اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
یا بنی انھا ان تک مثقال حبۃ من خردل فتکن فی صخرۃ او فی السماوات او فی الارض یات بھا اللہ۔ ان اللہ لطیف خبیر۔
یا بنی۔ یہ یا حرف ندا ہے اور پھر ابن کی تصغیر ہے اور پھر یا متکلم کی ہے بھئی۔ تو یا بنی۔ یا کیا ہے؟ یا حرف ندا ہے، پھر ابن کی تصغیر بنی وں اور یا متکلم کی ساتھ ملائی اضافت کی گئی تو پھر یہ دونوں اپس میں مل گئے، کیا بن گیا؟ یا بنی۔
تصغیر کو تحقیر کے لیے عموماً لایا جاتا ہے لیکن صرف تحقیر نہیں بعض اوقات اس کے اور بھی مقاصد ہوتے ہیں، جیسے یہاں پر جو تصغیر لائی گئی وہ شفقت کے طور پر ہے۔ کس طور پر ہے؟ شفقت کے طور پر۔ تو یا بنی معنیٰ ہو گا اے میرے پیارے بیٹے۔ اے میرے پیارے۔ یا بنی اے میرے پیارے بیٹے، انھا، ھا ضمیر راجع ہے خصلت کو بھئی۔ خصلت کو راجع ہے، ص کے ساتھ ہے خصلت۔ اور خصلت کہتے ہیں عادت کو بھئی۔ چاہے اچھی ہو چاہے بری اسے خصلت کہا جاتا ہے۔
اس پر اپ کے ذہن میں اشکال آئے گا بھئی کہ یہاں ماقبل میں تو کہیں خصلت کا لفظ نہیں آیا، خصلت کا لفظ؟ تو جواب یہ بھئی کہ خصلت کا لفظ، خصلت سیاق کلام سے مفہوم ہو رہی ہے۔ ماقبل میں اچھی اور بری خصلتوں ہی کا تو تذکرہ ہو رہا ہے بھئی۔ بیٹے کو کہا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا۔ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا یہ بری خصلت ہے بھئی۔ سمجھ میں آئی بات؟ والدین کے ساتھ نیکی کا حکم دیا جا رہا ہے، اور والدین کے ساتھ نیکی یہ کیا ہے؟ اچھی خصلت ہے۔ تو یہ سیاق کلام سے یعنی خصلت کا لفظ سمجھ میں آ رہا تھا۔ سیاق کلام کہتے ہیں کلام کا چلاؤ بھئی۔ کلام کا چلاؤ جو ہے اسی سے ایک بات سمجھ میں آئے تو اسے کہتے ہیں سیاق کلام سے یہ بات مفہوم ہو رہی ہے۔
تو خصلت کا لفظ سیاق کلام سے مفہوم ہو رہا تھا، اسی کی طرف یہ ضمیر راجع ہے۔ اے یا بنی انھا اے میرے پیارے بیٹے، بے شک کوئی خصلت جو ہے مراد عمل ہے بھئی، سمجھ میں آئی بات؟ کوئی عمل، ان تک اگر وہ ہو بھئی۔ ان تک، اصل میں کیا تھا؟ ان تکن۔ نون کو تخفیف کے طور پر کبھی کیا کر لیا جاتا ہے؟ حذف کر لیا جاتا ہے بھئی۔ اصل میں تو تھا تکون، پھر ان آیا اور ان کیا کرتا ہے فعل مضارع کو جزم دیتا ہے۔ تو کیا بن گیا؟ تکون بن گیا تکون بھئی۔ پھر واؤ اور نون دو ساکن اکٹھے ہوئے، اجتماع ساکنین علی غیر حدہ آیا، تو اس صورت میں اول جو حرف مدہ ہے اس کو گرا دیتے ہیں تو کیا رہ گیا؟ تکن رہ گیا۔
تو ان تکن بھئی۔ پھر اس کے بعد جو نون ہے تکونو کا یا یکونو وغیرہ کا، اس کو بھی بعض اوقات حذف کر لیا جاتا ہے تخفیف کے لیے بھئی، تخفیف کے طور پر، کلام تاکہ مختصر ہو جائے۔
یا بنی انھا ان تک مثقال حبۃ من خردل۔ جی، خردل کہتے ہیں رائی کو بھئی، رائی کو۔ حبۃ کہتے ہیں دانے کو۔ حبۃ من خردل، رائی کا دانہ بھئی۔ حبۃ من خردل کا کیا معنیٰ ہوا؟ رائی کا دانہ بھئی۔ اور مثقال جو ہے، مثقال یہ باٹ کو کہتے ہیں بھئی، باٹ۔ جس چیز کے ذریعے وزن کیا جاتا ہے چیزوں کا بھئی۔ کلو کا باٹ ہوتا ہے، دو کلو کا باٹ ہوتا ہے، آدھے کلو کا باٹ ہوتا ہے، جس سے دکاندار چیزیں، چیزوں کا وزن اس کے ساتھ برابر کرتا ہے۔ تو مثقال اسے کہا جاتا ہے۔
اور جب اس کی اضافت ہو بھئی کسی چیز کی طرف تو پھر مراد ہم وزن ہوتا ہے۔ تو مثقال حبۃ کا کیا معنیٰ ہو گا؟ حبۃ کی طرف اس کی اضافت ہو رہی ہے۔ تو مثقال کے لفظ کی جب کسی چیز کی طرف اضافت ہو جائے تو اس کا کیا معنیٰ ہوتا ہے؟ ہم وزن ہونا بھئی، یعنی دانے کا، مثقال حبۃ، دانے کا ہم وزن بھئی، دانے کا، یعنی دانے کے برابر، دانے کے برابر۔ تو مثقال حبۃ من خردل کا کیا معنیٰ ہو گا؟ رائی کے دانے کے برابر۔
یا بنی انھا ان تک مثقال حبۃ من خردل، اے میرے پیارے بیٹے! بے شک اگر کوئی خصلت جو ہے، کوئی بھی خصلت جو ہو چاہے اچھی ہو یعنی کوئی اچھا عمل ہو یا برا عمل ہو، ان تک مثقال حبۃ من خردل، اگر وہ رائی کے دانے کے برابر بھی ہو فتکن فی صخرۃ، پھر وہ ہو کسی چٹان کے اندر، صخرۃ کہتے ہیں چٹان کو۔ پھر وہ کسی چٹان کے اندر ہو او فی السماوات یا آسمانوں میں ہو او فی الارض یا زمین کے اندر ہو یات بھا اللہ، تو لے آئیں گے، بھا ضمیر پھر اسی کو راجع خصلت کو، لے آئیں گے اس کو اللہ تعالیٰ بھئی۔ لے آئیں گے اسے اللہ تعالیٰ لے آئیں گے یعنی اللہ اسے حاضر کر دیں گے۔ اللہ سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے، کوئی رائی کے دانے کے برابر بھی کسی کا اچھا عمل ہو گا یا برا عمل ہو گا اللہ اسے سامنے لا کر حاضر کر دیں گے اور بتلا ہی دیں گے کہ یہ تم نے یہ یہ نیکی کی ہے اور یہ یہ برائی کی ہے اور پھر اسی کے مطابق سزا و جزا ہو گی بھئی۔ تو ہر عمل جو ہے، کوئی بھی عمل اللہ سے پوشیدہ نہیں۔ رائی کے دانے کے برابر معمولی سا بھی کوئی نیک یا برا عمل ہے، پھر چاہے وہ کسی چٹان کے اندر ہو یعنی انتہائی پوشیدہ جگہ پر، کہیں آسمانوں میں ہو، کہیں زمین، کہیں بھی جو کسی یعنی کسی بھی حال میں وہ اللہ پر سے چھپا ہوا یا اللہ کی قدرت سے باہر نہیں ہے، اللہ اس کو لا حاضر کریں گے بھئی۔
یا بنی انھا ان تک مثقال حبۃ من خردل، اے میرے پیارے بیٹے! اگر کوئی اچھی یا بری خصلت چاہے وہ اگر وہ رائی کے دانے کے برابر بھی ہو، پس وہ ہو کسی چٹان کے اندر یا آسمانوں میں یا زمین کے اندر، یات بھا اللہ، اللہ اس کو حاضر کر دیں گے۔ ان اللہ لطیف خبیر، بے شک اللہ تعالیٰ لطیف ہیں، باریک بین ہیں بھئی۔ لطیف کا معنیٰ؟ باریک بین بھئی۔ یعنی چھپی ہوئی چیزوں کو دیکھنے والے ہیں، جاننے والے ہیں بھئی۔ بے شک اللہ تعالیٰ باریک بین ہیں، خبیر، باخبر ہیں۔
حضرت لقمان رحمہ اللہ کے جو انہوں نے نصیحتیں فرمائیں اپنے بیٹے کو، ان کا تذکرہ چل رہا ہے۔ پہلے کیا نصیحت کی تھی؟ اسے شرک سے روکا تھا کہ شرک نہ کرنا، بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے، بہت بڑی ناانصافی ہے کہ اس عظیم ذات کو چھوڑ کر انسان کسی ادنیٰ ذات کو اپنا معبود قرار دے لے۔ پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے کہ میرا بھی شکر ادا کریں اور اپنے والدین کا بھی شکر ادا کریں۔ اور معلوم ہوا اللہ کے بعد سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟ والدین کا حق ہے۔ لیکن اللہ نے فرمایا کہ اگر والدین بھی شرک پر مجبور کریں تو شرک میں ان کی بات نہ ماننا بھئی۔
اس کے بعد پھر حضرت لقمان رحمہ اللہ اپنے بیٹے کو جو نصیحتیں کیں، ان کا دوبارہ تذکرہ شروع ہوا بھئی۔ یا بنی انھا ان تک مثقال حبۃ من خردل، اے میرے پیارے بیٹے! اگر کوئی اچھی یا بری خصلت چاہے وہ اگر وہ رائی کے دانے کے برابر بھی ہو، پس وہ ہو کسی چٹان کے اندر یا آسمانوں میں یا زمین کے اندر، یات بھا اللہ، اللہ اس کو حاضر کر دیں گے۔ ان اللہ لطیف خبیر، بے شک اللہ تعالیٰ لطیف ہیں، باریک بین ہیں بھئی۔ لطیف کا معنیٰ؟ باریک بین بھئی۔ یعنی چھپی ہوئی چیزوں کو دیکھنے والے ہیں، جاننے والے ہیں بھئی۔ بے شک اللہ تعالیٰ باریک بین ہیں، خبیر، باخبر ہیں۔
ان اللہ لطیف خبیر۔ بے شک، ان کا ترجمہ بے شک کے ساتھ بھی کر سکتے ہیں، یقیناً کے ساتھ بھی۔ ان اللہ لطیف خبیر، یقیناً اللہ باریک بین ہیں۔ لطیف، باریک بین بھئی، چھپی ہوئی چیزوں کو جاننے والے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ باریک بین ہیں، خبیر، باخبر ہیں، خبر رکھنے والے ہیں۔ یعنی اللہ ہر چیز، ہر چھپی ہوئی کچھ جو کوئی چیز کہاں جہاں پر بھی ہو، اللہ اسے حاضر کر دیں گے۔ یعنی انسان جیسا بھی عمل کر لے، کتنا بھی چھپا کر کر لے، وہ اللہ کے سامنے ہے بھئی، اللہ ہر چیز سے باخبر ہیں۔
تو حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو شرک سے منع کیا، پھر اس کے بعد والدین کا جو حق تھا اس کو ذکر نہیں کیا تھا، اس کو اللہ نے ساتھ ذکر کر دیا بھئی۔ اللہ نے ذکر کر دیا۔ نکتہ اس میں یہ حضرت لقمان رحمہ اللہ نے والدین کا ذکر کرنا اس لیے مناسب نہیں سمجھا کیونکہ وہ خود باپ تھے، اپنے بیٹے ہی سے بات کر رہے ہیں، تو اس کو والدین کے حق کی تلقین کرتے تو اس میں اپنی غرض اور اپنا فائدہ نظر آتا بھئی۔ یہ تو گویا کیا کر رہے ہیں؟ اپنے فائدے کی بات کر رہے ہیں، تو اپنی غرض معلوم ہوتی اس سے ذکر نہیں کیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس کو ذکر کر دیا۔
نیز حضرت لقمان نے اللہ کا حق بتلایا اپنے بیٹے کو۔ اللہ کا حق بتلایا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا۔ تو باپ نے اللہ کا حق بتلایا، اللہ نے باپ کا حق بتلایا بھئی کہ باپ والدین کیا ہیں؟ ان کا بہت بڑا حق ہے انسان پر۔
یا بنی اقم الصلاۃ وامر بالمعروف وانھ عن المنکر واصبر علی ما اصابک ان ذالک من عزم الامور۔ یا بنی، اے پیارے بیٹے! اقم الصلاۃ، نماز قائم کر وامر بالمعروف، اور حکم دے نیکی کا وانھ عن المنکر، نھی ینھیٰ سے امر ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ انھ، انھ۔ ہمزہ وصل واؤ کی وجہ سے گر گیا۔ وانھ عن المنکر، اور منع کر برائی سے۔ منکر، ناپسندیدہ کام، برائی بھئی۔ اے پیارے بیٹے! نماز قائم کر اور حکم دے نیکی کا اور منع کر برائی سے واصبر علیٰ، اور صبر کر تو علیٰ ما، اس چیز پر اصابک، جو تجھے پہنچے۔ یعنی اس نیکی کے حکم دینے میں اور برائی سے منع کرنے میں یقیناً تکلیف پہنچے گی کیونکہ ایسے شخص کو لوگ تکلیف دیتے ہیں، تو اس راستے میں اگر کوئی تکلیف تجھ پر آئے تو پھر اس پر صبر کرنا۔ اس پر صبر کرنا۔
واصبر علی ما اصابک، اور صبر کر اس تکلیف پر جو تجھے پہنچے ان ذالک من عزم الامور، یقیناً یہ جو ہے، من عزم الامور، ہمت والے کاموں میں سے ہے۔ یہ کیا ہے؟ ہمت والے کاموں میں سے ہے۔
ولا تصاعر خدک للناس۔ تصاعر خدک، منہ کو، گالوں کو، منہ کو ٹیڑھا کرنا تکبر کرتے ہوئے۔ کیا کرنا منہ کو اور گالوں کو؟ ٹیڑھا کرنا تکبر کرتے ہوئے۔ تو معنیٰ کیا ہوا؟ ولا تصاعر خدک للناس، اور تو ٹیڑھے نہ کر اپنے گال لوگوں کے لیے، یعنی تو اپنے گال نہ پھلا لوگوں کے لیے۔ تکبر کرتے ہوئے منہ بنا لیا۔ بس جس میں تکبر ہوتا ہے بھئی، اپنے اپ کو بڑا سمجھتا ہے اور لوگوں کو اپنے سامنے کچھ بھی نہیں سمجھتا، کوئی بات اس سے کرنا چاہتا ہے یا کچھ منہ ٹیڑھا کر لیتا ہے اور بڑے تکبر متکبرانہ انداز اپنا لیتا ہے۔ تو حضرت لقمان رحمہ اللہ اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ لوگوں کے سامنے گال مت پھلا یعنی تکبر کرتے ہوئے ان سے اعراض نہ کر بھئی۔ ان سے منہ نہ موڑ تکبر کرتے ہوئے۔
ولا تصاعر خدک للناس۔ خد، رخسار کو کہتے ہیں، رخسار، گال۔ ولا تصاعر خدک للناس، اور تو اپنے گال نہ پھلا لوگوں کے لیے، یعنی یعنی ان سے منہ نہ موڑ، ان سے اعراض نہ کر۔ سمجھ میں آیا؟ منہ پھلا لیا، منہ تکبر کرتے ہوئے، کوئی بیچارہ غریب قریب آ رہا ہے، منہ بنا لیا، پیچھے ہٹ جاؤ، ایک طرف ہو جاؤ بھئی۔ تم کدھر سے، تم کیا چیز ہو؟ کدھر میرے سامنے آ گئے؟ تو کہتے ہیں ولا تصاعر خدک للناس، اور نہ پھلا تو اپنے گال لوگوں کے لیے ولا تمش فی الارض مرحا، اور تو نہ چل، مشیٰ یمشی کے معنیٰ چلنے کے ہیں بھئی۔ ولا تمش فی الارض، اور تو نہ چل زمین کے اندر مرحا، اتراتا ہوا بھئی۔ کیا کرتے ہوئے؟ اتراتے ہوئے، تکبر کرتے ہوئے نہ چل بھئی۔ ولا تمش فی الارض مرحا، اور تو نہ چل زمین میں اتراتا ہوا ان اللہ لا یحب کل مختال فخور۔
تو نہ چل زمین کے اندر اتراتا ہوا بھئی، تکبر کرتا ہوا انسان اپنے اپ کو کہ میں ہی سب کچھ ہوں باقی سب تو ویسے ہی ہیں اور خوب اتراتا ہوا اور تکبر کرتا ہوا چلتا ہے، اس سے منع کیا۔ ولا تمش فی الارض مرحا، اور تو نہ چل زمین میں اتراتا ہوا ان اللہ لا یحب کل مختال فخور، یقیناً اللہ تعالیٰ محبت نہیں کرتے، پسند نہیں کرتے کل مختال فخور، ہر، مختال کہتے ہیں تکبر کرنے والا، فخور، فخر کرنے والا، شیخیاں مارنے والا بھئی، شیخیاں کرنے والا۔ یقیناً
ان اللہ لا یحب کل مختال فخور۔ یقیناً اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتے کسی بھی تکبر کرنے والے اور فخر کرنے والے کو۔
واقصد فی مشیک اور میانہ روی اختیار کر۔ واقصد، قصد یقصد کے معنی درمیانہ راستہ، متوسط راستہ اختیار کرنا، اعتدال کی راہ چلنا۔ واقصد فی مشیک اور اعتدال پر رہ فی مشیک اپنی چال میں۔ بہت تیز چلنا، یہ بھی مناسب نہیں اور بہت آہستہ چلنا یہ بھی ٹھیک نہیں، متوسط چال ہو بھئی۔ واقصد فی مشیک اور اعتدال پر رہ اپنی چال کے اندر واغضض من صوتک، اغضض یغضض کے معنی ہیں پست کرنا، نیچے کرنا۔ واغضض من صوتک اور نیچی کر اپنی آواز۔ اور نیچی کر اپنی آواز، بہت اونچا نہ بول۔
ان انکر الاصوات لصوت الحمير۔ یقیناً سب سے ناپسندیدہ آواز جو ہے لصوت الحمير البتہ گدھوں کی آواز ہے۔ حمیر جمع ہے حمار کی بھئی حمار۔ حمار گدھے کو کہتے ہیں۔ حضرت لقمان اپنے بیٹے کو نصیحت کر رہے ہیں کہ اپنی آواز پست رکھو، زیادہ اونچا، زیادہ اونچی نہ کرو۔ بے شک گدھے کی آواز جو ہے وہ سب سے اونچی ہے لیکن وہ سب سے ناپسندیدہ شمار ہوتی ہے بھئی۔ تو اپنی آواز پست رکھو۔
ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے اچھی طرح بھئی؟ دوبارہ دیکھ لیں۔ ولا تصاعر خدک للناس اور تو نہ پھلا اپنے گال لوگوں کے لیے ولا تمش فی الارض مرحا اور تو نہ چل زمین میں اتراتا ہوا ان اللہ لا یحب کل مختال فخور، یقیناً اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتے کسی بھی تکبر کرنے والے اور فخر کرنے والے کو۔
واقصد فی مشیک اور اعتدال پر رہ اپنی چال میں واغضض من صوتک اور نیچی کر اپنی آواز ان انکر الاصوات لصوت الحمير، یقیناً آوازوں میں سب سے ناپسندیدہ جو ہے وہ گدھوں کی آواز ہے۔
الم تروا ان اللہ سخر لكم ما فی السماوات وما فی الارض۔ کیا تم نے دیکھا نہیں ان اللہ سخر لكم کہ اللہ تعالیٰ نے مسخر کر دیے تمہارے لیے، یعنی کام میں لگا دیے۔ اللہ تعالیٰ نے کام میں لگا دیے تمہارے لیے ما فی السماوات وہ جو آسمانوں میں ہے وما فی الارض اور وہ جو زمینوں میں ہے۔ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے اللہ نے تمہارے کام میں لگا دیے۔ واسبغ عليكم نعمه اور پورا کیا تم پر، اسبغ کا معنی پورا کرنا۔ واسبغ عليكم نعمه ظاھرۃ وباطنۃ اور پورا کیا تم پر اپنی نعمتوں کو ظاہری اور باطنی۔ ظاہری اور باطنی ہر قسم کی نعمتوں کو تم پر پورا کر دیا۔
الم تروا کیا تم لوگ دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے کام میں لگا دیے تمہارے لیے ما فی السماوات وما فی الارض جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں واسبغ عليكم نعمه اور پورا کر دیا تم پر اپنی نعمتوں کو، نعم جمع ہے نعمت کی بھئی۔ تم پر پورا کر دیا اپنی نعمتوں کو ظاہری اور باطنی۔ اپنی ظاہری اور باطنی نعمتوں کو تم پر پورا کر دیا۔ تو ظاھرۃ وباطنۃ یہ حال واقع ہو رہے ہیں نعم سے بھئی، نعمه۔ اور پورا کر دیا تم پر اپنی نعمتوں کو اس حال میں کہ وہ ظاہر ہیں اور ظاہری ہیں اور باطنی ہیں۔ یعنی ظاہری نعمتیں بھی تمہیں پوری دے دیں اور باطنی نعمتیں بھی پوری دے دیں۔
اللہ فرما رہے ہیں کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے تمہارے کاموں میں لگا دیے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے بھئی۔ یہ سب چیزیں انسان کے لیے بنائی گئی ہیں۔ سمجھ میں آئی بات؟ ہر چیز بھئی، یہ جانور پیدا فرمائے اللہ نے، درخت پیدا فرمائے، یہ سب انسانوں کے نفع کے لیے ہیں۔ سورج کو انسان کے کام میں لگا دیا کہ اس کے طلوع ہونے پر دن ہوتا ہے، غروب ہونے پر رات ہوتی ہے۔ چاند کو انسان کے کام میں لگا دیا کہ اس کے ذریعے اس کی راتیں روشن ہوتی ہیں اور وہ مہینوں کا حساب وغیرہ لگتا ہے، سب کچھ اللہ نے انسان کے لیے بنایا۔
اور ہر قسم کی ظاہری اور باطنی نعمتیں اللہ فرما رہے ہیں ہم نے تم پر پوری کر دی ہیں۔ ظاہری کون سی نعمتیں، باطنی کون سی نعمتیں ہیں؟ ظاہری نعمتیں جو یعنی بغیر غور و فکر کے ہی سمجھ میں آ جاتی ہیں، پتہ چل جاتا ہے۔ اور باطنی نعمتیں جن میں غور و فکر کرنا پڑتا ہے، پھر پتہ لگتا ہے ہاں یہ بھی اللہ کی نعمت ہے، یہ بھی اللہ کی نعمت ہے بھئی۔ یہ بھی اللہ کی۔
یا ظاہری نعمتوں سے مراد یہ دنیاوی نفع کی چیزیں ہیں جتنی بھی ہیں اس کے اندر وہ سب اس کے اندر آ گئیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ سورج نکل رہا ہے، دن ہو جاتا ہے اور آرام کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے رات کو بنا دیا، پھر رات کو روشن کرنے کے لیے چاند کو بنا دیا۔ انسان کے لیے کھانے کے لیے طرح طرح کی چیزیں زمین سے پیدا فرمائیں۔ پھر بارش کا نظام چلا دیا اللہ تعالیٰ نے کہ بارش ہوتی ہے تو ہر طرف ترو تازگی پھیل جاتی ہے، مٹی وغیرہ، دھول ختم ہو جاتی ہے، درخت اگ آتے ہیں، فصلیں اگاتی ہیں اس کی وجہ سے، موسم خوشگوار ہو جاتا ہے، گرمی ختم ہو جاتی ہے۔ پھر اور اتنی نعمتیں دنیا کے اندر اللہ نے دیں، والدین جیسی نعمت، بہن بھائیوں جیسی نعمتیں دیں اللہ تعالیٰ نے۔ کتنی ہی نعمتیں ہیں انسان سوچتا ہی چلا جائے بھئی۔ گھر دیا اس کو، کھانے پینے کو اس کو مل رہا ہے۔
پھر آج کل تو اور نعمتیں اللہ نے دے دیں بھئی، موبائل فون اپ کو دے دیے، کوئی کتنا ہی دور اپ کا عزیز ہو فوراً اس کی خیر خیریت اپ اسی لمحے میں دریافت کر لیتے ہیں۔ پہلے تو اس کا تصور بھی نہیں تھا، جو چلا گیا گھر سے نکل گیا جب تک واپس نہیں آیا پتہ ہی نہیں اس کے خیر و عافیت کا، یا ایک صورت ہوتی تھی خط آنے کی، وہ بھی پتہ نہیں کب پہنچتا تھا اور کب نہیں۔ تو پھر خوراکیں قسم قسم کی بھئی، اس طرح کی خوراک تو کبھی بادشاہوں نے بھی کبھی تصور نہیں کیا تھا۔ گرمی کے اندر بھئی برف کی ضرورت ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ نے بجلی کے طریقے کو انسان کو سکھلا دیا، اس کے ذریعے انسان نے آلات بنا دیے، فریج وغیرہ، چیزیں محفوظ ہیں۔ جس وقت جس موسم میں جو پھل چاہیے وہ پھل جو صرف اپنے مخصوص موسم میں ہوا کرتے تھے، اب سال بھر جس وقت اپ کو چاہیے اپ کو مل جائے گا، محفوظ کیا ہوتا ہے فریج کے وغیرہ کے اندر۔
اور پھر اسی طرح خوراک ہے، جس وقت اپ کا دل چاہتا ہے فریج میں سے برف نکالی، ٹھنڈا پانی بنایا اور پی گئے۔ بادشاہوں کو بھی اس طرح کا ٹھنڈا پانی پہلے کبھی نہیں ملتا تھا گرمی کے موسم میں جیسے کہ اج کے، پھر جو خوراک چاہتے ہیں جس وقت چاہتے ہیں مل جاتی ہے، بادشاہوں کے لیے بھی ایسا نہیں تھا، ان کو بھی اگر کوئی چیز چاہیے باقاعدہ اس کا حکم دیں گے، وہ ملتی ہیں اس کی چیزیں، نہیں ملتیں، تیار ہوتی ہے یا نہیں ہوتی، اور اب ہر چیز مل جاتی ہے اور پھر ہر چیز کے اندر کتنی ہی کتنی انواع ہیں کہ انسان حیران ہوتا ہے بھئی۔
پھر انسان اپنے بدن پر غور کرے، اس بدن کے اندر اللہ نے اتنی عظیم کائنات بنا رکھی ہے کہ انسان حیران ہوتا ہے بھئی۔ بیرونی کائنات کی طرح یہ بھی ایک پوری کائنات ہے انسان کے بدن میں اور ساری عمر جسم کے اندر مختلف پرزے ہیں وہ اپنی اپنی ضرورت کے مطابق کام کر رہے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آئی بات؟ تو انسان حیران ہوتا ہے بھئی۔ جوں جوں سائنس ترقی کر رہی ہے، نئی نئی باتوں کا انکشاف ہو رہا ہے اور انسان اللہ کی قدرتوں پر اور اس کی نعمتوں پر حیران رہتا، ہوتا ہے بھئی۔
تو ظاہری نعمتوں سے یہ ظاہر کی نعمتیں ہیں، دنیا کی نعمتیں مراد ہیں اور باطنی نعمتوں سے مراد ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے پھر ہدایت بھی دے دی، پیغمبروں کو بھیج دیا، اپنی کتابیں اس کے ان کے ذریعے بھیجیں اور بتلایا کہ آخرت میں حساب کتاب ہونے والا ہے، اس کی تیاری کرتے رہو، ابھی سے دنیا ہی میں بتلا دیا سب کچھ۔ یہ یہ میرے احکامات ہیں، ان پر تم چلتے رہو گے تو تمہیں میں اتنے اتنے جنت دوں گا، ایسے انعامات، جنت میں ایسی نعمتیں ہوں گی جن کا تم تصور نہیں کر سکتے۔ تو یہ جو پیغمبروں کا آنا، یہ دین اور ایمان کی دولت کا ملنا، اللہ کی طرف سے کتابوں کا ملنا، یہ سب کیا ہیں؟ باطنی نعمتیں ہیں بھئی۔
ومن الناس من يجادل في الله بغير علم ولا هدى ولا كتاب منير۔ اور لوگوں میں سے بعض جو ہیں وہ من يجادل، وہ جو جھگڑا کرتے ہیں في الله، اللہ کے بارے میں بغير علم، بغیر کسی علم کے ولا هدى، اور بغیر کسی ہدایت کے ولا كتاب منير، اور بغیر کسی روشن کتاب کے۔ منیر، روشن۔ روشن کتاب یعنی جس میں واضح دلیلیں ہوں بھئی۔ روشن کتاب سے کیا مراد ہے؟ واضح دلیلیں ہوں بھئی۔ لوگ اللہ کی ذات کے بارے میں لوگ کیا کرتے ہیں بعض لوگ؟ جھگڑا کرتے ہیں اللہ کی ذات کے اندر، اللہ کی صفات کے اندر۔ کوئی توحید کو تسلیم نہیں، کوئی اللہ کی ذات کو مانتا ہی نہیں ہے، کوئی توحید کو تسلیم نہیں کرتا، بتوں وغیرہ کو اللہ کا شریک بناتا ہے اور نہ ان کے پاس علم ہے، نہ ہی تو کوئی شخص ان کے پاس ہدایت لے کر آیا ہے، نہ ان کے پاس کوئی نہ کوئی ان کے پاس ایسی کتاب ہے جس میں ان کے دعوے وغیرہ پر دلیلیں ہوں، سب اپنی طرف سے ان کی بنائی ہوئی باتیں ہیں بھئی۔
تو ومن الناس من يجادل في الله، اور لوگوں میں سے بعض جو ہیں وہ جھگڑا کرتے ہیں اللہ کے بارے میں بغیر کسی علم کے اور بغیر کسی ہدایت کے اور بغیر کسی روشن کتاب کے۔ یاد رکھیے، ولا هدى، یہ لا زائد ہے بھئی، زائد۔ اسی طرح ولا كتاب منير، یہ لا بھی کیا ہے؟ زائد ہے۔ یرحمک اللہ۔ یہ لا بھی کیا ہے؟ زائد ہے بھئی۔ لا زائد ہے تحسین عبارت کے لیے بھئی۔ عبارت کو حسین بنانے کے لیے، کلام عرب میں اس طرح استعمال ہوتا ہے۔
تو بغير هدى کا عطف ہے علم پر۔ تو علم مجرور ہے تو هدى بھی کیا ہے؟ مجرور بھئی مجرور۔ اور یہ تقدیراً مجرور ہے کیونکہ یہ اسم مقصور ہے بھئی۔ کیا ہے؟ اسم مقصور ہے۔ اسم مقصور جانتے ہو یا نہیں بھئی؟ کسے کہتے ہیں؟ جس کے آخر میں الف مقصورہ آئے۔ یعنی آخر میں الف ہو۔ اپ کہیں گے کہ بھئی اس کے آخر میں تو ہمیں الف دکھائی نہیں دے رہا۔ الف یہاں تقدیراً موجود ہے اگرچہ وہ گر چکا ہے اجتماع ساکنین کی وجہ سے۔ مجرور ہے نا، تو کیا تھا؟ هدين تھا، هدين۔ اور یا متحرک ماقبل فتحہ ہو اس کو کس سے بدلتے ہیں؟ الف سے بدلتے ہیں۔ تو کیا بن گیا؟ نون ساکن تنوین والا نون بھی آخر میں بھئی، هدين تھا، تو وہ نون بھی باقی رکھیں اور یا کو الف سے بدل دیں، کیا بن گیا؟ هدان۔ پھر الف اجتماع ساکنین سے گر گیا تو کیا رہ گیا؟ هدى رہ گیا بھئی۔
تو اور اسم مقصور اپ نے پڑھا ہے تینوں حالتوں میں اعراب تقدیری ہوتا ہے، تو یہ مجرور ہے تقدیراً۔ اور اسی طرح ولا كتاب منير، كتاب منير اس کا بھی اسی پر علم پر عطف ہے تو یہ بھی مجرور ہے اپ دیکھ رہے ہیں بھئی۔ یعنی بغیر علم، ہدایت اور کتاب منیر کے۔ اور یہ لا زائد میں نے بتلایا، اس لیے کیونکہ اگر اس کو لا کو زائد نہ مانیں گے تو نفی پر نفی داخل ہو گی اور نفی پر نفی اثبات کا فائدہ دیا کرتی ہے۔ نفی پر نفی داخل ہو کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ اثبات کا فائدہ دیتی ہے۔ بھئی کس طرح؟ اپ خود غور کر لیں۔ مثلاً میں اپ سے کہتا ہوں زيد نہیں آئے گا۔ یہ نفی ہے۔ زيد نہیں آئے گا۔ اس پر ذرا ایک اور نفی داخل کریں، ایسا نہیں ہو سکتا کہ زيد نہیں آئے، زيد نہ آئے۔ کیا معنیٰ؟ یعنی آئے گا۔ دیکھو نفی نے نفی پر داخل ہو کر کس چیز کا فائدہ دے دیا؟ اثبات کا فائدہ دے دیا بھئی۔ تو لہذا بغیر علم، علم کے بغیر یعنی علم کے نہ ہوتے ہوئے، یہ غیر کس چیز کا فائدہ دے رہا ہے؟ نفی کا۔ اور آگے پھر ولا هدى، اس لا کو اگر زائد نہ مانیں تو نفی پر نفی داخل ہو گی تو معنیٰ کیا ہو جائے گا؟ ہدایت کے ہوتے ہوئے اور کتاب منیر کے ہوتے ہوئے، حالانکہ یہ مراد نہیں۔ تو یہ لا کلام عرب میں بڑھایا جاتا ہے عبارت کو حسین بنانے کے لیے، جیسے غير المغضوب عليهم ولا الضالين، یہاں پر بھی یہ لا کیا ہے؟ زائد ہے اور الضالين جو ہے اس کا عطف المغضوب پر ہو رہا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ المغضوب پر، تو غير المغضوب عليهم وغير الضالين یہ معنیٰ ہوا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟
اور لوگوں میں سے بعض وہ ہیں جو جھگڑا کرتے ہیں اللہ کے بارے میں بغیر علم اور ہدایت بغیر علم اور بغیر ہدایت کے اور بغیر کسی روشن کتاب کے۔ یعنی ان کے پاس کوئی ہدایت بھی نہیں ہوتی، کوئی دلیل وغیرہ کچھ بھی نہیں ہے، بس اپنی طرف سے خود اللہ کی ذات کے بارے میں بھی جھگڑا کرتے ہیں اور اللہ کی صفات کے بارے میں بھی جھگڑا کرتے ہیں اور معبود بنا رکھے ہیں، ان کے لیے بھی اسی طرح صفت مانتے ہیں، قدرت وغیرہ۔ تو حالانکہ ہر چیز پر قادر ہونا یہ اللہ ہی کا وصف ہے بھئی۔
واذا قيل لهم، اور جب ان سے کہا جاتا ہے اتبعوا، تم لوگ پیروی کرو ما، اس چیز کی انزل الله، جسے اللہ نے نازل کیا۔ تم پیروی کرو اس چیز کی جس کو اللہ نے نازل کیا قالوا بل نتبع، وہ کہتے ہیں بلکہ ہم تو اتباع کریں گے ما، اس چیز کی وجدنا عليه اباءنا، کہ پایا ہے ہم نے اس پر اباءنا اپنے اباء کو، یعنی اپنے باپ دادوں کو۔ ہم تو بل نتبع ما وجدنا عليه اباءنا بلکہ ہم تو پیروی کریں گے اس چیز کی جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے۔ یعنی ہم نے اپنے باپ دادوں کو اسی طرح شرک کرتے ہوئے دیکھا، ان بتوں کی عبادت کرتے ہوئے دیکھا ہے، ہم بھی انہی کے راستے پر چلیں گے اور اسی طرح ان بتوں کی عبادت کریں گے۔
اولومات الشيطان يدعوهم الى عذاب السعير۔ کیا اگرچہ شیطان جو ہے يدعوهم، ان کو بلاتا ہو، ہم ضمیر راجع ہے اباء کو۔ کیا اگرچہ شیطان بلاتا ہو ان اباء باپ دادوں کو الى عذاب السعير جہنم کے عذاب کی طرف، دوزخ کے عذاب کی عذاب کی طرف؟ کیا اگر شیطان ان کے باپ دادوں کو جہنم کے عذاب کی طرف بلاتا ہو تو پھر بھی انہی کی پیروی کریں گے یہ لوگ؟ معنیٰ سمجھ میں آیا؟ انہوں نے کیا کہا ہم اپنے باپ دادوں کی پیروی کریں گے۔ تو کیا اگر شیطان ان کے باپ دادوں کو کس کی طرف؟ جہنم کے عذاب کی طرف بلاتا ہو تو کیا تب بھی؟ یعنی کیا پھر بھی انہی کی پیروی کریں گے؟ اولومات الشيطان يدعوهم الى عذاب السعير، کیا اگرچہ شیطان بلاتا ہو ان کو دوزخ کے عذاب کی طرف؟
چلیے بس بھئی، هذا هو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔