Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-126

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 12 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
أعوذ بالله من الشيطان الرجيم. بسم الله الرحمن الرحيم. إنا أرسلنا نوحا إلى قومه أن أنذر قومك من قبل أن يأتيهم عذاب أليم. قال يا قوم إني لكم نذير مبين. أن اعبدوا الله واتقوه وأطيعون. يغفر لكم من ذنوبكم ويؤخركم إلى أجل مسمى إن أجل الله إذا جاء لا يؤخر لو كنتم تعلمون. آج ہم سورہ نوح پڑھیں گے۔ إنا أرسلنا نوحا إلى قومه یقینا ہم نے بھیجا نوح کو ان کی قوم کی طرف ان أنذر قومك یہ کہ آپ ڈرائیے اپنی قوم کو، آپ خبردار کیجیے اپنی قوم کو من قبل أن يأتيهم عذاب أليم اس سے پہلے کہ ان پر آ جائے دردناک عذاب. إنا أرسلنا نوح ہم نے بھیجا نوح علیہ السلام کو ان کی قوم کی طرف یہ کہ ڈرائیے آپ اپنی قوم کو اس سے پہلے کہ ان پر دردناک عذاب آ جائے. أليم بمعنی مؤلم کے، وہی درد. سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ پہلے میں بیان کر چکا ہوں کہ أليم بمعنی مؤلم کے کیونکہ دردناک أليم درد والا تو وہ تو صاحب عذاب جس کو عذاب ہو رہا ہے وہ أليم ہے اور عذاب کیا ہے مؤلم ہے، درد دینے والا ہے. قال يا قوم إني لكم نذير مبين. تو أليم بمعنی مؤلم کے اور پھر مؤلم کو أليم کے ساتھ کیوں تعبیر کیا گیا؟ نقطہ میں بیان کر چکا ہوں کہ اتنا سخت اور اتنا شدید عذاب ہوگا کہ گویا خود عذاب بھی سختی اور شدت کی وجہ سے تکلیف میں گویا ہوگا. قال يا قوم إني لكم نذير مبين. حضرت نوح علیہ السلام نے فرمایا يا قومي، میم کا کسرہ بتلا رہا ہے یہاں کیا حذف ہوئی ہے؟ یا حذف ہوئی ہے، يا قومي اے میری قوم! إني لكم نذير مبين یقینا میں تمہیں واضح ڈرانے والا ہوں، واضح خبردار کرنے والا ہوں. یا یہ ترجمہ کیجیے قال يا قومي إني لكم نذير مبين فرمایا کہ اے میری قوم! یقینا میں تمہیں صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں. أن اعبدوا الله یہ کہ تم عبادت کرو اللہ کی واتقوه اور اس سے ڈرو، تم عبادت کرو اللہ کی اور اس سے ڈرو وأطيعون اور میری اطاعت کرو، میرا کہنا مانو. حضرت نوح علیہ السلام فرما رہے ہیں اپنی قوم سے کہ اللہ کی عبادت کرو اور اللہ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو أطيعوني. یہ نون اور اس کا یہ کسرہ بتلا رہا ہے کہ یہاں یا حذف ہوئی ہے. يغفر لكم من ذنوبكم وہ بخش دے گا تمہارے گناہوں کو و يؤخركم إلى أجل مسمى اور تمہیں ڈھیل دے گا ایک وقت مقررہ تک، اجل وقت مقررہ، وقت، مدت، مسمى مقررہ، وقت مقررہ. يغفر لكم وہ بخش دے گا تمہارے گناہ ويؤخركم اور تمہیں ڈھیل دے گا إلى أجل مسمى ایک وقت مقررہ تک یعنی اگر اللہ کی عبادت کرو گے تو تم پر اللہ کا عذاب نہیں آئے گا اور اللہ تمہیں ایک وقت مقررہ تک یعنی اپنی موت تک مہلت دے گا. اگر عذاب آیا پھر تو پہلے ہی عذاب کی وجہ سے ختم کر دیے جاؤ گے لیکن اگر تم اللہ کی اطاعت کرو گے تو تم پر سے تمہیں اللہ ڈھیل دے دیں گے اپنی طبعی موت تک، کہاں تک؟ طبعی موت تک ڈھیل دے دیں گے. إن أجل الله إذا جاء لا يؤخر. يقيناً اللہ کا وقت مقررہ إذا جاء جب آ جائے لا يؤخر تو وہ مؤخر نہیں کیا جاتا. لو كنتم تعلمون کاش کہ تم جانتے. قال ربي إني دعوت قومي ليل ونهارا. اب حضرت نوح علیہ السلام اللہ سے دعا کر رہے ہیں. قال ربي إني دعوت قومي ليل ونهارا حضرت نوح علیہ السلام فرمانے لگے ربي اے میرے پروردگار! إني دعوت قومي یقیناً میں نے دعوت دی اپنی قوم کو، دعوت و میں نے دعوت دی یا میں نے بلایا، میں نے بلایا اپنی قوم کو. جو بھی آپ ترجمہ کر لیں إني دعوت قومي میں نے دعوت دی اپنی قوم کو ليلا ونهارا رات کو اور دن کو یعنی ہر وقت ان کو دعوت دیتا رہا میں ان کو دن کو بھی، رات کو بھی. میں نے اپنی قوم کو دعوت دی ليلا ونهارا دن کو، رات کو اور دن کو ولم يزد هم دعائي إلا فرارا پس نہیں بڑھایا ان کو دعائي میرے دعوت دینے نے إلا فرارا مگر بھاگنا ہی. मेरी دعوت نے ان کے بھاگنے ہی کو زیادہ کیا، میری دعوت کی وجہ سے وہ اور زیادہ بھاگنے لگے. فلم يزد هم دعائي إلا فرارا پس میری دعوت سے وہ اور زیادہ بھاگنے لگے و إنّي كلما دعوتهم اور یقینا میں نے جب بھی ان کو دعوت دی ليغفر لهم تاکہ آپ ان کی بخشش فرما دیں، میں نے جب بھی ان کو دعوت دی تاکہ آپ ان کی بخشش فرما دیں جعلوا أصابعهم في آذانهم ڈال لی انہوں نے اپنی انگلیاں في آذانهم اپنے کانوں میں. حضرت نوح علیہ السلام کی قوم والے جیسے اور اور قوموں والے انبیاء کا استہزاء کرتے تھے، ان کا مذاق اڑاتے تھے اور ان کی بات سننا اور ان کو دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے تھے، اسی طرح حضرت نوح علیہ السلام کی قوم بھی تھی، آپ ساڑھے نو سو سال تک ان کو دعوت دیتے رہے، ساڑھے نو سو سال. اور حضرت نوح علیہ السلام دعوت دینے لگتے تو وہ اپنے کانوں میں انگلیاں دے دیتے تاکہ ہمیں ان کی آواز سنائی نہ دے. اور اپنے منہ پر اور چہرے پر کپڑا لپیٹ لیتے تھے تاکہ ایک تو اس سے آواز کم آئے اور نیز ہمیں دکھائی بھی نہ دیں، دیکھنا بھی گوارا نہیں تھا. تو اتنے ضدی اور سرکش لوگ تھے. حضرت نوح علیہ السلام فرما رہے ہیں کہ اے اے اللہ! میں نے جب بھی ان کو دعوت دی ليغفر لهم تاکہ آپ ان کو بخش دیں جعلوا أصابعهم في آذانهم انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں کر لیں واستغشوا ثيابهم اور لپیٹ لیا ثيابهم اپنے کپڑوں کو. استغشا کا کیا معنی ہے؟ لپیٹ لینا، لپیٹ لیا انہوں نے اپنے کپڑوں کو یعنی اپنے تاکہ میں ان کو دکھائی بھی نہ دوں اور اس سے آواز بھی تاکہ کم آئے. وأصروا. اور اڑے رہے، جمے رہے. أصر يصر إصرار کا معنی ہے کسی بات پر جمے رہنا. وأصروا تو یہ ترجمہ کر لیں اور ضد کرتے رہے. وأصروا اور ضد کرتے رہے. یا یہ ترجمہ کر لیں وأصروا اور اڑے رہے. و استكبروا استكبارا اور انہوں نے تکبر کیا. ثم إني دعوتهم جهارا پھر میں نے ان کو دعوت دی جهارا آواز بلند. جهر کس کو کہتے ہیں؟ بلند آواز کو بھئی، تو میں نے ان کو اونچی بلند آواز سے بھی دعوت دی ثم إني أعلنت لهم وأصررت لهم إصرارا پھر میں نے ان کو اعلانیہ کہا وأصررت لهم إصرارا اور میں نے انہیں چھپا کر کہا. أعلن يعلن اعلان کے معنی اعلان کرنا یعنی اونچی آواز سے کہا، اعلانیہ تو اب کھلے طور پر میں نے ان کو کہا. اور أصر يصر إصرار کا معنی چھپانا. ثم إني أعلنت لهم پھر میں نے ان کو اعلانیه طور پر کہا وأصررت لهم إصرارا اور میں نے ان کو چھپا کر کہا. يعني کھلے طور پر بھی سب کو دعوت دیتا رہا، چھپ چھپ کے ایک ایک کو بھی دعوت دیتا رہا کسی طرح وہ ایمان لے آئیں. فققلت پس میں نے کہا استغفروا ربكم کہ تم اپنے رب سے مغفرت طلب کرو انہ كان غفارا یقینا وہ بڑا بخشنے والے ہے يرسل السماء عليكم مدرارا بھیجے گا وہ تم پر بارش، سما سے کیا مراد ہے؟ بارش مراد ہے یہاں بھئی. يرسل السماء عليكم مدرارا وہ بھیجے گا بارش تم پر مدرارا، مدرار کا معنی ہے موسلا دھار بارش بھئی، خوب برسنے والی. يرسل السماء عليكم مدرارا وہ بھیجے گا بارش تم پر موسلا دھار. ان کے گناہوں کی وجہ سے ان سے بارش بند ہو گئی تھی، قحط کی کیفیت ہو گئی تھی، پانی ملتا نہیں تھا لیکن اس کے باوجود وہ سرکشی پر جمیے ہوئے تھے، حضرت نوح علیہ السلام فرما رہے ہیں کہ تم اپنے رب کی طرف رجوع کرو، وہ تم پر بارش بھیجے گا. تمہارے لیے تمہارے مال بڑھا دے گا لیکن وہ ضد پر اڑے ہوئے تھے. يرسل السماء عليكم مدرارا ويمددكم بأموال بھیجے گا وہ تم پر موسلا دھار بارش ويمددكم بأموال اور أمدا يمد کا معنی بڑھانا ويمددكم اور تمہیں بڑھا دے گا باموال اموال کے ساتھ وبنين اور بیٹوں کے ساتھ. يعني تمہیں زیادہ مال اور بیٹے دے گا ويجعل لكم جنات ويجعل لكم أنهارا. گناہوں کی وجہ سے اور قحط سالی وغیرہ کی وجہ سے ان کی عورتیں بھی تقریباً بانجھ ہو گئی تھیں تو حضرت نوح علیہ السلام فرما رہے ہیں ويمددكم بأموال وبنين کہ اللہ تمہارے مال اور بیٹے بڑھا دے گا، زیادہ دے گا ويجعل لكم جنات اور بنا دے گا تمہارے لیے باغات ويجعل لكم أنهارا اور بنا دے گا تمہارے لیے نہریں. واللہ تمہارے لیے باغات بنا دے گا اور نہریں بہا دے گا۔ ما لكم لا ترجون لله وقارا. ما لكم کیا ہوا تمہیں لا ترجون کہ تم امید نہیں کرتے للہ اللہ کے لیے وقارا عظمت کی. دو ترجمے ہوں گے اس کے بھئی، دو ترجمے مفسرین بیان کرتے ہیں. पहلا معنی کہ تم لوگوں کو کیا ہوا کہ تم اللہ کی عظمت کی امید نہیں کرتے، یعنی اعتقاد نہیں رکھتے. تم اللہ کی عظمت کا تو لا ترجون بمعنی اعتقاد کرنے کے ہے کہ تمہیں کیا ہوا تم اللہ کی عظمت کا اعتقاد نہیں کرتے کیوں اللہ کی عظمت کا اعتقاد نہیں کرتے. وہ اللہ پر ایمان نہیں لاتے تھے تو حضرت نوح علیہ السلام فرما رہے ہیں ما لكم لا ترجون لله وقارا کیا ہوا تم کو کہ تم اعتقاد نہیں کرتے اللہ کے لیے عظمت کا، وقار کا کیا عظمت. دوسرا معنی. لا ترجون لله. لا بمعنی من کے ہے. لا بمعنی من کے. ما لكم تمہیں کیا ہوا لا ترجون من اللہ وقارا کہ تم اللہ سے عظمت کی امید نہیں رکھتے. تمہیں کیا ہوا کہ تم اللہ سے عظمت کی یعنی اپنی عظمت کی امید اللہ سے نہیں رکھتے یعنی تم ایمان لاؤ تو اللہ تمہیں عظمت دے گا، اللہ تمہیں شان و شوکت دے گا دنیا کے اندر. لیکن تم اس پر ایمان نہیں لاتے یعنی کہ تم اللہ سے کسی عظمت کی امید نہیں رکھتے کہ اللہ تمہیں عظمت دے دے گا. تو اس صورت میں عظمت کس کی مراد؟ قوم کی اور پہلے ترجمے کے مطابق عظمت کس کی مراد؟ اللہ کی مراد، پہلا ترجمہ ما لكم لا ترجون لله وقارا کیا ہوا تم کو کہ تم اعتقاد نہیں کرتے اللہ کی عظمت کا. دوسرا ترجمہ ما لكم لا ترجون لله وقارا کیا ہوا کہ تم اللہ سے عظمت کی امید نہیں رکھتے. وقد خلقكم أطوارا اور تحقیق اللہ نے پیدا کیا تم کو أطوارا مختلف طور سے، طرح طرح سے. اللہ نے پیدا کیا تم کو طرح طرح سے، مختلف حالتوں سے انسان گزرتا ہے پہلے نطفہ اس کے بعد پھر وہ علقہ بنتا ہے اسی طرح پھر مختلف صورتوں سے گزرتا ہوا بچے کی صورت میں اس کی پیدائش ہوتی ہے پھر جوان ہوتا ہے بوڑھا ہوتا ہے بیماریاں وغیرہ آتی ہیں مختلف احوال انسان پر آتے ہیں. وقد خلقكم أطوارا اور تحقیق پیدا کیا تم کو طرح طرح سے. ألم تروا كيف خلق الله سبع سماوات طباقا کیا تم نے نہیں دیکھا کیسے پیدا کیا اللہ نے سات آسمانوں کو طباقا اوپر تلے. اوپر نیچے. طباق جمع ہے طبق کی. طبق کسی چیز کے اوپر جو ڈھکن وغیرہ رکھا جائے اس کو کہتے ہیں طبق بھئی. تو تہ مراد ہے تہ بھئی. طبق کی جمع طباق، تہ در تہ یعنی اوپر نیچے پہلا آسمان ہے اس سے اوپر دوسرا ہے پھر اس کے اوپر تیسرا ہے. کیا تم نے نہیں دیکھا کیسے پیدا کیا اللہ نے سات آسمانوں کو اوپر نیچے وجعل القمر فيهن نوررا و جعل الشمس سراجا اور بنایا چاند کو ان میں نوررا، نور بنایا. چاند کو ان آسمانوں میں کیا بنا دیا؟ نور بنا دیا وجعل الشمس سراجا اور سورج کو چراغ بنایا. چاند کو اللہ نے نور بنایا اور سورج کو چراغ بنایا. چراغ کی اپنی ذاتی روشنی ہوتی ہے، سورج کی بھی اپنی ذاتی روشنی ہے اس کی ذاتی چمک ہے. اور چاند جو یہ ہمیں چمکتا ہوا دکھائی دیتا ہے یاد رکھیے یہ چاند کی اپنی روشنی نہیں ہے، یہ سورج کی روشنی اس پر پڑتی ہے تو وہ ہمیں سفید چمکتا ہوا دکھائی دیتا ہے تو یہ وہی سورج کی روشنی چاند سے ٹکرا کر واپس زمین کی طرف آتی ہے. صورت سمجھ میں آ گئی بھئی، آپ بھی تجربہ کر سکتے ہیں تاریکی کے اندر اگر ٹارچ لیں اور کچھ فاصلے پر کوئی چیز رکھیں تو ویسے تو خود دکھائی نہیں دے رہی اب ٹارچ کی روشنی اس پہ پڑے گی تو اب آپ کو بالکل سفید دکھائی دے گی. سفید حالانکہ اس کی اپنی کوئی چمک نہیں ہے یہ وہی ٹارچ کی روشنی اس پر پڑ رہی ہے اور چمک ٹکرا کر واپس آپ کی نگاہوں تک آپ کو دکھائی دے رہی ہے. تو سورج کی اپنی روشنی ہے ذاتی اور چاند کی روشنی ذاتی نہیں. اور قرآن نے اس کی طرف واضح اشارہ کر دیا دیکھیے چاند کے لیے نور کا لفظ استعمال کیا گیا اور سورج کے لیے چراغ کا، سراج کا. وجعل القمر فيهن نوررا و جعل الشمس سراجا اور بنایا چاند کو فیہنا ان سات آسمانوں میں نوررا، نور بنایا وجعل الشمس سراجا اور سورج کو چراغ بنایا. واللہ أنبتكم أنبتكم من الأرض نباتا. اور اللہ نے پیدا کیا تم کو زمین سے نباتا پیدا کرنا، اگانا۔ اللہ نے تم کو اگایا زمین سے۔ نباتا مفعول مطلق ہے۔ اللہ نے تم کو زمین سے اگایا، زمین سے پیدا کیا۔ یعنی تمام انسانوں کی جو اصل ہیں، حضرت آدم علیہ السلام، ان کو زمین سے یعنی مٹی سے بنایا گیا تھا۔ ایک معنی تو یہ کہ حضرت آدم علیہ السلام ان کو مٹی سے بنایا گیا تھا۔ دوسرا معنی کہ اس مٹی سے، اس سے فصلیں پیدا ہوتی ہیں، اناج حاصل ہوتا ہے، کھانے کی چیزیں حاصل ہوتی ہیں، اور وہی کھانے کی چیزیں اور اناج وغیرہ انسان کھاتا ہے تو اس سے خون بنتا ہے، اور اسی خون سے پھر نطفہ بنتا ہے، اور اسی نطفے سے انسان کی پیدائش ہوتی ہے تو گویا زمین ہی سے اس کی پیدائش ہے۔ زمین ہی سے اس کی پیدائش ہے۔ واللہ انبتکم انبتکم من الارض نباتا اور اللہ نے تم کو پیدا کیا زمین سے، ثم یعیدکم فیہا پھر وہ تمہیں لوٹائے گا اس کے اندر وخرجکم اخراجا اور نکالے گا تمہیں اس سے، اسی میں لوٹائے گا، مر جائے گا مر جاتا ہے انسان تو اسی میں دفنا دیا جاتا ہے اور اسی سے نکالیں گے کب قیامت کے دن۔ واللہ جعل لکم الارض بساطا اور اللہ نے بنایا زمین کو تمہارے لیے بچھونا، بساط کسے کہتے ہیں؟ زمین کو بچھونا بنا دیا، انسان اس پر چلتا ہے۔ لتسلوکم منہا سبلا فجاجا تاکہ تم چلو منہا یعنی من الارض اس زمین میں، سبلا، سبل جمع ہے سبیل کی، فجاج، کھلے، وسیع، تاکہ اس زمین کے کھلے راستوں میں تم چلو، تاکہ اس زمین کے کھلے راستوں میں چلو۔ دیکھو اللہ نے کیسی زمین بنائی، کیسے کھلے راستے بنائے، آپ مشرق کی طرف جانا چاہتے ہیں، مغرب کو، شمال کو، جنوب کو، جس طرف جانا چاہتے ہیں آسانی سے چلے جاتے ہیں، کوئی رکاوٹ نہیں، کوئی رکاوٹ نہیں۔ اگر اللہ اس طرح بنا دیتے کہ انسان ایک حصے سے دوسرے کی طرف جا ہی نہیں سکتا، تو اللہ اس طرح بھی پیدا فرما سکتے تھے لیکن اللہ نے ایسا بنایا، کھلے راستے، زمین کے جس خطے کی طرف آپ جانا چاہتے ہیں آسانی سے جا سکتے ہیں بھئی۔ اور اللہ نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا تاکہ تم چلو اس کے کھلے راستوں میں۔ قال نوح ربی انہم عصونی واتبعوا من لم یزده مالہ وولدہ الا خسارا۔ کہا حضرت نوح علیہ السلام نے، اے میرے پروردگار، انہم عصونی، ان لوگوں نے، ان میری قوم والوں نے، عصونی میری نافرمانی کی ہے اور اتبعو اور انہوں نے پیروی کی ہے من اس شخص کی لم یزده کہ نہیں بڑھایا، کہ نہیں بڑھایا اس کو مالہ اس کے مال نے وولدہ اور اس کی اولاد نے الا خسارا مگر خسارہ ہی۔ مراد قوم کے سردار ہیں۔ اے اللہ! ان میری قوم والوں نے میری نافرمانی کی ہے اور کس کی پیروی کی ہے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی پیروی کی ہے، وہ سردار لم یزده کہ نہیں بڑھایا ان کو مالہ ان کے مال نے وولدہ اور ان کی اولاد نے الا خسارا سوائے خسارے کے۔ وہ سردار اس قسم کے لوگ ہیں، ان کے پاس مال بھی بکثرت، ان کے پاس اولاد بھی بکثرت، لیکن ان کے مالوں اور اولاد نے ان کو نقصان ہی پہنچایا، فائدہ کوئی نہیں پہنچایا، جیسے کہ آخرت میں ان کی تباہ ہو گئی اسی مال اور اولاد کی کثرت کے گھمنڈ میں بھئی۔ تو ان کی ان، تو انہوں نے ان لوگوں کا اتباع کیا جنہیں جن کے مال اور اولاد نے ان کو ہمیشہ نقصان ہی پہنچایا ہے۔ مال اور اولاد نے کس کو نقصان پہنچایا؟ ان سرداروں کو۔ تو انہوں نے ان لوگوں کی، میری قوم والوں نے اپنے ان لوگوں، ان سرداروں کی پیروی کی جن کے مال اور اولاد نے ان کو نقصان ہی پہنچایا تھا تو وہ تو خسارے والے لوگ تھے، ان کو دیکھنا چاہیے تھا لیکن یہ پھر بھی کیا کرتے ہیں، ان کی بات مانتے ہیں۔ قال نوح، کہا نوح نے، اے میرے پروردگار، انہوں نے میری نافرمانی کی ہے اور اتبعو اور انہوں نے پیروی کی ہے من اس شخص کی لم یزده مالہ وولدہ الا خسارا، کہ جن کے مال اور اولاد نے ان کے خسارے ہی کو بڑھایا ہے، ومکرو مکرا کبارا اور تدبیریں کیں انہوں نے مکرا کبارا، بڑی بڑی تدبیریں۔ انہوں نے کیا کی ہیں؟ بڑی بڑی تدبیریں کی ہیں۔ وقالو، اور کہا انہوں نے، وہ سردار، وہ سردار جو ہیں انہوں نے کہا اپنی قوم سے، لاتذرنہ الہتکم کہ تم ہرگز نہ چھوڑنا اپنے معبودوں کو۔ اپنی قوم والوں کو کہہ رہے ہیں سردار، ان سرداروں نے اپنی قوم سے کہا، لاتذرنہ الہتکم، تم ہرگز نہ چھوڑنا اپنے معبودوں کو، ولا تذرنہ ودلا سوا ولا یغوث ویعوق ونصرا، اور تم ہرگز نہ چھوڑنا ود کو اور نہ سوا کو اور نہ یغوث اور یعوق اور نصر کو، ان میں سے کسی کو ہرگز نہ چھوڑنا۔ پانچ نام ذکر ہوئے یہاں پر، ود، سوا، یغوث، یعوق اور نصر، یہ ان کے بت تھے بھئی۔ یہ ان کے بتوں کے نام تھے بھئی، بت تھے جن کی یہ عبادت کرتے تھے تو سردار ان کو کہہ رہے ہیں کہ تم ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور تم ہرگز نہ چھوڑنا ود، سوا، یغوث، یعوق اور نصر کو نہ چھوڑنا، انہی کی عبادت کرنا، انہی پر جمے رہنا۔ یہ تمہیں یہ شخص تمہیں توحید کی طرف بلاتا ہے، کبھی بھی بھول کر بھی اس کی بات نہ سننا، اپنے معبودوں پر ہی جمے رہنا، ان کو ہرگز نہ چھوڑنا، اگر ان کو چھوڑ بیٹھے تو تباہی ہی تباہی ہے تمہاری۔ تو یہ پانچ ان کے بت تھے، ود، سوا، یغوث، یعوق اور نصر۔ اور کہتے ہیں روایت میں آتا ہے کہ یہ ان کے نیک بندے تھے، یہ ود، سوا وغیرہ، یہ ان کے پچھلے زمانے میں ان کے بزرگ گزرے تھے، بڑے نیک آدمی تھے، اللہ کے اولیاء تھے، لیکن جب یہ دنیا سے رخصت ہو گئے، دنیا سے رخصت ہو گئے، ان کی قوم والے بڑے غم زدہ کہ ہمارے نیک لوگ ہم سے رخصت ہو گئے، اب ہمیں کون وعظ و نصیحت کرے گا، کون ہمیں اچھی باتیں بتائے گا؟ تو شیطان ابلیس جو ہے ان کے پاس انسانی صورت میں آیا اور بڑا جبہ وغیرہ پہنا ہوا اور نیک بنا ہوا ہے اور آکر کہنے لگا تم بڑے پریشان ہو، کیا ہوا؟ کیوں پریشان ہو؟ وہ کہنے لگے کہ اس طرح ہمارے نیک لوگ ہم سے رخصت ہو گئے آہستہ آہستہ سب چلے گئے، اور اب ہمیں کون نصیحت کرے گا، ہمیں کون سمجھائے گا، ہم اس وجہ سے غم زدہ ہیں۔ تو کہنے لگا ہاں واقعی! یہ تو بڑے غم کی بات ہے، تمہاری پریشانی بجا ہے، تمہیں غم زدہ ہی ہونا چاہیے، لیکن میں ایک ترکیب تمہیں بتاتا ہوں۔ یوں کرو کہ ان کے بت بنا کر رکھ دو، ان کے بت بنا کر رکھ لو، تو ان سے کم از کم تمہیں انہیں دیکھ کر ان لوگوں کے اچھے کام یاد آئیں گے تمہیں، ان کی نصیحتیں یاد آئیں گی، اور ان کی ان کی یادیں تمہارے دلوں میں اسی طرح زندہ رہیں گی۔ ان لوگوں کو تو شیطان بت پرستی کا نہیں کہہ سکتا تھا، کیونکہ ان کے تو عقیدے پکے تھے۔ انہوں نے تو بزرگوں سے باتیں کی تھیں، ان کی سنی تھیں، دعوت وغیرہ، توحید پر۔ صرف شیطان بیج رکھ رہا تھا مستقبل کے لیے۔ انہوں نے کہا، اور اس شریعت نے بت بنانا ان کے ہاں جائز تھا، جانداروں کے بت بھی بنا سکتے تھے، تو انہوں نے اسی طرح کیا کہ ہاں! یہ تو اچھی بات ہے، بت بنا دیئے، اور ان بتوں کو دیکھ کر ان کی باتیں یاد کیا کرتے تھے۔ پھر یہ لوگ جب یہ نسل دنیا سے چلی گئی، اگلی نسل آئی، تو پھر شیطان نے آہستہ آہستہ کہ بھئی تمہارے بڑے تو ان کے، ان کی بڑی تعظیم کرتے تھے ان بتوں کی، اور ان کی عبادت کرتے تھے، آہستہ آہستہ اگلی نسل اور اس سے اگلی نسل میں پھر شیطان نے ان کو باقاعدہ انہی کی عبادت پر لگا دیا۔ تو یہ خود نیک لوگ تھے بھئی۔ تو کہ وہ سردار کہنے لگے، تم ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور نہ چھوڑنا ود، سوا، یغوث، یعوق اور نصر کو، وقد أضلوا کثیرا، اور تحقیق انہوں نے گمراہ کیا بہت سے لوگوں کو۔ ان سرداروں نے کیا کیا؟ بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا۔ یا ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا، ان بتوں نے یعنی یہی گمراہی کا سبب بنے۔ گمراہی کا سبب بنے۔ ولا تزيد الظالمین الا ضلالا، اور اے اللہ! آپ نہ بڑھائیے ظالموں کو الا ضلالا مگر گمراہی ہی۔ اے اللہ! ظالموں کی گمراہی اور بڑھا دیجیے۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی! ولا تزيد الظالمین الا ضلالا، اور اے اللہ! آپ نہ بڑھائیے ظالموں کے لیے مگر گمراہی کو ہی۔ مما خطیئتہم أغرقوا، مما أی لأجل مما خطیئتہم أی لأجل خطیئتہم اپنے گناہوں کی وجہ سے۔ من کس معنی میں ہے؟ لام کے معنی میں ہے، من خطی، مما خطی اور یہ جو ما ہے، ما یہ صلہ ہے، کیا معنی صلہ؟ زائد ہے۔ مما خطیئتہم أی لأجل خطیئتہم اپنے گناہوں کی وجہ سے أغرقوا، وہ غرق کیے گئے۔ الا بالا، لاتا کرو، نوح علیہ السلام کا کلام تھا، آگے اللہ فرما رہے ہیں: مما خطیئتہم أغرقوا، کہ اپنی خطاؤں کی وجہ سے، اپنے گناہوں کی وجہ سے وہ نوح علیہ السلام کی قوم والے أغرقوا، وہ غرق کیے گئے پانی میں، فادخلو نار، بس آگ میں داخل کیے گئے۔ وہ غرق کیے گئے پھر کس میں داخل کیے گئے؟ آگ میں داخل کیے گئے۔ اور یہ دیکھیے ابھی قیامت نہیں آئی، پہلے ہی اللہ فرما رہے ہیں وہ غرق کیے گئے، پھر آگ میں داخل کیے گئے۔ آگ میں ف آئی اور آپ نے اصول الشاشی میں پڑھا ہوگا، ف تعقیب مع الوصل کے لیے آتی ہے، کہ غرق کے فورا بعد ہی کس میں داخل کیے گئے؟ آگ میں۔ معلوم ہوا یہ وہ عذاب قبر ہے بھئی، کیا چیز ہے؟ عذاب قبر ہے، وہاں پر آگ میں ان کو جلایا گیا تو یہ برزخ کی بات ہو رہی ہے، قیامت کی بات نہیں ہو رہی بھئی۔ معلوم ہوا عذاب قبر ثابت ہے بھئی، یہ آیت اس کی دلیل ہے۔ مما خطیئتہم أغرقوا فادخلو نار، اپنے گناہوں کی وجہ سے وہ غرق کیے گئے، پھر آگ میں داخل کیے گئے، فلم یجدوا لہم پس نہیں پایا انہوں نے لہم اپنے لیے، پس نہیں پایا انہوں نے اپنے لیے من دون اللہ اللہ کے علاوہ انصارا، مددگار۔ اللہ کے علاوہ انہوں نے اپنے لیے کوئی مددگار نہیں پائے، اور اللہ نے ان کی مدد نہیں کی کیونکہ وہ ایمان نہیں لائے تھے۔ وقال نوح ربی، اور کہا حضرت نوح علیہ السلام نے، اے میرے پروردگار! لا تذر اپ نہ چھوڑیے، لا تذر اے اللہ! آپ نہ چھوڑیے علی الارض زمین پر من الکافرین کافروں میں سے دیارا، کوئی باشندہ۔ اے اللہ! آپ زمین پر کافروں میں سے کوئی باشندہ نہ چھوڑیے، کوئی شخص نہ چھوڑیے۔ دیار دار سے ہے، دار، اور دار کس کو کہتے ہیں؟ گھر کو۔ دیار، گھر والا۔ دیار کا کیا معنی؟ گھر والا۔ یعنی مراد باشندہ ہے۔ تو حضرت نوح علیہ السلام دعا کر رہے ہیں، اے اللہ! آپ زمین پر کافروں میں سے کوئی گھر والا، یعنی کوئی باشندہ نہ چھوڑیے۔ إنک إن تذرہم، اے اللہ! اگر آپ، یہ حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم کے لیے بددعا فرما رہے ہیں، اور یہ اس کے بعد جب اللہ نے آپ کو بتلا دیا، یہ ساڑھے نو سو سال تک دعوت دیتے رہے، اور وہ لوگ اتنے متنفر تھے، حضرت نوح علیہ السلام کو دیکھ کر کانوں میں انگلیاں دے لیتے کہ ان کی آواز نہ سنائی دے، اپنی آنکھوں پر، چہرہ پر وہ کپڑے لپیٹ لیتے کہ ہمیں یہ دکھائی نہ دیں، اور ساڑھے، یہ ایک شخص مرتے وقت اپنی اولاد کو وصیت کرتا تھا بالخصوص کہ خیال رکھنا دیکھو بھئی، یہ جو شخص ہے اس کی بات ہرگز نہ سننا، وہ، وہ اس سے اگلی نسل، وہ اس سے اگلی نسل، تو نسل در نسل ایک دوسرے کو وصیت کرتے تھے کہ اس شخص کی بات نہیں سننی۔ اور پھر اللہ نے آپ کو بتلا دیا ساڑھے نو سو سال کے بعد کہ جتنے آپ کی قوم میں سے جن جن لوگوں نے ایمان لانا تھا، وہ ایمان لا چکے، اب اور کوئی ایمان نہیں لائے گا۔ اب اور کوئی ایمان نہیں لائے گا، اس کے بعد پھر انہوں نے اللہ سے یہ بددعا کی۔ کہ اے اللہ! زمین پر کافروں میں سے کوئی گھر والا، کوئی باشندہ نہ چھوڑیے۔ إنک إن تذرہم یضلوا عبادک، اے اللہ! اگر آپ ان کو چھوڑ دیں گے، یضلوا عبادک، تو وہ گمراہ کریں گے تیرے بندوں کو، ولا یلدو اور جنم نہیں دیں گے الا فاجرا کفارا، مگر بدکار کافر کو۔ مگر کس کو جنم دیں گے؟ بدکار، یعنی ان کی اولاد بھی آگے بدکار اور کافر ہوگی، تو یہ دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے اور اولاد بھی بدکار اور کافر ہوگی، کیونکہ یہاں وصیت کر کے جاتے ہیں کہ دیکھو ایمان نہ لانا کسی صورت میں۔ ولا یلدو، ولد یلدو کے معنی جنم دینا۔ ولا یلدو اور یہ جنم نہیں دیں گے الا فاجرا کفارا، مگر بدکار کافر کو۔ فاجر و فاسق اور کافروں ہی کو یہ جنم دیں گے، یعنی ان سے آگے ان کی جو نسل آئے گی، وہ بھی کیا ہوگی؟ فاجر اور فاسق ہی ہوں گے۔ رب اغفر لي، اے اللہ! میری بخشش فرما دے، ولی والدی، اور میرے والدین کی، ولی والدی، نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ ولی والدی، یا آخر میں متکلم کی تھی، پھر نون اضافت کی وجہ سے گر گیا اور یا کا یا میں ادغام ہوا تو کیا بن گیا؟ ولی والدی۔ اے اللہ! میری بخشش فرما دیجیے، ولی والدی، اور میرے والدین کی، ولمن دخل بيتی، اور جو داخل ہو میرے گھر میں مومناً، مومن ہو کر، اور اے اللہ! جو میرے گھر میں مومن ہو کر داخل ہو، اس کی بھی مغفرت فرما دیجیے۔ وللمؤمنین والمؤمنات اور وہ جو ایمان لانے والے ہیں اور ایمان لانے والیاں ہیں قیامت کے دن تک، قیامت کے دن تک، جو ایمان لانے والے اور ایمان لانے والیاں ہیں، ان کی بھی مغفرت فرما۔ ولا تزيد الظالمین الا تبارا، الا تبارا، اور اے اللہ! آپ زیادہ نہ کیجیے ظالموں کے لیے، الا تبارا مگر ہلاکت کی۔ تبارا، تبار ہلاکت، یعنی ان کی ہلاکت ہی کو زیادہ کر دیجیے ان پر۔ تو حضرت نوح علیہ السلام فرما رہے ہیں، رب اغفر لي ولی والدی ولمن دخل بيتی مومنا وللمؤمنین والمؤمنات، اے اللہ! میری بھی مغفرت فرما دیجیے اور میرے والدین کے بھی اور اس شخص کے جو میرے گھر میں مومن ہو کر داخل ہو اور تمام مومنین اور مومنات کی بھی مغفرت فرما دیجیے۔ حضرت نوح علیہ السلام کی دعا کی برکت سے اللہ ہم سب کی بھی مغفرت فرمائے بغیر حساب کتاب کے۔ چلیے بس بھئی، ہذا ہو المرام، واللہ أعلم بحقیقة الکلام۔
88 approved lectures · 86 of 88