اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
افمن زُین لہُ سوءُ عملہِ فرآہُ حسناً۔ فإن اللہ یضلُّ من یشاءُ ویہدی من یشاءُ۔ فلا تذہب نفسک علیہم حسراتٍ إن اللہ علیمٌ بما یصنعون۔
افمن زُین لہُ، کیا پس وہ شخص زُین لہُ کہ مزین کر دیا گیا اس کے لیے، سوءُ عملہِ اس کا برا عمل۔
مزین کر دیا گیا اس کا برا عمل۔ لفظی ترجمہ اگر کریں سوءُ عملہِ، یہ مضاف مضاف علیہ ہیں تینوں لفظ بھئی آپس میں۔ سوء مضاف ہے عمل کی طرف اور عمل پھر آگے مضاف ہے ہا ضمیر کی طرف۔ تو یہ ترجمہ ہوگا، آخر سے ترجمہ ہوگا، اس کے عمل کی برائی۔ کیا پس وہ شخص کہ مزین کر دیا گیا اس کے لیے اس کے عمل کی برائی کو،
اس کے عمل کی برائی کو، فرآہُ حسناً پس وہ اس کو اچھا سمجھتا ہے۔
فرآہُ پس اس کو وہ اچھا سمجھتا ہے بھئی۔
تو یہ سوءُ عملہِ کیا ترجمہ میں نے کیا، اس کے عمل کی برائی۔ یہ دراصل اضافت ہے صفت کی موصوف کی طرف۔ سوءُ یہ صفت ہے عملہِ کی اور پھر عربی میں بعض اوقات صفت کی پھر اضافت کر دی جاتی ہے موصوف کی طرف۔ تو اصل میں تھا عملہُ السوءُ، عملہُ السوءُ۔ تو السوء صفت تھی عملہُ کی۔ پھر اس کی اضافت کس کی طرف کر دی گئی؟ عمل کی طرف، صفت سے کاٹ کر، وصفت سے کاٹ کر اس کی اضافت کر دی گئی۔
تو چاہے آپ یہی ترجمہ کر لیں جو اس وقت ہے اس کے عمل کی برائی، جو مضاف مضاف علیہ والا ہے۔ چاہے آپ وہ ترجمہ کر لیں عملہُ السوء اس کا برا عمل، اس کا برا عمل۔
افمن زُین لہُ سوءُ عملہِ پس کیا وہ شخص کہ مزین کر دیا گیا اس کے لیے اس کا برا عمل فرآہُ حسناً پس وہ سمجھتا ہے اس کو اچھا۔ رآى بھئی رویت کا معنی ہے دیکھنا۔ یہاں یہ رویتِ قلبی مراد ہے بھئی، دل سے دیکھنا یعنی سمجھنا۔ رأیتُ زیداً عالماً، میں نے زید کو عالم دیکھا۔ کیا معنی عالم دیکھا؟ یعنی عالم سمجھا، عالم پایا میں نے اس کو۔
تو فرآہُ حسناً تو وہ اس کو اچھا پاتا ہے، تو وہ اس کو اچھا سمجھتا ہے۔
افمن زُین، ہمزہ استفہام ہے اور اس کے بعد فا ہے بھئی۔ یہ بات پہلے بھی بیان ہو چکی کہ ہمزہ استفہام کے بعد فا یا واو آئے تو یہ فا اور واو عاطفہ ہوتے ہیں اور اس سے ماقبل میں عبارت محذوف ہوتی ہے بھئی، جو موقع محل کے مطابق مفسرین بیان کرتے ہیں کہ یہاں یہ عبارت ہوگی یا یہ ہوگی بھئی، یا اس قسم کی عبارت بھئی۔
تو افمن زُین لہُ تو کیا عبارت ہوگی؟ اس کی اتنی گہرائی میں آپ کو جانے کی ضرورت نہیں ابھی، لیکن بہرحال یہ بات یاد رکھیں کہ یہ جو فا اور واو آئے ہمزہ استفہام کے بعد یہ کیا ہوتے ہیں؟ عاطفہ ہیں بھئی، فا بھی عاطفہ، واو بھی عاطفہ۔
افمن زُین لہُ سوءُ عملہِ کیا پس وہ شخص کہ مزین کر دیا گیا اس کے لیے اس کے اس کے برے عمل کو فرآہُ حسناً تو وہ اس کو اچھا سمجھتا پس وہ اسے اچھا سمجھتا ہے،
اور خبر محذوف ہے بھئی، کمن ہداہُ اللہُ، کمن ہداہُ اللہُ اس شخص کی طرح جسے اللہ نے ہدایت دی ہدایت دی ہو۔ کمن، کمن اس شخص کی طرح ہداہُ اللہُ کہ ہدایت دی ہو اسے اللہ نے۔ کیا وہ شخص جس کو لیے اس کے برے عمل کو مزین کر دیا گیا پس وہ اسے اچھا سمجھتا ہے اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جسے اللہ نے ہدایت دی ہو؟ اب معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ کیا وہ شخص جس کے لیے اس کے برے عمل کو مزین کر دیا گیا وہ اپنے برے ہی عمل کو اچھا سمجھ رہا ہے، ایک یہ شخص ہے، کیا یہ شخص اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جسے اللہ نے ہدایت دی ہے؟ یعنی یقیناً یہ اس کی طرح نہیں ہے، یہ اس کی طرح نہیں ہے۔
تو یہاں پر یہ خبر محذوف ہے بھئی۔ خبر محذوف ہے۔
اور آپ کہیں گے اس کی کیا دلیل ہے خبر محذوف ہے؟ بھئی اس جیسی اور آیتیں آتی ہیں، وہاں پر ذکر ہے تو اس کے مطابق یہاں خبر خود سمجھ میں آ جاتی ہے۔
جیسے اور آیت کیا آتی ہے؟ جیسے بھئی، افمن کان مؤمناً کمن کان فاسقاً، اور افمن کان على بینۃٍ من ربہِ کمن زُین لہُ سوءُ عملہِ۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ افمن کان على بینۃٍ من ربہِ کمن زُین لہُ سوءُ عملہِ۔ تو یہ ان جیسی آیتوں سے یہاں پتہ لگ جاتا ہے کہ یہاں پر یہ خبر محذوف ہے۔
ترجمہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ کیا پس وہ شخص کہ جس کے لیے مزین کر دیا اس کے برے عمل کو پس وہ اس کو اچھا سمجھتا ہے اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جسے اللہ نے ہدایت دی ہو؟ یعنی یقیناً دونوں برابر نہیں ہیں۔ فإن اللہ یضلُّ من یشاءُ ویہدی من یشاءُ، پس یقیناً اللہ یضلُّ گمراہ کرتے ہیں من یشاءُ جسے چاہتے ہیں ویہدی اور اللہ ہدایت دیتے ہیں من یشاءُ جسے چاہتے ہیں۔
فإن اللہ یضلُّ من یشاءُ پس یقیناً اللہ گمراہ کرتے ہیں جسے چاہتے ہیں ویہدی من یشاءُ اور ہدایت دیتے ہیں جسے چاہتے ہیں۔ اور اللہ گمراہ اسی کو کرتے ہیں جو گمراہی کو چاہتا ہے اور اللہ ہدایت اسی کو دیتے ہیں جو ہدایت کو چاہتا ہے۔ اللہ گمراہ کرتے ہیں یا اللہ ہدایت دیتے ہیں، یعنی جو جس راستے کو چاہتا ہے اللہ اسی طرف اس راستے کی طرف چلنے کو اس کے لیے آسان کر دیتے ہیں بس۔ گمراہی کی طرف جانا چاہتا ہے اللہ گمراہی ہی کی طرف جانے دیتے ہیں اور جو شخص ہدایت کی طرف آنا چاہتا ہے اللہ اس کے لیے دروازے ہدایت کے کھول دیتے ہیں بھئی۔
مفہوم سمجھ میں آ گیا بھئی؟ یہ نہیں کہ اللہ گمراہ کریں انسان بالکل مجبور ہے گویا پھر تو، نہیں یہ معنی نہیں ہے بھئی۔ میں نے معنی بتلا دیا آپ کو کہ گمراہ کرتے ہیں، کسے گمراہ کرتے ہیں؟ جو گمراہی کو چاہتا ہے، جو گمراہی کے راستے پر چلنا چاہتا ہے اور اسی کی شوق ہے اس میں اور وہی پسند ہے اسے، تو اللہ بھی ادھر ہی جانے دیتے ہیں اسے۔ اور جو نیکی پسند کرتا ہے، نیکی کے راستے پر چلنا چاہتا ہے، ہدایت کی طرف جانا چاہتا ہے، ہدایت کی طلب ہے اس کے دل میں، تو اللہ اس کے لیے ہدایت کے دروازے کھول دیتے ہیں۔
فإن اللہ یضلُّ من یشاءُ ویہدی من یشاءُ پس یقیناً اللہ گمراہ کرتے ہیں جسے چاہتے ہیں ویہدی من یشاءُ اور ہدایت دیتے ہیں جسے چاہتے ہیں۔ فلا تذہب نفسک پس کہیں چلی نہ جائے نفسک آپ کی جان علیہم ان کو ان کفار پر حسراتٍ افسوس کرتے ہوئے بھئی، بطور افسوس کے۔
فلا تذہب نفسک، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سے اللہ فرما رہے ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم جو ہے ہر وقت ان کی کوشش یہی ہوتی تھی کہ لوگ دائرہ اسلام کے اندر داخل ہو جائیں اور جہنم کا ایندھن بننے سے بچ جائیں اور حد سے زیادہ اپنی پوری جس قدر کوشش ہو سکتی تھی وہ اس میں خرچ فرماتے تھے اور ہر ایسے ایسے ہر ایسا طریقہ اختیار کرتے کہ جس کے ذریعے لوگ ہدایت کی طرف متوجہ ہو جائیں، لیکن وہ مشرکینِ مکہ تھے کہ وہ مانتے ہی نہیں تھے بلکہ آپ کو تکالیف دیتے رہتے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بہت غم کھاتے تھے کہ یہ لوگ جہنم کی طرف جا رہے ہیں۔
کتنا غم کھاتے تھے، کتنا غم کھاتے تھے آپ اس سے اندازہ لگائیے کہ خالقِ ارض و سما ان کو فرما رہے ہیں کہ اے پیغمبر! ان پر اتنا غم اور اتنا افسوس نہ کھائیں کہیں ایسا نہ ہو آپ کی اپنی جان ہی چلی جائے اس غم کے اندر بھئی۔ کتنی فکر تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کی!
آپ چاہتے تھے ہر شخص جہنم سے بچ جائے، جنت کے راستے پر آ جائے، جنت کی طرف آ جائے۔
تو آپ غم زدہ رہتے ان کے ایمان نہ لانے پر، تو اللہ فرما رہے ہیں فلا تذہب نفسک کہ کہیں چلی نہ جائے آپ کی جان علیہم ان پر حسراتٍ افسوس کرتے ہوئے۔ فلا تذہب نفسک علیہم حسراتٍ کہیں آپ کی جان نہ چلی جائے ان پر افسوس کرتے ہوئے إن اللہ علیمٌ بما یصنعون یقیناً اللہ جاننے والا ہے وہ جو یہ کرتے ہیں۔
یقیناً اللہ جاننے والا ہے جو یہ کرتے ہیں، جو یہ عمل کرتے ہیں۔
واللہُ الذی ارسل الریاح، اور اللہ وہ ذات ہیں جو بھیج جو بھیجتے ہیں ہواؤں کو، فتثیرُ سحاباً پس وہ ہوائیں اٹھاتی ہیں بادل کو، فسقناہُ الی بلدٍ میتٍ پس ہم اس کو لے جاتے ہیں۔ ساق یسوق کے معنی ہوتے ہیں ہانکنا، ہانکنا۔ مثلاً جانور آپ لے کر چل چل چلتے ہیں اور خود پیچھے ہیں، جانور آپ کے آگے ہیں، آپ ان کو لے کر چل رہے ہیں تو اس کو کہتے ہیں ہانکنا بھئی، ہانک کر لے جانا۔
تو یہاں صرف لے جانے کے معنی میں ہے بھئی۔ فسقناہُ الی بلدٍ میتٍ پس ہم اس کو لے جاتے ہیں الی بلدٍ میتٍ مردہ زمین کی طرف بھئی، مردہ شہر یعنی مردہ زمین کی طرف۔ مردہ زمین سے کیا مراد ہے؟ خشک و بنجر زمین بھئی۔
واللہُ الذی ارسل الریاح اللہ وہ ذات ہیں جو بھیجتے ہیں ہواؤں کو فتثیرُ سحاباً پس وہ اٹھاتی ہیں بادل کو، ہوائیں بھئی چلتی ہیں اور پھر وہ بخارات کو، پانی کو اٹھاتی ہیں سمندر کے اوپر سے، فسقناہُ الی بلدٍ میتٍ۔
پس ہم لے جاتے ہیں اسے مردہ زمین کی طرف فاحیینا بہِ الارضَ پس ہم زندہ کرتے ہیں اس کے ذریعے زمین کو بعد موتہا اس کی موت کے بعد۔ زمین کی موت کیا ہے؟ اس کا خشک اور بنجر ہو جانا۔ تو ہم اور اس کا زندہ ہونا کیا ہے؟ اس کا سرسبز و شاداب ہو جانا، اس پر نباتات کا، پودوں کا، درختوں کا اگ آنا۔ فاحیینا بہِ الارضَ پس ہم زندہ کرتے ہیں اس کے ذریعے زمین کو بعد موتہا اس کی اس کی موت کے بعد، اس کے مر جانے کے بعد۔
تو اللہ ہوائیں بھیجتے ہیں اور یہ ہوائیں پھر سمندر سے بخارات اٹھاتی ہیں، پانی اٹھاتی ہیں اور پھر وہ بخارات اوپر پہنچ کر بادل کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور پھر وہ ہوائیں اس بادل کو لے کر چلتی ہیں اور پھر جہاں جہاں اللہ چاہتے ہیں وہاں پر بارش برساتی ہیں وہ۔
اور کتنا پانی ہوتا ہے انسان سوچتا ہے تو حیران رہ جاتا ہے۔ کتنا پانی ہوتا ہے کہ پورے پورے علاقہ، سینکڑوں میل کا علاقہ جو ہے ان میں بارش برستی چلی جاتی ہے۔ شہر کے شہر، حتیٰ کہ اتنا پانی ہوتا ہے جیسے ابھی آپ نے سیلاب میں دیکھا بھئی، کتنا پانی تھا، کتنی بارشیں ہوئیں، کتنا پانی برسا کہ ہمارے ملک کا ایک بہت بڑا حصہ پانی کے اندر ڈوب گیا بھئی۔ کتنا پانی ہوگا بھئی!
لاکھوں کروڑوں ٹن سے بھی زیادہ پانی بھئی!
واللہُ الذی ارسل الریاح اور اللہ وہ ذات ہیں جو بھیجتے ہیں ہواؤں کو فتثیرُ سحاباً پس وہ اٹھاتی ہیں بادل کو۔ اللہ وہ ذات ہیں جو بھیجتے ہیں ہواؤں کو، دیکھو غائب کے انداز میں کلام ہو رہا ہے۔
غائب کے انداز میں، کون بھیجتے ہیں ہواؤں کو؟ اللہ بھیجتے ہیں۔ آگے آیا فسقناہُ الی بلدٍ میتٍ پس ہم اس کو لے جاتے ہیں مردہ زمین کی طرف، یہ التفات ہوا، پہلے بھی بیان ہو چکا کہ کلام کے تین طریقے ہیں: ایک غیبت کا، ایک تکلم کا اور ایک خطاب کا، تو ایک طریقے سے انتقال کرنا دوسرے طریقے کی طرف یہ کیا کہلاتا ہے؟ التفات۔ تو پہلے تھا غائب کا انداز اور اس کے بعد آیا فسقناہُ ہم اس کو لے جاتے ہیں، پہلے تھا اللہ لے جاتے ہیں غائب کے انداز میں، اب ہم لے جاتے ہیں، یہ تکلم کا انداز آیا تو یہ التفات ہے بھئی، غیبت سے تکلم کی طرف۔
فسقناہُ الی بلدٍ میتٍ پس ہم لے جاتے ہیں اس کو مردہ زمین کی طرف فاحیینا بہِ الارضَ پس زندہ کرتے ہیں ہم اس کے ذریعے زمین کو بعد موتہا اس کے خشک اس کے موت کے بعد كذلك النشور، اسی طرح قبروں سے اٹھنا ہوگا۔
اسی طرح قبروں سے اٹھنا ہوگا۔
یعنی قبروں سے بھی اسی طرح اٹھایا جائے گا۔
یعنی جس طرح ایک زمین مردہ پڑی ہوتی ہے، خشک اور بنجر ہوتی ہے زندگی کے
میں کوئی آثار نہیں ہوتے اور پھر جب بارش برستی ہے تو وہی زمین سرسبز ہو جاتی ہے اور ہر طرف سبزہ لہلہانے لگتا ہے تو زمین جیسے یہ مردہ زمین جیسے زندہ ہو گئی، اسی طرح قیامت کے دن کیا کیا جائے گا؟ تمام انسانوں کو قبروں سے وہ نکلیں گے اور اٹھیں گے تو یہ بھی اسی طرح ہے۔
تو نشور کہتے ہیں بعث بعد الموت بھئی، موت کے بعد جو اٹھنا ہے اس کو نشور کہتے ہیں۔ موت کے بعد جو اللہ اٹھائیں گے، یہ نشور بھئی۔
تو اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ کذالک النشور، اسی طرح قبروں سے اٹھایا جائے گا۔
احادیث میں آتا ہے کہ جب جب تک اس زمین پر ایک بھی شخص اللہ کا نام لینے والا ہوگا، اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی۔ اور جب ایک بھی شخص اللہ کا نام لینے والا نہ رہے گا پھر اس وقت حضرت اسرافیل علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے حکم ہوگا صور پھونکنے کا۔
جب مومنین بہت ہی تھوڑے سے رہ جائیں گے تو پھر ان پر بھی اللہ کی طرف سے موت آ جائے گی اور زمین پر صرف کفار و مشرکین رہ جائیں گے، اللہ کا نام لینے والا کوئی نہ ہوگا تو اس وقت پھر حضرت اسرافیل علیہ السلام کو اب حکم ہوگا کہ وہ صور پھونکیں، وہ صور پھونکیں گے۔ پہلے اس کی آواز ہلکی ہلکی آنا شروع ہوگی، لوگ توجہ نہیں دیں گے۔ پھر تھوڑی سی ذرا جب تیز ہوگی، لوگ حیران ہوں گے کہ یہ کس چیز کی آواز ہے، کہاں سے آ رہی ہے اور پھر وہ آواز بڑھتے بڑھتے اتنی بڑھ جائے گی کہ تمام لوگ اس کی وجہ سے ہلاک ہو جائیں گے بھئی، تمام لوگ ہلاک ہو جائیں گے۔
چنانچہ تمام لوگ ہلاک اور تمام جاندار جو ہیں ان پر موت آئے گی بھئی، پھر اس سب پر موت آ جائے گی اور حتیٰ کہ اللہ کے علاوہ کوئی ایک فرشتہ بھی باقی نہیں رہے گا، سب پر موت آ جائے گی اور اس وقت اللہ فرمائیں گے "لمن الملک اليوم" آج کے دن کس کی بادشاہی ہے؟ کوئی جواب دینے والا نہیں ہوگا، اللہ خود ہی فرمائیں گے "للہ الواحد القہار"، اس اللہ کے لیے جو ایک ہے، جو قہار ہے۔
تو بعض یہ مفسرین لکھتے ہیں، یہ اس وقت اللہ فرمائیں گے بھئی۔ اور بعض کہتے ہیں کہ یہ قیامت کے دن اللہ فرمائیں گے "لمن الملک اليوم، للہ الواحد القہار"۔
تو 40 سال تک یہ اسی طرح رہیں گے بھئی۔ پھر اس کے بعد عرش کے نیچے سے بارش ہوگی بھئی۔ اور اس بارش کی وجہ سے تمام لوگ، تمام لوگوں کے، جانوروں، پرندوں وغیرہ کے جسم زمین سے اسی طرح اگ آئیں گے جس طرح کے درخت اور پودے وغیرہ اگ آتے ہیں۔ تمام جسم اسی طرح اگ آئیں گے زمین سے۔
اور پھر وہ فرشتے وغیرہ زندہ کیے جائیں گے اور حضرت اسرافیل علیہ السلام جو ہیں، دوبارہ صور پھونکیں گے، ان کو حکم ہوگا۔ یہ 40 سال کے پہلے صور اور دوسرے صور کے درمیان یہ 40 سال کا وقفہ ہوگا۔
اور پھر جب وہ دوبارہ صور پھونکیں گے تو روحوں کو چھوڑ دیا جائے گا اور وہ بدن جو ان کے اگ آئے تھے، ہر روح اپنے اپنے بدن میں پہنچ جائے گی بھئی۔ اور پھر اس کے بعد وہ حساب کتاب کا نظام شروع ہوگا اور مومنین کے لیے جنت اور کفار و مشرکین کے لیے جہنم کا اعلان ہوگا بھئی، جہنم کا اعلان۔
قیامت کا دن بہت سختی والا دن ہوگا بھئی، حد سے زیادہ انسان تصور نہیں کر سکتا۔ لیکن جو اہل ایمان ہوں گے، ان کے لیے اللہ اس دن کو نہایت آسان فرما دیں گے بھئی۔ پہلے بھی یہ میں بیان کر چکا ہوں، کتنا آسان فرما دیں گے اللہ، جیسے ایک فرضی نماز کا وقت ہوتا ہے، یعنی جیسے عصر سے مغرب تک کا وقت یا بعضوں نے کہا جتنا وقت جتنا فرضی نماز پڑھنے میں وقت لگتا ہے، یعنی یہ جو چار پانچ منٹ لگتے ہیں ایک فرضی نماز پڑھنے میں، تو اتنی آسانی سے وقت گزر جائے گا قیامت کا ان پر، انہیں پتہ بھی نہیں چلے گا بھئی۔ دعا کرو اللہ ہمیں بھی ان مومنین میں سے بنا دے جن پر اللہ یہ وقت اتنی آسانی سے گزاریں گے۔
تو یہی اللہ فرما رہے ہیں کہ "کذالک النشور"، اسی طرح قبروں سے اٹھنا ہوگا، اسی طرح قبروں سے اٹھایا جائے گا، اسی طرح موت کے بعد زندگی دی جائے گی۔
"من کان یرید العزة"، جو کوئی ارادہ کرتا ہے عزت کا، جو کوئی چاہتا ہے عزت، "فللہ العزة جمیعا"، پس اللہ ہی کے لیے ہے ساری کی ساری عزت۔ جو شخص عزت چاہتا ہے تو عزت ساری کی ساری کس کے لیے ہے؟ اللہ کے لیے ہے، تو وہ اللہ کے راستے پر چلے تو اللہ اس کو بھی عزت نصیب فرما دیں گے، کیونکہ ساری عزتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ "من کان یرید العزة فللہ العزة جمیعا"، جو کوئی عزت چاہتا ہے پس اللہ ہی کے لیے ساری عزت ہے۔ "الیہ یصعد الکلم الطیب"، الیہ یصعد الکلم الطیب، اسی کی طرف چڑھتے ہیں پاکیزہ کلمات۔
صعد یصعد صعود کے معنی ہیں اوپر کو چڑھنا، اوپر کی طرف جانا۔ "الیہ یصعد الکلم الطیب"، اسی کی طرف چڑھتے ہیں الکلم الطیب، پاکیزہ کلمات، پاکیزہ کلمات۔
پاکیزہ کلمات، بھئی یہ سبحان اللہ، الحمد للہ، لا الہ الا اللہ، یا اسی طرح جو جو خیر کی اور نیکی کی باتیں ہیں، دعا ہے، خیر کے کلمات ہوں، جو بھی، وہ سب اس میں داخل بھئی۔ تو یہ تمام جو نیک پاکیزہ کلمات ہیں، یہ اوپر کی طرف چڑھتے ہیں اللہ کی بارگاہ میں پیش ہونے کے لیے اور اللہ کے ہاں یہ مقبول ہیں بھئی، قبولیت حاصل ہوتی ہے ان کو۔
تو الیہ اس اللہ ہی کی طرف، ھا ضمیر اللہ کو راجع، الیہ اس اللہ کی طرف "یصعد الکلم الطیب" چڑھتے ہیں پاکیزہ کلمات۔ "والعمل الصالح یرفعہ"، اور نیک عمل ان کو اٹھاتا ہے۔ اور نیک عمل ان کو اٹھاتا ہے۔ یرفع، بھئی توجہ سے سننا، یرفع، یہاں تین معنیٰ ہوں گے بھئی، تین معنیٰ مفسرین بیان کرتے ہیں۔
یرفع، اس کے اندر ایک ھو ضمیر ہے جو فاعل ہے اور ایک اس کے ساتھ ھا ضمیر ملی ہوئی ہے، یہ مفعول کی ہے۔ تو ان ضمیروں کے بدلنے سے معنی بدلے گا بھئی۔ یرفع، ھو ضمیر پہلے راجع کر لیں العمل الصالح کو، کون اٹھاتا ہے؟ کون بلند کرتا ہے؟ عمل صالح، اور دوسری جو ھا ضمیر ہے، یہ راجع ہے الکلم الطیب کو۔ عمل صالح جو ہے پاکیزہ کلمات کو اٹھاتا ہے، بلند کرتا ہے۔ عمل صالح کیا کرتا ہے؟ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ اٹھانے والا کون؟ عمل صالح، اور کس چیز کو بلند کرتا ہے؟ پاکیزہ کلمات کو۔
بھئی پاکیزہ کلمات تو خود پیچھے ذکر آیا کہ وہ اوپر کو چڑھتے ہیں، پھر کیا معنی کہ عمل صالح ان کو اٹھاتا ہے؟ معنی یہ ہے کہ اگر صرف پاکیزہ کلمات ہوں، عمل نہ ہو تو پھر ان کو اتنی بلندی حاصل نہیں ہوتی، اتنی قبولیت حاصل نہیں ہوتی۔ لیکن جب اس کے ساتھ نیک عمل بھی ہو تو ان کی بلندی اور بڑھ جاتی ہے، ان کی قبولیت اور بڑھ جاتی ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو یہ معنی ہے کہ ان کی رفعت اور بڑھ جاتی ہے۔
تو یہ ترجمہ یوں ہوگا، دیکھیے: "الیہ یصعد الکلم الطیب"، اسی کی طرف بلند ہوتے ہیں پاکیزہ کلمات، "والعمل الصالح یرفعہ"، اور پاک اور نیک عمل جو ہے، وہ ان پاکیزہ کلمات کو بلند کرتا ہے۔
دوسرا معنی، اس کا عکس کر دیں۔ ھو ضمیر فاعل کی جو تھی، وہ پہلے راجع تھی کس کو؟ عمل صالح کو، اب وہ راجع کریں کلم طیب کو اور جو ھا ضمیر مفعول کی ہے، وہ راجع کریں عمل صالح کو۔ یعنی کیا ترجمہ ہوگا؟ اور نیک عمل جو ہے، اسے پاکیزہ کلمات بلند کرتے ہیں۔ اسے کیا کرتے ہیں؟ اب بلند کرنے والے کون؟ پاکیزہ کلمات، اور کس کو بلند کر رہے ہیں؟ عمل صالح کو بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ "والعمل الصالح یرفعہ"، اور نیک عمل کہ اسے اٹھاتے ہیں پاکیزہ کلمات، وہ اسے بلند کرتے ہیں۔ پاکیزہ کلمات۔
بھئی معنی یہ ہے، پاکیزہ کلمات یعنی لا الہ الا اللہ، یعنی کہ توحید بھئی۔ توحید جو ہے، یہ نیک عمل کو اوپر لے کر جاتی ہے اور وہ قبول مقبولیت، اسے قبولیت حاصل ہوتی ہے، اگر توحید نہ ہو، ایمان نہ ہو تو پھر نیک عمل کو بھی اللہ کی بارگاہ میں قبولیت حاصل نہیں بھئی۔ تو کیا معنی ہوا نیک عمل کو پاکیزہ کلمات اٹھاتے ہیں؟ یعنی ایمان کی وجہ سے نیک عمل کو بھی قبولیت حاصل ہوتی ہے، ایمان کی وجہ سے۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ دونوں معنی سمجھ میں آ گئے؟
تیسرا معنی، یرفع کی ھو ضمیر راجع کریں اللہ کو بھئی، اللہ اٹھاتے ہیں، اور ھا ضمیر راجع کریں عمل صالح کو، اللہ نیک عمل کو اٹھاتے ہیں یعنی قبول فرماتے ہیں۔
معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ "الیہ یصعد الکلم الطیب"، اللہ ہی کی طرف پاکیزہ کلمات چڑھتے ہیں، "والعمل الصالح یرفعہ"، اور نیک عمل اللہ اس کو بلند کرتے ہیں، اللہ اس کو اٹھاتے ہیں اوپر کی طرف۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ تینوں معنی سب کو سمجھ میں آ گئے؟
اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکیزہ کلمات خود اوپر چڑھتے ہیں اور نیک عمل کو اللہ اٹھاتے ہیں، یہ کیا وجہ ہے؟ یہ خود کیوں نہیں اوپر چڑھتے؟
تو جواب یہ، علماء لکھتے ہیں کہ یہ جو پاکیزہ کلمات ہیں، سبحان اللہ، الحمد للہ، لا الہ الا اللہ، یہ اللہ کی صفت ہیں۔ یہ کیا ہیں؟ یہ اللہ کی صفت ہیں۔ ان کی ذات ہی میں یہ ہے کہ یہ بلندی چاہتے ہیں۔ ان کی ذات ہی ایسی ہے کہ یہ بلندی کو چاہتے ہیں تو یہ اوپر کی طرف چڑھتے ہیں۔ اور نیک عمل وہ انسان کا فعل ہے، انسان کی صفت ہے، وہ ان کی اپنی ذات بلندی کا تقاضا نہیں کرتی، لیکن جب ایمان ہو تو یہ اس نیک عمل کو جو بندے کی صفت ہے، اس کو پھر اللہ کیا فرما دیتے ہیں؟ بلند فرما دیتے ہیں۔ معنی واضح ہو گیا سب پر؟
تو "الیہ یصعد الکلم الطیب"، اس اللہ ہی کی طرف پاکیزہ کلمات چڑھتے ہیں، "والعمل الصالح یرفعہ"، اور نیک عمل اس کو اللہ بلند کرتے ہیں۔ "والذین یمکرون السیئات"، اور وہ لوگ جو تدبیریں کرتے ہیں بری بری، یمکرون تدبیریں کرتے ہیں، "والذین یمکرون السیئات"، اور وہ لوگ جو بری تدبیریں کرتے ہیں، "لہم عذاب شدید"، ان کے لیے سخت عذاب ہے، "ومکر اولئک ہو یبور"، اور ان کی تدبیر جو ہے، ومکر اولئک اور ان لوگوں کی تدبیر، ہو یبور، وہ ہلاک ہونے والی ہے۔ بار یبور بورا کے معنی ہیں ہلاک ہونا، فنا ہونا، ختم ہو جانا۔
اور وہ لوگ جو بری تدبیریں کرتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے، "ومکر اولئک ہو یبور"، اور ان کی تدبیر وہ ہلاک ہونے والی ہے۔ "ومکر اولئک"، اور ان کی تدبیر، "ہو یبور"، وہ ہلاک ہونے والی ہے۔ اور ان کی تدبیر ہلاک ہونے والی ہے، یعنی وہ ہلاک ہو جائے گی، فنا ہو جائے گی، ختم ہو جائے گی۔
چلیے، بس بھئی ھذا اول مرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
کوئی بات سمجھ میں نہ آئی ہو بھئی؟
ھدا... شاباش، ھدا یاد رکھیے، ھدا اکیلا لکھیں ھ، د، ی۔ کیونکہ آخر میں ی آئے اور اس ی کو پھر الف سے بدلا جائے تو لکھتے ی ہی کی صورت میں ہیں، رمٰى، اصل میں کیا تھا؟ رمَیَ، تو ی کے ساتھ ہی لکھیں گے۔ آخر میں و ہو تو اس کو الف سے بدلیں تو پھر الف ہی کی طرح اس کو لکھتے ہیں، جیسے دعا، اصل میں کیا تھا؟ دعَوَ، تو و الف سے بدل گیا تو لکھیں گے بھی الف، لیکن ی آخر میں ہو اور اس کو الف سے بدلا ہو تو ی ہی لکھیں گے۔
لیکن جب اس کے ساتھ کوئی ضمیر آ گئی متصل، تو پھر اب اس ی کو بھی الف کی صورت میں لکھیں گے، ھداہ، ھ، د، ا اور ھ۔