Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-005

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 07 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 27
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اچھا بھئی اگے سبق دیکھیے بھئی۔ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ وَوَصَّیْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًا وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ۔ شان نزول بھئی اس ایت کا حضرت سعد ابن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہُ بھئی۔ تو سعد ابن ابی وقاص، ان کے والد کا کیا نام ہے؟ ابو وقاص نہیں بھئی۔ یہ اصل نام ہے ان کا سعد ابن مالک ابن ابی وقاص۔ ان کے والد کا نام مالک ہے اور ابو وقاص یہ ان کے دادا ہیں، تو دادا کی طرف یہ منسوب ہیں بھئی مشہور اس نام سے ہوئے۔ سعد ابن ابی وقاص بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ نام سے یہ نہ سمجھ لیں کہ یہ ابو وقاص ان کے والد کا نام ہے بلکہ ان کے والد کا کیا نام ہے؟ مالک ہے اور ابو وقاص ان کے دادا ہیں لیکن یہ دادے کی نسبت سے مشہور ہیں بھئی۔ اور بہت اونچے درجے کے صحابی ہیں بھئی۔ وہ خود فرماتے ہیں کہ ہاں یہ ربع اسلام یعنی چوتھے نمبر پر اسلام لانے والے تھے بھئی۔ چوتھے نمبر پر یہ اسلام لانے والے ہیں اور عشرہ مبشرہ میں سے ہیں وہ دس صحابہ جن کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی بشارت دی۔ بھئی عشرہ مبشرہ بھئی جن کو جنت کی بشارت دی گئی کتنے صحابہ؟ 10، 10 نہیں ہے بھئی بہت سے صحابہ ہیں جنہیں جنت کی بشارت دی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے، لیکن ان کو عشرہ مبشرہ اس لیے کہتے ہیں کہ یہ 10 کو ایک ہی مجلس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی بشارت دی تھی، ورنہ بہت صحابہ ہیں جنہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت، تو انہیں چونکہ ایک ہی مجلس میں دی تھی اس لیے یہ عشرہ مبشرہ کے نام سے مشہور ہیں، تو ان میں حضرت سعد ابن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہُ بھی ہیں بھئی۔ ہاں اور یہ فاتحِ ایران ہیں بھئی فاتحِ ایران، بہت اونچے درجے کے صحابی میں نے اپ کو بتلایا بھئی۔ یہ اسلام لے کر آئے اور جب اسلام لے کر آئے، ان کی والدہ ہیں حمنہ بنت ابی سفیان۔ حمنہ بنت ابی سفیان۔ حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہُ کی بیٹی ہیں اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہُ کی بہن بھئی۔ تو جب ان کی والدہ کو پتہ چلا کہ یہ اسلام لے کر آئے ہیں تو کچھ اکسانے والوں نے ان کو اکسایا کہ اپنے بیٹے کو منع کرو، سمجھاؤ، یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم، محمد کا اتباع کرنا چھوڑ دے اور اگر ویسے نہیں مانتے تو بھوک ہڑتال کر دو، کھانا پینا چھوڑ دو۔ چنانچہ انہوں نے کھانا پینا چھوڑ دیا۔ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہُ منہ میں پانی ڈالتے یہ اس کو اگل دیتیں، منہ میں روٹی کا نوالہ دیتے تو اس کو گرا دیتیں۔ لیکن اس ان کی اس کوشش سے بھی حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہُ کہاں اسلام کو چھوڑنے والے تھے، جب ایک مرتبہ دینِ حق اللہ نے نصیب فرما دیا اور محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سینے میں آ گئی تو پھر کوئی اور محبت وہاں پر اثر نہیں دکھا سکتی بھئی۔ تو حضرت، تو پھر اکسانے والوں نے کہا کہ اپ یوں کریں کہ سائے میں بھی نہ بیٹھیں، دھوپ میں بیٹھیں اور اگر کوئی آئے پوچھے کہ کیوں بیٹھی ہو یہاں پر دھوپ میں، تو بس اتنا کہنا میرا بیٹا نافرمان ہے، زیادہ تفصیل بتانے کی ضرورت نہیں بس اتنا کہہ دیا کرو میرا بیٹا نافرمان ہو گیا ہے۔ چنانچہ وہ بوڑھی عورت بھئی اب گلی میں دھوپ میں جا کر بیٹھ گئیں، حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہُ اٹھا کر سائے میں لے جاتے ہیں تو یہ پھر اٹھ کر باہر آ جاتی ہیں، وہ کھلاتے ہیں پلاتے ہیں وہ اس کو گرا دیتی ہیں۔ تو کئی دن اس میں بھئی گزر گئے بھئی، لاغر ہو گئیں، کمزور ہو گئیں، کچھ کھا پی نہیں رہیں، سائے میں نہیں بیٹھ رہیں، جو آ رہا ہے کیا ہوا؟ کیوں بیٹھی ہو دھوپ میں؟ میرا بیٹا نافرمان۔ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہُ بڑے پریشان، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ حضرت میری والدہ تو اس طرح کر رہی ہیں اور عجیب تکلیف ہے میرے لیے اور بدنامی بھی ہو رہی ہے، ساتھ ہر ایک کو یہ کہہ رہی ہیں کہ بیٹا نافرمان ہے۔ تو اس پر پھر یہ آیتیں نازل ہوئیں بھئی، جس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ والدین کے ساتھ ہم نے بھلائی کا حکم دیا ہے، لیکن اگر وہ کسی گناہ کا حکم دیں، میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے کا حکم دیں تو ان کی یہ بات کبھی بھی مت ماننا بھئی۔ تو وہ جو اکسانے والے تھے ان کو بھی اس آیت کا پتہ چلا تو کہنے لگے کہ حضرت سعد ابن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہُ کے بارے میں کہ یہ تو پہلے بھی نہیں ماننے والے تھے، کوئی صورت نہیں تھی کہ یہ مان جاتے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو چھوڑ دیتے اور اب تو اللہ کی طرف سے باقاعدہ حکم نازل ہو گیا ہے، اب تو کوئی صورت ہی نہیں ہے کہ وہ کہ اس کو اپنے اس نئے دین کو چھوڑ دیں، تو آؤ ان کی والدہ کے پاس چلتے ہیں اور ان کو سمجھا دیتے ہیں کہ وہ کھانا پینا شروع کر دے، کہیں ایسا نہ ہو وہ مر ہی نہ جائیں اور اس میں ہماری ہی بدنامی ہے بھئی۔ تو ان کو سمجھا دیتے ہیں، چنانچہ ان کے پاس گئے اور کہا کہ یہ اپ کا بیٹا ہی ہے چلو آج نہیں مانتا تو کل مان لے گا، کل نہیں مانے گا تو چلو پرسوں مان لے گا، تو یہ ٹھیک ہو جائے گا بس اپ کھانا پینا شروع کر دیں، چنانچہ انہوں نے اس طرح کھانا پینا شروع کر دیا، تو یہ بعد میں پھر اسلام بھی لے آئیں بھئی حضرت حمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔ تو یہ ہے اس آیت کا شانِ نزول بھئی۔ یہ شانِ نزول سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دیکھیے اب، وَوَصَّیْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًا اور ہم نے حکم دیا، وَصَّیْنَا ہم نے حکم دیا، یہ ترجمہ کر لیں یا ہم نے نصیحت کی۔ اور ہم نے حکم دیا ہے الْإِنْسَانَ انسان کو بِوَالِدَیْهِ، نون اضافت کی وجہ سے گر گیا وَالِدَیْنِ، نون گر گیا ہا ضمیر کی طرف اضافت کی وجہ سے، انسان کو بِوَالِدَیْهِ اپنے والدین کے ساتھ حُسْنًا حسناً اچھائی کا، اور ہم نے حکم دیا ہے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ اچھائی کا۔ وَإِنْ جَاهَدَاكَ اور اگر وہ دونوں اپ پر زور ڈالیں، جَاهَدَا کا معنی زور ڈالنا، کوشش کرنا، تثنیہ کا صیغہ ہے بھئی جَاهَدَ جَاهَدَاكَ، اور اگر وہ دونوں اپ پر کوشش کریں، اگر وہ دونوں اپ پر زور ڈالیں لِتُشْرِكَ بِي کہ تو شریک ٹھہرا میرے ساتھ، تو شرک شریک ٹھہرا بِي میرے ساتھ مَا اس چیز کو لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ کہ نہیں ہے تجھے اس کے بارے میں کچھ علم، فَلَا تُطِعْهُمَا تو ان کی بات نہ ماننا، تو ان کا کہنا نہ ماننا۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ ایک ایک صیغے پر نظر رکھنا، صیغے کی میری کوشش ہو گی کہ با محاورہ ترجمہ کے بجائے ایک ایک صیغے کا ہو جائے اور بات بھی واضح ہو گئی۔ وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي اور اگر وہ دونوں تجھ پر زور ڈالیں کہ تو شریک ٹھہرا میرے ساتھ تو کہ تو شریک ٹھہرا میرے ساتھ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ اس چیز کو جس کا تجھے کوئی علم نہیں ہے، اس چیز کو میرے ساتھ شریک ٹھہرائے جس کا تجھے کوئی علم نہیں ہے، یعنی جس کے معبود ہونے کا تمہیں کوئی علم نہیں ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ فَلَا تُطِعْهُمَا تو ان کی تو ان کا کہنا نہ ماننا۔ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ میری ہی طرف تمہارا لوٹنا ہے، فَأُنَبِّئُكُمْ تو میں تمہیں بتلا دوں گا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ وہ جو تم عمل کیا کرتے تھے۔ اللہ فرما رہے ہیں جو کچھ تم عمل کرتے ہو ہم جانتے ہیں، ہم اسے محفوظ کر رہے ہیں اور جب قیامت میں ہمارے پاس آؤ گے تو ہم تمہیں تمہارے عمل بتلا دیں گے کہ یہ یہ تم کیا کرتے تھے بھئی۔ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ ہماری ہی میری ہی طرف تمہارا لوٹنا ہے فَأُنَبِّئُكُمْ تو میں تمہیں بتلا دوں گا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ وہ جو تم عمل کیا کرتے تھے۔ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور اچھے عمل کرتے رہے لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِي الصَّالِحِينَ البتہ ہم ضرور داخل کریں گے انہیں نیک لوگوں میں، ہم انہیں ضرور نیک لوگوں میں داخل کریں گے، اور قیامت کے دن وہ انبیاء اور اولیاء کے ساتھ اٹھائے جائیں گے، اور یعنی ان کے ساتھ ان کا اچھا انجام ہو گا اور جنت میں داخل ہوں گے۔ تو انہیں ہم انہیں ضرور داخل کریں گے فِي الصَّالِحِينَ نیک لوگوں میں، یعنی ان کے گروہ میں انہیں داخل کر دیں گے۔ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ اور لوگوں میں سے بعض وہ ہیں جو یقول کہتے ہیں آمَنَّا بِاللَّهِ ہم ایمان لے آئے اللہ پر۔ وَمِنَ النَّاسِ اور لوگوں میں سے وہ ہیں جو یقول کہتے ہیں آمَنَّا بِاللَّهِ کہ ہم ایمان لے آئے اللہ پر، فَإِذَا أُوذِيَ فِي اللَّهِ پس جب ان کو تکلیف دی جاتی ہے فِي اللَّهِ اللہ کے بارے میں، یعنی اللہ کے راستے میں، جب انہیں تکلیف دی جاتی ہے أُوذِيَ مجہول کا صیغہ ہے اسی کے مطابق ترجمہ بھئی، پس جب انہیں تکلیف دی جاتی ہے، اذیت دی جاتی ہے فِي اللَّهِ اللہ کے راستے میں، جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللَّهِ تو وہ بنا دیتے ہیں فِتْنَةَ النَّاسِ لوگوں کی ایذا رسانی، لوگوں کی فتنہ کو، لوگوں کی طرف سے جو آزمائش اور تکلیف ہے، تو وہ بنا دیتے ہیں لوگوں کی آزمائش کو كَعَذَابِ اللَّهِ اللہ کے عذاب کی طرح، اللہ کے عذاب کی طرح، یعنی اللہ کے عذاب کی طرح اسے سمجھنے لگتے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ کمزور کچھ لوگ تھے جو ایمان لے آتے اور پھر جب کفار ان پر کوئی تکلیف آتی تو لوگوں کی طرف سے، کفار تنگ کرتے کیوں ایمان لے کر آئے ہو؟ اور تکلیف وغیرہ پہنچاتے، تو ان کی طرف سے جو تکلیف ان پر آتی انسانوں کی طرف سے وہ اس کو کس طرح سمجھنے لگتے؟ اللہ کے عذاب کی طرح سمجھنے لگتے کہ ہم تو عذاب میں مبتلا ہو گئے ہیں اور چنانچہ ان کفار کی اطاعت کرتے اور درپردہ تو یہ منافقین کا ذکر ہو رہا ہے بھئی۔ تو بظاہر اسلام ہوتا لیکن پھر درپردہ ان کفار کی تکالیف کی وجہ سے ان کی کیا کر لیتے؟ باتوں کو مان لیتے تھے، بھئی۔ ولئن جاء نصر من ربك اور اگر آ جائے مدد آپ کے پروردگار کی، ليقولن تو البتہ وہ ضرور کہیں گے، إنا كنا معكم ہم تو تمہارے ساتھ تھے۔ ہم تو... اور اگر اللہ... تو یہ لوگ جب ان کو تکلیف دی جاتی ہے تو یہ اس کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھتے ہیں اور کفار کی اطاعت کر لیتے ہیں، ان کی باتیں مان لیتے ہیں۔ اور اگر آ جائے کوئی مدد آپ کے پروردگار کی طرف سے تو البتہ ضرور کہیں گے، إنا كنا معكم ہم تو تمہارے ساتھ تھے۔ یعنی اب اس مدد اور اس انعام میں جو مالِ غنیمت وغیرہ حاصل ہوا ہے، اللہ کی مدد آئی ہے، اللہ نے فتح دی ہے، مالِ غنیمت وغیرہ حاصل ہوا ہے، تو یہ کہیں گے ہم تو تمہارے ساتھ تھے۔ یعنی ہمیں بھی اب اس میں کیا کرو؟ حصہ دو، ہمیں بھی اس میں شریک کرو۔ أوليس الله بأعلم بما في صدور العالمين کیا نہیں ہے اللہ خوب جاننے والے وہ جو کہ جہان والوں کے دلوں میں ہے؟ کیا نہیں ہے اللہ بأعلم بما في صدور العالمين خوب جاننے والے، زیادہ جاننے والے وہ جو کہ جہان والوں کے دلوں میں ہے؟ وليعلمن الله الذين آمنوا وليعلمن المنافقين اور البتہ اللہ ضرور ظاہر فرما دیں گے ان لوگوں کو جو ایمان لے کر آئے ہیں اور ان لوگوں کو جو منافقین ہیں۔ وقال الذين كفروا اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا تھا للذين آمنوا ان لوگوں سے جو ایمان لائے تھے، اتبعوا سبيلنا تم اتباع کرو سبيلنا ہمارے راستے کی، ہمارے راستے کا اتباع کرو۔ یا یوں کر لیں ترجمہ آسان لفظوں میں: اتبعوا پیروی کرو، یا یوں کر لیں: چلو، چلو تم سبيلنا ہمارے راستے پر۔ تم لوگ... تو وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا وہ مومنین سے کیا کہتے؟ انہوں نے مومنین سے کہا: اتبعوا سبيلنا چلو تم ہماری راہ پر، ولنحمل خطاياكم اور ہم اٹھا لیں گے تمہارے گناہوں کو۔ ہم کیا کر لیں گے؟ تمہارے گناہوں کو اٹھا لیں گے۔ تو یہ کفار ان سے کہتے مومنین سے کہ تم کیا سمجھتے ہو، انسان دوبارہ زندہ ہوگا؟ ایک مرتبہ جب موت آ گئی، قبر میں پہنچ گیا تو تم... یہ محمد تو تمہیں کہتے ہیں انسان دوبارہ زندہ ہوگا اور اسے اپنے تمام اعمال کا جواب دینا پڑے گا۔ کہتے ہیں: نہیں بھئی، یہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ جب ایک دفعہ انسان مٹی بن گیا تو پھر کیسے دوبارہ زندہ ہوگا؟ تو تمہارا خیال ہے کہ دوبارہ زندہ ہوگا، ہمارا نہیں خیال کبھی ایسا ہو سکتا ہے۔ اور اگر تم ہمارا راستہ اختیار کرو، اگر ایسا ہوا بھی تو تمہارے گناہ ہم اٹھا لیں گے۔ تمہارے گناہ کیا کریں گے؟ تم ہمارے راستے پر چلو اور پھر تمہارے اس گناہ کو کیا کریں گے؟ ہم اٹھا لیں گے بھئی، ہم اٹھا لیں گے۔ وما هم بحاملين اور نہیں ہیں وہ... یہ 'ما' نافیہ... وما هم بحاملين اور نہیں ہیں وہ اٹھانے والے من خطاياهم ان کے گناہوں میں سے من شيء کوئی چیز۔ یہ ان کے گناہوں میں سے کوئی چیز اٹھانے والے نہیں ہیں۔ جو گناہ کرتا ہے وہ اسی پر ہوگا۔ ایک شخص کا گناہ دوسرا شخص نہیں اٹھائے گا بھئی۔ مجرم کو ضرور سزا ملے گی۔ إنهم لكاذبون بے شک یہ جھوٹے ہیں۔ وليحملن أثقالهم وأثقالا مع أثقالهم اور البتہ وہ ضرور اٹھائیں گے... وليحملن وہ غائب کا صیغہ ہے بھئی، جمع کا۔ وہ ضرور اٹھائیں گے أثقالهم اپنے بوجھوں کو۔ بھئی وليحملن میں کون سی ضمیر ہے؟ جمع مذکر غائب۔ اور أثقالهم، یہ 'هم' ضمیر بھی کون سی ہے؟ جمع مذکر غائب۔ یہ انہی کی طرف لوٹ رہی ہے، وہ اٹھائیں گے۔ وہ اٹھائیں گے أثقالهم، تو یہ ترجمہ نہ کرنا "ان کے بوجھوں کو"۔ کیونکہ 'هم' سے بھی تو یہ خود یہی مراد ہیں۔ تو کیا ترجمہ کریں گے؟ اپنے بوجھوں کو۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ وليحملن أثقالهم اور وہ البتہ ضرور اٹھائیں گے اپنے بوجھوں کو وأثقالا مع أثقالهم اور بوجھ بھی ساتھ اپنے بوجھوں کے۔ اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور بوجھ بھی اٹھائیں گے اپنے بوجھوں کے ساتھ ساتھ بھئی۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ یہاں پھر اشکال ہوتا ہے بھئی، کہ اوپر اللہ فرما رہے ہیں کہ یہ ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی نہیں اٹھائیں گے۔ اوپر کیا آیا؟ وما هم بحاملين من خطاياهم من شيء، وہ ان کے بوجھوں میں سے کچھ نہیں اٹھائیں گے۔ اور یہاں آیا کہ اپنے بوجھوں کے ساتھ اور بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ تو جواب یہ کہ اوپر ذکر تھا جو نفی کی گئی ہے کہ وہ بوجھ نہیں اٹھائیں گے، یعنی اس طرح نہیں اٹھائیں گے کہ اصل مجرم بچ جائے اور ان کو سزا بھگتنی پڑے، ایسا نہیں ہوگا۔ تو یہ ان مجرموں کا بوجھ یہ اٹھائیں گے ضرور، لیکن وہ بری نہیں ہوں گے بلکہ انہیں بھی اپنی سزا بھگتنا پڑے گی۔ اور ان کو بھی ان کا گناہ ملے گا کیونکہ یہ باعث ہوئے ان کی گمراہی کا، ان کے کہنے پر وہ گمراہ ہوئے۔ تو جو شخص کسی دوسرے کو غلط راستے پر چلاتا ہے تو جو چل رہا ہے اسے تو سزا ملے گی ہی، لیکن اس کے غلط راستے پر چلنے کی وجہ سے اس چلانے والے کو بھی اس کی سزا ملے گی بھئی۔ تو یہ معنی ہے: اپنے بوجھ کے ساتھ ان کا بھی بوجھ اٹھائیں گے، یعنی بوجہ ان کو گمراہ کرنے کے۔ معنی سب کو سمجھ میں آ گیا؟ وليسئلن يوم القيامة عما كانوا يفترون اور البتہ... وليسئلن اور البتہ ضرور جو ہیں وہ پوچھے جائیں گے قیامت کے دن، ان کی بازپرس کی جائے گی قیامت کے دن عما اس چیز کے بارے میں كانوا يفترون جو وہ گھڑتے تھے۔ افتراء کہتے ہیں اپنی طرف سے کوئی بات گھڑ لینا، بنا لینا۔ تو یہ اللہ کے بارے میں باتیں کرتے تھے مختلف، اسلام کی چیزوں کا انکار کرتے تھے، اپنی طرف سے جھوٹی جھوٹی باتیں گھڑا کرتے تھے، جیسے ابھی ایک مثال گزر گئی کہ کہتے تھے کہ اٹھنا ہی نہیں اور اگر اٹھے تو تمہارے بوجھوں کو ہم اٹھا لیں گے۔ تو اللہ فرما رہے ہیں: وليسئلن اور البتہ یہ ضرور پوچھا... ضرور ان سے پوچھا جائے گا يوم القيامة قیامت کے دن عما كانوا يفترون اس چیز کے بارے میں جو وہ گھڑتے تھے، جو وہ... یا یوں کر لیں: عما كانوا يفترون وہ جو باتیں بنایا کرتے تھے، وہ جو باتیں بنایا کرتے تھے اس کے بارے میں قیامت کے دن ان سے ضرور پوچھا جائے گا۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ جی، ایک مرتبہ پھر دیکھ لیں بھئی۔ ایک ایک صیغے کے مطابق بھئی ترجمہ آپ نے کرنا ہے بھئی۔ ووصينا الإنسان بوالديه حسنا اور حکم دیا ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ اچھائی کا، اپنے والدین... بوالديه "اس کے والدین" نہیں کرنا ترجمہ، کیوں؟ کیونکہ 'ہ' ضمیر کس کو راجع ہے؟ انسان کو۔ تو انسان کو حکم دیا ہے اس کے اپنے والدین کے بارے میں۔ اور حکم دیا ہم نے انسان کو اس کے والدین کے بارے میں اچھائی کا۔ وإن جاهداك لتشرك بي اور اگر وہ زور ڈالیں تجھ پر، اگر وہ دونوں زور ڈالیں تجھ پر کہ تو شریک کر میرے ساتھ ما ليس لك به علم اس چیز کو جس کا تمہیں علم نہیں ہے فلا تطعهما تو ان کا... تو ان کا کہنا نہ ماننا۔ إلي مرجعكم میری ہی طرف تمہارا لوٹنا ہے... اب دیکھو واحد متکلم کے صیغے آ گئے... فأنبئكم پس میں تمہیں بتلا دوں گا بما كنتم تعملون وہ جو تم عمل کیا کرتے تھے۔ والذين آمنوا وعملوا الصالحات لندخلنهم في الصالحين اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے لندخلنهم في الصالحين البتہ ہم انہیں ضرور داخل کر دیں گے نیک لوگوں میں۔ ومن الناس من يقول آمنا بالله اور لوگوں میں سے بعض وہ ہیں جو کہتے ہیں: آمنا باللہ ہم ایمان لائے اللہ پر، فإذا أوذي في الله پس جب ان کو تکلیف دی جاتی ہے في الله اللہ کے راستے میں جعل فتنة الناس كعذاب الله تو وہ کر دیتے ہیں لوگوں کی آزمائش کو اللہ کے عذاب کی طرح، یعنی وہ سمجھنے لگتے ہیں... تو وہ لوگوں کی آزمائش کو... یا یوں کہیں: قرار دے دیتے ہیں۔ وہ لوگوں کی آزمائش کو اللہ کا عذاب قرار دے دیتے ہیں، یا لوگوں کی آزمائش کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھنے لگتے ہیں۔ ولئن جاء نصر من ربك اور اگر آ جائے کوئی مدد آپ کے پروردگار کی طرف سے ليقولن تو البتہ ضرور کہیں گے إنا كنا معكم ہم تو تمہارے ساتھ تھے۔ أوليس الله بأعلم بما في صدور العالمين کیا نہیں ہے اللہ زیادہ جاننے والے، خوب جاننے والے وہ جو کہ جہان والوں کے دلوں میں ہے؟ وليعلمن الله الذين آمنوا وليعلمن المنافقين اور البتہ اللہ ضرور جان لے گا، ضرور ظاہر کر دے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں اور ضرور ظاہر کر دے گا منافقین کو۔ وقال الذين كفروا اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا تھا للذين آمنوا ان لوگوں سے جو ایمان لائے: اتبعوا سبيلنا چلو تم ہماری راہ پر ولنحمل خطاياكم اور ہم اٹھا لیں گے تمہارے... تمہاری غلطیوں کو، تمہارے گناہوں کو۔ وما هم بحاملين من خطاياهم من شيء اور نہیں ہیں وہ... نہیں ہیں وہ اٹھانے والے ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی۔ إنهم لكاذبون بے شک یہ جھوٹ بولنے والے ہیں، بے شک یہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ وليحملن أثقالهم وأثقالا مع أثقالهم اور یہ البتہ ضرور اٹھائیں گے اپنے بوجھوں کو بھی وأثقالا اور بوجھوں کو بھی مع أثقالهم اپنے بوجھوں کے ساتھ۔ وليسالن يوم القيامة عما كانوا يفترون اور البتہ ضرور پوچھا جائے گا ان سے قیامت کے دن اس چیز کے بارے میں وہ جو باتیں بنایا کرتے تھے، وہ جو باتیں گھڑتے تھے۔ چلیے بھئی، صدق اللہ العظیم۔ هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
129 approved lectures · 5 of 129