Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-089

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 12 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 3
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ بالله من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم وما کان لبشر أن يكلمه الله إلا وحيا أو من وراء حجاب أو يرسل رسولا فيوحي بإذنه ما يشاء إنه علي حكيم وكذلك أوحينا إليك روحا من أمرنا ما كنت تدري ما الكتاب ولا الإيمان ولكن جعلناه نوراً نهدى به من نشاء من عبادنا وإنك لتهدي إلى صراط مستقيم و ما کان لبشر اور نہیں ہے کسی بشر کے لیے کسی انسان کے لیے یعنی کسی انسان کی یہ طاقت نہیں ہے أن یكلمه اللہ یہ کہ اللہ اس سے کلام فرمائیں إلا وحیاً مگر وحی سے او من وراء حجاب یا پردے کے پیچھے سے او یُرْسِلَ رسُولاً یا بھیج دیں کسی پیغام لانے والے کو فُیُوحیٰ بِإذْنِهِ ما یشاء پس وہ پہنچا دے بإذْنِہِ اس کی اجازت سے ما یشاء جو وہ چاہے پس وہ پہنچا دے بإذْنِہِ ای بإذن اللہ کس کی اجازت سے؟ اللہ کی اجازت سے ما یشاء و جو وہ اللہ چاہیں إنہُ علیّ حكيم بیشک وہ سب سے بلند حکمت والے ہیں بھئی گزشتہ سبق میں میں بیان کر رہا تھا کہ یہاں تین طریقے بیان ہوئے کسی انسان کی یہ طاقت نہیں کہ اللہ اس سے ہم کلام ہوں اس سے کلام فرمائیں ہمارا یہ جسد عنصری اور ہمارے یہ قوا اس بات کے متحمل نہیں ہیں کہ اللہ بالمعاشفہ آمنے سامنے کسی انسان سے کلام فرمائیں البتہ یہ تین طریقے جو اللہ نے ذکر فرماۓ بھئی ایک پہلے سب سے پہلے وحی کو ذکر کیا دوسرا طریقہ او من وراء حجاب یا پردے کے پیچھے سے او یُرْسِلَ رسُولا یا یہ کہ کسی پیغام لانے والے کو بھیج دیں یعنی کسی فرشتے کو بھیج دیں کافی کچھ تفصیل تو میں نے گزشتہ سبق میں بیان کر دی تھی کہ ہمارا یہ بدن فانی ہے یہ آنکھیں فانی ہیں تو یہ اللہ کی رویت اللہ کے دیدار کی طاقت ہی نہیں رکھتے البتہ آخرت میں جب اللہ ہمیں ایسا بدن عطا فرمائیں گے جو ابدی ہوگا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہوگا تو پھر اس میں اللہ کا دیدار ہوگا جیسے کہ روایات میں آتا ہے کہ جنت کے اندر اللہ کا دیدار ہوگا تو یہاں تین طریقے بیان ہوئے بھئی ایک یہ کہ اللہ کسی پردے کے پیچھے سے کلام فرمائیں جیسے کہ حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ کوہ طور پر کلام فرمایا یا جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لیلۃ المعراج میں فرمایا بھئی لیلۃ المعراج میں لیلۃ المعراج میں تو ایک طریقہ یہ پردے کے پیچھے سے کلام فرمائیں اور ایک طریقہ یہ کہ فرشتہ جو ہے وحی لے کر براہ راست پیغمبر کے قلب پر القا فرمائیں اس صورت کے اندر اس صورت کے اندر قلب ہی کے ذریعے فرشتے کا ادراک ہوتا ہے اور قلب ہی کے ذریعے وحی کا ادراک ہوتا ہے یعنی سامنے ارد گرد بیٹھے ہوئے کسی شخص کو کچھ بھی پتہ نہیں چلتا کیونکہ یہ انطی معاملہ ہے آنکھوں سے کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا تو وہ فرشتہ براہ راست پیغمبر کے قلب پر وحی کا القا کرتا ہے وحی کا القا کرتا ہے اور اس فرشتے کا ادراک بھی قلب ہی کے دل ہی کے ذریعے ہوتا ہے اور اس کی آواز یا اس کی وحی کا ادراک بھی کس کے ذریعے ہوتا ہے دل ہی کے ذریعے ہوتا ہے دل کے ذریعے ہوتا ہے تو چونکہ یہ ایک یہ ایسی حالت ہے جس میں آس پاس کے لوگوں کو کچھ پتہ نہیں چلتا اور تو چنانچہ اس کو وحی کے ساتھ ذکر کیا گیا إلا وحیاً کس کے ساتھ ذکر کیا گیا وحی کے ساتھ ذکر کیا گیا کیونکہ وحی کا معنی بھی میں نے آپ کو بتلایا تھا خفیہ پیغام اور تیز اشارے کو کہتے ہیں تو یہاں پر بھی کسی کو ظاہر میں کچھ پتہ نہیں چل رہا براہ راست پیغمبر کے قلب کے ذریعے وحی کا اور فرشتے کا ادراک ہو رہا ہے تو اس لیے اس کو وحی کے ساتھ تعبیر کیا گیا بھئی وحی کے ساتھ اور تیسرا طریقہ یہ ہے کہ اللہ فرشتے کو بھیجیں اور وہ فرشتہ مجسم شکل میں پیغمبر کے سامنے آئے جیسا کہ روایات میں آتا ہے کہ دو مرتبہ حضرت جبرئیل امین کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصل شکل میں دیکھا اور بسا اوقات جو ہے وہ حضرت دحیۃ کلبی رضی اللہ تعالی عنہ کی شکل میں آتے تھے جو سب سے حسین تھے صحابہ میں سے بھئی اللہ نے بے انتہا حسن جنہیں نصیب فرمایا تھا تو حضرت جبرئیل امین اکثر جب انسانی شکل میں آتے تو ان کی صورت میں آتے اور کبھی کبھار کسی غیر اجنبی شخص کی شکل میں بھی اجاتے تو یہ تیسری صورت ہے جس میں وہ انسانی صورت میں آتے اور اس صورت اس موقع پر جو پاس بیٹھے ہوتے اور لوگ وہ بھی سارا ماجرہ دیکھ لیتے اور ساری باتیں سن لیتے بھئی صورت سمجھ میں آ گئی بھئی تو یہاں تین صورتیں تھیں ان کو ذکر کر دیا گیا وحی کے ذریعے وہ صورت جب براہ راست فرشتہ پیغمبر کے قلب پر القا کرے وحی کا اور ایک من وراء حجاب کہ اللہ پردے کے پیچھے سے ہم کلام ہوں أو يرسل رسولا یہ تیسری صورت کہ فرشتہ باقاعدہ مجسم صورت میں سامنے آ کر وحی پہنچائے بھئی جی تو یہی اللہ ذکر فرما رہے ہیں وما کان لبشر أن يكلمه الله إلا وحيا اور کسی بشر کی یہ طاقت نہیں ہے کہ اللہ اس سے ہم کلام ہوں مگر وحی سے أو من وراء حجاب یا پردے کے پیچھے سے أو يرسل رسولا یا بھیج دیں کسی پیغام لانے والے کو فيوحي بإذنه ما يشاء پس وہ وحی کرے اس کی اجازت سے جو وہ چاہے إنہ علیّ حكيم بیشک وہ عالی شان ہیں حکمت والے ہیں وكذلك أوحينا إليك روحا من أمرنا اور اسی طرح وحی کیا آپ کی طرف اور اسی طرح ہم نے وحی کیا آپ کی طرف روحا روح سے یہاں یاد رکھیے مراد قرآن ہے راجح تفسیر یہی ہے کہ اس سے کیا مراد ہے قرآن مراد ہے اور قرآن کو روح کے ساتھ ذکر کیا گیا کیونکہ قرآن بھی مردہ دلوں کو زندگی بخشتا ہے بھئی اور ان کو اللہ کے راستے کی طرف ان کی رہنمائی کرتا ہے وكذلك أوحينا إليك روحا من أمرنا اور اسی طرح وحی نازل کی ہم نے آپ کی طرف ہم وحی بھیجی ہم وحی بھیجا ہم نے آپ کی طرف قرآن کو من أمرنا اپنے حکم سے اسی طرح وحی کیا آپ کی طرف ہم نے قرآن کو من أمرنا اپنے حکم سے تو روح کا ایک معنی میں نے کیا کیا بھئی قرآن اور بعضوں نے روح کا معنی فرشتے کے کیے بھئی مراد یعنی حضرت جبرئیل امین ہیں وكذلك أوحينا إليك روحا من أمرنا اور اسی طرح بھیجا ہم نے آپ کی طرف فرشتے کو من أمرنا اپنے حکم سے اور اسی طرح ہم نے وحی کیا یعنی ہم نے بھیجا آپ کی طرف فرشتے کو من أمرنا اپنے حکم سے ما كنت تدري ما الكتاب ولا الإيمان نہیں تھے آپ جانتے ما الكتاب کہ کیا ہے کتاب ولا الإيمان اور نہ ایمان کو آپ اس سے پہلے نہ تو اس کتاب کو جانتے تھے یعنی قرآن کو ولا الإيمان اور نہ آپ کو ایمان کی تفصیل کا علم تھا بھئی ایمان وما كنت تدري ما الكتاب ولا الإيمان آپ نہیں جانتے تھے کہ کیا ہے کتاب اور نہ ایمان کو ولكن جعلناه نوراً نهدى به من نشاء من عبادنا لیکن ہم نے اس قرآن کو نور بنایا ہے جعلناه ہم نے اس قرآن کو لیکن ہم نے اس نور ایسا نور بنایا ہے نورا نکرہ ہے اس کے بعد نهدى فعل آیا بھئی یہ کیا بنے گا اس کے لیے صفت لیکن ہم نے اس قرآن کو ایسا نور بنایا ہے نهدى به کہ ہم ہدایت دیتے ہیں اس کے ذریعے من نشاء جس کو ہم چاہتے ہیں من عبادنا اپنے بندوں میں سے وإنك لتهدي إلى صراط مستقيم اور بیشک آپ البتہ رہنمائی کر رہے ہیں إلى صراط مستقيم سیدھے راستے کی طرف بیشک اے پیغمبر آپ سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کر رہے ہیں صراط الله الذي وہ راستہ جو کہ اللہ کا ہے وہ راستہ جو کہ اس اللہ کا ہے کہ لہ ما فی السماوات وما فی الأرض کہ اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے صراط الله یاد رکھیے یہ بدل ہے صراط مستقيم سے وإنك لتهدي إلى صراط مستقيم اور بیشک البتہ آپ رہنمائی کرتے ہیں سیدھے راستے کی طرف وہ اس اللہ کے راستے کی طرف کہ اسی کے لیے ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ألا إلى الله تصير الأمور ألا کیا معنی ہوگا آلا کا حرف تنبیہ ہے یاد رکھو إلى الله تصير الأمور اللہ ہی کی طرف تمام امور لوٹتے ہیں رحمك الله إلى الله تصير الأمور اللہ ہی کی طرف تمام امور لوٹتے ہیں تمام کام اسی کی طرف لوٹتے ہیں یہاں تک ترجمہ سمجھ میں آگیا بھئی اچھی طرح بسم اللہ الرحمن الرحیم حم والكتاب المبين إنا جعلناه قرآنا عربيا لعلكم تعقلون وإنہ في أم الكتاب لدينا لعلي حكيم جی یہ سورہ زخرف ہے اور حامیم کے سلسلے کی یہ چوتھی سورت ہے بھئی چوتھی سورت اور اس سورت کو سورہ زخرف کہا جاتا ہے اس کا نام سورہ زخرف ہے زخرف عربی زبان میں سونے کو کہتے ہیں بھئی سونا چاندی نہیں جانتے ہیں بھئی کہ نہیں جانتے بھئی ہاں سونے کو عربی زبان میں زخرف کہا جاتا ہے چونکہ اس سورت میں بھی سونے کا ذکر آیا ہے تو اس کا نام سورہ زخرف ہے بھئی تو اس میں سونے کا ذکر آئے گا اللہ فرماتے ہیں کہ یہ سونا چاندی یہ ہمارے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتے اور یہ ہمارے نزدیک بڑی ادنی درجے کی چیزیں ہیں اور اگر تمام لوگوں کے کافر ہونے کا خطرہ نہ ہوتا تو ہم یہ جو کافر ہیں یہ جو دنیا کو چاہنے والے ہیں ہم ان کو اتنا سونا چاندی دیتے اتنا سونا چاندی دیتے کہ ان کے گھر ان کی سیڑھیاں ان کے تخت سارا کچھ ہی سونے کے کر دیتے یعنی اتنا سونا ہم ان کو دے دیتے اس کی ہمارے نزدیک کوئی قدر نہیں ہے حم یہ حروف مقطعات میں سے والكتاب المبين قسم ہے اس کتاب کی المبین جو بیان کرنے والی ہے قسم ہے اس کتاب کی جو بیان کرنے والی ہے یا یہ ترجمہ کر لیں قسم ہے اس کتاب کی جو واضح ہے قسم ہے اس واضح کتاب کی إنا جعلناه قرآنا عربيا بیشک ہم نے اس کتاب کو عربی قرآن بنایا لعلكم تعقلون تاکہ تم سمجھ لو ہم نے اس کتاب کو عربی قرآن بنایا تمہاری مادری زبان میں نازل کیا تاکہ تم اس کو سمجھ لو اچھی طرح اور پھر آگے بھی اوروں کو کے لیے اس کے معنی بیان کرو وإنہ في أم الكتاب لدينا لعلي حكيم اور بیشک یہ کتاب في أم الكتاب یہ ام کتاب میں ہے یعنی لوح محفوظ میں ہے ام الكتاب سے کیا مراد ہے؟ لوح محفوظ ہے بھئی اور بیشک یہ کتاب لوح محفوظ میں ہے لدینا ہمارے پاس لعلي حكيم البتہ بڑی اونچی اور حکمت والی ہے بیشک یہ کتاب ہمارے پاس لوح محفوظ میں بڑی اونچی اور حکمت والی ہے سمجھ میں آیا لعلي حكيم یہ ہے خبر بھئی انّ کی انّ کی خبر اور بیشک بیشک ہمارے پاس یہ کتاب لوح محفوظ میں بڑی اونچی اور حکمت والی ہے أفنضرب عنكم الذكر صفحه أفنضرب عنكم بھئی نضرب کے یہاں دو معنی دو تفسیریں کی گئی ہیں ایک معنی تو روکنے کے ہیں روکنے کے اور صفحاً اسی سے مفعول مطلق ہے من غیر لفظہ بھئی مفعول مطلق اسے کہتے ہیں بھئی وہ مصدر جو ما قبل فعل کے معنی میں ہوتا ہے ضربت ضرباً یہ ضرباً کیا ہے مفعول مطلق ہے اور آپ نے یہ بھی پڑھا ہے کہ یہ اسی لفظ سے یا اسی باب سے ہونا ضروری نہیں ہاں یہ غیر لفظ سے بھی ہو سکتا ہے یعنی اور صیغہ بھی ہو سکتا ہے جس کا مادہ اور ہو البتہ معنی وہی ہونا چاہیے معنی کا ایک ہونا شرط ہے بھئی تو أفنضرب عنكم الذكر صفحاً ذکر سے مراد یہ قرآن ہے بھئی سو نضرب کا ایک معنی میں نے کیا بیان کیا روکنا أفنضرب عنكم الذكر صفحاً کیا ہم کیا پس ہم روک دیں تم سے اس قرآن کو کیا پس ہم تم سے اس قرآن کو روک لیں أن كنتم قوم مسرفین آئی لئن كنتم قوم مسرفین اس وجہ سے کہ تم حد سے بڑھنے والے لوگ ہو اللہ فرما رہے ہیں کیا اس بات کی وجہ سے ہم تم سے قرآن کو روک لیں کہ تم حد سے بڑھنے والے لوگ ہو حد سے تجاوز کرنے والے ہو اور استفہام استفہام انکاری ہے یعنی ہم نہیں اس بنا پر نہیں روکیں گے کوئی قوم حد سے تجاوز کرنے والی ہو اور اس سے ہم ہدایت کو روک لیں نہیں ہم ہدایت کی بات پھر بھی ان تک پہنچا دیتے ہیں تاکہ اتمام حجت ہو جائے کل کو یہ نہ کہیں کہ ہمارے پاس تو ہدایت ہی نہیں آئی تھی معنی سمجھ میں آگیا بھئی مفہوم وضح ہو گیا، افا نضربونکم الذکر صفحاً، کیا ہم روک دیں تم سے اس قرآن کو ان کنتم قوم مسرفین اس وجہ سے کہ تم حد سے بڑھنے والے لوگ ہو، حد سے تجاوز کرنے والے لوگ ہو۔ یہ ایک معنی نضربوگے۔ نضربو کا دوسرا معنی یہاں پھیر دینے کے کیا بعض مفسرین رحمہم اللہ نے بیان کیا، پھیر دینا۔ افا نضربونکم الذکر، کیا ہم پھیر دیں تم سے اس نصیحت کو، اس قرآن کو صفحاً اسی طرح مفعول مطلق ہے بھئی پھیر دینے کے معنی۔ کیا ہم پھیر دیں تم سے اس قرآن کو موڑ کر ان کنتم قوم مسرفین اس وجہ سے کہ تم حد سے تجاوز کرنے والے لوگ ہو۔ معنی دونوں واضح ہو گئے بھئی ایک معنی نضربو کا روک لیں دوسرا معنی پھیر لیں۔ وکم ارسلنا من نبی اور بہت سے بھیجے ہم نے من نبی نبی فی الاولین پہلے لوگوں میں۔ وکم ارسلنا من نبی فی الاولین اور بہت سے بھیجے ہم نے نبی پہلے لوگوں میں۔ یہاں یہ لفظ کم آیا بھئی کم یاد رکھیے یہ کم دو قسم پر ہے ایک کم استفہامیہ ہے اور ایک کم خبریہ ہے۔ کم استفہامیہ کے ذریعے سوال کیا جاتا ہے۔ اور کم خبریہ کے ذریعے خبر دی جاتی ہے۔ اور خبر میں یہ جو کم آتا ہے خبر کے لیے اس کے ذریعے کثرت بیان کی جاتی ہے کسی چیز کی۔ کم خبریہ کے ذریعے کثرت اس کے لیے استفہام نہیں بھئی کم استفہامیہ الگ ہے اور کم خبریہ الگ۔ کم خبریہ جس کے ذریعے خبر دی جاتی ہے اس کے ذریعے کثرت بیان کی جاتی ہے۔ تو کم ارسلنا من نبی فی الاولین کثرت بیان کی جا رہی ہے ان نبیوں کی جن کو بھیجا گیا بھئی تو کیا ترجمہ کریں گے وکم ارسلنا من نبی فی الاولین اور بہت سے پیغمبر ہم نے بھیجے پہلے لوگوں میں۔ بہت سے پیغمبر ہم نے بھیجے پہلے لوگوں میں۔ وکم ارسلنا من نبی فی الاولین اور ہم نے پہلے لوگوں میں بہت سے پیغمبر بھیجے وما یاتیہم من نبی الا کانوا بہ یستہزءون اور نہیں آتا تھا ان لوگوں کے پاس کوئی بھی پیغمبر الا کانوا بہ یستہزءون مگر یہ کہ وہ اس کے ساتھ استہزاء کرتے تھے، اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ وما یاتیہم من نبی اور ان کے پاس کوئی نبی بھی نہیں آیا مگر یہ کہ کوئی نبی بھی نہیں آتا تھا مگر یہ کہ اس کے ساتھ وہ استہزاء کرتے تھے۔ فاھلکنا اشد منہم بطشا، پس ہلاک کر دیا ہم نے اشد منہم وہ جو زیادہ سخت تھے منہم ان کے مقابلے میں۔ یہ مشرکین عرب، مشرکین مکہ یہ یہ تو ان کے سامنے کچھ بھی نہیں وہ لوگ تو بڑے سخت تھے بطشا بطش کہتے ہیں پکڑ کو بھئی پکڑ۔ پکڑنے کے اعتبار سے پس وہ پس ہم نے ہلاک کر دیا ان کو جو زیادہ سخت تھے ان کے مقابلے میں پکڑنے کے اعتبار سے یعنی قوت کے اعتبار سے۔ کس اعتبار سے؟ قوت کے۔ پس ہم نے ہلاک کر دیا ان سے زیادہ زوراور لوگوں کو، یہ با محاورہ ترجمہ ہو گیا۔ ان سے ان سے زیادہ طاقت والے لوگوں کو ہم نے ہلاک کر دیا، ان سے زیادہ زوراور لوگوں کو ہم نے ہلاک کر دیا۔ تو یہ کیا چیز ہیں جب انہوں نے ہمارے احکام کی مخالفت کی تھی تو ہم نے ان کو تباہ کر دیا تھا، تو یہ تو ان لوگوں کے سامنے بھی کچھ حیثیت نہیں رکھتے۔ وما و مثل الاولین اور گزر چکی پہلے لوگوں کی مثال۔ پہلے لوگوں کی یہ مثال یہ حالت پہلے گزر چکی ہے کہ ہم نے ان کو تباہ کیا تھا۔ معنی سمجھ میں اگیا بھئی۔ فاھلکنا اشد منہم بطشا و ما مثل الاولین، پس ہم نے ان سے زیادہ زوراور لوگوں کو ہلاک کر دیا اور گزر چکی ہے پہلے لوگوں کی یہ مثال۔ ولئن سالتہم من خلق السماوات والارض، اور اگر آپ ان سے پوچھیں کس نے پیدا کیا اسمان اور زمین کو لیقولن خلقہ العزیز العزیز العلیم، تو البتہ یہ ضرور کہیں گے کہ ان کو پیدا کیا ہے زبردست علم والے نے، زبردست نے جاننے والے نے۔ تو لیقولن خلقہ العزیز العلیم، تو البتہ وہ ضرور کہیں گے کہ ان کو اس کو ان کو پیدا کیا ہے زبردست علم والے نے۔ الذی جعل لکم الارض مہدا، وہ جس نے بنایا تمہارے لیے زمین کو بچھونا۔ مہدن مہدن کسے کہتے ہیں بچھونے کو، زمین کو بچھونا بنا دیا گیا فرش بنا دیا گیا بھئی۔ الذی جعل لکم الارض مہدا، وہ جس نے بنایا تمہارے لیے زمین کو بچھونا وجعل لکم فیھا سبلا، اور بنا دیے تمہارے لیے اس میں راستے، سبل جمع ہے سبیل کی۔ راستے کو کہتے ہیں اور اس میں تمہارے لیے راستے بنا دیے لعلکم تہتدون تاکہ تم راہ پالو۔ تاکہ تم راستہ پالو یعنی جہاں جانا چاہتے ہو اس پر جا سکو۔ والذی نزل من السماء ماء بقدر، اور وہ ذات جس نے جس نے اتارا اسمان سے پانی اندازے۔ بارش نازل فرماتے ہیں اللہ بھئی۔ اور کتنا پانی ہوتا ہے؟ اندازہ لگائیں گزشتہ دنوں خصوصاً آپ نے دیکھا کتنا سیلاب آیا، کتنا پانی تھا لیکن جب بارش اس وقت نازل ہوتی ہے تو اب یہ اتنا پانی بادلوں میں موجود ہے لیکن اللہ اس کو ایک دم نہیں نازل فرماتے ورنہ تو کچھ بھی نہ بچے نیچے ایک ایک قطرہ نازل ہوتا ہے، الگ الگ برستا ہے۔ اور تو اللہ اور جتنی ضرورت ہوتی ہے اس کے بقدر اللہ نازل فرماتے ہیں۔ والذی نزل من السماء ماء بقدر اور وہ ذات جس نے اتارا اسمان سے پانی اندازے سے فانشرنا بہ بلدۃ میتاً، پس زندہ کیا ہم نے فانشرنا زندہ کیا ہم نے بہ اس پانی کے ذریعے بلدۃ میتاً مردہ شہر کو مراد زمین ہے، مردہ زمین کو۔ اللہ وہ ذات ہے جس نے نازل کیا اسمان سے پانی کو ایک اندازے سے فانشرنا بہ بلدۃ میتاً۔ بھئی دیکھیے والذی نزل اور وہ جس نے نازل کیا غیبت کے انداز میں کلام ہو رہا ہے۔ اور پھر فانشرنا بہ بلدۃ میتاً پھر ہم نے زندہ کیا اس کے ذریعے مردہ زمین کو۔ یہ کس کی طرف وہ کلام بدلا گیا کون سی صورت کی طرف؟ تکلم کی طرف غیبت سے کس کی طرف تکلم کی طرف اور اس کو کیا کہتے ہیں اصطلاح میں بھئی؟ التفات کہتے ہیں التفات۔ فانشرنا بہ بلدۃ میتاً تو اس سے کلام میں حسن پیدا ہوتا ہے بھئی۔ فانشرنا بہ بلدۃ میتاً پس زندہ کیا ہم نے اس پانی کے ذریعے مردہ زمین کو کذلك تخرجون، اسی طرح تم نکالے جاؤ گے یعنی قیامت میں۔ والذی خلق الأزواج کلھا، اور وہ ذات جس نے پیدا کیے جوڑے سارے کے سارے۔ اور وہ ذات جس نے سارے کے سارے جوڑے پیدا کیے ہر قسم کی انسانوں میں، جانوروں میں، پرندوں میں، مچھلیوں میں، نر و مادہ جوڑے پیدا کیے تو کسی میں مذکر و مونث کے اعتبار سے جوڑے ہیں کہیں پر بھئی مقابل کے اعتبار سے جوڑے ہیں دن ہے تو اس کے مقابلے میں رات ہے، سردی ہے تو اس کے مقابلے میں گرمی ہے۔ صورت سمجھ میں اگئی بھئی تو بعد میں جوڑے ہیں ان کے مثل کے اعتبار سے، ان کی جنس کے اعتبار سے اور بعد میں مقابل کے اعتبار سے۔ تو اللہ وہ ذات ہیں جس نے سارے کے سارے جوڑے پیدا کیے یہ ایک معنی بھئی۔ اور بعض مفسرین فرماتے ہیں یہاں ازواج جنس کے معنی میں ہے، کس معنی میں ہے؟ جنس اور اللہ وہ ذات ہیں جس نے ساری کی ساری جنسیں پیدا کیں، ساری کی ساری قسمیں پیدا کیں۔ وجعل لکم من الفلک والأنعام ما تر کبون، اور بنائے تمہارے لیے من الفلک کشتی میں سے والأنعام اور چوپایوں میں سے ما وہ جو تر کبون کہ تم ان پر سوار ہوتے ہو۔ وجعل لکم من الفلک والأنعام ما تر کبون اور بنائے تمہارے لیے کشتی اور چوپایوں میں سے جن پر تم سوار ہوتے ہو۔ کشتی کو ذکر کیا گیا اور انعام کو ذکر کیا گیا۔ دو قسم کی سواریاں ذکر کر دی گئیں بھئی کشتی میں سمندر کے اندر سفر ہوتا ہے مویشیوں پر خشکی میں سفر ہوتا ہے۔ نیز مویشی وہ سواریاں ہیں جن کے بنانے میں انسان کا کوئی دخل ہی نہیں جبکہ کشتیاں وہ سواریاں ہیں جن کے بنانے میں انسان کا دخل ہے۔ بتلایا ہر قسم کی سواریاں ہم نے بنائی تمہارے لیے کچھ وہ جن میں تمہارے ہاتھوں کا عمل دخل ہی نہیں اور کچھ وہ جن کے تمہارے ہاتھوں کا عمل دخل ہے تو سب سواریاں اس کے اندر آ گئیں بھئی۔ تو کشتی جس کے بنانے میں انسان کے ہاتھ کا دخل ہے اگرچہ مادہ اس کا بھی بنانے والے اللہ ہی ہیں بھئی۔ لتستو علی ظہورہ تاکہ تم بیٹھ تاکہ تم بیٹھو علی ظہورہ ان کی پشت پر۔ لتستو استوا کے معنی بیٹھنے کے بھئی لتستو علی ظہورہ تاکہ تم بیٹھو اس کی ان کی پشت پر۔ ظہورہ ان کی پشت پر۔ اور بنائے تمہارے لیے کشتی اور چوپایوں میں سے ما وہ تر کبون جن پر تم سوار ہوتے ہو۔ تو یہ ما اور من یاد رکھیے لفظوں کے اعتبار سے تو مفرد ہیں معنی کے اعتبار سے جمع ہیں۔ ما اور من لفظوں کے اعتبار سے مفرد اور معنی کے اعتبار سے جمع۔ لفظ کے اعتبار سے تو مفرد ہے۔ ہاں معنی کے اعتبار سے جمع۔ مثلاً میں کہتا ہوں من یاتینی فلہ درہم۔ جو بھی میرے پاس آئے گا میں اسے ایک درہم دوں گا۔ ایک آیا تو ایک بھی ایک پر صادق۔ بیس آئے تو بیس کے بیس پر یہ من صادق آ رہا ہے یا نہیں آ رہا بھئی؟ سمجھ میں آیا؟ تو یہ لفظوں کے اعتبار سے مفرد ہے لیکن معنی کے اعتبار سے جمع ہے۔ تو یہاں ظہورہ ظہور مضاف ہا ضمیر مضاف الیہ ظہور کے اندر معنی کی رعایت کی رکھی گئی بھئی۔ ما کے معنی کی۔ ما کے معنی کی جمع کا صیغہ ذکر کیا گیا اور ہا ضمیر مفرد کی لوٹائی گئی لفظ کی رعایت ہے بھئی۔ لتستو علی ظہورہ تاکہ تم بیٹھو ان کی پشتوں پر ثم تذکروا نعمت ربکم، پھر تم یاد کرو اپنے پروردگار کی نعمت کو۔ إذا إذا استویتم علیہ، جب تم اس پر بیٹھ جاؤ۔ ظہور جمع ہے ظہر ان کی پشت کو کہتے ہیں بھئی لتستو علی ظہور اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہارے لیے کشتیاں اور چوپائے بنائے کشتیوں اور چوپایوں میں سے بنائے وہ چیز بنائی جس پر تم سوار ہوتے ہو۔ لتستو علی ظہورہ تاکہ تم بیٹھ جاؤ ان کی پشت پر ثم تذکروا نعمت ربکم إذا إذا استویتم علیہ، پھر تم یاد کرو اپنے پروردگار کی نعمت کو جب تم اس پر بیٹھ جاؤ۔ وتقولوا اور کہو سبحان الذی سخر لنا ھذا وما كنا لہ مقرنین۔ پاک ہے وہ ذات جس نے مسخر کیا ہمارے لیے اس کو ہمارے لیے پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لیے اس سواری کو مسخر کیا یعنی اس کو ہمارے قابو میں دے دیا۔ جس نے ہمارے لیے سواری کو مسخر کیا وما كنا لہ مقرنین۔ اور نہیں تھے ہم لہ مقرنین اس کو قابو کرنے والے۔ اور نہیں تھے ہم اس کو قابو کرنے والے۔ اقرنا یقرنو کے معنی ہوتے ہیں کسی چیز کی طاقت رکھنا۔ کسی چیز کو قابو میں لانا۔ اقرنا للشے اقرنا للشے کیا معنی ہوتا ہے کسی چیز کو کسی چیز کی طاقت رکھنا، کسی چیز کو قابو میں لانا تو یہ لہ یہ متعلق ہے مقرنین سے اس کو مقدم کیا گیا اس پر۔ وما كنا لہ مقرنین اور نہیں تھے ہم اس کی طاقت رکھتے۔ یا یوں ترجمہ کر لیں اور نہیں تھے ہم اس کو قابو کرنے والے۔ وانا الی ربنا لمنقلبون، اور بے شک ہم ابھی تک ہم اپنے پروردگار کی طرف البتہ لوٹنے والے ہیں۔ بے شک ہم البتہ اپنے پروردگار کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ تو یہ دعا ہے جو سواری پر سوار ہوتے وقت پڑھنی چاہیے بھئی سواری پر سوار ہوتے وقت۔ یہ سبحان الذی سخر لنا ھذا وما كنا لہ مقرنین وانا الی ربنا لمنقلبون یہ سواری پر سوار ہوتے وقت یہ دعا پڑھنی چاہیے احادیث سے ثابت ہے حضور علیہ السلام یہ دعا پڑھا کرتے تھے اور اس کے آخر میں بھی اللہ نے کیا ذکر فرما دیا کہ یہ ساتھ ہو وانا الی ربنا لمنقلبون کہ بے شک ہمیں اپنے پروردگار کی طرف لوٹنا ہے کہ بھئی اس وقت تو یہ دنیا کے سفر پر جا رہے ہو لیکن وہ آخرت کے سفر کو بھی سامنے رکھنا ایک وہ سفر بھی آگے آنے والا ہے۔ وتقولو اور تم یہ کہو سبحان الذی سخر لنا ھذا پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے قابو میں دے دیے اس سواری کو وما كنا لہ مقرنین اور ہم اس کی ہم اس کی طاقت نہیں رکھتے تھے یا وما كنا لہ مقرنین ہم اس کو قابو کرنے والے نہیں تھے وانا الی ربنا لمنقلبون اور بے شک ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ وجعلوا لہ من عبادہ جزءا، اور بنا دیا انہوں نے قرار دے دیا انہوں نے لہ اس اللہ کے لیے من عبادہ اس کے بندوں میں سے جزءا جز۔ ان لوگوں نے کیا کر رکھا ہے اللہ کے لیے اس کے بندوں میں سے جز قرار دیے جز یعنی اولاد بھئی اولاد۔ اولاد انسان کا جز ہوا کرتی ہے بھئی۔ اولاد کیا ہے انسان کا کسی بھی چیز کی اولاد اس کا جز ہوا کرتی ہے بھئی اسی کا حصہ ہے اسی کا ٹکڑا ہے اسی سے الگ ہوا ہے۔ تو کہتے ہیں وجعلوا لہ من عبادہ جزءا اور ان لوگوں نے بنائے ہیں اللہ کے لیے اس کے بندوں میں سے جز اس کے بندوں میں سے اولاد۔ ان لوگوں نے اللہ کے لیے اس کے بندوں میں سے اولاد قرار دے رکھی ہے۔ جیسے وہ کہتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں تو انہوں نے حالانکہ اللہ خالق فرشتے مخلوق۔ کوئی نسبتی نہیں ہے بھئی، پھر کس طرح یہ فرشتوں کو اللہ کا جز، اللہ کی اولاد قرار دیتے ہیں؟ وجعلوا له من عباده جزءا اور انہوں نے اس اللہ کے لیے اس کے بندوں میں سے جز جز کا ترجمہ کر لیں یا اولاد کا ترجمہ کر لیں، اور انہوں نے اس انہوں نے اللہ کے لیے اس کے بندوں میں سے اولاد قرار دے رکھی ہے، ان الانسان لكفور مبین، بے شک انسان البتہ بڑا نا بڑا ناشکرا ہے، واضح۔ بڑا واضح ناشکرا ہے، بڑا صریح ناشکرا ہے أمتخذ مما يخلق بنات وأصفاكم بالبنين أمتخذ اتخذ کے معنی پکڑنے کے، أمتخذ کیا اس نے پکڑے (یعنی اللہ نے پکڑے، یعنی بنائے) مما اس میں سے يخلق، جس کو اس نے جو جن کو وہ پیدا کرتا ہے، بنات، بیٹیاں۔ وہ مشرکین کیا کہتے تھے بھئی؟ اللہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اللہ فرما رہے ہیں کہ تم نے اللہ کے لیے اولاد ثابت کی اور اولاد میں پھر پھر جو کمزور تھی وہ بیٹیاں وہ اللہ کے لیے ثابت کی، اپنے لیے تو بیٹوں کو پسند کرتے ہو اور اللہ کے لیے بیٹیاں ثابت کر رہے ہو۔ أمتخذ مما يخلق بنات کیا اس نے بنائے مما، نہ پکڑے کیا اس نے پکڑے مما يخلق، ان چیزوں میں سے جن کو وہ پیدا کرتا ہے، بنات، بیٹیاں۔ تو بامحاورہ ترجمہ یوں کیا اس نے رکھے مما يخلق بنات ان چیزوں میں سے جن کو وہ پیدا کرتا ہے (یعنی مخلوقات میں سے)، کیا اس نے مخلوقات میں سے بیٹیاں رکھ لیں؟ وأصفاكم بالبنين اور تمہیں چن لیا بالبنين بیٹوں کے ساتھ۔ یعنی تمہارے لیے بیٹے چن لیے، تمہارے لیے بیٹے چن لیے۔ أمتخذ مما يخلق بنات وأصفاكم بالبنين کیا اس نے مخلوقات میں سے بیٹیاں رکھ لیں اور تمہارے لیے بیٹے چن لیے؟ وإذا بشر أحدهم بما ضرب للرحمن مثلاً اور جب خوشخبری دی جاتی ہے ان میں سے کسی ایک کو بما اس چیز کی، ضرب للرحمن مثلاً، جو وہ بیان کرتا ہے رحمٰن کے لیے مثال۔ جو رحمٰن کے لیے مثال بیان کرتا ہے، جو نمونہ بیان کرتا ہے، اس کی خوشخبری جب ان میں سے کسی ایک کو دی جاتی ہے (یعنی اللہ کے لیے تو بیٹیاں ثابت کرتے ہیں، لیکن ان میں سے جب ان کو کسی کو اس بیٹی کی خوشخبری دی جاتی ہے)، ظل وجهه مسوداً تو سارا دن اس کا چہرہ سیاہ رہتا ہے، وهو کظیم اور وہ دل میں گھٹتا رہتا ہے۔ خود ان کی اپنی یہ حالت ہے، اتنی ناپسند کرتے ہیں بیٹیوں کو، اللہ کے لیے بیٹیاں ثابت کر رہے ہیں اور ان میں سے کسی کو اس چیز کی خوشخبری دی جائے جو اللہ کے لیے ثابت کرتے ہیں (یعنی بیٹیوں کی کہ تمہاری بیٹی پیدا ہوئی ہے)، تو اس کا سارا دن چہرہ سیاہ رہتا ہے، غم کی وجہ سے چہرے پر تاریکی چھائی ہوتی ہے اور دل ہی دل میں گھٹ رہا ہوتا ہے بھئی۔ ظّل ظل کا کیا معنی؟ ظل زید کاتبا زید نے دن گزارا کاتبا، کاتب ہونے کی حالت میں (خطابت کرتے ہوئے) یعنی زید نے کتابت کرتے ہوئے دن گزارا۔ باتا زید کاتبا، زید نے کتابت کرتے ہوئے رات گزاری۔ تو ظل کا معنی دن گزارنا، باتا کا معنی رات گزارنا۔ تو ترجمہ کیا ہوا؟ ظل وجهه مسوداً، سارا دن اس کا چہرہ سیاہ رہتا ہے۔ جب اس کی بیٹی کے بارے میں بتلایا جاتا ہے تو سارا دن اس کا چہرہ سیاہ رہتا ہے، وهو كظيم، اور وہ دل ہی دل میں گھٹ رہا ہوتا ہے۔ کظم کا معنی ہوتا ہے غم یا غصے کو دل میں دبائے رکھنا بھئی۔ دل میں دبائے رکھنا، بس تو پھر چلتا نہیں بیٹی پیدا ہو گئی ہے، بس وہ غم اور غصے کو دل میں ہی دبائے رکھتا ہے کہ یہ کیا ہوا، کیوں ہوا۔ وإذا بشر أحدهم بما ضرب للرحمن مثلاً اور جب خوشخبری دی جاتی ہے ان میں سے کسی ایک کو اس چیز کی جس کی وہ رحمٰن کے لیے مثال بیان کرتے ہیں تو سارا دن ان کا چہرہ سارا دن اس کا چہرہ سیاہ رہتا ہے، وهو كظيم اور وہ دل ہی دل میں گھٹ رہا ہوتا ہے۔ یا ظل کو سارا کے معنی میں کر لیں۔ ظل کو کس معنی میں کر لیں؟ سارا۔ سارا کا کیا معنی؟ ہو گیا۔ تو سارا وجهه مسوداً، اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے۔ پہلے کیا ترجمہ تھا؟ سارا دن اس کا چہرہ، اب کیا ترجمہ ہے؟ اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے، وهو كظيم، تو اور وہ دل ہی دل میں گھٹ رہا ہوتا ہے۔ أومن ينشأ أومن ينشأ في الحلية کیا وہ شخص ينشأ في الحلية، نشأ کے معنی پرورش کرنا۔ ينشأ جس کی پرورش کی جاتی ہے في الحلية زیور میں۔ کیا وہ شخص (وہ بیٹیوں کی بات ہو رہی ہے) وہ شخص جس کی پرورش زیوروں میں کی جاتی ہے، وهو في الخصام غير مبين اور وہ جھگڑے میں غير مبين بیان بھی نہیں کر سکتا۔ بیٹیوں کی بات ہو رہی ہے بھئی، مونث جو ہے عموماً اس کی پرورش کس میں ہوتی ہے؟ زیور میں ہوتی ہے، زیور ہی کو پسند کرتی ہے اور ان چیزوں کی طرف زیادہ توجہ ہوتی ہے اور جھگڑے کے اندر وہ بیان بھی نہیں کر سکتی بھئی، عورتیں اگرچہ باتیں بہت کریں گی لیکن اگر ان کی باتوں پر غور کریں تو مکمل بات کو وہ پوری طرح کہیں بھی وہ سمجھا نہیں پائیں گی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ پورے طریقے پر پوری بات کرنا، وہ اس پورے طور پر نہیں سمجھا پائے گی بھئی عموماً۔ تو اللہ فرما رہے ہیں کہ کیا وہ جس کی پرورش زیوروں میں ہوتی ہے اور جو جھگڑے میں پوری بات بھی بیان نہیں کر سکتا، اس کو تم کیا کرتے ہو؟ اللہ کے لیے بیٹیاں، ان اللہ کے لیے بیٹیاں بناتے ہو۔ أومن ينشأ في الحلية وهو في الخصام غير مبين کیا وہ شخص جس کی پرورش زیور میں کی جاتی ہے اور وہ جھگڑے میں بیان نہیں کر سکتا، وجعلوا الملائكة الذين هم عباد الرحمن إناثاً اور قرار دے رکھا ہے انہوں نے ان فرشتوں کو الذين هم عباد الرحمن إناثاً، وہ جو کہ رحمٰن کے بندے ہیں، إناثاً مونث۔ اور انہوں نے ان فرشتوں کو جو رحمٰن کے بندے ہیں، ان کو انہوں نے مونث قرار دے رکھا ہے۔ أشهِدوا خلقهم کیا یہ حاضر تھے ان کی پیدائش پہ؟ کیا یہ لوگ یہ فرشتوں کو کس اعتبار سے یہ مونث کہتے ہیں بھئی؟ فرشتوں کی تو جنس ہی الگ ہے، وہاں مرد اور عورت کی بات ہی نہیں بھئی۔ تو یہ کس اعتبار سے ان کو مونث کہتے ہیں؟ کیا جب ہم نے ان کی فرشتوں کی تخلیق کی تو یہ لوگ وہاں موجود تھے جو یہ کہتے ہیں کہ وہ مونث ہیں؟ أشهِدوا خلقهم کیا یہ حاضر تھے ان کی تخلیق پر؟ ستكتب، یا یوں ترجمہ کریں، أشهِدوا خلقهم (ارحمك الله) أشهِدوا خلقهم کیا یہ حاضر تھے ان کی تخلیق پر؟ ستكتب شهادتهم ويسألون ان کی شہادت ان کی گواہی لکھی جائے گی، ويسألون اور ان اور پوچھا جائے گا ان سے، ان سے، یہ بات ان کی لکھی جائے گی اور ان سے پوچھ ہوگی قیامت میں۔ ويسألون، اور ان سے پوچھ ہوگی۔ وقالوا لو شاء الرحمن ما عبدوهم وقال इन्होंने, دلیلیں بھی ان کی عجیب عجیب ہوتی تھیں بھئی، جیسے ہمیشہ جہلاء کرتے ہیں بھئی۔ بتوں فرشتوں کی عبادت کرتے اور جب منع کیا جاتا تو کہتے یہ اگر اللہ چاہتے تو ہمیں روک دیتے، لیکن ہم ان کی عبادت کر رہے ہیں، معلوم ہوا اللہ بھی ہمارے اس کام پر راضی ہیں، خوش ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ تو کوئی گناہ انسان کر لے، کوئی ظلم کر لے اور اللہ کی طرف سے تو مہلت ہے، فیصلہ تو اللہ آخرت میں فرمائیں گے، پھر اس پر یہ کہنا کہ یہ تو اللہ کی رضا ہے، اللہ کی اس میں مرضی اسی طرح ہے، تو یہ انتہائی درجے کی حماقت اور جہالت ہے بھئی۔ تو وہ کہتے وقالوا اور کہا ان لوگوں نے لَو شاء الرحمن ما عبدوهم اگر الرحمٰن (یعنی اللہ) چاہتے، ہم ان کی عبادت نہ کرتے۔ ما لهم بذلك من علم اللہ فرما رہے ہیں ما لهم بذلك من علم نہیں ہے ان کے پاس اس کا کوئی علم۔ انہیں اس بات کا کوئی علم نہیں ہے، انهم إلا يخرصون، خرصا يخرص کے معنی ہوتے ہیں اندازے سے بات کرنا۔ اندازے لگانا۔ انہم، ان نافیہ ہے۔ نہیں ہیں یہ مگر اندازے لگاتے، یہ صرف اندازے ہی لگانے والے اندازے ہی لگاتے ہیں، اندازے سے ہی بات کرتے ہیں۔ ما لهم بذلك من علم إن هم إلا يخرصون، نہیں ہے ان کے پاس اس کا کوئی علم، انہم إلا يخرصون، نہیں ہے یہ مگر اندازے سے بات کرتے۔ أم آتيناهم كتاباً من قبله فهم به مستمسكون کیا ہم نے دی ہے ان کو کوئی ایسی کوئی کتاب من قبله، اس کتاب سے، اس قرآن سے پہلے، فہم به مستمسكون، پس یہ اس کے ساتھ اس سے، اس کو پکڑے ہوئے ہیں، پس یہ اس سے چمٹے ہوئے ہیں۔ استمسک کے لغوی معنی کیا ہیں؟ چمٹنے کے۔ اسی طرح استمسک کے معنی اس دلیل پکڑنے کے، استدلال کرنے کے بھی آتے ہیں۔ کیا ہم نے ان کو کوئی کتاب دی ہے اس قرآن سے پہلے، جس سے یہ لوگ استدلال کرتے ہوں، جس سے دلیل پکڑتے ہوں؟ اس کس دلیل کی بنیاد پر یہ ایسی باتیں کرتے ہیں؟ یعنی نہ تو ان کے پاس کوئی عقلی دلیل ہے۔ عقلی دلیل تو کوئی ہے ہی نہیں ان کے پاس بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ یہی باتیں ہیں ان کی کہ رحمٰن یہ چاہتا ہے، اس پر راضی ہے، اس لیے ہم اس طرح کرتے ہیں، یہ اور نہ کوئی عقلی دلیل ہے، کوئی کتاب وغیرہ اللہ نے بھیجی ہو جو ان کے پاس ہو دلیل کے طور پر یہ کہیں، بھئی یہی کہتے ہیں ہم نے اپنے باپ دادا کو اس طرح کرتے ہوئے پایا ہے، لہذا ہم اسی پر چلیں گے۔ أم آتيناهم كتاباً من قبله، من قبله کیھا ضمیر کس کو راجع ہے؟ قرآن کو۔ أم آتيناهم كتاباً من قبله کیا ہم نے دی ہے ان کو کوئی کتاب اس قرآن سے پہلے فهم به مستمسكون، پس یہ اس کے ساتھ (چمٹے ہوئے ہیں) یا فهم به مستمسكون، پس یہ اس سے استدلال کرتے ہیں، بل قالوا إنا وجدنا آباءنا على أمَّة، امت یہاں بمعنی طریقے کے ہے بھئی۔ بل قالوا، بلکہ کہا ان لوگوں نے: إنا وجدنا آباءنا على أمة، کہ بے شک ہم نے پایا اپنے آباء و اجداد کو على أمة، ایک طریقے پر۔ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک طریقے پر پایا ہے، وإنا على آثارهم مهتدون، آثار جمع ہے اثر، اثر کس کو کہتے ہیں؟ قدموں کے نشان بھئی۔ وإنا على آثارهم مهتدون، اور ہم ان کے قدموں کے نشانات پر مہتدون، راہ پا رہے ہیں۔ ان کے قدموں پر رہ، راہ پا رہے ہیں۔ یا یہ بامحاورہ بڑا پیارا ترجمہ کیا ہمارے بعض علماء نے: وِإنا على آثارهم، اور بے شک ہم ان کے پیچھے۔ ان کے نشانات پر (یعنی ان کے پیچھے)، مہتدون۔ مهتدون۔ کا معنی پہلے میں نے کیا۔ راہ پانا، یعنی سیدھے راستے پر ہونا۔ کس پر ہونا؟ سیدھے راستے پر ہونا۔ تو ہم ان کے پیچھے مہتدون، ٹھیک ٹھیک راستے پر چل رہے ہیں۔ ہم ان کے پیچھے ٹھیک راستے پر چل رہے ہیں۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ وإنا على آثارهم مهتدون، اور بے شک ہم ان کے پیچھے ٹھیک راستے پر چل رہے ہیں، وก็ذلك ما أرسلنا من قبلك في قرية من نذیر، اور اسی طرح نہیں بھیجا ہم نے آپ سے پہلے کسی بستی میں کوئی خبردار کرنے والا۔ إلا قال مترفوها بھئی یہ پیغمبر، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی جا رہی ہے کہ یہ لوگ آپ کی دعوت کو قبول نہیں کرتے اور آپ کو تکالیف دیتے ہیں، آپ کا مذاق اڑاتے ہیں، آپ کو اس سے تنگ ہو، دل ہونے کی ضرورت نہیں ہے، یہ ہمیشہ سے اسی طرح ہوتا چلا آیا ہے۔ جس بستی کے اندر بھی ہم نے کوئی پیغمبر بھیجا تو ان لوگوں نے اس کے ساتھ مذاق کیا، ان کی دعوت کو قبول نہیں کیا۔ تو اللہ فرما رہے ہیں وکذلك ما أرسلنا من قبلك في قرية من نذير، اور اسی طرح ہم نے نہیں بھیجا آپ سے پہلے کسی بستی میں کوئی خبردار کرنے والا، إلا قال مترفوها، مگر کہا ان اس بستی کے خوشحال لوگوں نے۔ مترفوها، ها ضمیر کس کو راجع ہے؟ قریہ کو۔ اور، مترفون، خوشحال لوگ بھئی، خوشحال لوگ، مالدار لوگ۔ إلا قال مترفوها، مگر اس بستی کے خوشحال لوگوں نے کہا، إنا وجدنا آباءنا على أمة، وہی بات جو انہوں نے کی ہے، دیکھو انہوں نے بھی یہی باتیں کی تھیں، إنا وجدنا آباءنا على أمة، بے شک ہم نے پایا اپنے آباء و اجداد کو على أمة، ایک طریقے پر، وإنا على آثارهم مقتدون، اور بے شک ہم ان کے پیچھ, ان کے قدموں کے نشانات پر، مقتدون، پیروی کر رہے ہیں۔ اقتداء کا کیا معنی ہوتا ہے؟ پیروی کرنا۔ ہم ان کے پیچھے ان کے قدموں کے نشانات پر مقتدون، پیروی کر رہے ہیں ان کی۔ قال أولو جئتكم بأهدى مما وجدتم عليه آباء آباءكم، قال، اس پیغمبر نے (یعنی جو بھی اس بستی کی طرف پیغمبر بھیجا گیا تھا) اس نے جواب میں کہا، أولو جئتكم کیا اگر میں لایا ہوں بأهدى مما وجدتم عليه آباءكم، بأهدى، زیادہ ہدایت والا۔ اس میں تفصیل ہے نا، زیادہ ہدایت والی۔ أولو جئتكم کیا اگر میں لایا ہوں تمہارے پاس بأهدى، اس سے زیادہ ہدایت والی چیز، مما وجدتم عليه آباءكم، جس پر تم نے اپنے آباء و اجداد کو پایا۔ کیا میں اس سے زیادہ ہدایت والی چیز اگر جس پر تم نے اپنے باپ دادوں کو پایا، اگر اس سے بھی زیادہ ہدایت والی کوئی چیز لایا ہوں، کیا پھر بھی تم انہی کی پیروی کرو گے؟ قالوا تو انہوں نے کہا، إنا بما أرسلتم به كافرون، بے شک ہم اس چیز کا، جس کے ساتھ آپ بھیجے گئے ہیں، کافرون، انکار کرتے ہیں۔ آپ جو چیز دے کر بھیجے گئے ہیں ہم اس کا، انکار بھئی، کہنا تو یہ چاہیے تھا، ہاں اگر اس سے زیادہ ہدایت والی ہے، پھر تو ہم پیروی کر لیں گے، لیکن تھے ہی ضدی، ماننا ہی نہیں تھا، کہتے ہیں سیدھا سیدھا جواب دے دیتے، بس سیدھی بات ہے کہ آپ جو کچھ دے کر بھیجے گئے ہیں ہم اس کا کیا کرتے ہیں؟ انکار کرتے ہیں۔ قالوا إنا بما أرسلتم به كافرون، کہا انہوں نے بے شک ہم اس چیز کی جس کے ساتھ، جس کو دے کر آپ بھیجے گئے ہیں، جس کے ساتھ آپ کو بھیجا گیا ہے، کافرون، انکار کرنے والے ہیں۔ تو یہ بما کا تعلق کافرون سے ہے، جار مجرور کا تعلق کس سے ہے؟ کافرون۔ اس کو ذرا کافرون سے مؤخر کریں، پھر ترجمہ واضح آپ کے لیے ہو جائے گا۔ قالوا إنا، کہا انہوں نے، بے شک ہم انکار کرنے والے ہیں اس چیز کی، جس کے ساتھ آپ کو بھیجا گیا ہے۔ فانتقمنا منهم، پس ہم نے انتقام لیا ان لوگوں سے (اللہ فرما رہے ہیں)، فانتقمنا منهم، پس ہم نے انتقام لیا ان لوگوں سے، فانظر كيف كان عاقبة المكذبين، پس آپ دیکھیے کیسا ہوا انجام جھٹلانے والوں کا۔ پس آپ دیکھیے کیسا ہوا انجام جھٹلانے والوں کا۔ چلیے بس بھئی، ھذا هو المرام، واللہ اعلم بحقيقة الكلام۔
131 approved lectures · 89 of 131