Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-110

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 12 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ بالله من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم إذا وقعت الواقعة ليس لوقعتها كاذبة خافضة رافعة إذا رجت الأرض رجا وبست الجبال بسا فكانت هباء منبثا وكنتم أزواجا ثلاثة یہ سورہ واقعہ ہے بھئی إذا وقعت الواقعة جب واقع ہوگی واقع ہونے والی جب واقع ہوگی واقع ہونے والی یا یوں ترجمہ کر لیجیے واقعہ جو ہے نام ہے قیامت کا تو إذا وقعت الواقعة جب قیامت واقع ہوگی یا با محاورہ ترجمہ یوں کر لیجیے إذا وقعت الواقعة جب ہونے والی ہو پڑے گی ليس لوقعتها كاذبة نہیں ہے نہیں ہوگا اس کے واقع ہونے کے لیے کاذبۃ کوئی جھٹلانے والا اس کے واقع ہونے کو کوئی جھٹلانے والا نہیں ہوگا إذا وقعت الواقعة ليس لوقعتها كاذبة جب ہونے والی ہو پڑے گی تو اس کو کوئی جھٹلانے والا نہیں ہوگا اس وقت تو دنیا میں لوگ جھٹلاتے ہیں لیکن جب قیامت واقع ہو جائے گی پھر جب اس کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو اس وقت کوئی جھٹلانے والا نہیں ہوگا إذا وقعت الواقعة ليس لوقعتها كاذبة جس وقت ہونے والی ہو پڑے گی تو اس کے ہونے اس کے ہونے کو کوئی جھٹلانے والا نہیں ہوگا خافضة رافعة خافضۃ پست کر دینے والی ہوگی جھکا دینے والی ہوگی رافعۃ بلند کرنے والی ہوگی قیامت کچھ لوگوں کو جھکا دے گی جو جابر اور متکبرین ہیں اور کفار ہیں ان کو ذلیل کر دے گی جھکا دے گی پست کر دے گی جہنم میں بھئی اور جو مومنین ہیں ان کو رافعۃ بلند کرنے والی ہے جنت میں بھئی خافضۃ رافعۃ جھکانے والی ہے بلند کرنے والی ہے إذا رجت الأرض رجا رجا یا رجوع کے معنے ہلانے کے حرکت دینے کے جھنجھوڑنے کے إذا رجت الأرض رجا جب زمین کو جھنجھوڑا جائے گا جب زمین کو ہلایا جائے گا رجا یہ مفعول مطلق ہے بھئی مفعول مطلق کسے کہتے ہیں وہ مصدر جو ما قبل فعل کے معنی میں ہوتا ہے ضربت ضربا وبست الجبال بسا بست یا بس کے معنے ہوتے ہیں ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے وبست الجبال بسا اور ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے پہاڑ إذا رجت الأرض رجا وبست الجبال بسا جس وقت زمین کو ہلایا جائے گا یا یوں ترجمہ کریں جس وقت زمین پر زلزلہ برپا کر دیا جائے گا اور پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا فكانت هباء منبثا ھباء کہتے ہیں غبار کو بھئی غبار باریک گرد جو ہے باریک گرد غبار منبثتم کا معنی ہے بکھرا ہوا پراگندہ منتشر بھئی منبثتم کا کیا معنی ہے؟ پراگندہ منتشر بکھرا ہوا بھئی فكانت هباء منبثا تو وہ بکھرا ہوا غبار ہو جائیں گے جب پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا تو وہ بکھرا ہوا غبار بن جائیں گے ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ جب پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا تو وہ بکھرا ہوا غبار ہو جائیں گے بکھرا ہوا غبار بن جائیں گے وكنتم أزواجا ثلاثة اور تم تین گروہ ہو جاؤ گے تو کانا بمانی صار کا ہے بھئی فكانت هباء منبثا یہاں بھی کانا کس معنی میں ہے؟ صار کے معنی میں اور وكنتم یہاں بھی کانا کس معنی میں صار کے وكنتم أزواجا ثلاثة اور تم تین قسم کے ہو جاؤ گے أزواج جمع ہے زوج کی اور زوج کا ایک معنی قسم کے بھی آتے ہیں پہلے بیان ہو چکا بھئی يا کانا کو اپنے ہی معنی میں رکھیں وبست الجبال بسا اور پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے فكانت هباء منبثا تو وہ بکھرا ہوا غبار ہوں گے وكنتم أزواجا ثلاثة اور تم تین گروہ تم تین قسم کے ہوگے فرق سمجھ میں آیا بھئی؟ ایک میں ترجمہ کیا تین قسم کے ہو جاؤ گے اور ایک ہے تین قسم کے ہو گے فأصحاب الميمنة میمنہ کہتے ہیں دائیں طرف کو یہ یمین سے ہے یمین سے فأصحاب الميمنة پس دائیں طرف والے دائیں جانب والے ما أصحاب الميمنة یہاں آگے یہ بیان ہوگا قیامت کے دن لوگ تین قسم کے ہوں گے بھئی کچھ تو مقربین ہیں جن کو اللہ کا خاص قرب حاصل ہوگا اپنی بے انتہا نیکیوں کی وجہ سے اللہ نے ان کو خاص مقام نصیب کیا ہوگا وہ مقربین ہیں اور ایک عام مومنین ہیں وہ دائیں طرف والے ہیں جو عرش کے دائیں طرف ہوں گے اور وہ نامہ اعمال ان کو دائیں ہاتھوں میں دیا جائے گا اور فرشتے ان کے پاس دائیں طرف سے آئیں گے اور جو کفار ہیں وہ بائیں جانب والے کے جن کو نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور فرشتے ان کے پاس بائیں طرف سے آئیں گے فأصحاب الميمنة ما أصحاب الميمنة پس داہنی طرف والے ما أصحاب الميمنة داہنی طرف والے کیا ہیں؟ وأصحاب المشأمة اور بائیں جانب والے ما أصحاب المشأمة بائیں جانب والے کیا ہیں؟ بائیں جانب والے کون ہیں؟ والسابقون السابقون اور سبقت لے جانے والے تو سبقت لے جانے والے ہیں والسابقون السابقون یہ وہ مقربین کا ذکر آیا بھئی تیسرا گروہ والسابقون السابقون اور سبقت لے جانے والے سبقت لے جانے والے ہی ہیں والسابقون السابقون اور سبقت لے جانے والے تو سبقت لے جانے والے ہی ہیں أولئك المقربون یہی لوگ مقربین ہیں في جنات النعيم نعمتوں والی جنت میں ہوں گے ثلة من الأولين وقليل من الآخرين صلۃ کہتے ہیں بڑی جماعت کو بھئی ثلة من الأولين بڑی جماعت ہوگی پہلے لوگوں میں سے وقليل من الآخرين اور تھوڑے سے ہوں گے بعد والوں میں سے ایک بڑی جماعت ہوگی پہلے لوگوں میں سے اور تھوڑے سے ہوں گے بعد والوں میں سے پیچھے والوں میں سے مقربین کے بارے میں بتلایا گیا سابقون کے بارے میں کہ پہلے لوگوں میں سے بڑی جماعت ہوگی اور پچھلے لوگوں میں یعنی بعد والوں میں ایک چھوٹی جماعت تھوڑے لوگ ہوں گے اب اس سے کیا مراد ہے؟ بعض مفسرین اس طرف گئے کہ پہلے لوگوں سے مراد گزشتہ انبیاء اور ان کے صحابہ وغیرہ مراد ہیں اور اولیاء اور پچھلے لوگوں سے اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہے بعض مفسرین اس طرف گئے یعنی مقربین کے اندر زیادہ تر زیادہ تر پچھلی امتوں کے لوگ ہوں گے اور کم ہوں گے اس امت کے لوگ بھئی کیوں پچھلی امتوں کے لوگ زیادہ کیوں ہوں گے اور اس امت والے کم کیوں ہوں گے تو کہتے ہیں وجہ یہ کہ باقی سارے انبیاء مل گئے تو تعداد بہت بڑھ گئی اور پھر ہر ایک کے صحابہ اور اولیاء تو ان کی تعداد زیادہ ہے جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو ایک پیغمبر ہیں تو ان کے صحابہ کی تعداد ان کے مقابلے میں کم ہے اور اولیاء کی یہ بعض مفسرین اس طرف گئے لیکن راجح تفسیر یہی ہے کہ اس سے اسی امت کے لوگ مراد ہیں بھئی اسی امت کے لوگ مراد ہیں اسی امت میں جو پہلے لوگ ہیں یعنی صحابہ اور حضور علیہ السلام کے زمانے کے جو قریب لوگ ہیں ان میں مقربین زیادہ ہوں گے اور جو دور کے زمانے والے ہیں ان میں سے تو کم ہوں گے کچھ لوگ ہوں گے تھوڑے ہوں گے یعنی ان کے مقابلے میں تھوڑے ہوں گے معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو معلوم ہوا دوسری تفسیر جو راجح ہے اس کے مطابق یہ ثلة من الأولين یہ بھی اسی امت والے مراد ہیں اور قليل من الآخرين بھی اسی امت والے مراد ہیں بھئی اسی امت والے کہتے ہیں قیامت کے دن مومنین کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی ایک سو بیس صفیں اور اس میں سے اسی صفیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی ہوں گی جبکہ باقی تمام انبیاء کے ماننے والے جو ہیں ان کی چالیس صفیں ہوں گی بھئی ثلة من الأولين وقليل من الآخرين ایک بڑی جماعت ہوگی پہلے لوگوں میں سے اور تھوڑے سے ہوں گے پچھلے لوگوں میں سے على سرور موضونة سرور جمع ہے سریر کی تخت کو کہتے ہیں موضونۃ موضونۃ جن کو سونے کی تاروں سے بنا گیا ہو وہ تخت جن کو کس سے بنا گیا ہو؟ سونے کی تاروں سے بنا گیا ہو اور ہیرے جواہرات اس پر جڑے ہوں بھئی تو یوں کہیں جڑاؤ تخت بھئی جس پر ہیرو ہیرے جواہرات لگے ہوں سونے کی تاروں سے بنا گیا ہو على سرور موضونة وہ جڑاؤ تختوں پر ہوں گے متكئين عليها متقابلين تکیہ اس حال میں کہ تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے ان پر متقابلين آمنے سامنے ہوں گے یعنی اس ترتیب پر تخت لگے ہوں گے کہ کسی کی بھی کسی کی طرف پشت نہیں ہوگی آمنے سامنے ہوں گے بھئی متكئين عليها متقابلين تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے ان تختوں پر متقابلين آمنے سامنے ہوں گے يطوف عليهم ولدان مخلدون يطوف عليهم ان پر چکر لگائیں گے ولدان مخلدون ولدان لڑکے مخلدون ہمیشہ رہنے والے خلود سے ہے خلود سے ہمیشہ رہنے والے لڑکے ان پر چکر لگائیں گے یعنی وہ جو خادم ہیں وہ وہ ہمیشہ اسی حالت میں رہیں گے بھئی یہ نہیں کہ پھر بڑے ہو جائیں بلکہ اسی طرح رہیں گے ہمیشہ يطوف عليهم ولدان مخلدون چکر لگائیں گے ان پر ہمیشہ رہنے والے لڑکے بأكواب وأباريق أکواب جمع ہے کوب کی اور کوب کسے کہتے ہیں یہ پہلے بیان ہو چکا بغیر دستے کا جو پیالہ گلاس وغیرہ ہے اس کو کوب کہتے ہیں اور اباریق جمع ہے ابریق کی ابریق وہ جو دستے والا ہے دستے والا برتن جیسے جیسے کوزہ ہے جیسے چینک ہے جیسے جگ ہے جس کا دستہ ہوتا ہے وكأس من معين کاس کہتے ہیں شراب کا جام بھئی اور یہ میں پہلے بیان کر چکا کہ کاس شراب کے جام کو اسی وقت کہا جاتا ہے جب وہ لباب بھرا ہوا ہو بھئی معین بھئی معین معین کا معنی صاف بھئی صاف صاف ستھری اور اسی طرح معین کا معنی ہے بہنے والی معین کا کیا معنی؟ بہنے والی جی تو ترجمہ یوں ہوگا يطوف عليهم ولدان مخلدون بأكواب وأباريق وكأس من معين اور چکر لگائیں گے ان پر ہمیشہ رہنے والے لڑکے گلاس اور صراحی اور شراب صاف شراب کے بھرے ہوئے جام لے کر معنا سمجھ میں آ گیا بھئی؟ کہ چکر لگائیں گے ان پر وہ ہمیشہ رہنے والے لڑکے یعنی وہ جو ان کے خادم ہوں گے किस چیز کے ساتھ کیا چیز لے کر چکر لگائیں گے اکواب وہ پیالے یا وہ گلاس اور وہ جگ یا وہ صراحی جو ہے دستے والی گلاس اور دستے والی صراحیاں اور صاف شراب کے بھرے ہوئے جام یہ لے کر ان پر چکر لگائیں گے بأكواب وأباريق وكأس من معين گلاس اور صراحیاں اور شراب صاف شراب کے بھرے ہوئے جام لے کر لا يصدعون عنها ولا ينزفون صدع صداع سے ہے صداع سر درد کو کہتے ہیں بھئی سر درد کو لا يصدعون اس سے ان کو سر درد نہیں ہوگی لا يصدعون عنها وہ ان کے انہیں سر درد نہیں ہوگی عنها اس شراب سے ولا ينزفون اور نہ ان کے ہوش اڑیں گے اور نہ ان کے ہوش اڑیں گے دُنیاوی شراب جو ہے، اس میں کئی خرابیاں بھئی۔ کہتے ہیں اس کا ذائقہ بڑا کڑوا ہوتا ہے۔ اس کے پینے کے بعد انسان کو قے آتی ہے، الٹی آتی ہے۔ اس کی وجہ سے انسان نشہ انسان کو چڑھتا ہے، اسے اپنا ہوش نہیں رہتا، اور اس کی وجہ سے سر درد ہوتا ہے۔ تو جنت کی شراب میں ان میں سے کوئی خرابی نہیں ہوگی۔ لا یصدعون عنہا ولا ینزفون، نہ تو اس سے ان کے سر میں درد ہوگی، نہ تو اس سے سر درد ہوگا، ولا ینزفون، اور نہ اس سے وہ مدہوش ہوں گے۔ و فا کہۃ مما یت خیرون۔ و فا کہۃ اس کا عطف ہے اقواب پر۔ وہ لڑکے، وہ جو خادم ہیں، کیا لے کر گھومیں گے؟ و فا کہۃ اور پھل لے کر، مما اس قسم میں سے، یت خیرون جس کو وہ پسند کریں گے۔ اُس قسم کے پھل لے کر ان پر وہ لڑکے چکر لگائیں گے، جسے وہ پسند کریں گے۔ و لحم طیر، اور پرندوں کا گوشت، مما یشت هون، اس قسم میں سے، یشت هون جس کو ان کے جی چاہیں گے۔ و فا کہۃ مما یت خیرون و لحم طیر مما یشت هون اور پھل لے کر اس قسم کے جنہیں وہ پسند کریں گے، اور پرندوں کا گوشت لے کر اس قسم کو جس کے ان کو، جس کو ان کے جی چاہیں گے۔ و حور عین، اور ان کے لیے حوریں ہوں گی۔ حور حوراء کی جمع، اور عین عینہ کی جمع۔ حوراء کسے کہتے ہیں؟ وہ عورت جس کی آنکھوں کی سفیدی خوب سفید اور سیاہی خوب سیاہ ہو۔ اور عین، اور عین عینہ کی جمع، عینہ وہ عورت جس کی آنکھیں بڑی بڑی ہوں بھئی۔ و حور عین، اور بڑی آنکھوں والی حوریں ہوں گی، ک امثال اللؤلؤ المکنون، لؤلؤ موتی بھئی، مکنون چھپائے ہوئے، ک امثال اللؤلؤ المکنون، چھپائے ہوئے موتیوں کی طرح، چھپائے ہوئے موتیوں۔ ان کے لیے بڑی، بڑی آنکھوں والی حوریں ہوں گی، جیسے چھپائے ہوئے موتی بھئی، جیسے چھپائے ہوئے موتی۔ جیسے موتی چھپا کر جو رکھا گیا ہو، اس پر ذرہ برابر گرد وغیرہ نہیں ہوتی، خوبصورت اور صاف ستھرا ہوتا ہے، اسی طرح وہ حوریں ہوں گی۔ جزا بما کانوا یعملون، بطور جزا کے، جو وہ عمل کیا کرتے تھے۔ لا یسمعون فیھا لغوا و لا تاثیما، نہیں سنیں گے فیھا اس جنت میں، لغوا بیہودہ باتیں، و لا تاثیما، اور نہ گناہ میں ڈالنے والی باتیں، لا یسمعون فیھا لغوا و لا تاثیما، نہ تو اس میں بیہودہ باتیں سنیں گے، اور نہ گناہ میں ڈالنے والی باتیں، الا قیلا سلاما سلاما۔ مگر یہ بات کہ سلام ہے، سلام ہے، یعنی ہر طرف سے سلام ہی سنیں گے۔ حوروں کے پاس آئیں گے تو سلام سنیں گے، خادم گزریں گے تو سلام کریں گے، فرشتے آئیں گے تو سلام کریں گے، اور سب سے بڑھ کر رب العالمین کی طرف سے سلام ہوگا۔ الا قیلا سلاما سلاما۔ تو نہ اس میں کوئی گناہ بیہودہ بات سنیں گے، اور نہ گناہ کی بات، مگر یہ بات کہ سلام ہے، سلام ہے، یا یوں ترجمہ کر رہے ہیں: الا قیلا سلاما سلاما۔ مگر سلام ہی سلام کی بات ہوگی، سلام ہی سلام کی بات سنیں گے۔ و اصحاب الیمین، اور داہنی طرف والے، یہ تو پہلے بیان ہوا بھئی سابقون کا یعنی مقربین کا، اب عام مومنین بھئی۔ و اصحاب الیمین، اور داہنی جانب والے، ما اصحاب الیمین؟ کیا ہیں دائیں جانب والے؟ تو یہ جو استفہام ہے، یہ ان کی عظمت بتلانے کے لیے بھئی، عظمت کے طور پر۔ تو لہذا بعض نے اس کا بامحاورہ یہ ترجمہ کیا: و اصحاب الیمین ما اصحاب الیمین، اور داہنی جانب والے، تو کیا کہنے تو کیا کہنے داہنی جانب والوں کے؟ تو کیا کہنے داہنی جانب والوں کے؟ فی سدر مخضود، سدر کہتے ہیں بیری کو، مخضود جس کے کانٹے دور کیے گئے ہوں، کانٹے ختم کیے گئے ہوں، فی سدر مخضود، بغیر کانٹوں کی بیری میں، بغیر کانٹوں کی بیریوں میں ہوں گے۔ مخضود کا کیا معنی؟ جس کے کانٹے دور کیے گئے ہوں، ختم کیے گئے ہوں۔ حدیث میں آتا ہے، ایک دیہاتی نے آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں کہ جنت میں بیری ہوگی، بیری میں تو کانٹے ہوتے ہیں، تو کوئی اتنی نفع کی چیز نہیں ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ کیا اللہ نے یہ نہیں ذکر فرمایا ساتھ مخضود کہ وہ بغیر کانٹوں کے ہوں گی۔ ان کے کانٹے دور کرکے ان کی ہر کانٹے کی جگہ پھل لگا دیے جائیں گے ان پر، اور ایک ایک پھل کے اندر 72، 72 قسم کے ذائقے ہوں گے۔ اور ان میں سے کوئی ایک ذائقہ بھی دوسرے ذائقے کے ساتھ ملتا جلتا نہیں ہوگا بھئی۔ تو جنت کی جو نعمتیں ہیں، یہ جو دنیاوی چیزوں کے ساتھ نام کی مشابہت آپ دیکھتے ہیں، جیسے یہاں دنیا میں ایک بیری ہوتی ہے، تو جنت میں بھی بیری کا لفظ ذکر کر دیا گیا، وہاں بھی بیری ہوگی، تو اس کو دنیاوی درختوں یا ان چیزوں پر قیاس نہیں کیا جا سکتا بھئی، یہ صرف سمجھانے کے لیے ہے بھئی۔ فی سدر مخضود، بغیر کانٹوں کی بیری میں ہوں گے، و طلح منضود، طلح کہتے ہیں کیلے بھئی۔ طلح، کیلے۔ منضود، تہ بہ تہ لگے ہوئے، خوب زیادہ بھئی، لدے ہوئے، و طلح منضود، اور تہ بہ تہ لگے ہوئے کیلوں میں ہوں گے۔ و ظل ممدود، ظل سائے کو کہتے ہیں، ممدود لمبا کیا ہوا، و ظل ممدود، اور لمبے سائے میں ہوں گے۔ جنتی کس میں ہوں گے؟ لمبے سائے میں ہوں گے۔ اتنے لمبے سائے، اتنے بڑے سائے، کہ ایک سوار، تیز رفتار سواری پر سوار ہو کر، سو سال تک اس کو دوڑاتا رہے تو اس کے سائے میں سے نہ نکل سکے بھئی۔ جی، تو و ظل ممدود، اور وہ کس میں ہوں گے دائیں ہاتھ والے؟ لمبے سایوں میں ہوں گے۔ بعض علماء نے اس کا بامحاورہ بڑا پیارا ترجمہ کیا: و ظل ممدود، اور دور تک پھیلے ہوئے سائے میں ہوں گے۔ سمجھ میں آیا ممدود کا معنی ہے نا لمبے، تو اس کا کیا معنی کر دیا؟ دور تک پھیلے ہوئے، و ظل ممدود، اور دور تک پھیلے ہوئے سائے میں ہوں گے۔ و ماء مسکوب، مسکوب بہایا ہوا، جس کو بہایا جائے زمین پر، و ماء مسکوب، اور بہائے ہوئے پانی میں ہوں گے، یعنی بہتے پانی میں ہوں گے۔ کس کے اندر ہوں گے وہ اصحاب یمین؟ بہتے پانی میں ہوں گے۔ و فا کہۃ کثیرۃ، اور ایسے پھلوں میں، کثیرۃ جو کثیر ہوں گے، بہت زیادہ ہوں گے۔ تو اصحاب یمین جو ہیں، ایسی بیریوں میں ہوں گے جو بغیر کانٹوں کی ہوں گی، ایسے کیلے جو تہ بہ تہ ہوں گے، ان میں ہوں گے اور لمبے سایوں میں، اور بہتے پانی میں، و فا کہۃ کثیرۃ، اور بکثرت پھلوں میں ہوں گے۔ یا یوں ترجمہ کر لیں: و فا کہۃ کثیرۃ، اور ڈھیروں پھلوں کے میں ہوں گے۔ لا مقطوعۃ و لا ممنوعہ۔ وہ ختم نہیں ہوں گے، مقطوع، ختم کیے ہوئے، یعنی منقطع ہونے والے۔ وہ پھل ایسے ہوں گے جو کبھی ختم نہیں ہوں گے بھئی، دنیا کے پھل، وہ تو خاص موسم کے اندر پھل ہوتا ہے، موسم گزرتا ہے تو ختم ہو جاتا ہے۔ جنت کے پھل ایسے نہیں ہوں گے کہ ختم ہو جائیں۔ ولا ممنوعۃ، اور دنیا کے پھل، ان سے تو لوگ روکتے ہیں، روک ٹوک کرتے ہیں، نہیں توڑنے دیتے اپنے پھلوں کو، جہاں، جنت کے اندر بھئی، کوئی روک ٹوک نہیں ہوگی۔ لا مقطوعۃ و لا ممنوعۃ، نہ تو وہ ختم ہونے والے ہوں گے اور نہ روک ٹوک ہوگی ان سے۔ و فرش مرفوعۃ، اور بلند بچھونوں میں ہوں گے۔ و فرش مرفوعۃ، فرش بچھونے، مرفوعہ، بلند، اور بلند بچھونوں میں ہوں گے۔ اور دائیں ہاتھ والے جو ہیں بے کانٹوں کی بیریوں میں ہوں گے اور تہ بہ تہ کیلوں میں، اور دور تک پھیلے ہوئے سایوں میں، اور بہتے پانی میں، اور ڈھیروں پھلوں میں، ہوں گے جو، لا مقطوعۃ و لا ممنوعہ، جو جن، جو نہ تو ختم ہوں گے اور نہ ان سے روک ٹوک ہوگی، و فرش مرفوعۃ، اور اونچے بچھونوں میں ہوں گے۔ انا انشاھنہ انشا، بے شک ہم نے ان کو پیدا کیا ہے، انشاء ان پیدا کرنا۔ بے شک ہم نے ان حوروں کو پیدا کیا ہے، یعنی خاص، انشا ان پیدا کرنا، یعنی خاص طرز پر، خاص طور پر پیدا کرنا۔ ہم نے ان کو ایک خاص طور پر پیدا کیا ہے۔ یہی معنی: انا انشاھنہ انشاء، ہم نے ان کو پیدا کیا ہے، ان کی پیدائش ولادت کے ذریعے نہیں ہوئی۔ ہم نے ان کو کیا کیا ہے؟ پیدا کیا ہے، فجعلناھنہ ابکارا، پس ہم نے بنایا ان کو باکرہ۔ ابکار جمع ہے باکرہ کی بھئی۔ ہم نے ان کو کیا بنایا؟ باکرہ بنایا، کنواریاں بنایا۔ کہتے ہیں حوریں، جو جنتی حوریں ہیں اور اسی طرح جو دنیا میں انسان کی بیوی ہو، مومنہ ہو، تو ان کو دنیاوی عورتوں کو ان حوروں سے بھی بڑھ کر اللہ حسن و جمال نصیب فرما دیں گے، جو ایمان والیاں ہیں۔ اور یہ جو ہیں، اللہ فرما رہے ہیں ہم نے ان کو کنواریاں بنایا بھئی، کہ یہ کنواری ہوں۔ کہ دنیا کی عورت جو ہے، کنواری ہے، ایک مرتبہ کنوارپن ختم ہوتا ہے، پھر نہیں آ سکتا۔ لیکن یہ جنت عورتیں ایسی ہوں گی، کہ ان کے خاوند جب بھی ان کے پاس آئیں گے، ان کو کنوارا ہی پائیں گے بھئی، تو ان کا کنوارپن کبھی ختم نہیں ہوگا۔ فجعلناھنہ ابکارا، پس ہم نے ان کو کنواریاں بنایا، عربا اترابا۔ عرب جمع ہے عروب کی۔ عروب وہ بیوی جو خاوند کو بڑی محبوب ہو، جس سے خاوند کو بڑی محبت ہو، اسے کیا کہتے ہیں؟ عروب کہتے ہیں۔ تو وہ عروب ہوں گی یعنی خاوندوں کو بڑی محبوب ہوں گی۔ اترابا، اتراب جمع ہے ترب کی، اور ترب کہ ہم عمر کو بھئی۔ ہم عمر کو۔ تو اترابا، ہم عمر ہوں گی، یا تو اس کا یہ معنی، کہ وہ آپس میں ہم عمر ہوں گی، وہ جو حوریں اور بیویاں ہوں گی، وہ کیا ہوں گی آپس میں؟ ہم عمر ہوں گی۔ یا یہ معنی، کہ وہ خاوندوں کی ہم عمر ہوں گی بھئی، اور جنتی جو ہے، جنت میں روایات میں آتا ہے، کہ اس کے، یہ جو بدن پر بال ہیں، یہ نہیں ہوں گے، ختم ہو جائیں گے بھئی۔ اور 33 سال، 30 یا 33 سال کی عمر ہوگی جنتی کی، جس حالت میں ان کو اللہ پیدا کریں گے، اور ہمیشہ پھر اسی حالت پر رہیں گے۔ کیونکہ یہ جوانی کی پختگی کا زمانہ ہے، 33 سال کی عمر۔ اور 60 ہاتھ، 60 ذراع ان کا قد ہوگا بھئی۔ اور داڑھی نہیں ہوگی بھئی، اور ہمیشہ اسی طرح جوان رہیں گے۔ جی۔ عربا اترابا، خاوندوں کو محبوب ہوں گی، ہم عمر ہوں گی، لاصحاب الیمین، کس کے لیے؟ دائیں ہاتھ، دائیں جانب والوں کے لیے۔ ثلۃ من الاولین و ثلۃ من الاخرین، ایک بڑی جماعت ہے پہلے لوگوں میں سے، اور ایک بڑی جماعت ہے پچھلوں میں سے، یعنی بعد والوں میں سے۔ بھئی مقربین کے اندر تو پہلے لوگوں میں سے بڑی جماعت ہوگی اور بعد والوں میں سے تھوڑے ہوں گے۔ جب کہ اصحاب یمین کے اندر پہلے لوگوں میں سے بھی بڑی جماعت ہوگی اور پچھلے لوگوں میں سے بھی ایک بڑی جماعت ہوگی۔ و اصحاب الشمال ما اصحاب الشمال، اور بائیں جانب والے، ما اصحاب الشمال، بائیں جانب والے کیا ہیں؟ فی سموم و حمیم۔ سموم یہ لفظ پہلے بھی گزر چکا ہے، تپتی ہوئی ہوا، تپتی ہوئی لو، خوب گرم ہوا، فی سموم و حمیم، تپتی ہوئی لو اور کھولتے ہوئے پانی میں ہوں گے۔ و ظل یحموم، اور ظل، سایہ بھئی، یحموم، خوب کالا سیاہ دھواں۔ یحموم کسے کہتے ہیں؟ کالا سیاہ دھواں۔ اور وہ جو، ا، بائیں ہاتھ والے ہیں، وہ تپتی ہوئی، تپتی ہوئی لو اور کھولتے ہوئے پانی میں، اور کالے سیاہ دھوئیں کے سائے میں ہوں گے۔ کالا سیاہ دھواں بھئی، جو ا، اس جہنم کی آگ کا ہوگا۔ لا بارد و لا کریم۔ نہ تو ٹھنڈا ہوگا ولا کریم اور نہ عزت والا ہوگا۔ وہ کس میں ہوں گے؟ کالے، سیاہ دھوئیں کے سائیوں میں ہوں گے، جہنمی بھئی۔ خوب سیاہ دھواں اگر آپ نے کبھی دیکھا ہو۔ کہیں آگ لگ جائے اور بڑا سیاہ دھواں ہوتا ہے کہ انسان دیکھ کر ڈر جاتا ہے۔ تو یہ تو دنیا کے سیاہ دھوئیں کا حال ہے، جہنم کے دھوئیں کا کیا حال ہوگا؟ انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔ تو اللہ فرما رہے ہیں وہ کالے سیاہ دھوئیں میں، کے سائیوں میں ہوں گے، جو نہ تو ٹھنڈا ہوگا اور نہ عزت والا ہوگا۔ سائے میں تو انسان کس لیے آتا ہے؟ تاکہ کچھ ٹھنڈک اسے حاصل ہو، لیکن وہ آگ، سیاہ دھواں، اس میں کوئی ٹھنڈک نہیں ہوگی، نہ عزت والا ہوگا۔ إنهم كانوا قبل ذلك مترفين. مترف کہتے ہیں خوش حال آدمی کو۔ خوش حال آدمی، مالدار آدمی بھئی۔ إنهم كانوا قبل ذلك مترفين۔ بے شک یہ لوگ اس سے پہلے خوش حال لوگ تھے۔ یہ یہ کیا تھے اس سے پہلے؟ خوش حال لوگ تھے، دنیا کے اندر بڑے عیش و آرام میں یہ رہا کرتے تھے، وكانوا يصرون على الحنس العظيم۔ اور یہ اصرار کیا کرتے تھے۔ یہ کیا کرتے تھے؟ اصرار کرتے تھے، یعنی جمے رہتے تھے علی الحنس العظيم۔ حنس گناہ بھئی۔ بڑے گناہ پر۔ یہ اصرار کیا کرتے تھے بڑے گناہ پر، یعنی جمے رہتے تھے بڑے گناہ پر۔ اور بڑے گناہ سے کیا مراد ہے؟ شرک مراد ہے کیونکہ شرک سب سے بڑا گناہ ہے۔ تو اللہ فرماتے ہیں یہ دنیا کے اندر جو ہیں، خوش حال لوگ تھے اور یہ بڑے گناہ پر جمے رہتے تھے، اس پر اصرار کرتے تھے، وكانوا يقولون۔ اور یہ کہا کرتے تھے، أإذا متنا کیا جب ہم مر جائیں گے؟ وكنَّا تراباً وعظاماً اور ہم مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے، أإنَّا لمبعوثون تو کیا ہم البتہ دوبارہ زندہ کیے جائیں گے؟ أو آبائنا الأولون کیا ہمارے پہلے باپ دادا بھی؟ قل إن الأولين والآخرين لمجموعون اے پیغمبر! آپ کہہ دیجیے کہ یقیناً پہلے سب پہلے، والآخرين تمام پہلے اور تمام پچھلے لمجموعون البتہ جمع کیے جائیں گے۔ اے پیغمبر! آپ کہہ دیجیے کہ تمام پچھ پہلے لوگ اور تمام بعد والے لوگ لمجموعون البتہ جمع کیے جائیں گے إلى ميقات يوم معلوم۔ میقات کہتے ہیں وقت مقررہ۔ یوم معلوم ایک معلوم دن، متعین دن۔ کہ وہ سب جمع کیے جائیں گے إلى ميقات يوم معلوم ایک متعین دن کے طے شدہ وقت پر۔ ایک متعین دن کے طے شدہ وقت پر، مقررہ وقت پر یہ تمام پہلے اور تمام پچھلے لوگ جمع کیے جائیں گے۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ ثم إنكم أيها الضالون المكذبون۔ پھر یقیناً تم اے گمراہو! جھٹلانے والو! اللہ گمراہوں اور جھٹلانے والوں کو خطاب فرما رہے ہیں۔ ثم إنكم أيها الضالون المكذبون۔ پھر یقیناً تم اے گمراہو! جھٹلانے والو! لآكلون من شجر من زقوم۔ البتہ کھانے والے ہو گے من شجر من زقوم زقوم کے درخت کو۔ تم کس کو کھانے والے ہوگے؟ اللہ فرما، انہوں نے کہا تھا نا کیا ہم یہ جب مٹی ہڈیاں ہو جائیں گے تو کیا پھر ہمیں زندہ کیا جائے گا؟ ہمارے پچھلے باپ دادوں کو بھی؟ اللہ فرما رہے ہیں کہ اے پیغمبر! آپ ان سے کہہ دیجیے کہ تمام پچھلے اور اگلے تمام پہلے لوگ اور بعد والے لوگ ان سب کو جمع کیا جائے گا ایک متعین دن کے مقررہ وقت پر۔ پھر تم کو اے گمراہو اور جھٹلانے والو! تم البتہ کھانے والے ہوگے زقوم کے درخت کو، اس میں سے کھاؤ گے۔ لآكلون من شجر من زقوم البتہ تم کھانے والے ہوگے زقوم کے درخت میں سے۔ زقوم ایک درخت آپ پڑھ چکے جو جہنم کی تہہ سے نکلتا ہے اور انتہائی کڑوا اور بدبو دار اور جس کے پھل جو ہیں سانپوں کے پھن کی شکل کے ہوں گے۔ فمَالئون منها البطون۔ پس تم بھر پس بھرنے والے ہوگے اس سے پیٹوں کو۔ فشاربون عليه من الحميم۔ پس پینے والے ہوگے علیه اس پر من الحميم کھولتے ہوئے پانی کو۔ کھانے میں وہ زقوم ملے گا اور پھر اس کے اوپر کیا پینے والے ہوگے تم؟ کھولتے ہوئے پانی کو پیو گے، فشاربون شرب الحميم۔ حميم جمع ہے أحیم کی۔ أحیم وہ اونٹ جسے استسقاء کی بیماری لگ جائے بھئی۔ اور یہ استسقاء شدید پیاس کی بیماری ہے بھئی۔ استسقاء کی ہے کیا ہے؟ شدید پیاس کی بیماری تو وہ اونٹ جنہیں شدید پیاس کی بیماری لگی ہو اس کو أحیم کہتے ہیں اور اس کی جمع ہیم آتی ہے۔ اللہ فرما رہے ہیں کہ کھولتا ہوا پانی ہوگا لیکن تمہاری پیاس کا یہ عالم ہوگا فشاربون شرب الحميم کہ تم پیو گے پیاسے اونٹوں کی طرح۔ تم پیو گے کس کی طرح؟ پیاسے اونٹوں کی طرح۔ اور اونٹ کو جب پیاس کی یہ بیماری لگتی ہے تو وہ چارے وغیرہ سے، چارے وغیرہ کی طرف دیکھتا ہی نہیں، بس پانی کی تلاش میں رہتا ہے اور پانی مل جائے تو بے تحاشا پانی پیتا ہے بھئی، بے تحاشا بھئی۔ تو اللہ فرما رہے ہیں کہ تم جو ہے پھر اس زقوم کے درخت پر کیا کھاؤ گے؟ اس پر کیا پیو گے؟ کھولتا ہوا پانی پیو گے، فشاربون شرب الحميم۔ پس پیو گے کس کی طرح؟ پیاسے اونٹ کی طرح۔ هذا نزلهم يوم الدين یہ ان کی مہمان نوازی ہوگی قیامت کے دن۔ یہ جو اصحابِ شمال ہیں، یہ ان کی مہمان نوازی ہوگی قیامت کے دن۔ نحن خلقناكم فلولا تصدقون۔ ہم نے تم کو پیدا کیا، فلو لا تصدقون پس تم کیوں تصدیق نہیں کرتے؟ اللہ فرما رہے ہیں ہم نے تم کو پیدا کیا ہے پھر تم اس بات کی تصدیق کیوں نہیں کرتے؟ توحید کی طرف کیوں نہیں آتے؟ أفرأيتم ما تمنون۔ أفرأيتم پس تم بتلاؤ تو سہی! ما تمنون وہ جو نطفہ تم ٹپکاتے ہو۔ أفرأيتم پس تم بتلاؤ تو سہی! ما تمنون وہ نطفہ جو تم ٹپکاتے ہو، أأنتم تخلقونه أم نحن الخالقون کیا تم اس کو پیدا کرتے ہو یا پیدا کرنے والے ہم ہیں؟ أأنتم تخلقونه أم نحن الخالقون کیا تم اس کو پیدا کرتے ہو یا اس کو پیدا کرنے والے ہم ہیں؟ تو اللہ فرما رہے ہیں کہ یہ جو نطفہ تم ٹپکاتے ہو پھر اس کے بعد اس سے جو پیدائش ہوتی ہے، اولاد پیدا ہوتی ہے، اس کو تم پیدا کرتے ہو یا ہم پیدا کرتے ہیں؟ أأنتم تخلقونه أم نحن الخالقون کیا تم اس کو پیدا کرتے ہو یا ہم اس اس سے پیدا کرنے والے ہیں؟ نحن قدرنا بينكم الموت وما نحن بمسبوقين۔ ہم نے قدرنا ہم نے مقرر کیا۔ نحن قدرنا ہم نے مقرر کیا بينكم الموت تمہارے درمیان موت کو، وما نحن بمسبوقين اور نہیں ہیں ہم عاجز بھئی۔ سابق آگے نکل جانے والا۔ جو آگے نکل گیا، دوسرا پیچھے رہ گیا، وہ مسبوق ہوا تو اس نے دوسرے کو ہرا دیا یعنی عاجز کر دیا۔ کیا کر دیا؟ تو سابق عاجز کرنے والا اور مسبوق جس کو عاجز کر دیا جائے۔ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے تمہارے درمیان موت کو مقرر کر دیا ہے اور ہم عاجز نہیں ہیں یعنی کوئی ہمیں عاجز نہیں کر سکتا کہ ہم اس کی موت پر قادر نہ ہوں۔ ہاں یہ آگے آرہا ہے بھئی۔ وما نحن بمسبوقين اور ہم عاجز نہیں ہیں علی أن نبدل امثالكم أمثالكم اس بات سے کہ ہم بدل دیں تمہارے جیسوں کو یعنی تمہیں بدل دیں تمہارے جیسوں سے۔ وما نحن بمسبوقين اور ہم عاجز نہیں ہیں علی أن نبدل امثالكم أمثالكم اس بات سے کہ ہم بدل دیں تمہیں امثالكم کس سے؟ تمہارے جیسوں سے، تمہیں بدل کر تمہارے جیسے اور لوگ ہم لے آئیں، اس بات سے ہم عاجز نہیں ہیں۔ وننشئكم اور اس بات سے ہم عاجز نہیں ہیں وننشئكم کہ پیدا کریں تمہیں فیما اس صورت میں، اس حالت میں لا تعلمون جس کو تم نہیں جانتے۔ ہم اس بات سے عاجز نہیں ہیں کہ تمہارے تمہیں بدل کر تمہارے جیسوں کو لے آئیں، کہ تمہارے جیسوں سے تم کو بدل دیں اور یہ کہ ہم اس بات سے عاجز نہیں ہیں کہ ہم تمہیں پیدا کریں فیما اس حالت میں لا تعلمون جو تم نہیں جانتے۔ یعنی ہم چاہیں تو تمہیں اور ایسے حالت میں پیدا کردیں جسے تم نہیں جانتے۔ اس بات سے ہم عاجز نہیں ہیں، ہم چاہیں تو تمہیں خنزیر بنا دیں، ہم چاہیں تو تمہیں بندر بنا دیں یا کسی اور حالت میں جسے تم جانتے نہیں ہو۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ وما نحن بمسبوقين اور ہم عاجز نہیں ہیں علی أن نبدل امثالكم أمثالكم اس بات سے کہ ہم بدل ڈالیں أمثالكم تمہارے جیسوں سے۔ ہم بدل ڈالیں تمہارے جیسوں سے یعنی تم کو بدل کر تمہارے جیسے لے آئیں اور اس بات سے بھی عاجز نہیں ہیں کہ ہم پیدا کریں تم کو فیما ایسی حالت میں لا تعلمون جسے تم نہیں جانتے۔ یا فیما لا تعلمون ایسی جگہ میں تمہیں جس سے تم نہیں جانتے۔ ما سے یا تو مراد حالت ہے یا ما سے مراد جگہ ہے۔ یا ہم تمہیں پیدا کریں ایسی جگہ میں کہ تم جسے نہیں جانتے۔ ولقد علمتم النَّشأة الأولى اور تحقیق! البتہ تم جان چکے ہو پہلی پیدائش کو۔ اللہ فرما رہے ہیں تم پہلی پیدائش کو تو جان چکے ہو، جان چکے ہو، کس طرح ہم نے پیدا کیا کہ ماں کے رحم کے اندر ایک پانی کا قطرہ ہوتا ہے، ہم اس کو مختلف مرحلوں سے گزارتے ہوئے ایک خوبصورت شکل دے دیتے ہیں اور پھر اس کے اندر ہم جان ڈال دیتے ہیں۔ تو اللہ فرما رہے ہیں کہ تم پہلی پیدائش کو تو جان چکے ہو، جان چکے ہو، فلولا تذكرون پس تم کیوں نصیحت قبول نہیں کرتے کہ جو اللہ پہلی مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے، وہ یقیناً دوسری مرتبہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔ أفرأيتم ما تحرصون پس تم بتلاؤ تو سہی! وہ جو تم کاشت کرتے ہو۔ أفرأيتم ما تحرصون پس تم بتلاؤ تو سہی! وہ جو تم کاشت کرتے ہو، وہ جو تم بوتے ہو۔ أأنتم تزرعونه أم نحن الزارعون کیا تم اس کو اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہم ہیں؟ یا اس کو اگانے والے ہم ہیں؟ اللہ دلائل ذکر فرما رہے ہیں جن میں انسان ذرا بھی غور و فکر کرے تو خود ہی توحید کی گواہی اس کا دل دینے لگے بھئی۔ أفرأيتم ما تحرصون أأنتم تزرعونه أم نحن الزارعون پس تم بتلاؤ تو تو وہ جو تم بوتے ہو، کیا تم اس کو اگاتے ہو یا اس کو اگانے والے ہم ہیں؟ لو نشاء لجعلناه حطاماً اگر ہم چاہیں تو البتہ کر دیں اس کو حطاماً چورا چورا، ریزہ ریزہ۔ اگر ہم چاہیں تو اس کو کیا کر دیں؟ ریزہ ریزہ کر دیں۔ اللہ فرما رہے ہیں جو تم اگاتے ہو کاشت کرتے ہو کیا اسے ہم اگاتے ہیں یا تم اگاتے ہو؟ تم نے تو صرف بیج ڈال دیا زمین کے اندر۔ پھر اس بیج سے کونپل کا نکالنا، پھر اس کو بڑھانا، پھر اس میں دانے پیدا کرنا، پھر اس کو پکانا، یہ کون کرتا ہے؟ یقیناً یہ سب کرنے والی اللہ ہی کی ذات ہے۔ لو نشاء لجعلناه حطاماً اگر ہم چاہیں تو اس کو چورا کر دیں، ہم اس کھیتی کو کیا کر دیں؟ چورا کر دیں، ریزہ ریزہ کر دیں۔ فظلتم تفكهون پس ظل یظل کے کیا معنی ہوتے ہیں؟ دن گزارنا۔ افعال ناقصہ میں سے ہے نا! اس کا کیا معنی ہوتا ہے؟ دن اور بات ہے ابھی تو کیا معنی ہوتے ہیں؟ رات گزارنا۔ ظل زيد كاتباً کیا معنی؟ زید نے کتابت کرتے ہوئے دن گزارا۔ زید نے ہاں، تو یہاں کیا معنی ہوگا؟ تفکہ کے معنی ہوتے ہیں باتیں کرنے کے، باتیں بنانے کے۔ فظلتم تفكهون تو تم سارا دن باتیں بناتے رہو، تم سارا دن باتیں بناتے رہو۔ ظل تم ظل یظل سے ہے۔ ظل کے اندر دو لام ہیں اور فظلتم میں ایک لام ہے، یہ یاد رکھیے کہ ایک لام تخفیفاً حذف کر لیا جاتا ہے کبھی۔ اصل میں تھا فظللتم کیا تھا؟ فظللتم ایک لام تخفیفاً حذف کر لیا گیا۔ فظلتم تفكهون پس سارا دن تم باتیں بناتے رہو اور کیا کہو، یہ باتیں کرتے رہو، إنا لمغرمون کہ مغرم کہتے ہیں تاوان کو بھئی۔ جو تاوان کسی پر پڑ جائے، نقصان پڑ جائے، جرمانہ۔ إنا لمغرمون کہ بے شک ہم پر تو تاوان ڈال دیا گیا، ہم پر تو تاوان پڑ گیا، فصل تباہ ہوگ گئی نا ساری! تو وہ کیا کہ باتیں سارا دن بناتے رہو إنا لمغرمون کہ بے شک ہم پر تو تاوان پڑ گیا، بل نحن محرومون بلکہ ہم تو محروم ہی ہو گئے۔ بلکہ ہم تو محروم ہی ہو گئے۔ یعنی اتنا نقصان ہوا کہ ساری فصل تباہ ہوئی، بالکل بے نصیب ہی ہم رہ گئے۔ وہ جو بیج ہم نے ڈالا تھا وہ بھی سارا ضائع چلا گیا بھئی۔ فائدہ تو کیا ہوتا جو بیج ڈالا تھا وہ بھی چلا گیا بھئی۔ چلیے بس بھئی! ھذا هو المرام، واللہ أعلم بحقيقة الكلام۔
129 approved lectures · 110 of 129