اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم.
ہل اتى على الإنسان حين من الدهر لم يكن شيئا مذكورا.
إنا خلقنا الإنسان من نطفة أمشاج نبتليه فجعلناه سميعا بصيرا.
إنا هديناه السبيل إما شاكرا وإما كفورا.
آج ہم سورہ دہر پڑھیں گے، هل أتى على الإنسان.
یاد رکھیے یہاں پر جو هل آیا یہ استفہام کے لیے نہیں، سوال کے لیے نہیں، بلکہ یہ بمقصد قد کے ہے.
یہاں پر جو هل آیا وہ کس معنی میں ہے؟ قد کے معنی میں ہے.
مفسرین حضرات کا اتفاق ہے کہ یہاں پر جو هل آیا سورہ دہر میں اور ایک سورہ غاشیہ کے اندر جو هل أتى کا حدیث الغاشیہ، وہاں پر جو هل آیا یہ دونوں بمقصد قد کے ہیں بھئی، قد تحقیق کے لیے بھئی.
قد کس لیے آتا ہے؟ تحقیق کے لیے.
هل أتى على الإنسان حين تحقیق آیا ہے انسان پر حين من الدهر ایک وقت زمانے میں سے لم يكن شيئا مذكورا کہ نہیں تھا وہ کوئی قابلِ ذکر شے، کہ نہیں تھا وہ کوئی قابلِ ذکر شے.
اللہ فرما رہے ہیں تحقیق انسان پر زمانے میں ایک وقت ایسا آیا ہے کہ وہ کوئی قابلِ ذکر چیز نہیں تھا.
تو انسان پیدائش سے پہلے باپ کی پشت میں اس کی ساری آگے آنے والی قیامت تک نسل موجود ہوتی ہے، لیکن وہ کوئی قابلِ ذکر نہیں گویا اس کا وجود ایک لحاظ سے تھا ہی نہیں، کوئی اس طرح تھا.
تحقیق آیا ہے انسان پر ایک وقت زمانے میں سے لم يكن شيئا مذكورا کہ وہ کوئی قابلِ ذکر چیز نہیں تھا.
إنا خلقنا الإنسان من نطفة.
یقیناً پیدا کیا ہم نے انسان کو من نطفة نطفے سے أمشاج أمشاج جمع ہے مشیج کی، مشیج کہتے ہیں مخلوط کو بھئی، مخلوط، ملا جلا.
یقیناً ہم نے پیدا کیا ہے انسان کو ملے جلے نطفے سے.
ملے جلے نطفے سے، یا یوں ترجمہ کر لیں، ہم نے پیدا کیا ہے انسان کو مخلوط نطفے سے.
ملا جلا نطفہ اس لیے کیونکہ نطفہ وہ مرد اور عورت کے جو مرد اور عورت دونوں کی طرف سے وہ اجزاء ملیں گے تو پھر اس کے بعد اس سے انسان کی پیدائش ہوتی ہے.
یا اس کو أمشاج اس لیے کہا گیا کیونکہ نطفہ جو ہے وہ بہت سی غذاؤں کا نچوڑ ہوتا ہے، بہت سی غذاؤں کا نچوڑ ہوتا ہے تو اس اعتبار سے بھی وہ مرکب ہے، ملا جلا ہے، تمام غذا اس کے اندر ملی جلی ہیں.
یقیناً ہم نے پیدا کیا انسان کو ایک مخلوط نطفے سے نبتليه کہ ہم اس کی آزمائش کریں.
ابتلا کس کو کہتے ہیں؟ آزمائش کو.
نبتليه کہ ہم اس کی آزمائش کریں فجعلناه سميعا بصيرا پس ہم نے کر دیا اس کو سننے والا، دیکھنے والا.
پہلے کچھ بھی نہیں تھا پھر ہم نے اس کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا اور اسے سننے والا، دیکھنے والا بنا دیا یعنی سننے کی طاقت بھی دے دی، دیکھنے کی طاقت بھی دے دی اور تاکہ یہ آگے زندگی کے اندر اسے جو مکلف بنانا ہے، اس کے لیے جن جن چیزوں کی ضرورت تھی وہ ہم نے اسے عطا کر دیں.
اور پھر اس کو آگے اللہ فرما رہے ہیں إنا هديناه السبيل کہ یقیناً ہم نے اس کو راستہ دکھا دیا.
إنا هديناه السبيل ہم نے اس کو راستہ دکھا دیا إما شاكرا وإما كفورا کہ یا تو وہ شکر گزار ہو یا ناشکرا ہو.
جس راستے کو چاہے، جس راستے کا وہ چاہے انتخاب کر لے، ہم نے اس کو راستہ سیدھا راستہ ہم نے اس کو دکھا دیا، اب چاہے تو وہ شکر گزار بنے اس راستے پر چلے اور چاہے تو ناشکرا بنے.
إنا أعتدنا للكافرين سلاسلا وأغلاعا وسعيرا.
یقیناً ہم نے تیار کیا ہے ان کوفر کرنے والوں کے لیے سلاسلا زنجیریں واغلالا اور طوق.
سلاسل جمع ہے سلسلہ کی، زنجیر کو کہتے ہیں، اغلال جمع ہے غل کی، گلے میں پہنایا جانے والا طوق بھئی.
وسعیرا اور سعیر بھڑکتی ہوئی آگ کو کہتے ہیں.
یقیناً ہم نے تیار کیا ہے کافر تیار کی ہیں کافروں کے لیے زنجیریں اور طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ.
إن الأبرار يشربون من كاس كان مزاجها كافورا.
یقیناً نیک لوگ جو ہیں، ابرار جمع ہے بر کی یا بار کی تو یقیناً نیک لوگ جو ہیں يشربون پیئیں گے من كأس ایسے جام سے.
كأس کس کو کہتے ہیں؟ جام کو اور یہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ خالی جام کو نہیں جو لبا لب بھرا ہوا ہو اس کو كأس کہا جاتا ہے.
تو وہ پیئیں گے ایسے جام سے یعنی شراب کے ایسے جام سے کان مزاجها كافورا جس میں آمیزش ہوگی کافور کی، کافور کی.
نیک لوگ شراب کے ایسے جام پیئیں گے جس میں کافور کی ملاوٹ ہوگی، کافور کی آمیزش ہوگی.
بھئی جیسے شربت وغیرہ بعض بنائے جاتے ہیں اور پھر اس میں آخر میں خوشبو کے لیے یا ذائقے کے لیے کوئی چیز تھوڑی سی ملا دی جاتی ہے.
اسی طرح جو جنتی میں نیک لوگ ہوں گے وہ جب شراب کا جام پیئیں گے، شراب کا جام پیش کیا جائے گا، اس میں کافور کی آمیزش ہوگی، کافور خوشبو کا نام، اس میں کافور کی آمیزش ہوگی.
اب وہ کافور کیا ہے؟ وہ بیان آگے بدل آ رہا ہے عينا يشرب بها ال يشرب بها عباد الله.
ایک چشمہ ہے کہ پیتے ہیں اس سے عباد اللہ اللہ کے بندے يفجرونها تفجيرا بہاتے ہیں اس کو.
فجر يفجر تفجیر کے معنی بہانہ، بہا کر لے جانا.
کافور کیا ہے؟ اس وہ شراب کیسے جام پیئیں گے جن میں کافور کی آمیزش ہوگی، اور وہ کافور کیا ہے؟ اللہ فرما رہے ہیں ایک چشمہ ہے جس سے اللہ کے بندے پیئیں گے اور اس کو بہائیں گے.
اس کو بہائیں گے کا معنی یہ کہ وہ جس طرف اشارہ کریں گے اس طرف کو اس کی نالیاں بہنے لگ پڑیں گی.
جنتی جس طرف کیا کریں گے؟ اشارہ کریں گے اس چشمے کی نالیاں ادھر کو بہنے لگ پڑیں گی، یعنی ان کے پورے اختیار میں ہوگا جس طرف کو لے جانا چاہیں اپنے گھر میں جس حصے میں.
اور اس سے پیئیں گے اللہ کے بندے یعنی مقربین.
یہ جو نیک لوگ ہیں، یہ تو ان کو تو ایسی شراب پیش کی جائے گی جس میں کافور کی آمیزش ہوگی بس، تھوڑی سی کافور اس میں ملائی جائے گی اس چشمے کا تھوڑا سا پانی.
جبکہ نیک لوگ وہ تو خود براہ راست اس سے کیا کریں گے؟ وہ تو کافور اسی چشمے ہی سے پیئیں گے، اسی سے جام بھر بھر کر پیئیں گے لیکن جو نچلے تو یہ مقربین جو ہیں وہ جام بھر کر پیئیں گے جبکہ ابرار جو ان سے نچلے درجے والے ہیں وہ اس سے جام بھر کر نہیں پیئیں گے ان کو صرف ان کی ان کے جاموں میں صرف اس کی ملاوٹ کی جائے گی تھوڑی سی.
يوفون بالنذر.
وہ پوری کرتے ہیں منت کو.
يوفون بالنذر وہ پوری کرتے ہیں منت کو ويخافون يوما كان شره مستطيرا اور ڈرتے ہیں ایسے دن سے كان شره مستطيرا جس کی برائی پھیلی ہوئی ہے، جس کی برائی پھیلی ہوئی ہوگی.
وہ منت پوری کرتے ہیں وہ اللہ کے نیک بندے کیا ہیں منت کو، دیکھو منت کے اندر ایک عبادت انسان پر جو لازم نہیں تھی اس کو انسان اپنے اوپر لازم کر لیتا ہے کہ اے اللہ اگر میرا یہ کام ہو گیا تو میں مثلاً دس نفل پڑھوں گا، یا میں اتنی تلاوت کروں گا، یا میں اتنے روزے رکھوں گا تو اس طرح کی کوئی چیز اپنے اوپر واجب کر لے عبادت تو یہ ہے منت.
تو وہ منت کو پورا کرتے ہیں، اب منت کے اندر تو ایک چیز کو اس نے خود اپنے اوپر واجب کیا ہے، جب یہ اس منت کو پورا کرتے ہیں تو جو اللہ نے ان پر واجب کی ہیں عبادات ان کو بطریقِ اولی وہ پورا کرتے ہیں.
تو منت کے پورا کرنے میں اشارہ آ گیا کہ جو اللہ کی طرف سے چیزیں فرض ہیں ان کو تو وہ بطریقِ اولی پورا کرتے ہیں.
تو وہ منت کو پورا کرتے ہیں اور ڈرتے ہیں ایسے دن سے جس کی برائی پھیلی ہوئی ہوگی یعنی برائی سے مراد ہے سختی، سختی.
اس دن کی سختی پھیلی ہوئی ہوگی، کوئی ایک شخص بھی قیامت کے دن کی سختی سے بچ نہیں پائے گا سوائے جس کے جس کو اللہ چاہے بھئی.
جن کو اللہ چاہیں گے ان کو بچا لیں گے ورنہ اس قیامت کی ہولناکی اور سختی ہر ایک کو پہنچ کر رہے گی.
ويطعمون الطعام على حبّه.
اور وہ کھلاتے ہیں کھانا اس کی محبت میں.
کس کی محبت میں؟ ہا ضمیر یا تو راجع ہے اللہ کو.
وہ کھانا کھلاتے ہیں وہ نیک لوگ اللہ کی محبت میں مسكينا کس کو کھلاتے ہیں مسکین کو، محتاج کو ويتيمانا اور یتیموں کو واسيرا اور قیدی کو.
یتیم کو، مسکین کو اور قیدی کو وہ کھانا کھلاتے ہیں اللہ کی محبت میں تاکہ اللہ کا قرب حاصل ہو.
تو حبہ کی ہا ضمیر کس کو راجع کی؟ یرحمک اللہ.
اللہ کی طرف بھئی، یا یہ حبہ کی ہا ضمیر طعام ہی کو راجع ہے وہ کھلاتے ہیں کھانا کھانے کی محبت پر یعنی خود بھی کھانے کی محبت ہوتی ہے، بھوک میں ہوتے ہیں، بھوک کی حالت میں بھی وہ اپنی بھوک پر ان دوسروں کی مسکینوں کی، یتیموں کی اور قیدیوں کی بھوک کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کو کھلا دیتے ہیں یعنی خود ضرورت، اپنی ضرورت چھوڑ کر کیا کرتے ہیں ان کی حاجت پوری کرتے ہیں.
تو ہا ضمیر لفظ اللہ کو بھی راجع کر سکتے ہیں جو عباد اللہ میں آیا یا یہ ہا ضمیر طعام کو بھی راجع کر سکتے ہیں.
إنما نطعمكم لوجه الله.
ہم کھلاتے ہیں تمہیں لوجه الله.
إنما آیا بھئی، إنما حصر کے لیے آتا ہے یاد رکھیے اور حصر پیدا کرتا ہے یہ جزِ اخیر میں، کلام کا جو جزِ آخری جز ہو اس میں حصر پیدا کرتا ہے.
تو یہاں آخری جز کیا آیا؟ لوجه الله، ہم تو تم کو إنما نطعمكم لوجه الله ہم تو تمہیں اللہ ہی کی رض اللہ کی رضا ہی کے لیے کھلاتے ہیں.
اللہ وہ ان کو کیا کہتے ہیں؟ وہ ان کو کھانا کھلاتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ہم تمہیں اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں، اللہ کی خوشنودی کے لیے کھلاتے ہیں لا نريد منك جزاء ولا شكورا نہ تو ہم تم سے بدلہ چاہتے ہیں ولا شكورا اور نہ شکریہ چاہتے ہیں.
نہ، ہاں نہ یعنی وہ ان کو کھانا بھی کھلاتے ہیں یہ مسکین، یتیم اور قیدی کو اور ساتھ یہ کہتے ہیں اپنی زبان سے کہ ہم اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں، یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں نہ تو تم سے ہم اس کا کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ چاہتے ہیں.
अच्छा अब ये इसमें याद रखिए कि ये जो कहते ये जबान से कहना जरूरी नहीं बल्कि उनका हाल ये बतलाता है कि वो उनको किस लिए खिला रहे हैं, اللہ تو گویا زبانِ حال سے وہ یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ہم تمہیں اللہ کی رضا کے لیے کھلا رہے ہیں نہ ہم سے ہمیں تم سے کوئی بدلہ چاہیے اور نہ شکریہ چاہیے اور اگر کبھی ضرورت پیش آئے مصلحت ہو تو زبان سے بھی کہہ دیتے ہیں.
إنا نخاف من ربنا يوما عبوسا قمطريرا.
یقیناً ہم ڈرتے ہیں اپنے رب سے، ہم خوف رکھتے ہیں اپنے رب کا یوما عبوسا قمطريرا ایسے دن کا.
عبوس عبسا پیچھے بھی لفظ گزرا، عبسا کے کیا معنی تھے؟ منہ بنانا، ترش شروع ہونا تو عبوس وہ شخص جس نے منہ بنایا ہو تو یہاں دن کو بھی انسان کے ساتھ گویا تشبیہ دے دی گئی کہ وہ دن کی ہولناکی بیان کی جا رہی ہے جیسے کوئی انسان سخت غصے میں ہوتا ہے اور منہ بنایا ہوتا ہے اسی طرح وہ دن بھی کیا ہوگا بڑی سختی والا ہوگا.
اور قمطریرا کے معنی ہیں سخت، انتہائی کربناک، انتہائی تکلیف والا.
یوں ترجمہ کیجیے إنا نخاف من ربنا یقیناً ہم خوف رکھتے ہیں اپنے رب سے یوما عبوسا قمطريرا ایک ایسے دن کا جو ترش شروع ہوگا قمطريرا بہت سخت ہوگا.
عبوس کم بہت سخت ترش شروع ہوگا یعنی بہت زیادہ سخت ہوگا.
بے شک ہم خوف رکھتے ہیں اپنے پروردگار سے ایک ایسے دن کا جو بہت سخت، منہ بنانے والا ہوگا، منہ بگاڑنے والا ہوگا یعنی بہت سخت ہوگا.
عبوس بہت منہ بنانے والا ہوگا، قمطریرا بہت سخت ہوگا.
فوقاهم الله شر ذلك اليوم.
پس بچا لے گا ان کو اللہ شر ذلك اليوم اس دن کی برائی سے یعنی اس دن کی سختی سے ولقاهم نضرة وسرورا اور ملاقات کروا دے گا ان کی نضرة شادابی سے، تر و تازگی سے وسرورا اور خوشی سے.
یعنی اللہ ان کو اس دن تر و تازگی اور خوشی نصیب فرمائیں گے.
نضرة تر و تازگی اور شادابی اس کا تعلق چہرے سے ہے ان کے چہروں پر بھی مومنین کے چہروں پر بھی قیامت کے دن کیا ہوگی تر و تازگی اور شادابی ہوگی اور سرور کا تعلق دل سے ہے کہ دلوں میں بھی کیا ہوگی خوشی ہوگی کہ اس دن کی تکلیف سے اللہ نے ان کی حفاظت فرمائی.
تو اللہ ان کو بچا لیں گے اس دن کی سختی سے اور ان کو شادابی اور خوشی نصیب فرمائیں گے وجزاهم بما صبروا جنتا و حريرا اور بدلہ دیں گے ان کو اللہ بموجب اس کے جو انہوں نے صبر کیا.
بدلہ دیں گے اللہ کیا دیں گے جنتا و حريرا جنت اور ریشم متكئين فيها على الأرائك تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے اس جنت کے اندر تختوں پر جس طرح بادشاہ تخت پر بیٹھا ہوتا ہے تو تخت
کیا لگائے ہوئے ہوں گے علی الارائک تختوں پر۔
لا یرون فیہا شمسا ولا زمہریرا، نہ تو اس کے اندر سورج کو دیکھیں گے، مراد دھوپ ہے بھئی۔ تو علماء کے دو گروہ، بعض کہتے ہیں وہاں سورج ہوگا ہی نہیں۔ بعض کہتے ہیں سورج ہوگا۔ سورج ہوگا۔
جنہوں نے کہا سورج ہوگا، وہ کہتے ہیں یہاں جو آیا وہ وہاں سورج نہیں دیکھیں گے، مراد سورج کی تپش اور حرارت ہے، یعنی وہ جو تکلیف کا باعث ہو، وہ دھوپ اس کی وہ نہیں ہوگی وہاں پر۔ تو اس میں دھوپ نہیں دیکھیں گے، اس کی سختی اور حرارت نہیں دیکھیں۔ اور بازوں نے کہا نہیں، یہاں شمس آیا، اس سے شمس ہی مراد ہے۔ سورج جنت میں ہوگی نہیں۔ جنت میں ہوگی نہیں۔ ہاں نور ہوگا، اللہ کی طرف سے ایک نور پھیلا ہوا ہوگا، جس طرح صبح کے وقت روشنی جب ہو جاتی ہے، اور ابھی دھوپ وغیرہ نہیں ہوتی، اور ایک روشنی پھیلی ہوتی ہے، اس طرح کا نور ہوگا جنت میں۔
لا یرون فیہا شمسا ولا زمہریرا۔ زمہریرا کہتے ہیں سخت سردی کو، سخت جاڑے کو۔ لا یرون فیہا شمسا ولا زمہریرا، نہ تو اس کے اندر دھوپ دیکھیں گے اور نہ سردی۔ ودانیۃ علیہم ظلالھا، اور قریب ہوں گے۔ دنا یدنو دنوًا کے کیا معنی ہیں؟ قریب۔ ودانیۃ علیہم، قریب ہوں گے، یعنی جھکے ہوئے ہوں گے علیہم ان جنتیوں پر، ان مومنین پر۔ ظلالھا، ان کے سائے۔ اس جنت کے سائے، یعنی اس کے درختوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے۔
وذللت قطوفہا تذلیلا، اور وذللت قطوفہا تذلیلا۔ قطوف، قطف کی جمع ہے، پھلوں کو کہتے ہیں بھئی۔ اور جھکا دیے جائیں گے پھل اس کے۔ تذلیلا، جھکانا۔ یعنی اس کے پھل بھی ان کے لیے جھکائے جائیں گے، جھکے ہوئے ہوں گے۔ یہ پہلے ذکر ہو چکا کہ لیٹ کر بھی پھل توڑنا چاہیں، بیٹھ کر، کھڑے ہو کر، جس انداز میں بھی توڑنا چاہیں، وہ پھل ان کی دسترس میں ہوں گے۔
ودانیۃ علیہم ظلالھا وذللت قطوفہا تذلیلا، اور جھکے ہوئے ہوں گے ان پر، اس کے ان درختوں کے سائے، اور جھکا دیے جائیں گے ان پر، جھکے جھکائے جائیں گے ان پر ان کے پھل۔ ویطاف علیہم بأنیۃ من فضۃ وأکواب کانت قواریرا۔
اور ویطاف علیہم، اور گھمائے جائیں گے ان پر، گردش میں لائے جائیں گے ان پر۔ بأنیۃ، آنیہ برتن۔ ان پر برتن گردش میں لائے جائیں گے من فضۃ، چاندی کے وأکواب، اور پیالے۔ أکواب جمع ہے کوف کی، بغیر دستے کے جو پیالہ گلاس وغیرہ ہو، اس کو کہتے ہیں۔ کانت قواریرا، قواری شیشے کو کہتے ہیں بھئی۔
تو گردش میں لائے جائیں گے ان پر برتن چاندی کے، وأکواب، اور ایسے پیالے گلاس کانت قواریرا، جو شیشے کے ہوں گے۔ یعنی وہ گردش کرنے والے، وہ جو خادم ہوں گے، وہ یہ برتن اور جام وغیرہ ان پر لے کر گھومیں گے، ان تک پہنچائیں گے۔ قواریرا من فضۃ، شیشے چاندی کے۔
وہ جو پیالے اور گلاس وغیرہ جو ہوں گے، وہ شیشے کے ہوں گے۔ اور کیا فرما رہے ہیں آگے اللہ، قواریرا من فضۃ، وہ شیشہ کیا ہوگا، کس سے ہوگا؟ چاندی سے۔ یعنی وہ بنا تو ہوگا چاندی سے وہ برتن، لیکن صفت شیشے والی ہوگی۔ جیسے شیشے میں سے اندر والی چیز نظر آتی ہے، اس طرح وہ چاندی بھی ایسی ہوگی۔
قواریرا من فضۃ، چاندی کے شیشے۔ قدروہا تقدیرًا، اندازہ کیا ہوگا انہوں نے ان کا۔ تقدیرًا، اندازہ کرنا۔ یعنی ان کو انہوں نے بڑے اندازے سے بھرا ہوگا۔ وہ گردش کا گھمانے والے جو ہیں ان پیالوں کو، جو خدام ہیں، انہوں نے ان پیالوں کو، ان جاموں کو، ان برتنوں کو بڑے اندازے سے بھرا ہوگا۔ یعنی جتنی جس کو پیاس ہوگی، جتنی وہ چاہے گا، جتنی اس کی خواہش ہوگی، اسی کے مطابق ہوگا، نہ اس سے کم ہوگا اور نہ اس سے زیادہ ہوگا۔
قدروہا تقدیرًا، اندازہ کیا ہوگا انہوں نے ان کا۔ ویسقون فیہا کاسًا کان مزاجہا زنجبیلا، اور پلائے جائیں گے اس میں ایسے جام ان کو، کان مزاجہا زنجبیلا، جس کے جن میں آمیزش ہوگی زنجبیلا، زنجبیل کی۔ ان کو ایسے شراب کے جام پلائے جائیں گے، جس میں کس کی آمیزش ہوگی؟ زنجبی زنجبیل کی۔ زنجبیل، بھئی یہ زنجبیل، آپ بھی نے بھی نام سنا ہوگا، سونٹھ کو کہتے ہیں سونٹھ۔ اور اسی طرح غالباً پنجابی میں سونٹھ کہتے ہیں۔ سنا ہوا ہے نام یا نہیں بھئی؟ جی؟ ہاں! یہ غالباً یہی ادرک جو ہے اسی کو خشک کر کے بنایا جاتا ہے اور ہاضمے وغیرہ کے لیے مفید ہوتا ہے۔ حکماء وغیرہ اس کو استعمال کرتے ہیں اور عرب کو یہ بہت محبوب تھا اور پسند تھا، تو اللہ فرما رہے ہیں کہ ان کو ایسے شراب کے جام پلائے جائیں گے، جس میں زنجبیل یعنی سونٹھ کی آمیزش ہوگی۔ سونٹھ کی آمیزش۔
تو سونٹھ کس کو کہتے ہیں؟ یہی ادرک جو ہے، اس کو خشک کر کے اس سے بنائی جاتی ہے، تو اس کو سونٹھ کہتے ہیں۔ اور پیچھے کافور کا بھی ذکر آیا اور یہاں زنجبیل سونٹھ کا ذکر آیا، یہ بھئی صرف ناموں کی مماثلت ہے۔ جنت کی سونٹھ کیا ہوگی؟ یہ صرف نام کی مشابہت ہے دنیاوی سونٹھ کے ساتھ، وہ اللہ ہی جانتے ہیں، کیا کس قسم، کتنے اعلیٰ قسم کی ہوگی۔ اسی طرح وہ کافور جو ہے، وہ جنت کا ہے بھئی۔
اچھا، اب یہ زنجبیل اور سونٹھ کیا ہے؟ اللہ فرما رہے ہیں عینًا، ایک چشمہ ہے فیہا، اس جنت میں، تسمى سلسبیلا، جسے کیا کہتے ہیں؟ سلسبیل کہتے ہیں۔
ويطوف عليہ سلسبیل کا ویسے لَفْظی معنی ہے صاف بہتا ہوا پانی۔ تو ایک چشمہ ہے، جس کو سلسبیل کہتے ہیں۔ ويطوف علیہم ولدان مخلدون، اور چکر لگائیں گے ان پر ایسے لڑکے مخلدون، جو ہمیشہ رہیں گے۔ جنت میں جو خادم ہوں گے، لڑکے ہوں گے، کم عمر، اور ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے وہ، یہ نہیں کہ وہ بڑے ہو جائیں۔ يطوف ويطوف علیہم ولدان مخلدون، اور چکر لگائیں گے ان پر ہمیشہ رہنے والے لڑکے۔
إذا رأیتہم حسبتھم حسبتھم لؤلؤًا منثورا، جب تو دیکھے ان کو، حسبتھم تو ان کو گمان کرے گا، لؤلؤًا منثورا، کہ موتی ہیں بکھرے ہوئے کہ موتی ہیں بکھرے ہوئے۔ جیسے موتی بکھیر دیے جائیں، اسی طرح وہ خادم اپنے حسن و جمال اور اپنے لباس کے اندر، اپنے حسن و جمال کے اندر، اپنے رنگ کے اندر، اس طرح حسین و جميل ہوں گے، کوئی ادھر دوڑ رہا ہے ایک کام کے لیے، کوئی دوسری طرف دوڑ رہا ہے، کوئی ایک خدمت کر رہا ہے، کوئی دوسری خدمت کر رہا ہے، بھاگ بھاگ کر چیزیں خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔
تو انسان جو ہے، فطرتًا اللہ نے اس کو ایسا پیدا کیا کہ یہ حسن کو پسند کرتا ہے ہر چیز کے اندر۔ تو اللہ نے وہاں جو خادم بھی جو اللہ دیں نصیب فرمائیں گے، وہ ایسے خادم ہوں گے کہ اللہ فرما رہے ہیں کہ ان کو دیکھو گے تو یوں معلوم ہوگا جیسے موتی کوئی موتیوں کی مالا ٹوٹ گئی ہے اور موتی بکھر گئے ہیں ادھر ادھر۔
إذا رأیتہم حسبتھم لؤلؤًا منثورا، جب تو دیکھے ان کو تو تو گمان کرے گا کہ موتی ہیں بکھرے ہوئے۔ وإذا رأیت، ثم رأیت نعیمًا، اور جب تو دیکھے ثم رأیت، ثم اس میں اشارہ بھئی۔ ثم اس میں اشارہ ہے ذالک کی طرح۔
وإذا رأیت ثم، اور جب تو اس کو دیکھے رأیت نعیمًا وملكًا کبیرًا، تو دیکھے گا نعمت ومملكًا کبیرًا، اور بادشاہی بڑی، سلطنت بڑی۔ اللہ فرما رہے ہیں جنت جو ہم دیں گے، جب اس پر تم نظر ڈالو گے، نظر کرو گے تو تمہیں نعمت ہی نعمت ہر طرف دکھائی دے گی اور ایک بڑی سلطنت دکھائی دے گی، ہر جنتی کی جنت کا یہی حال ہوگا۔
وإذا رأیت ثم رأیت نعیمًا وملكًا کبیرًا، اور جب تو دیکھے اس کو رأیت نعیمًا وملكًا کبیرًا، تو دیکھے گا نعمت اور بڑی سلطنت۔ عالیاہم ثیاب سندس خضر وإستبرق، عالیاہم، ان کے اوپر کے جو کپڑے ہوں گے، ثیاب سندس، سندس باریک ریشم، إستبرق موٹا ریشم۔ تو ان کے اوپر جو ہوں گے وہ اوپر کے کپڑے جو ہیں، ثیاب سندس، باریک ریشم کے ہوں گے۔ خضر، اور کس قسم کے ہوں گے؟ سبز ہوں گے۔
سبز رنگ کو ذکر فرمایا اللہ نے، کیونکہ عرب کو سبز رنگ بڑا پسند تھا۔ تو ان کے اوپر کے، ویسے انسان جو چاہے گا، جس طرح چاہے گا کیونکہ دوسری کئی جگہ آ گیا کہ انسان جنت میں جو چاہے گا وہ وہی کچھ اسے ملے گا۔ تو ان کے اوپر جو ہیں وہ ریشم کے، باریک ریشم کے سبز کپڑے ہوں گے وإستبرق، اور موٹے ریشم کے۔ کوئی کسی کے باریک ریشم، کسی کے موٹے ریشم کے یا اوپر والے باریک ریشم کے، نیچے والے موٹے ریشم کے۔
وحلوا أساور من فضۃ، اور وہ پہناائے جائیں گے، ان کو پہنائے جائیں گے أساور من فضۃ، کنگن چاندی کے۔ وحلوا أساور من فضۃ، اور ان کو پہنائے جائیں گے چاندی کے کنگن۔ أساور جمع ہے سوار کی، کنگن کو کہتے ہیں۔ دوسری جگہ پر سونے وغیرہ کے کنگنوں کا ذکر ہے، تو معنی یہ ہے کہ کبھی چاندی کے کنگن ہوں گے، کبھی سونے کے کنگن پہنیں گے، کبھی موتی کے کنگن وغیرہ جو چاہیں گے۔
وسقاہم ربہم شرابًا طہورًا، اور پلائے گا ان کا پروردگار شرابًا طہورًا، پاکیزہ شراب۔ اللہ ان کو کیسی شراب پلائیں گے؟ پاکیزہ شراب۔
إن ھذا کان لكم جزاء وكان سعيكم مشكورا، اور یہ ان سے کہا جائے گا کہ یہ یقیناً یہ جو ہے تمہارا بدلہ ہے، وكان سعيكم مشكورا، اور تمہاری کوشش جو ہے اس کی قدردانی کی گئی ہے، تم نے دنیا میں جو کوشش کی تھی، ہمارے راستے کے اندر ہم نے اس کی قدردانی کرتے ہوئے تمہیں یہ بدلہ دیا ہے۔ کہ یہ تمہارا بدلہ ہے اور تمہاری کوشش جو ہے اس کی قدردانی کی گئی ہے۔
إنّا نحن نزّلنا عليك القرآن تنزیلا، یقیناً ہم نازل کر رہے ہیں آپ پر قرآن کو تھوڑا تھوڑا کر کے۔ نزّلنا ينزّل تنزیلا، باب تفعیل ہے، اور باب تفعیل میں کسی کام کو تدریجاً کرنا ذکر ہوتا ہے بھئی، تو یہاں بھی قرآن کا نازل کرنا تھوڑا تھوڑا، جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تیئیس سال کے عرصے میں نازل ہوا قرآن۔ إنّا نحن نزّلنا عليك القرآن تنزیلا، یقیناً ہم نازل کر رہے ہیں آپ پر تھوڑا تھوڑا کر کے قرآن کو۔
فاصبر لحکم ربك، پس آپ صبر کیجیے اپنے رب کے حکم کے لیے، فاصبر لحکم ربك، پس آپ صبر کیجیے اپنے رب کے حکم کے لیے، ولا تطع منھم آثمًا أو کفورا، اور کہنا نہ مانیے ان میں سے آثمًا گنہگار کا، أو کفورا، یا کفر کرنے والے کا، یا ناشکرے کا۔ ولا تطع منھم، اور آپ ان لوگوں میں سے گنہگار یا کفر کرنے والے کا کہنا نہ مانیے۔
واذكر اسم ربك بكرة وأصيلا، اور ذکر کیجیے اپنے رب کے نام کا صبح وأصيلا، اور شام کو۔ ومن اللیل فاسجد له وسبح لیلا طویلا، اور رات کے اندر پس سجدہ کیجیے اس رب کے لیے، وسبح لیلا طویلا، اور پاکی بیان کیجیے اس کی لیلا طویلا، رات کے بڑے حصے میں، لمبی رات میں یعنی رات کے، یعنی رات کے ایک بڑے حصے کے اندر اس کی تسبیح بیان کیجیے۔
إن ھؤلاء یحبون العاجلة، یقیناً یہ لوگ محبت کرتے ہیں العاجلة، جلدی آنے والی، یعنی دنیا، یقیناً یہ لوگ محبت کرتے ہیں دنیا سے، ويذرون وراءھم یومًا ثقیلا، اور چھوڑ دیتے ہیں اپنے پیچھے ایک بھاری دن کو، یعنی قیامت کو، اس کی طرف یہ توجہ ہی نہیں کرتے، دنیا میں مگن ہیں۔
نحن خلقناہم وشددنا أسرہم، ہم نے ان کو پیدا کیا، وشددنا أسرہم، اور مضبوط کیے أسرہم، ان کے بند۔ أسرہم، بند، جوڑ بھئی، جوڑ۔ دیکھیے، یہ ہاتھ، پاؤں، انگلیوں وغیرہ کے جوڑ ہیں، اللہ فرما رہے ہیں، ہم نے ان کو پیدا کیا اور مضبوط کیے ان کے جوڑ۔ کوئی چیز آپ پکڑتے ہیں، اٹھاتے ہیں، جوڑوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ نحن خلقناہم وشددنا أسرہم، ہم نے ان کو پیدا کیا اور مضبوط کیے ان کے جوڑ۔
وإذا شئنا بدّلنا أمثالھم تبدیلا، اور جب ہم چاہیں بدّلنا، ہم ان کو بدل دیں، یعنی ان کی جگہ پر لے آئیں، أمثالھم، ان جیسے لوگوں کو۔ اللہ، اللہ فرما رہے ہیں اگر ہم چاہیں تو ان لوگوں کو ختم کر دیں اور ان کی جگہ پر ان جیسے اور لوگوں کو لے آئیں۔ وإذا شئنا بدّلنا أمثالھم تبدیلا، اور اگر جب ہم چاہیں تو ان کی جگہ پر لے آئیں أمثالھم، ان جیسے لوگوں کو۔
إن ھذہ تذكرة، یقیناً یہ ان، ہاذی، ہازی کے لیے اشارہ ہے سورت کی طرف، بیشک یہ سورت نصیحت ہے، یا ہازی کے لیے اشارہ ہے آیات کی طرف، یہ جو آیات ہیں۔ بیشک یہ آیتیں جو ہیں، تذكرة، یہ نصیحت ہیں۔ فمن شاء اتخذ إلى ربه سبیلا، پس جو کوئی چاہے، بنائے اپنے پروردگار کی طرف راستہ، اپنے پروردگار کی طرف راستہ پکڑے، وما تشاءون إلا أن یشاء اللہ، اور تم نہیں چاہ سکتے، إلا أن یشاء اللہ، مگر یہ کہ اللہ چاہے، جو چاہے اپنے رب کی طرف راستے، راستے کو پکڑے، اور تم نہیں چاہ سکتے، مگر یہ کہ اللہ چاہے، تو انسان جو بھی نیکی کرتا ہے وہ اللہ کی توفیق سے ہوتی ہے۔
اگر اللہ کی طرف سے توفیق شاملِ حال نہ ہو تو انسان کوئی نیکی نہیں کر سکتا۔ اور کسی بھی گناہ سے کوئی شخص بچتا ہے، تو وہ بھی اللہ کی توفیق ہی سے ممکن ہوتا ہے۔ تو اللہ فرماتے ہیں جو کوئی چاہے، تو پکڑ لے اپنے پروردگار کی طرف راستے کو، اور تم نہیں چاہ سکتے، مگر یہ کہ اللہ چاہے، یعنی اللہ ہی توفیق دے۔ إن اللہ كان علیمًا حكیما، یقیناً اللہ خوب جاننے والے ہیں، حکمت والے ہیں۔
یدخل من یشاء في رحمته، وہ داخل کرتے ہیں جس کو چاہتے ہیں اپنی رحمت میں۔ والظالمین أعد لھم عذابًا ألیما، اور ظالم جو ہیں, تیار کیا ہے ان کے لیے اللہ نے عذابًا ألیما، دردناک عذاب۔ اور ظالموں کے لیے اللہ نے دردناک عذاب تیار کیا ہے۔
چلیے، بس، یہی ہوا المرام، واللہ أعلم بحقیقۃ الكلام۔