اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
و فی ثمود إذ قیل لہم تمتعوا حتی حین فعتوا عن أمر ربہم فأخذتہم الصاعقۃ و ہم ینظرون فما استطاعوا من قیام و ما کانوا منتصرین
و فی ثمود أی و ترکنا فی ثمود آیۃ اور قوم ثمود میں بھی ہم نے ایک نشانی چھوڑی یعنی ان کے ہلاک کرنے میں ہم نے ایک نشانی چھوڑی
و فی ثمود و فی ثمود إذ قیل لہم تمتعوا حتی حین اور قوم ثمود میں إذ قیل لہم جب ان سے کہا گیا تمتعوا کہ تم نفع اٹھاؤ حتی حین کچھ وقت تک ایک وقت تک تم کیا کر لو نفع اٹھا لو اس دنیا کے اندر جس قدر تم لوگ سرکشی کرتے ہو کچھ نفع اٹھا لو پھر اللہ کے عذاب کا مزہ چکھنے کے لیے تیار رہو
و فی ثمود إذ قیل لہم تمتعوا حتی حین اور قوم ثمود میں جب کہا گیا ان سے کہ تم نفع اٹھاؤ ایک وقت تک فعتوا عن أمر ربہم فعتوا پس انہوں نے سرکشی کی عن أمر ربہم اپنے پروردگار کے حکم سے فأخذتہم الصاعقۃ
صاعقہ عذاب کو کہتے ہیں بھئی یہ لفظ پہلے بھی گزر چکا صاعقہ عذاب یا آسمان سے گرنے والی وہ بجلی جس کی بڑی زوردار کڑک ہوتی ہے بھئی
آسمان سے گرنے والی وہ بجلی جس کی بڑی زوردار کڑک ہوتی ہے فأخذتہم الصاعقۃ پس ان کو عذاب نے پکڑ لیا
ایک معنی دوسرا میں نے بتلایا وہ بجلی جس کی بڑی زوردار کڑک ہوتی ہے وہ کڑک والی بجلی اس کو چنانچہ بعض نے یہ ترجمہ کیا فأخذتہم الصاعقۃ پس ان کو کڑک نے پکڑ لیا
و ہم ینظرون اس حال میں کہ وہ دیکھ رہے تھے یہ حال ہے ہم ضمیر سے جو ماقبل میں آئی
فعتوا عن أم فعتوا عن أمر ربہم فأخذتہم الصاعقۃ و ہم ینظرون پس انہوں نے سرکشی کی اپنے پروردگار کے حکم سے پس پکڑ لیا ان کو کڑک نے کہ وہ دیکھ رہے تھے اس حال میں کہ وہ وہ دیکھ رہے تھے
فما استطاعوا من قیام و ما کانوا منتصرین پس وہ استطاعت نہیں رکھتے تھے من قیام کھڑے ہونے کی و ما کانوا منتصرین انتصر کے کیا معنی ہوتے ہیں پہلے بھی گزر چکا بدلہ لینا بھئی بدلہ لینا و ما کانوا منتصرین اور نہ وہ بدلہ لینے والے تھے
فما استطاعوا من قیام پھر نہ تو وہ کھڑے ہو سکے و ما کانوا منتصرین اور نہ ہی بدلہ لے سکے بھئی
بڑی سرکشی کرنے والے قوم تھے لیکن جب ہماری طرف سے عذاب آیا تو پھر ان کی یہ حالت ہوئی نہ تو وہ کھڑے ہونے کے قابل رہے اور نہ ہی اپنا بدلہ لینے کے قابل رہے
فما استطاعوا من قیام و ما کانوا منتصرین پس نہ تو وہ کھڑے ہونے کی استطاعت رکھتے تھے اور نہ ہی وہ بدلہ لے سکتے تھے یا فما استطاعوا من قیام و ما کانوا منتصرین پس نہ تو وہ کھڑے ہو سکے اور نہ وہ بدلہ لے سکے
و قوم نوح من قبل أی أہلکنا قوم نوح من قبل اور ہم اور قوم نوح کو اس سے پہلے یعنی ہم نے ہلاک کیا قوم نوح کو اس سے پہلے إنہم کانوا قوما فاسقین بیشک وہ فاسق لوگ تھے
و السماء بناہا بأید و إنا لموسعون
بأید رسم الخط دیکھ رہے ہیں بھئی بأید ایک دندان اور یا کا ہے ایک یہ دندان زائد یہ قرآن کا رسم الخط ہے میں نے بتلایا قرآن کا اپنا رسم الخط ہے عام عربی قواعد کے مطابق ایک ہی دندان ہونا چاہیے تھا لیکن یہاں دو دندان ہیں بھئی
و السماء بناہا بأید اور آسمان کے بنایا ہم نے اس کو اپنے ہاتھوں سے یعنی اپنی قدرت سے ہم نے اس کو اپنی قدرت سے بنایا و إنا لموسعون اور بیشک ہم وسیع قدرت والے ہیں
ترجمے پر نظر ہے بھئی و السماء بناہا بأید اور آسمان کے بنایا ہم نے اس کو بیہی بأید اپنی قدرت سے بأید قدرت سے و إنا لموسعون اور بیشک ہم وسیع قدرت والے ہیں
عربی میں کہتے ہیں کوئی شخص جب قوت والا اور قدرت والا ہو جائے تو کہتے ہیں اوسع الرجل کیا کہتے ہیں اوسع الرجل قدرت والا ہوا وہ تو اسی سے موسعون ہم کیا ہیں قدرت وسیع قدرت والے ہیں
و إنا لموسعون بیشک ہم وسیع قدرت والے ہیں
ایک ترجمہ دوسرا ترجمہ و إنا لموسعون اور بیشک ہم وسعت پیدا کرنے والے ہیں ہم وسیع کرنے والے ہیں
معنی یہ کہ ہم نے آسمان کو بنایا اور ہم نے اس میں وسعت پیدا کی خوب وسیع بنایا اس کو بھئی معنی سمجھ میں آیا
و السماء بناہا بأید و إنا لموسعون بیشک آسمان کو ہم نے اپنی قدرت سے بنایا و إنا لموسعون اور بیشک ہم البتہ وسعت پیدا کرنے والے ہیں وسیع بنانے والے ہیں
اور یاد رکھیے یہ اسم فاعل ہے اسم فاعل
اسم فاعل
آپ کہتے ہیں زید ضارب جبکہ وہ پٹائی کرنے والا ہو اب دیکھو زید کو جو آپ نے ضارب کہا ہو سکتا ہے اس نے پانچ دن پہلے کسی کی پٹائی کی تھی آج آپ اس کو کہہ رہے ہیں زید ضارب زید کیا ہے پٹائی کرنے والا ہے
ہو سکتا ہے ابھی وہ کسی کی پٹائی کر رہا ہو تو آپ کہیں گے زید ضارب زید کیا ہے پٹائی کر رہا ہے
ہو سکتا ہے اس نے کہا ہو میں کل عمر کی پٹائی کروں گا آپ آج ہی اس کو کہہ دیتے ہیں زید ضارب زید پٹائی کرنے والا ہے
تو اسم فاعل کا اطلاق ماضی کے اعتبار سے بھی ہو سکتا ہے حال کے اعتبار سے بھی اور مستقبل کے اعتبار سے لیکن یاد رکھو حال کے اعتبار سے ہو تو یہ ہے حقیقت
اس وقت زید پٹائی کر رہا ہے اور آپ کہیں زید ضارب زید کیا ہے پٹائی کرنے والا ہے اس وقت وہ حقیقتاً ضارب ہے یہ ہے حقیقت
اور ماضی کے اعتبار سے اگر کہیں ضارب تو یہ مجاز ہے کیونکہ زید ضارب کو تو کیا معنی زید پٹائی کرنے والا ہے اور اس وقت وہ پٹائی کرنے والا ہے اس وقت کر رہا ہے پٹائی نہیں یہ تو کب کی اس نے پٹائی ماضی میں کی تھی تو اس آپ تو اس وقت اس کو ضارب کہہ رہے ہیں اس وقت تو وہ ضارب نہیں ہے لیکن آپ اس کو ضارب کہہ رہے ہیں تو یہ مجاز ہے یہ کیا ہے اسی طرح مستقبل میں وہ کرے گا ابھی تو نہیں کر رہا لیکن آپ تو ابھی کہہ رہے ہیں زید ضارب زید پٹائی کرنے والا ہے تو یہ بھی مجاز ہے
تو اسم فاعل حال کے معنی میں ہو تو حقیقت ہے ماضی یا مستقبل کے معنی میں ہو تو مجاز ہے یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی
و إنا لموسعون اور بیشک ہم البتہ وسیع کرنے والے ہیں
بعض نے یہ ترجمہ کیا ایک ترجمہ تو میں نے پہلے بیان کیا و إنا لموسعون بیشک ہم وسیع قدرت والے ہیں اس میں صرف قدرت کی وسعت کا بیان ہے ہم بڑی قدرت والے ہیں
اور دوسرا و إنا لموسعون اس سے کہ ہم وسیع کرنے والے ہیں یعنی آسمانوں کو کس کو آسمانوں کو اور کب کیا وسیع اللہ نے آسمانوں کو زمانہ ماضی میں تو یہاں اس میں فاعل حقیقی معنی میں ہوا یا مجازی معنی میں مجازی معنی میں ہوا بات سمجھ میں آ گئی تو یہ و إنا لموسعون بھئی یہ معنی مجاز مجازی اعتبار سے ہے کہ ہم وسعت پیدا کرنے والے ہیں یعنی ہم نے وسعت پیدا کی آسمانوں کو بڑا وسیع بنایا یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی
جدید ترجمہ سنیں بھئی جدید ترجمہ تو وہی بیشک ہم وسعت پیدا کرنے والے ہیں وسیع کرنے والے ہیں
لیکن اب سائنس نے بتلایا کہ یہ ستارے یہ کہکشائیں جن کو ہم خوردبین دوربینوں سے دیکھتے ہیں یہ بڑی رفتار سے ایک دوسرے سے دور بھاگ رہی ہیں
یوں لگتا ہے جیسے کائنات ابھی بھی پھیلتی جا رہی ہے
یوں معلوم ہوتا ہے جیسے کائنات ابھی بھی پھیلتی جا رہی ہے تو جدید نظریہ یہ ہے کہ اس وقت بھی کائنات پھیل رہی ہے بھئی
تو یہ معنی کیا جائے تو و إنا لموسعون حقیقت میں آ گیا بھئی ہم اس میں کیا کہا ہم وسیع کرنے والے ہیں یعنی اس وقت بھی ہم کیا کر رہے ہیں اس کو وسیع کرتے چلے جا رہے ہیں ہم وسیع کرنے والے ہیں بھئی فرق سمجھ میں آیا بھئی
کہتے ہیں ستارے اس طرح ایک دوسرے سے دور بھاگ رہے ہیں جیسے آپ غبارہ پھلائیں اور اس پر نقطے لگا دیں قلم سے
اور پھر اس کے بعد آپ مزید اس میں ہوا بھرنا شروع کریں تو نقطے ایک دوسرے سے دور ہوں گے یا نہیں ہوں گے غبارہ پھیلتا چلا جائے گا نقطے ایک دوسرے سے اسی طرح ستارے ایک دوسرے سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں معلوم ہوا یہ کائنات پھیل رہی ہے بھئی
تو معلوم ہوا یہ لموسعون اپنے یہ حقیقت ہے مجاز نہیں ہے بھئی
و السماء بناہا بأید و إنا لموسعون اور آسمان کے بنایا ہم نے اس کو اپنے ہاتھ اپنی قدرت سے اور بیشک ہم وسیع کرنے والے ہیں یعنی وسیع کر رہے ہیں
و الأرض فرشناہا فنعم الماہدون اور زمین کے ہم نے اس کو فرشناہا اس کو بچھونا بنایا ہم نے اس کو بچھایا
اور زمین کے ہم نے اس کو بچھایا فنعم الماہدون پس کیا ہی اچھا بچھانے والے ہیں ہم
نعم افعال مدح میں سے یہ آپ پڑھ چکے ہیں یہ ایک فاعل چاہتا ہے ایک مخصوص بالمدا
فاعل تو الماہدون ہے مخصوص بالمدا محذوف ہے وہ کیا ہوگا نحن فنعم الماہدون نحن
پس کتنا اچھا بچھانے والے ہیں ہم معنی سمجھ میں آگیا بھئی اور یہ انشاء کے لیے آتا ہے انشاء مدح کے لیے اس میں خبر نہیں ہوتی بلکہ انشاء مدح ہے یعنی مدح کی جا رہی ہے کسی چیز کی
و الأرض فرشناہا فنعم الماہدون اور زمین کے ہم نے اس کو بچھایا پس کیا ہی اچھا بچھانے والے ہیں ہم
و من کل شیء خلقنا زوجین لعلکم تذكرون اور ہر چیز سے ہم نے پیدا کیے جوڑے تاکہ تم نصیحت قبول کرو تاکہ تم نصیحت حاصل کرو
و من کل شیء خلقنا اور ہر چیز سے ہم نے پیدا کیے زوجین جوڑے
تو بعض اسی جنس کے جوڑے ہیں مذکر مونث بھئی مذکر اور مونث
بعض ضدین سے جوڑے ہیں صبح ہے تو اس کے مقابلے میں ہم نے رات بنائی سردی ہے تو اس کے مقابلے میں گرمی بنائی دن ہے تو اس کے مقابلے میں رات بنائی خوشی ہے تو اس کے مقابلے میں غم بنایا
خوشی ہے تو اس کے مقابلے میں غم بنایا اور اسی طرح بھئی اضداد ہیں مشرق ہے تو اس کے مقابلے میں مغرب بنائی شمال ہے تو اس کے مقابلے میں جنوب بنایا تو ہر چیز کے جوڑے جوڑے ہم نے بنا دیے
اور میں نے یہ پہلے بھی بتلایا تھا کہ پہلے تو یہ علم نہیں تھا کہ پودوں میں بھی نر و مادہ ہوتے ہیں اب جوں جوں سائنس ترقی کر رہی ہے اللہ کی
نئی نئی قدرتیں جن سے ہم پہلے واقف نہیں تھے اب سامنے آ رہی ہیں کہ اللہ نے کیا کیا مخلوقات کس کس طرح کی پیدا کی ہیں بھئی
درختوں پودوں کے اندر بھی بعض پودے ہی نر ہوتے ہیں وہ جو پھول پیدا کرتے ہیں وہ بعض پودے مادہ ہوتے ہیں ان کے پھولوں کے ساتھ ان کے وہ ذرات جا کر ملیں گے تو پھر آگے بیج بنیں گے ورنہ بیج نہیں بنیں گے بھئی
و من کل شیء خلقنا زوجین لعلکم تذكرون اور ہر چیز میں ہم نے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو
ففروا إلی اللہ فر یفر کے معنی بھاگنے کے ہیں یاد رکھیے ایک صرفی نقطہ ہمیشہ یاد رکھیں اسان سا ہے
فر یفر مضاف ہے مادہ کیا ہے فا را را
فا را را دو را ہیں یہ مضاف ہے ایک کی حرف دو جنس کے آئیں تو اس کو کیا کہتے ہیں مضاف
مضاف اگر فعل اگر باب ضربہ سے آئے تو وہ لازمی ہوتا ہے
یعنی فعل متعدی نہیں ہوگا بلکہ کیا ہوگا فعل لازم فر یفر کے معنی بھاگنا اس کے لیے مفعول کی ضرورت نہیں ہے فر زید زید بھاگا مفعول کی ضرورت نہیں
اور اگر یہی مضاف باب نصرہ سے آئے تو اس کے لیے مفعول چاہیے ہوگا یہ فعل متعدی ہوگا مد یمد کے معنی لمبا کرنا بڑھانا تو اس کے لیے مفعول چاہیے مددت یدی میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اپنا ہاتھ لمبا کیا صورت سمجھ میں آ گئی بھئی
تو یہ ضابطہ یاد رکھیں یہ بڑی جگہ آپ کو کام دے گا مضاف اگر فعل اگر باب ضربہ سے آئے تو وہ فعل لازم ہوتا ہے اور اگر باب نصرہ سے آئے تو وہ فعل متعدی ہوتا ہے
ففروا إلی اللہ پس تم بھاگوا اللہ کی طرف إنّی لكم منہ نذیر مبین بیشک میں تمہارے لیے اس کی طرف سے نذیر مبین واضح ڈرانے والا ہوں
بیشک میں تمہیں اس کی طرف سے واضح ڈرانے والا ہوں
إنّی لكم منہ نذیر مبین ففروا إلی اللہ إنّی لكم منہ نذیر مبین پس تم لوگ بھاگوا اللہ کی طرف بیشک میں تمہیں اس سے واضح ڈرانے والا ہوں واضح خبردار کرنے والا ہوں
و لا تجعلوا مع اللہ إلہا آخر اور تم نہ بناؤ اللہ کے ساتھ اور معبود تم اللہ کے ساتھ اور معبود نہ بناؤ
إنّی لكم منہ نذیر مبین بیشک میں تمہیں اس سے واضح خبردار
کذا لک ما ات الذین من قبلهم من رسول الا قالوا ساحر او مجنون
اسی طرح کذا لک اسی طرح ما ات الذین من قبلهم نہیں آیا ان لوگوں کے پاس جو ان سے پہلے تھے من رسول کوئی رسول الا قالوا مگر یہ کہ انہوں نے کہا ساحر او مجنون کہ یہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے جادوگر ہے یا دیوانہ
اللہ فرما رہے ہیں جیسے یہ لوگ آپ کو جادوگر یا دیوانہ کہتے ہیں اسی طرح پہلے جو لوگ تھے ان کے پاس جب بھی کوئی پیغمبر آیا انہوں نے ہمیشہ یہی بات کی کہ یہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے معنی سمجھ میں آیا بھئی
ما ات الذین الذین یہ مفعول ہے آتا کے لیے کذا لک ما ات الذین من قبلهم من رسول اسی طرح نہیں آیا ان لوگوں کے پاس جو ان سے پہلے تھے کوئی رسول الا قالوا ساحر او مجنون مگر یہ کہ انہوں نے کہا کہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے
یہ تو ما اور الا کے ساتھ تھا با محاورہ ترجمہ کیا ہوگا
اسی طرح وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے ان کے پاس جو بھی رسول آیا انہوں نے یہی کہا کہ یہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے
اتوافقوہ به
توافق وصیت سے ہے وصیت سے اور باب تفاعل ہے
باب اور باب تفاعل کا کیا خاصہ ہے
یہ جانبین سے فعل کو چاہتا ہے جانبین سے فعل کو چاہتا ہے
مفروض آپ کہتے ہیں تضارب زید عمرو زید اور عمرو نے ایک دوسرے کی پٹائی کی جانبین سے فعل آیا
مار زید بھی پٹائی کرنے والا اور عمرو بھی زید اور عمرو دونوں نے ایک دوسرے کی پٹائی کی تو یہاں بھی باب تفاعل ہے
اتوافقوہ کیا انہوں نے ایک دوسرے کو وصیت کی ہے بہ اس کی کیا ایک دوسرے کو یہ وصیت کرتے چلے آئے ہیں
اللہ فرما رہے ہیں یہ لوگ بھی آپ کو یہی کہتے ہیں کہ آپ جادوگر ہیں یا دیوانے ہیں اس سے پہلے بھی جتنی کافر قومیں گزری تھیں ان کے پاس جب بھی کوئی پیغمبر آتا تھا وہ یہی کہتے تھے کہ یہ جادوگر ہے یا دیوانہ کیا یہ ایک دوسرے کو نصیحت کرتے ایک دوسرے کو وصیت کرتے چلے آئے ہیں کہ یہ کہنا کہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہر ایک یہی بات کرتا ہے
آگے اللہ فرماتے ہیں کہ بل هم قوم طاغون یعنی یہ ایسی بات نہیں وصیت نہیں کی بل هم قوم طاغون بلکہ یہ لوگ ہی سرکش ہیں بھئی
یہ لوگ ہی بل هم قوم طاغون بلکہ یہ سرکش لوگ ہیں
اتوافقوہ به کیا انہوں نے ایک دوسرے کو یہ وصیت کی ہے اس قول کی وصیت کی ہے بل هم قوم طاغون بلکہ یہ لوگ سرکش ہیں
فتول عنهم فساپ ان سے رخ پھیر لیجیے ان سے اعراض کیجیے
فما انت بملوم پس آپ نہیں ہیں ملامت کیے ہوئے
پس آپ ملامت کیے ہوئے نہیں ہیں یعنی آپ پر کوئی ملامت نہیں ہے فتول عنهم پس آپ ان سے رخ پھیر لیجیے فما انت بملوم پس آپ ملامت کیے ہوئے نہیں ہیں یعنی آپ پر کوئی ملامت نہیں ہے آپ کا کام پہنچا دینا ہے
منوانا آپ کا کام نہیں ہے آپ پر کوئی ملامت نہیں آپ نے اپنا کام کر دیا ان کو خوب اچھے طریقے سے بار بار ان کو پیغام پہنچا دیا
وذکر
اور نصیحت کرتے رہیے فان الذکرا تنفع المومنین
بس بے شک کیونکہ نصیحت جو ہے تنفع المومنین وہ نفع دیتی ہے اہل ایمان کو
وذکر اور نصیحت کیجیے فان الذکرا تنفع المومنین پس بے شک نصیحت مومنین کو نفع دیتی ہے
وذکر فان الذکرا تنفع المومنین اور آپ نصیحت کیجیے کیونکہ نصیحت جو ہے وہ مومنین کو نفع دیتی ہے
وذکر آپ نصیحت کیجیے فان الذکرا میں نے کیا ترجمہ کیا
آپ نصیحت کیجیے کیونکہ بے شک نصیحت مومنین کو نفع یاد رکھیے یہ کبھی کبھار فا تعلیلیہ آتا ہے فا کیا کہتے ہیں تعلیمی ما قبل کی علت بیان کرتا ہے
ما قبل کی علت وہاں اس کا ترجمہ کیونکہ کے ساتھ کریں گے
وذکر اور آپ نصیحت کیجیے فان الذکرا تنفع المومنین کیوں نصیحت کیجیے وجہ کیا ہے علت کیا ہے کیونکہ نصیحت مومنین کو نفع دیتی ہے بھئی معنی سمجھ میں آگیا بھئی
تو یہ کتابوں میں استعمال ہوتی ہے یہ اس طرح فا تو آپ اس کے مطابق ترجمہ کر سکتے ہیں بھئی
وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون اور میں نے نہیں پیدا کیا جن اور انسانوں کو الا لیعبدون مگر یہ کہ وہ میری عبادت کریں
لیعبدون می یہ نون کا کسرہ کیا بتلا رہا ہے
یا حذف ہوئی ہے بھئی
وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون اور میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا مگر یہ کہ وہ میری عبادت کریں با محاورہ ترجمہ کیا ہوگا بھئی
میں نے جنوں اور انسانوں کو اپنی عبادت ہی کے لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں میری عظمت کا اقرار کریں میری بندگی بجا لائیں بھئی
معنی سمجھ میں آیا بھئی
کتنے واضح لفظوں میں قرآن میں اللہ فرما رہے ہیں کہ میں نے جن اور انسانوں کو صرف اور صرف اپنی عبادت کے لیے اور اب اپنی عظمت کا اقرار کرنے کے لیے میں نے ان کو
ان کو اس لیے پیدا کیا کہ وہ میری عظمت کا اقرار کریں میری بندگی کریں
اور
پھولوں وغیرہ کی بعض کتابوں میں انہوں نے لکھا ہوتا ہے
کہ
انسانوں اور جنوں کو اللہ نے اپنی عبادت کے لیے پیدا نہیں کیا
اگر عبادت کی بات ہوتی تو اس کے لیے تو فرشتے ہی کافی تھے
پتہ نہیں اب ہوگا یا نہیں جب ہم پڑھتے تھے اسکول میں اس وقت تو یہ صریح بات مجھے اب تک یاد ہے پتہ نہیں کس جماعت کی اسلامیات میں شامل تھی بھئی اسلامیات
تو یہ اسلامیات لکھنے والے بھی حیرت ہوتی ہے
کہ اتنی بڑی اتنی سنگین غلطی بھئی قرآن کے بالکل واضح اور صریح خلاف ایک بات طلباء کو سکھائی جا رہی ہے
تو پتہ نہیں اب بھی اس طرح کی باتیں ہوں گی یا نہیں تو
یہ عدم علم علم نہ ہو تو اس طرح غلطیاں ہوتی ہیں بھئی
یہ اللہ کی بڑی نعمت ہے کہ اس خطے کے اندر اسلامی مدارس کثرت سے موجود ہیں
اسلامی مدارس اور یہ جو اسلام کچھ دکھائی دیتا ہے یہ انہی مدارس کی برکت ہے بھئی انہی مدارس
سمجھ میں آیا جہاں مدارس ہیں وہاں اسلام ہے
جہاں مدارس ختم ہوئے وہاں سے اسلام ہی ختم ہو جاتا ہے
جیسے یہ
روس کا علاقہ سمرقند و بخارا آپ نے سنا ہوگا یہ روس کا علاقہ تھا سمرقند و بخارا بھئی اسلام کا بہت بڑا مرکز تھا ہمارے بڑے بڑے جبال العلوم بڑے بڑے علماء بڑے بڑے ائمہ وہاں کے رہنے والے تھے امام بخاری وہاں کے رہنے والے امام ترمذی وہاں کے رہنے والے امام مسلم وہاں کے رہنے والے صاحب ہدایہ وہاں کے رہنے والے جتنے آپ دیکھیں بڑے بڑے بہت اکثر آپ کو بڑے بڑے علم کے جو پہاڑ ہیں آپ کو اسی علاقے کے دکھائی دیں گے
تو جب اور وہ مرا مرکز تھا اسلام کا بھئی مدارس کا
بے شمار مدارس تھے بڑے بڑے علماء اولیاء تھے خانقاہیں تھیں
اسلام کا مرکز تھا جہاں سے دوسرے لوگ آ کر اسلام سیکھا کرتے تھے
اور پھر وہاں وہ مدارس ختم ہوئے تو اسلام بھی مٹ گیا اب تو کچھ پھر بہتر ہوئی تبلیغی جماعت کی برکت سے تبلیغی جماعتیں روس کے اس علاقے میں جاتی ہیں
ورنہ
یہ ابھی اب سے صرف دس پندرہ بیس سال پہلے یہ حالت تھی اس علاقے میں جو اسلام کا مرکز تھا
کہ
وہاں پر کلمہ پڑھنے والا نہیں ملتا تھا بھئی
لوگوں کی یہ حالت تھی پوچھتے تھے مسلمان ہو جی ہاں میں مسلمان ہوں کلمہ سناؤ کلمہ تو مجھے نہیں آتا
بھئی پھر کیسے مسلمان ہو بس ہم نے اپنے بڑوں سے اس طرح سنا ہے کہ ہم مسلمان ہیں
جنت جہنم اللہ کو جانتے ہو نہیں یہ تو مجھے نہیں پتہ
اس حد تک اس حد تک جہالت آگ گئی اسلام سے بے خبری آگئی یہ مدارس ختم ہوئے تو تو یہ مدارس یہ اللہ کی بہت بڑی نعمت اور بہت بڑا فضل ہے اس علاقے کے لوگوں پر
کہ
یہاں یہ دین نظر آ رہا ہے
تو یہ خیر و برکات جو تھیں یہ سمرقند و بخارا روس کے علاقے میں تھیں جن کو اللہ نے پھر برصغیر میں منتقل کر دیا
اب دنیا کے بڑے بڑے علم کے مراکز برصغیر پاکستان ہندوستان وغیرہ ان علاقوں میں ہیں بھئی تو وہ برکات اللہ نے یہاں منتقل کر دیں دعا کرو اللہ تا قیامت ان برکات کو اسی علاقے میں اسی طرح باقی رکھے اور ان میں
اور اضافہ فرماتے رہیں بھئی
اللہ کے ہاں تو کوئی کمی نہیں اگر اس علاقے سے اٹھا لیں گے دوسرے علاقے کو مرکز بنا دیں گے
تو بس دعا کرو اللہ ان برکات کو تا قیامت باقی رکھے اور ہمارے قیامت تک آنے والی نسلوں کو بھی اللہ ایمان پر ہی باقی رکھے ایمان پر
اور ہم سب کا خاتمہ بھی اللہ ایمان پر فرمائے
اور بغیر حساب کتاب کے اللہ ہم سب کو جنت الفردوس نصیب فرمائے
وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اپنی عبادت ہی کے لیے پیدا کیا ہے ما ارید منهم من رزق وما ارید ان یطعمون
میں نہیں چاہتا ان سے من رزق کوئی رزق میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا جن اور انسانوں سے وما ارید ان یطعمون اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ ان یطعمونی کہ وہ کیا کریں مجھے کھلائیں بھئی
وما ارید ان یطعمون
اور میں نہیں چاہتا کہ وہ مجھے کھانا کھلائیں ان یطعمونی
یہ یہاں بھی یا حذف ہوئی ہے
یا متکلم
ما ارید منهم من رزق وما ارید ان یطعمون میں نہیں چاہتا ان سے کوئی رزق اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں
ان اللہ هو الرزاق ذوالقوة المتین یقینا اللہ ہی وہ رزق دینے والا ہے ذوالقوة قوت والا ہے
المتین مضبوط ہے
ان اللہ هو الرزاق ذوالقوة المتین یقینا اللہ وہ رزق دینے والے ہیں قوت والے ہیں المتین مضبوط ہیں
فان للذین ظلموا ذنوبا مثل ذنوب اصحابهم فلا يستعجلون
ذنوب بھئی یاد رکھیے ذنوب کا ایک معنی ہے حصہ
معنی کیا ہوا حصہ تو یوں ترجمہ ہوگا فان للذین ظلموا ذنوبا بے شک وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا ان کے لیے حصہ ہے
یعنی کس میں سے حصہ عذاب میں سے فان للذین ظلموا ذنوبا مثل ذنوب اصحابهم پس بے شک وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا ان کے لیے حصہ ہے جیسے کہ حصہ تھا ان
مثل ذنوب اصحابهم جیسے کہ ان کے ساتھیوں کا حصہ
جیسے کہ ان کے سا یہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا ان کے لیے بھی ایک حصہ ہے جیسے کہ ان کے ساتھیوں کے
مثل ذنوب اصحابهم ان کے ساتھیوں کے حصے کی طرح
ان کے ساتھیوں کے
پس بے شک وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا ان کے لیے ایک حصہ ہے ان کے ساتھیوں کے حصے کی طرح فلا يستعجلون
پس یہ جلدی نہ کریں
فلا يستعجلونی
یہاں بھی یا محذوف بھئی
پس یہ مجھ سے
جلدی نہ کریں
معنی سمجھ میں آگیا
جیسے ان کے
ساتھی جو تھے یعنی جو ان کی طرح شرک کرنے والے تھے جیسے ان کا کے لیے عذاب میں حصہ تھا وہ ان کو کچھ دنیا میں ان پر ان پر وہ عذاب آیا اور کچھ حصہ جو ان کا آخرت میں ہے ان
تو یہ جیسے ان کا حصہ تھا عذاب میں اسی طرح ان لوگوں کا بھی عذاب میں ایک حصہ ہے فلا يستعجلون پس یہ مجھ سے جلدی نہ کریں جلدی نہ مچائیں
یعنی اس کو جلدی نہ طلب کریں
یہ تو ایک معنی ذنوب کا کیا معنی کیا
حصہ ذنوب کا دوسرا معنی بھئی
ذنوب کہتے ہیں بڑے ڈول کو بھئی
کنویں سے پانی کس کے ذریعے نکالتے ہیں ڈول کے ذریعے پانی نکالا جاتا ہے وہ برتن جس سے پانی نکالتے ہیں کنویں سے وہ ڈول کہلاتا ہے تو
اور ڈول جو ہے
یہ جب خالی ہو تو یہ پانی کے اوپر تیرتا ہے
اور پھر جوں جوں یہ بھرتا چلا جائے گا ڈوبتا جائے گا جب پورا بھر جائے گا تو بالکل ڈوب جائے گا بھئی
تو اللہ فرما رہے ہیں فان للذین ظلموا ذنوبا بے شک وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا ان کے لیے ڈول ہے جیسے کہ
ان کے ساتھیوں کے لیے ڈول تھا
یعنی جیسے ان کے لیے ڈول تھا ان کے لیے بھی ڈول ہے ان کا ڈول بھر گیا تو ڈوب گیا اسی طرح ان کا ڈول بھی گناہوں سے بھر جائے گا تو ڈوب جائے گا فلا يستعجلون تو یہ مجھ سے جلدی نہ کریں
یہ کہتے تھے نا آتا کیوں نہیں وہ عذاب آتا کیوں نہیں جی ہمیں کہتے ہو اللہ فرما رہے ہیں جلدی نہ کریں
ان کے لیے بھی وہ عذاب کا ڈول ہے وہ تو وہ ان پر آئے گا
فویل للذین كفروا من یومهم الذي یوعدون پس ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر کیا من یومهم ان کے اس دن سے الذي یوعدون جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے
فویل للذین كفروا من یومهم الذي یوعدون پس ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر کیا ان کے اس دن سے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے
جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے
اس دن
ان لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر کیا ہلاکت ہے
اس دن ان کے لیے کچھ عذاب تو دنیا ہی میں یہ چکھ لیں گے اور وہ دن جس کو طلب کر رہے ہیں وہ بھی آ جائے گا پھر جس دن ان کو پورا عذاب دیا جائے گا بھئی معنی سمجھ میں آگیا بھئی فویل للذین كفروا من یومهم الذي یوعدون پس ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر کیا ان کے اس دن سے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے
چلیے بس والهدف والمرام واللہ اعلم بحقیقة الکلام