Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-125

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 12 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 4
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم فاما من اوتي كتابه بيمينه فيقول هاؤم اقراوا كتابيه اني ظننت اني ملاق حسابيه فهو في عيشة راضية في جنة عالية قطوفها دانية فاما من اوتي كتابه بيمينه، باقي وہ شخص جس کو دیا گیا اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں۔ قیامت کے دن نامہ اعمال تقسیم ہوگا، جو نیک لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں بڑھ جائیں گی، ان کو نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، اور جبکہ کافروں کو، مشرکوں کو اور منافقوں وغیرہ کو، ان کو اور گنہگاروں کو نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ پس وہ جس کو نامہ اعمال اس کے... جس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا، فاقول تو وہ کہے گا: هاؤم اقراوا كتابيه، یہ لو پڑھو کتابیہ میرا نامہ اعمال، یہ لو پڑھو میرا... وہ خوشی سے اپنے عزیزوں کو، اپنے دوستوں کو، اپنے جاننے والوں کو خوشی سے دکھاتا پھرے گا کہ یہ لو پڑھو میرا نامہ اعمال، مجھے نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا گیا ہے، میری نیکیاں بڑھ گئی ہیں۔ میں نے بتلایا تھا هاؤم یہ اسم فعل ہے بمطہر خذ کے، اور یہ مذکر کے لیے بھی اسی طرح استعمال ہوتا ہے، مونث کے لیے بھی، واحد کے لیے بھی، تثنیہ کے لیے بھی اور جمع کے لیے بھی۔ اور کتابیہ، کتابیہ کے آخر میں میں نے بتلایا تھا یہ ہائے سکتہ ہے بھئی۔ یہ کیا ہے؟ ہائے سکتہ ہے۔ یہ ہائے سکتہ ہے اور یہ کس لیے لائی جاتی ہے؟ تاکہ آخری حرف کی حرکت کی حفاظت کی جائے۔ تو اگر یہ ہ نہ ہوتی تو کتابی یوں پڑھا جاتا، یا کی حرکت گر جاتی۔ تو یا کی حرکت کی حفاظت کے لیے ہ بڑھا دی گئی، اب اس یا پر فتحہ اسی طرح پڑھا جائے گا: کتابیہ۔ تو یہ یا متکلم کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔ کتابیہ، میری کتاب، میرا نامہ اعمال۔ پس وہ کہے گا: هاؤم اقراوا كتابيه، یہ لو تم پڑھو میرے میرا نامہ اعمال۔ انی ظننت اني ملاق حسابيه۔ ظن کے معنی گمان کے آتے ہیں، اور یہاں مومن کی طرف جب اس کی نسبت کی جائے تو اس کے معنی یقین کے ہیں۔ پھر یہ گمان کے معنی میں نہیں ہے بلکہ کس معنی میں ہے؟ یقین کے معنی میں۔ اني ظننت، مجھے یقین تھا، میرا یہ اعتقاد تھا انی ملاق حسابيه، کہ میں ملاقات کروں گا حسابيه، یہ پھر وہی ہائے سکتہ آگئی بھئی۔ اصل میں کیا ہے: حسابی، آخر میں یا متکلم کی ہے۔ انی ظننت انی ملاق حسابيه، کہ میں اپنے حساب سے ملاقات کروں گا، میں اپنے حساب سے یعنی مجھے اپنے حساب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ فهو في عيشة راضية، پس وہ پسندیدہ زندگی میں ہوگا۔ عيشة زندگی، راضية، راضية بممرضية کے ہے بھئی، کیونکہ راضی زندگی والا ہوتا ہے، اور زندگی کیا ہوتی ہے؟ مرضی پسندیدہ ہوتی ہے۔ فهو، پس وہ شخص جو ہے جس کو دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا گیا، فهو في عيشة راضية، وہ پسندیدہ زندگی میں ہوگا۔ في جنة عالية، اونچی جنت میں ہوگا۔ اونچی جنت میں، فهو في عيشة راضية في جنة عالية، وہ پسندیدہ زندگی میں ہوگا، اونچی جنت میں۔ قطوفها دانية، قطوفها اس جنت کے پھل، اس جنت کے پھل۔ قطوف کسے کہتے ہیں؟ پھلوں کو۔ قطوفها دانية، اس کے پھل جو ہیں دانية، دنا يدنو دنو کے کیا معنی ہیں؟ قریب ہونے کے تو دانیہ، قریب، قریب۔ قطوفها دانية، اس کے پھل قریب ہوں گے، قریب ہوں گے۔ میں نے بتلایا کہ جو بیٹھا ہوا لیٹا ہوگا اس کو پھل توڑنے کے لیے بیٹھنا نہیں پڑے گا، جو بیٹھا ہوا ہے اسے پھل توڑنے کے لیے کھڑا نہیں ہونا پڑے گا، تو جس حالت میں بھی انسان ہو، اٹھا ہو، کھڑا ہو، بیٹھا ہو، لیٹا ہو، ہر حال میں وہ پھل توڑ سکے گا۔ قطوفها دانية، اس کے پھل قریب ہوں گے، تو پھر بعضوں نے یہ ترجمہ کیا: قطوفها دانية، اس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔ كلوا واشربوا هنيئا بما أسلفتم في الأيام الخالية۔ ان سے کہا جائے گا جنتیوں سے: كلوا واشربوا، کھاؤ اور پیو، تم لوگ کھاؤ اور پیو ہنيئا ان خوشی خوشی، بما أسلفتم ای بسبب ما أسلفتم، اس وجہ سے جو تم پیچھے چھوڑ آئے، اسلفا کے کیا معنی ہیں؟ پیچھے چھوڑ آنا، پیچھے چھوڑ آنا، اسی سے سلف بھی ہے، سلف جو گزشتہ بزرگ ہیں، جو پہلے گزرے ہیں۔ بما أسلفتم، بوجہ اس کے جو تم پیچھے چھوڑ آئے في الأيام الخالية، گزشتہ دنوں میں۔ الأيام الخالية، گزشتہ دنوں میں۔ كلوا واشربوا هنيئا بما أسلفتم في الأيام الخالية، کھاؤ اور پیو خوشی خوشی یا یوں ترجمہ کریں: کھاؤ اور پیو مزے سے بما أسلفتم في الأيام الخالية، بوجہ اس کے جو تم پیچھے چھوڑ آئے گزشتہ دنوں میں، یعنی جو دنیا کے اندر جو تم نیک عمل پیچھے چھوڑ آئے، نیک عمل کرتے تھے، ان کی وجہ سے اب یہاں پر مزے سے کھاؤ پیو۔ واما من اوتي كتابه بشماله، اور باقی وہ شخص کہ جس کو اس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا گیا، فاقول تو وہ کہے گا: يا ليتني لم أوت كتابيه، ہائے کاش کہ مجھے میرا نامہ اعمال نہ دیا جاتا۔ يا ليتني، ہائے کاش! لم أوت، میں نہ دیا جاتا، كتابيه، اپنا نامہ اعمال، مجھے میرا نامہ اعمال نہ دیا جاتا، یہ پھر کتابیہ کے آخر میں ہائے سکتہ ہے۔ ولم أدري ما حسابيه، اور میں نہ جانتا کہ کیا ہے میرا حساب۔ تو وہ کہے گا: يا ليتني لم أوت كتابيه، وہ کہے گا کہ ہائے کاش کہ مجھے میرا نامہ اعمال نہ دیا جاتا، ولم أدري ما حسابيه، اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے، میرے حساب کا مجھے پتہ ہی نہ ہوتا۔ يا ليتها كانت القاضية، ہائے کاش! کہ وہ موت جو ہے، ہ ضمیر راجع ہے موت کو، يا ليتها، ہائے کاش! کہ وہ موت جو ہے، كانت القاضية، وہی فیصلہ کر دیتی، وہ جو موت آئی تھی دنیا کے اندر، پہلی موت، کاش کہ وہی میرا فیصلہ کر دیتی، میرا کام تمام کر دیتی، مجھے یہ دوسری زندگی نہ دی جاتی، ایک یہ معنی بھئی۔ بعضوں نے یہ معنی کیا: ہائے کاش! کہ موت ہی میرا فیصلہ کر دیتی، موت ہی میرا کام تمام کر دیتی، یعنی وہ جو دنیا میں پہلی موت آئی تھی، وہ میرا کام ہمیشہ کے لیے تمام کر دیتی، مجھے دوبارہ زندگی نہ دی جاتی۔ بعضوں نے یہ معنی کیا: يا ليتها كانت القاضية، ہائے کاش! کہ موت جو ہے، وہ میرا کام تمام کر دیتی، میرا فیصلہ کر دیتی، یعنی اس وقت موت آکر کیا کر دے؟ میرا کام تمام کر دے، مجھے ختم کر دے، موت کی تمنا کریں گے اس وقت۔ ما أغنى عني ماليه، کچھ کفایت نہیں کی عني میری طرف سے ماليه میرے مال نے۔ ماليه پھر وہی ہائے سکتہ آگئی بھئی۔ مالي، میرا مال۔ آخر میں ہائے سکتہ پڑھائی گئی تاکہ آخری حرف کی حرکت کی حفاظت ہو جائے۔ ما أغنى عني ماليه، کچھ کفایت نہیں کی میری طرف سے میرے مال نے، یعنی میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا۔ هلك عني سلطانية، ہلاک ہو گیا مجھ سے سلطانية میری سلطنت۔ یہ پھر ہائے سکتہ آگئی بھئی۔ سلطاني، میری سلطنت۔ ما أغنى عني ماليه، میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا، هلك عني سلطانية، میری سلطنت ختم ہو گئی، میری سلطنت ختم ہو گئی، یعنی میرا زور اور قوت ختم ہو گئی، دنیا کے اندر میرا زور اور قوت تھا، وہ سب چیزیں وہیں رہ گئیں، میرا سب کچھ ختم ہو گیا۔ خذوه فغلوه، حکم ہوگا: خذوه، پکڑو اس کو، فغلوه، بس اس کو طوق پہنا دو۔ غل یغل کے معنی توق پہنانا گردن میں۔ خذوه حکم ہوگا: خذوه، پکڑو اس کو، فغلوه، بس اس کو طوق پہنا دو، ثم الجحيم صلوه، پھر جہنم میں اس کو داخل کر دو۔ صلا یصلو، داخل کرنا۔ ثم الجحيم صلوه، پھر جہنم میں اس کو داخل کر دو۔ ثم في سلسلة، پھر ایک زنجیر میں۔ سلسلہ کسے کہتے ہیں؟ زنجیر کو۔ پھر ایک زنجیر میں، ذرعها سبعون ذراعا، جس کی... ذرعها کہ اس زنجیر کی پیمائش جو ہے، سبعون ذراعا، ستر گز ہوگی، ستر گز، ستر گز ہوگی بھئی۔ اور سلسلہ نکرہ آیا، اور نکرہ کے بعد میں نے بتلایا تھا فعل آئے تو وہ اس کی صفت بنتا ہے، اور کس طرح صفت بنتا تھا؟ فعل اپنے فاعل یا نائب فاعل سے مل کر جملہ بنتا تھا، اور جملہ بن کر پھر وہ صفت بنتا تھا نکرہ کی، کیونکہ جملہ نکرہ کے حکم میں ہے، تو نکرہ کے بعد نکرہ آیا۔ وہ تو تھا فعل تو جملہ نکرہ ہوتا ہے، چاہے جملہ فعلیہ ہو چاہے جملہ اسمیہ تو کبھی صفت جملہ فعلیہ کی صورت میں آتی ہے اور کبھی جملہ اسمیہ۔ یہاں جملہ اسمیہ کی صورت میں صفت ہے: ذرعها مبتدا، سبعون ذراعا خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ، اور جملہ اسمیہ یہ پھر صفت ہوئی کس کی؟ سلسلتین کی، اور سلسلہ پھر ترجمہ کیسے کریں گے موصوف سے پہلے؟ ایسا یا ایسی کا لفظ۔ ثم في سلسلة، پھر ایک ایسی زنجیر میں، ذرعها سبعون ذراعا، جس کی پیمائش ستر گز ہوگی، فسلکوہ، بس اس میں اس کو داخل کر دو۔ پھر ایک زنجیر میں اس کو داخل کر دو جس کی پیمائش کتنی ہوگی؟ ستر گز ہوگی۔ اور گز یہ دنیا کا گز نہ سمجھیں بھئی، آخرت کا گز واللہ ہی جانتے ہیں کتنا ہوگا۔ انه كان لا يؤمن بالله العظيم، یقیناً یہ ایمان نہیں لاتا، ایمان نہیں لاتا تھا، اس اللہ پر جو عظیم ہے، یہ خدائے بزرگ و برتر پر ایمان نہیں لاتا تھا۔ ولا يحض على طعام المسكين، اور نہ ابھارتا تھا مسکین کو کھانا کھلانے پر۔ ولا يحض، اور کسی کو نہیں، کسی کو ترغیب نہیں دیتا تھا مسکینوں کو کھانا کھلانے کی، خود بھی نہیں کھلاتا تھا، کسی دوسرے کو بھی ترغیب نہیں دیتا تھا، خذوه فغلوه ثم الجحيم صلوه، پکڑو اس کو، پس اس کو طوق پہناؤ، پھر جہنم میں اس کو داخل کرو، پھر ایک ایسی زنجیر میں جس کی پیمائش ستر گز ہے، اس کو داخل کر دو، یعنی اس میں جکڑ دو اس کو، پھر ایک ایسی زنجیر میں جس کی پیمائش ستر گز ہے، اس میں اس کو جکڑ دو، انه كان لا يؤمن بالله، زنجیروں میں جکڑ دیا جائے گا، عذاب میں انسان کے ہاتھ پاؤں کھلے ہوں تو بھی کچھ تخفیف ہو جاتی ہے، کچھ ہلکا محسوس ہوتا ہے، زنجیروں میں جکڑ دیا جائے گا کہ حرکت بھی نہ کر سکے تاکہ اور زیادہ عذاب محسوس ہو۔ انه كان لا يؤمن بالله العظيم، یقیناً یہ خدائے بزرگ پر ایمان نہیں لاتا تھا، ولا يحض على طعام المسكين، اور مسکین کو کھانا کھلانے پر ترغیب نہیں، اور مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا تھا، فليس له اليوم ها هنا حميم، پس نہیں ہوگا اس کے لیے آج کے دن ہا ہنا یہاں پر حمیمون کوئی گہرا دوست۔ حمیم کسے کہتے ہیں؟ گہرا۔ پس آج کے دن یہاں کوئی اس کا دوست نہیں ہوگا، ولا طعام الا من غسلين، اور نہ کوئی کھانا ہوگا سوائے غسلین کے، آج کے دن اس کا نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ اس کے لیے کوئی کھانا ہوگا سوائے غسلین کے، غسلین۔ غسلین کا کیا معنی؟ دو معنی بیان کرتے ہیں مفسرین حضرات۔ ایک معنی وہ جو زخموں کو دھویا جائے اور دھونے سے جو پانی گندا نیچے گرے اس کو غسلین کہتے ہیں۔ تو ان جہنمیوں کو بھی ان زخموں کی دھوئن پہلا، پلائی جائے گی بھئی، وہ جو دوزخیوں کا خون اور پیپ ملا پانی ہوگا، وہ ان کو پلایا جائے گا، وہ اور وہ کھلایا جائے گا، اور اول یہ انتہائی بھوک کی وجہ سے بے تاب ہو کر اس کو پیئیں گے کہ شاید اس سے کچھ فائدہ ہو جائے، لیکن جب پیئیں گے تو پتہ چلے گا یہ تو اس سے بھی بڑھ کر عذاب ہے، اور بھی بڑھ کر تکلیف میں مبتلا ہو جائیں گے، اللہ تعالی ہم سب کی حفاظت فرمائے بھئی۔ تو یہ ایک معنی غسلین کا کیا معنی؟ زخموں کی دھوئن، زخموں اس وہ جو پانی ہے اور دوسرا معنی بازوں نے کہا کہ غسلین یہ جہنم میں ایک درخت ہے اس کا نام ہے جیسے زقوم ایک درخت ہے اسی طرح غسلین بھی ایک درخت ہے اس کا نام ہے اور تو یہ ان کی خوراک ہوگی۔ ولا طعام اور نہ کھانا ہوگا ان کے لیے الا من غسلین مگر زخموں کے دھوون لا یاکلہ الا الخاطئون نہیں کھائیں گے اس کو مگر خطا کار ہی گنہگار ہی اس کو گنہگار ہی کھائیں گے۔ فلا اقسم بما تبصرون وما لا تبصرون فلا اقسم یہ لا صلہ ہے لا کیا ہے کیا معنی صلہ صلہ میں نے بتلایا تھا زائد زائد قرآن تفسیر کے اندر صلہ کا لفظ ائے زائد کو کیا کہتے ہیں تفسیر میں صلہ کہتے ہیں۔ اور کیوں کہتے ہیں صلہ کیونکہ زائد میں زائد سے تو یہ شبہ پڑتا ہے شاید یہ لفظ بالکل بیکار ہے بھئی زائد ہے حالانکہ ایسا نہیں اس یہ زائد نہیں یہ فائدہ دیتا ہے اور کلام میں حسن پیدا کرتا ہے۔ تو یہ قسم پر کبھی لا کا لفظ لایا جاتا ہے بھئی اور مقصد کیا ہوتا ہے بلاغت کا نکتہ اس میں میں نے بیان کیا تھا یعنی یہ بات جس پر قسم اٹھائی جا رہی ہے اتنی واضح ہے کہ اس پر قسم اٹھانے کی ضرورت ہی نہیں تھی قسم اٹھانے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ فلا اقسم تو کیا ترجمہ کریں گے فلا اقسم کا میں قسم اٹھاتا ہوں اللہ فرما رہے ہیں فلا اقسم بس میں قسم اٹھاتا ہوں بما تبصرون ان چیزوں کی جن کو تم دیکھتے ہو وما لا تبصرون اور وہ جن کو تم نہیں دیکھتے۔ میں قسم اٹھاتا ہوں ان چیزوں کی بھی جن کو تم دیکھتے ہو اور ان چیزوں کی بھی جن کو تم نہیں دیکھتے کچھ چیزیں ہم کو دکھائی دیتی ہیں کچھ چیزیں ہمیں دکھائی نہیں دیتی ہوا ہے جنات ہیں جنت ہے جہنم ہے سمجھ میں ائے بھئی اسمان ہے عرش کرسی اور اللہ کی کیا کیا مخلوقات ہیں اللہ ہی جانتے ہیں۔ تو اللہ فر یعنی اللہ فرما رہے ہیں میں اپنی تمام مخلوقات کی قسم اٹھاتا ہوں انہ لقول رسول کریم کہ یقینا یہ قرآن جو ہے البتہ کلام ہے ایک معزز پیغام لانے والے کا انہ لقول رسول کریم یقینا یہ قرآن جو ہے البتہ کلام ہے ایک معزز پیغام لانے والے کا۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی تو ایک معنی یہ کیا بھئی ما تبصرون جن کو ہم تم دیکھتے ہو وما لا تبصرون جو چیزیں تم دیکھتے ہو اور ما لا تبصرون جو چیزیں تم نہیں دیکھتے اور بازوں نے کہا ما تبصرون سے مراد ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ما لا تبصرون سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں۔ میں قسم اٹھاتا ہوں اس کی بھی جس کو تم دیکھتے ہو یعنی پیغمبر کو اور اس کی بھی قسم اٹھاتا ہوں جس کو تم نہیں دیکھتے یعنی جبرائیل علیہ السلام۔ انہ یہ جواب قسم ہے بھئی اس بات پر قسم اٹھائی گئی ہے انہ لقول رسول کریم کہ یہ قرآن جو ہے البتہ ایک معزز پیغام لانے والے کا کلام ہے۔ وما هو بقول شاعر اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں ہے قلیلا ما تؤمنون بہت تھوڑا تم ایمان لاتے ہو ولا بقول كاهن اور نہ یہ کسی کاہن کا کلام ہے کاہن میں نے بتلایا تھا کہ وہ جو غیب کی خبریں بتاتے تھے جنات آ کر ان کو غیب کی خبریں بتلاتے اور اپنی طرف سے بہت سے جھوٹ ملاتے اور اسی طرح پھر یہ بھی اپنی طرف سے اس میں جھوٹ ملا دیتے اور کوئی ایک آدھی بات بھی نکل آتی جو جنات بہرحال سن کر تو آتے تھے فرشتوں سے تو وہ جو ایک آدھی بات ہوتی وہ جب ہو جاتی تو سب کو کہتے دیکھا بھئی میں نے نہیں کہا تھا اس طرح ہوگا۔ اور یہ بڑا مسجع مقفہ کلام کیا کرتے تھے بھئی اشعار کے سے انداز میں سمجھ میں آئے بھئی یہ جو کاہن ہوتے تھے جنات اور جنات وغیرہ کے ساتھ ان کا خاص تعلق ہوتا تھا۔ ولا بقول كاهن اور نہ یہ کاہن کا کسی کاہن کا قول ہے قلیلا ما تذكرون بہت تھوڑا تم نصیحت قبول کرتے ہو تنزیل من رب العالمين یہ اتارا جا رہا ہے تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے۔ پیچھے لقول رسول کریم سے شبہ پڑتا تھا شاید یہ معزز پیغام لانے والے کا اپنا کلام ہے رسول کریم سے یا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں یا جبرائیل مراد ہیں تو وہاں شبہ پڑتا تھا کہ یہ شاید کس کا کلام ہے نبی کریم یا جبرائیل علیہ السلام کا اپنا کلام ہے آگے اللہ نے اس شبے کو دور فرما دیا تنزیل من رب العالمين کہ یہ کس کی طرف سے نازل کیا جا رہا ہے تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے وہ صرف پہنچانے والے ہیں تو ان کا کلام کیوں کہا گیا لقول رسول کریم وجہ یہ کہ ان کی زبان وہ اپنی زبان سے بتلاتے تھے پڑھتے تھے اس لیے ان کا ان کی طرف نسبت کی گئی۔ ولاو تقول علينا بعض الأقاويل تقول کا معنی تققول یتقول تققول کا معنی ہوتا ہے کسی کی طرف کسی بات کی نسبت کرنا کسی کی طرف کسی بات کی نسبت کرنا ولاو تققول علينا اگر یہ نسبت کرتا ہم پر بعض الأقاويل بعض باتوں کی اقاويل جمع ہے جم الجمع ہے قول کی بھئی۔ ولاو تققول علينا اگر یہ نسبت کرتا ہم پر بعض باتوں کی یعنی اگر یہ پیغمبر ہماری طرف بعض باتوں کی نسبت کر دیتا یعنی اپنی طرف سے گھڑ کر ہماری طرف نسبت کر دیتا کیا معنی ولاو تققول یوں ترجمہ کریں ولاو تققول علينا اگر یہ باندھ لیتا یا گھڑ لیتا علینا ہم پر بعض الأقاويل بعض باتیں یہ پیغمبر کیا کرتا تم لوگ کہتے ہو یہ اپنی طرف سے کلام پیش کرتا ہے اور اللہ کی طرف نسبت کرتا ہے حالانکہ حال یہ ہے کہ اگر یہ پیغمبر ہماری طرف بعض باتوں کی بھی نسبت کر دیتا جھوٹی طور جھوٹے طور پر لا اخذنا منه باليمين البتہ ہم اس کو پکڑ لیتے لا اخذنا ہم پکڑتے منہ اس کو بالیمین دائیں ہاتھ سے ثم لقطعنا منه الوتين پھر البتہ ہم کاٹ دیتے اس کی شھرگ۔ وتين کسے کہتے ہیں شھرگ رگ جان جس کے کٹنے کے بعد انسان زندہ نہیں رہتا۔ اگر یہ پیغمبر ہمارے اوپر گھڑ دیتا بعض باتوں ہی کو ہماری طرف نسبت کر لیتے ہم البتہ اس کو اس کے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے ثم لقطعنا منه الوتين پھر البتہ ہم کاٹ ڈالتے منہ اس سے الوتين رگ جان کو ہم اس کی رگ جان کاٹ دیتے۔ دیکھیے ایک ہے وہ پیغمبر جو حقیقی پیغمبر ہے اللہ کا اور جس کی تائید بہت سی نشانیاں اور معجزات کرتے ہیں بہت سے نشانیاں اور معجزات اس کی تائید کرتے ہیں بتلاتے ہیں یہ اللہ کا سچا پیغمبر ہے۔ اور ایک ہے ویسے جھوٹی نبوت کا دعوی کرنے والا جس کے پاس کوئی دلیل نہیں ویسے بے سروپا باتیں کرتا ہے بے سروپا باتیں کرنے والے کا یہ حکم نہیں بیان ہو رہا۔ کیونکہ جھوٹے پیغمبر بھی ائے ہیں اور تو وہ کہیں گے دیکھو اللہ تو فرما رہے ہیں اگر کوئی اللہ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرے تو اللہ اس کی رگ جان کاٹ دیں گے اس کو فورا ہلاک کر دیں گے۔ تو بات یہ ہے کہ یہاں جھوٹے پیغمبر کی بات نہیں ہو رہی جو حقیقی پیغمبر ہے اس کی بات ہو رہی ہے اگر وہ حقیقی پیغمبر اللہ کی طرف کوئی ایک بات بھی جھوٹی منسوب کر دے جو اللہ کا سچا پیغمبر ہے تو اللہ اس بڑی سخت گرفت فرمائے اور اس کو زندہ نہ چھوڑے بھئی۔ قرآن بتلا رہا ہے ہم اللہ کیا فرماتے ہیں کہ اگر ہماری طرف بعض باتیں یعنی کسی ایک بات کی بھی یہ نسبت کر دیتے تو ہم اس کے دائیں ہاتھ سے پکڑتے اور اس کی رگ جان کاٹ ڈالتے تو اس وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ ایسا پیغمبر ہوتا ہے حقیقی جس کی تائید معجزات سے بہت سی نشانیوں کے ذریعے تائید ہوتی ہے پھر اگر یہ اللہ کی طرف جھوٹی بات منسوب کر دے کوئی ایک بات بھی اور اللہ کی طرف سے اس پر اسے کچھ بھی نہ کہا جائے تو سارا وحی کا نظام ہی درہم برہم ہو جائے گا وحی پر اعتماد ہی نہ رہے گا بھئی بات سمجھ میں ائی بھئی تو یہ حقیقی پیغمبر کی بات ہو رہی ہے بھئی۔ چنانچہ مرزائی اس سے استدلال کرتے ہیں کہتے ہیں دیکھو اللہ تو یہ فرما رہے ہیں اور ہمارا مرزا جو تھا لعنت اللہ علیہ اس پر اللہ کا عذاب نہیں آیا اسے اللہ نے فورا ہلاک نہیں کیا۔ تو ایک جواب تو یہ گزر گیا بھئی ایک جواب گزر گیا کہ یہ سچے پیغمبر کی بات ہو رہی ہے جھوٹے مدعی نبوت کی بات نہیں ہو رہی۔ اور دوسری بات یہ کہ پکڑ تو اس پر بھی اللہ کی طرف سے ائی۔ 1902ء میں غالباً اس نے نبوت کا دعوی کیا اور 1908ء میں لیٹرین کے اندر اس پر ایک موت ائی بھئی۔ کہاں پر ائی لیٹرین میں جس کی موت ائے دیکھو بھئی بس ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے بھئی ایک بات ہی حقیقت کو کھول دینے کے لیے کافی ہوا کرتی ہے مگر یہ لوگ ایسے ہیں ان کی انکھوں پر ایسے پردے پڑ گئے تعصب اتنا بڑھ گیا نہ حق کو دیکھتے ہیں نہ باطل کو بس ایک لکیر پر جب جمی ہوئے ہیں تو بس اسی پر جمی ہوئے ہیں ان کی وہی جیسے مشین مکّہ بت پرستی پر اڑے ہوئے تھے تو بس اڑے ہوئے تھے ہر حال میں یہ بھی اسی طرح ہے لیٹرین کے اندر موت انا۔ کتنی بری موت ہے کتنی بری موت جسے اللہ نے سب کے لیے اس کی موت کو سب کے لیے نمونہ عبرت بنا دیا اور یہ بھی مسئلہ ہے بھئی پیغمبر کی جہاں موت آتی ہے وہیں اس کی قبر بنتی ہے بھئی جہاں ہاں تو ہونا تو یہ چاہیے تھا اس کو لیٹرین ہی میں دفن کیا جاتا بھئی لیکن یہ اٹھا کر لے گئے اس کو۔ اور ان کا جس کو یہ ربوہ کہتے ہیں وہ کیا نام ہے۔ چناب نگر اب جس کا نام ہے وہاں ان کا ایک جنتی مقبرہ ہے جنتی قبرستان ہے۔ جنتی قبرستان اور وہاں زمین قبر کے لیے لینا انتہائی مہنگی ہے ان کے ہاں بھی بھئی انتہائی مہنگی کہ جو اس میں دفن ہوا وہ جنتی ہے۔ جیسے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے قبرستانوں کی بڑی فضیلت ائی ہے احادیث کے اندر بھئی تو اس طرح اس نے انہوں نے بھی کیا کیا ایک جنتی قبرستان اپنا بنا لیا جو اس میں دفن ہوگا جنتی ہوگا۔ جس کے پاس پیسے زیادہ ہوتے ہیں خریدتا ہے وہاں اس کو دفن کر دیتے ہیں یہ تو عجیب منطق ہے بھئی جس کے پاس پیسے زیادہ ہیں وہ تو جگہ خرید لے گا وہ تو جنتی ہو گیا باقی کیا کریں گے۔ اور عجیب عجیب بات ہونا نا بڑی عجیب بات آپ وہاں پر جلسہ وغیرہ منعقد ہوتا ہے بعض ساتھیوں نے بتلایا کہ وہاں جلسہ تھا جلسے کے بعد ہم نے سوچا کہ ان کے ذرا اس قبرستان کو دیکھ کر ائیں جس کا یہ بڑا کہتے ہیں جنتی ہے۔ کہتے ہیں اس قبرستان کے قریب ہی پہنچے تو اتنی عجیب بدبو کہ وہاں کھڑا ہونا مشکل ہو گیا قبرستان میں تو بدبو نہیں ہوتی بھئی لیکن چونکہ سارے لعنتی وہاں پر دفن ہیں چونکہ اللہ کی طرف سے جو لعنت برس رہی ہوتی ہے انسان اس کو دور سے محسوس کر لیتا ہے کہتے ہیں ہم قبرستان کے اندر بڑی مشکل سے وہ بدبو برداشت پورے قبرستان میں وہ بدبو پھیلی ہوئی ہے ایک عجیب سی اور ایک عجیب سی لعنت برس رہی ہے کہ انسان کے دل پہ محسوس ہوتا ہے کہ اثر پڑ رہا ہے اس کا اتنی لعنت برس رہی ہوتی ہے۔ کہتے ہیں کہ ہم داخل ہوئے لیکن چند قدم جا سکے ہمارے اتنی اتنی بری حالت ہونا شروع ہو گئی وہ لعنت جو مسلسل ان پر برس رہی ہوتی ہے اللہ کی طرف سے کہتے ہیں اس کو ہم نے اتنا واضح محسوس کیا اتنا مہم ہی نہیں ہوئی چند قدموں ہی میں فوراً ہم واپس نکل آئے۔ تو یہ ایمان اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے اس پر جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے قیامت کے کتنے ہولناک مناظر بیان ہو رہے ہیں اور ایمان والے جو ہیں ایمان والے ان کو ذرہ برابر بھی قیامت کی تکلیف نہیں ہوگی آخرت میں پھر ہمیشہ ہمیشہ کی نعمتیں اور یہ لوگ بس ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے بھئی ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے ورنہ دلائل کے اعتبار سے دیکھا جائے اسلام سے کے مقابلے میں کسی کے پاس کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ دنیوی اسباب ان کے پاس ضرور ہیں لیکن اسلام کے دلائل کا مقابلہ کوئی بھی نہیں کر سکتا۔ جی تو میں یہ بیان کر رہا تھا بھئی کہ یہ اس سے استدلال کرتے ہیں۔ تو ایک جواب تو یہ کہ یہاں حقیقی پیغمبر کی بات ہو رہی ہے دوسرا جواب یہ کہ مرزا پکڑ تو اس پر بھی آ گئی اللہ کی طرف سے نبوت کا دعوی کرتے ہی صرف چھ سال کے عرصے میں کیا ہوا اسے اللہ نے ہلاک کر دیا اور ہلاک بھی کہاں پر ہوا بیت الخلا کے اندر بیت الخلا کے اندر ہی اس کو دفنانا چاہیے تھا۔ ولاو تقول علينا بعض الأقاويل اور اگر یہ گھڑ لیتا ہم پر بعض باتیں لا اخذنا منه باليمين تو البتہ ہم اس کو پکڑ لیتے دائیں ہاتھ سے ثم لقطعنا منه الوتين پھر البتہ ہم کاٹ دیتے اس کی رگ جاں کو دائیں ہاتھ سے پکڑتے اور اس کی رگ جاں کاٹ دیتے۔ یہ جیسے جلاد جو ہے جلاد جب کسی کو قتل کرنے لگتا تو اپنے دائیں ہاتھ میں تو جلاد کی تلوار ہوتی بائیں ہاتھ سے مجرم کا دایاں ہاتھ پکڑتا جلاد اپنے بائیں ہاتھ سے مجرم کا دایاں ہاتھ پکڑتا اور پھر اس کی گردن پر وار کرتا تھا۔ ابھی اس انداز میں اللہ فرما رہے ہیں لاخذنا منہ بالیمین ہم اس کے دائیں ہاتھ کو پکڑ لیتے اور اس کی رگ جان کاٹ ڈالتے۔ یا معنی یمین سے مراد دائیں ہاتھ کو ذکر کیا گیا کہ دائیں ہاتھ میں قوت زیادہ ہوتی ہے تو ہم اس کو قوت کے ساتھ پکڑ لیتے تو دونوں ترجمے آپ کر سکتے ہیں۔ فما منکم من احد عنہ حاجزین پس نہیں ہے تم میں سے کوئی ایک بھی عنہ اس عذاب سے اس پکڑ سے حاجزین حاجز کہتے ہیں رکاوٹ کو بھئی۔ پس کوئی تو ایک بھی تم میں سے اس کو نہ روک سکتا۔ حاجز حجزہ کے معنی روکنے کے حاجز رکاوٹ روکنے والا پس تم میں سے کوئی ایک بھی عنہ اس پیغمبر سے اس پیغمبر سے من ہو یہاں ضمیر کس کو راجع ہے؟ اس پیغمبر کو بھئی۔ کوئی تم میں سے کوئی ایک بھی اس سے روک نہ سکتے کوئی ایک بھی تم میں سے ہمیں اس سے اس کو کوئی تم میں سے کوئی ایک بھی اس کو بچا نہ سکتا یوں کہیں بھئی۔ تم میں سے کوئی ایک بھی اس سے رکاوٹ نہ بن سکتا یعنی اسے بچا نہ سکتا۔ فما منکم من احد عنہ حاجزین پس تم میں سے کوئی ایک بھی اسے اس پیغمبر سے حاجز نہ بن سکتا یعنی اسے بچا نہ سکتا و انہ لستکرۃ للمتقین اور یقینا یہ قرآن البتہ نصیحت ہے للمتقین متقیوں کے لیے و انا لنا علم ان منکم مکذبین اور یقینا البتہ ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض جھٹلانے والے ہیں۔ ان منکم کہ تم میں سے بعض مکذبین جھٹلانے والے ہیں۔ و انہ لحسرۃ علی الکافرین اور یہ قرآن جو ہے البتہ حسرت ہوگا علی الکافرین کافروں پر آخرت میں بڑی حسرت کریں گے کاش ہم اس پر ایمان لے آتے۔ و انہ لحق الیقین اور یہ قرآن البتہ حق الیقین ہے۔ یہ قرآن کیا ہے؟ حق الیقین ہے یعنی وہ حق ہے جس کا ہونا یقینی ہے۔ وہ یقینی یہ یقینی حق ہے جس کا یہ وہ یقینی چیز ہے جس کا ہونا برحق ہے۔ فسبح باسم ربک العظیم پس تسبیح بیان کیجیے اپنے پروردگار کے نام کی العظیم وہ پروردگار جو عظیم ہے۔ پس آپ اپنے عظیم پروردگار کے نام کی تسبیح بیان کیجیے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم سأل سائل بعذاب واقع مانگا ایک مانگنے والے نے بعذاب واقع ایسے عذاب کو جو واقع ہونے والا ہو۔ جو ہونے والا ہو۔ سأل سائل مانگا ایک مانگنے والے نے بعذاب واقع ایسا عذاب جو ہونے والا ہے للکافرین کافروں پر۔ ایسا عذاب جو واقع ہونے والا ہے کافروں پر لیس لہ دافع نہیں ہے کوئی اس کو دور کرنے والا اس کو روکنے والا۔ من اللہ اس کا تعلق واقع سے ہے۔ ایسا عذاب جو کافروں پر واقع ہو من اللہ کس کی طرف سے؟ اللہ کی طرف سے۔ وہ اللہ ذی المعارج جو جو سیڑھیوں والا ہے۔ وہ اللہ جو سیڑھیوں والا ہے۔ مفسرین حضرات لکھتے ہیں کہ یہ جو مانگنے والا ہے جس نے کافروں پر واقع ہونے والے عذاب کو مانگا یہ نضر بن حارث ہے بھئی۔ کون ہے؟ نضر بن حارث نون ضاد را حارث آخر میں سا ہے۔ نضر بن حارث تھا اس نے بصورت مذاق کے کہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ یہ عذاب آپ ہمیں عذاب سے ڈراتے رہتے ہیں اگر یہ عذاب سچ ہے تو آپ لے کیوں نہیں آتے ہم پر اور اے اللہ اگر یہ شخص سچا ہے اور ہم جھوٹے ہیں تو ہم پر عذاب نازل فرما۔ تو یہ کہنے والا کون تھا؟ نضر بن حارث اور بعضوں نے لکھا ہے کہ یہ سائل سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ انہوں نے ان کفار کے لیے بد دعا کی کہ اے اللہ ان پر عذاب نازل فرما۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی۔ مانگا ایک مانگنے والے نے ایک ایسا عذاب جو واقع ہونے والا ہے کافروں پر نہیں ہے اس کو کوئی روکنے والا من اللہ کس کی طرف سے واقع ہوگا؟ اللہ کی طرف سے وہ اللہ ذی المعارج جو سیڑھیوں والا ہے۔ معارج جمع ہے معراج کی سیڑھی کو کہتے ہیں۔ اور بعضوں نے اس کا بڑا پیارا ترجمہ کیا۔ من اللہ اللہ کی طرف سے ہوگا وہ اللہ ذی المعارج جو اوپر چڑھنے کے راستوں کا مالک ہے۔ جو اوپر چڑھنے کے راستوں کا مالک ہے سیڑھی بھی کیا ہوتی ہے اوپر چڑھنے کا راستہ ہی ہے نا تو اوپر چڑھنے کے راستوں کا مالک ہے اوپر چڑھنے کے جتنے راستے ہیں وہ اللہ کے ہیں جن کے ذریعے فرشتے اوپر اللہ کے قرب میں پہنچتے ہیں۔ اللہ کے تو یہ پہلے آسمان سے دوسرے کی طرف، دوسرے سے تیسرے، تیسرے سے چوتھے سے پانچویں کی طرف یہ جو فرشتے سفر کرتے ہیں یہ تمام جو اوپر چڑھنے کے راستے ہیں ان کا مالک کون ہے؟ اللہ۔ بعضوں نے ذی المعارج کا ترجمہ درجوں والا کیا۔ من اللہ ذی المعارج وہ اللہ جو درجوں والا ہے جو اونچے درجوں والا ہے۔ تو یا تو ایک معنی میں نے بیان کر دیا جو اوپر چڑھنے کے راستوں والا ہے تو اوپر چڑھنے کے راستے یعنی وہ سیڑھی یا درجے تو چاہے یہ وہ واقفی راستے مراد ہوں یا روحانی درجے مراد ہوں دونوں اس کے اندر آ گئے بھئی۔ روحانی طور پر بھی انسان ترقی کرتا چلا جاتا ہے درجہ بدرجہ اور اللہ کا قرب حاصل کرتا ہے۔ تو وہ اللہ جو اونچے درجوں والا ہے چاہے اس سے کیا مراد لے لیں اوپر چڑھنے کے راستے یا اس سے کیا مراد لے لیں روحانی درجات مراد لیں۔ تو زیادہ یہ ذی المعارج سے اوپر چڑھنے کے راستے یعنی سیڑھی مراد لی وجہ یہ کہ اس کے آگے جو ہے فرشتوں کا ذکر آ رہا ہے جو اوپر چڑھتے ہیں اللہ کی طرف تو وہ انہی راستوں پر چڑھتے ہیں۔ تعرج الملائکۃ والروح الیہ چڑھتے ہیں فرشتے اور روح الیہ اور روح القدس یعنی حضرت جبرائیل علیہ السلام الیہ اللہ کی طرف۔ چڑھتے ہیں فرشتے اور اور روح یعنی جبرائیل علیہ السلام الیہ اس اللہ کی طرف فی یوم ایک ایسے دن میں کان مقدارہ خمسین الف سنۃ جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ جس کی مقدار کتنی ہے؟ پچاس ہزار سال ہے۔ یعنی فرشتے اور جبرائیل جو ہیں اگر عام آدمی اس راستے سے چلے تو پچاس ہزار سال میں طے کرے فرشتے اور جبرائیل اس کو بڑی جلدی طے کر لیتے ہیں۔ تعرج الملائکۃ والروح الیہ فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ چڑھتے ہیں فرشتے اور جبرائیل اللہ کی طرف ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی یہ ایک معنی بیان کیا میں نے جو بعض نے کیا۔ لیکن زیادہ راجح یہ دوسرا معنی کہ فی یوم اس کا تعلق تعرج سے نہیں ہے۔ تعرج سے بلکہ فی یوم یہ جار مجرور کا تعلق جو ہے یہ یقع العذاب سے ہے یقع العذاب عذاب علیہم وہ ان پر عذاب واقع ہوگا۔ ان کو پار پر عذاب واقع ہوگا فی یوم ایک ایسے دن میں کان مقدارہ خمسین الف سنۃ جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ یعنی قیامت کا دن مراد ہے کون سا دن مراد ہے؟ تو راجح تفسیر یہی ہے کہ اس سے قیامت کا دن مراد ہے اور فی یوم کا تعلق جو ہے وہ فعل محذوف یقع العذاب علیہم ان کو پار پر عذاب واقع ہوگا ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ اس یہ دن جو ہے اس کی اصل مقدار تو ہے ایک ہزار سال۔ کتنی مقدار ہے قیامت کے دن کی؟ ایک ہزار سال۔ جیسے کہ دوسری جگہ قرآن میں آتا ہے ایک ہزار سال اس کی مقدار۔ لیکن کفار اور جو کفار وغیرہ ہوں گے ان پر چونکہ بڑی سختی ہوگی اس دن کے اندر ان کو یوں معلوم ہوگا جیسے یہ پچاس ہزار سال ہیں۔ کیونکہ انسان جب تکلیف کے اندر اور مصیبت کے اندر ہوتا ہے تو تھوڑا سا وقت بھی بڑا طویل معلوم ہوتا ہے۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو مجرموں کو وہ دن جو ہے پچاس ہزار سال کے برابر معلوم ہوگا کیونکہ انسان تکلیف میں ہو تو وقت ہی نہیں گزرتا بیماری میں آپ نے بھی تجربہ کیا ہوگا انسان شدید بیمار ہو تو رات کا گزرنا عذاب بن جاتا ہے لگتا ہے گزر ہی نہیں رہی وقت تھم گیا ہے جیسے تو ان مجرموں کے لیے تو یہ پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا اور حدیث میں آتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم یہ دن ایمان والوں کے لیے اسی طرح ان کو اسی طرح تھوڑا معلوم ہوگا جس طرح ایک فرضی نماز کے ادا کرنے میں وقت لگتا ہے۔ جتنی چار رکعت نماز ادا کرنے میں چار پانچ منٹ لگتے ہیں انسان جو ایمان والے ہیں ان کو قیامت کا دن اتنا مختصر معلوم ہوگا۔ اللہ تعالی ہمیں بھی ان لوگوں میں سے فرما دے جن پر یہ دن اتنے مختصر طریقے پر گزرے گا۔ فصبر صبرا جمیلا پس آپ صبر کیجیے صبرا جمیلا اچھا صبر اچھے طریقے سے۔ فصبر صبرا جمیلا پس آپ اچھے طریقے سے صبر کیجیے۔ اچھے طریقے سے صبر جس میں کوئی شکوہ نہ ہو۔ ایک ہے صبر کرنا اور اس میں کچھ شکوہ شکایت بھی آ جائے اور ایک ہے صبر جس میں کسی قسم کا شکوہ اور شکایت نہ ہو بھئی تو وہ ہے صبر جمیل۔ فصبر صبرا جمیلا پس آپ اچھے طریقے سے صبر کیجیے۔ انہم یرونہ بعیدا یقیناً یہ لوگ اس دن کو دیکھتے ہیں بعیدا دور یہ لوگ اس دن کو دور سمجھتے ہیں کہ یہ دن قیامت کا دن تو آ ہی نہیں سکتا ہو ہی نہیں سکتا۔ و نراہ قریبا اور ہم اس کو قریب دیکھتے ہیں۔ یہ لوگ اس دن کو دور دیکھتے ہیں یعنی دور سمجھتے ہیں اور ہم اس کو قریب سمجھتے ہیں کہ بس آیا ہی چاہتا ہے بالکل سر پر پہنچا ہوا ہے۔ یوم تکون السماء کالمہل جس دن کہ آسمان ایسے ہوگا جیسے کہ تیل کی تلچھٹ مہل کسے کہتے ہیں؟ تیل وغیرہ میں جو اس کا گند نیچے بیٹھ جاتا ہے وہ ہے تیل کی تلچھٹ تو اسے مہل کہتے ہیں عربی میں۔ تو آسمان اس دن تیل کی تلچھٹ کی طرح ہوگا بھئی ٹوٹ جائے گا اس طرح کا رنگ ہوگا اس کا۔ اور مہل اسی طرح پگھلے ہوئے توبے کو بھی کہتے ہیں تو بعضوں نے یہ ترجمہ کیا کہ اس دن آسمان جو ہے کل مہل پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوگا یعنی اس رنگت کا ہوگا۔ وتکون الجبال کالعهن اور ہوں گے پہاڑ کالعهن رنگین اون کی طرح۔ عہن رنگین اون وہ اون جس کو رنگ دیا گیا ہو بھئی۔ آپ سورۃ القارعہ میں پڑھ چکے ہوں گے۔ وتکون الجبال کالعهن المنفوش کہ پہاڑ جو ہے دھنکی ہوئی روئی رنگین روئی کی طرح ہوں گے بھئی۔ اس کی طرح اڑتے پھریں گے۔ روئی کو جب دھنکا جائے وہ بڑی ہلکی ہو جاتی ہے پھیل جاتی ہے اور اڑتی پھرتی ہے۔ تو اس دن اتنا ہولناک دن ہوگا کہ پہاڑ اس طرح اڑتے پھریں گے۔ تو اللہ فرما رہے ہیں وتکون الجبال کالعهن اور پہاڑ جو ہیں رنگین اون کی طرح ہوں گے۔ رنگین اس لیے کہا کیونکہ پہاڑوں کے رنگ مختلف ہیں۔ کوئی پہاڑ سفید پتھر کا ہے، کوئی سرخ پتھر کا ہے، کوئی سیاہ پتھر کا ہے تو جیسے رنگین اون جو ہے اڑتی پھرتی ہے اس طرح ہوں گے۔ وتکون الجبال کالعهن اور پہاڑ جو ہیں رنگین اون کی طرح ہوں گے۔ ولا یسأل حمیم حمیما حمیم کسے کہتے ہیں؟ گہرے دوست کو۔ ولا یسأل حمیم اور نہیں پوچھے گا کوئی گہرا دوست حمیم کسی گہرے دوست کو۔ کوئی گہرا دوست کسی گہرے دوست کے بارے میں نہیں پوچھے گا اس دن سب دوستیاں کھل جائیں گی۔ بڑے بڑے گہرے دوست تھے دنیا کے اندر لیکن قیامت کے دن جو ہیں وہ ایک دوسرے کو دکھلائے بھی جائیں گے پھر بھی کوئی ایک دوسرے سے نہیں پوچھے گا۔ ولا یسأل حمیم حمیما اور نہیں پوچھے گا کوئی گہرا دوست کسی گہرے دوست کے بارے میں یبصرونہم اس حال میں کہ وہ ان کو دکھلا دیے جائیں گے۔ حالانکہ اس حال میں کہ ایک دوسرے کو دکھلا بھی دیے جائیں گے دکھائی بھی دے گا وہ ہے میرا گہرا دوست وہ کھڑا ہے لیکن اس کے باوجود جتنی شدت ہوگی اتنی سختی ہوگی کہ پھر بھی ایک دوسرے سے نہیں پوچھیں گے۔ قیامت کے مختلف احوال ہیں بھئی۔ بعض احوال کے اندر پوچھیں گے۔ بعض احوال کے اندر سختی زیادہ ہوگی تو نہیں بعد میں تو ایک دوسرے سے بات چیت کریں گے جیسے ابھی آپ نے پڑھا کہ جو مجرم اور جو نیک لوگ ہیں جن کو نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے تو وہ کیا کریں گے اپنے دوستوں کو، اپنے رشتہ داروں کو، جاننے والوں کو سب کو نامہ اعمال دکھاتے پھریں گے کہ یہ دیکھو ہمیں کامیابی کا پروانہ اللہ کی طرف سے مل گیا اور اور بعض احوال کے اندر تو اسی طرح احوال مختلف ہیں بعض احوال ایسے ہوں گے جس میں کوئی مجرم بول ہی نہیں سکے گا۔ بعض احوال ایسے ہوں گے کہ ان سے پوچھا جائے گا سوال ہوگا سمجھ میں آیا تو بعض ایتوں میں ذکر آتا ہے ان سے پوچھا جائے گا بعض میں ایتوں میں ذکر آتا ہے کہ ان سے نہیں پوچھا جائے گا وہ احوال مختلف ہیں۔ چنانچہ بعض روایات میں آتا ہے بعض مفسرین حضرات نے لکھا کہ قیامت کے دن اللہ کے دربار میں تین پیشیاں ہوں گی بھئی۔ تین دفعہ اللہ کے سامنے پیش کیا جائے گا لوگوں کو۔ تو مختلف احوال ہیں قیامت کے بھئی۔ ولایسأل حمیم حمیما یبصرونہم اور نہیں پوچھے گا کوئی جگری دوست کسی جگری دوست سے اس حال میں کہ وہ ایک دوسرے کو دکھلا دیے جائیں گے۔ یود المجرم پسند کریں گے مجرم چاہیں گے مجرم لو یفتدی کاش کہ وہ فدیہ دے دیں من عذاب یومئذ اس دن کے عذاب سے۔ اندازہ لگائیے انسان کو اپنی اولاد سب سے محبوب ہوتی ہے کتنا سخت دن ہوگا کہ مجرم چاہیں گے لو یفتدی من عذاب یومئذ کاش کہ وہ فدیہ دے دیں اس دن کے عذاب سے۔ کیا دیں فدیے میں؟ ببنيه اپنے بیٹوں کو کس کو دے دیں؟ اپنے بیٹوں کو فدیہ میں دے دیں۔ بنی یہ ضمیر ہے اور بنون ابن کی جمع کیا آتی ہے بنون۔ حالت رفع میں و کے ساتھ، حالت نصبی جری میں بنین یا کے ساتھ اور آخر سے نون اضافت کی وجہ سے گر گیا بنی کیوں تو کیونکہ با جارّہ داخل ہوئی ببنیہ۔ تو مجرم چاہیں گے کاش کہ وہ فدیہ دے دیں اس دن کے عذاب سے بھی ببنیہ اپنے بیٹوں کو وصاحبتہ اور اپنی بیوی کو کیا کریں؟ بیوی کو فدیہ میں دے دیں۔ واخیہ اور اپنے بھئی کو فدیہ میں دے دیں وفتصیلتہ اور اپنے گھر والوں کو دے دے۔ فصیلہ گھر والے خاندان والے اپنے کنبے والے وفتصیلتہ اور اپنے کنبے والوں کو دے دے التی وہ کنبہ وہ خاندان وہ گھر والے توویہی۔ آوا یوی کا معنی ہوتا ہے ٹھکانہ دینا جگہ دینا وہ گھر والے توویہی جو اس کو ٹھکانہ دیتے تھے جو اس کو جگہ دیتے تھے جن کے پاس یہ رہتا تھا۔ جن کے پاس یہ رہتا تھا۔ وفصیلتہ التی توویہی اور اپنا وہ خاندان جو اس کے پاس جو اس کو جگہ دیتا تھا جس کے پاس یہ رہتا تھا۔ ومن فی الأرض جمیعا اور جو کوئی ہے زمین کے اندر سارے کے سارے۔ مجرم کیا چاہیں گے کہ فدیے میں اپنے بیٹوں کو دے دیں، اپنی بیوی کو دے دیں، اپنے بھئی کو دے دیں، اپنے گھر والوں کو دے دیں بلکہ سارے زمین میں جو رہنے والے ہیں سارے زمین کے باشندوں کو دے دیں۔ ثم ینجیہی پھر یہ فدیہ دینا نجات دے دے اس کو۔ پھر یہ فدیہ اس کو نجات دے دے اس کو بچا لے۔ معنا سمجھ میں آ رہا ہے بھئی۔ یود المجرم لو یفتدی من عذاب یومئذ ببنیہ چاہیں گے مجرم کاش کہ وہ فدیہ دے دیں اس دن کے عذاب سے اپنے بیٹوں کو اور اپنی بیوی کو اور اپنے بھئی کو اور اپنے اس گھرانے کو جس میں وہ رہتے تھے ومن فی الأرض جمیعا اور زمین کے تمام باشندوں کو ثم ینجیہی پھر یہ ان کو بچا لے، پھر یہ فدیہ دینا ان کو بچا لے۔ کلا ہرگز نہیں حرف ردّ ہے ڈانٹ کے طور پر۔ اللہ فرما رہے ہیں کلا ہرگز نہیں ایسا نہیں ہو سکتا کہ کیا کرے فدیہ دے کر عذاب سے اپنے آپ کو بچا لے۔ اب جو کچھ کیا ہے اس کی سزا بھگتنی ہی پڑے گی خود ہی۔ کلا ہرگز نہیں إنہا لظی یقینا وہ جہنم جو ہے لظی شعلے ہیں۔ اگ کے شعلے ہیں لظی کہتے ہیں خالص شعلہ بغیر دھوئیں کے جو ہو۔ لظی کسے کہتے ہیں؟ خالص شعلہ جو بغیر دھوئیں کے ہو۔ إنہا ہاں ضمیر جہنم کو راجع إنہا لظی یقینا وہ جہنم جو ہے وہ بھڑکتے ہوئے شعلے ہیں نّزاعۃ للشوی۔ نّزاعۃ کے معنی کھینچ لینا اتار لینا نّزاعۃ وہ اتار لینے والے ہیں وہ اتار لینے والی ہے للشوی۔ شوی کھال کو بھئی یہ جو کھال کا اوپر والا حصہ جو دکھائی دیتا ہے یہ کھال کا ایک اوپر والا حصہ جو ہمیں دکھائی دے رہا ہے ایک اندر نیچے والی حصہ ہے یہ اوپر والے حصے کو کیا کہتے ہیں؟ شوی کہتے ہیں کیا کہتے ہیں شوی تو۔ وہ جہنم جو ہے وہ آگ کے شعلے ہیں جو اتار لیں گے کھال کو جو کیا کریں گے اتار لیں گے کھال کو۔ ایسے شعلے جو کھال کو اتار لیں گے۔ اور یاد رکھیے جو انسان کو تکلیف کا احساس ہوتا ہے یہ اس کھال کی وجہ سے ہے۔ کوئی چیز کھال پر ذرا لگتی ہے انسان کو فورا پتہ لگ جاتا ہے کیونکہ اس کے اندر اللہ نے ایسا نظام بنایا کوئی چیز بدن پہ لگے فورا پتہ چل جاتا ہے۔ تو تکلیف کا احساس بھی ان کو ہوتا ہے اسی سے ہوتا ہے۔ تو جہنم کی اگ جو ہے یہ اتنی بھانک آگ ہوگی وہ اس کھال کو جلا کر ختم کر دے گی اتار دے گی۔ اور پھر پھر فورا ہی نئی کھال اس پر چڑھا دی جائے گی تاکہ تکلیف میں کوئی کمی نہ آنے پائے۔ پھر وہ کھال جل جائے گی پھر اور کھال ان پر چڑھا دی جائے گی۔ اور یہ کھال یہ کھال تو بڑی باریک سی ہے یہ تو دنیا کی اگ کو نہیں برداشت کر سکتی وہاں کھال بھی ان کی بڑی موٹی بنائی جائے گی تاکہ خوب تکلیف کے ساتھ جلے اور ختم ہو اور پھر نئی چڑھائی جائے ان پر۔ اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے جہنم کے عذاب سے۔ إنہا لظی نزّاعۃ للشوی۔ وہ جہنم جو ہے وہ اگ کے شعلے ہیں اتار لینے والے ہیں کھال کو تدعو من أدبر وتولّی۔ تدعو بلائے گی وہ جہنم بلائے گی من أدبر اس شخص کو جس نے پشت پھیری وتولّی اور منہ موڑا۔ جس نے پشت پھیری وتولّی اور مڑ گیا۔ جہنم ان لوگوں کو بلائے گی۔ وجمع اور جس نے مال جمع کیا۔ اس کا عطف ادبر پر ہے۔ یا تولّی پر ہے۔ جہنم بلائے گی اس شخص کو جس نے پشت پھیری اور مڑ گیا وجمع اور جس نے مال جمع کیا فاوۡعا پس اس کو محفوظ رکھا۔ اس کو سمیٹ کر رکھا۔ معنا سمجھ میں آ رہا ہے بھئی جس نے مال جمع کیا اور پھر اس کو سمیٹ کر رکھا بخل کے ساتھ کسی پر کوئی خرچ نہیں کرتا۔ تدعو من أدبر وتولّی وجمع فاوۡعا پکارے بلائے گی جہنم اس شخص کو جس نے پشت پھیری اور مڑ گیا اور مال جمع کیا پس اس کو سمیٹ کر رکھا اس کو محفوظ رکھا۔ احادیث میں آتا ہے۔ کہ جہنم سے۔ آواز آئے گی جہنم سے۔ إلیا یا کافر إلیا یا منافق۔ إلیا یا جامع المال۔ ادھر آؤ اے کافر، ادھر آؤ اے منافق، ادھر آؤ اے مال کو جمع کرنے والے۔ یہ آواز اور اس کی ہولناک ہولناکی اور ہولناکی کو کی وجہ سے لوگ ادھر ادھر بھاگیں گے ڈر کر۔ اور پھر جہنم سے ایک لمبی گردن نکلے گی۔ اور پھر وہ ان تمام مجرموں کو اسی طرح۔ پکڑ لے گی۔ جس طرح جانور اور پرندہ جو ہے دانے کو دانوں کو اٹھا لیتا ہے زمین سے۔ جس طرح وہ دانوں کو زمین سے۔ تیزی سے اٹھا لیتا ہے اسی طرح وہ گردن جو ہے وہ تمام مجرموں کو پکڑ لے گی۔ اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے بھئی جہنم کے عذاب سے۔ إن الانسان خلق ہلوعا یقینا انسان جو ہے اس کو پیدا کیا گیا ہے ہلوعا کم حوصلہ۔ ہلوع کا کیا معنی؟ کم حوصلہ کچے دل والا جو کسی ایک بات پر بھی جما نہیں رہتا۔ جلدی معنا سمجھ میں آیا بھئی ہلوعا کا کیا معنی۔ کم حوصلہ کچے دل والا۔ إن الانسان خلق ہلوعا یقینا انسان کو کم حوصلہ پیدا کیا گیا ہے۔ کم حوصلہ آگے تفسیر آ رہی ہے کس طرح کم حوصلہ ہے اللہ فرماتے ہیں اذا مسّہ الشرّ جزوعا جب اسے چھوتی ہے کوئی تکلیف جب اس پر کوئی تکلیف آتی ہے جزوعا تو بڑی بہت جلدی گھبرا جات تو بہت گھبرا جاتا ہے۔ اذا مسّہ الشرّ جزوعا جزوع۔ مبالغے کا صیغہ ہے۔ آگے اسی طرح منوع بھی آ رہا ہے مبالغے کا صیغہ۔ فعول وزن پر۔ جزوع جزا کرنے والے آنا گھبرا جانے والا یعنی بہت گھبرا جاتا ہے۔ اور منوع کا کیا معنی؟ بہت روکنے والا ہوتا ہے۔ تو یہ ہلوعا کی تفسیر بیان ہو رہی ہے کہ انسان کم حوصلہ پیدا کیا گیا ہے اذا مسّہ الشرّ جزوعا جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے جزوعا تو بہت گھبراتا ہے گھبرا جاتا ہے۔ وإذا مسّہ الخیر منوعا اور جب اس کو خیر پہنچتی ہے منوعا تو بہت روہنے والا ہو جاتا ہے۔ بڑا بخل کرنے لگتا ہے پھر کسی کو دیتا ہی نہیں مال آ جائے تو کسی کو دیتا ہی نہیں ہے بھئی۔ إلّا المصلّین مگر نمازی جو ہیں۔ انسان بے حوصلہ پیدا کیا گیا ہے إلّا المصلّین مگر وہ جو نماز پڑھنے والے ہیں وہ بے حوصلہ نہیں ہیں۔ ترجمے پر نظر ہے بھئی۔ جو نماز پڑھنے والے ہیں وہ بے حوصلہ نہیں۔ الّذین ھم علی صلاتھم دائمون وہ لوگ جو اپنی نماز کی پر کی پر مداومت کرتے ہیں اس کی پابندی کرتے ہیں۔ إلّا المصلّین الّذین ھم علی صلاتھم دائمون مگر وہ نمازی جو اپنی نماز کی پابندی کرتے ہیں والّذین فی أموالھم حقّ معلوم اور وہ لوگ جن کے مالوں کے اندر ایک مقررہ ایک معلوم حق ہے۔ ایک معلوم حق ہے۔ مراد زکوٰۃ ہے کیا مراد ہے؟ زکوٰۃ ایک مقررہ حق ہے جو اللہ نے مقرر فرمایا ہے معلوم ہے۔ والّذین اور وہ لوگ فی أموالھم حقّ معلوم جن کے مالوں میں ایک معلوم ایک مقررہ حق ہے للسّائل مانگنے والوں کے لیے والمحْروم اور محروموں کے لیے۔ مانگنے والے ہیں اور جو محروم ہیں ان کے لیے ایک مقررہ حق ہے مانگنے والے اور محروم بھئی بھئی کچھ لوگ وہ ضرورت مند ہیں تو وہ لوگوں سے سوال کرتے ہیں وہ ہیں سائل۔ اور کچھ لوگ ضرورت مند ہوتے ہیں لیکن عزت نفس کی وجہ سے کسی کے سامنے اظہار بھی نہیں کرتے اور اس کو اچھا نہیں سمجھتے ان کو محروم سے تعبیر کیا گیا۔ کہ وہ بھی محروم ہیں لیکن وہ سوال نہیں کرتے۔ والّذین فی أموالھم حقّ معلوم للسّائل والمحرومی اور نہ مانگنے والوں کے لیے۔ والّذین یصدّقون بیوم الدّین اور وہ لوگ جو تصدیق کرتے ہیں قیامت کے دن کی روز جزا کی۔ تصدیق کرتے ہیں یعنی اس کو سچا مانتے ہیں اس کو سچا جانتے ہیں۔ والّذین ھم من عذاب ربّھم مشفقون۔ أفق یشفق کے معنی ڈرنے کے اور وہ لوگ جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ والّذین ھم من عذاب ربّھم مشفقون اور وہ لوگ جو اپنے رب کے عذاب سے سہمے رہتے ہیں إنّ عذاب ربّھم غیر مأمون یقینا آپ کے رب کا عذاب غیر مأمون۔ وہ ایسی چیز نہیں ہے جس سے مامون ہوا جائے۔ جس سے کیا ہوا جائے؟ جس سے مامون ہوا جائے یعنی جس سے بے خوف ہوا جائے۔ إنّ عذاب ربّھم غیر مأمون یقینا ان کے پروردگار کا عذاب جو ہے وہ بے خوف ہونے کی چیز نہیں ہے وہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ اس سے بے خوف ہو جائے اس کا خوف دلوں سے نکال دیا جائے۔ والّذین ھم لفروجھم حافظون اور وہ لوگ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں فروج جمع ہے فرج انفرجرمگاہ کو کہتے ہیں۔ اور وہ لوگ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ یعنی کسی حرام جگہ پر اس کو استعمال نہیں کرتے إلّا علی ازواجھم سوائے اپنی بیویوں کے او ما ملکت أیمانھم اور وہ جن کے ان کے دائیں ہاتھ مالک ہیں یعنی جو ان کی باندیاں ہیں۔ سوائے اپنی بیویوں کے اور اپنی باندیوں کے فإنھم غیر ملومین فسیقینا وہ جو ہیں ملامت کیے ہوئے نہیں ہیں۔ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں یعنی اپنی شہوت صرف بیویوں اور اپنی باندیوں سے پوری کرتے ہیں اور جگہوں سے حفاظت کرتے ہیں اپنی شرمگاہ کی۔ صرف کس کہا کن سے شہوت پوری کرتے ہیں اپنی بیویاں اور باندیوں سے فإنھم غیر ملومین ان پر کوئی ملامت نہیں ہے جو بیویوں اور باندیوں سے شہوت پوری کرنے والے ہیں ان پر کوئی ملامت نہیں ان کو اللہ نے ان کے لیے حلال کر دیا ہے۔ والّذین ھم لفروجھم حافظون اور وہ لوگ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں سوائے اپنی بیویوں کے اور اپنی باندیوں کے فإنھم غیر ملومین پس یہ لوگ جو ہیں ملامت کیے ہوئے نہیں ان پر کوئی ملامت نہیں ہے۔ فمن ابتغی وراء ذلک پس جو کوئی چاہے اس کے ان کے علاوہ۔ جو کوئی چاہے ان کے علاوہ چاہتا ہے ان کے علاوہ طلب کرتا ہے فأولئک ھم العادون یہی لوگ ہیں حد سے بڑھنے والے۔ بیویوں اور باندیوں کے علاوہ قضائے شہوت کی اور جگہ جو تلاش کرتا ہے تو یہی لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ یعنی اللہ نے جو حد مقرر کی ہے اس سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ فمن ولا تبغوا وراء ذلك فأولئك هم العادون، فمن جو کوئی چاہتا ہے ان کے علاوہ تو یہی لوگ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ والذین هم لآماناتهم وعهدهم راعون، اور وہ لوگ جو اپنی امانتوں کی اور اپنے عہد کی راعون رعایت رکھتے ہیں (یعنی ان کا خیال رکھتے ہیں)۔ اور وہ لوگ جو اپنی امانتوں کی اور اپنے عہد کی رعایت رکھتے ہیں، عہد یعنی وعدہ، جو اپنے امانتوں اور اپنے وعدے کا خیال رکھتے ہیں۔ یعنی ان کا پاس رکھتے ہیں، لآماناتهم وعهدهم راعون۔ اس کے اندر تمام حقوق اللہ بھی آ گئے، حقوق العباد بھی آ گئے بھئی۔ امانت اور عہد کے اندر تمام حقوق اللہ بھی آ گئے، تمام حقوق العباد، حقوق العباد امانتیں کسی کی ہیں، وہ ان کو دیتے ہیں اور کسی سے کوئی وعدہ کیا ہوتا ہے، اس کو پورا کرتے ہیں، کسی بھی صورت میں وعدہ ہو، جو بھی بات کی ہوتی ہے، اس کو کیا کرتے ہیں؟ پورا کرتے ہیں، تو حقوق العباد اس کے اندر آ گئے۔ اور کچھ حقوق العباد شریعت کی طرف سے مقرر ہیں، وہ بھی اس کے اندر آ گئے، کیونکہ میں نے بتایا، تمام حقوق اللہ بھی اس کے اندر داخل، وہ لوگ جو اپنی امانتوں کی اور اپنے وعدے کی، وعدوں کی رعایت رکھتے ہیں۔ انسان کو جو بھی اللہ نے کمالات اور جو بھی قوتیں دی ہیں، وہ سب اس کے پاس امانت ہیں بھئی۔ وہ سب کیا ہیں اس کے پاس؟ اور عہد، وہ عہد جو انسان نے ازل میں اللہ سے کیا تھا، اللہ نے فرمایا تھا الست بربکم، کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟ سب نے کیا جواب دیا تھا؟ بلى، کیوں نہیں، آپ ہمارے پروردگار ہیں۔ تو جو لوگ اپنی امانتوں اور عہد کی پاسداری کرتے ہیں، اس میں تمام حقوق العباد بھی آ گئے اور تمام حقوق اللہ بھی آ گئے، حقوق اللہ کس اعتبار سے آۓ؟ کہ انسان کے پاس جتنی قوتیں ہیں، وہ اللہ کی امانت ہیں، تو چاہیے کہ امانت کو ام- کیا کرے، اسی طرح واپس لوٹے، یعنی انہی محل میں، انہی جگہوں میں خرچ کرے جہاں پر اللہ نے اس کو حکم دیا ہے۔ اور اللہ سے جو وعدہ ازل میں کیا تھا، اس کو پورا کرے، ایمان پر قائم رہے بھئی، تو اس میں تمام حقوق اللہ بھی آ گئے اور حقوق العباد بھی۔ والذین هم بشهاداتهم قائمون، اور وہ لوگ جو اپنی گواہیاں قائم کرتے ہیں (یعنی ادا کرتے ہیں، ٹھیک ٹھیک ادا کرتے ہیں)۔ والذین هم بشهاداتهم قائمون، اور وہ لوگ جو اپنی گواہیاں ٹھیک ٹھیک ادا کرتے ہیں، یعنی جہاں موقع ہوتا ہے، کوئی پس و پیش نہیں کرتے اور ٹھیک ٹھیک طریقے سے گواہی دیتے ہیں۔ والذین هم علی صلواتهم يحافظون، اور وہ لوگ جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں، نمازوں کی کیا کرتے ہیں؟ پیچھے ذکر آیا تھا کہ انسان کو بے حوصلہ پیدا کیا گیا ہے، اور الا المصلین الذین، مگر وہ نمازی جو ہیں، وہ بے حوصلہ نہیں ہیں، اور ان نمازیوں کی آٹھ صفات یہاں تک بیان ہوئیں بھئی۔ کتنی صفات بیان ہوئیں؟ آٹھ صفات بیان ہوئیں۔ اور ابتدا بھی نماز سے ہوئی اور اختتام بھی نماز پر ہوا۔ الذین هم علی صلواتهم دائمون، وہ لوگ جو کیا کرتے ہیں، اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں، اور اختتامی آخر میں بھی والذین هم علی صلواتهم يحافظون، وہ لوگ جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ اس میں اشارہ ہے نماز کی اہمیت کی طرف کہ ابتدا بھی نماز پر اور اختتام بھی نماز پر۔ اور پیچھے ذکر تھا، نماز کی پابندی کرتے ہیں، یہاں جو کہا گیا، نماز کی حفاظت کرتے ہیں، اس سے پابندی نہیں مراد، پابندی تو پیچھے ذکر ہو گئی، یہاں مراد ہے نماز کے تمام آداب کی رعایت رکھتے ہیں۔ جب ادا کرتے ہیں، تو کس طرح ادا کرتے ہیں؟ پورے پورے آداب پابندی سے ادا کرتے ہیں، اور دوسرا پورے نماز کے آداب، نماز کے سنتوں، مستحبات، آداب، ہر چیز کا خیال رکھتے ہیں، اچھے طریقے سے ادا کرتے ہیں۔ اولئك فی جنات مكرمون، یہ لوگ جو ہیں، باغات میں مكرمون، ان کی عزت کی جائے گی۔ فمال الذين كفروا قبلك مهطعين؟ فمال الذين، یاد رکھیے، یہ مال نہ سمجھ لینا، مال لفظ ہے، جس کی جمع کیا آتی ہے؟ اموال، نہیں، یہ مال، یہ لام جارّہ ہے، فمال الذين، کیا ہوا ان لوگوں کو الذين كفروا، جنہوں نے کفر کیا۔ یہ لام جارّہ ہے، اور یہ الگ کیوں لکھا گیا؟ میں پہلے بتلا چکا، قرآن کا اپنا رسم الخط ہے بھئی، اپنا رسم الخط ہے۔ فمال الذين كفروا، پس کیا ہوا ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا، قبلَک، آپ کی طرف، یعنی اے پیغمبر! آپ کی طرف، مهطعين، تیزی سے دوڑے آتے ہیں۔ حطعا کے معنے تیزی سے دوڑنا، تیزی سے چلنا۔ فمال الذين كفروا قبلَک مهطعين، پس کیا ہوا ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا، آپ کی طرف تیزی سے آتے ہیں، عن اليَمينِ، دائیں طرف سے، وعن الشمالِ، اور بائیں جانب سے، عِزين، عزين جمع ہے عِزۃ کی۔ عين، زا اور گول تا، عِزۃ۔ زا مشدد نہیں ہے بھئی، عِزۃ، عين، زا اور گول تا۔ اور عِزۃ کہتے ہیں گروہ کو، جماعت کو۔ اور اس کی جمع عزون بھی آتی ہے اور عِزين بھی، عین کے ضمہ کے ساتھ بھی، عین کے کسرہ کے ساتھ بھی، عزون بھی اور عِزين۔ اور حالتِ رفعی میں واؤ کے ساتھ، اور حالتِ نصبی جری میں یا کے ساتھ عِزين آیا بھئی۔ اور یہ حال واقع ہو رہا ہے، حالتِ نصبی میں ہے۔ تو عِزين کا کیا معنی؟ گروہ گروہ ہو کر، جماعتیں جماعتیں بنا کر، ٹولیاں بنا کر۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب قرآن سناتے، دعوت دیتے، تو کفار دوڑتے ہوۓ سارے چلے آتے، اکٹھے ہو جاتے آپ کے گرد، لیکن ماننے کے لیے نہیں، ماننے کے لیے نہیں، مذاق اڑانے کے لیے، استہزا کرنے کے لیے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ سارے جمع ہوتے کہ دیکھو کیا تماشہ ہو رہا ہے بھئی، اللہ، اللہ، سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم قرآن سنا رہے ہوں، دعوت دے رہے ہوں، اور یہ سارے لوگ ان کی جھٹائی اور ان کے تعصب کا اندازہ لگائیے، سارے اکٹھے ہو جاتے، مذاق اڑاتے، اور اس تکلیف کے عالم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر بھی دن رات ان کی خیر خواہی کا جذبہ لیے، دن رات ان کو ایک ایک کے گھر پر جا کر دعوت دیتے، کسی طرح یہ جہنم سے بچ جائیں۔ مقصد کیا تھا؟ کسی طرح یہ جہنم سے بچ جائیں بھئی۔ تو یہ اسی کا ذکر ہے، فمال الذين كفروا قبلك مهطعين، پس کیا ہوا ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا، قبلَک مهطعين، آپ کی طرف تیزی سے دوڑے آتے ہیں، عن اليمين، دائیں طرف سے، وعن الشمالِ، اور بائیں طرف سے، عِزين، ٹولیاں بنا کر۔ أيطمع كل امرئ منهم أن يدخل جنة نعيم؟ کیا لالچ کرتا ہے ان میں سے ہر شخص، كل امرئ منهم، ان میں سے ہر شخص، کیا لالچ کرتا ہے ان میں سے ہر شخص، أن يدخل جنة نعيم، یہ کہ وہ داخل ہو جائے نعمتوں والی جنت میں، نعمتوں کی جنت میں وہ داخل ہو جائے۔ وہ کہتے تھے، جنت وغیرہ کے احوال سن کر، مذاق اڑاتے کہ اگر جنت ہوئی، تو ہم آپ سے پہلے اٹھ، جنت میں جائیں گے، آخرت میں ہمیں بھی جنت ہی ملے گی، جیسے اللہ نے ہمیں یہاں چیزیں دیں، آخرت میں بھی دیں گے۔ أيطمع كل امرئ منهم، کیا لالچ کرتا ہے ان میں سے ہر شخص کہ وہ داخل کیا جائے نعمتوں کی جنت میں؟ كلا، ہرگز نہیں، اللہ فرما رہے ہیں ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا۔ كلا هرگز نہیں، انا خلقناهم مما يعلمون، یقینا ہم نے ان کو پیدا کیا، مما اس چیز سے، يعلمون، جس کو وہ یہ جانتے ہیں، ہم نے ان کو، ان کو اس چیز سے پیدا کیا ہے، جس کو یہ جانتے ہیں، یعنی نطفے سے۔ کس سے پیدا کیا ہے؟ نطفے سے پیدا کیا ہے، ایک حقیر قطرے سے پیدا کیا ہے، جس سے ہر شخص کو گن معلوم ہوتی ہے، گن محسوس ہوتی ہے، یہ نطفہ، جس سے ہم نے ان کو پیدا کیا ہے، یہ اس قابل نہیں کہ یہ جنت میں جائے، الا یہ کہ ایمان کے لیے یہ پاک ہو جائے، اور ایمان تو ان کے پاس ہے نہیں۔ انا خلقناهم مما يعلمون، یقینا ہم جانتے ہیں، اس- ہم جانتے ہیں ان کو کس، یقینا ہم نے پیدا کیا ان کو، مما اس چیز سے يعلمون، جو ہم جانتے ہیں، فلا أقسم برب المشارق والمغارب۔ یہ ل- صلہ آیا، لصلہ، کیا معنی؟ زایدہ ہے، فلا أقسم، پس میں قسم اٹھاتا ہوں برب المشارق والمغارب، مشرقوں اور مغربوں کے رب کی۔ مشریقوں اور مغربوں کے رب کی، یا یہ ترجمہ کر لیجیے، پس میں قسم، پس میں قسم اٹھاتا ہوں مشریقوں اور مغربوں کے مالک کی۔ مشارق اور مغارب کہا، میں پہلے بتلا چکا ہوں کہ ہر روز، ہر روز جو ہے، سورج اور ستارے وغیرہ الگ الگ مقام سے طلوع ہوتے ہیں، سارا سال ان کے طلوع ہونے کی جگہ اور ان کا وہ نقطہ بدلتا رہتا ہے، تو اس اعتبار سے مشارق بھی بہت ہوۓ، اور اسی طرح مغارب بھی ہر روز مغرب، ہر وہ نقطہ بدلتا ہے، جہاں سورج اور ستارے غروب ہوتے ہیں۔ فلا أقسم برب المشارق والمغارب، پس میں قسم اٹھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے رب کی، إنا لقادرون، یقینا البتہ ہم قادر ہیں، علی أن نبدل خيرا منهم، اس بات پر کہ ہم بدل دیں ان کو، ان سے بہتر سے۔ ان کو فار کو بدل دیں، ان کی جگہ پر لے آئیں، خيرا منهم، ان سے بہتر کو۔ اللہ فرما رہے ہیں ہم اس بات پر قادر ہیں کہ ہم فار کی جگہ پر ان سے بہتر لوگ لے آئیں، یعنی ان کو ختم کر دیں اور دوسرے لوگوں کو لے آئیں، وما نحن بمسبوقین، اور ہم عاجز نہیں ہیں۔ ہم عاجز نہیں۔ سبق کے معنے آگے نکلنے کے، سابق جو آگے نکل جائے، مسبوق جو پیچھے رہ جائے، جو ہار گیا۔ مسبوق جو، ص- سابق جیتنے والا، مسبوق ہارنے والا، اللہ فرما رہے ہیں وما نحن بمسبوقین، ہم مسبوق نہیں، ہمیں کوئی ہرا نہیں سکتا۔ ہمیں کوئی ہرا نہیں سکتا، یعنی ہم عاجز نہیں ہیں۔ فذرهم، پس اے پیغمبر! ان کو چھوڑ دیجیے، يخوضوا۔ يخوضو، خازا يخوضو کا معنی ہوتا ہے باتوں میں مشغول ہونا۔ فذرهم، اے پیغمبر! ان کو چھوڑ دیجیے، چھوڑ دیجیے۔ يخوضوا، یہ باتوں میں لگے رہیں، ويلعبوا، اور کھیلتے رہیں، حتى يلاقوا، یہاں تک کہ یہ ملاقات کر دیں، يومهم الذی يوعدون، اپنے اس دن سے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے، يوم يخرجون من الاجداث، جس دن کہ یہ، يوم يخرجون من الاجداث، جس دن کہ یہ نکلیں گے من الاجداث، قبروں سے، اجداث جمع ہے جدس کی۔ اور جدس کہتے ہیں قبر کو، يوم يخرجون من الاجداث، جس دن کہ یہ نکلیں گے قبروں سے، سراعا، جمع ہے سریع کی۔ تیزی سے دوڑتے ہوۓ۔ جس دن کہ یہ نکلیں گے قبروں سے، تیزی سے دوڑتے ہوۓ، كأنهم الی نصب يوفضون، گویا کہ یہ بتوں کی طرف، يوفضون، دوڑ رہے ہیں۔ گویا کہ یہ کس کی طرف، نصب، یعنی بتوں کی طرف دوڑ رہے ہیں۔ نصب، وہ چیز۔ یہ نصب نصب سے ہے، نصب کرنا کا کیا معنی ہوتا ہے؟ کھڑا کرنا، کوئی لکڑی وغیرہ، پتھر، کوئی نشانی کھڑا کرنا، مقرر کرنا، تو اس کو نصب کہا جاتا ہے۔ تو تو نصب، اسی طرح بت جو کھڑے کیے جاتے ہیں بھئی، ان کو بھی کیا کہتے ہیں؟ نصب کہا جاتا ہے۔ اور افض یوفض کے معنے، تیزی سے جانا، تیزی سے دوڑنا۔ تو اللہ فرما رہے ہیں یہ قبروں، قبروں سے تیزی سے دوڑتے ہوۓ نکلیں گے، گویا کہ یہ بتوں کی طرف دوڑ رہے ہیں۔ جیسے اپنے، اپنے معبود، جن کو انہوں نے بنا رکھا تھا بت، ان کی طرف جیسے یہ تیزی سے چل کر جاتے تھے، اسی طرح یہ تیزی سے قبروں سے نکل کر میدانِ حشر کی طرف دوڑتے ہوۓ جمع ہوں گے، یا نصب، میں نے بتایا وہ نشانی جو کھڑی کی جائے، جیسے دوڑ کے اندر ایک نشانی کھڑا لیتے ہیں کہ جو اس تک پہلے بھاگ کر پہنچا، وہ جیت جائے گا، تو جیسے اس دوڑ کے نشانی کی طرف ساتھ تیزی سے کوئی دوڑتا ہوا جاتا ہے مقابلے کے اندر، اسی طرح یہ لوگ بھی میدانِ حشر میں۔ دوڑتے ہوئے آئیں گے، دوڑتے ہوئے پہنچیں گے۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ دیکھیے اب دو ترجمے کر لیں، يوم ياخ- یہ جس دن کہ یہ نکلیں گے قبروں سے، تیزی سے، گویا کہ یہ بتوں کی، تھانوں کی طرف تیزی سے دوڑ رہے ہیں، بتوں کے تھان بھئی، وہ جو عبادت کی جگہ ہیں ان کی، بت۔ اور دوسرا معنی کیا کیا نصب کا؟ نشانی، جس دن کہ یہ نکلیں گے قبروں سے تیزی سے، گویا کہ یہ نشانی کی طرف دوڑ رہے ہوں، خاشعة أبصارهم، جھکی ہوئی ہوں گی ان کی نگاہیں، ترھقهم ذلۃ، چھائی ہوئی ہوگی ان پر ذلت، ذٰلك اليوم الذي كانوا يوعدون، یہی وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ یہ قبروں سے نکل کر دوڑیں گے، ذلت چھائی ہوگی، اللہ فرما رہے ہیں، یہ ہے وہ دن جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ چلیے بس بھئی، ھذا هو المرام، واللہ أعلم بحقيقة الكلام۔
131 approved lectures · 125 of 131