اعوذ بالله من الشيطان الرجيم
بسم الله الرحمن الرحيم
و اذ قال ابراهيم لأبيه و قومه اني برآء مما تعبدون الا الذي فطرني فانه سيهدين و جعلها كلمة باقية في عقبه لعلهم يرجعون.
و اذ قال ابراهيم اور جب کہا ابراہیم نے، ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام.
اذ ظرف ہے اور ظرف کے لیے عامل چاہیے، کس چیز کے لیے یہ ظرف ہے؟ تو یہاں یاد رکھیے اذكر محذوف ہے، و اذکر اذ قال ابراهيم اور وہ وقت یاد کیجیے جب کہا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے۔
و اذ قال ابراهيم لأبيه و قومه اور جس وقت کہا حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے لأبيه اپنے باپ سے و قومه اور اپنی قوم سے.
انني برآء مما تعبدون برآء مصدر ہے بھئی، مصدر، بمانی بری ان کے، بری کا معنی ہے الگ ہونا، بیزار ہونا، الگ ہونا، بیزار ہونا۔
اور جس وقت کہا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے انني برآء مما تعبدون کہ بے شک میں بیزار ہوں اس سے جس کی تم، جن کی تم عبادت کرتے ہو، جن چیزوں کی تم عبادت کرتے ہو، جو معبودان باطلہ کی تم عبادت کرتے ہو، ان سے میں بیزار ہوں، ان سے میں الگ ہوں۔
الا الذي فطرني مگر وہ ذات جس نے مجھے پیدا کیا، فانه سيهدين پس بے شک وہ مجھے رہ دکھلائے گی، پس بے شک وہ ذات مجھے وہ ذات میری رہنمائی کرے گی۔
سیهدین بھئی، سیهدینی، یہاں یا محذوف ہے بھئی، نون کا کسرہ اس پر دلالت کر رہا ہے۔
سیهديني، وہ ذات میری رہنمائی کرے گی۔
دیکھیے یہاں مضارع پر سین آیا، یھدی پر سین آیا، اور آپ نے پڑھا ہے فعل مضارع پر سین داخل ہو، تو وہ اس کو مستقبل قریب کے معنی میں کر دیتا ہے۔
یضرب زید، زید پٹائی کرتا ہے، سیضرب زید، عنقریب زید پٹائی کرے گا، دیکھو مستقبل قریب کا معنی کر دیا۔
تو میں نے بھی اسی کے مطابق ترجمہ کیا، فانه سيهدين پس بے شک وہ ذات میری رہنمائی کرے گی۔
تو یہ سین استقبال کے لیے ہوا، کس لیے ہوا؟ استقبال مستقبل کے لیے ہوا۔
اور بعضوں نے کہا کہ یہ سین مستقبل کے لیے نہیں ہے بلکہ بطور تاکید کے ہے۔
بطور تاکید کے، بتلانا مقصد یہ ہے کہ کبھی کبھار کہ یہ سین ہمیشہ مستقبل کے لیے ہونا ضروری نہیں، کبھی کبھار تاکید کے لیے بھی آ جاتا ہے بھئی۔
تو اس صورت میں اس صورت میں مستقبل والا ترجمہ نہیں کریں گے پھر۔
تو پھر کیا ترجمہ کریں گے؟ حال والا ترجمہ کریں گے بھئی، حال والا۔
فانه سيهدين پس بے شک وہ ذات میری رہنمائی کر رہی ہے۔
پس بے شک وہ ذات میری رہنمائی کر رہی ہے۔
یہاں پر اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر فرمایا، مفسرین حضرات دو نکتے یہاں بیان کرتے ہیں بھئی، دو نکتے۔
ایک تو یہ کہ یہ مشرکین مکہ، یہ آرا یہ انہی کی اولاد میں سے تھے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف ہی اپنی نسبت کیا کرتے تھے اور اس پر فخر کیا کرتے تھے، حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ان کو محبت تھی، اس پر فخر کیا کرتے تھے، اور تو جب حضور علیہ السلام ان کو دعوت دیتے، وہ کہتے ہم نے اپنے باپ دادوں کو اس طریقہ پر پایا ہے، ہم اس راستے کو نہیں چھوڑ سکتے، جو کچھ آپ لے کر آئے ہیں، ہم اس کا انکار کرتے ہیں۔
تو اللہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ ذکر کیا کہ اگر تم نے باپ دادوں کا ہی اتباع کرنا ہے، تو اپنے باپ دادوں میں سے اس کا اتباع کرو جس پر تمہیں فخر ہے، جو تمہارے لیے جس سے تم اپنے لیے عزت کا باعث سمجھتے ہو، تو ان کے طریقے پر کیوں نہیں چلتے؟ انہوں نے تو اپنے باپ کے راستے کو غلط ہونے کی وجہ سے چھوڑ دیا تھا، انہوں نے تو اپنے باپ کے راستے کو غلط ہونے کی وجہ سے چھوڑ دیا تھا، تو تمہیں بھی ان کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے اور یہاں تمہارے باپ دادوں کا طریقہ صحیح نہیں ہے، تو اس کو چھوڑ کر توحید کی طرف آ جانا چاہیے۔
تو دو نکتے بھئی میں نے بتلائے، مفسرین حضرات دو نکتے بیان کرتے ہیں، ایک تو یہ کہ ان کا ذکر اس لیے کیا گیا کہ باپ دادوں ہی کے طریقے پر چلنا ہے تو ان کے طریقے پر چلو، اور دوسرا یہ کہ انہوں نے اپنے باپ کے راستے کو غلط ہونے کی وجہ سے چھوڑ دیا تھا، تو تمہیں بھی کیا کرنا چاہیے؟ چھوڑ دینا چاہیے بھئی، چھوڑ دینا چاہیے۔
و اذ قال ابراهيم لأبيه و قومه انني برآء مما تعبدون و اذ قال ابراهيم علیہ السلام نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہ بے شک میں بیزار ہوں ان سے جن کی تم عبادت کرتے ہو، الا الذي فطرني فانه سيهدين مگر وہ ذات جس نے مجھے پیدا کیا، پس بے شک وہ میری رہنمائی کرے گی، و جعلها كلمة باقية في عقبه و جعلها،
ہا ضمیر راجع ہے کلمۂ توحید کو،
ہا ضمیر کس کو راجع؟ کلمۂ توحید کو، جو کہ مفہوم ہو رہا ہے ان کے کلام سے کہ انني برآء مما تعبدون الا الذي فطرني، اس سے کیا مفہوم ہو رہا ہے کیا؟ توحید مفہوم ہو رہی ہے، تو یہ جو کلمۂ توحید ہے اس کو راجع،
و جعلها اور بنایا انہوں نے ہا یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کلمۂ توحید کو کلمتم باقية باقی رہنے والا کلمہ، باقی رہنے والی بات في عقبه عقب کہتے ہیں اولاد کو، في عقبه اپنی اولاد میں لعلهم يرجعون تاکہ وہ رجوع کرتے رہیں،
تاکہ وہ رجوع کرتے رہیں،
و جعلها و جعلها کلمہ و جعلها کلمتم باقية في عقبه لعلهم يرجعون اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس توحید کے عقیدے کو باقی رہنے والی بات، باقی رہنے والی بات کر دیا اپنی اولاد میں، (یعنی انہوں نے اس کلمۂ توحید کو یا یوں کہیں توحید کے عقیدے کو اپنی اولاد میں باقی رہنے والی بات بنا دیا،
یا یوں با محاورہ ترجمہ یوں کریں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد میں اس کلمۂ توحید کو باقی چھوڑا،
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد میں کلمۂ توحید کو باقی چھوڑا تاکہ وہ رجوع کرتے رہیں)، بل متاعت ھؤلاء و آبائهم حتی جاء ھم الحق و رسول مبین، بلکہ نفع دیا میں نے ان کو،
ھؤلاء ان کو، اشارہ ہے مشرکین مکہ کی طرف۔ اللہ فرما رہے ہیں بل متاعت ھؤلاء بلکہ میں نے نفع دیا ان مشرکین مکہ کو و آبائهم اور ان کے باپ دادوں کو حتی جاء ھم الحق یہاں تک کہ ان کے پاس حق آ گیا، و رسول مبین اور واضح بیان کرنے والا رسول آ گیا۔
اللہ فرما رہے ہیں بلکہ میں نے نفع دیا ان مشرکین مکہ کو اور ان کے اباو اجداد کو یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور واضح بیان کرنے والا پیغمبر آ گیا، حق سے مراد وہی کلمۂ توحید ہے یا بعضوں نے لکھا حق سے مراد قرآن ہے، حق سے کیا مراد ہے؟ یہاں تک کہ ان کے پاس قرآن اور واضح بیان کرنے والا پیغمبر آ گیا، یا یہاں تک کہ ان کے پاس دین حق یا دعوت حق اور واضح بیان کرنے والا پیغمبر آ گیا، و لما جاء ھم الحق اور جب ان کے پاس حق آ گیا، قالوا هذا سحر تو انہوں نے کہا یہ تو جادو ہے، و انا به کافرون اور بے شک ہم اس کا انکار کرتے ہیں، و قالوا اور انہوں نے کہا لولا نزل هذا القران،
و قالوا انہوں نے کہا لولا نزل کیوں نازل نہیں کیا گیا ھذا القران یہ قرآن علی رجل کسی مرد پر من القریتین ان دو بستیوں کے،
ان دو بستیوں کے، مراد مکہ اور طائف ہیں،
مکہ اور طائف۔
عظیم یاد رکھیے یہ صفت ہے رجل کی بھئی،
یہ صفت ہے رجل کی،
ای علی رجل عظیماً،
تو وہ کہا جب ان کے پاس آ گیا قرآن اور دین حق تو انہوں نے کہا یہ جادو ہے اور ہم اس کا انکار کرتے ہیں، و قالوا لولا نزل هذا القرآن علی رجل من القریتین عظیم کہ کیوں نہیں نازل کیا گیا یہ قرآن ان دو بستیوں کے کسی عظیم آدمی پر، کسی بڑے آدمی پر کیوں نہیں نازل کیا گیا،
اور دو بستیاں سے مراد مکہ اور طائف ہیں طائف بھئی کیونکہ یہی دو شہر اس علاقے کے بڑے شہر تھے، اس لیے اس کو انہوں نے ذکر کیا، کہ اگر اس قرآن کو نازل کرنا ہی تھا تو اللہ تعالی نے کسی مکہ یا طائف کے کسی بڑے آدمی، بڑے سردار پر سردار پر اللہ اس کو نازل فرماتے، آپ جیسے ایک بے سروسامان شخص پر اللہ اس کو نازل نہ فرماتے،
تو اللہ اس پر فرما رہے ہیں کیا یہ آپ کے یہ لوگ جو ہیں، یہ آپ کے پروردگار کی رحمت کو تقسیم کرنے والے ہیں،
معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟
آگے اللہ فرما رہے ہیں اھم یقسمون رحمت ربک کیا یہ تقسیم کرتے ہیں آپ کے پروردگار کی رحمت کو؟
رحمت سے یاد رکھیے یہاں مراد نبوت ہے بھئی، نبوت، کیا یہ لوگ آپ کے پروردگار کی رحمت کو یعنی نبوت کو تقسیم کرتے ہیں جو اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں،
ان لوگوں نے کیا کہا کہ اگر اللہ کو نازل کرنا ہی تھا قرآن، ہمیں حضور علیہ السلام قرآن کے پاس لے کر آئے، دین حق لے کر آئے، انہوں نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا کہ اگر اللہ نے اس قرآن کو نازل کرنا ہی ہوتا تو مکہ اور طائف کے کسی بڑے سردار پر سردار پر اللہ اس کو نازل فرماتے،
آپ جیسے ایک بے سروسامان شخص پر اللہ اس کو نازل نہ فرماتے،
تو اللہ اس پر فرما رہے ہیں کیا یہ آپ کے یہ لوگ جو ہیں، یہ آپ کے پروردگار کی رحمت کو تقسیم کرنے والے ہیں، یہ فیصلہ کرنے والے ہیں کہ کس کو نبوت ملنی چاہیے اور کس کو نبوت نہیں ملنی چاہیے،
دنیاوی مال و دولت کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
دنیاوی مال و دولت اگر کسی کو دیا جائے تو یہ اس کے اللہ کے نزدیک کوئی محبوب ہونے کی علامت نہیں ہے۔
محبوب ہونے کی،
تو اللہ فرما رہے ہیں اھم یقسمون رحمت ربک کیا یہ تقسیم کرتے ہیں آپ کے پروردگار کی رحمت یعنی نبوت کو، یعنی کیا یہ فیصلہ کرنے کا حق ان کو دیا ہے اللہ نے کہ یہ نبوت کو تقسیم کریں کس کو ملنی چاہیے کس کو نہیں ملنی چاہیے،
نحن قسمنا بینہم معیشتهم فی الحیاۃ الدنیا،
ہم ہی نے تقسیم کی، نحن قسمنا، ہم ہی نے تقسیم کی، حصر ہے یہاں پر یاد رکھیے بھئی،
حصر اور کس طرح حصر آیا،
بلاغت کا نکتہ یاد رکھیے بھئی،
جب فاعل کو مسند فعلی پر مقدم کر دیا جائے تو یہ حصر کا فائدہ دیتا ہے۔
جب فاعل کو مسند فعلی پر مقدم کر دیا جائے تو یہ حصر کا فائدہ دیتا ہے۔
بات سمجھ میں آئی بھئی؟ بھئی دیکھیے مسند ایک کلام میں ایک مسند ہوتا ہے ایک مسند الیہ،
نحن یہ کیا ہے؟ مسند الیہ، اچھا، قسمنا،
قسمنا فعل با فاعل ہے، فعل ہوتا ہے مسند اور فاعل کیا ہوتا ہے؟ مسند الیہ، اور اس قسمنا کے اندر فاعل کون ہے؟
یہ جو نا متکلم کی ضمیر ہے، اور یہ نحن سے بھی کیا مراد ہیں؟
متکل جمع متکلم وہ جو فاعل ہے نا ضمیر وہ بھی جمع متکلم کی ضمیر اور یہ جو نحن جس کو مقدم کیا گیا یہ بھی وہی ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں مسند کیا بچ، کیا چیز ہے؟ اسم ہے یا فعل ہے؟
فعل ہے قسمنا یہ کیا ہے؟ مسند یہ فعل ہے، اس مسند فعلی پر وہ جو فاعل تھا وہ جو متکلم کی ضمیر ہے نا اسی کو یہ جو نحن کو مقدم کیا گیا بھئی، اس کو کیا کیا گیا؟ یہ وہی جمع متکلم ہی کی ضمیر ہے ہاں وہ ہے مرفوع متصل اس کی شکل اور ہے، یہ نحن مرفوع منفصل ہے، اس کی صورت اور ہے، چیز ایک ہی ہے بھئی، وہ صرف متصل ہے اور یہ منفصل۔
صورت سمجھ میں آ گئی تو اصل میں تھا مثلاً کلام قسمنا نحن، اصل میں کیا تھا؟ قسمنا نحن۔
اور یاد رکھیے اب آپ کہیں گے یہ نا تو فاعل ہے پھر نحن کیا تھا؟ نحن تاکید تھی نا کے لیے۔
نحن کیا تھی؟ وہ بھی جمع متکلم، نا بھی جمع متکلم تو یہ یاد رکھیے یہ اس کو تاکید کہیں گے وہی لفظ دوبارہ آ جائے تو اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ تاکید تو یہ جو تاکید تھی اسی یعنی یہ فاعل تھی معنی کے اعتبار سے کیونکہ بعینہ یہ وہی مؤکد ہی ہے، اس کو جب مقدم کر دیا جائے فعل پر تو پھر یہ حصر کا فائدہ دیتا ہے، تخصیص کا فائدہ دیتا ہے تو نحن قسمنا کیا معنی کریں گے؟
ہم ہی نے تقسیم کیا۔
سمجھ میں آئی بات؟ تو یہ فعل کے بعد کبھی کبھار وہی ضمیر کو بطور تاکید کے بھی لایا جاتا ہے بھئی، آپ نے نحو میں پڑھا ہوگا،
آپ کہنا چاہتے ہیں میں نے اور زید نے پٹائی کی۔
کیا کہیں گے؟
میں نے اور زید نے پٹائی کی، ضربتو و زید، لیکن یاد رکھیے یہ درست نہیں، وجہ یہ کہ آپ زید یہ ہے اس میں ظاہر اور یہ الگ ہے، جبکہ آپ اس کا عطف کرنا چاہتے ہیں ضربتو کی تو ان ضمیر پر وہ تو منفصل ہے، وہ تو متصل ہے، وہ تو الگ آ ہی نہیں سکتی، وہ کمزور ہے، وہ کیا ہے؟ کمزور ہے، الگ آ ہی نہیں سکتی بھئی، جب وہ الگ نہیں آ سکتی، وہ کمزور ہے اور آپ اس پر عطف کرنا چاہتے ہیں زید کا،
زید تو قوی ہے وہ تو اکیلا آتا ہے، سورۃ سمجھ میں آرہی ہے؟ وہ تو تقی کا عطف ضعیف پر تو صحیح نہیں تو یہاں پر آپ پھر پڑھیں گے ان شاء اللہ ہدایت النحو اور کافیہ میں پڑھیں گے کہ پھر تاکید لائی جاتی ہے اس ضمیر متصل کی۔ پھر اس طرح کہیں گے ضربتم و زید یہ انا تاکید ہوئی تو وہ ضمیر مؤکد، انا ضمیر تاکید، مؤکد تاکید مل کر اب اس میں قوت پیدا ہوگئی۔ کیونکہ انا تو اکیلی آتی ہے، ضربتم میں تم بغیر فاعل کے آپ کہیں تو اکیلا نہیں کہہ سکتے۔
لیکن انا تو اکیلا کہہ سکتے ہیں، یہ تو مبتدا بھی بنتا ہے، سب کچھ بنتا ہے تو اس میں اب قوت آگئے، اب اس پر عطف صحیح تو یہ جو تو اصل میں تو ہے فاعل تم اور یہ انا کیا ہے اس کی؟ تاکید تو یہ فاعل ہوا معنی کے اعتبار سے، لفظوں کے اعتبار سے تم ہے اور انا بھی اسی کی تاکید ہے تو یہ بھی کیا ہے معنی کے اعتبار سے فاعل۔ اس فاعل کو جب مسند فعلی پر یہ جو پیچھے فعل تھا مسند ہے فعل کیا۔
اس پر جب اس کو مقدم کردیں اور یوں کہیں انا ضربتم تو اب کیا ترجمہ ہوگا؟ میں نے ہی پٹائی کی، حصر آجائے گا۔ سورۃ سمجھ میں آگئی بھئی؟ کیونکہ تقدیم ما حقہ التاخير يفيد الحصر والقصرا والتخصيص جس کا حق تاخیر تھا لیکن آپ نے مقدم کردیا تو یہ تخصیص کا فائدہ دے گا۔ تو یہاں بھی اسی طرح نحن قسمن ہم ہی نے تقسیم کی ہے بینہم ان کے درمیان معیشتہم ان کی روزی فی الحیاۃ دنیا دنیوی زندگی میں۔
ہم ہی نے ان کے درمیان دنیوی زندگی میں روزی تقسیم کی ہے۔
ورفعنا بعضہم فوق بعض درجات اور بلند کیے بعضہم فوق بعض، بعض کے بعض پر، بعض کے بعض پر بلند کیے درجات درجے۔ لیتخذ تاکہ پکڑیں، تاکہ بنائیں بعضہم بعضا، ان میں سے بعض، بعض کو سخریہ، سخریہ۔
محکوم بھئی، محکوم، خدمتگار۔ خدمتگار یا یوں کہیں تابعدار جو بھی ترجمہ کرلیں۔ محکوم، خدمتگار، تابعدار۔ تو سخریہ یاد رکھیے یہ تسخیر سے ہے، تسخیر کا کیا معنی تھا؟ و سخر الشمس۔ مسخر کرنا کیا معنی؟ کام میں لگانا دیکھو مسخر کرنا کام میں لگانا تو یہ اسی سے ہے سخریہ تاکہ بعض بعض کو کام میں لگائیں، یعنی خدمتگار بنائیں، ان سے کام لیں۔
اب معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اللہ تعالی نے دنیا کے اندر سب کو ایک درجے کا نہیں بنایا کہ سب ہی کو مال دے دیا، بلکہ بعضوں کو اللہ نے مال دیا اور بعضوں کو مال نہیں دیا، اس میں جہاں اور بہت سی مصلحتیں، ایک بڑی مصلحت یہ بھی ہے جس کو یہاں بیان کردیا گیا۔ تاکہ اس دنیا کا نظام چلتا رہے۔
کسی کے پاس مال زیادہ ہے، کسی کے پاس کم ہے تو جن کے پاس مال زیادہ ہوگا وہ یہ جو جن کے پاس مال کم ہے ان سے مختلف قسم کے کام لے سکیں گے اور جن کے پاس مال نہیں ہے ان کو مال کی ضرورت ہوگی تو وہ ان کے کام مختلف قسم کے کام سرانجام دیں گے اور اس طرح دنیا کا نظام چلے گا بھئی۔ ورنہ اگر سب کے پاس ہی مال ہوتا تو کون آپ کے کام کرتا بھئی؟ سمجھ میں آئی بات؟
تو اللہ فرما رہے ہیں کہ ہم نے ورفعنا بعضہم فوق بعض درجات اور بعضوں کو بعضوں پر پر بلند درجے دیے لیتخذ بعضہم بعضا سخریہ تاکہ بنائیں بعض ان میں سے بعض کو خدمتگار یا بعض بعض کو سے کام لیں یوں کہیں، بعض بعض کو تابعدار بنا لیں ان سے کام لیں۔
ورحمۃ ربک خیر مما یجمعون اور آپ کے رب کی رحمت بہتر ہے مما اس چیز سے یجمعون جس کو یہ جمع کرتے ہیں۔ اور آپ کے رب کی رحمت بہتر ہے اس چیز کے مقابلے میں جس کو یہ لوگ جمع کرتے ہیں۔ رحمت کا کیا معنی میں نے بیان کیا ابھی بھئی؟ نبوت بھئی نبوت۔
اہم یقسیمون رحمت ربک کیا یہ آپ کے پروردگار کی رحمت کو تقسیم کرتے ہیں؟ تو یہاں بھی رحمت سے نبوت ہی مراد ہے اور آپ کے رب کی رحمت یعنی نبوت بہتر ہے اس سے جس کو یہ جمع کرتے ہیں یعنی اس دنیوی مال سے۔
اللہ فرما رہے ہیں انہوں نے کہا تھا کہ اس قرآن کو مکہ اور طائف کے کسی بڑے سردار پہ کیوں نہیں نازل کیا اللہ نے؟ اللہ فرما رہے ہیں نبوت کس کو ملنی چاہیے؟ کس کو نہیں ملنی چاہیے؟ کیا اس کے فیصلے کا اختیار ہم نے ان کو دیا ہے جو یہ اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں؟
یہ اللہ کا فیصلہ ہے، یہ اللہ کے فیصلے ہیں، جس کو چاہیں نبوت عطا کریں اور جس کو چاہیں نبوت عطا نہ کریں اور نبوت کو تو چھوڑو دنیوی معیشت، دنیوی روزی جو ہے وہ بھی ان کے درمیان ہم ہی نے تقسیم کی ہے اس کا وہ بھی ہم نے ان کے حوالے نہیں کیا، حالانکہ دنیوی یہ جو مال و اسباب ہیں اور روزی ہے، یہ ہماری رحمت یعنی نبوت کے مقابلے میں بڑی ہی ادنی درجے کی چیز ہے تو جب اتنے ادنی درجے کی چیز کا تقسیم کا ہم نے ان کو حق نہیں دیا، ہم نے خود تقسیم کی ہے ان کے اندر تو وہ جو ہماری اعلی درجے کی چیز ہے یعنی نبوت، ان کے فیصلے کا اختیار ہم کیسے ان کو دیتے؟
صورت سمجھ میں، معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ یہ معنی ہے نحن قسمن بینہم معیشتہم فی الحیاۃ الدنیا، ہم ہی نے تقسیم کی ہے ان کے درمیان ان کی روزی دنیوی زندگی میں ورفعنا بعضہم فوق بعض درجات اور بلند کیے ہیں ایک کے دوسرے پر درجات۔ بعضہم فوق بعض، کیا تب محاورہ ترجمہ کریں گے؟ ایک کے دوسرے پر۔
ورفعنا بعضہم فوق بعض درجات اور ہم نے بلند کیے ہیں ایک کے دوسرے پر درجے لیتخذ بعضہم بعضا سخریہ تاکہ بنائے، تاکہ بنائے ایک دوسرے کو تابعدار، یا یا بنائے، یا ایک دوسرے سے کام لے۔
تو سخریہ یہ کس سے ہے؟ تسخیر سے ہے۔ ورحمۃ ربک خیر مما یجمعون اور آپ کے رب کی رحمت یعنی نبوت بہتر ہے اس سے جس کو یہ جمع کرتے ہیں۔ ولولا ان یکون الناس امۃ واحدۃ لجعلنا لمن یکفر بالرحمن لبیوتہم سقفا من فضۃ۔
ولولا اور اگر یہ نہ ہوتا، یعنی اگر یہ بات نہ ہوتی ان یکون الناس امۃ واحدۃ کہ ہو جاتے لوگ ایک امت۔ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگ ایک ہی طریقے والے ہو جاتے، ترجمے پر نظر ہے بھئی۔
اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگ ان یکون الناس کہ ہو جائیں گے لوگ امۃ واحدۃ، ایک ہی طریقے والے لجعلنا تو البتہ ہم بنا دیتے لمن یکفر بالرحمن ان لوگوں کے لیے جو انکار کرتے ہیں رحمن کا لبیوتہم، ان کے گھروں کے سقفاً، سقف جمع ہے سقف کی، چھت کو کہتے ہیں۔
سقفاً، ان کے گھروں کی چھتیں من فضۃ، چاندی کی و معارجا۔ معارج جمع ہے معراج کی، سیڑھی کو کہتے ہیں بھئی۔
و معارجا، اور سیڑھیاں ہم بنا دیتے ان کے گھروں کی چھتیں چاندی سے و معارجا اور سیڑھیاں بھی علیہا یظہرون جن پر وہ چڑھتے۔ ظہر یظہر کے معنی ظاہر ہونے کے بھی، اسی طرح اس کا ایک معنی چڑھنے کے بھی ہیں بھئی ظہر علی الحائط کیا معنی ہوتا ہے؟ دیوار پر چڑھا۔
و معارجا اور ان کی سیڑھیاں علیہا یظہرون جن جن پر یہ چڑھتے ولیبیوتہم ابوابا اور ان کے گھروں کے دروازے و سرورا اور ان کے تخت سرور جمع ہے سریر کی، تخت بھئی۔ اور ان کے وہ تخت علیہا یتکئون جس پر یہ تکیہ لگاتے ہیں۔
اللہ فرما رہے ہیں، اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگ ایک ہی طریقے والے بن جائیں گے یعنی سارے لوگ ہی کافر بن جائیں گے کیا بن جائیں گے؟ اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ سارے لوگ ایک ہی طریقے والے بن جائیں گے تو ہم بنا دیتے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے انکار کیا ہے رحمن کا، یعنی کفر کیا ہے، ان کے گھروں کی چھتیں ہم چاندی کی بنا دیتے اور سیڑھیاں جن پر وہ چڑھتے اور ان کے گھروں کے دروازے اور ان تخت جس پر وہ تکیہ لگاتے ہیں۔
یہ سب ہم کس کے بنا دیتے؟ چاندی کے بنا دیتے و زخرفاً اور سونے کے۔
زخرفاً، سونے کے۔
یعنی یہی چیزیں سونے کی بھی بنا دیتے، چاندی کی بھی بنا دیتے اور سونے کی بھی ان کو پھاڑ کے لیے ہم بنایتے۔
تو زخرفاً، اس کا عطف ہے من فضۃ، یہ فضہ کے محل پر ہے۔
اس کا عطف کس جگہ، کس پر ہے؟ فضہ پر ہے۔ آپ کے ذہن میں آئے گا فضہ تو مجرور ہے تو اس کو بھی مجرور ہونا چاہیے تو جواب یہ ہے کہ یہ محل فضہ پر اس کا عطف ہے اور محلا فضہ منصوب ہے۔
ہم بنا دیتے کیا بنا دیتے؟ سقفا، لبیوتہم ان کے گھروں کی جو چھتیں ہیں۔ کیا بنا دیتے اس کو؟ فضتاً، چاندی بنا دیتے تو یہ۔
محل کے اعتبار سے کیا ہے؟ منصوب ہے، ان کے گھروں کی چھتیں ہم چاندی بنا دیتے تو یہ محل فضہ پر عطف ہے۔ زخرف کا کیا معنی کیا میں نے؟ سونے کے، سونا بھئی۔ اور بعضوں نے اس کا ترجمہ زینت کے ساتھ کیا۔
زینت۔ تو زخرف کے دونوں معنی آتے ہیں، زینت بھی اور سونا بھی۔ یعنی ان کے یہ چیزیں بھی ہم چاندی کی بنا دیتے و زخرفاً اور زینت کی چیزیں جو ہیں ان کی وہ بھی کس کی بنا دیتے؟ سونے کی چاندی کی ہم بنایتے۔
معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ تو اللہ فرما رہے ہیں اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ ایک ہی طریقے والے بن جائیں گے (یعنی کفر پر ہی سارے جمع ہو جائیں گے) تو ہم یہ سب کچھ چیزیں جتنی ہیں ان کی وہ ہم سونے کی اور چاندی کی ان کے لیے بنا دیتے، لیکن اس میں یہ تھا کہ جو ناد سمجھ لوگ ہوتے، وہ دیکھتے کہ کفار کے پاس تو بڑا مال ہے، تو وہ بھی وہ سمجھتے کہ معلوم ہوا یہ اللہ کے محبوب لوگ ہیں، جب ہی اللہ نے ان کو اتنا مال دے رکھا ہے، چنانچہ سارے ہی ان کے طریقے پر ہو جاتے اور ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتے بھئی۔
تو اس لیے ہم نے ان کو سونے چاندی کی یہ چیزیں عطا نہیں کیں۔ کہ تاکہ کہیں سب نہ سمجھ لوگ انہی کے طریقے پر نہ ہو جائیں، ورنہ ان چیزوں کی اس سونے اور چاندی کی ان دنیوی اسباب کی اللہ کے ہاں کوئی وقت نہیں، کوئی حیثیت نہیں۔
دیکھیے اللہ خود آپ کو بتلا رہے ہیں کہ ہمارے ہاں اس کی اتنی بھی وقت نہیں ہے، اتنی بھی کہ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ سارے لوگ کفر پر جمع ہو جائیں گے تو ہم یہ سارا کچھ ہی کفار کو دے دیتے، ہمارے ہاں اس کی کوئی وقت ہی نہیں ہے۔
چنانچہ احادیث میں آتا ہے بھئی۔ کہ اگر اس دنیا کی وقت اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو اللہ ایک گھونٹ پانی بھی کسی کافر کو نہاتے۔
اگر اس دنیا کی وقت اللہ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو کسی کافر کو ایک گھونٹ پانی بھی اس میں سے اللہ عطا نہ فرماتے۔
معلوم ہو اللہ کے ہاں اس دنیا کی وقت ایک مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہے بھئی، مچھر کے پر کے برابر۔
تو یہ دنیوی چیزیں ہیں یہ سب فنا ہو جانے والی ہیں، اللہ کے ہاں ان کی کوئی عزت نہیں، کوئی وقت نہیں اور دوسری احادیث میں آتا ہے۔ کہ اللہ تعالی رزق سب کو دیتے ہیں۔
جس سے محبت ہو یا محبت نہ ہو، سب کو رزق دیتے ہیں۔ لیکن دین اللہ اسی کو نصیب فرماتے ہیں جس سے اللہ کو محبت ہوتی ہے۔
دین ہر ایک کو نہیں دیا جاتا، دین کس کو نصیب فرماتے ہیں؟ جس سے اللہ کو محبت ہوتی ہے۔
تو دیکھیے کس طرح احادیث میں جگہ جگہ آپ لوگوں کی فضیلت کو بیان کیا گیا ہے بھئی۔
اللہ تعالی ہمیں صحیح طریقے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتلائے ہوئے طریقے پر چلنے کی توفیق نصیب فرمائے۔
تو یہ دنیا کچھ بھی نہیں، یہ سب یہیں رہ جانے والا ہے۔
وما ان کل ذلک لما متاع الحیوۃ الدنیا و ان، ان یہ نافیہ ہے۔
اور نہیں ہے کل ذلک یہ سب لما، لما بمعنی الا کے ہے۔
لما بمعنی الا نہیں ہے یہ سب مگر متاع الحیوۃ الدنیا دنیوی زندگی کا نفع۔
یہ سارا کچھ اللہ فرما رہے ہیں یہ دنیوی زندگی کا نفع ہی ہے اور کچھ نہیں ہے یہ بیکار چیزیں ہیں، بس دنیوی زندگی کے نفع کے لیے ہم نے کچھ دے دیا۔
والاخرۃ عند ربک للمتقین اور آخرت آپ کے رب کے نزدیک، آپ کے رب کے پاس، للمتقین ڈرنے والوں کے لیے ہے۔
آخرت آپ جو آپ کے رب کے پاس ہے وہ ڈرنے والوں کے لیے ہے۔
ولولا ان یکون الناس امۃ واحدۃ اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگ ایک ہی طریقے والے ہو جائیں گے تو البتہ ہم بنا دیتے ان کے لیے جو انکار کرتے ہیں رحمن کا، ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی و معار، اور سیڑھیاں جن پر وہ چڑھتے اور ان کے گھروں کے دروازے اور تخت جن پر وہ تکیہ لگاتے ہیں وہ بھی، و زخرفا اور سونے کے بھی اور سونے کے بھی۔
و ان کل ذلک لما متاع الحیوۃ الدنیا اور نہیں ہے یہ سب مگر دنیوی زندگی کا نفع اور آخرت آپ کے پروردگار کے نزدیک ڈرنے والوں کے لیے ہے ومن یعش عن ذکر الرحمٰن اور جو اندھا بن جاتا ہے رحمن کے ذکر سے، نقیض لہ شیطانا، قیزا کے معنی مقرر کرنے کے، نقیض لہ شیطانا، ہم مقرر کردیتے ہیں اس کے لیے شیطان کو، فھو لہ قرین تو وہ اس کا ساتھی ہوتا ہے۔
یعنی وہ اس کا ساتھی بن جاتا ہے، قرین کسے کہتے ہیں؟ ساتھی کو۔
عشا یعشو کے معنی اندھا بننے کے بھئی، اندھا بننا، اعراض کرنا، منہ موڑنا۔
ومنیعشو جی بمحاورہ ترجمہ یوں کرلیں بھئی، عشا یعشو کے کیا معنی ہیں؟ اندھا بننا۔
یعنی اعراض کرنا۔
ومنیعشو اور جو نظریں چراتا ہے رحمن کے ذکر سے، نقیض لہ شیطانا، ہم مسلط کردیتے ہیں اس پر شیطان کو، فھو لہ قرین تو وہ اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔
وانہم لیسدونہم عن السبیل، صد یصدق کے معنی روکنے کے اور بے شک وہ جو شیطان ہیں، لیسدونہم روکتے ہیں ان کو عن السبیل راستے سے، الف لام آیا السبیل، کون سا راستہ مراد ہے؟ سیدھا راستہ۔
و انہم، بیشک وہ شیطان جو ہیں، لیسدونہم روکتے ہیں ان کو عن السبیل سیدھے راستے سے، و یحسبون، اور یہ لوگ اور وہ لوگ گمان کرتے ہیں انہم مہتدون۔
تو وہ راہ سیدھی وہ ہدایت پر ہیں وہ کیا سمجھتے ہیں ہم ہدایت پر ہیں اللہ فرما رہے ہیں جو رحمان کے ذکر سے یعنی توحید سے اور یعنی کہ قرآن سے وہ اعراض کرتا ہے اور اس کے لیے اندھا بن جاتا ہے ہم اس کے پر شیطان کو مقرر کر دیتے ہیں مسلط کر دیتے ہیں اور وہ پھر اس کا ساتھی بن جاتا ہے اور اس کو وہ برے راستے مزین کر کے دکھاتا ہے
تو یہ ان کو نیکی کے راستے سے سیدھے راستے سے یہ شیاطین روکتے ہیں اور پھر ان کی عقل بھی اتنی مسخ ہو جاتی ہے کہ یہ سمجھتے ہیں ہم ہدایت پر ہیں ہم سیدھے راستے پر ہیں نیکی اور بدی کی پہچان ہی ختم ہو جاتی ہے اس کی پہچان بھی پھر انہیں باقی نہیں رہتی
اور من یعش جو رحمان کے ذکر سے اندھا بن جاتا ہے ہم مقرر کر دیتے ہیں اس کے لیے شیطان کو تو اس کا ساتھی بن جاتا ہے اور بے شک وہ شیطان ان کو البتہ روکتے ہیں سیدھے راستے سے اور وہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں
حتی اذا جاءنا یہاں تک کہ جب وہ ہمارے پاس آئے گا یہ وہ شخص جس پر شیطان کو مسلط کیا گیا وہ جب ہمارے پاس آئے گا قال تو کہے گا یا لیت بینی وبینکم بعد المشرقین کاش کہ میرے اور تمہارے درمیان مشرق و مغرب کی دوری ہوتی
مشرقین سے کیا مراد ہے مشرق و مغرب تغلیب ہے تغلیب اس کے اندر بھئی تغلیب آپ پڑھ چکے ہیں کہ ایک لفظ کو دوسرے پر غلبہ دے دیا جاتا ہے اور دونوں کے لیے کے لیے وہی لفظ استعمال کر لیا جاتا ہے جیسے ایک مشرق ہے اور دوسری مغرب ہے اور ان میں دوری ہے لیکن یہاں پر مغرب کے لیے ہی مشرق کا لفظ استعمال کر لیا گیا تو کتنے مشرق ہو گئے دو تو مشرقین کہا گیا یا جیسے کہہ دیتے ہیں ابوین کیا ابوین سے کیا مراد ہوتے ہیں والدین اب حالانکہ ایک اب ہے ایک باپ ہے اور ایک تو ماں ہے لیکن ماں کے لیے بھی کیا لفظ استعمال کر لیا گیا وہی اب والا لفظ تو کیا کتنے اب بن گئے دو تو تثنیہ بن گیا ابوین یا جیسے کہتے ہیں قمرین حالانکہ ایک سورج ہے اور ایک چاند ہے لیکن سورج کے لیے بھی کون سا لفظ استعمال کر لیا اس پر بھی کس کا اطلاق کر دیا قمر کا تو قمرین ہوئے
یا جیسے عمرین بھئی حضرت ابوبکر اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہما حضرت ابوبکر پر بھی عمر کے لفظ کا اطلاق کر دیا گیا تو عمرین ہوئے تو اس سے کون مراد ہوتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تو اسے کیا تغلیب کہتے ہیں
یا جیسے والدین حالانکہ ایک والد ہے دوسری تو والدہ ہے تو لیکن وہی والد مذکر کا لفظ جو ہے اسی کی تثنیہ بنا لی گئی تو والدہ پر بھی والد کا اطلاق کر دیا گیا بھئی تو یہاں بھی اسی طرح ہے بھئی مغرب پر بھی مشرق کے لفظ کا اطلاق کر دیا گیا
اللہ فرما رہے ہیں کہ ہم ان کے لیے شیطان کو مقرر کر دیتے ہیں اور جب یہ لوگ جن پر شیاطین کو مقرر کیا گیا جب آخرت میں آئیں گے اپنے انجام کو دیکھیں گے تو اس وقت اپنے ساتھ رہنے والے شیاطین سے کہیں گے کہ کاش تیرے اور میرے درمیان اتنی دوری ہوتی جتنی دوری مشرق اور مغرب کے اندر ہے تو میرے قریب نہ آیا ہوتا
قریب نہ آیا ہوتا حتی اذا جاءنا یہاں تک کہ جب وہ ہمارے پاس آئے گا قال تو کہے گا یا لیت بینی وبینکم بعد المشرقین کاش کہ میرے اور تمہارے درمیان بعد المشرقین مشرق و مغرب کی دوری ہوتی فبئس القرین پس بڑا برا ساتھی ہے تو پس تو بڑا ہی برا ساتھی ہے یہ وہ لوگ کہیں گے شیاطین سے
شیاطین سے بئس افعال ذم میں سے ہے یہ انشاءِ زم کے لیے آتا ہے انشاءِ یہ خبر کے لیے نہیں آتا خبر نہیں دی جاتی بلکہ کیا کیا جاتا ہے انشاءِ زم کسی چیز کی مذمت کرنے کے لیے اور اس کے لیے ایک مخصوص بھی زم چاہیے ایک فاعل چاہیے اور ایک مخصوص بھی زم یہ القرین یہ تو ہے اس کا فاعل اور مخصوص بھی زم محذوف ہے کیا انت
وہ شیطان سے بات کر رہے ہیں نا تو کیا کہتے ہیں فبئس القرین انت تم کتنے برے ساتھی ہو
یا یہ پھر بعضوں نے کہا یہ اللہ کا کلام ہے ان کی بات بعد المشرقین پر ختم ہوئی فبئس القرین اللہ فرما رہے ہیں کہ شیطان کتنا برا ہم ساتھی ہے شیطان کتنا برا ساتھی ہے پھر اس صورت میں فبئس القرین ھو فبئس القرین ھو ہوگا بھئی کتنا برا ساتھی ہے وہ
ولینفعکم الیوم اور ہرگز نفع نہیں دے گا آج کے دن آج کے دن اذ ظلمتم جبکہ تم ظلم کر چکے انکم فی العذاب مشترکون یہ کہ تم عذاب میں مشترکون باہم شریک ہو
اور ہرگز نفع نہیں دے گا تم کو ہرگز نفع نہیں دے گی تم کو یہ بات ولینفعکم الیوم اور آج تمہیں یہ بات ہرگز نفع نہیں دے گی ینفع فعل ہے ہر فعل کے لیے فاعل یا نائب فاعل چاہیے یاد رکھیے اس ینفع کا فاعل یہ انکم فی العذاب مشترکون تمہیں یہ بات نفع نہیں دے گی کون سی بات نفع نہیں دے گی کہ تم سب عذاب میں باہم شریک ہو تم بھی اور تمہارے ساتھی شیاطین بھی یہ تمہیں نفع نہیں دے گی
اذ ظلمتم جبکہ تم ظلم کر چکے دنیا کے اندر تم کیا کر چکے ظلم کر چکے شرک کر چکے
بھئی دنیا کے اندر اگر تکلیف ہو اور تکلیف عام ہو دوسرے لوگ بھی اس میں مبتلا ہوں تو وہ تکلیف ہلکی محسوس ہوتی ہے
بھئی انسان دیکھتا ہے سارے اس کے اندر مبتلا ہیں تو وہ تکلیف بھی ہلکی معلوم ہونے لگتی ہے
اللہ فرما رہے ہیں کہ تمہیں یہاں جہنم میں جبکہ دنیا میں تم ظلم کر چکے تو آج تمہیں نفع نہیں دے گی یہ بات بھی کہ تم سب عذاب میں باہم شریک ہو اس سے تمہیں کوئی نفع نہیں ہوگا اس قسم کی ظاہری باتوں سے دنیا میں تو کچھ تسلی ہو جاتی تھی کہ یہ باقی بھی میرے ساتھ اسی غم میں برابر کے مبتلا ہیں لیکن جہنم میں اتنا سخت عذاب ہوگا اتنی تکلیف میں ہوگا ہر ایک کہ اس قسم کی سطحی باتوں سے کوئی ذرہ بھر بھی تسلی نہیں ہوگی بھئی
صورت سمجھ میں آگئی بھئی تو وہ دیکھے گا کہ میرے ساتھی بھی یہاں جل رہے ہیں بھئی اگر وہ شیاطین ساتھ ہی ہوئے ہیں ان کے وہاں جل رہے ہیں تو ان کو کیا نفع ہوا ان کا عذاب تو اسی طرح ہے بھئی صورت سمجھ میں آگئی بھئی
ولینفعکم الیوم اذ ظلمتم انکم فی العذاب مشترکون اور ہرگز نفع نہیں دے گی آج کے ہرگز نفع نہیں دے گی یہ بات آج کے دن جبکہ تم یہ ظلم کر چکے کہ تم عذاب کے اندر باہم شریک ہو افانت تسمع الصم او تہدی العمی ومن كان فی ضلال مبین افانت تسمع الصم کیا آپ سنا سکتے ہیں بہروں کو او تہدی العمی یا آپ ہدایت دے سکتے ہیں اندھوں کو
کیا آپ افانت تسمع الصم کیا آپ ان بہروں کو سنا سکتے ہیں او تہدی العمی یا اندھوں کی رہنمائی اندھوں کو ہدایت دے سکتے ہیں ومن کان فی ضلال مبین اور اس شخص کو جو واضح گمراہی میں ہو
اس شخص کو جو واضح گمراہی میں ہو
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو دعوت دیتے لوگ اس کو قبول نہ کرتے تو آپ بڑے غم زدہ ہوتے بڑے غم زدہ ہوتے تو اللہ کی طرف سے آپ کو تسلی دی جا رہی ہے افانت تسمع الصم کیا آپ بہرے کو سنا سکتے ہیں یہ تو تو بہرے ہیں تو ان پر غم کھانے کی ضرورت نہیں یہ سنتے ہی نہیں یہ سن ہی نہیں سکتے او تہدی العمی یا آپ اندھے کو کہ ہدایت دے سکتے ہیں او ومن کان اور اس کو جو کہ واضح گمراہی میں ہو
فاما نذهبنبک فانا منہم منتقمون فاما نذهبنبک پس اگر ہم لے جائیں آپ کو نذهبنبک اگر ہم لے جائیں آپ کو یعنی اس دنیا سے اٹھا لیں اگر ہم آپ کو اس دنیا سے لے جائیں یعنی آپ کو وفات دے دیں فانا منہم منتقمون پس یقیناً ہم ان سے انتقام لینے والے ہیں
اللہ فرما رہے ہیں کہ ہم ان سے انتقام ہم نے لینا ہے
تو یا تو ہم آپ کو لے جائیں اس دنیا سے آپ کے سامنے ان سے انتقام نہ لیں تو بھی ہم نے انتقام بعد میں لینا ہے یا آپ کے سامنے ہی آپ کو بھی دکھا دیں کہ ہم نے ان پر اپنا عذاب نازل کیا ہے بھئی
فاما نذهبنبک پس اگر ہم آپ کو لے جائیں فانا منہم منتقمون تو پس یقیناً ہم ان سے انتقام لینے والے ہیں اورنرینک الذی وعدناہم یا دکھا دیں الذی اورنرینک یا دکھا دیں آپ کو الذی وعدناہم وہ جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے
فانا علیہم مقتدرون پس بے شک ہم ان پر قدرت رکھتے ہیں فانا علیہم مقتدرون پس بے شک ہم ان پر قدرت رکھتے ہیں
ترجمہ سمجھ میں آیا یہ اورنرینکل اورنرینکل الذی وعدناہم فانا علیہم مقتدرون یا ہم دکھا دیں آپ کو وہ جس کا ہم نے ان سے وعدہ کر رکھا ہے پس بے شک ہم اس پر بھی قادر ہیں
پس بے شک ہم اس پر بھی قادر ہیں اللہ فرما رہے ہیں یا تو ہم آپ کو لے جائیں دنیا سے اور آپ کے سامنے ان کو پر گرفت نہ فرمائیں تو بہرحال ہم نے ان سے انتقام لینا ہے یا ہم اگر چاہیں تو آپ کو بھی کچھ اس میں سے دکھا دیں جس کا ہم نے ان لوگوں سے وعدہ کر رکھا ہے تو اس بات پر بھی ہم قادر ہیں
اور پھر جیسے کہ غزوہ بدر میں اللہ نے کفار کے جس میں ستر بڑے بڑے سردار ان کے مارے گئے اور اتنے گرفتار ہوئے تو جو اللہ کی طرف سے ان پر عذاب آیا یہ اس جنگ کی صورت میں یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اللہ نے ان کو دکھا دیا بھئی
فاستمسک بالذی اوحی الیک پس آپ مضبوطی سے تھامیے اس چیز کو اوحی الیک جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے یعنی قرآن کو اس دین کو فاستمسک بالذی اوحی الیک پس آپ مضبوطی سے تھامیے اس کو جو آپ کی طرف وحی سے کیا گیا ہے انک علی صراط مستقیم بے شک آپ سیدھے راستے پر ہیں وانہ لذکر لك ولکوامک اور بے شک وہ قرآن البتہ عظیم شرف ہے آپ کے لیے اور آپ کی قوم کے لیے
ذکر یہاں شرف کے معنی میں ہے
بڑا شرف ہے فضیلت ہے شرف ذکر کس معنی میں ہے شرف کے معنی میں اور یہ ذکر میں جو تنوین آ رہی ہے یہ تنوین تعظیم کے لیے ہے کس کے لیے ہے کلام عرب میں بعض اوقات تنوین کو مختلف معانی کے لیے لایا جاتا ہے بھئی تو بلاغت کی کتابوں میں آگے جا کر آپ پڑھیں گے تو یہاں یہ تنوین کس کے لیے ہے عظمکت کے لیے ہے عظمت بیان کرنے کے لیے ای ذکر عظیم ذکر عظیم اور ذکر سے کیا مراد ہے شرف ای شرف عظیم بے شک یہ قرآن جو ہے لذکر لك ولکوامک عظیم شرف ہے آپ کے لیے اور آپ کی قوم کے لیے
کہ ہم نے اسے آپ کو اور آپ کی قوم کو عطا فرمایا اور آپ کی زبان میں عطا فرمایا جس کے ذریعے پھر ساری دنیا کے لوگ کیا کریں گے ہدایت حاصل کریں گے
وفسوف تسئلون اور عنقریب تسئلون تم سے پوچھی ہوگی تمہیں پوچھا جائے گا کہ تم نے اس قرآن کا کیا حق ادا کیا
وفسوف تسئلون اور عنقریب تم سے پوچھ ہوگی وساال من ارسلنا من قبلک وساال اور اے پیغمبر آپ پوچھیے من ان سے ارسلنا من قبلک جن کو بھیجا ہم نے آپ سے پہلے من رسلنا
یہ بیان ہے من کا یہ بیان ہے اے پیغمبر آپ پوچھیے ان سے جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھیجا بھئی کون من رسلنا یعنی کہ ہمارے پیغمبر ہمارے پیغمبر
تو یہ من رسلنا کس کا بیان ہے من کا آپ پوچھیے ان سے جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھیجا بھئی وہ کون لوگ ہیں پتہ نہیں چلا ابھی تک واضح نہیں ہوئی بات تو پھر یہ بعض اوقات بیان لایا جاتا ہے من رسلنا یعنی کہ ہمارے رسول جو ہیں تو یہ من رسلنا کس کا بیان ہے من کا تو ذرا من کو اٹھا کر بامحاورہ ترجمہ کرنے کے لیے رسلنا کو وہاں پر لے جائیں اور آپ پوچھ لیجیے ہمارے ان رسولوں سے جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھا
ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی یہ بامحاورہ ترجمہ اس طرح بڑا پیارا ہو جاتا ہے اور آپ پوچھ لیجیے ہمارے ان رسولوں سے جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھیجا پہلے بھیجا اجعلنا کیا ہم نے بنا دیے کیا ہم نے قرار دیے من دون الرحمان رحمان کے علاوہ آلہۃ معبود کیا ہم نے قرار دیے رحمان کے علاوہ اور معبود یعبدون آلہۃ نکرہ اور نکرہ کے بعد کیا آیا فعل اور فعل اس کے لیے عموماً کیا بنتا ہے صفت موصوف صفت کا ترجمہ کیسے کرتے ہیں موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ
اجعلنا من دون الرحمان آلہۃ یعبدون کیا ہم نے بنا دیے کیا ہم نے قرار دیے رحمان کے علاوہ ایسے معبود جن کی عبادت کی جائے یعبدون جن کی عبادت کی جائے
ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی اللہ فرما رہے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ اے پیغمبر آپ پوچھ لیجیے ان ہمارے ان پیغمبروں سے جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھا کیا ہم نے قرار دیے تھے رحمان کے علاوہ اور ایسے معبود جن کی عبادت کی جائے کیا ہم نے ایسے معبود مقرر کیے تھے آپ ان پیغمبروں سے پوچھ کر دیکھ لیجیے
تو یہ مشرکین مکہ کو کو وہ
خاموش کروانے کے لیے اور ان پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جو توحید تھا جو دعوت تھی اس کے اس بات کے طور پر اس طرح کا کلام ذکر کیا گیا
کہ اے پیغمبر آپ خود بھی پوچھ لیجیے اور پیغمبروں سے کہ کیا ہم نے کوئی رحمان کے علاوہ ایسے معبود مقرر کر رکھے تھے جن کی عبادت کی جائے یعنی اے پیغمبر جب آپ کی ملاقات ہو تو پھر پوچھ لیجیے یا یہ اہل کتاب ہیں یہ انہی پیغمبروں کے دعویدار ہیں ان کے راستوں پر چل رہے ہیں انہی سے پوچھ لیجیے ان کی کتابوں وغیرہ کے ذریعے آپ تحقیق کر لیجیے کیا کبھی ہم نے کسی پیغمبر کو یہ کہا کہ میرے ساتھ اور شریکوں کو بنایا جائے ہم نے یہ کسی پیغمبر کو یہ پیغام دے کر نہیں بھیجا تو اے پیغمبر آپ پوچھ لیجیے اور رسولوں سے یعنی جب آپ کی اگر ان سے ملاقات ہو جائے یا کیا کیجیے اہل کتاب کی کتابوں کے ذریعے تحقیق کر لیجیے یا ان لوگوں سے پوچھ لیجیے
چلیے بس بھئی یہ تھا وہ المرام واللہ اعلم بحقیقت الکلام