اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم
والذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ أضل أعمالهم والذین آمنوا وعملوا الصالحات وآمنوا بما نزل علی محمد وهو الحق من ربهم كفر عنهم سيئاتهم وأصلح بالهم
یہ آج ہم سورہ محمد پڑھیں گے بھئی سورہ محمد سورہ محمد اس لیے اس کو کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی دوسری آیت میں ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک محمد آ رہا ہے
تو اسی سے یہ محمد کے نام سے موسوم ہوئی بھئی
اس سورت کو سورہ قتال بھی کہتے ہیں قتال
چونکہ اس سورت کے اندر قتال کے جہاد کے حکم کو بیان کیا گیا ہے اس لیے اس کو سورہ قتال بھی کہتے ہیں
چونکہ اس میں قتال کا حکم ہے جہاد کا حکم ہے
الذین کفروا وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا وصدوا عن سبیل اللہ اور روکا اللہ کے रास्ते से أضل أعمالهم اللہ نے ضائع کر دیے أعمالهم ان کے اعمال
وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روکا أضل أعمالهم اللہ نے ان کے اعمال ضائع کر دیے اکارت کر دیے
والذین آمنوا وعملوا الصالحات اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور اچھے عمل کیے وآمنوا بما نزل علی محمد اور ایمان لائے اس چیز پر نزل علی محمد جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی
وہ کیا چیز ہے بھئی؟ قرآن بھئی کیا مراد ہے اس سے؟ قرآن اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور اچھے عمل کیے اور ایمان لائے اس چیز پر جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی یعنی کہ قرآن
وهو الحق من ربهم اور وہی حق ہے من ربهم ان کے پروردگار کی طرف سے
یہ اور وہ قرآن حق ہی ہے من ربهم ان کے پروردگار کی طرف سے
وہ قرآن حق ہی ہے من ربهم ان کے پروردگار کی طرف سے ہے
بھئی پہلے آیا والذین آمنوا وہ لوگ جو ایمان لائے
اور آگے پھر آیا وآمنوا بما نزل علی محمد اور ایمان لائے اس چیز پر جو نازل کی گئی محمد پر یعنی قرآن پر
اگرچہ پہلے آمنو میں بھی یہ داخل تھا وہ لوگ جو ایمان لائے بھئی ایمان کے اندر قرآن پر ایمان لانا ضروری ہے یا نہیں ہے بھئی؟ قرآن پر بھی ایمان لانا ضروری تو وہ پہلے آمنو میں بھی داخل تھا
لیکن پھر اس کو دوبارہ ذکر کیا گیا
اس کی اہمیت بتلانے کے لیے
اس کی اہمیت بتلانے کے لیے تو یہ تخصیص بعد التعمیم ہے
تخصیص بعد التعمیم کہ پہلے ایک چیز ذکر ہو چکی ہو اور اس کو بعد میں الگ خاص طور پر ذکر کر دیا جائے
اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور اچھے عمل کیے اور ایمان لائے اس قرآن پر جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا گیا وهو الحق من ربهم اور وہ برحق اور وہ برحق ہی ہے من ربهم ان کے پروردگار کی طرف سے
کفر عنهم سيئاتهم كفر عنهم دور کر دی ختم کر دی ان سے اللہ نے سيئاتهم ان کی برائیاں وأصلح بالهم اور اصلاح کر دی بالهم آی حالهم
بال کا کیا معنی ہے؟ حال یاد رکھیے بال کا بال دل کو بھی کہتے ہیں
اور بال حال کو بھی کہتے ہیں حالت کو بھئی حالت
کفر عنهم سيئاتهم دور کر دی اللہ نے ان سے ان کی برائیاں وأصلح بالهم اور اصلاح کر دی ان کے حال کی یا اصلاح کر دی ان کے قلب کی
ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ اللہ فرما رہے ہیں
کہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور اچھے عمل کیے قرآن پر ایمان لائے اللہ نے ان کے گناہوں کو ختم کر دیا معاف کر دیا ان کی برائیوں کو ان سے دور کر دیا وأصلح بالهم اور ان کے حال کو کہ اللہ نے اصلاح فرما دی ان کے حال کو اللہ نے سنوار دیا
کفر عنهم سيئاتهم وأصلح بالهم دور کر دی ان سے ان کی برائیاں وأصلح بالهم اور سنوار دیا ان کے حال کو
ذلك بأن الذين كفروا اتبعوا الباطل اور یہ اس وجہ سے
یہ اس وجہ سے ذلك کہ یہ اشارہ ہے پیچھے جو کفار کے اعمال ذکر ہوئے کہ کفار کے اعمال کو ضائع کر دیا گیا
اور مومنین کے مومنین جو ہیں ان سے برائیوں کو ختم کر دیا گیا اور ان کے حال کو سنوار دیا گیا وہ اس وجہ سے
جی تو یہ ذلك کے لیے اس کی طرف اشارہ ہے وہ جو مومنین کے وہ جو کفار کے اعمال ضائع کر دیے گئے
اور وہ جو نیکی مومنین کے گناہوں کو معاف کر کے ان کے حال سنوار دیے گئے تو یہ اس وجہ سے
ذلك یہ جو ہے بأن آی بسبب أن با کون سی ہے سببیہ
ذلك بأن الذين كفروا اتبعوا الباطلا یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اتبعوا الباطلا انہوں نے پیروی باطل کی
انہوں نے پیروی باطل کی یا یوں ترجمہ کر لیں انہوں نے پیروی کی جھوٹ کی
وأن الذين آمنوا اتبعوا الحق من ربهم اور وہ لوگ جنہوں نے جو ایمان لائے اتبعوا الحق انہوں نے پیروی کی حق کی من ربهم جو ان کے رب کی طرف سے ہے
समझ में आया بھئی ترجمہ سمجھ میں آگیا کہ یہ جو کفار کے اعمال ضائع کیے گئے یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے باطل کی پیروی کی
اور یہ جو مومنین کی برائیاں اور گناہ ختم معاف کر دیے گئے اور ان کے حال سنوار دیے گئے اس وجہ سے کہ انہوں نے حق کی پیروی کی جو ان کے رب کی طرف سے تھا
تو دیکھیے ایمان کی نعمت کے فوائد دیکھیے
کہ گناہ معاف
اور نیکیاں ثابت بھئی
نیکیاں ثابت بھئی
اور کفار
ان کے نیکیاں ضائع
اور گناہ لازم بھئی گناہ ثابت بھئی
مومنین کے گناہ معاف
اور
نیکیاں ثابت بھئی
اور کفار کے ان کی نیکیاں ضائع
اور گناہ لازم بھئی گناہ عذاب ملے گا بھئی
تو کفار جو ہیں ان کے اعمال اللہ نے ضائع فرما دیے
ان کے یعنی آخرت میں اس میں ان کو کوئی اس نیکیوں پر ثواب نہیں ملے گا
وہ جو نیکی کرتے ہیں دنیا ہی میں ان کا بدلہ ان کو دے دیا جاتا ہے دنیا ہی میں
نیکیوں کی مثال صفر کی طرح ہے
کسی جتنی نیکیاں کرو گے عدد کے ساتھ صفر بڑھتے چلے جائیں گے
صفر
اور ایمان کی مثال عدد کی طرح ہے
یعنی ایک مثلاً
ایک کے ایک ہو یعنی ایمان ہو پھر اس کے ساتھ نیکیاں کرو گے صفر بڑھتے چلے گئے دس سے سو سو سے ہزار ہزار سے دس ہزار دس ہزار سے لاکھ وہ بڑھتی چلی گئیں
ان کا اعتبار ہے کیونکہ ان کے ساتھ صفر کے ساتھ عدد یعنی ایمان موجود ہے
اور گناہ اس اور کفار جو ہیں کفار
ان کی نیکیاں تو ہیں لیکن ساتھ عدد نہیں تو صفر چاہے دس ہوں بیس ہوں پچاس ہوں جب ساتھ عدد ہی نہیں وہ صفر کا صفر ہی ہے کوئی ان کو نفع نہیں دے گا بھئی
كذلك يضرب الله للناس أمثالهم اور اسی طرح بھئی اسی طرح بیان فرماتے ہیں اللہ لوگوں کے لیے أمثالهم آی أحوالهم ان کے أحوال بھئی
اسی طرح بیان فرماتے ہیں اللہ لوگوں کے لیے ان کے أحوال جیسے یہ اوپر بیان ہوئے مومنین کے أحوال بھی اور کفار کے أحوال بھی
فإذا لقيتم الذين كفروا پس جب تم ملاقات کرو ان لوگوں سے جنہوں نے کفر کیا
فضرب الرقاب
فضرب الرقاب تو گردنیں مارو
تو گردنیں مارو
یعنی ان کو قتل کرو قتل کرو
یہ جہاد کا حکم آگیا بھئی
فضرب الرقاب
اصل میں ترکیب کے اعتبار سے
یوں تھا بھئی فضر یوں ہے فضربوا
فضرب الرقاب ضربا
فضرب الرقاب ضربا فضربوا امر ہے
الرقاب مفعول ہے اور ضربا مفعول مطلق ہے
پھر کیا کیا گیا؟
فضربوا کو حذف کر لیا گیا
اور ضربا جو مفعول مطلق تھا اس کو فعل کا قائم مقام کر کے اس کی جگہ پر لے آئے اور الرقاب کی طرف اضافت کر دی گئی بھئی
فضرب الرقاب تو گردنیں مارو
یعنی قتل کرو کفار کو
حتى إذا أثخنتموهم
أثخنا يثخنو کے معنی ہوتے ہیں خوب خون ریزی کرنا خوب قتل کرنا
حتى إذا أثخنتموهم یہاں تک کہ جب تم ان کی خوب خون ریزی کر چکوجن کو خوب قتل کر چکوج
فشدوا الوثاق
فشدوا الوثاق
شدد يشدد کے معنی مضبوطی سے باندھنے کے ہیں بھئی
شدد يشدد مضبوطی سے باندھنا
وثاق بھئی وثاق
وہ چیز جس کے ساتھ باندھا جائے رسی زنجیر وغیرہ بھئی
جس سے قیدیوں وغیرہ کو کیا کیا جائے جس چیز سے باندھا جائے اس کو وثاق کہتے ہیں رسی زنجیر وغیرہ
فشدوا الوثاق
تو مضبوطی سے باندھ لو الوثاق بندھ بھئی
تو مضبوطی سے بندھ باندھ لو
معنی سمجھ میں آگیا بھئی
فإذا لقيتم الذين كفروا جب تم ملاقات کرو کافروں سے
فضرب الرقاب تو گردنیں مارو حتى إذا أثخنتموهم فشدوا الوثاق یہاں تک کہ جب تم انہیں خوب قتل کر چکو تو مضبوطی سے بندھ مضبوطی سے بندھ باندھ لو
یعنی ان کو مضبوطی سے باندھ لو مضبوطی سے گرفتار کر لو
تو کیا ترجمہ میں نے کیا فإذا لقيتم الذين كفروا جب تم ملاقات کرو
ان سے ان لوگوں سے جنہوں نے کفر کیا
بعضوں نے کہا بعض علماء نے کہ یہاں لقاء بمعنے
لڑائی کے ہے مقابلے کے ہے بھئی فإذا لقيتم الذين كفروا پس جب تمہارا مقابلہ ہو کافروں سے
سمجھ میں آیا بھئی معنیٰ فإذا لقيتم الذين كفروا پس جب مقابلہ ہو تمہارا کافروں سے فضرب الرقاب تو ان کی گردنیں مارو حتى إذا أثخنتموهم یہاں تک کہ جب ان کو خوب قتل کر چکو فشدوا الوثاق تو ان کو مضبوطی سے باندھ مضبوطی سے بندھ باندھ لو
فإما منا بعد وإما فداء
پس اس کے بعد
منن احسان کو کہتے ہیں
مننا یا منو کے معنی احسان کرنا
فداء فدیہ لینا بھئی فدیہ لینا
مال لینا مال لے کر قیدیوں کو چھوڑنا
تو یہ جو اسے فدیہ کہتے ہیں بھئی فدیہ
تو اللہ فرما رہے ہیں فإما منام بعد تو اس کے بعد یا تو احسان کرو وإما فداء یا فدیہ لے کر ان کو چھوڑ دو
یا تو احسان کرو ویسے ہی ان کو چھوڑ دو یا کیا کرو فدیہ لے کر ان کو چھوڑ دو
مننا یاد رکھیے یہ مفعول مطلق ہے فعل محذوف کے لیے
فإما تمنون منا
پس یا تو تم کیا کرو گے
احسان کرو گے اس کے بعد وإما تفدون فداء یا اس کے بعد کیا کرو گے
فدیہ لو گے
حتى تضع الحرب أوزارها
وضع يضع کے معنی رکھنے کے ہیں یہاں تک کہ رکھ دے الحرب جنگ
یہاں تک کہ لڑائی یا جنگ رکھ دے أوزارها
اپنے ہتھیار
ہاں ضمیر حرب کو راجع ہے بھئی
تو یہ مونث سماعی ہے یہاں تک کہ رکھ دے لڑائی اپنے ہتھیار
تو أوزار جمع ہے وزر کی وزر بوجھ کو بھی کہتے ہیں ہتھیار کو بھی کہتے ہیں بھئی
حتى تضع الحرب أوزارها یہاں تک کہ لڑائی اپنے ہتھیار رکھ دے لڑائی اپنے ہتھیار رکھ دے یعنی لڑنے والے اہل حرب کیا کریں اپنے ہتھیار رکھ دیں
ذلك یہ خبر ہے مبتضا محذوف ہے
الأمر ذلك حکم یہی ہے
الأمر ذلك حکم
یعنی تمہارے لیے یہی حکم ہے ذلك کے لیے اشارہ ہے بھئی وہ جو پیچھے آیا تھا فضرب الرقاب کیا کرو
گردنیں مارو تمہارے لیے اے مسلمانوں یہی حکم ہے ولو يشاء الله لانتصر منهم اور اگر اللہ چاہتے تو البتہ انتصر کے کیا معنی پہلے بھی یہ لفظ گزر چکا بھئی
بدلہ لینا بدلہ لینا ولو يشاء الله اور اگر اللہ چاہے لانتصر منه تو البتہ بدلہ لے لیں سے انتقام لے لیں ان سے ولكن ليبلو بعضكم ببعض
لیکن تاکہ آزمائے
ليبلو
لیکن تاکہ اللہ آزمائش کرے ليبلو کے بعد الف ہے بھئی اس الف پر دائرہ لگا ہوا ہے
ہے یہ بعض جگہ الف آتا ہے قرآن میں لیکن اس کو پڑھا نہیں جاتا بھئی تو یہ علامت اس پر مقرر کی گئی ہے اس کے اوپر دائرہ لگا ہو الف پر تو وہ الف نہیں پڑھا جائے گا بھئی۔
ولکِن لیبلو بعضکم ببعضن لیکن تاکہ آزمائش کرے امتحان لے اللہ بعضکم ببعضن۔
بعض کا بعض کے ذریعے بعض کا بعض کے ذریعے یعنی ایک دوسرے کے ذریعے ولکِن لیبلو بعضکم ببعضن لیکن تاکہ اللہ امتحان لے ایک دوسرے کے ذریعے تم میں سے ایک کا دوسرے کے ذریعے تم میں سے ایک کا دوسرے کے ذریعے اللہ امتحان لیں۔
ولکِن تو بامحاورہ ترجمہ یوں ہوگا بھئی ولکِن لیبلو بعضکم ببعضن لیکن تاکہ اللہ تمہارا تمہاری آزمائش کرے تمہارا امتحان لے ایک دوسرے کے ذریعے اور وہ لوگ جو قتل کیے گئے اللہ کے راستے میں فَلن یُضلَّ اعمالھم پس اللہ ہرگز ضائع نہیں کرے گا ان کے اعمال کو۔
اللہ ہرگز ان کے اعمال کو ضائع نہیں کرے گا سیھدیھم اللہ۔
ہدایت کے کیا معنی ہیں بھئی ہدایت کسے کہتے ہیں؟ ہدایت کے دو معنی بیان ہو چکے ایک معنی ہے اِراءۃ طریق راستہ دکھانا اور ایک کیا ہے ایصال الی المطلوب مطلوب یعنی مقصود تک پہنچا دینا منزل تک پہنچا دینا یہاں یہی معنی ہے سیھدیھم عنقریب اللہ ان کو ان کی منزل تک پہنچا دیں گے یعنی جنت تک بھئی۔
شہداء کی بات ہو رہی ہے وہ لوگ جو اللہ کے راستے میں قتل کیے گئے اللہ ہرگز ان کے اعمال کو ضائع نہیں فرمائیں گے سیھدیھم عنقریب اللہ ان کو ان کی منزل یعنی جنت تک پہنچا دیں گے و یصلح بالھم اور اللہ ان کے حال سنوار دے گا۔
اللہ ان کے حال سنوار دے گا و یدخلھم الجنۃ اور اللہ ان کو جنت میں داخل کریں گے عرفاھالھم جس کی پہچان کروا دی ہے انہیں جس کی اللہ نے ان کو پہچان کروا دی ہے بھئی اس کو دنیا ہی میں ان کے لیے بیان کر دیا گیا کہ اگر نیک عمل کرو گے تو تمہیں جنت ملے گی تو اللہ فرما رہے ہیں و یدخلھم الجنۃ اللہ ان کو اس جنت میں داخل کریں گے عرفاھالھم جس کی ان کو پہچان کروا دی ہے بھئی جس کی ان کی تعریف کر دی گئی ان کے لیے یہ ایک معنی۔
عرفا کا کیا معنی کیا میں نے پہچان کہاں پر کروائی گئی دنیا میں جو بتلا دیا گیا بھئی قرآن میں حدیث میں اور ایک معنی دوسرا معنی عرفاھالھم جس کی ان کو پہچان کروا دی یعنی بھئی پہلے ذکر ہو چکا کہ جنتی جو ہیں وہ جنت میں اپنے مقام کو پہچان لیں گے بھئی۔
ہر ایک اپنی اپنے جو مقام اس کے لیے اللہ نے مقرر کیا ہوگا وہیں پہنچے گا جنت میں جب داخل ہوں گے اجازت ملے گی اللہ کی طرف سے جہاں جنت میں تم رہنا چاہتے ہو وہاں چلے جاؤ اور ہر شخص کے لیے جو اللہ نے بنائی ہوگی وہ خود ہی سیدھا وہاں پہنچ جائے گا بھئی پہنچ جائے گا۔
اور کہتے ہیں دنیا میں انسان جس طرح اپنے گھر کو پہچانتا ہے بھئی دن رات آنا جانا لگا رہتا ہے جنت میں اس سے بھی بڑھ کر اپنی جگہ کو وہ پہچانے گا بھئی اس سے بھی بڑھ کر۔
تو معنی کیا ہوا و یدخلھم الجنۃ عرفاھالھم اور داخل کر دے گا ان کو اس جنت میں عرفاھالھم جس کی ان کو پہچان کروا دے گا یا پہچان کروا دی گئی ہے یعنی اس میں کوئی اسی طرح معلوم ہوگا جیسے ان کے اپنے گھر ہیں اپنی جگہ ہے۔
تو اس کی تو اس کی ان کو پہچان کروا دے گا یوں ترجمہ کر لیں و یدخلھم الجنۃ عرفاھالھم اور داخل کر دے گا ان کو اس جنت میں جس کی ان کو پہچان کروا دے گا۔
فإذا لقیتم الذین کفروا فضرب الرقاب پس جب تمہارا مقابلہ ہو ان لوگوں سے جنہوں نے کفر کیا فضرب الرقاب تو ان کی گردنیں مارو حتی اذا اسنتُموھم یہاں تک کہ جب تم ان کی خوب خون ریزی کر چکے فشدّوالوثاق تو مضبوطی سے بند باندھ لو فاما منّام بعد واما فداءً پس اس کے بعد یا تو احسان کرنا ہے اس کے بعد یا تو احسان کرو واما فداءً یا فدیہ لے فدیہ لے لو حتی تضع الحرب اوزارھا یہاں تک کہ لڑائی اپنے ہتھیار رکھ دے لڑائی اپنے ہتھیار اتار دے ذالک الامر ذالک یہی حکم ہے یہ جو گردنیں مارنے کا ہے یہی تم حکم ہے یعنی کس کے لیے ہے مومنین کے لیے حکم اللہ کی طرف سے یہی ہے و لو یشاء اللہ اور اگر اللہ چاہیں تو انتقام ان سے لے لیں۔
اللہ چاہیں تو خود ان سے انتقام لے لیں بھئی اللہ ان سب کو ہلاک کر دیں وہ اللہ اس پر قادر ہیں لیکن یہ مومنین کو ان کے ساتھ لڑائی کا حکم دیا گیا مقصد کیا ہے اللہ آگے فرما رہے ہیں لیکن تاکہ اللہ تمہارے ذریعے آزمائش کر لے ایک دوسرے کی کہ کون اللہ کے راستے میں ثابت قدم رہتا ہے اور اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں کرتا۔
والذین قتلوا اور وہ لوگ جو قتل کیے گئے اللہ کے راستے میں فَلن یُضلَّ اعمالھم پس اللہ ہرگز ان کے اعمال ضائع نہیں فرمائیں گے عنقریب اللہ ان کو منزل تک پہنچا دیں گے یعنی جنت تک اور اس اور اللہ سنوار دیں گے ان کے حال کو اور داخل کر دیں گے ان کو اس جنت میں جس کی ان کو پہچان کروا دے گا۔
معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ یہاں آیا فاما منّام بعد واما فداءً۔
بھئی اس سے پہلے وہ غزوہ بدر کا واقعہ ذکر ہو چکا کہ غزوہ بدر کے موقع پر مسلمانوں نے ستر کفار کو گرفتار کیا تھا پھر آپس میں مشورہ ہوا کہ کیا کیا جائے فدیہ لیا جائے یا قتل کر دیا جائے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے مشورہ دیا تھا کہ سب کے حوالے اپنے اپنے رشتہ دار کیے جائیں ہر ایک اپنے اپنے رشتہ دار کو قتل کرے اور جب کہ حضرت صدیق اکبر اور باقی صحابہ نے مشورہ دیا فدیہ لینے کا اور حضور علیہ السلام نے پھر اس مشورے کو پسند کیا اور فدیہ لے کے قیدیوں سے فدیہ لے کر ان کو چھوڑ دیا جائے۔
اس پر اللہ کی طرف سے جو اللہ کی طرف سے آیات نازل ہوئیں اور ناراضگی کا اظہار اللہ نے فرمایا کہ اس موقع پر تمہیں ان کو چھوڑنا نہیں چاہیے تھا بلکہ کیا کرنا چاہیے تھا ان کو قتل کرنا چاہیے تھا تاکہ کفر کا زور ٹوٹ جائے بھئی۔
تو اس موقع پر اللہ کی طرف سے فدیہ لینے پر ناراضگی کا اظہار ہوا بھئی۔
تو اب یہ بھی احتمال تھا کہ شاید یہ ہمیشہ کے لیے یہی حکم ہے فدیہ لینے کی اجازت کبھی بھی نہیں ہے تو یہاں بتلا دیا گیا بھئی کہ اس کے بعد کیا کر سکتے ہو کہ احسان کرتے ہوئے ویسے بھی چھوڑ سکتے ہو اور فدیہ بھی لے سکتے ہو اور اس موقع پر جو اللہ کی طرف سے ناراضگی کا اظہار ہوا تھا کیونکہ وہ ایک خاص موقع تھا بھئی پہلی لڑائی ہوئی تھی اور کفر بہت زیادہ بے باک اور نڈر تھا اس موقع پر ضروری تھا کہ اس کا سر اچھی طرح کچل دیا جائے بھئی تاکہ پھر ان کو مسلمانوں کا راستہ روکنے کی ہمت نہ ہو تو بتلا دیا گیا کہ وہاں جو فدیہ لینے پر ناراضگی کا اظہار ہوا تھا اور منع کیا گیا تھا وہ ہمیشہ کا حکم نہیں تھا وہ اس موقع کی مناسبت سے تھا اور باقی عام حکم یہ ہے کہ ان کو ویسے بھی چھوڑ سکتے ہو اور چاہے تو فدیہ لے کر چھوڑ دو بھئی۔
اور دیگر آیات سے جو تفصیلی احکام اور تفصیلات بھی آتی ہیں شروع کی سپاروں میں کہ اس موقع پر یاد رکھیے بھئی مسلمان حاکم کو چار امور میں سے جس کو بھی وہ چاہے اختیار کر سکتا ہے۔
جنگی قیدیوں کو جب پکڑ لے تو چار امور میں سے جو چاہے وہ کر سکتا ہے۔
یا تو کیا کرے ان کو ویسے چھوڑنا چاہے وہ ویسے بھی امیر چھوڑ سکتا ہے ان کے قیدیوں کو تاکہ ان کے احسان ان پر ہوگا تو شاید یہ اسلام کی طرف راغب ہو جائیں یا فدیہ لے کر بھی چھوڑا جا سکتا ہے ان کو تاکہ اس سے مسلمانوں کو مال حاصل ہو۔
ان سب کو قتل بھی کر سکتا ہے اگر مناسب یہ سمجھتا ہے کہ اگر یہ جائیں گے تو پھر ان کے ساتھ مل کر ہمارے خلاف لڑیں گے تو ان کو قتل بھی کر سکتا ہے۔
اور چاہے تو غلام بنا کر بھی ان کو رکھا جا سکتا ہے بھئی چاروں کی اجازت ہے امیر جس میں بہتری دیکھے اس کے مطابق چل سکتا ہے۔
فدیہ بھی لے سکتا ہے ویسے بھی چھوڑ سکتا ہے قتل بھی کر سکتا ہے اور اور غلام بنا کر بھی رکھ سکتا ہے تاکہ مسلمانوں کے کام آئیں خدمت کریں ان کی بھئی۔
صورت سمجھ میں آ گئی تو امیر کو ان چاروں باتوں کا اختیار ہے۔
ہاں اگر کوئی معاہدہ ہوا ہو آپس میں لڑائی ختم ہوئی یا لڑائی سے پہلے ایک معاہدہ ہوا ہے کہ جو آپس میں جو قیدی ایک دوسرے کے پکڑے جائیں گے ان کو قتل نہیں کرنا ان کا پھر آپس میں تبادلہ کر لیں گے یا جو بھی صورت بنا لیں گے جیسا کہ اج کل عام طور پر بین الاقوامی معاہدے موجود ہیں بھئی تو اگر اس قسم کا معاہدہ ہوا ہو اور ان مسلمان اس مسلمان ملک نے بھی اس کو تسلیم کیا ہو اس پر دستخط کیے گئے ہوں بھئی مان لیا گیا ہو تو پھر اس معاہدے پر عمل کرنا شرعا بھی واجب ہوگا بھئی جب معاہدہ کر لیا ہے تو شرعا بھی اس پر عمل کرنا واجب ہوگا پھر قتل نہیں کر سکتے پھر غلام نہیں بنا سکتے اگر معاہدہ ہے۔
یاایھا الذین آمنوا ان تنصروا اللہ ینصرکم و یثبت اقدامکم اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو ان تنصروا اللہ اگر تم اللہ کی مدد کرو گے ینصرکم تو وہ بھی تمہاری مدد کرے گا و یثبت اقدامکم۔
و یثبت اقدامکم اور ثابت رکھے گا تمہارے قدموں کو جما دے گا تمہارے قدموں کو۔
اے ایمان والو اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ بھی تمہاری مدد کریں گے بھئی کیا معنی اللہ کی مدد کرو گے؟ مراد یہ ہے کہ یعنی اگر اللہ کے دین کی اور اللہ کے پیغمبر کی مدد کرو گے تو یہ دراصل اللہ ہی کی مدد کرنا ہے تو اللہ بھی کیا کریں گے تمہاری مدد کریں گے۔
یاایھا الذین آمنوا ان تنصروا اللہ ینصرکم و یثبت اقدامکم اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کریں گے و یثبت اقدامکم اور تمہیں ثابت قدم رکھیں گے۔
والذین کفروا فتعسّ لھم و أضلّ اعمالھم اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا فتعسّ لھم تعسّ یہ مفعول مطلق ہے فعل محذوف کے لیے۔
یاد رکھیے تعسّ تعسّ کا ایک معنی ہے منہ کے بل زمین پر گرنا بھئی۔
منہ کے بل زمین پر گرنا بھئی۔
اور ایک معنی ہے ہلاک کرنا ایک کیا معنی ہے؟ ہلاک کرنا منہ کے بل زمین پر گرنا یہ بھی اس کا معنی اور ہلاک کرنا یہ بھی اس کا معنی ہے بھئی۔
تو اگر منہ کے بل زمین پر گرنا ہو اس کا معنی وہ معنی یہاں کریں تو پھر یہ فعل لازم ہے۔
کیا ہے؟ منہ کے بل زمین پر گرنا بھئی مثلاً آپ کہتے ہیں زید منہ کے بل زمین پر گرا تعسّ زیدٌ زید منہ کے بل زمین پر گر گیا تو اس صورت میں فعل جو محذوف یہاں نکالیں گے وہ معروف نکالیں گے۔
فتعسُ تعساً فتعسُ تعساً یہ اس کے لیے مفعول مطلق ہوگا۔
اور اگر اگر اس کا معنی ہلاک کرنے کے ہو تو پھر یا تو یہ فعل نکالا جائے گا تعسّ اللہ تعسّلھم فاعل کون ہلاک کرنے والے کون؟ اللہ تعالی بھئی یا فعل مجہول نکالنا پڑے گا اگر فاعل کے بغیر آپ لانا چاہتے ہیں۔
فتُعسُ تعساً بھئی فتُعسُ تعساً ہلاک کیے گئے وہ ہلاک کیے گئے بھئی معنی سمجھ میں اگیا بھئی؟ تو یہ مفعول مطلق ہے اور اس کے یہ بددعائیہ کلمہ ہے بھئی بددعائیہ کلمہ۔
بددعائیہ کلمہ تو اس کے فعل کو حذف کرنا واجب ہے بھئی۔
اور کیا ترجمہ کریں گے؟ فتَعسّلھم یہ منہ کے بل زمین پر گرے ہیں۔
فتعسّلھم یہ منہ کے بل زمین پر گریں یہ اوندھے منہ زمین پر گریں یا یہ معنی یہ ہلاک کیے جائیں بددعائیہ کلمہ بھئی یہ ہلاک کیے جائیں یہ بعضوں نے کہا یہ بددعائیہ کلمہ ہے تو اسی کے مطابق ترجمہ کر لیں بھئی۔
یہ منہ کے بل زمین پر گریں اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا وہ منہ کے بل زمین پر گریں یا وہ ہلاک ہو جائیں یہ بعضوں نے کہا بددعائیہ کلمہ ہے اور اگر بددعائیہ کلمہ نہ بنایا جائے اس کو ویسے ہی کلام عام کلام کی طرح رکھا جائے تو معنی ہوگا اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا وہ ہلاک کیے جائیں گے۔
وہ ہلاک کیے جائیں گے پہلے کیا معنی تھا؟ وہ ہلاک کیے جائیں اور اب کیا ترجمہ کر رہا ہوں میں؟ وہ ہلاک کیے جائیں گے یا وہ اوندھے منہ گرائے جائیں گے بھئی فرق سمجھ میں آیا دونوں میں بھئی؟ تو یہ مفعول مطلق میں نے بتلایا بھئی اور بعض بڑے علماء نے یہ بھی لکھا کہ اس کو مفعول بہ بھی بنایا جا سکتا ہے۔
کیا بنایا جا سکتا ہے؟ مفعول بہ بھی تو فقضا تعساً لھم ای فقض اللہ تعساً لھم۔
اللہ نے فیصلہ کر دیا ان کے لیے کس چیز کا؟ تعساً ہلاکت کا لھم ان کے لیے اللہ نے ان کے لیے ہلاکت کا فیصلہ کر دیا۔
والذین کفروا فتعسّلھم و أضلّ اعمالھم اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا پس وہ ہلاک ہوں
وائل اعمالہم اور اللہ نے ان کے اعمال ضائع کر دیے ذلک بانہم کرہوا ما انزل اللہ ذلک یہ اشارہ ہے پیچھے جو ان کے لیے ہلاکت اور ان کے اعمال کے ضائع کرنے کا ذکر ہوا کہ وہ ہلاک ہوں گے اور اللہ نے ان کے اعمال کیوں ضائع کر دیے کہتے ہیں ذلک بانہم باسب یہ ہے یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے ناپسند کیا کرہوا انہوں نے ناپسند کیا ما انزل اللہ اس چیز کو جس کو اللہ نے نازل کیا فاحبط اعمالہم تو اللہ نے ضائع کر دیے ان کے اعمال۔
احبطہ کے معنی بھی ضائع کرنے اور اکارت کرنے کے تو اللہ نے ان کے اعمال ضائع کر دیے افلم یسیرو فی الارض کیا یہ لوگ چلے نہیں تھے چلے پھرے نہیں زمین میں سیر کا معنی زمین میں چلنا پھرنا گھومنا افلم یسیرو فی الارض کیا یہ لوگ گھومے نہیں زمین میں فینظروا پس دیکھتے کیف کان عاقبت الذین من قبلہم کہ کیسا تھا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے ہوئے کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے گزرے۔
دمر اللہ علیہم دمر یہ دمر تدمیر کے معنی گزشتہ سبق میں بھی گزر چکا بھئی کیا معنی ہے ہلاک کرنا بھئی تباہ کرنا دمر اللہ تو یہاں دمر اللہ علیہم بھئی لفظوں کے مطابق ترجمہ کرنے کی کس طرح کریں گے دمر اللہ علیہم ہلاکت ڈالی اللہ نے علیہم ان پر اللہ نے ان پر ہلاکت ڈال دی مراد یہ اللہ نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔
وللکافرین امثالھا وللکافرین امثالھا اور کافروں کے لیے اس جیسے احوال ہوتے ہیں۔
وللکافرین امثالھا اور کافروں کے لیے اس جیسے احوال ہوتے رہتے ہیں اسی طرح کے احوال ہوتے ہیں افلم یسیرو فی الارض فینظروا کیف کان عاقبت الذین من قبلہم کیا یہ لوگ چلے پھرے نہیں زمین میں پس دیکھتے کہ کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے دمر اللہ علیہم اللہ نے ان کو تباہ و برباد کر دیا وللکافرین امثالھا اور کافروں کے لیے ایسے احوال ہوتے رہتے ہیں ذلک بان اللہ مولا الذین امنو وان الکافرین لا مولا لہم یہ اس وجہ سے ہے کافروں کا یہ انجام کیوں ہوتے رہتے ہیں ان کے یہ احوال کیوں ہوتے ہیں ذلک جس کی طرف اشارہ ہے ذلک یہ جو ہے بان با سببیہ ہے بس سبب ان اور یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ جو ہے وہ وہ کارساز ہے وہ مددگار ہے الذین امنو ان لوگوں کا جو ایمان لائے وان الکافرین لا مولا لہم اور کافر جو ہیں ان کا کوئی کارساز نہیں۔
ذلک بان اللہ مولا الذین امنو وان الکافرین لا مولا لہم یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ مومنوں کا کارساز ہے اور کافر مومن اللہ جو ہیں مومنوں کے لیے کارساز ہیں اور کافروں کے لیے کوئی کارساز نہیں۔
ان اللہ یدخل الذین امنو وعمل الصالحات جنات تجری من تحتھا الانہار بے شک اللہ داخل فرمائیں گے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور اچھے عمل کیے جنات ایسے باغات میں تجری من تحتھا الانہار کہ بہتی ہوں گی اس کے نیچے سے نہریں والذین کفروا اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا یتمتعون وہ نفع اٹھا رہے ہیں وہ نفع اٹھا رہے ہیں۔
یعنی عیش کر رہے ہیں بمحاورہ ترجمہ کیا کر لیں عیش کر والذین کفروا یتمتعون اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا عیش کر رہے ہیں ویاکلون اور کھا رہے ہیں کما تاکل الانعام جیسے کہ کھاتے ہیں مویشی انعام مویشی بھئی چوپائے چوپ والذین کفروا یتمتعون ویاکلون کما تاکل الانعام اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا وہ عیش کر رہے ہیں اور کھا رہے ہیں جس طرح مویشی کھاتے ہیں جس طرح چوپائے کھاتے ہیں والنار مثوی لہم اور اگ ان کا ٹھکانہ ہے وکاین من قریہ اور کتنی ہی بستیاں ہیں حیا اشد قوۃ کتنی ہی بستیاں تھیں وکاین من قریہ اور کتنی ہی بستیوں میں سے حیا اشد قوۃ کہ وہ زیادہ سخت تھیں بہ اعتبار قوت کے کتنی ہی بستیاں تھیں جو زیادہ سخت تھیں بہ اعتبار قوت کے قوت کے اعتبار سے جو بڑی سخت تھیں جو زور کے اعتبار سے بڑی سخت تھیں من قریتک اے پیغمبر آپ کی بستی سے جو زیادہ سخت تھیں آپ کی اس بستی سے جس نے آپ کو نکال دیا۔
تو اللہ فرما رہے ہیں کتنی ایسی بستیاں تھیں جو قوت کے اعتبار سے زیادہ تھیں آپ کی اس بستی سے جس نے آپ کو نکال دیا تو اھلکناہم ہم نے ان کو ہلاک کر دیا فلاناصر لہم تو ان کا کوئی مددگار نہیں ہے یرحمک اللہ اللہ فرما رہے ہیں بھئی کتنی ہی ایسی بستیاں ہیں جو قوت کے اعتبار سے اس بستی سے بڑھی ہوئی تھیں جس نے آپ کو نکالا ان لوگوں کو ہم نے ہلاک کر دیا پس ان کا کوئی مددگار نہ ہوا کسی نے ان کی مدد نہیں کی جب ہم ان کو ہلاک کرنے لگے۔
یہ ایت ہجرت کے موقع پر نازل ہوئی بھئی ہجرت کے موقع پر وکاین من قریہ روایات میں اتا ہے بھئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہجرت فرمائی مکہ سے نکلے تو مڑ کر مکہ کی طرف دیکھا اور کہا کہ اے مکہ تو مجھے اور اللہ کو تمام شہروں سے زیادہ محبوب ہے اور میں تجھ سے کبھی بھی نہ نکلتا اگر یہ رہنے والے مجھے یہاں سے نہ نکالتے جیسے اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ شہر تم ہو اسی طرح میرے نزدیک بھی سب سے پسندیدہ شہر تم ہی ہو اگر یہ رہنے والے مجھے نہ نکالتے تو میں کبھی بھی تمہیں چھوڑ کر نہ جاتا تو اس موقع پر اللہ کی طرف سے یہ ایت نازل ہوئی۔
وکاین من قریہ اور کتنی ہی بستیاں تھیں یعنی بہت سی بستیاں تھیں اشد قوۃ من قریتک من قریتک جو قوت کے اعتبار سے زیادہ سخت تھیں آپ کی اس بستی سے جس نے آپ کو نکال دیا۔
نہیں جس کے جو قوت کے اعتبار سے یعنی اس کے رہنے والے اس کے رہنے والوں سے زیادہ قوت والے تھے جنہوں نے آپ کو نکال دیا ہم اھلکناہم ہم نے ان کو ہلاک کر دیا فلاناصر لہم تو ان کا پس ان کا کوئی مددگار نہ ہوا افمن کان علی بینۃ من ربہ کمن زین لہ سوء عملہ افمن کان علی بینۃ پس وہ شخص جو واضح دلیل پر ہو من ربہ اپنے پروردگار کی طرف سے افمن کان علی بینہ من رب جو شخص واضح دلیل پر ہو من رب کس کی طرف سے اپنے پروردگار کی طرف سے یا بینہ سے مراد لے لیں واضح راستہ واضح راستہ پس کیا وہ شخص جو واضح راستے پر ہو من رب کس کی طرف سے اپنے پروردگار کی طرف سے کمن زین لہ سوء عملہ اس شخص کی طرح ہے جس کے لیے مزین کر دیے گئے سوء عملہ اس کے عمل کی برائی کو جس کے لیے خوشنما بنا دیا گیا اس کے عمل کی برائی کو کیا یہ تو کیا جو شخص اپنے رب کی طرف سے سیدھے راستے پر ہو وہ اس شخص کی طرح ہے جس کے لیے اس کی برائیوں کو خوشنما بنا دیا گیا واتبعوا اھواءھم اور جس نے اپنی خواہشات کی پیروی کی جو اپنی خواہشات کے پیچھے چلا افمن کان علی بینہ من ربہ پس وہ شخص جو اپنے پروردگار کی طرف سے سیدھے راستے واضح راستے پر ہو کمن کیا وہ اس شخص کی طرح ہے زینہ لہ سوء عملہ کہ خوشنما بنا دیا گیا اس کے لیے اس کے عمل کی برائی کو واتبعوا اھواءھم اور جس نے جنہوں نے پیروی کی اپنی خواہشات کی۔
مثل الجنت الذی وعد المتقون مثل الجنت حال اس جنت کا اب اللہ کچھ جنت کا حال بیان کرنے لگے ہیں بھئی مثل الجنت مثل کس معنی میں حال کے معنی میں حال اس جنت کا الذی وعد المتقون جس کا وعدہ کیا گیا ہے متقیوں سے فیھا انھار من ماء غیر آسن فیھا انھار اس جنت میں نہریں ہیں من ماء ایسے پانی کی غیر آسن جو خراب ہونے والا نہیں ہے۔
اسن یاسین کے معنی پانی یا ہوا کا خراب ہونا بدبودار ہونا خراب ہونا اور بدبودار ہونا اللہ فرما رہے ہیں فیھا انھار من ماء غیر آسن کہ اس جنت میں ایسی جنت میں نہریں ہیں ایسے پانی کی غیر آسن جو خراب ہونے والا نہیں۔
پانی میں عیب کیا ہے بھئی کچھ عرصے تک اگر کھڑا رہے تو اس میں بدبو پیدا ہو جاتی ہے خراب ہو جاتا ہے اللہ فرما رہے ہیں کہ جنت کی نہروں میں ایسا پانی ہے جو خراب ہونے والا نہیں وانہار من لبن اور نہریں ہیں من لبن ایسے دودھ کی اگے صفت سب میں بھئی پیچھے ماء موصول تھا اور غیر اسن اس کی صفت ایسا پانی جو خراب ہونے والا نہیں وانہار من لبن لبن نکرہ ایا اور لم یتغیر اس کے بعد فعل ایا تو یہ اس کے لیے کیا بنے گا صفت بنے گا اور اس جنت میں ایسی نہ اس جنت میں نہریں ہیں من لبن ایسے دودھ کی لم یتغیر طعمہ کہ بدلے گا نہیں اس کا ذائقہ۔
دودھ کا عیب کیا ہے اس میں اس کا ذائقہ خراب جلدی خراب ہو جاتا ہے بڑی جلدی بھئی اللہ فرما رہے ہیں کہ جنت کی جو نہریں ہیں اس میں ایسا دودھ ہوگا لم یتغیر طعمہ کہ بدلے گا نہیں اس کا ذائقہ۔
وانھار من خمر للشاربین اور نہریں ہیں اس میں من خمر ایسی شراب کی لذت للشاربین جو لذیذ ہوگی پینے والوں کے لیے جو لذیذ ہوگی پینے والوں کے لیے لذت بھئی یا تو یہ مونث ہے لذون کی اور لذون ہے بمعاملہ لذیذ کے اور خمر چونکہ عربی میں مونث استعمال ہوتا ہے زیادہ تر تو اس لیے اس کی صفت مونث لذت لائی گئی۔
تو ایسی شراب لذت جو لذیذ ہوگی لشاربین پینے والوں کے لیے تو لذت میں نے بتلایا یہ مونث کا صیغہ ہے کس سے لذون سے اور یہ لذون کس معنی میں ہوتا ہے لذیذ تو لذت کس معنی میں لذیذہ کے اور یا لذت یہ مصدر ہے بھئی یہ کیا ہے مصدر ہے اور مصدر کا حمل ذات پر ویسے نہیں ہوتا ہاں بطور مبالغہ کے ہوتا ہے بھئی تو پھر کیا ترجمہ ہوگا خمرۃ اللذۃ للشاربین ایسی شراب جو سراپا لذت ہوگی پینے والوں کے لیے معنی سمجھ میں اگیا بھئی زید عدل عدل مصدر ہے زید پر حمل صحیح نہیں زید عادل کہنا چاہیے زید عادل ہے لیکن بطور مبالغہ کے حمل صحیح زید عدل پھر کیا کہیں گے زید سراپا عدل ہے تو یہ اسی طرح یہاں پر بھی کہ وہ شراب سراپا لذت ہوگی پینے والوں کے لیے دنیاوی شراب کا یہ ایک بڑی خرابی بھئی کہ وہ اس کا ذائقہ کہتے ہیں بڑا کڑوا ہوتا ہے بھئی نشہ تو ہے اس میں لیکن ذائقہ بے انتہا کڑوا ہوتا ہے اس کا سمجھ میں ایا دنیا کی شراب میں کئی خرابیاں ایک خرابی اس کا ذائقہ بے انتہا کڑوا دوسری خرابی اس کے پینے کے بعد قے اتی ہے الٹی اتی ہے۔
تیسری خرابی اس کے پینے سے سر اور پیٹ میں درد ہوتا ہے چوتھی خرابی اس کے پینے سے نشہ ہوتا ہے انسان کو ہوش ہی نہیں رہتا کہ وہ کیا کر رہا ہے اور کیا نہیں نشہ ختم ہوتا ہے اسے کچھ یاد نہیں ہوتا میں نے کیا کیا اور کیا نہیں کیا۔
جبکہ جنت کی شراب میں ان میں سے کوئی خرابی نہیں ہوگی اللہ فرما رہے ہیں وہ سراپا لذت ہوگی پینے والوں کے لیے وانہار من عسل مصفی اور نہریں ہیں من عسل عسل شہد کو کہتے ہیں مصفی صاف کیا ہوا دنیاوی شہد میں کا عیب ہے کہ اس میں عموما اتنی وہ صفائی نہیں ہوتی لیکن جنت کا شہد انتہائی صاف اور ستھرا اور پاکیزہ ہوگا۔
وانھار من عسل مصفی اور نہریں ہیں صاف شہد کی یہ تو پینے کی چیزیں تھیں اگے کھانے کی بیان ہو رہا ہے ولھم فیھا من کل الثمرات اور ان اہل ایمان کے لیے اس جنت میں من کل الثمرات ہر قسم کے پھل ہوں گے۔
ومغفرۃ من ربھم اور مغفر ہوگی ان کے پروردگار کی طرف سے معنی سمجھ میں اگیا بھئی مثل الجنت الذی وعد المتقون حال اس جنت کا جس کا وعدہ کیا گیا ہے مومنوں سے فیھا انھار من ماء غیر آسن اس میں نہریں ہیں ایسے پانی کی جو خراب ہونے والا نہیں اور نہریں ہیں ایسے دودھ کی کہ جس کا ذائقہ نہیں بدلے گا اور نہریں ہیں ایسی شراب کی جو سراپا لذت ہوگی پینے والوں کے لیے اور نہریں ہیں من عسل مصفی ایسے شہد کی جو صاف ہے جو ستھرا ہے ولھم فیھا من کل الثمرات اور ان کے لیے اس جنت میں ہر قسم کے میوے ہوں گے ہر قسم کے پھل ہوں گے ومغفرۃ من ربھم اور مغفرت ہوگی ان کے پروردگار کی طرف سے کمن ھوا خالد فی النار یہ خبر ہے۔
مبتدا محذوف ہے۔
مبتدا محذوف امن ھوا خالد فی الجنۃ کیا وہ شخص جو ہمیشہ جنت میں رہنے والا ہے کمن ھوا خالد فی النار اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو ہمیشہ جہنم میں رہنے والا ہے۔
تو کیا وہ شخص ہو سکتا ہے اس کی طرح جو ہمیشہ جہنم میں رہنے والا ہے وسقو ماء حمیما اور پلایا جائے گا ان کو ماء حمیما کھولتا ہوا پانی جہنمیوں کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا۔
قطعا امعااہم تو وہ کاٹ دے گا امعااہم ان کی انتڑیوں کو بھئی۔
فقطعا امعااہم وہ کھولتا ہوا پانی جو ان کو پلایا جائے گا وہ ان کی انتڑیوں کو کاٹ دے گا۔ یہی یہ ترجمہ کر لیں فقطعا امعااہم پس وہ کھولتا ہوا پانی ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا ان کی انتڑیوں کو بھئی۔
سمجھ میں آیا ہے بھئی تو یہ جہنمیوں کو کہتے ہیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا اور کس طرح کا کھولتا ہوا پانی ہوگا اندازہ تو لگائیے کہتے ہیں کہ ان کی انتڑیاں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر ان کے پخانے کے مقام سے نکلیں گی بھئی۔
اللہ ہم سب کی جہنم کے عذاب سے حفاظت فرمائے بھئی۔
تو امعا جمع ہے یاد رکھیے امعا جمع ہے میعن کی، میعن۔
میم عا یا کے ساتھ لکھیں گے اس کو بھئی، جیسے فتن لکھا جاتا ہے۔ تو امعا جمع ہے میعن کی۔
اور انتڑی کو کہتے ہیں۔
و سقوما ان حم تو مبتلا میں نے بتلایا محذوف ہے بھئی۔ امن ہوا خالد فی الجنۃ؟ کیا وہ شخص جو جنت میں ہمیشہ رہنے والا ہے کمن ہوا خالد فی النار کیا اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو ہمیشہ جہنم میں رہنے والا ہے وہ سقوما ان حمیم اور جن کو کھولتا ہوا پانی پلایا جاتا ہے فقطعا امعااہم پس وہ ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے ان کی انتڑیوں کو۔
ومنہم من يستمع اليك اور ان میں سے بعض یہ منافقوں کا ذکر آیا بھئی۔
یاد رکھیے یہ سورت یہ سورت مدنی ہے بھئی مدنی۔ وہ سورتیں جو ہجرت سے پہلے نازل ہوئیں ان کو مکی سورتیں کہا جاتا ہے اور جو سورتیں ہجرت کے بعد نازل ہوئیں ان کو مدنی سورتیں کہا جاتا ہے بھئی مدنی سورتیں۔
تو یہ مدنی سورت ہے ہجرت کے بعد نازل ہوئی بھئی ہجرت کے بعد ابتدائی زمانے میں یہ ہجرت کے بعد ابتدائی سالوں کے اندر یہ نازل ہوئی۔
اور بعضوں نے لکھا جس کی طرف زیادہ مفسرین گئے کہ یہ غزوہ بدر کے بعد یہ نازل ہوئی۔ اسی میں دیکھیے وہ فدیہ لینے کا بھی حکم آگیا۔ اور اس سے پہلے جو تھے جتنے مومنین تھے بڑے سچے پکے اہل ایمان تھے اور انتہائی تکالیف کے باوجود وہ ایمان پر وہ ایمان لے کر آئے اور اللہ نے بھی ان کو ایمان پر ثابت قدمی نصیب فرمائی۔
مشکل ترین زمانہ تھا مسلمانوں کے لیے بھئی مکہ کا زمانہ۔
پھر جب مدینہ منورہ آئے بھئی یہاں تمام انصار بھی مسلمان ہو گئے بھئی۔ اللہ نے دیکھیے ازل کے اندر ان کے لیے یہ عظیم شرف مقرر کر رکھا تھا۔
سب کو اللہ نے صحابیت صحابہ ہونے کا شرف نصیب فرمایا۔ وہ مسلمان ہو گئے یہاں مسلمانوں کی قوت بڑھنے لگی بھئی قوت بڑھنے لگی۔
تو اس وقت مسلمانوں کی قوت کو دیکھ کر کچھ لوگ بظاہر ایمان لے آئے اور دل میں پھر بھی اسی طرح ان کے کفر تھا۔
اب مسلمانوں کی ذرا حکومت اور طاقت کو دیکھ کر بعض لوگ کیا ہوئے ایمان اس سے پہلے تو کوئی حکومت کوئی طاقت تھی ہی نہیں لہذا پہلے تو منافقین تھے ہی نہیں بھئی لیکن اب کیا ہوئے کچھ لوگ بظاہر اسلام لے آئے لیکن دل میں اسی طرح کفر تھا کفر تھا۔
تو ان کا اب ذکر اللہ فرما رہے ہیں۔
ومنہم اور ان میں سے بعض لوگ جو ہیں بعض ومنہم من اور ان میں سے بعض لوگ وہ ہیں يستمع الیك جو کان لگاتے ہیں آپ کی طرف، استمع کا معنی سننے کے بھئی، يستمع الیك جو کان لگاتے ہیں آپ کی طرف یعنی آپ کی باتیں سنتے ہیں۔
حتی اذا خرجوا من عندك یہاں تک کہ جب وہ نکلتے ہیں آپ کے پاس سے منافقین کی کی بات ہو رہی ہے وہ جب آپ کے پاس آپ کی باتوں کی طرف کان لگاتے ہیں اور جب نکلتے ہیں آپ کے پاس سے مجلس سے الگ ہوتے ہیں قالو تو کہتے ہیں وہ للذین اوتوا العلم ان لوگوں سے جن کو علم دیا گیا۔
تو وہ کہتے ہیں ان لوگوں کو جن کو علم دیا گیا ماذا قال آنفا کیا کہا انہوں نے ابھی؟
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ماذا قال آنفا کہ حضور علیہ السلام نے ابھی کیا فرمایا؟ کیا فرمایا؟
بھئی آنفا اس کا معنی بھی ہے ابھی اور الان اس کا معنی بھی ہے ابھی۔
لیکن الان میں الان جو ہے اس کا معنی ہے ابھی حال والا ابھی اور آنفا کا معنی ہے ماضی والا ابھی اردو میں دونوں کے لیے ہم ابھی کا لفظ استعمال کرتے ہیں لیکن عربی میں گزرا ہوا ہو تو آنفا اور موجود ہو تو الان بھئی۔
مثلا آپ اردو میں کہتے ہیں آپ سے کوئی پوچھے آپ کیا کر رہے ہیں آپ کہتے ہیں ابھی میں پڑھ رہا ہوں۔
کون سا لفظ استعمال کیا؟ ابھی۔ اور کون سا والا ابھی ہے یہ؟ حال والا، حال والا۔ ابھی میں کیا کر رہا ہوں؟ پڑھ رہا ہوں۔
اور ایک آپ سے پوچھتا ہے زید چلا گیا؟ آپ نے کہا ہاں چلا گیا، اس نے پوچھا کب گیا؟ آپ نے کہا ابھی۔
یہ کون سا ابھی ہے؟ ماضی والا ابھی یعنی ابھی تھوڑا سا پہلے، ابھی تھوڑا سا پہلے۔ تو عربی میں اس کے لیے جو ماضی کے لیے حال سے تھوڑا سا پہلے کا وقت ہو اس کے لیے آنفا لفظ استعمال ہوتا ہے آنفا۔
تو وہ جب حضور علیہ السلام کی مجلس سے نکلتے تو اہل علم سے یعنی صحابہ سے پوچھتے ماذا قال آنفا کہ حضرت ابھی کیا فرما رہے تھے؟ انہوں نے کیا فرمایا؟
اللہ فرماتے ہیں اولئک الذین طبع اللہ علی قلوبہم علی قلوبہم یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ نے مہر لگا دی ہے ان کے دلوں پر وتبعو اھواہم اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی خواہشات کی پیروی کی ہے یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے اور جنہوں نے اپنی خواہشات کی انہوں نے اپنے خواہشات کی پیروی کی ہے۔
تو یہ منافق حضور علیہ السلام کی مجلس میں تو بیٹھتے لیکن توجہ نہیں دیتے تھے اور اگر توجہ دیتے بھی باہر جب نکلتے تو صحابہ وغیرہ اور لوگوں سے پوچھتے صحابہ سے جن کو علم دیے گئے یعنی صحابہ سے پوچھتے کہ حضرت نے ابھی کیا فرمایا؟ اندر حضرت کیا فرما رہے تھے؟
تو گویا اس میں اشارہ کرنا ہوتا تھا اس بات کی طرف کہ ہم ان کی باتوں کو قابل توجہ نہیں سمجھتے۔
وہاں دیکھو بیٹھے ہوئے تھے پھر بعد میں پوچھ رہے ہیں تو کس بات کی طرف اشارہ ہوتا تھا کہ ہم ان کی باتوں کو توجہ کے قابل سمجھتے ہی نہیں کیا فرما رہے تھے آپ مجھے بتائیں گے اندر وہ سورت معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟
تو کہتے ہیں ومنہم من يستمع الیك اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو کان لگاتے ہیں آپ کی طرف حتی اذا خرجوا من عندك یہاں تک کہ جب وہ نکلتے ہیں آپ کے پاس سے قالو للذین اوتوا العلم تو کہتے ہیں وہ ان لوگوں سے جن کو علم دیا گیا یہی با محاورہ ترجمہ کر لیں قالو للذین اوتوا العلم تو وہ کہتے ہیں اہل علم سے ماذا قال آنفا کہ کیا فرمایا ابھی؟
اولئک الذین طبع اللہ علی قلوبہم کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ نے مہر لگا دیے ان کے دلوں پر وتبعو اھواہم اور انہوں نے پیروی کی ہے اپنے خواہشات کی والذین اھتدوا زادھم ھودا و اتہم تقویہم اور وہ لوگ والذین اھتدوا اور وہ لوگ جنہوں نے ہدایت پائی وہ لوگ جو راہ پر چلے والذین اھتدوا اور وہ لوگ جنہوں نے ہدایت پائی زادھم اللہ ان کو بڑھا دیتا ہے ہودا ان کے لیے اللہ بڑھا دیتا ہے ان کی ہدایت کو۔
اللہ ان کے لیے ان کی اللہ ان کے لیے ہدایت کو بڑھا دیتا ہے و اتہم اور اللہ ان کو دے دیتا ہے تقویہم ان کا تقوی اللہ ان کو ان کا والذین اھتدوا زادھم ھودا و اتہم تقویہم اور وہ لوگ جو ہدایت جنہوں نے ہدایت پائی اللہ ان اللہ ان کی ہدایت کو بڑھا دیتا ہے اور انہیں ان کا تقوی عطا فرماتا ہے فہل ینظرون الا الساعتہ پس یہ کیا حل الا کے ساتھ آئے تو کس معنی میں ہوتا ہے نفی کے لیے آتا ہے پس پس فہل ینظرون پس نہیں انتظار کر رہے یہ لوگ الا الساعتہ مگر قیامت کا ان تاتیہم بغتہ یہ کہ وہ اجائے ان پر بغتہ اچانک بھئی، بغتہ کا کیا معنی؟ اچانک۔
پس یہ لوگ تو قیامت ہی کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ ان پر اچانک آ جائے فقط جاء اشراطھا پس تحقیق اس کی علامتیں آ چکیں پس تحقیق قیامت کی علامتیں آ چکیں یاد رکھیے یہ اشراط جمع ہے شرط کی، شرط۔
را پر فتحہ ہے ایک لفظ ہے شرط ایک لفظ ہے شرط۔ شرط را کے فتحہ کے ساتھ اس کا معنی ہوتا ہے علامت کے، نشانی کے۔ تو یہ اشراط اسی شرط کی جمع ہے۔
فقد جاء اشراطھا پس تحقیق قیامت کی علامتیں آ چکیں بھئی قیامت کی علامتیں آ چکیں۔
جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا چکے پیغمبر آخر الزماں آ چکے اور وہ قیامت کی بڑی نشانی ہیں۔ اسی طرح چاند کے دو ٹکڑے کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلی کے اشارے سے یہ بھی قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی بھئی۔
فہل ینظرون الا الساعتہ ان تاتیہم بغتہ پس یہ انتظار نہیں کر رہے مگر قیامت کا کہ آجائے وہ ان پر اچانک فقط جاء اشراطھا پس تحقیق اس کی نشانی آ چکیں فان لہم اذا جاء تہم ذکرہم پس کہاں سے ہو ان کے لیے فان لہم پس کہاں سے ہو ان کے لیے کیا چیز؟ ذکراہم نصیحت حاصل کرنا۔
ان لوگوں کے لیے اپنی نصیحت حاصل کرنا کہاں سے ہو اذا جاء تہم جب وہ قیامت ان کے پاس آ جائے۔
جب وہ قیامت ان کے پاس آ جائے جب قیامت آ جائے گی پھر کہاں سے یہ نصیحت حاصل کریں گے بھئی، پھر تو وہ نصیحت حاصل کرنے کا محل ہی نہیں ہے نصیحت حاصل کرنے کا محل تو کون سی جگہ ہے؟ وہ تو دنیا ہے بھئی۔
تو قیامت جب آ جائے پھر کہاں سے یہ نصیحت حاصل کریں گے؟
فان لہم اذا جاء تہم ذکرہم پس کہاں سے یہ نصیحت حاصل کریں جب ان کے پاس قیامت آ جائے فاعلم پس آپ جان لیجئے فاعلم پس آپ جان لیجئے انہ لا الہ الا اللہ کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ فاعلم آپ جان لیجئے۔
ایک معنی دوسرا معنی علم کا بھی یقین کے معنی میں بھی آتا ہے تو یہاں اگر یقین کے معنی میں کر لیں۔ فاعلم پس آپ یقین کر لیجئے کہ انہ لا الہ الا اللہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔
تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پہلا ترجمہ کیا کیا؟ جان لیجئے۔ تو کیا حضور علیہ السلام کو یہ علم نہیں تھا؟ وہ تو جانتے تھے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔
یا دوسرا معنی کہ آپ یقین کر لیجئے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو کیا حضور علیہ السلام کو یقین نہیں تھا؟ حضور علیہ السلام کو تو سب سے بڑھ کر یقین تھا بھئی۔ تو جواب یہ کہ یہ حکم پیغمبر کو دیا جا رہا ہے اور مراد امت ہے بھئی۔ مراد کیا ہے؟ امت ہے۔
اور اگر خاص طور پر حضور علیہ السلام بھی مراد ہوں تو پھر دوام کا حکم دیا جا رہا ہے کہ اس یقین پر اس علم پر جمے رہیے مضبوطی سے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ فاعلم پس آپ جان لیجئے انہ لا الہ الا اللہ کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں واستغفر لذنبک اور مغفرت طلب کیجیے اپنے گناہ کی مغفرت طلب کیجیے اپنے گناہ کی۔
حکم پیغمبر کو ہے اور مراد امت ہے بھئی۔ حضور علیہ السلام فرماتے تھے کہ میں دن میں ستر ستر مرتبہ بعض روایتوں میں سو مرتبہ کا ذکر آیا یا ستر اس سے بھی زیادہ مرتبہ میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔
مقصد تھا امت کو تعلیم دینا۔ کیونکہ حضور علیہ السلام کے نہ صغیرہ گناہ نہ کبیرہ گناہ آپ ہر قسم کے گناہ سے معصوم ہیں۔ پھر آپ اتنی کثرت سے اللہ سے مغفرت طلب کر رہے ہیں تو امت کو تعلیم ہے کہ تمہیں پھر خود ہی اندازہ لگا لینا چاہیے کہ تمہیں اللہ سے کس قدر کثرت سے مغفرت طلب کرنی چاہیے بھئی۔
واستغفر لذنبک اور آپ مغفرت طلب کیجیے اپنے گناہ کی وللمومنین والمومنات اور مومن مردوں کے لیے بھی اور مومنہ عورتوں کے لیے بھی واللہ یعلم متقلبکم ومثواکم اور اللہ جانتے ہیں متقلبکم تمہارے الٹنے پلٹنے کی جگہ۔
تقلب کا معنی ہوتا ہے الٹنا پلٹنا۔ اسی سے قلب ہے قلب۔ قلب یعنی دل۔ قلب کو بھی قلب اس لیے کہتے ہیں کہ یہ الٹتا پلٹتا ہے بھئی۔
کیا ہے؟ الٹتا پلٹتا ہے۔ کبھی اس کی ایک حالت ہوتی ہے کبھی دوسری حالت ہوتی ہے بھئی۔ کبھی ایک کیفیت ہوتی ہے کبھی دوسری کیفیت ہوتی ہے بھئی، دوسری کیفیت ہوتی ہے۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ الٹتا پلٹتا ہے اس کے احوال بدلتے ہیں۔
کبھی نیکی انسان کو پسند ہوتی ہے کبھی یہ گناہ پر آمادہ کرنے لگتا ہے، کبھی ایک چیز پسند ہوتی ہے تو دوسرے وقت میں وہی چیز ناپسند ہو گئی اور دوسری چیز پسند ہوئی سورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو اس لیے قلب کو قلب کہتے ہیں کہ یہ ایک حالت پر نہیں رہتا۔
تو متقلب اس میں ظرف کا صیغہ ہے۔ الٹنے پلٹنے کی تمہارت متقلبکم تمہاری الٹنے پلٹنے کی جگہ یعنی تمہارے آنے جانے کی جگہیں کیا مراد ہے؟ آنے جانے کی جگہیں و مثواکم اور تمہارے رہنے کی جگہ واللہ یعلم متقلبکم ومثواکم اور اللہ جانتے ہیں تمہارے آنے جانے کی جگہوں کو اور تمہارے رہنے کی جگہوں کو۔
آنے جانے کی جگہ یعنی جو دن میں ہیں جن میں جہاں جو تم چلتے پھرتے ہو۔
یا یوں ترجمہ کر لیں اور اللہ جانتے ہیں تمہارے چلنے پھرنے کی جگہوں کو یعنی دن میں جہاں چلتے پھرتے ہو ومثواکم اور جہاں رات کو تم رہتے ہو ان جگہوں کو اللہ ہر حال کو جاننے والا ہے۔
یہ متقلبکم کا معنی یہ ہے اللہ تمہارے چلنے پھرنے کی جگہوں کو یعنی دنیا کو جانتا ہے۔
یعنی دنیا میں بھی تمہارے احوال کو اللہ جانتا ہے ومثواکم اور جو تمہارا رہ تمہاری رہنے کی جگہ ہے آخرت میں کہ جنت ہے یا جہنم ہے اس کو بھی اللہ جانتا ہے بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟
تو یا تو یہ متقلبکم ومثواکم دونوں دنیاوی جگہیں مراد ہیں چلنے پھرنے کی جگہیں اور رات کو رہنے کی جگہیں اور یا پھر متقلبکم چلنے پھرنے کی جگہ سے مراد دنیا ہے اور مثواکم اور رہنے کی جگہ سے مراد آخرت ہے بھئی۔ چلیے بس بھئی ہذا هو المرام واللہ اعلم بحقیقت الکلام۔