Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-131

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 12 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 3
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم والمرسلات عرفا فالعاصفات عصفا والناشرات نشرا فالفارقات فرقا فالملقيات ذكرا عذرا أو نذرا إنما توعدون لواقعة. آج ہم سورہ مرسلات پڑھیں گے۔ والمرسلات عرفا یہ وہ قسمیہ جار رہا ہے والمرسلات أي والرياح المرسلات مرسلات صفت ہے ریاح کی بھئی قسم ہے ان ہواؤں کی المرسلات جو بھیجی گئی ہیں یا جو بھیجی جاتی ہیں عرفا لگا تار مسلسل. قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھیجی جاتی ہیں مسلسل. عرف کا کیا معنی ہوا مسلسل لگا تار عرف اصل میں کہتے ہیں گھوڑے کی گردن پر جو بال ہوتے ہیں ان کو عرف کہا جاتا ہے یعنی گھوڑے کی عیال جو ہے عیال گھوڑے کی گردن پر جو بال ہیں ان کو کیا کہتے ہیں عیال گھوڑے کی جو عیال ہے اس کو عرف کہا جاتا ہے اور اس میں جیسے بال ترتیب سے ہوتے ہیں ختار کے اندر بھئی تو یہی تو جس طرح وہ ترتیب سے ہوتے ہیں تو یہی لفظ لگا تار اور مسلسل کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھیجی جاتی ہیں لگا تار جو بھیجی جاتی ہیں مسلسل. یا یہ عرفا کے معنی نفع کے لیے کر لیں بھئی قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھیجی جاتی ہیں نفع کے لیے قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھیجی جاتی ہیں نفع کے لیے. فالعاصفات عصفا عصففر عصفات الريح عربی میں کہتے ہیں جب ہوا تیز چلے آندھی چلے تو کیا کہتے ہیں عصفات الريح تو فالعاصفات عصفا پھر تیز چلنے والی ہواؤں کی قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھیجی جاتی ہیں مسلسل پھر ان ہواؤں کی جو تیزی سے چلتی ہیں تو پہلی ترکیب پہلے آیت جو ہے والمرسلات عرفا قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھیجی جاتی ہیں عرفا یہ حال واقع ہو رہا ہے اس حال میں کہ وہ لگا تار ہوتی ہیں. اور اگر دوسرا ترجمہ جو میں نے کیا وہ ہوائیں جو بھیجی جاتی ہیں نفع کے لیے تو پھر یہ مفعول لہ ہوگا عرفا کیا ہوگا مفعول ضربتہ تادیبا میں نے پٹائی کی اس کی کس لیے ادب سکھانے کے لیے تو یہ مفعول لہ ہوگا بھیجی جاتی ہیں نفع کے لیے. اور فالعاصفات عصفا یہاں پر جو عصفا آیا یہ مفعول مطلق ہے کیونکہ پیچھے بھی وہی عصفا آیا اسی سے مصدر منصوب تو جس طرح فعل عمل کرتا ہے اسی طرح صفت کے صیغے بھی عمل کرتے ہیں تو جس طرح فعل کے بعد مفعول مطلق آتا ہے اسی طرح صفت کے صیغوں کے بعد بھی مفعول مطلق آتا ہے بھئی قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھیجی جاتی ہیں نفع کے لیے فالعاصفات عصفا پھر ان ہواؤں کی جو تیزی سے چلتی ہیں وناشرات نشرا پھر ان ہواؤں کی اور اور ان ہواؤں کی جو اٹھانے والی ہیں جو اٹھانے والی ہیں یعنی بادلوں کو اور ان ہواؤں کی جو اٹھانے والی ہیں نشرا پھر مفعول مطلق آ گیا بھئی تو نشر کا کیا معنی کیا؟ اٹھانا اسی سے نشر ہے قیامت میں جو لوگوں کو اللہ دوبارہ زندہ فرمائیں گے اس کو بھی کیا کہتے ہیں نشر کہتے ہیں تو یہ ہوائیں بادل کو اٹھاتی ہیں یا نشر کے معنی پھیلانے کے بھی آتے ہیں وناشرات نشرا اور ان ہواؤں کی جو پھیلاتی ہیں یعنی بادل کو بادل کو ہوا میں اٹھاتی ہیں اوپر اٹھاتی ہیں اور پھر ان کو پھیلا دیتی ہیں فالفارقات فرقا فرقا پھر مفعول مطلق آ گیا بھئی فالفارقات فرقا پھر ان ہواؤں کی جو جدا کرنے والی ہیں پھر ان ہواؤں کی جو جدا کرنے والی ہیں یعنی وہ ہوائیں جو بارش کے بعد پھر بادلوں کو جدا کر دیتی ہیں منتشر کر دیتی ہیں معنی سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ پھر ان ہواؤں کی جو جدا کرنے والی ہیں جو منتشر کرنے والی ہیں یا جو بکھیر دینے والی ہیں جو بھی آپ ترجمہ کر لیں فالملقيات ذكرا پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو القا کرنے والے ہیں نصیحت کا جو ڈالنے والے ہیں نصیحت کو یعنی لانے والے ہیں نصیحت کو القا یلقی کے کیا معنی ہوتے ہیں ڈالنے کے فالملقيات ذكرا پھر قسم ہے ان فرشتوں کی الملقيات ذكرا جو ڈالنے والے ہیں یعنی لانے والے ہیں نصیحت کو یعنی وحی کو جو لانے والے ہیں نصیحت کو یعنی وحی کو عذرا أو نذرا عذر کے لیے یا ڈرانے کے لیے عذرا أو نذرا عذر کے لیے یا خبردار کرنے کے لیے عذر کے لیے یعنی الزام اتارنے کے لیے عذر کا کیا معنی؟ الزام اتارنے کے لیے پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو نصیحت کو لانے والے ہیں یعنی وحی کو لانے والے ہیں الزام اتارنے کے لیے یا خبردار کرنے کے لیے الزام اتارنے کا کیا معنی؟ بھئی آپ پڑھ چکے اللہ فرماتے ہیں ہم کسی کو عذاب نہیں دیتے مگر یہ کہ ان کے پاس کن کو بھیجتے ہیں پہلے پیغمبروں کو بھیجتے ہیں اپنا پیغام بھیجتے ہیں تاکہ آخرت میں وہ یہ نہ کہہ سکیں ہمارے پاس تو کوئی آیا ہی نہیں تھا اے اللہ ہمیں تو آپ کے دین کی دعوت پہنچی ہی نہیں تو یہ ہے الزام اتارتا تاکہ آخرت میں وہ کوئی عذر نہ کر سکیں معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ پھر ان فرشتوں کی جو لانے والے ہیں نصیحت کو کس لیے؟ عذر کے لیے یعنی الزام اتارنے کے لیے کہ کل وہ عذر نہ پیش کر سکیں کہ ہمارے پاس کوئی پیغام اللہ کی طرف سے نہیں آیا تھا کوئی پیغمبر ہمارے پاس نہیں آئے تھے اور نذرا یا خبردار کرنے کے لیے یہ ایک ترجمہ ہوا بھئی عذرا أو نذرا عذرا کا کیا معنی الزام اتارنے کے لیے اور نذرا یا ڈرانے کے لیے تو عذرا أو نذرا مفعول لہ واقع ہو رہا ہے بھئی جو ماقبل کی علت بیان کرتا ہے وہ فرشتے جو نصیحت یعنی وحی کو لاتے ہیں کس لیے لاتے ہیں الزام اتارنے کے لیے یا خبردار کرنے کے لیے تو اس صورت میں عذرا أو نذرا دونوں کا تعلق کفار سے ہو گیا کس سے ہوا؟ تاکہ کفار قیامت میں عذر نہ پیش کر سکیں اور یہ نصیحت لاتے ہیں کس لیے لاتے ہیں فرشتے کفار کو خبردار کرنے کے لیے بعضوں نے معنی کیا عذرا عذر کے لیے یعنی توبہ کرنے کے لیے تاکہ کیا کر لیں اللہ کے سامنے عذر پیش کر دیں توبہ کرنے کے لیے یعنی جس کا تعلق اہل حق سے ہے بھئی فرشتے جو نصیحت کو لاتے ہیں کس لیے لے کر آتے ہیں؟ توبہ کرنے کے لیے یا خبردار کرنے کے لیے تاکہ جو نیک لوگ ہیں وہ توبہ کر لیں اور اور جو برے لوگ ہیں جو کفار ہیں مشرکین ہیں تاکہ ان کو کیا کیا جائے خبردار کیا جائے إنما توعدون تو یہ پانچ صفات ذکر ہوئیں پیچھے مرسلات عاصفات ناشرات فارقات اور ملقیات پہلی چار صفات یہ میں نے کس کی ذکر کیں؟ یہ ریاح کی صفات ہیں ہواؤں کی اور پانچویں صفت کس کی ہے فرشتوں کی اس میں مفسرین کے کئی اقوال ہیں بعضوں نے پانچوں صفات بنائیں ہوا کی بعضوں نے پانچوں صفات بنائیں فرشتوں کی بعضوں نے پانچوں صفات بنائیں مجاہدین کی بعضوں نے پانچوں صفات بنائیں انبیاء کی پیغمبروں کی اور بعضوں نے پانچوں صفات بنائیں علماء کی تو مختلف تفاسیر ہیں بھئی جو اسان تھی میں نے ذکر کر دی بھئی إنما توعدون لواقع إنما إنما یہ ما موصولہ ہے یاد رکھیے یقینا وہ جس سے تم سے وعدہ کیا جاتا ہے لواقع البتہ واقع ہونے والی ہے یعنی ہو کر رہے گی یقینا جس سے تم سے وعدہ کیا جاتا ہے البتہ وہ وہ ضرور ہوگی مراد قیامت ہے فإذا النجوم طمست پس جس وقت ستارے مٹا دیے جائیں طمسا کے معنی مٹا دینے کے یا یہ ترجمہ کر لیں فإذا النجوم طمست جس وقت ستارے بجھا دیے جائیں گے جس وقت ستارے بجھا دیے جائیں گے وإذا السماء فرجت اور جس وقت آسمان پھٹ جائیں گے پھاڑ دیے جائیں گے وإذا السماء فرجت جس وقت آسمان پھاڑ دیے جائیں گے وإذا الجبال نسفت اور جس وقت پہاڑ اڑا دیے جائیں گے نسفا کا معنی ہوا میں اڑانا بکھیرنا اور آپ پڑھ چکے کہ اس وقت پہاڑ جو ہیں وہ ذرہ ذرہ ہو کر ہوا میں اڑتے پھریں گے وإذا الجبال نسفت اور جس وقت پہاڑ اڑا دیے جائیں گے وإذا الرسل اقتت اور جس وقت پیغمبروں کا وقت مقرر کر دیا جائے گا اقتت یہ اصل میں ہے وقیت بھئی واؤ ہے حمزہ کی جگہ وقتا يوقيت توقيت کا معنی ہوتا ہے وقت مقرر کرنا کسی چیز کا وإذا الرسل اقتت اور جس وقت پیغمبروں کا وقت مقرر کیا جائے گا پیغمبروں کا وقت مقرر کرنے کا کیا معنی؟ معنی یہ کہ ہر پیغمبر کا قیامت کے دن مثلا وقت مقرر کر دیا جائے گا کہ سب سے پہلے فلاں پیغمبر اپنی امت کو لے کر حاضر ہو پھر اس کے بعد فلاں پیغمبر اپنی امت کو لے کر حاضر ہو اس کے بعد فلاں پیغمبر اپنی امت کو لے کر حاضر ہو تو ہر پیغمبر کا وقت مقرر کر دیا جائے گا وإذا الرسل اقتت اور جس وقت پیغمبروں کے وقت مقرر کر دیا جائے وقت مقرر کر دیا جائے گا لأي يوم أجلت کس دن کے لیے أجلت تاخیر کی جاتی ہے مہلت دی جاتی ہے أجل يوجل تأجيل کا کیا معنی ہوتا ہے؟ مہلت دینا مؤخر کرنا لأي يوم أجلت किस دن کے لیے مہلت دی جاتی ہے یعنی کس یہ پیغمبروں کا معاملہ کیوں مؤخر کیا جاتا ہے کس دن کے لیے مہلت دی جاتی ہے آگے اللہ جواب میں فرماتے ہیں ليوم الفصل فیصلے کے دن کے لیے فیصلے کے دن کے لیے وما أدراك ما يوم الفصل اور آپ کو کیا خبر کیا ہے فیصلے کے دن ويل يومئذ للمكذبين ہلاکت ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لیے اس روز جھٹلانے والوں کے لیے ہلاکت ہے بربادی ہے تو یوم الفصل کا کیا معنی کیا میں نے فیصلے کا یا یوم الفصل کا معنی کر لیں جدا کر دینے والا دن کیونکہ قیامت بھی مومنین اور کفار کو اہل باطل کو جدا جدا کر دے گا اس لیے اس کو یوم الفصل کہتے ہیں ويل يومئذ للمكذبين ہلاکت ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لیے ألم نهلك الأولين کیا ہم نے ہلاک نہیں کیا پہلے لوگوں کو ثم نتبعهم الآخرين پھر ہم ان کے پیچھے لگا دیں گے الآخرین بعد والوں کو फिर हम उनके पीछे लगा देंगे उनके بعد والوں کو پہلوں کو بھی ہم نے ہلاک کیا اور بعد والے بھی اس طرح کریں گے تو ہم ان کو بھی ان کے پیچھے لگا دیں گے انہی کی طرح کر دیں گے ان کے ساتھ کذلك نفعل بالمجرمین اسی طرح ہم کرتے ہیں مجرموں کے ساتھ ويل يومئذ للمكذبين ہلاکت ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لیے ألم نخلقكم من ماء مهین کیا ہم نے پیدا نہیں کیا تم کو ایک حقیر پانی سے کیا ہم نے تم کو ایک حقیر پانی سے ایک بے قدر پانی سے پیدا نہیں کیا مہین حقیر بے قدر ألم نخلقكم من ماء مهین کیا ہم نے تم کو پیدا نہیں کیا ایک بے قدر پانی سے مراد نطفہ ہے کتنا حقیر پانی ہے کہ اگر بدن سے نکلے تو پورا بدن نجس ہو جاتا ہے کپڑوں پر لگ جائے تو کپڑے نجس ہو جاتے ہیں بدن پر لگ جائے تو بدن نجس ہو جاتا ہے تو اللہ فرما رہے ہیں ألم نخلقكم من ماء مهین کیا ہم نے تم کو پیدا نہیں کیا ایک بے قدر پانی سے فجعلناه في قرار مكين پھر رکھ دیا ہم نے اس کو پھر ہم نے رکھ دیا اس کو في قرار مكين قرار جگہ بھئی مکین محفوظ مضبوط پھر ہم نے اس کو ایک محفوظ جگہ میں رکھ دیا۔ مراد ماں کا پیٹ ہے۔ پھر ہم نے اس کو ایک محفوظ جگہ میں رکھ دیا الی قدر معلوم۔ ایک معلوم مدت کے لیے، ایک معلوم وقت کے لیے یعنی پیدائش تک کے لیے۔ پیدائش تک کے لیے وہ نطفہ اور وہ حمل کہاں ہے؟ ماں کے پیٹ میں۔ الی قدر معلوم ایک معلوم مقدار تک، ایک معلوم وقت تک۔ فقدرنا پس ہم نے اندازہ لگایا۔ فنعم القادرون۔ بس کیا ہی اچھا اندازہ لگانے والے ہیں۔ مخصوص بالمدا محذوف ہے ای نحن۔ فنعم القادرون نحن کیا ہی خوب اچھا اندازہ لگانے والے ہیں ہم۔ پس ہم نے اندازہ لگایا۔ پس کیا ہی اچھا اندازہ لگانے والے ہیں ہم۔ اندازہ لگایا؟ یعنی اس وقت کا، جتنے وقت تک اس کو ماں کے پیٹ میں رہنا چاہیے۔ اور اکثر وہ مدت کتنی ہے؟ نو مہینے، ہاں بچے کی پیدائش کبھی چھ ماہ میں بھی ہو جاتی ہے، سات میں بھی، آٹھ میں بھی، نو میں بھی۔ تو اللہ نے اندازہ لگایا، اللہ فرما رہے ہیں کیا ہی اچھا اندازہ لگانے والے ہیں ہم۔ یعنی یہ اتنی مدت ہے جس کے اندر اس کے تمام اعضاء بن جاتے ہیں، وہ پورا ہو جاتا ہے تو کیا خوب اندازہ لگایا ہم نے۔ ویل یومئذ للمکذبین ہلاکت ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لیے۔ الم نجعل الارض کفاتا کیا ہم نے نہیں بنایا زمین کو کفاتا سمیٹنے والی۔ کفاتا کے معنی ہوتے ہیں سمیٹنے کے، جمع کرنے کے۔ الم نجعل الارض کفاتا کیا ہم نے نہیں بنایا زمین کو سمیٹنے والی یا یوں ترجمہ کر لیں، جمع کرنے والی۔ احیاء و امواتا زندوں کو اور مردوں کو۔ کیا ہم نے زمین کو زندہ اور مردوں کو سمیٹنے والی نہیں بنایا؟ کیا ہم نے زمین کو زندہ اور مردوں کو جمع کرنے والی نہیں بنایا؟ زندہ اور مردہ سب اس کے اندر جمع ہیں، زندہ اس کے اوپر ہیں تو مردہ اس کے پیٹ میں جمع ہیں۔ وجعلنا فیہا رواسی شامخات اور رکھ دیے اس زمین کے اندر ہم نے رواسی پہاڑ شامخات بلند و بالا۔ اس زمین کے اندر ہم نے بلند و بالا پہاڑ لگا دیے۔ واسقیناکم ماء فراتا اور پلایا ہم نے تم کو ماء فراتا۔ فرات پیاس بجھانے والا، خوشگوار۔ اور پلایا ہم نے تم کو پیاس بجھانے والا پانی یا یوں ترجمہ کر لیں، خوشگوار پانی یا یوں کہیں میٹھا پانی اور ہم نے تم کو سیراب کیا، تم کو پلایا میٹھا پانی۔ ویل یومئذ للمکذبین ہلاکت ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لیے۔ انطلقوا الی ما کنتم بہ تکذبون۔ انطلقو چلو تم الی ما اس چیز کی طرف کنتم بہ تکذبون جس کو تم لوگ جھٹلایا کرتے تھے۔ یہ قیامت کے دن مجرموں سے کہا جائے گا۔ چلو اس چیز کی طرف جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے، یعنی عذاب کی طرف۔ اللہ کے عذاب کو تم دنیا میں تسلیم ہی نہیں کرتے تھے۔ آج چلو اس عذاب کی طرف جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔ انطلقوا الی ظل ذی ثلاث شعب۔ چلو تم ایک ایسے سائے کی طرف، ظل کس کو کہتے ہیں؟ سائے۔ چلو تم ایک ایسے سائے کی طرف ذی ثلاث شعب جو تین شاخوں والا ہے۔ چلو تم ایک ایسے سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے۔ یاد رکھیے روایات میں آتا ہے کہ جہنم کی آگ سیاہ رنگ کی ہے۔ دنیا کی آگ تو آپ دیکھتے ہیں سرخ رنگ یا زرد رنگ کی ہوتی ہے، کبھی نیلے رنگ میں بھی آپ کو دکھائی دے گی۔ سائنسدانوں نے آج تجربات کیے اور وہ اس نتیجے پر پہنچے مختلف درجے، سب سے ہلکی آگ غالباً شاید انہوں نے زرد رنگ ذکر کی، پھر اس کے بعد کہتے ہیں آگ اور گرم ہو تو اس کا رنگ سرخ ہوتا ہے۔ اس طرح درجہ بدرجہ آگ کی انہوں نے تقسیم کی اور سب سے آخری درجہ جب آگ کا آتا ہے جس میں اس کی حرارت انتہا درجے کو پہنچ جاتی ہے تو اس وقت آگ کا شعلہ سیاہ رنگ کا ہو جاتا ہے بھئی، سیاہ رنگ کا۔ تو جہنم کی آگ سیاہ رنگ کی ہے بھئی۔ اور اس سے قیامت کے دن سیاہ دھواں نکلے گا اور جتنا کثرت سے ہوگا وہ دھواں اوپر اٹھ کر وہ تقسیم ہو جائے گا، اس کے تین حصے بن جائیں گے، تین شاخیں بن جائیں گی۔ اور ہر جہنمی کو وہ گھیر لے گا۔ تو جنتی تو قیامت کے دن عرش کے سائے تلے ہوں گے۔ دعا کرو اللہ ہم سب کو نصیب فرمائے۔ جبکہ جہنمی جو ہیں ان کو وہ جہنم کا سایہ گھیر لے گا، تین شاخیں ہوں گی، ایک شاخ اس کی ان کے سروں کے اوپر، ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف۔ تو وہ اس سائے میں ہوں گے، اس جہنم کے دھوئیں کے تو اللہ فرما رہے ہیں ان سے کہا جائے گا انطلقوا الی ظل ذی ثلاث شعب چلو تم ایک ایسے سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے، لا ظلیل ولا یغنی من اللہب۔ لا ظلیل نہ تو وہ سایہ دار ہے۔ نہ تو وہ کیا ہے؟ وہ دھواں وہ تو عذاب ہے، تکلیف ہے، اللہ فرما رہے ہیں لا ظلیل نہ تو وہ سایہ دار ہوگا ولا یغنی من اللہب اور نہ وہ آگ کے شعلوں سے کچھ کام آئے گا، اس کے مقابلے میں کچھ کام آئے ایسا بھی نہیں ہے۔ لا ظلیل نہ تو وہ سایہ دار ہے ولا یغنی من اللہب، لہب کس کو کہتے ہیں آگ کے شعلوں کو، ولا یغنی من اللہب اور نہ وہ کچھ کام آئے آگ کے شعلوں سے، انھا ترمی بشرر كالقصر۔ وہ جہنم جو ہے اس کی آگ جو ہے ترمی وہ پھینکے گی بشرر چنگاریاں کالقصر جیسے کہ محل ہوتے ہیں۔ جیسے بادشاہوں کے محل بڑے بڑے ہوتے ہیں بھئی اسی طرح بڑی بڑی چنگاریاں جہنم کی آگ سے نکلیں گی بھئی محل کی طرح بڑی بڑی بھئی۔ تو شرر جمع ہے شرارۃ کی اور یہ چنگاری کو کہتے ہیں۔ انھا ترمی بشرر کالقصر یقینا وہ آگ پھینکے گی چنگاریاں کالقصر جیسے کہ محل ہوتے ہیں۔ کانہ جمالۃ صفر۔ گویا کہ وہ اونٹ ہیں صفر زرد۔ کانہ جمالۃ صفر۔ گویا کہ وہ جمالۃ جمع الجمع ہے جمل ان کی، جمل کس کو کہتے ہیں اونٹ کو، کانہ جمالۃ صفر۔ صفر جمع ہے اصفر کی، زرد کو کہتے ہیں بھئی۔ گویا کہ وہ زرد رنگ کے اونٹ ہیں۔ اور بعضوں نے اس کا ترجمہ کیا کانہ جمالۃ صفر، گویا کہ وہ کالے رنگ کے اونٹ ہیں۔ بعضوں نے کیا ترجمہ کیا؟ زرد رنگ کے اونٹ اور بعضوں نے کالے رنگ کے سیاہ رنگ کے اونٹ۔ زرد رنگ کے اونٹ یہ تو ترجمہ واضح ہے بھئی، صفر کہتے ہی کس کو ہیں زرد کو، اور کالے رنگ کے، تو جن مفسرین نے اس کا معنی کالے رنگ کے کیا، وہ کہتے وہ فرماتے ہیں کہ سیاہ اونٹ کو بھی عرب زرد کہتے تھے۔ سیاہ اونٹ جو ہوتا اس کو بھی کیا کہتے تھے جس کا رنگ کالا ہوتا اس کو بھی زرد کہتے تھے کیونکہ اس کی سیاہی کے اندر زرد رنگ چھلکتا تھا وہ دکھائی کچھ دیتا تھا بھئی، اس لیے اس کو بھی وہ کیا کہتے تھے؟ جی یہ زرد اونٹ کہتے تھے ان کو بھی۔ تو گویا کہ وہ سیاہ اونٹ ہیں یا گویا کہ وہ زرد اونٹ ہیں۔ دو تشبیہیں دو چیزوں کے ساتھ دی گئیں بھئی ان چنگاریوں کو، ایک محلوں کے ساتھ اور ایک اونٹوں کے ساتھ۔ تو دو چیزوں کے ساتھ تشبیہ کا کیا معنی؟ بھئی یا تو دو حالتیں مراد ہیں ابتدا اور انتہا کے اعتبار سے، ابتدادا شروع میں جیسی چنگاری آگ سے اٹھتی ہے تو بڑی ہوتی ہے اور اوپر جا کر پھر چھوٹی ہو جاتی ہے یا ٹوٹ جاتی ہے ٹکڑے ہو جاتے ہیں، تو ابتدادا جو شعلے نکلیں گے جو چنگاریاں نکلیں گی اس آگ سے وہ محلوں کی طرح بڑی ہوں گی اور انتہادا جو وہ واپس نیچے کو گریں گی تو اونٹوں کی طرح چھوٹی ہو چکی ہوں گی یا محلوں کے ساتھ تشبیہ ہے بڑے ہونے میں اور اونٹوں کے ساتھ تشبیہ ہے کثرت اور تسلسل کے اندر بھئی۔ جیسے اونٹ کثرت سے ان کا ریوڑ ہوتا ہے اور وہ پے در پے ایک دوسرے کے پیچھے ہوتے ہیں لگاتار، اسی طرح وہ چنگاریاں ہوں گی تو محلوں کی طرح بڑی بڑی، لیکن اونٹوں کی طرح بڑی کثرت سے اور لگاتار اور مسلسل ہوں گی بھئی۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ تو یہ دو تشبیہیں ہیں یا تو ابتدا اور انتہا کے اعتبار سے، یا اول تشبیہ ہے بڑے ہونے کے اندر اور دوسری تشبیہ ہے کثرت کے اندر۔ ویل یومئذ للمکذبین ہلاکت ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لیے۔ ھذا یوم لا ینطقون۔ یہ وہ دن ہے لا ینطقون کہ وہ بول نہ سکیں گے۔ یہ وہ دن ہے کہ وہ مجرم لوگ بول نہ سکیں گے۔ ولا یؤذن لہم فیعتذرون۔ اور نہ ان کو اجازت دی جائے گی فیعتذرون کہ وہ عذر پیش کریں، کہ معذرت کریں۔ ھذا یوم لا ینطقون یہ وہ دن ہے کہ وہ مجرم لوگ بول نہ سکیں گے، ولا یؤذن لہم فیعتذرون اور نہ ان کو اجازت دی جائے گی کہ معذرت پیش کریں۔ بھئی دوسری آیات کے اندر آتا ہے کہ وہ انکار کریں گے، یہاں تو کہا جا رہا ہے کہ وہ بول ہی نہ سکیں گے، دوسری جگہ آیات میں کیا آتا ہے؟ وہ انکار کریں گے، اللہ ہم شرک کرتے ہی نہیں تھے، ہر چیز کے منکر ہو جائیں گے۔ عذر وغیرہ پیش کریں گے۔ تو جواب پہلے بھی کئی مرتبہ گزر چکا کہ قیامت کے احوال مختلف ہیں، بڑا لمبا دن ہے تو بعض احوال ایسے ہوں گے جس میں وہ بول سکیں گے اور بعض احوال ایسے ہوں گے کہ جس میں وہ بول نہیں سکیں گے۔ یا یا یہ معنی کہ بول تو سکیں گے لیکن بولنے کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہوگا تو نہ تو بولنا بھی کس کی طرح ہوا؟ نہ بولنے کی طرح۔ ویل یومئذ للمکذبین ہلاکت ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لیے۔ ھذا یوم الفصل یہ فیصلے کا دن ہے جمعناکم والاولین جمع کر دیا ہم نے تم کو اور پہلوں کو۔ فان کان لہم کید پس اگر تمہاری کوئی تدبیر ہے، فان کان لہم کید، کید کس کو کہتے ہیں تدبیر کو۔ فان کان لہم کید اللہ فرمائیں گے، اب اگر تمہارے پاس کوئی تدبیر ہے فکیدون تو تدبیر مجھ پر چلا لو۔ فکیدونی، نون کا کسرہ کیا بتلا رہا ہے؟ یہاں تو تم مجھ پر، میرے ساتھ وہ تدبیر کر لو۔ اللہ فرمائیں گے دنیا کے اندر تو تم میرے دین کے بارے میں، مسلمانوں کے بارے میں بڑی بڑی سازشیں کرتے تھے، بڑی بڑی تدبیریں چلا لیتے تھے، آج اگر تمہارے پاس کوئی تدبیر ہے تو چلاؤ مجھ پر اپنی تدبیر۔ ویل یومئذ للمکذبین ہلاکت ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لیے۔ ان المتقین فی ظلال وعیون۔ جی یہ اب متقیوں کا آپ حضرات کا ذکر آگیا۔ ان المتقین فی ظلال وعیون یقینا متقی جو ہیں وہ سائے میں ہوں گے و عیون اور چشموں میں و فواکہ اور میووں کے اندر، پھلوں کے اندر۔ فواکہ کس کو کہتے ہیں؟ پھل۔ تو متقی جو ہیں وہ سائے میں ہوں گے اور چشموں میں ہوں گے و فواکہ اور پھلوں میں مما یشتھون اس قسم کے یشتھون جس کو وہ چاہیں گے۔ یعنی جس قسم کے پھل وہ چاہیں گے اس قسم کے پھلوں میں ہوں گے جو وہ ان کو ملیں گے۔ کلوا واشربوا ہنیئا بما کنتم تعملون۔ کلوا واشربوا، کھاؤ اور پیو، ہنیئا مزے سے، خوشی خوشی، بما کنتم تعملون بدلے میں اس کے جو تم عمل کیا کرتے تھے۔ یہ اس چیز کا بدلہ ہے جو تم عمل کرتے تھے۔ انکذلك نجزی المحسنين یقینا ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں نیکی کرنے والوں کو۔ ویل یومئذ للمکذبین ہلاکت ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لیے۔ کلوا وتمتعوا قلیلا انکم مجرمون۔ اب پھر مجرموں کا ذکر آگیا۔ اللہ فرما رہے ہیں دنیا کے اندر جو کفار ہیں ان سے، کلوا وتمتعوا کھاؤ اور نفع اٹھا لو قلیلا تھوڑا سا یعنی موت تک۔ موت تک کیا کر لو دنیا کے اندر کھا پی لو، نفع اٹھا لو، مزے اڑا لو۔ انکم مجرمون یقینا تم مجرم ہو۔ کلوا وتمتعوا قلیلا انکم مجرمون کھاؤ اور نفع اٹھاؤ تھوڑا سا یقینا تم مجرم ہو۔ ویل یومئذ للمکذبین ہلاکت ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لیے۔ واذا قیل لہم ارکعوا لا یرکعون۔ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رکوع کرو تو وہ رکوع نہیں کرتے۔ یعنی جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جھک جاؤ تو نہیں جھکتے۔ ایک اللہ کے سامنے جھک جاؤ تو وہ نہیں جھکتے۔ واذا قیل لہم اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رکوع کہ جھک جاؤ تو لا یرکعون وہ نہیں جھکتے۔ ویل یومئذ للمکذبین ہلاکت ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لیے۔ فبای حدیث بعدہ یؤمنون۔ پس کس بات پر بعدہ اس کے بعد یعنی اس قرآن کے بعد، ہا ضمیر کس کو راجع ہے؟ قرآن کو۔ پس کس بات پر قرآن کس بات پر قرآن کے بعد یؤمنون وہ ایمان لائیں گے۔ قرآن جیسے عظیم الشان کتاب پر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے، اس جیسے فصیح و بلیغ اور معجز کلام پر کو یہ لوگ تسلیم نہیں کرتے تو اس کے بعد کون سی بات رہ جاتی ہے جس پر یہ لوگ ایمان لائیں گے۔ فبای حدیث بعدہ یؤمنون پس قرآن کے بعد یہ کس بات پر ایمان لے کر آئیں گے۔ अच्छा भई। نصاب تو پورا ہو گیا ہمارا بھئی، ختم ہو گیا۔ آئیے اب دعا کر لیں۔ دعا کا طریقہ ہمیشہ یاد رکھو جب بھی دعا کرو شروع میں اللہ تعالی کی حمد و ثناء ہونی چاہیے، اس کے بعد نبی کریمی صلی اللہ علیہ وسلم پر چند مرتبہ درود شریف اور آخر میں بھی دعا کے درود شریف اور آمین ہو تو اسے دعا قبولیت کے قریب تر ہو جاتی ہے۔ الحمد للہ رب العالمین۔ اللہم صلی علی سیدنا و مولانا محمد۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! اے اللہ! اے اللہ! ہم سب کی مغفرت فرما۔ اے اللہ! ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ! ہم سب کی قبروں کو منور فرما۔ اے اللہ! قیامت کے دن کی شرمندگی اور رسوائی سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! اے اللہ! ہمیں وہ نیک اعمال کرنے کی توفیق نصیب فرما جس سے آپ راضی ہوں۔ اے اللہ! ان اعمال سے ہماری حفاظت فرما، ان کاموں سے اللہ! ہماری حفاظت فرما جن سے آپ ناراض ہوتے ہوں۔ اے اللہ! کوئی نیکی آپ کی توفیق کے بغیر نہیں کی جا سکتی۔ اے اللہ! ہمیں نیک اعمال کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں نیک اعمال کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں نیک اعمال کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! آپ کی توفیق کے بغیر کسی گناہ سے انسان نہیں بچ سکتا۔ اے اللہ! ہمیں گناہوں سے بچنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں گناہوں سے بچنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں گناہوں سے بچنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! ہم سب کو، اے اللہ! دین پر، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر کامل طریقے سے عمل کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں سنتوں کو پھیلانے والا بنا۔ اے اللہ! ہمیں سنتوں کو پھیلانے والا بنا۔ اے اللہ! ہمیں سنتوں کو پھیلانے والا بنا۔ اے اللہ! کفر و شرک اور معاصی اور اور گمراہیوں کو مٹانے والا بنا۔ اے اللہ! ہمیں کفر و شرک و معاصی اور گمراہیوں کو مٹانے والا بنا۔ اے اللہ! اے اللہ! اے اللہ! جہنم سے ہم سب کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! جہنم سے ہم سب کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! جہنم سے ہم سب کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہمیں جنت الفردوس نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں جنت الفردوس نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں جنت الفردوس نصیب فرما۔ اے اللہ! ہم سب کے سینوں کو، اے اللہ! ہم سب کے سینوں کو علوم دینیہ سے منور فرما۔ اے اللہ! ہم سب کے سینوں کو علوم دینیہ سے منور فرما۔ اے اللہ! ہم سب کے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! ہم سب کے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! اندا زندگی میں ہمیں گناہوں سے بچنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! سنتوں پر استقلال کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! اے اللہ! تمام مسلمانوں کو پھر دین کی طرف لوٹا دے۔ اے اللہ! ہم سب میں پھر اتحاد پیدا فرما دے۔ اے اللہ! ہمیں دین پر چلنے والا بنا دے۔ اے اللہ! مجاہدین کی خصوصی مدد و نصرت فرما۔ اے اللہ! ان کی خصوصی نصرت فرما۔ اے اللہ! ان کی خصوصی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ان کو ہمت اور قوت نصیب فرما۔ اے اللہ! اتنا کڑا وقت کبھی مجاہدین پر نہیں آیا۔ کہ اے اللہ! دشمن تو دشمن ہیں، اپنے بھی مخالف بنے ہوئے ہیں، دشمن بنے ہوئے ہیں۔ اے اللہ! ہمیں صحیح سمجھ نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں مجاہدین کی نصرت کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! کفار کا خوف ہمارے دلوں سے نکال دے۔ اے اللہ! یقیناً یہ وہ فتنے کا زمانہ ہے جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فتنے کے زمانے میں کوئی شخص صبح کو مسلمان ہوگا تو شام تک کافر ہو چکا ہوگا اور کوئی شام کو مسلمان ہوگا تو صبح تک کافر ہو چکا ہوگا۔ اے اللہ! اس فتنے کے زمانے میں، اے اللہ! ہمیں دین پر چلنے والا بنا۔ اے اللہ! اے اللہ! جو لوگ مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں، اے اللہ! ان کو تباہ و برباد فرما۔ اے اللہ! ان کو ذلیل و رسوا فرما۔ اے اللہ! مسلمانوں کو ہمت نصیب فرما۔ اے اللہ! مسلمانوں کو پھر عروج نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمارے اس وطن کے اندر بھی، اے اللہ! اسلامی نظام نافذ کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! بہت لوگوں نے، اے اللہ! یقیناً، یقیناً، اے اللہ! مجاہدین آپ کے دین کے لیے، اے اللہ! لگے ہوئے ہیں، اے اللہ! قربانیاں دے رہے ہیں۔ اے اللہ! ان سب کی قربانیوں کے وسیلے سے، اے اللہ! ہمارے اس دین، اس ہمارے اس وطن کے اندر بھی اسلامی نظام لانے کی ہمیں توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں ہمت اور قوت نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں وہ اسباب نصیب فرما۔ اے اللہ! ہر قسم کی رکاوٹیں دور فرما۔ اے اللہ! میرے تمام تلامذہ کو بھی، اے اللہ! خوشیاں نصیب فرما۔ اے اللہ! دنیا میں بھی ان کو معزز و محترم فرما۔ اے اللہ! آخرت میں بھی ان کو معزز و محترم فرما۔ اے اللہ! ہمیں بغیر حساب کتاب کے جنت الفردوس نصیب فرما۔ اے اللہ! قیامت کے دن، اے اللہ! آپ کے دربارِ جلال و جمال میں ہم حاضر ہوں تو اس حال میں ہوں کہ آپ بھی ہم سے راضی ہوں اور آپ کے پیغمبر بھی ہم سے راضی ہوں۔ اے اللہ! اے اللہ! قبر کے عذاب سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! قبر کی تاریکی سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! تو قادر ہے، اے اللہ! ہمیں نیکیوں کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! کوئی نیکی آپ کی توفیق کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ اے اللہ! ہمیں اپنے ان بندوں میں شامل فرما جن سے آپ کے فرشتے بھی محبت کرتے ہیں۔ اے اللہ! جن سے یہ جانور، پرندے وغیرہ ہر چیز محبت رکھتی ہے۔ اے اللہ! ہمیں ان بندوں میں شامل فرما دے۔ اے اللہ! ہمیں ان بندوں میں شامل فرما دے۔ اے اللہ! ہمیں تمام زندگی دین کا کام کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! ہر قسم کی رکاوٹوں، تکالیف اور پریشانیوں سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہم نے اس مجلس کے اندر آپ کی کتاب کا ایک بڑا حصہ ختم کیا۔ اے اللہ! اس کے، اس سے پڑھنے میں اور پڑھانے میں، اے اللہ! ہم نے اس کا حق ادا نہیں کیا۔ اے اللہ! ہم سے بڑی کوتاہیاں ہوئی ہوں گی۔ اے اللہ! ہماری ان کوتاہیوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! ہماری ان کوتاہیوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! ہماری ان کوتاہیوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! ہم نے آپ کی کتاب کا ایک بڑا حصہ اس مجلس میں ختم کیا۔ اے اللہ! اس کتاب کی برکت سے، اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! علوم دینیہ کے لیے ہمارے سینوں کو کھول دے۔ اے اللہ! ہم سب کو قوی حافظہ نصیب فرما۔ اے اللہ! علوم کے لیے, اے اللہ! ہمارے سینوں کو کھول دے۔ اے اللہ! علم پر ہمیں عمل کرنے والا بنا۔ اے اللہ! عمل کرنے والا بنا۔ اے اللہ! بے عملی سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! اے اللہ! اے اللہ! میرے تمام تلامذہ میں سے, اے اللہ! ہر ایک کو، اے اللہ! ہر ایک سے دین کا کام لے۔ اے اللہ! ان میں سے ہر ایک سے دین کا کام لے۔ اے اللہ! ان میں سے ہر ایک کو ایسی شمع بنا دے جس سے آگے لاکھوں کروڑوں شمعیں روشن ہوں اور اے اللہ! یہ سلسلہ تا قیامت جاری و ساری فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں، اے اللہ! سب کی تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! سب کی تمام مشکلات حل فرما۔ اے اللہ! ہر تمام مشکلات حل فرما۔ اے اللہ! حاضرین میں سے کوئی بیمار ہو یا ان کے گھروں میں کوئی بیمار ہو، اے اللہ! سب کو شفا نصیب فرما۔ اے اللہ! سب کو شفا نصیب فرما۔ یا عزیز! یا لطیف! یا عزیز! یا لطیف! یا عزیز! یا لطیف! یا ارحم الراحمین! یا ارحم الراحمین! یا ارحم الراحمین! اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! جس اس مجلس میں جتنی دعائیں مانگیں اور جتنی مانگیں گے، اے اللہ! سب قبول فرما۔ اے اللہ! حاضرین میں سے کوئی بیمار ہو یا ان کے گھروں میں کوئی بیمار ہو، سب کو شفا نصیب فرما۔ اے اللہ! جس اور جن کے گھروں میں کوئی پریشانی یا تکلیف ہو، اے اللہ! ان تمام تکالیف اور پریشانیوں کو دور فرما۔ اے اللہ! ہم سب کے گھروں میں اطمینان اور سکون نصیب فرما۔ اے اللہ! اطمینان اور سکون نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں بھی اپنے محبوب بندوں میں شامل فرما۔ اے اللہ! ہمیں بھی اپنے محبوب بندوں میں شامل فرما۔ اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں، سب کو وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ! حرام کے ذرے ذرے سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہماری بھی حفاظت فرما، قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کی بھی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما، قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کا خاتمہ بھی ایمان پر فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! تمام عالم کے مسلمانوں کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ان میں اتفاق و اتحاد پیدا فرما۔ اے اللہ! ہمیں پھر دین کی طرف لوٹا دے۔ اے اللہ! ہمیں پھر دین پر چلنے والا بنا دے۔ اے اللہ! ہمیں صحیح سمجھ نصیب فرما۔ اے اللہ! مسلمانوں کو اور اسلام کو پھر عروج نصیب فرما۔ اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو پھر عروج نصیب فرما۔ اے اللہ! تمام مدارس کی، مساجد کی، مجاہدین، مبلغین، جو جو بھی جس انداز میں دینی کام میں لگا ہوا ہے، اے اللہ! سب کی مدد فرما۔ سب کی حفاظت فرما۔ سب کی نصرت فرما۔ اے اللہ! سب کو قوت اور ہمت نصیب فرما۔ مجاہدین کی اللہ! خصوصی مدد و نصرت فرما۔ دشمنانِ اسلام پر ان کا رعب طاری فرما۔ اے اللہ! دشمنانِ اسلام کو ذلیل و رسوا فرما۔ اے اللہ! ان کو تباہ و برباد فرما۔ اے اللہ! اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہمارے اس کتاب کا جو نس جو حصہ ہمارا تھا، اس کو ہم نے مکمل کیا، اے اللہ! اس کو ہم سب کے لیے مبارک فرما۔ اے اللہ! ہم سب کے لیے مبارک فرما اور خیر ہی خیر کا باعث فرما۔ اے اللہ! خیر ہی خیر کا باعث فرما۔ اے اللہ! علوم دینیہ کے لیے ہمارے سینوں کو کھول دے۔ اے اللہ! ہمارے سینوں کو قرآن کے علوم سے منور فرما۔ اے اللہ! ہمارے سینوں کو حدیث کے نور سے منور فرما۔ اے اللہ! اے اللہ! علوم دینیہ کو اس سے ہمارے سینوں کو منور فرما۔ اے اللہ! علوم دینیہ کو ہمارے لیے آسان فرما۔ اے اللہ! آپ تو قادر ہیں۔ اے اللہ! آپ تو قادر ہیں۔ اے اللہ! اے اللہ! اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! آپ کے پیغمبر نے فرمایا ہے اور ان کا فرمان آپ ہی کا فرمان ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ کے نیک فرشتے نیک مجالس کی تلاش میں ہر طرف گھومتے ہیں، چکر لگاتے رہتے ہیں اور جب ان کو کوئی نیک مجلس دکھائی دیتی ہے، جو لوگ اللہ کے ذکر میں مصروف ہوں، دین کی باتوں میں لگے ہوئے ہوں، تو وہ فرشتے اس کے اور ان کے گرد جمع ہو جاتے ہیں اور فرشتوں کو بھی آواز دے کر بلا لیتے ہیں یہاں تک کہ وہ اس مجلس والوں کو ڈھانپ لیتے ہیں اور ان کی صفیں آسمان تک پہنچ جاتی ہیں اور وہ وہاں دعا مانگنے والوں کی دعاؤں پر آمین کہتے ہیں۔ اے اللہ! ہم یہاں کسی دنیوی غرض سے جمع نہیں ہوئے۔ اے اللہ! آپ کی اس کتاب کو سیکھنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ اے اللہ! یقیناً آپ کے وہ فرشتے یہاں بھی موجود ہوں گے۔ اے اللہ! یقیناً آپ کے پیغمبر کا قول سچا ہے، وہ فرشتے یہاں پر بھی موجود ہوں گے۔ اے اللہ! کہ وہ نیک فرشتوں ل للہ ہماری دعاؤں پر آمین کہہ دو۔ اے اللہ! کہ نیک فرشتوں ل للہ ہماری دعاؤں پر آمین کہہ دو۔ اے اللہ! کہ نیک فرشتوں ل للہ ہماری دعاؤں پر آمین کہہ دو۔ تمہارے آمین کہنے سے ہماری بگڑی ہوئی بن جائے گی۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! ہم سب کے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! یقیناً ہمارے گناہ بہت زیادہ، لیکن اے اللہ! آپ کی رحمت تو بڑی وسیع ہے۔ اے اللہ! آپ کی وسیع رحمت کا واسطہ! اے اللہ! ہم سب کے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! آپ کے در کے سوا اور کوئی در نہیں ہے۔ اے اللہ! آپ کے در کے سوا اور کوئی در نہیں ہے۔ اے اللہ! ہم سب کے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! آئندہ زندگی میں گناہوں سے بچنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! تمام مشکلات حل فرما۔ میرے لیے بھی آپ حضرات سے دعاؤں کی درخواست ہے۔ اے اللہ! تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! تمام مشکلات حل فرما۔ اے اللہ! تمام مشکلات حل فرما۔ میری والدہ اور ہمشیرہ بھی بیمار رہتی ہیں، ان کے لیے بھی دعاؤں کی درخواست ہے۔ اے اللہ! ان کو صحت اور عافیت نصیب فرما۔ اے اللہ! ان کو اطمینان اور سکون نصیب فرما۔ اے اللہ! ان کا سایہ ہمارے سروں پر تا دیر قائم و دائم فرما۔ اے اللہ! حاضرین میں سے بھی جن کے والدین زندہ ہیں، اے اللہ! ان کو صحت اور عافیت نصیب فرما۔ ان کا سایہ ان کے سروں پر تا دیر قائم و دائم فرما۔ اے اللہ! ہمیں والدین کی خدمت کر کے جنت کا مستحق بننے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں جنت کا مستحق بننے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! جن جن کے والدین کا انتقال یا جن عزیز و اقارب کا، یا ہمارے جن اساتذہ کا انتقال ہو چکا، اے اللہ! ان سب کی مغفرت فرما۔ اے اللہ! ان کی لغزشات سے درگزر فرما۔ اے اللہ! ان کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ! ہمارے جو اساتذہ زندہ ہیں ان کو بھی خوشیاں نصیب فرما۔ اے اللہ! ان کی تمام تکالیف اور پریشانیوں کو دور فرما۔ اے اللہ! ان سب کو وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں، سب کو وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ! سب کو وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ میرے لیے بھی آپ حضرات سے دعاؤں کی درخواست، ایک خاص میرے ایک ذاتی کام ہے، اس کے لیے بھی دعا فرمائیں کہ اے اللہ! اس کو خیر ہی خیر کا باعث بنا دے۔ اے اللہ! اس میں ادنیٰ سے ادنیٰ درجے کی تکلیف سے بھی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہر قسم کی رکاوٹوں سے حفاظت فرما اور دنیوی اور اخروی ہر اعتبار سے اللہ! بے انتہا خیر ہی خیر کا باعث بنا دے۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ صلی اللہ تعالیٰ علی
129 approved lectures · 131 of 129
⏮ First ◀ Previous
Current dars-131