Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-098

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 12 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 3
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ بالله من الشيطان الرجيم، بسم الله الرحمن الرحيم. ويقول الذين آمنوا لولا نزلت سورة فإذا أنزلت سورة محكمة وذكر فيها القتال رأيت الذين في قلوبهم مرض رأيت الذين في قلوبهم مرض ينظرون إليك نظر المغشي عليه من الموت فأولى لهم طاعة وقول معروف فإذا عزم الأمر فلو صدقوا الله لكان خيرا لهم. ويقول الذين آمنوا اور کہتے ہیں وہ لوگ جو ایمان لائے، لولا نزلت سورة کیوں نہیں نازل کی گئی کوئی سورت؟ کہتے ہیں وہ لوگ جو ایمان لے کر آئے کیوں نہیں نازل کی گئی کوئی سورت؟ بھئی ابتدامیں جہاد کا حکم نہیں تھا، تو مومنین جو تھے جو کفار کی شرارتوں سے تنگ آئے ہوئے تھے، وہ تمنا کیا کرتے تھے کہ کاش اللہ کوئی ایسی سورت نازل فرما دیں جس میں جہاد کا حکم ہو، تاکہ ان کفار کو ہم ان کی سازشوں کا مزہ چکھا سکیں یہ جو اسلام کے راستے میں روڑے اٹکا رہے ہیں اور سازشیں کر رہے ہیں تاکہ ان کے شر کو ہم ختم کر سکیں بھئی، تو وہ تمنا کیا کرتے تھے اسی کا ذکر آ رہا ہے۔ ويقول الذين آمنوا اور کہتے ہیں وہ لوگ جو ایمان لائے، لولا نزلت سورة کیوں نہیں نازل کی گئی کوئی سورت؟ کیا مراد ہے؟ کس قسم کی سورت؟ جس میں جہاد جہاد کا حکم ہو، کیوں نہیں نازل کی گئی کوئی سورت یعنی جس میں جہاد کا حکم ہو؟ اور جب مومنین مخلصین وہ اس قسم کی تمنا کرتے تھے، تو میں نے بتلایا یہ سورت جو ہے، یہ سورہ قتال بھی کہلاتی ہے اور اس میں جہاد کا حکم ہے اور یہ مدینہ منورہ کے ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی اور اکثر مفسرین کی رائے میں غزوہ بدر کے بعد یہ سورت نازل ہوئی بھئی۔ غزوہ بدر کے بعد تو یہ مدینہ منورہ کا ابتدائی زمانہ تھا اور میں نے بتایا اس سے پہلے منافقین کا وجود نہیں تھا لیکن مدینہ منورہ میں جب مسلمان آئے انصار سارے مسلمان ہو گئے مدینہ منورہ کے جو رہائشی تھے اور مسلمانوں کو قوت حاصل ہو گئی، تو کچھ لوگ وہ صرف دکھاوے کے طور پر مسلمان ہوئے بھئی، دکھاوے کے طور پر اور جن کو منافقین کہا جاتا ہے بھئی، جو بظاہر تو اپنے مسلمان ہونے کا اقرار کرتے تھے لیکن دل میں ان کے اسی طرح کفر تھا، کفر تھا اور مسلمانوں کو تکلیف دینے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے بھئی۔ تو جب مومنین مخلصین جب وہ جہاد کی تمنا کیا کرتے تھے، تو منافقین بھی وہیں پر تھے مدینہ میں تو مومنین کو دیکھ کر وہ بھی کہہ دیا کرتے ہوں گے ویسے جھوٹ موٹھ کے، ہاں ایسی کاش کوئی ایسی سورت نازل ہو جائے جس میں جہاد کا حکم ہو، تو اسی کا اللہ ذکر فرما رہے ہیں، کہ مومنین تو طلب کرتے تھے اور یقیناً انہیں جہاد کا حکم جب نازل ہوا بڑی خوشی ہوئی ہوگی کہ ان کی تمنا کے مطابق اللہ نے جہاد کا حکم دے دیا، جب کہ دوسری طرف وہ جو منافقین تھے وہ تو صرف دکھاوے کے طور پر کہتے تھے بھئی، ان کی ہاں میں ہاں ملاتے تھے، اپنے آپ کو بھی تاکہ کہیں ہمیں یہ ہمارا پتہ نہ لگ جائے کسی کو، تو ویسے ہی وہ بھی یہ بات کر دیا کرتے تھے، تو جب اس قسم کی سورت نازل ہوئی تو ان کی کیا کیفیت ہوتی، وہ اللہ بیان فرما رہے ہیں۔ فإذا أنزلت سورة محكمة پس جب نازل کی جاتی ہے، تو پس جب نازل کی گئی محکم سورت بھئی، یا فإذا أنزلت سورة محكمة جب نازل کی جاتی ہے کوئی محکم سورت بھئی، یعنی جس کے احکام غیر منسوخ ہوں بھئی، جس کے احکام احکام کیا ہوں؟ غیر منسوخ یعنی منسوخ نہیں ہیں، منسوخ ہونے والے نہیں ہیں، جیسے کہ جہاد کا حکم جس میں ہو، اب جہاد کا حکم تو قیامت تک کے لیے ہے وہ غیر منسوخ ہے، تو یہ مراد ہے بھئی۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ تو کہتے ہیں فإذا أنزلت سورة محكمة جب نازل کی جاتی ہے کوئی محکم سورت، وذكر فيها القتال اور ذکر کیا جاتا ہے اس میں قتال لڑائی کا، جہاد کا اور ذکر کیا جاتا ہے اس میں جہاد کا لڑائی کا، رأيت الذين في قلوبهم مرض تو آپ دیکھتے ہیں کہ آپ دیکھتے ہیں ان لوگوں کو فی قلوبهم مرض جن کے دلوں میں مرض ہے یعنی مرضِ نفاق ہے، ينظرون إليك کہ وہ دیکھتے ہیں آپ کی طرف ناظر المغشي عليه من الموت مغشي عليه بھئی، جس پر غشی طاری ہو، بے ہوشی طاری ہو، تو وہ ينظرون إليك وہ آپ کی طرف دیکھتے ہیں ناظر المغشي عليه من الموت اس شخص کے دیکھنے کی طرح جس پر غشی طاری ہو من الموت موت سے۔ اللہ فرما رہے ہیں جب ہم کوئی ایسی سورت، کوئی محکم سورت نازل کرتے ہیں یعنی جس میں جہاد کا حکم ہوتا ہے اور تو آپ دیکھتے ہیں ان لوگوں کو جن کے دلوں میں مرض ہے، وہ آپ کی طرف یوں دیکھنے لگتے ہیں جیسے وہ شخص جس پر موت کی غشی طاری ہو، وہ جس طرح دیکھتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کیونکہ یہ جہاد تو ان کے لیے بڑا بھاری تھا ان پر کہ جہاد کیا جائے بھئی، جان کی بازی لگائی جائے، وہ تو درپردہ کافر تھے بھئی، سمجھ میں آئی بات؟ تو یہ اس وجہ سے ان کی یہ کیفیت بھئی ہو جاتی ہے، خوف کی وجہ سے اور خوف کی وجہ سے، جس طرح موت کے وقت، موت کے وقت آنکھوں کا نور ختم ہو جاتا ہے، اسی طرح ان کی یہ کیفیت ہو جاتی ہے بھئی خوف کی وجہ سے، کہ اب جہاد کرنا پڑے گا، کیسے کریں گے ہم؟ یہاں تو چلو باتوں سے کام چلا لیتے تھے، وہاں تو لڑائی ہوگی باقاعدہ بھئی، جان کا خوف۔ پس تو وہ ينظرون إليك تو وہ دیکھنے لگتے ہیں آپ کی طرف ناظر المغشي عليه من الموت اس شخص کے دیکھنے کی طرح جس پر موت کی بے ہوشی طاری ہو، فأولى لهم فأولى لهم اولى اس میں تفضیل بھئی، زیادہ مناسب ان کے ہے، زیادہ لائق ان کے ہے، طاعة وقول معروف اطاعت اور اچھی بات، اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ ان لوگوں کے زیادہ لائق کیا ہے؟ اطاعت ہے، ان کو اللہ اور رسول کی اطاعت کرنی چاہیے، وہ ان کے زیادہ مناسب ہے، وقول معروف اور اچھی بات نیکی کی بات کرنی چاہیے، مسلمانوں کے خلاف سازشیں وغیرہ نہیں کرنی چاہیے، ان کو تکلیفیں نہیں دینی چاہیے، ترک تو أولى لهم یہ ہے مبتدا اور طاعة وقول معروف یہ معطوف معطوف علیہ مل کر یہ ہے خبر، ترکیب سمجھ میں آگئی بھئی؟ اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ فأولى لهم طاعة وقول معروف ان کے زیادہ لائق کیا ہے؟ اطاعت ہے یعنی کس کی اطاعت؟ اللہ اور اس کے رسول کی اور قول معروف اور اچھی بات ہے، نیکی والی بات ہے۔ یہ ایک ترکیب بھئی، ایک ترکیب۔ أولى اس میں تفضیل بنایا بھئی اور مادہ ہے ولی ولی، ولی مادہ۔ دوسری ترکیب یاد رکھیے، یہ تو پہلی ترکیب تھی، ایک ہی جملہ بنایا، أولى لهم تھا مبتدا اور طاعة وقول معروف اس کی خبر، دوسری ترکیب، یہ أولى ويل سے ہے بھئی، بعض مفسرین حضرات کیا لکھتے ہیں یہ، ويل سے ہے اور ويل کسے کہتے ہیں؟ ہلاکت کو کہتے ہیں ہلاکت، تو یہ بددعائیہ کلمہ ہے بھئی۔ اللہ فرما رہے ہیں، فأولى لهم ان کے لیے تباہی ہے، یا یہ تباہ ہوں، یہ تباہ ہوں، فأولى لهم یہ تباہ ہوں، یہ برباد ہوں، تو اس صورت میں اولى مبتدا ہے اور لھم اس کی خبر ہے بھئی، یہ تباہ ہوں، یہ برباد ہوں، دیکھیے پورا جملہ ہے بھئی۔ اور آگے طاعة وقول معروف یہ الگ جملہ ہے، طاعة وقول معروف یہ معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر مبتدا اور خبر کیا ہے؟ محذوف ہے خيرا لھم اور اطاعت اور اچھی بات خيرا لھم وہ ان کے لیے بہتر ہے۔ ترکیب سمجھ میں آگئی بھئی؟ پہلی ترکیب کے مطابق ایک جملہ تھا، أولى لھم تھا مبتدا اور طاعة وقول معروف اس کی خبر، دوسری ترکیب کے مطابق أولى لھم الگ جملہ بد دعا، اور طاعة وقول معروف یہ الگ جملہ، یہ ہے مبتدا طاعة وقول معروف اور خبر کیا ہے؟ محذوف ہے خير لھم، اور اطاعت اور اچھی بات خير لھم وہ ان کے لیے بہتر ہے۔ ترکیب سمجھ میں آگئی بھئی؟ اسی طرح بھئی! أولى لھم کا کیا معنی کیا؟ دوسرے دوسرا ترجمہ؟ یہ تباہ ہوں، یہ برباد ہوں۔ اسی طرح یہ کلمہ کسی کو ڈراتے وقت بھی بولا جاتا ہے عربی کلام میں بھئی، کسی کو جب ڈرانا ہو، اور اس صورت میں بھی اس کا مادہ وہی ولی ہوگا، ولی، قریب ہونا جس کا معنی ہے۔ تو فأولى لهم یہ ڈراتے وقت کہا جاتا ہے کسی کو کہ تمہارے قریب ہے، فأولى لهم تمہارے قریب ہے، کیا چیز قریب ہے؟ جس سے تم ناپسند یہو، یعنی تمہاری بربادی اور تمہاری ہلاکت! تو مانا کیا ہوا؟ فاؤلی لہم ان کی بربادی آنے والی ہے، ان کی ہلاکت آنے والی ہے۔ معنا سمجھ میں آگیا بھئی؟ پہلی ترکیب فاؤلی لہم ان کے زیادہ لائق ہے، زیادہ مناسب ہے، کیا چیز؟ طاعتہم و قولہم معروف۔ دوسری ترکیب فاؤلی لہم ان کے لیے یہ ہلاک ہوں، یہ برباد ہوں، طاعتہم و قولہم معروف خیر لہم، طاعت اور قول معروف ان کے لیے بہتر ہے۔ تیسری فاؤلی لہم اس صورت میں بھی یہ الگ جملہ ہے، فاؤلی لہم ان کے ان کی تباہی قریب ہے، ان کی بربادی قریب ہے، یہ ڈرانے کے لیے بھئی۔ تو ایک میں ایک صورت میں یہ بددعا رہے، ایک صورت میں وہ کلمہ ہے جس کے لیے دوسرے کو ڈرایا جاتا ہے بھئی۔ تو ان کی بربادی قریب ہے اور پھر طاعتہم و قولہم معروف خیر لہم، باقی ترکیب اسی طرح۔ فإذا عزم الأمر عزم کے معنی میں نے بتایا تھا پختہ ارادے کے ہوتے ہیں بھئی، اس کی طرح عزم یہاں فعل ہے بھئی، جب پختہ ہو جائے، پکا ہو جائے الامر معاملہ۔ فإذا عزم الأمر جب معاملہ پکا ہو جائے، جب معاملہ مقرر ہو جائے، جب معاملہ طے ہو جائے یعنی جب جہاد کا حکم آجائے۔ جب اللہ کی طرف سے جہاد کا حکم آجائے، معاملہ طے ہو جائے، بات طے ہو جائے، حکم ان پر فرض کر دیا جائے بھئی، جہاد ان پر فرض کر دیا جائے۔ معنا سمجھ میں آیا بھئی؟ فإذا عزم الأمر جب معاملہ پکا ہو جائے، پختہ ہو جائے، فلو صدقوا اللہ پس اگر یہ اللہ سے سچے رہیں، لکان خیر لہم تو یہ ان کے لیے بہتر ہے۔ یہ تو منافقین ہیں، یہ بظاہر مسلمان لیکن در پردہ دلوں میں ان کے کفر ہے۔ اللہ فرما رہے ہیں فإذا عزم الأمر جب معاملہ پکا ہو جائے، پختہ ہو جائے، کس چیز کا معاملہ پختہ ہو جائے؟ جہاد کا، فلو صدقوا اللہ پس اگر یہ اللہ کے ساتھ سچے رہیں، لکان خیر لہم تو یہ ان کے لیے جب جہاد کا معاملہ طے کر دیا جائے، پھر اگر یہ اللہ سے سچے رہیں تو ان کے لیے بہتر ہے۔ معنا سمجھ میں آگیا بھئی؟ فہل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الأرض وتقطعوا أرحامکم جی اس کا بھی ترجمہ توجہ سے سمجھ لیں۔ فہل عسیتم عسی کس لیے آتا ہے؟ توقع کے لیے آتا ہے نا، کس کے لیے؟ توقع اور امید کے لیے فہل عسیتم کیا تم سے توقع کی جائے، رکھی جائے؟ فہل عسیتم کیا تم سے توقع رکھی جائے، ان تولیتم اس تولّی کے دو معنی بیان کیے گئے ہیں بھئی۔ تولیتم ایک معنی تولّی کے ولایت ملنا اور ایک معنی ہے اعراض کرنا، منہ موڑنا، رخ پھیرنا، ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ ایک تولّی کے کیا معنی؟ ولایت ملنا یعنی حکومت ملنا، دوسرا معنی تولّی کا دوسرا کیا معنی؟ منہ موڑنا، رخ پھیرنا۔ تو اللہ فرما رہے ہیں فہل عسیتم کیا تم سے یہ توقع رکھی جائے، ان تولیتم کہ اگر تمہیں حکومت ملے، ان تفسدوا فی الأرض یہ کہ تم فساد مچاؤ زمین میں، وتقطعوا أرحامکم اور قطع رحمی کرو بھئی، یعنی رشتے توڑو بھئی، کیا کرو؟ رشتے توڑو بھئی۔ تقطعوا أرحامکم قرابتیں توڑو تم، رشتے توڑو تم۔ اللہ منافقین سے فرما رہے ہیں فہل عسیتم کیا تم سے یہ توقع رکھی جائے، ان تولیتم اگر تمہیں حکومت ملے، یعنی تم تو جہاد سے منہ موڑتے ہو، جہاد کو پسند نہیں کرتے۔ تو کیا تم سے یہ توقع رکھی جائے کہ اگر تمہیں حکومت ملے، ان تفسدوا فی الأرض یہ کہ تم کیا کرو زمین میں؟ فساد مچاؤ، وتقطعوا أرحامکم اور رشتے توڑ ڈالو۔ یعنی وہی جہالت والا زمانہ پھر تم اسی طرح دنیا میں شروع کر دو کہ فساد مچانے لگو اور رشتے ناطے توڑنے لگو جیسے جہالت کے زمانے میں کسی چیز کی پروا نہیں کی جاتی تھی بھئی۔ رشتے ناطے توڑ دیے جاتے تھے۔ معنا سمجھ میں آگیا بھئی؟ دوسرا معنی، ان تولیتم اعراض کرنا۔ فہل عسیتم کیا تم سے یہ توقع رکھی جائے، ان تولیتم کہ اگر کہ اگر تم اعراض کرو، یعنی جہاد سے، کس سے؟ کیا تم سے یہ توقع رکھی جائے کہ اگر تم اعراض کرو ان تفسدوا فی الأرض یہ کہ تم فساد مچاؤ زمین میں، وتقطعوا أرحامکم اور رشتے توڑ ڈالو۔ رشتے ناطے توڑ ڈالو۔ کہ جہاد سے جب تم رخ اعراض کرو گے، منہ موڑو گے تو لازمی بات ہے زمین میں فساد برپا ہوگا اور پھر وہی کفر اور جہالت والا زمانہ آئے گا اور رشتے ناطے کیا کرو گے تم؟ توڑو گے بھئی۔ معنا سمجھ میں آگیا۔ اولئک الذین لعنھم اللہ یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ نے ان پر لعنت فرمائی ہے۔ لعنت کا کیا معنی ہوتا ہے؟ رحمت سے دوری بھئی، اللہ نے ان کو رحمت سے، اپنی رحمت سے دور کیا ہے۔ اولئک الذین لعنھم اللہ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت فرمائی ہے، فاصمہم پس ان کو اللہ نے بہرا کر دیا، اصمّ بہرا کرنا۔ فاصمہم پس اللہ نے ان کو بہرا کر دیا و اعمی ابصارہم اور اندھی کر دیں ان کی آنکھیں، اعمی اندھا کرنا بھئی۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت فرمائی ہے، فاصمہم و اعمی ابصارہم پس ان کو بہرا کر دیا ہے اور ان کی آنکھیں اندھی کر دی ہیں، افلا یتدبرون القرآن تدبر کا معنی غور و فکر کرنا، افلا یتدبرون القرآن کیا یہ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے؟ ام علی قلوب أقفالھا یا دلوں پر، أقفالھا ای اقفال قلوب بھئی، یہاں ضمیر کس کو راجع؟ قلوب کو۔ کیونکہ جمع بتاویل جماعت کس کے حکم میں ہوتی ہے عربی میں؟ واحد مؤنث کے حکم میں، تو جمع کی طرف عموماً واحد مؤنث کی ضمیر لوٹائی جاتی ہے۔ ام علی قلوب أقفالھا یا دلوں پر ان کے تالے ہیں۔ دلوں پر یعنی دلوں پر دلوں کے تالے ہیں، یعنی جو دلوں پر مخصوص تالے لگا دیے جاتے ہیں، یہاں عام تالے نہیں یعنی کون سے تالے ہیں؟ جو دلوں پر لگا دیے جاتے ہیں جو اللہ دلوں پر مہر لگا دیے جاتے مہر لگا دیتے ہیں، پھر کہ پھر دل کے اندر خیر کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رہتی۔ انسان جب کفر و شرک میں بڑھتا چلا جاتا ہے اور تو ایک وقت آتا ہے کہ دل میں قبول حق کی صلاحیت ہی نہیں رہتی اور وہ ہے دل پر قفل کا لگ جانا، دل پر تالے کا لگ جانا۔ اقفال جمع ہے قفل کی بھئی، تالے کو کہتے ہیں۔ افلا یتدبرون القرآن ام علی قلوب أقفالھا کیا وہ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے یا دلوں پر ان کے تالے ہیں؟ ان الذین ارتدوا علی ادبارہم بے شک وہ لوگ جو پھر گئے، پلٹ گئے، ارتدۃ کے معنی پھر جانا، اسی سے مرتد بھی ہے کیونکہ وہ دین سے یعنی دین اسلام سے پھر جاتا ہے، پلٹ جاتا ہے۔ ان الذین ارتدوا بے شک وہ لوگ جو پلٹ گئے علی ادبارہم اپنی پشتوں پر، یعنی پشت پھیر کر جو لوگ پلٹ گئے، مڑ گئے۔ ان الذین ارتدوا علی ادبارہم بے شک وہ لوگ جو پشت پھیر کر پلٹ گئے، پشت پھیر کر مڑ گئے، من بعد ما تبین لھم الہدی بعد اس کے کہ جب تبین ظاہر ہو گئی لہم ان کے لیے الہدی ہدایت۔ بعد اس کے کہ جب ان کے لیے کیا ظاہر ہو چکی تھی؟ ہدایت ظاہر ہو چکی تھی، سیدھے راستے کا ان کو پتہ لگ چکا تھا اس کے بعد جو لوگ اس سے پھر گئے، مڑ گئے اور چھوڑ دیا اس کو۔ الشیطان سول لہم شیطان نے ان کو پٹی پڑھائی ہے۔ شیطان نے ان کو پٹی پڑھائی ہے۔ سول بھئی! سول کا معنی یاد رکھیے۔ سول کا معنی ہے برے کام کو اچھی شکل میں دکھانا، اچھا کر کے دکھانا اور اس کے کرنے پر اکسانا۔ برے کام کو اچھا کر کے دکھانا اور اس پر اکسانا۔ کہ یہ کر لو۔ تو شیطان بھی کیا کرتا ہے؟ برے کام کو مزین کر کے دکھاتا ہے اور انسان کو اس کے کرنے پر اکساتا ہے، تیار کرتا ہے اس کے کرنے پر۔ الشیطان سول لہم شیطان نے ان کو برے کام اچھے کر کے دکھائے ہیں، یہ ترجمہ کر لیں، یا شیطان نے ان کو پٹی پڑھائی ہے۔ واملا لہم املا اس کے اندر ضمیر ہے اور وہ ضمیر یہ شیطان ہی کو راجع اس صورت میں معنی ہوگا شیطان نے ان کو دور کی آرزوئیں دکھائی ہیں۔ املا لہم شیطان نے ان کو دور کی آرزوئیں دکھائی ہیں۔ تو مادہ اس کا میم لام یا ہے یاد رکھیے، یہ ہمزہ جو شروع میں ہے یہ باب کی ہے بھئی، باب افعال ہے۔ املا لہم کیا معنی ہوا املا کا؟ املا کا معنی ہے لمبا کرنا بھئی، لمبا کرنا، یعنی شیطان نے ان کی امیدوں کو لمبا کیا ہے، دور کی امید دکھائی ہے یعنی ان کی امیدوں کو لمبا کیا ہے کہ اگر دنیا میں تم یہ یہ کام کرو گے غلط کام تو تمہیں اس طرح مال حاصل ہوگا اور تمہارا مال بڑھتا چلا جائے گا، یہ برائی کر لو گے تو اس طرح مال تمہیں حاصل ہوگا، دھوکہ دے دو گے، ظلم کر دو گے، فلاں کرو گے، کام میں جاؤ گے تو تمہیں زکوٰۃ دینا پڑے گی، مال خرچ کرنا پڑے گا تو یہ اس طرح غلط راستے پر شیطان ان کو چلاتا ہے اور لمبی امیدیں ان کو دکھاتا ہے، دور کی امیدیں ان کو دکھاتا ہے۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کیا معنی ہوا؟ الشیطان سول لھم واملی لھم۔ شیطان نے ان کو برے کام اچھے بنا کر دکھائے ہیں واملی لھم اور ان کے ان کو دور کی آرزوئیں ان کی آرزوئیں لمبی کی ہیں، دور کی آرزوئیں ان کو دکھائی ہیں، دور کی تمنائیں ان کو دکھائی ہیں۔ یہ ایک معنی، دوسرا معنی کہ املاء کے اندر ہ و ضمیر اللہ کی طرف راجع کی جائے بھئی تو معنی ہوگا واملی لھم اللہ نے ان کے لیے لمبا کیا ہے یعنی زمانہ یعنی ان کو ڈھیل دی ہے۔ اللہ نے ان کو شیطان جو ہے ان لوگوں کو برے کام اچھی شکل میں پیش کرکے دکھاتا ہے اور ان پر اکساتا ہے اور اللہ نے بھی ان لوگوں کو ڈھیل دی ہے ان کی گمراہی کے اندر کہ خوب اچھی طرح گمراہی میں گمراہی میں بڑھتے چلے جائیں، آخرت میں پھر اللہ اس کا اس کی سزا دیں گے بھئی۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ ان الذین ارتدوا علی ادبارہم من بعد ما تبین لھم الھدی۔ بے شک وہ لوگ جو مڑ گئے پشت پھیر کر بعد اس کے کہ جب ان کے لیے سیدھا راستہ ظاہر ہو گیا تھا، الشیطان سول لھم۔ شیطان نے ان کو برے کام اچھے پیش کرکے دکھائے ہیں۔ واملی لھم اور شیطان نے انہیں دور کی آرزوئیں دکھائی ہیں اور دوسرا ترجمہ وامل۔ الشیطان سول لھم، شیطان نے ان کو برے کام اچھی شکل میں دکھائے ہیں واملی لھم اور اللہ نے بھی ان کو ڈھیل دی ہے۔ ذالک بانھم قالوا یہ اس وجہ سے ہے یہ اس وجہ سے ہے یہ جو پیچھے ذکر ہوا کہ یہ جن کے اللہ نے ان پر لعنت فرمائی ہے اور ان کو بہرا کیا ہے، ان کی آنکھوں کو اندھا کیا ہے، ان کے دلوں پر تالے لگائے ہیں اور یہ اس وجہ سے ہے یہ ذالک کہ یہ اس کی طرف اشارہ، ذالک بانھم اور بعض سببیہ ہے، ذالک بسبب انھم یہ اس وجہ سے ہے کہ یہ لوگ جو ہیں قالوا انہوں نے کہا للذین ان لوگوں سے کریو جنہوں نے ناپسند کیا ما اس چیز کو نضل اللہ جس کو اللہ نے نازل کیا یعنی قرآن کو۔ ان لوگوں نے کہا یعنی ان منافقین نے کہا للذین کریو ما نضل اللہ ان لوگوں سے جنہوں نے اللہ کے نازل کیے ہوئے چیز کو ناپسند کیا ہے یعنی کفار سے کہا ہے، یہودیوں سے کہا ہے ان منافقین نے کیا کہا ہے؟ یہ آگے ان کی بات آ رہی ہے سنطیعکم فی بعض الامر کہ ہم قریب تمہاری فرمانبرداری کریں گے، تمہاری بات مانیں گے فی بعض الامر بعض معاملات میں۔ ہم کیا کریں گے؟ ان منافقین بظاہر تو مومن بنے ہوئے ہیں لیکن درپردہ یہ کفار سے اور یہودیوں سے کہتے ہیں کہ ہم بس، بھئی، ظاہر میں ہم مسلمان ہوئے ہیں، تم فکر نہ کرنا، ہم تمہارے ساتھ ہیں، بعض چیزیں ہم تمہاری بھی مانیں گے، کیا کریں گے؟ بعض چیزیں تمہاری بھی مانیں گے، ظاہر ظاہر میں ہم ان کی مانیں گے لیکن درپردہ ہم تمہاری بھی باتیں مانیں گے۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ ذالک بانھم قالوا للذین کریو ما نضل اللہ سنطیعکم فی بعض الامر۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ کہا ہے انہوں نے ان لوگوں سے جنہوں نے ناپسند کیا ہے اس چیز کو جس کو اللہ نے نازل کیا ہے کہ ہم تمہاری بات مانیں گے فی بعض الامر بعض کاموں میں۔ واللہ یعلم اسرارہم۔ اصر یسر اصرار کے معنی چھپانے کے۔ اصر یسر اصرار کا کیا معنی؟ چھپانا۔ واللہ یعلم اسرارہم اور اللہ ان کے چھپانے کو جانتا ہے یعنی جو چیزیں، جو باتیں یہ چھپا کر پوشیدہ باتیں جو کرتے ہیں کفار سے، یہود سے، اللہ ان سب کو جانتے ہیں۔ واللہ یعلم اسرارہم، اللہ ان کی پوشیدہ باتوں کو جانتے ہیں۔ فكيف اذا توفتھم الملائكة پس کیسا حال ہوگا اذا توفتھم الملائكة، جب ان کو موت دیں گے فرشتے یعنی ان کے روح قبض کریں گے فرشتے۔ فكيف، پس کیا حال ہوگا اذا توفتھم الملائكة، جب ان کی روح قبض کریں گے فرشتے کہ آگے یضربون یہ حال ہے، حال ہے۔ فاعل سے بھی حال ہو سکتا ہے اور مفعول سے بھی۔ پس کیسے جب وفات دیں گے ان کو فرشتے اس حال میں کہ یضربون وجوھھم، وہ مار رہے ہوں گے ان کے چہروں پر وادبارھم اور ان کی پشتوں پر۔ اللہ فرما رہے ہیں فكيف اذا توفتھم الملائكة يضربون وجوھھم وادبارھم، پس کیا حال ہوگا جس وقت فرشتے ان کی روح قبض کریں گے ان کے چہروں اور پشتوں پر مارتے ہوئے، ان کے چہرے اور پشتوں پر مارتے ہوئے ان کی روح قبض کریں گے۔ ذالک بانھم متبعوا ما اسخط اللہ۔ یہ اس وجہ سے ہے، با سببیہ، ذالک بسبب انھم اور ذالک کے ذریعے اشارہ ہے، یہ جو ان کی اس حالت میں موت ہے کا ذکر، موت ہے بھئی۔ ان کی اس حالت میں موت کیوں ہوگی؟ یہ اس وجہ سے کہ اتباعوا، انہوں نے پیروی کی ما اس چیز کی اسخط اللہ جس نے اللہ کو ناراض کیا۔ یہ ان چ اس چیز کے اس طریقے کی پیروی کرتے ہیں جو اللہ کو ناراض جس نے کیا وکرہو، اور انہوں نے ناپسند کیا رضوانہ اللہ کی رضا کو۔ اللہ کی رضامندی کو ان لوگوں نے ناپسند کیا ہے فاحبط اعمالھم، پس اللہ نے ان کے اعمال ضائع کردیے۔ اللہ نے ان کے اعمال ضائع کردیے۔ ذالک بانھم متبعوا ما اسخط اللہ وکرہو رضوانہ فاحبط اعمالھم یہ اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے پیروی کی ہے اس چیز کی جس نے اللہ کو ناراض کیا وکرہو رضوانہ اور یہ ناپسند انہوں نے ناپسند کیا ہے اللہ کی رضامندی کو فاحبط اعمالھم تو اللہ نے ان کے اعمال ضائع کردیے۔ ام حسب الذین فی قلوبھم مرض، کیا گمان کرتے ہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے یعنی مرضِ نفاق ہے۔ ان یخرج اللہ اذغانھم، کہ کیا ہرگز اللہ ظاہر نہیں کرے گا ان کے دلی کینوں کو، دلی عداوتوں کو، چھپی دشمنیوں کو؟ اذغان جمع ہے زغن کی بھئی۔ اذغان کس کی جمع؟ زغن کی جمع ہے اور زغن کہتے ہیں دل میں چھپا ہوا کینہ بھئی، دل میں چھپا ہوا بغض بھئی، دل میں چھپی ہوئی دشمنی بھئی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ زغن۔ تو ان کے دلوں میں بھی مسلمانوں کے خلاف دشمنی چھپی ہوئی ہے، کینہ اور بغض چھپا ہوا ہے۔ بظاہر تو یہ خود کیا کہتے ہیں ہم بھی مسلمان ہیں لیکن ان کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف سخت کینہ اور سخت دشمنی چھپی ہوئی ہے تو کیا یہ ان یہ منافقین یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ ان کی چھپی دشمنیوں کو ظاہر نہیں کرے گا؟ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ ام حسب الذین فی قلوبھم مرض، ان کے کیا گمان کرتے ہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے یعنی مرض نفاق ہے ان یخرج اللہ اذغانھم، کہ کیا اللہ نکالے گا نہیں ان کے چھپے کینوں کو، یعنی ظاہر نہیں کرے گا ان کے چھپے ان کی چھپی دشمنیوں کو اللہ ظاہر نہیں کرے گا؟ ولو نشاء لاریناکھم، ولو نشاء اگر ہم چاہیں لاریناکھم، البتہ ہم دکھا دیں آپ کو اے پیغمبر۔ ولو نشاء، اگر ہم چاہیں لاریناکھم، ہم دکھا دیں کا، آپ کو ہم، وہ لوگ یعنی وہ منافقین۔ اے پیغمبر، اگر ہم چاہیں تو البتہ آپ کو دکھا دیں۔ فلعرفتھم، پس آپ ان کو پہچان لیں بسیماھم، سیما کہتے ہیں علامت اور نشانی کو بھئی۔ پس آپ پہچان لیں ان کو ان کی نشانیوں سے۔ ولتعرفنھم، اور البتہ آپ ضرور پہچان لیں گے فی لحن القول، گفتگو کے طرز سے۔ لحن کہتے ہیں طرز بھئی، طرزِ ادا، لہجہ بھئی، لہجہ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ لحن القول کا کیا معنی ہوا؟ کلام کا طرز بھئی، طرزِ کلام بھئی، طرزِ گفتگو بھئی، بات چیت کا ڈھب بھئی، بات چیت کا، بات چیت کے ڈھب سے آپ ان کو پہچان لیں گے۔ مخلص کا بات کرنے کا طریقہ ہی اور ہوگا اور جو منافق ہے جتنا مرضی اخلاص ظاہر کرے لیکن اس کی بات کا انداز ہی اور ہوگا، اس کی باتوں میں وہ اخلاص ظاہر ہی نہیں ہو سکے گا جس کی وہ جتنی بھی کوشش کر لے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ ولتعرفنھم فی لحن القول، اور البتہ آپ ان کو ضرور پہچان لیں گے فی لحن القول، بات چیت کے ڈھب سے، طرزِ کلام سے آپ ان کو ضرور پہچان لیں گے۔ واللہ يعلم اعمالکم، اور اللہ جانتے ہیں تمہارے اعمال کو۔ اللہ تمہارے اعمال کو جانتے ہیں۔ تو اللہ فرما رہے ہیں اگر ہم چاہیں اے پیغمبر آپ کو ان سارے منافقین کی دکھلا دیں، پہچان کروا دیں تو آپ ان کی نشانیوں سے سب کو پہچان لیں گے۔ پہچان لیں گے۔ معنی سمجھ میں آیا لیکن گف، نہ بھی دکھائیں ہم تو گفتگو سے آپ اپنے اپنے نورِ فراست کے لیے کے ذریعے ضرور ان کو پہچان لیں گے۔ ان کی گفتگو سے ہی آپ کو پتہ چل جائے گا بھئی، باتوں کے ڈھب سے ہی آپ کو پتہ چل جائے گا۔ مانا واضح ہو گیا بھئی آیت کا۔ ولو نشاء لأريناكهم فلعرفتهم بسيماهم، اگر ہم چاہیں تو البتہ آپ کو وہ لوگ دکھا دیں پس آپ پہچان لیں ان کو ان کی نشانی سے۔ ولتعرفنهم في لحن القول، اور البتہ ان کے گفتگو کے ڈھب سے تو آپ ضرور ان کو پہچان لیں گے۔ یا یوں ترجمہ کر لیں ولتعرفنهم في لحن القول، اور اور ان کے گفتگو کے لہجے سے تو آپ ضرور ان کو پہچان لیں گے۔ واللہ يعلم أعمالكم، اور اللہ تم تمہارے اعمال کو جانتے ہیں۔ ولنبلونكم، اور البتہ ہم تمہاری ضرور آزمائش کریں گے۔ حتی نعلم المجاهدين منكم، یہاں تک کہ ہم جان لیں تم میں سے جہاد کرنے والوں کو، والصابرين، اور صبر کرنے والوں کو۔ ونبلو اخباركم، ونبلو اخباركم۔ نبلو کے بعد الف ہے، الف پر دائرہ لگا ہوا ہے، میں نے بتلایا تھا قرآن میں جہاں اس طرح الف آئے اس پر دائرہ لگا ہو، اس کو پڑھا نہیں جاتا بھئی۔ البته لکھا ضرور جاتا ہے یہ قرآن کا رسم الخط ہے بھئی۔ ونبلو اخباركم، اخبار بمعنی احوال کے ہیں یہاں بھئی۔ اخبار کس معنی میں ہے؟ احوال۔ ونبلو اخباركم، اور تاکہ ہم تمہارے احوال کی آزمائش کر لیں، تمہارے احوال کو جانچ جانچ لیں۔ ولنبلونكم حتى نعلم المجاهدين منكم والصابرين ونبلو اخباركم، اور ہم ضرور تمہاری آزمائش کریں گے تاکہ ہم جان لیں مجاہدین کو تم میں سے، جو جہاد کرنے والے ہیں تم میں سے اور جو صبر کرنے والے ہیں، ونبلو اخباركم، اور تاکہ ہم جانچ لیں تمہارے احوال کو۔ تمہارے احوال کو جانچ لیں، ان کی آزمائش کر لیں۔ یہاں آیا حتی نعلم، ہم تمہاری ضرور آزمائش کریں گے تاکہ ہم جان لیں۔ اس سے بظاہر یہ شبہ پڑتا ہے کہ شاید اللہ کو ابھی معلوم نہیں، آزمائش کے بعد علم ہوگا بھئی۔ اور جواب اس کا سورۂ عنکبوت کے شروع میں گزر چکا بھئی۔ کہ یہاں نعلم بمعنی نُظہر کے ہے بھئی۔ اور ہم تمہاری آزمائش کریں گے حتی نعلم، اَی نُظہر، یہاں تک کہ ہم ظاہر کر دیں، کیا کر دیں؟ ظاہر کر دیں مجاہدین اور صابرین کو تم میں سے۔ تو نعلم کس معنی میں ہوا؟ نُظہر کے بھئی۔ یہ ایک جواب پہلے بیان ہو چکا بھئی۔ ایک اور جواب بھی یاد رکھیے۔ بھئی یاد رکھیے، ہمارے اعتبار سے کوئی چیز زمانے کے اعتبار سے مقدم ہوتی ہے، کوئی مؤخر ہوتی ہے۔ مثلاً بھئی ایک شخص کا دس دن پہلے انتقال ہوا، ہمارے اعتبار سے وہ زمانہ ماضی میں ہے۔ ایک شخص اس وقت زندہ ہے، آگے چل کر کسی وقت انتقال ہوگا، ہمارے اعتبار سے وہ مستقبل کا زمانہ ہے۔ لیکن اللہ کا علم بڑا کامل، بڑا کامل۔ تو اللہ کے سامنے زمانہ کوئی چیز نہیں، کوئی چیز چاہے زمانہ ماضی میں ہو، حال میں ہو، استقبال میں ہو، اللہ سب کچھ جانتے ہیں۔ اللہ کا علم بے انتہا کامل۔ اللہ سب کچھ جانتے ہیں، اور یہ زمانے ہماری حیثیت سے ہیں، اللہ کے سامنے زمانہ کوئی چیز نہیں، سب چیزیں اللہ کے سامنے یکساں ہیں، چاہے وہ ماضی میں ہوں، حال میں ہوں یا استقبال میں ہوں۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو ہمارے اعتبار سے بعض چیزیں ماضی میں ہیں، بعض حال میں ہیں، بعض مستقبل میں ہوں گی۔ لیکن اللہ کے سامنے اللہ کے علم کے اعتبار سے کوئی زمانہ نہیں، سب چیزیں اللہ کے سامنے ہیں گویا سب ایک ہی وقت میں یوں سمجھیں، ایک ہی شے کی طرح سب ہیں بھئی، سب کے سب کیا ہیں؟ ایک ہی شے کی طرح ہے۔ تو اللہ کبھی کبھار تو اپنے علم کے انداز میں کلام فرماتے ہیں۔ ایک بات مستقبل کی ہوتی ہے، لیکن اللہ اس کو ماضی کے صیغے کے ساتھ یا حال کے صیغے کے ساتھ ذکر کر دیتے ہیں۔ صورۃ سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ یہ اللہ کلام فرماتے ہیں اپنے علم کے انداز میں بھئی۔ کہ وہاں پر زمانہ سب کچھ اللہ کے سامنے ہے بھئی، تو وہ اللہ اس کو اسی طرح کر دے ذکر فرما دیتے ہیں جیسے یہ چیز ہے بھئی، یہ چیز ہمارے اعتبار سے اگرچہ ابھی ہونی ہوتی ہے، ہم نے ابھی نہیں دیکھی۔ لیکن اللہ اس کو کس طرح ذکر فرماتے ہیں؟ تو کبھی اللہ اپنے علم کے اعتبار سے ذکر فرماتے ہیں، اور کبھی اللہ ہمارے اعتبار سے بات کو ذکر فرماتے ہیں۔ اللہ کے تو علم میں ہے کون مجاہدین ہیں، کون صابرین ہیں۔ لیکن ہمارے علم میں تو نہیں، وہ تو مستقبل میں جب لڑائی ہوگی، تب پتہ چلے گا کون ڈٹا رہتا ہے، کون نہیں آتا جہاد میں۔ تو اللہ کبھی ہمارے علم کے اعتبار سے کلام فرماتے ہیں، اور کبھی اپنے علم کے اعتبار سے کلام فرماتے ہیں۔ تو یہاں پر بھی حتی نعلم المجاهدين، یہ ہمارے علم کے اعتبار سے اللہ نے فرمایا۔ اللہ کے سامنے زمانہ کوئی چیز نہیں۔ جواب سمجھ میں آگیا اچھی طرح؟ ولنبلونكم حتى نعلم المجاهدين منكم والصابرين ونبلو اخباركم، اور البتہ ہم ضرور تمہاری آزمائش کریں گے تاکہ ہم جان لیں تم میں سے مجاہدین اور صبر کرنے والوں کو، ونبلو اخباركم، اور جانچ لیں ہم تمہاری تمہارے احوال کو۔ إن الذين كفروا وصدوا عن سبيل الله، بے شک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور روکا اللہ کے راستے سے، وشاقوا الرسول، شاق یشاق کے معنی ہوتے ہیں مخالفت کرنا۔ شاق یشاق کے کیا معنی ہیں؟ مخالفت کرنا۔ وشاق الرسول، اور مخالفت کی پیغمبر کی من بعد ما تبين لهم الهدى، بعد اس کے کہ جب ظاہر ہوگیا تھا ان کے لیے سیدھا راستہ۔ لن يضروا الله شيئا، ہرگز وہ نقصان نہیں دے سکتے اللہ کو کچھ بھی۔ وسيحبط أعمالهم، اور عنقریب اللہ ان کے عمل ضائع کر دیں گے۔ وسيحبط أعمالهم، اللہ عنقریب ان کے عمل ضائع کر دیں گے۔ معنی سمجھ میں آیا آیت کا بھئی؟ اللہ فرماتے ہیں إن الذين كفروا، بے شک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا وصدوا عن سبيل الله، اور روکا اللہ کے راستے سے، وشاق الرسول، اور مخالفت کی پیغمبر کی من بعد ما تبين لهم الهدى، بعد اس کے کہ جب ظاہر ہوگیا تھا ان کے لیے سیدھا راستہ۔ لن يضروا الله شيئا، وہ اللہ کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ وسيحبط أعمالهم، اور عنقریب اللہ ان کے عمل ضائع کر دیں گے۔ سیحبط أعمالهم بھئی اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک معنی تو یہ جو پہلے بیان ہو چکا، اللہ ان کے اعمال کو ضائع کر دے گا یعنی ان کی نیکیوں کو اللہ ضائع کر دیں گے، آخرت میں ان پر ان کو کوئی ثواب نہیں ملے گا کیونکہ نیکی بغیر ایمان کے قابل قبول نہیں۔ آخرت میں اس پر کوئی ثواب نہیں ملے گا، کفار جو نیکیاں کرتے ہیں دنیا ہی میں ان کو ان کا بدلہ دے دیا جاتا ہے۔ معنی سمجھ میں آیا؟ تو اعمال سے کیا مراد ہے یہاں؟ نیکیاں مراد ہیں، اللہ ان کی نیکیاں ضائع کر دیں گے۔ اس کا یہ بھی معنی ہو سکتا ہے، اعمال سے مراد ان کی وہ سازشیں وغیرہ ہے۔ سيحبط أعمالهم، اللہ تمہاری سازشیں تمہارے اعمال جو ہیں، جو تم کرتے ہو، وہ اعمال جو ہیں تمہارے، وہ اللہ ضائع کر دیں گے، یعنی تمہاری سازشوں کو ملیامیٹ کر دیں گے اللہ۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ وسيحبط أعمالهم، اور اللہ ان کے کیے دھرے کو ملیامیٹ کر دیں گے۔ يا أيها الذين آمنوا اطيعوا الله وأطيعوا الرسول، اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو، اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی، ولا تبطلوا أعمالكم، اور باطل نہ کرو اپنے اعمال کو۔ اپنے اعمال کو ضائع نہ کرو، ان کو باطل نہ کرو۔ يا أيها الذين آمنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول ولا تبطلوا أعمالكم، اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو، کہنا مانو اللہ کا اور اس کے رسول کا اور ضائع نہ کرو، باطل نہ کرو اپنے اعمال کو۔ بھাই عند الأحناف، احناف کے نزدیک نفل نفلی نماز پڑھنا یا نفلی روزہ وغیرہ رکھنا، یہ انسان کی مرضی ہے۔ یہ انسان کی مرضی ہے۔ نفلی نماز پڑھنا چاہتا ہے پڑھے، نہیں پڑھنا چاہتا نہ پڑھے، اس کی مرضی ہے۔ ہاں کچھ چیزیں تو فرض ہیں، اللہ نے فرض کر دی ہیں وہ تو پڑھنا پڑیں گی۔ لیکن نفل کے اندر انسان کا اختیار ہے کرنا چاہے کر لے، نہیں کرنا چاہتا نہ کرے۔ کرے گا تو اللہ عظیم اجر دیں گے، آخرت میں ثواب ملے گا۔ لیکن اگر نہیں کرتا تو اس میں آخرت میں اس پر کوئی سزا نہیں، اس کی مرضی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ لیکن نفل کو ایک دفعہ شروع کر دیا تو اب وہ آپ پر واجب ہو گیا۔ آپ نے دو رکعت نفل پڑھنا شروع کر دیے، پھر کسی وجہ سے نفل توڑنے پڑے، بس ایک دفعہ جب آپ نے شروع کر دیے تھے، اب آپ پر وہ واجب ہو گئے۔ اگر توڑ دیے ہیں، تو اب ان کی قضا آپ کے ذمے ہے ضروری بھئی۔ روزہ نفلی مرضیہ رکھیں نہ رکھیں، لیکن ایک دفعہ شروع کر دیا، پھر اگر توڑ دیا، تو پھر کیا کرنا پڑے گی اس کی؟ قضا کرنا پڑے گی بھئی۔ یہ کس کا مذہب ہے؟ احناف کا مذہب ہے۔ دلیل کیا ہے؟ ولا تبطلوا أعمالكم، اے مومنو اپنے اعمال کو باطل نہ کرو بھئی۔ اپنے اعمال کو باطل نہ کرو، ایک دفعہ شروع کر دیا تو اس کو پورا کرو، یہ دلیل ہے مولانا یہ یاد رکھنا بھئی۔ إن الذين كفروا وصدوا عن سبيل الله، بے شک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا وصدوا عن سبيل الله، اور روکا انہوں نے اللہ کے راستے سے، ثم ماتوا، پھر وہ مر گئے وہم كفار، یہ وہم كفار یہ حال ہے ماتو کی واؤ ضمیر سے۔ ماتو کی واؤ ضمیر سے۔ پھر وہ مر گئے اس حال میں کہ وہ کافر تھے، یعنی کفر کی حالت ہی میں وہ مر گئے، یہ با محاورہ ترجمہ ہوا۔ کفر کی حالت ہی میں وہ مر گئے، فلن يغفر الله لهم، پس ہرگز اللہ ان کی بخشش نہیں فرمائے گا۔ معنی سمجھ میں آگیا؟ إن الذين كفروا، بے شک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا وصدوا عن سبيل الله، اور اللہ کے راستے سے روکا ثم ماتوا وهم كفار، پھر کفر پر ہی وہ مر گئے فلن يغفر الله لهم، تو اللہ ہرگز ان کی مغفرت نہیں فرمائیں گے۔ فلا تهنوا وتدعوا إلى السلم. وھنا یھنو کے معنی ہوتے ہیں کمزور ہونے کے۔ وھنا یھنو کے معنی کمزور ہونا۔ سلم سلم کہتے ہیں صلح کو۔ سلم کس کو کہتے ہیں؟ صلح کو۔ اللہ فرما رہے ہیں فلا تهنوا پس تم کمزور مت ہو یعنی سستی نہ کرو۔ وتدعوا اس کا عطف اسی تھنو پر ہے، یہ بھی نھی کے تحت ہے بھئی کس کے تحت ہے؟ نھی۔ اور نہ پکارو نہ بلاؤ الی السلم صلح کی طرف۔ اللہ مومنین سے فرما رہے ہیں بھئی جہاد کا حکم دیا گیا ہے اور اللہ فرما رہے ہیں جب کفار سے مقابلہ ہو تمہارا تو کمزور مت ہو، کمزور مت پڑنا اور صلح کی طرف نہ بلانا ان کو۔ صلح کی طرف ان کو نہ بلانا۔ دوسری جگہ آیت میں آتا ہے سورہ انفال کے اندر کہ اگر وہ صلح کی طرف آئیں تو تم بھی صلح کی طرف آ جاؤ۔ وہاں اللہ کیا فرماتے ہیں اگر کفار صلح کی طرف آئیں تو تم بھی کس طرف آ جاؤ؟ صلح کی طرف آ جاؤ ان سے صلح کر لو۔ اور یہاں اللہ فرما رہے ہیں ان کو صلح کی طرف نہ بلاؤ، بھئی دونوں کا محل الگ الگ ہے۔ وہاں ذکر ہے کفار اگر صلح کی طرف آئیں یعنی وہ دب گئے صلح کی طرف آ گئے کہ ہمارے ساتھ صلح کر لو، ڈر گئے بھئی۔ اور یہاں پر ذکر ہے کہ تم کمزور نہ پڑنا اور اپنی کمزوری کی وجہ سے ان کو صلح کیا نہ کہنا، کمزور پڑ کر صلح کے ان سے درخواست نہ کرنا بھئی۔ معنى سمجھ میں آیا بھئی؟ وہ آتے ہیں صلح کی طرف تو صلح کر لو ان سے لیکن تم ڈر جاؤ کہ ہم تو کمزور ہیں ان سے لڑ نہیں سکیں گے، بہتر یہ ہے اس وقت ان سے صلح کر لیتے ہیں، نہیں نہیں تم صلح نہ کرو ان سے بھئی، ان کو صلح کی طرف نہ بلاؤ۔ معنى سمجھ میں آ گیا بھئی؟ فلا تهنوا وتدعوا إلى السلم پس تم کمزور نہ پڑو اور نہ پکارو ان کو صلح کی طرف۔ فلا تهنوا وتدعوا إلى السلم پس تم کمزور نہ پڑو اور نہ بلاؤ صلح کی طرف وانتم الاعلون اور تم ہی غالب رہو گے۔ وانتم الاعلون تم ہی غالب رہو گے، یہی ترجمہ کر لیں وانتم الاعلون تم ہی سربلند رہو گے۔ تم ہی سربلند رہو گے۔ واللہ معكم اور اللہ تمہارے ساتھ ہے۔ اللہ فرما رہے ہیں کہ تم کمزور نہ پڑنا اور اپنی اپ کو کمزور سمجھ کر ان کو صلح کی طرف نہ بلانا، تم ہی غالب رہو گے، اللہ تمہارے ساتھ ہیں، اور جس کے ساتھ اللہ ہو اس کو کسی چیز کا کیا خوف ہو سکتا ہے۔ واللہ معكم اور اللہ تمہارے ساتھ ہیں ولن یترکم اعمالکم اور ہرگز اللہ کمی نہیں کرے گا تمہارے اعمال میں۔ وترا یترو کے معنی ہوتے ہیں کمی کرنا، کسی چیز میں کمی کرنا۔ اللہ فرما رہے ہیں کہ میں تمہارے اعمال میں کوئی کمی نہیں کروں گا۔ یعنی اس کے بدلے میں۔ تم نے جو عمل کیے ہیں اس میں کوئی کمی نہیں کروں گا یعنی اس کا پورا پورا بدلہ میں تمہیں دوں گا، انعام اس کا دوں گا تمہیں، شبہ دراصل یہاں پڑھتا تھا کہ بھئی کفار سے مقابلہ ہوتا ہے تو بعض اوقات فتح نہیں ہوتی۔ یا بعض لوگ فتح سے پہلے ہی جو شہید ہو گئے بھئی دنیا سے چلے گئے۔ تو شاید ان کے عمل جو ہے اس میں کمی رہ گئی، اللہ فرماتے ہیں نہیں نہیں جس نے میرے راستے میں جان دے دی اور کیا رہ گیا؟ یا تمہیں اگر شکست ہو جائے تو کیا ہوا، تم نے تو اپنی طرف سے پوری کوشش کی، میں تمہارے اعمالوں میں یعنی اس کے جزا میں کسی قسم کی کمی نہیں کروں گا۔ ولن یترکم اعمالکم اور ہرگز اللہ کمی نہیں کرے گا تمہارے اعمال میں انما الحیاۃ دنیا لعب ولہو دنیاوی زندگی تو کھیل اور تماشا ہے۔ وإن تؤمنوا وتقوكم أجوركم ولا يسألكم أموالكم اور اگر تم ایمان لاؤ وتقو اور ڈرو ڈرو تم، یعنی اللہ سے۔ یا یہ معنی کر لیں وإن تؤمنوا وتقو اور اگر تم ایمان لاؤ اور تقویٰ اختیار کرو تو عطا کرے گا اللہ تم کو تمہارے اجر، اللہ تم کو تمہارے اجر عطا کرے گا، اللہ تم کو تمہارا بدلہ عطا کرے گا ولا يسألكم أموالكم اور اللہ وہ تم سے تمہارے مال کا سوال نہیں کرتے، یعنی سارے مال کا سوال اللہ تم سے تمہارا سارا مال طلب نہیں کرتے، اللہ تم سے تمہارا سارا مال نہیں مانگتے۔ کچھ تھوڑا سا ہے، معمولی سا بھئی زکوۃ فرض کی گئی ہے، لیکن وہ بھی ہمارے اپنے نفع کے لیے ہے بھئی، کس کے لیے ہے؟ ہمارے اپنے نفع کے لیے ہے کہ اس سے ہمارے مومنین بھائیوں کی تکالیف دور ہوں گی جو غربا ہیں، اور پھر آخرت میں ہمیں اللہ اس کا عظیم اجر دیں گے۔ اللہ فرما رہے ہیں ولا يسألكم أموالكم اللہ تم سے تمہارے مال نہیں طلب کرتے إن يسألكموها اگر اللہ تم سے طلب کریں ہا، ہا ضمیر اموال کو راجع، اگر اللہ تم سے تمہارے مال طلب کریں، یعنی کہ سارے مال اللہ تم سے تمہارا سارا کا سارا مال اگر اللہ تم سے طلب کریں فیحفکم احفا يحفی کے معنی ہوتے ہیں احفا يحفی کے معنی بار بار کوئی چیز کسی سے طلب کرنا۔ بار بار کسی سے کوئی چیز طلب کرنا۔ تو بار بار کسی سے کوئی چیز طلب کر کے اس کو تکلیف دینا، اس کو تنگ کرنا۔ ایک چیز بار بار مانگی جائے کسی سے، اصرار کیا جائے بھئی، اس طرح اس کو تنگ کرنا بھئی۔ تو اللہ فرما رہے ہیں إن يسألكموها اگر وہ اللہ تم سے مانگے تمہارے سارے مال فیحفکم پھر پھر سختی کرے اس میں یعنی بار بار مانگیں۔ اللہ کیا کریں؟ پھر اس سے بار بار مانگے یعنی سختی کریں، معنی سمجھ میں آ گیا کہ نہیں بھئی؟ پھر اس میں فیحفکم پھر تم پر سختی کریں۔ يا فیحفکم پھر تم سے بار بار مانگیں تبخلو تو تم بخل کرنے لگو گے، اللہ سارا مال مانگے اور اس پر بار بار اصرار فرمائے کہ مال دو اللہ کے راستے میں اپنا سارا مال تبخلو تو تم کیا کرنے لگو گے؟ بخل کرنے لگو گے ويخرج أغانكم يخرج پیچھے بھی گزرا تھا بھئی، يخرج أي يظهر اللہ تمہارے چھپے کینوں کو ظاہر کر دے گا، یعنی ناراضگی مراد ہے، یہاں کیا مراد ہے؟ بھئی سارا مال دینا کوئی بھی پسند نہیں کرے گا، تو دل میں ناراضگی آئے گی بھئی، اور اللہ تمہاری ان ناراضگیوں کو ظاہر کر دے گا، کیا کر دے گا؟ اگر اللہ تم سے سارا مال مانگے اور اس پر اصرار کریں بار بار مجھ سے کہیں کہ اپنا مال اللہ کے راستے میں دو تو تم لوگ بخل کرنے لگو گے اور اللہ تمہارے اس ناراضگی کو ظاہر کر دے گا۔ حالانکہ مال کیا چیز ہے؟ مال تو اللہ کے اگر سارا طلب کریں، سارا اللہ کے راستے میں دے دینا چاہیے۔ لیکن ہم اس لیے سارے مال کا حکم نہیں دیتے کہ یہ تمہارے لیے مشکل ہو جائے گا۔ اور اگر اللہ یہ حکم دے دیں تو تمہارے دلوں میں جو ناراضگی ہو اس کو اللہ ظاہر فرما دیں سب کے سامنے۔ إن يسألكموها فيحفكم اپس اگر وہ اللہ تم سے اس تمہارے سارے مال مانگیں فیحفكم پس اس کو بار بار طلب کریں تبخلو تو تم بخل کرو ويخرج أغانكم اور اللہ ظاہر کر دے تمہاری چھپی ناراضگیوں کو ها انتم هؤلاء ها حرف تنبیہ ہے جیسے الا حرف تنبیہ تھا، ہاں وہی معنی بھئی خبردار یا یاد رکھو ها انتم هؤلاء یاد رکھو تم وہ لوگ ہو تدعون تم کو بلایا جاتا ہے لتنفقوا في سبيل الله کہ تم خرچ کرو اللہ کے راستے میں فمنكم من يبخل پس تم میں سے بعض وہ ہیں جو بخل کرتے ہیں ومن يبخل فإنما يبخل عن نفسه اور جو کوئی بخل کرتا ہے تو وہ اپنے ہی نفس سے بخل کرتا ہے۔ وہ کیا کرتا ہے؟ اپنے ہی نفس سے بخل کرتا ہے بھئی جو خرچ کرو گے اس کا نفع تم ہی کو ملنا ہے، تو جب خرچ نہیں کرو گے بخل کرو گے تو گویا دراصل کس سے بخل کر رہے ہو؟ اپنے ہی نفس سے بخل کر رہے ہو، اس کے نفع کو روک رہے ہو۔ ف و من يبخل فإنما يبخل عن نفسه اور جو بخل کرتا ہے تو وہ اپنے ہی نفس سے بخل کرتا ہے واللہ الغنی وأنتم الفقراء اللہ بے نیاز ہیں وأنتم الفقراء اور تم محتاج ہو۔ اللہ تم تمہارے مالوں سے بے نیاز ہے اور تم اللہ کے محتاج ہو۔ واللہ الغنی وأنتم الفقراء اللہ بے نیاز ہیں اور تم محتاج ہو وإن تتولو اور اگر تم روگردانی کرو گے، اگر تم رخ پھیر لو گے، اعراض کرو گے۔ اور اگر تم رخ پھیر لو گے اگر تم اعراض کرو گے يستبدل تو اللہ بدل دے گا قوما ایک ایسی قوم کو غيركم جو تمہارے علاوہ ہوگی۔ اگر تم اللہ کے حکم سے روگردانی کرو گے تو اللہ تمہاری جگہ دوسری قوم کو لے آئیں گے، تمہیں بدل کر دوسری قوم کو لے آئیں گے ثم لا يكون امثالكم پھر وہ لوگ نہیں ہوں گے تمہاری طرح۔ وہ لوگ تمہاری طرح بخل نہیں کریں گے وإن تتولو يستبدل قوما غيركم اور اگر تم رخ پھیر لو گے تم اگر تم اعراض کرو گے اللہ تمہاری جگہ دوسری قوم کو لے آئیں گے، اللہ تمہاری جگہ دوسری قوم کو بدل دیں گے ثم لا يكون امثالكم پھر وہ تمہارے طرح نہیں ہوں گے۔ ها انتم هؤلاء یاد رکھو تم وہ لوگ ہو تدعون کہ بلایا جاتا ہے تم کو لتنفقوا في سبيل الله کہ تم خرچ کرو اللہ کے راستے میں فمنكم من يبخل پس تم میں سے بعض بخل کرتے ہیں ومن يبخل فإنما يبخل عن نفسه اور جو کوئی بخل کرتا ہے تو وہ اپنے ہی نفس ہی سے بخل کرتا ہے واللہ الغنی وأنتم الفقراء اور اللہ اللہ بے نیاز ہے اور تم محتاج ہو وإن تتولو يستبدل قوما غيركم اور اگر تم روگردانی کرو گے اگر تم روگردانی کرو گے تو اللہ تمہاری جگہ دوسری قوم کو لے آئیں گے ثم لا يكون امثالكم پھر وہ تمہاری طرح نہیں ہوں گے۔ چلیے بس بھئی, ھذا هو المراد والله أعلم بحقيقة الكلام.
131 approved lectures · 98 of 131