Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-118

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 12 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم إذا جاءك المنافقون قالوا نشهد إنك لرسول الله والله يعلم إنك لرسوله والله يشهد إن الكاذبون إتخذوا أيمانهم جنة فصدوا عن سبيل الله إنهم ساء ما كانوا يعملون ذلك بأنهم آمنوا ثم كفروا فطبع على قلوبهم فهم لا يفقهون آج ہم سورہ منافقون پڑھیں گے۔ سورہ منافقون جو ہے ایک غزوے سے واپسی کے موقع پر نازل ہوئی۔ یہ غزوہ کون سا تھا؟ بعض مفسرین حضرات لکھتے ہیں کہ یہ غزوہ غزوہ خیبر تھا بھئی۔ غزوہ خیبر سے واپسی کے موقع پر یہ سورت نازل ہوئی بھئی۔ اور غزوہ خیبر میں منافقون کو لے جانے سے منع کیا گیا تھا تو اکثریت کو روک دیا گیا کچھ ساتھ شامل ہو گئے تھے قلیل سے تو پھر ان کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں بھئی، یہ سورت۔ جبکہ دیگر مفسرین حضرات لکھتے ہیں کہ یہ سورت جو ہے غزوہ بنی مصطلق کے سے واپسی کے موقع پر نازل ہوئی۔ بنو مصطلق ایک قبیلہ تھا عرب کا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ یہ مسلمانوں پر حملے کا اور مدینے پر حملے کا ارادہ رکھتے ہیں اور لشکر جمع کر رہے ہیں تو حضور علیہ السلام صحابہ کے ہمراہ اپ نے ان پر حملہ فرما دیا اور ان سے لڑائی ہوئی، ان کو شکست دی، ان میں سے بہت سے مسلمان بھی ہوئے، پھر وہیں پر ایک پانی کا چشمہ تھا مرایسیئع نام تھا چشمے کا، وہیں پر حضور علیہ السلام نے کچھ دن پڑاؤ فرمایا تو وہاں پر ایک دن چشمے کے پاس ایک انصاری اور ایک مہاجر کے درمیان بحث کوئی شروع ہوئی بھئی۔ کوئی پانی وغیرہ کے مسئلے پر ہی بحث ہوئی اور نوبت تو تکار سے ہوتے ہوتے ہوتے ہوتے ہاتھا پائی تک پہنچ گئی اور لڑائی تک بات پہنچی دونوں نے انصاری نے انصار کو آواز دی اپنی مدد کے لیے مہاجر نے مہاجرین کو آواز دی اپنی مدد کے لیے اور قریب تھا کہ دونوں کے درمیان لڑائی شروع ہو جاتی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی، آپ تشریف لائے اور منع فرمایا اور اس کے بعد وہ مسئلہ ختم ہو گیا۔ تو اس موقع پر منافقین بھی ہمراہ تھے، وہ پھر جس وقت بعد میں الگ ہوئے، تو منافقین بیٹھے باتیں کر رہے تھے، انہوں نے سوچا صرف شاید ہم منافقین ہی بیٹھے ہیں، تو ایک صحابی حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ، وہ بھی وہاں موجود تھے، ان منافقین کو علم نہ ہوا اور انہوں نے ان کی ساری باتیں سن لیں۔ وہ باتیں کیا کر رہے تھے، وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جیسے کہ ان کی عادت تھی، تو حضور علیہ السلام کے خلاف باتیں کر رہے تھے اور کہنے لگے کہ دیکھو نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ان لوگوں کو ہم نے گھر دیا تھا اپنے پاس مدینے میں رہنے کے لیے ان مہاجرین کو، آج اگر ہم تم لوگوں نے ایک دوسرے کو کوس رہے ہیں بھئی، اگر ان کو جگہ نہ دی ہوتی تو آج نوبت یہاں تک نہ پہنچتی، یہ تو ہم نے جگہ دی ان کو اور اس اب یہ ہمارے مقابلے پر آ گئے ہیں اور یہ کہ ان کی جو ہم مدد کرتے ہیں، اگر ہم ان کی مدد نہ کریں، ان کی مدد یوں کرو مدد ان کی بند کر دیتے ہیں، تو یہ خود ہی جب کھانے پینے کو کچھ نہیں ملے گا تو خود ہی بکھر جائیں گے، سارا ان کا مجمع ختم ہو جائے گا۔ اور عبداللہ بن ابی جو رئیس المنافقین تھا وہ بھی بیٹھا ہوا، کہنے لگا کہ اس مرتبہ مدینہ پہنچ کر عزت والا ضرور ذلت والے کو باہر نکال دے گا اور اشارہ مسلمانوں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تھا۔ اپنے آپ کو عزت والا کہا اور مسلمانوں کو اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نے کیا کہا؟ ذلت والا۔ کہ مدینہ پہنچ کر اس مرتبہ ضرور عزت والا ذلت والے کو نکال دے گا۔ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ یہ باتیں سن رہے تھے، وہ تشریف لائے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلوایا کہ اس اس طرح کی باتیں تم لوگوں نے کی ہیں، تو وہ انکار کرنے، ہر چیز کا انکار کر دیا کہ حضرت یہ کیسے ہو سکتا ہے ہم اس طرح کی باتیں کریں، ہم تو پکے اور سچے مسلمان ہیں، ہم گواہی دیتے ہیں آپ اللہ کے رسول ہیں اور یہ اس نے ویسے اپنی طرف سے باتیں بنا لی ہیں، ہم نے کوئی ایسی بات نہیں کی۔ ہم آپ کے، ہم آپ پر ایمان رکھنے والے ہیں، تو اب حضرت حضور صلی اللہ علیہ وسلم جو ہیں، وہ منافقین کی باتیں بھی بڑی بڑی لچھے دار قسم کی وہ گفتگو کرتے تھے، فورا دوسرا آدمی متاثر ہو جاتا تھا، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کی قسمیں اور ان کی باتیں سن کر وہ یقین کر لیا کہ یہ لوگ شاید سچ کہہ رہے ہیں، چنانچہ روایات میں آتا ہے حضرت زید بن ارقم فرماتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے ان کو سچا قرار دیا اور مجھے جھوٹا قرار دیا، اور مجھ پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضگی کا اظہار بھی فرمايا بھئی، ناراض ہوئے مجھ سے۔ اور کہتے ہیں میرے ماموں نے بھی مجھے کوسا اور کہا کہ تم نے یہ کیا ہے، کس طرح کی بات کی ہے۔ تو کہتے ہیں میں آ گیا خیمے کے اندر، بڑا غم زدہ تھا میں کہ یہ کیا ہوا، ثبوت ان کے پاس کوئی نہیں تھا ثابت کرنے کے لیے، غم زدہ بیٹھا تھا تو اچانک ایک شخص آیا ایک صحابی اور کہنے لگا حضور علیہ السلام آپ کو یاد فرما رہے ہیں، جلدی پہنچیے بھئی۔ تو کہتے ہیں میں اور بھی پریشان ہوا کہ پتہ نہیں اب شاید اور زیادہ ناراضگی ہو گی، تو جب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ فرمانے لگے کہ زید بن ارقم اللہ نے تمہاری تصدیق نازل فرمائی ہے، تم سچے ہو اور وہ لوگ جھوٹے ہیں اور وہ لوگ جھوٹے ہیں اور پھر یہ واپسی پر یہ سورت یہ سورت نازل ہوئی بھئی۔ شان نزول سمجھ میں آ گیا بھئی، دیکھیے اب بھئی۔ إذا جاءك المنافقون جب آتے ہیں آپ کے پاس منافق، قالوا وہ کہتے ہیں نشهد إنك لرسول الله، یقیناً آپ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ اس کے بعد یہ میم دیکھ رہے ہیں، میں نے بتلایا تھا بھئی یہاں پر وقف لازم ہے بھئی، کنارے پر لکھا ہوا ہے، اس پر ضرور وقف ہونا چاہیے، ہمیشہ اس کا خیال رکھیں تلاوت میں بھئی، ورنہ معنی کچھ کا کچھ ہو جائے بھئی۔ تو یہاں تک دیکھیے منافقین کی بات پوری ہو رہی ہے اور آگے اللہ کی بات شروع ہو رہی ہے بھئی۔ اللہ فرماتے ہیں: والله يعلم إنك لرسوله، اور اللہ جانتے ہیں کہ یقیناً آپ اللہ کے پیغمبر ہیں، والله يشهد إن المنافقون لكاذبون، اور اللہ گواہی دیتے ہیں کہ یقیناً منافقین البتہ جھوٹے ہیں۔ منافقین البتہ اللہ فرما رہے ہیں جب آپ کے پاس منافقین آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں آپ یقیناً اللہ کے رسول ہیں۔ آگے اللہ فرماتے ہیں اور اللہ جانتے ہیں کہ آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں اور اللہ گواہی دیتے ہیں کہ منافقین البتہ جھوٹے ہیں، منافقین البتہ جھوٹے ہیں۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا، یہاں اشکال ہوتا ہے کہ منافقین کو جھوٹا کہا گیا کس اعتبار سے؟ منافقین نے تو کیا کہا ہے؟ نشهد إنك لرسول الله، ہم گواہی دیتے ہیں آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اور آگے اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ منافقین جھوٹے ہیں، حالانکہ یہ بات تو ان کی برحق ہے بھئی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم واقعی اللہ کے رسول ہیں۔ تو جواب یاد رکھیے بھئی۔ ایک جواب یہ آسان کہ یہ جو منافقین کو جھوٹا کہا گیا یہ جو انہوں نے نشهد کہا، ہم گواہی دیتے ہیں، گواہی نام ہے دل اور زبان کے ایک ہونے کا۔ گواہی کس چیز کا نام ہے؟ کہ دل اور اعتقاد دل اور زبان میں ایک ہی چیز ہو، اعتقاد میں بھی وہی ہو جو زبان سے کہہ رہا ہو، انسان گواہی دے رہا ہے نا، حق بات بتلا رہا ہے، تو جو دل میں ہے وہی زبان پر بھی ہو اور منافقین تو اس طرح نہیں تھے، زبان سے تو وہ یہ کہہ رہے تھے، لیکن دل کے اندر وہ کیا سمجھ رہے تھے کہ ہم ویسے ہی کہہ رہے ہیں، یہ کوئی اللہ کے رسول نہیں ہیں۔ تو ان کو جو جھوٹا کہا گیا، ان کے اپنے اس کلام کو گواہی کہنے کے اعتبار سے کہا گیا کہ یہ گواہی نہیں ہے اس، اس کو گواہی کہنے میں وہ جھوٹے ہیں۔ إتخذوا أيمانهم جنة، بنا رکھا ہے انہوں نے أيمانهم اپنی قسموں کو، ایمان جمع ہے یمین کی۔ بنا رکھا ہے انہوں نے اپنی قسموں کو جنة ڈھال، انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے۔ جس طرح ڈھال کے ذریعے انسان تلوار کے وار سے اپنے آپ کو بچاتا ہے، اسی طرح یہ بھی مسلمانوں کی اپنے خلاف کسی جوابی کارروائی سے قسموں کے ذریعے اپنے آپ کو بچاتے ہیں بھئی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھو بلوایا، فورا قسمیں وغیرہ اٹھانا شروع کر دیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین آ گیا اس طرح وہ اپنے آپ کو بچا لیتے ہیں بھئی، قسموں کے ذریعے معنی سمجھ میں آ گیا بھئی، إتخذوا أيمانهم جنة بنا رکھا ہے انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال، فصدوا عن سبيل الله، پس روک روکتے ہیں عن سبيل الله، اللہ کے راستے سے۔ پس یہ روکتے ہیں اللہ کے راستے سے۔ اللہ کے راستے سے کس طرح روکتے ہیں؟ بھئی دیکھیے، یہ بظاہر تو انہوں نے کلمہ پڑھ رکھا تھا۔ بظاہر تو سچ کے سامنے یہ مسلمان تھے، لیکن دل میں کافر تھے، چنانچہ جہاں کہیں کسی اور کے پاس بھی بیٹھتے تو مسلمانوں کے خلاف اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر عیب لگاتے، اعتراضات کرتے، طعن کرتے تھے، وہ دوسرے جو لوگ ہوتے تھے جو مسلمان نہیں ہوتے تھے، وہ بھی سنتے، تو ان پہ بھی بڑا اثر ہوتا کہ یہ تو ہیں ہی مسلمان، جب یہ اپنے پیغمبر کے بارے میں اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں، معلوم ہوا وہ برحق نہیں ہے بھئی، چنانچہ وہ رک جاتے بھئی، کہ مسلمان ایک بات ہمیں بتلا رہا ہے، تو ان سے بڑھ کر کون جانتا ہوگا ان کو بھئی۔ فصدوا عن سبيل الله، پس یہ روکتے ہیں اللہ کے راستے سے، انهم ساء ما كانوا يعملون، یقیناً یہ جو ہیں بہت برا ہے، وہ جو یہ عمل کرتے ہیں۔ ذلك بأنهم آمنوا، اور یہ اس وجہ سے ہے، ذلك بسبب انهم آمنوا، یہ بات سببیہ ہے، اور یہ اس وجہ سے ہے کہ یہ ایمان لے کر آئے، ثم كفروا، پھر انہوں نے کفر کیا۔ یعنی زبان سے ایمان لائے اور دل سے کفر کیا۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ یہ ایمان لے کر آئے، ثم كفروا، پھر کفر کیا، فطبع على قلوبهم، پس مہر لگا دی گئی ان کے دلوں پر، فہم لا يفقهون، پس یہ سمجھتے نہیں ہیں۔ یہ سمجھتے نہیں ہیں۔ ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی، قبول حق کی صلاحیت ہی ان کی ختم کر دی گئی بھئی۔ کیونکہ یہ دل یہ زبان سے ایمان لانے کے بعد دل سے انہوں نے پھر کیا کیا؟ کفر کیا، تو اس ان کے اس عمل کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی، اب اس میں حق قبول کرنے کی صلاحیت اور استعداد رہی ہی نا۔ تو یہ پس مہر لگا دی ان کے دلوں، مہر لگا دی گئی ان کے دلوں پر، فہم لا يفقهون، پس یہ سمجھتے نہیں ہیں، وإذا رأيتهم تعجبك أجسامهم، اور جب آپ ان کو دیکھیں، جب آپ ان کو دیکھیں، تعجبك، تو اچھے لگیں آپ کو، أجسامهم، ان کے جسم۔ بڑے ڈیل ڈول والے اور مضبوط بظاہر بھئی۔ تو جسم ان کو دیکھیں تو جسم کے اعتبار سے آپ کو یہ بڑے اچھے لگے، بڑے مضبوط، قوی، طاقتور۔ وإذا رأيتهم، اور جب آپ دیکھیں ان کو، تعجبك أجسامهم، تو آپ کو اچھے لگیں، آپ کو پسند آئیں، أجسامهم، ان کے جسم۔ وإن يقولوا، اور اگر وہ بات کریں، تسمع لقولهم، تو آپ سنتے رہیں، ان کی باتیں، اور جب یہ بات کریں تو آپ ان کی باتیں سنتے رہیں بھئی، اتنی لچھے دار، اتنی چرب زبانی کہ جو بھی انسان ان کی بات سنتا ہے، وہ ان کی باتیں سننے ہی میں مگن ہو جاتا ہے بھئی، ایسے زبان ایسے زبان آور لوگ ہیں۔ وإن يقولوا تسمع لقولهم، اور اگر یہ بات کریں، تسمع لقولهم، تو آپ سنتے رہیں، آپ سننے لگیں، لقولهم، ان کی باتیں، كأنهم، یہ خصوصاً یہ جو عبداللہ بن ابی، عبداللہ بن عبداللہ بن ابی سلول بھئی، یہ رئیس المنافقین، یہ خود خصوصاً بڑے ڈیل ڈول والا اور جسم والا تھا اور بڑا فصیح اللسان تھا بھئی، بولنا شروع کرتا تو ساری باتیں چھوڑ کر دوسروں کی طرف متوجہ ہونے کی وجہ سے سارے اسی کی طرف متوجہ ہو جایا کرتے تھے، بڑا چرب زبان آدمی تھا۔ اور یاد رکھیے بھئی، ایک نکتہ بتلاؤں آپ کو، عبداللہ بن ابی ابن ابی سلول، عبداللہ بیٹا کس کا؟ عبداللہ ابن ابی، نام پہ نظر رکھیں، عبداللہ ابن ابی ابن ابی سلول۔ بیٹا کس کا؟ ابی کا، اچھا۔ اور ابی کس کا بیٹا؟ ابی سلول کا نہیں، یاد رکھنا نہیں، ایسا نہیں۔ یہ عبداللہ جو تھا، اس کے باپ کا نام ابی ہے، اور ابی سلول اس کی ماں کا نام ہے بھئی۔ ابی سلول اس کی، ہاں تو یہ جو نام کے اندر ترتیب آ رہی ہے، اس سے شبہ پڑتا ہے کہ شاید یہ اس کا ابی سلول دادا نہیں، بھئی دادا نہیں، یہ اس کی ماں ہے بھئی، تو یہ اسی نام سے مشہور تھا، عبداللہ ابن ابی، ابی کا بیٹا۔ اور ابن ابی سلول، ابی سلول ماں جو ہے، وہ اس کی اس کا بیٹا بھئی، ان ماں باپ کا بیٹا۔ ترکیب سمجھ میں آ گئی بھئی۔ وإن يقولوا تسمع لقولهم، اور اگر یہ بات کریں تو آپ ان کی بات سننے لگیں، كأنهم خشيب مسذة، خشپ جمع ہے خشپ کی لکڑی بھئی۔ گویا کہ یہ لکڑیاں ہیں مسندہ سہارا دی ہوئی ٹیک لگائی ہوئی۔ سند ٹیک کو کہتے ہیں نا ٹیک کو تو کانہُم خشپ مُسندہ گویا کہ یہ لکڑیاں ہیں مسندہ سہارا دی گئی۔ بھئی جو لکڑی ہے کاٹی ہوئی لکڑی اس میں سے جو کام کی لکڑی ہوتی ہے وہ تو چھت کے اندر لگ گئی کھڑکیوں میں لگ گئی دروازوں میں لگ گئی شہتیر وغیرہ اس کے بن گئے اور جو بیکار ہوتی ہے اس کو دیوار کے ساتھ سہارا دے کر کھڑا کر دیا جاتا ہے ایک طرح اور وہ کسی کام کی نہیں ہوتی بس دیکھنے میں تو ٹھیک لگ رہی ہے لیکن کسی کام کی نہیں۔ اور مضبوط ہے لیکن کھڑے ہونے میں بھی یہ سہارے کی محتاج ہے بغیر سہارے کے کھڑے نہیں ہو سکتی۔ تو اللہ فرما رہے ہیں کہ یہ بھی اسی طرح ہیں۔ یہ منافقین بھی اسی طرح ہیں جیسے لکڑی ہوتی ہے اور لیکن جو بیکار ہوتی ہے اس کو دیوار کے ساتھ سہارا دے کر کھڑا کر دیا جاتا ہے تو اسی طرح یہ بھی بڑے جسم وغیرہ رکھتے ہیں لیکن بالکل بیکار اور ردی چیز ہیں اور جو کہ اپنے سہارے اپنے پاؤں پر قائم بھی نہیں ہیں یہ جو سہارا بنے ہوئے ہیں ان کے ساتھ یہ یہود وغیرہ کے سہارے پر بلبوتے پر یہ کچھ جو سازشیں وغیرہ یا کچھ باتیں کرتے ہیں خود ان کے اندر کچھ کرنے کی صلاحیت بھی نہیں ہے بالکل بیکار اور ردی چیز ہیں۔ کانہم خشپ مُسندہ گویا کہ یہ لکڑیاں ہیں سہارا دی گئیں یحسبون کل صیحۃ علیہم یہ گمان کرتے ہیں ہر چیخ کو علیہم اپنے اوپر۔ کوئی بھی شور شرابہ کہیں ذرا شروع ہو یہ دور سنتے ہی ایک دم چونک پڑتے ہیں آنکھیں کھل کھل جاتی ہیں کان متوجہ ہو جاتے ہیں کہ پتہ نہیں میرا کون سا راز فاش ہو گیا میرا کون سا پردہ فاش ہو گیا شاید یہ سارے میری طرف ہی آ رہے ہیں بھئی۔ کیونکہ کرتوت ہی اس قسم کے ہر جگہ جھوٹ بولنا ہر جگہ دھوکہ دینا چرب زبانی سے کام لینا لچھے دار گفتگو کرنا اور اس طرح ہر ایک کو قدم قدم پر دھوکہ دینا مسلمانوں کو دھوکہ دینا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دھوکہ دینا تو جہاں کہیں ذرا شور شروع ہوتا ہے ذرا کوئی آواز اونچی آتی ہے یہ وہیں پر کانپ اٹھتے ہیں کہ شاید ہماری کوئی بات کھل گئی لوگوں پر اور وہ اب ہماری طرف ہی آ رہے ہیں بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی۔ یحسبون کل صیحۃ علیہم یہ گمان کرتے ہیں ہر چیخ کو اپنے اوپر۔ ھُم العدو فاحذربھم یہ دشمن یہی دشمن ہیں فاحذربھم پس آپ ان سے بچیے۔ اللہ فرما رہے ہیں ھُم العدو یہ منافقین دشمن ہیں فاحذربھم پس آپ ان سے بچیے ان کے بارے میں ہوشیار رہیے۔ قاتلہم اللہ ان پر اللہ کی مار پڑے انّا یُفکون یہ کہاں پھیرے جاتے ہیں۔ یہ کہاں پھیرے جاتے ہیں۔ قاتلہم اللہ ان پر اللہ کی مار پڑے انّا یُفکون کہاں یہ پھیرے جاتے ہیں۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا بھئی۔ وإذا قیل لہم تعالوا یستغفر لکم رسول اللہ اور جب ان سے کہا جاتا ہے تعالوا کہ تم آؤ یستغفر لکم تمہارے لیے مغفرت مانگ لیں رسول اللہ اللہ کے رسول جب ان کی کوئی غلطی ظاہر ہوتی ہے جیسے اس موقع پر ان کی غلطی ظاہر ہوئی اور اللہ نے بتلا دیا تو ان کو جا کر مسلمان کہتے ہیں کہ بھئی ابھی بھی وقت ہے تم جاؤ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آؤ ہمارے ساتھ ہم تمہیں لے کر چلتے ہیں حضور علیہ السلام تمہارے لیے اللہ سے معافی کی درخواست کریں گے تو اللہ یقیناً تمہیں معاف فرما دیں گے آئندہ کے لیے ٹھیک ہو جاؤ۔ تو یہ اس وقت بھی تکبر سے سر ہلاتے ہیں اور حضور علیہ السلام کے پاس نہیں آتے۔ وإذا قیل لہم تعالوا یستغفر لکم رسول اللہ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم آؤ تمہارے لیے مغفرت مانگ لیں اللہ کے پیغمبر لوءو رؤوسہم تو یہ پھیرتے ہیں اپنے سروں کو۔ لوءو رؤوسہم یہ پھیرتے ہیں یہ موڑتے ہیں پھیرتے ہیں اور موڑتے ہیں اس کا معنی یہ موڑتے ہیں اپنے سروں کو وراّیتہم یصدون کہ یہ باز رہتے ہیں رکتے ہیں وحم مستکبرون اس حال میں کہ یہ تکبر کرنے والے ہوتے ہیں یہ تکبر کرتے ہوئے رکے رہتے ہیں باز رہتے ہیں نہیں جاتے اللہ کے پیغمبر کے پاس۔ لوءو رؤوسہم یہ اپنے سروں کو موڑتے ہیں وراّیتہم یصدون وحم مستکبرون اور آپ دیکھتے ہیں کہ یہ تکبر کرتے ہوئے باز رہتے ہیں تکبر کرتے ہوئے رکے رہتے ہیں۔ تو لوءو رؤوسہم کا کیا معنی کیا میں نے۔ سروں کو موڑتے ہیں۔ بعض علماء نے ہمارے اس کا ترجمہ کیا سروں کو مٹکاتے ہیں۔ جب ان سے کہا جاتا ہے اللہ کے پیغمبر کے پاس کہ وہ تمہاری مغفرت کریں تو یہ سروں کو مٹکاتے ہیں اور رکے رہتے ہیں تکبر کرتے ہوئے۔ تو یہ بڑا پیارا ترجمہ کیا اپنے سروں کو مٹکاتے ہیں جس کے اندر اس ترجمے کے اندر مکاری اور تکبر کا پہلو ان کا نمایاں ہو رہا ہے بھئی۔ سر موڑتے ہیں یعنی سر مٹکاتے ہیں یعنی سر موڑتے ہیں معنی وہی ہے لیکن اس لفظ مٹکانے کو جو استعمال کیا اس میں مکاری اور ان کے تکبر کی طرف اشارہ ہو گیا۔ سواء علیہم استغفرت لہم ام لم تستغفر لہم لن یغفر اللہ لہم سواء علیہم برابر ہے ان پر استغفرت لہم۔ استغفرت کون سا صیغہ ہے۔ جی باب استفعال سے جی تو وہ تو استغفرت ہے۔ ہاں شاباش یہ استغفرت تھا بھئی حمزہ استفہام داخل ہوا استغفرت کہ حمزہ وصلی پر تو جب حمزہ وصلی سے ماقبل اب حرکت آ گئی تو اب حمزہ وصلی کی ضرورت نہ رہی بھئی۔ استغفرت لہم سواء علیہم برابر ہے ان پر استغفرت لہم ام لم تستغفر لہم کہ آپ ان کے لیے مغفرت طلب کریں ام لم تستغفر لہم یا ان کے لیے مغفرت طلب نہ کریں لن یغفر اللہ لہم ہرگز اللہ ان کو معاف نہیں کریں گے ان اللہ لا یہدی القوم الفاسقین یقیناً اللہ ہدایت نہیں دیتے نافرمان لوگوں کو۔ ان کے لیے برابر ہے پیغمبر کہ آپ ان کے لیے اللہ سے مغفرت طلب کریں یا مغفرت طلب نہ کریں اللہ ان کو ہرگز معاف نہیں کریں گے اللہ نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیتے۔ ہم الذین یقولون لا تنفقوا اب دیکھو وہ ان کی باتیں آ رہی ہیں جو انہوں نے کی تھیں وہاں پر رات کے وقت خیموں کے خیمے میں بیٹھ کر بھئی جو حضور علیہ السلام کے خلاف باتیں کرتے رہے تھے۔ ہم الذین یقولون وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں لا تنفقوا علی من عند رسول اللہ کہ تم لوگ خرچ نہ کرو ان پر علی من ان پر عند رسول اللہ جو اللہ کے پیغمبر کے پاس ہیں یعنی جو لوگ اللہ کے پیغمبر کے پاس ہیں یعنی جو مہاجرین ہیں ان پر تم لوگ خرچ نہ کرو۔ انہوں نے کیا کہا تھا کہ ہم نے ان کو جگہ دی ہے ہم ان پر خرچ کرتے ہیں اب یہ چھت تک آ گئے کہ ہمارا مقابلہ کریں تو ایک دوسرے کو کہہ رہے ہیں کہ اب آج کے بعد ان پر کوئی خرچ نہ کرے کوئی ان کی مدد نہ کرے تو کھانے پینے کو نہیں ملے گا تو خود ہی بکھر جائیں گے۔ ہم الذین یقولون یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں لا تنفقوا علی من عند رسول اللہ کہ تم لوگ خرچ نہ کرو ان لوگوں پر جو اللہ کے پیغمبر کے پاس ہیں حتی ینفضوا یہاں تک کہ وہ بکھر جائیں۔ ان پر خرچ نہ کرو یہاں تک کہ وہ بکھر جائیں ان پر خرچ نہیں کرو گے کھانے کو نہیں ملے گا کچھ دنوں میں خود ہی سارا مجمع ختم ہو جائے گا حتی ینفضوا یہاں تک کہ وہ بکھر جائیں۔ اللہ فرما رہے ہیں بھئی تم خرچ نہیں کرو گے تو کیا ہوگا کیا زمین اور آسمان کے خزانے تمہارے ہیں وہ تو سارے اللہ کے قبضے میں ہیں وللہ خزائن السموات والارض اور اللہ کے لیے ہیں خزانے آسمانوں کے اور زمین کے ولکن المنافقین لا یفقھون لیکن منافقین سمجھتے نہیں ہیں یقولون کہتے ہیں لئن رجعنا إلی المدینۃ اگر ہم لوٹے مدینہ کو لخرجن الاعز منھا الأزل تو البتہ ضرور نکالے گا عزت والا منھا اس مدینہ سے الازل ذلت والے کو۔ عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین کیا کہتا ہے کہ لئن رجعنا إلی المدینۃ لخرجن الاعز منھا الأزل کہ اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹے تو ضرور نکالے گا عزت والے کو اس مدینہ سے عزت والا عزت والا نکالے گا اس مدینہ سے ذلت والے کو۔ اللہ فرما رہے ہیں وللہ العزۃ ولرسولہ وللمؤمنین اور اللہ کے لیے عزت ہے اور اس کے رسول کے لیے اور مومنین کے لیے یہ تو اپنے آپ کو عزت کا عزت کہتے ہیں حالانکہ عزت تو ساری کس کے لیے ہے بذات تو اللہ کے لیے ہے اور اس کے بعد درجہ بدرجہ جو اللہ سے تعلق رکھنے والے ہیں تو اللہ فرماتے ہیں وللہ العزۃ ولرسولہ وللمؤمنین اور اللہ کے لیے عزت ہے اور اس کے رسول کے لیے اور مومنین کے لیے ولکن المنافقین لا یعلمون لیکن منافق نہیں جانتے۔ عبداللہ بن ابی یہ خود تو رئیس المنافقین تھا بھئی منافقوں کا سردار تھا لیکن ان کا بیٹا عبداللہ بن عبداللہ وہ بڑا مخلص صحابی تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے۔ تو دیکھیے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں کہ وہی اللہ ہے جو مردہ سے زندہ کو نکالتا ہے تو باپ دیکھو مردہ ہے ایمان کی حرارت اور روشنی دل میں ہے ہی نہیں اور بیٹا اللہ نے کیسا مخلص عطا فرمایا بھئی تو وہ ایمان کی حرارت سے اور ایمان کے نور سے اس کا دل معطر اور زبان معطر ہے بھئی چنانچہ بھئی کہ روایات میں آتا ہے۔ کہ ان کو یہ خبر پہنچی کہ میرے باپ نے اس طرح کہا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اندازہ تو لگائیے ذرا صحابہ کی جان نثاری کا بھئی۔ وہ باپ جس نے تمام عمر پرورش کی ہے کھلایا پلایا سب کچھ خیال رکھا شفقت کی لیکن جب پیغمبر کی محبت دل میں آتی ہے تو ساری محبتیں ایک طرف ہو جاتیں بھئی۔ چنانچہ جب ان کو خبر ملی کہ میرے باپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اس قدر گستاخانہ کلمات کہے ہیں کہ مدینہ پہنچ کر عزت والا ذلت والے کو نکال دے گا تو کہتے ہیں یہ جب مدینہ کے قریب پہنچے تو یہ ننگی تلوار لے کر راستے میں کھڑے ہو گئے اپنے باپ کے راستے میں اور کہنے لگے کہ اقرار کرو کہ تم ذلت والے ہو اور اللہ کے پیغمبر عزت والے ہیں نہیں تو زندہ نہیں چھوڑوں گا اور مدینہ کے اندر داخل نہیں ہونے دوں گا۔ حتی یہاں تک کہ آخر بالاخر باپ کو اقرار کرنا پڑا کہ میں ذلت والا ہوں اور اللہ کے پیغمبر عزت والے ہیں پھر جا کر اس کو مدینہ میں داخل ہونے دیا بھئی تو صحابہ عجیب لوگ تھے بھئی۔ ایک اور موقع پر کہتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور فرمانے لگے یا رسول اللہ آپ حکم دیں تو میں ابھی اپنے باپ کی گردن اتار کر آپ کی خدمت میں پیش کر دوں بھئی۔ یا ایہا الذین آمنوا لا تلہکم اموالکم ولا اولادکم عن ذکر اللہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو لا تلہکم تمہیں غفلتے میں نہ ڈال دے الحا یلحق الحا یلحق کے معنی غفلتے میں ڈال۔ یا ایہا الذین آمنوا لا تلہکم اموالکم ولا اولادکم عن ذکر اللہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو تمہیں غفلت میں نہ ڈال دیں تمہارے مال اور تمہاری اولادیں عن ذکر اللہ اللہ کے ذکر سے کہیں تمہارے مال اور تمہاری اولاد جو ہیں وہ تمہیں اللہ کے ذکر سے غفلت میں نہ ڈال دیں۔ یہ مال اور اولاد اللہ کے ذکر سے غفلت میں ڈالنے والی چیزیں ہیں بھئی مراد ساری دنیا کی چیزیں ہیں بھئی تو خصوصاً یہ غفلت میں ڈالنے والی ہیں تو ان کا ذکر آیا خصوصاً اور اگلی سورت میں بھی ان کا ذکر آ رہا ہے جس میں ان کو فتنہ کہا گیا تو یہ غفلت میں ڈالنے والی اور فتنہ ہیں انسان کے لیے آزمائش ہیں کہ ان کی وجہ سے انسان انہی کے اندر لگ جاتا ہے اولاد کی فرمائشیں پوری کرنے میں لگا رہتا ہے حق نہ حق کو بھول جاتا ہے اور ان کو خوش کرنے کے لیے ان کی فرمائشیں پوری کرنے کے لیے ان کے خرچے پورے کرنے کے لیے ہر راستے کو اختیار کر لیتا ہے تو اللہ فرما رہے ہیں یا ایہا الذین آمنوا لا تلہکم اموالکم ولا اولادکم عن ذکر اللہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو تمہیں غفلت میں نہ ڈال دیں تمہارے مال اور نہ تمہاری اولاد اللہ کے ذکر سے ومن یفعل ذلک فأولئک ھم الخاسرون اور جو کوئی یہ کرے گا تو وہ وہ لوگ خسارے والے ہیں نقصان اٹھانے والے ہیں وانفقوا مما رزقنکم من قبل ان یاتی احدکم الموت اور خرچ کرو اے ایمان والو خرچ کرو وانفقوا اور تم خرچ کرو مما رزقنکم اس میں سے جو ہم نے تمہیں رزق دیا من قبل ان یاتی احدکم الموت اس سے پہلے کہ آ جائے تم میں سے کسی ایک پر الموت موت بھئی۔ الموت یہ فاعل ہے یاتی کے لیے اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی ایک پر موت آ جائے فقول ربی تو وہ کہنے لگے ربی اے میرے پروردگار لولا اخرتنی إلی اجل قریب لولا اخرتنی آپ نے کیوں مجھے مہلت نہیں دی مجھے مؤخر نہیں کیا اے اے ہمارے پروردگار اے میرے پروردگار آپ نے کیوں مجھے مؤخر نہیں کیا یعنی مجھے مہلت نہیں دی إلی اجل قریب ایک قریبی مدت کے لیے یعنی تھوڑی سی اللہ آپ نے مجھے مہلت اور کیوں نہیں دی تھوڑی سی مجھے اور مہلت دے دیتے فاصدق تو میں صدقہ کرتا وکو من الصالحین اور ہو جاتا نیکوں میں سے نیک لوگوں میں سے نیک لوگوں میں سے ہو جاتا ولن یؤخر اللہ نفسا إذا جاء اجلھا اور ہرگز اللہ مؤخر نہیں کرتے کسی جان کو اذا جاء اجلھا جب اس کا جب اس کا وقت آ جاتا ہے جب اس کی مدت آ جاتی ہے واللہ خبیر بما تعملون اور اللہ باخبر ہیں جو کچھ تم عمل کرتے ہو۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی۔ وانفقوا مما رزقنکم من قبل ان یاتی احدکم الموت فقول ربی لولا اخرتنی إلی اجل قریب اور خرچ کرو اس میں سے جو ہم نے تمہیں رزق دیا اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی پر موت آ جائے تو وہ کہنے لگے اے پر اے میرے پروردگار آپ نے مجھے کچھ تھوڑی سی مدت اور مہلت کیوں نہیں دی تو میں صدقہ کرتا اور نیکوں میں سے نیکوکاروں میں سے ہو جاتا نیک لوگوں میں سے ہو جاتا ولن یؤخر اللہ نفسا اذا جاء اجلھا آگے اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ ہرگز مؤخر نہیں فرماتے کسی جان کو یعنی اس کو مہلت نہیں دیتے کسی جان کو اذا جاء اجلھا جب اس کا جب اس کی اجل یعنی اس کا وقت مقررہ آ جاتا ہے واللہ خبیر بما تعملون اور اللہ باخبر ہیں جو کچھ تم عمل کرتے ہو۔ چلیے بھئی ھذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام
88 approved lectures · 84 of 88