Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-074

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 12 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ بالله من الشيطان الرجيم. بسم الله الرحمن الرحيم. قل يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم لا تقنطوا من رحمة الله إن الله يغفر الذنوب جميعا إنه هو الغفور الرحيم. قل آپ کہہ دیجیے. قل اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے یا عبادی الذين أسرفوا على أنفسهم اسرف یسرف کے معنی زیادتی کرنا. يا عبادی الذين أسرفوا على أنفسهم اے میرے وہ بندو جنہوں نے زیادتی کی ہے اپنی جانوں پر (یعنی گناہ وغیرہ کیے ہیں بھئی). لا تقنطوا من رحمة الله تم مایوس نہ ہو من رحمة الله اللہ کی رحمت سے. إن الله يغفر الذنوب جميعا بے شک اللہ بخش دیں گے تمام گناہوں کو. إنه هو الغفور الرحيم بے شک وہ بہت بخشنے والے بہت مہربان ہیں. قل يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے کہ اے میرے وہ بندو جنہوں نے زیادتی کی ہے اپنی جانوں پر لا تقنطوا من رحمة الله تم مایوس نہ ہو اللہ کی رحمت سے إن الله يغفر الذنوب جميعا بے شک اللہ بخش دیں گے تمام گناہوں کو إنه هو الغفور الرحيم بے شک وہ بہت بخشنے والے بہت مہربان ہیں. تو اس آیت کے اندر اللہ کی شان مغفرت بیان ہو رہی ہے. کہ کسی شخص نے کتنے ہی گناہ کیے ہوں. تمام زندگی چاہے اس نے گناہوں کے اندر بسر کی ہو. चाहे कोई हिंदू हो चाहे यहूदी हो ईसाई हो. تمام زندگی شرک میں بے شک بسر کی ہو. ان کو پیغام دیا جا رہا ہے کہ وہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے. اللہ تمام گناہوں کو معاف فرما دیں گے. کوئی شخص اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو اس نے زندگی بھر میں کتنے ہی گناہ کیے ہوں پھر بھی جب وہ اللہ کی طرف رجوع کرے گا اللہ اس کے تمام گناہوں کو معاف فرما دیں گے. بے شک اللہ بہت بخشنے والے بہت مہربان ہیں. تو اس آیت میں اللہ کی عظیم رحمت بیان ہوئی. لیکن اس کا یہ معنی بھی نہیں. پھر کہ گناہوں پر جرات کی جائے کہ اللہ تو معاف فرمانے والے ہیں. اور اس کا یہ معنی بھی نہیں کہ پھر توبہ ہی نہ کی جائے کہ اللہ تو بہت معاف فرمانے والے ہیں. ہاں اللہ جس کو چاہیں گے معاف فرما دیں گے. البتہ شرک کے بارے میں اللہ نے اعلان فرما رکھا ہے کہ میں شرک کو نہیں بخشوں گا کسی صورت میں. شرک کرنے والے کو معاف نہیں کروں گا. تو باقی کسی شخص نے کتنے ہی گناہ کیے ہوں اسے اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے. اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے. روایات میں اتا ہے. کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا. اس نے ننانوے قتل کیے تھے. ننانوے قتل کرنے کے بعد. پھر اسے خیال آیا توبہ کا. چنانچہ وہ چلا ایک آ پوچھا بڑا عالم کون ہے لوگوں نے بتلایا فلاں جگہ رہتا ہے اس کے پاس پہنچا. اور کہنے اس سے کہنے لگا کہ میں نے ننانوے قتل کیے ہیں بھئی. ننانوے قتل اندازہ تو لگائیے بھئی قتل کتنا عظیم گناہ ہے بھئی. کیا میری توبہ کی کوئی صورت ہے وہ عالم کہنے لگا نہیں تمہاری توبہ ننانوے قتل کیے ہیں تمہاری توبہ کی کوئی صورت نہیں ہے. کہتے ہیں اس نے اس شخص نے اس عالم کو بھی قتل کر دیا بھئی سو پورے ہو گئے بھئی. تو سو قتل اس نے کر دیے پھر پوچھا اور کوئی بڑا عالم جس سے میں پوچھوں. بتلایا گیا فلاں علاقے میں رہتا ہے ایک بڑا عالم اس سے جا کر پوچھ لو. اس کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ میں سو قتل کر چکا ہوں کیا میری توبہ کی کوئی صورت ہے. سو عالم نے کہا کیوں نہیں اللہ کے طرف سے توبہ کے دروازے زندگی کی آخری سانس تک کھلے ہیں جتنے بھی گناہ کیے ہوں اللہ کی رحمت بڑی وسیع ہے. تم یوں کرو فلاں بستی میں چلے جاؤ وہاں بڑے کچھ نیک لوگ اور عبادت کرنے والے لوگ رہتے ہیں. جو شب و روز اللہ کی عبادت میں مصروف رہتے ہیں تم بھی ان کے پاس جاؤ اور وہاں توبہ کرو عبادت میں مشغول ہو جاؤ اور پھر مڑ کر بھی واپس اپنی بستی کی طرف نہ جانا. چنانچہ وہاں سے یہ چل پڑا اس بستی کی طرف. عین درمیان میں پہنچا تو موت کا وقت آ گیا بھئی. اور موت آ گئی اس کا انتقال ہوا. اب فرشتے اس کی روح روح لینے کے لیے آئے. عذاب کے فرشتے آ گئے کہ بھئی ہم اس کی روح لے کر جائیں گے. اس نے سو قتل کیے ہیں زندگی بھر گناہ کرتا رہا ہے کوئی نیکی کا کام نہیں کیا. دوسری طرف رحمت کے فرشتے آ گئے کہ نہیں اس کی روح ہم لے کر جائیں گے. یہ توبہ کی نیت سے چل پڑا تھا اگرچہ توبہ کی تو نہیں تھی لیکن توبہ کا ارادہ تو اس نے کر لیا تھا. چنانچہ فرشتوں میں جھگڑا ہونے لگا. رحمت والے فرشتے کہتے ہیں ہم روح لے کر جائیں گے عذاب والے فرشتے کہتے ہیں ہم روح لے کر جائیں گے اس کی تو اللہ نے ایک تیسرے فرشتوں کو بھیجا. اور اس نے جا کر کہا کہ میں تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہوں. یوں کرو. جہاں سے یہ چلا ہے اور جس بستی کی طرف جا رہا ہے ان دونوں کے درمیان فاصلہ ناپ لو. اگر یہ توبہ والی بستی کے زیادہ قریب ہے تو رحمت والے فرشتے اس کی روح لے جائیں اور اگر یہ جہاں سے چلا ہے اس کے زیادہ قریب ہے. تو وہ عذاب والے فرشتے اس کی روح کو لے جائیں چنانچہ وہ راضی ہو گئے. اب وہ جگہ کو مانپنے لگے تو اللہ کی طرف سے زمین کو حکم ہوا. کہ وہ جگہ جو توبہ والی بستی کی جانب جو زمین تھی اس کو حکم ہوا کہ وہ سمٹ جائے. اور جو دوسری جانب کی زمین تھی. ادھر سے وہ چلا تھا اس کو حکم ہوا کہ وہ پھیل جائے لمبی ہو جائے. چنانچہ جب ماپا گیا تو توبہ کی بستی کے وہ زیادہ قریب نکلا. بعض روایتوں میں اتا ہے توبہ والی بستی سے. کی طرف صرف ایک بالشت وہ زیادہ قریب تھا صرف. صرف ایک بالشت. اور چنانچہ بھئی پھر رحمت والے فرشتے اس کو لے گئے بھئی تو دیکھو اللہ کی رحمت بڑی وسیع ہے. اللہ زندگی کے آخری لمحے تک. انسان کو موقع دیتے ہیں کہ اب بھی لوٹ آؤ اب بھی لوٹ آؤ. میری طرف سے توبہ کے دروازے کھلے ہیں بھئی اللہ کی رحمت بڑی وسیع ہے بھئی. وأنيبوا إلى ربكم اور رجوع کرو تم اللہ کی طرف. انا انبو کے معنی رجوع کرنے کے. وأنيبوا إلى ربكم اور تم رجوع کرو اپنے پروردگار کی طرف وأسلموا له اور اس کے فرمانبردار ہو جاؤ من قبل أن يأتيكم العذاب. اس سے پہلے کہ آ جائے تم پر عذاب ثم لا تنصرون پھر تمہاری مدد نہ کی جائے. وأنيبوا إلى ربكم وأسلموا له اور تم رجوع کرو اپنے پروردگار کی طرف اور اس کے فرمانبردار ہو جاؤ من قبل أن يأتيكم العذاب اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آ جائے ثم لا تنصرون پھر تم پھر تمہاری مدد نہیں کی جائے گی. واتبعوا أحسن ما أنزل إليكم من ربكم. اور پیروی کرو احسن ما انزل الیکم اس اچھی اس بہترین بات کی جو انزل الیکم جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے من ربكم تمہارے پروردگار کی طرف سے. واتبعوا أحسن ما أنزل إليكم من ربكم اور تم پیروی کرو اس بہترین بات کی انزل الیکم جو نازل کی گئی ہے تمہاری طرف من ربكم تمہارے پروردگار کی طرف سے. تم پیروی کرو اس بہترین بات کی جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہاری طرف نازل کی گئی ہے. مراد اس سے قرآن ہے بھئی. کیا مراد ہے اس سے؟. وہ بہترین بات جو تمہاری طرف تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل کی گئی وہ قرآن ہے بھئی. واتبعوا أحسن ما أنزل إليكم من ربكم اور پیروی کرو تم اس بہترین بات کی جو نازل کی گئی ہے تمہاری طرف تمہارے پروردگار کی طرف سے من قبل أن يأتيكم العذاب بغتة. اس سے پہلے کہ آ جائے تم پر عذاب بغتة اچانک. اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آ جائے وأنتم لا تشعرون اور تم کو خبر بھی نہ ہو. أن تقول نفس. نفس يا حسرة على ما فرطت في جنب الله وإن كنت لمن الساخرين. أن تقول. بھئی أن تقول کا عطف ہے. أن يأتيكم. پچھلی آیت میں کیا آیا تھا اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آ جائے اور اس سے پہلے کہ أن تقول نفس کہ کوئی شخص کہے. يا حسرة. یا حسرة یہ اصل میں ہے یا حسرتی یا متکلم کی ہے. پھر اس یا متکلم کو عربی میں کبھی کبھار الف سے بدل دیا جاتا ہے. تو کیا بن گیا یا حسرتا. معنی وہی ہے بھئی ہائے افسوس. یا. کیا ترجمہ کر لیں؟ اے افسوس. أن تقول نفس یہ کہ کہنے لگے کوئی شخص یا حسرتا اے افسوس على ما فرطت بنا پر اس کے جو میں نے. فر فرط یفرط تفریط کے معنی ہیں حد سے کمی کرنا. ہائے افسوس على ما فرطت جو میں نے انتہائی کمی کی في جنب الله. جنب جنب پہلو کو بھی کہتے ہیں اور سمت کو بھی کہتے ہیں سمت. یعنی جانب جانب۔ جنب پہلو کو بھی کہتے ہیں اور سمت یعنی جانب کو بھی کہتے ہیں، اور یہاں مضاف محذوف ہے بھئی لفظ اللہ سے پہلے۔ في جنب طاعۃ اللہ یا في جنب حق اللہ۔ یہ کہ کہنے لگے کوئی شخص یا حسرتا اے افسوس! ہلا ما فرط تو وہ جو میں نے حد سے کمی کی في جنب فی جنب اللہ یعنی فی جنب طاعۃ اللہ اللہ کی اطاعت کی سمت میں یعنی اللہ کی اطاعت میں، یعنی اللہ کی اطاعت میں یا فی جنب حق اللہ اللہ کے حق کی جانب میں یعنی اللہ کے حق میں، اللہ کے حق میں، جو میں نے حد سے کمی کی اللہ کی اطاعت میں یا یوں کہیں، جو میں نے حد سے کمی کی اللہ کے معاملے میں، اللہ کے معاملے میں، اللہ کے حق میں، وإن كنت لمین الصاخرین۔ إن یاد رکھیے بھئی! یہ إن شرطیہ نہ سمجھنا بھئی، یہ إن مخففہ من الثقیلہ ہے۔ اصل میں کیا تھا، إنّ پھر ایک نون کو حذف کر دیا جاتا ہے کبھی کبھار اور اس کو إن مخففہ کہتے ہیں، اور یہ بات پہلے گزر چکی ہے کہ اس صورت میں پھر یہ ایسے افعال پر بھی داخل ہو جاتا ہے کہ جو خود پھر آگے کس پر داخل ہوتے ہیں، اسم اور خبر پر بھئی۔ تو اس صورت میں یہ اس کے عمل کو لغو لغو کرنا جائز ہو جاتا ہے۔ وإن كنت لمین الصاخرین، اور بے شک میں ساخر مذاق اڑانے والا بھئی، اور بے شک میں لمین الصاخرین، البتہ مذاق اڑانے والوں میں سے تھا۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ اللہ فرما رہے ہیں واتبعوا احسن ما انزل الیکم من ربکم تم پیروی کرو اس بہترین بات کی جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے تمہارے پروردگار کی طرف سے، اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آ جائے اور تم کو خبر بھی نہ ہو اور اس سے پہلے کہ کہنے لگے کوئی شخص ہائے افسوس! علٰی ما فرطت في جنب اللہ، وہ جو میں نے حد سے کمی کی اللہ کی اطاعت میں، اور بے شک میں مذاق اڑانے والوں میں سے تھا، استہزا کرنے والوں، ہنسی اڑانے والوں میں سے تھا، بے شک میں ہنسی اڑانے والوں میں سے تھا، او تقول یا یہ کہے لو ان اللہ ہداني لکنتم من المتقین، اگر اللہ مجھ کو ہدایت دیت ہدایت دیتے لکنتم من المتقین تو البتہ میں متقیوں میں سے ہوتا۔ یا یہ کہے، اس کا بھی اسی پر عطف ہے بھئی تقول جو پیچھے گزرا أن تقول، او تقول یا یہ کہے لو ان اللہ ہداني اگر اللہ مجھ کو ہدایت دیتے لکنتم من المتقین تو میں متقیوں میں سے ہوتا، او تقول یا یہ کہے حینہ تر العذاب جس وقت عذاب کو دیکھے لو ان لي کرۃ فأکون من المحسنین، اگر میرے لیے لوٹنا ہوتا، کرۃ کا معنی ہے لوٹنا، کرۃ لوٹنا۔ سمجھ میں آیا بھئی کرۃ کا کیا معنی؟ لوٹنا، پلٹنا۔ اسی سے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو حیدر کرار کہا جاتا ہے، اسی کر سے ہے بھئی۔ کرار پلٹنے والا یہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی جنگ کا کوئی لڑائی کا اور جنگ کا کوئی مخصوص طریقہ تھا، پلٹ پلٹ کر حملے کرتے تھے بھئی، تو اسی سے کیا کہا جاتا ہے ان کو حیدر کرار بھئی۔ او تقول یا کہے کوئی نفس حینہ تر العذاب جس وقت وہ عذاب کو دیکھے لو ان لي کرۃ اگر میرے لیے لوٹنا ہو یعنی دنیا کی طرف، اگر میرے لیے جس وقت عذاب کو دیکھ لے گا اس وقت کہے گا کہ کاش لو ان لي کرۃ کاش میرے لیے لوٹنا ہو یعنی دنیا کی طرف فأکون من المحسنین تو میں کس میں سے ہو جاؤں گا؟ نیکی نیکی کرنے والوں میں سے، میں نیکی کرنے والوں میں سے ہوں گا۔ او تقول یا یہ کہنے لگے کوئی شخص حینہ تر العذاب جس وقت عذاب کو دیکھ لے، اس وقت یہ کہنے لگے لو ان لي کرۃ اگر میرے لیے لوٹنا ہوتا، یعنی دنیا کی طرف فأکون من المحسنین تو میں نیکی کرنے والوں میں سے ہو جاتا۔ اگر میرے لیے دنیا میں واپس لوٹنا، لوٹنے کا مجھے موقع مل جائے تو میں نیکی کرنے والوں میں سے ہوں گا۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ یعنی عذاب کو جب دیکھ لے گا بھئی اللہ فرما رہے ہیں کہ تم اس بہترین بات کی پیروی کرو جو اللہ کی طرف سے تمہاری طرف نازل کی گئی، اس سے پہلے کہ کوئی شخص کہنے لگے جس وقت وہ عذاب کو دیکھے لو ان لي کرۃ اگر میرے لیے لوٹنا ہو فأکون من المحسنین تو میں نیکی کرنے والوں میں سے ہو جاؤں گا۔ بلاء کیوں نہیں؟ بلاء کا کیا معنی ہے؟ کیوں نہیں؟ اور یہ جو اس نے پیچھے کہا تھا نا لو ان اللہ ہداني لکنتم من المتقین، اگر اللہ مجھ کو ہدایت دیتے تو میں متقیوں میں سے ہوتا، پرہیزگاروں میں سے ہوتا۔ یعنی اس کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے مجھے ہدایت دی نہیں، اللہ نے مجھے راستہ بتلایا ہی نہیں سیدھا راستہ، اگر اللہ مجھے سیدھا راستہ بتلا دیتے، دکھا دیتے تو میں ضرور اس پر چلتا۔ اللہ فرما رہے ہیں بلاء کیوں نہیں؟ کیوں نہیں اللہ نے تمہیں راستہ دکھایا قد جاءتک آیاتی تحقیق آئی تھیں تیرے پاس میری آیتیں فکذببت بھا پس تو نے ان کو جھٹلایا واستکبرت اور تو نے تکبر کیا وكنت من الكافرین اور تو انکار کرنے والوں میں سے تھا۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ بلاء کا تعلق کس سے ہے؟ جو اس نے پیچھے کہا تھا کہ اگر اللہ مجھے ہدایت دیتے تو میں متقیوں میں سے ہوتا یعنی کہنے کا مطلب یہ تھا کہ اللہ نے مجھے ہدایت نہیں دی، راستہ نہیں دکھایا اللہ فرما رہے ہیں بلاء کیوں نہیں؟ اللہ نے تمہیں راستہ دکھایا، قد جاءتک آیاتی تحقیق آئی تھی تمہارے پاس میری آیتیں فکذببت بھا تو نے ان کو جھٹلایا واستکبرت اور تکبر کیا وكنت من الكافرین اور تو کفر کرنے والوں میں سے تھا۔ ويوم القیامۃ تر الذین کذبوا علی اللہ وجوہہم مسودۃ ويوم القیامۃ اور دیکھی قیامت کے دن تر الذین آپ دیکھیں گے ان لوگوں کو کذبوا علی اللہ جنہوں نے جھوٹ باندھا اللہ پر وجوہہم مسودۃ ان کے چہرے سیاہ ہوں گے۔ اور آپ دیکھیں گے قیامت کے دن وہ لوگ جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا بھئی۔ بھئی تمام انکار کرنے والے اس میں آ گئے۔ پیغمبر آ کر کہتے ہیں مجھے اللہ نے بھیجا ہے، اللہ نے یہ پیغام دیا، وہ جھٹلاتے ہیں کہ نہیں بھئی! اللہ نے کوئی پیغام دے کر، کوئی کتاب دے کر آپ کو نہیں بھیجا، تو ان سب باتوں میں کیا ہے؟ اللہ کو جھٹلانا یعنی اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے۔ وجوہہم مسودۃ ان کے چہرے سیاہ ہوں گے ألیس في جہنم مثوى للمتکبرین کیا نہیں ہے جہنم میں ٹھکانہ تکبر کرنے والوں کا؟ وینجي اللہ الذین اتقوا بمفازتہم اور نجات دیں گے اللہ وینجي اللہ اور نجات دیں گے اللہ الذین اتقوا ان لوگوں کو جو ڈرے بمفازتہم ان کی کامیابی کے ساتھ۔ مفازۃ کامیابی۔ وینجي اللہ الذین اتقوا بمفازتہم اور نجات دیں گے اللہ ان لوگوں کو جو ڈرے ان کی کامیابی کے ساتھ، یعنی جو لوگ ڈرے اللہ ان کو ان کی کامیابی کے ساتھ نجات دیں گے۔ لا یمسہم السوء نہ تو ان کو کوئی تکلیف چھوئے گی، کوئی برائی چھوئے گی۔ نہ تو ان کو کوئی برائی چھوئے گی، کوئی تکلیف یعنی نہ تو ان کو کوئی تکلیف پہنچے گی ولا ہم يحزنون اور نہ وہ غم زدہ ہوں گے۔ اللہ ان کو نجات دیں گے، ان کو جنت میں داخل کر دیا جائے گا اور پھر وہاں پر نہ انہیں کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ کبھی وہ غم زدہ ہوں گے۔ لا یمسہم السوء نہ تو انہیں کوئی تکلیف پہنچے گی ولا ہم يحزنون اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ اللہ خالق کل شیء وهو علی کل شیء وكیل اللہ پیدا کرنے والے ہیں ہر چیز کو اور وہ ہر چیز پر نگہبان ہیں۔ اللہ خالق کل شیء وهو علی کل شیء وكیل اللہ ہر چیز کو پیدا کرنے والے ہیں اور وہ ہر چیز پر نگہبان ہیں۔ لہ مقالید السماوات والارض اسی کے لیے چابیاں ہیں آسمانوں کی اور زمین کی مقالید جمع ہے مقلید کی یا مقالید جمع ہے مقلاد کی مقلید یا مقلاد کی جمع ہے مقالید، اور مقلاد یا مقالید کسے کہتے ہیں؟ چابی کو بھئی۔ لہ مقالید السماوات والارض اسی کے لیے چابیاں ہیں آسمانوں اور زمین کی، یعنی زمین اور آسمانوں کی ان کے تمام خزانوں کی چابیاں اللہ کے پاس ہیں۔ والذین کفروا بایات اللہ اولئک ھم الخاسرون اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا یا جھٹلایا انکار کیا اور وہ لوگ جنہوں نے انکار کیا بایات اللہ اللہ کی آیتوں کا اولئک ھم الخاسرون وہی لوگ ہیں گھاٹے میں۔ کیا معنی کیا تھا میں نے خاسرون کا پہلے بھی گزرا بھئی نقصان اٹھانے والے، گھاٹا پانے والے وہی لوگ ہیں گھاٹا پانے والے، نقصان اٹھانے والے۔ لہ مقالید السماوات والارض اللہ ہی کے لیے ہیں زمینوں اور آسمانوں کی کنجیاں والذین کفروا بایات اللہ اور وہ لوگ جنہوں نے انکار کیا اللہ کی آیتوں کا اولئک ھم الخاسرون وہی لوگ ہیں نقصان اٹھانے والے۔ چلیے بس بھئی! یہ ہے المراد، واللہ اعلم بحقیقت الکلام۔
88 approved lectures · 72 of 88