Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-114

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 12 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم ألم تر إلى الذين تولوا قوما غضب الله عليهم ما هم منكم ولا منهم وما هم منكم ولا منهم ويحلفون على الكذب وهم يعلمون. أعد الله لهم عذابا شديدا إنهم ساء ما كانوا يعملون. ألم تر إلى الذين تولوا؟ کیا آپ نے نہیں دیکھا إلى الذين ان لوگوں کو؟ تولوا جنہوں نے دوست بنایا۔ الذين تولوا جنہوں نے دوست بنایا قوما ایسی قوم کو، ایسے لوگوں کو غضب الله عليهم کہ اللہ غضبناک ہوئے ان پر۔ کیا آپ نے دیکھا ہے ایسے لوگوں کو جنہوں نے دوست بنایا؟ کیا آپ نے دیکھا ہے ان کو جنہوں نے دوست بنایا؟ ایسے لوگوں کو غضب الله عليهم جن پر اللہ غغصے ہوئے، غضبناک ہوئے۔ مراد منافقین ہیں، اور इन्होंने دوست بنایا کن کو؟ یہود کو بھئی۔ جن پر اللہ غضبناک ہوئے بھئی۔ تو منافقین نے کس کو دوست بنایا؟ یہود کو۔ بظاہر کلمہ پڑھ رکھا ہے اور دل میں اسی طرح کفر ہے، چنانچہ یہود کو اپنا دوست بنایا بھئی۔ ألم تر إلى الذين تولوا قوما غضب الله عليهم کیا آپ نے دیکھا ہے ان لوگوں، ان کی طرف جنہوں نے دوست بنایا ایسے لوگوں کو جن پر اللہ غضبناک ہوئے ما هم منكم نہ تو وہ تم میں سے ہیں ولا منهم اور نہ ان میں سے۔ یہ منافقین نہ تو تم میں سے ہیں اور نہ ان میں۔ تم میں سے بھی نہیں کیونکہ دل ان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں، اور ان میں سے بھی نہیں کیونکہ بظاہر زبان سے کلمہ پڑھ رکھا ہے۔ ويحلفون على الكذب اور وہ قسمیں اٹھاتے ہیں جھوٹی بات پر وهم يعلمون اس حال میں کہ وہ جانتے ہیں۔ ويحلفون على الكذب وهم يعلمون اور وہ قسمیں اٹھاتے ہیں جھوٹی بات پر وهم يعلمون اس حال میں کہ وہ جانتے ہیں۔ تو بامحاورہ ترجمہ یوں کیجیے بھئی: ويحلفون على الكذب وهم يعلمون وہ جانتے بوجھتے جھوٹی بات پر قسم اٹھاتے ہیں۔ أعد الله لهم عذابا شديدا تیار کر رکھا ہے اللہ نے ان کے لیے عذابا شديدا سخت عذاب۔ أعد کے معنی تیار کرنے کے۔ أعد الله لهم عذابا شديدا تیار کر رکھا ہے اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب۔ إنهم ساء ما كانوا يعملون بیشک وہ ساء ما برا ہے وہ جو كانوا يعملون جو عمل کرتے ہیں۔ بیشک وہ وہ برے عمل کرتے ہیں۔ إنهم ساء ما كانوا يعملون یقینا وہ برے عمل کرتے ہیں۔ اتخذوا أيمانهم جنة اتخذوا انہوں نے بنا رکھا ہے، پکڑ رکھا ہے أيمانهم أیمان جمع ہے یمین کی، قسم کو کہتے ہیں انہوں نے بنا رکھا ہے أيمانهم اپنی قسموں کو جننة ڈھال۔ جنہ کہتے ہیں ڈھال کو بھئی، جس کے ذریعے تلوار وغیرہ کے وار کو روکا جاتا ہے۔ اتخذوا أيمانهم جنة بنا رکھا ہے انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال۔ یعنی یہ لوگ جو ہیں یہ منافقین مسلمانوں کے خلاف اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سازشیں کرتے ہیں اور اس میں شریک ہوتے ہیں، اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے تو یہ جھوٹی قسمیں اٹھاتے ہیں اور ان قسموں کو انہوں نے ڈھال بنا رکھا ہے اس کے ذریعے اپنے آپ کو بچاتے ہیں، جس طرح ڈھال کے ذریعے انسان تلوار کے وار کو روکتا ہے اور اپنے آپ کو بچاتا ہے، اسی طرح یہ بھی کیا کرتے ہیں جھوٹی قسمیں کھا کر اپنے آپ کو بچاتے ہیں۔ اتخذوا أيمانهم جنة بنا رکھا ہے انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال۔ فصدوا عن سبيل الله پس روکتے ہیں اللہ کے راستے سے فلہ عذاب مبین پس ان کے لیے ذلت والا عذاب ہے۔ لن تغني عنهم أموالهم ولا أولادهم من الله شيئا. لن تغني عنهم کچھ کفایت نہیں کرے گا عنهم ان کی طرف سے أموالهم ان کے مال ولا أولادهم اور نہ ان کی اولادیں من الله اللہ سے شيئا کچھ بھی۔ یعنی ان کے مال اور ان کی اولادیں ان کے کچھ بھی کفایت نہیں کر سکیں گی اللہ سے (یعنی اللہ کے مقابلے میں)۔ لن تغني عنهم أموالهم ولا أولادهم من الله شيئا تو یوں ترجمہ بامحاورہ کیجیے: ہرگز کام نہیں آئے گا ان کے، ان کے مال اور نہ ان کی اولادیں اللہ کے مقابلے میں شيئا کچھ بھی۔ (یعنی اللہ کے مقابلے میں ان کے مال اور ان کی اولادیں ان کے کچھ بھی کام نہیں آئیں گی)۔ أولئك أصحاب النار یہ لوگ ہیں دوزخ والے، هم فيها خالدون یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ يوم يبعثهم الله جميعا جس دن کہ اللہ اٹھائیں گے ان سب کو۔ بعث کا کیا معنی ہے؟ دوبارہ اٹھانا، زندہ کرنا۔ يوم يبعثهم الله جميعا جس دن اللہ اٹھائیں گے ان کو، ان سب کو۔ فيحلفون له پس یہ قسمیں اٹھائیں گے اللہ کے لیے كما يحلفون لكم جیسے یہ قسمیں اٹھاتے ہیں تمہارے لیے۔ ويحسبون أنهم على شيء اور یہ گمان کریں گے کہ یہ کسی چیز پر ہیں (یعنی کسی بھلائی پر ہیں)۔ دنیا کے اندر تو یہ منافقین مسلمانوں کے سامنے جھوٹی قسمیں اٹھا کر اپنے آپ کو بچا لیتے ہیں اور ان کی حماقت کا اندازہ لگاؤ قیامت کے دن اللہ کے سامنے بھی اسی طرح جھوٹی قسمیں اٹھائیں گے اور وہاں بھی سمجھیں گے ہم بھلائی پر ہیں یہاں ہمیں کچھ نہیں ہوگا جیسے دنیا میں ہم بچ جاتے تھے جھوٹی قسمیں اٹھا کر، یہاں پر بھی ہم بچ جائیں گے جھوٹی قسمیں اٹھا کر بھئی، حالانکہ یہ نہیں جانتے کہ اللہ کا علم بڑا کامل، اللہ کو ہر چیز کا علم ہے، اس کے سامنے جھوٹی قسم اٹھانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ان کو۔ يوم يبعثهم الله جميعا جس دن کہ اللہ ان سب کو اٹھائیں گے فيحلفون له پس یہ قسمیں اٹھائیں گے لہ اللہ کے لیے كما يحلفون لكم جیسے یہ قسمیں اٹھاتے ہیں تمہارے، تمہارے لیے و يحسبون أنهم على شيء اور یہ گمان کریں گے کہ یہ کسی چیز پر ہیں (یعنی کسی بھلی بات پر ہیں، بھلائی پر)۔ ألا إنهم هم الكاذبون آگاہ رہو، یاد رکھو! إنهم هم الكاذبون یہی جھوٹے ہیں۔ ألا یاد رکھو! إنهم هم الكاذبون یہی جھوٹے ہیں۔ استحوذ عليهم الشيطان استحوذ کے معنی غلبہ پانے کے، غلبہ حاصل کرنے کے۔ استحوذ عليهم الشيطان غلبہ حاصل کر لیا ہے ان پر شیطان نے۔ یا بامحاورہ یوں ترجمہ کریں بھئی: تسلط جما لیا ہے ان پر شیطان نے، یا یوں کہیں شیطان ان پر مسلط ہو گیا ہے۔ شیطان ان پر استحوذ عليهم الشيطان شیطان ان پر مسلط ہو گیا ہے۔ فانساهم ذكر الله پس بھلا دیا اس نے ان کو اللہ کا ذکر۔ اس شیطان نے ان سے اللہ کا ذکر بھلوا دیا ہے۔ أولئك حزب الشيطان یہ شیطان کا گروہ ہے، یہ شیطان کا لشکر ہے۔ حزب گروہ کو کہتے ہیں بھئی۔ أولئك حزب الشيطان یہ شیطان کا گروہ ہے، یہ یہ ترجمہ کر لیں، أولئك حزب الشيطان یہ شیطان کا لشکر ہے۔ ألا إن حزب الشيطان هم الخاسرون یاد رکھو! یقینا شیطان کا لشکر ہی خسارہ اٹھانے والا ہے بھئی۔ شیطان کا لشکر ہی خسارہ اٹھانے والا ہے، نقصان اٹھانے والا ہے۔ إن الذين يحادون الله ورسوله یقینا وہ لوگ جو مخالف ہوئے اللہ کے اور اس کے رسول کے۔ يحادون مخالفت کرنا بھئی۔ إن الذين يحادون الله ورسوله یقینا وہ لوگ جو مخالف ہوئے اللہ کے اور اس کے رسول کے۔ أولئك في الأذلين وہ لوگ ذلیل ترین لوگوں میں سے ہیں۔ أولئك وہ لوگ في الأذلين ذلیل ترین لوگوں میں سے ہیں۔ كتب الله لکھ دیا لاغلبتن أنا ورسلي کہ البتہ میں ضرور غالب آؤں گا میں اور رسلی اور میرے رسول۔ اللہ نے لکھ رکھا ہے لاغلبتن أنا ورسلي کہ البتہ ضرور غالب آؤں گا میں اور میرے رسول بھئی۔ یہ أنا کیا ہے بھئی؟ لاغلبتن اس کے اندر أنا ضمیر تو آگئی متکلم کی۔ یاد رکھیے یہ أنا جو ہے یہ تاکید ہے، لاغلبتن کے اندر جو أنا ضمیر ہے اس کی، لاغلبتن کے اندر فاعل کی ضمیر ہے أنا اور یہ جو آگے انے والا أنا ہے اسی کی تاکید ہے۔ اور آپ نے پڑھا ہے نحو کے اندر کہ ضمیر مرفوع متصل یہ ضعیف ہوتی ہے، اس پر اس میں ظاہر کا عطف کرنا ہو تو پہلے اس کی تاکید لے کر آئیں گے یا فصل ضروری بھئی۔ تو رسلی کا عطف لاغلبتن کے اندر أنا ضمیر پر کرنا ہو تو کیا کرنا پڑے گا؟ أنا ضمیر تو ضعیف ہے اور رسل کا لفظ تو اس میں ظاہر یہ قوی ہے، تو قوی کا عطف تو ضعیف پر نہیں ہو سکتا، پھر کیا کرنا پڑے گی؟ اس کی تاکید لائیں گے تو تاکید سے اس کے اس میں بھی قوت آجائے گی اور پھر عطف درست ہو جائے گا بھئی۔ تو یہ عطف کے صحیح کرنے کے لیے یہ تاکید کے طور پر ذکر کی گئی، اور یہ فصل آجائے بھئی درمیان میں کوئی اور لفظ آجائے پھر بھی عطف صحیح ہوتا ہے بھئی، تو دو چیزوں میں سے ایک ہونی چاہیے، یا تاکید ہونی چاہیے یا فصل ہونا چاہیے۔ كتب الله لاغلبتن أنا ورسلي اللہ نے لکھ رکھا ہے کہ البتہ غالب پاؤں گا ضرور غالب آؤں گا میں اور میرے رسول ان اللہ قوی عزیز یقیناً اللہ قوت والے زبردست ہیں۔ لا تجد قوما یؤمنون باللہ والیوم الآخر لا تجد قوماً آپ نہیں پائیں گے ایسے لوگ یؤمنون باللہ والیوم الآخر جو ایمان رکھتے ہوں اللہ پر اور آخرت کے دن پر تو وہ محبت کرتے ہوں۔ آپ نہیں پائیں گے ایسے لوگ جو ایمان رکھتے ہوں اللہ پر اور آخرت کے دن پر یوادون من حاد اللہ ورسولہ کہ وہ محبت کرتے ہوں۔ یوادون محبت کرتے ہوں یہ ود سے ہے ود محبت کو کہتے ہیں کہ وہ محبت کرتے ہوں من حاد اللہ ورسولہ ان سے جو مخالف ہوئے اللہ کے اور اس کے رسول کے۔ جو اہل ایمان ہوتے ہیں وہ اللہ اور اس کے رسول کے مخالفوں کے ساتھ محبت نہیں رکھتے۔ ولو كانوا آباءہم اگرچہ وہ ان کے ان کے باپ ہوں اور ابناءہم یا ان کے بیٹے ہوں اور اخوانہم یا ان کے بھئی ہوں اور عشیرتہم یا ان کے خاندان والے ہوں۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں وہ ان سے محبت نہیں رکھتے جو اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہوتے ہیں چاہے وہ ان کے بھئی ہوں باپ ہوں بیٹے ہوں یا خاندان والے ہوں جو بھی ہو وہ ان سے محبت نہیں رکھتے بھئی۔ لا تجد قوماً یؤمنون باللہ والیوم الآخر نہیں پائیں گے آپ ایسے لوگ جو ایمان رکھتے ہوں اللہ پر اور آخرت کے دن پر یوادون من حاد اللہ ورسولہ کہ وہ محبت کرتے ہوں ان سے جو مخالف ہوئے اللہ کے اور اس کے رسول کے ولو كانوا آباءہم اور ابناءہم اور اخوانہم اور عشیرتہم اگرچہ وہ ان کے باپ ہوں یا ان کے بیٹے ہوں یا ان کے بھئی ہوں یا ان کے خاندان والے ہوں۔ سمجھ میں آیا بھئی یہ صحابہ عجیب لوگ تھے بھئی۔ جب ان کے اپنے عزیز رشتہ دار جو تھے وہ اللہ اور اس کے رسول کے مخالف تھے انہوں نے ان کی ذرہ بھر بھی پروا نہیں کی بھئی۔ اپنے غزوہ بدر میں دیکھ لیجیے یہ جو مکہ سے لڑنے آئے تھے یہ سارے یہ مہاجرین کے خاندان والے ان کے رشتہ دار تھے کسی کا بھئی ہے کسی کا باپ سامنے ہے کسی کا بیٹا سامنے ہے اور سارے عزیز رشتہ دار سامنے ہیں لیکن دیکھو کیسے اللہ اور اس کے رسول کی محبت تھی کسی نے ذرہ بھر بھی اس بات کو نہیں دیکھا کہ سامنے میرا باپ ہے یا بھئی ہے یا بیٹا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں آتا ہے انہوں نے اپنے بھئی کو سگے بھئی کو انہوں نے غزوہ بدر میں اس کی گردن اتار دی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے سگے ماموں کو قتل کر ڈالا اسی طرح ہر صحابی نے جو کوئی بھی ان کا رشتہ دار ہی کیوں نہ سامنے آیا ذرہ بھر بھی پروا نہیں کی بھئی۔ اولئک کتب فی قلوبہم الإیمان یہ وہ لوگ ہیں کتب فی قلوبہم کہ لکھ دیا ہے اللہ نے ان کے دلوں میں الإیمان ایمان کو یہ وہ لوگ ہیں کہ لکھ دیا ہے اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان کو وایدہم اور ان کی تائید کی ہے ان کی مدد کی ہے بروح منہ روح سے مراد روح یہاں بمعنے نور کے ہے بھئی۔ بروح منہ کس کے ذریعے مدد کی ہے بروح نور کے ذریعے منہ اپنی طرف سے اپنی طرف سے ایک نور کے ذریعے ان کی اللہ نے مدد کی ہے۔ یعنی اپنے خاص فضل کے ساتھ اللہ نے ان کی مدد کی ہے۔ اور بعضوں نے کہا روح سے مراد حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں کہ اللہ نے ان کی حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے ان کی مدد کی ہے منہ اپنی طرف سے۔ یہ ترجمہ سمجھ میں آگیا بھئی اولئک کتب فی قلوبہم الإیمان یہ وہ لوگ ہیں کہ لکھ دیا ہے اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان کو بامحاورہ یوں ترجمہ کر لیں بھئی بعض علماء نے بڑا پیارا ترجمہ اس کا کیا اولئک کتب فی قلوبہم الإیمان یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ نے نقش کر دیا ہے ان کے دلوں میں ایمان کو وایدہم بروح من اور ان کی مدد کی ہے اپنے نور سے۔ ویدخلہم جنات تجری من تحتہا الانہار خالدین فیہا اور اللہ ان کو داخل کریں گے ایسے باغات میں تجری من تحتہا الانہار کہ بہتی ہیں جن کے نیچے سے نہریں خالدین فیہا ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ راضی ہوا اللہ ان سے ورضوا عنہ اور راضی ہوئے وہ اللہ سے۔ کتنی عظیم خوشخبری اللہ کی طرف سے دی جا رہی ہے بھئی۔ رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ راضی ہوئے یہ اللہ سے ورضوا عنہ راضی ہوا اللہ ان سے اور وہ اللہ سے اولئک حزب اللہ یہ اللہ کا گروہ ہے یا یہ ترجمہ کر لیں اولئک حزب اللہ یہ اللہ کا لشکر ہے الا ان حزب اللہ المفلحون یاد رکھو یقیناً اللہ کا لشکر ہی کامیابی پانے والا ہے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ سبح للہ ما فی السماوات وما فی الأرض وہو العزیز الحکیب۔ یہ سورہ حشر ہے اور اس کی یہ دوسری آیت میں ہی حشر کا لفظ آ رہا ہے لؤول الحشر تو اسی وجہ سے اس سورت کو سورہ حشر کہا جاتا ہے۔ اس سورت میں یہود کے قبیلہ بنو نظیر جو تھا اس کے اس کے ساتھ جو واقعہ درپیش ہوا اس کا ذکر آ رہا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو ہیں جب مدینہ منورہ ہجرت کر کے تشریف لائے تو مدینہ کے قریب ہی یہود کے تین بڑے قبیلے آباد تھے بھئی۔ تین بڑے قبیلے۔ ایک بنو قینقاع اور ایک بنو نظیر اور ایک بنو قریظہ۔ بنو قینقاع اور بنو نظیر اور بنو قریظہ۔ بنو قینقاع کو بھی حضور علیہ السلام نے وہاں پر ان کو معاہدے کو اس کی خلاف ورزی کی تو ان کو جلاوطن ہونے پر مجبور کر دیا گیا اور اس کے باوجود یہ جو بنو نظیر والے تھے یہ اپنی سازشوں سے باز نہیں آئے بھئی یہ مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے رہتے تھے اگرچہ ان کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باقاعدہ معاہدہ کر رکھا تھا کہ مسلمانوں کے خلاف کسی کے طرف سے لڑنے نہیں آئیں گے مسلمانوں کے خلاف کسی کی مدد نہیں کریں گے۔ لیکن پھر بھی یہ سازشوں سے باز نہیں آتے تھے اور تو یہاں تک کہ یہ ان کا باقاعدہ وفد گیا مشرکین مکہ کے پاس اور وہاں بیت اللہ کے سامنے انہوں نے ان مشرکین مکہ سے عہد کیا کہ ہم بھی تمہاری پوری مدد کریں گے ان مسلمانوں کو تباہ و برباد کرنے کے اندر بھئی۔ اور پھر اس کے بعد ان کے سردار تھا کعب بن اشرف اس کو بھی مسلمانوں نے قتل کر دیا لیکن یہ پھر بھی اپنی سازشوں سے باز نہ آئے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کوئی بات چیت کرنے کے لیے تشریف لے گئے انہوں نے حضور علیہ السلام کو ایک جگہ پر بٹھایا اور سازش یہ کی کہ کہ اوپر سے آپ پر ایک بھاری پتھر گرا دیا جائے تاکہ آپ یہیں پر شہید ہو جائیں۔ اللہ تعالی نے وحی کے ذریعے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلا دیا کہ یہ لوگ آپ پر اوپر سے پتھر گرانے والے ہیں حضور علیہ السلام فورا وہاں سے اٹھ کر تشریف لے آئے بھئی۔ اور پھر اس کے بعد انہوں نے معاہدے کے خلاف ورزی کی تھی اس کو توڑ دیا تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پیغام بھجوایا کہ اتنے دنوں کے اندر اندر اپنی یہ جگہ خالی کر دو نہیں تو مسلمان تم پر حملہ کر دیں گے یہاں سے اب چلے جاؤ تمہیں یہاں اب رہنے کی اجازت نہیں تم نے معاہدہ توڑ دیا ہے۔ جی تو لیکن یہ مدت مدت پوری ہونے کے باوجود وہاں سے نہ گئے بھئی۔ ادھر منافقین کے جو ہیں عبداللہ بن ابی وغیرہ وہ اپنی طرف سے ان کو پیغامات بھجوا رہے تھے کہ دیکھو ڈٹے رہنا اور یہ نہ سوچنا تم اکیلے ہو ہم تمہارے ساتھ ہیں ہم پوری تمہاری مدد کریں گے اور اگر لڑائی ہوئی مسلمانوں کے ساتھ تو ہم تمہارے ساتھ تمہاری طرف سے ہو کر لڑیں گے اور یہ ان کو شکست دیں گے بھئی۔ تو مدت گزر گئی یہ وہیں پر تھے نہیں گئے کیونکہ ایک تو ان کے قلعے بڑے مضبوط قلعے انہوں نے بنا رکھے تھے پھر دوسری طرف سے منافقین کی طرف سے بھی مدد کے وعدے آ رہے تھے چنانچہ یہ وہیں پر رہے یہاں تک کہ وہ مدت پوری ہوئی مدت پوری ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کا لشکر لے کر پہنچے اور ان کے قلعوں کو گھیر لیا یہ قلعوں کو بند کر کے اندر بیٹھ گئے۔ قلعوں کو اندر سے انہوں نے بند کر لیا مسلمانوں نے گھیر لیا قلعوں کو اور کافی دن تک یہ محاصرہ رہا اور پھر بالاخر اللہ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا وہ ڈر گئے مجبور ہو گئے اور صلح کی بات چیت شروع کی۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ یہاں رہنے کی اجازت نہیں یہاں سے اس جگہ کو چھوڑ کر تمہیں اب جانا پڑے گا تو ہاں تم لوگوں کو یہ اجازت ہے جو کچھ اپنے ساتھ لے جا سکتے ہو وہ سب لے جا سکتے ہو ہاں اسلحہ لے جانے کی اجازت نہیں اسلحہ سارا یہی چھوڑنا پڑے گا۔ اور جو سامان لے جا سکتے ہو لے جاؤ اپنے ساتھ۔ چنانچہ بھئی انہوں نے پھر اپنے سارا سامان سارا ساری مال و دولت اکٹھی کی اور حتی کہ مکانات کے اندر جو لکڑی وغیرہ انہوں نے لگائی ہوئی تھی مکانات کو گرا گرا کر وہ لکڑیاں نکالی دروازے کھڑکیاں شہتیر وغیرہ جو کچھ وہ لے سکتے تھے اور ان کو مکانات گراتے جا رہے تھے اور مسلمان بھی باقاعدہ بعض ان کی مدد کر رہے تھے اس کام کے اندر بھئی۔ چنانچہ پھر وہ وہاں سے نکلے اور جا کر خیبر میں آباد ہو گئے بھئی تو اسی واقعے کا ذکر اس سورت میں آ رہا ہے بھئی۔ سبح للہ ما فی السماوات وما فی الأرض تسبیح بیان کرتی ہے اللہ کی جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں وہو العزیز الحکیم اور وہ زبردست ہے حکمت والے ہیں۔ والذی أخرج الذین کفروا من أہل الکتاب من دیارہم لأول الحشر وہی ذات ہے جس نے نکالا ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا من أہل الکتاب من دیارہم کتابی اہل کتاب میں سے من دیارہم ان کے گھروں سے للاول الحشر پہلے ہی اجتماع پر۔ حشر کا معنی جمع ہونا۔ ان کو اللہ نے وہی اللہ ہے جس نے نکالا ان اہل کتاب کافروں کو ان کے گھروں سے للاول الحشر پہلے ہی اجتماع پر۔ پہلے ہی اجتماع سے کیا مراد ہے؟ تو بعد میں لکھا، پہلے اجتماع سے مراد مسلمانوں کا پہلا اجتماع، پہلا لشکر ہی جو گیا ان پر، اسی سے وہ ڈر گئے اور نکل کر بھاگ گئے، بھئی چلے گئے وہاں سے۔ صورت سمجھ میں آئی، بھئی؟ تو اول حشر سے کس کا اجتماع مراد؟ مسلمانوں کا۔ تو ان کو نکال دیا للاول الحشری۔ اسلامی لشکر کے پہلے ہی اجتماع پر، پہلے ہی جمع ہونے کے موقع پر، ان کو اللہ نے نکال دیا۔ تو اول حشر سے کس کا حشر مراد ہے؟ مسلمان لشکر کا۔ لیکن زیادہ تر مفسرین اس بات کی طرف گئے ہیں کہ حشر سے یہودیوں کا حشر، ان کا اجتماع مراد ہے۔ جن کا جمع ہونا مراد ہے؟ یعنی یہ اجتماعی طور پر پہلی مرتبہ ان کو اس طرح اپنے وطن سے نکلنا پڑا تھا، بھئی۔ یعنی ان کو اجتماعی طور پر پہلی مرتبہ ان کو اس طرح ان کو ان کے وطن سے نکالا گیا تھا اور نیز اول الحشر کے ذریعے اشارہ ہو گیا کہ معلوم ہوا ایک دوسرا حشر بھی ہے، یعنی ایک دوسری مرتبہ بھی اکٹھے اسی طرح ان کو جلاوطن ہونا پڑے گا، اور وہ پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں جب خلیفۃ المسلمین حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کو خیبر سے بھی جلاوطن کر دیا اور پھر یہ شام جا کر آباد ہو گئے۔ هو الذي أخرج الذين كفر من أهل الكتاب من ديارهم لأول الحشر وہی ذات ہے جس نے نکالا ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے من ديارهم ان کے گھروں سے للاول الحشر پہلے ہی جمع ہونے کے موقع پر، ما ظننتم أن يخرجوا وہ تم گمان نہیں کرتے تھے، اے مومنو! اے مسلمانوں! تم اللہ فرما رہے ہیں، اے مسلمانوں! تم گمان نہیں کرتے تھے أن يخرجوا کہ وہ نکلیں گے، تمہارا گمان بھی نہیں تھا کہ وہ اس طرح نکل جائیں گے، جگہ چھوڑ کر چلے جائیں گے، وظنوا اور انہوں نے یہ گمان کیا تھا أنهم مانعتهم کہ وہ جو ہیں مانعتهم ان کو بچا لیں گے۔ منع سے کیا معنی؟ روک لینا، یعنی بچا لیں گے۔ ان کے لیے مانع ہوں گے، یعنی ان کو بچا لیں گے، حصونهم ان کے قلعے۔ حصون جمع ہے حصن کی، حصن قلعے کو کہتے ہیں، بڑے بڑے مضبوط قلعے ان لوگوں نے بنا رکھے تھے، بھئی۔ کہ ان کے قلعے ان کو بچا لیں گے من اللہ اللہ سے، فاتاہم اللہ من حيث لم يحتسبوا پس اللہ آئے ان پر من حيث ایسی جگہ سے لم يحتسبوا جس کا ان کو گمان بھی نہیں تھا۔ اللہ ان پر ایسی جگہ سے آئے جہاں سے ان کو گمان بھی نہیں تھا۔ وظنوا أنهم مانعتهم حصونهم من الله۔ ان حرف حروف مشبہ بالفعل ہے، ھم ضمیر اس کا اسم ہے، مانعتهم یہ اس کی خبر ہے، ان کیا چاہتا ہے؟ ایک اسم اور ایک خبر تو یہ مانعتهم یہ اس ان کی خبر ہے۔ اور یہ جو حصونهم آیا یہ مرفوع ہے کیونکہ یہ فاعل ہے مانع کا۔ اپ کو میں نے پہلے بھی بتلایا تھا جس طرح فعل کے لیے فاعل کا یا نائب فاعل کا ہونا ضروری اسی طرح صفت کے صیغوں کے لیے بھی فاعل یا نائب فاعل کا ہونا ضروری، ہاں، اس صفت کے صیغوں میں زیادہ تر جو فاعل یا نائب فاعل آئے گا وہ ضمیر کی صورت میں ہوگا، لیکن کبھی کبھی اس میں ظاہر بھی آ جائے گا، تو یہاں پر دیکھیے حصونهم یہ اسم ظاہر ہے، یہ فاعل ہے مانع کے لیے اور فاعل مرفوع ہوتا ہے تو حصونهم بھی کیا ہے؟ مرفوع ہے۔ مانعتهم ان کو بچا لیں گے، کون بچا لیں گے؟ حصونهم ان کے قلعے، تو یہ فاعل ہے، بھئی۔ ما ظننتم أن يخرجوا تمہارا یہ گمان نہیں تھا کہ وہ نکلیں گے، وظنوا أنهم مانعتهم حصونهم من الله اور انہوں نے یہ گمان کیا کہ ان کے قلعے کہ بچا لیں گے ان کو ان کے قلعے من اللہ اللہ سے، فاتاہم الله من حيث لم يحتسبوا پس آئے ان پر اللہ ایسی جگہ سے لم يحتسبوا جہاں سے ان کا گمان بھی نہیں تھا، وقذف في قلوبهم الرعب اور ڈال دیا ان کے دلوں میں رعب، اللہ نے ڈال دیا ان کے دلوں میں رعب، يخربون بيوتهم خراب کر رہے تھے اپنے گھروں کو بأيديهم اپنے ہاتھوں سے وأيدي المؤمنين اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے۔ ترجمہ سمجھ میں آیا، بھئی؟ تو يخربون بيوتهم وہ خراب کر رہے تھے اپنے گھروں کو، یا یہ ترجمہ کر لیں، اجاڑ رہے تھے اپنے گھروں کو اپنے ہاتھوں سے۔ وقذف في قلوبهم الرعب اور اللہ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا، يخربون بيوتهم بأيديهم وأيدي المؤمنين اجاڑ رہے تھے اپنے گھروں کو اپنے ہاتھوں سے اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے، فاعتبروا يا أولي الأبصار پس عبرت حاصل کرو، اے عقل والو! فاعتبروا يا أولي الأبصار پس عبرت حاصل کرو، اے عقل والو! ولو لا أن كتب الله عليهم الجلا لأذبهم في الدنيا اور اگر یہ نہ ہوتا کہ اللہ نے لکھ دیا ہے ان پر جلاوطنی کو لآذبهم تو البتہ اللہ ان کو عذاب دیتے في الدنيا دنیا کے اندر۔ اللہ فرماتے ہیں اگر ہم نے ان پر پہلے سے جلاوطنی نہ لکھ رکھی ہوتی، تو ہم دنیا ہی میں ان کو عذاب دیتے، یعنی مسلمانوں کے ہاتھوں ان کو قتل کرواتے اور قیدی بنواتے، جس طرح کہ بنو قریظہ کے ساتھ ہوا، بھئی، غزوہ خندق کے بعد، بھئی، کہ ان کے مردوں کو قتل کر دیا گیا اور عورتوں اور بچوں کو غلام اور باندیاں بنا لیا گیا۔ ولو لا أن كتب الله عليهم الجلاء اور اگر یہ نہ ہوتی کہ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ نے لکھ دیا ہے ان پر جلاوطنی کو لآذبهم في الدنيا تو البتہ اللہ ان کو عذاب دیتے دنیا میں، ولهم في الآخرة عذاب النار اور ان کے لیے آخرت میں آگ کا عذاب ہے، ذالك بأنهم شاقوا الله ورسوله یہ اس وجہ سے ہے۔ یہ اس بسبب أنهم باسببیہ ہے، بسبب أنهم یہ جو ہے اس وجہ سے ہے، یہ جو ان کو جلاوطنی کیا گیا۔ یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے مخالفت کی ہے اللہ کی اور اس کے رسول کی۔ شاق الله ورسوله کہ انہوں نے مخالفت کی ہے اللہ کی اور اس کے رسول کی۔ شاق کے معنی مخالفت کرنا، دشمنی کرنا۔ ومن يشاقق الله فإن الله شديد العقاب اور جو مخالفت کرتا ہے اللہ کی، پس یقیناً اللہ سخت سزا دینے والے ہیں۔ فإن الله شديد العقاب، پس یقیناً اللہ سخت سزا دینے والے ہیں۔ ومن يشاقق الله، تو شاق يشا قق کے کیا معنی ہوئے؟ مخالفت کرنے کے اور دشمنی کرنے کے۔ تو بعضوں نے اور بڑا پیارا ترجمہ کیا، ہمارے بعض علماء نے، ذالك بأنهم شاقوا الله ورسوله یہ اس وجہ سے کہ یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے دشمنی ٹھان لی ہے اللہ کی اور اس کے رسول کی، ومن يشاقق الله فإن الله شديد العقاب اور جو اللہ کی دشمنی ٹھان لے، یقیناً اللہ اس کو سخت، پس یقیناً اللہ سخت سزا دینے والے ہیں۔ ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على اصولها۔ ما قطعتم من لينة، یہ ما نفی کے لیے نہیں، ما موصولہ ہے یہ۔ ما قطعتم من لينة، وہ جو تم نے کاٹے من لينة أي نخلة، لينا کس معنی میں؟ نخلہ یعنی کھجور کا درخت، وہ جو تم نے کاٹے من لينة کھجور کے درخت، أو تركتموها قائمة یا ان کو چھوڑ دیا تم نے قائمة کھڑے ہوئے على اصولها اپنی جڑوں پر۔ فباذن الله پس وہ اللہ کی اجازت سے، اللہ کے حکم سے، وليخزي الفاسقين اور تاکہ اللہ رسوا کرے نافرمانوں کو۔ جو تم نے کھجور کے درخت کاٹے یا جن کو تم نے اپنی جڑوں پر کھڑا کھڑے ہوئے ہی چھوڑ دیا، تو وہ اللہ کے حکم سے ہے اور تاکہ اللہ رسوا کرے نافرمانوں کو۔ بھئی! یہود جب قلعہ بند ہو کر بیٹھ گئے، تو پھر اس موقع پر حضور ان کے باغات تھے، بھئی، بڑے کھجوروں کے باغات ہر طرف پھیلے ہوئے تھے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان کے یہ درخت کاٹنا شروع کر دو تاکہ اس تکلیف کی وجہ سے پھر یہ نکلیں باہر، بھئی۔ درخت ان کے کاٹنا شروع کر دو۔ جبکہ بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ ان درختوں کے پیچھے سے ان کے جو نوجوان تھے، وہ مسلمانوں پر پتھر یا تیر وغیرہ پھینکتے تھے جس سے مسلمان کچھ زخمی بھی ہوئے، اس لیے حضور علیہ السلام نے ان کے جو پاک درخت تھے، ان کو کاٹنے کا حکم دیا۔ اب جب ان درختوں کو کچھ کاٹا گیا، کچھ کو جلایا گیا، تو ان کو بڑی تکلیف ہوئی یہودیوں کو اور بڑا انہوں نے شور کیا کہ چلو ہمارے ساتھ تو تمہاری جنگ ہے، لڑائی ہے اور یہ درختوں کا کیا قصور ہے جو تم ان کو جلا رہے ہو، بھئی!۔ اور تو اس پر اللہ کی طرف سے یہ آیت نازل، یہ آیات نازل ہوئیں اور بتلایا گیا کہ یہ جو کچھ درخت کاٹے گئے یا چھوڑے گئے، یہ سب اللہ کے حکم سے ہے۔ ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على اصولها، وہ جو تم نے کاٹے من لينة کھجور کے درخت، أو تركتموها یا چھوڑ دیا تم نے ان کو قائمة کھڑے ہوئے ہی على اصولها اپنی جڑوں پر، فباذن الله تو اللہ کے حکم سے، وليخزي الفاسقين اور تاکہ اللہ رسوا کرے نافرمانوں کو۔ وما أفاء الله على رسوله منهم۔ اور وہ جو پھیر لائے اللہ، افاء يفيء کے معنی ہوتے ہیں پھیر لانا، دلوا دینا۔ پھیر لانا، دلوا دینا، اور وہ جو اللہ پھیر لائے علی رسوله اپنے رسول پر منہم ان میں سے، ان یہود سے جو اللہ پھیر لائے اپنے رسول پر، یعنی وہ مال، بھئی!۔ یہ مال فے کا ذکر آیا، بھئی! فے۔ ایک ہے غنیمت، ایک ہے فے، بھئی! آپ نے پڑھا ہوگا۔ کے اندر غنیمت وہ مال جو کفار سے سخت لڑائی کے بعد مسلمانوں کے ہاتھ آئے اس کو غنیمت کہا جاتا ہے اور اس میں سے پانچواں حق اللہ اور اس کے رسول کا بیت المال کا اور اس میں سے خمس نکالا جاتا ہے جبکہ باقی حصے انہی غازیوں کے اندر تقسیم کیے جاتے ہیں بھئی مجاہدین کے اندر تقسیم ہوتے ہیں۔ جبکہ مال فے وہ ہے فے فے وہ مال ہے جو بغیر لڑائی کے مسلمانوں کے ہاتھ اجائے یا بہت معمولی سی لڑائی کے بعد مسلمانوں کے ہاتھ اجائے اس کو فے کہا جاتا ہے اور یاد رکھیے اس یہ فے جو ہے اس کو اب ان مجاہدین میں تقسیم نہیں کیا جائے گا اس کا حکم بیان ہو رہا ہے یہ سب مسلمانوں کا حق ہے اس کے اندر بھئی۔ تو اسی کا ذکر ہے بھئی دیکھیے وما افاء اللہ اور جو اللہ پھیر لایا علی رسولہ اپنے رسول پر یعنی وہ جو اللہ نے دلوا دیا اپنے رسول کو منہم ان سے ان یہود سے اللہ نے اپنے رسول کو جو کچھ دلوا دیا فما اوجفتم علیہ اوجف یوجف کے معنی ہوتے ہیں تیز دوڑانا فما اوجفتم علیہ پس نہیں تم نے تیز دوڑے اس پر من خیل گھوڑے ولا رکاب اور نہ اونٹ۔ نہ تو تم نے یہ جو اللہ نے اپنے رسول کو فے دلوایا ہے اس پر اے مسلمانوں نہ تو تم نے گھوڑے دوڑائے ہیں اور نہ اونٹ دوڑائے ہیں گھوڑے دوڑانا اور اونٹ دوڑانا یہ کنایا ہے جنگ سے یعنی ان میں تم نے جنگ نہیں کی ان میں جنگ نہیں کی۔ ولاکن اللہ یسلط رسلہ علی من یشاء لیکن اللہ مسلط کرتے ہیں اپنے رسولوں کو علی من یشاء جس پر وہ چاہے واللہ واللہ علی کل شیء قدیر اور اللہ ہر چیز پر قادر ہیں۔ ترجمہ سمجھ میں آگیا بھئی۔ وما افاء اللہ علی رسولہ منہم اور جو اللہ نے فے دلوا دیا اپنے رسول کو ان سے فما اوجفتم علیہ من خیل ولا ولا رکاب پس اے مسلمانوں تم نے ان پر نہ گھوڑے دوڑائے ہیں اور نہ اونٹ۔ یعنی لڑائی نہیں کی اس میں۔ ولاکن اللہ یسلط رسلہ علی من یشاء لیکن اللہ مسلط فرما دیتے ہیں اپنے رسولوں کو جس پر وہ چاہتے ہیں واللہ علی کل شیء قدیر اور اللہ ہر چیز پر قادر ہیں۔ ما افاء اللہ علی رسولہ من اہل القرا وہ جو اللہ نے فے دلوا دیا اپنے رسول کو من اہل القرا بستی والوں سے بستیوں والوں سے من اہل القرا بستیوں والوں سے جو فے دلوا دیا اللہ نے اپنے رسول کو للہ وللرسول پس وہ اللہ کے لیے ہے وللرسول اور اللہ کے رسول کے لیے ہے ولذی القربی اور قرابت داروں کے لیے رشتہ داروں کے لیے ہے ان مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ دار۔ والیتامی اور یتمیوں کے لیے والمساکین اور مسکینوں کے لیے وابن السبیل اور مسافروں کے لیے۔ یہ مال فے کس کا حق ہے اللہ کا، رسول کا، رشتہ دار والے یعنی رشتہ داروں کا اور کس کے رشتہ دار مراد ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ دار۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں باقاعدہ رشتہ داروں کا حصہ ان کے مقرر تھا۔ کیونکہ میں نے بتایا وہ زمانہ تھا جس میں قومی غیرت ایک بہت بڑی چیز تھی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم جو ہیں وہ ایک نیا دین لے کر آئے اور تمام عرب مخالف تھا لیکن مشرکین مکہ میں سے بھی کسی کی جرات نہیں ہوتی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک حد سے بڑھ کر تکلیف پہنچائے بھئی۔ اس لیے کیونکہ وہ ڈرتے تھے کہ اگر ہم میں سے کسی نے تکلیف پہنچائی تو ان کا قبیلہ ہمیں چھوڑے گا نہیں بھئی تو اس قبیلے والوں کی گویا ایک طرح سے نصرت تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھئی نصرت تھی۔ اس وجہ سے ان کا حصہ مقرر کیا گیا بھئی۔ ما افاء اللہ علی رسولہ جو اللہ پھیر لائے اپنے رسول پر من اہل القرا بستیوں والوں سے للہ وللرسول پس وہ اللہ کے لیے ہے اور اس کے رسول کے لیے ولذی القربی اور قرابت والوں کے لیے والمساکین اور مسکینوں کے لیے وابن السبیل اور مسافروں کے لیے۔ کیلا یکون دولۃ بین الاغنیاء منکم۔ دولۃ دولۃ کے معنی ہوتے ہیں باری باری ہاتھوں ہاتھ لینا ایک چیز کو یعنی ایک سے دوسرے کے پاس گئی دوسرے سے تیسرے کے پاس تیسرے سے چوتھے کے۔ جیسے مال اور حکومت ہے آج ایک کے پاس تو کل دوسرے کے پاس پرسوں تیسرے کے پاس تو یہ جو گردش کی چیز ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ دولۃ کہتے ہیں۔ تو اللہ فرما رہے ہیں یہ جو اللہ نے فے دلوا دیا اپنے رسول کو یہ اللہ کا ہے اور اس کے رسول کا، للہ اللہ کا ذکر تو صرف بطور برکت کے ہے اللہ کو ہمارے مال وغیرہ کی حاجت نہیں۔ باقی اللہ کے رسول کا حق ہے، قرابت والوں کا ہے، یتمیوں کا، مسکینوں کا اور مسافروں کا۔ आगे और भी जिक्र आ रहा है और किन-किन का हक है और ये क्यों؟ اللہ نے یہ کیوں ان کا حق مقرر کیا؟ اللہ فرما رہے ہیں کیلا یکون دولۃ تاکہ یہ جو فے جو ہے یعنی مراد مال ہے یہ جو ہے تاکہ یہ گردش نہ کرتا رہے بین الاغنیای مالداروں کے بیچ منکم تم میں سے۔ تم میں سے جو مالدار ہیں تاکہ انہی کے درمیان مال گردش نہ کرتا رہے۔ ترجمے پر نظر ہے بھئی۔ یہ ان غرباء کا حق اللہ نے مقرر فرما دیا کس لیے مقرر فرمایا؟ تاکہ یہ جو مال فے یہ جو مال ہے یہ تمہارے مالداروں کے درمیان ہی گردش نہ کرتا رہے۔ بلکہ غریبوں تک بھی یہ مال پہنچے بھئی۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی۔ کیلا یکون دولۃ بین الاغنیاء منکم تاکہ یہ مال جو ہے گردش نہ کرتا رہے تمہارے مالداروں کے بیچ وما اتاکم الرسول فخذوہ وما نهاکم عنہ فانتہوا اور جو تمہیں دے رسول فخذوہ پس اس کو لے لو وما نهاکم عنہم اور جس سے روکیں تمہیں فانتہوا تو باز آجاؤ تم۔ جو اللہ کے پیغمبر تمہیں دیں یعنی جو حکم دیں تو اس کو لے لو یعنی اس پر عمل کرو وما نهاکم عنہ اور جس سے روکیں تمہیں فانتہوا تو اس سے تم رک جاؤ۔ واتق اللہ اور اللہ سے ڈرو ان اللہ شدید العقاب یقینا اللہ سخت سزا والے ہیں۔ للفقرائ المہاجرین الذین اخرجوا من دیارہم واموالہم ان فقراء مہاجرین کے لیے۔ ان حاجتمند مہاجرین کے لیے یہ وہی مال فے کے مصارف کا ذکر چل رہا ہے۔ مسکینوں کے لیے اور مسافروں کے لیے اور للفقرائ المہاجرین ان حاجتمند مہاجرین کے لیے مہاجرین بھئی وہ جو مکہ سے ہجرت کر کے آئے تھے مدینہ منورہ اپنا سارا مال و اسباب مکہ میں چھوڑ آئے تھے۔ اور تو یہ ان کا حق ہے۔ للفقرائ المہاجرین مہاجرت مند مہاجرین کے لیے الذین اخرجوا من دیارہم وہ جو نکالے گئے من دیارہم اپنے گھروں سے واموالہم اور اپنے مالوں سے یبتغون فضلا من اللہ و رضوانا وہ چاہتے ہیں وہ فضل کو اللہ سے اور رضامندی کو وہ اللہ کے فضل اور رضامندی کو چاہتے ہیں اس کو طلب کرتے ہیں۔ یبتغون فضلا من اللہ و رضوانا وہ طلب کرتے ہیں اللہ کے فضل اور رضامندی کو وینصرون اللہ ورسولہ اور مدد کرتے ہیں اللہ کی اور اس کے رسول کی اولئک ھم الصادقون یہ لوگ سچے ہیں۔ یہ لوگ سچے ہیں، راست باز ہیں۔ والذین اچھا بھئی یہاں آیا بھئی للفقرائ المہاجرین آپ نے اصول الشاشی میں پڑھا ہوگا بھئی کہ عند الاحناف جب مسلمانوں کے مال پر کفار قبضہ کر لیں اور تسلط جما لیں تو وہ اس مال کے مالک بن جاتے ہیں اور مسلمانوں کی ملکیت ختم ہو جاتی ہے اور دلیل یہ آیت للفقرائ المہاجرین یہ جو مہاجرین تھے ان کو فقراء فرما رہے ہیں اللہ بھئی حالانکہ ان کی بڑی جائیدادیں تھیں، بڑا مال تھا مکہ کے اندر بھئی۔ معلوم ہوا اس مال پر مشرکین نے قبضہ کر لیا تو وہ ان کی ملکیت سے نکل گیا تب ہی ان کو فقراء کہا گیا اگر ان کی ملکیت سے نہ نکلا ہوتا تو ان کو فقراء نہ کہا جاتا۔ للفقرائ المہاجرین الذین اخرجوا من دیارہم واموالہم ان حاجتمند مہاجرین کے لیے جن کو نکالا گیا ان کے گھروں سے اور مالوں سے یبتغون فضلا من اللہ و رضوانا وہ اللہ کے فضل اور رضامندی کو چاہتے ہیں وینصرون اللہ ورسولہ اور مدد کرتے ہیں اللہ کی اور اس کے رسول کی اولئک ھم الصادقون یہی لوگ یہی لوگ سچے ہیں۔ والذین تبوا الدار والایمان من قبلہم اور وہ لوگ تبوا جنہوں نے ٹھکانہ بنایا الدار اس جگہ کو اس گھر کو اس جگہ کو۔ مراد مدینہ منورہ ہے بھئی۔ الدار سے کیا مراد ہے؟ الف لام کے ذریعے کسی متعین چیز کی طرف اشارہ تو یہاں مدینہ بھئی۔ والذین تبوا الدار اور وہ لوگ جنہوں نے ٹھکانہ بنایا اس جگہ کو والایمان اور ایمان کو یعنی ایمان کو قبول کیا۔ من قبلہم ان مہاجرین سے پہلے۔ من قبلہم ان مہاجرین سے پہلے۔ اللہ فرما رہے ہیں مال فے میں ان مسکینوں، مسافروں وغیرہ کا بھی حق ہے اور وہ حاجتمند مہاجرین جو مکہ سے مدینہ ہجرت کر کے آئے اور وہ الفرض اللہ کی رضامندی اور اس کی رضامندی اور اس کے فضل کے کو تلاش کرتے ہیں، اس کو چاہتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں ان کا حق ہے اور وہ لوگ جنہوں نے مدینہ منورہ کو ٹھکانہ بنایا مراد ہیں انصار بھئی جو مدینہ کے رہنے والے تھے۔ تو ان کا حق ہے۔ والذین تبوا الدار اور وہ لوگ جنہوں نے اس جگہ یعنی مدینہ کو ٹھکانہ بنایا والایمان اور ایمان کو۔ من قبلہم ان مہاجرین سے پہلے ہی۔ مہاجرین کے آنے سے پہلے ہی یہ ایمان قبول کر چکے تھے اور ایمان ان کے دلوں میں پختہ ہو چکا تھا۔ يحبون من ہاجر الیہم وہ محبت کرتے ہیں ان سے ہاجر الیہم جو ان کی طرف ہجرت کرتے ہیں، جنہوں نے ان کی طرف ہجرت کی یہ ان مہاجرین تھی۔ انصار کیسے لوگ ہیں، ان مہاجرین سے محبت کرتے ہیں اور نہیں پاتے اپنے سینوں میں حاجت اس چیز سے جو ان کو دی گئی، ان مہاجرین کو دی گئی۔ یعنی مہاجرین کو کوئی چیز دی جائے، کوئی چیز دی جاتی ہے، تو انصار اپنے دلوں میں اس کی خواہش نہیں پاتے۔ انصار عجیب لوگ ہیں مولانا صحابہ انسان حیران ہوتا ہے۔ اندازہ لگائیے۔ مہاجرین کو جو کچھ دیا جاتا ہے، اللہ فرما رہے ہیں مہاجرین کو جو کچھ دیا جاتا ہے، جو کچھ ان کو ملتا ہے، یہ اپنے دل میں اس کی خواہش نہیں پاتے، ان کے دلوں میں اس کی خواہش نہیں ہوتی کہ یہ ہمیں کاش ہمیں مل جاتا، کاش ہمیں مل جاتا۔ حالانکہ مال ہر ایک کو محبوب ہے، لیکن یہ ایسے لوگ تھے خود خالق ارض و سماں ان کی گواہی دے رہے ہیں۔ معلوم ہوا ان کے دل میں ذرے کے برابر بھی ایسا گمان نہیں آتا کہ کاش یہ ہمیں مل جاتا، بلکہ ان کو مل جائے تو اسی طرح خوش ہوتے ہیں گویا مال انہی کو ملا ہے۔ عجیب محبت تھی بھئی۔ اور یہ نہیں پاتے اپنے سینوں میں کوئی حاجت، کوئی خواہش، اس چیز سے جو ان کو دی گئی، کن کو دی گئی؟ مہاجرین کو دی گئی مہاجرین کو اور ترجیح دیتے ہیں۔ ایثار کس کو کہتے ہیں؟ ترجیح دینا۔ بھئی ایک ہے ویسے آپ کے پاس زائد مال ہے، آپ اس کے ذریعے دوسرے کی مدد کرتے ہیں، اور ایک ہے ایثار کہ آپ کو خود اس وقت اس کی حاجت ہے اور آپ پھر دوسرے کو دے دیتے ہیں یہ ہے ایثار اور اس کا بڑا مقام ہے، بڑی فضیلت ہے بھئی۔ تو اللہ فرما رہے ہیں یہ مدینہ والے جو ہیں، یہ ترجیح دیتے ہیں اس پر اپنے نفسوں پر، اپنی جانوں پر بھی ان کو مہاجرین کو ترجیح دیتے ہیں، اگرچہ ان کو تنگ دستی ہی کیوں نہ ہو، خفاصہ۔ فقر و فاقہ بھئی، شدید بھوک بھئی، خفاصہ کسے کہتے ہیں؟ شدید بھوک بھئی، یعنی فقر و فاقہ۔ اگرچہ ان کو فقر و فاقہ ہی کیوں نہ ہو، یہ پھر بھی اپنے نفسوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں، خود فقر و فاقے سے ہی کیوں نہ ہو، کھانے کی کوئی چیز آئے تو ان کو ترجیح دیتے ہیں، ان کو دے دیتے ہیں، چاہے خود فاقے سے ہوں۔ اور وہ لوگ جنہوں نے ٹھکانہ بنایا اس جگہ پر اور ایمان کو ان سے پہلے، ان مہاجرین سے پہلے ہی، تو وہ محبت کرتے ہیں ان سے جو ہجرت کر کے آئے ان کی طرف۔ اور نہیں پاتے اپنے سینوں کے اندر کوئی خواہش اس چیز کی جو ان مہاجرین کو دی گئی۔ اور یہ ترجیح دیتے ہیں اپنے نفسوں پر ان کو، اور اگرچہ ان کو فقر و فاقہ ہی کیوں نہ ہو۔ ویسے تو تمام انصار کی یہی کیفیت تھی بھئی۔ تمام انصار کی یہی کیفیت تھی، لیکن روایات میں اس موقع پر ایک خاص واقعے کا ذکر بھی ملتا ہے کہ جس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ ان کا واقعہ آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی مہمان آئے، اور حضور علیہ السلام نے ان کے ساتھ روانہ فرمایا کہ اس کی مہمان نوازی کرو آج۔ تو شام کا وقت تھا، اور یہ ان کو اپنے ساتھ لے گئے بھئی، اپنے ساتھ گھر لے گئے، بیوی سے پوچھا گھر میں کچھ کھانے کو ہے؟ اندازہ لگائیے صحابہ کی کیا حالت ہوتی تھی اور آج ہماری کیا حالت ہے بھئی۔ بیوی سے کہا کچھ کھانے کو ہے؟ اس نے کہا بس تھوڑا سا کھانا ہے جو ہمارے بچوں کے لیے ہو جائے گا۔ بچوں کے لیے۔ تو کہا کہ بھئی بچوں کو کسی طرح بہلا کر سلا دینا بھئی۔ بچے رو رہے ہیں بھوک کی وجہ سے، ان کو مارنے بہلا بہلا کر کسی طرح سلا دیا، بچے تھے، سو گئے بھئی۔ اب کھانا تھوڑا سا خود کھائیں تو مہمان کے لیے نہیں بچتا، مہمان کھائے تو یہ نہیں کھا سکتے، چنانچہ بیوی سے کہا کہ جب کھانا کھانے بیٹھیں تو تم کسی بہانے سے چراغ بجھا دینا۔ چراغ بجھا دینا، چنانچہ کھانا لا کر رکھا، مہمان بھی بیٹھا، یہ بھی بیٹھے، اور کھانا شروع کرنے لگے تو بیوی کسی بہانے سے اٹھی، چراغ کو درست کرنے وغیرہ اور بجھا دیا۔ اب آج کل کی طرح تو سہولت تھی نہیں کہ بجھ گیا تو فوراً ہی جلا لو، وہ تو پھر اب آگ لانی پڑے گی کہیں سے یا محنت کر کے خوب محنت کر کے اس کو پتھروں وغیرہ سے جلانا پڑے گا۔ تو اب اندھیرا ہے، چنانچہ بیٹھ گئے اسی طرح، مہمان کھانا کھاتا رہا، اور میاں بیوی ساتھ بیٹھے ویسے ہی منہ ہلاتے رہے جیسے ہم بھی کھا رہے ہیں تمہارے ساتھ تاکہ مہمان محسوس نہ کرے۔ چنانچہ مہمان نے خوب سیر ہو کر کھانا کھایا بھئی۔ تو اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی، صبح حضور علیہ السلام کے پاس تشریف لائے۔ تو حضور علیہ السلام کے پاس تشریف لائے، تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے اے ابو طلحہ! رات کو تمہاری جو مہمان نوازی تھی وہ اللہ کو بڑی پسند آئی۔ عجیب لوگ تھے مولانا صحابہ بھئی۔ اور جس کو بچا لیا گیا نفس کے بخل سے، تو یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ اور جس کو بچا لیا گیا نفس کے بخل سے۔ فلاح کے کیا معنی ہوتے ہیں؟ بچانے کے۔ اور جس کو بچا لیا گیا نفس کے بخل سے، تو یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ تو یہ ان کا حق ہے۔ تو فے ان مسکینوں کا بھی حق، مسافروں کا بھی حق، فقراء مہاجرین کا بھی حق، اور یہ جو انصار ہیں مدینہ میں رہنے والے، ان کا حق ہے۔ اور وہ لوگ جو آئے ان کے بعد۔ اور وہ لوگ جو آئے ان کے بعد، ان کا حق ہے۔ یہ مال ہے، ان لوگوں کا حق ہے جو ان کے بعد آئیں یعنی ان کے بعد پیدا ہوں، دنیا کے اندر آئیں بھئی۔ ان کے بعد جو مومنین پیدا ہوں، ان کا حق ہے۔ معنی سمجھ میں آرہا ہے بھئی، ان کے بعد سے کیا مراد ہے؟ ان کے بعد ان کی پیدائش ہو یعنی اور جو مسلمان جو ابھی پیدا نہیں ہوئے اور جو پیدا ہوں، ان کا حق ہے۔ یا ان کے بعد یعنی ان کے بعد جو اور لوگ مسلمان ہوں اور ہجرت کر کے آئیں، ان کا حق ہے۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی، لیکن پہلا معنی زیادہ ظاہر ہے بھئی، جو ان کے بعد پیدا ہوں بھئی۔ دوبارہ سب اس میں داخل ہو گئے، یعنی تمام مسلمانوں کا یہ حق ہے۔ مسلمانوں کی بہتری کے کاموں میں اس کو خرچ کیا جائے۔ اور وہ لوگ جو آئیں ان کے بعد، کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار! آپ ہماری مغفرت فرما دیجیے اور ہمارے ان بھائیوں کی بھی جو ہم پر سبقت لے گئے ایمان کے ساتھ، یعنی ایمان میں ہم پر سبقت لے گئے، ہم سے پہلے ایمان لے آئے۔ اور اے اللہ! آپ نہ کیجیے ہمارے دلوں میں کینہ بھئی۔ کینہ کس کو کہتے ہیں؟ کینہ بھئی۔ للذین ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے۔ ربنا إنك رءوف رحيم اے ہمارے پروردگار! یقیناً آپ رؤوف بڑے شفیق ہیں، رحیم رحم کرنے والے ہیں۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی۔ والذین جاؤ من بعدهم يقولون ربنا اغفر لنا اے ہمارے پر وہ کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار! ہماری مغفرت فرما ولیخواننا الذين سبقونا بالإيمان اور ہمارے ان بھائیوں کی بھی مغفرت فرما جو ہم سے پہلے ایمان لائے۔ ولا تجعل في قلوبنا غلا للذین آمنوا اور اے اللہ! ہمارے دلوں میں کینہ نہ ڈال ان کینہ نہ ڈال للذین ان لوگوں کے لیے جو ایمان لے کر آئے۔ ربنا إنك رءوف رحيم اے ہمارے پروردگار! یقیناً آپ بڑے شفیق ہیں رحم کرنے والے ہیں۔ علماء لکھتے ہیں کہ مال فے کے مصارف اللہ بیان فرما رہے ہیں۔ تو گویا اس میں تمام مسلمانوں کا حق ہے، لیکن اللہ نے بالخصوص مہاجرین اور انصار کا ذکر فرمایا کیونکہ اولین حق انہی لوگوں کا ہے بھئی۔ اولین اسلام کی مدد کرنے والے یہ لوگ تھے بھئی۔ اور اس کے بعد اللہ نے فرمایا وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں بھئی، وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں چاہے ان کے بعد پیدا ہوں یا اسلام کے اندر داخل ہوں یا ہجرت کر کے آئیں، اس کے بعد ان لوگوں کا حق ہے۔ اور وہ لوگ یہ کہتے ہیں اے اللہ! ہمارے بھی مغفرت فرما اور ہمارے ان بھائیوں کی بھی جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے، جو پہلے آج گزر چکے، جو پہلے ایمان لا چکے، اے اللہ! ان کی بھی مغفرت فرما۔ اور اے اللہ! ہمارے دلوں میں ان کے بارے میں کوئی کینہ نہ ڈال۔ کہتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شیعہ ہو، تو مال فے میں اس کا کوئی حق نہیں، اس کو کچھ نہیں دیا جائے گا بھئی، کیونکہ وہ صحابہ سے کینہ رکھنے والے ہیں۔ جبکہ یہ لوگ جن کا حق ہے، ان کے بارے میں اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ کہ ان کے بارے میں ہمارے دلوں میں کوئی کینہ نہ ہو، اور ان کی بھی مغفرت فرما جو ہم سے ایمان میں سبقت کر چکے ہیں، جو ان کی فضیلت کا اعتراف کر رہے ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ چلیے بس بھئی، ھذا واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
129 approved lectures · 114 of 129