اعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم
ومن أحسن قولا ممن دعا إلى الله وعمل صالحا وقال إنني من المسلمين.
ولا تستوي الحسنة ولا السيئة ادفع بالتي هي أحسن فإذا الذي بينك وبينه عداوة كأنه ولي حميم.
وما يلقاها إلا الذين صبروا وما يلقاها إلا ذو حظ عظيم.
ومن أحسن قولا ممن دعا إلى الله وعمل صالحا وقال إنني من المسلمين.
ومن أحسن اور کون زیادہ اچھا ہوگا اس شخص سے قولا بہ اعتبار قول کے۔ اس شخص سے زیادہ اچھا کون ہوگا بہ اعتبار قول کے، ممن دعا إلى الله جو دعوت دے اللہ کی طرف، جو بلائے اللہ کی طرف، و عمل صالحا اور نیک عمل کرے، وقال إنني من المسلمين اور کہے کہ بے شک میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔
ومن أحسن قولا اور اس شخص سے زیادہ بہتر زیادہ بہتر کون ہوگا بہ اعتبار قول کے، یعنی اس شخص سے زیادہ اچھی بات کس کی ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے اور کہے کہ میں بے شک میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔
ولا تستوي الحسنة ولا السيئة حسنة نیکی اچھائی اور سیئة برائی استواء کے معنی برابر ہونے کے۔
ولا تستوي الحسنة ولا السيئة اور برابر نہیں ہے نیکی اور برائی نیکی اور برائی برابر نہیں ہے بھئی۔
ادفع بالتي هي أحسن ادفع دور کیجیے۔ دور کیجیے۔ بالتي ای بالخصلة التي یہ التي یہ صفت ہے الخصلة کی خصلت یعنی عادت وصف بھئی۔ عادت صفت بھئی۔
ادفع بالتي هي أحسن دور کیجیے بالتي هي أحسن اس خصلت کے ذریعے هی أحسن کہ وہ بہتر ہے۔ دور کیجیے اس خصلت کے ذریعے جو بہتر ہے یعنی جواب دیجیے ایسے وصف کے ساتھ جو بہتر ہے اس صفت کے ساتھ جو بہتر ہے۔
فإذا الذي بينك وبينه عداوة فإذا الذي إذا مفاجاتیہ ہے پس اچانک الذي بينك وبينه عداوة وہ شخص کہ آپ کے درمیان اور اس کے درمیان دشمنی ہو عداوة دشمنی کو کہتے ہیں۔
كأنه ولي حميم ولی کہتے ہیں دوست کو حمیم کہتے ہیں گہرا دوست۔ اور اسی طرح حمیم قرابت دار جو ہے رشتہ دار۔
ادفع بالتي هي أحسن معنی یہ ہے بھئی نیکی اور بدی برابر نہیں ہو سکتے۔ آپ کے ساتھ اگر کوئی برے طریقے سے بھی پیش آئے آپ اللہ کی طرف دعوت دے رہے ہیں نیکی کی طرف بلا رہے ہیں اور لوگ طرح طرح کے ہیں وہ آپ سے کوئی کچھ کہے گا کوئی کچھ کہے گا۔
اگر کوئی بری بات بھی کرے کرے تو اس کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آئیے جب آپ اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں گے تو آپ دیکھیں گے کہ وہ شخص جو آپ کا دشمن ہے وہ بھی آپ کے گہرے دوستوں کی طرح بن جائے گا بھئی کیا بن جائے گا آپ کا جیسے کہ گہرا دوست ہو۔
تو ادفع بالتي هي أحسن دور کیجیے یعنی اس برائی کو کیا کیجیے۔ نیکی اور بدی برابر نہیں ہو سکتے برائی کو دور کیجیے ایسے برتاؤ کے ساتھ جو اچھا ہو جو بہتر ہو۔
فيكایک وہ جو شخص کہ جس کے اور آپ کے درمیان دشمنی ہے كأنه ولي حميم گویا کہ وہ آپ کا گہرا دوست ہے گویا کہ وہ گہرا دوست ہے۔
وہ اس طرح ہو جائے گا کہ جیسے وہ آپ کا گہرا دوست ہے۔
ادفع دور کیجیے یرحمك الله۔ دور کیجیے۔ کس کو دور کیجیے؟ برائی کو۔
بالتي هي أحسن ایسے وصف کے ساتھ یعنی ایسے برتاؤ کے ساتھ هی أحسن جو بہتر ہو جو اچھا ہو۔
فإذا الذي بينك وبينه عداوة فستاییک وہ کہ اس کے درمیان اور آپ کے درمیان دشمنی ہے كأنه ولي حميم گویا کہ وہ گہرا دوست ہے۔
ادفع بالتي هي أحسن فإذا الذي بينك وبينه عداوة كأنه ولي حميم برائی کا جواب دیجیے اچھے برتاؤ کے ساتھ تو وہ جو اس کے اور آپ کے درمیان دشمنی ہے گویا کہ وہ گہرا دوست ہوگا۔
وما يلقاها إلا الذين صبروا لقا يلقى کے معنی ہیں ڈالنے کے کسی کے سامنے کوئی چیز ڈالنا تاکہ وہ اس کو لے لے بھئی۔
کسی کے سامنے کوئی چیز ڈالنا تاکہ وہ اس کو لے لے۔ یا عطا کرنا کہیں عطا کرنا۔
وما يلقاها اور عطا نہیں کی جاتی ہاں ضمیر راجع ہے اسی خصلت کو بھئی جس کا پیچھے ذکر آیا۔
وما يلقاها اور یہ یہ خصلت عطا نہیں کی جاتی إلا الذين صبروا مگر وہ لوگ جنہوں نے صبر کیا ان لوگوں کو جنہوں نے صبر کیا۔
یعنی یہ اچھا برتاؤ تو صبر کرنے والوں ہی کو عطا کیا جاتا ہے۔ ما اور الا ہے نا تو اب اس کو ختم کریں کیا ترجمہ ہوگا؟
ہاں صبر کرنے والوں ہی کو وہ اچھی خصلت، وہ اچھا برتاؤ، وہ اچھا اچھا وصف عطا کیا جاتا ہے۔
وما يلقاها إلا الذين صبروا اور نہیں عطا کی جاتی وہ اچھی خصلت، وہ اچھا وصف، إلا الذين صبروا مگر ان کو جنہوں نے صبر کیا۔
یا یوں کریں ترجمہ بھئی۔
وما يلقاها إلا الذين صبروا اور نصیب نہیں ہوتی نصیب نہیں ہوتا ہوتی یہ صفت مگر ان لوگوں کو جنہوں نے صبر کیا۔
با محاورہ کیا ترجمہ کریں گے؟
ہاں یہ صفت صبر کرنے والوں ہی کو نصیب ہوتی ہے۔
وما يلقاها إلا ذو حظ عظيم ذو حظ حصے والا نصیب والا حظ حصے کو کہتے ہیں بھئی۔ ذو حظ نصیب والا حصے والا۔
ذو حظ عظيم بڑے حصے والا بڑی نس بڑے نصیب والا۔ وما يلقاها إلا ذو حظ عظيم اور یہ نصیب نہیں ہوتی مگر بڑے نصیب والے کو۔
یہ نصیب نہیں ہوتی مگر بڑے نصیب والے یہ عطا نہیں ہوتی مگر بڑے نصیب والے کو۔
یہ تو ما اور الا کے ساتھ ترجمہ تھا با محاورہ کیا ہوگا؟
ہاں یہ بڑے نصیب والے ہی کو نصیب ہوتی ہے یا یہ بڑے نصیب والے ہی کو عطا ہوتی ہے۔
وإنما ينزغنك من الشيطان نزغ فاستعذ بالله.
وإنما وإنما یہ ان تھا اور اس کے ساتھ ما زائدہ ہے إن شرطیہ ہے اور اس کے ساتھ ما زائدہ تو نون کو میم کر کے میم میں ادغام کیا گیا تو اما ہوا۔
وإنما ينزغنك نزغ کے معنی ہوتے ہیں نزغ کے معنی دوسرے کو انگلی مارنا بھئی۔
دوسرے کو انگلی مارنا یہ نزغ ہے بھئی۔
اور یعنی مراد ہے وسوسہ ڈالے کوئی وإنما ينزغنك من الشيطان اور اگر آپ کو کوئی وسوسہ آئے شیطان کی طرف سے۔
بعضوں نے اس کا با محاورہ ترجمہ کیا بھئی دوسرا وإنما ينزغنك من الشيطان نزغ اور اگر آپ کو شیطان کی طرف سے کوئی کچوکا لگے۔
اگر آپ کو شیطان کی طرف سے کوئی کچوکا لگے۔
سمجھ میں آیا بھئی؟
اور یا اگر آپ کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ آئے تو یہ آسان ترجمہ ہے آپ یہ یاد رکھیں وإنما ينزغنك من الشيطان نزغ اور اگر آپ کو کوئی وسوسہ آئے شیطان کی طرف سے فاستعذ بالله تو اللہ کی پناہ طلب کیجیے۔
تو آپ اللہ کی پناہ طلب کیجیے۔
یعنی بھئی جب دعوت دینے لگو جو جس طریقے سے بھی پیش آئے جس طرح بھی پیش آئے اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں اور اچھا برتاؤ کریں۔
اور اگر کبھی غصہ آ ہی جائے تو اللہ کی پناہ پکڑ لیا کیجیے۔
کوئی ایسی بات کر دیتا ہے جس پر غصہ آ گیا بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی شیطان کی طرف سے تو اس پر کیا کر لیا کیجیے؟ اللہ کی پناہ پکڑ لیا کیجیے یعنی أعوذ بالله من الشيطان الرجيم پڑھ لیا کیجیے۔
وإنما ينزغنك من الشيطان نزغ اور اگر آپ کو کوئی وسوسہ آئے شیطان کی طرف سے فاستعذ بالله تو اللہ کی پناہ طلب کیجیے۔
إنه هو السميع العليم بے شک وہ سننے والا ہے اس بے شک وہ سب کچھ سننے والا ہے، سب کچھ جاننے والا ہے۔
ومن آياته الليل والنهار اور اس کی نشانیوں میں سے ہے رات اور دن۔
الشمس والقمر اور سورج اور چاند۔
لا تسجدوا للشم ولا للقمر نہ سجدہ کرو تم سورج کو اور نہ چاند کو۔
واسجدوا لله الذي خلقهن اور سجدہ کرو اس اللہ کو الذي خلقھن جس نے ان کو پیدا کیا إن كنتم إياه تعبدون اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔
إن كنتم إياه تعبدون اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو یہ إياھو کیا ہے بھئی؟
یاد رکھیے یہ ضمیر ہے بھئی ضمیر۔ آپ نے نحمیر میں پڑھی ہوں گی ضمیریں بھئی۔
ضمیریں کہ وہ پانچ قسم پر ہیں۔ مرفوع، منسوب اور مجرور اور پھر مرفوع بھی دو قسم پر یا متصل ہوگی یا منفصل اور منسوب بھی دو قسم پر متصل ہوگی یا منفصل اور مجرور صرف کیا ہوتی ہے؟ متصل۔
تو مرفوع، مرفوع کبھی متصل ہوگی ضربت دیکھو یہ تون ضمیر کیا ہے؟ فاعل ہے تو مرفوع اور فاعل کیا ہوتا ہے؟ مرفوع تو یہ مرفوع متصل ہے۔
اور کبھی مرفوع منفصل ہوگی، أنا أنا یہ دیکھیے یہ مبتدا بنے گا یا کچھ تو اور مبتدا کیا ہوتا ہے؟ مرفوع تو یہ أنا وہ وہی تون ضمیر بھی متکلم کی تھی، أنا بھی متکلم کی ہے لیکن وہ مرفوع متصل تھی اور یہ مرفوع منفصل۔
اور اسی طرح منسوب بھی دو قسم پر ہے یا متصل ہوگی یا منفصل ضربتہ یہ ھا ضمیر آخر میں منسوب ہے، مفعول ہے اور متصل ہے اور اسی کو اگر مقدم کرنا پڑ جائے تو پھر جب مقدم ہوگی یہ ضمیر پھر تو اتصال کی ساتھ جڑنے کی صورت نہ رہی پھر منفصل لانی پڑے گی۔
پھر کیا کہیں گے؟ إياہ ضربتو، إياہ ضربتو তো وہ ضمیریں آپ نے پڑھی ہوں گی إياك، إياما، إياكم یہ وہ ضمیر منسوب منفصل ہے بھئی۔
تو یاد رکھیے جہاں رفع والا مقام ہو وہاں مرفوع ضمیر لاتے ہیں جہاں نصب والا مقام ہو وہاں منسوب ضمیر لاتے ہیں جہاں جر والا مقام ہو وہاں مجرور ضمیر لاتے ہیں۔
مجرور اور پھر انفصال والی صورت ہے تو منفصل لائیں گے اتصال والی صورت ہے تو متصل لائیں گے۔ تو یہ إياہ یہ
مفعول مقدم ہے تعبدون کے لیے۔ تعبدونہ، تعبدونہ، تم اس کی عبادت کرتے ہو۔ اور اسی ہ ضمیر کو مقدم کر دیا گیا تو کیا بن گیا؟ ایاہ تعبدون، اسی کی تم عبادت کرتے ہو، اب حصر بھی آ گیا کیونکہ آپ ضابطہ جانتے ہیں تقدیم ما حقہ التاخیر یفید الحصر والقصر والتخصیص۔
تقدیم مقدم کرنا ما اس چیز کو حقہ التاخیر جس کا حق کیا تھا؟ موخر کرنا۔ تو وہ چیز جس کا حق موخر کرنا تھا، اس کو آپ مقدم کر دیں تو یفید الحصر یہ حصر کا فائدہ دیتا ہے، والقصر اور قصر کا، والتخصیص اور تخصیص کا۔ حصر، قصر، تخصیص، تینوں کا ایک معنی ہے۔
اس لیے تینوں لفظ میں نے استعمال کیے تاکہ آپ کے، آپ کو یہ یاد رہیں بھئی حصر، قصر اور تخصیص کا ایک معنی ہے بھئی۔ ان کنتم ایاہ تعبدون جی، تو کیا ترجمہ کریں گے؟ اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔
لا تسجدوا للشمس ولا للقمر واسجدوا لله الذي خلقهن اور سجدہ کرو اس اللہ کو جس نے ان کو پیدا کیا ان کنتم ایاہ تعبدون اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔ فئِن استكبروا پس اگر وہ تکبر کریں، یہ کفار اور مشرکین اگر کیا کریں؟ تکبر کریں بھئی اللہ کو سجدہ نہ کریں۔ فالذین عند ربک پس وہ جو آپ کے پروردگار کے پاس ہیں یسبحون لہ وہ اس کی پاکی بیان کرتے ہیں باللیل والنہار رات اور دن کو وہم لا یسامون اور وہ نہیں اکتاتے۔
سیم یسامو کے معنی ہوتے ہیں اکتانے کے، اکتانے کے۔ اور پس، دوبارہ ترجمہ دیکھیے فئِن استكبروا پس اگر یہ تکبر کریں، فالذین عند ربک یسبحون لہ باللیل والنہار پس وہ جو آپ کے رب کے پاس ہیں، وہ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں رات کو اور دن کو، وہم لا یسامون اور وہ اکتاتے نہیں، وہ تھکتے نہیں۔ مراد ہیں فرشتے۔ کیا مراد ہیں الذین سے؟ فرشتے مراد ہیں۔ اللہ فرما رہے ہیں فئِن استكبروا اگر یہ کفار، یہ مشرکین تکبر کریں اللہ کو سجدہ کرنے سے تو وہ فرشتے جو آپ کے پروردگار کے پاس ہیں یعنی وہ جو مقربین فرشتے ہیں، وہ تسبیح بیان کرتے ہیں اللہ کی دن، رات اور وہ اکتاتے نہیں، تھکتے نہیں اس سے، دن رات اللہ کی پاکی بیان کرتے رہتے ہیں۔
اچھا بھئی، آیت سجدہ ہم نے تلاوت کر لی بھئی، سبق کے بعد سجدہ کر لیجیے گا۔
ومن آیاتہ أنک ترای الأرض خاشعۃ اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ آپ دیکھتے ہیں زمین کو خاشعۃ خشوع کہتے ہیں جھکنا، پست ہونا۔ جھکنا، پست ہونا۔
اور اس اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ أنک ترای الأرض خاشعۃ کہ آپ دیکھتے ہیں زمین کو خاشعۃ دبی ہوئی کہ وہ کیا ہے؟ دبی ہوئی ہے، فإذا أنزلنا علیھا الماء پس جب ہم نازل کرتے ہیں اس پر پانی کو، اہتزت اہتزت کے معنی ہوتے ہیں حرکت میں آنا، جھومنا۔
اہتزت کے کیا معنی؟ حرکت میں آنا، جھومنا۔ اہتزت وربت، ربا یربو کے معنی ہوتے ہیں بڑھنا، اضافہ ہونا۔ بڑھنا، اضافہ ہونا۔
ومن آیاتہ أنک ترای الأرض خاشعۃ اور اس اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ آپ دیکھتے ہیں زمین کو دبا ہوا، فإذا أنزلنا علیھا الماء جب آپ اس پر پانی برساتے ہیں، اہتزت وربت تو وہ جھومنے لگتی ہے، وربت اور پھول جاتی ہے، وہ جھومنے لگتی ہے، یہ وہ لہلہانے لگتی ہے، وربت اور پھول جاتی ہے، یا وہ اس لفظوں کے مطابق کر لیں، اہتزت وربت وہ حرکت میں آ جاتی ہے اور پھول جاتی ہے یعنی اس میں اضافہ ہو جاتا ہے، پودے وغیرہ اور چیزیں اس سے پھوٹنے لگتی ہیں۔
إن الذی أحیالھا لمحیی الموتٰی، بے شک وہ جس نے زندہ کیا اس کو، بے شک وہ ذات جس نے زندہ کیا اس زمین کو، لمحیی الموتٰی البتہ زندہ کرنے والا ہے مردوں کو۔ وہ ذات جس نے اس مردہ زمین کو زندہ کر دیا، وہی مردوں کو زندہ کرے گا۔ وہی کیا کرے گا؟ مردوں کو زندہ کرے گا۔
إنہ علی کل شیء قدیر، بے شک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ إنہ علی کل شیء قدیر، بے شک وہ ہر چیز پر قادر ہے یا یوں ترجمہ کر لیں بھئی! إنہ علی کل شیء قدیر، بے شک وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ بے شک وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔
إن الذی أحیالھا لمحیی الموتٰی، بے شک وہ ذات جس نے زندہ کیا اس مردہ زمین کو، لمحیی الموتٰی البتہ وہی مردوں کو زندہ کرے گا۔ إنہ علی کل شیء قدیر، بے شک وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ إن الذین یلحضون فی آیاتنا، بے شک وہ لوگ یلحضون فی آیاتنا، جو کج بیانی کرتے ہیں ہماری آیتوں میں، کج روی کرتے ہیں ہماری آیتوں میں، کجی ٹیڑے پن کو کہتے ہیں۔ کجی کس کو کہتے ہیں؟ ٹیڑے پن کو۔
اچھا بھئی! یلحضونا، الحدا یلحضو الحاد کے معنی ہوتے ہیں دین میں طعنہ زنی کرنا۔ بلاوجہ اعتراض کرنا بھئی! اس کو کیا کہتے ہیں؟ الحاد بھئی! دین میں بلاوجہ طعنہ زنی کرنا، اعتراض کرنا۔ یا دین کی طرف غلط باتیں منسوب کرنا۔ دین کی طرف غلط باتیں منسوب کرنا، یہ کیا ہے؟ الحاد ہے، الحاد۔
اللہ فرما رہے ہیں إن الذین یلحضون فی آیاتنا، بے شک وہ لوگ جو کج بیانی کرتے ہیں ہماری آیتوں میں۔ یہ یوں ترجمہ کر لیں، بے شک وہ لوگ جو ٹیڑھے چلتے ہیں ہماری آیتوں میں۔ بے شک وہ لوگ جو ٹیڑھے چلتے ہیں ہماری آیتوں میں۔ یعنی جو لوگ بلاوجہ ہماری آیتوں پر اعتراضات کرتے ہیں یا باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں بھئی! اپنا ایک معنی نکال کر اور اعتراض کرتے ہیں۔
إن الذین یلحضون فی آیاتنا، بے شک وہ لوگ جو ٹیڑھا چلتے ہیں ہماری آیتوں میں، لا یخفونا علینا، وہ مخفی نہیں ہیں ہم پر، وہ پوشیدہ نہیں ہیں ہم پر، یا وہ ہم سے چھپے ہوئے نہیں ہیں، جو بھی ترجمہ آپ کر لیں۔
إن الذین یلحضون فی آیاتنا لا یخفونا علینا، بے شک وہ لوگ جو ٹیڑھے چلتے ہیں ہماری آیتوں میں، لا یخفونا علینا وہ ہم سے چھپے ہوئے نہیں ہیں۔ أفمن یلقٰی فی النار خیر، پس کیا وہ شخص جس کو ڈالا جائے آگ میں، خیر وہ بہتر ہے، أم من یأتی آمنا یوم القیامۃ، یا وہ شخص جو آئے گا امن و امان سے، یوم القیامۃ، قیامت کے دن۔ وہ شخص جو امن و امان سے بھئی مامون ہو کر آئے گا یوم القیامۃ، قیامت کے دن۔
أفمن یلقٰی فی النار خیر أم من یأتی آمنا یوم القیامۃ، پس کیا وہ شخص جس کو آگ میں ڈالا جائے وہ بہتر ہے یا وہ شخص جو آئے گا مامون ہو کر قیامت کے دن؟ اعملوا ما شئتم إنہ بما تعملون بصیر، اعملوا تم عمل کرتے، تم عمل کرو، ما شئتم جو چاہو۔ اعملوا ما شئتم، اللہ بطور دھمکی کے فرما رہے ہیں کفار اور مشرکین سے، اعملوا ما شئتم تم جو جی چاہے کر لو۔ تم جو جی چاہے کر لو۔ اعملوا تم کر لو، ما شئتم جو چاہو۔
تم جو جی چاہے کر لو، جو چاہو عمل کر لو، إنہ بما تعملون بصیر، بے شک وہ جو تم کرتے ہو بصیر، اسے دیکھ رہا ہے۔ بے شک وہ جو کچھ تم کر رہے، جو کچھ تم کرتے ہو بصیر، اسے دیکھ رہا ہے۔
بھئی! یہ بما تعملون، بما تعملون جار مجرور ہے، یہ متعلق ہے بصیر سے، بصیر سے۔ بصیر سے۔ اس کو ذرا بصیر سے موخر کیجیے، إنہ بصیر بما تعملون، بے شک وہ دیکھ رہا ہے بما تعملون جو کچھ تم کرتے ہو۔ اب معنی واضح ہو گیا بھئی!
إن الذین کفروا بالذکر لما جاءھم، بے شک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا، جنہوں نے انکار کیا۔ إن الذین کفروا، بے شک وہ لوگ جنہوں نے انکار کیا، بالذکر نصیحت کا، مراد قرآن ہے بھئی! کیا مراد ہے؟ ذکر سے کیا مراد ہے؟ قرآن۔
إن الذین کفروا بالذکر، بے شک وہ لوگ جنہوں نے انکار کیا نصیحت کا، لما جاءھم، جبکہ وہ آ گئی ان کے پاس، وإنہ لکتاب عزیز، اور بے شک وہ البتہ بڑی عزت والی کتاب ہے۔ بے شک قرآن جو ہے، بڑے عزت والی کتاب ہے۔
لا یأتیہ الباطل، نہیں آ سکتا اس کے پاس باطل۔ اس کے پاس کوئی غیر واقعی بات نہیں آ سکتی، کوئی ناحق بات اس کے پاس، کوئی جھوٹ اس میں نہیں آ سکتا، من بین یدیھا، نہ اس کے سامنے سے، ولا من خلفھہ، اور نہ اس کے پیچھے سے۔ باطل اس کے پاس نہیں آ سکتا، نہ اس کے آگے سے اور نہ اس کے پیچھے سے۔ کیونکہ اس کی حفاظت کا وعدہ اللہ نے فرمایا ہے۔
اللہ قرآن میں کیا فرماتے ہیں، إنّا نحن نزلنا الذکر وإنّا لہ لحافظون، ہم نے ہی اس ذکر یعنی قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی! تو باطل نے آج تک بڑی کوشش کی ہے، کسی طرح قرآن میں ردوبدل کر دیں بھئی۔
لیکن آ وہ کامیاب نہیں ہو سکے اور نہ آئندہ کبھی کامیاب ہو سکتے ہیں کیونکہ اس کتاب کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے لے رکھا ہے۔
حتی کہ کوئی تبدیلی کرے تو ہمارا ایک سات سال کا، پانچ سال کا، چھ سال کا بچہ بھی اس کو فورا پکڑ لے بھئی۔ قرآن کو اللہ نے سینوں میں محفوظ کر دیا، چھ چھ، سات سات سال کے بچے حافظ ہو جاتے ہیں۔
اندازہ لگائیے پوری کتاب، اتنی بڑی کتاب سینے کے اندر حرف بہ حرف محفوظ ہو جائے، یہ قرآن کا معجزہ ہے بھئی۔ کیونکہ یہ اللہ کا کلام ہے۔
تو باطل اس وقت باطل اس کے پاس نہیں آ سکتا، نہ اس کے سامنے سے اور نہ اس کے پیچھے سے۔ یا اس کا بامحاورہ بڑا پیارا ترجمہ ہمارے بعض علماء نے کیا۔
لا یأتیہ الباطل من بین یدیھا ولا من خلفہ، اور اس تک باطل کی رفعی نہیں ہے، نہ اس کے سامنے سے اور نہ اس کے پیچھے سے۔ تنزیل من حکیم حمید، تنزیل، ای منزول بھئی مصدر ہے، آپ نے پڑھا ہے بھئی۔ یہ کبھی کس معنی میں ہوتا ہے؟ اسم فاعل یا اسم مفعول۔ تو یہ قرآن جو ہے، تنزیل من حکیم حمید، نازل کیا گیا ہے حکمت والے قابل تعریف کی طرف سے۔ اس ذات کی طرف سے جو حکمت والی ہے، قابل تعریف ہے۔
ما یقال لک إلا ما قد قیل للرسل من قبلک، ما یقال لک، نہیں کہا جاتا آپ سے، إلا ما، مگر وہ جو، قد قیل للرسل من قبلک، جو کہا گیا ہے رسولوں کو آپ سے پہلے۔ اے پیغمبر! یہ مشرکین اور یہ کفار آپ کو طرح طرح کی اذیتیں دیتے ہیں، کبھی کیسی باتیں کرتے ہیں، کبھی کیسی باتیں کرتے ہیں، کبھی آپ کو جادوگر کہتے ہیں، کبھی کاہن کہتے ہیں اور کبھی کچھ کہتے ہیں؛ تو آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں، یہ جو کچھ آپ کو کہتے ہیں، یہ آپ سے پہلے پیغمبروں کو بھی کہا گیا ہے۔ ان سے بھی لوگوں نے اسی طرح کی باتیں کی تھیں۔
ما یقال لک، نہیں کہا جاتا آپ سے، إلا ما قد قیل للرسل من قبلک، مگر وہ جو تحقیق کہا گیا رسولوں کو آپ سے پہلے۔ یعنی آپ کو تو وہی کہا جاتا ہے جو آپ سے پہلے رسولوں کو کہا گیا تھا۔
إن ربک لذو مغفرۃ وذو عقاب ألیم، بے شک آپ کا پروردگار البتہ ذو مغفرۃ، مغفرت والا ہے اور ذو عقاب ألیم، عقاب سزا، ذو عقاب سزا والا، ألیم دردناک، ذو عقاب ألیم، دردناک سزا والا۔ إن ربک لذو مغفرۃ وذو عقاب ألیم، بے شک آپ کا پروردگار البتہ مغفرت والا اور سخت سزا والا ہے، سخت سزا دینے والا ہے۔
ولو جعلناہ قرآنا أعجمیا لقالوا لولا فصلت آیاتہ، ولو جعلناہ قرآنا أعجمیا، اور اگر ہم بناتے
اس قرآن کو عجمی۔ ہم نے قرآن کو عربی بنایا اگر ہم اس کو عجمی بناتے یعنی کسی دوسری زبان میں ہوتا،
لَقَالُوا تو البتہ یہ لوگ کہتے لَوْلَا فُصِّلَتْ آيَاتُهُ کیوں نہیں واضح اس کی آیتیں؟ اس کی آیتیں کیوں نہیں کھولیں گئیں یعنی کیوں نہیں واضح کیوں نہیں ہیں۔
قرآن عربی زبان میں نازل ہوا اور عربی ان لوگوں کی زبان تھی عرب کی، ان میں سے بعض پھر اعتراض کرنے لگے بھئی کہ یہ پیغمبر بھی عربی ہے اور کتاب جو لے کر آئے ہیں وہ بھی عربی ہے، وہ بھی عربی ہے تو یہ کسی اور زبان میں کتاب لاتے، اور زبانیں تو ہم جانتے ہیں ان کو نہیں آتی، کسی اور زبان میں لے کر آتے پھر ہم مانتے کہ یہ واقعی اللہ کی طرف سے ہے۔
یہ واقعی کس کی طرف سے ہے؟ اللہ کی طرف سے ہے ہم پھر تسلیم کرتے بس مختلف قسم کے بہانے بناتے تھے، بہانے بناتے تھے۔ اور آگے اللہ بھی ذکر فرمائیں گے کہ اگر ہم اس کو عجمی زبان میں نازل کر دیتے تو اس طور پر بھی انہوں نے کیا کرنا تھا اعتراض کرنا تھا کہ ہماری زبان عربی ہے اور یہ پیغمبر تو عجمی کتاب لے کر آیا ہے ہمیں تو یہ کچھ سمجھ میں نہیں آتی۔
تو اللہ فرما رہے ہیں وَلَوْ جَعَلْنَاهُ قُرْآنًا أَعْجَمِيًّا اور اگر ہم اس کو عجمی قرآن بناتے لَقَالُوا لَوْلَا فُصِّلَتْ آيَاتُهُ تو البتہ وہ کہتے لَوْلَا فُصِّلَتْ آيَاتُهُ کیوں نہیں کھولی گئی اس کی آیتیں؟ کیوں نہیں واضح اس کی آیتیں؟ اس کی آیتیں واضح کیوں نہیں ہیں؟
أَعْجَمِيٌّ وَعَرَبِيٌّ أَعْجَمِيٌّ یہ خبر ہے، مبتدا محذوف ہے قرآن بھئی! قرآن بھئی! قرآن. اور اسی طرح عَرَبِيٌّ یہ خبر ہے اور اس کا مبتدا محذوف ہے یعنی نَبِيٌّ.
أَقُرْآنٌ أَعْجَمِيٌّ وَنَبِيٌّ عَرَبِيٌّ کیا قرآن عجمی ہے اور پیغمبر عربی ہے؟ پھر انہوں نے یہ اعتراض کرنا تھا کہ یہ کیا بات ہے؟ کہ قرآن عجمی ہے اور پیغمبر عربی ہے! اس کی زبان عربی ہے اور قرآن جو لے کر آیا ہے کتاب جو لے کر آیا ہے وہ کس قسم کی ہے؟ عجمی ہے.
أَعْجَمِيٌّ وَعَرَبِيٌّ یہ کیا بات ہے کہ قرآن عجمی ہے اور پیغمبر عربی؟ قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ قُل اے پیغمبر آپ کہہ دیجیئے ہو یہ قرآن جو ہے لِلَّذِينَ آمَنُوا ان لوگوں کے لیے جو ایمان لے کر آئے ہُدًى وَشِفَاءٌ ہدایت اور شفا ہے. یہ قرآن ایمان والوں کے لیے ہدایت اور شفا ہے.
قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ اے پیغمبر آپ فرما دیجیئے کہ یہ قرآن ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور شفا ہے وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ اور وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتیں فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ ان کے کانوں میں بوجھ ہے.
وَقْرٌ کا معنی میں نے بیان کیا تھا، کیا معنی ہے وَقْرٌ کا؟ کانوں کا بوجھ، ثقلِ سماعت، اونچا سننا بھئی. ان کے کانوں میں بوجھ ہے. وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى اور یہ قرآن ان پر اندھا پن ہے، یہ قرآن کیا ہے؟ ان کا ان پر اندھا پن ہے.
أُولَئِكَ يُنَادَوْنَ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ وہ لوگ پکارے جاتے ہیں مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ دور کی جگہ سے. معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ بھئی اللہ فرما رہے ہیں وہ لوگ جو ایمان لے کر ایمان نہیں لے کر آئے ان کے کانوں میں بوجھ ہے، وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى اور یہ قرآن ان پر اندھا پن ہے، اندھا پن ہے.
جس طرح بعض جانوروں کو دن کی روشنی میں کچھ دکھائی نہیں دیتا انہیں رات ہی کو دکھائی دیتا ہے، اسی طرح ان لوگوں کے لیے قرآن جو کہ آفتاب اور سورج کی مانند ہے جس کی روشنی جس کی جو ہر طرف اپنی روشنی پھیلا رہا ہے، اس کی روشنی میں ان لوگوں کی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں، ان کو کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا تو یہ قرآن ان کے لیے کیا ہے؟ اندھا پن ہے، اندھا پن ہے.
اور یہ لوگ دور کی جگہ سے پکارے جا رہے پکارے جاتے ہیں یعنی ان کو یہ اسی طرح ہے ان کو قرآن سنایا جاتا ہے لیکن یہ اس کو تسلیم ہی نہیں کرتے مانتے ہی نہیں ہیں، یہ اسی طرح ہے جس طرح دور کسی کو پکارا جائے بھئی. جب بہت دور سے کسی کو پکارا جائے تو اولاً تو وہ آواز کو سنتا ہی نہیں ہے اسے سنائی ہی نہیں دیتی اور اگر کچھ سنائی بھی دے جائے تو سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کہا گیا ہے، اسی طرح یہ لوگ بھی ہیں.
اسی طرح یہ لوگ بھی ہیں یہ بھی اسی طرح ہیں جیسے ان کو دور کی جگہ سے پکارا جا رہا ہو اور انہیں کچھ سمجھ ہی نہ آ رہا ہو.
وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى اور وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں بوجھ ہے وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى اور یہ قرآن ان پر اندھا پن ہے أُولَئِكَ يُنَادَوْنَ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ وہ لوگ پکارے جاتے ہیں دور کی جگہ سے.
وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ فَاخْتُلِفَ فِيهِ اور تحقیق ہم نے عطا کی موسیٰ علیہ السلام کو کتاب فَاخْتُلِفَ فِيهِ پس اختلاف کیا گیا اس میں. وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ اور اگر نہ ہوتی ایک بات سَبَقَتْ مِنْ رَبِّكَ جو سبقت کر چکی آپ کے پروردگار کی طرف سے یعنی جو پہلے سے مقرر ہو چکی آپ کے پروردگار کی طرف سے لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ تو البتہ فیصلہ کر دیا جاتا ان کے درمیان یعنی ان کا فیصلہ کر دیا جاتا.
اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک بات پہلے سے مقرر نہ ہو چکی ہوتی تو ان کا فیصلہ کر دیا جاتا۔ اور وہ کیا بات مقرر ہوئی تھی پہلے؟ کہ فیصلہ اللہ آخرت ہی میں فرمائیں گے. اللہ فیصلہ کہاں فرمائیں گے؟ آخرت میں، اسی لیے قیامت کا دن مقرر کیا گیا.
وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ اور اگر ایک بات پہلے سے طے نہ ہو چکی ہوتی آپ کے پروردگار کی طرف سے لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ تو البتہ ان کا معاملہ چکا دیا جاتا وَإِنَّهُمْ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مُرِيبٍ اور بےشک وہ البتہ فِي شَكٍّ شک میں ہیں مِنْهُ أَي مِنَ الْقُرْآنِ اس قرآن کے بارے میں. اور البتہ یہ شک میں ہیں اس قرآن کے بارے میں مُرِيبٍ یہ صفت ہے شک کی بھئی. مريب، أَرَابَ يُرِيبُ کے معنی پریشان کرنا، چین نہ لینے دینا. مريب پریشان کرنے والا جو چین نہ لینے دے، جو چین نہ لینے دے. وَإِنَّهُمْ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مُرِيبٍ اور بےشک یہ لوگ البتہ قرآن کے بارے میں ایسے شک میں ہیں مُرِيبٍ جو چین نہیں لینے دیتا جو انہیں چین نہیں لینے دیتا. باطل پر ہیں بھئی ان کے پاس کوئی بات ہی نہیں ہے تو یہ البتہ اگرچہ قرآن کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں اور یہ ایسا شک ہے جو انہیں ہر وقت بےچین رہتا ہے.
وَإِنَّهُمْ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مُرِيبٍ اور یقیناً یہ البتہ اس قرآن کے بارے میں ایسے شک میں ہیں مُرِيبٍ جو چین نہیں لینے دیتا مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ پس جو کوئی نیک عمل کرتا ہے فَلِنَفْسِهِ تو اپنے ہی نفس کے لیے اپنے ہی اپنی ہی ذات کے لیے وَمَنْ أَسَاءَ فَعَلَيْهَا اور أَسَاءَ کے معنی برائی کرنا وَمَنْ أَسَاءَ اور جو برا عمل کرتا ہے فَعَلَيْهَا تو وہ اسی پر ہے تو وہ برائی اسی پر ہے یعنی اس کا وبال اسی پر ہے.
مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ پس جو کوئی نیک عمل کرتا ہے فَلِنَفْسِهِ تو اپنی ہی ذات کے نفع کے لیے، لام کس لیے آتا ہے؟ نفع کے لیے اور آگے ہے أَسَاءَ کہ فَعَلَيْهَا، علی کس لیے آتا ہے؟ ضرر کے لیے، نقصان کے لیے مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ جس نے نیک عمل کیا فَلِنَفْسِهِ تو اپنی ہی ذات کے نفع کے لیے وَمَنْ أَسَاءَ فَعَلَيْهَا اور جس نے برا عمل کیا تو اسی پر اس کا نقصان ہے اسی پر اس کا ضرر ہے اسی پر اس کا وبال ہے. وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ اور نہیں ہے آپ کا پروردگار ظَلَّامٍ ظلم کرنے والا لِلْعَبِيدِ عبد جمع ہے عبد کی بندوں پر. اور آپ کا پروردگار بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے. آپ کا پروردگار بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے. ظَلَّام مبالغے کا صیغہ ذکر کیا گیا مبالغے کا صیغہ.
ظالم کا معنی ہوا ظلم کرنے والا. ظَلَّام کا کیا معنی ہوگا؟ زیادہ ظلم کرنے والا. ظَلَّام کا کیا معنی؟ زیادہ ظلم کرنے والا. تو یہ معنی نہ کریں کہ آپ کا پروردگار بندوں پر زیادہ ظلم کرنے والا نہیں ہے. یہ تو مبالغے کی نفی ہوئی، ظلم کی نفی نہیں ہوئی. اس سے تو کیا مفہوم نکل رہا ہے نکلتا ہے بظاہر؟ جی زیادہ ظلم کرنے والا نہیں، معلوم ہوا کچھ ظلم کرنے والا ہے.
سمجھ میں آیا؟ اعتراض جو یہاں ہوتا ہے اور اس کا جواب ذکر کر رہا ہوں بھئی تو ایک صورت اگر یہ ترجمہ کیا جائے تو معنی تو کیا ہوگا؟ زیادہ ظلم کرنے والا نہیں ہے یعنی معلوم ہوا تھوڑا تو صرف مبالغے کی نفی ہوئی ظلم کی نفی نہیں. تو ایک ہے مبالغے کی نفی ابھی میں نے بیان کر دی. اگر یہ معنی کیا جائے تو پھر تو کیا بنتا ہے صرف صرف مبالغے کی نفی ہوتی ہے اصل فعل کی نفی نہیں. بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ آپ کا پروردگار بندوں پر ذرہ بھر بھی ظلم کرنے والا نہیں ہے. تو مبالغے کی نفی نہیں ہے بلکہ نفی میں مبالغہ ہے.
مبالغے کی نفی نہیں ہے بلکہ نفی میں مبالغہ ہے. ذرہ بھر بھی ظلم کرنے والا نہیں ہے بھئی. ذرہ بھر بھی ظلم کرنے والا نہیں معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ یعنی جیسا عمل کیا جس نے جو برائی کی ہوگی اسی کے مطابق اس کو جزا ملے گی بھئی اس سے ذرہ بھی زائد سزا نہیں ملے گی. تو یہاں مبالغے کی نفی نہیں بلکہ نفی میں مبالغہ ہے نفی میں مبالغہ ہے. اور ظَلَّام کے ساتھ اسی لیے ذکر کیا گیا بھئی.
تو یہاں مبالغے کی نفی نہیں کہ زیادہ ظلم کرنے والا نہیں ہے کیونکہ اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ تھوڑا ظلم کرنے والا ہے تو مبالغے کی نفی نہیں بلکہ یہاں نفی میں مبالغہ ہے نفی کیا ہے؟ ظلم کرنے والا نہیں. نفی کیا ہوگی؟ اللہ ظلم کرنے والے نہیں. اور نفی اس نفی میں مبالغہ ہو کہ اللہ ذرہ بھر ظلم کرنے والے بھی نہیں. تو یہ نفی میں مبالغہ ہے یہاں پر بھئی نفی اور نفی میں مبالغہ اس طرح ہے کہ جو ذات جتنی قوت اور قدرت والی ہوگی جس کی قوت اور قدرت جتنی زیادہ ہوگی اس کی طرف سے معمولی ظلم اور زیادتی بھی بہت بڑی شمار کی جاتی ہے بھئی۔
بھئی جس جس کے پاس قوت ہے طاقت ہے اور پھر وہ دوسروں پر کمزوروں پر ظلم کرے تو اس کو کیا شمار کیا جاتا ہے؟ بڑا ظلم شمار کیا جاتا ہے کہ یہ تو قادر تھا یہ تو طاقت والا تھا باقی تو کمزور تھے اس کے سامنے پھر یہ ان پر ظلم کرتا ہے تو یہ اس کو زیادہ ظلم کہا جاتا ہے تو وہاں ظالم نہیں ظَلَّام کا صیغہ استعمال ہوگا. کونسا صیغہ استعمال ہوگا؟ ظَلَّام کا صیغہ استعمال ہوگا. کس وقت؟ جب طاقت اور قدرت والی ذات کمزور پر معمولی سا بھی ظلم کرے تو وہاں اسے ظالم نہیں بلکہ کیا کہا جائے گا؟ ظَلَّام کہا جائے گا. یوں کہیں جو جتنی بڑی ذات ہوگی اس کی طرف سے اگر معمولی سا بھی ظلم آ جائے تو اسے ظالم نہیں ظَلَّام کہا جائے گا بھئی۔ کیا کہا جائے گا؟ کہ یہ تو اتنی بڑی ذات تھی اس کی طرف سے تو یہ معمولی سا ظلم بھی نہیں ہونا چاہیے تھا بھئی. اور اللہ کی ذات تو قادرِ مطلق ہے وہ تو ہر چیز پر قادر ہیں وہ تو تمام چیزوں کے خالق ہیں.
تو وہاں بھی بفرضِ محال اگر معمولی سا بھی ظلم ہوتا تو ظلم ظالم کے بجائے کون سا صیغہ استعمال ہوتا؟ ظَلَّام کا. اور اسی کی اللہ نے نفی فرما دی وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ. یعنی سرے سے ظلم ہی کی نفی فرما دی بھئی. جس کا کیا فرمانا ہوا سرے سے کہ آپ کا رب ذرہ بھر ظلم کرنے والا نہیں ہے بندوں پر. معنی سمجھ میں آگیا آپ؟ تو یہ نفی میں مبالغہ ہے بھئی. وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ اور آپ کا رب بندوں پر ذرہ بھر ظلم کرنے والا نہیں ہے. چلییے بس بھئی ہذا هو المراد والله أعلم بحقيقة الكلام.