Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-075

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 12 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ بالله من الشطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم قل أغير الله تأمروني أعبد أيها الجاهلون ولقد أوحي إليك وإلى الذين من قبلك لئن أشركت ليحبطن عملك ولتكونن من الخاسرين بل الله فاعبد وكن من الشاكرين قل اے پیغمبر آپ فرم کہہ دیجیے اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے آپا غیر اللہ تأمروني أعبد غير اللہ یہ مفعول ہے اعبد کے لیے بھئی غير اللہ کیا واقع ہو رہا ہے؟ اعبد کے لیے مفعول ہے بھئی قل اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے آپا غير اللہ تأمروني أعبد کہ کیا تم مجھے حکم کرتے ہو کیا تم مجھے حکم دیتے ہو کہ میں اللہ کے علاوہ کی عبادت کروں أيتها الجاهلون اے جاہلو اے نادانو معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تأمر حکم دینا اور غير اللہ مفعول ہے اعبد کے لیے کہ کیا پس تم مجھے حکم دیتے ہو کہ میں اللہ کے علاوہ کی عبادت کروں أيتها الجاهلون اے جاہلو قل أغير الله تأمروني أعبد أيها الجاهلون اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے کیا پس تم مجھے حکم کرتے ہو کہ میں اللہ کے علاوہ کی عبادت کروں اے جاہلو ولقد أوحي إليك وإلى الذين من قبلك اور تحقیق البتہ وحی کی گئی ہے آپ کی طرف بھی والذین من قبلک اور ان کی طرف بھی جو آپ سے پہلے تھے یعنی تحقیق اے پیغمبر آپ کی طرف اور جو پیغمبر آپ سے پہلے گزرے ان کی طرف یہ وحی کی گئی ہے لئن أشرکت کہ اگر آپ نے شرک کیا ل يحبطنا تو البتہ اقارت ہو جائیں گے یا غارت ہو جائیں گے یا یوں کہیں ضائع ہو جائیں گے عمل کا ضائع ہو جائے گا عمل کا آپ کا عمل ولتكونن من الخاسرين اور البتہ آپ ہو جائیں گے خسارہ اٹھانے والوں میں سے نقصان اٹھانے والوں میں سے ولقد أوحي إليك وإلى الذين من قبلك اور تحقیق البتہ وحی کی گئی ہے آپ کی طرف اور ان پیغمبروں کی طرف جو آپ سے پہلے تھے لئن أشرکت کہ اگر آپ نے شرک کیا ل يحبطنا عمل کا تو غارت ہو جائیں گے آپ کے عمل ولتكونن من الخاسرين اور البتہ آپ ہو جائیں گے نقصان اٹھانے والوں میں سے سمجھ میں آیا بھئی؟ کہ اے پیغمبر آپ کی طرف اور آپ سے پہلے پیغمبروں کی طرف یہ وحی ہم نے بھیجی تھی کہ اگر بفرض محال تم میں سے بھی کسی نے شرک کیا تمہارے بھی سارے عمل ضائع ہو جائیں گے بل اللہ فاعبد بلکہ اللہ ہی کی پس آپ عبادت کیجیے وقم من الشاكرين اور شکر گزار شکر کرنے والوں میں سے رہیے بل اللہ فاعبد بلکہ اللہ ہی کی عبادت کیجیے وقم من الشاكرين اور شکر گزار بندوں میں سے ہو جائیے وما قدروا الله حق قدره وما قدروا الله اور انہوں نے قدر نہیں کی یہ جو مشرکین مکہ ہیں انہوں نے قدر نہیں کی اللہ کی حق قدره جیسا کہ قدر کرنے کا حق تھا وما قدروا الله حق قدره اور انہوں نے قدر نہیں کی اللہ کی جیسا کہ قدر کرنے کا حق تھا یا یہ ترجمہ کر لیں اور ان انہوں نے اللہ کی قدر نہیں پہچانی جیسا کہ قدر پہچاننے کا حق تھا یا یوں ترجمہ کر لیں وما قدروا الله حق قدره اور انہوں نے ان مشرکین مکہ نے اللہ کی عظمت کو نہیں جانا جیسا کہ عظمت جاننے کا حق تھا والارض جميعا قبضته يوم القيامة والسماوات مطويات بيمينه والارض جميعا اور زمین ساری کی ساری قبضته اس کی مٹھی میں ہوگی يوم القيامة قیامت کے دن والسماوات مطويات بيمينه اور آسمان لپٹے ہوئے ہوں گے بیمينه اس کے دائیں ہاتھ میں والارض جميعا قبضته يوم القيامة اور زمین ساری کی ساری اللہ کی مٹھی میں ہوگی قیامت کے دن اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے سبحانه وتعالى عما يشركون پاک ہے وہ ذات وتعالى اور بلند ہے عما يشركون اس چیز سے يشركون جسے وہ شریک بناتے ہیں اللہ کی ذات پاک ہے اور بلند ہے ان چیزوں سے جنہیں وہ اس اللہ کا شریک بناتے ہیں شریک بتلاتے ہیں معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ اللہ فرما رہے ہیں ان مشرکین مکہ نے اللہ کی قدر کو نہیں پہچانا جیسا کہ پہچاننے کا حق تھا کبھی یہ اوروں کو اللہ کا شریک بتلاتے ہیں کبھی فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتلاتے ہیں تو انہوں نے اللہ کی قدر نہیں پہچانی جیسا کہ قدر پہچاننے کا حق تھا حالانکہ اللہ کی ذات کی عظمت یہ عظمت تو یہ ہے کہ قیامت کے دن ساری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے سبحانه وتعالى عما يشركون پاک ہے وہ ذات اور بلند ہے اس چیز سے جس سے اس کا شریک بتلاتے ہیں جسے اس کا شریک بناتے ہیں معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ تو یہ آیت یاد رکھیے یہ متشابہات میں سے ہے جس کا حقیقی معنی اللہ ہی جانتے ہیں تمام زمین اللہ کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے بھئی سمجھ میں آیا بھئی؟ کیونکہ اللہ جو ہیں وہ جسم سے پاک ہیں اللہ کے لیے ہاتھ پاؤں وغیرہ ثابت کرنا کفر ہے بھئی ليس كمثله شيئ اللہ کے مثل کوئی چیز نہیں ہے ونفخ في الصور فصعق من في السماوات ومن في الأرض اور پھونکا جائے گا صور میں فصعق من في السماوات ومن في الأرض تو بے ہوش ہو جائیں گے جو کوئی ہیں آسمانوں میں اور جو کوئی ہیں زمین میں الا من شاء الله مگر جو جس کو اللہ چاہیں بھئی نفخہ اولی مراد ہے قیامت کے دن قیامت کے قریب بھئی حضرت اسرافیل علیہ السلام جو جس وقت صور منہ میں لیے منتظر ہیں حکم الہی کے کہ کب اللہ کی طرف سے اشارہ ہوتا ہے اور وہ صور پھونکیں قیامت کے قریب اللہ کی طرف سے جب حکم ہوگا وہ صور پھونکیں گے اور جو آسمان اور زمین میں ہیں جو زندہ ہوں گے بھئی کچھ تو مر چکے پہلے ہی جو زندہ ہوں گے وہ سب ہلاک ہو جائیں گے اور جو جن جو مر چکے ان کی روحوں پر بے ہوشی طاری ہو جائے گی بھئی جو زندہ ہیں اس وقت وہ مر جائیں گے اور جو مر چکے پہلے سے ہی ان کی روحوں پر بھی بے ہوشی طاری ہو جائے گی یہ اسی کا ذکر ہو رہا ہے ونفخ في الصور تو یہ نفخہ اولی مراد ہے کون سا نفخہ؟ نفخہ اولی ونفخ في الصور اور پھونکا جائے گا صور میں فصعق من في السماوات ومن في الأرض پس تو بے ہوش ہو جائیں گے جو کوئی آسمانوں میں ہیں اور جو کوئی زمین میں الا من شاء الله مگر وہ جسے اللہ چاہے سب بے ہوش ہو جائیں گے مگر وہ جسے اللہ چاہے بھئی اس سے کون مراد ہیں؟ کن کا استثنا کیا جا رہا ہے کہ وہ بے ہوش نہیں ہوں گے وہ ہلاک نہیں ہوں گے تو بعض علماء فرماتے ہیں اس سے چار مقرب فرشتے مراد ہیں یعنی حضرت جبریل علیہ السلام حضرت اسرافیل علیہ السلام حضرت میکائیل علیہ السلام اور ملک الموت یعنی حضرت عزرائیل علیہ السلام بھئی اور بعضوں نے انہی کے ساتھ حملۃ العرش کو بھی ملایا ہے بھئی وہ فرشتے جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں بھئی تو بعضوں نے ان کو بھی ملاایا ساتھ کہ ان کا استثنا کیا گیا ہے یہ ان پر بے ہوشی طاری نہیں ہوگی اور بعضوں نے کہا کہ یہ استثنا ہے انبیاء اور شہداء کا انبیاء اور شہداء کا استثنا ہے کہ ان پر بے ہوشی طاری نہیں ہوگی بھئی سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ مسئلہ پہلے بیان ہو چکا کہ انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ہیں اسی طرح شہداء کے بارے میں بھی اللہ فرماتے ہیں کہ ان کو مردہ مت کہو وہ زندہ ہیں بھئی معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ان کا استثنا کیا گیا اور یہ استثنا ہے نفخہ اولی کے وقت بھئی اس وقت ان پر بے ہوشی طاری نہیں ہوگی ہاں اس کے بعد پھر ہو سکتا ہے ان پر بھی کیا ہو؟ بے ہوشی طاری ہو جائے اور پھر صرف اللہ کی ایک ذات باقی ہوگی اور کوئی بھی چیز زندہ نہیں ہوگی بھئی اس وقت ثم نفخه فيها اخرى فاذا هم قيام ينظرون پھر پھونکا جائے گا اس صور میں اخرى ای مرۃ اخرى دوسری مرتبہ ثم نفخه فيها اخرى پھر اس صور میں دوسری مرتبہ پھونکا جائے گا فاذا هم قيام ينظرون تو اچانک وہ کھڑے ہوں گے دیکھتے ہو دیکھ رہے ہوں گے إذا مفاجاتیہ ہے بھئی اچانک وہ کھڑے ہوں گے یعنی فورا فورا فإذا هم قيام تو وہ اچانک کھڑے ہوں گے کھڑے ہو جائیں گے اٹھ جائیں گے فإذا هم قيام پس اچانک فورا وہ اٹھ جائیں گے ينظرون دیکھتے ہوئے پھر سب کچھ وہ دیکھنے لگیں گے اپنی آنکھوں سے ثم نفخ فيه أخرى فإذا هم قيام ينظرون پھر پھونکا جائے گا اس صور میں دوسری مرتبہ فإذا هم قيام پس فورا وہ اٹھ جائیں گے اٹھ کھڑے ہوں گے ينظرون دیکھنے لگیں گے وأشقت الأرض بنور ربها اور منور ہو جائے گی چمک اٹھے گی وأشقت الأرض اور جو زمین چمک اٹھے گی بنور ربها اپنے پروردگار کے نور سے اور زمین چمک اٹھے گی منور ہو جائے گی بنور ربها اپنے پروردگار کے نور سے ووضع الكتاب اور نامہ اعمال رکھ دیا جائے گا وجيء بالنبيين والشهدائي اور لایا جائے گا انبیاء کو اور والشهدائي اور گواہوں کو انبیاء کو لایا جائے گا یعنی انبیاء اور گواہ حاضر کیے جائیں گے وقضي بينهم بالحق اور فیصلہ کیا جائے گا لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ یعنی ٹھیک ٹھیک قضا یقضی کے معنی فیصلہ کرنے کے وقضي بينهم بالحق اور فیصلہ کر دیا جائے گا لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ یعنی ٹھیک ٹھیک و هم لا يظلمون اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا یعنی جس نے جو نیک عمل کیا ہے اس کو پورا بدلہ ملے گا کوئی کمی نہیں کی جائے گی اور جس نے گناہ کیے یا جس نے جو کچھ ظلم وغیرہ کیا ہے تو اس کو بھی اس کے مطابق پورا پورا بدلہ ملے گا یہ نہیں کہ گناہ یا جرم تھوڑا ہو اور سزا زیادہ دے دی جائے ایسا بھی نہیں ہوگا بلکہ پورا جتنا جرم ہوگا اسی کے مطابق بدلہ ملے گا معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ تو قیامت قائم ہوگی بھئی سب صور دوسری مرتبہ جب پھونکا جائے گا تمام چیزیں زندہ ہو جائیں گی تمام انسانوں انسان اور پھر ان کو حشر میں جمع کیا جائے گا اور پھر فرشتے اللہ کا عرش اٹھائے ہوئے آئیں گے اور دربار قائم ہوگا اور اللہ تعالی مخلوقات کے درمیان فیصلہ فرمائیں گے نیکی کرنے والوں کو ان کا اجر دیا جائے گا اور برائی کرنے والوں کو ان کی سزا انہیں ملے گی بھئی وأشقت الأرض بنور ربها اور منور ہو جائے گی چمک اٹھے گی زمین بنور ربها اپنے پروردگار کے نور سے ووضع الكتاب اور نامہ اعمال رکھ دیا جائے گا وجيء بالنبيين والشهدائي اور حاضر کیے جائیں گے انبیاء اور گواه وقضي بينهم بالحق اور فیصلہ کر دیا جائے گا لوگوں کے درمیان بالحق حق کے ساتھ یا یوں ترجمہ کر لیں وقضي بينهم بالحق اور فیصلہ کیا جائے گا لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک و هم لا يظلمون اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا ووفيت كل نفس ما عملت اور پورا پورا بدلہ دیا جائے گا کل نفس ہر نفس کو ما عملت وہ جو اس نے عمل کیا پورا پورا دیا جائے گا ہر نفس کو ما عملت جو اس نے عمل کیا یعنی اس کا بدلہ دیا جائے گا ووفيت اور پورا دیا جائے گا کل نفس ہر نفس کو ما عملت وہ جو اس نے عمل کیا وهو أعلم بما يففعنون اور وہ خوب جاننے والا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں وہ خوب جاننے والا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں لوگ جو کچھ کرتے ہیں یہ اللہ تعالی اس کو خوب جاننے والے ہیں ووفيت كل نفس ما عملت اور پورا دیا جائے گا ہر نفس کو ما عملت جو اس نے عمل کیا وهو أعلم بما يفعلون اور وہ خوب جاننے والا ہے جو وہ کرتے ہیں وسيق الذين كفروا إلى جهنم زمرا اور ہانکا جائے گا ساق يسوق کے معنی ہانکنے کے بھئی بھئی ایک ہے مثلا جانوروں کو لے جاتے ہوئے لے جانے والا اگر پیچھے ہے اور جانور آگے ہیں تو یہ اس کو تو ساق کہا جاتا ہے ہانکنا۔ جانور آگے اور لے جانے والا پیچھے ہے، تو اس کو سائق کہتے ہیں ہانکنے والا۔ اور اگر لے جانے والا آگے ہو اور باقی اس کے پیچھے ہوں، تو اس کو قائد کہا جاتا ہے۔ اسی سے ہم بھی اردو میں جو قائد استعمال کرتے ہیں وہ بھی اسی سے ہے کیونکہ قائد قوم کے آگے ہوتا ہے اور قوم اس کے پیچھے ہوتی ہے۔ تو اللہ فرما رہے ہیں: وَسِيقَ الَّذِينَ كَفَرُوا اور ہانکا جائے گا ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا الی جہنمہ جہنم کی طرف زمرًا گروہ گروہ بھئی۔ زمر جمع ہے زمرۃ کی، زمر جمع ہے زمرۃ کی اور زمرۃ گروہ کو کہتے ہیں بھئی۔ تو یہ زمر جمع ہے اور یہاں جس طرح یہ جہنمیوں کا ذکر آیا کہ ان کو گروہ گروہ جہنم کی طرف لے جایا جائے گا، اسی طرح آگے جنتیوں کا بھی ذکر آ رہا ہے کہ وہ بھی گروہ گروہ کی شکل میں جنت کی طرف روانہ کیے جائیں گے اور اسی سے اس سورت کا نام سورہ زمر ہے بھئی۔ سورہ زمر۔ کیونکہ اس میں یہ گروہوں کا تذکرہ آ گیا بھئی۔ وَسِيقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى جَهَنَّمَ زُمَرًا اور ہانکا جائے گا ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا جہنم کی طرف زمرًا گروہ گروہ، حَتَّى إِذَا جَاءُوهَا یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس آ جائیں گے۔ ھا ضمیر راجع ہے جہنم کو بھئی، جہنم مؤنث ہے بھئی عربی میں۔ حَتَّى إِذَا جَاءُوهَا یہاں تک کہ وہ جب اس جہنم کے پاس آ جائیں گے یعنی جہنم کے پاس جب وہ پہنچ جائیں گے۔ حَتَّى إِذَا جَاءُوهَا جب وہ جہنم کے پاس پہنچ جائیں گے فُتِحَتْ أَبْوَابُهَا تو اس کے دروازے کھولے جائیں گے۔ اس کے دروازے کھولے جائیں گے۔ بھئی قید خانہ جو ہے قید خانے کا دروازہ کھلا نہیں چھوڑا جاتا، جب کسی مجرم کو داخل کرنا ہو اس وقت کھولا جاتا ہے اور پھر بند کر دیا جاتا ہے، تو یہ لوگ بھی جہنم تک لے جائے جائیں گے اور جب وہاں پہنچیں گے تو پھر دروازہ کھلے گا، ان کو داخل کیا جائے گا اور پھر دروازہ بند کر دیا جائے گا۔ حَتَّى إِذَا جَاءُوهَا جب یہاں تک کہ جب وہ جن جہنم کے پاس پہنچیں گے فُتِحَتْ أَبْوَابُهَا تو اس کے دروازے کھول دیے جائیں گے وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا اور کہے گا ان سے خَزَنَتُهَا أي خزنتو جہنم، جہنم کے محافظ بھئی۔ جہنم کے محافظ ان سے کہیں گے بھئی۔ وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا خزنہ جمع ہے خازن کی بھئی۔ خازن۔ محافظ کو کہتے ہیں وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا اور کہیں گے ان سے اس کے محافظ بھئی۔ وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا تو کہیں گے ان سے جہنم کے محافظ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مَّنْكُمْ کیا نہیں آئے تھے تمہارے پاس پیغمبر تم ہی میں سے؟ وہ جہنم کے محافظ بھئی ان جہنمیوں کو جن کو لایا جا رہا ہے ان سے پوچھیں گے کہ کیا بات ہے تم جہنم میں داخل تمہیں کیا جا رہا ہے کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے پیغمبر نہیں بھیجے گئے تھے جنہوں نے تمہیں سیدھا راستہ بتلایا ہو؟ وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا اور کہیں گے ان سے جہنم کے جہنم کے محافظ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مَّنْكُمْ کیا نہیں آئے تھے تم میں تمہارے پاس پیغمبر تم ہی میں سے يَتْلُونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِ رَبِّكُمْ جو تلاوت کرتے ہوں تم پر تمہارے پروردگار کی آیتیں؟ کیا تمہارے پاس ایسے پیغمبر تم ہی میں سے نہیں آئے تھے جو تم پر اللہ کی آیتیں تلاوت کرتے ہوں، پڑھتے ہوں؟ يَتْلُونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِ رَبِّكُمْ جو پڑھتے ہوں تم پر تمہارے پروردگار کی آیتیں وَيُنْذِرُونَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَذَا اور خبردار کرتے ہوں تمہیں اس دن کی ملاقات سے۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ کہ أَلَمْ يَأْتِكُمْ کیا نہیں آئے تھے تم میں سے پیغمبر تمہارے پاس پیغمبر تم ہی میں سے جو تم پر تمہارے پروردگار کی آیتیں پڑھتے ہوں اور تمہیں ڈراتے ہوں تمہارے اس دن کی ملاقات سے۔ لقاء يومكم هذا، يومكم تمہارا دن یعنی یہ والا دن، هذا یہ۔ يوُنْذِرُونَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَذَا اور ڈراتے ہوں تمہیں تمہارے اس دن کی ملاقات سے قَالُوا بَلَى وہ کہیں گے کیوں نہیں! یعنی ہمارے پاس پیغمبر آئے تھے۔ قَالُوا بَلَى وہ کہیں گے کیوں نہیں وَلَكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكَافِرِينَ لیکن ثابت ہوا عذاب کی ثابت ہوئی عذاب کی بات عَلَى الْكَافِرِينَ کفر کرنے والوں پر، انکار کرنے والوں پر۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں پیغمبر تو ہمارے پاس آئے تھے لیکن بات وہی کہ اللہ نے جس نے جو کلمہ عذاب جو تھا اللہ کا، وہ کفر کرنے والوں پر ثابت ہو کر رہا۔ کون سا کلمہ عذاب بھئی؟ جو اللہ نے فرمایا تھا لئم لأملأن جہنم من الجن الناس اجمعين۔ قَالُوا بَلَى وہ کہیں گے کیوں نہیں وَلَكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكَافِرِينَ مگر عذاب کا کلمہ حق ہوا، ثابت ہوا، انکار کرنے والوں پر۔ عذاب کا کلمہ ثابت ہو کر رہا، انکار کرنے والوں پر۔ قِيلَ ادْخُلُوا قِيلَ ادْخُلُوا أَبْوَابَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا کہا جائے گا ان سے کہ تم داخل ہو جائے ہو جاؤ جہنم کے دروازوں میں خَالِدِينَ فِيهَا ہمیشہ اس میں رہنے کے لئے۔ خَالِدِينَ فِيهَا اس حال میں کہ تم ہمیشہ اس میں رہو۔ یہ حال ہے بھئی۔ قِيلَ ادْخُلُوا أَبْوَابَ جَهَنَّمَ کہا جائے گا کہ داخل ہو جاؤ تم جہنم کے دروازوں میں خَالِدِينَ فِيهَا اس حال میں کہ تم ہمیشہ اس میں رہو۔ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتكَبِّرِينَ پس کتنا برا ٹھکانہ ہے تکبر کرنے والوں کا، مثوا ٹھکانہ۔ بِئْسَ افعالِ زم میں سے ہے بھئی، افعالِ زم میں سے۔ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ یہ انشاءِ زم کے لیے ہے بھئی، انشاءِ زم کے لیے۔ یعنی خبر نہیں دی جا رہی، مذمت بیان کی جا رہی ہے۔ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ کتنا برا ٹھکانہ ہے تکبر کرنے والوں کا۔ قِيلَ ادْخُلُوا أَبْوَابَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا کہا جائے گا داخل ہو جاؤ تم جہنم کے دروازوں میں اس میں ہمیشہ رہنے کے لئے۔ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ پس کتنا برا ٹھکانہ ہے تکبر کرنے والوں کا۔ بھئی افعالِ مدح و زم جو ہیں، ایک فاعل چاہتے ہیں اور ایک مخصوص بالمدا یا مخصوص بالزم۔ تو یہ فعلِ زم آیا مَسْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ، یہ تو ہے فاعل اس کے لیے اور مخصوص بالزم محذوف ہے۔ بڑا ہی برا ٹھکانہ ہے، کیا ہے بڑا برا ٹھکانہ؟ هي اور ضمیر راجع کس کو؟ جہنم کو یا جہنم ہی یہاں محذوف نکال لیں۔ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ پس یہ کتنا برا ٹھکانہ ہے تکبر کرنے والوں کا۔ وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لیجیے بھئی! آپ حضرات کا بھی ذکر آ گیا۔ وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اور لے جایا جائے گا... پਹਿلے سيق کا کیا معنی کیا میں نے بھئی؟ ہانکا جائے گا لیکن یہاں ہانکنے والا معنی نہیں بھئی، یہ مومنین کو بڑے عزت و اکرام سے لے جایا جائے گا بھئی۔ تو اسی کے مطابق ترجمہ کریں بھئی۔ وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اور لے جایا جائے گا ان لوگوں کو... الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ جو ڈرتے رہے اپنے پروردگار سے الْجَنَّةِ زُمَرًا جنت کی طرف گروہ گروہ۔ وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا اور لے جایا جائے گا یا روانہ کیا جائے گا، وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اور روانہ کیا جائے گا ان لوگوں کو جو اپنے پروردگار سے ڈرتے رہے جنت کی طرف گروہ گروہ۔ حَتَّى إِذَا جَاءُوهَا یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس آئیں گے، جنت کے پاس آئیں گے وَفُتِحَتْ أَبْوَابُهَا یہ دیکھیے یہاں واؤ آ گیا، واؤ حالیہ بھئی۔ جہاں جب وہ آئیں گے جنت کے پاس وَفُتِحَتْ أَبْوَابُهَا کیا ترجمہ ہوگا بھئی؟ اس حال میں کہ اس کے دروازے کھلے ہوں گے۔ جہنمیوں کو تو جب لایا گیا، پھر جہنم کے دروازے کھولے گئے اور پھر ان کو اس میں ڈالا جاتا ڈالا جائے گا اور پھر بند کر دیا جائے گا۔ جبکہ جنتی جب پہنچیں گے تو جنت کے دروازے پہلے ہی سے کھلے ہوں گے جیسے کسی آنے والے مہمان کے لیے دروازے پہلے ہی سے کھلے رکھے جاتے ہیں۔ حَتَّى إِذَا جَاءُوهَا یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس آئیں گے وَفُتِحَتْ أَبْوَابُهَا اور اس حال میں کہ اس کے دروازے کھلے ہوں گے۔ وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا اور کہیں گے اس سے ان کے، جنت کے محافظ۔ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ تم پر سلامتی ہو طِبْتُمْ تم پاکیزہ ہو! سَلَامٌ عَلَيْكُمْ تم پر سلامتی ہو، طِبْتُمْ تم پاکیزہ لوگ ہو! تم پاکیزہ ہوئے یعنی پاکیزہ لوگ ہو۔ فَادْخُلُوهَا خَالِدِينَ پس تم اس میں داخل ہو جاؤ، اس حال میں کہ ہمیشہ رہنے والے ہو اس میں۔ فَادْخُلُ پس تم داخل ہو جاؤ اس میں خَالِدِينَ ہمیشہ رہنے کے لئے۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا اور لے جایا جائے گا ان لوگوں کو جو ڈرتے رہے اپنے پروردگار سے جنت کی طرف گروہ گروہ، حَتَّى إِذَا جَاءُوهَا وَفُتِحَتْ أَبْوَابُهَا یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس آئیں گے اس حال میں کہ اس کے دروازے کھلے ہوئے ہوں گے۔ وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا اور کہیں گے اس سے ان کے جنت کے محافظ، سَلَامٌ عَلَيْكُمْ کہ تم پر سلامتی ہو، طِبْتُمْ تم پاکیزہ لوگ ہو، فَادْخُلُوهَا خَالِدِينَ پس تم اس جنت میں داخل ہو جاؤ ہمیشہ رہنے کے لیے۔ ذرا تصور تو کیجیے بھئی! تصور تو کیجیے وہ کیا منظر ہوگا؟ وہ کیا حالت ہوگی جس وقت آپ جنت میں داخل ہو رہے ہوں گے۔ جی الحمد للہ! جب آپ جنت میں داخل ہونے والے ہیں بھئی، اس وقت کیا کیفیت ہوگی؟ کتنی خوش ہوگی! اتنی خوشی جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا کہ اب اس کے بعد کبھی کوئی غم نہیں آئے گا، کبھی کوئی تکلیف نہیں آئے گی، کبھی نعمتوں میں کمی نہیں آئے گی، کبھی بھی اس کے بعد موت نہیں آئے گی، اس کے بعد کوئی فکر اور پریشانی نہیں ہوگی۔ اور نعمتیں انتظار میں ہوں گی، انسان آپ عین جنت میں جب قدم رکھنے والے ہوں، کیا حال ہوگا؟ لفظوں میں نہیں بیان ہو سکتا بھئی۔ اللہ ہم سب کو بلاسحاب کتاب کے جنت الفردوس نصیب فرما بھئی۔ آمین! وَقَالُوا اور وہ کہیں گے جنتی بھئی، کہیں گے اس وقت الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَنَا وَعْدَهُ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں، الَّذِي صَدَقَنَا وَعْدَهُ جس نے سچا کیا ہم سے وعدہ ہو اپنا وعدہ۔ وَأَوْرَثَنَا الْأَرْضَ اور ہم کو وارث بنایا، ہم کو مالک بنایا، الْأَرْضَ اس زمین کا یعنی جنت کی زمین کا۔ نَتَبَوَّأُ ہم... تبوء کا کہنا ٹھکانہ پکڑنا بھئی۔ نَتَبَوَّأُ ہم ٹھکانہ بنائیں یعنی رہیں ہم مِنَ الْجَنَّةِ جنتی جنت میں حَيْثُ نَشَاءُ جہاں ہم چاہیں۔ جنتی جنت میں جب داخل ہوں گے تو کہا حکم ہوگا اللہ کی طرف سے بھئی جہاں جنت میں جا کر رہنا چاہتے ہو، وہاں جا کر رہو بھئی! جہاں تمہارا دل چاہتا ہے جنت میں وہاں جا کر رہو۔ اور تو آزادی ہوگی جہاں آپ رہنا چاہتے ہیں۔ لیکن ہر شخص جائے گا اور پسند اسی جگہ کو کرے گا جو اس کے لیے بنائی گئی ہوگی بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ وہ ذکر ہے کہ ہمیں کہ نَتَبَوَّأُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ نَشَاءُ ہم ٹھکانہ بنائیں جنت میں جہاں ہم چاہیں۔ وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَنَا وَعْدَهُ اور وہ کہیں گے تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے سچا کیا ہم سے اپنے وعدے کو وَأَوْرَثَنَا الْأَرْضَ اور ہمیں وارث بنایا اس زمین کا، ہمیں مالک بنایا اس زمین کا، نَتَبَوَّأُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ نَشَاءُ ہم ٹھکانہ بنائیں جنت میں جہاں ہم چاہیں۔ فَنِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ پس کیا ہی اچھا اجر ہے، بدلہ ہے عمل کرنے والوں کا، یعنی کہ جنت بھئی۔ عمل کرنے والوں کا کتنا اچھا بدلہ ہے جنت! مخصوص بالمدا محذوف ہے بھئی۔ وَتَرَى الْمَلَائِكَةَ حَافِينَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ اور آپ دیکھیں گے، اے مخاطب! تو دیکھے گا الْمَلَائِكَةَ ملائکہ کو حَافِينَ، حافہ کے معنی ہوتے ہیں گھیرے ڈالنے کے بھئی، گھیرے ڈالنے کے۔ وَتَرَى الْمَلَائِكَةَ حَافِينَ اور اے مخاطب! تو دیکھے گا فرشتوں کو گھیرے ڈالے ہوئے مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ عرش کے گرد۔ فرشتے کیا ہوں گے؟ عرش کے گرد گھیرے ڈالے ہوئے کھڑے ہوں گے، عرش کے گرد حلقہ بنائے ہوئے کھڑے ہوں گے۔ وَتَرَى الْمَلَائِكَةَ حَافِينَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ اور تو دیکھے گا فرشتوں کو حلقہ باندھے ہوئے عرش کے گرد، يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وہ تسبیح بیان کریں گے اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ۔ تسبیح بیان کریں گے کس کے ساتھ؟ حمد کے ساتھ، تسبیح ہوگی اور ساتھ ساتھ اللہ کی حمد بھی بیان کریں گے۔ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ اور فیصلہ کر دیا جائے گا لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ۔ وَقِيلَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ اور کہا جائے گا تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا۔ تمام مخلوقات میں بھئی ٹھیک ٹھیک طرح فیصلہ کر دیا جائے گا اور پھر اس وقت فرشتے کہیں گے الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ تمام تعریفیں، تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ اور پھر اسی جملے پر وہ دربار برخواست کر دیا جائے گا بھئی۔ چلیے بس! ہذا هو المرام، واللہ أعلم بحقيقة الكلام۔
88 approved lectures · 73 of 88