Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-120

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 12 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم ذلك أمر الله أنزله إليكم ومن يتق الله يكفر عنه سيئاته ويعظم له أجرا أكنوهن من حيث سكنتم من وجدكم ولا تضاروهن لتضيقوا عليهن وإن كن أولات حمل فأنفقوا عليهن حتى يضعن حملهن فإن أرضعن لكم فأتوهن أجورهن وأتمروا بينكم بمعروف وإن تعاسرتم فسترضع له أخرى گزشتہ سبق میں سورۃ طلاق ہم نے شروع کی تھی اور طلاق سے متعلقہ احکام ذکر ہو رہے تھے اور یہ آخری آیت میں گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا کہ اللہ تعالی فرما رہے ہیں کہ وہ عورتیں جن کو حیض نہ آئے یعنی زیادہ عمر ہونے کی وجہ سے جن کا حیض بند ہو جائے یا تو ان کی عدت جو ہے وہ تین مہینے ہیں حیض تو ان کو آتا نہیں کہ حیض کے ذریعے عدت شمار کی جائے لہذا ان کی عدت کس کے ساتھ شمار کرو مہینوں کے ساتھ تو ان کی عدت تین مہینے ہیں اور اسی طرح وہ عورتیں جن کو ابھی حیض آیا ہی نہیں یعنی کم سنی کی وجہ سے ابھی وہ بالغ ہوئیں ہی نہیں تو ان کو حیض آیا ہی نہیں تو ان کی عدت بھی تین مہینے ہیں اور اگر وہ عورتیں حمل والیاں ہوں یعنی ان کے پیٹ میں حمل ہو بچہ ہو تو پھر ان کی عدت کیا ہے کہ وضع حمل ہے یعنی اس حمل کو وہ جنم دے دیں اس بچے کو وہ جنم دے دیں تو آگے اللہ فرماتے ہیں ذالک امر اللہ انزلہ الیکم ومن یتق الله يكفر عنه سيئاته ومن يتق الله جو اللہ سے ڈرے گا يكفر عنه سيئاته اللہ مٹا دیں گے اس سے اس کی برائیوں کو ویعظم له أجرا اور اس کو بڑا اجر دیں گے اور اس کو بڑا اجر دیں گے يعظم بڑا کریں گے لہو اس کے لیے أجرا اجر کو اللہ اس کے لیے اجر کو بڑا کر دیں گے یعنی اس کو بڑا اجر دیں گے یعنی اس کو اعظم یعظمت کے کیا معنی ہوتے ہیں بڑا کرنا تو يعظم بڑا دیں گے لہو اس کو أجرا اجر بھئی اس کو بڑا اجر دیں گے أكنوهن من حيث سكنتم من وجدكم أكنوهن ان کو سکنہ دو ان کو رہائش دو بھئی مسائل بیان ہو رہے ہیں طلاق کے تو طلاق کے بعد عورت جو ہے وہ عدت کے بعد کسی اور جگہ نکاح کر سکتی ہے دوران عدت نہیں کر سکتی کسی اور جگہ نکاح اب یہ جو خاوند نے طلاق دے دی تو طلاق دینے کے بعد یاد رکھیے عدت کے اندر اس کے رہنے کے لیے اس کو گھر دینا اس کا بندوبست کرنا اور اس کا نفقہ یہ خاوند کے ذمے ہے اس لیے کیونکہ وہ خاوند کے حق کی وجہ سے اگلے نکاح سے رکی ہوئی ہے یہ عدت کیوں ہے عدت عورت کیوں گزارتی ہے تاکہ پتہ لگ جائے کہیں اس کے پیٹ میں خاوند کی اولاد تو نہیں تو جب اتنی مدت گزر جائے گی تو پتہ لگ جائے گا تین حیض آئیں گے تو پتہ لگ جائے گا کہ اس کے پیٹ میں خاوند کی اولاد نہیں ہے پھر وہ آگے جہاں مرضی نکاح کرنا چاہے کر سکتی ہے تو یہ جو اس دوران رکی ہوئی ہے یہ اس خاوند کی وجہ سے رکی ہوئی ہے اس کے لیے رکی ہوئی ہے لہذا اس کے رہائش اور اس کا نفقہ یہ کس کے ذمے ہے خاوند کے ذمے ہے اسی کو اللہ بیان فرما رہے ہیں کہ ان کو ان کے رہائش جہاں تم رہتے ہو ان کو بھی رہائش دو یعنی ان کو اسی گھر میں رکھو کیا کرو اسی گھر میں رکھو یعنی ان کو رہائش دو اور ان کو تنگ نہ کرو طلاق دے دی ہے تو اب تم تنگ کرو ان کو کہ طلاق تو ویسے بھی دے دی ہے اب اس نے جانا ہے تو اس کو خوب میں تو طلاق عموما غصے میں دی جاتی ہے تو اب میں اس کو ذرا خوب تنگ کرتا ہوں نہیں اللہ فرما رہے ہیں نہیں ان کو تنگ نہ کرو اور نیز اس کا فائدہ یہ ہے کہ طلاق کا شرعی طریقہ بیان ہو چکا کہ ایک طلاق دی جائے بھئی ایسے طہر کے اندر جس کے اندر صحبت نہ کی ہو اور جب یہ اسی گھر میں رہے گی تو طلاق طلاق رجعی ہو تو او اور تو اس کے اندر رجوع ہو سکتا ہے تو شاید اللہ ان دونوں میں مصلحت کی کوئی صورت پیدا فرما دیں اور خاوند دوبارہ رجوع کر لے تو دوبارہ رجوع کر لے گا تو دونوں کا گھر پھر اسی طرح بس جائے گا بجائے اس کے کہ آگے دونوں کے لیے تکلیف اور مصیبت بنے بھئی صورت سمجھ میں آگئی بھئی تو ان کو وہیں پر اسی میں رہائش بھی دو اور ان کا نفقہ بھی بھئی تو یہ وہ رہائش کا ذکر آرہا ہے بھئی أكنوهن ان کو رہائش دو ان کو ٹھہراؤ من حيث حيث بمعنے مکان کے ہے بھئی من حيث اس جگہ سكنتم جہاں تم تمہ رہتے ہو جہاں تم ٹھہرتے ہو جہاں تمہاری رہائش ہے أكنوهن ان کو ان عورتوں کو رہائش دو یہ جن کو طلاق دی ہے من حيث سكنتم اس جگہ جہاں تمہاری رہائش ہے جہاں تم رہتے ہو من وجدكم وجد کہتے ہیں وسعت کو حیثیت کو وجد کس کو کہتے ہیں وسعت اور حیثیت اپنی حیثیت کے مطابق بھئی اگر مالدار ہو تو اس کے مطابق اسی طرح جگہ دو ان کو اور اگر غریب ہے تو اس کے مطابق جگہ دے بھئی أكنوهن من حيث سكنتم من وجدكم ان کو رہائش دو اس جگہ جہاں تم رہتے ہو من وجدكم اپنی حیثیت کے مطابق اپنے مقدور کے مطابق ولا تضاروهن اور ان کو ضرر نہ دو ان کو تکلیف نہ دو لتضيقوا عليهن تاکہ تنگی کرو وعليهن ان پر اور ان کو تکلیف نہ دو تاکہ ان پر تنگی کر دو تاکہ ان پر کیا کر دو ترجمہ سمجھ میں آرہا ہے لفظی ترجمہ ولا تضاروهن اور ان کو ان کو تکلیف نہ دو ان کو ضرر نہ دو لتضيقوا عليهن تاکہ ان پر تنگی کر دو تو با محاورہ ترجمہ یہ ہوگا اور ان کو تنگ کرنے کے لیے ان کو تکلیف نہ دو ان کو ان کو تنگ کرنے کے لیے ان کو تکلیف نہ دو تاکہ تکلیف دونگا تنگ کروں گا تو یہ یہاں سے نکل کے چلی جائے گی خود ہی یہاں سے اللہ فرما رہے ہیں نہیں تو یہ سکنہ ہے ہمارا نا سکنہ اس کو کہتے ہیں جو رہائش دے گا خاوند اس کو کیا کہتے ہیں سکنہ اور یہ کس کے ذمے ہے خاوند کے ذمے ہیں اللہ حکم فرما رہے ہیں بھئی تو یہ تنگ کرنا اور اس کو سکنہ سے نکالنا کسی طریقے سے یہ درست نہیں ہے بھئی وإن كن أولات حمل اور اگر وہ حمل والیاں ہوں یعنی ان کے پیٹ میں حمل ہو اولاد بھئی ذو مال کا کیا معنی مال والا تو ذو آتا ہے مفرد کے لیے جمع کے لیے آتا ہے اولو اولو مال کیا معنی مال والے کیا معنی اور اسی سے اولات مونث ہے اولات حمل کیا معنی حمل والیاں جن کو حمل ہو وإن كن أولات حمل اور وہ مطلقہ اگر حمل والیوں میں سے ہو فأنفقوا عليهن تو ان پر خرچ کرو حتى يضعن حملهن یہاں تک کہ وہ رکھ دیں اپنے حمل کو یعنی جنم دے دیں اپنے حمل کو وإن كن أولات حمل فأنفقوا عليهن حتى يضعن حملهن اور اگر وہ حمل والیاں ہیں تو خرچ کرو ان پر یہاں تک کہ وہ اپنے حمل کو اپنے بچے کو جنم دے دیں فأن أرزعن لكم پس اگر وہ دودھ پلائیں تمہارے لیے رضاعت کہتے ہیں دودھ پلانا بھئی ماں کا بچے کو دودھ پلانا یہ کیا ہے رضاعت ہے اب دیکھیے جب عورت انسان کے نکاح میں ہو تو بچے کو دودھ پلانا اس کی ذمہ داری ہے اس پر وہ اجرت نہیں طلب کر سکتی جب عورت نکاح میں ہے اور وہ اس خاوند کے بچے کی ماں ہے اور اس کو دودھ پلا رہی ہے تو وہ اس کی اجرت نہیں لے سکتی اس لیے کیونکہ خاوند پہلے ہی اس کو نفقہ دے رہا ہے کیا کر رہا ہے کھانے پینے کا سارا خرچہ کون اٹھا رہا ہے خاوند لہذا بچے بچہ بھی اگر خاوند کا ہے تو اس کا بھی ہے اور تو لہذا اس کا وہ اس کی اجرت نہیں لے سکتی لیکن اگر کیا کیا طلاق دے دی اور طلاق والے کی عدت کتنی ہے حمل والی کی عدت کتنی ہے جب بچے کو جنم دے تو طلاق دی طلاق دینے کے ایک گھنٹے بعد اس نے بچے کو جنم دے دیا ساتھ ہی مدت عدت پوری ہو گئی اب فورا وہ جہاں چاہے مرضی نکاح کر سکتی ہے اور ہو سکتا ہے وہ بچے کو جنم دے آٹھ مہینے بعد جا کر صورت سمجھ ہو سکتا ہے نو مہینے بعد بچے کو جا کر جنم دے تو اب مدت لمبی ہو گئی تو اس دوران اس پر خرچ کرنا خاوند کی ذمہ داری ہے اس پر بھئی میں نے بتلایا نا کہ عدت کے اندر رہائش بھی اور خاوند کے ذمے وہ دے گا اور نفقہ بھی کون دے گا خاوند دے گا اور یہاں پر آیا وإن كن أولات حمل فأنفقوا عليهن یہاں صرف حاملہ عورتوں کے نفقے کا ذکر آیا سکنہ تو پیچھے سب کا آ گیا کہ ان کو بھی وہیں ٹھہراؤ جہاں تم ٹھہرے ہوئے ہو اپنی حیثیت کے مطابق اور ان کو تنگ نہ کرو ان کو نکالو نہ اس گھر سے اور آگے نفقے کا ذکر آیا تو اللہ کیا فرما رہے ہیں وإن كن أولات حمل اگر وہ حمل والیاں ہوں تو ان پر خرچ کرو یہاں تک کہ وہ وضع حمل کر دیں یعنی حمل کو جنم دے دیں تو اس کا کیا معنی اس کا یہ معنی نہیں کہ جو حمل والی نہیں اس پر نفقہ نہیں ہے اس کا خاوند کے ذمے نفقہ سب کا ہے خاوند کے ذمے چاہے حمل والی ہو چاہے حمل والی عدت کے اندر سکنہ بھی خاوند کے ذمے اور نفقہ لیکن اللہ نے صرف حمل والی کو ذکر فرمایا وجہ یہ ہے کہ حمل والی باقی جو عورتیں ہیں ان میں تو عدت جو ڈھائی تین مہینے کے اندر عدت گزر جائے گی عدت کتنے میں گزر جائے گی ڈھائی تین مہینے کے اندر عدت پوری ہو جائے گی لیکن یہ جو حمل والی جو ہے اس صورت میں عدت آٹھ نو ماہ تک بھی ہو سکتی ہے تو یہ بڑا لمبا عرصہ ہے تو لہذا اللہ نے اس کی صراحتا فرما دیا کہ یہ اگر حمل والی ہو تو اس پر بھی کیا کرنا پڑے گا تمہیں خرچ کرنا پڑے گا چاہے یہ عدت لمبی ہی کیوں نہ ہو جائے جب تک وہ بچے کو جنم نہیں دیتی اس وقت تک اس کا نفقہ کس کے ذمے ہے تو اس وجہ سے اس کو بالخصوص ذکر کیا کیونکہ وہاں عدت لمبی ہونے کا بھی امکان ہے بھئی بلکہ عموما لمبی ہوگی صورت سمجھ میں آ گئی بھئی تو حمل والیوں کے نفقے کو بالخصوص کیوں ذکر کیا گیا کیونکہ وہاں پر عدت لمبی بھی ہو سکتی ہے تو یہ نہ ہو کہیں خاوند اس پر پھر خرچ نہ کرے تو اللہ نے فرما دیا کہ وہ اس کا بھی سارا نفقہ کس پر ہوگا خاوند پر ہوگا اس لیے اس کو بالخصوص ذکر کیا گیا اور باقی میں بتا رہا تھا آپ کو کہ دودھ پلانے دودھ پلانا بھئی تو عورت جب تک نکاح میں ہے وہ دودھ پلانے کی اجرت نہیں لے سکتی لیکن اگر خاوند نے طلاق دے دی اور اب وہ بچے کو دودھ پلانے کی اجرت کا مطالبہ کرتی ہے تو وہ مطالبہ کر سکتی ہے وہ مطالبہ کر سکتی ہے اور پھر اللہ فرماتے ہیں کہ آپس کے مشورے سے اجرت طے کر لو اور وہ اجرت وہ اس کی ماں کو دی جائے جو دودھ پلا رہی ہے بھئی دودھ پلا رہی ہے اور اس کے اندر بھی ایک دوسرے کو تنگ نہیں کرنا چاہیے ماں ہے تو اس کو زیادہ اجرت کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے کہ خاوند کے لیے مشکل ہو جائے دینا بلکہ جتنا عموما اجرت ہوتی ہے اتنا ہی مطالبہ کرنا چاہیے اس لیے کیونکہ اگر وہ زیادہ اجرت کا مطالبہ کرے گی تو خاوند پھر یقینا اس سے دودھ پلوانے کے بجائے کسی اور عورت کا بندوبست کرے گا اس کو اجرت دے دے گا تو حالانکہ وہ ماں کو تو خود دودھ پلانا چاہیے تھا اب اس کی صرف اس ضد کی وجہ سے اب دوسری عورت دودھ پلائے گی اس کے بچے کو اور نیز خاوند کو بھی ضد نہیں کرنی چاہیے کہ یہ اس کو تو میں نے طلاق دی ہے اس سے تو میری لڑائی اور جھگڑا ہے اس سے میں دودھ نہیں پلواؤں گا اس کو میں تنگ کروں گا اس کے پاس بچے کو اس کے حوالے نہیں کروں گا چنانچہ وہ کسی اور عورت کو اجرت دیتا ہے کہتے ہیں نہیں بھئی بلکہ وہ کیا کرنا چاہیے اس کو ماہی سے چاہیے کیونکہ خاوند نے اجرت تو دینی ہی ہے کسی اور عورت کو دینے کے بجائے کیا کرے وہی اجرت اس کی ماں کو دے دے اور بچہ بھی اپنی ماں کے پاس ہوگا بھئی تو اللہ فرما رہے ہیں فإن أرضعن لكم پس اگر وہ دودھ پلائیں تمہارے لیے یعنی اس بچے کو تمہارے لیے دودھ پلائیں وہ عورت جن کو تم طلاق دے چکے ہو فأتوهن أجورهن تو دے دو ان کو ان کی اجرت ان کی اجرتیں انہیں دے دو وأتمروا بينكم بمعروف اتَمَرَوا کے معنی ہوتے ہیں مشورہ کرنے کے وأتمروا اور تم مشورہ کرو بينكم آپس میں بمعروف اچھے طریقے سے آپس میں کیا کرو اچھے طریقے سے مشورہ کر لو (یعنی مشورے کے ساتھ اجرت طے کر لو باہمی مشورے سے اجرت باہمی مشورے سے طے کر لو) وإن تعاسرتم اور اگر تم ایک دوسرے کو تنگ کرو عسر کس کو کہتے ہیں یسری ثانی اور عسر عسر تنگی تو اگر فان وإن تعاسرتم اور اگر تم کیا کرو ایک دوسرے کو تنگ کرو یعنی ضد کرنے لگو مراد کیا ہے وإن تعاسرتم اور اگر تم باہم ضد کرنے لگو تعاسرتم تفاعل باب ہے جانبین سے فعل چاہتا ہے اگر دونوں کیا کرنے لگے ہیں ضد کر رہے ہیں وان وَعَاشَرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰ أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا۔ وإن كرهتموه وع اگر تم باہم ضد کرنے لگو، باہم ضد کرو فسترضع لھو اخرى تو پس دودھ پلائے گی اس خاوند کے لیے کوئی اور عورت. لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ چاھیے کہ خرچ کرے ذو سعۃ وسعت والا یعنی مال والا وسعت والا جس کے پاس مال ہے، چاہیے کہ خرچ کرے وسعت والا من ساعتہ اپنی وسعت میں سے، کس میں سے؟ اپنے، بھئی بچے کا خرچہ باپ کے ذمے ہے. بچے کا خرچہ باپ کے ذمے ہے، تو اس پر بچے پر اللہ فرما رہے ہیں انسان کو اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرنا چاہیے. اگر مال والا ہے تو اسی کے مطابق اس پر اچھے طریقے سے خرچ کرے اور اگر تنگ حال ہے تو پھر جتنا ہو سکتا ہے، جس قدر وہ کر سکتا ہے، اتنا اس پر کیا کرے خرچ، یہ نہیں کہ اس کے لیے بھی اب یہ کہا جائے کہ اسے بھی خوب اچھے اتنے ہی پیسوں وغیرہ کا بندوبست کرنا پڑے گا جس طرح مالدار کرتے ہیں. تو یہ تو اس بیچارے پر بوجھ بن جائے گا وہ کر وہ اپنے لیے نہیں کر سکتا تو اس کے لیے کیسے اتنا کرے، تو جتنا کر سکے بھئی. لينفق ذو سعة من سعته چاہیے کہ خرچ کرے گنجائش والا اپنی گنجائش کے مطابق، و من قدر علیہ رزقہ اور وہ جس پر تنگ کر دیا گیا اس کے رزق کو، فلينفق مما آتاه الله تو چاہیے اسے کہ وہ خرچ کرے اس میں سے جو دیا ہے اس کو اللہ نے. جو وسعت والا ہے جو گنجائش والا ہے وہ اپنی گنجائش کے مطابق خرچ کرے، و من قدر علیہ رزقہ اور جس پر اس کے رزق کو تنگ کیا گیا، جو تنگ رزق والا ہے، فلينفق مما آتاه الله تو اسے چاہیے کہ خرچ کرے اس میں سے جو اس کو اللہ نے دیا، جتنا اللہ نے دیا اسی کے مطابق اس پر کیا کرے، خرچ کرے. لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا مکلّف نہیں بناتے اللہ کسی جان کو إِلَّا مَا آتَاهَا مگر اسی قدر جس قدر اس کو دیا ہے. مگر اسی میں جس جتنا اس کو اللہ نے اسی چیز کا جو اس کو اللہ نے دی ہے، آتا یؤتی کے معنی عطا کرنے کے، دینے کے. ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ لا يكلف الله نفسا إلا ما آتاها اللہ مکلّف نہیں بناتے کسی نفس کو، کسی جان کو، یعنی اللہ بوجھ نہیں ڈالتے کسی جان پر. اللہ کسی جان پر اللہ بوجھ نہیں ڈالتے کسی جان پر، إلا ما آتاها مگر وہی جو اس کو دیا ہے، سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا عنقریب کر دیں گے اللہ بعد عسر تنگی کے یسرا آسانی، عنقریب اللہ تنگی کے بعد کیا فرما دیں گے؟ آسانی، جس کو اللہ نے رزق تنگ دیا ہے، تھوڑا رزق دیا ہے، تو اسے چاہیے اپنی وسعت اپنی، جو اللہ نے دیا ہے اسی کے مطابق اس پر خرچ کرے. اور اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کسی پر بوجھ نہیں ڈالتے، مگر وہی جو اس کو دیا ہے. یعنی اگر کسی کے پاس مال نہیں تو اللہ اس کو زیادہ مال کا خرچہ کرنے کا مکلف بھی نہیں بناتے، جو دیا اس کے پاس اللہ نے جو اس کو دیا ہے وہی اسے خرچ کرنا چاہیے، ہاں وسعت والے کو کیا کرنا چاہیے؟ اپنی وسعت کے مطابق ذرا اچھے طریقے سے خرچ کرنا چاہیے اس پر. تو تو، تو تنگی والا بھی اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے، عنقریب اللہ اس کی تنگی کو کس سے بدل دیں گے؟ آسانی اور سہولت سے بدل دیں گے، اس کو اللہ کشادہ رزق دے دیں گے. لينفق ذو سعة من سعته چاہیے کہ خرچ کرے گنجائش والا من ساعتہ اپنی گنجائش میں سے، و من قدر علیہ رزقہ فلينفق مما آتاه الله اور جس پر تنگ کیا گیا اس کے رزق کو، پس چاہیے کہ اس کو کہ وہ خرچ کرے اس میں سے جو اس کو اللہ نے دیا ہے. قدر کے معنی میں نے پہلے بیان کیے تھے کہ قدر کے معنی تنگ کرنے کے نہیں ہوتے، معنی تو ہم کر رہے ہیں و من قدر علیہ رزقہ وہ شخص جس پر اس کے رزق کو تنگ کر دیا گیا، تو قدر کے معنی تنگ کرنے کے نہیں ہیں، یہ مرادی معنی ہے. قدر کے معنی اندازہ، بھئی اندازہ کرنا، و من قدر علیہ رزقہ جس کو اندازے سے اس کا رزق دیا گیا بھئی. یعنی اندازے سے اللہ نے جس کو دیا کہ بس جس سے، بس وہ گزارا چلا سکے. کتنا؟ جس سے، تو اس کو جس کو اللہ نے بس اندازے سے، بقدر ضرورت جس کو اللہ نے دیا، تو یہ ہے لفظی ترجمہ، یعنی مراد کیا ہے جس کو اللہ نے رزق تنگ کیا ہو, مراد یہ ہے. لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا اللہ بوجھ نہیں ڈالتے کسی جان پر، مگر وہ جو اس کو دیا ہے، سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا عنقریب کر دیں گے اللہ تنگی کے بعد آسانی، وَكَأَيِّنْ مِنْ قَرْيَةٍ عَتَتْ عَنْ أَمْرِ رَبِّهَا وَرُسُلِهِ فَحَاسَبْنَاهَا حِسَابًا شَدِيدًا. وَكَأَيِّنْ اور کتنی ہی من قريۃ بستیوں میں سے عَتَتْ سرکشی کی انہوں نے، عاتا یاتو کے معنی سرکشی کرنے کے، عاتت عن امری عن امر ربھا انہوں نے سرکشی کی اپنے رب کے حکم سے و رسلہ اور اس اللہ کے رسولوں کے حکم حکم سے انہوں نے سرکشی کی، فحاسبناھا حسابا شدیدا تو ہم نے ان کا حساب کیا حسابا شدیدا سخت حساب. وعذبناھا عذابا نکرا اور عذاب دیا ہم نے ان کو عذاب نکرا. انوکھا عذاب. ان دیکھا عذاب. نکر جس کی پہچان نہ ہو، جس سے انسان مانوس نہ ہو بھئی۔ عذابا نکرا. ان دیکھا عذاب، جو انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا. جو پہلے انہوں نے، پہلے کسی نے نہیں دیکھا تھا، ہم نے بھی ان کو اس طرح کا عذاب دیا. ترجمہ سمجھ میں آ گیا بھئی. وَكَأَيِّنْ مِنْ قَرْيَةٍ عَتَتْ عَنْ أَمْرِ رَبِّهَا اور بہت سی بستیوں کی سرکشی کی انہوں نے اپنے پروردگار کے حکم سے، ورسلہ اور اس کے رسولوں کے حکم سے. جی، ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ وَكَأَيِّنْ مِنْ قَرْيَةٍ اور بہت سی بستیاں جو ہیں عَتَتْ عَنْ أَمْرِ رَبِّهَا وَرُسُلِهِ انہوں نے سرکشی کی اپنے پروردگار اور اس کے رسولوں کے حکم سے، فحاسبناھا حسابا شدیدا تو ان کا ہم نے سخت حساب کیا، وعذبناھا عذابا نکرا اور ان کو ہم نے ان دیکھا عذاب دیا. ان دیکھا یعنی جو انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا. فذاقت وبال أمرها پس چکھا انہوں نے وبال أمرھا اپنے معاملے کا وبال، وكان عاقبة أمرها خسرا. عاقبت کہتے ہیں انجام کو، وكان عاقبة أمرها اور ان کے امر، یعنی ان کے معاملے کا انجام جو ہے خسرا خسارہ تھا، نقصان تھا، ان کا انجام کار کیا ہوا؟ نقصان ہی ہوا، خسارہ ہی تھا بھئی. فذاقت وبال أمرها پس چکھا انہوں نے اپنے معاملے کا وبال، وكان عاقبة أمرها خسرا اور ان کے معاملے کا انجام خسارہ تھا، أعدَّ الله لهم عذابا عذابا شدیدا تیار کیا ہے اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب. وہ جو پیچھے آیا تھا عذبناھا عذابا نکرا وہ دنیوی عذاب تھا، دنیا میں بھی ہم نے ان کو اس طرح کا عذاب دیا جو ان دیکھا تھا، کسی نے دیکھا نہیں تھا. اور اللہ نے ان کے لیے آخرت میں بھی سخت عذاب تیار کر رکھا ہے بھئی. و ا، جی، أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا تیار کر رکھا ہے اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب، فاتقوا الله پس تم اللہ سے ڈرو يا اولي الألباب اے عقل والو! الذين آمنوا وہ جو کہ ایمان لائے ہو. اے ایمان لانو والو! عقلمندو! فاتقوا الله تم اللہ سے ڈرو. الذين آمنوا یہ صفت ہے اولی الألباب کی. یہ صفت ہے کس کی؟ اولی الألباب کی. فَاتَّقُوا اللَّهَ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ الَّذِينَ آمَنُوا پس ڈرو اللہ سے اے عقل والو! جو کہ ایمان لائے ہو، قد أنزل الله إليكم ذكرا تحقیق نازل کیا ہے اللہ نے تمہاری طرف ذکر کو، یعنی قرآن کو. اللہ نے تمہاری طرف ذکر یعنی نصيحت کو نازل کیا ہے، کیا مراد ہے اس سے؟ قرآن، قد أنزل الله إليكم ذكرا تحقیق نازل کیا ہے اللہ نے تمہاری طرف القرآن کو، رسولا يتلو عليكم آيَاتِ اللَّهِ اور ایک رسول کو جو تلاوت کرتا ہے تم پر آیات اللہ اللہ کی آیتیں مبينتان جو واضح ہیں، جو تم پر تلاوت کرتا ہے اللہ کی آیتیں جو کہ واضح ہیں، یعنی کھلی کھلی ہیں، کوئی مشکل نہیں جن کے معنی میں. ليخرج الذين آمنوا وعملوا الصالحات من الظلمات إلى النور تاکہ نکالے اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں وعملوا الصالحات اور نیک عمل کیے، تاکہ اللہ ان کو نکالے من الظلمات إلى النور تاریکیوں سے روشنی کی طرف. تاریکیوں سے، ظلمات جمع ہے ظلماتن کی، تاریکی کو کہتے ہیں، نور روشنی بھئی. وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ وَيَعْمَلْ صَالِحًا يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا اور جو کوئی ایمان لاتا ہے اللہ پر ويعمل صالحا اور نیک عمل کرتا ہے، يدخله تو اللہ اس کو داخل فرمائیں گے جنات ایسے باغات میں تجري من تحتها الأنهار کہ بہتی ہوں گی اس کے نیچے سے نہریں خالدين فيها ابدا ہمیشہ ہمیشہ اس کے اندر رہیں گے، قد أحسن الله له رزقا تحقیق اچھا کیا اللہ نے اس کے رزق کو. تحقیق اللہ نے اس کو، اس کے رزق کو اچھا کیا، یعنی وہ جو ایمان لایا اور نیک عمل کیے جس کو اللہ کیا کریں گے جنت میں داخل کریں گے، اللہ نے اس کے رزق کو اچھا کر دیا، یعنی اللہ نے اس کو اچھا رزق دیا. اللہ نے اس کو اچھا رزق دیا، جنت والے کا کیا خوب رزق ہے، اس سے بڑھ کر کیا ہوگا بھئی؟ صورت سمجھ میں آگئی تو اللہ فرما رہے ہیں جو نیک عمل کرتا ہے ہم اس کو جنت میں داخل کریں گے اور ان کو ہم نے ان کو اچھا رزق بنایا ان کے لیے، ان کو اچھا رزق ہم دیں گے. قد أحسن الله له رزقا اللہ نے اس کو خوب دیا رزق، اللہ نے اس کو اچھا رزق دیا. رسولا یہ منصوب ہے، کیوں بھئی؟ یاد رکھیے! یا تو یہ بدل ہے ذکرا سے. یہ ذکرا سے کیا ہے؟ بدل. بدل ہے. اور جب اس کو بدل بنائیں تو پھر یاد رکھیے! یہ ذکر مصدر بمعنی ذاکر کے ہے. مصدر کبھی اس میں فاعل کبھی اس میں مفعول کے معنوں میں ہوتا ہے تو ذکر کس کے معنی میں ہوا؟ ذاکر کے معنوں میں تو ذاکر کون؟ وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم. تحقیق اللہ نے نازل کیا ہے تمہاری طرف ذکر کرنے والے کو، وہ کون ہے ذکر کرنے والا؟ رسولا ایک رسول ہے تو یہ اس سے بدل بھئی. صورت سمجھ میں آگئی بھئی! تو یہ رسولا بدل ہے ذکرا سے اور آپ نے پڑھا مبدل منہ اور بدل کا ایک اعراب ہوتا ہے. اور جب اس کو بدل بنائیں تو ذکر کو کس معنی میں لیں گے؟ ذاکر کے معنوں میں. يا دوسری ترکیب بھئی. کہ اس کے لیے فعل محذوف نکالا جائے. أنزل الله إليكم ذكرا یہ تو ذکر کے لیے آیا اللہ نے تمہاری طرف ذکر کو، نصیحت کو نازل کیا. اور رسولا کے لیے فعل محذوف ارسل الله إليكم رسولا. اللہ نے تمہاری طرف رسول کو بھیجا، تو یہاں ارسل فعل نکال لیں گے بھئی، صورت سمجھ میں آگئی بھئی. أعد الله لهم عذابا شدیدا اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے، پس تم ڈرو اللہ سے اے عقل والو! جو ایمان لائے ہو، قد أنزل الله إليكم ذكرا اللہ نے تحقیق نازل کیا ہے تمہاری طرف ایک نصیحت کو، رسولا يتلو عليكم ایک رسول ہے جو تلاوت کرتا ہے تم پر اللہ کی کھلی کھلی آیتیں، تاکہ نکالے ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے اچھے عمل کیے ان کو تاریکیوں سے نور کی طرح روشنی کی طرف، ومن يؤمن بالله اور جو ایمان رکھتا ہے اللہ پر ويعمل صالحا اور اچھے عمل کرتا ہے، يدخل جنات تجري من تحتها الأنهار خالدين فيها ابدا تو داخل کریں گے اللہ اس کو ایسے باغبات میں کہ بہتی ہوں گی اس کے نیچے سے نہریں خالدين فيها ابدا اس میں ہمیشہ رہیں گے، قد أحسن الله له رزقا تحقیق اللہ نے اس کو اچھا رزق دیا، جس کو اللہ جو ایمان لاتا ہے اللہ اس کو داخل کریں گے جنت میں اور اس کو اللہ نے اچھا رزق دیا. الله الذي خلق سبع سماوات ومن الأرض مثلهن اللہ وہ ذات ہے جس نے پیدا کیا سات آسمانوں کو ومن الأرض اور زمین میں سے مثلھن انہی کی طرح. اللہ وہ ذات ہے جس نے پیدا کیا سات آسمانوں کو اور زمینوں کو بھی ان کے مثل، ان کے برابر، ان کی طرح. یعنی سات آسمان اللہ نے بنائے تو سات زمینیں بھی بنائیں بھئی. یہ قرآن کی واحد آیت ہے جس کے اندر یہ ذکر آیا کہ سات آسمانوں کا ذکر تو اور جگہ پر بھی آتا ہے، لیکن سات زمینوں کا ذکر صرف اس ایک آیت میں ملتا ہے بھئی. تو معلوم ہوا جس طرح سات آسمان ہیں اسی طرح سات زمینیں بھی ہیں بھئی. سات زمینیں بھی ہیں. اب وہ زمینیں کس طرح ہیں؟ کیا اسی زمین کے نیچے تہ بہ تہ زمینیں ہیں سات؟ یا وہ الگ ہیں جیسے یہ ایک قرہ ہے، ایک قرہ، اسی طرح وہ سات زمینیں الگ الگ قرے ہیں؟ تو یہ اللہ ہی جانتے ہیں، بس اتنا ذکر آگیا کہ جس طرح سات آسمان ہیں اسی طرح سات زمینیں بھی ہیں اور ان سب میں اللہ کا حکم نازل ہوتا ہے. جیسے آسمانوں میں اور اس زمین کے اندر اللہ کا حکم نازل ہوتا ہے اسی طرح ان زمینوں میں بھی اللہ کا حکم نازل ہوتا ہے بھئی. صورت سمجھ میں آگئی بھئی. الله الذي خلق سبع سماوات ومن الأرض مثلهن اللہ وہ ذات ہے جس نے پیدا کیا سات آسمانوں کو ومن الأرض اور زمینوں میں سے مثلھن ان جیسی، ان کے مثل، ان کے برابر، جو بھی ترجمہ آپ کر لیں. یوں ترجمہ کر لیں اللہ وہ ذات ہیں جس نے پیدا کیا سات آسمانوں کو اور ان کے برابر زمینیں، يتنزل الأمر بينهن. اترتا ہے اس کا حکم بینہن ان کے درمیان، ان آسمانوں میں اور زمینوں میں اس اللہ کا حکم اترتا ہے. يتنزل الأمر اترता ہے وہ حکم، یعنی اللہ کا حکم بینہن ان کے بیچ لتعلموا تاکہ تم جان لو ان اللہ على كل شيء قدير کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہیں وأن الله قد أحط بكل شيء علما اور یہ کہ اللہ نے احاطہ کیا ہے، گھیر رکھا ہے بكل شيء ہر چیز کو علما باعتبار علم کے. اللہ نے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے باعتبار علم کے، یعنی اللہ کے علم نے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے، کس کو گھیر رکھا ہے؟ ہر چیز اللہ کے علم میں ہے، کوئی چیز اللہ کے علم سے باہر نہیں بھئی. معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ اللہ نے احاطہ کر رکھا ہے ہر چیز کا باعتبار علم کے، کیا معنی؟ یعنی اللہ کے علم نے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے. الله الذي خلق سبع سماوات ومن الأرض مثلهن اللہ وہ ذات ہے جس نے پیدا کیا سات آسمانوں کو اور ان کے برابر زمینیں، يتنزل الأمر بينهن. اترتا ہے وہ اس کا حکم بینہن ان کے درمیان، لتعلموا تاکہ تم جان لو ان اللہ على كل شيء قدير کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے وأن الله قد أحط بكل شيء علما اور یہ کہ اللہ کے علم نے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے. چلیے بس بھئی! ھذا ہو المرام، واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام.
88 approved lectures · 85 of 88