Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-123

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 12 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم ن والقلم وما يسطرون، ما أنت بنعمة ربك بمجنون، وإن لك لأجرا غير ممنون. ن والقلم وما يسطرون. ن حروف مقطعات میں سے ہے، اس کا معنی اللہ اور اس کے رسول ہی جانتے ہیں۔ والقلم، یہ واؤ قسمیہ جارہ ہے، قسم ہے قلم کی وما يسطرون اور جو کچھ وہ لکھتے ہیں، قسم ہے قلم کی وما يسطرون اور جو وہ لکھتے ہیں۔ ما أنت بنعمة ربك بمجنون. ما أنت نہیں ہیں آپ بنعمة ربك اپنے رب کی نعمت سے، اپنے رب کے فضل سے بمجنون مجنون۔ آپ اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں ہیں، دیوانے نہیں ہیں۔ مشورکین مکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کرتے تھے، اور بعض آپ کو دیوانہ قرار دیتے، بعض کہتے آپ پر شیطان کا اثر ہو گیا ہے، جبھی اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں جو سب سے الگ ہیں وغیرہ۔ تو اللہ فرما رہے ہیں کہ آپ اپنے رب کے فضل سے دیوانے نہیں ہیں۔ یہ لوگ ویسے ہی باتیں کر رہے ہیں، ان کو کرنے دیجیے، گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور والقلم وما يسطرون، قسم ہے قلم کی وما يسطرون اور جو وہ لکھتے ہیں۔ تو يسطرون کے اندر جو یہ واؤ ضمیر ہے جمع کی، یہ راجع ہے فرشتوں کو۔ قسم ہے قلم کی اور جو وہ لکھتے ہیں، یعنی فرشتے۔ قسم ہے قلم کی اور جو کچھ فرشتے لکھتے ہیں۔ روایات میں آتا ہے اللہ تعالی نے سب سے پہلے قلم کو پیدا فرمایا، اور اس نے پھر ازل ابد تک آنے والے جو جو باتیں تھیں، وہ ساری اللہ کے حکم سے لکھ لیں۔ تو اس میں اسی کی طرف اشارہ ہے، قسم ہے قلم کی اور جو کچھ وہ لکھتے ہیں۔ تو لکھنے سے مراد وہ جو تقدیر لکھی گئی، وہ مراد ہے بھئی۔ قسم ہے قلم کی اور جو کچھ وہ لکھتے ہیں۔ یا قلم سے یہ عام قلم مراد ہے، یہ جس کے ذریعے ہم لکھتے ہیں۔ اور معنی یہ ہے، قسم ہے قلم کی اور جو وہ لکھتے ہیں یعنی قیامت تک آنے والے انسان جو کچھ لکھیں گے، یہ سب اس بات پر واضح دلیل ہے کہ اے پیغمبر آپ دیوانے نہیں ہیں۔ آپ کی باتیں اتنی عقل والی، اتنی عقل والی کہ انسان ان کے ان کے معنی بیان کرتے کرتے تھک جائیں گے، لیکن ان کے معنی ختم نہیں ہوں گے۔ آگے تاریخ کے اندر، مستقبل میں قیامت تک آنے والے یہ انسانوں کی تحریریں گواہی دیں گی کہ آپ دیوانے نہیں ہیں۔ آپ کے مخالفین مٹ جائیں گے، لیکن آپ کا ذکر، آپ کی باتیں، آپ کی صفات، آپ کے کمالات وہ کبھی ختم نہیں ہوں گے بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ سب کچھ بتلا دے گا کہ آپ اپنے رب کے فضل سے دیوانے نہیں ہیں۔ وإن لك لأجرا غير ممنون. اور یقینا آپ کے لیے البتہ اجر ہے، ثواب ہے، غیر ممنون غیر منقطع جو کبھی کٹ ختم ہونے والا نہیں۔ وإن لك لأجرا غير ممنون. اور یقینا آپ کے لیے نہ ختم ہونے والا ثواب ہے۔ وإنك لعلى خلق عظيم. اور یقینا آپ البتہ خلق عظیم پر ہیں، اعلی اخلاق پر ہیں۔ خلق مفرد ہے، اس کی جمع اخلاق آتی ہے۔ اور اے پیغمبر یقینا آپ البتہ اعلی اخلاق پر ہیں یعنی اخلاق کے اعلی ترین پیمانے پر ہیں۔ فستبصر ويبصرون. فسن قریب آپ بھی دیکھ لیں گے ويبصرون اور وہ بھی دیکھ لیں گے۔ فستبصر ويبصرون. فسن قریب آپ دیکھ لیں گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے۔ بأيكم المفتون. بأيكم المفتون کہ کون تم میں سے المفتون دیوانہ ہے۔ بأيكم المفتون. کون تم میں سے، آپ بھی دیکھ لیں گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے کہ کون آپ میں سے دیوانہ ہے یا مفتون؟ تو ایک معنی مفتون کے مجنون کے کیے بھئی، اور ایک یہ آزمائش میں ڈالے گئے۔ بأيكم المفتون کہ تو آپ میں سے کون آزمائش میں ڈالا گیا ہے۔ إن ربك هو أعلم بمن ضل عن سبيله، وهو أعلم بالمهتدين. یقینا آپ کا پروردگار وہ خوب جاننے والا ہے اس شخص کو ضل عن سبيله جو گمراہ ہوا اس کے راستے سے، وهو أعلم اور وہ خوب جاننے والا ہے بالمہتدین راہ پر جو راہ پر ہیں، جو ہدایت پر ہیں۔ یقینا آپ کا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو گمراہ ہوا اس کے راستے سے اور وہ خوب جاننے والا ہے ان کو جو ہدایت پر ہیں۔ فلا تطع المكذبين. پس آپ اطاعت نہ کیجیے جھٹلانے والوں کی، آپ جھٹلانے والوں کا کہنا نہ مانیے۔ ودوا لو تدهن فيدهنون. ودود، ود محبت کو کہتے ہیں، ودود وہ یعنی وہ چاہتے ہیں، وہ پسند کرتے ہیں۔ ودود وہ چاہتے ہیں لو تدهن کہ اگر آپ ڈھیلے پڑ جائیں، آپ سست پڑ جائیں فيدهنون تو وہ بھی سست پڑ جائیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اگر آپ سست پڑ جائیں تو وہ بھی سست پڑ جائیں۔ مشورکین حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے آکر کہ آپ ہمارے معبودوں کی اتنی سخت مخالفت کرتے ہیں، آپ ان کو برا کہنا چھوڑ دیجیے تو ہم بھی آپ کی کچھ باتیں مان لیں گے۔ تو ہم بھی آپ کی کچھ باتیں مان لیں گے۔ تو اللہ فرما رہے ہیں کہ یہ مشرکین چاہتے ہیں، یہ پسند کرتے ہیں کہ آپ سست پڑ جائیں، دعوت دینے کے اندر سست پڑ جائیں، تو یہ بھی سست پڑ جائیں، یعنی آپ ان کی کچھ باتیں مان لیں تو یہ بھی نرمی کر دیں آپ کے معاملے میں اور یہ بھی آپ کی کچھ باتیں مان لیں۔ تو اللہ فرماتے ہیں فلا تطع المكذبين، ان جھٹلانے والوں کی ان کا کہنا نہ مانیے، آپ اپنی دعوت اسی طرح دیجیے، اس میں کسی قسم کی کمی نہ کیجیے۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ فلا تطع المكذبين، پس آپ کہنا نہ مانیے جھٹلانے والوں کا۔ ودوا لو تدهن فيدهنون، یہ چاہتے ہیں کہ اگر آپ ڈھیلے پڑ جائیں تو یہ بھی ڈھیلے پڑ جائیں۔ ولا تطع كل حلاف مهين. اور آپ کہنا نہ مانیے کل حلاف ہر حلاف خوب قسمیں کھانے والا، مبالغے کا صیغہ ہے۔ ہر خوب قسمیں کھانے والے مہین بے قدرے کی۔ مہین اہانت سے ہے۔ ہر قسمیں کھانے والے بے قدرے کی۔ معنی سمجھ میں آرہا ہے بھئی؟ تو کیا کس طرح ترجمہ کریں گے؟ ولا تطع آپ کہنا نہ مانیے كل حلاف مہین۔ کس طرح کریں گے ترجمہ؟ ہر قسمیں کھانے والے بے قدرے کی؟ نہیں یوں ترجمہ نہ کیجیے بھئی۔ سمجھیں نا، اس سے غلط مفہوم نکلتا ہے، پھر تو یہ معنی آ جائے گا، ہر قسمیں کھانے والے بے قدرے کے کہنا نہ مانیے، معلوم ہوا کچھ کا مان لیجیے۔ یہ معنی نکلتا ہے یا نہیں؟ ہاں یہ، حالانکہ یہ تو مراد نہیں ہے۔ مراد کیا ہے؟ لفظی ترجمہ تو کر لیا آپ نے، کہنا نہ مانیے کل حلاف مہین۔ تو اردو میں اس کا ترجمہ پھر یوں ہوگا، اور آپ کہنا نہ مانیے کسی قسمیں کھانے والے بے قدرے کی۔ آپ کہنا نہ مانیے کسی قسمیں کھانے والے بے قدرے کی۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ هماز جو طعنے دینے والا ہے، ہماز کہتے ہیں طعنہ دینے والا، عیب لگانے والا۔ مشاع بنمیم۔ مشاع مشاع یمشی سے ہے، چلنے والا ہے بنمیم، نمیم کہتے ہیں چغلی کو، چغلی کو۔ مشاع بنمیم چلتا ہے چغلی کے ساتھ، یعنی چغلی لگاتا پھرتا ہے۔ مشاع بنمیم کا کیا معنی؟ چغلی لگاتا پھرتا ہے۔ مناع للخير۔ روکنے والا ہے للخير خیر سے، بھلائی سے۔ معتد، حد سے تجاوز کرنے والا ہے۔ معتد حد سے تجاوز کرنے والا۔ اثيم، بڑا گناہگار، بڑے گناہ کرنے والا۔ عتل، عتل سخت مزاج، اکھڑ مزاج۔ عتل، سخت مزاج ہے، اکھڑ مزاج ہے۔ بعد ذلك زنيم۔ اس کے بعد زنیم بدنام ہے۔ زنیم جو لوگوں میں کمینگی اور برائی میں مشہور ہو۔ جو لوگوں میں کمینگی، برائی اور بری خصلتوں میں مشہور ہو، یعنی بدنام بھئی۔ ان كان ذا مال وبنين۔ اس بات پر کہ وہ مال والا اور اولاد اور بیٹوں والا ہے۔ ان كان اس، اس لیے کہ وہ مال والا اور بیٹوں والا ہے۔ یعنی اے پیغمبر آپ کہنا نہ مانیے ہر قسم کھانے والے بے قدرے کا۔ اس لیے کہ وہ مال والا اور بیٹوں والا ہے، یعنی مال والا اور بیٹوں والا ہے اس بنا پر اس کا کہنا نہ مانیے۔ ولا تطع كل حلاف مهين، اور آپ کہنا نہ مانیے کسی قسم کھانے والے بے قدرے کا، ہماز ان جو طعنہ جو طعنے دینے والا ہے، مشاع بنمیم چغلیاں لگاتا پھرتا ہے، مناع للخير، خیر سے بھلائی سے روکنے والا ہے، معتد، تجاوز سے بڑھنے والا ہے، اثیم بڑا گناہگار ہے، عتل، اکھڑ مزاج ہے، سخت مزاج والا ہے، بعد ذلك زنیم، اور اس کے بعد بدنام ہے لوگوں کے اندر۔ اور بعض مفسرین نے لکھا کہ زنیم کے معنی حرام زادے کے ہیں، یعنی ولد الزنا کے، تو اللہ فرما رہے ہیں کہ اکھڑ مزاج ہے بعد ذلك زنیم اور اس کے بعد ولد الزنا بھی ہے۔ یہ آیتیں ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئیں بھئی، ولید بن مغیرہ۔ اور بعضوں نے اور کفار کا لکھا، تو یہ ولید بن مغیرہ جو ہے، یہ سردار تھا، مکے کے سرداروں میں سے تھا، اور تو اس کے بارے میں اللہ فرما رہے ہیں کہ آپ کہنا نہ مانیے کل حلاف کسی قسم کھانے والے کی، وہ بات بے بات وہ خوب قسمیں کھاتا تھا، خوب قسمیں کھاتا تھا۔ اور جھوٹی قسمیں کھاتا تھا، پروا ہی نہیں کرتا تھا، تو چونکہ لوگ اس کی باتوں کا زیادہ یقین نہیں کرتے تھے، اس لیے بات بے بات قسمیں اٹھاتا رہتا تھا۔ مہین، بے قدر، بے وقحت۔ جو بات بات پہ لوگوں کے سامنے قسم اٹھاتا ہو، لوگوں میں اس کی ویسے قدر باقی نہیں رہتی، اور نیز اس لیے بھی مہین کہا بے قدرہ، کہ روایات میں آتا ہے کہ یہ ولد الزنا تھا بھئی، یعنی زنا سے پیدا ہوا تھا، تو یعنی حرام زادہ تھا بھئی۔ تو 18 سال تک تو اس کے بارے میں، اس کے باپ کا پتہ ہی نہیں تھا، کسی نے بھی قرار نہیں کیا کہ یہ میری اولاد ہے، 18 سال کے بعد مغیرہ نے کہا کہ یہ میرے نطفے سے ہے۔ تو اللہ فرما رہے ہیں آپ کہنا نہ مانیے کل حلاف مہین کسی قسم کھانے والے بے قدرے کی، ہمازن طعنے جو طعنے دینے والا ہے، عیب لگانے والا ہے، ہر ایک پہ عیب لگاتا، کسی کو کچھ کہتا کسی کو کچھ۔ مشاع بنمیم، چغلی لگاتا پھرتا ہے۔ ادھر کی بات ادھر اور ادھر کی بات ادھر پہنچاتا ہے۔ مناع للخير، خیر سے روکنے والا ہے۔ خود بھی بخیل ہے اور لوگوں کو بھی بخل کی طرف بلاتا ہے کہ غریبوں پر خرچ نہ کرو۔ معتد، حد سے تجاوز کرنے والا ہے، یعنی ظلم کرنے والا ہے غریب غرباء پر۔ اثیم، بڑا گناہگار ہے۔ عتل، اکھڑ مزاج ہے، سخت مزاج والا ہے۔ بعد ذلك زنیم اور اس کے بعد بدنام ہے لوگوں کے اندر۔ اور بعض مفسرین نے لکھا کہ زنیم کے معنی حرام زادے کے ہیں، یعنی ولد الزنا کے، تو اللہ فرما رہے ہیں کہ اکھڑ مزاج ہے بعد ذلك زنیم اور اس کے بعد ولد الزنا بھی ہے۔ اور اس کے بعد ولد الزنا بھی ہے۔ تو آپ اس کی ان کسی اس طرح کے آدمی کی بات نہ مانیے ان کان ذا مال و بنین اس لیے اس لیے کہ وہ مال والا اور بیٹوں والا ہے۔ وہ مال والا اور بیٹوں والا ہے اس لیے آپ اس کی بات مان لیں ایسا نہ کیجیے اس کی بات نہ مانیے۔ اس کو مال بھی اللہ نے بڑا کثرت سے دیا تھا اور تیرہ بیٹے تھے اس کے بھئی، تیرہ بیٹے، جن میں سے تین بیٹے اسلام لائے اور باقی دس اسلام نہیں لائے۔ إذا تتلى عليه آياتنا قال أطاسير الأولين جب تلاوت کی جاتی ہیں اس پر ہماری آیتیں قال تو کہتا ہے أطاسير الأولين کہ یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ سنسمہ علی الخرطوم عن قریب ہم داغ لگا دیں گے۔ سنسمہ عن قریب ہم داغ لگا دیں گے اس کو علی الخرطوم سونڈ پر۔ خرطوم سونڈ کو کہتے ہیں بھئی۔ عن قریب ہم داغ لگا دیں گے اس کو علی الخرطوم اس کی سونڈ پر۔ مراد اس کی ناک ہے بھئی ناک اور بطورِ اہانت کے اسے خرطوم کہا گیا بھئی۔ تو خرطوم سے کیا مراد ہے؟ ناک اور بطورِ اہانت کے اسے خرطوم کہا گیا۔ خرطوم اصل میں کہتے ہیں عربی زبان کے اندر خنزیر کی جو ناک ہوتی ہے اور اسی طرح ہاتھی کی جو ناک ہوتی ہے اس کو خرطوم کہا جاتا ہے عربی زبان میں۔ تو اللہ فرما رہے ہیں عن قریب ہم داغ لگا دیں گے اس کی ناک پر۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ غزوہ بدر کے موقع پر اس کی ناک تھی بھی بڑی اور غزوہ بدر کے موقع پر اس پر کوئی تلوار وغیرہ لگی، اس پر نشان بن گیا اور بعضوں نے کہا اس سے مراد آخرت کی اس میں آخرت کی طرف اشارہ کہ آخرت میں کوئی اللہ اس کی ناک پر داغ لگائیں گے، کوئی نشان لگے گا جو اور زیادہ اس کی اہانت کا باعث ہوگا۔ سنسمہ عن قریب ہم داغ لگا دیں گے اس کو علی الخرطوم اس کے سونڈ پر، اس کی ناک پر۔ إنا بلوناهم كما بلونا أصحاب الجنة یقینا ہم نے ان کو آزمایا۔ یقیناً ہم نے ان کو آزمایا۔ كما بلونا جس طرح کے ہم نے آزمایا أصحاب الجنة باغ والوں کو۔ اللہ فرما رہے ہیں کہ ہم نے ان مکہ والوں کو آزمایا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا۔ إذ اقسموا ليصرمونها مصبحين باغ والوں کا واقعہ یہ ہے جو آگے ذکر بھی ہو رہا ہے، ایک شخص تھا قدیم زمانے میں اور اس کو اللہ نے بڑا باغ دیا تھا، بہت بڑا باغ، بڑی زمین اور وہ جب باغ میں پھل آتا، جب فصل تیار ہوتی تو تمام شہر کے غرباء، مساکین، محتاج جمع ہو جاتے اور وہ سب کو خوب حصہ دیا کرتا تھا بھئی۔ تو جب اس کا تو وہ سب کو خوب دیتا تھا اور اس باقی ان کی شریعت میں کہتے ہیں چوتھا حصہ دینا پڑتا تھا غرباء کو بھئی۔ ہماری شریعت میں تو اللہ نے بڑی آسانی کر دی بھئی چالیسواں حصہ بطورِ زکوٰۃ کے دینا پڑتا ہے اور پیداوار میں سے جو ہے عشر دینا پڑتا ہے، ان کی شریعت میں چوتھا حصہ دینا پڑتا تھا پیداوار میں سے۔ تو وہ چوتھے کے بجائے تیسرا حصہ دیتا تھا یعنی زیادہ دیتا تھا۔ مثلاً سو میں سے چوتھا کتنا بنے گا پچیس اور تیسرا کتنا بنے گا تینتیس تقریباً بن جائے گا تو وہ زیادہ دیا کرتا تھا۔ تو اس کا جب انتقال ہوا، اس کے بیٹے تھے تین یا پانچ بیٹے تھے تو انہوں نے جب فصل پک گئی، پھل پک گیا تو بیٹھے مشورہ کرنے تو کہنے لگے کہ ہمارے والد صاحب تو ویسے ہی اتنا غرباء کو دے دیتے تھے تو ہم یوں کریں گے غرباء کو نہیں دیں گے اپنے لیے بچا لیں گے۔ حالانکہ جب وہ خرچ کر دیتا تھا اس کے باوجود جو باقی بچتا تھا تین حصے کرتا ایک حصہ تو اگلے سال کے لیے پیداوار کے لیے، بیج کے طور پر وغیرہ، فصل وغیرہ میں اور ایک حصہ غرباء کو دے دیتا اور ایک حصہ اپنے لیے رکھ لیتا اور اس سے بھی سال بھر بڑی خوشحالی کے ساتھ، بڑی آسودگی کے ساتھ زندگی گزارتے بھئی۔ تو بیٹوں نے کہا کہ وہ والد صاحب تو بڑا حصہ غرباء کو دے دیتے تھے ہم اس دفعہ کوئی اس طرح کریں گے کہ غرباء کو نہیں دیں گے اتنا مال ہاتھ سے چلا جاتا ہے، سارا اپنے لیے بچا کر رکھ لیں گے۔ جو متوسط تھا عمر میں اس نے کہا کہ اس طرح نہ کرو غرباء کو بھی ان کا حق دو لیکن انہوں نے اس کی بات نہیں سنی اور وہ بھی خاموش ہو گیا باقی بھئی زیادہ تھے ان کی ماننی پڑی اس کو تو پھر مشورہ کیا جب فصل تیار ہو گئی، پاک تیار ہو گیا، پھل پک گیا کہ ہم کل صبح صبح جائیں گے اور صبح صبح ہی پھل اتار لیں گے تاکہ غرباء اور مساکین کو پتہ ہی نہ چلے تاکہ وہ آئے ہی نہ کوئی لینے چنانچہ رات کو یہ مشورہ کیا اور سو گئے۔ رات کے وقت اللہ کی طرف سے ان پہ ایک ان کے باغ پر کوئی عذاب آیا، آگ وغیرہ یا کوئی بگولا آیا سارے باغ کو ختم کر دیا۔ صبح یہ اٹھے، اٹھ کر چل پڑے اور آپس میں باتیں کرتے ہوئے بھی جا رہے تھے کہ دیکھو خیال رکھنا کوئی مسکین، محتاج آنے نہ پائے باغ کے اندر گھسنے نہ پائے اور پھر جب باغ کے پاس پہنچے تو ادھر ادھر دیکھا کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تو کہنے لگے شاید ہم راستہ بھٹک گئے ہیں، نیند میں ہیں، صبح صبح ہیں لیکن پھر ذرا غور کیا دیکھا تو یہ تو وہی جگہ ہے تو اس وقت وہ کہنے لگے کہ ہماری تو قسمت ہی پھوٹ گئی، ہم تو تباہ ہو گئے، کچھ بھی نہ رہا اور پھر اس وقت انہوں نے اللہ کی طرف رجوع کیا تو اس کا اللہ ذکر فرما رہے ہیں۔ اللہ فرماتے ہیں إنا بلوناهم كما بلونا أصحاب الجنة کہ یقیناً ہم نے ان مکہ والوں کو آزمایا جس طرح کہ ہم نے آزمائش کی تھی باغ والوں کی، إذ اقسموا جس وقت انہوں نے قسمیں اٹھائیں ليصرمونها مصبحين ھا ضمیر راجع ہے جنت کو، باغ کو، ليصرمونها کہ ہم البتہ ضرور پھل کاٹ لیں گے اس باغ کا، صرمہ کے معنی پھل کاٹنا، پھل اتارنا، ليصرمونها کہ البتہ ہم ضرور اس باغ کا پھل کاٹ لیں گے مصبحین اس حال میں کہ ہم صبح کرنے والے ہوں یعنی صبح کے وقت ہم اس کا پھل ضرور کاٹ دیں گے۔ إذ اقسموا ليصرمونها مصبحین جس وقت انہوں نے قسمیں اٹھائیں کہ البتہ صبح کے وقت وہ ضرور اس باغ کا پھل اتار لیں گے، وہ پھل کاٹ لیں گے، ولا يستثنون اور انہوں نے استثنا بھی نہ کیا۔ استثنا کہتے ہیں انشاءاللہ کہنے کو بھئی اور انہوں نے انشاءاللہ بھی نہیں کہا۔ صبح ہم کیا کریں گے؟ پھل اتار لیں گے اور انشاءاللہ بھی نہ کہا، فتافعليها پس چکر لگا گیا علیھا اس باغ پر طائف ایک چکر لگانے والا من ربک آپ کے پروردگار کی طرف سے وھم نائمون اس حال میں کہ وہ سوئے ہوئے تھے تو اس باغ پر ایک چکر لگانے والا چکر لگا گیا تمہارے پروردگار کی طرف سے اور وہ سوئے ہوئے تھے معنی سمجھ میں آرہا ہے بھئی۔ یہ یوں ترجمہ کر لیں بھئی فتافعلیها طائف من ربک پس پھر گیا اس باغ پر کوئی پھرنے والا آپ کے پروردگار کی طرف سے وھم نائمون اور وہ سوئے ہوئے تھے، فاصبحث كالصريم پس ہو گیا وہ باغ كالصريم جیسے کٹی ہوئی کھیتی۔ وہ باغ صریم کسے کہتے ہیں کٹی ہوئی کھیتی جس طرح کھیتی کٹنے کے بعد میدان صاف رہ جاتا ہے اسی طرح وہ باغ بھی بالکل ختم ہوا، صاف زمین رہ گئی۔ فاصبحث كالصريم پس وہ باغ ہو گیا كالصريم کٹی ہوئی کھیتی کی طرح۔ یہ صریم جو ہے وہ رات کو بھی کہتے ہیں۔ رات کو فاصبحث كالصريم پس وہ باغ ہو گیا رات کی طرح یعنی کالا سیاہ ہو گیا وہ رات کی کیسا ہو گیا؟ کالا سیاہ ہو گیا جس طرح رات سیاہ ہوتی ہے۔ فاصبحث كالصريم تو وہ باغ ہو گیا رات کی طرح یعنی کالا سیاہ ہو گیا، فتنادو مصبحین تنادو ندا سے ہے، ندا کا کیا معنی؟ پکارنا اور فتنادو باب تفاعل ہے، باب تفاعل جانبین سے فعل کو چاہتا ہے فتنادو تو وہ ایک دوسرے کو پکارنے لگے مصبحین اس حال میں کہ وہ صبح کرنے والے تھے (یعنی صبح کے وقت وہ ایک دوسرے کو پکارنے لگے) ان غدوا کہ صبح چلو سویرے چلو غدا یغدو کے معنی ہیں صبح سویرے جانا، صبح سویرے جانا۔ پس وہ پکارنے لگے صبح کے وقت ان غدو علی حرثكم کہ سویرے چلو اپنی کھیتی پر ان کنتم صارمین اگر تم کو پھل توڑنا ہے، اگر تم کو پھل کاٹنا ہے۔ یہ وہی صرما سے آیا بھئی۔ فتنادوا مصبحین ان غدو علی حرثكم إن كنتم صارمین پس وہ ایک دوسرے کو پکارنے لگے صبح کے وقت کہ صبح صبح چلو اپنی کھیتی پر اگر تم کو پھل کاٹنا ہے، فانطلقوا پس وہ چل پڑے وھم يتخافتون تخافت کہتے ہیں آہستہ آہستہ، چپکے چپکے باتیں کرنا، وھم يتخافتون اور وہ چپکے چپکے باتیں کر رہے تھے وھم يتخافتون اور وہ چپکے چپکے یہ باتیں کر یہ بات کر رہے تھے ألا يدخلنها کہ ألا يدخل کہ ہرگز نہ داخل ہو اس باغ میں اليوم آج کے دن عليكم تم پر مسکین کوئی محتاج۔ وہ چپکے چپکے یہ بات کر رہے تھے کہ آج کے دن اس باغ میں تم پر ہرگز کوئی محتاج، کوئی مسکین اور کوئی فقیر داخل نہ ہو۔ فانطلقوا وھم يتخافتون ألا يدخلنھا اليوم عليكم مسكين پس وہ چل پڑے اور وہ آہستہ آہستہ باتیں کر رہے تھے کہ ہرگز داخل نہ ہو اس باغ میں آج کے دن تم پر کوئی محتاج، وغدوا علی حرڈ قادرین اور وہ سویرے چلے علی حرڈ حرڈ کہتے ہیں روکنا یعنی بخل مراد ہے، فقیروں سے روکنا مال کو مراد۔ اور وہ سویرے چلے علی حرڈ بخیل پر قادرین یہ علی حرڈ کا تعلق قادرین سے ہے اور وہ سویرے چلے اس حال میں کہ وہ قادر تھے بخیلی پر بخل کرنے پر (یعنی اس مال کو روکنے پر) وہ سویرے چلے اس حال میں کہ وہ مال کو روٹنے پر قادر تھے، بخیلی پر قادر تھے، قادر تھے یعنی اپنے گمان میں، ان کا خیال تھا ہم فقیروں سے سب کچھ روک لیں گے ان کو کچھ بھی نہیں دیں گے۔ تو قادرین کا کیا معنی ہوا؟ وہ قادر تھے اپنے گمان کے مطابق ان کا گمان یہ تھا، وغدوا علی حرڈ قادرین اور وہ سویرے چلے یہ سمجھتے ہوئے کہ ہم بخیلی پر قادر ہیں، فلما رأوها پس جب انہوں نے اس باغ کو دیکھا قالوا تو کہنے لگے إنا لضالون کہ یقیناً ہم راہ بھٹک گئے ہیں۔ إنا لضالون یقیناً ہم راہ بھٹک گئے ہیں بل نحن بل نحن محرومون بلکہ ہم تو محروم ہی ہو گئے، پھر جب ذرا غور کیا تو پتہ چلا یہ تو وہی باغ ہے تو کیا کہنے لگے بل نحن محرومون بلکہ ہم تو محروم ہی ہو گئے، ہمارا تو سب کچھ ہی لٹ گیا۔ قال أوسطهم تو کہا ان میں سے جو درمیانہ تھا (یعنی درمیانی عمر والا تھا) ألم أقل لكم کیا میں نے تم سے کہا نہیں تھا لولا تسبحون کہ کیوں تم اللہ کی پاکی بیان نہیں کرتے۔ قال أوسطهم ألم أقل لكم لولا تسبحون تو ان جو درمیانہ تھا ان میں اس نے کہا کہ میں نے کیا میں نے تم سے کہا نہیں تھا لولا تسبحون کہ کیوں تم پاکی بیان نہیں کرتے۔ تو اوسط کا معنی جو متوسط عمر والا تھا ان میں (یعنی جو منجھلا بیٹا تھا) تو ان میں سے جو منجھلا تھا اس نے کہا کیا میں نے تم سے کہا نہیں تھا لولا تسبحون کیوں تم پاکی بیان نہیں کرتے۔ یا اوسط کا معنی افضل کے بھی آتا ہے تو معنی ہوگا قال أوسطهم ان میں جو اچھا تھا اس نے کہا کیا میں نے تم سے کہا نہیں تھا لولا تسبحون کیوں تم تسبیح بیان نہیں کرتے۔ قالوا سبحان ربنا تو وہ کہنے لگے سبحان ربنا اے ہمارے پروردگار آپ پاک ہیں۔ قالوا سبحان ربنا وہ کہنے لگے پاک ہے ہمارا پروردگار، سبحان ربنا پاک ہے ہمارا پروردگار۔ قالوا تو وہ کہنے لگے سبحان ربنا پاک ہے ہمارا پروردگار انا کننا ظالمین یقینا ہم ظلم کرنے والے تھے یعنی ہم ہی خطاوار ہیں۔ ہم ہی ظلم کرنے والے ہیں یعنی ہم ہی خطاوار ہیں فاقبل بعضہم علی بعض اقبل متوجہ ہونا فاقبل پس متوجہ ہوئے بعضہم ان میں سے بعض علی بعض بعض پر با محاورہ کیا ترجمہ کریں گے؟ ہاں شاباش! پس وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوئے یتلامون اس حال میں کہ وہ ملامت ایک دوسرے کو ملامت کر رہے تھے تلاوم باب تفاعل آ گیا بھئی کہ وہ ایک دوسرے کو ملامت کر رہے تھے انسان کئی آدمی مل کر کوئی کام کر رہے ہوں اور کوئی تکلیف آجائے ہر ایک دوسرے کو الزام دیتا ہے کہ تمہاری وجہ سے یہ ہوا تمہاری وجہ سے تو یہاں بھی وہ اسی طرح ایک دوسرے کو ملامت کر رہے ہیں اور اور مل کر کام کر رہے ہوں اور کوئی کامیابی مل جائے تو ہر ایک کہتا ہے میری وجہ سے ملی تکلیف آئے تو دوسرے کو کہتا ہے تمہاری وجہ سے یہ سب کچھ ہوا اور کوئی کامیابی ملے تو میری وجہ سے کامیابی ملی۔ فاقبل بعضہم علی بعض یتلامون پس وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر ملامت ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے قالوا یا ویلنا کہا انہوں نے یا ویلنا ہائے ہماری ہلاکت ویل کس کو کہتے ہیں؟ ہلاکت کو۔ قالوا وہ کہنے لگے یا ویلنا ہائے ہماری ہلاکت انا کننا طاغین یقینا ہم سرکش تھے یقینا ہم سرکشی کرنے والے تھے طغا کے کیا معنی؟ طغا یطغی انا کننا طاغین یقینا ہم سرکش تھے، ہم سرکشی کرنے والے تھے عاص ربنا ان یبدلنا خیرا منھا قریب ہے کہ ہمارا پروردگار ان یبدلنا بدل دے ہمارے لیے خیرا منھا اس باغ سے بہتر۔ قریب ہے کہ ہمارا پروردگار اس باغ سے بہتر بدل کر ہمیں دے دے اس باغ سے اب اللہ کی طرف رجوع کر لیا بھئی۔ عاص ربنا ان یبدلنا خیرا منھا قریب ہے کہ ہمارا پروردگار وہ ہمیں بدل دے اس باغ سے بہتر انا الی ربنا راغبون یقینا ہم اپنے پروردگار کی طرف راغبون رغبت کرنے والے ہیں۔ اس کی طرف رجوع کرنے والے ہیں۔ کذالک العذاب جی آگے اب اللہ فرما رہے ہیں کذالک العذاب اسی طرح عذاب ہوتا ہے۔ جیسے ان پر آیا تھا کذالک العذاب اسی طرح عذاب ہوتا ہے ولعذاب الآخرۃ اکبر اور البتہ آخرت کا عذاب تو سب سے بڑا ہے لو کانوا یعلمون اگر یہ لوگ جانتے اگر یہ مکہ والے جانتے۔ ان للمتقین عند ربہم جنات النعیم یقینا متقیوں کے لیے ان کے رب کے پاس جنات النعیم نعمتوں کی جنتیں نعمتوں کی جنتیں ہیں۔ أفنعل المسلمین كالمجرمین کیا ہم کر دیں گے مسلمانوں کو کالمجرمین مجرموں کی طرح۔ کیا ہم کر دیں گے مسلمانوں کو مجرموں کی طرح؟ مشرکین مکہ دعوت پر ایمان تو نہیں لاتے تھے اور کہتے تھے کہ آخرت قائم ہی نہیں ہوگی قیامت قائم ہی نہیں ہوگی اور اگر بالفرض والمحال قیامت ہوئی بھی آخرت ہوئی بھی پھر دوبارہ زندگی ملی بھی تو جس طرح اللہ نے ہمیں یہاں پر قوت دی ہے، اولاد دی ہے، مال دیا ہے، نعمتیں دی ہیں اور اے مسلمانوں تم تو غریب غرباء ہو تمہارے پاس کچھ بھی نہیں ہے تو آخرت میں اگر زندگی ملی بھی تو وہاں بھی اللہ ہمیں اسی طرح نعمتیں دیں گے اور تمہارا یہی حال ہوگا۔ تو اللہ فرما رہے ہیں أفنعل المسلمین كالمجرمین کیا ہم فرمانبرداروں کو مجرموں کی طرح کر دیں گے یعنی ان کے برابر کر دیں گے؟ ما لکم کیا ہوا تم کو کیف تحکمون کیسا تم فیصلہ کرتے ہو۔ ما لکم تم کو کیا ہو گیا کیف تحکمون تم کیسا فیصلہ کرتے ہو؟ أم لكم کتاب فیہ تدرسون کیا تمہاری کوئی کتاب ہے فیہ تدرسون جس میں تم پڑھتے ہو۔ أم لكم کتاب کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے فیہ تدرسون جس میں تم پڑھتے ہو۔ ان لكم کہ تمہارے لیے فیہ ہا ضمیر فیہ کی ہا ضمیر راجع ہے کتاب کو تمہارے لیے فیہ اس کتاب میں ہے لما تخیرون البتہ وہ جو تم پسند کرتے ہو۔ جی یہ فیہ کو ذرا ہٹائیں اور پھر ترجمہ آپ کو سمجھ میں آئے گا ان لكم لما تخیرون کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو؟ کیا پڑھتے ہو یہ کہ ان لكم لما تخیرون کہ تمہارے لیے ہوگا لما تخیرون البتہ جو تم پسند کرتے ہو۔ جو تم تو یہ فیہ اسی پہلے فیہ کی تاکید کے طور پر لایا گیا کہ اس کتاب کے اندر ہے کہ تمہارے لیے وہ کچھ ہوگا جو تم پسند کرو گے یعنی تمہارا یہ خیال ہے تمہارے پاس کوئی عقلی دلیل تو ہے نہیں۔ عقلی دلیل تو تمہارے پاس کوئی نہیں کیا تمہارے پاس پھر کوئی نقلی دلیل ہے یعنی کوئی کتاب ہے جس کے اندر یہ لکھا ہو کہ آخرت میں تمہیں وہ کچھ ملے گا جو تمہیں پسند ہے۔ معنی سمجھ میں اگیا بھئی۔ أم لكم کتاب فیہ تدرسون ان لكم فیہ لما تخیرون کیا تمہارے لیے ایسی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھتے ہو کہ تمہارے لیے وہ ہوگا جو تم پسند کرو گے یعنی آخرت میں۔ أم لكم ایمان ایمان علینا یا تمہارے لیے ایمان ایمان علینا یا تمہارے لیے قسمیں ہیں علینا ہمارے ذمے ہم پر۔ کیا تمہارے لیے قسمیں ہیں علینا ہمارے ذمہ۔ بالغۃ الی یوم القیامۃ جو پہنچنے والی ہیں قیامت کے دن تک۔ اللہ فرما رہے ہیں۔ اے مشرکین مکہ تم کو کیا ہو گیا کس طرح کے فیصلے کرتے ہو کس طرح کی باتیں طے کر لیتے ہو کہ ہمیں آخرت میں بھی وہی آخرت میں بھی اسی طرح اپنی پسند کی چیزیں اور بہترین چیزیں اور نعمتیں ملیں گی تم کس طرح یہ فیصلہ کرتے ہو تمہارے پاس کیا عقلی دلیل ہے اور عقلی دلیل تو تمہارے پاس کوئی ہے نہیں شاید تمہارے پاس کوئی نقلی دلیل ہو جو تم اتنی پختہ بات کر رہے ہو لیکن تمہارے پاس تو کوئی نقلی دلیل کوئی ایسی کتاب بھی نہیں جس کے اندر یہ ہم نے لکھا ہو کہ ان کو وہی کچھ آخرت میں ملے گا جو ان کو پسند ہے۔ یا تمہاری تر تمہاری تر لیے ہمارے ذمے کوئی قسمیں ہیں جو پہنچنے والی ہوں قیامت کے دن تک یعنی باقی رہنے والی ہوں قیامت کے دن تک۔ یعنی ہم نے تمہارے لیے اپنے ذمے قسمیں اٹھا کر کوئی بات تم کوئی وعدہ تم سے کیا ہو۔ ہم نے کیا ہو توجہ ہے سبق کی طرف ہم نے قسمیں اٹھا کر تم سے کوئی وعدے کیے ہوں کہ تمہیں آخرت میں بھی وہی کچھ ملے گا جو تمہیں پسند ہے۔ اور وہ قسمیں ہمارے ذمے ہوں ایسی قسمیں جو قیامت تک باقی رہنے والی ہوں بھئی۔ یعنی قیامت تک کے وعدے ہوں جن میں۔ أم لكم ایمان علینا بالغۃ الی یوم القیامۃ یا تمہارے لیے ایسی قسمیں ہیں ہمارے ذمہ جو پہنچنے والی ہیں قیامت کے دن تک یعنی باقی رہنے والی ہیں قیامت کے دن تک ان لكم لما تحکمون کہ یقینا تمہارے لیے وہ ہوگا جو تم فیصلہ کرتے ہو۔ یا یہ قسمیں ہمارے ذمے ہیں تمہارے لیے ہم نے یہ قسم کھائی ہو کہ تمہارے لیے کیا آخرت میں بھی وہی کچھ ہوگا جو تم فیصلہ کرتے ہو جو تم پسند کرتے ہو۔ معنی بھی سمجھ میں آیا کہ نہیں آیا بھئی؟ سب کو۔ أم لكم ایمان علینا بالغۃ الی یوم القیامۃ یا تمہارے لیے قسمیں ہوں ہم پر وہ جو باقی رہنے والی ہوں قیامت کے دن تک کیا قسمیں یہ یہ کہ ان لكم لما تحکمون کہ یقینا تمہارے لیے وہ ہوگا جو تم فیصلہ کرتے ہو (یعنی تمہیں وہی ملے گا جو تم فیصلہ کرتے ہو جو تم نے طے کیا ہے کہ آخرت میں بھی ہمیں بہت کچھ ملے گا)۔ سلہم اے پیغمبر ان سے پوچھ لی ان سے پوچھیے ایہم بذالک زعیم زعیم کہتے ہیں ضامن ضمانت دینے والا ایہم کون جو ہے ان میں سے بذالک اس بات کا زعیم ضامن ہے۔ ان میں سے کون اس بات کا ضامن ہے کون انہیں اس بات کی ضمانت دیتا ہے کس نے ان کو اس بات کی ضمانت دی ہے؟ سلہم ایہم بذالک زعیم اے پیغمبر ان سے پوچھیے کہ کون ان میں سے اس بات کی کس نے ان میں سے اس بات کی ضمانت دے رکھی ہے؟ أم لہم شرکا یا کیا ان کے شریک ہیں۔ یا ان کے کچھ شریک ہیں جن کو انہوں نے اللہ کا شریک ٹھہرایا ہے اور انہوں نے ان کو ضمانت دے رکھی ہو کیا ایسی بات ہے؟ فلیأتوا بشرکائہم پس چاہیے کہ یہ لے آئیں اپنے شریکوں کو ان کانوا صادقین اگر یہ سچے ہیں۔ یوم یکشف عن ساق جس دن کہ کھولا جائے گا عن ساق پنڈلی کو۔ یوم جس دن کے کھولا جائے گا پنڈلی کو ظاہر کیا جائے گا پنڈلی کو ويدعو الی السجود اور وہ بلائے جائیں گے سجدے کی طرف فلا يستطیعون پس وہ اس کی استطاعت نہ رکھیں گے۔ اس وہ اس کی قدرت نہ رکھیں گے۔ قیامت کے دن کشف ساق ہوگا۔ ساق کا ظاہر کرنا۔ قیامت کے دن اللہ اپنی ساق ظاہر فرمائیں گے اور ساق کہتے ہیں پنڈلی کو لیکن یہاں پنڈلی وہ معنی نہیں جو ہم انسانوں میں جس طرح پنڈلی ہوتی ہے بلکہ اس کا کیا معنی ہے؟ تو یاد رکھیے یہ متشابہات میں سے ہیں اللہ ہی اور اس کا رسول ہی جانتے ہیں۔ بہر حال یہ ہے اللہ کی صفات میں سے کوئی خاص صفت ہے جس کا ظہور کیا قیامت کے دن ہوگا اور جس وقت اس صفت کا ظہور ہوگا تو تمام مومنین، تمام اہل ایمان سجدے میں گر جائیں گے اور اس وقت جو منافقین اور جو ریاکاری سے سجدہ کرنے والے تھے اور جو مشرکین تھے وہ بھی سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی کمر، ان کی پشتیں اس طرح سخت ہو جائیں گی جس طرح تختے ہوتے ہیں اور وہ چاہنے کے باوجود سجدہ نہ کر سکیں گے۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی۔ تو اللہ کے لیے یہ جسم اگر پنڈلی مانی جائے تو اللہ کے لیے جسم ماننا پڑے گا اور اللہ کے لیے جسم مانا جائے تو اللہ مرکب ہوئے اور جو مرکب ہو وہ حادث ہوتا ہے اور جو حادث ہو وہ رب نہیں ہو سکتا تو اللہ کے لیے جسم ثابت کرنا حرام ہے درست نہیں بھئی کفر ہے بھئی۔ یوم یکشف عن ساق جس دن کہ پنڈلی کو ظاہر کیا جائے گا ويدعو الی السجود اور وہ بلائے جائیں گے سجدے کی طرف فلا يستطیعون سجود سجدہ یہ مصدر ہے یاد رکھیے سجدہ کرنا اور وہ بلائے جائیں گے سجدہ کرنے کی طرف فلا يستطیعون پس وہ اس کی استطاعت نہ رکھیں گے، اس کی قدرت نہ رکھیں گے۔ خاشعۃ ابصارہم جھکی ہوئی ہوں گی ان کی نظریں ترھقہم ذلۃ ترھقہم کے معنی چھا جانا، ڈھانپ لینا ترھقہم ڈھانپ ڈھانپ لے گی ان کو ذلۃ ذلت۔ چھا رہی ہوگی ان پر ذلت۔ خاشعۃ ابصارہم ترھقہم ذلۃ ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی ان پر ذلت چھا رہی ہوگی و قد کانوا یدعو الی السجود اور تحقیق وہ بلائے جاتے تھے سجدہ کرنے کی طرف وھم سالمون اس حال میں کہ وہ سالم تھے یعنی صحیح سالم تھے۔ اللہ فرما رہے ہیں وقد کانوا یدع اس وقت وہ سجدہ نہیں کر سکیں گے اور دنیا کے اندر وہ بلائے جاتے تھے سجدہ کرنے کی طرف وھم سالمون اس حال میں کہ وہ صحیح سال اس وقت صحیح سالم تھے سجدے کے لیے بلائے جاتے تھے کہ اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرو اللہ کے لیے سجدہ کرو تو اس وقت یہ سجدہ نہیں کرتے تھے تو آج بھی یہ سجدہ نہ کر سکیں گے۔ وقد کانوا یدعون الی السجود اور تحقیق وہ بلائے جاتے تھے سجدہ کرنے کی طرف وھم سالمون اور وہ صحیح سالم تھے یعنی وہ دنیا میں فذرنی پس آپ چھوڑ دیجیے مجھے پس اے پیغمبر ذرنی آپ مجھے چھوڑ دیجیے و من یکذب بھذا الحدیث اور جو جھٹلاتا ہے اس حدیث کو اس بات کو یعنی اس کلام کو۔ اے پیغمبر آپ مجھے چھوڑ دیجیے اور جو اس میرے اس کلام کو جھٹلاتے ہیں ان کو آپ چھوڑ دیجیے میں خود ان سے نپٹ لوں گا سنستدریجھم استدراج کہتے ہیں آہستہ آہستہ لے جانا۔ سنستدریجھہم ہم آہستہ آہستہ ان کو لے جائیں گے من حیث لا یعلمون اس حیثیت سے کہ ان کو علم بھی نہ ہو سکے گا۔ اللہ فرما رہے ہیں کہ ہم ان کو آہستہ آہستہ لے جائیں گے یعنی جہنم کی طرف اس حیثیت سے کہ ان کو علم بھی نہ ہو سکے گا۔ فذرنی پس آپ چھوڑ دیجیے مجھے و من یکذب بھذا الحدیث اور جو جھٹلاتا ہے اس کلام کو سنستدریجھہم من حیث لا یعلمون پس ہم دھیرے دھیرے ان کو لے جائیں گے اس جگہ سے کہ ان کو علم بھی نہ ہوگا۔ چلیے بس بھئی ھذا ھو المراد واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام
129 approved lectures · 123 of 129