اعوذ بالله من الشیطان الرجیم بسم الله الرحمن الرحیم
قد سمع الله قول التي تجادلك في زوجها وتشتكي إلى الله والله يسمع تحاوركما إن الله سميع بصير
الذين يظاهرون منكم من نسائهم ما هن أمهاتهم إن أمهاتهم إلا اللائي ولدنهم وإنهم ليقولون منكرا من القول وزورا وإن الله لعفو غفور
یہ سورہ مجادلہ ہے مجادلہ عربی زبان میں جھگڑے اور بحث کرنے کو کہتے ہیں مجادلہ کا کیا معنی ہے جھگڑنا اور بحث کرنا اور اس صورت کی پہلی ہی آیت میں یہ مجادلے کا ذکر ہے التی تجادلك تو پہلی ہی آیت کے اندر مجادلے کا ذکر ہے تو اسی وجہ سے یہ صورت سورہ مجادلہ کہلاتے ہے
یہ ابتدائی آیتوں میں کے اندر اس صورت کی ابتدائی آیتوں میں اظہار کا حکم بیان کیا جا رہا ہے اظہار آپ پڑھ چکے ہوں گے کہ انسان اپنی بیوی کو یوں کہہ دے انت علی كظهر امي تو مجھ پر اسی طرح ہے جس طرح میری ماں کی پشت پہی تو بیوی کو ماں کے ساتھ تشبیہ دے دی اور اسی طرح ماں کے ساتھ تشبیہ دی جائے یا کسی ایسی عورت کے ساتھ تشبیہ دی جائے جو انسان پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو مثلا اپنی بہن کے ساتھ تشبیہ دے دی یا بیٹی کے ساتھ تشبیہ دے دی تو بہن اور بیٹی بھی انسان پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہیں ان کے ساتھ نکاح کی کوئی صورت نہیں تو جب بھی اس قسم کی عورتوں کے ساتھ بیوی کو تشبیہ دی جائے تو وہ عورت جاہلیت میں پہلے جاہلیت کا حکم سن لیں جاہلیت میں یہ تھا کہ وہ عورت وہ بیوی جو ہے خاوند پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام سمجھی جاتی تھی
اب خاوند کے لیے اس کے قریب جانا یا اس سے صحبت کرنا یہ جائز نہیں سمجھا جاتا تھا بھئی تو جاہلیت والے کیا سمجھتے تھے اس کو کہ اظہار کیا اظہار سے بیوی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتی ہے چنانچہ ایک مرتبہ ایک صحابی حضرت اوس ابن صامت بھئی اوس الف و واؤ سین بھئی اور الصامت ص کے ساتھ ہے حضرت اوس ابن صامت رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کی بیوی تھیں حضرت خولہ بنت صالعہ خولہ بنت صالعہ سا کے ساتھ ہے بھئی خولہ بنت صالعہ
تو ان کے درمیان کسی بات پر گھر میں جھگڑا ہوا ہوگا تو حضرت اوس ابن صامت رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی بیوی کو یعنی حضرت خولہ بنت صالعہ کو یہی الفاظ کہہ دیے کہ انت علی كظهر امي تو مجھ پر اسی طرح ہے جیسے میری ماں کی پشت
اب حضرت اوس بوڑھے تھے یہ لفظ کہہ تو دیے لیکن پھر بڑے پریشان ہوئے کہ یہ میں نے کیا کیا اور ادھر بیوی بھی پریشان چھوٹے بچے ان کے تو وہ ان کی بیوی جو ہیں یعنی حضرت خولہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آکر پوچھا کہ یا رسول اللہ جاہلیت میں تو یہ حکم تھا اسلام میں اس کا کیا حکم ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ اس بارے میں مجھ پر کوئی وحی تو نازل نہیں ہوئی کوئی حکم ابھی اللہ کی طرف سے نہیں آیا لیکن میرا خیال یہی ہے کہ یہ اسی طرح ہے تم ہمیشہ کے لیے اپنے خاوند پر حرام ہو چکی ہو
اس پر وہ بحث کرنے لگیں یعنی رونے اور فریاد کرنے لگیں کہ یا رسول اللہ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اگر اپنے پاگر ہم دونوں میں اس پر حرام ہو گئی ہوں تو اب اگر اپنے پاس بچوں کو رکھتی ہوں تو پھر ان کو کھلاؤں گی میں کہاں سے اور اگر خاوند کے حوالے کرتی ہوں تو بچے ضائع ہو جائیں گے وہ ان کی پرورش کیسے کریں گے تو رونے لگیں اور فریاد کرنے لگیں اور اللہ کی طرف اللہ کی طرف بھی فریاد کرنے لگیں کہ اے اللہ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں وہ ضائع ہو جائیں گے
تو یہی بات ابھی چل رہی تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت خولہ رضی اللہ تعالی عنہا کے عنہا کے درمیان وہ فریاد کر رہی ہیں رو رہی ہیں تو اسی دوران حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیتیں نازل ہوئیں بھئی جن میں اللہ نے اظہار کا حکم بتلایا ابھی وہ وہیں پر موجود تھیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیتیں نازل ہوئیں دیکھیے اللہ فرما رہے ہیں قد سمع الله تحقیق اللہ نے سن لیا قول التي تجادلك اس عورت کا جو آپ سے بحث کر رہی ہے فی زوجها اپنے خاوند کے بارے میں وشتکی إلى الله اور شکوہ شکایت کر رہی ہے اللہ کی طرف اور اللہ کی طرف شکایت کر رہی ہے والله يسمع تحاوركما اور اللہ سن رہے ہیں تمہاری گفتگو
اللہ گفتگو ابھی شکوہ اور شکایت تو جاری ہے وہ رو رہی ہیں فریاد کر رہی ہیں اللہ فرماتے ہیں واللہ يسمع تحاوركما اللہ سن رہے ہیں تحاوركما تم دونوں کی گفتگو تحاور گفتگو بھئی اللہ سن رہے ہیں تم دونوں کی گفتگو إن الله سميع بصير یقینا اللہ سب کچھ سننے والے سب کچھ دیکھنے والے ہیں
معنی سمجھ میں آیا بھئی آیت کا
الذين يظاهرون منكم من نسائهم ما هن أمهاتهم وہ لوگ جو اظہار کر لیں تم میں سے من نسائهم اپنی بیویوں سے ما هن أمهاتهم وہ ان کی مائیں نہیں ہیں وہ کہ تو دیتے ہیں تم پر تم میری ماں کی طرح ہو لیکن وہ بیویاں ان کی مائیں نہیں بن جاتی
ما هن أمهاتهم وہ بیویاں جو ان کی ہیں وہ ان کی مائیں نہیں ہیں یا یوں ترجمہ کر لیں ما هن أمهاتهم ان کی بیویاں ان کی مائیں نہیں بن جاتی ان کی بیویاں ان کی وہ لوگ جو اظہار کر لیتے ہیں تم میں سے اپنی بیویوں کے ساتھ ان کی بیویاں ان کی مائیں نہیں بن جاتی ان امہاتهم نہیں ہیں ان کی مائیں الا اللائي ولدنهما مگر ان کی مگر وہ عورتیں اللاء اس میں موصول ہے بھئی اس میں موصول جمع مؤنث کے لیے بھئی
ان امہاتهم إلا اللائي نہیں ہیں ان کی مائیں مگر وہ عورتیں ولدنهما جنہوں نے ان کو جنم دیا
مائیں تو ان کی وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنم دیا تھا بیوی کو اگر ماں کی طرح کہہ دیا تو یہ کہنے سے وہ ماں نہیں بن گئی بھئی مائیں وہی ہیں جنہوں نے جنم دیا تھا
وإنهم ليقولون منكرا من القول وزورا اور یقینا وہ البتہ کہتے ہیں منکر منکر کہتے ہیں ناپسندیدہ بری بات اور یقینا وہ البتہ کہتے ہیں منکرا من القول ناپسندیدہ بات وزورا اور جھوٹ زور کہتے ہیں جھوٹ کو
وإن الله لعفو غفور اور یقینا اللہ البتہ معاف کرنے والے ہیں بخشنے والے ہیں اور یقینا البتہ اللہ معاف کرنے والے بخشنے والے ہیں
معنی سمجھ میں آگیا بھئی قد سمع الله قول التي تجادلك في زوجها وتشتكي إلى الله تحقیق اللہ نے سن لی بات اس عورت کی جو بحث کر رہی ہے آپ سے فی زوجها اپنے خاوند کے بارے میں وشتکی إلى الله اور شکوہ کر رہی ہے اللہ کی طرف یا شکایت کر رہی ہے اللہ کی طرف وال یا یوں ترجمہ کریں
قد سمع الله قول التي تجادلك في زوجها تحقيق اللہ نے سن لی اس عورت کی بات جو آپ سے بحث کر رہی ہے فی زوجها اپنے خاوند کے بارے میں وشتکی إلى الله اور اللہ سے شکایت کر رہی ہے اللہ سے شکوہ کر رہی ہے واللہ يسمع تحاوركما اور اللہ سن رہے ہیں تم دونوں کی گفتگو إن الله سميع بصير یقینا اللہ سننے والے ہیں دیکھنے سب کچھ سننے والے سب کچھ دیکھنے والے ہیں الذين يظاهرون منكم من نسائهم وہ لوگ جو اظہار کر لیں تم میں سے اپنی بیویوں سے ما هن أمهاتهم ان کی بیویاں ان کی مائیں نہیں بن جاتی ان امہاتهم الا اللائي ولدنهما نہیں ہیں ان کی مائیں مگر وہ جنہوں نے ان کو جنم دیا
یہ تو ان اور الا کے ساتھ میں نے ترجمہ کیا
بامحاورہ کیا ترجمہ ہوگا ہاں شاباش ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنم دیا وإنهم ليقولون منكرا من القول وزورا اور یقینا البتہ وہ ناپسندیدہ بات اور جھوٹ کہتے ہیں و ان (یعنی یہ جھوٹ کہتے ہیں کہ تم جو ماں بنایا اس کو تو یہ بڑی ناپسندیدہ بات ہے اور جھوٹ ہے بھئی حقیقت سے اس کا تعلق نہیں بیوی کیسے ماں ماں تو وہ ہے جس نے جنم دیا)
اور یہ البتہ ایک ناپسندیدہ بات اور جھوٹ کہتے ہیں وإن الله لعفو غفور اور یقینا اللہ معاف کرنے والا بخشنے والا ہے والذين يظاهرون من نسائهم اور وہ لوگ جو اظہار کر لیں اپنی بیویوں سے ثم يعودون پھر رجوع کرنا چاہیں لما قالو اس کی طرف جو انہوں نے کہا تھا
پھر رجوع کرنے لگیں لما اس سے ما قالو جو انہوں نے کہا تھا
وہ اس کیا کرنا چاہیں ترجمے پر نظر رکھنا بھئی ثم يعودون پھر وہ لوٹنا چاہیں رجوع کرنا چاہیں لما قالو
ثم يعودون پھر وہ لوٹنا چاہیں لما قالو اس سے جو انہوں نے کہا تھا اس سے کیا کرنا چاہیں رجوع کرنا چاہیں اس سے پلٹنا چاہیں
فتحرير رقبة تو آزاد کرنا ہے ایک گردن کا یعنی یہ ایک ذات کا غلام یا باندی کا من قبل أن یتماسا قبل اس کے کہ باہم دونوں ایک دوسرے کو چھوئیں بھئی یعنی ایک دوسرے سے صحبت کریں
میاں بیوی باہم صحبت کرنے سے پہلے یہ کفارہ اظہار کی وجہ سے حرمت آگئی لیکن اگر حرمت کو ختم کرنا چاہیں اپنے کہے ہوئے کی تلافی کرنا چاہیں وہ جو انہوں نے کہا تھا کہ تو مجھ پر میری ماں کی طرح ہے اس سے اگر وہ رجوع کرنا چاہتے ہیں تو کیا کرنا پڑے گا ایک ذات کا ایک غلام یا باندی کا آزاد کو آزاد کرنا پڑے گا من قبل أن یتماسا قبل اس کے کہ وہ باہم صحبت کریں
باب تفاعل ہے باب تفاعل جانبین سے فعل کو چاہتا ہے أن یتماسا باہم ایک دوسرے کو چھونا
من قبل أن یتماسا قبل اس کے کہ دونوں باہم ایک دوسرے کو چھویں مراد صحبت ہے کیا مراد ہے صحبت قبل اس کے کہ باہم دو دونوں صحبت کریں
ذالکم تو عذون بہ
یہ جو ہے یہ حکم جو ہے جو بیان کیا گیا تو عذون بہ
اس سے تمہیں نصیحت ہوگی
ذالکم یہ جو حکم ذکر کیا گیا تو عذون تمہیں نصیحت ہوگی بہ اس کے ذریعے
ترجمے پر نظر ہے بھئی کیا معنی کیا میں نے اس حکم سے تمہیں اس بات سے تمہیں نصیحت ہوگی یا دوسرا یہ ترجمہ کر لیں ذالکم تو عذون بہ یہ اس بات سے تمہیں نصیحت کی جا رہی ہے
ذالکم یہ جو بات ذکر ہوئی تو عذون بہ اس کے ذریعے تمہیں نصیحت کی جا رہی ہے
تو جو بھی آپ ترجمہ کرنا چاہیں واللہ بما تعملون خبیر اور اللہ جو کچھ تم عمل کرتے ہو خبیر اس سے باخبر ہیں
والذين يظاهرون من نسائهم اور وہ لوگ جو اظہار کر لیں اپنی بیویوں سے ثم يعودون لما قالو پھر وہ رجوع کرنا چاہیں اس سے جو انہوں نے کہا تھا فتحرير رقبة تو آزاد کرنا ہے ایک ذات کا من قبل أن یتماسا قبل اس کے کہ وہ آپس میں صحبت کریں
ذالکم تو عذون بہ اس سے تمہیں نصیحت ہوگی واللہ بما تعملون خبیر اور اللہ جاننے والے ہیں اللہ باخبر ہیں جو کچھ تم عمل کرتے ہو
یا دوسرا ترجمہ ذالکم تو عذون بہ اس سے تم کو نصیحت کی جا رہی ہے واللہ بما تعملون خبیر اور اللہ باخبر ہیں جو کچھ تم عمل کرتے ہو فمن لم يجد فصيام شهرين پس جو شخص نہ پائے
یعنی غلام یا باندی کو نہ پائے جسے غلام یا باندی میسر نہ ہو جیسے آج کل کے زمانے میں غلام اور باندیاں ہیں ہی نہیں بھئی
تو اللہ فرماتے ہیں اولاً تو یہ کہ غلام یا باندی آزاد کرو فمن لم يجد پس جو کوئی غلام یا باندی کو نہ پائے فصيام شهرين متتابعين تو پھر روزے ہیں شہرین دو ماہ کے متتابعين लगातार
یعنی متواتر فصيام شهرين متتابعين پس تو روزے ہیں دو ماہ کے مسلسل من قبل أن یتماسا قبل اس کے کہ باہم صحبت کریں
فمن لم يستطع پس جو کوئی اس کی استطاعت نہ رکھے
یعنی دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنے کی جو استطاعت نہ رکھے فإطعام ستین مسكينا تو کھانا کھلانا ہے ساٹھ مسکینوں کو
کتنے مسکینوں کو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے ذالک لتؤمن بالله ورسوله اور یہ اس لیے تاکہ تم ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر وتیل کا حدود اللہ اور یہ اللہ کی حدیں ہیں
یہ اللہ کی حدیں ہیں یعنی یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں جن سے تجاوز کرنا کسی صورت درست نہیں بھئی
وتلک حدود اللہ اور یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں وللکافرین عذاب الیم اور انکار کرنے والوں کے لیے دردناک عذاب ہے انکار کرنے والوں کے لیے دردناک عذاب ہے
معنی سمجھ میں آگیا بھئی اظہار کا کفارہ کیا ہوتا ہے یہ آپ اصول الشاشی میں پڑھ چکے ہوں گے کہ جس نے اظہار کیا اس کی بیوی اس پر حرام ہوئی طلاق تو نہیں ہوئی البتہ یہ اب اس سے صحبت وغیرہ نہیں کر سکتا تو اگر صحبت کرنا چاہتا ہے میاں بیوی والے تعلقات برقرار رکھنا اسی طرح پھر رکھنا چاہتا ہے تو اس کے لیے کفارہ دینا پڑے گا اور کفارہ اس میں ترتیب ہے تین چیزوں کا اختیار نہیں
ترتیب ہے اولاً کیا کرنا پڑے گا غلام یا باندی آزاد کرناپڑیں گے اگر وہ نہ ملے پھر گنجائش ہو جائے گی اب کیا کر سکتا ہے ساٹھ روزے رکھے مسلسل
ساٹھ روزے ہی رکھناپڑیں گے ہاں اگر اس کی بھی استطاعت نہیں رکھتا بھئی اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا بیمار ہے وغیرہ تو پھر کیا کر لے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے اور کتنا کھلائے ساٹھ مسکینوں کو یاد رکھیے دو وقت کا
کتنا؟
دو وقت کا کھانا ہے ہمیشہ یاد رکھنا تاکہ ان کے ایک دن کی ضرورت پوری ہو جائے
یہ اسی طرح ہے جیسے قسم کے کفارے میں کتنے مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے
دس مسکینوں کو وہاں بھی دو وقت کا مراد ہے تاکہ ایک دن کی ان کی ضرورت پوری ہو جائے صبح کا بھی اور شام کا بھی تو یہاں بھی دو وقت کا کھانا ہے ساٹھ مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلائیں بھئی
اور پھر یہ بھی آپ اصول الشاشی میں پڑھ چکے ہیں کہ وہ جو تحریر رقبت ہے اس میں بھی من قبل أن یتماسا کی قید ہے اور صیام شهرين متتابعين میں بھی من قبل أن یتماسا کی قید ہے یعنی اگر غلام یا باندی آزاد کرنا چاہتا ہے تو یہ صحبت سے پہلے آزاد کرنا پڑے گا
اگر ساٹھ روزے رکھنا چاہتا ہے تو یہ بھی صحبت کرنے سے پہلے رکھنا صیام شهرين رکھناپڑیں گے اگر کچھ روزے رکھ چکا تھا مثلا آدھے رکھ لیے تھے درمیان میں صحبت کر لی نہیں بھئی
نئے سرے سے کیا کرناپڑیں گے دوبارہ ساٹھ روزے رکھناپڑیں گے ہاں البتہ یہ من قبل أن یتماسا کی قید جو ہے یہ ساٹھ مسکینوں کو جو کھانا کھلانا ہے اس کے اندر یہ قید نہیں
لھذا عند الاحناف
اگر کھانا کھلانا شروع کر دیا اور ان کے دوران صحبت کر لی تو پھر نئے سرے سے کھلانا ضروری نہیں اسی کو کیا کر لے پورا کر لے تو اگر
چنانچہ یہ درست یہ بھی نہیں۔ گنہگار ہوا۔ کفارے سے پہلے بیوی کے پاس چلا گیا لیکن صرف یہ ہے کہ دو بار نئے سرے سے نہیں کرنا پڑے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ مانا نہیں کہ قید نہیں ہے تو اس کے درمیان چلا جائے پھر بھی گناہ ہے لیکن یہ ہے کہ پھر نئے سرے سے کفارہ نہیں دینا پڑے گا جبکہ روزوں وغیرہ میں تو نئے سرے سے کرنا پڑے گا کفارہ۔
فمن لم يجد فصيام شهرين متتابعين من قبل أن يتماسا پس جو کوئی جس کسی کو میسر نہ ہو تو روزے رکھنے ہیں دو ماہ کے लगातार من قبل أن يتماسا باہم اختلاط کرنے سے پہلے فمن لم يستطع پس اگر کوئی یہ نہ کر سکے تو کھانا کھلانا ہے ساٹھ مسکینوں کو ذالک لتؤمنوا بالله یہ اس لیے تاکہ تم ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر وتلك حدود الله اور یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں وللكافرين عذاب أليم اور انکار کرنے والوں کے لیے دردناک عذاب ہے۔
ان الذين يححادون الله ورسوله یقینا وہ لوگ جو مخالفت کرتے ہیں اللہ کی اور اس کے رسول کی، يححادون کا کیا معنی؟ جو مخالفت کرتے ہیں۔ ان الذين يححادون الله ورسوله یقینا وہ لوگ جو مخالفت کرتے ہیں اللہ کی اور اس کے رسول کی کوبتو وہ ذلیل ہوں گے، وہ رسوا ہوں گے کما كبت الذين من قبلهم جیسے کہ ذلیل کیے گئے وہ لوگ جو ان سے ان سے پہلے تھے۔
وقد أنزلنا آيات بينات اور تحقیق ہم نے نازل کی ہیں کھلی کھلی آیتیں وللكافرين عذاب مهين اور انکار کرنے والوں کے لیے ذلت والا عذاب ہے رسوائی والا عذاب ہے۔
ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ ان الذين يححادون الله ورسوله یقینا وہ لوگ جو مخالفت کرتے ہیں اللہ کی اور اس کے رسول کی کوبتو وہ ذلیل ہوں گے، وہ رسوا ہوں گے کبتا کے معنی ذلیل کرنا رسوا کرنے کے، کوبتو وہ ذلیل کیے جائیں گے، رسوا کیے جائیں گے اور ماضی کے صیغے کے ساتھ ذکر کیا گیا کیونکہ جیسے ماضی کا وقوع یقینی اسی طرح اس بات کا وقوع بھی یقینی کہ یقینا وہ یقینا وہ رسوا ہوں گے، کوبتو وہ رسوا کیے جائیں گے کما كبت الذين من قبلهم جیسے رسوا کیے گئے وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے، وقد أنزلنا آيات بينات اور تحقیق ہم نے نازل کی ہیں کھلی کھلی آیتیں وللكافرين عذاب مهين اور کفر کرنے والوں کے لیے رسوائی کا عذاب ہے، رسوائی والا عذاب ہے۔
يوم يبعثهم الله جميعا جس دن کہ اللہ اٹھائیں گے ان سب کو جس دن کہ اللہ ان سب کو اٹھائیں گے فینبئهم بما عملوا پس اللہ ان کو خبر دیں گے بما عملوا وہ جو انہوں نے عمل کیے جو جو عمل کیے تھے اللہ ان سب کو بتلائیں گے کہ یہ یہ عمل تم نے کیے۔
احصاه الله اللہ نے اس کو شمار کر رکھا ہے جو جو انہوں نے عمل کیے اللہ نے اس کو شمار کر رکھا ہے اللہ نے اس کو گن رکھا ہے ونسبوه اور یہ اس کو بھول گئے انسان کوئی عمل کرتا ہے کچھ عرصے بعد آہستہ آہستہ بھولتا چلا جاتا ہے بھئی ذہن سمجھ میں آیا؟ اللہ فرماتے ہیں اللہ نے ہر چیز کو گن رکھا ہے یہ لوگ اگرچہ وہ اعمال کر کے بھول گئے والله على كل شيء شهيد اور اللہ ہر چیز پر گواہ ہیں۔
يوم يبعثهم الله جميعا فینبئهم بما عملوا جس دن کہ اللہ اٹھائیں گے ان سب کو پس اللہ خبر دیں گے ان کو ان کے عملوں کی احصاه الله ونسوه اللہ نے اس کو گن رکھا ہے اور انہوں نے بھلا دیا ہے والله على كل شيء شهيد اور اللہ ہر چیز پر گواہ ہیں۔
ألم تر أن الله يعلم ما في السماوات وما في الأرض کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ اللہ جانتے ہیں جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں ما يكون من نجوى ثلاثة إلا هو رابعهم نجوى کہتے ہیں رازداری سے کسی سے کوئی بات کرنا سرگوشی کرنا۔
نجوى کس کو کہتے ہیں؟ رازداری سے کسی سے بات کرنا، سرگوشی کرنا، کان میں بات کرنا بھئی کسی کے۔ ما يكون من نجوى ثلاثة نہیں ہوتی کوئی تین کی سرگوشی نجوى ثلاثة تین کی سرگوشی یعنی تین آدمی نہیں ہوتی کوئی تین آدمیوں کی سرگوشی إلا هو رابعہم مگر یہ کہ وہ اللہ رابعہم ان کا چوتھا ہوتا ہے۔
اللہ ان کا کوئی تین آدمی سرگوشی کریں ان میں ان میں چوتھا اللہ ہوتا ہے جو ہر بات جان رہا سن رہا ہے ہر بات کو جانتا ہے۔
ولا خمسة اور نہ کوئی پانچ کی سرگوشی إلا هو سادسهم مگر یہ کہ وہ ان کا چھٹا ہوتا ہے مگر یہ کہ اللہ ان کا چھٹا ہوتا ہے ان میں سے ولا أدنى من ذلك ولا أكثر اور نہ اس سے کوئی کم اور نہ اس سے زیادہ یعنی اس سے کم، تین سے کم کتنے ہو گئے؟ دو۔ یا اسی طرح پانچ سے کم کتنے ہوئے؟ چار یا ان سے زیادہ تو اس سے کم آدمی سرگوشی کریں یا زیادہ کریں جو بھی صورت ہو تو کہتے ہیں ولا أدنى من ذلك ولا أكثر اور نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ إلا هو معهم مگر یہ کہ وہ اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے wherever anywhere بھی وہ ہوں جس جگہ پر بھی ہوں جو بھی سرگوشی کرنے والے ہوتے ہیں بات کرنے خفیہ بات کرنے والے ہیں اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے اللہ کا علم بڑا کامل۔
समझ में आया भाई؟ اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے کیا معنی؟ یعنی اپنے علم کے اعتبار سے ان کے ساتھ ہوتا ہے اللہ کو ہر ہر چیز کا علم ہے بھئی۔
ثم ينبئهم بما عملوا يوم القيامة پھر اللہ ان کو خبر دیں گے جو انہوں نے عمل کیے يوم القيامة قیامت کے دن ان الله بكل شيء عليم یقینا اللہ ہر چیز جاننے والے ہیں۔
بھی یہاں اللہ نے ذکر فرمایا کہ اللہ آسمانوں اور زمین میں ہر چیز کو جانتے ہیں اور کوئی تین سرگوشی کرنے والے نہیں ہوتے مگر یہ کہ ان میں چوتھا اللہ ہوتا ہے کوئی پانچ نہیں ہوتے مگر یہ کہ ان میں چھٹے اللہ ہوتے ہیں۔
تو یہ تین اور پانچ یہ طاق عدد ذکر کیے گئے بھئی، نقطہ اس میں یہ ہے کہ دو آدمی جب آپس میں رازدارانہ گفتگو کر رہے ہیں مشورہ کر رہے ہیں تو پھر ایک کی رائے اور ہو دوسرے کی رائے اور ہو تو فیصلہ نہیں ہو سکے گا تو عموماً پھر کتنے مشورہ کرتے ہیں؟ خاص بات ہو تو تین طاق طاق تعداد میں تاکہ ایک طرف اگر نصف ہوں دوسری طرف نصف ہوں تو یہ جو ایک شخص جو رہ جائے اس کی رائے جو ہے جس طرف ہو جائے اس طرف کو اختیار کر لیا جائے، اسی طرح تین تو اس میں سب سے چھوٹا عدد کون سا تھا؟ تین، اس کے بعد اس سے اوپر والا کون سا طاق عدد؟ پانچ بھئی، کہ اگر ایک طرف دو ہو جائیں دوسری طرف بھی دو ہو جائیں تو پھر جو پانچواں ہے وہ ان میں کیا کر دیتا ہے؟ اس کے ذریعے پھر فیصلہ ہو جاتا ہے اس لیے شاید اس نقطہ کی وجہ سے طاق عددوں کو ذکر کیا گیا ورنہ ادنى اور اکثر آگے ذکر کر کے بتلا دیا گیا کہ سب صورتیں اس کے اندر داخل ہیں ہر بات کو اللہ جانتے ہیں چاہے اس سے کم ہو مشورہ کرنے والے یا اس سے زیادہ۔
ألم تر ان الله يعلم ما في السماوات وما في الأرض کیا تو نے دیکھا نہیں کہ کیا تو نے دیکھا نہیں کہ اللہ کو معلوم ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین کے اندر ما يكون من نجوى ثلاثة نہیں کوئی تین نہیں ہے کوئی تین کی سرگوشی إلا هو رابعهم مگر یہ کہ وہ ان کا چوتھا ہوتا ہے ولا خمسة اور نہ پانچ کی سرگوشی إلا هو سادسهم مگر یہ کہ وہ ان کا چھٹا ہوتا ہے ولا أدنى من ذلك ولا أكثر اور نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ إلا هو معهم مگر یہ کہ وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے wherever anywhere بھی وہ ہوں ثم ينبئهم بما عملوا يوم القيامة پھر وہ ان کو بتلا دے گا جو انہوں نے عمل کیے قیامت کے دن ان الله بكل شيء عليم یقینا اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔
ألم تر إلى الذين نهوا عن النجوة کیا آپ نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو نهوا عن النجوة جن کو روکا گیا تھا سرگوشی سے۔
نہا کے کیا معنی ہوتے ہیں؟ نہا ینھا کے رکھنے کے، اسی سے نہو آیا بھئی، یہ ماضی کا صیغہ بھئی مجہول کا صیغہ نہیا نھیا نہو۔ ألم تر إلى الذين نهوا عن النجوا کیا آپ نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جو روکے گئے تھے عن النجوا سرگوشی سے ثم يعودون لما نهو عنه پھر وہ لوٹتے ہیں اسی چیز کی طرف نہو عنه جس سے ان کو روکا گیا تھا (یعنی پھر وہی کرتے ہیں ان کو روکا گیا تھا سرگوشی کرنے سے پھر وہ وہی کرتے ہیں جس سے روکا گیا تھا یعنی پھر اسی طرح سرگوشی کرتے ہیں) ويتناجون بالإثم والعدوان ومعصية الرسول اور سرگوشی کرتے ہیں گناہ کی والعدوان اور زیادتی کی ومصية الرسول اور رسول کی نافرمانی کی اور رسول کی نافرمانی کی۔
منافقین کی عادت تھی مسلمانوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قدم قدم پر کسی طرح تکلیف پہنچاتے رہیں کیونکہ دل میں تو کفر تھا صرف ظاہر اسلام لے کر آئے تھے اور ظاہر کے اعتبار سے زبان سے کلمہ پڑھا تھا البتہ دل میں وہی کفر تھا ہر وقت اسی کوشش میں رہتے کہ مسلمانوں کو تکلیف دیں۔
چنانچہ جہاں کہیں کسی مسلمان کو دیکھتے تو دو منافق فوراً آپس میں ایک دوسرے کے کان میں گفتگو کرنے لگتے وہ بیجارہ مسلمان پریشان ہو جاتا غم زدہ ہو جاتا کہ پتہ نہیں میرے اندر انہوں نے ایسی کون سی بات دیکھ لی ہے کہ آپس میں کان میں بات شروع کر دی کیونکہ یہ طبعی بات ہے کہ مجلس کے ایک جگہ پر مثلاً تین افراد موجود ہوں اور دو افراد آپس میں کان میں گفتگو کرنے لگیں تو تیسرے کے دل میں طبعاً یہ بات آتی ہے کہ شاید یہ میرے بارے ہی میں کوئی بات کی جا رہی ہے میرے کسی عیب پر یہ مطلع ہیں اور وہ بیجارہ غم زدہ ہو جاتا ہے بھئی، لہذا اس سے ہمیشہ بچنا چاہیے بھئی ہمیشہ۔ اور منافقین بھی اس طرح تو مسلمانوں کو تکلیف دینے کے لیے اس طرح کرتے تھے، اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالس میں بھی بیٹھے ہوتے تو وہاں پر بھی اسی طرح کسی کی طرف اشارہ وغیرہ کر کے سرگوشیوں میں مصروف ہو گئے اور یا آنکھوں سے اشارہ کیا اور سرگوشی کر رہے ہیں وہ بیجارہ غم زدہ ہو جاتا پریشان ہو جاتا تو اس پر اللہ کی طرف سے اس سے منع کر دیا گیا لیکن وہ پھر بھی باز نہیں آئے اور اسی طرح کرتے رہے اسی کا ذکر اس آیت میں آ رہا ہے۔
ألم تر إلى الذين نهوا عن النجوا کیا تو نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جن کو روکا گیا تھا سرگوشی سے ثم يعودون لما نهو عنه پھر وہ ثم يعودون لما نهو عنه پھر وہ لوٹتے ہیں اسی چیز کی طرف جس سے ان کو روکا گیا تھا یہیوں ترجمہ کر لیں ثم يعودون لما نهو عنه پھر وہی کرتے ہیں جس سے منع کیا گیا تھا ويتناجون بالإثم والعدوان ومعصية الرسول اور وہ سرگوشی کرتے ہیں گناہ کی اور زیادتی کی اور رسول کی نافرمانی کی واذا جاءوك حيوك بما لم يحيك به الله واذا جاءوك اور جس وقت آپ کے پاس آتے ہیں حيوك حیا یحیی تحیۃ کے معنی سلام کرنے کے بھی اور اس کے معنی دعا دینے کے بھی کیونکہ سلام بھی دعا ہی ہے بھئی، سلام کیا ہے؟ دعا ہی ہے۔
تو یہ ذکر آ رہا ہے یہود جو ہے حضور علیہ السلام کے پاس جب آتے تھے تو السلام علیکم کہنے کے بجائے السام علیکم کہتے تھے۔
سلام کے بجائے سام کا لفظ بولتے تھے، کہنا کیا چاہیے تھا؟ السلام علیکم اور کہتے کیا تھے؟ السام علیکم دیکھو بڑا ہلکا سا فرق ہے انسان توجہ نہ کرے تو پتہ بھی نہیں چلتا بھئی۔
لیکن معنوی اعتبار سے کتنا فرق السلام علیکم دعا ہے تو السام علیکم بددعا ہے، سام موت کو کہتے ہیں موت کو بھئی، تو السام علیکم کیا معنی ہوا؟ آپ پر موت ہو، آپ پر ہلاکت پڑے، آپ پر موت پڑے بھئی۔
تو یہود جو ہے وہ اس طرح آ کر سلام کیا کرتے حضور علیہ السلام کو، حضور علیہ السلام کے ان کے جواب میں صرف وعلیکم فرما دیتے بھئی۔
قرآن نے فرما وعلیکم السلام نہیں حضور علیہ السلام بھی کیا فرما دیتے؟ وعلیکم بھئی، بس۔ اور پھر وہ دل میں سوچتے یہود جو تھے کہ ہم نے پیغمبر کو بددعا دی ہے اتنے برے لفظ کہے ہیں ہم پر اللہ کا عذاب کیوں نہیں نازل ہوا؟
معلوم ہوا ہم حق پر ہیں یہ کوئی پیغمبر نہیں ہیں اگر یہ پیغمبر ہوتے تو ہم پر فورا اللہ کی طرف سے عذاب نازل ہو جاتا، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور یہود اس طرح کرتے تھے تو شاید کچھ منافقین بھی اس طرح کرتے ہوں بھئی، کچھ منافقین بھی اسی طرح کرتے ہوں کیونکہ بات چل رہی ہے منافقین کی اور آگے آ رہا ہے واذا جاءوك اور جس وقت یہ لوگ آپ کے پاس آتے ہیں تو شاید یہ کچھ منافقین بھی اس طرح کرتے ہوں یا پھر رب تو یہ ہے کہ یہ صرف یہود ہی اس طرح کرتے تھے منافقین ڈرتے تھے وہ اس طرح کھل کے اس طرح سے آپ کو نہیں کہہ سکتے تھے تو پھر یہ معنی پھر ربط کیا ہے؟ ما قبل میں منافقین کا ذکر اور ساتھ ہی یہود کا ذکر آ گیا، بھئی یہ جو منافقین تھے یہ دراصل انہی یہود میں سے تھے یہ یہودی تھے جو کیا ہو گئے تھے؟ بظاہر مسلمان ہو گئے تھے تو اصل میں یہی یہودی ہی تھے بھئی تو اس اعتبار سے ربط موجود، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
وإذا جاءوك حيوك بما لم يحيك به الله اور جس وقت آپ کے پاس آتے ہیں حیوکا تو آپ کو سلام کہتے ہیں بما ان لفظوں سے لم يحيك کہ سلام نہیں کہا آپ کو بھی اس لفظ سے اللہو اللہ نے کہ ان لفظوں سے اللہ نے آپ کو سلام نہیں کہا۔
ترجمہ سمجھ میں آیا کہ نہیں بھئی؟ حی حیوکا آپ کو سلام کہتے ہیں بما اس اس ان لفظوں سے اس لفظ سے لم يحيك کہ اللہ لم يحيك کہ نہیں کہا آپ کو بھی اس لفظ کے ساتھ سلام، کہ نہیں کہا آپ کو سلام بھی اس لفظ کے ساتھ اللہ کس نے؟ اللہ نے۔
وإذا جاءوك حيوك بما لم يحيك به الله اور جس وقت آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو سلام کہتے ہیں اس لفظ سے کہ آ سلام نہیں کہا آپ کو اللہ نے اس لفظ کے ساتھ ويقولون في أنفسهم اور وہ کہتے ہیں اپنے دلوں میں لولا يعذبنا الله بما نقول کیوں نہیں اللہ ہم کو عذاب دیتا اس بات پر جو ہم کہتے ہیں حسبهم جهنم اللہ فرماتے ہیں ان کے لیے جہنم کافی ہے (یعنی ہم ان کو دنیا میں عذاب نہیں دے رہے تو اس کا یہ معنی نہیں کہ ہمیں ان کی باتوں کا علم نہیں، ان کے لیے جہنم ہی کافی ہے دنیا میں ہم نے ان کو ڈھیل دے رکھا ہے بالاخر انہوں نے لوٹ کر ہمارے پاس آنا ہے جہاں میں ہم ان سے پورا پورا حساب لیں گے) حسبهم جهنم ان کے لیے جہنم کافی ہے يصلونها اسی میں داخل ہوں گے فبئس المصیر پس کتنا برا ٹھکانہ ہے کتنی بری لوٹنے کی جگہ ہے جہنم۔
معنہ سمجھ میں آگیا بھئی؟
ألم تر إلى الذين نهو عن النجوى ثم يعودون لما نهو عنه کیا تو نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جن کو منع کیا گیا سرگوشی سے ثم يعودون لما نهو عنه پھر وہی کرتے ہیں جس سے ان کو روکا گیا تھا ويتناجون بالإثم والعدوان ومعصية الرسول اور سرگوشی کرتے ہیں گناہ کی اور زیادتی کی اور رسول اور رسول کے نافرمانی کی واذا جاءوك حيوك بما لم يحيك به الله اور جس وقت آتے ہیں آپ کے پاس تو سلام کرتے ہیں آپ کو ایسے لفظوں سے کہ اللہ نے آپ کو ایسے لفظوں سے سلام نہیں کہا ويقولون في أنفسهم اور وہ کہتے ہیں اپنے دلوں میں لولا يعذبنا الله بما نقول کہ کیوں نہیں اللہ ہم کو عذاب دیتا اس بات پر جو ہم کہتے ہیں حسبهم جهنم ان کے لیے جہنم کافی ہے يصلونها اسی میں داخل ہوں گے فبئس المصیر پس کتنا برا ٹھکانہ ہے کتنی بری لوٹنے کی جگہ ہے۔
يا أيها الذين آمنوا إذا تناجيتم فلا تتناجوا بالإثم والعدوان ومعصية الرسول
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو، اذا تناجیتم جب تم سرگوشی کرو تو سرگوشی کرو فلا تناجوا بالاسم والعدوان تو تم سرگوشی نہ کرو گناہ کی والعدوانی اور زیادتی کی ومعصیۃ الرسول اور رسول کی نافرمانی کی وتناجوا بالبر والتقوى اور سرگوشی کرو نیکی کی اور تقویٰ کی واتقوا اللہ الذی الیہ تحشرون اور ڈرو اس اللہ سے کہ جس کی طرف تم جمع کیے جاؤ گے۔
واتقوا اللہ الذی اور ڈرو تم اس اللہ سے الیہ تحشرون جس کی طرف تم جمع کیے جاؤ گے۔
یا ایہا الذین امنوا اذا تناجیتم اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اذا تناجیتم جب تم سرگوشی کرو فلا تناجوا بالاسم والعدوان پس تم سرگوشی نہ کرو گناہ کی اور زیادتی کی ومعصیۃ الرسول اور پیغمبر کی نافرمانی کی وتناجوا بالبر والتقوى اور سرگوشی کرو نیکی کی اور تقویٰ کی واتقوا اللہ الذی الیہ تحشرون اور ڈرو اس اللہ سے جس کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے۔
انما النجوی من الشیطان یہ سرگوشی تو شیطان کی طرف سے ہے النجوی الف لام ہے بیعت خارجی متعین سرگوشی مراد ہے کون سی سرگوشی؟ وہ جو پیچھے ذکر ہوئی تھی کہ وہ گناہ زیادتی اور معصیۃ الرسول والی سرگوشی اس کی بات ہو رہی ہے ورنہ تو ما قبل میں نیکی والی سرگوشی کا بھی ذکر آیا اس کی طرف اشارہ نہیں بلکہ وہ گناہ والی سرگوشی اللہ فرما رہے ہیں انما النجوی من الشیطان یہ سرگوشی یعنی یہ جو گناہ والی سرگوشی ہے من الشیطان کس کی طرف سے ہے؟ شیطان کی طرف سے ہے شیطان کے ورغلانے سے ہے لیحزن الذین آمنوا تاکہ غمزدہ کرے ان لوگوں کو جو ایمان لائے یہ سرگوشی شیطان کی طرف سے ہے تاکہ وہ کیا کرے غمزدہ کرے کن کو؟ مومنوں کو ولیس بضارہم شیئا اور نہیں ہے وہ نقصان دینے والا ان کو ان مومنین کو شیطان نہیں ہے ان مومنین کو ضار نقصان دینے والا شیئا کچھ بھی الا باذن اللہ مگر اللہ کی اجازت سے اللہ کے حکم سے یعنی اللہ کے حکم کے بغیر شیطان مومنین کو کوئی نقصان نہیں دے سکتا جب تک اللہ کا ارادہ نہ ہو کوئی نقصان پہنچانے کا شیطان بغیر اللہ کے ارادے کی کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا معنی سمجھ میں آگیا بھئی۔
ان انما النجوا جی وعلی اللہ فلیتوکل المومنوں اور اللہ ہی پر پس چاہیے کہ بھروسہ کریں مومنین۔
اور مومنین کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔
انما النجوا من الشیطان یہ یہ سرگوشی تو شیطان ہی کی طرف سے ہے لیحزن الذین آمنوا تاکہ غم وہ غمزدہ کرے ان لوگوں کو جو ایمان لائے۔
ولیس بضارہم شیئا الا باذن اللہ اور وہ اللہ کی اجازت کے بغیر ان کو کچھ بھی نقصان نہیں دے سکتا۔
ولیس بضارہم شیئا اور وہ ان کو کچھ بھی نقصان نہیں دے سکتا الا باذن اللہ مگر اللہ کے حکم سے وعلی اللہ فلیتوکل المومنوں اور اللہ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں مومنین۔
یا ایہا الذین امنوا اذا قیل لکم تفسحوا فی المجالس اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو جب تم سے کہا جائے تفسحوا فی المجالس تفسح کا معنی گنجائش پیدا کرنا۔
جگہ کھول دینا بھئی۔
مثلاً مجلس میں جگہ تھوڑی ہے لوگ تنگ تنگ بیٹھے ہیں کوئی اور آیا تو مجلس والوں سے کہا جائے کہ کچھ جگہ بنا دو کچھ گنجائش پیدا کرو تو ان کو کیا کرنا چاہیے؟ جگہ بنا دینی چاہیے آنے والوں کے لیے۔
معنی سمجھ میں آیا بھئی تفسح کا کیا معنی جگہ کھلی کرنا گنجائش پیدا کرنا۔
یا ایہا الذین امنوا اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اذا قیل لکم جب تم سے کہا جائے تفسحوا فی المجالس کہ جگہ کھول دو مجلسوں میں جگہ کھول دو مجلس یا یوں ترجمہ کرلیں جب تم سے کہا جائے تفسحوا فی المجالس کہ گنجائش پیدا کرو مجلسوں میں فسحوا تو گنجائش پیدا کر دیا کرو گنجائش بنا لیا کرو یفتح اللہ لكم اللہ تمہارے لیے گنجائش پیدا کردیں گے اللہ تمہارے لیے وسعت پیدا کردیں گے۔
اللہ تمہارے لیے وسعت پیدا کردیں گے۔
واذا قیل انشزو اور جس وقت کہا جائے انشزو اٹھ جاؤ۔
نشوز کا معنی اٹھنا بھئی۔
واذا قیل انشزو اور جب کہا جائے کہ اٹھ جاؤ تم اٹھ جاؤ فنشزو تو تم اٹھ جایا کرو یرفع اللہ الذین آمنوا منکم بلند کرے گا اللہ ان کو جو تم میں سے ایمان لائے والذین اوتوا العلم اور وہ لوگ جن کو علم دیا گیا درجات درجات اللہ ان کو کئی درجے بہت درجے اللہ بلند کر دیں گے۔
معنی سمجھ میں آگیا بھئی واللہ بما تعملون خبیر اور اللہ جو تم عمل کرتے ہو اس سے باخبر ہے۔
یہ درجات یہ یرفع کا مفعول ہے۔
یرفع اللہ درجات اللہ بلند کر دیں گے کیا بلند کر دیں گے درجات درجات۔
یا ایہا الذین امنوا اذا قیل لکم تفسحوا فی المجالس اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں گنجائش پیدا کر دو فسحوا تو گنجائش پیدا کر دیا کرو یفتح اللہ لكم اللہ تمہارے لیے گنجائش پیدا کردیں گے واذا قیل انشزو اور جس وقت کہا جائے کہ اٹھ جاؤ فنشزو تو اٹھ جایا کرو بھئی بعض اوقات جگہ بڑی تنگ ہوتی ہے گنجائش سے بھی نہیں بنتی تو پھر اگر اس وقت مجلس کے بڑے کہہ دیں کہ کسی کو کہہ دیں کہ تم اٹھ جاؤ فلاں فلاں اٹھ جائے اور وہ جگہ بنا دے تو اٹھ کر اس کو اٹھ جانا چاہیے جگہ بنا دینی چاہیے بھئی صورت سمجھ میں آگئی مثلاً بھئی کہیں پر ہیں اب وہاں پر مجلس ہے اور مجلس میں وہ صدر مجلس کے عام لوگ بھی ہیں اور اس کے شاگرد بھی ہیں اب کچھ اور اور لوگ معزز مہمان بھی آ گئے تو وہ اپنے شاگردوں کو کہہ سکتا ہے کہ تم لوگ اٹھ جاؤ یہ اور مہمان آ گئے ہیں تو جو قریبی ہوتے ہیں ان کو اس طرح کہہ دیا جاتا ہے کہ جگہ آنے والوں کے لیے کھول دو تو اس پر کسی بات پر اس پر تکبر یا اس کو اپنی بے عزتی نہیں محسوس کرنا چاہیے کہ انسان یہ کہے کہ کیوں مجھے میری جگہ سے اٹھایا صورت سمجھ میں آگئی بھئی تو یہ آداب مجلس بیان کیے جا رہے ہیں کہ جب صدر مجلس وغیرہ کسی کو کہہ دیں کہ وسعت پیدا کرے تو وسعت پیدا کر دینی چاہیے اور جب کہیں کہ اٹھ جاؤ تو پھر ان کو اٹھ جانا چاہیے اور اس میں کسی قسم کی ہتھک نہیں محسوس کرنی چاہیے بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی ہتھک محسوس کرنا یہ تو تکبر کی علامت ہے بھئی۔
ضرورت تھی تو ضرورت کی بنا پر اپنوں ہی کو قریبی ہی کو کہا جاتا ہے کہ ان کے لیے گنجائش بنا دو۔
واذا قیل انشزو اور جس وقت کہا جائے اٹھ جاؤ فنشزو تو اٹھ جایا کرو یرفع اللہ الذین آمنوا منکم والذین اوتوا العلم درجات بلند کر دیں گے اللہ کیا بلند کر دیں گے درجات درجات اللہ درجے بلند کر دیں گے ان لوگوں کے جو ایمان لائے تم میں سے اور وہ لوگ جن کو علم دیا گیا واللہ بما تعملون خبیر اور اللہ باخبر ہیں جو کچھ تم عمل کرتے ہو یا ایہا الذین امنوا اذا ناجیتم الرسول اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اذا ناجیتم الرسول جب تم سرگوشی کرو رسول سے فقدمو تو آگے بھیجو بین یدی نجواکم اپنی سرگوشی سے پہلے۔
فقدمو تو آگے بھیجو قدم یقدم تقدیم کے کیا معنی ہوتے ہیں آگے کرنا تو آگے کرو بین یدی نجواکم اپنی سرگوشی سے پہلے صدقۃ یہ آگیا مفعول بھئی قدمو کا آگے کیا بھیجو؟ صدقہ بھیجو۔
ترجمہ لفظی ترجمہ سمجھ میں آیا فقدمو آگے بھیجو بین یدی نجواکم اپنی سرگوشی سے پہلے کیا آگے بھیجو صدقۃ صدقہ یہ تو لفظی ترجمہ محاورہ یہ فقدمو بین یدی نجواکم صدقہ تو اپنی سرگوشی سے پہلے صدقہ کر لیا کرو۔
اپنی سرگوشی سے پہلے صدقہ کر لیا کرو۔
ذلک خیر لکم وأطہر یہ تمہارے لیے بہتر ہے اور پاکیزہ ہے فالم تجدو ذلک خیر لکم وأطہر یہ تمہارے لیے بہتر ہے اور زیادہ پاکیزہ ہے فالم تجدو پس اگر تم نہ پاؤ اگر تمہیں یہ میسر نہ ہو کوئی چیز کہ صدقہ کرو کوئی شخص بیچارہ غریب ہے کچھ ہے ہی نہیں اس کے پاس صدقہ کرنے کے لیے تو ان کو اس حکم سے مستثنیٰ کیا جا رہا ہے بھئی فالم تجدو پس اگر تم کو تم نہ پاؤ یعنی کوئی چیز صدقے کے لیے نہ پاؤ فان اللہ غفور رحیم پس یقیناً اللہ بخشنے والے رحم کرنے والے ہیں۔
بھئی یہ منافقین جو ہیں یہ موقع ڈھونڈتے تھے کسی طرح مسلمانوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دیں۔
تو یہ آتے اور لوگوں کے سامنے اپنی اہمیت بتلانے کے لیے حضور علیہ السلام سے سرگوشیاں شروع کر دیتے اب حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو نہایت شفقت فرمانے والے اب کسی کو کہہ بھی نہیں سکتے کوئی بات ہوتی یا نہ ہوتی بس وہ حضور علیہ السلام کے ساتھ الگ ایک طرف ہو کر سرگوشی میں مصروف اور باقی لوگ اب انتظار کر رہے ہیں کب بات ختم ہوگی تو ہم بھی حضور علیہ السلام سے ہمیں بھی بات کرنے کا موقع ملے۔
اسی طرح بعض مسلمان انہیں حضور یہ تو تھے یہ پہلے تو ذکر ہوا منافقین کا یہ تو صرف اپنی اہمیت جتلاتے کے لیے حضور علیہ السلام کا وقت ضائع کرنے کے لیے صحابہ کو تکلیف دینے کے لیے ان کا تو صرف یہ مقصد ہوتا تھا سرگوشی کرنے کا۔
اور جب کہ دوسری طرف کچھ مخلص مسلمان بھی تھے سادہ لوگ تھے صحابہ تو حضور علیہ السلام کوشش ہوتی کہ حضور علیہ السلام کے پاس زیادہ سے زیادہ وقت اور ان کی زیادہ سے زیادہ ہماری طرف توجہ رہے چنانچے وہ بھی بعض اوقات حضور علیہ السلام سے سرگوشی کرتے کسی بات میں مشورہ وغیرہ یا کوئی بات اگرچہ بعض اوقات بات ایسی ضروری نہیں ہوتی تھی لیکن بس حضور علیہ السلام سے شدید محبت تھی تو انہی سے آ کر بات کیا کرتے تھے۔
اس سے بھی حضور علیہ السلام کو بعض اوقات تکلیف ہوتی آپ منع بھی نہیں کر سکتے بات بھی کوئی اتنی خاص نہیں ہے دوسرے لوگ بھی انتظار میں ہیں کہ کب حضور علیہ السلام سے ہمیں بات کرنے کا موقع ملے اور یہ بات لمبی ہی ہوتی جا رہی ہے تو اس پر اللہ کی طرف سے حکم نازل ہوا اور سرگوشی سے روک دیا گیا حضور علیہ السلام سے سرگوشیاں کرنے سے روک دیا گیا۔
تو اس پر جو سرگوشی کرنے والے تھے ان کو حکم دیا گیا کہ حضور علیہ السلام سے سرگوشی کرنی ہو کوئی بات الگ تنہائی میں کرنی ہے تو اس کے لیے پہلے صدقہ دے دیا کریں کیا کر دیا کریں؟ اس سے پہلے صدقہ دے دیا کریں۔
چنانچہ جب یہ حکم نازل ہوا تو اب مسلمان بھی احتیاط کرنے لگے اور منافقین وہ تو رک گئے کہ ہمیں کیا کرنا پڑے گا پہلے صدقہ کرنا پڑے گا اس لیے وہ باز آ گئے اور پھر بڑی جلدی یہ حکم جو ہے اللہ کی طرف سے منسوخ کر دیا گیا اس سے اگلی ہی آیت کے اندر اس کا ذکر آ رہا ہے اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت آتی ہے وہ فرماتے ہیں کہ اس حکم پر صرف میں نے عمل کیا امت میں سے کہ میں نے حضور علیہ السلام سے کسی معاملے میں رازدارانہ مشورہ کرنا تھا تو میں نے پھر ایک دینار صدقہ کیا اور اس کے بعد حضور علیہ السلام سے میں نے مشورہ کیا بھئی تو وہ فرماتے تھے کہ صرف میں نے اس پر عمل کیا ہے تو یہ حکم بڑی تھوڑی مدت کے لیے رہا معلوم ہوا کسی اور کے عمل کرنے کی نوبت نہیں آئی بھئی تھوڑی مدت کے لیے ہوگا جلدی منسوخ ہو گیا ہوگا دوسری آیت جلدی نازل ہو گئی ہوگی اور منسوخ اس لیے کر دیا گیا کیونکہ اس سے جو مقصد تھا وہ حاصل ہو گیا وہ جو منافقین تنگ کرتے تھے وہ رک گئے بھئی رک گئے اور اس کے علاوہ عام مسلمانوں کو بھی علم ہو گیا کہ حضور علیہ السلام کو جو ہے کا وقت بھی قیمتی اور کوئی خاص بات ہو تو آپ سے مشورہ کیا جائے ویسے آپ کا وقت نہ لیا جائے بھئی۔
تو دیکھیے یہاں پر بتلایا گیا کہ سرگوشی سے پہلے صدقہ کر دیا کرو اور جو صدقہ نہیں کر سکتا ان کا استثنا کر دیا گیا وہ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں بھئی وہ جو صدقہ کر ہی نہیں سکتے تو وہ اس حکم ان کے لیے یہ حکم نہیں ہے۔
یا ایہا الذین امنوا اذا ناجیتم الرسول اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو جب تم پیغمبر سے سرگوشی کرو فقدمو بین یدی نجواکم صدقۃ تو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ صدقہ کر لیا کرو ذلک خیر لکم وأطہر یہ تمہارے لیے بہتر ہے اور زیادہ پاکیزہ ہے فالم تجدو پس اگر تم نہ پاؤ فان اللہ غفور رحیم پس یقیناً اللہ بخشنے والے رحم کرنے والے ہیں آ أشفقتم أن تقدمو کیا تم أشفقتم کیا تم ڈر گئے أن تقدمو بين يدي نجواكم صدقات کہ تم آگے کرو اپنی سرگوشی سے پہلے صدقات صدقے کیا تم ڈر گئے اس بات سے کہ تم اپنی سرگوشی سے پہلے کیا کرو؟ صدقات کرو فإذ لم تفعلوا پس جب تم نے نہیں کیا وتاب اللہ علیکم اور اللہ نے تم پر رجوع کیا یعنی اللہ نے تمہاری توبہ قبول کی اللہ نے تم پر معافی فرما دی وتاب اللہ علیکم اللہ نے معافی فرما دی علیکم تم پر فأقیموا الصلاۃ وآتوا الزکاۃ پس نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو وأطیعوا اللہ ورسولہ اور اطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی واللہ خبیر بما تعملون اور اللہ باخبر ہیں جو کچھ تم عمل کرتے ہو۔
تو پہلے یہ حکم دیا گیا تھا کہ صدقہ کرو اور پھر اس کے بعد جلد ہی یہ دوسرا حکم آ گیا اللہ فرما رہے ہیں أشفقتم أن تقدمو بين يدي نجواكم صدقات کیا تم ڈر گئے اس بات سے کہ تم اپنی سرگوشی سے پہلے صدقے صدقات کرو پھر جب تم نے نہیں کیا وتاب اللہ علیکم تو اللہ نے تم پر معافی فرمائی یعنی تم پر عنایت فرمائی پس اب تم نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو واللہ خبیر بما تعملون اور اللہ باخبر ہیں اس سے جو تم عمل کرتے ہو تو اس حکم جو پہلا حکم دیا گیا بڑی جلدی ہی پھر اس کو منسوخ بھی کر دیا گیا۔
سمجھ میں آیا بھئی یہ نہیں کہ یہ آیتیں ساتھ ساتھ ہیں قرآن میں تو آپ کہیں یہ نازل بھی اکٹھی ہوئی نہیں بھئی نہیں پہلے ایک حکم نازل ہوا اور یہ پھر دوسری آیت کچھ وقت کے بعد نازل ہوئی لیکن جلد ہی نازل ہوئی تو اس پر عمل کی نوبت نہیں آئی صرف حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس پر عمل کیا جیسے کہ میں نے بیان کر دیا اور پہلے آیا تھا بھئی فقدمو بين يدي نجواكم صدقۃ مفرد لفظ آیا آگے آیا آ أشفقتم أن تقدمو بين يدي نجواكم صدقات یہاں جمع کا لفظ آیا تو شاید اس میں نکتہ یہ ہے کہ پہلے حکم دیا جا رہا تھا اور اس وقت صدقہ کو مفرد ذکر کیا گیا تاکہ تھوڑا معلوم ہو زیادہ نہ لگے بھئی بھئی زیادہ کثرت کے لفظ کے ساتھ اس کو ذکر کیا جاتا تو بڑی معلوم ہوتی چیز تو جب اس چیز کو چھوٹے لفظ سے ذکر کیا جائے تو وہ معلوم بھی کس طرح ہوتی ہے انسان کو اتنی زیادہ نہیں معلوم ہوتی اور بعد میں چونکہ پھر اسی طرح کثرت کے اعتبار سے اسی طرح صدقات جمع کو ذکر کیا گیا بھئی معنی سمجھ میں آگیا بھئی اچھی طرح آ أشفقتم کیا تم ڈر گئے أن تقدمو بين يدي نجواكم صدقات یہ کہ تم اپنی سرگوشی سے پہلے صدقات کیا کرو فإذ لم تفعلوا پس جب تم نے نہیں کیا وتاب اللہ علیکم اور اللہ نے معافی فرمائی تم پر فأقيموا الصلاة وآتوا الزکاۃ پس نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو وأطيعوا الله ورسولہ اور اطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی واللہ خبیر بما تعملون اور اللہ باخبر ہیں اس سے جو تم عمل کرتے ہو چلیے بس بھئی ھذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الكلام