اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
فاسر بعبادی لیلا انکم متبعون واترك البحر رحوا انهم جند مغرقون کم تركوا من جنات وعیون وزروع ومقام کریم ونعمة كانوا ونعمة كانوا فيها فاكهين
بہی حضرت موسی علیہ السلام کا واقعہ ذکر ہو رہا ہے کہ انہوں نے فرعون سے اور اس کی قوم سے کہا فرمائیے کہ تم اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور اللہ کے بندوں کو یعنی بنی اسرائیل والوں کو میرے حوالے کر دوں۔ میں تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں اور پھر فرعون وغیرہ نے قتل کی دھمکیاں دیں تو فرمانے لگے کہ میں نے اپنے اور تمہارے پروردگار یعنی اللہ کی پناہ پکڑ لی ہے اس بات سے کہ تم مجھے سنگسار کرو یعنی مجھے قتل کرو۔
फिर उसके बाद हजरत मूसा अलैहिस्सलाम ने उनके बारे में अपने परवर्दिगार को पुकारा कि अल्लाह यह मुजरिम लोग हैं।
تو اللہ فرما رہے ہیں آگے فاسر بعبادی لیلا
اسری یسری اسراء کے معنی ہوتے ہیں رات کو لے جانا۔ اسری یسری اسراء کے کیا معنی ہیں؟ رات کو لے جانا۔
اور آگے چونکہ لیل کا لفظ خود بھی آرہا ہے تو لہذا یہاں تجرید ہوگی۔ کیا ہوگی؟ تجرید۔
جرد یجرد تجرید کے معنی ہیں خالی کرنا۔ خالی کرنا۔ یعنی اسراء کو رات کے معنی سے خالی کر دیں گے۔
تو اسرا کا پہلے کیا معنی تھا؟ رات کو لے جانا۔ اب کیا معنی کریں گے؟ لے جانا۔ کیا معنی کریں گے؟ لے جانا کیونکہ رات کا لفظ آگے خود آرہا ہے تو پھر مل کر پھر معنی وہی بن جائے گا۔ رات کو لے جانا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟
فاسر بعبادی لیلا پس لے چلیے میرے بندوں کو رات میں۔
اللہ تعالی حضرت موسی علیہ السلام کو حکم دے رہے ہیں بھئی وہ جو حضرت موسی علیہ السلام بنی اسرائیل والوں کو لے کر نکلے اور پھر سمندر پر لاٹھی ماری تو اس میں اللہ نے 12 راستے بنا دیے۔ بنی اسرائیل کو لے کر وہ اس میں سے گزر گئے۔ فرعون پیچھا کرتا ہوا آیا اور پھر اس کو اس کے سارے لشکر سمیت اللہ نے غرق کر دیا۔ وہی بات ذکر ہو رہی ہے کہ اللہ نے حکم دیا اللہ فرما رہے ہیں ہم نے حکم دیا انہیں فاسر بعبادی پس آپ لے چلیے بعبادی میرے بندوں کو لیلا رات میں یعنی راتوں رات۔ رات ہی رات میں با محاورہ ترجمہ فاسر بعبادی لیلا پس آپ لے چلیے میرے بندوں کو رات ہی رات میں انکم متبعون بیشک تمہارا پیچھا کیا جائے گا۔
استباع استباع یتباع کے معنی پیچھے کرنے کے پیروی کرنے کے تو متبعون ہوتا تو اس میں فاعل تھا۔ پیچھے کرنے والے۔ یہاں آیا اس میں مفعول۔ متبعون جس کا پیچھا کیا جائے۔
انکم متبعون بیشک تمہارا پیچھا کیا جائے گا یعنی فرعون تمہارا پیچھا کرے گا۔
لفظی ترجمہ سمجھ میں آگیا بھئی فاسر بعبادی لیلا لے چلیے میرے بندوں کو رات میں۔ با محاورہ کس طرح کریں گے؟ فاسر بعبادی لیلا پس آپ راتوں رات میرے بندوں کو لے چلیے یا رات یوں۔ یوں ترجمہ کر لیں پس آپ رات ہی رات میں میرے بندوں کو لے چلیے انکم متبعون بیشک تمہارا پیچھا کیا جائے گا وترك البحر رحوا
رحوا
رحون کا معنی ہے ٹھہرا ہوا، ساکن۔
رحون کا کیا معنی؟ ٹھہرا ہوا ساکن۔ وترك البحر رحوا اور چھوڑ دیجیے سمندر کو ٹھہرا ہوا۔
سمندر کو ٹھہرا ہوا چھوڑ دیجیے۔
مراد یہ ہے کہ آپ لاٹھی ماریں گے 12 راستے بنیں گے تو آپ بنی اسرائیل کو تو لے کر نکل جائیں گے پیچھے یہ فکر نہ کرنا کہ راستے بنے ہوئے ہیں فرعون بھی پیچھے آرہا ہے۔ سمندر کو اسی طرح چھوڑ دینا اس کی فکر نہ کرنا بھئی اسی طرح راستے بنے ہوئے ہیں آپ اسی طرح اس کو چھوڑ دینا اس کی فکر نہ کرنا کہ فرعون بھی کہیں اس میں سے نکل آئے گا۔
معنی سمجھ میں آگیا وترك البحر رحوا اور چھوڑ دیجیے سمندر کو ٹھہرا ہوا انہم جند مغرقون بیشک وہ ایک لشکر ہے غرق کیا ہوا
یعنی جن کو غرق کیا جائے گا بیشک وہ لشکر ہے جن کو غرق کیا جائے گا۔ جند لشکر کو کہتے ہیں بھئی۔
انہم جند مغرقون بیشک وہ ایک ایسا لشکر ہے جسے غرق کیا جائے گا کم ترکوا من جنات وعیون
كم تركوا بھئی کم آیا کم کا پہلے میں بیان کر چکا ہوں۔ کم کبھی استفہام کے لیے آتا ہے سوال پوچھنے کے لیے اور کبھی خبر دینے کے لیے اور جب خبر دینے کے لیے آئے تو اس کم کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ یہ کثرت کو بیان کرتا ہے۔ تو اللہ یہ یہاں بھی کم خبریہ ہے کثرت بیان ہو رہی ہے۔ کم تركوا من جنات وعیون بہت سے چھوڑ دیے انہوں نے باغات وعیون عیون جمع ہے عین کی چشمے۔
کم تركوا من جنات وعیون بہت سے چھوڑے انہوں نے باغات اور چشمے وزرع اور کھیتیاں
ومقام كريم اور عمدہ جگہیں یعنی عمدہ مکانات۔ عمدہ مکانات۔
و نعمتين اور نعمتیں كانوا فیھا فاكهين
فكاہ یفقہ کے معنی ہوتے ہیں لذت اٹھانا بھئی۔
كانوا فيها فاكهين جن میں وہ لذت اٹھاتے تھے۔ جن میں کیا کرتے تھے وہ؟ لذتیں اٹھاتے تھے۔ اللہ فرما رہے ہیں کہ
پھر انہوں نے پیچھا کیا اور ہم نے ان کو غرق کر دیا اور انہوں نے اپنے پیچھے بہت سے باغات، چشمے، کھیتیاں، شاندار مکانات اور نعمتیں چھوڑیں جن کے اندر وہ لذتیں اٹھایا کرتے تھے بھئی۔
معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟
کم تركوا من جنات وعیون کتنے ہی چھوڑے انہوں نے باغات اور چشمے اور کھیتیاں اور شاندار مکانات مقام کریم عمدہ مکانات یا شاندار مکانات۔ مقام کس کو کہتے ہیں جگہ کو۔
تو کتنے ہی چھوڑے انہوں نے باغات اور چشمے اور کھیتیاں اور شاندار مکان و نعمتين اور نعمتیں كانوا فيها فاكهين جن میں وہ لذتیں اٹھاتے تھے كذالك ای الامر كذلك
كذالك خبر ہے مبتدا محذوف ہے الامر كذلك
الامر كذلك
بات ایسی ہی ہوئی معاملہ ایسا ہی ہوا۔
اللہ فرما رہے ہیں جو ہم ذکر کر رہے ہیں معاملہ اسی طرح ہوا یعنی ان کو ہم نے غرق کیا اور انہوں نے اپنے پیچھے بہت کچھ چھوڑ دیا۔
كذالك ایسا ہی ہوا واورثناها قوما آخرين اور وارث کیا ہم نے ان کا قوما آخرين ایک اور قوم کو۔ ہم نے ان چیزوں کا
ھا ضمیر یہ جو پیچھے جنات و عیون و زرع جو ذکر آئی چیزیں ذکر ہوئیں ان کی طرف راجع۔ ان چیزوں کا ہم نے وارث بنا دیا قوما آخرين ایک دوسری قوم کو۔ تو دوسرے لوگوں کو ہم نے ان چیزوں کا وارث بنا دیا۔
فما بكت عليهم السماء والأرض
بکا یبکی کے معنی ہیں رونے کے رونا فما بكت عليهم السماء والأرض پس نہ رویا ان پر آسمان اور نہ زمین۔
نہ تو ان پر آسمان رویا اور نہ زمین روئی۔
روایات میں آتا ہے
کہ جب کسی مومن کا انتقال ہوتا ہے تو اس پر آسمان کے وہ دروازے بھی روتے ہیں جہاں سے اس کے اعمال صالحہ اوپر چڑھتے تھے
اور آسمان کے وہ دروازے بھی روتے ہیں جہاں سے اس پر اللہ کی رحمت نازل ہوتی تھی
اور اس پر زمین کا وہ حصہ بھی روتا ہے جہاں پر وہ عبادت کرتا تھا جہاں وہ نمازیں پڑھتا تھا سجدے کرتا تھا۔
جبکہ کافر جو ہے جب اس کا انتقال ہوتا ہے تو نہ اس پر آسمان روتا ہے اور نہ زمین روتی ہے۔
بلکہ ہر چیز
راحت میں آجاتی ہے اس کے مرنے پر۔
اس کی وجہ سے وہ جو رہ اللہ کی رحمت کو روکنے کا سبب تھا تو جب وہ مرتا ہے تو چیزوں کو راحت نصیب ہوتی ہے کہ چلیے چلو اس سے ہماری جان چھوٹ گئی۔
فما بكت عليهم السماء والأرض پس نہیں رویا ان پر آسمان وبلارض اور نہ زمین وما كانوا منظرين اور وہ نہیں تھے منظرین مہلت دیے ہوئے
وما اور وہ نہیں تھے کہ ان کو یعنی مہلت دی جاتی۔
وہ ایسے نہیں تھے کہ ان کو مہلت دی جاتی۔
كذالك بات ایسی ہی ہوئی وورثناها قوما آخرين اور ہم نے ان چیزوں کا وارث بنایا دوسرے لوگوں کو فما بكت عليهم السماء والأرض تو نہ تو ان پر آسمان رویا اور نہ زمین وما كانوا منظرين اور وہ نہ تھے مہلت دیے ہوؤں میں سے یعنی ان کو مہلت نہ دی گئی۔
ولقد نجينا بني إسرائيل من العذاب المهين اور تحقیق ہم نے نجات دی بنی اسرائیل کو من العذاب المهین اہانت والے عذاب سے، رسوائی والے عذاب سے، ذلت والے عذاب سے۔
اور تحقیق ہم نے نجات دی بنی اسرائیل کو من العذاب المهینی رسوائی کے رسوائی والے عذاب سے من فرعون
یعنی کہ فرعون سے۔
ان کو رسوائی والے عذاب سے نجاتی یعنی کہ فرعون سے۔
انه كان عاليا من المسرفين
بیشک وہ
عالیہ سرکش تھا۔
فرعون کیا تھا؟ انھ كان عاليا
بیشک وہ سرکش تھا من المسرفين
اسرف یسرف کے معنی حد سے تجاوز کرنا، حد سے بڑھنا۔ من المسرفين حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا۔
ولقد نجينا بني إسرائيل اور تحقیق ہم نے نجات دی بنی اسرائیل کو رسوائی والے عذاب سے یعنی کہ فرعون سے انہ كان عاليا من المسرفين بیشک وہ سرکش تھا حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے تھا ولقد اخترناهم على علم على العالمين اور تحقیق ہم نے پسند کیا اختر یختار کے معنی ہوتے ہیں پسند کرنے کے۔ اور تحقیق البتہ ہم نے ان کو پسند کیا یعنی بنی اسرائیل کو ہم نے کیا کیا؟ پسند کیا۔ علٰی علم
علم کی روح سے
علم کے مطابق یعنی ہم جانتے تھے۔
علم کی روح سے ای علم لنا اپنے علم کی روح سے اپنے علم کے مطابق ہم نے ان کو پسند کیا علٰی العالمین جہان والوں پر۔
معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟
اللہ فرما رہے ہیں بنی اسرائیل والوں کو ہم نے جہان والوں میں سے پسند کیا اپنے علم کے مطابق۔
کیونکہ ہم جانتے تھے ان میں بڑی اچھی صفات ہیں۔
اگرچہ ان میں کمزوریاں بھی تھیں
ان میں بہت سی باتوں کی کمی بھی تھی لیکن تمام جہان والوں میں سے یہ بہتر تھے اپنے ہم۔ یہاں یہ تو اپنے علم کی روح سے
اپنے علم کے مطابق ہم نے ان کو پسند کیا۔ ان کو ویسے ہی نہیں ہم نے فوقیت دی جہان والوں پر، بلکہ اپنے علم کے رو سے ہم نے فوقیت دی کیونکہ ہم جانتے تھے ان کے اندر بڑی عمدہ اور اعلیٰ صفات موجود ہیں۔ چنانچہ آپ بھی جانتے ہیں بھئی، پہلے بھی ذکر ہو چکا کہ بنی اسرائیل کے اندر ہزاروں انبیاء اللہ نے بھیجے بھئی، ہزاروں انبیاء۔
ولقد اخترناهم على علم على العالمين. تو علم، اے علم لنا۔ اپنے علم کے مطابق، اپنے علم کی روح سے۔ ولقد اخترناهم على علم على العالمين، اور تحقیق ہم نے پسند کیا اپنے علم کی روح سے ان کو جہان والوں پر۔ یعنی ان کو فوقیت دی جہان والوں پر۔ واتی ناهم من الآيات ما فيه بلاء مبین، واتی ناهم اور عطا کی ہم نے ان کو من الآيات نشانیاں۔
ما، نشانیوں میں سے ہم نے ان کو عطا کی، ما وہ نشانیاں فیہ بلاء مبین، جن میں صریح انعام تھا، واضح انعام تھا، بلاء مبین بھئی، جن میں واضح انعام تھا، ظاہر انعام تھا، بلاء، بلاء اصل میں کہتے ہیں آزمائش کو، آزمائش کو۔ لیکن یہاں کس معنی میں ہے؟
انعام میں، کہ ہم نے ان کو نشانیوں میں سے وہ نشانیاں دیں جن میں واضح انعام تھا، تو انعام کو بلاء کہا گیا بھئی، بلاء، جن میں واضح انعام تھا اور بلاء ان کا کیا معنی؟ آزمائش۔ تو بھئی جیسے تکلیف اللہ کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے، اسی طرح اللہ کسی کو نعمتیں دیں دنیا میں تو یہ بھی اس کی آزمائش ہوتی ہے کہ ان نعمتوں کے بعد بھی دیکھیں وہ میرے راستے پر چلتا ہے یا نہیں چلتا بھئی۔
تو مختلف لوگوں کے مختلف طریقے سے، کے سے آزمائش ہوتی ہے۔ کسی کی آزمائش تکالیف کے ذریعے ہوتی ہے، تو کسی کی آزمائش نعمتوں کے ذریعے ہوتی ہے بھئی۔ واتی ناهم من الآيات ما فيه بلاء مبین، اور عطا کی ہم نے ان کو نشانیوں میں سے ما وہ نشانیاں فیہ بلاء مبین، جن میں واضح انعام تھا، صریح انعام تھا، مثلاً بھئی، ان کے لیے آسمان سے کھانا نازل ہوتا تھا، من و سلویٰ بھئی۔
ان کے لیے آسمان سے من و سلویٰ نازل ہوتا تھا۔ اسی طرح، بعض باتوں کی وجہ سے اللہ نے ان کو صحرا میں مقید کر دیا۔ صحرا میں سالہا سال تک یہ بھٹکتے پھرتے تھے، نکلنے کا راستہ نہیں ملتا تھا بھئی۔ تو اس دوران بھی اللہ نے ان پر خاص فضل فرمایا۔
اور صحرا جہاں کی گرمی ناقابل برداشت، جہاں انسان رہ ہی نہ سکے، وہاں پر بھی اللہ نے ان کے لیے یہ انتظام فرما دیا کہ ایک بادل ان کے اوپر سایہ کیے ہوئے ہر وقت سایہ کیے ہوئے رہتا تھا۔ جس طرف یہ جاتے تھے، وہ بادل ان پر سایہ کیے رکھتا تھا۔ تو دیکھو کتنا بڑا انعام اللہ کا۔
اور اسی طرح بھئی، پانی ملتا ہی نہیں تھا بھئی، موسیٰ علیہ السلام نے پتھر پر لاٹھی ماری، اس سے اللہ نے ان کے لیے بارہ چشمے جاری کر دیے بھئی، بارہ چشمے جاری کر دیے. تو یہ اللہ کیا فرما رہے ہیں کہ ہم نے ان کو وہ وہ نشانیاں دیں جن میں ان پر واضح انعام تھا، ظاہر انعام تھا۔
جی۔ إن هؤلاء ليقولون یہ درمیان میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ ذکر کرنے کے بعد اب پھر وہی مشرکین مکہ کی بات آئی بھئی۔ اللہ فرما رہے ہیں إن هؤلاء ليقولون بے شک یہ لوگ جو ہیں، یہ یعنی مشرکین مکہ جو ہیں، ليقولون البتہ کہتے ہیں ان هيا إلا موتنا الأولى کہ نہیں ہے یہ مگر پہلی موت تھی۔
نہیں ہے یہ مگر، یعنی وہ کہتے ہیں یہ پہلی موت ہی ہے۔ پہلی موت ہی ہے وما نحن بممنشرين. نشر کے کیا معنی ہوتی تھے بتلایا تھا بھئی، نشور کس کو کہتے ہیں؟ موت کے بعد دوبارہ زندہ کرنا۔ وما نحن بممنشرين اس میں مفعول ہے، ہم دوبارہ زندہ نہیں کیے جائیں گے۔ ہم دوبارہ زندہ نہیں کیے جائیں گے بھئی۔
تو مشرکین مکہ، اللہ فرما رہے ہیں، یہ کہتے ہیں کہ ہماری بس یہ پہلی موت ہی ہے اور ہم پھر زندہ نہیں کیے جائیں گے، بس یہ دنیا میں ایک دفعہ موت آ گئی تو بس ختم ہو جائیں گے، اس کے بعد ہمیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا بھئی۔ اور یہ بھی کہتے ہیں فاتوا بأبنائنا إن كنتم صادقين.
فاتوا، پس تم لے آؤ اے مسلمانوں، تم کہتے ہو کہ موت کے بعد دوبارہ زندگی ہے، ہمیں تو نہیں یقین آتا، موت ایک دفعہ انسان دفہ مر جائے، مٹی میں مل گیا، ختم ہو گیا، وہ دوبارہ کیسے زندہ ہوگا؟ اگر تم سچے ہی ہو، تو ہمارے باپ دادا مر چکے ہیں، مٹی ہو چکے ہیں، ان کو ذرا پھر زندہ کر کے دکھاؤ ہمیں، پھر ہمیں یقین آئے گا بھئی۔ سمجھ میں آ گئی بات بھئی؟ تو کہتے تھے فاتوا بأبنائنا إن كنتم صادقين.
کیونکہ فاتوا بأبنائنا پس تم لے آؤ ہمارے آباء و اجداد کو، إن كنتم صادقين اگر تم سچے ہو۔ إن هؤلاء ليقولون بے شک یہ مشرکین البتہ کہتے ہیں ان هيا إلا موتنا الأولى کہ یہی یہ پہلی موت ہی ہے وما نحن بممنشرين اور ہم دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے، فاتوا بأبنائنا إن كنتم صادقين پس تم لے آؤ ہمارے باپ دادا کو اگر تم سچے ہو۔
أهم خير أم قوم تبع کیا یہ لوگ بہتر ہیں یا تبع کی قوم؟ کیا یہ لوگ بہتر ہیں یا تبع کی قوم بھئی؟ تبع کا لفظ قرآن میں دو جگہ آتا ہے بھئی، تبع کا ذکر، اور یہ ایک تبع اصل میں کہتے تھے یمن کے ہر بادشاہ کو۔ یمن کے، یمن کے بادشاہ کا لقب کیا تھا؟ تبع تھا، تبع۔
جو بھی بادشاہ ہوتا بس اس کو تبع کہا جاتا تھا۔ جیسے میں پہلے بیان کر چکا ہوں، حبشہ کے ہر بادشاہ کو نجاشی کہا جاتا تھا۔ فارس کے ہر بادشاہ کو کسریٰ کہا جاتا تھا۔ روم کے ہر بادشاہ کو قیصر کہا جاتا تھا۔ ترک، ترک کے ہر بادشاہ کو خاقان کہا جاتا تھا۔
تو یہ ان بادشاہوں کے لقب تھے بھئی۔ آج کل تو ہر ملک کے بادشاہ کو صدر کہتے ہیں بھئی، صدر۔ لیکن صدر کہیں تو پتہ نہیں چلتا کون سا صدر مراد ہے، بتلانا پڑتا ہے فلاں ملک کا صدر۔ اور پہلے یہ لقب تھے بادشاہوں کے۔ تبع جب ذکر ہو جاتا سننے والا خود سمجھ جاتا کس ملک کے بادشاہ کی بات ہو رہی ہے؟
یمن کے۔ خاقان کا ذکر ہوتا سمجھ جاتے ترک کے بادشاہ کی بات ہو رہی ہے بھئی۔ تو اللہ فرما رہے ہیں أهم خير أم قوم تبع کیا یہ لوگ بہتر ہیں یا تبع کی قوم؟ تو یہاں صرف تبع آیا، تبع۔
اور تبع میں نے بتایا یمن کے ہر بادشاہ کا لقب تھا بھئی، یمن کے بادشاہ کو کہتے تھے۔ کون سا تبع مراد ہے؟ یہ پتہ نہیں۔ بعض مفسرین لکھتے ہیں کہ یہاں جو تبع مراد ہے اس کا نام اسعد تھا بھئی، اسعد۔ اسعد اور کہتے ہیں یہ بڑا نیک شخص تھا، بڑا نیک یہ یہ وہ شخص تھا جس نے سب سے پہلے بیت اللہ کو غلاف پہنایا بھئی۔
بيت اللہ کو غلاف بھئی، خانہ کعبہ کو غلاف پہنایا جاتا ہے، تو کہتے ہیں اس کی ابتدا کس نے کی تھی؟ تبع نے کی تھی، اس اسعد نے بھئی۔ اسعد اور یہ بڑا نیک بادشاہ تھا، اور اس نے کہتے ہیں مدینہ منورہ پر حملہ کرنے اور اس کو تباہ کرنے کا ارادہ کیا تھا، چنانچہ لشکر لے کر وہاں پہنچا بھئی۔ تو پھر وہاں بتایا گیا اس کو، وہ توارات وغیرہ کتابوں کے اندر بھئی، وہ تمام نشانیاں مذکور تھیں کہ کہاں آخری پیغمبر پیدا ہوگا اور پھر کہاں سے وہ ہجرت کر کے کہاں آئے گا مدینہ میں، مدینہ وغیرہ کی نشانیاں موجود تھیں کہ اس طرح وہاں کھجوروں کے باغات ہوں گے، پہاڑ وغیرہ پوری نشانیاں ذکر تھیں، تو اس کو پھر علماء نے بتلایا کہ یہ وہ یہ تو وہ شہر ہے جہاں پیغمبرِ آخر الزماں تشریف لائیں گے ہجرت کر کے۔
تو اس نے پھر اپنا ارادہ چھوڑ دیا حملہ کرنے کا، اور کہتے ہیں اس نے ایک خط بھی لکھ کر اور اشعار لکھے اس کے اندر حضور علیہ السلام کی خدمت میں۔ اور وہ خط جو ہے، نسلوں میں منتقل ہوتے ہوتے پھر حضور علیہ السلام کو ملا بھئی، حضور علیہ السلام کو دیا گیا۔ اور اس خط میں اس نے لکھا تھا کہ یہ تبع کی طرف سے خط ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف، اور لکھا تھا کہ آپ آپ پیغمبر آخر الزماں ہیں، خاتم النبیین ہیں، اور میں آپ پر آپ کے آنے سے پہلے ہی، ایمان لاتا ہوں میں آپ پر، اور اگر ایمان لاتا ہوں، اور یہ بھی لکھا تھا کہ میں آپ کے آنے سے پہلے ہی آپ کا امتی ہوں، امتی ہوں، اور قیامت کے دن آپ مجھے بھول نہ جائیے گا، میری بھی شفاعت فرمائیے گا، میری بھی شفاعت فرمائیے گا۔
بڑی لمبی باتیں لکھیں کافی اس میں، اور یہ میں نے دو تین مختصر اپ کو بتلا دیں بھئی۔ حدیث میں بھی چنانچہ آتا ہے بھئی، حضور علیہ السلام سے پوچھا گیا تو آپ فرمانے لگے، میں نہیں جانتا کہ تبع نبی ہے یا نبی نہیں۔ میں یہ نہیں جانتا کہ یہ تبع پیغمبر تھا یا پیغمبر نہیں تھا بھئی، تو پیغمبر تھے یا نہیں یہ تو علم نہیں، لیکن کم از کم بڑے نیک آدمی، نیک بادشاہ ضرور تھے بھئی، نیک بادشاہ۔
تو یہ تو نیک اور صالح بادشاہ تھے، البتہ ان کی قوم بڑی سرکش تھی بھئی، قوم بڑی سرکش تھی، اور قوت وغیرہ ان کو اللہ نے بڑی نصیب کی تھی، ان کی قوم کو، تو اللہ اسی کا ذکر فرما رہے ہیں اهم خير أم قوم تبع کیا یہ لوگ بہتر ہیں یا تبع کی قوم بہتر ہے؟ یہ مشرکین مکہ بہتر ہیں یا تبع کی قوم بہتر ہے؟ ان کو تو ہم نے بڑی حکومت دی تھی، بڑی طاقت دی تھی، ان کے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے۔ تو ان کو ہم نے ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے تباہ و برباد کر دیا، تو یہ لوگ کیا چیز ہیں اس کے ان کے مقابلے میں؟
أهم خير أم قوم تبع کیا یہ بہتر ہیں یا تبع کی قوم؟ والذین من قبلهم اور وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے، أهلكناهم ہم نے ان کو ہلاک کر دیا، اللہ فرما رہے ہیں یہ بہتر ہیں یا قوم تبع؟ یا قوم تبع؟ اور وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے، ان سب کو أهلكناهم ہم نے کیا کیا؟ ہلاک کر دیا۔ إنهم كانوا مجرمين بے شک وہ مجرم تھے۔
وما خلقنا السماوات والأرض وما بينهما لاعبين وما خلقنا السماوات والأرض اور ہم نے نہیں پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو وما بينهما اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، لاعبين کھیلتے ہوئے۔ ہم نے ان کو کھیلتے ہوئے پیدا نہیں کیا، یعنی ان کو بیکار نہیں پیدا کیا، بے فائدہ ہم نے نہیں پیدا کیا، بطور کھیل کے ان کو نہیں ہم نے پیدا کیا، یہ لوگ تو کہتے ہیں یہ دنیاوی زندگی ہے، مر جائیں گے، پھر کوئی زندگی نہیں ہے۔ یعنی نہ نیک آدمی کو اس کی نیکیوں کا اجر ملے گا، نہ برے آدمی کو اس کی برائیوں کی سزا ملے گی، اگر اس طرح ہو تو اس کا تو یہ مطلب ہے ہم نے ویسے ہی کھیل تماشے کے طور پر اس دنیا کو پیدا کیا ہے، مقصد ہے ہی نہیں اس کی اس کے پیدا کرنے کا بھئی، جو جو مرضی کرتا رہے، نتیجہ کچھ نکلے گا ہی نہیں، بدلہ اس کو ملے گا ہی نہیں بھئی۔ تو اللہ فرما رہے ہیں ہم نے اس کو ویسے ہی کھیل کے طور پر، بیکار ویسے ہی بیکار پیدا نہیں کیا، بلکہ ایک آخر میں ایک بڑی زبردست عدالت قائم ہونے والی ہے، جہاں پر ہر ایک کو اس کے کیے کا نتیجہ ملے گا۔
ما خلقنا السماوات والارض وما بينهما لاعبين. اور نہیں پیدا کیا ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، بیکار ہی۔ لاعبين کا کیا معنی کریں گے؟ بیکار ہی، ہم نے ان کو بیکار ہی پیدا نہیں کیا۔ ما خلقناهما الا بالحق۔ نہیں پیدا کیا ان دونوں کو ہم نے مگر برحق۔
ان دونوں کو ہم نے نہیں پیدا کیا مگر برحق۔ ومحاورہ کیا ترجمہ ہوگا؟ یہ تو ما اور الا کے ساتھ تھا ترجمہ۔ جی؟ ہم نے ان کو برحق ہی پیدا کیا ہے، یعنی ٹھیک ٹھیک ہی پیدا کیا ہے۔ یہی یہ معنی کر لیں۔ ہم نے ان کو حکمت کے ساتھ ہی پیدا کیا ہے، اس میں ہماری حکمت ہے۔ آخرت میں ہم کیا کریں گے ہر ایک کا اس کو اعمال کا، ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیں گے۔
وما خلقناهما الا بالحق اور ہم نے ان اس زمین اور آسمان کو برحق ہی پیدا کیا ہے، ولكن اكثرهم لا يعلمون لیکن ان میں سے اکثر جو ہیں لوگ وہ لا يعلمون، وہ نہیں جانتے۔ ان يوم الفصل ميقاتهم اجمعين۔ بے شک فیصلے کا دن ميقاتهم ان کا، ان کا وقت مقررہ ہے، اجمعين سب کا۔ ان سب کا وقت مقررہ۔
ميقات، ميقات بھئی! یہ اس میں ظرف ہے بھئی ظرف۔ اس میں ظرف اور اس کا معنی ہے کسی کام کا مقررہ وقت یا کسی کام کی مقررہ جگہ بھئی۔ ميقات کا کیا معنی؟ کسی کام کا مقررہ وقت وہ اس کا ميقات کہلاتا ہے یا کسی کام کی مقررہ جگہ وہ کیا کہلاتی ہے؟ ميقات۔ اللہ فرما رہے ہیں: ان يوم الفصل ميقاتهم اجمعين۔ بے شک فیصلے کا دن ان سب کا وقت مقررہ ہے۔
يوم لا يغنى مولا عن مولا شيئا۔ وہ, وہ دن کہ کام نہیں آئے گا۔ مولا، دوست بھئی، دوست۔ وہ دن، اس دن لا يغنى کام نہیں آئے گا، یعنی کفایت نہیں کرے گا، بے پرواہ نہیں کرے گا ایک دوست عن مولا، دوسرے دوست سے کچھ شیئا، کچھ بھی۔
ایک دوست دوسرے دوست کی طرح، اس کو کچھ بھی کسی چیز سے بے پرواہ نہیں کرے گا، اس کی کفایت نہیں کرے گا، یعنی اس کے کام نہیں آئے گا۔ يوم لا يغنى مولا عن مولا شيئا جس دن کہ کوئی دوست کسی دوست کے کچھ بھی کام نہیں آئے گا، ولا هم ينصرون اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟
اس دن کوئی دوست کسی دوست کے کام نہیں آئے گا اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔ الا من رحم الله مگر وہ جس پر اللہ رحم فرما دیں۔ ان کی مدد کی جائے گی بھئی! الا من رحم الله مگر جس پر اللہ رحم فرما دیں۔ انه هو العزيز الرحيم بے شک وہ اللہ زبردست ہیں، رحم کرنے والے ہیں۔
ان شجرة الزقوم بے شک زقوم کا درخت شجرة الزقوم دیکھیے تا لمبی لکھی گئی ہے، حالانکہ شجرة کی تا کیا ہوتی ہے؟ گول تا۔ یہ قرآن کا رسم الخط ہے اور قرآن کا رسم الخط بھی توقیفی ہے، جیسا اللہ اور اس کے رسول نے بتلایا ویسا ہی لکھا گیا بھئی۔
ان شج، ان شجرة الزقوم بے شک زقوم کا درخت۔ یہ پہلے بھی ذکر آ چکا ہے زقوم کا بھئی کہ ایک درخت ہے جو جہنم کی تہہ سے نکلتا ہے بھئی اور اس کے خوشے جو ہیں وہ سانپوں کے پھن کی طرح ہیں بھئی، سانپوں۔ اور یہ تو دنیاوی اعتبار سے سمجھانے کے لیے تشبیہ ذکر کر دی گئی ورنہ اس کا اصل اس کی کیا حالت ہوگی وہ اللہ ہی جانتے ہیں بھئی۔
ان شجرة الزقوم بے شک زقوم کا درخت طعام الاطيم گنہگار کا کھانا ہوگا۔ بے شک زقوم کا درخت؟ گنہ، اطيم گنہگار بھئی، اسم گنہ کو کہتے ہیں۔ طعام الاطيم گنہگار کا کھانا ہوگا۔ كالمهل۔
مهل مہل کا معنی پگھلا ہوا تانبا۔ بھئی! یہ جو دھاتیں ہیں لوہا، تانبا، پیتل وغیرہ، یہ سونا، چاندی، آپ جانتے ہیں ان کو بے انتہا گرم کیا جائے تو یہ پگھل کر پانی کی صورت اختیار کر لیتے ہیں بھئی۔ تو یہ جو پگھلا ہوا تانبا ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مہل کہتے ہیں مہل۔
یہ تو ایک معنی ہوا مہل کا۔ اسی طرح مہل تیل کی تلچھٹ کو بھی کہتے ہیں، تیل کی تلچھٹ۔ بھئی! تیل بوتل میں بڑی بوتل میں اگر ڈالا جائے تو آپ دیکھتے ہیں کہ اس کے اندر جو میل کچیل ہوتا ہے وہ تہہ میں بیٹھ جاتا ہے۔ یہ جو میل کچیل جو تہہ میں بیٹھا ہوا ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ یہ ہے تلچھٹ بھئی۔
تو دونوں معنی کیے گئے ہیں اس کے بھئی، دونوں معنی آتے ہیں۔ كالمهل پگھلے ہوئے تانبے کی طرح یا كالمهل تیل کی تلچھٹ کی طرح۔
يغلي في البطون غلا يغلي کے معنے ہوتے ہیں کھولنے کے، ابلنے کے، جوش مارنے کے۔ يغلي في البطون وہ جوش مارے گا في البطون پیٹوں میں, كغلي الحميم حمیم کہتے ہیں گرم پانی کو، جیسے کہ گرم پانی ابلتا ہے، کھولتا ہے، جوش مارتا ہے۔
يغلي في البطون كغلي الحميم وہ جوش مارے گا پیٹوم، وہ جوش مارے گا پیٹوں میں كغلي الحميم जिस तरह के गरम पानी खोलता ہے، جوش مارتا ہے۔
معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ ان شجرة الزقوم طعام الاطيم بے شک زقوم کا درخت گنہگاروں کا، گنہگار کا کھانا ہے، كالمهل کس کی طرح ہے؟ پگھلے ہوئے تانبے کی طرح یا تیل کی تلچھٹ کی طرح۔ يغلي في البطون كغلي الحميم جوش مار، ابل کھولتا ہے، کھول کھولے گا، کھولے گا پیٹوں میں كغلي الحميم جس طرح کے گرم پانی کھولتا ہے۔
خذه فاعلوه الى سواء الجحيم اللہ کی طرف سے حکم ہوگا فرشتوں کو: خذه پکڑو اس کو۔ مجرمین کے بارے میں اللہ حکم دیں گے فرشتوں کو، خذه اس کو پکڑو، فاعلوه پس اس کو گھسیٹو الى سواء الجحيم جہنم کے بیچ میں بیچوں بیچ۔ جہنم کے بیچ کی طرف اس کو گھسیٹو۔
عتلا يعتل عتلا يعتل ع، ت، ل، یہ ہے مادہ اس کا بھئی۔ فاعلوه عتلا يعتل کے معنے ہوتے ہیں زمین پر کسی چیز کو گھسیٹنا۔ اللہ حکم دیں گے خذه پکڑو اس کو فاعلوه پس اس کو گھسیٹو زمین پر الى سواء الجحيم جہنم کے بیچوں بیچ۔ اسے گھسیٹ کر کہاں لے جاؤ؟ جہنم کے بیچ بیچوں بیچ لے جاؤ۔
ثم صبوا فوق رأسه من عذاب الحميم صب يصب کے معنے ہوتے ہیں بہانے کے، انڈیلنے کے۔ ثم صبوا پھر بہاؤ فوق رأسه اس کے سر پر من عذاب الحميم کھولتے ہوئے پانی کا عذاب۔ کھولتے ہوئے پانی کا عذاب۔
تو اللہ حکم دیں گے کہ ان کو اس کو پکڑو پس اس کو گھسیٹ کر جہنم کے بیچوں بیچ لے جاؤ، پھر اس کے سر پر انڈېلو کھولتے ہوئے پانی کا عذاب۔ کہتے ہیں وہ پانی ان کے سروں پر ڈالا جائے گا اور وہ ان کے سروں کو کاٹتا ہوا، پیٹ کو کاٹتا ہوا، انتڑیوں سمیت نیچے نکل آئے گا۔ بھئی!
ثم، تو اللہ ہم سب کی حفاظت فرماے بھئی۔ سمجھ میں آیا، یہ مجرمین لوگ یہ دنیا میں دندناتے ہوئے پھرتے ہیں اور جس کے پاس حکومت ہوتی ہے ان میں سے وہ ظلم کرتے ہوئے ذرہ بھر نہیں شرماتا، ان لوگوں کے لیے اللہ نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
ثم صبوا فوق رأسه من عذاب الحميم پھر انڈېلو اس کے سر پر کھولتے ہوئے پانی کا عذاب۔ ذق لے چکھ! انك انت العزيز الكريم بے شک تو، بے شک تو العزيز معزز ہے، الكريم مکرم ہے۔
بے شک تو ہی معزز اور مکرم ہے، فرشتے اس کو کہیں گے دنیا میں بڑا معزز اور مکرم بن کے پھرتا تھا، تو اس کے اوپر وہ عذاب کا پانی ڈالا جائے گا اور کہا جائے گا ذق لے چکھ! انك انت العزيز الكريم بے شک تو بڑا معزز، مکرم ہے۔
ان هذا ما كنتم به تمترون بے شک یہ ہے وہ كنتم به تمترون جس میں تم شک کرتے ہو۔ بے شک یہ ہے وہ جس میں تم شک کرتے ہو۔
ان المتقين في مقام امين قرآن کا طریقہ ہے، جہاں جہنمیوں کا ذکر آتا ہے، فورا مومنین اور ان کی انعامات اور نعمتوں کا بھی ذکر کر دیا جاتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو ان مجرمین کے احوال سن کر، وہ لوگ جن کے دلوں میں خوف خدا ہے، جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں، کہیں ایسا نہ ہو اللہ کے خوف سے ان کے دل ہی نہ پھٹ جائیں، او تو لہذا فورا ہی پھر کس کا ذکر کر دیا جاتا ہے؟ جنتیوں کا ذکر اور ان کی نعمتوں کا ذکر کر دیا جاتا ہے۔
ان المتقين في مقام امين بے شک ڈرنے والے، یعنی اللہ سے ڈرنے والے في مقام امين امن والے مقام میں ہوں گے، امن والی جگہوں میں ہوں گے۔
ان المتقين في مقام امين بے شک ڈرنے والے اطمینان والی جگہوں میں ہوں گے في جنات وعيون جنات، باغوں میں وعيون اور چشموں میں ہوں گے۔
بے شک متقی جو ہیں، بے شک متقی اطمینان والی جگہوں میں ہوں گے في جنات وعيون باغوں میں اور چشموں میں۔ يلبسون من سندس واستبرق پہنیں گے وہ، لبسا يلبسو کے معنے پہننے کے يلبسون وہ پہنیں گے من سندس واستبرق سندس باریک ریشم بھئی، باریک ریشم۔
اللہ نے دنیا میں مردوں پر ریشم کو حرام فرما دیا ہے۔ چنانچہ وہ آخرت میں ان کو پہننے کو دیا جائے گا تو وہاں کیا پہنیں گے؟ سندس، باریک ریشم واستبرق اور دبیز ریشم۔
دبیز ریشم، یعنی موٹا ریشم بھئی۔ تو سندس کہتے ہیں باریک ریشم کو اور استبرق کہتے ہیں دبیز ریشم یعنی موٹا ریشم۔ دونوں طرح کے لباس پہنے ہوں گے بھئی۔ سمجھ میں آیا، بعضوں نے باریک اور بعضوں نے موٹے ریشم کے لباس پہنے ہوں گے اپنی اپنی خواہش کے مطابق بھئی۔
يلبسون من سندس واستبرق وہ پہنیں گے باریک اور موٹا ریشم متقابلين اس حال میں کہ آمنے سامنے ہوں گے۔
ایک دوسرے کے مقابل ہوں گے، آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے ایک دوسرے کے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی، وہاں مجلسیں ہوں گی انشاءاللہ وہاں بھی ہماری مجلسیں ہوں گی اور آمنے سامنے انشاءاللہ تکیہ بنائے ہوئے تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے۔ اللہ تعالی ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرمائے اور بغیر حساب کتاب کے ہمیں جنت الفردوس نصیب فرماۓ بھئی۔
دعا کرو تو جنت الفردوس کی دعا کرو بھئی۔
يلبسون من سندس واستبرق متقابلين وہ پہنیں گے باریک اور موٹا ریشم اس حال میں کہ آمنے سامنے ہوں گے۔ كذلك، ايل امر كذلك الامر كذلك، الامر كذلك، الامر مبتدا محذوف ہے اور كذلك خبر۔
الامر كذلك، معاملہ ایسا ہی ہے، بات ایسی ہی ہے یا یوں کہیں، یوں ہی ہوگا، یوں ہی ہوگا۔
یوں ہی ہوگا
و زوجناهم بحور عين، اور نکاح کر دیں گے ہم ان کا۔ ان کا ہم نکاح کر دیں گے موٹی آنکھوں والی حوروں سے.
بھئی اللہ نے کیا انعامات رکھے ہوئے ہیں آپ کے لیے! اس کا ذکر آ رہا ہے. اللہ فرما رہے ہیں ہم ان کا یہ جو متقی ہیں، جو ڈرنے والے ہیں، ان کا ہم نکاح کر دیں گے کس سے؟ موٹی آنکھوں والی حوروں سے.
حور جمع ہے حوراء کی، حوراء. الف کے بعد ہمزہ ہے، حور جمع ہے حوراء کی. اور حوراء کہتے ہیں وہ عورت جس کی آنکھوں کی سیاہی خوب سیاہ ہو اور سفیدی خوب سفید ہو، جو انتہائی حسن کی علامت ہے بھئی۔ سیاہی خوب سیاہ ہو اور سفیدی خوب سفید ہو.
اس کو حوراء کہتے ہیں اور اس کی جمع حور ہے. اور عین جمع ہے عینا کی، اسی طرح بھئی الف کے بعد ہمزہ، عینا کی. اور عینا وہ عورت جس کی آنکھیں بڑی بڑی ہوں، موٹی ہوں جو کہ انتہا درجے کے حسن کی علامت ہے بھئی۔ تو اللہ کیا فرما رہے ہیں کہ ہم ان کا نکاح کس سے کروا دیں گے؟ موٹی آنکھوں والی حوروں سے.
یدعون فیها بکل فاکهة آمنین. یدعون فیها، منگوائیں گے فیها اس جنت میں بکل فاکهة ہر قسم کے میوے آمنین اطمینان سے. وہ جنتی جنت میں ہر قسم کے میوے منگوائیں گے اور وہ ان کی خدمت میں پیش کیے جائیں گے.
نسان ایسا ہے کہ ہر چیز میں حسن پسند کرتا ہے بھئی، حسن پسند کرتا ہے. چنانچہ جنت کے جو خدام ہوں گے، خادم ہوں گے، کہتے ہیں وہ بھی چھوٹے چھوٹے بچے بڑے حسین و جمیل ہوں گے، یوں معلوم ہوں گے جیسے موتی بکھرے ہوئے ہیں بھئی. وہ بھاگ دوڑ کر فورا اسی وقت جو چاہیں گے جنتیوں کی خدمت میں پیش کریں گے بھئی.
یدعون فیها بکل فاکهة آمنین، منگوائیں گے جنت میں ہر قسم کے میوے اطمینان سے. لا یذوقون فیها الموت الا الموتة الا الأولى، نہیں چکیں گے جنت میں موت کو مگر وہ پہلی موت. وہ پہلی موت جو دنیا میں آچکی، وہ آگئی، گزر گئی، جنت میں کبھی پھر اس کے بعد موت نہیں آئے گی بھئی، کیونکہ قیامت کے دن جب حساب کتاب ہو جائے گا، اس کے بعد موت کو جو ہے ایک مینڈھے کی شکل میں، ایک دنبے کی شکل میں لایا جائے گا.
اور جنتیوں کو بھی پکار کر بلایا جائے گا اور جہنمیوں کو بھی متوجہ کیا جائے گا کہ آج کے بعد کوئی کسی پر موت نہیں آئے گی، اور پھر اس کو وہاں پر جنت اور جہنم کے درمیان موت کو ذبح کر دیا جائے گا بھئی. تو جنتیوں کو خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہے گا اس وجہ سے، اور جہنمیوں کا غم اور دکھ سے کوئی ان کا انتہا درجے کا غم اور دکھ ان کو ہوگا بھئی، کہ اب تو کوئی چھوٹنے کی صورت ہی نہیں ہے.
لا یذوقون فیها الموت الا الموتة الأولى، نہیں چکیں گے جنت میں موت کو مگر وہی پہلی موت جو کہ گزر گئی دنیا میں. و وقاهم عذاب الجحیم، اور بچا لیں گے اللہ ان جنتیوں کو عذاب الجحیم جہنم کے عذاب سے. اللہ ان کو جہنم کے عذاب سے بچا لیں گے، اس سے ان کی اللہ حفاظت فرمائیں گے.
فضلا من ربك، بطور فضل کے آپ کے پروردگار کی طرف سے. اللہ جنتیوں کو جہنم کے عذاب سے بچا لیں گے فضلا من ربکا، آپ کے پروردگار کے فضل سے. ذلک هو الفوز العظیم، یہی ہے بڑی کامیابی.
فانما یسرناه بلسانك لعلهم یتذكرون، پس بے شک یسرناه ہم نے آسان کیا ہے اس قرآن کو بلسانك آپ کی زبان میں اے پیغمبر لعلهم یتذكرون تاکہ یہ نصیحت قبول کر لیں. اے پیغمبر! ہم نے اس قرآن کو آپ کی زبان میں آسان بنایا ہے تاکہ یہ لوگ کیا کریں؟ یہ آپ کی قوم والے اس کو سمجھیں اور اس سے پھر نصیحت قبول کریں.
فانما یسرناه بلسانك لعلهم یتذكرون، پس بے شک ہم نے اس قرآن کو آسان بنایا ہے آپ کی زبان میں تاکہ یہ نصیحت قبول کریں. فرتقب، پس اے پیغمبر آپ انتظار کیجیے، امر ہے بھئی، فرتقب پس آپ انتظار کیجیے. انهم مترقبون، بے شک یہ بھی انتظار کر رہے ہیں. اے پیغمبر! آپ بھی انتظار کیجیے، یہ بھی انتظار کر رہے ہیں. ارتقبہ کے معنی انتظار کرنے کے.
آں اے پیغمبر! آپ انتظار کیجیے، یہ بھی کیا کر رہے ہیں؟ انتظار یعنی یہ آپ کے آپ کے ہلاک ہونے اور ختم ہونے کے کا انتظار کر رہے ہیں کہ کب آپ پر کوئی تکلیف وغیرہ آئے اور آپ ختم ہو جائیں اور اور ہاں آپ بھی انتظار کیجیے کہ ہم ان کا کیا حال کرتے ہیں، کس طرح ان سے بدلہ لیتے ہیں.
فرتقب انهم مترقبون، پس آپ انتظار کیجیے بے شک یہ بھی انتظار کر رہے ہیں. بسم الله الرحمن الرحيم، حم، تنزیل الكتاب من الله العزیز الحکیم. ان فی السماوات والارض لآیات للمؤمنین، وفی خلقكم وما یبس من دابة آیات لقوم یوقنون.
یہ آگے سورہ جاشیہ ہم شروع کر رہے ہیں بھئی، سورہ جاشیہ. جاشیہ مؤنث ہے جاشی کی. اور جاشی وہ شخص جو گھٹنوں کے بل بیٹھا ہو، وہ شخص جو گھٹنوں کے بل بیٹھا ہو اس کو جاشی کہتے ہیں.
تو اس سورت میں بھی یہ جاشیہ کا لفظ آ رہا ہے کہ قیامت کا دن اتنا ہولناک ہوگا کہ یہ لوگ جو ہیں خوف اور دہشت کی وجہ سے گھٹنوں کے بل گرے ہوں گے، گھٹنوں کے بل بیٹھ جائیں گے بھئی. تو اس چونکہ یہ جاشیہ کا لفظ سورت میں آ رہا ہے تو اس سورت کو کیا کہتے ہیں؟ سورہ جاشیہ کہتے ہیں.
حم، یہ حروف مقطعات میں سے ہے. تنزیل الكتاب من الله العزیز الحکیم، یہ کتاب اتاری جا رہی ہے اللہ کی طرف سے جو زبردست ہیں، حکمت والے ہیں.
ان فی السماوات والارض لآیات للمؤمنین، بے شک آسمانوں میں اور زمین میں البتہ نشانیاں ہیں ایمان لانے والوں کے لیے. وفی خلقكم، اور تمہاری پیدائش میں بھی، وما یبس من دابة، وفی خلقكم اور تمہاری پیدائش میں، وما یبس من دابة، بس یا یبس کا معنی ہے پھیلانا، پھیلانا، بکھیرنا.
وما یبس من دابة، اور وہ جو پھیلا رکھے ہیں من دابة جاندار بھئی. وہ جو اللہ نے، وہ جو، وہ جو اللہ، وہ جو اللہ پھیلاتے ہیں جاندار، وہ ان میں آیات نشانیاں ہیں لقوم یوقنون، ایسے لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں، جو یقین کرنے والے ہیں.
اللہ فرما رہے ہیں بے شک آسمانوں میں اور زمین میں البتہ نشانیاں ہیں ایمان لانے والوں کے لیے. وفی خلقكم، اور تمہاری پیدائش میں، وما یبس من دابة، اور وہ جو اللہ جاندار پھیلاتے ہیں دنیا میں، ان میں آیات لقوم یوقنون، اس میں نشانیاں ہیں ایسی لوگوں کے لیے جو یقین کرتے، یقین کرتے ہیں.
و اختلاف اللیل والنهار، اور رات اور دن کے بدلنے میں، وما انزل الله من السماء من رزق، اور وہ جو اللہ نا نازل اور وہ جو اللہ نازل کرتے ہیں آسمان سے من رزق، رزق. اور وہ جو اللہ آسمان سے نازل کرتے ہیں من رزق یعنی کہ رزق. یہ من رزق کس کا بیان ہے؟ ما انزل الله، وہ دیکھیئے، وما انزل الله من السماء اور وہ جو اللہ نازل فرماتے ہیں آسمان سے.
وہ جو اللہ آسمان سے نازل فرماتے ہیں بھئی وہ کیا چیز ہے؟ بیان چاہیے. من رزق، بیان آگیا یعنی کہ رزق، یعنی کہ تو اس کا ترجمہ کس سے کرتے ہیں؟ یعنی کہ کے ساتھ. با محاورہ ترجمہ کرنے کے لیے میں نے طریقہ بتایا تھا کہ کہ بیان کو کس کی جگہ لے جاؤ؟ مبین کی جگہ پر. یہ کس کا بیان ہے رزق؟ ماں کا تو اس کی جگہ پر رزق کو لے جائیے اور پھر ترجمہ کیجیے. و اختلاف اللیل والنهار، اور رات اور دن کے بدلنے میں اور وہ رزق جو اللہ نے اتارا ہے آسمان سے.
ان سب میں کیا ہیں؟ نشانیاں ہیں، آگے ذکر آئے گا بھئی. بھئی آسمان سے جو اللہ رزق نازل کرتے ہیں، یہاں رزق سے مراد بارش ہے، بارش. بارش کو رزق کہا اللہ نے اس لیے کیونکہ یہ سبب رزق ہے. یہ کیا ہے؟ سبب رزق ہے بھئی. بارش ہوگی تو پھر ہی فصلیں اگیں گی، پھل پیدا ہوں گے، ہر چیز کو خوراک ملے گی.
اور وہ رزق جو اللہ نازل فرماتے ہیں آسمان سے، فاحیا به الارض بعد موتها. ہاں انزل ماضی ہے، ماضی کا ترجمہ کر لیں بھئی. کون سا ترجمہ؟ اور وہ وما انزل الله من السماء من رزق، اور وہ رزق جو اللہ نے نازل کیا آسمان سے. فاحیا به الارض، پس زندہ کیا اس کے ذریعے زمین کو بعد موتها، بعد اس کے مر جانے کے. ہا ضمیر کس کو راجع ہے موتها؟ الارض کو راجع ہے، کیونکہ الارض کیا ہے؟ أرض عربی میں مؤنث سماعی ہے بھئی.
پس زندہ کرتے ہیں اس بہی ای ہا ضمیر کس کو راجع ہے بہی کی ہا؟ رزق کو، اس رزق کے ذریعے. فاحیا به، پس زندہ کرتے ہیں اس رزق کے لیے اس رزق کے ذریعے الارض زمین کو بعد موتها، بعد اس زمین کے مر جانے کے. زمین کو زندہ کرتے ہیں، کیا مراد ہے؟ اس پر، اس پر پودے وغیرہ اگاتے ہیں. اور موتِ ارض سے کیا مراد ہے؟ اس کا خشک ہو جانا، بنجر ہو جانا. فاحیا به الارض بعد موتها، پس زندہ کیا زمین کو اس کے خشک ہو جانے کے بعد، اس کے مر جانے کے بعد.
و تصريف الریاح، اور ہواؤں کے بدلنے میں. تصريف کا کیا معنی ہے؟ بدلنا، پھیرنا. و تصريف الرياح اور ہواؤں کے بدلنے میں، آیات نشانیاں ہیں لقوم یعقلون، ایسے لوگوں کے لیے یعقلون جو سمجھ رکھتے ہیں. ایسے لوگوں کے لیے جو سمجھ رکھتے ہیں.
تصريف الرياح، ہواؤں کا بدلنا. بھئی کبھی ہوا ایک جانب سے چلتی ہے، کبھی دوسری جانب سے چلتی ہے، کبھی آہستہ چلتی ہے، کبھی تیز چلتی ہے، تو یہ تصريف الریاح ہے بھئی. و اختلاف اللیل والنهار وما انزل الله من السماء من رزق، اور رات اور دن کا بدلنا اور وہ جو وہ رزق جو نازل کیا اللہ نے آسمان سے، پس زندہ کیا اس کو اس کے ذریعے زمین کو، اس زمین کے مر جانے کے بعد. و تصريف الرياح، اور ہواؤں کی گردش میں آیات لقوم یعقلون، نشانیاں ہیں ایسے لوگوں کے لیے جو سمجھ رکھتے ہیں.
تلک آیات الله نتلوها عليك، یہ اللہ کی نشانیاں ہیں نتلوها علیك، جو ہم تلاوت کر رہے ہیں علیك آپ پر. یہ اللہ کی نشانیاں ہیں نتلوها علیك، جو ہم تلاوت کر رہے ہیں علیک آپ پر، بالحق، برحق. ہم ان کو آپ پر برحق پڑھ رہے ہیں، برحق سنا رہے ہیں آپ کو. فبأي حدیث بعد الله، پس حدیث کہتے ہیں عربی زبان میں بات کو بھئی، بات. کوئی بھی بات ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ حدیث.
آپ بول رہے ہیں، یہ بول.
اللہ، یہ باتیں کرنا، یہ کیا ہے؟ حدیث بھئی! ہاں، اب اصطلاحِ شریعت میں حدیث کا لفظ خاص ہو گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کے ساتھ۔
یعنی کہ آپ کی باتیں اتنے اعلیٰ درجے والی ہیں بھئی! پیغمبر علیہ السلام کی باتیں اتنے اعلیٰ درجے والی ہیں، کہ وہی حدیث ہیں، وہی بات ہیں، ان کے مقابلے میں اور کوئی بات، بات کہلانے کے لائق ہی نہیں ہے۔
فبأي حديث، لیکن یہاں پر مطلق بات کے معنی میں ہے بھئی جو قرآن میں آ رہا ہے۔ فبأي حديث پس کس بات پر بعد اللہ وآياته، اللہ اور اس کی آیتوں کے بعد یؤمنون ایمان لائیں گے۔
پس یہ لوگ اللہ اور اس کی آیتوں کے بعد اور کس بات پر ایمان لے کر آئیں گے؟ ان کے دل اتنے سخت ہیں کہ اللہ اور ان کی آیتوں کو بھی یہ نہیں تسلیم کرتے، تو اس کے بعد اور کس کی بات پر یہ ایمان لے کر آئیں گے؟
معنی سمجھ میں آ گیا بھئی۔
تلق آيات اللہ، تلق آيات اللہ نتلوہا علیک بالحق، یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم آپ پر پڑھ رہے ہیں، ٹھیک ٹھیک۔ فبأي حديث بعد اللہ وآياته یؤمنون، پس اللہ کی، پس اللہ اور اللہ کی آیتوں کے بعد کس بات پر یہ لوگ ایمان لے کر آئیں گے۔
ویل لکل افاک أثیم، ہلاکت ہے ہر جھوٹے کے لیے، جھوٹے گنہگار کے لیے۔ افاق بہت جھوٹ بولنے والا، اپنی طرف سے باتیں گھڑنے والا۔ أثیم گنہگار بھئی! بڑا گناہ، بڑا گنہگار بھئی! مبالغے کا صیغہ ہے فعیل بھئی فعیل۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ جیسے رحیم، جیسے فعیل وزن صفت مشبہ کا آتا ہے، اسی طرح فعیل وزن مبالغے کا بھی آتا ہے بھئی۔ جیسے رحیم، رحیم یہ کیا ہے؟ مبالغے کا صیغہ ہے، بہت رحم کرنے والا۔
ویل لکل افاک أثیم، ہلاکت ہے ہر جھوٹ بولنے والے گنہگار کے لیے۔ يسمع آيات اللہ، جو سنتا ہے اللہ کی آیتوں کو، تتلا علیہ جو اس پر تلاوت کی جاتی ہیں۔
اللہ فرما رہے ہیں، ہلاکت ہے ہر جھوٹ بولنے والے گنہگار کے لیے، جو اللہ کی ان آیتوں کو سنتا ہے، جو اس پر تلاوت کی جاتی ہیں، ثم یصر مستكبراً، پھر وہ اصرار کرتا ہے۔
اصر یصر اصرار کے معنی ہیں، کسی چیز پر جم جانا، کسی چیز پر اڑ جانا بھئی۔ ثم یصر پھر وہ اڑ جاتا ہے، مستكبراً اس، اس حال میں کہ وہ تکبر کرنے والا ہوتا ہے۔
اس حال میں کہ وہ تکبر کرنے والا ہوتا ہے۔
تو با محاورہ کیا ترجمہ کریں گے؟ ثم یصر مستكبراً پھر وہ تکبر کرتے ہوئے اڑ جاتا ہے، تکبر کرتے ہوئے اڑ جاتا ہے۔
كأن لم يسمعہا، گویا کہ اس نے ان آیتوں کو سنا ہی نہیں۔ فبشرہ بعذاب ألیم، پس آپ خوشخبری دے دیجیے اس کو دردناک عذاب کی۔
پس آپ اس کو خوشخبری دے دیجیے دردناک عذاب کی۔
یاد رکھیے! یہ ألیم بمہ معنی مؤلم کے ہے بھئی۔ جہاں بھی پیچھے عذاب کے ساتھ ألیم صفت آئی، یہ بمہ معنی ألیم بمہ معنی مؤلم کے ہے۔
مؤلم کا کیا معنی؟ الألم دینے والا، تکلیف دینے والا۔
بات سمجھ میں آئی بھئی؟ ألیم کا کیا معنی ہے؟ دردناک۔ مؤلم کا کیا معنی ہے؟ مؤلم مؤلم۔
جی! درد دینے والا، تو عذاب درد دینے والا ہے، دردناک تو وہ صاحبِ عذاب ہے جس کو عذاب ہو رہا ہے، وہ کیا ہے؟ دردناک ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو وہ جس کو درد عذاب دیا جا رہا ہے، وہ ہے ألیم۔
اور جو عذاب ہے درد دینے والا، اس کو کیا کہیں گے؟ مؤلم۔ تو یہاں ألیم کس معنی میں؟ مؤلم کے معنی میں ہے بھئی۔
سمجھ میں آیا؟ سوال پھر، کہ پھر یہ عذاب کی صفت ألیم کیوں لائی گئی؟ مؤلم کیوں نہیں لائی گئی بھئی؟ مؤلم۔
دراصل اس میں اشارہ ہے اس بات کی طرف، تو یہ مجاز کی مجاز کلام مجازاً ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ ألیم اپنے حقیقی معنی میں نہیں، بلکہ کس معنی میں؟ مؤلم۔ یا ألیم کی نسبت تو عذاب کی طرف ہو رہی ہے، حالانکہ عذاب تو ألیم نہیں ہوتا، بلکہ ألیم کون ہوتا ہے؟ صاحبِ عذاب ہوتا ہے۔
تو بتلانا یہ کہ وہ اتنا سخت عذاب ہوگا، اتنا سخت عذاب ہوگا کہ گویا عذاب بھی خود تکلیف میں ہوگا، اس کی وجہ سے بھئی۔ اتنا سخت عذاب ہوگا، کہ عذاب خود بھی کیا ہوگا؟ تکلیف میں گویا ہو بھئی، اتنا سخت عذاب ہوگا۔
فبشرہ بعذاب ألیم، پس خوشخبری سنا دیجیے اس کو دردناک عذاب کی۔
ویل لکل افاک أثیم، ہلاکت ہے ہر جھوٹے، ہر جھوٹ بولنے والے کے لیے گناہ، ہر جھوٹ بولنے والے گنہگار کے لیے جو سنتا ہے اللہ کی آیتوں کو، جو اس پر تلاوت کی جاتی ہیں، جو اس پر پڑھی جاتی ہیں، ثم یصر مستكبراً، پھر وہ تکبر کرتے ہوئے اڑ جاتا ہے كأن لم يسمعہا، گویا کہ اس نے ان آیتوں کو سنا ہی نہیں۔
فبشرہ بعذاب ألیم، پس اس کو خوشخبری سنا دیجیے دردناک عذاب کی۔ واذا علم من آیاتنا شیئاً، اور جب وہ، جب وہ جان لیتا ہے، جب اذا علم، جب وہ جان لیتا ہے، جب اس کو خبر ہوتی ہے، جب اس کو خبر ہوتی ہے۔ واذا علم من آیاتنا شیئاً، اور جب اس کو خبر ہوتی ہے ہماری آیتوں میں سے کسی چیز کی، یعنی ہماری کسی آیت کی جب اس کو خبر ہوتی ہے، اتخذہا ہزواً، تو وہ اس کو مذاق بنا لیتا ہے۔
وہ ان آیتوں کو کیا بنا لیتا ہے؟ مذاق، ان کا وہ مذاق اڑانے لگتا ہے۔
واذا علم من آیاتنا شیئاً اتخذہا ہزواً، اور جب اسے ہماری آیتوں میں سے کسی کی خبر ہوتی ہے، تو وہ ان کا مذاق بنا لیتا ہے۔ اولئك لہم عذاب مہین، یہی لوگ ہیں کہ جن کے لیے رسوائی والا عذاب ہے۔
انہی لوگوں کے لیے رسوائی والا عذاب ہے۔ یہ ہماری آیتوں کی اہانت کرتے ہیں، ہم ان کو عذاب بھی اہانت اور رسوائی والا دیں گے۔
من ورائہم جہنم، ان کے آگے جہنم ہے۔
من ورائہم جہنم، ان کے آگے جہنم ہے۔ یاد رکھیے! یہ جو ورا کا لفظ ہے، ورا، ورا کا لفظ آگے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، پیچھے کے معنی میں بھی۔ یہ اضداد میں سے ہے۔
اضداد بھئی! جس کے معنی ضد ہوں، ضدیں آتے ہوں بھئی، ایک ہی لفظ ہے۔ اس کا معنی آگے بھی، اور اسی کا معنی پیچھے بھی۔ بھئی آگے اور پیچھے، یہ تو ایک دوسرے کی ضد ہیں، تو وہ لفظ جس کے معنی ضدیں آئیں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ کس میں سے ہے؟ اضداد میں سے ہے، ضاد کے ساتھ بھئی۔ تو یہ بھی اضداد میں سے ہے۔
اس کے معنی آگے کے بھی، اور پیچھے کے بھی۔ لیکن وہ اس چیز کے لیے آئے گا جو نظروں سے اوجھل ہو، دکھائی نہ دے رہی ہو۔
کس چیز کے لیے لائیں گے اس کو؟ جو نظروں سے اوجھل ہو، دکھائی نہ دے رہی ہو، اس کے لیے ورا کا لفظ آئے گا۔ من ورائہم جہنم، ان کے آگے جہنم ہے، یعنی آگے یہ دنیاوی زندگی میں ہے نا، جہنم آگے آ رہی ہے یا پیچھے رہ گئی؟ آگے آ رہی ہے، تو یہ اس وقت دنیاوی زندگی میں ہے، اور آخرت میں جہنم میں جائیں گے، تو جہنم ان کے آگے ہے، اور دکھائی دے رہی ہے یا اوجھل ہے بھئی؟ اس وقت نظروں سے اوجھل ہے۔
یا چاہیں تو یہ معنی کر لیں، من ورائہم جہنم، ان کے پیچھے جہنم ہے بھئی۔ یعنی یہ دنیاوی زندگی موت کے پیچھے کیا ہے پھر؟ دنیاوی زندگی گزاریں گے، موت آئے گی، اور موت کے پیچھے جہنم ہے۔ دونوں معنی آپ کر سکتے ہیں بھئی، جو آپ کو مناسب لگے۔
من ورائہم جہنم، ان کے آگے جہنم ہے ولا یغنی عنہم ما کسبوا شیئاً، ولا یغنی اور کچھ کفائے اور کفایت نہ کرے گا عنہم ان کی طرف سے ما کسبوا، وہ جو انہوں نے کمایا۔
جو کچھ انہوں نے کمائیاں کی ہیں، جو عمل کیے ہیں دنیا کے اندر، وہ ان کی کچھ کفایت نہیں کرے گا، یعنی ان کے کچھ کام نہیں آئے گا، شیئاً کچھ بھی، شیئاً کچھ بھی۔ ولا یغنی عنہم ما کسبوا شیئاً، اور ان کے کچھ بھی کام نہ آئے گا جو انہوں نے کمایا۔
ان یوں ترجمہ با محاورہ کر لیں، ان کی کمائی ان کے کچھ بھی کام نہیں آئے گی، اور کمائی سے کیا مراد ہے؟ ان کے افعال، ان کے اعمال بھئی۔ ولا متخذوا من دون اللہ اولیاء، اور نہ وہ جن کو پکڑا ہے انہوں نے من دون اللہ، اللہ کے علاوہ اولیاء کارساز۔
اللہ کے علاوہ جن کو انہوں نے کارساز بنا رکھا ہے، چاہے وہ بتوں کی صورت میں ہو، چاہے، چاہے جو مزاروں کی صورت میں ہو، بھئی مزاروں پر جانے والے اور ان کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا ماننے والے کہ یہ اللہ کے نیک بندے ہیں، یہ دنیا میں بھی ہمارا کام بنائیں گے، اور آخرت میں بھی بنائیں گے۔
بھئی! ٹھیک ہے، جاؤ، بزرگ ہے، ولی ہے، لیکن شرعی طریقے کے مطابق جائے، وہاں پر دعا بھی کرے، تو دعا اللہ سے کرے، اس صاحبِ قبر سے نہ کرے بھئی! اگر صاحبِ قبر سے کر رہا ہے، تو یہ، یہ درست نہیں بھئی، یہ شرک ہے، ماننا، سمجھ میں آئی بات بھئی؟ یہ شرک ہے بھئی۔
تو اللہ فرما رہے ہیں ولا یغنی عنہم ما کسبوا شیئاً، اور کچھ، کام نہیں آئے گی ان کی، ان کی کمائی اور نہ وہ جن کو انہوں نے اللہ کے علاوہ کارساز بنا رکھا ہے، ولہم عذاب عظیم، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔
ہذا ہد۔ یہ ہدایت ہے، ہذا کے ذریعے اشارہ ہے اس قرآن کی طرف۔ ہذا ہد، یہ قرآن ہدایت ہے، اور ہد مصدر ہے، اور مصدر کا حَمْلِ ذات پر نہیں ہوتا۔ ہاں البتہ بطور مبالغہ کے صحیح ہے، جیسے کہتے ہیں زید عدل، زید عدل ہے، مبالغے کے طور پر، اور پھر ترجمہ کیا کریں گے؟ زید سراپا عدل ہے، تو یہاں پر بھی کیا کہیں گے؟ ہذا ہد، یہ قرآن سراپا ہدایت ہے، یعنی ہدایت ہی ہدایت ہے یہ۔
والذین کفروا بایات ربھم، اور وہ لوگ جنہوں نے انکار کیا اپنے رب کی آیتوں کا، لہم عذاب من رجز ألیم، ان کے لیے سخت عذاب ہے، دردناک۔
ان کے لیے عذاب من رجز۔
ان کے لیے عذاب ہے من رجز، رجز سخت عذاب بھئی۔ ان کے لیے سخت عذاب ہے، ألیم دردناک ہے۔ دیکھیے! رجز مجرور ہے، اور ألیم مرفوع ہے، کیونکہ یہ صفت ہے عذاب کی۔
ألیم کس کی صفت ہے؟ عذاب کی صفت ہے، اور موصوف صفت کا اعراب ایک ہوتا ہے، موصوف یعنی عذاب مرفوع ہے، تو ألیم صفت بھی کیا آئی؟ مرفوع۔ تو ان کے لیے سخت، دردناک عذاب ہوگا۔
ان کے لیے سخت، دردناک عذاب ہوگا۔
یہ وہ صورت جب میں نے رجز کا کیا ترجمہ کیا؟ سخت عذاب کے۔ تو بعض مفسرین نے لکھا کہ رجز سخت عذاب کو کہتے ہیں، اور بعض نے لکھا کہ رجز بھی عذاب ہی کو کہتے ہیں۔ رجز بھی کسے کہتے ہیں؟
پھر کیا معنی لہم عذاب من رجز من رجز، ان کے لیے عذاب میں سے عذاب ہوگا۔
پھر کہتے ہیں معنی یہ ہے، ان کے لیے ان کے لیے حصہ ہوگا عذاب من رجز۔
أي حصة حصة من رجز، ان کے لیے عذاب میں سے ایک حصہ ہوگا ألیم دردناک۔ ان کے لیے دردناک عذاب ہو۔
مـ حاصل معنی وہی بھئی، ان کے لیے سخت دردناک عذاب ہوگا بھئی۔ چلیے بس! ہذا والمـ اللہ اعلم بحقیقت الکلام۔