Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-103

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 12 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 6
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وذباللہ من الشیطان الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ والذاریات ذرواً، فالحاملات وقراً، فالجاريات يسراً، فالمقسمات أمراً، إنما توعدون لصادق، وإن الدين لواقع. آج ہم سورۂ ذاریات پڑھیں گے۔ والذاریات ذرواً۔ ذاریات جمع ہے ذاریۃ کی، اور یہ ذاریات یہ صفت ہے ریاح کی، اور ذاریۃ اس ہوا کو کہتے ہیں جو چیزوں کو اڑا دے، ان کو بکھیر دے۔ ذاریۃ اس ہوا کو کہتے ہیں جو چیزوں کو اڑا دے، بکھیر دے. اور یہ واؤ قسمیہ جارہ ہے بھئی۔ قسمیہ جارہ ہے. اور یہ ذرواً یہ مفعول مطلق ہے۔ مفعول مطلق کسے کہتے ہیں؟ وہ مصدر جو ماقبل فعل کے معنی میں ہو، اسی طرح وہ مصدر جو ماقبل صفت کے معنی میں ہے بھئی۔ یہ ذاریات یہ فعل تو نہیں، یہ تو صفت کا صیغہ ہے، تو اس سے بھی مفعول مطلق آتا ہے بھئی۔ پہلے بیان ہو چکا صفت کے صیغے بعینہ اسی طرح عمل کرتے ہیں جس طرح ان کے فعل عمل کرتے ہیں، تو جس طرح ان کا فعل مفعول مطلق کو نصب دیتا ہے، یہ بھی کیا کرتے ہیں مفعول مطلق کو نصب دیتے ہیں. سمجھ میں آئی بات بھئی؟ والذاریات ذرواً تو یہ صفت ہے الریاح کی بھئی، الریاح بھی ہواؤں۔ قسم ہے والذاریات ذرواً۔ قسم ہے بکھیر دینے والی ہواؤں کی، یا اڑانے والی ہواؤں کی. ذرواً اڑانا، بکھیرنا۔ یاد رکھیے، یہ مکی سورت ہے، اسی طرح آگے بھی اکثر سورتیں جو اب آ رہی ہیں وہ مکی ہیں، اور یہ اسلام کا ابتدائی زمانہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ میں جو آپ نے گزارا، اور اس موقع پر جو سورتیں نازل ہوئیں، وہ فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے بڑی بلند مکہ بہت بلند مقام رکھتی ہیں، کیونکہ یہ عرب کے ساتھ نوح علیہ السلام اللہ کا کلام لے کر آ رہے ہیں، اور ان کو اپنے کلام پر بڑا غرور تھا، یہاں تک کہ ساری دنیا والوں کو وہ عجم کہتے تھے، گونگا کہتے تھے، یعنی ہمارے کلام کے سامنے باقیوں کا کلام بھی لا کلام ہے، ہمارے کلام کے سامنے وہ گونگے ہی ہیں، اسی طرح سمجھو، ان کے کلام کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے. تو چنانچہ اس موقع پر جو قرآن کی سورتیں نازل ہوئیں، جو آیات نازل ہوئیں، وہ بھی بڑی مختصر، بڑے مشکل مشکل الفاظ، اور فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے بہت بلند مقام تو چنانچہ اسی وجہ سے تو وہ ان کو سنتے تھے، تو کوئی کہتا تھا یہ شاعری ہے، کوئی کہتا تھا یہ کہانت ہے، کوئی کہتا تھا یہ جادو ہے، وہ بھی اس کلام کو سن کر تسلیم کرتے تھے کہ یہ انسانی کلام نہیں ہے، سمجھ میں آیا؟ چنانچہ کہتے ہیں کسی نے سورۂ کوثر جو ہے، اس کو لکھ کر بیت اللہ کے اندر لٹکا دیا: إنا أعطيناك الكوثر، فصل لربك وانحر، إن شانئك هو الأبتر. دیکھو قرآن کی مختصر ترین سورت تھی، اس کو لٹکا دیا، تو ان کے ایک بڑے فصیح و بلیغ شاعر نے اس کو، اس سورت کو دیکھا، یہ صرف تین چھوٹے چھوٹے جملے، ان کو دیکھا، تو اتنا اس پر اثر ہوا، نیچے اس نے لکھ دیا، کیا سورت تھی؟ إنا أعطيناك الكوثر، فصل لربك وانحر، إن شانئك هو الأبتر۔ اس نے نیچے لکھ دیا: ما هذا كلام البشر. ما هذا كلام البشر۔ یہ انسانی کلام ہے ہی نہیں، اسی وزن پر اس نے بھی کہنے کی کوشش کی إنا أعطيناك الكوثر آیا ہے، اس نے بھی کہا ما هذا كلام البشر. تو یہ فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے بڑے بلند مقام پر، دیکھیے چھوٹی چھوٹی آیتیں، اور ان کی فصاحت و بلاغت اور حسن و جمال دیکھیے، تو ان کے ترجمے کا حق بھی کسی دوسری زبان میں پوری طرح ادا نہیں ہو سکتا بھئی۔ ان کے ترجمے کا حق بھی کسی دوسری زبان میں پوری طرح ادا نہیں ہو سکتا. والذاریات ذرواً قسم ہے اڑانے والی ہواؤں کی. بعضوں نے یہ ترجمہ کیا: قسم ہے غبار کو اڑانے والی ہواؤں کی۔ قسم ہے غبار کو اڑانے والی ہواؤں کی. بعضوں نے یہ ترجمہ کیا: قسم ہے اڑا کر بکھیر دینے والی ہواؤں کی۔ والذاریات ذرواً قسم ہے اڑا کر بکھیر دینے والی ہواؤں کی. تو یہ ذرواً کیا ہے؟ مفعول مطلق ہے۔ قرآن کے اندر جہاں قسم اٹھائی جائے، قرآن کے اندر وہ اگرچہ اللہ کو ضرورت نہیں کسی چیز پر قسم اٹھانے کی، لیکن فصاحت و بلاغت کے اسلوب کے اعتبار سے اللہ، بعض مواقع پر اپنی مخلوق میں سے، اپنی پیدا ہوئی ہوئی چیزوں میں سے، بعض چیزوں پر قسم اٹھاتے ہیں. اور قسم کے لیے چاہیے ہوتا ہے جواب قسم۔ کیا چاہیے؟ جوا۔ یہ آگے آ رہا ہے: إنما توعدون لصادق۔ یہ کیا ہے؟ جواب قسم ہے۔ تو جہاں پر یہ قسم اٹھائی جاتی ہے، اس میں اس نقطے کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ یہ جس با جس، جو مقسم علیہ ہے، جس کی قسم اٹھائی جا رہی ہے، اگر اس چیز ہی میں غور کر لیا جائے، تو باخود ہی واضح ہو جائے گی، مقسم بہی، جواب قسم جس بات پر قسم اٹھائی جا رہی ہے، اس کی خود ہی سمجھ میں آ جائے گی، اس پر یہ چیز خود ہی گواہی دے رہی ہے، اتنی واضح بات ہے. تو اگر یہ ان ہواؤں پر ہی غور کر لیا جائے، تو یہ بتلا دیتی ہیں کہ یہ جو کہا جا رہا ہے، قیامت سچی ہے، ضرور واقع ہوگی، اسی سے اس کی، یہ سمجھ میں آ جاتی ہے یہ بات بھئی، یہ اللہ کا ہی عظیم نظام خود ہی بتلا دیتا ہے کہ یہ زندگی ہمیشہ کی نہیں ہے، فنا ہونے والی ہے، اور پھر ایک وقت آئے گا جب پھر انسان کو زندہ کیا جائے گا، اور اس کے اپنے، اس کو اپنے اعمال کا جواب دینا پڑے گا، تو اللہ کی وحدانیت اور اس کے، اور اس کی بیان کی ہوئی باتوں پر یہ چیزیں گواہی دے رہی ہیں، اگر کسی میں عقل ہو اور وہ غور کر لے، تو خود ہی اس حقیقت تک پہنچ جائے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ سمجھ میں آیا؟ تو اس میں ایک تو یہ نکتہ ہوتا ہے، جب کسی چیز کی قسم اٹھائی جائے تو کیا مقصد ہوتا ہے؟ کہ یہ خود جواب قسم پر دلیل ہے، یہ کیا ہے؟ جواب قسم پر یہ دلیل ہے، اسی میں غور کرو، تو جواب قسم تمہیں خود ہی اس کی حقیقت تم پر واضح ہو جائے گی بھئی. والذاریات ذرواً قسم ہے اڑا کر بکھیر دینے والی ہواؤں کی، فالحاملات وقراً، پھر اٹھانے والے بوجھ کو، پھر وہ ہوائیں جو اٹھانے والی ہیں بوجھ کو. قسم ہے ان ہواؤں کی جو اڑا کر بکھیر دینے والی ہیں، پھر ان ہواؤں کی جو بوجھ کو اٹھانے والی ہیں. وقر بوجھ بھئی، اور یہ مفعول ہے حاملات کے لیے. میں نے بتلایا صفت کے صیغے بھی وہی عمل کرتے ہیں جو فعل کرتا ہے ان کا، تو یہ وقراً کیا ہے؟ یہ مفعول بہی ہے حاملات کے لیے۔ فالحاملات وقراً، پھر وہ ہوائیں جو اٹھانے والی ہیں وقراً بوجھ کو، کیا بوجھ؟ یہ جو بادل کو انہوں نے اٹھایا، اور اس بادل کے اندر کتنا پانی ہوتا ہے آپ دیکھتے ہیں، کہ سینکڑوں میل تک وہ علاقے کو سیراب کر دیتا ہے بھئی. فالحاملات وقراً، پھر ان ہواؤں کی جو اٹھانے والی ہیں بوجھ کو، یعنی اس بادل اور پانی کے بوجھ کو. فالجاريات يسراً، پھر ان ہواؤں کی جو چلنے والی ہیں يسراً نرمی سے. فالجاريات يسراً، پھر ان ہواؤں کی جو چلنے والی ہیں نرمی سے۔ يسراً یہ مصدر ہے، حال واقع ہو رہا ہے بھئی. مصادر ہے اور حال واقع ہو رہا ہے. تو صفت کے معنی میں ہے، يسراً ای ميسرةً. فالمقسمات أمراً، پھر ان ہواؤں کی جو تقسیم کرنے والی ہیں ایک چیز کو، یعنی پانی کو، بارش کو. ہوائیں سب سے پہلے کیا کرتی ہیں؟ سمندر سے بخارات اٹھاتی ہیں. ان کو اڑا کر اوپر لے جاتی ہیں، پھر اس کو بوجھ کو اٹھا کر چل پڑتی ہیں. فالجاريات يسراً، پھر آگے چل کر آہستہ اور نرمی سے چلتی ہیں بھئی. پھر اس کے بعد اس پانی کو وہ کیا کرتی ہیں؟ اللہ کے حکم کے مطابق تقسیم کرتی ہیں، کہاں بارش برسانی ہے اور کہاں بارش نہیں برسانی۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ والذاریات ذرواً فالحاملات وقراً فالجاريات يسراً فالمقسمات أمراً، قسم ہے ان ہواؤں کی جو اڑا کر بکھیر دیتی ہیں، پھر ان ہواؤں کی جو بوجھ کو اٹھانے والی ہیں، پھر ان ہواؤں کی جو نرمی سے چلنے والی ہیں، پھر ان ہواؤں کی جو ایک چیز کو تقسیم کرنے والی ہیں، یعنی پانی کو اور بارش کو. تو دیکھیے، یہ سب صفات ہیں ہواؤں کی، ذاریات، حاملات، جاريات، مقسمات، کس کی صفات ہیں؟ ہواؤں کی۔ یہ ایک تفسیر ہوئی، دوسری تفسیر بھی یاد رکھنا. دوسری تفسیر کے مطابق ذاریات صفت ہے ہواؤں کی، حاملات صفت ہے بادلوں کی، حاملات دوسری تفسیر کے مطابق کس کی صفت؟ بادلوں کی. جاریات، دوسری تفسیر کے مطابق صفت ہے کشتیوں کی. مقسمات صفت ہے ملائکہ کی، کس کی صفت ہے؟ دوسری تفسیر کے مطابق ذاریات کس کی صفت؟ اسی طرح ہواؤں کی. حاملات کس کی صفت؟ بادلوں کی، جاریات کس کی صفت؟ کشتیوں کی، مقسّمات کس کی صفت؟ ملائکہ کی، فرشتوں کی۔ تو کس طرح ہوگا ترجمہ؟ والذاریات ذروا قسم ہے ان ہواؤں کی جو اڑا کر بکھیرنے والی ہیں۔ فالحاملات وقراً پھر قسم ہے ان بادلوں کی جو بوجھ اٹھانے والے ہیں۔ دیکھو، بادلوں نے کتنا بوجھ اٹھایا ہوتا ہے، کتنا پانی ہوتا ہے۔ فالجاریات یسراً پھر قسم ہے ان کشتیوں کی جو نرمی سے چلتی ہیں پانی کے اندر۔ فالمقسّمات امراً پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو چیز کو تقسیم کرتے ہیں، یعنی بارش کو، رزق کو اللہ کے حکم سے۔ دونوں تفسیریں سمجھ میں آگئیں بھئی؟ انما توعدون لصادق انما یاد رکھیے، یہ حصر کے لیے نہیں ہے، بلکہ یہ ما الگ ہے بھئی۔ ان حرف ہے، حروف مشبہ بالفعل ہے، اور یہ ما موصولہ یا مصدریہ ہے بھئی۔ انما، بلاشبہ وہ جو توعدون، جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے، یعنی قیامت، لصادق، وہ البتہ وہ سچ ہے۔ یا یہ ما مصدریہ ہے، ان، جو ما مصدریہ کیا کرتا ہے؟ فعل پر داخل ہوتا ہے، اس کو کس معنا میں کر دیتا ہے؟ مصدر کے معنا میں کر دیتا ہے۔ ما توعدون توعدون کے اندر نائب الفاعل کیا ہے؟ یہ واؤ ضمیر ہے۔ اور کون سی ضمیر ہے یہ واؤ؟ جی۔ جمع مذکر حاضر۔ جمع مذکر حاضر۔ اچھا۔ اب ما نے اس فعل کو مصدر کے معنا میں کیا۔ اس کا مصدر کیا اتا ہے؟ وعد۔ توعدون کا مصدر کیا اتا ہے؟ وعد۔ اور اس کے اندر فاعل یا نائب فاعل کیا تھا؟ یہ واؤ ضمیر تھی، جمع مذکر مخاطب۔ تو اسی کو اسی کی طرف اس مصدر کی اضافت کر دو۔ مصدری کے معنا میں ہم کر رہے ہیں نا۔ تو فعل کو تو ما نے مصدر کے معنا میں کر دیا، فا وہ ضمیر بھی لائیں گے، یعنی جو اس کے اندر تھی۔ اس کی طرف، پھر مصدر کے لیے تو مصدر کی اضافت ہوتی ہے عموماً اپنے فاعل کی وغیرہ کی طرف بھئی۔ تو کس معنا میں ہوا ما توعدون؟ وعدکم وعدکم ان وعدکم لصادق، بلاشبہ جو تمہارا وعدہ ہے، یعنی جو وعدہ تم سے کیا گیا ہے، لصادق، البتہ وہ سچا ہے بھئی۔ انما توعدون لصادق، بلاشبہ وہ جو تم سے وعدہ کیا گیا ہے، وہ سچا ہے، وان الدین لواقع، اور بلاشبہ جزا البتہ واقع ہوگی۔ دین کہتے ہیں جزا کو، بدلے کو، قیامت کو یوم الدین کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ جزا اور بدلے کا دن ہے، ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ وان الدین لواقع، اور بلاشبہ بدلہ ہے جو ہے، بدلہ واقع ہوگا، یعنی جزا واقع ہوگی۔ والسماء ذات الحبک، اور قسم ہے آسمان کی، یہ واؤ قسمیہ پھر آیا بھئی۔ قسم ہے آسمان کی، ذات الحبک۔ حبک جمع ہے حبیکۃ کی۔ حبیکۃ کہتے ہیں راستے کو۔ حبیکۃ کسے کہتے ہیں راستے؟ قسم ہے راستوں والے آسمان کی، قسم ہے ذات الحبک بھئی، سماں چونکہ مؤنث ہے، اس لیے ذات۔ بھئی جیسے آپ کہتے ہیں، مرد ہو تو اس کے لیے کہتے ہیں ذو مال۔ عورت ہو تو اس کے لیے کیا کہتے ہیں؟ ذات مال۔ ذات تو یہاں مؤنث ہے سماں اس لیے ذات کا لفظ آیا بھئی۔ اور قسم ہے راستوں والے آسمان کی، بھئی کون سے راستے مراد؟ ظاہر یہی کہ فرشتوں کے راستے مراد ہیں جو ہمیں دکھائی نہیں دیتے. کیا مراد ہیں؟ فرشتوں کے راستے آسمان میں جو بنے ہوئے ہیں بھئی، جہاں سے وہ آتے جاتے ہیں، تو وہ راستے مراد ہیں جو ہمیں دکھائی نہیں دیتے. بعضوں نے کہا یہ جو ستاروں کے درمیان راستے ہیں بھئی، ستارے یہاں تو دکھائی نہیں دیتے، اگر ایسی جگہ جہاں روش بجلی وغیرہ نہ ہو، وہاں اگر کبھی آپ نے آسمان کا مشاہدہ کیا ہو، اتنے ہزار، ہر ستارہ ہوتا ہے، آسمان بھرا ہوتا ہے اور اتنا حسین دکھائی دیتا ہے جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ تو وہ جو ستاروں کے بیچ میں راستے بنے ہوئے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو قسم ہے آسمان کی، راستوں والے۔ انکم لفی قول مختلف، بلاشبہ تم البتہ ایک مختلف بات میں ہو، اختلاف والی بات میں ہو. تم کس چیز میں ہو؟ ایک اختلافی بات میں ہو. کیا معنا ہے اختلافی بات؟ ایک اختلافی بات میں تم پڑے ہوئے ہو، کون سی اختلافی بات؟ کبھی کہتے ہیں یہ پیغمبر جادوگر ہے، کبھی کہتے ہیں یہ شاعر ہے، کبھی کہتے ہیں کاہن ہے، کبھی کہتے ہیں کہ یہ دیوانہ ہے بھئی، نعوذ باللہ۔ تو تم کس میں ہو؟ ایک اختلافی بات میں پڑے ہوئے ہو. یفق عنہ من افک، پھیرا جاتا ہے اس سے، یعنی اس پیغمبر سے، یا اس دین سے، یفق عنہ، پھیرا جاتا ہے اس سے، من افک، وہ شخص جو پھیرا گیا ہے، جو پھیرا گیا ہے، یعنی جو حق سے پھیرا گیا ہے، اس پیغمبر سے، اس دین سے وہی پھیرا جاتا ہے جو حق سے، جو ہدایت سے پھیرا گیا ہے، جو ہدایت سے پھیرا ہوا ہے، پلٹا ہوا ہے۔ معنا سمجھ میں آیا بھئی؟ یفق، پھیرا جاتا ہے، عنہ، اس پیغمبر سے یا اس دین سے، من افک، وہ جو پھیرا گیا ہے، یعنی کس سے پھیرا گیا ہے؟ ہدایت سے، اس سے وہی پھیرا جاتا ہے جو ہدایت سے پھرا ہوا ہے۔ قتل الخراسون۔ قتل الخراسون، مارے گئے اندازے سے بول اندازے سے کہنے والے، اندازے لگانے والے، خراص، اندازے لگانے والے۔ یہ جو باتیں کرتے ہیں کہ کہ پیغمبر کے بارے میں، قرآن کے بارے میں، آخرت کے بارے میں، یہ بڑی مختلف قسم کی باتیں کرتے ہیں، کوئی کہتا ہے ممکن ہے ہو سکتا ہے، شاید کبھی خیال آ جاتا ہے، بعض کہتے ہیں نہیں یہ تو ہو ہی نہیں سکتا، ہماری ہڈیاں گل جائیں، پھر کیسے زندہ ہوں گی؟ پیغمبر کے بارے میں کہتے ہیں کبھی یہ جادوگر ہے، کاہن ہے، وغیرہ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں، یہ سب اندازے سے باتیں کرتے ہیں، ان کے پاس اس کی کوئی دلیل وغیرہ موجود نہیں ہے. تو اللہ فرما رہے ہیں قتل الخراسون، مارے گئے اندازے سے کہنے والے، اندازے لگانے والے، مارے گئے اندازے سے بات کرنے والے، یا یہ بددعا ہے بھئی، یا تو یہ خبر ہے، مارے گئے اندازے لگانے والے، اندازے سے بات کرنے والے، اندازوں کے تیر چلانے والے یوں کہیں بھئی، اندازوں کے تیر چلانے یا، یا یہ بددعا ہے قتل الخراسون۔ عربی میں اس طرح قتل کے لفظ کے ساتھ بددعا دی جاتی ہے، تو کیا معنا؟ مارے جائیں اندازے لگانے والے، اندازوں سے باتیں کرنے والے مارے جائیں. اور بعض علماء نے پھر لکھا کہ قتل، جب آئے، تو یہ بمعنے لعنت کے ہوتا ہے بھئی، قرآن میں. قتل الخراسون، کیا معنا؟ لعنت ہو اندازے لگانے والوں پر، اندازوں سے بات کرنے والوں پر. قتل الخراسون، مارے جائیں اندازوں سے بات کرنے والے، الذین ھم فی غمرۃ ساہون۔ غمرہ کہتے ہیں غفلت کو، غفلت. ساہون، بھولنے والے بھئی، بھولنے والے. الذین ھم فی غمرۃ ساہون، وہ جو کہ غفلت میں بھولے ہوئے ہیں. وہ جو غفلت میں سب کچھ بھولے ہوئے ہیں، اس دنیا کی زندگی میں غفلت میں پڑے ہوئے ہیں، آخرت کو انہوں نے بھلا رکھا ہے. قتل الخراسون الذین ھم فی غمرۃ ساہون، مارے جائیں اندازے سے بات کرنے والے جو کہ غفلت میں بھولے ہوئے ہیں. یسئلون ایان یوم الدین، پوچھتے ہیں کب ہوگا بدلے کا دن؟ پوچھتے ہیں یسئلون، یہ لوگ پوچھتے ہیں ایان یوم الدین، کب بدلے کا دن ہوگا، کب جزا کا دن ہوگا؟ اور یہ بھی، مذاق اڑانے کے طور پر پوچھتے ہیں، استہزاء ان پوچھتے ہیں کہ کب ہوگا وہ دن، آتا کیوں نہیں ہے ابھی تک، آیا کیوں نہیں؟ یسئلون ایان یوم الدین، پوچھتے ہیں کب ہوگا جزا کا دن؟ یومھم علی النار یفتنون۔ فتن یفتنو کے معنی ہوتے ہیں، آگ پر گرم کرنا، آگ پر جلانا بھئی۔ فتن یفتنو کے کیا معنی ہوتے ہیں؟ آگ پر جلانا، آگ پر گرم کرنا. یومھم علی النار یفتنون، جس دن کہ وہ آگ پر جلائے جائیں گے. جس دن کہ وہ آگ پر جلائے جائیں گے، اور ان کو یہ کہا جائے گا، ذوقوا فتنتکم، چکھو تم اپنے عذاب کو۔ فتنہ فتنہ، ایک معنا اس کے عذاب کے بھی ہیں بھئی، یہی معنا یہاں مراد ہے، ذوقوا فتنتکم، تم چکھو اپنے عذاب کو، تم اپنے عذاب کا مزہ چکھو، ھذالذی کنتم بہ تستعجلون، یہ ہے وہ جس کو تم جلدی طلب کرتے تھے. دنیا میں کہتے تھے، آتا کیوں نہیں جزا کا دن بھئی، ہم کب آئے گا، مذاق اڑاتے تھے، تو اس دن ان کو کہا جائے گا، چکھو تم اپنے عذاب کے مزے کو، ھذالذی کنتم بہ تستعجلون، یہ ہے وہ جس کو تم جلدی طلب کرتے تھے. ان المتقین فی جنات وعیون. بلاشبہ متقی جو ہیں، فی جنات، باغات میں ہوں گے، وعیون اور چشموں میں ہوں گے. اخذین ما آتاھم ربھم، اس حال میں کہ وہ لے رہے ہوں گے وہ، وہ چیز، آتاھم، جو عطا کرے گا ان کو ربھم، ان کا پروردگار۔ متقی لوگ باغات میں اور چشموں میں ہوں گے، اس حال میں کہ لے رہے ہوں گے وہ جو ان کا، ان کے رب نے، ان کے پروردگار نے عطا کیا۔ انھم کانوا قبل ذلک محسنین، بلاشبہ یہ لوگ اس سے پہلے ہی محسنین، نیکی کرنے والے تھے۔ یہ لوگ پہلے کیا تھے؟ دنیا میں ہی کیا تھے؟ نیکی کرنے والے تھے. انھم کانوا قبل ذلک محسنین، بلاشبہ یہ لوگ اس سے پہلے نیکی کرنے والے تھے. کانوا قلیلا من اللیل ما یہجعون۔ یہ ما یہجعون میں یاد رکھیے، یہ ما زائدہ ہے، یعنی ما صلہ ہے، ما کیا ہے؟ صلہ، میں نے بتلایا تھا قران میں زائد اللفظ ائے اس کے لیے کیا لفظ استعمال کرتے ہیں؟ صلہ، تو یہ مفصلہ ہے۔ یہجوع، ہجاہ، ہجاع، یہجاع کے معنی ہوتے ہیں سونا، نیند کرنا بھئی۔ نیند کرنا سونا۔ اللہ فرما رہے ہیں ان کی صفات بیان کر رہے ہیں یہ متقیوں کی کہ دنیا میں پہلے کیا تھے؟ نیکیاں کرنے والے تھے، کانولیلین ما یہجوعون۔ یہ تھے یہجوعونا سونے والے قلیلا تھوڑا سا من اللیل رات میں۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ رات کو بہت کم سوتے تھے ترجمہ یہ ہوا۔ کانولیلین ما یہجوعون، یہ رات کو بہت کم سوتے تھے، یعنی ساری رات عبادت میں گزار دیتے تھے۔ وبالاسحاریہم یستغفرون، اور صبح کے وقت یہ لوگ یستغفرون۔ اللہ سے کی مغفرت چاہتے تھے، اللہ سے استغفار کرتے تھے۔ رات کو ساری رات عبادت میں لگے رہتے، بہت تھوڑی نیند کرتے تھے اور صبح کو پھر اٹھ کر اللہ سے استغفار کرتے تھے کہ اللہ ہم آپ کی عبادت کا حق ادا نہیں کر سکتے، ہم نے جو عبادت کی اس میں بڑی یقیناً کوتاہیاں ہوئی ہوں گی، اے اللہ ہماری ان کوتاہیوں کو معاف فرما۔ وفي اموالهم حق للسائل، اور ان کے مالوں میں حق تھا للسائل سوال کرنے والے، مانگنے والے کے لیے والمحروم، اور محروم لوگوں کا۔ ان کے مالوں میں مانگنے والوں کا اور محروم لوگوں کا حق تھا۔ یعنی یہ مانگنے والوں کو اور محتاجوں کی مدد کیا کرتے تھے۔ یہ لوگ دنیا میں کیا کرتے تھے؟ جو مانگنے والے تھے اور جو محروم محتاج لوگ تھے، ان کی مدد کیا کرتے تھے۔ ایک تو ہے سائل جو ضرورت مند ہے تو آ کر سوال کرتا ہے، مانگتا ہے اور محروم سے مراد وہ محتاج ہے جو، جو خودداری کی بنا پر کسی سے مانگتا نہیں۔ بے انتہا ضرورت مند ہے لیکن اس کو وہ اپنی خودداری کے خلاف سمجھتا ہے کہ کسی سے جا کر سوال کرے۔ تو محروم سے وہ مراد ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وفي اموالهم حق للسائل والمحروم، اور ان کے مالوں میں حق تھا مانگنے والوں کا اور محروم لوگوں کے۔ حق کے لفظ کے ذریعے اشارہ کر دیا قران نے۔ کہ یہ جو مانگنے والوں کو یا محتاجوں کو کوئی شخص دے کچھ مال تو یہ نہ سمجھے کہ یہ ان پر احسان کر رہا ہے، یہ تھا ہی انہی کا حق بھئی۔ یہ تھا ہی انہی کا حق تھا، انہی کا حق تھا۔ تو کوئی مانگنے والا ائے تو بققدر ضرورت اس کی مدد کرنی چاہیے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ مستحق نہیں ہیں، صرف مستحق کو دینا چاہیے، اگر اس بات میںپڑو گے تو ذرا اس بات پہ غور کرو کیا تمہیں جو کچھ اللہ نے دیا ہے تم اس کے مستحق تھے؟ اللہ نے تمہیں استحقاق کی وجہ سے دیا ہے؟ جو مانگنے ائے کچھ نہ کچھ ضرور مدد کرنی چاہیے۔ समझ में आई बात और फिर जो मुस्तहक नजर आए उसकी तो खूब मदद करनी चाहिए और एहसान नहीं समझना चाहिए, यह उसका हक है, अल्लाह ने हम पर लाजिम किया है कि इनकी मदद करो۔ وفي اموالهم حق للسائل والمحروم، اور ان کے مالوں میں حق تھا مانگنے والوں کے لیے اور محروموں کے لیے، وفي الارض آیات للموقنین، اور زمین کے اندر نشانیاں ہیں یقین کرنے والوں کے لیے، جو یقین کرنا چاہتے ہیں، جو یقین لانا چاہتے ہیں، جو ایمان لانا چاہتے ہیں، ان کے لیے زمین میں نشانیاں ہی نشانیاں ہیں، ہر طرف ان میں غور کر لے تو یہ اس کی یقین لانے کے لیے کافی ہیں۔ وفي الارض آیات للموقنین، اور زمین کے اندر نشانیاں ہیں یقین کرنے والوں کے لیے، وفي انفسکم، وفي انفسکم اور تمہارے نفسوں میں بھی۔ اور تمہارے نفسوں میں بھی نشانیاں ہیں، یہ نفس انسان اپنی ذات میں ہی غور کر لے۔ انسان کی ذات میں ہی۔ اللہ نے ایک عظیم عالم ہماری ذات کے اندر بنا رکھا ہے۔ پہلے اگرچہ پہلے تو اتنا علم بھی نہیں تھا، اب تو سائنس آ گئی، اب سائنس آ کر بتلاتی ہے ہمارے اندر کتنے نظام چل رہے ہیں اور کس طرح وہ ٹھیک طریقے سے ابتدائے عمر سے لے کر انتہا تک چلتے رہتے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آئی بات؟ غذا کا نظام ہے۔ خوراک ہم کھاتے ہیں، معدے کے اندر ہضم ہوتی ہے، خون کو اللہ نے مقرر کر دیا۔ غذا تو معدے میں ہضم ہوئی ہے، اب اس کو پاؤں تک کیسے پہنچانا ہے، ناخن تک کیسے پہنچانا ہے، انگلیوں کے سروں تک کیسے پہنچانا ہے، بالوں تک کیسے پہنچانا ہے، خون کے ذمے لگا دیا گیا، یہ ایک ایک حصے تک خوراک لے کر پہنچاؤ، وہ خوراک پہنچاتا ہے۔ ہم سانس لیتے ہیں، سانس ضروری ہے ہمارے لیے، یہ تو صرف پھیپھڑوں تک ہوا جاتی ہے، خون کے ذمے لگا دیا گیا، خوراک بھی جسم کے ایک ایک حصے تک پہنچاؤ اور سانس بھی پہنچاؤ بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو وہ جو ہے یہ، آکسیجن کو جسم کے ایک ایک حصے تک پہنچاتا ہے، پھر جاسوسی کا ایک نظام بنا دیا گیا پورے جسم کے ایک ایک حصے کی ہر وقت ہمیں خبر ہوتی ہے۔ پاؤں کے اوپر بھی ایک چھوٹی سی چونٹی چلتی ہے، آپ فورا ہاتھ کی طرف نہیں دیکھتے، فورا کس کی طرف دیکھتے ہیں؟ پاؤں کی طرف ہی دیکھتے ہیں، وہ نظام آپ کو خبر دے دیتا ہے، فلاں حصے پر اس وقت کچھ غیر معمولی حرکت ہو رہی ہے بھئی۔ سمجھ میں آئی بات؟ اور اسی طرح انکھوں کا نظام ہے بھئی، چیزوں کو ہم دیکھتے ہیں، یہ انکھیں کیمرے کی طرح اس کی عکس لے رہی ہیں، اور پھر کیسا نظام بنایا، دو کیمرے لگے ہیں، دو تصویریں انی چاہیے، لیکن اندر ایک ہی تصویر آتی ہے، دونوں کی تصویر اکٹھی ہو جاتی ہے بھئی۔ اور پھر رنگوں کی وغیرہ، ابھی تک سائنس اتنی ترقی نہیں کر اس کے ایسے کیمرے بنا دے، اس کے قریب بھی نہیں پہنچ سکے۔ اگر کیمرے کے سامنے بھی ایک تیز چیز گزرے تو وہ اس میں واضح نہیں آتی۔ ہماری انکھ کے سامنے جتنی بھی تیز چیز گزرے وہ واضح چیز نظر آ جاتی ہے، پتہ لگ جاتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ پھر کان سننے کے لیے بنا دیے بھئی، ہلکی سی بھی آواز آتی ہے، ہمیں سنائی دیتی ہے، پتہ چل جاتا ہے، کس قسم کی آواز ہے، جہاز کی آواز ہے، گاڑی کی آواز ہے، انسان کی آواز ہے، ہر چیز کا پتہ لگ جاتا ہے، خوشبو مختلف چیزوں کی خوشبو کے ذریعے ہمیں ان کا پتہ چل جاتا ہے۔ زبان کے اوپر اللہ نے چکھنے کا ایک نظام بنا دیا بھئی، جو بھی چیز چکھتے ہیں، چکتے ہی ہمیں پتہ چل جاتا ہے کہ یہ کس قسم کی چیز ہے، میٹھی ہے، کڑوی ہے، پھیکی ہے، ترش ہے، نمکین ہے، فورا ہمیں پتہ چل جاتا ہے اور صرف یہ نہیں پتہ چل گیا بس چیز گزر گئی، نہیں نہیں، دماغ دے دیا، وہ اس کو محفوظ کر کے رکھ لیتا ہے۔ یہ فلاں ذائقہ تھا، یہ فلاں تھا، فلاں، اب انکھیں بند کر کے بھی وہ زبان پر وہ چیز رکھو گے تو آپ خود ہی کہہ دیں گے یہ فلاں چیز ہے، فلاں قسم کا ذائقہ، کیونکہ وہ دماغ کے اندر وہ سارا کچھ محفوظ ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ ایک، یہ تو میں نے چند موٹی موٹی باتیں ذکر کر دیں بھئی۔ انسان حیران ہوتا ہے کہ یہ۔ کیسا عظیم نظام انسانی بدن میں ہے، بھئی دیکھیے، ماں کے رحم میں، نطفہ اور بنا اور وہ۔ ایک بنیادی اینٹ۔ ایک بنیادی اینٹ ماں کی طرف سے آئی، ایک باپ کی طرف سے آئی، دو ذرے آپس میں ملے، اور بچے کی ابتدا ہو گئی اس سے۔ بچے کی ابتدا ہو گئی۔ وہ اتنے چھوٹا ذرہ، اتنا چھوٹا ذرہ کہ ان۔ بڑی طاقتور خوردبین سے نظر آئے، ویسے نظر بھی نہ آئے، لیکن اس۔ اس ذرے کے اندر پورا نقشہ پڑا ہوا ہے۔ کس طرح بننا ہے اس نے۔ کیا کیا چیزیں بنی ہیں، کس ترتیب سے بننی ہیں، انکھیں کیسی بننی ہیں، کان کیسے بننے ہیں، ناک کیسی بننی ہے، اس کے ہونٹ کیسے بننے ہیں، اس کا چہرہ کیسا ہوگا، اس کا رنگ کیسا ہوگا، اس کے پاؤں کس طرح ہوں گے، اس کے ہاتھ کس طرح ہوں گے، اس کے پیٹ کے اندر کا نظام کس طرح ہوگا، وہ سارا۔ نقشہ اس کے اندر پڑا ہوتا ہے۔ اسی لیے تو آپ دیکھتے ہیں، بچہ ماں باپ کی طرح ہوتا ہے۔ وہ سارا نقشہ وہیں سے چلتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آئی بات؟ اور پھر۔ کتنا وسیع نقشہ اس کے اندر ہوتا ہے، اس ذرے کے اندر انسان سوچے تو حیران رہ جاتا ہے۔ پھر وہ جو، وہ جو دو ذرے ملے، ایک بنیادی اکائی بن گئی، پہلی یوں سمجھیں عمارت، ایک بہت بڑا آپ نے محل بنانا ہے، بہت بڑا قلعہ بنانا ہے، اس کی ایک اینٹ بن گئی ہے وہ۔ پھر وہ اینٹ، ایک اینٹ ذرا سی بڑی ہوتی ہے، پھر تقسیم ہو کر دو بن جاتی ہیں، پھر وہ دو ذرا سے تھوڑے سے اب سائز ان کا بڑا ہوا، پھر اس سے چار بن گئے، پھر وہ چار سے آٹھ بن گئے، آٹھ سے سولہ بن گئے، سولہ سے بتیس، وہ بڑھتا چلا جاتا ہے، تقسیم ہوتے چلے جاتے ہیں۔ پھر ایک مرحلہ تھوڑے سے جب بڑے ہوتے ہیں، پھر وہ نظام اندر ہے کہ، کہ بھئی، یہ والے تین چار جو ہیں، تم نے اب کیا کرنا ہے؟ تم نے یہ والا حصہ بنانا ہے، تم نے بھئی تمہاری ذمہ داری یہ ہے، تم نے یہ والا حصہ بنانا ہے، تم نے ہاتھ والا حصہ بنانا ہے، تم نے پاؤں والا حصہ بنانا ہے، تم نے معدے والا حصہ بنانا ہے، وہ ساری اندر تقسیم ہوتی چلی جا رہی ہے بھئی۔ پھر اس کے بعد وہ تقسیم کچھ اور ہوئے، تھوڑا سا لوتھڑا بن گیا، پھر اس کے اندر بھئی اور نظام، وہ اسی طرح اپنی حرکت کے اندر ہوتا ہے، کہ بھئی، اب تم نے کیا کرنا ہے؟ تم نے اب تھوڑی سی کھال بنانی ہے، آگے کھال بنانے کا کام تمہارے ذمے ہے، دوسرے کے ذمے لگتا ہے، کہ بھئی تم نے اس طرح بازو اس طرح سے نکالنے ہیں، یہ حصہ تم نے، تم نے دایاں بازو بنانا ہے، تم نے بایاں بازو بنانا ہے، تم نے دائیں ٹانگ بنانی ہے، تم نے بائیں ٹانگ بنانی ہے، تم نے بھئی سر بنانا ہے، پھر جب کچھ اور بڑھ جاتا ہے تھوڑا سا، پھر اس کے بعد وہ بازو کے اندر جو حصہ بنا رہے تھے، ان کے اندر کچھ حصوں کو حکم ہوتا ہے۔ کیا؟ کہ تم نے اب ہڈی بنانی ہے، اس بازو کے اندر فلاں ہڈی، تم نے فلاں ہڈی بنانی ہے، تم نے فلاں انگلی بنانی ہے، تم نے فلاں انگلی بنانی ہے بھئی، تم نے ناخن بنانا ہے، جو چہرہ سر کی طرف حصہ تھا، بھئی تم نے اب کچھ بال بنانے ہیں، کچھ مقرر ہو گئے، تم نے کیا کرنا ہے؟ تم نے اب انکھیں بنانی ہیں، تم نے کان بنانے ہیں، تم نے زبان بنانی ہے، تم نے ہونٹ بنانے ہیں، تم نے ناک بنانی ہے۔ ایک پورا نظام چل رہا ہوتا ہے، اور غلطی کہیں نہیں آتی بھئی، اتنا باریک نظام۔ بہت کم جو من جانب اللہ مقرر ہو بھئی، ورنہ پورا سارا نظام چلتا ہے، اور پھر ہوتے ہوتے ایک پورا انسان بن جاتا ہے بھئی۔ انسان حیران ہوتا ہے، کہ اتنی بڑا عالم، ایک اتنی، اتنا بڑا عالم، ایک اتنی بڑی دنیا اس کے اندر ہے، کہ اگر اسی میں غور کر لے، تو اسی سے اسے اللہ کی وحدانیت کا پتہ چل جائے، کہ یہ چیزیں خود بخود کبھی ہو ہی نہیں سکتیں۔ یہ یقیناً کوئی۔ سات ہے اس نظام کو بنانے والی، اس کو چلانے والی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہ اس نظام چل پڑتا ہے۔ تو یہی اللہ ذکر فرما رہے ہیں، وفی الارض آیات للموقنین، اور زمین کے اندر نشانیاں ہیں یقین لانے والوں کے لیے، وفی انفسکم اور تمہاری جانوں میں بھی، افلا تبصرون کیا تمہیں دکھائی نہیں دیتا؟ کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟ وفی السماء رزقکم، اور آسمان کے اندر تمہارا رزق ہے، (یعنی آسمان سبب ہے، وہاں سے بارش آتی ہے وہ رزق لے کر)، وفی السماء رزقکم اور آسمان میں تمہارا رزق ہے، وما توعدون اور وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے، (یعنی جنت ہے)۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ آسمان میں تمہارا رزق ہے اور وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے، (یعنی جنت ہے، جہنم ہے)۔ فرب السماء والارض، پس قسم ہے آسمان اور زمین کے رب کی، انہ لحق، کہ یہ قر یہ جو یوم الدین ہے، یہ البتہ حق ہے، یہ قیامت کا دن برحق ہے، مثل ما انکم تنطقون، مثل اس کے جو تم بات کرتے ہو، جس طرح تم یہ آپس میں بولتے ہو، بات کرتے ہو، تمہیں اپنے بولنے میں ذرا بھی شک و شبہ نہیں ہے۔ اسی طرح قیامت کے دن میں بھی کوئی شک و شبہ نہیں، وہ یقیناً آئے گا اور وہ برحق ہے بھئی۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ فرب السماء والارض انہ لحق مثل ما انکم تنطقون، پس قسم ہے آسمان اور زمین کے رب کی کہ یہ قیامت کا دن البتہ حق ہے جیسے کہ تم مثل اس کے جو تم بولتے ہو، یعنی تمہارے بولنے کی طرح وہ برحق ہے۔ ہل اتاک حدیث ضیف ابراہیم المکرمین، کیا آئی ہے آپ کے پاس؟ حدیث کا کیا معنی بیان کر چکا میں پہلے؟ بات۔ ہل اتاک اے پیغمبر کیا آئی ہے آپ کے پاس؟ حدیث ضیف ابراہیم، ابراہیم کے مہمانوں کی بات، المکرمین جو معزز تھے۔ اے پیغمبر کیا آپ کو ابراہیم علیہ السلام کے معزز مہمانوں کی خبر پہنچی ہے؟ اے پیغمبر کیا آپ کو ابراہیم علیہ السلام کے معزز مہمانوں کی بات پہنچی ہے؟ ترجمہ سمجھ میں آگیا بھئی؟ ہل اتاک حدیث ضیف ابراہیم المکرمین، اے پیغ- کیا آپ کو ابراہیم علیہ السلام کے معزز مہمانوں کی بات پہنچی ہے؟ اذ دخلوا علیہ، جس وقت کہ وہ داخل ہوئے ان پر، ابراہیم علیہ السلام پر وہ مہمان داخل ہوئے یعنی ان کے پاس آئے بھئی۔ اذ دخلوا علیہ، جب وہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس وہ مہمان آئے، فقالوا، پس تو انہوں نے کہا، سلاماً، سلام۔ انہوں نے سلام، فقالوا سلاماً تو انہوں نے سلام کہا، قال سلام، تو ابراہیم علیہ السلام نے سلام کہا، قوم منکرون۔ قوم منکرون۔ ای ھؤلاء قوم منکرون، ہؤلاء مبتدا محذوف ہے اور قوم منکرون اس کی خبر ہے۔ منکر، اجنبی، انجان بھئی۔ تو انہوں نے دل میں کہا، کہ ہؤلاء قوم منکرون یہ انجان لوگ ہیں، اجنبی لوگ ہیں۔ پہچانتے تو تھے نہیں بھئی! فرشتے آئے تھے، تو تین تھے یا بعض روایتوں میں آیا دس تھے یا بارہ تھے، تو یہ کچھ فرشتے آئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس، انہی میں حضرت جبرائیل علیہ السلام بھی تھے اور یہ آئے تھے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خوشخبری دینے، ان کے بیٹے اسحاق علیہ السلام کی، ان کی خوشخبری دینے اور اور قوم لوط کو تباہ کرنے کے لیے آئے تھے بھئی۔ بات سمجھ میں آئی؟ اور یہ نکتہ میں پہلے بیان کر چکا، کہ اس میں اشارہ تھا اس بات کی طرف، بھئی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خوشخبری دینے آئے بیٹے کی، اور حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کو تباہ کرنے کے لیے آئے تھے۔ اس میں یہ نکتہ تھا، نکتہ ہے، کہ اللہ جس طرح ایک سرکش قوم کو ہلاک کرنے والے ہیں، تو دوسری طرف ایک اللہ اپنی ایک نہایت محبوب امت کی ابتدا کر رہے ہیں۔ سرکش قوم کو تباہ کر رہے ہیں، تو اپنی محبوب قوم کی ابتدا کر رہے ہیں، کیونکہ حضرت اسحاق علیہ السلام کی اولاد سے ہی آگے بنی اسرائیل وہ قوم پیدا ہوئی بھئی، وہ۔ انہی کی اولاد بنی اسرائیل کہلاتی ہے، بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو انہوں نے دل میں سوچا کہ یہ اجنبی لوگ ہیں، فراغ الی اہله فجاء بعجل سمین۔ راغ کے معنی پہلے بیان ہو چکے، یہ لفظ پہلے گزر چکا۔ پس وہ، راغ کے معنی ہیں چپکے سے جانا۔ پوشیدہ طور پر جانا۔ فراغ الی اہله، پس تو ابراہیم علیہ السلام پوشیدہ طور پر گئے الی اہله اپنے گھر والوں کی طرف، فجاء بعجل سمین، پس لے آئے، عجل کہتے ہیں، گائے کا بچہ، بچھڑا بھئی۔ سمین، سمین موٹا تازہ بھئی۔ پس لے آئے ایک موٹا تازہ بچھڑا بھئی، یعنی پکایا ہوا، معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو موٹا تازہ بچھڑا لے آئے بھئی۔ اور تو سمین کا کیا معنی کیا؟ موٹا تازہ۔ بازوں نے سمین کا معنی کیا، گھی میں تلا ہوا، گھی میں تلا ہوا، یعنی یہ سمن سے ہے، سمن گھ کو کہتے ہیں عربی میں۔ کیا کہتے ہیں؟ گھی کو کہتے ہیں، تو سمین گھی والا یعنی گھی میں تلا ہوا بھئی۔ فراغ الی اہله فجاء بعجل سمین، پس وہ چپکے سے گئے اپنے گھر کی طرح، اپنے گھر والوں کی طرف، فجاء بعجل سمین، پس لے آئے ایک موٹا تازہ بچھڑا، فقربہ الیہم، پس وہ قریب کیا، اس قریب کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس بچھڑے کو الیہم ان مہمانوں کے، قال فرمایا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے، الا تأکلون؟ کیا آپ نہیں کھاتے؟ یا آپ کیوں نہیں کھاتے بھئی؟ وہ تو فرشتے تھے، فرشتوں کو تو کھانے کی حاجت نہیں، یہ لے کر آئے ہیں، وہ ہاتھ ہی نہیں بڑھا رہے بھئی، تو کہنے لگے الا تأکلون، کیا آپ کھاتے نہیں؟ یہ ترجمہ کر لیں، یا یہ ترجمہ کر لیں آپ کیوں نہیں کھاتے؟ فاوجس منهم خیفة، اوجس کے معنی ہیں دل میں کوئی بات محسوس کرنا، دل میں کوئی بات کھٹکنا، اس کو کیا کہتے ہیں عربی میں؟ اوجس۔ اور خیفة مصدر ہے خوف کی طرح بھئی، فاوجس منهم خیفة، تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے محسوس کیا ان سے خوف، دل میں ان سے دل میں ان سے خوف محسوس کیا کہ یہ کیوں نہیں کھا رہے، میں لے کر آیا ہوں۔ وجہ یہ بھئی، کہ قدیم زمانے میں یہ نمک حرامی نہیں تھی بھئی۔ انسان جس گھر کی چیز کھا لیتا تھا، یا ان کے نمک کو کھا لیتا تھا، تو ان کو کبھی نقصان نہیں دیتا تھا بھئی۔ جتنا بھی برا آدمی ہوتا اس کا خیال رکھتا تھا، کہ میں نے اس گھر کا نمک کھایا ہے، اس گھر کی چیز کھائی ہے۔ تو وہ نہیں کھا رہے، تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دل میں بھی کھٹکا پیدا ہوا کہ یہ کیوں نہیں کھا رہے، کہیں دشمنی کی نیت سے تو نہیں آئے۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ یہ تو ہے مولانا، اب اتنا خراب زمانہ آگیا کسی چیز کی پرواہ ہی نہیں کرتے لوگ بھئی، اس وقت بد سے بدتر آدمی بھی ان چیزوں کا خیال رکھتا تھا کہ میں نے اس گھر کی چیز کھائی ہے، میں ان کو نقصان کبھی نہیں دوں گا۔ فاوجس منهم خیفة، تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان سے دل میں خوف محسوس کیا، قالوا تو وہ فرشتوں وہ فرشتے کہنے لگے، لا تخف، آپ ڈریے نہیں، وبشروہ بغلام علیم، اور انہوں نے خوشخبری دی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایک لڑکے کی۔ غلام عربی میں لڑکے کو بھی کہتے ہیں بھئی، تو انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خوشخبری دی ایک لڑکے کی، علیم ان، جو علم والا ہوگا، جو عالم ہوگا۔ تو بتلایا کہ ہم تو اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں اور آپ کے لیے خوشخبری لے کر آئے ہیں اللہ کی طرف سے، اللہ آپ کو ایک بیٹا عطا فرمائیں گے، جو بڑے علم والا ہوگا۔ فأقبلت امرأته فی صرة، تو بیوی بھی کہیں آٹ میں گھر پس تھا، وہ سن رہی ہوں گی۔ فأقبلت امرأته، تو ان کی بیوی سامنے آئیں، فی صرة، صرة کے معنٰی ہے کے معنٰی ہے، کے معنٰی ہے، زور سے بولنا بھئی، تو ان کی، فأقبلت امرأته، تو ان کی بیوی آئیں، فی صرة، بولتی ہوئی زور سے، زور سے بولتی ہوئی آئیں بھئی۔ فسکت وجهها، صکہ کے معنی ہیں پیٹنا، مارنا، وجہھا، فسکت وجہھا، تو پیٹا اپنے چہرے کو، مارا اپنے چہرے پر، وقالت اور کہنے کہا، عجوز عقیم۔ یہ یاد رکھیے یہ عجوز عقیم، یہ قالت کا فاعل نہیں ہے، یہ مقولہ ہے اس کا۔ کیا ہے؟ مقولہ ہے۔ یعنی وقالت کہنے لگی عجوز، یہ اور پھر یہ کیا بنے گا ترکیب میں عجوز عقیم، یہ فاعل ہے تلد کے لیے، تلد عجوز عقیم، جنم دے گی ایک بڑھیا، عقیم بانجھ، ایک بوڑھی اور بانجھ عورت جنم دے گی؟ یہ وہ ان کی بیوی حیرت سے بولیں بھئی۔ کہتے ہیں اس وقت جس وقت فرشتوں نے خوشخبری دی، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر 120 سال تھی بھئی، اتنے بوڑھے تھے اور ان کی بیوی جو تھیں، حضرت سارہ، ان کی عمر 99 سال یا 90 سال ان کی عمر تھی بھئی۔ تو حیرت کا اظہار کرتی ہوئی بولتی ہوئی آئیں کہ کیا بوڑھی اور بانجھ، بڑھیا اور بانجھ عورت جو ہے، وہ جنم دے گی اب، اس میں تو بانجھ ہو چکی ہوں اور اتنی بوڑھی ہو چکی ہوں، یہ کیسے ہو سکتا ہے میں جنم دوں بچے کو؟ تو یہ حضرت اسحاق علیہ السلام کی خوشخبری دی فرشتوں نے اور ان کی والدہ تھیں حضرت سارہ۔ اور اس سے پہلے حضرت اسماعیل علیہ السلام پیدا ہو چکے تھے، تقریب 14 سال قبل اور ان کی والدہ تھیں حضرت ہاجرہ بھئی۔ حضرت ہاجرہ۔ وقست وجہھا، پس اپنے چہرے کو پیٹ ڈالا، پس اپنے چہرے کو پیٹا، بھئی دیہات کی سادہ عورتوں کو اگر کبھی دیکھا ہو، جب کوئی حیرت والی بات آتی ہے، وہ اپنے منہ پر ہاتھ ماریں گی، یا اپنے ہاتھ پر ہاتھ ماریں گی کہ اچھا اس طرح ہے تو یہاں بھی یہی وہی مراد ہے بھئی۔ فاقبلت امراته في صرة فصكت وجهها وقالت عجوز عقيم، پس آئی ان کی بیوی بولتی ہوئی فصكت وجهها پس پیٹا اپنے چہرے کو یا مارا اپنے چہرے کو وقالت اور بولی عجوز عقيم بڑھیا اور بانجھ یعنی کیا جنم دے گی بڑھیا بانجھ جو ہے۔ قالوا تو فرشتے کہنے لگے کذلك قال ربک اسی طرح قال ربک آپ کے رب نے فرمایا ہے۔ انہ هو الحكيم العليم، بے شک وہ حکیم ہیں سب کچھ جاننے والے ہیں تو اللہ نے یوں فرمایا ہے اور اسی طرح ہوگا۔ اللہ ہر چیز کی مصلحتوں کو جاننے والے ہیں، سب کچھ جاننے والے ہیں۔ قال فما خطبكم ايها المرسلون، تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو پتہ لگ گیا یہ فرشتے ہیں، خوشخبری دے دی ان کو پھر فرشت پھر ان سے فرمانے لگے فما خطبكم۔ خطب کا معنی ہے حالت، حالت اور اسی طرح خطب عظیم کام کو بھی کہتے ہیں۔ خطب کس کو کہتے ہیں؟ کوئی عظیم کام، عظیم معاملہ، بڑا معاملہ بھئی فما خطبکم تمہاری کیا حالت ہے ایها المرسلون اے بھیجے ہو اے بھیجے گئے فرشتوں تمہاری کیا شان ہے تمہاری کیا حالت ہے یعنی تم کدھر جا رہے ہو، کیا مقصد ہے تمہارا؟ یا یہ معنی خطب کا کیا معنی کیا دوسرا میں نے؟ بڑا کام فما خطبکم یعنی بڑا کام یعنی مہم کہ بھئی ترجمہ با محاورہ میں قال فما خطبکم ایها المرسلون تمہاری کیا مہم ہے اے بھیجے ہو کس مہم پر جا رہے ہو؟ کس کام پر جا رہے ہو؟ قالوا انا ارسلنا الی قوم مجرمین، تو وہ انہوں نے کہا بے شک ہم کو بھیجا گیا ہے ایک مجرم قوم کی طرف لنرسل علیهم حجارة من طین، تاکہ بھیجے ہم ان پر ان پر، تاکہ ہم ان پر بھیجے یعنی ان پر برسائیں حجارة من طین، پتھر من طین، مٹی کے۔ تاکہ ہم ان پر مٹی کے پتھر برسائیں یعنی پکی ہوئی مٹی بھئی، مٹی کو اگ میں پکا لیا جائے تو کس طرح کی صورت اختیار کر لیتی ہے پتھر کی طرح سخت بن جاتی ہے۔ سمجھ میں ائی بات یہ دیکھتے نہیں ہیں آپ بھئی مٹکے وغیرہ چیزیں جو بنائی جاتی ہیں مٹی سے پھر کیا کیا جاتا ہے؟ اگ میں پکایا جائے گا تو پھر وہ سخت ہوں گے بھئی۔ لنرسل علیهم حجارة من طین تاکہ ہم بھیجے یعنی برسائیں ان پر مٹی کے پتھر یعنی پکی ہوئی مٹی کے پتھر۔ مسومة مسومة کے معنی ہیں نشان زدہ جن پر نشان لگے ہوں۔ تاکہ ہم ان پر پتھر برسائیں مٹی کے مسومة جو نشان زدہ ہوں عند ربک آپ کے پروردگار کے پاس سے للمسرفین حد سے تجاوز کرنے والوں کے لیے۔ بھئی وہ پتھر جو تھے وہ نشان زدہ تھے۔ بعض مفسرین حضرات لکھتے ہیں کہ ان پتھروں پر باقاعدہ اللہ کی طرف سے ایک خاص مہر لگی ہوئی تھی۔ بعضوں نے لکھا کہ وہ پتھر نشان زدہ تھے یہ کہ ان پر باقاعدہ ان لوگوں کے نام لکھے ہوئے تھے جس جس کو جا کر اس پتھر نے لگنا تھا بھئی تو وہ نشان زدہ تھے۔ لنرسل علیهم حجارة من طین مسومة عند ربک للمسرفین، تاکہ ہم برسائیں ان پر مٹی کے ایسے پتھر جو نشان زدہ ہیں آپ کے رب کی طرف سے للمسرفین حد سے تجاوز کرنے والوں کے لیے۔ فاخرجنا من كان فيها من المؤمنين۔ پس فاخرجنا پس ہم نے نکالا من كان فيها وہ جو ان کے اندر تھے من المؤمنين کس میں سے؟ مومن جو مومنین تھے ان کو ہم نے ان میں سے نکال لیا۔ فما وجدنا فيها غیر بيت من المسلمين، پس نہیں پایا ہم نے ان میں غیر بيت من المسلمين سوائے ایک گھر کے مسلمانوں کے۔ اس میں ان میں ان کی بستی میں ہمیں ایک ہی گھر مسلمانوں کا ملا جن کو ہم نے بحفاظت وہاں سے نکال لیا اور وہ گھر کس کا تھا؟ حضرت لوط علیہ السلام کا۔ فما وجدنا فيها غیر بيت من المسلمين پس ہم نے نہیں پایا اس میں سوائے ایک گھر کے مس سوائے مسلمانوں کے ایک گھر کے وتركنا فيها آية للذين يخافون العذاب الأليم، اور چھوڑ دیا ہم نے اس ان میں چھوڑی ہم نے ان میں آية ایک نشانی لذي ان میں نشانی چھوڑی للذين ان لوگوں کے لیے يخافون العذاب الأليم جو ڈرتے ہیں دردناک عذاب سے۔ اس بستی میں ہم نے ایک نشانی چھوڑی ان لوگوں کے لیے جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں یعنی ان کے وہ کھنڈرات باقی ہم نے چھوڑ دیے جو بعد میں آنے والوں کے لیے عبرت کا سامان بنتے رہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا تو ان پر عذاب آیا بھئی اور کہتے ہیں کہ پہلے ان کی بستی کو الٹا اٹھا کر زمین پر پٹخ دیا فرشتوں نے اور پھر ان پر پتھر برسا دیے گئے بھئی، پتھر برسائے گئے۔ اور چار لاکھ افراد تھے جن کو تباہ کر دیا گیا۔ اس عذاب کے اندر بھئی چار لاکھ لوگوں کو۔ وفي موسى إذ أرسلناه إلى فرعون بسلطان مبين، وفي موسى وجعلنا في موسى آية، ہم نے موسی علیہ السلام میں نشانی بنائی، نشانی رکھی۔ اور موسی علیہ السلام میں إذ أرسلناه إلى فرعون بسلطان مبين، جب ہم نے بھیجا ان کو فرعون کی طرف بسلطان مبين واضح دلیل دے کر، واضح دلیل کے ساتھ۔ جب ہم نے ان کو فرعون کی طرف واضح دلیل کے ساتھ بھیجا یعنی وہ معجزات دے کر بھیجے کہ لاٹھی کو پھینکتے تھے تو وہ اجدہ بن جاتی تھی اور ہاتھ کو بغل میں سے نکالتے تھے تو اس سے روشنی پھوٹنے لگتی تھی۔ فتولى بركنه وقال ساحر أو مجنون، فتولى پس وہ پھر گیا۔ بركنه، رکن کہتے ہیں وہ چیز جس سے دوسری چیز بنی ہو یا اسی طرح جو اس کے لیے سہارا ہو، جو اس کو قوت دے بھئی، جو اس کو کیا کرے؟ قوت دے، سہارا دے، اس کو بھی رکن کہتے ہیں بھئی۔ تو یہاں رکن سے مراد اس کی وہ فوج اور قوم ہے جن کی وجہ سے جو اس کا سہارا تھی، جس کی وجہ سے اس کی بادشاہت قائم تھی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی رکن کا؟ تو اسی لیے با وہ ترجمہ پھر اس کا ارکان سلطنت سے کیا بعض علماء نے بھئی۔ فتولى بركنه پس وہ پلٹ گیا اپنے ارکان سلطنت سمیت۔ ان کے ساتھ وہ پلٹ گیا۔ یا رکن کا پھر بعضوں نے ترجمہ کیا قوت کے، کیونکہ رکن کسے کہتے ہیں وہ چیز جو دوسرے کے لیے قوت کا باعث ہوتی ہے، اس کے لیے سہارا ہوتی ہے۔ فتولى بركنه وہ اپنی قوت کے ساتھ پلٹ گیا بھئی۔ یعنی سب لوگوں کے ساتھ۔ وقال اور کہا اس نے ساحر أو مجنون کہ یہ شخص تو جادوگر ہے یا مجنون ہے۔ ف اخذناوه، پس ہم نے اس کو پکڑ لیا اس فرعون کو وجنوده اور اس کے لشکر کو اور اس کے لشکروں کو فنبزناهم، پس ہم نے پھینک دیا ان کو، نبزہ کے معنے پھینکنے کے فی الیم، یم کہتے ہیں سمندر کو، سمندر میں۔ وهو مليم، اس حال میں کہ وہ قابل ملامت تھا۔ ملیم کے کیا معنی ہیں؟ جو قابل ملامت ہو، ملامت کے قابل ہو، یعنی اس کے کام ہی ملامت والے تھے، وہ ملامت کے قابل تھا۔ فتولى بركنه وقال ساحر أو مجنون، پس وہ پلٹ گیا اپنی قوت کے ساتھ اور کہا کہ جادوگر ہے یا مجنون ہے، ف اخذناوه وجنوده، پس پکڑ لیا ہم نے اس کو اور اس کے لشکروں کو فنبزناهم في اليم وهو مليم، پس ہم نے اس کو پھینک دیا سمندر میں۔ اس حال میں کہ وہ۔ ملامت کے قابل تھا۔ وفي عاد إذ أرسلنا عليهم الريح العقيم، اور وفي عاد، اس کا عطف بھی اسی وفي موسى پر ہے بھئی۔ یا اس کے لیے اسی کے مطابق فعل نکال لیں وہ ما قبل میں جو آیا تھا وتركنا۔ وتركنا في عاد آية، ہم نے قوم عاد میں نشانی چھوڑی۔ وفي عاد اور قوم عاد میں إذ أرسلنا عليهم الريح العقيم، جب بھیجی ہم نے ان پر الريح العقيم۔ دیکھیے میں نے بتلایا تھا، ریاح عربی میں نرمی جو ہوا نرمی سے چلے اس کو کیا کہتے ہیں ریاں اور جو آندھی ہو اس کو کیا کہتے ہیں ریح تو یہاں دیکھیے ریح کا لفظ آیا۔ تو ہم نے ان پر ایک آندھی بھیجی العقيم، عقیم کہتے ہیں بانجھ کو بھئی وہ عورت جس کی آگے جو بانجھ ہو جائے، اولاد کو جنم دینے کے قابل نہ رہے اس کو کیا کہتے ہیں بانجھ۔ تو یہاں کیا مراد ہے؟ مراد ہے کہ وہ نفع سے خالی تھی، اس میں کوئی نفع نہیں تھا، کوئی فائدہ نہیں تھا، ایسی آندھی ہم نے بھیجی۔ وفي عاد، اور قوم عاد میں بھی نشانی ہے إذ أرسلنا عليهم الريح العقيم، جب ہم نے ان پر ایک نفع سے خالی آندھی بھیجی۔ ما تذر من شيء أتت عليه إلا جعلته كرميم۔ ما تذر، وذر یذر کے معنی چھوڑنے کے ہیں۔ ما تذر من شيء وہ کوئی چیز نہیں چھوڑتی تھی وہ آندھی۔ ایسی چیز أتت عليه، جس پر وہ آ جائے وہ جس چیز پر آ جاتی اس کو نہیں چھوڑتی تھی الا جعلته كرميم مگر یہ کہ اس کو کر دیتی تھی کس کی طرح؟ كرميم، گلی ہوئی بوسیدہ چیز کی طرح۔ رميم کسے کہتے ہیں؟ گلی ہوئی بوسیدہ چیز کی طرح۔ بھئی انسان کو کا بدن فورا ختم نہیں ہوتا، بالخصوص اس کی ہڈیاں وغیرہ اس کے تو گلنے میں بڑا عرصہ لگ جاتا ہے، وہ تو سخت چیز ہے بھئی۔ لیکن اس آندھی کی یہ خصوصیت تھی، یہ جس چیز پر سے گزرتی تھی اس کو کس طرح کر دیتی تھی؟ بالکل گلی ہوئی کر دیتی تھی کہ ہاتھ لگاؤ تو وہ ریزہ ریزہ ہو جائے بھئی۔ ما تذر من شيء أتت عليه إلا جعلته كرميم، یہ ہوا جس چیز پر آتی تھی اسے نہیں چھوڑتی تھی مگر یہ کہ اس کو کر دیتی تھی گلی ہوئی بوسیدہ، با محاورہ ترجمہ کیا کریں گے؟ کہ یہ ہوا جس چیز پر بھی آتی تھی، اسے گلی ہوئی بوسیدہ بنا دیتی تھی۔ چلیے بس بھئی ہذا هو المرام، واللہ اعلم بحقيقة الكلام۔
131 approved lectures · 103 of 131