Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-070

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 12 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 6
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
أعوذ بالله من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم تنزيل الكتاب من الله العزيز الحكيم إنا أنزلنا إليك الكتاب بالحق فاعبد الله مخلصا له الدين تنزيل الکتاب اس کتاب کا نازل کرنا من اللہ اللہ کی طرف سے ہے العزیز جو زبردست ہے الحکیم جو حکمت والے ہیں۔ تنزيل الکتاب یہ ہے مبتدا اور من اللہ یہ اس کی خبر ہے بھئی اس کتاب کا نازل کرنا اللہ کی طرف سے ہے بھئی۔ یا بعض ہمارے بعض علماء نے بڑا پیارا ترجمہ کیا اس کا بھئی تنزيل الکتاب من اللہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل کی جا رہی ہے العزیز الحکیم جو زبردست ہیں حکمت والے ہیں۔ بھئی مشرکین مکہ وہ اس کتاب کے اللہ کی طرف سے ہونے کا انکار کرتے تھے کہ یہ خود اپنی طرف سے باتیں بنا کر لاتا ہے یہ شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرماتے کہ یہ اپنی طرف سے بنا کر لاتے ہیں اور اللہ کی طرف نسبت کرتے ہیں تو اللہ فرما رہے ہیں تنزيل الکتاب من اللہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل کی جا رہی ہے العزیز جو زبردست ہے الحکیم جو حکمت والے ہیں۔ العزیز جو زبردست ہیں تو اس کتاب کو اس کتاب یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل کی جا رہی ہے جو زبردست ہیں تو لہذا اس کتاب کے پھیلنے کو اور اس کے نازل ہونے کو اور اس کے پھیلنے کو اور لوگوں کو اس پر عمل کرنے کو کوئی چیز نہیں روک سکتی بھئی یہ نازل ہو کر رہے گی اور لوگ اس کی طرف آئیں گے اور یہ پھیلتی چلی جائے گی بھئی العزیز اللہ جو زبردست ہیں الحکیم جو حکمت والے ہیں تو ان کی کتاب بھی اسی طرح حکمت والی ہے اس میں وہ خوبیاں ہیں جو کسی دنیوی کتاب کے اندر نہیں ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی یہ جو اللہ کے اسماء ذکر ہوتے ہیں جہاں پر بھی اس کا ان بات جس کے ساتھ جس آیت کے ساتھ ذکر ہو رہے ہیں اس کے ساتھ تعلق ہوتا ہے بھئی تو یہاں اللہ کیا فرما رہے ہیں یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل کی جا رہی ہے جو زبردست ہے حکمت والے ہیں زبردست ہیں تو لہذا اس کتاب کو پھیلنے سے کوئی نہیں روک سکتا اور حکمت والے ہیں تو اس کتاب جیسی خوبیاں بھی کسی کے اندر اور دوسری کتاب میں نہیں ہو سکتیں۔ إنا أنزلنا إليك الكتاب بالحق بے شک ہم نے نازل کیا آپ کی طرف اس کتاب کو بالحق برحق بے شک ہم نے اس کتاب کو آپ کی طرف برحق نازل کیا یہی ہے یا یوں ترجمہ کر لیں إنا أنزلنا إليك الكتاب بالحق بے شک ہم نے اس کتاب کو آپ کی طرف نازل کیا ٹھیک ٹھیک فاعبد الله مخلصا له الدين پس عبادت کیجیے آپ اللہ کی مخلصا خالص کرتے ہوئے لہو الدین اسی کے لیے عبادت کو دین کیا معنی بھئی دین کا عبادت بھئی خالص کرتے ہوئے اسی کے لیے عبادت کو فاعبد الله مخلصا له الدين پس آپ اللہ کی عبادت کیجیے خالص کرتے ہوئے اسی کے لیے عبادت کو یعنی اس عبادت میں کسی قسم کا شرک کا شبہ نہ ہو بھئی خالص اللہ کی بندگی کرتے رہیے اے پیغمبر آپ ألا لله الدين الخالص ألا حرف تنبیہ ہے یاد رکھو ألا یاد رکھو لله الدين الخالص اللہ ہی کے لیے ہے خالص عبادت اللہ ہی کے لیے ہے خالص عبادت یعنی خالص عبادت یہ اللہ ہی کے لائق ہے یا یوں کہیں یہ اللہ ہی کا حق ہے خالص عبادت اللہ ہی کا حق ہے ألا لله الدين الخالص یاد رکھو خالص عبادت اللہ ہی کا حق ہے والذین اتخذ من دونہ أولیاء اور وہ لوگ جنہوں نے پکڑے من دونہ اللہ کو چھوڑ کر اولیاء اور مددگار والذین اتخذ من دونہ أولیاء اور وہ لوگ جنہوں نے بنا رکھے ہیں اللہ کو چھوڑ کر اور مددگار آگے یہ آیت کے درمیان میم آیا میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں یہ جہاں پر آئے وہاں وقف ضروری ہے بھئی دیکھیے کنارے پر بھی لکھا ہوا ہے وقف لازم تو اس کا بہت خیال رکھیں ورنہ معنی کچھ کا کچھ ہو جاتا ہے اور وہ لوگ جنہوں نے بنا رکھا ہے اللہ کو چھوڑ کر اور جنہیں نے بنا رکھے ہیں اللہ کو چھوڑ کر اور مددگار ما نعبدہم إلا لیقربونا إلی اللہ وہ کہتے ہیں ما نعبدہم ہم ان کی عبادت نہیں کرتے إلا مگر یہ کہ لیقربونا إلی اللہ زلفا مگر یہ کہ یہ ہمیں قریب کر دیں اللہ کے زلفا پہلے بیان ہو چکا یہ مصدر ہے مفعول مطلق واقع ہو رہا ہے بھئی زلفا بھئی قریب کے معنی میں بھئی سمجھ میں آیا بھئی ضربت ضربا کا کیا معنی کرتے ہیں آپ ضربت ضربا میں نے پٹائی کی بس مفعول مطلق کا ترجمہ نہیں ہوا اسی کلام میں تاکید پیدا کرتا ہے بھئی تو یہ کہتے ہیں ما نعبدہم إلا لیقربونا إلی اللہ زلفا یہ وہ لوگ جنہوں نے بنا رکھے ہیں اللہ کو چھوڑ کر اور مددگار اور کیا کہتے ہیں ما نعبدہم کہ ہم تو ان کی عبادت نہیں کرتے إلا لیقربونا مگر یہ کہ ہمیں یہ قریب کر دیں إلی اللہ اللہ کے زلفا قریب کرنا یہ ہمیں اللہ کے جی یہ نفی اور الا کے ساتھ ترجمہ تھا بمحاورہ کیا ترجمہ ہوگا ہمیں عبادت کرتے ہیں ہاں ہم ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کر دیں کہ ہمیں اللہ کے قریب کر دیں معلوم ہوا دیکھیے بھئی مشرکین مکہ کا بھی یہ عقیدہ تھا کہ سارا کچھ پیدا کرنے والی سارا سب کچھ بنانے والی ذات اللہ ہی کی ہے لیکن وہ بتوں کی عبادت کرتے تھے اس لیے کیا کہتے تھے کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کر دیں گے یہ اللہ کے محبوب ہیں تو یہ ہمارے کام آئیں گے ہماری بگڑی ہوئی بنا دیں گے بھئی ہمیں اللہ کے قریب کر دیں گے اور معلوم ہوا کہ کسی کی عبادت یا کسی کی سے کچھ مانگنا اس نیت سے کہ یہ اللہ کا محبوب ہے اللہ کا ولی ہے یہ ہماری بگڑی ہوئی بنا دے گا اور ہمارے معاملات میں آسانی ہو جائے گی یہ اس نیت کے ساتھ بھی اگر کسی ولی سے مانگا جاتا ہے یا اس کی قبر پر جا کر سوال کیا جاتا ہے تو یہ سب شرک کے اندر داخل ہیں بھئی قرآن خود بتلا رہا ہے وہ بھی بتوں کی عبادت کس لیے کرتے تھے کیا کہتے تھے کہ ہم تو صرف اس لیے عبادت کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کر دیں بھئی یہ اللہ کے محبوب ہیں سمجھ میں آئی بات بھئی جی إن الله يحكم بينهم فيما هم فيه يختلفون یقینا اللہ تعالی فیصلہ فرمائیں گے ان کے درمیان فيما اس بات کے اندر ہم فیہ مختلفون کہ وہ لوگ اس کے اندر اختلاف کر رہے ہیں یقینا اللہ فیصلہ فرمائیں گے ان کے درمیان اس بات میں ہم فیہ مختلفون جس میں یہ اختلاف کر رہے ہیں یہ توحید کو تسلیم نہیں کرتے توحید کی طرف نہیں آتے تو اللہ ان کے درمیان خیر جس میں اختلاف کر رہے ہیں اللہ قیامت کے روز فیصلہ فرمائیں گے بھئی چنانچہ مومنین کو جنت میں داخل کیا جائے گا اور انکار کرنے والوں کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا إن الله يحكم بينهم بے یقینا اللہ فیصلہ فرمائیں گے ان کے درمیان فيما اس بات کے اندر ہم فیہ مختلفون جس میں یہ اختلاف کر رہے ہیں إن الله لا يهدي من هو كاذب كفار یقینا اللہ تعالی ہدایت نہیں دیتے من اس شخص کو ہوا جو كاذب كفار جو جھوٹا ہو کفر کرنے والا ہو كاذب جھوٹ بولنے والا كفار کفر کرنے والا مبالغے کا صیغہ ہے خوب کفر کرنے والا یا کفر کا ایک معنی کفر کرنا اسی طرح کفر کا معنی انکار کرنا بھی اسی طرح کفر کا معنی ناشکری کرنا بھی جو بھی ترجمہ آپ کر لیں بھئی یقینا اللہ تعالی ہدایت نہیں دیتے اس شخص کو جو جھوٹا بڑا ناشکرا ہو إن الله لا يهدي یقینا اللہ تعالی ہدایت نہیں دیتے من اس شخص کو ہوا كاذب كفار جو جھوٹا ہو کفر کرنے والا ہو لو أراد اللہ أن يتخذ ولدا اگر اللہ ارادہ کرتے فرماتے أن يتخذ ولدا کہ بنا لیں اولاد بھئی کہ بنا لیں اگر اللہ یہ ارادہ فرماتے کہ کسی کو اولاد بنا لیں لصطفى تو البتہ وہ چن لیتے مما ان چیزوں میں سے یخلقی جن کو اس نے جن کو وہ پیدا کرتا ہے ما يشا جو وہ چاہتے جو وہ چاہتے لو أراد اللہ أن يتخذ ولدا اگر اللہ ارادہ فرماتے کسی کو اولاد بنانے کا لصطفى مما يخلق ما يشا تو البتہ وہ چن لیتے جس کو وہ تو البتہ وہ چن لیتے ان میں سے جن کو انہوں اللہ نے پیدا کیا ہے ما يشا جو وہ چاہتے جو وہ لصطفى مما يخلق ما يشا تو البتہ چن لیتے اللہ جس کو چاہتے ان میں سے جن کو اللہ نے پیدا کیا ہے یعنی اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتے اللہ چن لیتے اگر اللہ کسی کو اولاد بناتے اگر اللہ کسی کو اولاد بناتے یعنی بالفرض محال اگر اللہ اولاد بناتے تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتے چن لیتے اور کسی بہتر کو چنتے تم اپنے لیے تو بیٹے ثابت کرتے ہو اور اللہ کے لیے بیٹیاں ثابت کرتے ہو بھئی سبحانہ پاک ہے وہ ذات یعنی اللہ کی کوئی اولاد نہیں وہ ذات پاک ہے وہ کسی کو اس کو کوئی حاجت نہیں کسی کو اولاد بنانے کی هو الله الواحد القهار وہ اللہ ایک ہے القهار غالب ہے قہار کا معنی غالب کے کر لیں یا زبردست کے کر لیں دونوں درست ہیں بھئی هو الله الواحد القهار وہ اللہ ایک ہے غالب ہے یعنی اللہ ایک ہے اللہ کی کوئی اولاد نہیں ہے القہار وہ زبردست ہیں اللہ اللہ کو کوئی حاجت نہیں ہے اولاد بنانے کی اولاد کی حاجت تو اس شخص کو پیش آتی ہے جس کو پتہ ہے کل میں نے کمزور ہو جانا ہے ضعیف ہو جانا ہے یہ اولاد میری مدد کرے گی تو اللہ کو کوئی حاجت نہیں اولاد کی خلق السموات والارض بالحق پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو حق برحق اللہ نے آسمانوں کو اور زمین کو برحق پیدا کیا یا یہ مانیں یوں کر لیں ترجمہ خلق السموات والارض بالحق اللہ نے پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو ٹھیک ٹھیک يكور الليل على النهار ويكور النهار على الليل کورو یکورو کے معنی ہوتے ہیں لپٹنے کے يكور الليل وہ لپیٹتا ہے رات کو علی النہار دن پر قرآن کا اپنا رسم الخط ہے وہیں پہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں قرآن کا رسم الخط بھی توقیفی ہے جیسا حضور صلی اللہ علیہ وسلم بتلاتے تھے صحابہ اس طرح لکھتے تھے بھئی اب دیکھیے اللیل بھئی ضابطے کے مطابق یہاں دو لام ہونے چاہیے تھے شروع میں بھئی ایک لیل کا لام اور ایک الف لام والا لیکن اسی ایک لام پر شد ڈال دیا گیا ہے بھئی یکور اللیل علی النہار۔ کور یکور کے معنی لپیٹنے کے۔ یکور اللیل علی النہار وہ لپیٹتا ہے رات کو دن پر۔ ویقور النہار علی اللیل اور وہ لپیٹتا ہے دن کو رات پر۔ وخر الشمس والقمر اور مسخر کیا سورج کو اور چاند کو۔ مسخر کیا یعنی کام میں لگا دیا۔ وخر الشمس والقمر اور کام میں لگا دیا ہے سورج کو اور چاند کو۔ تو یکور اللیل علی النہار بھئی اللہ لپیٹ لپیٹتے ہیں رات کو دن پر بھئی۔ دن ہوتا ہے اور پھر اس پر کیا آ جاتی ہے؟ رات آ جاتی ہے بھئی تو دن پر اللہ نے رات کی تاریکی کو لپیٹ دیا۔ پھر اس کے بعد دن آتا ہے تو اس رات پر اللہ نے دن کو لپیٹ دیا بھئی۔ تو کور یکور کے معنی ہوتے ہیں لپیٹنے کے۔ جیسے جیسے پگڑی بھئی باندھ دی جائے تو اس کا جو ایک پیچ ہے اس کو عربی میں کور کہتے ہیں کور۔ آپ نے پڑھا ہوگا فقہ میں کہ یجوز السجود علی کور العمامات پگڑی کے بل پر بھی پیچ پر بھی سجدہ جائز ہے یعنی اگر وہ حائل ہو جائے ماتھے اور زمین کے درمیان تو بھی سجدہ ادا ہو جائے گا بھئی۔ تو پگڑی کا جو پیچ ہے بل ہے اسے کور کہا جاتا ہے اور یہ جو پگڑی کو لپیٹا جائے باندھا جائے اس کو کہتے ہیں کور یکور بھئی لپیٹنا اس کو بھئی۔ یکور اللیل علی النہار وہ لپیٹتا ہے رات کو دن پر ویقور النہار علی اللیل اور لپیٹتا ہے دن کو رات پر وسخر الشمس والقمر اور اس نے کام میں لگا دیا ہے سورج کو اور چاند کو کل یجری لأجل مسمى ہر ایک چل رہا ہے ایک معین مدت تک۔ ایک معین مدت تک کے لیے ہر ایک چل رہا ہے۔ كل يجري أي كل واحد يجري ہر ایک چل رہا ہے۔ لأجل مسمى ایک أجل کہتے ہیں مدت بھئی۔ مسمى مقررہ معین۔ ہر ایک چل رہا ہے ایک معینہ مدت تک کے لیے۔ یا یوں ترجمہ کر لیں بھئی کل يجري لأجل مسمى ہر ایک رواں دواں ہے ایک مقررہ وقت تک کے لیے ایک معین وقت کے لیے۔ الا ھو العزیز الغفار یاد رکھو وہ اللہ زبردست ہیں۔ بہت بخشنے والے ہیں۔ الاحوال العزیز یاد رکھو وہ اللہ بہت وہ اللہ زبردست خوب بخشنے والے ہیں۔ زبردست ہیں بھئی دیکھو سورج چاند ان کو اپنے کام میں لگا رکھا ہے زمین اور آسمان کو پیدا کیا دن کو رات پر لپیٹ دیتا ہے اور رات کو دن پر لپیٹ دیتا ہے اس کا اقتدار بڑا زبردست ہے۔ اور الغفار بہت بخشنے والا ہے۔ زمین پر انسان تو اتنے گناہ کرتے ہیں کہ اگر ان کے گناہوں پر نظر کی جائے تو نظر کی جائے تو پھر تو نظام عالم ہی برقرار نہ رہ سکے ان کو تہس نہس کر دیا جائے اتنے گناہ کرتے ہیں لیکن اللہ کی مغفرت اور اللہ کے تحمل علم کا اندازہ لگائیے بھئی۔ اتنے گناہوں کے باوجود وہ پکڑ نہیں فرماتے ڈھیل دیتے رہتے ہیں۔ تو وہ گناہوں کو بخشتے بخش دیتے ہیں۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ الا ھو العزیز الغفار کوئی کتنا ہی گناہگار کیوں نہ ہو جب اللہ کی طرف آتا ہے تو اللہ تمام گناہ اس کے بخش دیتے ہیں۔ الاحوال العزیز الغفار یاد رکھو وہ زبردست ہے بہت بخشنے والا ہے۔ خلقکم من نفس واحدۃ پیدا کیا تم کو ایک شخص سے ایک جان سے یعنی ایک شخص سے یعنی حضرت آدم علیہ السلام سے۔ خلقکم پیدا کیا تم کو من نفس واحدۃ ایک شخص سے ثم جعل منھا زوجھا پھر بنایا انہی سے زوجھا ان کا جوڑا۔ اسی نفس سے اس کا جوڑا بنا دیا اسی شخص سے اس کا جوڑا بنا دیا۔ یعنی حضرت حوا مراد ہیں حضرت حوا علیہ السلام جن کو حضرت آدم علیہ السلام کی پسلی سے پیدا کیا گیا بھئی۔ ثم جعل منھا زوجھا پھر بنا دیا انہی سے ان کا جوڑا وأنزل لكم من الأنعام ثمانية أزواج اور اتارے تمہارے لیے من الأنعام مویشیوں میں سے ثمانية أزواج آٹھ جوڑے اور اتارے تمہارے لیے مویشیوں میں سے آٹھ جوڑے بھئی آٹھ جوڑے آٹھ جوڑے یعنی آٹھ نر و مادہ۔ اونٹ ہے گائے بکری اور بھیڑ۔ اونٹ گائے بھیڑ اور بکری۔ اور انہی میں مذکر ہیں اور مونث تو کتنے ہوگئے آٹھ بھئی آٹھ۔ آٹھ جوڑے یعنی ہر ایک دوسرے کا جوڑا ہے۔ ہر ایک دوسرے کا جوڑا ہے تو آٹھ یہ معنی ہوا بھئی۔ بھئی اردو میں جوڑے کا لفظ جو ہے نا دو پر بولا جاتا ہے۔ دو دو ہوں تو کہتے ہیں یہ جوڑا ہے۔ عربی میں یہ زوج کا لفظ بھئی یہ ایک پر بھی بولا جاتا ہے۔ ایک پر بھی۔ جیسے ابھی اوپر گزرا کہ حضرت آدم علیہ السلام سے ان کے جوڑے کو پیدا کیا۔ تو حضرت حوا کیا ہیں؟ حضرت آدم کا جوڑا ہیں اور حضرت آدم ان کا ان کے زوج وہ ان کے زوج بھئی جوڑا ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا تو یہ شبہ نہ آپ کے ذہن میں آئے کہ آٹھ جوڑے کا مطلب تو ہے سولہ قسم کے ہونے چاہیے مذکر مونث نہیں۔ بھئی میں نے بتلایا عربی کے اندر زوج کا لفظ ایک پر بھی بولا جاتا ہے جو بھی دوسرے کے ساتھ ہو اس کو اس کا جوڑا کہتے ہیں بھئی۔ اور ان آٹھ ہی کو ذکر کیا اللہ تعالی نے کیونکہ عموماً زیادہ نفع انسان انہی سے اٹھاتا ہے بھئی۔ خلقکم من نفس واحدۃ پیدا کیا تم کو ایک شخص سے ثم جعل منھا زوجھا پھر بنایا اسی سے اس کا جوڑا وأنزل لكم من الأنعام ثمانية أزواج اور اتارے تمہارے لیے مویشیوں میں سے آٹھ جوڑے یعنی آٹھ نر و مادہ۔ يخلقكم في بطون أماتكم پیدا کرتا ہے تمہیں فی بطون أماتكم تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں۔ بطون جمع ہے بطن کی پیٹ کو کہتے ہیں يخلقكم وہ پیدا کرتا ہے تمہیں فی بطون أماتكم تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں خلقا من بعد خلق ایک طرح کی پیدائش کے بعد دوسری پیدائش خلقا ایک طرح کے بعد دوسری طرح بنانا خلقا من بعد خلق ایک طرح کے بعد دوسری طرح بنانا ایک طرح کی پیدائش کے بعد دوسری طرح کی پیدائش۔ بھئی کیا معنی ایک طرح کی پیدائش کے بعد دوسری طرح کی پیدائش؟ بھئی دیکھیے سب سے پہلے نطفہ ہوتا ہے۔ پھر اس نطفے سے خون بنتا ہے خون کی صورت وہ اختیار کر لیتا ہے۔ پھر اس سے لوتھڑا بنتا ہے لوتھڑا گوشت کا ٹکڑا بھئی۔ تو گوشت کے ٹکڑے کی صورت بن جاتی ہے پھر وہ بڑھتا چلا جاتا ہے اور پھر شکل و صورت بنتی ہے ہڈیاں بنتی ہیں کھال چڑھتی ہے اور پورا انسان بن جاتا ہے بھئی۔ قرآن کے عجیب بھئی لا تنقضی عجائبہ قرآن کے عجائب خاتم نہیں ہوں گے۔ قرآن نے بچے کی بننے کے عمل کو بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے کہ اس اس طرح بچہ بنتا ہے ماں کے پیٹ میں پہلے اس کی یہ حالت ہوتی ہے پھر یہ حالت ہوتی ہے پھر یہ حالت پھر اس کے بعد یہ حالت ہوتی ہے بھئی۔ اور آج آکر جدید سائنس نے جب آلات کی مدد سے رحم کے اندر جھانکا اور بچہ بننے کے عمل کا مشاہدہ کیا تو دیکھا بہ عینیہی اسی طریقے پر بچہ بنتا چلا جاتا ہے جس طریقے پر قرآن بیان کرتا ہے بھئی۔ قرآن بیان کرتا ہے جس طرح بھئی۔ خلقا من بعد خلق ایک طرح سے ایک طرح کے بعد دوسری طرح پر يخلقكم في بطون أماتكم پیدا کرتا ہے وہ تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں خلقا من بعد خلق ایک طرح کے بعد دوسری طرح پر في ظلمات ثلاث تین تاریکیوں میں ظلمات جمع ہے ظلمت کی ظلمت تاریکی کو کہتے ہیں۔ تین تاریکیوں میں وہ تمہیں پیدا کرتا ہے تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں ایک طرح کے بعد دوسری طرح پر تین تاریکیوں میں۔ بھئی تین تاریکیوں سے مراد تین پردے ہیں جن کے بیچ میں پھر بچہ ہوتا ہے بھئی۔ ایک تو ماں کا پیٹ دوسرا رحم تیسرا وہ جھلی جس کے اندر بچہ لپٹا ہوتا ہے بھئی جو بچے کی گرد ہوتی ہے اور جو پیدائش کے وقت اس کے ساتھ ہی نکل آتی ہے۔ تو تین پردے ہوتے ہیں بھئی۔ ایک کس کا وہ جھلی جو بچے کے گرد دوسرے تہہ کس کی آجاتی ہے پھر رحم تھی بھئی۔ اور تیسرا پردہ جو سب سے باہر یہ کھال ہے بھئی پیٹ چکی جو ہے تو تین تہیں بن گئی بھئی تین تہیں ان تین تہوں کے اندر بچہ ہوتا ہے تو تین تاریکیاں ہوگئیں بھئی۔ يخلقكم في بطون أماتكم پیدا کرتا ہے وہ تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں خلقا من بعد خلق ایک طرح کے بعد دوسری طرح پر في ظلمات ثلاث تین تاریکیوں میں ذالكم اللہ ربکم لہ الملك یہی ہے اللہ تمہارا پروردگار لہ الملک اسی کے لیے بادشاہی ہے۔ ذلكم اللہ ذالک مبتدا ہے اور معرفہ ہے اس میں اشارہ ہے لفظ اللہ اس کی خبر ہے وہ بھی معرفہ ہے علم ہے ذات باری تعالیٰ کا۔ اور مبتدا اور خبر دونوں معرفہ ہوں تو وہ عموم حصر کا فائدہ دیتے ہیں تخصیص کا فائدہ دیتے ہیں۔ تو کیا ترجمہ؟ ذالكم اللہ یہ اللہ ہے نہیں یہ ترجمہ نہیں بھئی یہ تو بغیر حصر کے ہے۔ کیا کریں گے؟ یہی اللہ ہے یہی اللہ ہے جس کی یہ قدرتیں ہیں جس کی جس کی یہ قوت ہے۔ ذالكم اللہ ربکم لہ الملک یہی ہے اللہ تمہارا پروردگار لہ الملک اسی کے لیے بادشاہی ہے۔ لا الہ الا ھو اس کے نہیں کوئی معبود اس کے سوا۔ نہیں ہے کوئی معبود اس کے سوا یعنی اس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ فأنّا تصرفون پس کہاں تم پھیرے جاتے ہو کہاں تم پلٹائے جاتے ہو؟ بھئی اللہ نے اپنی چند قدرتوں کا ذکر فرمایا اور ان کو وہ لوگ بھی تسلیم کرتے تھے کہ زمین اور آسمان کو پیدا کرنے والی ذات اللہ کی، رات دن بنانے والی ذات اللہ کی، سورج اور چاند کو اپنے کام میں لگانے والی ذات اللہ کی، ماں کے پیٹ میں بچے کو پیدا کرنے والی بنانے والی ذات اللہ کی تو اللہ فرماتے ہیں یہ ہے تمہارا پروردگار اسی کے لیے بادشاہی ہے اور یہی عبادت کے لائق ہے فأنّا تصرفون تو اے مشرکو تم سارا کچھ ماننے کے باوجود پھر کہاں آخر میں آکر پلٹ جاتے ہو اور دوسری چیزوں کی عبادت کرنے لگتے ہو؟ سارا کچھ مان کر پھر کہاں سے پلٹائے جاتے ہو تم بھئی؟ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ فأنّا تصرفون پس کہاں سے تم پلٹائے جاتے ہو کہاں سے تم پھیرے جاتے ہو؟ کہاں سے تم لوٹائے جاتے ہو؟ جو بھی ترجمہ آپ کو بہتر لگے۔ إن تكفروا فإن اللہ غني عنكم إن تكفروا اگر تم کفر کرو گے فإن اللہ غني عنكم تو یقیناً اللہ بے نیاز ہے تم سے۔ اگر تم کفر کرو گے تو اللہ بے نیاز ہے تم سے بھئی۔ اللہ کو تمہارے تمہاری عبادت کی کوئی حاجت نہیں ہے کوئی اللہ کا اس میں نفع نہیں ہے اس میں تمہارا ہی نفع ہے اگر تم نہیں کرتے عبادت تو اللہ کو بھی تمہاری کوئی ضرورت نہیں ہے۔ إن تكفروا اگر تم کفر کرو گے فإن اللہ غني عنكم تو یقیناً اللہ تم سے بے نیاز ہے یا یوں کہیں إن تكفروا اگر تم کفر کرو فإن اللہ غني عنكم تو یقیناً اللہ تم سے بے نیاز ہے ولا يرضى لعباده الكفر اور وہ پسند نہیں کرتا ولا يرضى اور وہ پسند نہیں کرتا لعبادہ اپنے بندوں کے لیے الكفرا کفر کو۔ وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو پسند نہیں کرتا۔ یا کفر کا معنی ناشکری کے کر لیں بھئی۔ ولا تو یہ ناشکری ہی ہے نا اللہ نے جو سب کچھ دیا اور پھر انسان اس کو چھوڑ کر دوسرے کی عبادت کرنے لگے۔ ولا يرض لعباده الكفرا اور وہ پسند نہیں کرتا اپنے بندوں کے لیے ناشکری کو۔ وان تشكروا يرضہ لكم اور اگر تم شکر ادا کرو يرضہ لكم يرضہ یہ جزا ہے اور مجزوم ہے يرضى تھا آخر سے الف مقصورہ گر گیا۔ يرضى اگر تم شکر کرو يرضى تو وہ پسند کرتا ہے۔ ھا ضمیر کس کو راجع؟ اسی شکر کو راجع۔ يرضہ وہ پسند کرتا ہے اس شکر کو لكم تمہارے لیے۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ وان تشكروا اور اگر تم شکر ادا کرو يرضہ لكم تو وہ شکر کو پسند کرتا ہے تمہارے لیے۔ ولا تزر وازرة وزر أخرى وزرة وزر کے معنی بوجھ اٹھانے کے بھئی یہ اس یہ اس قسم کی آیت پہلے بھی گزر چکی۔ ولا تزر وازرة اور نہیں بوجھ اٹھائے گا کوئی بوجھ اٹھانے والا وزر أخرى کسی دوسرے کا بوجھ۔ ولا تزر وازرة وزر أخرى اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ ثم إلى ربكم مرجعكم फिर तुम्हारे परवरदिगार की तरफ مرجعكم تمہارا لوٹنا ہے۔ फिर तुम्हारे परवरदिगार की तरफ तुम्हारा लौट जाना है यानी اپنے پروردگار کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ ثم إلى ربكم مرجعكم फिर तुम्हारे परवरदिगार की तरफ तुम तुम लौटائے جاؤ گے۔ فينبئكم نبا ينبئ کے معنی خبر دینا۔ فينبئكم پس وہ تمہیں بتلا دے گا بما كنتم تعملون وہ جو تم عمل کیا کرتے تھے۔ تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے پھر وہ تمہیں بتلا دے گا جو تم عمل کیا کرتے تھے سارا کچھ لکھا جا رہا ہے۔ وہ وہاں اللہ بتلا دیں گے سب کچھ کہ تم یہ یہ عمل کرتے تھے اور پھر جس نے گناہ کیے ہوں گے شرک کیا ہوگا اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ إنہ علیم بذات الصدور بے شک وہ جاننے والا ہے دل کی باتوں کو۔ بے شک وہ دل کی بات جاننے والا ہے۔ وإذا مس الإنسان ضر اور جب چھولے انسان کو ضرر کوئی تکلیف۔ یعنی انسان کو جب کوئی تکلیف پہنچے۔ وإذا مس الإنسان ضر اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے دعا ربہ تو وہ پکارता है अपने پروردگار کو منیبا إليه اسی کی طرف رجوع کرتے ہوئے۔ اللہ فرما رہے ہیں جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے پروردگار کو یعنی اللہ ہی کو پکارتا ہے اسی کی طرف رجوع کرتے ہوئے اس وقت سب شرک وغیرہ بھول جاتا ہے۔ سے وہ جانتا ہے کہ اب اور کوئی چیز میری اس تکلیف کو دور نہیں کر سکتی سوائے اللہ کے۔ تو اس وقت اللہ ہی کی طرف رجوع کرتے ہوئے اللہ کو پکارتا ہے۔ ثم إذا خوله خولا يخول کے معنی ہیں عطا کرنا، دینا۔ ثم إذا خوله پھر جب اللہ دیتے ہیں اس کو نعمة منه نعمت اپنی طرف سے۔ جب اللہ اس کو پھر اپنی طرف سے نعمت دیتے ہیں یعنی اس کی تکلیف کو دور کر دیتے ہیں نسیہ তো وہ بھول جاتا ہے۔ نسیا ینسا کے معنی بھولنے بھولنے کے۔ نسیہ وہ بھول جاتا ہے ما ما سے مراد وہ جو پیچھے تکلیف کا ذکر آیا تھا تو وہ بھول جاتا ہے ما اس تکلیف کو كان يدعو إليه جس کی طرف وہ پکار رہا تھا كان يدعو وہ بھول نسیا بھول جاتا ہے ما اس تکلیف کو كان يدعو کہ وہ پکار رہا تھا إليه اس کی طرف جس اس تکلیف جس کی طرف وہ اللہ کو پکار رہا تھا اس کو وہ بھول جاتا ہے من قبل اس سے پہلے۔ یعنی اس سے پہلے وہ جس تکلیف کی طرف اللہ کو پکار رہا تھا اس تکلیف کو بھلا دیتا ہے بھول جاتا ہے۔ کہ میں اس طرح تکلیف میں تھا اور اللہ نے پھر اس تکلیف کو ختم فرمایا تو وہ سب کچھ بھلا دیتا ہے۔ ثم إذا خوله نعمة منه پھر جب اللہ اس کو عطا فرما دیتے ہیں اپنی طرف سے نعمت نسیہ ما كان يدعو إليه من قبل તો وہ بھول جاتا ہے اس تکلیف کو جس کی طرف وہ پکار رہا تھا اللہ کو۔ جس کی طرف وہ وہ بھول جاتا ہے اس تکلیف کو جس کی طرف وہ پکار رہا تھا من قبل اس سے پہلے۔ وجعل للہ أندادا اور بنا لیتا ہے اللہ کے شریک اللہ کے مثل۔ أنداد کا لفظ پہلے بھی گزر چکا ہے اور میں نے بتلا تھا أنداد جمع ہے ندن کی اور ندن کا معنی ہوتا ہے مثل، مشابہ۔ مثل اور مشابہ تو اللہ کے مثل بنانے لگتا ہے یعنی اللہ کے شریک بنانے لگتا ہے۔ ليضل عن سبيله تاکہ گمراہ کرے عن سبيله اللہ کے راستے سے۔ تاکہ اور لوگوں کو بھی کیا کرے اللہ کے راستے سے گمراہ کرے بھئی۔ تکلیف میں ہوتا ہے تو اس وقت پھر اللہ ہی کو پکارنے لگتا ہے۔ اور جب اللہ اپنے فضل سے تکلیف دور فرما دیتے ہیں تو کہتا ہے کہ بھئی فلاں بت نے مجھ پر فضل کیا اور میری تکلیف کو دور کر دیا۔ یا فلاں ولی نے میرے اوپر مہربانی کی اور میری تکلیف کو دور کر دیا بھئی! ہر تکلیف دور کرنے والی ذات صرف اللہ ہی کی ہے بھئی۔ وإذا مس الإنسان ضر اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے دعا ربہ منیبا إليه تو وہ پکارتا ہے اپنے پروردگار کو اسی کی طرف رجوع کرتے ہوئے ثم إذا خوله نعمة منه پھر جب وہ اللہ بدل دیتے ہیں اس پھر جب اللہ عطا فرما دیتے ہیں اس کو نعمت اپنی طرف سے نسیہ ما كان يدعو إليه من قبل تو وہ بھول جاتا ہے اس تکلیف کو جس کی کل جس کے لیے وہ پکار رہا تھا اس سے پہلے وجعل للہ أندادا ليضل عن سبيله اور وہ بنانے لگتا ہے اللہ کے شریک تاکہ گمراہ کرے اللہ کے راستے سے۔ قل اے پیغمبر آپ فرما دیجیے تمتع بكفرك قليلا کہ تو نفع اٹھا لے بكفرك اپنے کفر کے ساتھ قليلا تھوڑا سا۔ آپ اے پیغمبر آپ فرما دیجیے ان سے تمتع کہ تو نفع اٹھا لے بكفرك اپنے کفر کے ساتھ قليلا تھوڑا سا یعنی تھوڑا سا دنیا میں رہ لو کفر کے ساتھ مزے اڑا لو۔ إنك من أصحاب النار بے شک تو جہنم والوں میں سے ہے اگ والوں میں سے یعنی دوزخ والوں میں سے ہے۔ إنك من أصحاب النار بے شک تو دوزخیوں میں سے ہے۔ أمن هو قانت آنا الليل ساجدا وقائما أمن کیا وہ شخص ہوا قانت قنتا کے معنی ہوتے ہیں فرمانبرداری کرنے کے بندگی کرنے کے۔ أمن هو قانت کیا وہ شخص جو بندگی کرنے والا ہے آنا الليل آنا اوقات بھئی اوقات۔ آنا الليل کیا وہ شخص جو بندگی کرنے والا ہے رات کے اوقات میں ساجدا سجدہ کرتے ہوئے اس حال میں کہ وہ سجدہ کرنے والا ہوتا ہے وقائما اس حال میں کہ وہ قیام کرنے والا ہوتا ہے کھڑا ہوتا ہے يحذر الآخرة اس حال میں کہ وہ آخرت سے ڈرتا ہے۔ حذر يحذر کے معنی حذر يحذر کے معنی ڈرنے کے۔ يحذر الآخرة آخرت سے ڈرتا ہے ويرجو رحمة ربه اور اس حال میں کہ امید کرتا ہے رحمة ربه اپنے پروردگار کی رحمت کی۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ أمن هو قانت آنا الليل کیا وہ شخص جو بندگی کرنے والا ہے رات کے اوقات میں ساجدا وقائما سجدہ کرتے ہوئے اور قیام کرتے ہوئے يحذر الآخرة آخرت سے ڈرتا ہے ويرجو رحمة ربه اور امید کرتا ہے اپنے پروردگار کی رحمت کی۔ بھئی! یہ ہے مبتدا۔ أمن ہمزہ استفہام کے لیے اور من هو قانت یہ سارا آخر تک یہ ہے مبتدا۔ خبر اس کی محذوف ہے۔ خبر کیا ہے؟ خبر ہے كمن جعل للہ أندادا كمن جعل للہ أندادا دیکھیے اللہ فرما رہے ہیں کیا وہ شخص جو بندگی کرنے والا ہے كمن کیا وہ اس شخص کی طرح ہے جعل للہ أندادا جو اللہ کے کے لیے شریک ٹھہراتا ہے، شریک بناتا ہے۔ کیا جو شخص اللہ کی بندگی کرنے والا ہو اس شخص کے مثل ہے جو اللہ کے شریک بناتا ہے؟ دونوں ایک دوسرے جیسے نہیں ہے استفہام انکاری ہے بھئی کہ یقینا ایسا نہیں ہے۔ اور اللہ کیا فرما رہے ہیں کہ وہ بندگی کرتا ہے رات کے اوقات میں سجدہ کرتے ہوئے اور قیام کرتے ہوئے ڈرتا رہتا ہے آخرت سے اور امید کرتا ہے اپنے پروردگار کی رحمت کی۔ بھئی! مومن کی یہ حالت ہونی چاہیے بھئی۔ مومن کی یہ حالت بھئی یہ حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ مومن ایک طرف اسے ایک تو خوف ہو خوف ہونا چاہیے کہ کہیں ایسا نہ ہو اللہ میرے گناہوں پر کسی غلطی پر پکڑ فرما لیں اور دوسری طرف اپنے رب کی رحمت کی امید ہوتی ہے اس کو کہ اللہ یقینا مجھ پر کیا کریں گے؟ اللہ فضل فرمائیں گے اور معاف فرما دیں گے۔ تو مومن جو ہے وہ اس خوف اور امید کی حالت درمیانی حالت اس کی ہوتی ہے اسے خوف بھی ہوتا ہے اور امید بھی ہوتی ہے۔ خوف ہوتا ہے اللہ کے عذاب کا اپنے گناہوں کی وجہ سے اپنے اعمال کی وجہ سے اور امید ہوتی ہے اللہ کے فضل اور رحمت کی وجہ سے۔ قل هل يستوي الذين يعلمون والذين لا يعلمون۔ لیجیے بھئی! اب حضرات کا بھی تذکرہ آ گیا بھئی! قل هل يستوي الذين يعلمون اے پیغمبر! آپ فرما دیجیے هل يستوي الذين يعلمون کیا برابر ہو سکتے ہیں وہ لوگ جو جاننے والے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں والذين لا يعلمون اور وہ لوگ جو علم نہیں رکھتے۔ کیا علم والے اور غیر علم والے برابر ہو سکتے ہیں؟ اللہ فرما رہے ہیں بھئی! اور استفہام انکاری ہے بھئی کہ یقیناً علم والے اور غیر علم والے برابر نہیں ہو سکتے۔ علم والوں کا مقام بڑا اونچا ہے بھئی بڑا اونچا ہے۔ تو یہ الحمدللہ ہمیں اللہ نے یہ توفیق دی ہے یہاں بیٹھے ہوئے ہیں اور اللہ کی کتاب کو سیکھ رہے ہیں تو اللہ خود تعریف فرما رہے ہیں بھئی! کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ یقیناً علم اور غیر علم والے برابر نہیں ہاں! یہ ہے کہ اس کی حقیقت آخر میں واضح ہوگی جب بھئی آپ حضرات کے لیے قیامت کے روز جو انتہائی تکلیف والا دن ہوگا قرآن کو سیکھنے والے اور آگے سکھانے والے اور قرآن کے بتلا ہوئے راستے پر صحیح طریقے سے چلنے والے لوگ جو ہیں ان کے لیے ان کا اکرام ہوگا ان کے لیے تخت لگائے جائیں گے اور وہ بڑے سکون سے وہ وقت گزاریں گے اور پھر ان کو جنت میں داخل کر دیا جائے گا بھئی۔ قل هل يستوي الذين يعلمون والذين لا يعلمون اے پیغمبر! آپ فرما دیجیے کیا برابر ہو سکتے ہیں وہ لوگ جو جاننے والے ہیں اور وہ لوگ جو نہیں جاننے والے؟ إنما يتذكر أولوا الألباب یہ تذكر کا معنی نصیحت حاصل کرنا۔ اولوا الألباب عقل والے۔ إنما حصر کے لیے آتا ہے۔ إنما يتذكر أولوا الألباب اگر إنما نہ ہو تو ترجمہ کیا ہوگا يتذكر أولوا الألباب عقل والے نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ عقل والے نصیحت حاصل کرتے ہیں اور جب إنما آیا تو معنی کیا ہوگا؟ عقل والے ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں وہی نصیحت کو قبول کرتے ہیں۔ چلیے بس بھئی! ھذا هو المرام واللہ اعلم بحقيقة الكلام
131 approved lectures · 70 of 131