اعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم
اللہ الذی سخر لكم البحر لتجري الفلك فيه بأمره ولتبتغوا من فضله ولعلكم تشكرون وسخر لكم ما في السماوات وما في الأرض جميعا منه إن في ذلك لآيات لقوم يتفكرون.
اللہ الذی سخر لكم البحر، اللہ ہی ہے وہ جنہوں نے مسخر کیا تمہارے لیے سمندر کو، لتجري الفلك فيه، تاکہ چلیں کشتیاں اس میں، فیہ ای في البحر، تاکہ چلیں کشتیاں اس سمندر میں، بأمره، اس کے حکم سے، یعنی اللہ کے حکم سے، ولتبتغوا من فضله، اور تاکہ تم تلاش کرو اللہ کے فضل میں سے، تاکہ تم تلاش کرو اللہ کے فضل سے، یعنی روزی اپنی تلاش کرو بحری تجارت کے ذریعے، شکار وغیرہ کے ذریعے، تاکہ تم تلاش کرو من فضله، اس کے اللہ کے فضل میں سے، ولعلكم تشكرون، اور تاکہ تم شکر ادا کرو۔
اللہ الذی سخر لكم البحر لتجري الفلك فيه بأمره، اللہ ہی وہ ذات ہیں جنہوں نے مسخر کیا، اللہ ہی وہ ذات ہیں یہ ترجمہ میں حصر والا کیوں کر رہا ہوں بھئی؟ جی؟ کیونکہ مبتدا کے ساتھ ساتھ خبر بھی یہاں پر معرفہ ہے بھئی شاباش! بھئی الذی یہ خبر ہے۔
اللہ ہی وہ ذات ہیں جنہوں نے مسخر کیا تمہارے لیے سمندر کو تاکہ چلیں اس میں کشتیاں اس کے حکم اس سمندر میں تاکہ کشتیاں چلیں اس کے حکم سے ولتبتغوا من فضله اور تاکہ تم اس کے فضل میں سے تلاش کرو ولعلكم تشكرون اور تاکہ تم شکر ادا کرو، وساخر لكم ما في السماوات وما في الأرض جميعا منه، اور مسخر کر دیا تمہارے لیے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں، جميعا، سارا کا سارا، منه، اپنی طرف سے، منه ای من اللہ، اپنی طرف سے۔
وسخر لكم ما في السماوات وما في الأرض جميعا منه، اور اللہ نے کام میں لگا دیے تمہارے لیے وہ جو آسمانوں میں ہے، جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، سارا کا سارا اپنی طرف سے، یعنی زمین اور آسمان میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ نے اپنی طرف سے تمہارے کام میں لگا دیا بھئی۔
انسان کی ذرا تکریم تو دیکھیے اللہ کی طرف سے کہ زمین اور آسمان کی ساری چیزوں کو اس کے کام میں لگا دیا گیا بھئی۔
إن في ذلك لآيات لقوم يتفكرون، بے شک اس کے اندر البتہ نشانیاں ہیں ایسے لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں۔
قل للذين آمنوا يغفر للذين لا يرجون أيام الله، قل اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے للذين آمنوا، ان لوگوں سے جو ایمان لائے، يغفر للذين، کہ وہ معاف کر دیں، بخش دیں للذين، ان لوگوں کو لا يرجون أيام الله، جو امید نہیں رکھتے اللہ کے ایام کی۔
اے پیغمبر آپ مومنین سے کہہ دیجیے کہ وہ معاف کر دیں ان لوگوں کو جو اللہ کے دنوں کی امید نہیں رکھتے۔
اللہ کے دن ایام اللہ سے یاد رکھیے مراد وہ دن ہیں جن میں اللہ کافروں پر کو کوئی خصوصی سزا دیں یا مومنین پر کوئی خاص انعام فرمائیں۔
اللہ کے ایام سے کون سے ایام مراد ہیں؟ جن میں اللہ کافروں کو کوئی خاص سزا دیں یا مومنین پر کوئی خاص انعام فرمائیں۔
توللذين لا يرجون أيام الله، وہ لوگ جو اللہ کے دنوں کی امید نہیں رکھتے، اس سے مراد وہ کفار ہیں بھئی، کفار اس سے مراد ہیں جو اللہ کی رحمت سے مایوس اور اللہ کے عذاب سے بے فکر ہیں بھئی۔
قل للذين آمنوا، اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے ان لوگوں سے جو ایمان لائے، يغفر للذين لا يرجون أيام الله، کہ وہ معاف کر دیں ان لوگوں کو جو امید نہیں رکھتے اللہ کے ایام کی۔
ليجزي قوما بما كانوا يكسبون، تاکہ اللہ بدلہ دے ہر قوم کو بما كانوا يكسبون، جو وہ عمل کیا کرتے تھے، جو وہ کماتے تھے، تاکہ اللہ ہر قوم کو، تمام ہر قسم کے لوگوں کو، وہ جو عمل کرتے تھے، جو کمائی کرتے تھے، اس کا بدلہ دیں۔
تو قوما نکرہ ہے بھئی، نکرہ اور نکرہ ویسے تو سیاق اثبات میں خصوص کا فائدہ دیتا ہے، لیکن یہاں عموم کے لیے ہے، تاکہ اللہ ہر قوم کو اس کی کمائی کا بدلہ دے، اس کے اعمال کا بدلہ دے۔
یہ ایک ترجمہ بھئی، بعضوں نے کہا کہ یہاں نکرہ چونکہ سیاق اثبات میں ہے اور سیاق اثبات میں یہ خصوص کا فائدہ دیتا ہے، تو یہاں قومن سے ایک قوم مراد ہے، کیا مراد ہے؟ ایک قوم، تاکہ اللہ بدلہ دے ایک قوم کو اس کے، وہ جو اس چیز کا جو وہ کماتے تھے۔
تو اس سے کون مراد ہیں؟ ایک قوم، بعضوں نے کہا مومنین مراد ہیں، تاکہ اللہ ان کو، انہیں کے اعمال کا بدلہ دے جنت کی صورت میں۔
یا بعضوں نے پھر کہا کفار مراد ہیں، تاکہ اللہ ان کفار کو سزا دے ان کے برے اعمال کی وجہ سے۔
ليجزي قوما بما كانوا يكسبون، تاکہ اللہ بدلہ دے ایک قوم کو اس کا جو وہ کمایا کرتے تھے، من عمل صالحا فلنفسه، پس جو کوئی نیک عمل کرتا ہے فلنفسه، تو اپنے ہی نفس کے لیے، لام نفے کے لیے اتا ہے، اپنے ہی نفس کے نفعه کے لیے، ومن اساء، اور جو برا عمل کرتا ہے، جو برائی کرتا ہے، فعليها، تو وہ اسی پر ہے، وہ برائی اسی پر ہے یعنی اس کا وبال اسی پر ہے۔
من عمل صالحا فلنفسه ومن اساء فعليها، جو کوئی اچھا عمل کرتا ہے تو اپنے ہی نفس کے بھلے کے لیے، ومن اساء فعليها اور جو کوئی برائی کرتا ہے تو اسی پر اس کا وبال ہے، ثم إلى ربكم ترجعون، پھر اپنے پروردگار کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔
ولقد آتينا بني إسرائيل الكتاب، اور تحقیق البتہ ہم نے عطا کی بنی اسرائیل کو کتاب، یعنی تورات دی، والحكمة، اور حکمت دی یعنی دانائی، دانائی حکم کا ایک معنی میں نے کیا کیا؟ حکمت یعنی دانائی دی بھئی۔
بعضوں نے حکم کا معنی کیا یہاں کہ دین کی سمجھ دی ان کو اللہ نے، بنی اسرائیل کو اللہ نے دین کی سمجھ دی۔
بعضوں نے حکم کا معنی یہاں حکومت کے کیے ہیں بھئی، تو تین معنی میں نے بیان کر دیے، حکم سے یا تو مراد کیا ہے؟ حکمت مراد ہے یا دین کی سمجھ یعنی فقہ مراد ہے یا یا حکومت مراد ہے، والنبوة، اور نبوت دی بھئی، جیسے آپ جانتے ہیں بھئی کہ ہزار ہا انبیاء آئے بھئی۔
ورزقناهم من الطيبات، اور رزق دیا ہم نے ان کو پاکیزہ چیزوں میں سے، وفضلناهم على العالمين، اور فضیلت دی ہم نے ان کو جہان والوں پر۔
ولقد آتينا بني إسرائيل الكتاب والحكمة والنبوة، اور تحقیق البتہ عطا کی ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب اور حکومت اور نبوت، و رزقناهم من الطيبات وفضلناهم على العالمين، اور ہم نے رزق دیا پاک ان کو پاکیزہ چیزوں میں سے، یعنی ان کو ہم نے پاکیزہ چیزیں رزق میں دیں وفضلناهم على العالمين، اور ان کو فوقیت دی ہم نے جہان والوں پر، وآتيناهم بينات من الأمر، اور عطا کی ہم نے ان کو بينات واضح دلیلیں۔
ہم نے ان کو واضح دلیلیں دیں من الأمر، امر سے مراد دین ہے بھئی، کیا مراد ہے؟ دین، اور ہم نے ان کو کھلی نشانیاں یا کھلی دلیلیں دیں من الأمر دین میں۔
اور دین کے معاملے میں ہم نے ان کو کھلی دلیلیں دیں، فما اختلفوا إلا من بعد ما جاءهم العلم، پس ان اختلاف نہیں کیا انہوں نے مگر بعد اس کے کہ جب ان کے پاس علم آ گیا، ان کے پاس علم آ چکا تھا، پھر اس کے بعد انہوں نے کیا کیا؟ آپس میں اختلاف کیا، بغيا بينهم، آپس میں سرکشی کرتے ہوئے، آپس میں ضدّہ زیدی کرتے ہوئے۔
فما اختلفوا إلا من بعد ما جاءهم العلم بغيا بينهم، پس انہوں نے علم کے آ جانے کے بعد ہی اختلاف کیا آپس کی ضد کی وجہ سے، إن ربك يقضي بينهم يوم القيامة، بے شک آپ کا پروردگار فیصلہ کرے گا ان کے درمیان قیامت کے دن، فيما كانوا فيه يختلفون، اس چیز میں جس میں وہ اختلاف کرتے تھے۔
بے شک آپ کا رب ان کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کرے گا ان باتوں میں جن میں وہ اختلاف کرتے تھے۔
ثم جعلناك على شريعة من الأمر، امر کا کیا معنی کیا میں نے؟ دی، یہاں بھی دین کے معنی میں، ثم جعلناك، پھر اے پیغمبر ہم نے آپ کو کر دیا علی شريعة، ایک شریعت پر من الأمر دین میں سے، ہم نے آپ کو دین میں سے ایک شریعت پر کر دیا، ایک طریقے پر کر دیا، فتبعها، پس آپ اس کی اس شریعت کی پیروی کیجیے، ولا تتبع أهواء الذين لا يعلمون، أهواء جمع ہے ہوا کی، ہوا کہتے ہیں نفس کی خواہش، خواہشات نفس، اور یہ اچھی بھی ہو سکتی ہے بری بھی، لیکن یہاں عام استعمال کس میں ہوتا ہے؟ بری خواہش میں، ولا تتبع أهواء الذين لا يعلمون، اور آپ پیروی نہ کیجیے ان لوگوں کی خواہشوں کی جو نہیں جانتے، جو علم نہیں رکھتے جو نہیں جانتے۔
ثم جعلناك على شريعة، پھر ہم نے آپ کو کر دیا دین کے ایک طریقے پر، پس آپ اس طریقے کی پیروی کیجیے اور اس پیروی نہ کیجیے ان لوگوں کی خواہشات کی جو نہیں جانتے، انهم لن يغنو عنك من الله شيئا، بے شک یہ لوگ لن يغنو عنك، کفایت نہیں کر سکتے عنك آپ کی طرف سے من اللہ، اللہ کے مقابلے میں، شيئا، کچھ بھی۔
شيئا، کچھ بھی۔
بے شک یہ لوگ آپ کے کچھ کام نہیں آ سکتے اللہ کے مقابلے میں۔
ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ انهم لن يغنو عنك من الله شيئا، بے شک یہ لوگ آپ کے کچھ کام نہیں آ سکتے اللہ کے مقابلے میں، وإن الظالمين بعضهم أولياء بعض، اور بے شک ظلم کرنے والے، بعض ان میں سے بعض، دوست ہیں بعض کے۔
ان میں سے بعض دوست ہیں بعض کے۔
بامحاورہ کیا کریں گے ترجمہ؟ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں۔
وإن الظالمين بعضهم أولياء بعض، بے شک ظلم کرنے والے ایک دوسرے کے دوست ہیں، والله ولي المتقين، اور اللہ ڈرنے والوں کا، یعنی متقیوں کا دوست ہے۔
والله ولي المتقين، اور اللہ متقیوں کا دوست ہے۔
هذا بصائر للناس، هذا، یہ اشارہ ہے اس قرآن کی طرف بھئی، تو ہذا سے کیا مراد ہے؟ قرآن، هذا بصائر للناس، یہ قرآن سمجھ کی، یہ قرآن بصیرتیں ہیں لوگوں کے لیے، بصائر جمع ہے بصیرت کی۔
بصیرت کہتے ہیں سمجھ بوجھ کو بھئی۔
فہم و فراست بھئی۔
هذا بصائر للناس، یہ قرآن سمجھ کی باتیں ہیں لوگوں کے لیے، وهدانا، اور ہدایت ہے، یعنی ہدانا مصدر ہے بھئی، کس معنی میں ہوگا پھر؟ مبالغے کے طور پر اور سراپا ہدایت ہے، ورحمة، اور رحمت ہے، یہ مصدر بھی ہے، تو یہاں بھی وہ ترجمہ کر سکتے ہیں سراپا رحمت ہے لقوم يوقنون، ایسے لوگوں کے لیے جو یقین کرنے والے ہیں۔
هذا بصائر للناس وهدى ورحمة لقوم يوقنون، یہ قرآن سمجھ کی باتیں ہیں لوگوں کے لیے اور سراپا ہدایت اور رحمت ہے ایسے لوگوں کے لیے جو یقین کرنے والے ہیں۔
أم حسب الذين اجترحوا السيئات، کیا گمان کیا ہے ان لوگوں نے؟ اجترحا، اجترحا کے معنی ہوتے ہیں کمانے کے، کمانے کے۔
سيئات، برائیاں۔
اجتر، الذين اجترحوا السيئات، وہ لوگ جن جنہوں نے برائیاں کمائیں بھئی، یعنی برائیوں کا ارتکاب کیا، برائیوں کا ارتکاب، أم حسب الذين اجترحوا السيئات، کیا گمان کیا ہے ان لوگوں نے جنہوں نے برائیوں کا ارتباب برائیوں کا ارتکاب کیا ہے، ان نجعلهم، یہ کہ ہم ان کو کر دیں گے كالذين آمنوا وعملوا الصالحات، ان لوگوں کے جیسا جو ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے عمل کیے۔
کیا وہ لوگ جنہوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا ہے، ان کا یہ خیال ہے، ان کا یہ گمان ہے کہ ہم ان کو بھی ان لوگوں کی طرح کر دیں گے جنہوں نے، جو جو ایمان لائے اور جو اچھے عمل کرتے رہے؟
سواء محياهم ومماتهم، کہ برابر ہو محياهم، ان کا، ان کی زندگیاں، ومماتهم، اور ان کی موت بھئی۔
کیا وہ لوگ جنہوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا ہے، کیا ان کا یہ گمان ہے کہ ہم کر دیں گے ان کو ان لوگوں کی طرح جو ایمان لائے اور اچھے عمل کیے، کہ ان کی زندگیاں اور موت، وہ ان کے، کہ ان کی زندگیاں، ان کی زندگیاں اور موت ان کے برابر ہوں، انہی جیسے ہوں بھئی، انہی کی مثل ہوں۔
ساء ما يحكمون، برا ہے جو وہ فیصلہ کرتے ہیں۔
بری ہے وہ بات جو یہ طے کرتے ہیں۔
یہ لوگ جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے، جو برائیوں کا ارتکاب کرتے ہیں، ظلم کرتے ہیں، شرک کرتے ہیں، کیا ان کا یہ خیال ہے کہ یہ بھی کس کی طرح ہیں؟ کہ ہم ان کو کس کی طرح کر دیں گے؟ ایمان والے اور اچھے عمل والوں کی طرح۔
یعنی آخرت قائم نہیں ہوگی جیسی زندگی گزر
ایسو گزر گئی
جیسے زندگی گزر گئی تو گزر گئی آگے کیا حساب کتاب کا نظام قائم نہیں ہوگا تو یہ تو مطلب برابر ہو گئے سارے کوئی نتیجہ ہی نہیں نکلا بھئی جیسی بھی زندگی گزاری یا ان کو بھی انہی کی طرح انعام وغیرہ ملے گا ان کا خیال ہے آخرت تو قائم ہی نہیں ہوگی اور اگر قائم بھی ہوئی تو ہم دنیا میں اللہ نے ہمیں اتنی چیزیں ملی ہیں تو اللہ نے دی ہیں تو آخرت میں بھی اللہ ہمیں دیں گے
تو یہ جو انہوں نے طے کر رکھا ہے یہ بڑا ہی برا طے کیا ہے یہ کیسے ہو سکتا ہے ایک اچھے عمل والا اور برے عمل والا برابر ہو جائے کیا کیا گمان کرتے ہیں وہ لوگ اجترحوا السیئات جنہوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا کہ ہم ان کو کر دیں گے ان لوگوں کی طرح جو ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے عمل کیے سواء محیام ومماتہم کہ برابر ہو زندگی اور ان کی موت ساء ما یحکمون بڑا ہی برا ہے جو وہ انہوں نے طے جو یہ طے کر رہے ہیں
وخلق اللہ السماوات والارض بالحق پیدا کیا اللہ نے آسمانوں کو اور زمین کو برحق اللہ نے آسمان اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے یا یہ ترجمہ کر لیں اللہ نے آسمانوں اور زمین کو ٹھیک ٹھیک پیدا کیا ہے یا یہ ترجمہ کر لیں اللہ نے آسمان اور زمین کو حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے بیکار ویسے ہی نہیں پیدا کر دیا اللہ نے ان کو حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے
ہولتجزی کل نفس بما کسبت اور تاکہ بدلہ دیا جائے ہر نفس کو بما کسبت اس کا جو اس نے کمایا وہم لا یظلمون اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا اور ان پر ظلم وخلق اللہ السماوات والارض اور اللہ پیدا کیا اللہ نے آسمانوں کو اور زمین کو ٹھیک ٹھیک اور تاکہ بدلہ دے ہر تاکہ بدلہ دیا جائے ہر نفس کو بما کسبت اس کی کمائی کا وہم لا یظلمون اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا
افرایت من اتخذ الٰہہ ہواه افرایت کیا پس آپ نے دیکھا ہے من اس شخص کو اتخذ جس نے بنایا پکڑا الٰہہ اپنا معبود ہواه اپنی خواہش کو افرایت من اتخذ الٰہہ ہواه کیا پس آپ نے دیکھا ہے اس شخص کو جس نے اپنا خدا اپنی ہی خواہش نفسانی کو بنا رکھا ہو
وآضلّہ اللہ علی علم اور گمراہ کر دیا گمراہ کر دیا اس کو اللہ نے علی علم علم پر کس پر علم پر علی علم یہ حال ہے بھئی حال کیا واقع ہو رہا ہے حال اور یہ فاعل سے بھی حال واقع ہو سکتا ہے اور فاعل کون؟ وآضلّہ اللہ لفظ اللہ فاعل ہے بھئی تو یہ فاعل سے بھی حال بن سکتا ہے اس صورت میں معنی کیا ہوگا اور گمراہ کر دیا ہے اس کو اللہ نے علی علم
اس حال میں کہ اللہ جاننے والا ہے اس حال میں کہ اللہ جاننے والا ہے یعنی اللہ کو پہلے علم تھا پتہ ہے پہلے ہی سے پتہ ہے کہ یہ لوگ
ان کے اندر ان کی استعداد ہی خراب ہے یہ برائیوں کو پسند کرنے والے ہیں تو اس علم کی روح سے اللہ نے ان کو گمراہ کیا
ان کی استعداد ہی خراب ہے یہ ظلم کو پسند کرنے والے ہیں یہ خیر چاہتے ہی نہیں ہیں یہ سیدھے راستے کی طرف آنا ہی نہیں چاہتے اللہ کو یہ علم ہے بھئی اللہ کا علم بڑا کامل ہے تو اللہ نے اپنے علم کی روح سے ان کو گمراہ کیا کیونکہ اللہ جانتے ہیں کہ یہ نیکی کو پسند ہی نہیں کرتے چنانچہ اللہ نے بھی ان کو گمراہی کی طرف جانے دیا
تو یہ کون سا ترجمہ کیا فاعل سے حال یا اس کو حال بنایا جائے مفعول سے آضلّہ ہ ضمیر سے
کہ اس کو اللہ نے گمراہ کیا علی علم اس حال میں کہ یہ جاننے والا ہے یعنی اس کو اللہ نے سمجھ بھی دی ہے اللہ نے اس کو علم بھی دیا ہے سب کچھ جانتا ہے سمجھتا ہے پھر بھی اس کے باوجود اللہ اس کو گمراہ کر دیتے ہیں علم رکھنے کے باوجود یہ خود گمراہی کی طرف چلا جاتا ہے بھئی اور اللہ اسی طرف پھر جانے دیتے ہیں
معنی سمجھ میں آیا بھئی
تو ایک معنی کیا ہوا کہ اللہ نے اس کو گمراہ کیا ہے اپنے علم کی روح سے اور دوسرا معنی اللہ نے ان اس کو گمراہ کیا اس کے جانتے بوجھتے ہوئے بھئی سمجھتے ہوئے کہ یہ جانتا تھا سمجھتا تھا علم دیا تھا اللہ نے عقل دی تھی پھر بھی اس کو اللہ نے گمراہ کر دیا یہ گمراہی کو چاہتا تھا
وختم علی سمعہ وقلبہ اور مہر لگا دی اللہ نے اس کے دل علی سمعہ اس کے کان پر وقلبہ اور اس کے دل پر وجعل علی بصرہ غشاوا غشاوا فعالة وزن ہے بھئی فعالة اور یہ اسم آلہ کا صیغہ ہے فعالة وزن پر
وہ چیز جس کے ذریعے کسی دوسری چیز کو ڈھانپا جائے اس کو غشاوا کہتے ہیں وہ چیز جس کے ذریعے دوسری چیز کو ڈھانپا جائے اس کو غشاوا کہتے ہیں یعنی پردہ بھئی
وجعل علی بصرہ غشاوتًا اور کر دیا اللہ نے اس کی آنکھوں پر پردہ یعنی ڈال دیا اللہ نے اس کی آنکھوں پر پردہ فمن یہديه من بعد اللہ پس کون اس کو ہدایت دے گا من بعد اللّٰہ اللہ کے بعد جب اللہ نے اس کو گمراہ کر دیا اب کون اس کو ہدایت دے سکتا ہے افلا تذکرون پس کیا تم نصیحت قبول نہیں کرتے کیا تمہیں ان باتوں سے ان مثالوں سے عبرت حاصل نہیں ہوتی
تو اللہ فرما رہے ہیں کیا آپ نے دیکھا ہے اس شخص کو جس نے اپنی خواہش نفسانی کو اپنا خدا بنا رکھا ہو
عرب مشرکین بھئی ایسے لوگ تھے جو خوبصورت پتھر یا خوبصورت کوئی چیز نظر آتی اس کو معبود بنا لیتے بھئی پھر کسی دوسرے وقت کوئی اور پتھر زیادہ پسند آیا تو پہلے کو اٹھا کر پھینک دیا دوسرے کی عبادت شروع کر دی بھئی سمجھ میں آیا خواہش نفس کی پیروی کرتے تھے نفس جو چیز دکھلا دیتا تھا اس کو ٹھیک سمجھتے تھے جو جس کو نفس چاہتا تھا
نفس چاہتا تھا
تو نفس یعنی جو راستہ بتلاتا اسی پر چلتے اور اسی کو ٹھیک سمجھتے تھے برحق سمجھتے تھے کہ یہی ٹھیک ہے بھئی تو گویا انہوں نے اپنی خواہش نفسانی کو اپنا خدا بنا رکھا ہے
افرایت من اتخذ الٰہہ ہواہ کیا آپ نے دیکھ کیا پس آپ نے دیکھا ہے اس شخص کو جس نے اپنی خواہش نفسانی کو اپنا خدا بنا رکھا ہو وآضلّہ اللہ علی علم اور گمراہ کیا ہے اس کو گمراہ کیا اس کو اللہ نے اپنے علم کی روح سے وختم علی سمعہ وقلبہ اور مہر لگا دی اس کے کانوں پر اور اس کے دل پر وجعل علی بصرہ غشاوتًا اور ڈال دیے اس کی آنکھوں پر پردے فمن یہديه من بعد اللہ پس کون اس کو ہدایت دے سکتا ہے اللہ کے بعد افلا تذکرون پس کیا تم نصیحت قبول نہیں کرتے وقالوا اور کہا انہوں نے ما هي الّا حیاتنا الدنیا کہ نہیں ہے یہ مگر ہماری دنیاوی زندگی ہی
ہماری یہ دنیاوی زندگی ہی ہے اس کے بعد اور کوئی زندگی نہیں ہے وہ انکار کرتے تھے نموت ونحیا ہم مرتے ہیں ونحیا اور جیتے ہیں ہم مرتے ہیں اور زندہ ہوتے ہیں یعنی جیتے ہیں
समझ में आया ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی
وقالوا ما هي الّا حیاتنا الدنیا اور کہا انہوں نے کہ ہماری تو یہ دنیاوی زندگی ہی ہے ہم زندہ ہم مرتے ہیں ونحیا اور زندہ ہوتے ہیں
ہم مرتے ہیں ونحیا اور زندہ حیات کا ذکر موت کے بعد ہے اس کا یہ مطلب نہیں وہ آخرت کے قائل تھے موت کے بعد ہم پھر زندہ ہوں گے یہ مراد نہیں کیونکہ وہ آپ پڑھ چکے ہوں گے یا پڑھ لیں گے کہ وہ ترتیب کا فائدہ نہیں دیتا ترتیب کا فائدہ نہیں دیتا بھئی
معنی یہ ہے
کہ ہم میں کوئی مرتا ہے کوئی جیتا ہے کوئی مر رہا ہے کوئی پیدا ہو رہا ہے بھئی بس یہی زندگی ہے کوئی مر رہا ہے اور کوئی پیدا ہو رہا ہے یہی زندگی ہے
وما یهلکنا الّا الدہر اور ہلاک نہیں کرتا مگر ہمیں زمانہ ہمیں زمانہ ہی ہلاک کرتا ہے یعنی یہ جو گردش ایام ہیں زمانہ گزر جاتا ہے اور ایک شخص بوڑھا ہو جاتا ہے یا حوادثات کا شکار ہو جاتا ہے مر جاتا ہے تو یہ حوادثات زمانہ ہی یہی انسان کو ختم کرنے والے ہیں وما لھم بذٰلک من علم اللہ فرما رہے ہیں ان کو اس کا کچھ علم نہیں ہے وما لھم نہیں ہے ان کے لیے بذٰلک اس چیز کا من علم کوئی علم ان کو اس بات کا کوئی علم نہیں ہے جو یہ باتیں کر رہے ہیں انہم الا یظنون نہیں ہیں یہ لوگ مگر گمان کرتے یہ صرف گمان ہی کرتے ہیں گمان کے ذریعے باتیں کرتے ہیں
وقالوا ما هي الّا حیاتنا الدنیا اور کہا انہوں نے کہ ہماری تو یہ دنیاوی زندگی ہی ہے ہاں کوئی مرتا ہاں کوئی ہم میں کوئی مرتے ہیں ونحیا اور کوئی زندہ ہوتے ہیں یعنی کوئی جیتے ہیں وما یهلکنا الّا الدہر اور ہمیں ہلاک نہیں کرتا مگر زمانہ ہی وما لھم بذٰلک من علم اللہ فرما رہے ہیں نہیں ہو نہیں ہے ان کو اس کا کوئی علم انہم الا یظنون یہ تو محض گمان ہی کرتے ہیں یعنی گمان سے ہی باتیں کرتے ہیں واذا تتلی علیہم آیاتنا بینات اور جب تلاوت کی جاتی ہیں ان پر آیاتنا بینات ہماری آیتیں بینات یہ حال واقع ہو رہا ہے آیات سے اور حال منصوب ہوتا ہے اسی لیے بینات بھی منصوب ہے اور اس پر جو جر آ رہا ہے یہ جر یہ جمع مؤنث سالم کا نصب آتا ہی جر کی صورت میں ہے کسرہ کی صورت میں
جمع مؤنث سالم کا نصب آتا ہی کسرہ کی صورت میں ہے
اور جب ان پر ہماری کھلی کھلی آیتیں یا یوں کہیں واضح آیتیں جب ان پر پڑھی جاتی ہیں ان کو سنائی جاتی ہیں ما کان حجتہم تو نہیں ہوتی ان کی دلیل الا ان قالوا مگر یہ کہ یوں کہتے ہیں اتوبآبائنا کہ تم لوگ لے آؤ ہمارے باپ دادوں کو یعنی اے مومنو اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا جو مر چکے ہیں ان کو زندہ کر کے لے آؤ
اتوبآبائنا تم لے آؤ ہمارے باپ دادوں کو ان کنتم صادقین اگر تم سچے ہو واذا تتلی علیہم آیاتنا بینات اور جب ان پر ہماری کھلی کھلی آیتیں پڑھی جاتی ہیں ما کان حجتہم الا ان قالوا اتو بابائنا ان کنتم صادقین تو نہیں ہوتی ان کی دلیل مگر یہ کہ کہتے ہیں کہ لے آؤ تم ہمارے باپ دادوں کو اگر تم سچے ہو
اگر تم سچے ہو قل اللہ یحییکم ثم یمیتکم آپ کہہ دیجیے کہ اللہ ہی یحییکم تمہیں زندگی دیتا ہے ثم یمیتکم پھر تمہیں موت دے گا ثم یجمعکم الی یوم القیامۃ پھر تم پھر جمع کرے گا تم کو قیامت کے دن تک یعنی قیامت کے دن پھر تم کو جمع کرے گا قیامت کے دن لا ریب فیه اس کوئی شک نہیں ہے اس دن میں یعنی قیامت میں کوئی شک نہیں ہے ولكنّ اکثر الناس لا یعلمون لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے وللہ ملک السماوات والارض اور اللہ ہی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی و یوم تقوم الساعة یومئذ یخسر المبطلون اور جس دن کہ قیامت قائم ہوگی یومئذ اس دن یخسر المبطلون نقصان اٹھائیں گے اہل باطل
اور و یوم تقوم الساعة یاد رکھیے یہ یومئذ یہ بدل ہے یوم تقوم الساعة سے
یہ کیا ہے بدل ہے
جی اور یہ ظرف ہے یخسر المبطلون کے لیے بھئی
و یوم تقوم الساعة یومئذ یخسر المبطلون اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس روز اہل باطل نقصان اٹھائیں گے وتری کل امّۃ جاسیۃ اور آپ دیکھیں گے ہر گروہ کو ہر امت کو جاسیۃ گھٹنوں کے بل بیٹھے ہوئے
آپ ہر امت کو ہر گروہ کو گھٹنوں کے بل بیٹھے ہوئے یا گھٹنوں کے بل گرے ہوئے دیکھیں گے جسا یجسو کے معنی ہوتے ہیں گھٹنوں کے بل بیٹھنا بھئی
سمجھ میں آیا بھئی گھٹنوں کے بل بیٹھنا یعنی زمین پر گھٹنے رکھ کر
اور یہ قیامت کے ہولناک مناظر میں سے اور ہولناک لمحات میں سے ایسے لمحات آئیں گے کہ سارے لوگ جو ہیں ہیبت اور دہشت اور خوف کی وجہ سے گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے بھئی وتری کل امّۃ جاسیۃ اور آپ دیکھیں گے ہر امت کو گھٹنوں کے بل گرا ہوا
کل امّۃ تدعی الی کتابها ہر امت کو بلایا جائے گا الی کتابها اس کی کتاب کی طرف
ہر امت کو اس کی کتاب کی طرف بلایا جائے گا کتاب سے مراد ہے نامۂ اعمال بھئی
جس میں انسان کے اعمال درج کیے جاتے ہیں جو کراماً کاتبین شب روز لکھنے میں مصروف ہیں تو ہر امت کو ہر گروہ کو اپنے نامۂ اعمال کی طرف بلایا جائے گا حساب دینے کے لیے بھئی
کل امّۃ تدعی الی کتابها ہر گروہ کو بلایا جائے گا اس کے نامۂ اعمال کی طرف الیوم تجزون ما کنتم تعملون آج کے دن تم بدلہ دیے جاؤ گے ما کنتم تعملون اس چیز کا جو تم عمل کیا کرتے تھے الیوم تجزون ما کنتم تعملون آج کے دن تمہیں بدلہ دیا جائے گا تمہارے اعمال کا
هٰذا كتابنا ينطق عليكم بالحق یہ ہماری کتاب ہے هٰذا كتابنا یہ ہماری کتاب ہے یہ وہی نامۂ اعمال مراد ہے یہ ہماری کتاب ہے ينطق عليكم بولتی ہے جو بول رہی ہے تم پر بالحقّ ٹھیک ٹھیک جو تم پر ٹھیک ٹھیک بول رہی ہے
یعنی ٹھیک ٹھیک تمہارے بارے میں بتلا رہی ہے۔ اگرچہ اللہ کا علم ازلی اور ازلی و ابدی ہے، اللہ ہر چیز کو جانتے ہیں، لیکن اللہ نے اس دنیا کا ایک نظام بنایا کہ باقاعدہ فرشتوں کو مقرر کیا کہ ایک ایک چیز لکھتے جائیں بھئی، جو جو کرے بھئی.
تو اللہ فرما رہے ہیں ہذا کتابنا ینطق علیکم بالحق، یہ ہماری کتاب ہے جو تو ٹھیک ٹھیک تمہارے تم پر تمہارے اعمال بتلا رہی ہے، تم پر بول رہی ہے۔ یا یوں کہیں یہ ہماری کتاب ہے ینطق علیکم بالحق جو ٹھیک ٹھیک تمہارے بارے میں بتلا رہی ہے: انا کنا نستنسخ ما کنتم تعملون.
استنسخ یستنسخ، نسخ کے معنی ایک معنی لکھنے کے بھی آتے ہیں بھئی. نسخ کا ایک معنی کیا ہے؟ لکھنا۔ اور اسی سے باب استفعال ہے، اور باب استفعال میں سین طلب کے لیے آتا ہے۔ تو استنسخ کا کیا معنی ہوا؟
لکھوانے کو طلب کرنا یعنی لکھوانا، ایک ہے لکھنا، ایک ہے لکھوانا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ نستنسخ کے معنی ہیں لکھوانے کے بھئی.
انا کنا نستنسخ، بے شک ہم لکھواتے تھے ما کنتم تعملون جو تم عمل کرتے تھے، یعنی ہم فرشتوں کے ذریعے لکھواتے تھے نامہ اعمال میں۔ انا کنا نستنسخ ما کنتم تعملون، بے شک ہم لکھواتے تھے جو تم عمل کرتے تھے.
فاما الذین آمنوا وعملوا الصالحات فيدخلهم ربهم في رحمته، پس باقی وہ لوگ جو ایمان لائے اور اچھے عمل کیے، پس داخل کرے گا ان کو آپ کا پروردگار فی رحمتہ اپنی رحمت میں، یعنی جنت میں. ذالک هو الفوز المبین, یہی ہے بڑی کام یہی ہے کھلی کامیابی. یہی ہے، یہی ہے کھلی کامیابی.
واما الذین کفروا اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا، افلم تکن آیاتی تتلی علیکم، کیا پس نہیں تھی میری آیتیں تتلی علیکم تم پر تلاوت کی جاتیں، تم پر پڑھی جاتیں، فاستکبر تم پس تم نے تکبر کیا وکنتم قوما مجرمین اور تم تھے ہی مجرم لوگ؟
واما الذین کفروا اور باقی وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا، افلم تکن، یہ ان سے کہا جائے گا بھئی، وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ان سے کہا جائے گا افلم تکن آیاتی تتلی علیکم فاستکبرتم، کیا اب میری آیتیں تم پر پڑھی نہیں جاتی تھیں، پس پھر تم تکبر کرتے وکنتم قوما مجرمین اور تم تھے ہی مجرم لوگ.
وإذا قیل ان وعد الله حق، اور جب کہا جاتا کہ بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے والساعة لا ریب فيها اور قیامت جو ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے، جب تم سے یہ کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں ہے، قلتم تو تم کہتے تھے اے کفار! تم یہ کہتے تھے ما ندری ما الساعة کہ ہم نہیں جانتے قیامت کیا چیز ہے. تم کیا جواب میں کہتے تھے؟ کہ ہم نہیں جانتے ما الساعة قیامت کیا چیز ہے؟
إن ظن إلا ظنا.
إن ظن إلا ظنا.
بھئی!
یہاں الا آیا۔ اور الا استثناء کے لیے آتا ہے۔ الا استثناء اور استثناء میں ایک ہوتا ہے جو ما قبل ہوتا ہے وہ ہے مستثنیٰ منہ، اور ما بعد ہے مستثنیٰ، اور دونوں میں فرق ہونا چاہیے۔ دونوں میں کیا ہونا چاہیے؟
اور یہاں اشکال ہوتا ہے کہ یہاں مستثنیٰ منھ مستثنیٰ منہ وہ بھی ظن ہے اور مستثنیٰ بھی کیا ہے ظن ہے، گمان ہے. تو استثناء الشے علی استثناء الشے من نفسہ لازم آیا، اور یہ تو درست نہیں بھئی۔ ایک چیز کا اپنی ہی ذات سے کیا کیا جائے؟ استثناء کیا جائے؟
ما جاء نی زید إلا زیدا.
میرے پاس نہیں آیا زید مگر زید. نفی بھی کس کی کی؟ زید کی. اثبات بھی کس کا کیا؟ زید کا کیا. یہ تو تناقض آیا ہوا بھئی.
اعتراض سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں مستثنیٰ منہ بھی ظن اور مستثنیٰ بھی ظن. تو یہ تو اسی طرح ہے گویا یوں کہا جائے ما ضربت إلا ضربت. ما ضربت إلا ضربت.
تو جواب یہ، جواب یہ کہ یہاں جو نا ظن آیا، یہ نعتقد کے معنی میں ہے۔ کس معنی میں ہے؟ نعت.
إن ظن أي إن نعتقد، ہمیں اعتقاد نہیں ہے. إلا ظنا, مگر گمان ہے. مگر کیا ہے؟ ہمارا اعتقاد نہیں ہے مگر گمان ہے، کبھی قیامت کے بارے میں گمان آتا ہے شاید ہو.
شاید کیا ہو؟ واقعی ہو. کہ ہمارا یہ اعتقاد نہیں ہے.
تو دیکھیے، مستثنیٰ منہ ہوا اعتقاد، اور مستثنیٰ کیا ہوا؟ گمان.
ظن ہوا اع- اعتقاد او مستثنیٰ مستثنیٰ ظن ہوا. تو دونوں میں فرق آگیا، کیونکہ اعتقاد تو عام ہے. گمان، یہ بھی اعتقاد ہے۔ یقین، یہ بھی کیا ہے؟ اعتقاد ہے.
اور اس میں سے ظن کو نکال دیا، استثناء کر دیا۔ تو باقی اعتقاد کی نفی کر دی، صرف ظن کا اثبات کر دیا کہ ہمیں صرف گمان ہے قیامت کے بارے میں، کبھی کبھی کیا ہوتا ہے ہمیں بھی گمان ہوتا ہے.
یہ تو ایک جواب بھئی.
ایک اور جواب بھی یاد رکھیں.
یہ بات پہلے بھی ذکر ہو چکی کہ کلام عرب میں تنوین بھی بعض اوقات مختلف معانی کے لیے آتی ہے، مختلف معانی کے لیے.
تو یہاں پر بھی یہ ظنن کے اندر جو تنوین ہے یہ تحقیر کے لیے ہے. کس لیے ہے؟ تحقیر کے لیے. أي إلا ظنا ضعیفا, کمزور سا، تھوڑا سا خیال آتا ہے ہم کو.
تو ما قبل میں ظن ہے مطلق، وہ تھوڑے سے گمان کو بھی شامل اور زیادہ گمان کو بھی شامل، تو وہ عام ہوا، اس میں سے صرف کس کا استثناء کر دیا؟ ظن ضعیف کا استثناء کر دیا بھئی، کہ تھوڑا بہت خیال ہمیں آجاتا ہے، زیادہ گمان بھی نہیں، تھوڑا سا تھوڑا بہت گمان ہمیں خیال کا کبھی آجاتا ہے ہمیں.
جوابات سمجھ میں آئے بھئی؟ پہلا جواب کیا؟ کہ نا ظن کس معنی میں؟ نعتقد کے معنے میں. اور یاد رکھیے اس صورت میں پھر یہ ظنن مفعول بہ ہوگا۔ ضربت زیدا، زید کیا ہے؟ مفعول بہ، تو یہ ظنن بھی کیا ہوگا؟ مفعول بہ ہوگا نعتقد کے لیے.
ہیں؟ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ اور اگر دوسرا جواب، ظنن کی تنوین کو تحقیر کے لیے مانا جائے، پھر یہ مفعول مطلق ہی ہے بھئی، کیونکہ ما قبل میں بھی ظن ذکر اور مصدر بھی اسی معنی میں ہے تو اس کو مفعول مطلق کہا جاتا ہے.
إن ظن إلا ظنا, ہمیں خیال صحیح آتا ہے، ہمیں گمان سا ہی آتا ہے، ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ إن ظن إلا ظن ہمیں خیال صحیح آتا ہے، کچھ تھوڑا سا خیال ہی آتا ہے اس کا. وما نحن بمستيقنين, اور ہم اور نہیں ہیں ہم یقین کرنے والے، یعنی ہمیں یقین نہیں ہے، ہمیں گمان سا کچھ ہوتا آتا ہے قیامت کے بارے میں لیکن ہمیں یقین نہیں ہے.
وإذا قیل اور جب کہا جاتا ان وعد الله حق کہ بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے والساعة لا ریب فيها اور قیامت میں کوئی شک نہیں ہے قلتم تو تم قلتم تم کہتے تھے ما ندری ما الساعة کہ ہم نہیں جانتے قیامت کیا چیز ہے؟ إن ظن إلا ظنا، تھوڑا سا خیال سا ہمیں آتا ہے وما نحن بمستيقنين اور ہم کو یقین نہیں ہے.
وبدا لهم سيئات ما عملوا وبدا کا معنی ظاہر ہونا. وبدا لهم اور ظاہر ہوگا لہم ان کے لیے سیئات ما عملو، برائیاں اس کی جو وہ عمل کرتے تھے، وہ جو عمل کرتے تھے اس کی برائیاں ان کے لیے ظاہر ہوں گی قیامت کے دن بھئی.
وحاق بهم اور ان کو گھیر لے گا ما كانوا به يستهزؤون، وہ چیز جس کے ساتھ جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے، جس کا وہ استہزا کرتے تھے، یعنی عذاب بھئی. ان کو عذاب گھیر لے گا بھئی جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے.
وبدا لهم سيئات ما عملوا وحاق بهيم ما كانوا به يستهزؤون, اور ظاہر ہوں گی ان کے ان کے لیے ان کے اعمال کی برائیاں اور گھیر لے گا ان کو وہ عذاب جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے. وقيل اليوم نساکم كما نسيتيم لقاء يومكم هذا, اور کہا جائے گا ان سے اليوم آج کے دن نساکم ہم تمہیں بھلا دیں گے کما نسیتیم جیسے کہ تم نے بھلا دیا تھا لقاء يومكم هذا اپنے اس دن کی ملاقات کو.
ومأواكم النار اور تمہارا ٹھکانہ آگ ہے وما لكم من ناصرين اور نہیں ہوں گے تمہارے لیے کوئی مددگار، تمہارے لیے کوئی مدد کرنے والوں میں سے کوئی نہیں ہوں گے.
اللہ فرما رہے ہیں وقیل اور ان سے کہا جائے گا اليوم نساکم، کہ آج ہم تمہیں بھلا دیں گے، کما نسیتیم لقاء يومكم هذا جیسے کہ تم نے بھلا دیا تھا اپنے اس دن کی ملاقات کو. اللہ فرما رہے ہیں ہم آج تمہیں بھلا دیں گے، معنی ہے مراد ہے یعنی چھوڑ دیں گے. کیا کریں گے؟ چھوڑ دیں گے. کیونکہ نسیان، بھول چوک، اللہ کی ذات نسیان سے پاک ہے. اللہ کی ذات نسیان سے پاک ہے, تو یہاں مراد چھوڑ دینا ہے، کیونکہ جیسے کوئی شخص جب کسی چیز کو بھول جائے تو وہ اسے رہ جاتی ہے، اسے چھوڑ دیتا ہے. تو اللہ فرما رہے ہیں ہم تمہیں بھلا دیں گے، یعنی بس اب ہم تمہیں چھوڑ دیں گے جس حال میں بھی ہو، ہم تمہیں سے وہ عذاب اب ختم نہیں کریں گے.
اور کہا جائے اور وقیل اور کہا جاتا اور کہا جائے گا آج کے دن ہم تمہیں بھلا دیں گے جیسے تم نے اپنے اس دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا واما وکم النار وما لكم من ناصرين اور تمہارا ٹھکانہ آگ ہے اور نہیں ہوں گے تمہارے لیے کوئی مددگار، ذلکم بأنكم اتخذتم آيات الله هزوا.
ذالکم، یہ جو ہے، یہ سزا جو ہے، یا یہ جو تمہیں بھلا دیا جائے گا اور تمہیں آگ میں ڈالا جائے گا، بأنكم أي بسبب أنكم، یہ بات کون سی ہے؟ سببیہ. یہ اس وجہ سے ہے کہ تم نے اتخذتم آيات الله هزوا کہ تم نے پکڑا اللہ کی آیتوں کو ہزوا، مذاق تم نے اللہ کی آیتوں کو مذاق بنا رکھا تھا.
وغرتكم الحياة الدنيا, غرة کے معنی دھوکہ دھوکے میں ڈالنا. وغرتكم الحياة الدنيا اور تم کو دھوکے میں ڈالا دنیاوی زندگی نے. فاليوم لا يخرجون منها پس آج کے دن وہ نہیں نکالے جائیں گے اس میں سے. ولا هم يستعتبون اور نہ ان سے خوش رضامندی طلب کی جائے گی کہ اللہ کو راضی کر لو. نہ ان سے یہ بات طلب کی جائے گی کہ وہ کیا کر لیں؟ اللہ کو راضی کر لیں.
بھئی يستعتبون، یہ لفظ پہلے بھی گزر چکا ہے. يستعتبون. میں نے بتلایا تھا یہ عتبی سے ہے، عتبی سے. اور عتبی کہتے ہیں خوشنودی، رضامندی. خوشنودی اور رضامندی. اور یہاں استعتب باب استفعال آیا، تو سین طلب کے لیے ہے. کسی کی رضامندی چاہنا، کسی کو راضی کرنا. کسی کو خوش کرنا.
استعتب کیا معنی ہے؟ کسی کو خوش کرنا، راضی کرنا. اسی سے مجہول آیا یستعتبون. ان سے رضامندی کو طلب نہیں کیا جائے گا کہ وہ اللہ کو راضی کریں، اللہ کو خوش کریں. ان کی اس سے رضامندی کو نہیں چاہا جائے گا. یعنی اللہ کی کہ اب کیا کر لو، معافی مانگ کر اللہ کو راضی کر لو.
سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو کیونکہ معافی مانگنے کا محل دنیا ہے اور دنیا پیچھے رہ چکی اب آخرت ہے، تو اب معافی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا.
ولا هم يستعتبون، کیا معنی کیا؟ اور ان سے خوشنودی کو طلب نہیں کیا جائے، رضامندی کو طلب نہیں کیا جائے گا، کس کی رضامندی؟ اللہ کی کہ اللہ کو راضی کر لو. یہ ان سے نہیں کہا جائے گا.
یا یوں ترجمہ کر لیں.
خوشنودی کو طلب کرنا، یعنی ناراضگی کو دور کرنا، ناراضگی کی تلافی کرنا، یہی معنی ہے نا؟ ولا هم يستعتبون. ان سے ناراضگی کی تلافی نہیں طلب کی جائے گی. ان سے ناراضگی کی، یعنی اللہ کی ناراضگی کی تلافی ان سے نہیں طلب کی جائے گی کہ اس کی تلافی کر لو.
بعض ہمارے علماء نے اس کا بڑا پیارا ترجمہ کیا. ولا هم يستعتبون. ان سے معافی مانگنے کو نہیں کہا جائے گا. معافی مانگتا ہے انسان دوسرے سے تو کیا کرتا ہے اس کو راضی کرتا ہے نا ناراضگی کو ختم تاکہ ہو جائے. ولا هم يستعتبون، ان سے معافی مانگنے کا نہیں کہا جائے گا.
ذلكم بأنكم اتخذتم آيات الله هزوا یہ سزا اس وجہ سے ہے کہ تم نے اللہ کی آیتوں کو مذاق بنایا تھا وغرتكم الحياة الدنيا اور تم کو دنیاوی زندگی نے دھوکے میں ڈالا فاليوم لا يخرجون منها پس آج کے دن وہ اس جہنم سے نہیں نکالے جائیں گے, اس آگ سے وہ نہیں نکالے جائیں گے ولا هم يستعتبون اور نہ ان سے معافی مانگنے کو کہا جائے گا.
فلله الحمد رب السموات ورب الأرض پس اللہ ہی کے لیے تعریف ہے جو رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا, رب العالمين جو رب ہے تمام جہانوں کا.
رب السموات ورب الأرض.
یہ صفت ہے لفظ اللہ کی لِلَّهِ وہ مجرور موصوف مجرور تو صفت بھی مجرور بھئی.
وله الكبرياء في السموات والأرض، اور اسی کے لیے ہے بڑائی، کبریا بڑائی، بزرگی. اور اسی کے لیے بزرگی ہے، اسی کے لیے بڑائی ہے فی السموات والأرض آسمانوں میں اور زمین میں. وهو العزيز الحكيم اور وہ زبردست ہیں، حکمت والے ہیں.
چلیے بس بھئی ہذا ہو المرام، واللہ اعلم بحقیقة الکلام.