Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-111

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 12 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
أعوذ بالله من الشیطان الرجیم. بسم الله الرحمن الرحیم. أفرأيتم الماء الذي تشربون؟ أأنتم أنزلتموه من المزن أم نحن المنزلون؟ لو نشاء جعلناه أجاجا فلولا تشكرون؟ أفرأيتم الماء الذي تشربون؟ تم بتلاؤ تو سہی وہ پانی الذی تشربوناس کو تم پیتے ہو، أأنتم أنزلتموه من المزن کیا تم نے نازل کیا ہے اس کو بادل سے؟ مزن کہتے ہیں بادل کو۔ کیا تم نے اس کو اتارا ہے بادل سے؟ أم نحن المنزلون یا ہم ہیں اتارنے والے؟ لو نشاء جعلناه أجاجا اگر ہم چاہیں تو اس کو کھاری بنا دیں۔ أجاج کہتے ہیں کھاری پانی، کھاری یعنی سخت نمکین جو کڑوا ہو، زیادہ نمکین ہونے کی وجہ سے جیسے سمندر کا پانی بھئی سخت نمکین ہوتا ہے اور اتنا نمکین کہ کڑوا لگتا ہے اور جسے حلق سے گزارنا مشکل ہو بھئی۔ تو اللہ فرماتے ہیں أفرأيتم الماء الذي تشربون؟ تو مجھے بتلاؤ تو سہی وہ پانی جس کو تم پیتے ہو، أأنتم أنزلتموه من المزن أم نحن المنزلون؟ کیا تم نے اس کو نازل کیا ہے بادل سے یا اس کو نازل کرنے والے ہم ہیں؟ لو نشاء جعلناه أجاجا اگر ہم چاہیں تو اس کو کڑوا بنا دیں، فلولا تشكرون پس تم کیوں شکر ادا نہیں کرتے؟ أفرأيتم النار التي تورون؟ تم تم بتلاؤ تو سہی وہ آگ الذی تورونا جسے تم جلاتے ہو، وہ آگ جسے تم تورونا جسے تم جلاتے ہو، أأنتم أنشأتم شجرتها کیا تم نے پیدا کیا ہے شجرتها اس کے درخت کو، أم نحن المنشئون یا ہم ہیں پیدا کرنے والے؟ اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ کہ تم مجھے بتلاؤ وہ آگ جس کو تم سلگاتے ہو، جسے تم جلاتے ہو کیا تم نے اس کے درخت کو پیدا کیا ہے یا اس کو پیدا کرنے والے ہم ہیں؟ پہلے یہ بات گزر چکی کہ عرب میں دو درخت تھے، مرف اور عفار اور ان کی سبز شاخوں کو آپس میں رگڑتے تھے تو اس سے آگ نکلتی تھی۔ یہ اسی طرح کہتے ہیں یہ جو بانس کے درخت ہوتے ہیں، ان کی شاخیں بھی آپس میں ان کو رگڑا جائے تو اس سے آگ نکلتی ہے بھئی۔ حتی کہ کہتے ہیں آندھی وغیرہ آئے تو بسا اوقات ان کے اندر آگ لگ جاتی ہے بھئی۔ جی۔ تو کہ اللہ فرما رہے ہیں وہ آگ جسے تم سلگاتے ہو اس کے درخت کو یعنی وہ درخت جس کے لیے تم اس کو سلگاتے ہو تو اس کے اس درخت کو تم نے پیدا کیا ہے یا پیدا کرنے والے ہم ہیں؟ جی اور میں نے بتلایا تھا جدید تحقیق بھی بتلائی تھی آپ کو کہ ہر آگ جو ہے اس کے جلنے کے لیے آکسیجن گیس کی ضرورت ہوتی ہے اور آکسیجن گیس ہر سر سبز پودا آکسیجن گیس پیدا کرتا ہے دن کے وقت بھئی۔ تو لہٰذا پھر اس صورت میں اس کا مفہوم اور عام ہو گیا۔ آکسیجن نہ ہو تو آگ جلتی ہی نہیں ہے بھئی۔ تو ہر درخت اس ہر سبز درخت اس کے اندر داخل ہو گیا۔ ان کے ذریعے کیا کرتے ہیں ہم آگ جلاتے ہیں، ان درختوں سے یہ آکسیجن پیدا ہوتی ہے اور پھر اس کی مدد سے ہم آگ جلاتے ہیں اگر وہ نہ ہو تو آگ بھی نہ جلائی جا سکے۔ نحن جعلناها تذكرة ومتاعا للمقوين۔ ہم نے اس کو نصیحت بنایا۔ اس درخت کو ہم نے جعلناها ہا ضمیر راجع ہے شجرہ کو۔ ہم نے اس درخت کو تذكرۃ نصیحت بنایا ومتاعا للمقوين یا یاد کرنے کی چیز۔ ہم نے اس درخت کو یاد کرنے کی چیز بنایا ومتاعا اور نفع کی چیز للمقوين مسافروں کے لیے۔ للم ہم نے اس کو یاد کرنے کی چیز اور نفع کی چیز بنایا للمقوين مسافروں کے لیے۔ مقوین کا میں نے ترجمہ مسافر کے کیے بھئی۔ اس کا حقیقی معنی مسافر کے نہیں ہیں۔ اقوی یقوی إقواءً اس کے معنی ہیں یہ ایسی جگہ رہنا یا گزرنا جہاں پر پانی اور سبزہ نہ ہو بھئی، گھاس وغیرہ نہ ہو۔ ایسی جگہ رہنا یا گزرنا جہاں پر پانی اور سبزہ وغیرہ نہ ہو بھئی۔ تو یعنی صحرائی علاقہ ہو بھئی یا بالکل خشک میدان وغیرہ جہاں پر یہ چیزیں نہ ہوں۔ تو بالخصوص ان تو ان علاقوں میں جو رہنے والا ہے اس کو یا اس سے گزرنے والا ہے اس کو کیا کہیں گے؟ مقوی۔ تو چنانچہ بعض علماء نے علماء نے پھر اس کا ترجمہ صحرائی مسافر کے کیے اور پھر بالخصوص یہ صحرائی مسافر یا مسافر کا ذکر کیا گیا اس میں ان علاقوں سے گزرنے والے کا کیونکہ اس کے لیے یہ زیادہ نفع کی چیز ہے جہاں کوئی انسان، کوئی بستی دور دور تک نہیں ہوتی، آگ کی ضرورت پیش آتی ہے تو وہاں پر بھی ان پودوں کے ذریعے وہ کیا کر لیتا ہے؟ آگ جلا لیتا ہے۔ نحن جعلناها تذكرت تذكرۃ ومتاعا للمقوين ہم نے اس درخت کو یاد کرنے کی چیز یا یوں کہیں نصیحت اور نفع کی چیز بنایا للمقوين مسافروں کے لیے۔ فسبح باسم ربك العظيم۔ پس تسبیح کیجیے آپ باسم ربك العظیم اپنے عظیم پروردگار کے نام کی۔ فسبح باسم ربك العظيم پس آپ اپنے عظیم پروردگار کے نام کی تسبیح کیجیے۔ فلا أقسم بمواقع النجوم۔ فلا أقسم پس میں قسم اٹھاتا ہوں، قسم کھاتا ہوں۔ یاد رکھیے یہ لا زاید ہے یعنی صلہ ہے۔ جو زاید ہو قرآن میں اس کے لیے کیا لفظ استعمال ہوتا ہے؟ صلہ۔ تو یہ لام صلہ ہے یعنی زاید ہے۔ تو یہ معنی نہیں کہ فلا أقسم میں قسم نہیں اٹھاتا بلکہ کیا معنی ہے؟ میں قسم اٹھاتا ہوں۔ بمواقع النجوم ستاروں کے گرنے کی جگہوں کی۔ ستاروں کے واقع ہونے کی جگہ یعنی ان کے گرنے کی جگہوں کی میں قسم اٹھاتا ہوں، اللہ فرما رہے ہیں۔ میں ستاروں کے گرنے کی جگہ کی قسم اٹھاتا ہوں۔ تو یہاں پر یہ لام زاید آیا اور کلام عرب میں اس طرح ہوتا ہے بعض اوقات جو ہے اس اقسم کے فعل پر لام کو بڑھا دیا جاتا ہے۔ کلام میں حسن پیدا کرنے کے لیے بھئی۔ کلام میں اس سے اور حسن پیدا ہو جاتا ہے کلام کے اندر۔ اور بلاغت کا نقطہ اس کے اندر یہ ہے بھئی بلاغت کا نقطہ کہ یہ ہے قسم آگے جو بات آئے گی جس پر قسم اٹھائی گئی اسے جواب قسم کہتے ہیں۔ جو آگے آ رہی ہے إنہ لقران کریم کہ یقینا یہ کیا ہے عزت والا قرآن ہے۔ یقینا یہ عزت والا قرآن ہے۔ یہ ہے جواب قسم۔ تو بلاغت کا نقطہ اس میں یہ ہے کہ یہ لام کے ذریعے گویا اس بات کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے کہ جو جواب قسم ہے جس پر قسم اٹھائی جا رہی ہے وہ اتنی واضح بات ہے، اتنی واضح بات ہے کہ اس پر قسم اٹھانے کی ضرورت تھی ہی نہیں۔ یہ نقطہ ہے اس لا کے لانے میں۔ یعنی جواب قسم اتنا واضح ہے کہ اس پر قسم اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ قسم تو اٹھائی جا رہی ہے لیکن اتنی واضح بات ہے، ضرورت نہیں ہے اس پر قسم اٹھانے کی۔ فلا أقسم بمواقع النجوم پس میں قسم اٹھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی جگہ یعنی ستاروں کے غروب ہونے کی جگہ۔ گرنے کی جگہ سے کیا مراد ہے؟ ستارے طلوع ہوتے ہیں اور صبح کے قریب غروب ہو جاتے ہیں، ڈوب جاتے ہیں تو ان کے ڈوبنے، ستاروں کے ڈوبنے کی جگہ۔ اور میں نے ایک سائنس کے حوالے سے بھی پہلے بتایا تھا کہ یہ نیا نظریہ اور کہ یہ ستارے بسا اوقات کیا ہوتے ہیں؟ مرکز کے اپنے مرکز کی طرف گر جاتے ہیں۔ مثلاً ہزاروں لاکھوں میل پر پھیلا ہوا ستارہ ایک دم سکڑ کر چند میل کا رہ جاتا ہے، سارا دب جاتا ہے مرکز کی طرف اور اسے پھر بلیک ہول کہتے ہیں، سیاہ سوراخ بھئی۔ اور اس کے قریب سے وہ کوئی چیز ہو ہر چیز کو اپنی طرف وہ کھینچ لیتا ہے، بے انتہا اس میں قوت پیدا ہو جاتی ہے۔ تو اگر وہ نظریہ صحیح ہو تو یہ شاید اس کی طرف بھی اشارہ بن سکتا ہے کہ میں اللہ فرما رہے ہیں میں قسم اٹھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی جگہ بھئی، ستاروں کے گرنے کی جگہ کی بھئی۔ لیکن میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ سائنسی نظریات جو ہیں ان کو عین تفسیر قرار دینا درست نہیں بھئی۔ ہاں اگر کوئی ایسی حقیقت ہے جو جس میں تبدیلی یا انے کا احتمال نہیں۔ پکی ایک بات ثابت ہو چکی ہے، پھر تو کہا جا سکتا ہے کہ اس کی طرف اشارہ ہے، لیکن اگر ایک بات ابھی ثابت ہی نہیں ہوئی اور پھر کہا جا کہا جائے یہی ایت کی تفسیر ہے، تو پھر تو خدا نخواستہ خدانخواستہ کل اگر وہ بات غلط ثابت ہو جائے تو کیا یہ کہنا پڑے گا کہ قرآن غلط ثابت ہو گیا؟ تو لہٰذا سائنس کی کوئی بات ہو اگر حتمی ہو، قطعی ہو، پھر تو اسے تفسیر بنایا جا سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی۔ فلا أقسم بمواقع النجوم پس میں قسم اٹھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی جگہ کی۔ وانہ لقسم لو تعلمون عظیم۔ یہ درمیان میں جملہ معترضہ آ گیا جس کا ماقبل اور مابعد سے ربط نہیں ہوتا، اسے جملہ معترضہ کہتے ہیں۔ کیونکہ یہ پیچھے قسم ہے اور آگے إنہ لقران کریم یہ ہے جواب قسم جس پر قسم اٹھائی جا رہی ہے۔ ستاروں کے ڈوبنے کی جگہوں کی قسم إنہ لقران کریم کہ بے شک یہ عزت والا قرآن ہے، یہ قرآن کریم ہے۔ تو درمیان میں اللہ فرما رہے ہیں وانہ لقسم لو تعلمون عظیم اور یقینا یہ البتہ قسم ہے اگر تم جانتے ہو بڑی۔ عظیم ان بڑی۔ عظیم ان صفت ہے قسم کی بھئی، قسم کی۔ اور یقینا یہ البتہ بڑی قسم ہے لو تعلمون اگر تم جانتے ہو، اگر تم سمجھتے ہو۔ فی إنہ لقران کریم یقینا یہ قرآن کریم ہے فی کتاب مکنون۔ مکنون پوشیدہ بھئی۔ کنن اس کا مادہ ہے۔ فی کتاب مکنون چھپائی ہوئی کتاب میں، پوشیدہ کی ہوئی کتاب میں۔ مراد لوح محفوظ ہے بھئی۔ کیا مراد ہے؟ بے شک یہ قرآن کریم ہے فی کتاب مکنون چھپائی ہوئی کتاب میں، یعنی لوح محفوظ میں۔ لا يمسه إلا المطهرون نہیں چھوتے اس کو مگر پاک پاک کیے ہوئے یعنی پاک بھئی۔ نہیں چھوتے اس کو مگر پاک۔ مراد فرشتے ہیں بھئی۔ اور لا يمسه کی ہا ضمیر کتاب مکنون کو راجع یعنی لوح محفوظ مراد ہے۔ اس لوح محفوظ کو نہیں چھوتے إلا المطهرون مگر پاک فرشتے ہی۔ اس کو صرف کون چھوتے ہیں؟ پاک فرشتے ہی۔ یا ہا ضمیر راجع ہے قرآن کو بھئی۔ کس کو راجع؟ قرآن کو۔ اور لا يمسه إلا المطهرون کے ذریعے بتلایا گیا کہ قرآن جو ہے اس کو صرف پاکی کی حالت میں ہاتھ لگانا چاہیے، وضو کی حالت میں، بے وضو ہونے کی حالت میں ہاتھ نہیں لگانا چاہیے، یہ بڑی عزت والی معزز کتاب ہے۔ لا يمسه إلا المطهرون ہاتھ نہیں لگاتے اس کو مگر پاک، مگر پاک لوگ ہی۔ تنزيل من رب العالمين۔ یہ نازل کیا گیا ہے تمام جہانوں کے رب کی طرف سے۔ یا یہ ترجمہ کر لیں تنزیل من رب العالمین یہ نازل کیا جا رہا ہے تمام جہانوں کے رب کی طرف سے۔ أفبحديث أنتم مدهنون؟ کیا اس بات میں اف بهذا الحديث کیا اس بات میں یعنی اس کلام میں أنتم مدهنون تم سستی کرنے والے ہو؟ ادھن یادهن کے معنی ہے سستی کرنا، کوتاہی کرنا، نرمی کرنا۔ أفبحديث أنتم مدهنون کیا اس کلام کے اندر سستی کرنے والے ہو؟ لاپرواہی کرنے والے ہو، اس کو معمولی سمجھتے ہو بھئی۔ وتجعلون رزقكم أنكم تكذبون۔ اور بناتے ہو تم رزقكم اپنا رزق، اپنا حصہ۔ کیا بناتے ہو اپنا حصہ؟ أنكم تكذبون یہ کہ تم جھٹلانے والے، تم جھٹلاتے ہو۔ یعنی یہ قرآن بڑی عزت والی کتاب ہے کیا اس کلام کے اندر تم سستی کرتے ہو اور اسے معمولی اور سرسری سمجھتے ہو اور اپنا حصہ تکذیب کو بناتے ہو، اپنا حصہ کس کو بناتے ہو؟ تکذیب کو بناتے ہو، کفار کو خطاب کیا جا رہا ہے کہ تم اس کو تمہیں اس کتاب پر ایمان لانا چاہیے، تم کیوں اس کتاب کو معمولی سمجھتے ہو اور تکذیب اپنا حصہ بناتے ہو اس میں کہ تمہارا کیا حصہ ہے؟ کہ تم نے جھٹلایا اس کتاب کو۔ فلولا إذا بلغت الحلقوم۔ پس کیوں نہیں إذا بلغت الحلقوم جب پہنچ پہنچ جائے، بلغت جب پہنچ جائے روح الحلقومة حلق تک۔ حلقوم کہتے ہیں جو خوراک کی نالی ہے یہ گلے میں، اس کو حلقوم کہتے ہیں بھئی۔ تو مراد حلق ہے بھئی۔ فلولا إذا بلغت الحلقوم۔ پس کیوں نہیں جب روح پہنچ جاتی ہے حلق تک۔ پس کیوں نہیں جب روح پہنچ جاتی ہے حلق تک۔ بلغت کے اندر ہا ضمیر راجع ہے روح کو بھئی۔ اور روح کا پیچھے ذکر تو نہیں لیکن کلام سے مفہوم ہو رہی ہے بھئی۔ کلام اس پر کیا کر رہا ہے؟ دلالت کر رہا ہے۔ جیسے پیچھے پیدائش وغیرہ کا ذکر آیا تو یہ چیزیں اس پر دلالت کر رہی ہیں۔ فلولا إذا بلغت الحلقومة پس کیوں نہیں جب روح پہنچ جاتی حلق تک و أنتم حينئذ تنظرون۔ اور تم اس وقت دیکھ رہے ہوتے ہو ونحن أقرب إليه منكم اور ہم زیادہ قریب ہوتے ہیں اس کے منکم تمہارے مقابلے میں۔ ہم تم سے زیادہ اس کے قریب ہوتے ہیں اس شخص کے وہ جو مر رہا ہے، حالت نزع جس پہ طاری ہے، جس کی روح حلق میں پہنچ چکی ہے، تم اس کو دیکھ رہے ہو ونحن أقرب إليه منکم اور ہم اس کے زیادہ قریب ہوتے ہیں منکم تم سے۔ ولاكن لا تبصرون۔ لیکن تم دیکھتے نہیں ہو یعنی تمہیں دکھائی نہیں دیتا، ہم اس کے زیادہ قریب ہوتے ہیں تم سے بھی۔ فلولا إن كنتم غير مدينين۔ پس پھر کیوں نہیں اگر تم غير مدينين جزا دیے ہوئے نہیں ہوگے۔ تمہیں جزا نہیں دی جائے گی، بدلہ نہیں ملے گا بھئی۔ مدین جس اس میں مفعول کا صیغہ ہے مبیع کی طرح، مدین اور جس کو بدلہ دیا گیا ہو دین یہ دین تو مدین کا کیا معنی؟ بدلہ دیا ہوا فلولا پھر کیوں نہیں إن كنتم غير مدينين اگر تم بدلہ دیے ہوئے نہیں ہوگے۔ یعنی تمہیں جزا نہیں دی جائے گی، یعنی تمہارا حساب کتاب نہیں ہوگا۔ پھر کیوں نہیں اگر تمہارا حساب کتاب نہیں ہوگا ترجعونها کہ تم اس کو لوٹا لیتے ترجعونها تم اس روح کو لوٹا لیتے إن كنتم صادقين اگر تم سچے ہو۔ تو کلام دراصل یوں ہے فلا ترجعونها پس تم کیوں روح کو واپس نہیں لوٹا لیتے جس وقت روح کہاں تک پہنچ جاتی ہے؟ حلق تک پہنچ جاتی ہے ہے اور اس وقت تم اس مرنے والے کے پاس ہوتے ہو، کوئی عزیز وغیرہ اس کا انتقال ہونے والا ہو، رشتہ دار پاس بیٹھے ہوتے ہیں، اس کے اوپر حالتِ نزع طاری ہوتی ہے، سارے اس کو حسرت کے ساتھ دیکھ رہے ہوتے ہیں، کوئی کچھ بھی نہیں کر سکتا بھئی۔ کوئی کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ اور سارے حسرت سے دیکھ رہے ہوتے ہیں، اللہ فرماتے ہیں اس وقت تم اس کے پاس ہوتے ہو لیکن تمہیں نہیں معلوم کہ ہم تم سے بھی زیادہ اس کے قریب ہوتے ہیں، وہ فرشتے ہمارے اس کے پاس ہوتے ہیں۔ لیکن تمہیں دکھائی نہیں دیتا۔ پس اگر تم تمہارا حساب کتاب نہیں ہوگا، تم جزا نہیں دیے جاؤ گے تو تم اس کو روک کیوں نہیں لیتے؟ اس روح کو روک کر دکھاؤ۔ تم اس روح کو روک کر دکھاؤ، تم اس کو روک کیوں نہیں لیتے اگر تم سچے ہو۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ فلوَلا اذا بلغتِ الحلقومَ پس کیوں نہیں جب پہنچ جائے روح حلق میں، وانتم حینئذٍ تنظرون اس حال میں کہ تم اس وقت دیکھ رہے ہوتے ہو، ونحن اقربُ الیہ منكم و لیکنلا تبصرون اور تم دیکھتے نہیں ہو، فلوَلا ان کنتم غیر مدینین پس کیوں نہیں اگر تم جزا نہیں دیے جاؤ گے (یعنی اگر تمہارا حساب کتاب پھر کیوں نہیں اگر تمہارا حساب کتاب نہیں ہوگا) ترجعونها یہ کہ تم اس کو لوٹا لو اس روح کو ان کنتم صادقین اگر تم سچے ہو۔ فاما ان کان من المقربین پس اگر وہ جو مرنے والا ہے من المقربین مقربین میں سے ہوا، بتلایا تھا پیچھے تین قسم کے لوگ ہوں گے قیامت کے دن، ایک مقربین، ایک داہنی جانب والے، دائیں ہاتھ والے اور ایک بائیں ہاتھ والے بھئی۔ فاما ان کان من المقربین پس وہ جو مرنے والا ہے اگر وہ کس میں سے ہوا؟ مقربین میں سے ہوا، فروح و ریحان روح راحت بھئی، راحت۔ فروح تو راحت ہے و ریحان اور رزق ہے، ریحان رزق کو کہتے ہیں بھئی، یہ لفظ پہلے بھی گزر چکا، میں نے بتلایا تھا ریحان ہر خوشبودار پودے یا پھول کو کہتے ہیں، اسی طرح ریحان رزق کو بھی کہتے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور اسی طرح ریحان خوشبو کو بھی کہتے ہیں۔ فروح و ریحان তো راحت ہے اور و ریحان اور رزق ہے۔ یا یا فروح و ریحان تو راحت ہے اور خوشبو ہے۔ پس بعض نے با محاورہ ترجمہ یوں کیا: فاما ان کان من المقربین فروح و ریحان و جنّتِ نعیم پس اگر وہ شخص جو ہے مقربین میں سے ہوا فروح و ریحان تو راحت، تو راحت ہی راحت اور خوشبو ہی خوشبو ہے و جنّتِ نعیم۔ اور کیا ہے؟ نعمتوں کی جنّت ہے۔ جی وجنّتِ نعیم اور نعمتوں کی جنّت ہے بھئی، با محاورہ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ و اما ان کان من اصحاب الیمین باقی اگر وہ وہ مرنے والا من اصحاب الیمین دائیں جانب والوں میں سے ہوا فسلامُ لک من اصحاب الیمین پس سلامتی ہے تو اسے یہ کہا جائے گا سلامُ لک کہ تمہارے لیے سلامتی ہے من اصحاب الیمین کہ تم دائیں جانب والوں میں سے ہو۔ پس اگر وہ مرنے والا دائیں جانب والوں میں سے ہوا تو اسے کیا کہا جائے گا؟ کہ تم پر سلامتی ہے من اصحاب الیمین کہ تم کس میں سے ہو؟ دائیں جانب والوں میں سے ہو۔ یا یہ ترجمہ فسلامُ لک من اصحاب الیمین تو اسے یہ کہا جائے گا کہ اس کے لیے تیرے لیے سلامتی ہے من اصحاب الیمین، اصحاب یمین کی طرف سے۔ تیرے لیے سلام ہے کس کی طرف سے؟ اور جو اصحاب یمین ہیں ان کی طرف سے تیرے لیے سلام ہے۔ و اما ان کان من المکذبین اور باقی اگر وہ مرنے والا من المکذبین جھٹلانے والوں میں سے ہوا، الضالّین گمراہوں میں سے فنُزلٌ من حمیم تو مہمان نوازی ہے من حمیم کھولتے ہوئے گرم پانی سے وتصلیۃ الجحیم اور جہنم میں داخل ہونا ہے۔ صلی یصلی تصلیۃ کا کیا معنی؟ داخل ہونا، فَنْ اگر وہ مرنے والا جھٹلانے والوں گمراہوں میں سے ہوا فنُزلٌ من حمیم وتصلیۃُ الجحیم تو مہمان نوازی ہے گرم پانی سے اور جہنم میں داخل ہونا ہے (یعنی جہنم میں داخل ہوگا) انّ هذا لھو حقُّ اليقين یقیناً یہ جو ہے البتہ حقُّ اليقين ہے۔ یہ قطعی یقینی بات ہے۔ یہ قطعی یقینی بات ہے، یاد رکھیے ایک ہے علم اليقين، ایک ہے عين اليقين، ایک ہے حق اليقين۔ ایک علم اليقين، ایک عين اليقين، ایک حق اليقين۔ علم اليقين یہ ہے کہ ایک چیز کے بارے میں آپ کو علم ہے اور یقین کس حد تک یہ علم پہنچا ہوا ہے، پورا یقین ہے اس پر بھئی، پورا یقین۔ مثلاً آپ کو مثال کے طور پر یہ بتلایا گیا کہ اگ جلانے والی ہے، اگ چیزوں کو جلا دیتی ہے اور آپ کو اس بات پر پورا یقین ہے، قطعی طور پر کوئی آپ کے اس یقین کو دلیل کے ذریعے بھی توڑنا چاہے تو توڑ نہیں سکتا بھئی، اتنا قطعی یقین ہے، یہ کیا ہے؟ علم اليقين۔ لیکن نہ آپ نے اگ کو آپ نے اگ کو کسی کو جلاتے ہوئے نہیں دیکھا، صرف علم ہی کی حد تک ہے یہ بات بھئی، یہ ہے علم اليقين۔ اس سے بڑھ کر درجہ ہے کہ آپ باقاعدہ دیکھ لیں کہ اگ چیزوں کو جلا رہی ہے، دور سے دیکھا اگ کیا کر رہی ہے؟ چیزوں کو جلا رہی ہے، یہ ہے عين اليقين، یہ اس سے بھی بڑھ کر یقین کا درجہ ہے بھئی۔ یہ دوسرا درجہ اور اس سے بھی بڑھ کر یقین کا درجہ ہے حق اليقين بھئی، کہ آپ کے بھی باقاعدہ ہاتھ اگ میں لگایا یا انگلی ڈالی اور وہ جل گئی، باقاعدہ آپ کو بھی تجربہ ہو گیا تو یہ سب سے بڑھ کر جو ہے یقین کا درجہ ہے اسے حق اليقين کہتے ہیں بھئی، تو پہلا درجہ کیا؟ علم اليقين، دوسرا عين اليقين، تیسرا حق اليقين۔ انّ هذا لھو حقُّ اليقين اللہ فرما رہے ہیں بیشک یہ جو ہے یہ جو بات ہے یہ حقُّ اليقين ہے، یہ کیا ہے؟ حق اليقين ہے، قطعی یقینی ہے، فسبّح باسم ربّک العظیم پس آپ پاکی بیان کیجیے اپنے عظیم پروردگار کے نام کی۔ بسم الله الرحمن الرحیم۔ سبّح لله ما في السماوات والارض وهو العزيز الحکیم، له ملک السماوات والارض يحيي ويميت وهو علی كل شيء قدير، هو الاول والآخر والظاهر والباطن وهو بكل شيء عليم۔ جی یہ سورہ حدید ہے بھئی، سورہ حدید۔ اور یہ اس سورت کی آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فتح مکہ کے بعد نازل ہوئی بھئی۔ فتح مکہ کے بعد نازل ہوئی، یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری سالوں میں۔ اور اس کے اندر حدید کا ذکر آتا ہے، حدید عربی میں لوہے کو کہتے ہیں، تو اس وجہ سے اس کا نام حدید ہے بھئی۔ سبّح لله ما في السماوات والارض اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں۔ زمینوں زمین اور آسمانوں کے اندر جو کچھ ہے وہ اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں، اللہ کی تسبیح کرتے ہیں بھئی۔ وهو العزيز الحکیم اور وہ زبردست ہے، حکمت والے ہیں۔ اب زمین اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے وہ اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ یا تو اس کا معنی یہ کہ زمین اور آسمان میں جتنی چیزیں ہیں وہ زبانِ قال سے یا زبانِ حال سے اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں۔ زبانِ قال سے، (یعنی قول کی صورت میں) یا زبانِ حال سے (یعنی ان کا حال بتلاتا ہے) زمین اور آسمان میں جتنی چیزیں ہیں وہ تو یا تو اپنے قول کے ساتھ، اپنی زبان کے ساتھ باقاعدہ اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور کچھ چیزیں، مثلاً جو جمادات ہیں جن میں جان نہیں ہے وہ اپنے حال کے اعتبار سے اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں، یعنی اللہ کی ذات پر دلالت کرتے ہیں اور اللہ کی وحدانیت کی گواہی دے رہے ہیں، یہ سب چیزیں بھئی کائنات کی، تو یہ سب کیا کر رہی ہیں؟ اللہ کی تسبیح بیان کر رہی ہیں۔ لیکن زیادہ راجح جس کی طرف علماء گئے ہیں وہ یہ کہ حقیقتاً ہر چیز اللہ کی تسبیح بیان کر رہی ہے، وہ الگ بات ہے ہمیں چیزوں اس کا پتہ نہ چلے بھئی، یہ پتھر، یہ پہاڑ، یہ ہر ہر چیز یہ یہ کیا ہے؟ اللہ کی تسبیح میں مصروف ہے، ہاں ہمارا علم نہیں، ہمیں اس کی کیفیت کا پتہ نہیں بھئی۔ سبّح لله ما في السماوات والارض وهو العزيز الحکیم تسبیح بیان کرتی ہے اللہ کی جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور وہ زبردست ہے، حکمت والے ہیں، له ملک السماوات والارض اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی، يحيي ويميت وہی زندگ وہ زندگی دیتا ہے ويميت اور موت دیتا ہے، وهو علی كل شيء قدير اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ هو الاول والآخر والظاهر والباطن وہی اول ہے اور وہی آخر ہے، وہی ظاہر ہے اور وہی باطن ہے۔ هو الاول وہی سب سے پہلے ہے والآخر اور سب سے پیچھے ہے۔ سب چیزیں فانی ہیں، اللہ کی ذات باقی رہنے والا ہے، تو ذات کی طرف چیزوں کی ذات کی طرف نظر کی جائے، ہر چیز فنا ہونے والی ہے بھئی۔ اور اللہ کی ذات ازل ہمیشہ سے ہے بھئی۔ والظاهر اور وہی ظاہر ہے والباطن اور وہی باطن ہے، یعنی پوشیدہ ہے۔ اللہ ہی ظاہر ہیں اور اللہ ہی پوشیدہ ہیں۔ ظاہر اس اعتبار سے کہ کائنات کی ہر چیز اللہ کے وجود پر دلیل ہے، اللہ کے وحدانیت بتلا رہی ہے۔ اور باطن ہے اللہ کی ذات وہی پوشیدہ ہے بھئی، اللہ کی ذات جس کی حقیقت، ایک تو اللہ کی ذات آنکھوں سے پوشیدہ ہے، پھر اللہ کی ذات کی حقیقت کا پتہ نہیں کسی کو بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ چنانچہ آپ بڑی کتابوں میں جائیں گے اور وہاں پر اللہ کی ذات اور صفات صفات کی خصوصاً بحث آئے گی بھئی۔ اللہ کی ذات کی کیا حقیقت ہے؟ وہاں بس پڑھیں گے آپ کہ اللہ جسم نہیں ہے۔ اللہ جسم نہیں، کیونکہ جو بھی جسم ہوگا وہ مرکب ہوگا اور جو بھی مرکب ہو وہ حادث ہوتا ہے۔ وہ کیونکہ جو بھی مرکب ہے اس کے اجزاء ہوتے ہیں تو وہ اپنے اجزاء کا محتاج ہوا اور اللہ کسی کے محتاج نہیں۔ ليس كمثله شيء اللہ کی مثل کوئی چیز نہیں ہے تو یہ اا اللہ کی ذات کی حقیقت کا کوئی علم نہیں، بلکہ اللہ کی ذات کی حقیقت تو بہت اونچی چیز ہے، اللہ کی صفات کی حقیقت کا بھی پورا پتہ نہیں بھئی۔ اللہ کے جو اسماء ہیں، اللہ کی جو صفات ہیں ان کی حقیقت کا بھی پتہ نہیں بھئی۔ ایک عربی شاعر کہتا ہے: سبحان من تاه الورى في ذاته۔ سبحان من تاه الورى في ذاته بل دون كنه ذاته في أسمائه۔ پاک ہے وہ ذات کہ ساری مخلوق اس کی ذات کے بارے میں حیران ہیں، اس کی ذات کا پتہ نہیں۔ بل دون كنه ذاته بلکہ ذات کی حقیقت کو چھوڑیے۔ بل دون كنه ذاته کی حقیقت کو چھوڑیے في أسمائه بعضوں نے فی اوصافہ کہا، فی اوصافہ اس کے اوصاف کے اندر بھی مخلوق حیران ہے اللہ کی صفات کا بھی پورا اس کی حقیقت کا انسان کو علم نہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی تو وہی ظاہر بھی ہے اور وہی پوشیدہ بھی ہے، ذات بھی پوشیدہ، صفات کا بھی پورا علم نہیں بھئی۔ ان کی حقیقت کا پتہ نہیں، وهو بكل شيء عليم اور وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے، هو الذي خلق السماوات والارض في ستة ايام وہی ذات ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو في ستة ايام چھ دنوں میں۔ چھ دنوں میں بھئی، یہ بات پہلے بھی بیان ہو چکی۔ کہ چھ دن سے، اس وقت تو دن اور رات تھے ہی نہیں، دن اور رات تو سورج کے طلوع و غروب سے بنتے ہیں، سورج اور زمین تو اس کے بعد بنے، پھر تو مراد وقت ہے اتنا، چھ دنوں کا وقت مراد ہے اور پھر ہو سکتا ہے یہ والے چھ دن اور رات مراد ہوں، اتنا وقت بھئی اور ہو سکتا ہے وہ دن اور رات مراد ہوں جو اللہ کے نزدیک ہیں اور اللہ کے نزدیک ایک دن اور رات ہمارے ہاں کے ہزار سال کے برابر ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں اللہ وہ ذات ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو چھ ایام میں، چھ دنوں میں۔ ثم استوى على العرش پھر وہ مستوی ہوا عرش پر، پھر اس نے قرار پکڑا عرش پر۔ پھر اس نے قرار پکڑا عرش پر۔ ویسے کلام عرب کے اعتبار سے استوى على الكرسي کا معنی ہوتا ہے کرسی پر بیٹھنا۔ لیکن یہاں پر یہ ترجمہ درست نہیں بھئی۔ کیونکہ اگر اللہ کے لیے کرسی پر بیٹھنا ثابت کیا جائے تو اللہ کے لیے جسم ماننا پڑے گا اور جسم مانیں گے تو پھر اللہ کو مرکب ماننا لازم ائے گا اور مرکب مانیں گے تو اللہ کو حادث ہونا لازم آئے گا کہ اللہ اپنے اجزاء کا محتاج ہوا۔ ليس كمثله شيء اللہ کی مثل کوئی چیز نہیں، تو یہاں پھر کیا معنی اللہ نے عرش پر قرار پکڑا۔ یہ آیت یاد رکھیے، پہلے بھی میں بیان کر چکا متشابہات میں سے ہے بھئی۔ معنہ تو ہمیں معلوم ہے، اللہ نے عرش پر قرار پکڑا، لیکن کیفیت معلوم نہیں بھئی، اللہ ہی جانتے ہیں کیا مراد ہے، کیا معنی ہے اس کا۔ سمجھ میں آیا؟ لفظی معنی تو معلوم، لیکن حقیقت اور کیفیت کا ہمیں علم نہیں۔ بعضوں نے کہا اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ عرش پر اللہ نے قرار پکڑا، یعنی اللہ تخت نشین ہوئے۔ اللہ تخت نشین ہوئے۔ تخت نشین ہوئے۔ معنی یہ ہے اللہ نے اس ساری کائنات کو بنایا اور پھر اس کا انتظام و انصرام سنبھال لیا۔ اس کا انتظام سارا اللہ نے ساری سلطنت کا انتظام سنبھال لیا اللہ نے اس طور پر کہ کوئی بھی چیز اللہ کے اللہ کے اقتدار سے باہر نہیں، سب چیزیں اللہ کے اقتدار میں، اللہ کے قابو میں ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ معنی۔ يعلم ما يلج في الأرض وما يخرج منها وہ جانتا ہے جو داخل ہوتا ہے زمین میں وما يخرج منها اور وہ جو نکلتا ہے زمین سے وہ جانتا ہے ان چیزوں کو بھی جو زمین میں داخل ہوتی ہیں، کیا کیا داخل ہوتا ہے مثلاً: بیج زمین میں داخل ہوتا ہے، پانی داخل ہوتا ہے، مردے جو ہیں ان کو زمین میں دفن کیا جاتا ہے، وہ زمین میں داخل ہوتے ہیں وغیرہ بھئی۔ تو وہ جانتا ہے جو کچھ زمین (یہ ما يلج في الأرض جو زمین میں داخل ہوتا ہے) وما يخرج منها اور ان چیزوں کو بھی جو زمین سے نکلتی ہیں، مثلاً پودے نکلتے ہیں، نباتات نکلتی ہیں وغیرہ بھئی۔ وما ينزل من السماء اور وہ جانتا ہے وہ چیز ان چیزوں کو بھی یل من السماء جو آسمان سے اترتی ہیں وما يعرج فيها اور وہ چیزیں جو آسمان میں چڑھتی ہیں۔ آسمان سے کیا چیزیں اترتی ہیں؟ بارش اترتی ہے، فرشتے اترتے ہیں، اللہ کی رحمت اترتی ہے، اللہ کی طرف سے عذاب اترتا ہے۔ اور وہ ان چیزوں کو بھی وما يعرج فيها جو آسمان میں چڑھتی ہیں، کیا چیزیں؟ جی فرشتے چڑھتے ہیں، بندوں کے اعمال اوپر چڑھتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور جی اسی طرح دعائیں بھئی، وہ جانتا ہے وہ چیزیں جو اترتی ہیں آسمان سے وما يعرج فيها اور وہ جو آسمان میں چڑھتی ہیں، وهو معكم أينما كنتم اور وہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے أينما كنتم جہاں کہیں بھی تم ہو۔ اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ کہ اللہ تمہارے ساتھ ہوتے ہیں جہاں کہیں بھی تم ہو، یعنی اللہ کا علم اتنا کامل ہے، اتنا کامل ہے تم جہاں کہیں بھی ہو وہ اللہ تمہارے ساتھ اللہ پوری طرح تم سے باخبر ہیں۔ والله بما تعملون بصير اور اللہ جو کچھ تم عمل کرتے ہو بصيرٌ اس کو دیکھ رہے ہیں، له ملک السماوات والارض اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی والى الله ترجع الأمور اور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے تمام معاملات۔ يولج الليل في النهار ويولج النهار في الليل وہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو في الليل رات میں۔ يولج الليل وہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور دن کو رات، کیا معنی بھئی؟ یہ پہلے بھی بیان ہو چکا بھئی دیکھیے گرمیوں میں مثلاً سورج غروب ہوتا ہے سات سوا سات بجے اور سردیوں میں سورج غروب ہوتا ہے پانچ سوا پانچ بجے۔ یہ پانچ سے سات تک کا وقت یہ تو دن کا تھا سوا سات جا کے سورج غروب ہوتا تھا لیکن سردیوں میں کتنے بجے ہو جاتا ہے؟ پانچ سوا پانچ ہی ہو گیا تو پانچ سے سات تک یہ دو گھنٹے تو دن کا حصہ تھا۔ اللہ نے اس کو کس میں داخل کر دیا؟ رات میں۔ اسی طرح صبح کے وقت میں بھی ہوتا ہے بھئی۔ اتنا ہی اسی طرح فرق پڑ جاتا ہے۔ تو دیکھو اللہ کبھی دن کے حصے کو رات میں داخل فرما دیتے ہیں اور کبھی رات کے حصے کو دن میں تو کبھی راتیں لمبی کبھی دن لمبے بھئی۔ و یولج اللیل فی النھار و یولج النھار فی اللیل وہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور دن کو داخل کرتا ہے رات میں وھو علیم بذات الصدور اور وہ جانتا ہے دلوں کی باتیں آمنوا باللہ ورسولہ وانفقوا مما جعلکم مستخلفین فیہ ایمان لاؤ تم اللہ پر اور اس کے رسول پر وانفقوا اور خرچ کرو مما اس میں سے جعلکم کہ بنایا اس نے تمہیں مستخلفین فیہ ان میں نائب بھئی مستخلف خلیفہ بھئی جس کو نائب بنایا گیا ہو، قائم مقام بنایا گیا ہو۔ اللہ فرما رہے ہیں ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے اور اس کے رسول پر اور خرچ کرو ان چیزوں میں سے جعلکم مستخلفین فیہ کہ بنایا تمہیں قائم مقام ان چیزوں کے اندر ان چیزوں میں جن میں تمہیں قائم مقام بنایا اس میں سے خرچ کرو۔ تو بعض مفسرین حضرات لکھتے ہیں اس میں خطاب ہے کفار کو۔ اس میں کس کو خطاب ہے؟ کفار کو کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ بعضوں نے کہا خطاب مومنین ہی کو ہے پھر کیا معنی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ وہ تو مومنین تو پہلے ہی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں۔ تو معنی دوام ہے بھئی اس ایمان پر دائم رہو اس پر ثابت قدم رہو بھئی۔ تو آمنوا کا کیا معنی ہوا؟ ایمان پر ثابت قدم رہو۔ اور خرچ کرو اس میں سے جس میں تم کو خلیفہ بنایا۔ فالذین آمنوا منکم وانفقوا لہم اجر کبیر پس وہ لوگ جو ایمان لائے تم میں سے اور خرچ کیا انہوں نے لہم اجر کبیر ان کے لیے بڑا اجر ہے۔ وما لکم لا تؤمنون باللہ و لا تؤمنون باللہ اور کیا وجہ کیا ہوا تمہیں کہ تم ایمان نہیں لاتے اللہ پر وما لکم تمہیں کیا ہوا کیا وجہ ہے تمہارے لیے لا تؤمنون باللہ کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے والرسول یدعوکم اور رسول جو ہیں اللہ کے یدعوکم تمہیں دعوت دیتے ہیں اور تو یہ و رسول یہ آگے جملہ یہ حال ہے بھئی۔ وما لکم لا تؤمنون باللہ اور کیا وجہ ہے تم کہ تم ایمان نہیں لاتے اللہ پر حالانکہ رسول جو ہیں یدعوکم کہ وہ تمہیں دعوت دیتے ہیں لتؤمنوا بربکم کہ تم ایمان لاؤ اپنے پروردگار پر۔ رسول تمہیں دعوت دیتے ہیں کہ تم ایمان لے کر آؤ وقد اخذ میثاقکم اور تحقیق لیا اللہ نے میثاقکم تمہارا پکا عہد بھئی۔ میثاق کسے کہتے ہیں؟ پکا عہد۔ حالانکہ اللہ تم سے پکا عہد لے چکے ہیں۔ قد اخذ میثاقکم اللہ تم سے پکا عہد، پکا وعدہ لے چکے ہیں بھئی پکا وعدہ کون سا؟ وہ جو حضرت آدم علیہ السلام کی پشت سے اللہ نے ان کی تمام اولاد کو تمام ذریت کو نکالا تھا اور فرمایا تھا الست بربکم کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟ تو سب نے جواب دیا تھا بلا کیوں نہیں آپ ہمارے رب ہیں تو تم اس وقت پکا وعدہ کر چکے ہو اور اقرار کر چکے ہو اللہ کی ربوبیت کا اور اس کی وحدانیت کا پھر کیا وجہ ہے کہ اب تم ایمان نہیں لاتے دنیا میں انے کے بعد حالانکہ پیغمبر تمہیں اللہ پر ایمان لانے کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ وما لکم لا تؤمنون باللہ اور تمہارے تمہیں کیا ہوا کہ تم ایمان نہیں لاتے اللہ پر والرسول یدعوکم لتؤمنوا بربکم حالانکہ رسول تمہیں دعوت دیتے ہیں کہ تم ایمان لاؤ اپنے پر اپنے پروردگار پر وقد اخذ میثاقکم تحقیق اللہ لے چکے ہیں تم سے تمہارا پکا عہد ان کنتم مومنین اگر تم ایمان لانے والے ہو اگر تم ایمان لانے والے ہو۔ والذی یزل علی عبدہ آیات بینات وہی ذات ہے جو نازل کرتا ہے علی عبدہ اپنے بندے پر آیات بینات واضح آیتیں وہی ذات ہے جو نازل کرتا ہے اپنے بندے پر واضح آیتیں لیخرجکم من الظلمات الی النور تاکہ نکالے تم کو تاریکیوں سے نور کی طرف۔ ظلمت تاریکی کو کہتے ہیں، ظلمات جمع ہے۔ وہی ذات ہے جو اتارتا ہے اپنے بندے پر واضح آیتیں تاکہ نکالے تم کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف وان اللہ بکم لرءوف رحیم اور یقیناً اللہ تم پر لرءوف البتہ شفیق ہیں رحیم رحم کرنے والے ہیں۔ اللہ یقیناً تم پر شفیق، شفقت کرنے والے ہیں یا یوں ترجمہ کر لیں نرمی کرنے والے ہیں اور رحیم اور رحم کرنے والے ہیں۔ وما لکم لا تنفقفقوا فی سبیل اللہ اور کیا وجہ ہے کہ تم خرچ نہیں کرتے فی سبیل اللہ اللہ کے راستے میں وللہ میراث السموات والارض اور اللہ ہی کے لیے میراث ہے آسمانوں کی اور زمین کی۔ کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے اور اللہ ہی کے لیے میراث ہے آسمانوں کی اور زمین کی۔ یعنی جو کچھ ہے جس کے پاس بھی ہے وہ سب کچھ اللہ ہی کی طرف چھوڑ کر اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔ تو سب کچھ کس کا ہے؟ اللہ کا ہے۔ پہلے بھی یہ تمہارا نہیں تھا دوسروں سے تمہیں ملا۔ اور پھر مرتے ہو تو یہ چھوڑ جاتے ہو اپنے ساتھ کچھ بھی نہیں لے کر جاتے تو سب کچھ اللہ ہی کا ہے۔ تو پھر کیا وجہ ہے جب سب کچھ اللہ کا ہے اور یہ مال پہلے بھی تمہارا نہیں تھا پھر تمہیں ملا تو پھر کیا وجہ ہے کہ تم اسے اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے؟ اگر تمہیں مال ملا ہے، اللہ نے دے دیا ہے تو تمہیں چاہیے کہ موقع ہے اس کو جلدی جلدی کیا کر دو جتنا جس حد تک ضرورت کے بقدر انسان رکھے باقی اللہ کے راستے میں جہاں موقع ہو اللہ کے راستے میں خرچ کرتا رہے کیونکہ جو اللہ کے راستے میں خرچ کر رہا ہے وہ باقی ہے اور جو نہیں کر رہا وہ ختم ہونے والا ہے۔ تو خرچ کرو گے تو اپنا ہی ذخیرہ بنا رہے ہو کوئی مال ختم نہیں ہو رہا آخرت میں یہ سب تمہارے کام آئے گا۔ لا یستوی منکم من انفق من قبل الفتح و قاتل لا یستوی منکم برابر نہیں ہے تم میں سے استوا یستوی کے معنے برابر ہونا۔ لا یستوی منکم برابر نہیں ہے تم میں سے من وہ شخص انفقا جس نے خرچ کیا من قبل الفتحہ من قبل الفتح فتح سے پہلے۔ جس نے فتح سے فتح سے میں الف لام آیا۔ جس نے خرچ کیا من قبل الفتح اس فتح سے پہلے یعنی فتح مکہ سے پہلے۔ کس سے پہلے؟ فتح مکہ سے پہلے وقاتل اور قتال کی لڑائی کی جہاد کیا۔ اللہ فرما رہے ہیں لا یستوی منکم من انفق من قبل الفتح وقاتل برابر نہیں ہے تم میں سے وہ شخص جس نے خرچ کیا فتح مکہ سے پہلے اور جہاد کیا۔ جس نے فتح مکہ سے پہلے خرچ کیا اور جہاد کیا وہ برابر نہیں۔ اولئک اعظم درجۃ من الذین انفقوا من بعد وقاتلوا وہ لوگ بڑے ہیں اولئک ا جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے خرچ کیا اور لڑائی کی اولئک اعظم درجۃ وہ لوگ بڑے ہیں باعتبار درجے کے من الذین ان لوگوں سے ان لوگوں کے مقابلے میں الذین انفقوا جنہوں نے خرچ کیا من بعد اس کے بعد وقاتلوا اور لڑائی کی۔ جنہوں نے اس کے بعد لڑائی کی فتح مکہ کے بعد جنہوں نے جہاد کیا اور خرچ کیا ان کے مقابلے میں وہ ان لوگوں کا درجہ بڑھا ہوا ہے جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے خرچ کیا اور جہاد کیا۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ وجہ یہ ہے کہ ابتدا میں ابتدا میں مسلمان کمزور تھے بھئی۔ دشمن زیادہ تھے پورا عرب دشمن تھا اپنے رشتہ دار دشمن تھے سب دشمن تھے تو اس وقت یقیناً بڑے ہی بڑا ہی کڑا وقت تھا مومنین پر اس وقت اللہ کے راستے میں خرچ کرنا اور اللہ کے راستے میں لڑائی کے لیے نکلنا بڑا ہی مشکل کام تھا اور تو جن لوگوں نے اس وقت اللہ کے راستے میں خرچ کیا اور لڑائی کی جہاد کیا یقیناً ان کا درجہ بڑھا ہوا ہے جبکہ فتح مکہ کے بعد پھر تو تقریبا سارا عرب مسلمانوں کے تابع ہو چکا تھا اور میں نے بتایا کہ اس وقت جب حضور علیہ السلام مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو 10 ہزار صحابہ ہمراہ تھے بھئی 10 ہزار بھئی تو اب تو مسلمانوں کی جمیعت بھی بڑھ چکی تھی ان کی جماعت بھی بڑی ہو گئی تھی اور غزوات کے اندر ان کو مال بھی حاصل ہو گیا تھا تو اب وہ صورتحال نہیں تھی تو لہذا اب جو خرچ بھی کرے یا جہاد بھی کرے اب وہ پہلوں کا مقام نہیں پا سکتا بھئی۔ ہاں وکل وعد اللہ الحسنیٰ ہر ایک سے اللہ نے بھلائی کا وعدہ کیا ہے۔ وکل اور ہر ایک سے وعد اللہ الحسنیٰ اللہ نے وعدہ کیا ہے الحسنیٰ بھلائی کا۔ بھلائی سب کے لیے ہے اللہ کے ہاں لیکن ان کا درجہ بڑھا ہوا ہے بھئی۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ الفتح اس سے کیا مراد ہے؟ فتح مکہ۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں فتح سے مراد صلح حدیبیہ ہے جس کو قرآن میں فتح مبین کہا گیا بھئی۔ سورہ سمجھ میں آگ گئی بھئی؟ وکل اور ہر ایک یہ بات میں پہلے بیان کر چکا ہوں کل کا لفظ مضاف الیہ چاہتا ہے اس پر جب بھی تنوین آئے وہ عوض ہوگی مضاف الیہ سے ای کل واحد جو ہر ایک جو ہے وعد اللہ الحسنیٰ اللہ نے ان سے بھلائی کا وعدہ کیا ہے یعنی جنت کا۔ واللہ بما تعملون خبیر اور اللہ جو تم عمل کرتے ہو اس سے باخبر ہے۔ من ذا الذی یقر ض اللہ قرضا حسنا کون ہے جو قرض دے اللہ کو قرضا حسنا اچھا قرض۔ کون ہے جو اللہ کو اچھی طرح قرض دے فیضاعفہ لہ تو اللہ بڑھا دیں گے اس کو اس کے لیے۔ ضاعف میں پہلے بیان کر چکا ہوں ضاعف یضاعف اور ضعف تو ضاعف یضاعف کے معنے دگنا کرنا لیکن اردو میں اس کا کوئی مترادف ہے ہی نہیں اس لیے دگنا کرنا معنی ہم کرتے ہیں بھئی۔ مطلب کئی گنا کر دینا۔ کیا کر دینا؟ کئی گناہ تو اس میں دگنا بھی آگیا تگنا بھی آگیا چھگنا بھی آگیا پانچ گناہ، چھ گناہ، دس گناہ، بیس گناہ سب اس کے اندر آگئے بھئی۔ اور آپ جانتے ہیں ایک نیکی کا کم سے کم بدلہ کتنا ہے؟ دس گناہ۔ کتنا ہے؟ دس گناہ۔ سمجھ میں آیا بھئی تو یہ سب یضاعف کے اندر داخل ہیں بھئی۔ اور اللہ کو قرض دینے سے مراد ہے اللہ کے راستے میں جو خرچ کرتا ہے۔ اور قرض اچھا قرض ذکر کیا اچھا قرض وہ ہے جو خالص اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لیے دیا جائے اس میں ریاکاری وغیرہ نہ ہو۔ من ذا الذی یقر ض اللہ قرضا حسنا کون ہے جو قرض دے اللہ کو اور اچھا قرض فیضاعفہ لہ تو اللہ اس کے لیے دگنا کر دے گا اس کو یا بڑھا دے گا اس کو اس کے لیے ولہ اجر کریم اور اس کے لیے عزت والا اجر ہوگا۔ اللہ کی رحمت کا اندازہ لگائیے سارا کچھ دیا بھی اللہ کا ہوا ہے پھر بھی اللہ فرماتے ہیں جو میرے راستے میں خرچ کرو گے اسے قرض وہ قرض کی طرح ہے میں اس کا بدلہ دوں گا سارے کا بھئی۔ یوم تر مومنین و مومنات یسعا نورہم بین ایدیم جس دن کہ تو آپ دیکھیں گے مومن مردوں کو اور مومن عورتوں کو یسعا نورہم دوڑ رہا ہوگا ان کا نور بین ایدیم ان کے سامنے و بأیمانھم اور ان کے دائیں جانب۔ بشرکم الیوم اور ان سے کہا جائے گا بشرکم الیوم جنات خوشخبری ہو تمہارے لیے آج کے دن جنات ایسے باغات کی تجری من تحتھا الانہار کہ بہتی ہیں جن کے نیچے سے نہریں خالدین فیہا اس حال میں کہ تم اس میں ہمیشہ رہو گے۔ ذالک ھو الفوز العظیم یہی ہے عظیم کامیابی بھئی۔ ان جنتوں کو حاصل کر لینا اللہ فرماتے ہیں یہ عظیم کامیابی ہے بھئی کیونکہ الجنت اللہ کی رضا کا مقام ہے۔ بھئی جب حساب کتاب ہو جائے گا تو اس کے بعد کہتے ہیں کہ ایک وقت آئے گا کہ اندھیرا چھا جائے گا بھئی۔ اندھیرا ہو جائے گا۔ اور کفار جو ہیں ان کو تو جو واضع کفار تھے ان کو تو جو پہلے ہی اسی وقت جہنم میں ڈالا جا چکا۔ البتہ منافقین ابھی تک مومنین کے ساتھ ہوں گے۔ جنہوں نے بظاہر کلمہ پڑھ رکھا تھا لیکن دل کے اندر ان کے کفر تھا بھئی۔ تو منافقین ابھی تک مومنین کے ساتھ ہوں گے۔ اور اندھیرا چھا جائے گا اور پھر صراط پر سے گزرنا پڑے گا۔ تو مومنین جو ہیں ان کا ایمان جو ہے نور کی صورت میں ان کے سامنے اور ان کے دائیں طرف ہوگا تیزی سے چل رہا ہوگا مومنین ساتھ ساتھ جا رہے ہوں گے۔ تو اور جتنا ایمان ہوگا اس اسی کے بقدر روشنی ہوگی۔ بعضوں کا ایمان پہاڑوں کی صورت میں ہوگا روشنی میں اور بعضوں کا اس سے کم، بعضوں کا اس سے کم اور سب سے کم جس کا ہوگا کہتے ہیں اس کا اتنا ایمان ہوگا کہ وہ انگوٹھے کے سرے کے برابر جو روشنی کر رہا ہوگا اس وقت تاریکی کے اندر۔ اور پھر یہ ایمان ان کے دائیں طرف اور سامنے تیزی سے دوڑ رہا ہوگا اور مومنین ان کے ساتھ ساتھ چلے جا رہے ہوں گے صراط پر سے گزرنے کے لیے۔ اور جو منافقین ہوں گے ان کے پاس کوئی نور نہیں ہوگا تو وہ مومنین کو پکار کر کہیں گے کہ ذرا ٹھہرو۔ ذرا ٹھہرو ہمارا انتظار کرو۔ تو مومنین ان ہم بھی تمہارے نور میں سے کچھ حاصل کر لیں ہم کو بھی کچھ روشنی مل جائے۔ مومنین ان کو کہیں گے پیچھے پلٹو اور پھر پیچھے واپس جاؤ اور نور تلاش کرو یعنی جہاں نور تقسیم ہو رہا تھا وہاں پر جا کر نور لے آؤ۔ نور لے آؤ۔ پھر اس وقت اللہ فرماتے ہیں کہ مومنین اور منافقین کے درمیان ایک دیوار حائل کر دی جائے گی اور وہ دیوار ایسی ہوگی کہ اس کے اندر کی طرف تو جو ہے وہ رحمت ہوگی یعنی مومنین والی جانب اور اس کے باہر کی جانب جو ہوگی یعنی منافقین کی جانب وہ اس میں عذاب ہوگا۔ اس میں کیا ہوگا؟ عذاب ہوگا اور پھر اس طرح مومنین جو ہیں صراط پر سے گزرتے ہوئے جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ تو یہ اسی کا ذکر آ رہا ہے بھئی۔ یوم تر المومنین و المومنات یسعا نورھم بین ایدیم جس دن کہ آپ دیکھیں گے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو یسعا نورھم سعی ایسا کے معنی دوڑنے کے یسعا نورھم بین ایدیم و بأیمانھم دوڑ رہا ہوگا ان کا نور ان کی روشنی بین ایدیم و بأیمانھم ان کے سامنے اور ان کی دہنی طرف۔ بشرکم الیوم جنات تجری من تحتھا الانہار خالدین فیہا ان سے یہ کہ کہا جائے گا خوشخبری خوشخبری ہو تمہارے لیے آج کے دن ایسے باغات کی جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں۔ خالدین فیہا اس حال میں کہ تم اس میں ہمیشہ رہو گے۔ ذالک ھو الفوز العظیم یہی ہے عظیم کامیابی۔ یوم یقول المنافقون و المنافقات للذین آمنوا جس دن کے کہیں گے منافق مرد اور منافق عورتیں للذین آمنوا ان لوگوں سے جو ایمان لے کر آئے۔ انظرونا تم ہمارا انتظار کرو۔ انظرونا تم ہمارا انتظار کرو۔ نقتبس من نورکم ہم روشنی لے لیں اقبس کے معنی روشنی لینے کے کہ ہم روشنی لے لیں من نورکم تمہارے نور سے تمہاری روشنی سے ہم بھی کچھ روشنی لے لیں۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ انظرونا ہمارا انتظار کرو ہم بھی تمہاری روشنی میں سے کچھ روشنی۔ بعضوں نے کہا انظرونا اس کا میں نے کیا پہلا ترجمہ کیا؟ ہمارا انتظار کرو۔ دوسرا بعضوں نے ترجمہ کیا انظرونا ہماری طرف دیکھو۔ منافقین مومیوں سے کہیں گے ہماری طرف دیکھو۔ مومنین کے چہرے چمک رہے ہوں گے ان سے نور پھوٹ رہا ہوگا تم ہماری طرف دیکھو تاکہ تمہارے چہروں کی چمک سے ہمیں بھی کچھ راستہ نظر آجائے بھئی۔ چلیے بھئی آپ کے استاد آگئے بس بھئی یہ ہوا الکلام اللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
129 approved lectures · 111 of 129