اعوذ بالله من الشيطان الرجيم
بسم الله الرحمن الرحيم
يا أيها النبي لمت تحرم ما أحل الله لك تبتغي مرضات أزواجك والله غفور رحيم
قد فرض الله لكم تحلت أيمانكم والله مولاكم وهو العليم الحكيم
وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا فلما نبأت به وأظهره الله عليه عرف بعضه وأعرض عن بعض فلما نبأها به قالت من أنبأك
قالت من أنبأك هذا قال نبأني العليم الخبير
یہ سورہ تحریم ہے، جس کے اندر یہ ذکر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعض ازواج کی خوشنودی کے لیے شہد کو اپنے اوپر حرام قرار دے دیا تھا۔
تو اسی وجہ سے اس سورہ کو سورہ تحریم کہا جاتا ہے۔ تحریم کا معنی ہے حرام کرنا، حرام قرار دینا۔ تو پہلی آیت میں ہی اس بات کا ذکر ہے لما تحرم آپ کیوں حرام قرار دیتے ہیں، آپ کیوں حرام کرتے ہیں، تو یہ سورہ یہ سورہ سورہ تحریم کہلاتی ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ عادت مبارکہ تھی کہ آپ عصر کے بعد اپنی تمام ازواج مطہرات کے گھروں میں تھوڑی تھوڑی دیر کے لیے تشریف لے جاتے بھئی۔ سب کے گھر پر چکر لگاتے۔ اور کوئی ضرورت وغیرہ ہوتی پوچھتے۔
تو چند دن ایسا ہوا کہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالی عنہ ان کو کہیں سے شہد ملا۔ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شہد پیش فرماتیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو شہد بڑا پسند تھا، مرغوب تھا۔ چنانچہ وہاں شہد کے استعمال میں، کھانے میں کچھ دیر لگ جاتی بھئی۔
تو دوسری ازواج مطہرات کو تشویش ہوئی کہ کیا بات ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اب دیر سے تشریف لاتے ہیں کچھ اور تو پتہ چلا کہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالی عنہ جو ہیں، ان کے پاس شہد کے استعمال میں کچھ دیر ہو جاتی ہے۔
چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہ نے آپس میں سوچا کہ کوئی تدبیر کرنی چاہیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم دیر سے تشریف لائیں وہاں شہد استعمال فرمائیں تاکہ اس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم رک جائیں۔
تمام ازواج مطہرات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے وہ تعلق، وہ محبت تھی کہ جس کی وجہ سے قدرتی طور پر ایک کشمکش کی سی صورت بن گئی تھی۔ ہر زوجہ مطہرہ چاہتی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ سے زیادہ وقت ہمارے پاس گزاریں اور تاکہ ہم زیادہ سے زیادہ آخرت کی سعادتیں سمیٹ لیں۔
چنانچہ حضرت عائشہ، حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ تدبیر کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں گے اب تو ہم کہیں گے کہ آپ کے منہ مبارک سے مغافیر کی بو آ رہی ہے۔
تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لائے حضرت زینب کے گھر سے ہونے کے بعد حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس تشریف لائے تو وہ فرمانے لگیں یا رسول اللہ کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟
مغافیر جمع ہے مغفار کی اور مغفار یہ ایک قسم کا کھانے والا گوند ہوتا ہے جو بعض درختوں پر پیدا ہوتا ہے۔ درختوں پر دیکھا ہے آپ نے کبھی بھئی بعض درختوں پر ان کے تنے پر وہ اس کچھ گوند سا بن جاتا ہے تو اس طرح کی کوئی کوئی گوند ہوگا، کوئی درختوں پر بعض پر پیدا ہوتا ہوگا جسے کھایا جاتا ہو بھئی تو یہ کوئی کھانے والا گوند تھا، لوگ کھاتے تھے۔
ہاں اس کی البتہ کوئی اس کی بو ہوگی جس طرح پیاز اور لہسن کی بو ہوتی ہے بھئی تیز بو تو وہ فرمانے لگیں یا رسول اللہ کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟
حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے نہیں تو فرمانے لگیں یہ پھر آپ کے منہ سے یہ بو کس قسم کی آ رہی ہے؟
تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تو یہ بات طبعا بڑی ناپسند تھی، ناگوار تھی کہ آپ کے منہ سے بو آئے۔ چنانچہ آپ نے قسم اٹھا لی کہ میں آج کے بعد شہد نہیں کھاؤں گا۔
آپ نے سوچا شاید شہد کی مکھیوں نے مغافیر کھایا ہو اور اس سے شہد کے اندر بھی کس کی بو آ گئی ہو؟ مغافیر کی بو آ گئی ہو تو آپ نے ان کے تو آپ نے قسم اٹھا لی کہ آج کے بعد آئندہ میں شہد نہیں کھاؤں گا۔ شہد کو اپنے اوپر حرام کر دیا بھئی۔
اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا کہ دیکھو یہ بات کسی کو بتلانا نہیں۔ ارادہ یہ تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو یہ بات حضرت زینب تک پہنچے تو لازمی بات ہے ان کا دل ٹوٹے گا کہ میں شہد پیش کرتی تھی اب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نہیں کھائیں گے۔
تو تو حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات اوروں کو بتلانے سے منع کر دیا۔
حضرت حفصہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کی تو اکٹھی اپس میں بات چیت تھی بھئی یہی کہ کسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو روکیں۔ تو انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کو وہ بات بتا دی اور کہا کہ دیکھو آگے کسی کو نہ بتانا۔
تو وہ اللہ تعالی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعے مطلع فرما دیا کہ اس طرح آپ نے منع کیا تھا اور حفصہ نے یہ بات عائشہ کو بتلا دی ہے۔
تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم پھر حضرت حفصہ کے پاس جب آئے تو فرمانے لگے کہ میں نے تمہیں منع کیا تھا تم نے وہ بات عائشہ کو بتلا دی ہے مجھے بھی پتہ چل گیا ہے۔
تو وہ ایک دم حیران ہو گئیں کہ کیسے آپ کو پتہ لگ گیا فوراً پوچھا آپ کو کس نے بتلایا؟ ذہن شاید حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف ہی گیا ہوگا کہ وہ ان میرے اور انہی کے درمیان بات تھی تو انہوں نے بتائی ہوگی۔
تو آپ کو کس نے بتایا؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے مجھے اللہ نے بتلایا ہے۔
تو یہ سارا واقعہ یہاں ذکر آ رہا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے شہد کو اپنے اوپر حرام قرار دیا تھا اگرچہ کسی مصلحت کی بناء پر ٹھیک ہے انسان کوئی چیز کھانے سے رک جائے کھانے سے رک جائے جائز تھا لیکن چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک تو قیامت تک انے والے انسانوں کے لیے ایک نمونہ ہے اس لیے اللہ کی طرف سے فوراً حکم آیا کہ آپ نے کیوں حرام کیا ہے ایک حلال چیز کو اپنے اوپر جس چیز کو اللہ نے حلال کیا ہے آپ نے کیوں اس کو اپنے اوپر حرام کر لی؟
آپ کیا کیجیے اس اپنی قسم کو کھول لیجیے۔ اس حرمت کو ختم کیجیے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ سارا ذکر آ رہا ہے اس سورت کے اندر۔ جس چیز کو اللہ نے حلال قرار دیا ہے اسے آپ کیوں اپنے اوپر حرام قرار دیتے ہیں؟
اور یاد یہ بھی رکھیے یہاں یہ جو حرام کرنے کا ذکر آیا اس سے یہ مراد نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنے لیے حرام قرار دے دیا تھا۔ کہ شہد بن ہی کیا گیا ان کے لیے حرام نہیں یہ معنی نہیں مراد یہ ہے اپنے آپ کو اس سے روک لیا تھا۔ اس کے استعمال سے رکنے کا عہد کر لیا تھا کہ اب میں یہ نہیں کھاؤں گا تو یہ مراد ہے بھئی۔
يا أيها النبي لمت تحرم ما أحل الله لك اے نبی! اے پیغمبر! لمت تحرم آپ کیوں حرام کرتے ہیں ما اس چیز کو أحل الله لك جسے حلال کیا ہے اللہ نے آپ کے لیے تبتی مرضات ازواجک چاہتے ہیں آپ مرضات ازواجک اپنی بیویوں کی خوشنودی، اپنی بیویوں کی رضامندی والله غفور رحيم اور اللہ بخشنے والے ہیں، رحم کرنے والے ہیں۔
يا أيها النبي اے پیغمبر! آپ کیوں حرام قرار دیتے ہیں اس چیز کو جس کو اللہ نے حلال کیا ہے تبتی مرضات ازواجک آپ چاہتے ہیں اپنی بیویوں کی خوشنودی آپ ان کی خوشی چاہتے ہیں، ان کی رضامندی چاہتے ہیں والله غفور رحيم اور اللہ بخشنے والے ہیں، رحم کرنے والے ہیں۔
ترجمہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ با محاورہ ترجمہ اس طرح ہوگا بھئی۔
يا أيها النبي اے پیغمبر!
لمت تحرم ما أحل الله لك
يا أيها النبي اے پیغمبر! آپ اپنی بیویوں کی خوشنودی چاہنے کے لیے کیوں حرام قرار دیتے ہیں اس چیز کو جس کو اللہ نے حلال کیا ہے جس کو اللہ نے حلال قرار دیا ہے۔ اے پیغمبر! آپ اپنی بیویوں کی خوشنودی چاہنے خوشنودی کے لیے اس چیز کو کیوں حرام قرار دیتے ہیں جسے اللہ نے حلال کیا ہے والله غفور رحيم اور اللہ بخشنے والے ہیں، رحم کرنے والے ہیں۔
قد فرض الله لكم تحلت أيمانكم تحقیق مقرر کر دیا ہے اللہ نے تمہارے لیے۔
قد فرض الله لكم تحقیق اللہ نے مقرر کر دیا ہے تمہارے لیے تحلت أيمانكم
أيمان جمع ہے یمین کی۔ قسم کو کہتے ہیں بھئی۔ تحلہ کھولنا۔
تحلت أيمانكم اپنی قسموں کو کھول دینا۔
تحقیق اللہ نے مقرر کر دیا ہے تمہارے لیے اپنی قسموں کو کھول دینا۔ یعنی اب قسموں کے کھول دینے کا طریقہ اللہ نے مقرر کر دیا ہے۔
کہ کیا کرے انسان اگر کوئی ایسی نامناسب قسم اٹھا لے تو پھر اس قسم کو توڑ دے اور کفارہ دے دے اس کو اس کا تو یہ قسم کھولنے کا طریقہ سورہ سمجھ میں آ گئی؟ کہ اس قسم کو توڑ دینا چاہیے جو نامناسب ہو اور کیا کرنا چاہیے؟ کفارہ دے دینا چاہیے اور قسم کا کیا کفارہ ہے؟
ایک غلام آزاد کیا جائے یا دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلایا جائے دو وقت کا کھانا تاکہ ان کی دن کی ضرورت پوری ہو دو وقت کا کھانا کھلایا جائے یا ان کو کپڑے پہنائے جائیں۔
اگر ان کی استطاعت نہ ہو پھر تین مسلسل روزے رکھے جا سکتے ہیں لیکن اگر ان کی استطاعت ہو پھر تین روزے مسلسل رکھنا درست نہیں ہے۔
قد فرض الله لكم تحلت أيمانكم تحقیق اللہ نے مقرر کر دیا ہے تمہارے لیے قسموں کو قسموں کا تمہاری قسموں کا کھول ڈالنا یعنی ان کا طریقہ مقرر کر دیا ہے والله مولاكم اور اللہ تمہارے رفیق ہیں، مولا کا معنی ہے رفیق کے بھی، کارساز کے بھی، جو بھی آپ معنی کر لیں والله مولاكم اور اللہ تمہارے کارساز ہیں وہو العليم الحكيم اور اللہ سب کچھ جاننے والے ہیں، حکمت والے ہیں۔
وإذا أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا
وإذا أسر النبي اور جس وقت راز کے طور پر کہی پوشیدہ طور پر کہی نبی نے
أسر کا کیا معنی ہوتا ہے چھپانا۔ وإذا أسر النبي اور جس وقت چھپا کر کہی پیغمبر نے إلي بعض أزواجه اپنی کسی بیوی سے، اپنی کسی زوجہ سے حديثا ایک بات۔
جس وقت چھپا کر کہی پیغمبر نے اپنی کسی زوجہ سے ایک بات۔ جس وقت پیغمبر نے چھپا کر ایک بات کسی زوجہ سے کہی ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟
حدیث کا کیا معنی ہے؟ بات بھئی۔ جس وقت پیغمبر نے چھپا کر ایک بات اپنی کسی زوجہ سے کہی فلما نبأت به پس جب اس نے اس خبر دے دی۔
نبأ کے معنی خبر دینا، بتلا دینا۔ به وہ بات پس جب ان زوجہ نے وہ بات کسی کو بتلا دی، اس کی خبر دے دی کسی کو۔
فلما نبأت به پس جب انہوں نے اس بات کی خبر دے دی وأظهره الله عليه اور اللہ نے ظاہر کر دیا
اس کو عليہی پیغمبر پر، اللہ نے وہ جو انہوں نے اطلاع دی تھی آگے خبر بتلا دی تھی اللہ نے اس کی اس کو ظاہر فرما دیا علیہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر۔ اللہ نے بتلا دیا کہ آپ نے تو منع کیا تھا بات بتلانے سے इन्होंने بتلا دی ہے۔
فلما نبأت به پس جب انہوں نے اس بات کی خبر کر دی وأظهره الله عليه اور اللہ نے ظاہر کر دیا اس بات کو پیغمبر پر عرف بعضه تو پیغمبر نے عرفہ کے معنی بتلانا، پہچان کروانا۔ عرف بعضه تو پیغمبر نے بتلا دی بعضہ اس میں سے
کچھ کچھ بات پیغمبر نے بتلا دی وعرض عن بعض اور اعراض کیا رخ پھیر لیا ہم بعضہ کچھ بات سے۔
حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہ نے بات بتل ان کو جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کسی تو ساتھ کوئی اور بات بھی کہی۔
ساتھ کوئی اور بات بھی کہی۔
تو جب انہوں نے وہ بات بتلا دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب اللہ نے ظاہر فرما دیا تو آپ نے کچھ بات تو حضرت حفصہ کو جتلا دی کہ مجھے پتہ لگ گیا ہے اس بات کا اور کچھ کو ٹال گئے کچھ کو ذکر ہی نہیں کیا تاکہ یہ زیادہ شرمندہ نہ ہوں بھئی۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کچھ بات جتلا دی کہ اس کا مجھے پتہ چل گیا ہے اس بات کا اور
کچھ کو ٹال گئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ کیا بات تھی جس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹال گئے۔
تو بعض ضعیف روایات کے اندر آتا ہے کہ وہ یہ بات تھی یاد رکھیے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا یہ بیٹی ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا وہ بیٹی ہیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی۔
تو بعض ضعیف روایات میں یہ آیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہا تھا، یہ فرمایا تھا ان سے کہ تمہارے والد عائشہ کے والد کے بعد خلیفہ بنیں گے۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ حضرت صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد خلیفہ بنیں گے مسلمانوں کے۔
تو جی عرفا بعضہ تو بعض کچھ بات کچھ بات بتلا دی عرفا ترجمہ کیا کریں یہاں بتلانا یعنی وہ جتلا نا وہی بات ان کو بتلا دی کہ مجھے پتہ چل گیا ہے عرفا بعضہ تو کچھ بات بتلا دی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے و عرض عن بعض اور کچھ کو ٹال گئے کچھ کو ٹال گئے۔
فلما نبہا بہ پس جب ان کو بتلا دی وہ بات نبہا ان کو وہ اپنی بعض ازواج جن کو کہا تھا بات چھپانا ان کو جب پیغمبر نے جتلا دی بھی وہ بات قالت تو وہ کہنے لگی من من انبا کا حذا کس نے یہ بتلایا ہے آپ کو کس نے یہ خبر دی ہے آپ کو۔
قال تو پیغمبر علیہ السلام فرمانے لگے نبانی العلیم الخبیر نبانی خبر دی ہے مجھ کو العلیم الخبیر وہ اس ذات نے جو سب کچھ جاننے والی ہے ہر چیز سے باخبر ہے۔
و اصر نبی الی بعض ازواجہ حدیثا اور جس وقت پوشیدہ طور پر کہی پیغمبر نے ایک بات اپنی ایک بیوی سے فلما نبات بہ پس جب انہوں نے اس بات کی خبر کر دی یعنی دوسری زوجہ کو بتلا دی حضور کی و اظہرہ اللہ علیہ اور اللہ نے اس کو ظاہر فرما دیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر عرفا بعضہ و اعرض عن بعض تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ بات تو جتلا دی اور کچھ کو ٹال گئے۔
فلما نبہا بہ پس جب خبر کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس بات کی قالت من انبا کا حذا کس نے آپ کو خبر دی ہے یہ قال نبانی العلیم الخبیر تو فرمانے لگے کہ مجھے خبر دی ہے اس نے جو سب کچھ جاننے والا ہے ہر بات سے باخبر ہے۔
کچھ بات تو جتلا دی یہ تو بتلا دیا کہ تم نے جو میں نے تو تمہیں منع کیا تھا لیکن تم نے جو خبر کر دی ہے کسی اور کو مجھے اس کا پتہ چل گیا ہے اور کچھ بات کو ٹال گئے۔
کچھ بات کو ٹال گئے۔
وہ کیا بات تھی جس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹال گئے۔
تو یہ اللہ اور اس کا رسول ہی جانتے ہیں کہ وہ کیا بات تھی۔
اللہ اور اس کے رسول ہی جانتے ہیں ہاں البتہ بعض ضعیف روایات میں آیا ہے جیسا کہ میں نے ذکر کیا کہ وہ یہ بات تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا سے یہ فرمایا کہ تمہارے والد یعنی عمر ابن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ وہ عائشہ کے والد یعنی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد مسلمانوں کے خلیفہ بنیں گے۔
بات سمجھ میں آ گئی بھئی۔
ان تتوب الی اللہ فقد صغت قلوبکما
ان تتوب اب اللہ ان ازواج مطہرات سے فرما رہے ہیں یعنی حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ سے ان تتوب اگر تم دونوں توبہ کر لو الی اللہ اللہ کی طرف فقد صغت قلوبکما پس تحقیق جھک پڑے ہیں تم دونوں کے دل جھک گئے ہیں تم دونوں کے دل مائل ہو گئے ہیں تم دونوں کے دل۔
صغا کے کیا معنی؟ جھکنا، مائل ہونا، ٹیڑھا ہونا۔
اگر تم دونوں توبہ کرو اللہ کی طرف فقد صغت قلوبکما پس تحقیق تم دونوں کے دل مائل ہو گئے ہیں یعنی راہ حق سے کچھ مائل ہو گئے ہیں اس سے کچھ جھک پڑے ہیں۔
ان تتوب الی اللہ فقد صغت قلوبکما اگر تم توب تم دونوں توبہ کرو اللہ کی طرف پس تحقیق تم دونوں کے دل مائل ہو گئے مائل ہو گئے ہیں و ان تظاہرا علیہ اور اگر تم باہم ایک دوسرے کی مدد کرو گی علیہ ان پیغمبر کے بارے میں اگر تم دونوں کیا کرو گی اسی طرح پیغمبر کے بارے میں ایک دوسرے کی مدد کرو گی فان اللہ ہو مولاہ پس یقیناً اللہ ان کا اس پیغمبر کا رفیق ہے و جبرائیل اور جبرائیل رفیق ہیں و صالح المومنین اور نیک مومنین رفیق ہیں والملائکہ بعد ذلک ظہیر اور فرشتے اس کے بعد مددگار ہیں۔
اے پیغمبر کی بیویو اگر تم اسی طرح پیغمبر کے بارے میں تدبیر کرتی رہیں ان کے ان کے خلاف تدبیر کرتی رہیں تو یاد رکھو ان کا اللہ بھی ان کا مددگار ہے نیک مومنین بھی ان کے مددگار ہیں فرشتے بھی اور جبرائیل بھی ان کے مددگار ہیں۔
عسا ربہ ان طلقکن ان یبدلہ ازواج خیر منکن مسلمات مومنات قانتات تائبات عابدات سائحات سیبات و ابکارا
عسا ربہ قریب ہے کہ اس پیغمبر کا رب ان طلقکن اگر وہ پیغمبر تم کو طلاق دے دے ان یبدلہ بدل دے ان کو ازواج ایسی بیویاں خیر منکن جو تم سے بہتر ہوں مسلمات ان مسلمان ہوں گی مومنات ایمان والیاں ہوں گی قانتات فرمانبردار ہوں گی قانتات کا کیا معنی؟
فرمانبردار۔
قانتات فرمانبردار ہوں گی یعنی طاعت شعار ہوں گی تائبات توبہ کرنے والیاں ہوں گی عابادات عبادت کرنے والیاں ہوں گی سائحات روزہ رکھنے والیاں ہوں گی سائحات کا کیا معنی؟
روزہ رکھنے والیاں۔
صیبات و ابکارا ابکار با جمع ہے باقرہ کی اور کنواریاں جو کنواری ہو اور سیبات جو ہیں وہ بیویاں جو غیر کنواری ہو وہ اورتیں جو غیر کنواری ہیں یعنی جو خاوند کو دیکھ چکی ہیں پھر اس کے بعد خاوند نے طلاق دے دی ہے یا خاوند کا انتقال ہو گیا تو دونوں قسم کا ذکر فرمایا اللہ نے سیبات کو بھی اور ابکار کو بھی۔
تو اللہ فرما رہے ہیں کہ اگر تم پیغمبر کو کے بارے میں اسی طرح تدبیر کرو گی تو اللہ تم سے بہتر بیویاں ان کو دے دیں گے جو مسلمان ہوں گی ایمان والی، فرمانبردار، توبہ کرنے والی، عبادت کرنے والی، روزہ رکھنے والی ہوں گی سیبات و ابکارا
سیبات کا معنی میں نے بتلایا جو خاوند کو دیکھ چکی یعنی خاوند نے پھر طلاق دے دی ہے یا اس کا انتقال ہو گیا ابکار کنواری بھئی تو یوں ترجمہ کریں سیبات و ابکارا
خاوند کو دیکھ چکی ہوں گی یا کنواریاں ہوں گی۔
خاوند کو دیکھ چکی ہوں گی اور یا تو ہر قسم کی بیویاں آپ کو اللہ دے دیں گے سیبات بھی ہوں گی اور کنواریاں بھی۔
سیبات جو خاوند کو دیکھ چکی ہیں بھئی۔
تو سیبات کو ذکر فرمایا ابکار کے ساتھ بھئی اس لیے کہ بعض اعتبار سے ثیبہ وہ کنواری پر بس سے کنواری سے بدرجہا بہتر ہوتی ہے جبکہ وہ مثلاً امور خانہ داری میں بعض اوقات ثیبہ کنواری سے کئی گنا بڑھ کر ماہر ہوتی ہے اور بہتر طریقے سے کرنے والی ہوتی ہے تو اس لیے سیبات کو بھی ذکر فرمایا ساتھ۔
تو عبادت کرنے والی ہوں گی، روزہ رکھنے والی ہوں گی، سیبات و ابکارا خاوند دیکھی ہوئی ہوں گی اور کنواریاں ہوں گی۔
تو اس طرح کی ازواج اللہ تمہاری جگہ بدل کر دے دیں گے پیغمبر کو۔
دیکھیے سیبات و ابکارا یہاں پر ان کے درمیان واؤ آیا اس سے پہلے کسی کی صفت کے اس سے پہلے واؤ نہیں آیا۔
مسلمات مومنات قانتات تائبات عابدات سائحات سیبات کہیں پر واؤ نہیں یہ ابکار سے پہلے واؤ آیا یاد رکھیے اس کو واؤ سمانیہ کہتے ہیں۔
کیا کہتے ہیں؟ واؤ سمانیہ۔
سمانیہ یعنی اٹھ عرب جب جب چیز بعض چیز بعض اوقات جب چیزوں کو ذکر کرتے ہیں تو وہاں پر واؤ ذکر نہیں کرتے لیکن آٹھویں چیز سے پہلے واؤ کو ذکر کر دیتے ہیں تو یہ واؤ سمانیہ کہلاتا ہے بھئی۔
کتنی چیز سے پہلے؟
یہاں پر بھی دیکھیے مسلمات پہلی صفت، مومنات دوسری صفت، قانتات تیسری صفت، تائبات چوتھی صفت، عابدات پانچویں صفت، سائحات چھٹی صفت، سیبات ساتویں صفت اور آٹھویں صفت سے پہلے کیا آ گیا واؤ یہ کیا ہے واؤ سمانیہ۔
نیز اس میں اشارہ بھی ہے اس بات کی طرف کہ باقی ساری صفات جمع ہو سکتی ہیں لیکن سیبات اور ابکار کی صفات دو جمع نہیں ہو سکتی یا تو عورت ثیبہ ہوگی یا باقرہ ہوگی یہ نہیں ہو سکتا ثیبہ بھی ہو اور باقر جبکہ باقی صفات جمع ہو سکتی ہیں ایک عورت مسلمان بھی ہے، ایمان والی بھی ہے، فرمانبردار بیوی بھی ہے، توبہ کرنے والی بھی ہے، عبادت کرنے والی بھی ہے، روزہ رکھنے والی بھی ہے لیکن ان دو میں سے ایک ہی صفت ساتھ آئے گی بھئی۔
عسا ربہ ان طلقکن ان یبدلہ ازواج خیر منکن قریب ہے کہ اس پیغمبر کا رب اگر وہ تم کو طلاق دے دے تو بدل دے اس کو ایسی بیویاں جو بہتر ہوں تم سے مسلمان ہوں ایمان والیاں ہوں فرمانبردار ہوں توبہ کرنے والی عبادت کرنے والی روزہ رکھنے والی خاوند دیکھی ہوئی اور باقرہ اور کنواریاں ہوں۔
یا ایہا الذین امنوا قوا انفسکم و اہلیکم نارا اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو قوا انفسکم بچاؤ تم اپنی جانوں کو و اہلیکم اور اپنے گھر والوں کو ناراً آگ سے۔
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو بچاؤ تم اپنے نفسوں کو بھی اور اپنے گھر والوں کو بھی آگ سے۔
قو امر ہے جمع کا صیغہ ہے وقایکی وقایتاً سے۔
وقایکی وقایتاً تو قو کس طرح بنا؟
گردان کس طرح ہے وقایکی سے امر کی گردان یاد ہے بھئی۔
قی قیا قو قی قیا قینا تقی تقی سے بنا۔
تقی مخاطب کا صیغہ اسی سے امر حاضر مخاطب کا صیغہ بنے گا تقی علامت مضارع تا گرادی آخر سے یا بھی گر گئی صرف قف رہ گیا قف کے نیچے کسرہ قی یہ ہے امر قی اور اسی میں پھر تثنیہ کیا آئے گا؟
قیا اور جمع کیا؟
قو صورت سمجھ میں آ گئی تو یہ جمع کا صیغہ ہے بھئی جمع مذکر حاضر امر ہے بھئی۔
یا ایہا الذین امنوا قو انفسکم و اہلیکم نارا اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو بچاؤ تم اپنے نفسوں کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے ایسی آگ وقودھا الناس والحجارۃ
اس کا اِیندھن جو ہیں وقود کسے کہتے ہیں؟ ایندھن۔
وقودھا ضمیر راجع ہے آگ کو نار کو اس آگ کا ایندھن جو ہیں الناس لوگ ہوئیں لوگ ہوں گے والحجارۃ اور پتھر ہوں گے۔
اے ایما اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو بچاؤ تم اپنی جانوں کو اور اپنے گھر والوں کو ایسی آگ سے کہ جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے۔
ایسی آگ جس کا ایندھن کیا ہوں گے؟
لوگ اور پتھر ہوں گے۔
پتھروں سے مراد وہ بت ہیں جن کو وہ لوگ مشرکین عبادت کرتے ہیں ان کو بھی ان کے ساتھ جہنم میں ڈالا جائے گا اور یہ بات پہلے بیان ہو چکی کہ بتوں کو وہاں پر عذاب نہیں دیا عذاب کے طور پر نہیں ڈالا جائے گا صرف اور صرف ان مشرکین کو جو ان کی عبادت کرتے تھے ان کو مزید ذلیل کرنے کے لیے ڈالا جائے گا کہ دیکھو جن کے سامنے ساری عمر ماتھا ٹیکتے رہے اور جن کے عبادت کرتے رہے وہ تمہاری کیا مدد کریں وہ تو خود بھی تمہارے ساتھ یہی جل رہے ہیں۔
علیہا ملائکہ غلاظ شداد ان پر اس آگ پر اس جہنم پر ملائکہ ایسے فرشتے ہیں غلاظ جو سخت مزاج والے ہیں کڑے مزاج والے ہیں۔
غلاظ سخت مزاج بھئی۔
سخت مزاج۔
یعنی سخت دل والے بھئی۔
یعنی ترس نہیں کھائیں گے وہ مجرموں پر مجرم وہاں ان کو کتنا سخت عذاب ہو رہا ہوگا لیکن اللہ فرما رہے ہیں ہم نے وہاں جو فرشتے مقرر کیے ہیں وہ بڑے سخت مزاج والے ہیں تند خو ہیں جو ذرہ بھی رحم نہیں کھائیں گے مجرموں پر۔
شداد زوراور ہیں، سخت ہیں، طاقتور ہیں۔
شداد کا کیا معنی؟ سخت یعنی طاقتور ہیں، زوراور ہیں۔
اس سے بھاگ نہیں سکے گا۔ علیہا ملائکۃ غلاظ شداد ان پر سخت مزاج والے زوراور فرشتے ہیں، لا یعصون اللہ ما امرہم جو نافرمانی نہیں کرتے اللہ کی اس چیز سے جس کا اس نے ان کو حکم دیا، و یفعلون ما یومرون اور کرتے ہیں وہ جس کا ان کو حکم دیا جاتا ہے۔ معنی سمجھ میں آرہا ہے بھئی؟
یا ایھا الذین امنوا اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو قوا انفسکم و اھلیکم نارا بچاؤ تم اپنی جانوں کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے وقودہا الناس والحجارۃ کہ جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں، علیہا ملائکۃ غلاظ شداد اس پر سخت مزاج والے زوراور فرشتے مقرر ہیں، اس آگ پر علیہا اس آگ پر ملائکۃ غلاظ شداد ایسے فرشتے مقرر ہیں جو سخت مزاج والے ہیں زوراور ہیں، لا یعصون اللہ ما امرہم وہ نافرمانی نہیں کرتے اللہ کی اس چیز میں امرہم جس کا اللہ نے ان کو حکم دیا ہے، و یفعلون ما یومرون اور وہ کرتے ہیں وہ چیز یومرون جس کا ان کو حکم دیا جاتا ہے جو حکم دیا جاتا ہے اس کو پورا کرتے ہیں۔
یا ایھا الذین کفروا اے وہ لوگو جنہوں نے کفر کیا، لا تعتذرو الیوم آج معذرتیں پیش نہ کرو۔ قیامت کے دن کہا جائے گا کفار سے، یا ایھا الذین کفروا اے وہ لوگو جنہوں نے کفر کیا، لا تعتذرو الیوم آج معذرتیں پیش نہ کرو آج معذرت نہ کرو، انما تجزون ما کنتم تعملون، انما حصر کے لیے آیا بھئی، تم کو تو بدلہ دیا جاتا ہے ما کنتم تعملون وہی تم وہی جو تم عمل کیا کرتے تھے۔ تم کو تو وہی بدلہ دیا اسی چیز کا بدلہ دیا جا رہا ہے جو تم عمل کیا کرتے تھے۔
یا ایھا الذین امنوا اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو، توبو الی اللہ توبۃ نصوحا تم توبہ کرو اللہ کی طرف توبۃ نصوحا۔ سچی توبہ، توبۃ نصوحا کا کیا معنی؟ سچی توبہ، خالص توبہ۔ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو تم توبہ کرو اللہ کی طرف سچی توبہ، عسی ربکم ان یکفر عنکم سیئاتکم، قریب ہے کہ تمہارا پروردگار ان یکفر عنکم مٹا دے تم سے، دور کر دے تم سے سیئاتکم تمہاری برائیاں۔ قریب ہے کہ تمہارا پروردگار تم سے کیا کرے تمہاری برائیاں دور کر دے، و یدخلکم جنات تجری من تحتھا الانہار کہ بہتی ہوں گی اس کے نیچے سے نہریں، یوم لا یحزی اللہ النبی والذین امنوا معہ اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے معہ اس پیغمبر کے ساتھ۔ جس دن کہ اللہ پیغمبر اور اس پیغمبر کے ساتھ ایمان والوں کو رسوا نہیں فرمائیں گے۔
معنی سمجھ میں آرہا ہے بھئی؟ نورھم یسعی بین ایدیھم ان کا نور جو ہے یسعی دوڑ رہا ہوگا، مومنین کا اور مومنین کا نور جو ہے یسعی بین ایدیھم وہ ان کے سامنے وہ دوڑ رہا ہوگا بین ایدیھم ان کے سامنے وبایمانھم اور ان کی داہنی جانب۔
یہ پہلے ذکر ہو چکا کہ قیامت میں حساب کتاب کے بعد جہنمیوں کو کفار جو تھے ان مشرکین ان کو تو جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور جو منافقین تھے وہ ابھی تک مومنین کے ساتھ رکھے جائیں گے بھئی۔ اور پھر اس کے بعد پُلسراط پر سے گزرنا ہوگا سخت تاریکی چھا جائے گی تو اس وقت جو اہل ایمان ہیں مومنین ہیں ان کے سامنے اور دائیں طرف ان کا وہ ایمانی نور ہوگا مختلف کسی کا پہاڑ کے برابر کسی کا کتنا نور کسی کا کم اس سے درجہ بدرجہ تو مومنین اب پُلس اس کو اس کی روشنی میں تیزی سے پُلسراط پر سے گزریں گے، ادھر منافقین کا کے پاس ان کے پاس تو ایمان تھا ہی نہیں دل میں تو وہ کافر تھے ان کے پاس کوئی نور نہیں ہوگا نور ختم ہوگا ان کا تو وہ مومنین کو پکاریں گے کہ رکو ذرا ہمیں بھی اپنے ساتھ لے چلو ہم بھی تمہارے روش تمہاری روشنی میں سے کچھ نور حاصل کر لیں اور پھر اس کے بعد مومنین اور منافقین کے درمیان دیوار قائم کر دی جائے گی اور پھر منافقین کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
تو یہ وہی ذکر آرہا ہے کہ نورھم یسعی بین ایدیھم وبایمانھم مومنین کا نور دوڑ رہا ہوگا ان کے سامنے اور ان کے دائیں جانب، یقولون اور وہ کہہ رہے ہوں گے وہ کہیں گے ربنا اے ہمارے پروردگار اتمم لنا نورنا آپ پورا کر دیجیے ہمارے لیے ہماری روشنی کو ہمارے نور کو۔ اے اللہ آپ ہمارے لیے ہمارے نور کو پورا کر دیجیے یعنی آخر تک اے اللہ اس کو برقرار رکھیے، اس کو بجھنے نہ دیجیے۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ ہمارے لیے اس نور کو پورا کر دیجیے یعنی اے آخر تک اس کو باقی رکھیے، ربنا اتمم لنا نورنا اے اللہ پورا فرما دیجیے ہمارے لیے ہماری روشنی کو ہمارے نور کو، و اغفر لنا اور ہماری مغفرت فرما دیجیے، انک علی کل شیء قدیر یقینا آپ ہر چیز پر قادر ہیں۔ یا ایھا النبی جاہد الکفار والمنافقین اے پیغمبر آپ جہاد کیجیے کافروں کے ساتھ اور منافقوں کے ساتھ۔
کافروں اور منافقوں سے اے پیغمبر جہاد کیجیے یاد رکھیے جہاد کے معنی جدوجہد کے ہیں کوشش کے ہیں تو اس کے اندر مسلح، مسلح جدوجہد بھی داخل اور پرامن جدوجہد بھی اس کے اندر داخل، تو کفار کے ساتھ جو جہاد ہوگا وہ مسلح جہاد ہوگا تلوار کے ساتھ بھئی اور منافقین کے ساتھ جو جہاد ہوگا وہ دلائل کے ساتھ بات ہوگی اور ان کو قائل کیا جائے گا بھئی، ان کے ساتھ اسلحے والا جہاد نہیں کیونکہ انہوں نے بظاہر کلمہ پڑھ رکھا ہے لوگوں کے سامنے تو وہ مومنین ہی ہیں ہاں الا یہ کہ وہ بغاوت پر اتر آئیں پھر ان سے جہاد ہو سکتا ہے بھئی۔
یا ایھا النبی جاہد الکفار والمنافقین اے پیغمبر جہاد کیجیے کافروں سے اور منافقوں سے، و اغْلظ علیہم اور ان پر سختی کیجیے۔ و اغْلظ علیہم اور ان پر سختی کیجیے، و ماواہم جہنم و ماواہم جہنم اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے، وبئس المصیر اور وہ بڑا برا ٹھکانہ ہے۔ ضرب اللہ مثلا للذین کفروا امرات نوح و امرات لوط، ضرب اللہ مثلا بیان کرتے ہیں بیان کرتے ہیں اللہ تعالی ایک مثال للذین کفروا۔
ان لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر کیا، وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ان کے لیے اللہ مثال بیان فرماتے ہیں امرات نوح و امرات لوط نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی۔ نوح علیہ السلام اور لوط علیہ السلام کی بیویوں کی کو بطور مثال کے اللہ ذکر فرماتے ہیں ان لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر کیا۔ کانتا تحت عبدین من عبادنا صالحینی یہ دونوں جو تھیں تحت عبدین من عبادنا یہ ہمارے بندوں میں سے دو بندوں کے تحت تھیں ان کے نیچے تھیں یعنی ان کے نکاح میں تھیں۔ یہ ہمارے بندوں میں سے دو بندوں کے نکاح میں تھیں صالحینی یہ صفت ہے عبدین کی، ایسے ایسے بندے جو نیک تھے تو یہ ہمارے دو نیک ہمارے بندوں میں سے دو نیک بندوں کے نکاح میں تھیں، فخانتاهما پس ان دونوں نے ان سے خیانت کی۔ ان دونوں نے ان سے خیانت کی یعنی یہ درپردہ کافروں سے ملی ہوئی تھیں، منافق تھیں منافق بظاہر خاوند کے ساتھ اور درپردہ کس کے ساتھ؟
کفار کے ساتھ ان کے دل ملے ہوئے تھے، فخانتاهما پس انہوں نے ان دونوں نے ان سے خیانت کی یعنی بے وفائی کی، فلم یغنیا عنہما فلم یغنيا پس وہ دونوں کام نہ آئے عنہما ان دونوں کے من اللہ اللہ کے مقابلے میں شیئا کچھ بھی تو وہ دونوں پیغمبروں کی بیویاں تھیں یہ، لیکن جب انہوں نے پیغمبروں سے خیانت کی کفار کا ساتھ دیا تو اللہ کے مقابلے میں وہ پیغمبر بھی ان کے کوئی کام نہ آ سکے اور ہم نے ان کو جہنم میں داخل کر دیا۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟
فخانتاهما پس ان دونوں عورتوں نے ان دونوں بندوں سے خیانت کی، فلم یغنیا عنہما من اللہ شیئا پس وہ دونوں بندے ان عورتوں کے، ان بیویوں کے اللہ کے مقابلے میں کچھ کام نہ آئے، وقیل اور کہا گیا ان بیویوں سے کہا گیا ادخلوا ادخلنا النار مع الداخلین کہ تم دونوں داخل ہو جاؤ آگ میں داخل ہونے والوں کے ساتھ اور داخل ہونے والوں کے ساتھ تم بھی کس میں چلی جاؤ؟ جہنم میں چلی جاؤ۔ و ضرب اللہ مثلا اور بیان فرماتے ہیں اللہ مثال للذین امنوا امرات فرعون کس کی مثال بیان فرماتے ہیں فرعون کی بیوی کی۔ فرعون کی بیوی حضرت آسیہ، اور انہوں نے ہی حضرت موسی علیہ السلام کی پرورش کی تھی اور ان کی بڑی مددگار تھیں۔ اور کہتے ہیں کہ جس وقت فرعون جس وقت حضرت موسی علیہ السلام پر وہ جادوگر ایمان لے آئے جو فرعون مقابلے پر لے کر آیا تھا، جادوگروں نے حضرت موسی علیہ السلام کا معجزہ دیکھا تو اسی وقت ایمان لے آئے تو اس موقع پر کہتے ہیں حضرت آسیہ بھی ان پر ایمان لے آئیں بھئی۔
فرعون کو جب اس بات کا پتہ چلا تو اس نے ان پر بے انتہا ظلم و ستم کیا۔ کہتے ہیں ان کے ہاتھوں اور پاؤں میں کیل گڑوا دیے اس نے اور کیل گڑوا دیے اور اس طرح بے انتہا ان پر ظلم کیا تو اس ظلم کے موقع پر اللہ ان کو ان کے جنت کے محل دکھلا دیتے تھے جس سے ان کی تکلیف میں بڑی کمی آ جاتی بھئی، تکلیف ختم ہو جاتی ان کی، تو یہ حضرت آسیہ کا ذکر آیا۔ و ضرب اللہ مثلا للذین امنوا امرات فرعون اور بیان کی اللہ نے مثال ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے فرعون کی بیوی کی، اذ قالت رب ابن لی عندک بیتا جب کہا اس نے کہ اے میرے پروردگار ابن لی آپ تعمیر کیجیے، بنا دیجیے ابن لی آپ بنا دیجیے میرے لیے عندک اپنے پاس بیتا ایک گھر فی الجنۃ جنت میں، اے اللہ میرے لیے جنت میں اپنے قریب ایک گھر بنا دیجیے، و نجنی من فرعون و عملہ اور مجھے نجات دیجیے فرعون سے اور اس کے عمل سے، و نجنی من القوم الظالمین اور آپ اے اللہ مجھے نجات دیجیے ظالم قوم سے، ظالم لوگوں سے۔
و مریم ابنۃ عمران، و مریم ابنۃ عمران اس کا عطف امرات فرعون پر ہے۔ اور بیان کی اللہ نے مثال ان مثال ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے فرعون کی بیوی کی اور مریم بنت عمران کی مثال۔ اور مریم بنت عمران التی احصنت فرجھا التی احصنت جس وہ جس نے کہ حفاظت کی احصنا کے کیا معنی؟ حفاظت التی احصنت جس نے حفاظت کی فرجھا اپنی شرمگاہ کی جس نے حفاظت کی اپنی شرمگاہ کی، یہ تو لفظی ترجمہ میں کر رہا ہوں بمحاورہ یہ ترجمہ کیجیے۔ التی احصنت فرجھا جنہوں نے حفاظت کی اپنی عصمت کی، فنفخنا فیہ من روحنا پس پھونک دیا ہم نے اس میں اپنی روح میں سے۔ پس پھونک دی ہم نے اس میں اپنی روح تو ہم نے پھونک دی اس میں اپنی روح، حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ان کے گریبان میں پھونک ماری جس سے وہ حاملہ ہو گئیں بھئی اور پھر حضرت عیسی علیہ السلام کو جنم دیا بھئی، تو یہ وہ ذکر ہے بھئی، اسی کا ذکر ہے فنفخنا فیہ من روحنا پس ہم نے پھونکی اس میں من روحنا اپنی روح، و صدقت جی اور یہ بات تو پہلے بیان ہو چکی ہے کہ یہ بات چیزوں کی نسبت تعظیم کے طور پر اللہ اپنی طرف کرتے ہیں بھئی تو پھونکی ہم نے اس میں اپنی روح میں سے، و صدقت بکلمات ربھا اور تصدیق کی انہوں نے اپنے رب کی باتوں کی انہوں نے اپنے رب کی باتوں کی تصدیق کی یعنی ان کو سچا سمجھا یعنی فرشتہ جو ان کے پاس پیغام لاتا تھا اللہ کی طرف سے تو اس کو انہوں نے سچا سمجھا، و صدقت بکلمات ربھا اور انہوں نے سچا جانا اپنے رب کی باتوں کو، و کتبہ اور اس کی کتابوں کو، و کانت من القانتین اور تھیں وہ فرمانبرداروں میں سے۔ وہ کس میں سے تھیں؟ فرمانبرداروں میں سے تھیں، بھئی ہونا چاہیے تو کانت من القانتات کیونکہ عورت ہیں تو قانتین یہ تو مذکر کا صیغہ ہے تو جس میں بلاغت کا نکتہ یہ ہے کہ قانتات کے بجائے قانتین اس لیے ذکر کیا گیا کہ یہ نیک عمل کے اندر اور ہمت اور حوصلے کے اندر نیک مردوں کی طرح تھیں بھئی، کس کی طرح تھیں؟ نیک تو اسی لیے کہا و کانت من القانتین اور وہ فرمانبرداروں میں سے تھیں۔
و مریم ابنۃ عمران، میں نے بتلایا اس کا عطف ہے امرات فرعون پر بھئی، اور بیان کی اللہ نے مثال ان مثال ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے مریم بنت عمران کی، التی احصنت فرجھا جس نے حفاظت کی اپنی عصمت کی جس نے حفاظت کی اپنی عصمت کی، فنفخنا فیہ من روحنا پس پھونکی ہم نے اس میں اپنی روح، و صدقت بکلمات ربھا اور اس نے سچا جانا اپنے رب کی باتوں کو، و کتبہ اور اس کی کتابوں کو، و کانت من القانتین اور وہ فرمانبرداروں میں سے تھیں۔
چلیے بس بھئی ہذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام