أعوذ بالله من الشيطان الرجيم.
بسم الله الرحمن الرحيم.
حم، تنزيل من الرحمن الرحيم، كتاب فصلت آياته قرآنا عربيا لقوم يعلمون، بشيرا ونذيرا فأعرض أكثرهم فهم لا يسمعون.
آج ہم سورہ حم السجدہ شروع کریں گے۔
یہ حوامیم میں سے دوسری سورت ہے، وہ سورتیں جن کے شروع میں کیا آتا ہے؟ حم، تو یہ دوسری سورت ہے ان میں سے اور اس کا ایک نام حم السجدہ ہے کیونکہ اس سورت کے اندر آیت سجدہ آتی ہے، جس کے پڑھنے یا سننے سے انسان پر سجدہ واجب ہو جاتا ہے۔
اس سورت کا ایک نام سورہ فصلت بھی ہے کیونکہ یہ فصلت کا لفظ اس سورت کی دوسری آیت میں آ رہا ہے تو اسی سے اس کا نام سورہ فصلت بھی ہے بھئی۔
حم۔
حم حروف مقطعات میں سے ہے اور اس کا معنی اللہ اور اس کے رسول ہی جانتے ہیں۔
تنزيل من الرحمن الرحيم، یہ خبر ہے مبتدا محذوف ہذا کی، ای ہذا تنزيل من الرحمن الرحيم۔
یعنی یہ کلام، یہ کتاب جو ہے تنزيل من الرحمن الرحيم، نازل کی جا رہی ہے اس ذات کی طرف سے جو رحمان اور رحیم ہے۔
یہ کتاب اس ذات کی طرف سے نازل کی جا رہی ہے جو رحمان اور رحیم ہے، تو ہذا سے اشارہ ہوا اس کتاب کی طرف اور تنزيل خبر ہے اور یہ مصدر ہے اور آپ جانتے ہیں کہ مصدر کا حمل ذات پر صحیح نہیں، تو پھر اس سورت میں موقع محل کے مطابق اس مصدر کو اسم فاعل یا اسم مفعول کے معنی میں لے لیا جاتا ہے، تو یہاں تنزيل بمعنی منزّل کے ہے، تنزيل بمعنی منزّل کے.
تو پھر اس کے بعد یہ تنزيل من یہ پہلی ترکیب کہ تنزيل کو خبر بنایا اور من الرحمن الرحيم جار مججرور اسی سے متعلق ہیں، تو یہ کتاب نازل کی جا رہی ہے کس کی طرف سے؟ رحمان اور رحمان وہ ذات کی طرف سے جو رحمان ہے، رحیم ہے.
یا یہ ترکیب بھی ذکر کی مفسرین نے کہ تنزيل خبر اول ہے اور من الرحمن الرحيم خبر ثانی ہے بھئی۔
ہذا تنزيل ای ہذا منزل یہ کتاب نازل کی گئی ہے اور ہذا من الرحمن الرحيم یہ کتاب اس ذات کی طرف سے ہے جو رحمان اور رحیم ہے.
تنزيل من الرحمن الرحيم یہ کتاب رحمان رحیم کی طرف سے نازل کی جا رہی ہے، یہ کتاب اس ذات کی طرف سے نازل کی جا رہی ہے جو جو رحم کرنے والی ہے، جو نہایت رحم کرنے والی ہے، كتاب فصلت آياته، یہ پھر خبر آگئی بھئی۔
تو یہ یا تو اسی مبتدا کے لیے خبر بنا لیں تیسری خبر بھئی، تیسری خبر۔
یا تنزيل من الرحمن الرحيم اس کو ایک ہی خبر بنایا تھا ایک ترکیب کے مطابق تو كتاب فصلت دوسری خبر آگئی بھئی۔
تو یہ خبر کے بعد خبر ہے یا یہ بدل ہے بھئی۔
تنزيل من الرحمن الرحيم سے یہ کیا ہے؟ بدل ہے بھئی بدل، یارحمك الله۔
كتاب فصلت، کتاب نکرہ ہے، موصوف ہے اور اس کے بعد فعل ہے تو یہ اس کی صفت ہے بھئی کتاب فصلت.
آگے قرآنا عربيا، یا تو یہ منسوب ہے بنا بر مدح کے، یہ منسوب ہے بنا بر مدح کے۔
بھئی عربی زبان میں بعض اوقات صفت کو وصفیت سے کاٹ کر منسوب کر دیا جاتا ہے بنا بر مدح کے یا بنا بر ذم کے۔
جیسے آپ پڑھتے ہیں بسم اللہ الرحمن الرحیم، لفظ اللہ اس میں موصوف ہے، الرحمن صفت اول، الرحيم صفت ثانی، تو لفظ اللہ مجور تھا تو دونوں صفتیں بھی کیا آئیں مجرور کیونکہ صفت کا وہی اعراب ہوتا ہے جو موصوف کا ہوتا ہے۔
لیکن پھر بعض اوقات اس صفت کو وصفیت سے کاٹ کر نصب دے دیا جاتا ہے، نصب دے دیا جاتا ہے، بنا بر مدح کے یا بنا بر ذم کے موقع محل کے مطابق بھئی۔
مدح کے طور پر یا مذمت کے طور پر، تو یہاں پر بھی یہاں اس کو وصفیت سے کاٹ کر نصب پڑھنا اس پر بنا بر مدح کے یہ بھی درست ہے، تو پھر کس طرح پڑھیں گے؟ بسم اللہ الرحمن الرحیما۔
اب بنا بر مدح کے الرحمن الرحیما اس کو نصب دے دیا گیا بھئی نصب پڑھا گیا.
اور پھر جو نصب پڑھا جاتا ہے، یہ بنا بر مفعول ہونے کے فعل محذوف کے لیے، أعني الرحمن الرحیما، بسم اللہ أعني الرحمن الرحیما.
معنی سمجھ میں آرہا ہے بھئی، أعني یعنی کہ، أعني میری مراد یہ ہے یعنی کہ۔
اور یا أمدح، أمدح الرحمن الرحيما، میں مدح کرتا ہوں رحمان کی، رحیم کی.
معنی سمجھ میں آرہا ہے بھئی تو دیکھیے یہاں پر الرحمن الرحیم میں نصب پڑھنا بھی جائز بنا بر مدح کے یا جیسے کبھی یہ مذمت کے طور پر ہوگا جیسے أعوذ بالله من الشیطان الرجیم، شیطان کا لفظ شیطان مجرور ہے، موصوف ہے اور الرجیم اس کی صفت یہ بھی مجرور ہے لیکن اس پر نصب بھی پڑھ سکتے ہیں اعوذ بالله من الشيطان الرجیم.
تو یہ نصب کس بنا پر پڑھا؟ بنا بر زم کے بھئی یہاں مذمت کے طور پر تو ترکیب کیا ہوگی؟ اعوذ بالله من الشيطان اعني الرجیم، یا أزُم الرجیم تو یہ مفعول ہوگا أعني یا أزم کے لیے بھئی۔
یہاں تک بات سمجھ میں آگئی، معلوم ہوا صفت کو بعض اوقات وصفیت سے کاٹ کر اس پر کلام عرب میں نصب پڑھا جاتا ہے بنا بر مدح کے بھئی یا بنا بر زم کے.
تو یہاں پر بھی کتاب ہے صفت اول، کتاب ہے موصوف، فصلت آياته یہ ہے اس کی صفت اول اور آگے قرآنا عربيا یہ بھی اس کی صفت تھی لیکن پھر اس کو کاٹ کر نصب اس پر پڑھا گیا بنا بر مدح کے بھئی، بنا بر مدح کے بھئی.
تو اور یہ نصب کس منسوب کیوں ہے؟ مفعول ہے أعني کے لیے یا أمدح کے لیے بھئی أمدح کے لیے.
یہاں تک بات سمجھ میں آگئی بھئی۔
اور آگے آرہا ہے لقوم يعلمون۔
لقوم يعلمون، لام جار رہا ہے، قوم نکرہ ہے اور نکرہ کے بعد فعل آیا تو وہ اس کے لیے کیا بنتا ہے عموماً صفت بنتا ہے اور موصوف صفت کا ترجمہ کس طرح کرتے ہیں؟ جی، ایک آسان طریقہ یہ کہ موصوف اردو میں مقدم ہوتی ہے، عربی میں صفت مؤخر ہوتی ہے موصوف سے اور اردو میں صفت مقدم ہوتی ہے، تو اگر اس طریقے سے ترجمہ ٹھیک ہو سکے تو صفت کو موصوف پر اردو میں مقدم کر کے ترجمہ کر لیا جائے، اگر مقدم نہ ہو سکے تو پھر موصوف سے کو مقدم ہی رکھیں اردو میں بھی اور اس سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ لے آئیں گے بھئی.
تو قرآنا عربيا یہ منسوب ہے بنا بر مدح کے۔
یا یہ حال واقع ہو رہا ہے، منسوب ہے بنا بر حال ہونے کے۔
اور آگے بشيرا ونذیرا یہ اسی کی صفات ہیں بھئی.
یہاں تک بات سمجھ میں آگئی.
تنزيل من الرحمن الرحيم، یہ کتاب اس ذات کی طرف سے نازل کی جا رہی ہے جو مہربان ہے، جو نہایت مہربان ہے، كتاب فصلت آياته یہ ایسی کتاب کہ جدا جدا کی گئی ہیں اس کی آیتیں.
فصلت، فصل یفصل تفصیل کے معنی جدا جدا کرنے کے.
یا فصل یفصل تفصیل کا معنی ہوتا ہے واضح کرنے کے، واضح کرنے کے.
كتاب فصلت آياته یہ ایسی کتاب ہے کہ جدا جدا کی گئی ہیں اس کی آیتیں یا یہ ترجمہ کریں، یہ ایسی کتاب ہے فصلت آياته جس کی واضح کی گئی ہیں جس کی آیتیں یعنی خوب واضح ہیں جن کی آیتیں، ان میں کوئی ابہام وغیرہ نہیں، واضح باتیں ہیں ان کے اندر.
یعنی ان کی تفصیل بیان کی گئی ہے، خوب واضح آیتیں ہیں.
قرآنا عربيا، عربی قرآن ہے، لقوم يعلمون ایسی قوم کے لیے جو جاننے والی ہے، جو جانتی ہے، جو سمجھتی ہے، ایسی قوم کے لیے جو سمجھتی ہے بھئی آسان زبان جو ان کی مادری زبان تھی عرب کی، جو تو انہی کی زبان کے اندر قرآن کو نازل کیا گیا تاکہ وہ آسانی سے اس کو سمجھ سکیں، تو یہ قرآن ایسی قوم کے لیے عربی قرآن جو اس جو سمجھتی ہے.
بشيرا ونذیرا، خوشخبری دینے والا ہے اور نذیرا اور کیا ترجمہ کریں گے نذیرا؟ ڈرانے والا یا دوسرا کیا ترجمہ کریں گے بھئی؟ جی، خبردار کرنے والا، میں نے بتایا نذیر کا لفظ انذر کا لفظ آئے تو اس کا ترجمہ ڈرانے کے بھی ہیں، اس کا ترجمہ خبردار کرنا بھی بھئی.
تو ایک ہی بات ہے بھئی.
كتاب فصلت آياته قرآنا عربيا لقوم يعلمون، یہ ایسی کتاب ہے کہ جدا جدا کی گئی ہیں اس کی آیتیں، جدا جدا ہیں بھئی ہر آیت دوسری آیت سے الگ الگ ہیں آیتیں ہیں الگ الگ بھئی، یا خوب واضح ہیں یعنی تفصیل ان کی بیان کی گئی ہے ان میں کوئی ابہام اور مشکل نہیں کہ معنی کا پتہ ہی نہ چل رہا ہو ایسا نہیں ہے، كتاب فصلت آياته یہ ایسی کتاب ہے کہ جدا جدا کی گئی ہیں اس کی آیتیں، قرآنا عربيا یعنی کہ عربی قرآن ہے، لقوم يعلمون ایسی قوم کے لیے جو سمجھتی ہے، بشيرا ونذیرا خوشخبری دینے والا ہے اور خبردار کرنے والا، فأعرض
اکثرهم فهم لا يسمعون پس اعراض کیا۔
اعراض کا معنی اعراض کرنا یعنی منہ موڑنا۔
فأعرض أكثرهم پس اعراض کیا، منہ موڑا اکثرهم ان میں سے اکثر نے، فهم لا يسمعون پس وہ نہیں سنتے۔
ان میں سے اکثر نے کیا کیا؟
اعراض۔
اس کو قرآن، عربی قرآن ہے، اس کو ایسی قوم کی، ایسی قوم کے لئے جو سمجھتی ہے، ان کی اپنی زبان میں ہے، لیکن ان میں سے اکثر نے کیا کیا؟
اس سے منہ موڑا، اعراض کیا۔
فہم لا يسمعون پس وہ نہیں سنتے۔
کیا معنی نہیں سنتے؟
یعنی قبولیت والا نہیں سنتے کہ اس کو سن کر کیا کر لیں؟ مان لیں، قبول کر لیں۔
یا ایسا سننے کی نفی ہو رہی ہے نا، حالانکہ وہ سنتے تھے یا نہیں سنتے تھے؟
سنتے تو تھے، تو کیا مراد ہے؟ نہیں سنتے، یعنی اس کو وہ قبول نہیں کرتے، مانتے نہیں ہیں، اس طور پر نہیں سنتے بھئی۔
یا ان کو نفع نہیں ہوتا بھئی اس کے سننے سے، اس لئے کہا گویا کہ وہ سنتے ہی نہیں ہیں۔
فأعرض أكثرهم فهم لا يسمعون پس منہ موڑا ان میں سے اکثر نے، فہم لا يسمعون پس وہ نہیں سنتے، وقالوا قلوبنا في أكنة مما تدعون إليه، اور کہا انہوں نے قلوبنا في أكنة ہمارے دل غلافوں میں ہیں۔
أكنة جمع ہے کنان ان کی۔
اور کنان کہتے ہیں وہ چیز جو دوسری چیز کو پورے طور پر ڈھانپ لے، حفاظت کے طور پر۔
وہ چیز جو دوسری چیز کو ڈھانپ لے، حفاظت کے طور پر، چاہے وہ غلاف ہو، پردہ ہو، یا اس جیسی کوئی چیز۔
تو یہ أكنة کس کی جمع؟ کنان ان کی۔
قالوا قلوبنا في أكنة کہا انہوں نے ہمارے دل پر، غلافوں میں ہیں، مما تدعون إليه اس چیز سے، تدعون کہ آپ بلاتے ہیں ہمیں إليه اس کی طرف۔
جس چیز کی طرف آپ ہمیں بلاتے ہیں اور دعوت دیتے ہیں، اس سے ہمارے دل غلافوں میں لپٹے ہوئے ہیں۔
یعنی جس تعلیم کی طرف، جس دین کی طرف، جس توحید کی طرف آپ ہمیں دعوت دے رہے ہیں، اس سے ہمارے دل غلافوں میں لپٹے ہوئے ہیں، آپ کی باتوں کا ہمارے دلوں پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔
وفي آذاننا وقر، آذان جمع ہے اذن کی، کان کو کہتے ہیں۔
وقر، وقر کے معنی ہیں بوجھ بھئی، کان کا بوجھ۔
وقر کان کا بوجھ، یعنی ثقل سماعت بھئی۔
ثقل سماعت، سماعت کا بوجھ بھئی، بعض آدمی اونچا سنتے ہیں بھئی، یہ جو ثقل سماعت ہے، جو بہرا پن ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ وقر، یہ جو کانوں کا بوجھ ہوتا ہے، انسان اونچا سنتا ہے، ہلکی آواز اسے سنائی نہیں دیتی۔
تو وہ پیغمبر کو کیا کہہ رہے ہیں، ان کی باتیں ذرا سنیے بھئی، وفي آذاننا وقر اور ہمارے کانوں میں بوجھ ہے۔
ہمارے کانوں میں بوجھ ہے۔
معنی سمجھ میں آگیا وقر کا؟ ثقل سماعت جو ہے وہ جو بوجھ ہے کان کا، وہ جو بہرا پن ہے۔
ومن بيننا وبينك حجاب، اور ہمارے اور آپ کے درمیان حجاب پردہ ہے بھئی۔
پردہ ہے۔
فإعمل پس آپ بھی عمل کیجیے، إننا عاملون بے شک ہم بھی عمل کرنے والے ہیں۔
آپ بھی عمل کیجیے یعنی اپنے دین پر اور ہم بھی عمل کر رہے ہیں اپنے دین پر۔
یا یہ معنی آپ بھی عمل کیجیے، ہمیں باطل قرار دینے پر اور ہم بھی لگے ہوئے ہیں آپ کو باطل قرار دینے پر۔
وقالوا قلوبنا في أكنة اور کہا انہوں نے کہ ہمارے دل غلافوں میں ہیں، مما تدعون إليه اس دعوت سے جس کی طرف آپ ہمیں بلاتے ہیں، وفي آذاننا وقر اور ہمارے کانوں میں بوجھ ہے، ومین بیننا وبينك حجاب اور ہمارے اور آپ کے درمیان حجاب ہیں، پردے ہیں، ہمارے اور آپ کے درمیان پردہ ہے، فاعمل إننا عاملون پس آپ عمل کرتے رہیے، بے شک ہم بھی عمل کر رہے ہیں۔
تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کو دعوت دے رہے ہیں، دین حق کی طرف، اور وہ ان کی باتیں سنیے کہ حضور علیہ السلام کو جواب میں کیا کہتے ہیں؟ کہ آپ کی بات ہمارے دل پر کبھی اثر نہیں کرے گی، ہمارے دل آپ کی دین کے اور آپ کی باتوں کے لئے، ہمارے دل غلافوں میں لپٹے ہوئے ہیں، وہاں تک کوئی بات پہنچ ہی نہیں سکتی آپ کی تو ان پر کیا اثر کرے گی؟ یعنی آپ کی باتوں کا، آپ کی دعوت کا کبھی ہمارے دل پر اثر نہیں ہوگا، وفي آذاننا وقر اور ہمارے کانوں میں بوجھ ہے، یعنی جب آپ بات کرنے لگتے ہیں، تو ہمارے کان اونچا سننے لگتے ہیں، پھر ہمیں کچھ سنائی ہی نہیں دیتا بھئی۔
ان کی ڈھٹائی کا اندازہ لگائیے، کہ کتنے کس کس طریقے سے، کس طریقے سے وہ پیغمبر کو رد کر رہے ہیں، رد کر رہے ہیں کہ انسان وہ باتیں سنے، تو پھر شاید کبھی ان کو دعوت دینے کے لیے دوبارہ جائے ہی نہ، لیکن یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حوصلہ ہی تھا، یہ انبیاء کا وہ بلند، ان کی بلند ہمت اور بلند حوصلہ، جو انہیں اللہ کی طرف سے نصیب ہوتا ہے، کہ وہ اتنی سخت باتیں سنتے رہتے ہیں، اور پھر بھی برابر اپنی دعوت کا کام جاری رکھتے ہیں۔
اور ہم ہمارے کان پھر اونچا سننے لگتے ہیں، اور ہمارے اور آپ کے درمیان پردہ ہے، آپ اپنے دین پر چلیے عمل کرتے رہیے۔ ہم اپنے دین پر عمل کر رہے ہیں۔
قل إنما أنا بشر مثلكم، اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے، إنما أنا بشر مثلكم، میں تو تمہارے جیسا بشر ہی ہوں۔
بشر آدمی، انسان، میں تو تمہارے جیسا آدمی ہی ہوں۔
ترجمہ سمجھ میں آگیا بھئی؟
اور یہ حصر کہاں سے آیا؟ إنما سے، شاباش۔
قل إنما أنا بشر مثلكم، بشر آدمی اور یہ موصوف ہے، مثلكم اس کی صفت ہے۔
قل إنما أنا بشر مثلكم، اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے کہ میں تمہارے جیسا آدمی ہی ہوں، يوحى إلي، میری طرف وحی کی جاتی ہے۔
یہ وحی، أنما إلهكم إله واحد، کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے، کہ تمہارا ایک ہی معبود ہے، فاستقيموا إليه، پس سیدھے رہو اس کی طرف، واستغفرواه، اور اس سے مغفرت طلب کرو۔
میں تو تمہاری طرح آدمی ہی ہوں، میری طرف یہ وحی کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا ہمارے دل غلافوں میں لپٹے ہوئے ہیں، ہمارے کان اونچا سننے لگتے ہیں، ہمارے آپ کے درمیان پردے ہیں، تو حضور علیہ السلام کو حکم ہوا کہ آپ ان سے کہہ دیجیے، کہ میں تو تمہارے جیسا ایک آدمی ہی ہوں، یہ ان غلافوں کو ہٹانا، ان پردوں کو ہٹانا، اور کانوں کی سماعت کو کہ تم، تم تک میری بات پہنچے اور پھر تمہارے دل پر اثر کرے، یہ میرے بس کی بات نہیں، میرے تو صرف اللہ کی طرف سے یہ حکم ہے، کہ تمہیں دین حق کی بات پہنچاتا رہوں، توحید تم تک پہنچاتا رہوں۔
آگے باقی چیزیں کرنا وہ اللہ کا کام ہے، میرا کام صرف کیا ہے تم تک دین کی بات پہنچا دینا ہے، توحید کو پہنچا دینا ہے۔
يوحى إلي، میری طرف وحی کی جاتی ہے، کہ تمہارا ایک ہی معبود ہے، فاستقيموا إليه، پس اسی کی طرف سیدھے رہو، یعنی اسی کی طرف سدھا رخ رکھو، واستغفرواه، اور اس سے مغفرت طلب کرو۔
وويل للمشركين الذين لا يؤتون الزكاة۔
ویل کہتے ہیں ہلاکت کو۔
وويل للمشركين، اور ہلاکت ہے شرک کرنے والوں کے لئے، جو کہ ادا نہیں کرتے زکوٰۃ۔
الذين لا يؤتون الزكاة، جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے۔
وويل للمشركين، اور ہلاکت ہے ان مشرکوں کے لئے، الذين لا يؤتون الزكاة، جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے، وهم بالآخرة هم كافرون، اور وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں۔
اور وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں۔
ترجمہ سمجھ میں آگیا بھئی؟
یہ الذين، یہ صفت ہے کس کی؟
المشركين کی بھئی۔
اور ہلاکت ہے مشرکوں کے لئے جو کہ زکوٰۃ ادا نہیں کرتے، اور وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں۔
تو مشرک، اللہ فرما رہے ہیں یہ ایسے لوگ ہیں، کہ خالق کے ساتھ ان کا معاملہ یہ ہے، کہ اس کے شریک بناتے ہیں۔
مخلوق کے ساتھ ان کا معاملہ یہ ہے، کہ ان کے، ان پر کوئی رحم نہیں کرتے، انہیں ان کی کوئی مدد نہیں کرتے۔
اور اس کے باوجود، یہ آخرت سے بالکل غافل ہیں، آخرت کی ان کو پروا ہی نہیں ہے۔
تو آخرت سے یہ بالکل غافل ہیں، پروا ہی نہیں ہے، تو ان لوگوں کا انجام ہلاکت ہی ہے۔
الذين لا يؤتون الزكاة وهم بالآخرة هم كافرون۔
وہ لوگ جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے، اور وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں۔
یہ پہلے جو ہم آیا، یہ ہے مبتدا، اور دوسرے دوبارہ یہ جو ہم آ رہا ہے، یہ ضمیر یہ یاد رکھیے تاکید ہے۔
اس پہلے ہی ہم، پہلی ہی ضمیر کے لئے کیا ہے؟ تاکید ہے، کیونکہ آپ پڑھ چکے ہیں، ایک ہی لفظ کو دوبارہ ذکر کیا جائے تو وہ تاکید کہلا جاتی ہے۔
جاءني زيد زيد، یہ زید ثانی کیا ہے؟ اول کے لیے تاکید ہے بھئی، تو یہ تاکید لفظی ہوئی بھئی۔
اور یہ بالآخرہ، اس کا تعلق کافرون سے ہے۔
تو وہ کافرون انکار کرنے والے ہیں، بالآخرة آخرت کا۔
وہ آخرت کا انکار کرنے والے ہیں بھئی۔
إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات لهم أجر غير ممنون۔
بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور اچھے عمل کیے، لهم أجر غير ممنون، ان کے لئے اجر ہے، غير ممنون۔
جو منقطع ہونے والا نہیں۔
ممنون کا معنی ہے منقطع ہونے والا بھئی، منقطع ہونے والا، ختم ہو جانے والا، رک جانے والا، بند ہو جانے والا۔
لهم أجر غير ممنون، ان کے لئے ایسا اجر ہے۔
غير ممنون، جو منقطع ہونے والا نہیں۔
جو ایمان لائے اور اچھے عمل کیے، ان کے لئے ایسا اجر ہے، ایسا ثواب ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا بھئی، جنت کی نعمتیں، انعامات۔
اور وہاں پر اللہ کی طرف سے جو جو، جو رحمت ہوگی ان پر، جو انعامات ہوں گے، وہ کبھی بھی پھر ختم نہیں ہوں گے، ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے بھئی، ہمیشہ۔
تو ممنون کا کیا معنی؟ منقطع ہونے والا، تو غير ممنون، جو منقطع نہ ہو بھئی۔
یا ممنون، منَّ یا منُّ سے احسان کرنا جس کا معنی ہے، منَّ یا منُّ۔
ان کے لئے ایسا اجر ہوگا، غير ممنون، جس کا احسان نہیں جتلایا جائے گا۔
بھئی ایک نعمت ہے، ایک انعام ہے، جو بغیر احسان جتلاۓ ہو، اس کی لذت زیادہ ہے، احسان جتلاایا جائے، تو پھر وہ کیفیت نہیں رہتی بھئی۔
تو اللہ فرماتے ہیں اتنی نعمتیں ہوں گی، تم تصور نہیں کر سکتے۔
اور پھر ان میں احسان کا جتلاانا بھی نہیں ہوگا۔
ترجمہ سمجھ میں آگیا بھئی؟
چلیے بس بھئی، ہذا ہو المرام، واللہ أعلم بحقيقة الكلام۔