اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم. بسم اللہ الرحمن الرحیم.
یوم یقول المنافقون والمنافقات للذين آمنوا انظرونا نقتبس من نوركم قيل ارجعوا وراءكم فالتمسوا نوراً فضرب بينهم بسور له باب باطنه فيه الرحمة وظاهره من قبله العذاب.
گذشتہ سبق کے آخر میں یہ بات ذکر ہوئی تھی کہ قیامت کے دن جب حساب کتاب ہو چکا ہوگا، جو ظاہری کافر تھے ان کو تو اسی وقت جہنم میں دھکیل دیا جائے گا، البتہ منافقین جو بظاہر مومن تھے، وہ ابھی تک ان کو اسی طرح مومنین کے ساتھ رکھا جائے گا، اور پھر اس کے بعد پل صراط پر سے گزرنا ہوگا تو اس وقت سخت تاریکی چھا جائے گی، اور جو مومنین ہوں گے ان کے سامنے اور دائیں طرف وہ نور ہوگا، ایمان کا نور، اور جتنا ایمان ہوگا اسی کے بقدر نور ہوگا، بعض لوگوں کا نور پہاڑوں کی طرح ہوگا، بعضوں کا اس سے کم، بعضوں کا اس سے کم، اور اس کے ذریعے پھر روشنی ہوگی اور اس روشنی کے اندر پھر وہ پل صراط پر سے گزریں گے.
اب اس موقع پر جن کا ایمان تھا ان کا پاس تو نور ہوگا، منافقین تو ظاہر میں ایمان تھا، دل میں ایمان تھا ہی نہیں تو ان کا کوئی نور نہیں ہوگا، تو مومنین اور منافقین اب پل صراط پر سے گزرنے لگے ہیں، مومنین کے پاس نور ہوگا وہ تیزی سے چلتے ہوئے آگے بڑھ جائیں گے، وہ تو منافقین ان کو پیچھے آواز دیں گے کہ ذرا ٹھہر جاؤ ہمارا انتظار کر لو ہم بھی تمہارے ساتھ چلیں تمہاری روشنی میں سے کچھ روشنی ہم بھی لے لیں.
تو مومنین ان سے کہیں گے کہ جہاں پیچھے نور تقسیم ہو رہا تھا وہاں مڑ کر جاؤ وہاں سے نور لے آؤ بھئی.
اور پھر اس کے بعد ان منافقین اور مومنین کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی جائے گی، جس میں جس میں مومنین کی جانب تو رحمت ہوگی، اور جو منافقین والی جانب ہوگی اس میں عذاب ہوگا بھئی، اور اس طرح پھر منافقین بھی سب مومنین سے جدا ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے بھئی.
یوم یقول المنافقون والمنافقات جس دن کہیں گے منافق مرد اور منافق عورتیں للذين آمنوا ان لوگوں سے جو ایمان لے کر آئے، انظرونا کہ تم ہمارا انتظار کرو، انظرونا تم ہمارا انتظار کرو، یہ ایک معنی میں نے دوسرا معنی بھی کیا تھا بھئی، کیا معنی؟ انظرونا تم ہماری طرف دیکھو، تم ہمیں دیکھو.
اس لیے کہ مومنین کے چہرے نور ایمانی سے اور ان کے سجدوں کا نور تو ان کے چہرے چمک رہے ہوں گے، تو منافقین ان کو کیا کہیں گے؟ تم ہماری طرف دیکھو تاکہ کچھ روشنی ہو جائے ہماری طرف.
تو وہ کہیں گے انظرونا کہ تم ہماری طرف دیکھو، نقتبس من نورکم، اقتبس کے معنی ہوتے ہیں روشنی لینے کے، نقتبس من نورکم ہم روشنی لے لیں من نورکم تمہارے نور سے، قیل ارجعوا وراءکم تو کہا جائے گا ان سے، مومنین کیا جواب دیں گے ان کو؟ ارجعوا وراءکم کہ تم لوٹ جاؤ وراءکم اپنے پیچھے، فالتمسوا نوراً پس طلب کرو نور کو، کہ تم پیچھے لوٹ جاؤ اور کسے طلب کرو؟ نور کو طلب کرو.
اب پیچھے لوٹ جاؤ کیا مراد؟ بعضوں نے کہا مراد یہ ہے پیچھے لوٹ جاؤ جہاں نور تقسیم ہو رہا تھا اس جگہ چلے جاؤ اور نور لے کر آ جاؤ.
یہ معنی ہے قیل ارجعوا وراءكم فالتمسوا نوراً کہا جائے گا کہ تم پلٹ جاؤ اپنے پیچھے پس تلاش کرو نور کو.
بعضوں نے کہا وراءکم پیچھے سے مراد دنیا ہے، مومنین کہیں گے کہ جاؤ دنیا کی طرف پیچھے پلٹ جاؤ، یہ نور تو ہم وہاں سے لے کر آئے ہیں، ایمان کیا تھا؟ وہ دنیا کے ایمان کا اعتبار ہے، وہاں سے ہم نور لے کر آئے ہیں، تم بھی واپس پلٹ جاؤ دنیا کی طرف اور وہ نور لے کر آ جاؤ، اور دنیا کی طرف سے تو وہ پلٹ نہیں سکتے، دنیا تو گزر چکی یعنی یہ بس کہنے کا مقصد یہ ہوگا کہ تمہیں اب یہ نور نہیں مل سکتا.
فضرب بينهم بسور له باب، پس حائل کر دی جائے گی ان کے درمیان بسور ایک دیوار لہ باب جس کا دروازہ ہوگا، فضرب بينهم فضرب بينهم بسور له باب پس کھڑی کر دی جائے گی ان کے درمیان ایک ایسی دیوار جس کا دروازہ ہوگا، یہ یوں ترجمہ کر لیں فضرب بينهم بسور له باب پس کھڑی کر دی جائے گی ان کے درمیان ایک ایسی دیوار جس کا دروازہ ہوگا، باطنه باطنه فيه الرحمة وظاهره من قبله العذاب.
باطنه فيه الرحمة، اس دیوار کا جو باطن ہے اندر والا حصہ ہے، فيه الرحمة اس میں رحمت ہوگی، و ظاهره اور اس دیوار کا جو ظاہر ہے یعنی باہر والا حصہ من قبله العذاب اس جانب میں عذاب ہوگا.
اس کے ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی جائے گی اور اس دیوار جو ہے اس کے اندر والی جانب یعنی مومنین والی جانب تو رحمت ہوگی اور اس کی باہر والی جانب عذاب ہوگا یعنی منافقین والی جانب میں.
ینادونهم، منافقین پھر مومنین کو پکاریں گے، ینادونهم وہ منافقین ان مومنین کو پکاریں گے، الم نکم معكم کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے؟.
دنیا میں ہم تمہارے ساتھ رہتے تھے، تمہارے ہم مذہب تھے، پھر ہمیں کیوں چھوڑ کر جا رہے ہو؟ ینادونهم تو منافقین ان مومنین کو پکاریں گے، الم نکم معكم کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے؟ قالوا بلامومنین کہیں گے کیوں نہیں؟ یعنی ہاں تم ہمارے ساتھ تھے دنیا میں، ولاکنكم فتنتم انفسكم لیکن تم نے آزمائش میں ڈالا اپنے نفسوں کو، تم نے اپنے نفسوں کو فتنہ میں ڈالا یعنی اپنے نفسوں کو آزمائش.
مومنین کہیں گے کیوں نہیں ولاکنكم فتنتم انفسكم لیکن تم نے آزمائش میں ڈالا اپنے نفسوں کو، اپنی جانوں کو، وتربستم اور تم انتظار کرتے رہے.
وتربستم، تربص کے معنی انتظار کرنے کے، تربستم تم انتظار کرتے رہے، کس چیز کا انتظار؟ یہ انتظار کرتے تھے منافقین کہ کب مسلمانوں پر تکلیف، غم، اور پریشانی آئے بھئی، اور ان کا نام و نشان ہی مٹ جائے دنیا سے.
دل کے اندر تو یہ کافر ہی تھے نا، بظاہر صرف بس نفوں کی خاطر یہ بظاہر مسلمان ہوئے تھے، دل میں کفر ہی تھا، اور انتظار میں رہتے تھے کہ کب آفات سماویہ یا کوئی اور تکالیف یا کوئی سخت دشمن حملہ آور ہوتا ہے اور ان مسلمانوں کو مٹ دیتا ہے، تو اسی کا ذکر ہے کہ وتربستم اور تم انتظار کرتے رہے، وارتبتم اور تم نے شک کیا.
اس اسلام کے حقانیت میں تم نے کیا کیا؟ شک کیا، وغرتکم الامانی، اور دھوکے میں ڈالا، غر کے کیا معنی ہیں؟ دھوکے میں ڈالنے کے، وغرتکم اور دھوکے میں ڈالا تم کو الامانی، آرزوؤں نے.
امانی جمع ہے امنیۃ کی بھئی، اور امنیۃ کہتے ہیں آرزو کو، خواہش کو، وغرتکم الامانی اور دھوکے میں ڈالا تم کو تم کو آرزوؤں نے، حتی جاء امر اللہ یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ گیا، وغرکم بالله الغرور اور دھوکے میں ڈالا تم کو اللہ کے ساتھ یعنی اللہ کے بارے میں الغرور دھوکے باز نے یعنی شیطان نے، تم کو دھوکے میں ڈالا اللہ کے بارے میں شیطان نے.
معنی سمجھ میں آ گیا بھئی۔ ینادونهم الم نکم معكم، وہ ان کو پکاریں گے منافقین مومنین کو، کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے؟ قالوا بلا انہوں نے کہا وہ کہیں گے کیوں نہیں؟ ولاکنكم فتنتم انفسكم لیکن تم نے آزمائش میں ڈالا اپنی جانوں کو، وتربستم اور تم انتظار کرتے رہے، وارتبتم اور تم شک کرتے رہے، وغرتکم الامانی اور دھوکے میں ڈالا تمہیں آرزوؤں نے.
حتی جاء امر اللہ یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ گیا یعنی موت کا وقت آ گیا تو، وغرکم بالله الغرور اور دھوکے میں ڈالا تم کو اللہ کے بارے میں شیطان نے، فالיום لا يؤخذ منكم فدية ولا من الذين كفرو، پس آج کے دن نہ تو لیا جائے گا تم سے فدیہ ولا من الذين كفروا اور نہ ان لوگوں سے جنہوں نے کفر کیا.
ایک تو تم ہو تمہارا تو باطنی کفر تھا، ظاہر میں تو تم مسلمان تھے، اور ایک جن کا ظاہری کفر تھا، تم دونوں میں سے کسی سے بھی کوئی فدیہ نہیں لیا جائے گا.
یعنی مال لے کر تمہیں چھوڑا نہیں جائے گا بھئی.
فاليوما لا يؤخذ منكم فدية ولا من الذين كفروا پس آج کے دن نہ تو تم سے فدیہ لیا جائے گا اور نہ ان لوگوں سے جنہوں نے کفر کیا، وماواكم النار اور تمہارا ٹھکانہ آگ ہے، هي مولاكم، یہی، هي ضمیر راجع ہے نار کو، یہ جو آگ ہے مولاكم تمہاری ساتھی ہے.
یہ آگ تمہاری ساتھی ہے، اب یہ ہمیشہ تمہاری رفیق رہے گی، تمہاری ساتھی رہے گی، یہی آگ بھئی.
وبئس المصير، اور یہ بڑا اور برا ٹھکانہ ہے.
وبئس المصير اور کتنا برا ٹھکانہ ہے یہ یعنی یہ آگ بھئی، یہ جہنم.
الم يعني للذين آمنوا، کیا وقت نہیں ہوا ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے، انا یعنی کے معنی وقت ہونے کے، الم یعنی کیا وقت نہیں ہوا یا وقت نہیں آیا للذين آمنوا ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ان تخشع قلوبهم یہ کہ عاجزی کریں ان کے دل لذکر اللہ اللہ کے ذکر کے لیے، اللہ کی یاد کے لیے، وما اور اس چیز کے لیے نزل من الحق جس کو نازل کیا من الحق یعنی کہ دین حق، ولا يكون اور نہ ہو اور یہ کہ نہ ہوں وہ كالذين ان لوگوں کی طرح اوتوا الكتاب من قبلو جن کو کتاب دی گئی اس سے ان سے پہلے، فقال عليهم الامد، امد کہتے ہیں مدت کو، فقال عليهم الامد بس ان پر لمبی ہو گئی مدت، فقست قلوبهم تو پس سخت ہو گئے ان کے دل، وكثير منهم فاسقون اور اکثر ان میں سے نافرمان ہیں.
الم یعنی للذين آمنوا، کیا وقت نہیں ہوا ان لوگوں کے لیے جو ایمان لے کر آئے ہیں کہ ان کے دل عاجزی کریں اللہ کے ذکر کے لیے اور اس چیز کے لیے جس کو اللہ نے نازل کیا ہے یعنی کہ دین حق.
بھئی، یہ بات شروع میں میں بیان کر چکا.
یہ سورۃ جو ہے اس کی بعض آیتوں سے پتہ چلتا ہے کہ فتح مکہ کے بعد نازل ہوئی بھئی۔ فتح مکہ کے بعد نازل ہوئی اور یہ وہ زمانہ تھا جب مسلمانوں پر اب سختیاں بڑی حد تک کم ہو گئی تھیں۔ مالی اعتبار سے بھی وہ ان کی حالت بہت بہتر ہو گئی تھی، غزوات کے اندر ان کو بہت زیادہ مال غنیمت ہاتھ آیا تھا اور دشمن بھی کم ہو گئے۔ بہت سے عرب والے مسلمان ہو چکے تھے، تو اس وقت ایک مرتبہ بعض صحابہ ایک جگہ پر بیٹھے ہوئے کسی بات پر ہنس رہے تھے بھئی۔ تو حضور علیہ السلام گزرے اور وہ زیادہ ہنس رہے ہوں گے کسی بات پر۔ حضور علیہ السلام نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور پھر اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں جس میں مسلمانوں کو متوجہ کیا گیا اس بات کی طرف کہ ان کو سست نہیں ہونا چاہیے، ہر وقت اللہ کے ذکر کی طرف اسی طرح متوجہ رہنا چاہیے جیسے ان کی کیفیت پہلے تھی۔ اگرچہ یہ کوئی بات ان کی کوئی خلافِ شریعت نہیں تھی لیکن صحابہ کی جماعت تھی، وہ جماعت جس نے قیامت تک آنے والے لوگوں کے لیے مشعلِ راہ بننا تھا، اس لیے ذرا سی معمولی سی کوتاہی بھی ان کے نزدیک اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ تھی، چنانچہ ذرا سی بھی سستی آئی، ذرا سی بھی ہنسی آئی، فورا اللہ کی طرف سے آیات نازل ہو گئیں، الم یأن للذین آمنوا کیا وقت نہیں آیا ان لوگوں کے لیے جو ایمان لے کر آئے ہیں ان تخشع قلوبہم لذکر اللہ یہ کہ عاجزی کریں ان کے دل اللہ کے ذکر کے لیے اور وما نزل اور اس چیز کے لیے جو اللہ نے نازل کی ہے وہ چیز جو نازل ہوئی ہے وما نزل اور اس چیز کے لیے جو نازل ہوئی ہے من الحق یعنی کہ دینِ حق بھئی، کہ اس کے لیے عاجزی کریں۔ ولا یکونوا کالذین اور یہ کہ نہ ہو جائیں وہ ان لوگوں کی طرح اوتوا الکتاب من قبل جن کو ان سے پہلے کتابیں دی گئیں فطال علیہم الامد پس ان پر لمبی ہو گئی مدت فقست قلوبہم پس سخت ہو گئے ان کے دل وکثیر منہم فاسقون پس بہت سے ان میں سے نافرمان ہیں۔
جیسے پہلے انبیاء بھئی، ان کے صحابہ وغیرہ، تو وہ انبیاء کا زمانہ جب ہوتا، تو وہ دین کی طرف بڑی رغبت رکھنے والے، دن رات اللہ کی یاد میں غرق رہتے، لیکن پھر جب مدت گزر گئی، پیغمبر کے زمانے کو گزرے ہوئے عرصہ ہو گیا، تو بعد والے لوگ آہستہ آہستہ ان کے دل سخت ہوتے چلے گئے بھئی، سخت ہوتے چلے گئے اور تو اللہ فرما رہے ہیں کہ کیا ان صحابہ کے لیے وقت نہیں آیا کہ یہ اللہ کے ذکر کی طرف عاجزی کریں اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جن کے دل لمبی مدت گزرنے کی وجہ سے سخت ہو گئے تھے۔
تو بہرحال اس میں آخر زمانہ ہے، مسلمانوں کو اپنے احوال کی اپنے احوال کی بہتری کی طرف متوجہ کیا گیا، کہ ان کو اب زیادہ سے زیادہ کس طرف متوجہ ہونا چاہیے؟ اللہ کے ذکر کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔
اعلموا ان اللہ یحیی الارض بعد موتہا جان لو تم کہ اللہ وہ زندہ کرتا ہے زمین کو بعد موتہا اس کے مرنے کے بعد ہاں ضمیر راجع ہے ارض کو بعد موتہا ای بعد موت الارض کہ اللہ زندہ کرتا ہے زمین کو اس کی موت کے بعد قد بینا لکم الآیات لعلکم تعقلون اور تحقیق ہم نے بیان کیں تمہارے لیے آیتیں تحقیق ہم نے بیان کی یوں کہیں کھول کر بیان کیں تمہارے لیے آیتیں لعلکم تعقلون تاکہ تم سمجھ کر سے کام لو۔
ان المصدقین والمصدقات واقرضوا اللہ قرضا حسنا یقینا وہ لوگ جو صدقہ کرنے والے ہیں والمصدقات اور وہ جو صدقہ کرنے والیاں ہیں واقرضوا اللہ قرضا حسنا اور وہ جنہوں نے قرضہ دیا اللہ کو اچھا قرضہ یضاعف لہم تو ان کے لیے دونا کیا جائے گا ولہم اجر کریم اور ان کے لیے عزت والا اجر ہے۔
ان المصدقین والمصدقات یاد رکھیے یہ مصدقین اصل میں تھا متصدقین، اسی طرح مصدقات اصل میں تھا متصدقات بھئی، پھر تا کو بھی صاد کر کے صاد میں ادغام کیا گیا تو مصدقین اور مصدقات لفظ ہوا بھئی۔
ان المصدقین یقینا وہ لوگ جو صدقہ کرنے والے، وہ جو صدقہ کرنے والے مرد ہیں والمصدم والمصدقات اور وہ جو صدقہ کرنے والی عورتیں ہیں واقرضوا اللہ اور وہ جنہوں نے قرضہ دیا اللہ کو قرضہ حسنا اچھا قرضہ یضاعف لہم وہ ان کے لیے بڑھا دیا جائے گا بھئی۔ ولہم اجر کریم اور ان کے لیے عزت والا اجر ہوگا۔
واقرضو اس کا عطف کس پر ہے؟ یاد رکھیے یہ اقرضو کا عطف ہے مصدقین اور مصدقات پر بھئی، کس پر عطف ہے؟ مصدقین اور مصدقات پر، اس پر اشکال ہوتا ہے اقرضو تو فعل ہے اور مصدقین اور مصدقات یہ تو اسم ہیں، فعل کا تو فعل پر ہی عطف ہوتا ہے، اسم کا اسم پر ہوتا ہے، فعل کا عطف اسم پر نہیں بھئی۔ تو جواب یہ بھئی، کہ یہ المصدقین اور المصدقات یہ صیغے ہیں اسم فاعل کے اور اسم فاعل پر جو الف لام داخل ہوتا ہے، وہ دراصل اسم موصول ہے، وہ کیا ہے؟ اسم موصول، اور یہ مصدقا مصدقین اور مصدقات یہ اس میں اس میں موصول کے صلے ہیں، جزاک اللہ، یہ کیا ہے؟ اسم موصول کے صلے ہیں اور صلہ ہمیشہ ہوتا ہے جملہ، کیا ہوتا ہے جملہ، اور لیکن یہ مفرد ہے، اسم ہے، مفرد ہیں، یہ مفرد کی صورت میں کیوں آئے؟ اس لیے کیونکہ اسم موصول الف لام کی صورت میں آیا، اسم موصول کی صورت میں آیا اور الف لام یہ تو فعل پر یا جملے پر داخل نہیں ہوتا، یہ تو کس پر داخل ہوتا ہے؟ اسم پر، لہذا اس لیے ان کا جو صلہ تھا وہ تھا تو دراصل فعل لیکن صورت کون سی دے دی گئی؟ اسم والی صورت دے دی گئی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ مصدقین اور مصدقات یہ دراصل فعل تھے لیکن کون سی صورت دے دی گئی؟ اسم والی صورت دے دی گئی، کیوں اسم والی صورت دی گئی؟ کیونکہ ان کا اسم موصول جو ہے وہ الف لام کی صورت میں آیا اور الف لام تو داخل ہی کس پر ہوتا ہے؟ اسم پر، اس لیے صلے کو بھی اسم والی صورت دے دی گئی، درحقیقت یہ فعل کے معنی میں ہیں اس لیے ان پر فعل کا عطف جائز ہے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی۔
تو جیسے الضرب کس معنی میں ہوتا ہے؟ الذی یضرب بھئی، الذی یضرب۔
ان المصدقین والمصدقات واقرضوا اللہ قرضا حسنا بیشک وہ جو صدقہ کرنے والے مرد ہیں اور صدقہ کرنے والی عورتیں ہیں واقرضوا اللہ قرضا حسنا اور وہ جنہوں نے قرضہ دیا اللہ کو اچھا قرضہ یضاعف لہم ان کے لیے دونا کر دیا جائے گا، یہ بات میں پہلے بیان کر چکا، یضاعف کا معنی دونا نہیں۔ کئی گنا بھئی، مطلب اردو میں اس کا اور کوئی مترادف ہے ہی نہیں بس دونا کا لفظ کہہ دیا جاتا ہے، ورنہ آپ جانتے ہیں ایک نیکی کا کم از کم کتنا اجر ہے؟ دس گنا اجر ہے بھئی۔
تو ضِعف کے اندر کسی چیز کو اس کے کئی حصے بڑھ دینا، دونا بھی اس میں، تین گنا بھی، چار گنا، پانچ گنا، چھ گنا، جتنے بھی ہوں یہ سب اس کے اندر آ گئے۔
والذین آمنوا باللہ ورسولہ اولئک ھم الصدیقون اور وہ لوگ جو ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر اولئک ھم الصدیقون یہی لوگ صدیق ہیں والشہداء اور شہداء گواہ ہیں عند ربھم اپنے پروردگار کے نزدیک لہم اجرھم ان کے لیے ان کے لیے اجر ان کا اجر ہے ونورھم اور ان کا نور ہے والذین کفروا و کذبوا بایاتنا اولئک اصحاب الجحیم اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو اولئک اصحاب الجحیم یہی لوگ ہیں جہنم والے یہی لوگ ہیں جہنم والے۔
جی تو یہاں ایک لفظ صدیق آیا اور ایک شہداء یاد رکھیے صدیق جو ہے پرہیزگاری میں تقوی کے اندر انبیاء کے بعد سب سے اونچا مقام جو ہے وہ صدیقیت ہے بھئی۔ انبیاء کے بعد پرہیزگاری اور تقوی کے اعتبار سے سب سے اونچا مقام کون سا ہے؟ صدیقیت ہے بھئی۔ تو اللہ فرما رہے ہیں جو ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسول پر وہی صدیق ہیں، تو صدیق تقوی اور پرہیزگاری کے اعتبار سے انبیاء کے بعد سب سے اونچا مقام، کہ جس کے دل میں یقین انتہا درجے کو پہنچا ہوا ہو، تصدیق جو ہے انتہا درجے کو پہنچی ہوئی ہو، عمل اور عمل اور قول کے اعتبار سے سچا ہو، ان اخلاص کی انتہا کو پہنچا ہوا ہو، اس کو صدیق کہتے ہیں بھئی، صدیق بھئی۔
اور شہداء جمع ہے شہید کی بھئی، اور شہید آپ جانتے ہیں جو جہاد وغیرہ کے اندر جو مسلمان مارے جائیں، ان کو شہید کہا جاتا ہے اور یہ بہت اونچا مقام ہے، بہت اونچا مقام ہے۔
جی تو شہداء وہی لوگ صدیق ہیں والشہداء اور شہداء ہیں ان کے شہداء ہیں اپنے رب کے نزدیک، تو شہید وہ جو شہید ہوا وہ بھی اور اسی طرح شہید جو ہے آپ پڑھ چکے کہ اس امت والے گزشتہ امتوں کے بارے میں گواہی دیں گے، یہ امت کیا کرے گی بروزِ قیامت گزشتہ امتوں کے بارے میں گواہ، گزشتہ امت اور انبیاء کے بارے میں گواہی دیں گے کہ اے اللہ! ان انبیاء نے آپ کا پیغام اپنی اپنی امتوں کو پہنچا دیا تھا، تو اس پر پھر ان پر سب اعتراض ہوتا ہے کہ یہ کس طرح گواہی دیں گے، یہ تو امت بعد میں ہے، وہ امتیں تو پہلے گزر چکیں، تو جواب پہلے گزر چکا کہ یہ کہیں گے جواب میں کہ اے اللہ! ہمیں آپ نے اور آپ کے رسول نے بتلایا تھا اور یقیناً آپ کی اور آپ کے رسول کی فرمائی ہوئی ہر بات سچی ہے، تو ہمیں آپ نے ہی بتلایا تھا، ہم گواہی دیتے ہیں ان رسولوں نے اپنی اپنی قوموں کو اپنا پیغام پہنچا دیا تھا، معنی سمجھ میں آ گیا بھئی صدیق اور شہداء کا؟ والذین آمنوا باللہ ورسولہ اور وہ لوگ جو ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر اولئک ھم الصدیقون والشہداء عند ربھم وہی لوگ صدیق اور شہداء ہیں ان کے رب کے نزدیک لہم اجرھم ونورھم ان کے لیے ان کا اجر ہوگا، ان کا ثواب ہوگا ونورھم اور ان کا نور ہوگا جس کی روشنی میں وہ چلیں گے۔
والذین کفروا وکذبوا بایاتنا اولئک اصحاب الجحیم اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا، وہ بھی جہنم والے ہیں۔
اعلموا جان لو تم انما الحیاۃ الدنیا لعب ولھو و زینۃ کہ دنیاوی زندگی تو کھیل تماشا ہی ہے زینت۔
دنیاوی زندگی تو لعب کھیل ہے ولھو اور تماشا ہے و زینۃ اور زینت ہے یعنی آرائش ہے۔
یہ یوں کہیں سجاوٹ ہے وتفاخر بینکم اور آپ باہم فخر کرنا ہے، ایک دوسرے پر فخر کرنا ہے و تکاثر فی الاموال والاولاد اور کثرت چاہنا ہے مالوں میں اور اولادوں میں۔
اللہ کیا فرما رہے ہیں جان لو انما الحیاۃ الدنیا لعب ولھو و زینۃ و تفاخر بینکم و تکاثر فی الاموال والاولاد کہ دنیاوی زندگی تو کھیل اور تماشا اور آرائش اور باہم فخر کرنا اور کثرت چاہنا مالوں میں اور اولادوں میں یہ ہے دنیاوی زندگی کی حقیقت بھئی۔ اللہ فرما رہے ہیں۔
دیکھیے انسان پر زندگی کے مختلف دور آتے ہیں، ایک زمانہ ابتدائی زمانہ ہوتا ہے اسے کھیل اور تماشے کی طرف ہی اس کی توجہ ہوتی ہے ساری بچپن کے اندر۔ پھر اس کے بعد جوانی کا زمانہ آتا ہے تو اس کی ساری توجہ زینت کی طرف سجاوٹ اور فیشن کی طرف ساری توجہ ہو جاتی ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اس کے بعد اس کے ساتھ ساتھ کیا آ جاتا ہے تفاخر بینکم کہ کس طرح میں اوروں پر اپنے آپ کو بڑا بناؤں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ یہ جوانی میں ساتھ ہی آ جاتا ہے بڑا بنانا ایک دوسرے پر کس طرح دوسروں سے بڑا اپنی بڑائی دوسروں پر کس طرح ظاہر کروں بھئی۔ اور پھر اس کے بعد آخر زمانہ آ جاتا ہے عمر کا جب انسان دیکھتا ہے کہ اب میری موت قریب آ گئی ہے تو اس وقت وہ چاہتا ہے کہ اس کے مال اور اولاد زیادہ سے زیادہ ہوں بھئی۔ تاکہ دنیا سے جاؤں تو اولاد آسانی سے زندگی بعد میں گزار سکے اتنا مال ان کے پاس ہو بھئی۔ سورہ سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہی اللہ بیان فرما رہے ہیں اعلموا جان لو تم انما الحیاۃ الدنیا لعب ولھو و زینۃ کہ دنیاوی زندگی تو کھیل ہے اور تماشا ہے اور آرائش اور باہم فخر کرنا اور کثرت چاہنا مالوں میں اور اولادوں میں۔
کمثل غیث جیسے کہ بارش بھئی۔ جیسے کہ بارش اعجب الکفارہ جو تعجب میں ڈالے الکفارہ کاشتکاروں کو۔
کفار جمع ہے کافر کی اور کافر کفارہ کے ایک معنی چھپانے کے بھی آتے ہیں۔ کیا معنی ہے ایک؟ چھپا ہر لفظ کے کئی کئی معنی ہوتے ہیں بھئی۔
تو کفارہ کے ایک معنی چھپانے کے بھی آتے ہیں اور کسان یا کاشت کرنے والا جو ہے اس کو بھی کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ بھی بیج زمین میں چھپانے والا ہے وہ کاشت کرے گا تو کیا کرے گا؟ بیج ڈالے گا زمین میں اس کو زمین میں چھپائے گا پھر ہی وہ بیج اگے گا اور فصل تیار ہوگی۔
تو یہ کفار کا کیا معنی ہوا؟ کاشت کرنے والے۔
کمثل غیث اعجب الکفارہ نباتہ کہ اچھا لگے کاشت کرنے والوں کو نباتہ اس کا سبزہ یا اس کا اگانا جی جو بھی آپ ترجمہ کر لیں مثل غیث اعجب الکفارہ نباتہ جیسے کہ ایک بارش کے اچھا لگے اعجبہ کے معنی اچھا لگنا پسند آنا کمثل غیث اعجب الکفارہ نباتہ جیسے کہ بارش کے پسند آئے اگانے والوں کاشت کرنے والوں کو نباتہ اس کا سبزہ ثم یھیج پھر وہ خشک ہو جاتی ہے۔
پھر وہ خشک ہو جاتی ہے۔
یھیج کے معنی ہوتے ہیں فصل کا پکنے کے قریب ہونا۔
فصل کا پکنے کے قریب ہونا یعنی اپنے پورے زور پر پہنچنا فصل کا۔ فصل اپنے پورے زور جب پہنچ جائے اور اسی وقت وہ خشک بھی ہوتی ہے بھئی۔ تو اسی لیے بعضوں نے اس کا پھر کیا ترجمہ کیا؟ ثم یھیج پھر وہ فصل خشک ہو جاتی ہے اور بعضوں نے پھر اس کا ترجمہ کیا ثم یھیج پھر وہ زور پکڑ لیتی ہے۔
فتراہ مصفررا پھر تو دیکھتا ہے اس کو زرد۔
مصفررا زرد پھر تو اس کو زرد دیکھتا ہے، وہ فصل خشک ہو کر زرد ہو جاتی ہے۔ ثم یکون حطاما پھر وہ چورہ چورہ ہو جاتی ہے، ذرہ ذرہ ہو جاتی ہے۔ فصل جب کٹ گئی تو پھر اس کے بعد جو بھوسہ بچ گیا اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جاتا ہے جانوروں کو کھلانے کے لیے بھئی۔
تو دیکھیے یہ دنیاوی زندگی بھی اسی فصل کی طرح ہے جس طرح فصل جو ہے ابتدا کے اندر کچھ بھی نہیں ہوتا، پھر اس کے بعد بیج ڈالا جاتا ہے اور ایک زمین سے کونپل نکلتی ہے، پھر وہ کونپل بڑھتی چلی جاتی ہے اور اس سے یہاں تک کہ وہ اپنے پورا زور پکڑ لیتی ہے فصل اور پھر اس کے بعد خشک ہو جاتی ہے اور زرد رنگ کی ہو جاتی ہے اور پھر اس کے بعد وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر چورہ چورہ ہو جاتی ہے اور پھر پورا میدان صاف ہوتا ہے وہاں پر کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ تو دنیاوی زندگی بھی اسی طرح ہے، انسان اس دنیا کے اندر آتا ہے بڑھتا چلا جاتا ہے، قوت پکڑتا ہے اور پھر اس کے بعد ایک وقت آتا ہے کہ اس کا آخری وقت آ جاتا ہے اس دنیا سے چلا جاتا ہے اور پھر میدان صاف اس کا کوئی ایک وقت آتا ہے کہ اس کا کوئی نام لینے والا بھی نہیں ہوتا اس سے کوئی جاننے والا بھی نہیں ہوتا۔ تو یہ دنیاوی زندگی کی مثال ذکر فرما رہے ہیں اللہ۔
و فی الآخرۃ عذاب شدید اور آخرت میں سخت عذاب ہے و مغفرۃ من اللہ و رضوان اور مغفرت ہے اللہ کی طرف سے اور رضامندی ہے وما الحیاۃ الدنیا الا متاع الغرور اور نہیں ہے دنیاوی زندگی مگر دھوکے کا سامان۔
غرور دھوکا بھئی۔
غرور دھوکھا ایک پیچھے لفظ آیا وہ غرور غین کے فتحہ کے ساتھ تھا وہ دھوکہ دینے والا اور غرور یہ ہے دھوکا بھئی۔
تو اور متاع سامان وما الحیاۃ الدنیا الا متاع الغرور اور نہیں ہے دنیا مگر دھوکے کا سامان۔
ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ میں نے کفار کا کیا معنی کیا؟ کاشتکار بھئی کسان۔
بعضوں نے کفار کا معنی کفار ہی کے کیئے بھئی مثل غیث اعجب الکفارہ نباتہ جیسے کہ بارش کے پسند آئے کافروں کو اس کا سبزہ۔
کا فروں کو اس کا سبزہ پسند آئے۔
پھر اس پر اشکال کہ پھر کافر کے ذکر کی کیا وجہ؟
وہ سبزہ تو ہر ایک کو اچھا پسند آتا ہے۔
تو جواب دیا کہ چونکہ کفار کی ساری توجہ ہے ہی دنیا کی طرف بھئی، ان کی ساری توجہ دنیا ہی کی طرف ہے اس لیے ان کو بطور خاص ذکر کیا کہ ان کی ساری توجہ دنیا کی طرف ہے تو جب ان کو ایک چیز پسند آئی معلوم ہوا وہ ہے ہی دنیاوی اعتبار سے اچھی ہے کیونکہ ان کا ساری توجہ دنیا ہی کی طرف ہے۔
اعلموا انما الحیاۃ الدنیا لعب ولھو و زینۃ جان لو کہ دنیاوی زندگی کھیل ہے اور تماشا ہے اور آرائش ہے اور آپس میں فخر جتلانا ہے و تکاثر فی الاموال والاولاد اور زیادتی کو چاہنا ہے مالوں میں اور اولاد میں کمثل غیث اعجب الکفارہ نباتہ جیسے کہ بارش کے اچھا لگے کاشت کرنے والوں کو اس کا سبزہ سبزہ ثم یھیج فتراہ مصفررا پھر وہ زور پکڑ لے فتراہ مصفررا پس آپ اس کو زرد دیکھیں پھر زرد دیکھتے ہیں ثم یکون حطاما پھر وہ چورہ چورہ ہو جاتی ہے و فی الآخرۃ عذاب شدید اور آخرت میں سخت عذاب ہے یہ کس کے لیے ہے سخت عذاب؟ کافروں کے لیے۔ تو ایک طرف یہ سخت عذاب ہے دنیا میں تو دوسری طرف اللہ کی طرف سے مغفرت بھی ہے۔ اب انسان کا اختیار ہے کہ جس کو وہ چاہے اختیار کر لے، پسند کر لے اس دنیا کے اندر اور اس راستے پر پھر چلے وما الحیاۃ الدنیا الا متاع الغرور اور نہیں ہے دنیاوی زندگی مگر دھوکے کا سامان سابقوا الٰہی مغفرۃ من ربکم سبقت کرو تم یعنی دوڑو تم الی مغفرۃ من ربکم اپنے پروردگار کی مغفرت کی طرف و جنۃ اور جنت کی طرف عرضھا کا عرض سمائی عرض چوڑائی کو کہتے ہیں عرضھا اس جنت کی چوڑائی جو ہے کا عرض سمائی والا اور زمین اور آسمان کی چوڑائی کی مثل ہے۔ اعدت للذین آمنوا باللہ ورسولہ تیار کی گئی ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ذالک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء یہ اللہ کا فضل ہے عطا فرماتے ہیں جس کو چاہتے ہیں واللہ ذوالفضل العظیم اور اللہ بڑے فضل والے ہیں۔ واللہ ذوالفضل العظیم اللہ بڑے فضل والے ہیں۔
اللہ فرما رہے ہیں سابقوا الٰہی مغفرۃ من ربکم تم لوگ دوڑو اپنے پروردگار کی مغفرت کی طرف و جنۃ اور تم دوڑو کس کی طرف؟ جنت کی طرف ایسی جنت عرضھا کا عرض سمائی والا جس کی چوڑائی زمین اور آسمان کی چوڑائی کی طرح ہے جس جنت کی چوڑائی زمین اور آسمان کی چوڑائی ملا کر اس کے برابر جس کی چوڑائی ہے لمبائی کا کیا حال ہوگا وہ اللہ ہی جانتے ہیں۔ اللہ فرما رہے ہیں اعدت للذین آمنوا تیار کی گئی ہے جنت ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ذالک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء یہ اللہ کا فضل ہے عطا کرتا ہے جس کو چاہتا ہے واللہ ذوالفضل العظیم اور اللہ بڑے فضل والے ہیں۔
ما أصاب من مصیبت فی الارض ولا فی انفسکم نہیں پہنچتی ما آس نہیں پہنچتی من مصیبت کوئی مصیبت فی الارض زمین میں ولا فی انفسکم اور نہ تمہاری جانوں میں۔
نہیں کوئی ایسی نہیں کوئی مصیبت جو زمین میں پہنچتی ہو یعنی زمین میں آتی ہو ولا فی انفسکم اور نہ جو کوئی ایسی جو تمہاری جانوں کو پہنچتی ہو الا فی کتاب مگر وہ ایک کتاب میں ہے من قبل ان من قبل ان نبراھا قبل اس کے کہ ہم اس ان جانوں کو پیدا کریں ہا ضمیر راجع ہے انفس انفس کو بھئی۔
ہا ضمیر کس کو راجع؟ انفس۔
نبراھا قبل ہم من قبل ان نبراھا قبل اس کے کہ ہم ان جانوں کو پیدا کریں۔
ما أصاب من مصیبت فی الارض نہیں پہنچتی کوئی مصیبت فی الارض زمین میں ولا فی انفسکم اور نہ تمہاری جانوں میں الا فی کتاب مگر وہ ایک ایسی وہ ایک کتاب میں ہے من قبل ان نبراھا قبل اس سے قبل اس کے کہ ہم ان جانوں کو پیدا کریں۔
اللہ فرماتے ہیں کہ کہ جو کوئی بھی مصیبت زمین میں آتی ہے یا تمہاری جانوں پر آتی ہے یہ اس سے پہلے ہی ہم ایک کتاب کے اندر لکھ چکے ہیں ان جانوں کو پیدا کرنے سے پہلے ہی۔
ہم اس کو ایک کتاب یعنی لوح محفوظ کے اندر ہم سب کچھ لکھ چکے ہیں۔ ان ذالک علی اللہ یسیر یقینا یہ اللہ پر اسان ہے۔ اللہ کے لیے کوئی کام مشکل نہیں۔ تو جانوں کو پیدا کرنے سے بھی پہلے ہم نے وہ وہ چیزیں بھی لکھ لیں جو ان جانوں کے ساتھ پیش انے والی تھی ائندہ زندگی میں بھئی۔
معنی سمجھ میں ا گیا بھئی؟ ما اصاب من مصیبت فی الارض نہیں پہنچتی کوئی مصیبت فی الارض زمین میں ولا فی انفسکم اور نہ تمہاری جانوں میں الا فی کتاب مگر وہ ایک کتاب میں ہے من قبل قبل اس کے کہ ہم ان جانوں کو پیدا کریں ان ذالک علی اللہ یسیر یقینا یہ اللہ پر اسان ہے۔
لکی لا تأسوا علی ما فاتکم ولا تفرحوا بما اتاکم۔ لکی لا تأسوا اس لیے تاکہ لا تأسوا تم غمگین نہ ہو رنج نہ کرو تم علی ما فاتکم اس چیز پر جو تم سے فوت ہو جائے، جو تم سے رہ جائے۔ ولا تفرحوا اور یہ اس لیے تاکہ تم خوش نہ ہو بما اتاکم اس چیز پر جو تمہیں دے بھئی۔
بھئی تقدیر پر انسان کا ایمان ہو تو زندگی بڑی اسان ہو جاتی ہے۔ تقدیر پر اللہ فرماتے ہیں جو کوئی مصیبت انی ہوتی ہے دنیا میں یا تمہاری جانوں میں، ہم تمہارے پیدا ہونے سے پہلے ہی اس کو ایک کتاب کے اندر لکھ دیا تھا اور جو کچھ لکھا گیا ہے اسی کے مطابق جو کچھ تمہارے یہ تکلیف لکھی گئی ہے وہی تکلیف پہنچتی ہے۔
جب انسان کا تقدیر پر ایمان ہوتا ہے جتنی بڑی بھی تکلیف ائے تو اس پر وہ صبر کرتا ہے کہ یہ میری تقدیر میں تھی، مجھ پر یہ تکلیف انی تھی۔ اگر میں کچھ بھی کر لیتا اس تکلیف نے مجھ پر انا تھا۔ تو چنانچہ وہ صبر کرتا ہے اور جتنی بڑی بھی اس کو خوشی مل جائے، جتنی بڑی بھی خوشی مل جائے یا جتنی بڑی بھی اس کو کامیابی مل جائے تو اس پر وہ فخر اور تکبر میں نہیں مبتلا ہوتا۔
کہ یہ تو اللہ نے میرے لیے تقدیر میں لکھ رکھی تھی، میرا اپنا اس کے اندر کوئی کمال نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں اگئی بھئی؟ تو یہ تقدیر پر ایمان یہ بڑی اس سے زندگی میں اسانی ا جاتی ہے بھئی۔
لکی لا تأسوا، لکی لا یہ لام جار رہا ہے یہ متعلق کس سے ہوگا؟ محذوف سے۔ ای اخبارناکم بذالک۔ ہم نے یہ تمہیں خبر دے دی۔ یہ جو پیچھے اللہ نے فرمایا کہ جو کوئی بھی مصیبت تمہارے تم پر یہ دنیا میں اتی ہے، کوئی زلزلہ اتا ہے، کوئی طوفان اتا ہے یا تمہیں کوئی مصیبت تکلیف پہنچتی ہے اس سب کو ہم نے پہلے سے ہی کتاب کے اندر لکھ رکھا ہے اور یہ اللہ کے لیے بڑا اسان ہے کہ پہلے سے ہی کسی چیز کو لکھ لے کیونکہ اللہ کا علم بڑا کامل ہے، اس کے سامنے زمانہ کوئی چیز نہیں۔
تو اللہ نے ان سب چیزوں کو پہلے ہی سے لکھ رکھا ہے اور اللہ فرما رہے ہیں اخبارناکم بذالک، ہم نے تمہیں یہ بتلا دیا لکی لا تأسوا علی ما فاتکم تاکہ تم غمزدہ نہ ہو اس چیز پر جو تم سے رہ جائے اور تم خوش نہ ہو یعنی تکبر نہ کرنے لگو بما اتاکم اس پر جو تمہیں عطا کرے۔
واللہ لا یحب کل مختال فخور۔ اور اللہ پسند نہیں کرتے کل مختال فخور کسی تکبر کرنے والے، فخر کرنے والے کو۔ مختال کہتے ہیں تکبر کرنے والا، اترانے والا۔ اترانے والا۔ فخور فخر کرنے والا۔ واللہ لا یحب اور اللہ پسند نہیں کرتے کل مختال فخور کیا ترجمہ کریں گے؟ کل مختال فخور۔
یا یوں ترجمہ با محاورہ نہ کرنا، کل ہر اترانے والے، فخر کرنے والے کو۔ کیونکہ خرابی ہوگی پھر ترجمے میں خرابی ا جائے گی۔ خرابی سمجھ میں ا رہی ہے بھئی؟ جی؟ اللہ دیکھیے، میں کل کے ساتھ ہر کے ساتھ ترجمہ کروں گا۔ ہر کا لفظ لاؤں گا۔ واللہ لا یحب کل مختال فخور۔ اللہ پسند نہیں کرتے ہر اترانے والے فخر کرنے والے کو۔
کیا معنی؟ معلوم ہوا، ہر ایک کو تو نہیں کرتے، بعضوں کو کرتے ہیں۔ یہ معنی وہاں پیدا ہوتا ہے یا نہیں اس ترجمے سے؟ حالانکہ یہ بتانا مقصد ہے نہیں۔ بتلانا یہ ہے کہ جو ہر تکبر کرنے والا اور فخر کرنے والا ہے اس جو ہے لا یحبہ، اللہ ان کو پسند ان سب سے پسندیدگی کی نفی ہے بھئی۔
تو پھر اردو میں یوں ترجمہ کریں گے با محاورہ، واللہ لا یحب کل مختال فخور اور اللہ پسند نہیں کرتے کسی اترانے والے فخر کرنے والے کو۔ ترجمہ سمجھ میں اگیا؟ کسی اترانے والے فخر کرنے والے کو اللہ پسند نہیں فرماتے الذین یبخلون وہ جو بخل کرتے ہیں وامرون الناس بالبخل اور حکم دیتے ہیں لوگوں کو بخل کا۔
الذین یاد رکھیے، یہ بدل ہے مختال فخور سے۔ یہ بدل ہے کس سے؟ یہا کل مختال فخور یہ بدل ہے کس سے؟ کل مختال فخور سے۔ الذین وہ جو، یعنی اللہ پسند نہیں کرتے الذین یبخلون جو بخل کرتے ہیں وامرون الناس بالبخل اور لوگوں کو بخل کا حکم دیتے ہیں یعنی خود بھی بخل کرتے ہیں، دوسروں کو بھی بخل سکھاتے ہیں۔
ومن یتول فإن اللہ ھو الغنی الحمید اور جو کوئی پلٹتا ہے، پشت پھیرتا ہے فإن اللہ ھو الغنی الحمید تو یقینا اللہ بے نیاز ہیں، قابل تعریف ہیں۔
لقد ارسلنا رسلنا بالبینات تحقیق بھیجا ہم نے اپنے رسولوں کو بالبینات واضح نشانیوں کے ساتھ، واضح دلیلوں کے ساتھ و انزلنا معہم الکتاب اور ہم نے نازل کی ان کے ساتھ کتاب والمیزان اور ترازو لیقوم الناس بالقسط تاکہ لوگ قائم کریں بالقسط انصاف کو لیقوم الناس بالقسط تاکہ لوگ انصاف قائم کریں۔
اللہ فرما رہے ہیں ہم نے بھیجا اپنے رسولوں کو واضح نشانیاں دے کر اور ان کے ساتھ ہم نے کتابیں نازل کیں۔ الکتاب پر الف لام جنسی ہے، جن سے کتاب مراد۔ اور ان کے ساتھ ہم نے کتابیں نازل کیں والمیزان اور ترازو نازل کیا۔ ترازو سے شاید یہ ظاہری ترازو مراد ہو گئی۔ اور یہ بھی احتمال کہ اس سے مراد عدل و انصاف ہو بھئی۔
سمجھ میں ایا بھئی؟ عدل و انصاف ہو۔ لیقوم الناس بالقسط تاکہ لوگ انصاف قائم کریں و انزلنا الحدید اور ہم نے لوہا نازل کیا۔ حدید لوہے کو کہتے ہیں بھئی۔ اور ہم نے لوہا نازل کیا یعنی ہم نے اس کو پیدا کیا۔ و انزلنا الحدید اور ہم نے لوہا نازل کیا فیہ باس شدید جس میں باس بھئی باس کہتے ہیں جنگ کو بھئی، سخت لڑائی کو۔
سخت لڑائی کو اور باس عذاب کو بھی کہتے ہیں۔ تو اللہ فرما رہے ہیں اور ہم نے لوہا نازل کیا فیہ باس شدید جس میں سخت عذاب ہے۔ جس میں کیا ہے؟ سخت عذاب ہے۔
بھئی لڑائی جنگ وغیرہ کے اندر کیا چیز سب سے زیادہ استعمال ہوتی ہے؟ لوہا ہی سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے اور اسی کے ذریعے اسی کے ذریعے دوسروں کو ختم کیا جاتا ہے تو یہ ہتھیار وغیرہ کس سے بنتے ہیں؟ لوہے ہی سے تو بنتے ہیں بھئی۔
تو جس میں سخت عذاب ہے یا باس لڑائی کو کہتے ہیں جس میں سخت لڑائی ہے جس میں کیا ہے؟ سخت لڑائی ہے یا بعضوں نے اور با محاورہ ترجمہ کیا فیہ باس شدید جس میں سخت جنگی سامان ہے۔
باس جنگ کو کہتے ہیں نا تو لوہے میں سخت جنگ ہے یعنی جنگی سامان ہے۔ جس میں جنگی سامان ہے ومنافع للناس اور لوگوں کے نفع ہیں ولیعلم اللہ من ینصوره ورسوله بالغیب اور تاکہ جان لے اللہ من ینصوره کون اللہ کی مدد کرتا ہے ورسوله اور اللہ کے رسولوں کی مدد کرتا ہے بالغیب بغیر دیکھے ہی تاکہ اللہ جان لے کہ بن دیکھے ہی کون اللہ کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے۔
ان اللہ قوی عزیز یقینا اللہ قوت والے ہیں، زبردست ہیں۔ و انزلنا الحدید فیہ باس شدید ومنافع للناس اور ہم نے لوہا نازل کیا فیہ باس شدید جس میں سخت جنگی سامان ہے یا جس میں سخت جنگ ہے ومنافع للناس اور جس میں لوگوں کے نفع ہیں ولیعلم اللہ من ینصوره ورسلہ اور تاکہ اللہ جان لے کون اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے بالغیب بن دیکھے ہی۔
ان اللہ قوی عزیز یقینا اللہ قوت والے، زبردست ہیں۔ ولقد ارسلنا نوحا ولقد ارسلنا نوحا و ابراہیم اور تحقیق ہم نے بھیجا نوح علیہ السلام کو اور ابراہیم علیہ السلام کو وجعلنا فی ذریتھم النبوۃ والکتاب اور رکھ دیا ہم نے ان کی اولاد کے اندر ہی نبوت کو اور کتاب کو۔
نبوت اور کتاب کو کس میں رکھ دیا؟ ان کی اولاد میں کہ انہی کی اولاد میں سے پیغمبر ائیں گے حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے اور انہی کو کتابیں دی جائیں گی۔ فمنہم مہتد فمنہم مہتد پس ان میں سے بعض جو ہیں ہدایت یافتہ ہیں، ہدایت پر ہیں و کثیر منہم فاسقون اور ان میں سے بہت سے نافرمان ہیں۔
ثم قفینا علی اثارہم برسلنا پھر بھیجا پیچھے بھیجا۔ قفا کے معنی پیچھے بھیج۔ ثم قفینا پھر ہم نے پیچھے بھیجا علی اثارہم ان کے نشانات پر، ان کے قدموں کے نشانات پر برسلنا کس کو پیچھے بھیجا؟ ہم نے اپنے رسولوں کو۔ پھر ہم نے ان کے قدموں کے نشانات پر یعنی ان کے پیچھے بھیجا برسلنا اپنے رسولوں کو و قفینا بعیسی ابن مریم اور ہم نے پیچھے بھیجا عیسی ابن مریم کو واتیناہ الانجیل اور عطا کی ہم نے ان کو انجیل وجعلنا فی قلوب الذین اتبعبوه رأفۃ ورحمۃ اور رکھ دی ہم نے ان لوگوں کے دلوں میں جنہوں نے ان کا اتباع کیا۔
رکھ دی ہم نے ان لوگوں کے دلوں میں اتبعبوہ جنہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کی پیروی کی، ان کا اتباع کیا، ان کے دلوں میں ہم نے کیا رکھ دی؟ رأفۃ ورحمۃ۔ شفقت اور رحمت۔ شفقت اور رحمت یعنی مہربانی۔ ہم نے ان کے دلوں میں شفقت اور رحمت رکھ دی بھئی، وہ اپس میں ایک دوسرے سے اور لوگوں سے بڑی شفقت اور مہربانی سے پیش اتے۔ و رہبانیۃ ابتدعوها ما کتب</i>
رہبانیت بھئی کہتے ہیں کہ لوگوں سے کٹ کر دنیا سے کٹ کر صرف اللہ کی یاد میں لگے رہنا۔
بیوی، بچوں، مال، اسباب، کاروبار، ہر چیز کو چھوڑ کر صرف کس کی یاد میں لگ جانا؟ لوگوں سے کٹ کر بھئی۔ جنگلوں میں تنہائی میں سب کچھ دنیا کو چھوڑ کر اللہ کی یاد میں، اللہ کے ذکر میں، اللہ کی عبادت میں مشغول رہنا، یہ ہے رہبانیت۔
اور یہ رہبانیت جو حضرت حرتی، حرتیس علیہ السلام کے جو پیروی کرنے والے تھے، انہوں نے اس کو اپنایا۔ لیکن اللہ فرماتے ہیں یہ رہبانیت ہم نے نہیں کوئی ان پر لکھی تھی کہ تم اس طرح کرو۔ انہوں نے خود ہی اس راستے کو اختیار کیا۔ اپنی طرف سے بنا لیا، مقصد اللہ کی رضامندی کا حصول تھا بھئی۔
تو یہ رہبانیت کو انہوں نے اپنی طرف سے بنایا تھا، ہم نے نہیں ان پر اس کو، اس کا انہیں حکم دیا۔ اور مقصد کیا تھا ان کا اس کے ذریعے؟ اللہ کی رضا حاصل کرنا، اللہ کی خوشنودی حاصل کرنا۔
لیکن آگے اللہ فرماتے ہیں یہ اس کی، انہوں نے اس کو پوری طرح نہیں نبھایا۔ اس کی رعایت نہیں کی جیسی رعایت کرنے کا حق تھا۔ یعنی پھر بظاہر رہبانیت ہوتی، لیکن دل میں پھر وہی دنیا کی محبت ہوتی بھئی۔ پوری طرح اس کی رعایت نہ رکھ سکے۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ عیسائی، جو پادری ہیں، یہ نکاح نہیں کرتے بھئی۔ آپ کے علم میں ہے یا نہیں بھئی؟ یہ نکاح کرتے ہی نہیں بھئی۔ تمام عمر بھئی۔
اور اسی طرح ان کی جو عورتیں جو ان کے چرچوں میں وہ دینی کام کے لیے ہوتی ہیں، وہ بھی شادی نہیں کرتی۔ شادی والا وہ کر ہی، وہ ائے گا ہی نہیں اس میں بھئی۔ یعنی نہ وہ پادری ہوگا اور نہ وہ وہ جو ان کی کیا کہیں گے ان کو پتہ نہیں۔ وہ جو سسٹر کہتے ہیں۔
تو اچھا۔ تو وہ جو ہے جو بھی ہے تو شادی شدہ نہیں، غیر شادی شدہ۔ یہ وہی وہ رہبانیت تھی کہ وہ اسرات جو ہیں اور لیکن رعایت پوری نہیں رکھی بھئی۔ چنانچہ یہی وجہ ہے پھر ان کے اندر بدکاری بھی سب سے زیادہ بھئی۔
جب شہوت ایک انسان ہے، اللہ نے شہوت تو رکھی ہے اور پھر شہوت کے لیے اللہ نے نکاح کا اسان طریقہ بتا دیا۔ تو جب اس راستے کو انہوں نے چھوڑ دیا، تو خود ہی بڑی مشکل اور مصیبت میں پڑ گئے۔ بھئی۔
تو اللہ فرما رہے ہیں: و رہبانیت ابتدا وعھا اور وہ رہبانیت جس کو انہوں نے نیا ایجاد کیا تھا، اپنی طرف سے بنا لیا تھا۔ ابتدا، بدعت سے ہے بھئی۔ بدعت کس کو کہتے ہیں؟ نئی چیز۔
تو رہبانیت اب اور وہ رہبانیت ابتدا وعھا، جس کو انہوں نے نیا بنا لیا تھا، اپنی طرف سے نئی، نیا ایجاد کر لیا تھا۔ ما کتبناھا علیہم، ہم نے نہیں یہ رہبانیت ان پر لکھی تھی۔ یعنی ہم نے یہ ان پر فرض نہیں کی تھی۔ الا ابتغاء رضوان اللہ، مگر صرف اللہ کی رضا چاہنے کے لیے۔
انہوں نے اس کو کس لیے بنایا تھا؟ اللہ کی رضا چاہنے کے لیے۔ ابتغاء کا مادہ چاہنا، طلب کرنا۔ مگر اللہ کی رضا چاہنے کے لیے، فما رعاوھا، پس انہوں نے اس رہبانیت کی رعایت نہیں رکھی۔ حق رعایتھا، جیسے کہ اس کی رعایت رکھنے کا حق تھا۔ یعنی اس کو انہوں نے اس طرح نہیں نبھایا، جس طرح نبھانے کا حق تھا۔
فاتینا الذین امنوا منہم اجرہم، پس عطا کیا ہم نے ان ان لوگوں کو، جو ایمان لائے تھے منہم ان میں سے۔ جو ان میں سے ایمان لے کر آئے تھے، ہم نے ان کو عطا کیا اجرہم، ان کا اجر۔ و کثیر منہم فاسقون، اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں۔
ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ و رہبانیت ابتدا وعھا، اور وہ رہبانیت جس کو انہوں نے اپنی طرف سے بنا لیا تھا، ما کتبناھا علیہم، یہ ہم نے ان پر نہیں لکھی تھی۔ الا ابتغاء رضوان اللہ، مگر اللہ کی رضامندی طلب کرتے ہوئے، فما رعاوھا حق رعایتھا، پس انہوں نے اس کو نہ نبھایا جیسے کہ نبھانے کا حق تھا۔ فاتینا الذین امنوا منہم اجرہم، پس عطا کیا ہم نے ان کو جو ایمان لائے تھے ان میں سے ان کا اجر۔ و کثیر منہم فاسقون، اور اکثر ان میں سے فاسق ہیں۔
یا ایھا الذین امنوا اتقوا اللہ، اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو۔ و آمنوا برسولہ، اور ایمان لاؤ اس کے رسول پر۔ یاد رکھیے، یہ خطاب ہے اہل کتاب کو۔ یہ کہ خطاب ہے کس کو؟ اہل کتاب کو۔
یعنی یعنی کہ یہ جیسے پیچھے ذکر چل رہا تھا عیسائیوں کا بھئی، جنہیں نے کس کی پیروی کی؟ حضرت عیسی علیہ السلام کی۔ اور اسی طرح اور اہل کتاب کون ہیں؟ یہود ہیں۔ تو یہاں خطاب ہے اہل کتاب کو۔ یا ایھا الذین امنوا، اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو، یعنی پچھلے انبیاء پر جو ایمان لائے ہو۔
حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت موسی علیہ السلام پر۔ اتقوا اللہ، تم اللہ سے ڈرو۔ و آمنوا برسولہ، اور ایمان لاؤ اللہ کے رسول پر۔ یعنی اللہ کے اس رسول پر بھی کیا کرو؟ ایمان لے کر آؤ۔
یؤتکم کفلین من رحمتہ، وہ عطا کرے گا تم کو کفلین، دو حصے، کفل کہتے ہیں حصے کو۔ یؤتکم، وہ تم کو دے گا کفلین من رحمتہ، دو حصے اپنی رحمت میں سے۔
دو حصے؟ دو حصے اپنی رحمت میں سے دے گا۔ اہل کتاب میں سے اگر کوئی ایمان لے کر اتا ہے، تو اس کو دو حصے دیں گے اپنی رحمت سے اللہ، یعنی دگنا ثواب اس کو ملے گا۔ ایک تو اس بات کا کہ اس سے پہلے، پہلے پیغمبر پر ایمان تھا۔ اور اب کس پر ایمان لے کر آئے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تو ان کو دگنا اجر ملے گا۔
یؤتکم کفلین من رحمتہ، عطا کرے گا تم کو دو حصے اپنی رحمت میں سے۔ و یجعل لکم نوراً تمشون بہ، اور بنا دے گا تمہارے لیے نوراً ایسا نور، تمشون بہ، کہ تم چلو گے اس کے ذریعے کیا کر دے گا؟ تمہارے لیے ایسا نور بنا دے گا جس کے ذریعے تم چلو گے۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یا تو نور دنیا کے اندر یعنی رہنمائی کی جائے گی تمہاری، یا مراد ہے وہ جو پل صراط پر اندھیرا ہوگا اور اس وقت جو نور ہوگا، تو اللہ فرما رہے ہیں وہ تمہارا، اللہ تمہیں نور دے دیں گے۔ نور بنا دیں گے، تمشون بہ، اس کے ذریعے تم چلو گے۔
و یغفر لکم، اور تمہارے لیے مغفرت فرما دیں گے۔ واللہ غفور الرحیم، اور اللہ مغفرت فرمانے والے رحم کرنے والے ہیں۔
لت اللہ یعلم، توجہ سے سننا، یہاں دو ترجمے ہوں گے بھئی۔ لاللہ یعلم اھل الکتاب، تاکہ یہ نہ جان لیں اہل کتاب۔ تاکہ لاللہ یعلم اھل الکتاب، تاکہ یہ نہ جانے اہل کتاب۔ اللہ یقدرون علی شیء من فضل اللہ، کہ وہ قادر نہیں ہیں کسی بھی چیز پر اللہ کے فضل میں سے۔
توجہ ہے؟ تاکہ یہ نہ جانے وہ۔ کیا نہ جانے؟ کہ وہ اللہ کے فضل میں سے کسی چیز پر قادر نہیں۔ پھر کیا جانے؟ کہ وہ اللہ کے فضل میں پر، کہ پر قادر ہیں۔
قادر نہ ہونے کو نہ جانے، بلکہ قادر ہونے کو جان لیں۔ توجہ ہے بھئی؟ لاللہ یعلم، تاکہ یہ نہ جان لیں۔ اھل الکتاب، اہل کتاب۔ لاللہ یعلم اھل الکتاب، تاکہ یہ نہ جان لیں اہل کتاب۔ اللہ یقدرون علی شیء من فضل اللہ، کہ وہ قادر نہیں ہیں کسی بھی چیز پر اللہ کے فضل میں سے، یعنی پا نہیں سکتے، قادر نہیں ہیں، یعنی پا نہیں سکتے، حاصل نہیں کر سکتے۔
تاکہ یہ نہ جانے اہل کتاب۔ اللہ یقدرون علی شیء من فضل اللہ، کہ وہ حاصل نہیں کر سکتے کوئی چیز اللہ کے فضل میں سے۔ یہ نہ جانے کہ وہ حاصل نہیں کر سکتے، بلکہ کیا جانے؟ کہ وہ حاصل کر سکتے ہیں۔
اللہ فرما رہے ہیں کہ تم اے اہل ایمان ایمان لے آؤ، تمہیں دگنا ثواب ملے گا، دگنا اجر ملے گا، دو حصے ملیں گے۔ یہ کس لیے؟ تاکہ یہ جان لیں کہ وہ بھی اللہ کے فضل میں سے پا سکتے ہیں، حاصل کر سکتے ہیں۔ انہیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ معنی سمجھ میں اگیا؟
و ان الفضل بید اللہ، اور یہ کہ الفضل جو ہے اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ یؤتیہ من یشاء، وہ عطا کرتا ہے۔ یؤتیہ من یشاء، وہ عطا کرتا ہے، من یشاء، جس کو چاہتا ہے۔ واللہ ذو الفضل العظیم، اور اللہ بڑے فضل والے ہیں۔
یہ ایک ترجمہ۔ یہ اچھی طرح سمجھ میں ااگیا۔ دوسرا ترجمہ: لاللہ یعلم، یہاں پر یہ جو لا ہے، یہ زائد ہے۔ یہ لا زائد ہے، تاکہ کلام میں تاکید پیدا کرنے کے لیے بھئی۔ تو لاللہ یعلم، یہاں نفی نہیں ہے، بلکہ اثبات ہے، یہ لا زائد ہے۔
لاللہ یعلم، اب کیا ترجمہ کریں گے؟ تاکہ جان لیں وہ۔ تاکہ وہ جان، تاکہ جان لیں اہل کتاب۔ اللہ یقدرون علی شیء من فضل اللہ، کہ وہ اللہ کے فضل میں سے کسی چیز پر قادر نہیں ہے۔ کہ وہ اللہ کے فضل میں سے کسی چیز پر قادر نہیں ہے۔
یہ اہل کتاب یہ حسد کرتے ہوئے اپ پر ایمان نہیں لاتے، وہ کہتے ہیں کہ اخری پیغمبر کو بنو اسرائیل میں سے آنا چاہیے تھا، یہ بنو اسماعیل میں سے کیسے ا گیا؟ کس میں سے آنا چاہیے تھا؟ بنو اسرائیل میں سے آنا چاہیے تھا، یہ بنو اسماعیل میں سے کیسے ا گیا؟
اللہ فرماتے ہیں، ہم نے بنو اسرائیل میں اخری پیغمبر کو بھیجا۔ ہماری مرضی ہے، جس کو چاہیں نبوت دیں اور جس قوم میں چاہیں نبوت کو رکھیں۔ تو ہم نے بھیجا حضور علیہ السلام کو، اس پیغمبر کو بنو اسماعیل میں، تاکہ جان لیں اہل کتاب کہ وہ اللہ کے فضل میں سے کسی چیز پر قادر نہیں۔ کہ اللہ کے فضل، ان کے قبضے میں نہیں ہے، بلکہ اللہ کی اپنی مرضی ہے، جس کو عطا فرمانا چاہے۔
تاکہ وہ جان لے اہل کتاب کہ وہ قادر نہیں ہیں کسی چیز پر بھی اللہ کے فضل میں سے۔ و ان الفضل بید اللہ، اور یہ کہ فضل جو ہے، وہ اللہ ہی کے قبضے میں ہے۔ یؤتیہ من یشاء، وہ عطا کرتا ہے، جس کو چاہتا ہے۔ واللہ ذو الفضل العظیم، اور اللہ بڑے فضل والے ہیں۔
تو یہاں میں نے دو تفسیریں بیان کی۔ ایک تفسیر کے مطابق لاللہ یعلم، اسی طرح ترجمہ بھئی، تاکہ کہیں تاکہ یہ نہ جان لیں اہل کتاب اہل کتاب، تاکہ اہل کتاب یہ نہ جان لیں۔ دوسری تفسیر لا زائد ہے۔ تو کیا ترجمہ ہوگا؟ لاللہ یعلم اھل الکتاب، تاکہ، ہاں تاکہ اہل کتاب جان لیں بھئی، تاکہ اہل کتاب جان لیں۔ اور یاد رکھیے، یہ دوسری تفسیر راجح ہے بھئی۔ زیادہ مفسرین اسی دوسری تفسیر کی طرف گئے ہیں کہ یہ لا یہاں پر زائد ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
چلیے بس، یہی ہے المرام۔ واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔