کیا انعام اللہ نے تیار کر رکھا ہے لیکن ہم ہیں کہ اس دنیا ہی میں الجھے ہوئے ہیں بھئی اللہ ہم سب کو صحیح اور کامل سمجھ نصیب فرمائے بھئی حور مقصورات فی الخیام ایسی حوریں جو خیموں میں روکی گئی ہوں گی وہ ہوں گی ایسی حوریں ہوں گی جو خیموں میں روکی گئی ہوں گی فبای آلاء ربکما تکذبان پس تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے لم یطمثهن انس قبلهم ولا جان نہ تو چھوا ہوگا ان کو کسی انسان نے ان سے پہلے ولا جان اور نہ کسی جن نے فبای آلاء ربکما تکذبان پس تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے متقیئن علی رفرف خضر وعبقری حسان تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے علی رفرف دیکھو جو جو کچھ پچھلی جنت میں ذکر ہوا تھا یہاں بھی ساتھ ساتھ ذکر ہو رہا ہے متقیئن علی رفرف رفرف کہتے ہیں قالین کو بھئی نیچے بچھانے والی چیز جو ہو قالین دری وغیرہ بھئی اور بازوں نے کہا رفرف جس پر ٹیک لگایا جائے یعنی تکیہ وغیرہ جی تو وہ تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے علی رفرف خضر سبز قالینوں پر وہ تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے سبز قالینوں پر وعبقری حسان عبقری بے مثال چیز کو کہتے ہیں جس کی کوئی مثال نہ ہو عبقری کسے کہتے ہیں؟ بے مثال چیز کو اور حسان میں نے بتلا دیا ابھی بھئی۔ حسن اور حسناء کی جمع ہے اور عبقری مراد بچھونے ہیں بچھو کوئی بھی چیز بے مثال ہو اس کو عبقری کا کہتے ہیں بھئی یہاں بچھونے مراد ہیں اور بے مثال خوبصورت بچھونوں پر متقیئن علی رفرف خضر وعبقری حسان اس حال میں کہ وہ تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے سبز قالینوں پر وعبقری حسان اور بے مثال حسین و جمیل بچھونوں پر بے مثال حسین و جمیل بچھونوں پر وہ تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے فبای آلاء ربکما تکذبان پس تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے تبارک اسم ربک ذی الجلال والاکرام تبارک اسم ربک بڑا باباکرکت ہے اسم ربک تمہارے پروردگار کا نام بڑا اے پیغمبر بڑا بابرکت ہے آپ کے رب کا نام وہ رب ذی الجلال والاکرام دیکھو ذی الجلال یا کے ساتھ آیا معلوم ہو یہ حالت جری میں ہے تو یہ اسم کی صفت نہیں ہے یہ رب کی صفت ہے وہ رب جو جلال والا ہے عظمت والا ہے والاکرام اور احسان کرنے والا ہے اس کا نام بڑا بابرکت ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی تو با محاورہ ترجمہ کیا کریں گے تبارک اسم ربک ذی الجلال والاکرام اور آپ کا وہ پروردگار جو بڑے جلال اور اکرام والا ہے اس کا نام بڑا بابرکت ہے۔ اس کا نام بڑا بابرکت ہے آپ کا وہ پروردگار جو عظمت والا اور احسان کرنے والا ہے اس کا نام بڑا بابرکت ہے۔ یہ یوں ترجمہ کر لیں تبارک اسم ربک ذی الجلال والاکرام بڑا بابرکت ہے نام آپ کے اس پروردگار کا جو عظمت والا اور احسان کرنے والا ہے بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی کتنا بابرکت نام ہے کتنا بابرکت نام ہے پیچھے کتنی نعمتیں ذکر ہوئیں کیسے کیسے انعام ذکر ہوئے یہ سارے اس نام کی برکت ہیں بھئی اس نام کو مانو گے اس کے بتلائے ہوئے راستے پر چلو گے تو اس نام کی برکت ہی دیکھ لو گے کہ کیا کچھ اللہ دیں گے جب اس ذات کے نام میں اتنی برکت ہے کہ ہمیشہ ہمیشہ کی نعمتیں اس کی وجہ سے مل رہی ہیں تو اس ذات کے اندر کیا برکتیں ہوں گی تصور بھی نہیں کیا جاسکتا بھئی بات سمجھ میں آئی بھئی چلیے بس بھئی ھذا هو المرام واللہ اعلم بحقیقة الکلام
131 approved lectures · 109 of 131