اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الم تر ان اللہ انزل من السماء ماء، فاخرجنا بہ ثمرات مختلفن الوانھا، ومن الجبال جدد بیض و حمر مختلف الوانھا وغرابیب سود۔
الم تر، کیا تو نے دیکھا نہیں، ان اللہ انزل من السماء ماء، کہ اللہ تعالی نے نازل فرمایا اسمان سے پانی۔ الم تر ان اللہ انزل من السماء ماء، کیا تو نے دیکھا نہیں کہ اللہ نے نازل فرمایا اسمان سے پانی، یعنی بارش برسائی۔ فاخرجنا بہ ثمرات، پس نکالا ہم نے اس کے ذریعے، اس پانی کے ذریعے، ثمرات، پھلوں کو۔ مختلفن الوانھا، کہ مختلف ہیں ان کے رنگ۔ الوان جمع ہے لون کی، رنگ کو کہتے ہیں۔ فاخرجنا بہ ثمرات مختلفن الوانھا، پس ہم نے نکالے اس کے ذریعے ایسے پھل کہ مختلف ہیں ان کے رنگ۔
بھئی مختلفن، یہ صفت ہے ثمرات کی۔ ثمرات کی۔ تو بھئی موصوف صفت کا اعراب ایک ہوتا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے ثمرات مجرور ہے اور مختلفن منصوب ہے۔ شاباش! بھئی یہ ثمرات جمع مؤنث سالم ہے، اس کا نصب یہ اس وقت اس پر نصب ہے، لیکن اس کا نصب اتا ہی کسرہ کی صورت میں ہے۔ تو یہ منصوب ہے تو مختلفن اس کی صفت بھی کیا ہے؟ منصوب ہے بھئی۔ یہ دونوں منصوب ہیں اس وقت موصوف صفت۔
اور یہ جو الوانھا ہے یہ فاعل ہے مختلفن کا۔ جیسے فعل کے لیے فاعل یا نائب فاعل ہونا ضروری، اسی طرح صفت کے صیغے کے لیے بھی فاعل یا نائب فاعل کا ہونا ضروری ہے اور جیسے فعل کا فاعل کبھی اسی کے اندر ضمیر ہوتی ہے اور کبھی آگے اسم ظاہر ہوتا ہے، اس میں ظاہر بھئی۔
جو بھی ضمیر نہیں ہے، وہ اسم ظاہر ہے بھئی۔ یہ اس میں ظاہر کس کے مقابلے میں ہے؟ اس میں ضمیر کے مقابلے میں ہے بھئی۔ تو الوانھا یہ الوان ضمیر ہے؟ ضمیر نہیں ہے، تو کیا کہیں گے پھر اس کو اسم ظاہر کہیں گے۔
تو اس کا یہ تو جیسے فعل کا فاعل یا نائب فاعل ضمیر بھی ہو سکتی ہے اور اسم ظاہر بھی ہو سکتا ہے۔ اسی طرح یہ اسم فاعل کا فاعل بھی ضمیر بھی ہو سکتی ہے اور اسم ظاہر بھی اور عموماً اسی کے اندر ضمیر ہوتی ہے اکثر، کبھی کبھار اسم ظاہر بھی آ جاتا ہے، جیسے اس وقت یہاں ہے بھئی۔
مختلفن الوانھا، تو آپ سے کوئی پوچھے یہ الوانھا کو رفع کس نے دیا؟ آپ کیا کہیں گے جواب میں؟ کہ مختلفن یہ جو اسم فاعل کا صیغہ ہے، اس نے رفع دیا اس کو، تو یہ اس کا فاعل ہے۔
اور فاعل جب اسم ظاہر آئے، تو فعل کو ہمیشہ مفرد رکھتے ہیں۔ مفرد رکھتے ہیں بھئی۔ جی تو یہ، چلیے پھر بات گہری نحو کی طرف چلی جائے گی۔ ورنہ ثمرات ثمرات مؤنث ہے، تو مختلفن صفت کو بھی مؤنث ہونا چاہیے، کیونکہ تذکیر و تانیث کے اندر بھی صفت کی موصوف سے مطابقت ہوتی ہے۔
لیکن جب فاعل آگے اسم ظاہر آ رہا ہو، تو پھر اس کے ساتھ مطابقت اس کی کریں گے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی تو یہ پھر اس کے تذکیر و تانیث میں پھر یہ ماقبل کے تابع نہیں رہتا، جب اس کا فاعل اسم ظاہر آئے بھئی۔
اس لیے ورنہ تو مختلفۃ ہونا چاہیے تھا بھئی، جمع کی طرف ھیا ضمیر راجع ہوتی ہے یا جمع کی یا ھیا ضمیر راجع ہوتی ہے۔ تو چونکہ اس کا فاعل آگے الوانھا آ رہا تھا، تو اس لیے مختلفن ہے، اب تذکیر و تانیث صفت ہے، لیکن تذکیر و تانیث میں مطابقت ضروری نہیں، کیونکہ یہ صفت بحال متعلقہ ہی ہے۔ آپ نے صفت کی دو قسمیں نحو میں پڑھی ہوں گی۔ ایک صفت بحالہی اور ایک صفت بحال متعلقہ، تو یہ جی۔ صفت۔
دیکھیے پہلے آیا، الم تر ان اللہ انزل من السماء ماء، کیا تو نے دیکھا نہیں کہ اللہ نے نازل کیا اسمان سے پانی۔ کس نے نازل کیا؟ اللہ نے۔ تو یہ غیبت کے انداز میں کلام ہو رہا ہے، غائب کے انداز میں۔ فاخرجنا، پھر، پس ہم نے نکالا اس کے ذریعے، یہ تکلم والا انداز آ گیا بھئی۔ تو یہ التفات ہے مولانا، غیبت سے تکلم کی طرف، بھئی یہ التفات ہے کلام کے ایک انداز سے انتقال کرنا دوسری انداز کی طرف، یہ التفات کہلاتا ہے بھئی۔
فاخرجنا بہ ثمرات مختلفن الوانھا، پس نکالا ہم نے اس پانی کے ذریعے ایسے پھلوں کو کہ مختلف ہیں ان کے رنگ، ومن الجبال جدد بیض و حمر مختلف الوانھا وغرابیب سود۔ اور پہاڑوں پہاڑوں میں سے بعض جو ہیں، پہاڑ جو ہیں, جدد۔ جدد جمع ہے جددۃ کی بھئی۔ جددۃ۔
اور جددۃ جو ہے وہ پہاڑ کے پہاڑ میں جو راستہ ہوتا ہے، اس کو کہتے ہیں، پہاڑ میں راستہ۔ یعنی گھاٹی، گھاٹی کہہ لیں۔ پہاڑ کے اندر جو راستہ ہے، گھاٹی ہے جو درہ ہے تنگ راستہ، تو اس کو جددۃ کہتے ہیں بھئی۔
ومن الجبال جدد، تو کیا ترجمہ ہوگا؟ ومن الجبال جدد، اور پہاڑوں میں۔ بھئی یہ پہاڑ جو ہیں وہ خود تو راستے نہیں ہیں بھئی۔ راستوں والے ہیں بھئی، کیا ہیں؟ راستوں والے ہیں، تو یہاں مضاف محذوف ہے، ای ذو جدد، راستوں والے۔
اور پہاڑ جو ہیں وہ راستوں والے ہیں، ایسے راستے بیض، جو سفید ہیں۔ یہ صفت ہے جدد کی بھئی۔ بیض جمع ہے ابیض کی بھئی۔ ابیض کی جمع، جدد جمع ہے، جدد کیا ہے؟ جمع ہے، تو صفت بھی کیا لائی گئی؟ جمع لائی گئی بھئی۔
تو بیض کس کی جمع ہے؟ ابیض کی بھئی۔ اور حمر، یہ جمع ہے احمر کی بھئی، احمر کی۔ یہ بیض اور حمر کا وزن ایک ہی ہے بھئی۔ ایک ہی وزن ہے۔ ابیض اور احمر کی، دیکھو ابیض احمر دونوں کا وزن ایک ہی ہے بھئی۔ تو ان کی جمع جو ہے وہ فعلن وزن پر آتی ہے، فعلن۔
تو احمر کی جمع کیا آئی فعلن وزن پر؟ حمر۔ اور ابیض کی جمع بوئی زن ہونا چاہیے، بوئی زن۔ فعلن وزن ہے نا! با پر کیا ہونا چاہیے؟ ضمہ، تو با پر ضمہ ہی تھا، لیکن پھر چونکہ مابعد میں یا ہے اور یا کے موافق کیا چیز ہے؟ کسرہ، تو ضمے کو کس سے بدل دیا گیا؟ کسرے سے بدل دیا گیا بھئی۔
جی۔ اور پہاڑ جو ہیں وہ سفید راستوں والے ہیں اور سرخ راستوں والے، مختلفن الوانھا، مختلف ہیں ان کے رنگ بھئی۔ یعنی سفید ہونے میں بھی پھر بھئی پہاڑ سفید راستوں والے ہیں اور سرخ راستوں والے بھئی۔ یعنی بعض کے پتھر سفید ہیں، بعض کے پتھر کیا ہیں؟ سرخ ہیں اور پھر ان کے اندر بھی رنگ ان کے مختلف ہیں، کوئی زیادہ سفید ہے، کوئی کم سفید ہے۔ اسی طرح کوئی زیادہ سرخ ہے، کوئی کم سرخ ہے، کوئی بہت معمولی سا سرخ ہے، تو مختلف قسم کے رنگ ہیں ان کے۔
معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ اور پہاڑوں پہاڑ جو ہیں وہ راست سفید اور سرخ راستوں والے ہیں، مختلفن الوانھا کہ ان کے رنگ مختلف ہیں۔ یا جددۃ کا دوسرا معنی حصے اور ٹکڑے کے آتے ہیں بھئی۔ حصے اور ٹکڑے کے۔
اور پہاڑ جو ہیں سفید اور سرخ ٹکڑوں والے ہیں، جن کے رنگ کیا ہیں؟ مختلف ہیں۔ تو مختلف ٹکڑے، مختلف حصے، کہیں سفید پتھر ہیں، پھر کہیں سرخ پتھر ہیں، پھر ان کے اندر بھی مختلف رنگ ہیں، وغرابیب سود۔ اور گہرے سیاہ۔ غرابیب سود کا کیا معنی؟ گہرے سیاہ بھئی، گہرے سیاہ۔
سود وہی فعلن وزن ہے، اسود کی جمع بھئی۔ اسود کی جمع سود، فعلن وزن بھئی۔ یہ غرابیب جمع ہے غربیب کی۔ غرابیب کس کی جمع؟ غربیب کی۔ اور غربیب کہتے ہیں جو خوب سیاہ ہو بھئی، خوب سیاہ، غربیب۔ اسی سے غرابیب کوا، وہ بھی خوب سیاہ ہوتا ہے بھئی۔
اور یہ غربیب جو ہے، یہ اسود کی صفت بنتی ہے بھئی تاکید کے طور پر۔ عربی میں کوئی چیز خوب سیاہ ہو تو کہتے ہیں اسود غربیب۔ کیا کہتے ہیں؟ اسود غربیب۔ تو اسود جو ہے وہ موصوف ہوتا ہے اور غربیب اس کی صفت بھئی۔
غربیب اس کی صفت۔ یہاں دیکھیے آپ، غربیب جو ہے وہ مقدم ہے اور سود مؤخر ہے۔ تو بعض علماء نے لکھا کہ یہ سود غربیب، یہ تو عربی میں کثیر الاستعمال ہے، سود موصوف بنتا ہے اور غربیب اس کی صفت۔
اور غربیب موصوف ہو اور سود اس کی صفت ہو، یہ قلیل ہے بھئی عربی کے اندر، بہت قلیل۔ جبکہ دیگر علماء لکھتے ہیں کہ یہ جو ہے غربیب، یہ ہمیشہ سود ہی کی صفت بنتا ہے، یہ موصوف نہیں بنتا۔
پھر یہاں تو یہ موصوف بن رہا ہے، وہ کہتے ہیں نہیں، یہاں اس کا موصوف محذوف ہے۔ سود غربیب۔ اس کا موصوف کیا ہے؟ محذوف ہے۔ محذوف ہے بھئی۔ اور یہ آگے آنے والا سود بدل ہے بھئی اس سے، کیا ہے؟ بدل۔ بدل ہے بھئی اس سے، بدل یا اس کی تاکید ہے بھئی۔ یا کیا ہے؟ تاکید ہے۔ بدل ہے یا تاکید ہے۔ تو معنی اس کا کیا ہے؟ گہرا سیاہ، خوب سیاہ۔
ومن الجبال جدد بیض و حمر مختلف الوانھا وغرابیب سود اور پہاڑوں میں سے جو ہیں، پہاڑ جو ہیں، جدد حصوں والے ہیں، سفید اور سرخ کے، ان کے رنگ مختلف ہیں وغرابیب سود اور گہرے سیاہ۔ ومن الناس والدواب والانعام مختلف الوانہ کذلك۔ اور لوگوں میں سے اور چو پاؤں میں سے، دباب جمع ہے دابۃ کی بھئی۔ اور لوگوں میں سے اور چو پاؤں میں سے والانعام اور مویشیوں میں سے مختلف الوانہ کذلك، کہ ان مختلف ہیں ان کے رنگ کذلك۔
اسی طرح اللہ کیا فرما رہے ہیں کہ اسی طرح لوگوں میں سے اور چو پاؤں میں سے اور مویشیوں میں سے بھی اسی طرح ہیں کہ ان کے رنگ کیا ہیں، مختلف ہیں بھئی انسانوں کے رنگ بھی مختلف ہیں بھئی۔
اور اسی طرح مویشیوں اور جانوروں کے رنگ بھی مختلف ہیں، یہ سب اللہ کی قدرتیں ہیں، کوئی چیز کیسی بنائی، کوئی چیز کیسی بنائی بھئی۔
إنما یخش اللہ من عبادہ العلماء، إنما یخش اللہ اللہ سے ڈرتے ہیں من عبادہ اس کے بندوں میں سے، العلماء علماء ہی۔
اللہ سے اس کے بندوں میں سے علماء ہی ڈرتے ہیں۔
معلوم ہوا جو اللہ سے نہیں ڈرتا، وہ عالم ہی نہیں بھئی۔ اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ کہ اللہ سے اس کے بندوں میں سے علماء ہی ڈرتے ہیں بھئی، علماء ہی ڈرتے ہیں۔
إنما حصر کا فائدہ دے رہا ہے کہ علماء ہی جو ہیں اللہ کے بندوں میں سے، وہ اللہ سے ڈرتے ہیں۔
کیونکہ جوں جوں علم بڑھتا ہے، اللہ کی ذات کی عظمت اور اللہ کی قدرت سامنے آتی جاتی چلی جاتی ہے بھئی۔ انسان حیران رہتا ہے، اس کائنات ہی کو آپ دیکھ لیں، اتنی وسیع کائنات، اتنی وسیع کائنات، آپ اس میں غور کریں تو حیران رہ جائیں بھئی، کتنی وسیع کائنات! انسان کی اس کے اندر حیثیت ہی کچھ نہیں ہے بھئی۔
انسان تو چھوڑو، اس زمین کی کائنات کے اندر کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔
ایک بڑے صحرا کے اندر ایک ریت کا ذرہ ہو۔ سینکڑوں میل تک ایک صحرا پھیلا ہوا ہو، سینکڑوں میل تک۔
اس میں ایک ریت کے ذرے کی جو حیثیت ہے بھئی، اس کی بھی کچھ نہ کچھ حیثیت ہے۔ زمین کی وہ حیثیت بھی نہیں ہے اس کائنات کے اندر بھئی، وہ حیثیت بھی نہیں ہے۔
اور پھر اس زمین کے انسان کی زمین کے سامنے کیا حیثیت ہے؟ کتنی چھوٹی سی جان ہے بھئی۔ دو چار چھ فٹ کا قد ہے، بدن ہے اس کی اس زمین، جو ہزاروں میل، جس کی موٹائی ہے، اور اس کے سامنے انسان کی پھر کیا حیثیت؟ تو جب زمین کی صحرا میں ایک ذرے جیسی حیثیت نہیں، تو پھر انسان کی کیا حیثیت ہوگی، انسان خود ہی سوچ لے۔
بہت وسیع کائنات ہے، بہت وسیع کائنات ہے بھئی۔
تو جوں جوں انسان اللہ کی قدرتیں دیکھتا ہے، اللہ کی قدرت کی نیرنگیاں دیکھتا ہے، جوں جوں اس میں غور کرتا چلا جاتا ہے، اس پر اپنی ذات کی بے بسی، اپنی ذات کی، اپنی ذات کے نہ ہونے کا یقین ہوتا چلا جاتا ہے، اللہ کی قدرتیں سامنے آتی ہیں، کہ اللہ کی ذات کتنی عظیم ہے اور کیا کیا قدرتیں ہیں، انسان حیران رہ جاتا ہے بھئی۔
اتنی عظیم کائنات بھئی، اتنی عظیم کائنات۔
تو پھر اس کائنات کو بنانے والی ذات کتنی عظیم ہوگی بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ انسان کو اللہ کی ذات میں غور کرنے سے روکا گیا ہے بھئی۔
کیونکہ اللہ کی ذات ہماری سمجھ میں نہیں آ سکتی، ہماری کوئی حیثیت نہیں، ہماری عقل کی کوئی حیثیت نہیں ہے، ہم جوں جوں اللہ کی ذات کے بارے میں غور کرتے ہیں، ہمارے عز و عجز ہمارے سامنے ظاہر ہوتا چلا جاتا ہے۔
اللہ کی ذات کی حقیقت کا علم نہیں ہو سکتا بھئی۔
اللہ خود فرماتے ہیں لیس کمثلہ شيء، اللہ کے مثل کوئی چیز نہیں ہے۔
اللہ کی ذات کو تو چھوڑیے بھئی، آگے جا کر آپ کتابوں میں پڑھیں گے، اللہ کی صفات کی بحث آتی ہے، اللہ کا علم، اللہ کی قدرت، اللہ کا ارادہ وغیرہ، ان صفات کی جب بحث آتی ہے، اتنی گہرائی میں علماء چلے جاتے ہیں، اتنی گہرائی میں کہ انسان حیران رہتا ہے اور لیکن پھر بالآخر علماء بھی آخر کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں سبحانہ من تعالی ور فی ذاتی بل دونہ کنہ ذاتی فی اوصافہ، پاک ہے وہ ذات، تعالی کہ ساری مخلوق حیران ہے فی ذاتی اس کی ذات کے بارے میں۔
بل دونہ کنہ ذاتی، بلکہ اللہ کی ذات کی حقیقت تو چھوڑیے فی اوصافہ، اللہ کے اوصاف میں بھی ہم حیران ہیں، اللہ کے اوصاف کی حقیقت کا بھی ہمیں پوری طرح پتہ نہیں چلتا بھئی۔ اتنی عظیم ذات ہے بھئی، اتنی عظیم ذات۔
تو اسی لیے اللہ فرماتے ہیں إنما یخش اللہ من عبادہ العلماء، کہ اللہ کے بندوں میں سے اللہ سے ڈرنے والے علماء ہی ہیں، وہی اللہ سے ڈرتے ہیں۔
إن اللہ عزیز غفور، یقیناً اللہ زبردست ہیں، بخشنے والے ہیں۔
إن الذین یتلون کتاب اللہ وأقاموا الصلاۃ وأنفقوا مما رزقناہم سرا وعلانیۃ یرجون تجارۃ لن تبور۔
إن الذین یتلون کتاب اللہ، یقیناً وہ لوگ جو تلاوت کرتے ہیں اللہ کی کتاب کی، وأقاموا الصلاۃ، اور قائم کرتے ہیں نماز، وأنفقوا مما رزقناہم، اور خرچ کرتے ہیں اس میں سے، رزقناہم جو ہم نے انہیں رزق دیا ہے، سرا، پوشیدہ طور پر، وعلانیۃ، اور علانیہ، یعنی کھلے طور پر۔
یرجون تجارۃ، وہ امید کرتے ہیں کیسی تجارت کی؟ لن تبور، جو ہلاک نہیں ہوگی، جو فنا نہیں ہوگی۔ وہ امید کرتے ہیں کیسی تجارت کی لن تبور، جو ہلاک ہونے والی نہیں ہے، جو فنا نہیں ہوگی۔
إن الذین یتلون کتاب اللہ، یقیناً وہ لوگ جو تلاوت کرتے ہیں اللہ کی کتاب کی، وأقاموا الصلاۃ، اور نماز قائم کرتے ہیں، وأنفقوا، اور خرچ کرتے ہیں، مما، اس میں سے، رزقناہم، جو ہم نے انہیں رزق دیا ہے، سرا، پوشیدہ طور پر، وعلانیۃ، اور کھلے طور پر۔
یعنی پوشیدہ اور کھلے طور پر ہر طرح وہ اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں بھئی، اس رزق کو جو ہم نے انہیں دیا ہے، اس کو ہمارے راستے میں لگاتے ہیں، خرچ کرتے ہیں۔
سرا، پوشیدہ طور پر، وعلانیۃ، کھلے طور پر۔
بھئی، اللہ کے راستے میں وہ خرچ کرتے ہیں، پوشیدہ بھی، سب سے چھپا کر بھی خرچ کرتے ہیں اور علانیہ، کھلے عام بھی لوگوں کے سامنے بھی خرچ کرتے ہیں اللہ کے راستے میں بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ ایک ہے اللہ کے راستے میں مال خرچ کرنا، چھپا کر کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی، جسے دیا صرف اسی کو پتہ ہے، کسی غریب مسکین کو جو دیا، چھپا کر اور کھلے عام بھی خرچ کرتے ہیں لوگوں کے سامنے بھی اور چھپا کر بھی، ہر طرح وہ خرچ کرتے ہیں۔
یرجون، یہ امید کرتے ہیں، یہ امیدوار ہیں، تجارۃ، ایک ایسی تجارت کے لن تبور، جو ہلاک ہونے والی نہیں ہے بھئی۔ یہ آخرت کی تجارت کر رہے ہیں اور آخرت کی تجارت ختم ہونے والی نہیں، آخرت میں جو ملے گا بدلے میں، انہیں وہ ہمیشہ رہنے والی چیزیں ہیں۔
لیوفیہم أجورہم، تاکہ، تاکہ پورا بدلہ دے ان کو، لیوفیہم، تاکہ پورا دے ان کو، أجورہم، یہ تاکہ پورا دے ان کو، أجورہم، ان کے اجر بھئی۔
ان کا بدلہ۔
یہ کس سے متعلق ہے؟ تاکہ، جی پورا، تاکہ انہیں پورا بدلہ دے۔
تو اس کا تعلق یاد رکھیے یرجون سے ہے، وہ امید کرتے ہیں ایک ایسی تجارت کی، تاکہ اللہ ان کو ان کے، ان کا پورا بدلہ دے، یہ جو کچھ، یہ جو کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور اللہ کے راستے میں اللہ کے مال کو خرچ کرتے ہیں، تو یہ امید کرتے ہیں ایک ایسی تجارت کی، تاکہ اللہ ان کو ان کے بدلے پورے پورے دے بھئی، ان کے اجر پورے پورے دے۔
تو ليوفيهم جار مجرور، یہ کس سے متعلق ہوگا؟ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہ اس کی، یا بعض کہتے ہیں محذوف بھئی، محذوف فعل محذوف یہاں ہے۔
اس سارے سے مفہوم ہوا۔
وفعلوا، اور وہ یہ کرتے ہیں یہ سارا کچھ۔ کیوں کرتے ہیں یہ تلاوت کتاب، یعنی اللہ کا ذکر کرتے ہیں، اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں، اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اللہ کے راستے میں مال خرچ کرتے ہیں، کیوں؟ ليوفيهم أجورہم، تاکہ پورا دے انہیں ان کا اجر، ويزيدہم، اور بڑھا دے ان کو، ان کے لیے من فضلہ، اپنے فضل میں سے۔
یہ فعل کرتے ہیں کس لیے؟ تاکہ اللہ ان کو ان کا اجر دے اور ان کے لیے بڑھا دے اپنے فضل میں سے۔
معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟
ليوفيهم، تاکہ پورا دے ان کو أجورہم، ان کے اجر، ويزيدہم، اور بڑھا دے ان کے لیے من فضلہ، اپنے فضل میں سے۔
اللہ اپنے فضل سے اور بھی زیادہ دیتے ہیں بھئی۔
ایک، ایک نیکی کرے انسان تو اللہ اسے دس گنا دیتے ہیں اور اخلاص زیادہ ہو تو سات سو گنا تک بڑھا دیتے ہیں اور اور بعضوں کے لیے اس سے بھی بڑھا دیا جاتا ہے اجر کو، تو اخلاص کے مطابق بھئی۔
إنہ غفور شکور، یقیناً وہ بخشنے والا، قدردان ہے۔
شكور بندے کے لیے آئے تو اس کا معنی ہم کیا کرتے ہیں؟ شکر گزار بھئی، کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرنے والا ہے اور شکور یہ اللہ کے لیے آئے تو معنی ہے قدردان، یعنی جو شخص اللہ کی عبادت کرتا ہے، اللہ کے راستے میں مال خرچ کرتا ہے، اللہ بھی اس کی اس چیز کی قدر کرتے ہیں اور اس کا پھر بدلہ دیں گے بھئی اللہ تعالی بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو اس شکور کا کیا معنی کریں گے؟ قدردان، یعنی جو عمل کیا ہے آپ نے اور اللہ کے لیے، وہ ضائع نہیں جائے گا بھئی، اللہ اس کی قدر کرتے ہیں، اس کا بدلہ دیں گے بھئی۔
إنہ غفور شکور، یقیناً وہ بخشنے والا، قدردان ہے۔
والذی أوحينا إليك من الكتاب هو الحق، اور وہ جو وحی کی ہم نے آپ کی طرف من الکتاب، کتاب میں سے، ہو الحق، وہ حق ہے۔
اور وہ جو ہم نے وحی کی آپ کی طرف کتاب، ہو الحق، وہ کتاب حق ہے۔
مصدقا لما بين يديه، اس حال میں کہ وہ تصدیق کرنے والی ہے، لما بين يديه، اس چیز کی جو اس کے سامنے ہے، یعنی جو اس سے پہلے ہے، یعنی جو اس سے پہلے کی کتابیں ہیں۔
وہ کتاب کیا ہے؟ تصدیق کرنے والی ہے ان کتابوں کی جو اس سے پہلے ہیں بھئی، تورات، زبور، انجیل وغیرہ، ان قران، ان سب کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ سب بھی اللہ کی کتابیں ہیں۔
والذي أوحينا إليك من الكتاب، اور وہ جو وحی کی ہم نے آپ کی طرف کتاب، هو الحق، وہ حق ہے، مصدقا لما بين يديه، تصدیق کرنے والی ہے اپنے سے پہلی کتابوں کی۔
إن اللہ بعبادہ لخبير بصير، یقیناً اللہ اپنے بندوں سے باخبر ہے، بصیر، دیکھنے والا ہے۔
یقیناً اللہ اپنے بندوں سے باخبر ہے، انہیں دیکھنے والا ہے۔
ان سب کو اللہ دیکھ رہا ہے۔
ترجمہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟
ثم أورثنا الكتاب الذين اصطفينا من عبادنا، ثم أورثنا، پھر وارث بنایا ہم نے الكتاب، کتاب کا، الذين، ان لوگوں کو، اصطفينا، جن کو ہم نے
اسی طرح اللہ کیا فرما رہے ہیں کہ اسی طرح لوگوں میں سے اور چو پاؤں میں سے اور مویشیوں میں سے بھی اسی طرح ہیں کہ ان کے رنگ کیا ہیں مختلف ہیں بھئی انسانوں کے رنگ بھی مختلف ہیں بھئی اور اسی طرح مویشیوں اور جانوروں کے رنگ بھی مختلف ہیں یہ سب اللہ کی قدرتیں ہیں کوئی چیز کیسی بنائی کوئی چیز کیسی بنائی بھئی۔
إنما يخشى اللہ من عباده العلماء، إنما يخشى اللہ اللہ سے ڈرتے ہیں من عباده اس کے بندوں میں سے، العلماء علماء ہی اللہ سے اس کے بندوں میں سے علماء ہی ڈرتے ہیں۔
معلوم ہوا جو اللہ سے نہیں ڈرتا وہ عالم ہی نہیں بھئی۔ اللہ کیا فرما رہے ہیں کہ اللہ سے اس کے بندوں میں سے علماء ہی ڈرتے ہیں بھئی، علماء ہی ڈرتے ہیں۔ إنما حصر کا فائدہ دے رہا ہے کہ علماء ہی جو ہیں اللہ کے بندوں میں سے وہ اللہ سے ڈرتے ہیں۔
کیونکہ جوں جوں علم بڑھتا ہے، اللہ کی ذات کی عظمت اور اللہ کی قدرت سامنے آتی جاتی چلی جاتی ہے بھئی۔ انسان حیران رہتا ہے اس کائنات ہی کو آپ دیکھ لیں، اتنی وسیع کائنات، اتنی وسیع کائنات، آپ اس میں غور کریں تو حیران رہ جائیں بھئی، کتنی وسیع کائنات! انسان کی اس کے اندر حیثیت ہی کچھ نہیں ہے بھئی۔
انسان تو چھوڑو اس زمین کی کائنات کے اندر کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔ ایک بڑے صحرا کے اندر ایک ریت کا ذرہ ہو، سینکڑوں میل تک ایک صحرا پھیلا ہوا ہو، سینکڑوں میل تک اس میں ایک ریت کے ذرے کی جو حیثیت ہے بھئی، اس کی بھی کچھ نہ کچھ حیثیت ہے، زمین کی وہ حیثیت بھی نہیں ہے اس کائنات کے اندر بھئی، وہ حیثیت بھی نہیں ہے۔
اور پھر اس زمین کے انسان کی زمین کے سامنے کیا حیثیت ہے؟ کتنی چھوٹی سی جان ہے بھئی۔ دو چار چھ فٹ کا قد ہے، بدن ہے اس کی اس زمین جو ہزاروں میل جس کی موٹائی ہے، اور اس کے سامنے انسان کی پھر کیا حیثیت؟ تو جب زمین کی صحرا میں ایک ذرے جیسی حیثیت نہیں، تو پھر انسان کی کیا حیثیت ہوگی، انسان خود ہی سوچ لے۔ بہت وسیع کائنات ہے، بہت وسیع کائنات ہے بھئی۔
توجوں جو انسان اللہ کی قدرتیں دیکھتا ہے، اللہ کی قدرت کی نیرنگیاں دیکھتا ہے، جوں جوں اس میں غور کرتا چلا جاتا ہے، اس پر اپنی ذات کی بے بسی، اپنی ذات کی، اپنی ذات کے نہ ہونے کا یقین ہوتا چلا جاتا ہے، اللہ کی قدرتیں سامنے آتی ہیں، کہ اللہ کی ذات کتنی عظیم ہے اور کیا کیا قدرتیں ہیں، انسان حیران رہ جاتا ہے بھئی۔ اتنی عظیم کائنات بھئی، اتنی عظیم کائنات۔
تو پھر اس کائنات کو بنانے والی ذات کتنی عظیم ہوگی بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ انسان کو اللہ کی ذات میں غور کرنے سے روکا گیا ہے بھئی۔
کیونکہ اللہ کی ذات ہماری سمجھ میں نہیں آ سکتی، ہماری کوئی حیثیت نہیں، ہماری عقل کی کوئی حیثیت نہیں ہے، ہم جوں جوں اللہ کی ذات کے بارے میں غور کرتے ہیں، ہمارے عز و عجز ہمارے سامنے ظاہر ہوتا چلا جاتا ہے۔ اللہ کی ذات کی حقیقت کا علم نہیں ہو سکتا بھئی۔ اللہ خود فرماتے ہیں ليس كمثله شيء، اللہ کے مثل کوئی چیز نہیں ہے۔
اللہ کی ذات کو تو چھوڑیے بھئی، آگے جا کر آپ کتابوں میں پڑھیں گے، اللہ کی صفات کی بحث آتی ہے، اللہ کا علم، اللہ کی قدرت، اللہ کا ارادہ وغیرہ، ان صفات کی جب بحث آتی ہے، اتنی گہرائی میں علماء چلے جاتے ہیں، اتنی گہرائی میں کہ انسان حیران رہتا ہے اور لیکن پھر بالآخر علماء بھی آخر کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں سبحانہ من تعالی ور فی ذاتی بل دونہ کنہ ذاتی فی اوصافہ، پاک ہے وہ ذات، تعالی کہ ساری مخلوق حیران ہے فی ذاتی اس کی ذات کے بارے میں۔
بل دونہ کنہ ذاتی، بلکہ اللہ کی ذات کی حقیقت تو چھوڑیے فی اوصافہ، اللہ کے اوصاف میں بھی ہم حیران ہیں، اللہ کے اوصاف کی حقیقت کا بھی ہمیں پوری طرح پتہ نہیں چلتا بھئی۔ اتنی عظیم ذات ہے بھئی، اتنی عظیم ذات۔
تو اسی لیے اللہ فرماتے ہیں إنما يخشى اللہ من عبادہ العلماء، کہ اللہ کے بندوں میں سے اللہ سے ڈرنے والے علماء ہی ہیں، وہی اللہ سے ڈرتے ہیں۔ إن اللہ عزيز غفور، یقیناً اللہ زبردست ہیں، بخشنے والے ہیں۔
إن الذين يتلون كتاب اللہ وأقاموا الصلاة وأنفقوا مما رزقناہم سرا وعلانية يرجون تجارة لن تبور۔ إن الذين يتلون كتاب اللہ، یقیناً وہ لوگ جو تلاوت کرتے ہیں اللہ کی کتاب کی، وأقاموا الصلاة، اور قائم کرتے ہیں نماز، وأنفقوا مما رزقناہم، اور خرچ کرتے ہیں اس میں سے، رزقناہم جو ہم نے انہیں رزق دیا ہے، سرا، پوشیدہ طور پر، وعلانية، اور علانیہ، یعنی کھلے طور پر۔ يرجون تجارة، وہ امید کرتے ہیں کیسی تجارت کی؟ لن تبور، جو ہلاک نہیں ہوگی، جو فنا نہیں ہوگی۔ وہ امید کرتے ہیں کیسی تجارت کی لن تبور، جو ہلاک ہونے والی نہیں ہے، جو فنا نہیں ہوگی۔
إن الذين يتلون كتاب اللہ، یقیناً وہ لوگ جو تلاوت کرتے ہیں اللہ کی کتاب کی، وأقاموا الصلاة، اور نماز قائم کرتے ہیں، وأنفقوا، اور خرچ کرتے ہیں، مما، اس میں سے، رزقناہم، جو ہم نے انہیں رزق دیا ہے، سرا، پوشیدہ طور پر، وعلانية، اور کھلے طور پر۔ یعنی پوشیدہ اور کھلے طور پر ہر طرح وہ اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں بھئی، اس رزق کو جو ہم نے انہیں دیا ہے، اس کو ہمارے راستے میں لگاتے ہیں، خرچ کرتے ہیں۔
سرا، پوشیدہ طور پر، وعلانية، کھلے طور پر۔ بھئی، اللہ کے راستے میں وہ خرچ کرتے ہیں، پوشیدہ بھی، سب سے چھپا کر بھی خرچ کرتے ہیں اور علانیہ، کھلے عام بھی لوگوں کے سامنے بھی خرچ کرتے ہیں اللہ کے راستے میں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ایک ہے اللہ کے راستے میں مال خرچ کرنا، چھپا کر کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی، جسے دیا صرف اسی کو پتہ ہے، کسی غریب مسکین کو جو دیا، چھپا کر اور کھلے عام بھی خرچ کرتے ہیں لوگوں کے سامنے بھی اور چھپا کر بھی، ہر طرح وہ خرچ کرتے ہیں۔
يرجون، یہ امید کرتے ہیں، یہ امیدوار ہیں، تجارة، ایک ایسی تجارت کے لن تبور، جو ہلاک ہونے والی نہیں ہے بھئی۔ یہ آخرت کی تجارت کر رہے ہیں اور آخرت کی تجارت ختم ہونے والی نہیں، آخرت میں جو ملے گا بدلے میں، انہیں وہ ہمیشہ رہنے والی چیزیں ہیں۔ ليوفيهم أجورہم، تاکہ، تاکہ پورا بدلہ دے ان کو، ليوفيهم، تاکہ پورا دے ان کو، أجورہم، یہ تاکہ پورا دے ان کو، أجورہم، ان کے اجر بھئی۔ ان کا بدلہ۔
یہ کس سے متعلق ہے؟ تاکہ، جی پورا، تاکہ انہیں پورا بدلہ دے۔ تو اس کا تعلق یاد رکھیے يرجون سے ہے، وہ امید کرتے ہیں ایک ایسی تجارت کی، تاکہ اللہ ان کو ان کے، ان کا پورا بدلہ دے، یہ جو کچھ، یہ جو کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور اللہ کے راستے میں اللہ کے مال کو خرچ کرتے ہیں، تو یہ امید کرتے ہیں ایک ایسی تجارت کی، تاکہ اللہ ان کو ان کے بدلے پورے پورے دے بھئی، ان کے اجر پورے پورے دے۔
تو ليوفيهم جار مجرور، یہ کس سے متعلق ہوگا؟ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہ اس کی، یا بعض کہتے ہیں محذوف بھئی، محذوف فعل محذوف یہاں ہے۔ اس سارے سے مفہوم ہوا۔
وفعلو، اور وہ یہ کرتے ہیں یہ سارا کچھ۔ کیوں کرتے ہیں یہ تلاوت کتاب، یعنی اللہ کا ذکر کرتے ہیں، اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں، اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اللہ کے راستے میں مال خرچ کرتے ہیں، کیوں؟ ليوفيهم أجورہم، تاکہ پورا دے انہیں ان کا اجر، ويزيدہم، اور بڑھا دے ان کو، ان کے لیے من فضلہ، اپنے فضل میں سے۔ یہ فعل کرتے ہیں کس لیے؟ تاکہ اللہ ان کو ان کا اجر دے اور ان کے لیے بڑھا دے اپنے فضل میں سے۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟
ليوفيهم، تاکہ پورا دے ان کو أجورہم، ان کے اجر، ويزيدہم، اور بڑھا دے ان کے لیے من فضلہ، اپنے فضل میں سے۔ اللہ अपने فضل سے اور بھی زیادہ دیتے ہیں بھئی۔
ایک، ایک نیکی کرے انسان تو اللہ اسے دس گنا دیتے ہیں اور اخلاص زیادہ ہو تو سات سو گنا تک بڑھا دیتے ہیں اور اور بعضوں کے لیے اس سے بھی بڑھا دیا جاتا ہے اجر کو، تو اخلاص کے مطابق بھئی۔ إنہ غفور شكور، یقیناً وہ بخشنے والا، قدردان ہے۔
شكور بندے کے لیے آئے تو اس کا معنی ہم کیا کرتے ہیں؟ شکر گزار بھئی، کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرنے والا ہے اور شکور یہ اللہ کے لیے آئے تو معنی ہے قدردان، یعنی جو شخص اللہ کی عبادت کرتا ہے، اللہ کے راستے میں مال خرچ کرتا ہے، اللہ بھی اس کی اس چیز کی قدر کرتے ہیں اور اس کا پھر بدلہ دیں گے بھئی اللہ تعالی بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو اس شکور کا کیا معنی کریں گے؟ قدردان، یعنی جو عمل کیا ہے آپ نے اور اللہ کے لیے، وہ ضائع نہیں جائے گا بھئی، اللہ اس کی قدر کرتے ہیں، اس کا بدلہ دیں گے بھئی۔
إنہ غفور شكور، یقیناً وہ بخشنے والا، قدردان ہے۔ والذى أوحينا إليك من الكتاب هو الحق، اور وہ جو وحی کی ہم نے آپ کی طرف من الكتاب، کتاب میں سے، ہو الحق، وہ حق ہے۔ اور وہ جو ہم نے اوحى کی آپ کی طرف کتاب ہو الحق، وہ کتاب حق ہے۔ مصدقا لما بين يديه، اس حال میں کہ وہ تصدیق کرنے والی ہے، لما بين يديه، اس چیز کی جو اس کے سامنے ہے، یعنی جو اس سے پہلے ہے، یعنی جو اس سے پہلے کی کتابیں ہیں۔
وہ کتاب کیا ہے؟ تصدیق کرنے والی ہے ان کتابوں کی جو اس سے پہلے ہیں بھئی، تورات، زبور، انجیل وغیرہ، ان قران، ان سب کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ سب بھی اللہ کی کتابیں ہیں۔ والذى أوحينا إليك من الكتاب، اور وہ جو وحی کی ہم نے آپ کی طرف کتاب، هو الحق، وہ حق ہے، مصدقا لما بين يديه، تصدیق کرنے والی ہے اپنے سے پہلی کتابوں کی۔
إن اللہ بعباده لخبير بصير، یقیناً اللہ اپنے بندوں سے باخبر ہے، بصير، دیکھنے والا ہے۔ یقیناً اللہ اپنے بندوں سے باخبر ہے، انہیں دیکھنے والا ہے۔ ان سب کو اللہ دیکھ رہا ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟
ثم أورثنا الكتاب الذين اصطفينا من عبادنا، ثم أورثنا، پھر وارث بنایا ہم نے الكتاب، کتاب کا، الذين، ان لوگوں کو، اصطفينا، جن کو ہم نے چن لیا من عبادنا اپنے بندوں میں سے۔
फिर हमने وارث بنایا کتاب کا ان لوگوں کو جن کو ہم نے چن لیا اپنے بندوں میں سے۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ اس سے امت محمدیہ مراد ہے بھئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت۔ کہ ان لوگوں کو ہم نے کیا کیا پھر اپنی آخری کتاب کا وارث بنا دیا، ان کو ہم نے اپنی آخری کتاب دی۔
ثم أورثنا، پھر ہم نے وارث بنایا الكتاب، کتاب کا، الذين، ان لوگوں کو، اصطفينا، کہ جنہیں ہم نے چن لیا من عبادنا اپنے بندوں میں سے۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ دیکھیے مولانا، آپ حضرات کا ذکر قران کے اندر آ گیا بھئی۔ پھر ہم نے وارث بنایا کتاب کا ان لوگوں کو جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے چن لیا بھئی۔
یہ آپ کو یہ کتاب اللہ پڑھنے اور پڑھانے کی جو توفیق ہے، یہ اللہ کا بہت عظیم فضل ہے، انسان کی کوئی حیثیت نہیں کچھ بھی نہیں ہے، یہ اللہ کا عظیم احسان کہ اس نے ہمیں اس کام کے لیے چن لیا بھئی۔ اللہ ہمیں اس راستے پر آ پورے طریقے سے، کامل طریقے سے اور احسن طریقے سے چلنے کی توفیق نصیب فرمائے بھئی۔
سمجھ میں آیا، یہ اللہ کا بہت بڑا فضل ہے کہ اس زمانے میں آپ لوگوں کو چن لیا اس کتاب اللہ کے سمجھنے کے لیے اور پھر آگے سمجھانے کے لیے بھئی، آگے سمجھانے کے لیے۔
ثم أورثنا الكتاب الذين اصطفينا من عبادنا، پھر ہم نے وارث بنایا کتاب کا ان لوگوں کو جن کو ہم نے چن لیا اپنے بندوں میں سے، آپ اللہ کے چنے ہوئے بندے ہیں بھئی۔
فمنہم ظالم لنفسه، پس ان میں سے بعض جو ہیں وہ ظلم کرنے والے ہیں اپنے نفس پر، ومنہم مقتصد، اور ان میں سے بعض جو ہیں وہ میانہ رو ہیں، درمیانہ راستے اختیار کرنے والے ہیں، مقتصد کہتے ہیں میانہ رو بھئی، درمیانہ راستہ اختیار کرنے والا۔
ومنہم مقتصد، اور ان میں سے بعض جو ہیں وہ میانہ رو ہیں، ومنہم سابق بالخيرات، اور ان میں سے بعض جو ہیں وہ سبقت کرنے والے ہیں نیکیوں میں بإذن اللہ، اللہ کے اذن سے، اللہ کے حکم سے، یا یوں ترجمہ کر لیں اللہ کی توفیق سے۔ اللہ کی توفیق سے۔
ذالك هو الفضل الكبير، یہ ہے، یہی ہے هو الفضل الكبير، فضل بڑا، یہی ہے بڑا فضل بھئی۔ یہی ہے بڑا فضل۔
تو اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ فمنہم ظالم لنفسه، ان میں سے بعض جو ہیں وہ اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہیں۔ یعنی بعض مومنین پھر ان میں ایسے ہیں جو گناہوں میں مبتلا ہوتے رہتے ہیں۔ ومنہم مقتصد، تو گناہوں میں مبتلا ہوتے ہیں، تو وہ دراصل اپنی ہی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں۔ ومنہم مقتصد، اور بعض ان میں سے میانہ رو ہیں، درمیانہ راستہ چلتے ہیں۔ یعنی نیکیاں کرتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ کچھ نہ کچھ گناہ بھی ہو جاتے ہیں ان سے، ومنہم سابق بالخيرات، اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو نیکی میں سبقت کرنے والے ہیں بھئی، نیکی میں سبقت کرنے والے۔
یعنی پورے طور پر اللہ کے احکام و احکام پر عمل کرنے والے اور ان پر چلنے والے ہیں۔ پورے طور پر بإذن اللہ، اللہ کی توفیق سے۔
اللہ ہمیں بھی یہ سابق بالخيرات میں سے بنا دے بھئی۔
اللہ فرما رہے ہیں جن کے بارے میں کہ وہ صاحب بعض ان میں سے سابق بالخيرات ہیں۔ اے اللہ! ہمیں بھی سابق بالخيرات میں سے بنا دے۔ اے اللہ! یقیناً آپ کی توفیق کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا، آپ ہمیں بھی نیک اعمال کی توفیق نصیب فرما دیجیے۔
سمجھ میں آیا بھئی! کوئی نیکی انسان جب تک اللہ کی توفیق شاملِ حال نہ ہو، انسان کوئی نیکی نہیں کر سکتا۔ اور جب تک اللہ کی توفیق شاملِ حال نہ ہو، انسان کسی گناہ سے نہیں بچ سکتا۔ تو ہر وقت یہ دعا کرتے رہنا چاہیے کہ اللہ ہمیں نیک اعمال کی توفیق دے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق نصیب فرمائے۔
فمنہم ظالم لنفسه، پس ان میں سے بعض جو ہیں وہ ظلم کرنے والے ہیں اپنی جانوں پر، ومنہم مقتصد، اور ان میں سے بعض میانہ روی اختیار کرنے والے ہیں، ومنہم سابق بالخيرات بإذن اللہ، اور ان میں سے بعض جو ہیں وہ سبقت کرنے والے ہیں نیکیوں میں اللہ کی توفیق سے، ذالك هو الفضل الكبير، یہی ہے بڑا فضل۔
یہی اللہ کا بڑا فضل ہے بھئی کہ اللہ نے، بعض کہتے ہیں یہ تینوں کی طرف اشارہ ہے کہ وارث ہم نے کتاب کا بنا دیا، اور وارث بنا دیا، چن لیا اپنے بندوں میں سے، تو ان میں سے یہ بعض اگرچہ ظالم ہیں اپنے نفس پر، بعض میانہ رو ہیں اور بعض نیکیوں میں سبقت کرنے والے ہیں، یہ اللہ کا بڑا فضل ہے ان پر، کہ اللہ نے ان کو کیا کیا؟ کتاب کا وارث بنا دیا، اگرچہ ان میں بھی درجات مختلف ہیں، لیکن یہ ان پر اللہ کا فضل ہے کہ اس نے ان کو کتاب کا وارث بنایا، تو یہ سب کی سب اس میں داخل بھئی، یہ سب مراد ہیں اس میں بھئی، فضل کبیر کے اندر یہ سب آ گئے بھئی، اور بعض کہتے ہیں یہ فضل کبیر کے مراد جو ہے، یہ سابق بالخيرات جو ہیں صرف یہ مراد ہیں بھئی، کہ یہ جو بعض نیکیوں میں سبقت کرنے والے ہیں، یہ ہے اللہ کا بڑا فضل کہ اللہ کسی کو توفیق اس چیز کی دے دیں۔
لیکن زیادہ بہتر یہی ہے کہ تینوں کی طرف اس کو اشارہ، تینوں جو ہیں یہی تینوں کو کیا مانا جائے؟ یہ اللہ کا بڑا فضل ہے بھئی، اللہ کی رحمت بڑی وسیع ہے بھئی، بڑی وسیع ہے، تو لہذا اور اس صورت میں، اس صورت میں زیادہ مومنین اس میں داخل ہو جائیں گے بھئی۔
تو ان میں یاد رکھیے یہ جو ظلم کرنے والے ہیں اپنے نفس پر، کچھ تو سابق بالخيرات ہیں بھئی، یہ بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ دعا کرو اللہ ہمیں بھی بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل فرمائے۔ امین۔ اور کچھ مقتصد، مقتصد ہیں، میانہ رو ہیں بھئی، ان کے ساتھ بھی حساب کتاب میں نرمی بھی ہوگی بھئی، یہ آسانی سے حساب کتاب ہوگا، لیکن آسانی سے اور سہولت سے اور پھر یہ بھی جنت میں چلے جائیں گے، اور کچھ جو ہیں وہ ظالم لنفسہ ہیں، اپنے نفس پر ظلم کرنے والے، ان پر قیامت کے دن سختی ہوگی، لیکن بالآخر پھر ان کی بھی کیا ہو جائے گی؟ ہاں حساب کی سختی تو ہوگی ان پر، کچھ وقت ان پر سختی کا گزر جائے گا، لیکن پھر ان کی بھی اللہ مغفرت فرما دیں گے اور جنت میں چلے جائیں گے یہ سب بھئی۔ تو یہ اللہ فرما رہے ہیں ذالك هو الفضل الكبير، یہی ہے بڑا فضل۔
ذالك، یہی بڑا فضل ہے، ذالك کے ذریعے اشارہ ہے، بات نے کہا، سابق بالخيرات کی طرف بھئی، کہ یہ نیکیوں میں سبقت کرنے والے جو ہیں، جن کو یہ اللہ توفیق دے دیں، یہ اللہ کا بڑا فضل ہے اور بعضوں نے کہا یہ اشارہ ہے ان میں سے ہر ایک کی طرف بھئی، ہر ایک کی طرف۔
کیونکہ یہ سب کیا ہے؟ کس کا ذکر چل رہا ہے؟ اہل ایمان کا ذکر چل رہا ہے، تو یہ ایمان کی توفیق ملی جن کو اللہ نے چن لیا اپنے بندوں میں سے اور ان کو کتاب کا وارث بنایا، یہ اللہ کا بڑا فضل ہے۔
جنات عدن، باغات ہیں عدن رہنے کے۔ عدن کے معنی ہیں رہنے کے بھئی، اقامت والے۔ اقامت۔ اقامت بھئی، رہنا، رہنا۔
جنات عدن، باغات ہیں رہنے کے، يدخلونہا، کہ داخل ہوں گے اس کے اندر، يحلونہا، پہنائے جائیں گے، فيہا ان میں، ان باغات میں، من أساورة، اساورا، جمع ہے سوار کی بھئی، سوار۔ اور سوار کہتے ہیں کنگن کو بھئی۔ یہ آپ پھر آپ لوگوں کا ہی تذکرہ چل رہا ہے بھئی، پہنائے جائیں گے، فيہا ان جنتوں میں، من أساورة، مومنین کو کیا پہنائے جائیں گے؟ اساورا، جمع ہے سوار کی، کنگن کو کہتے ہیں، کنگن پہنائے جائیں گے بھئی، من ذھب، کس کے کنگن؟ سونے کے، وليلؤا، اور موتی، لؤلؤ موتی کو کہتے ہیں۔
تو یہ لؤلؤ کا عطف جو ہے، یہ من أساورة کے محل پر ہے بھئی، اس کے محل پر۔ تو یہ مفعول ہے محل کے اعتبار سے منصوب ہے، تو اسی محل پر لؤلؤ کا عطف بھی کیا گیا وہ بھی منصوب بھئی۔ جنات عدنى يدخلونہا، باغا رہنے کے باغات میں داخل ہوں گے، یہ يحلونہا پہنائے جائیں گے ان کو فيہا ان میں، من أساورة، کنگن من ذھب، سونے کے، وليلؤا، اور موتی، اور موتی پہنائے جائیں گے، سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور موتی پہنائے جائیں گے بھئی۔ موتی پہنائے جائیں گے۔
سمجھ میں آیا بھئی، جنت، بھئی آپ نے دیکھے ہیں عورتیں کنگن پہنتی ہیں بھئی، جنت میں آپ کو بھی سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے بھئی۔
آپ کہے، کہیں گے بھئی، کہ مرد نے کنگن پہنے ہوں، یہ تو عجیب سا لگے گا۔ ذہن میں اشکال آ سکتا ہے۔ نہیں بھئی، عجیب نہیں۔ عجیب تب لگتا ہے کوئی فعل جب ایک آدمی کرے، باقی نہ کریں بھئی، جب سب نے پہنے ہوں گے اور حکم نہایت حسین و جمیل ہوں گے، ایسا حسن و جمال کہ جسے بیان نہیں کیا جا سکتا بھئی، کیونکہ جنت کی چیزیں اللہ نے وہ چیزیں تیار کر رکھی ہیں، اللہ فرماتے ہیں کہ کسی دل پر بھی ان کا گزر نہیں ہوا، ہمارے کسی حاشیہ خیال میں بھی وہ چیزیں نہیں آ سکتی جو وہاں ہیں بھئی، کیونکہ ہم تو جو بھی چیز دیکھتے، جو بھی چیز کسی چیز کا تصور کر سکتے ہیں، وہ اس دنیا کے اعتبار سے جو ہم نے دیکھی ہیں نا چیزیں، انہی کے اعتبار سے تصور ہوتا ہے ہمارا، ایک چیز کو ہم نے دیکھا ہی نہیں، ہمیں پتہ ہی نہیں ہے تو ہم تصور بھی نہیں کر سکتے بھئی۔ جتنا بھی اعلی سے اعلی آپ تصور کر لیں، بہرحال وہ تصور آپ کا اس دنیا کی چیزوں کی نسبت سے ہوگا بھئی، انہی کے اعتبار سے آپ کچھ تصور بنائیں گے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو وہاں پر کنگن پہنائے جائیں گے بھئی اور تو یہ ذہن میں نہ آئے کہ یہ عجیب لگیں گے۔ بھئی جیسے دیکھیے، گھڑی آپ پہنتے ہیں بھئی، گھڑی بھی تو کنگن جیسی ایک چیز ہے، کیا عجیب محسوس ہوتی ہے کسی کو؟ نہیں، کیونکہ ہر ایک نے پہنی ہوتی ہے، کوئی کس طرح کی ہے، کوئی کس طرح کی ہے، خوبصورت سے خوبصورت لیکن عجیب معلوم نہیں ہوتی، تو وہاں بھی کنگن ہوں گے اور کنگن بھی پہنائے جائیں گے سونے کے اور موتی بھی پہنائے جائیں گے اور کیا حسن ہوگا ان کا، وہ، تو ہمارے تصور سے بھی بالا ہے بھئی۔
جنات عدنى يدخلونہا، رہنے کے باغات ہیں، يدخلونہا، کہ داخل ہوں گے ان کے اندر، يحلونہا، پہنائے جائیں گے ان کو فيہا، ان باغات میں، من أساورة من ذھب، سونے کے کنگن، وليلؤا، اور موتی، ولباسہم فيہا حرير، اور ان کا لباس ان میں، یعنی ان باغات میں، یعنی جنت میں، حریر، ریشم ہوگا۔ ان کا لباس کیا ہوگا؟ وہاں پر ریشم ہوگا بھئی اور وہ یہ کوئی دنیاوی ریشم نہیں بھئی، جنتی ریشم ہے بھئی۔ جنتی ریشم۔
سمجھ میں آیا تو اس دنیا کے اندر مردوں پر سونے کو اور ریشم کو حرام قرار دیا گیا ہے اور آخرت میں ان کے لیے ان کو دیا جائے گا ان کے پہننے کے لیے بھئی۔ چلیے، بس بھئی ہذا هو المرام، واللہ أعلم بحقيقۃ الكلام۔